امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 512
ڈاؤنلوڈ: 34

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 512 / ڈاؤنلوڈ: 34
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

نواں مطلب:

قیام سے عاجز ہونے کی حد اور ( دوران نماز)قیام کی طاقت حاصل ہونے کا حکم

۴۳ - امام صادق علیہ السلام سے اس بیماری کی حد کہ جس میں بیمارروزہ افطارکرسکتا ہے اور کھڑے ہوکر نماز پڑھنا ترک کر سکتا ہے، کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؑ نے جواب میں فرمایا:

(بَلِ الإِنسَانُ عَلَی نَفسِهِ بَصِیرَةُ)(۴۶)

بلکہ ہر شخص اپنے حالات کو بہتر جانتا ہے وہ اپنی طاقت وتونائی کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ پھر آپ ؑنےاس بیماری کی حد کہ جس کے ساتھ بیمار بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے ، کے متعلق فرمایا: جب آدمی کو بخار چڑھ جاتا ہے اور کوئی تکلیف پیش آجاتی ہے تو وہ اپنی حالت کو بہتر جانتا ہے، جب اسے کھڑے ہونے کی طاقت حاصل ہوجائے تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے۔ (۴۷)

۴۴- روایت نقل ہوئی ہے جب بیمار آدمی کی حالت ایسی ہو کہ جس میں وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی مقدار چل پھر نہیں سکتا تو بیٹھ کر نماز پڑھے۔ (۴۸)

میں کہوں گا: یہ حدیث غالب پر محمول ہےیعنی غالبا چلنے کی طاقت اور کھڑا ہونے پر قادر ہونا دونوں لازم وملزوم ہیں پس اگر ان دونوں میں یہ تلازم نہ ہو تو کھڑا ہونے پر قادر ہونا شرط ہے۔

۲۱

دسواں مطلب :

جب نماز میں رکوع یا سجدہ کرنا دشوار ہوجائے تو اشارہ سے نماز پڑھی جائے گی اس کی دلیل وسند(اس باب کی ابتداء میں )گزر چکی ہے اور اس جیسی آگے بھی آئے گی۔

۴۵- امام صادق علیہ السلام سے نکسیر کے ایسے مریض جسے زوال آفتاب سے رات گئے تک نکسیر جاری رہے، کے متعلق پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: وہ ہر نماز میں ( رکوع و سجود ) کے لئے سر سے اشارہ کرے گا۔(۴۹)

۴۶- امام صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص جس کو الٹی(قے) آجائے، کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ؑنے فرمایا: سر سے اشارہ کرے ۔ (۵۰)

۲۲

گیارہواں مطلب :

بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے جھکنے کے احکام چنانچہ اس کے کچھ احکام گزر چکے ہیں۔

۴۷-امام باقرعلیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے متعلق جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے اور (حمد کے بعد) سورہ پڑھتا ہے اور جب اسے ختم کرنا چاہتا ہے توکھڑا ہوجاتا ہے اور اس کا آخری حصہ پڑھ کر رکوع کرتا ہے، پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: ایسے شخص کی نماز کھڑے ہوئے آدمی کی نماز کی مانند سمجھی جائے گی۔ (۵۱)

۴۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھ کر نماز پڑھے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اس کی نماز کھڑے ہوئے آدمی کی نماز کے نصف کے برابر ہےجب سورہ کی کچھ آیتیں باقی ہوں تو اٹھ کھڑا ہو اور ان کو پڑھ کر رکوع کرے۔(۵۲)

۴۹- امام کاظم علیہ السلام سے بیٹھ کر نماز پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اگر بیٹھ کر نماز پڑھنا چاہو اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز کا درجہ حاصل کرنا چاہو تو بیٹھ کر قرائت کرو جب سورہ کےآخر تک پہنچوتو کھڑے ہو کر اسے مکمل کرو پھر رکوع کرو پس وہ نماز تیرے لئے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی نماز جیسی شمار ہوگی۔(۵۳)

۵۰- امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ: ایک ایسے شخص کے متعلق جوبیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے ایک پاؤں کو سامنے کی طرف پھیلاتا ہے، پوچھا گیا تو آپ ؑنے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۵۴)

۵۱- روایت نقل ہوئی ہے کہ وہ چار زانو ہو کر یا پاؤں پھیلا کر نماز پڑھے ،ان سب کی گنجائش ہے۔ (۵۵)

۵۲- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کہ میرے والدماجد جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے تو چار زانو بیٹھتے تھے اور جب رکوع کرتے تھے تو پاؤں کو دوہرا کرکے کرتے تھے۔ (۵۶)

۵۳- محمل میں نماز پڑھنے کے بارے میں روایت نقل ہوئی ہے کہ چار زانو ہوکر یا دونوں پاؤں کو پھیلا کر تیرے لئے جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو۔ (۵۷)

۵۴- امام کاظم علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے جب کہ ان کے پہلو میں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا ہوا تھا جس کے پاس ایک عصا تھا اس نے عصا پکڑکر اٹھنا چاہا تو آپؑ قیام کی حالت میں ہوتے ہوئے نیچے جھکے (اور اسکو دیا)تواس نےعصا پکڑا تو آپ ؑ اپنی نماز میں پھرسے مشغول ہوئے۔(۵۸)

۲۳

بارہواں مطلب:

کشتی اور محمل اور چوپائیوں پر نماز پڑھنے اور عذر کی صورت میں قیام اور قبلہ کی طرف رخ کرنا ساقط ہونے کے احکام، چنانچہ نماز پڑھنے کی جگہ(کے مسائل) میں ( ایسے احکام)گزرچکے ہیں-

۵۵- امام صادق علیہ السلام سے کشتی میں نمازپڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اگر اس کے لئےکھڑا ہونا ممکن ہو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے ورنہ بیٹھ کر پڑھے۔ (۵۹)

۵۶- امام صادق علیہ السلام سے کشتی میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اگر اس پر کافی بوجھ ہو جس کی وجہ سے ( زیادہ) حرکت نہ کرے تو پھر کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر ہلکی پھلکی ہو جس کی وجہ سے ہچکولے کھائے تو پھر بیٹھ کر پڑھو۔(۶۰)

۵۷- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کشتی میں نماز اشارے سے پڑھی جاتی ہے۔(۶۱)

۵۸- امام صادق علیہ السلام سے نہر فرات یا جو نہریں اس سے بھی چھوٹی ہیں ان میں کشتی کے اندر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اگر اس کے اندر پڑھو تو بھی ٹھیک ہے اور اگر باہر نکل کر پڑھو تو بھی ٹھیک ہے۔(۶۲)

۵۹- امام صادق علیہ السلام سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: رو بہ قبلہ ہو کر نماز شروع کرو پھر جدھر جدھر کشتی کا رخ پھرتا جائے تم کھڑے ہو کر ادھر ہی نماز پڑھتے جاؤ اور اگر کھڑے نہ ہو سکو تو پھر بیٹھ کر پڑھو۔ (۶۳)

۶۰- امام صادق علیہ السلام نے کشتی میں نما زپڑھنے کے بارے فرمایا: قبلے کی جستجو جاری رکھو۔(۶۴)

۶۱- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کشتی کا رخ پھرتا جائے اور ممکن ہو تو وہ ( نمازی) بھی قبلہ رخ ہو کر پھرتا رہے۔ (۶۵)

۶۲- امام صادق علیہ السلام سے کشتی میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اگر باہر نکل کر سطح زمین پر نماز پڑھ سکو تو ایسا ہی کرو اور اگر ایسا انہ کر سکو تو پھر کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر کھڑے بھی نہ ہو سکو تو پھر بیٹھ کر پڑھو مگر قبلہ کو تلاش کرو۔ (۶۶)

۲۴

دوسرا فعل: نیت

اس کے احکام بہت ہیں جو نماز کےمقدمات والے باب میں گزر چکے ہیں اور نماز کےاوقات کے احکام میں، نیت کرکے ( ایک نماز سے دوسری نماز کی طرف) عدول کرنے کا حکم بھی گزر چکا ہے اور مزید( تفصیل سے ) آگےبھی آئے گا۔

۶۳-امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: دو روزوں اور دو نمازوں اور فریضہ و نافلہ کو( ایک چیز کے طور) پر اکھٹا نہیں کیا جا سکتا۔ (۶۷)

۶۴- امام باقرعلیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو آٹھ رکعت نماز پڑھنا چاہتا ہے مگر دس رکعت پڑھتا ہے اور وہ ان دو رکعتوں کو دو رکعت شمار کرنا چاہتا ہے جو کہ اس کے ذمہ تھیں، پوچھا گیا تو آپ ؑنے فرمایا: نہ ( وہ ایسا نہیں کرسکتا) مگر یہ کہ عمدا (علیحدہ نیت سے) ادا کرے ۔(۶۸)

۶۵- امام باقر علیہ السلام سے کسی نے عرض کیا کہ میں یہ بھول گیا کہ میں نماز فریضہ پڑھ رہا ہوں یہاں تک کہ رکوع میں چلا گیا جب کہ میں نافلہ کی نیت کر رہا تھا، آپؑ نے فرمایا: یہ نماز وہی ہے جس کوفریضہ کی نیت سے پڑھنے کے لئے تم کھڑے ہوگئے اور فریضہ کی ہی نیت کی تھی مگر بعد میں تمہیں شک ہو گیا ہے پس تم فریضہ کی ادائگی میں مشغول ہو اور اگر تم نے نماز نافلہ شروع کی تھی اور فریضہ کی نیت کی تو تم نافلہ میں مصروف سمجھے جاؤگے اور اگر تم نے فریضہ شروع کی پھر تمہیں کوئی نماز نافلہ یاد آگئی جو تمہارے ذمہ تھی تو تم نماز فریضہ ہی میں مشغول رہو۔(۶۹)

۶۶- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے نماز فریضہ شروع کی مگر بعد میں اسے شک ہوگیا اور یہ سمجھا کہ نافلہ پڑھ رہا ہے یا اس نے نماز نافلہ شروع کی اور بعد میں گمان ہوا کہ شاید یہ فریضہ ہے،تو آپ ؑنے اس کے جواب میں فرمایا: یہ وہی نماز تصور کی جائے گی جو اس نے شروع کی تھی۔ (۷۰)

۶۷- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیاجو کھڑے ہو کر نما زفریضہ کی ایک رکعت پڑھتا ہے پھر ( بھولنے کی وجہ سے) وہ نافلہ کی نیت کرتا ہے،آپ ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: یہ وہی نماز تصور کی جائے گی جس کے لئے تو کھڑا ہو تھا اور فرمایا کہ اگر فریضہ کی نیت سے کھڑا ہوا ہو اور پھر شک ہوا ہو تو تمہاری نماز فریضہ کی ہوگی جس کے لئے تو کھڑا ہوا تھا اگر نافلہ کی نیت سے مشغول ہوا ہو تو تمہاری نماز نافلہ کی ہوگی، پس آدمی کی نماز وہی تصور کی جاتی ہے جس سے اس نے ابتدا کی ہو۔(۷۱)

۲۵

فائدہ:

نیت کے احکام بہت ہیں جوکہ گ ذ شتہ اور آنے والے احکام سے حاصل کئے جاسکتے ہیں ان میں سے بارہ احکام کو ہم ذکر کرتے ہیں:

۱۔ نماز اور دیگر تمام عبادات میں نیت واجب ہے۔

۲۔ نیت عبادات کے لئے شرط یا جزء ہے۔

۳۔ جس عمل کی نیت کی گئی ہے اسے معین کرنا واجب ہے اگرچہ یہ تعیین اجمالی طور پر ہو وگرنہ وہ عمل بغیر نیت کی(تصور) ہوگی۔

۴۔ ( نیت میں) قصد قربت واجب ہے۔

۵۔ ریا کا قصد کرنا حرام ہے اور اس سے نماز باطل ہوگی۔

۶۔ نیت اور تکبیرۃ الاحرام میں مقارنت(ایک دوسرے کے ساتھ ہونا) واجب ہے اگر ایسا نہ ہو اور تکبیر کے بعد یا اس سے پہلے نیت کرے اور تکبیر شروع کرتے وقت نیت کرنا بھول جائے تو پوری نماز یا اس کا کچھ حصہ نیت کے بغیر انجام پائے گا اگر ایسا نہ ہو تو یقینا مقارنت حاصل ہوگی۔

۷۔ مذکورہ قید کے علاوہ کوئی اور قید ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ اس کے لئے کوئی نص اورسند نہیں ہے۔

۸۔ نماز کو(عدول کی شرائط کے ساتھ) گزشتہ نماز کی طرف عدول کرنا واجب ہے۔

۹۔ دو نمازوں کی نیت سے قرائت کرنا جائز نہیں ہے۔ پس جیسا کہ آگے آئے گا نماز جعفر طیارعلیہ السلام کے علاوہ کہیں بھی تداخل نہیں ہو سکتا۔

۱۰۔ اگر کوئی شخص فریضہ نماز کی نیت کرے پھر اسے ( سھو کی وجہ سے) نافلہ نماز گمان کرے اور نماز کے بعض عمل کو مستحب کی نیت سے بجا لائے یا اس کے برعکس واجب کی نیت سے بجا لائے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی جیسا کہ ( گزشتہ احکام سے) آپ جان چکے ہیں۔

۱۱۔ نماز کے ہر جزء کے لئے علیحدہ علیحدہ نیت کرنا واجب نہیں ہے۔

۱۲۔ نما زمیں اخلاص کا ہونا واجب ہے۔

۲۶

تتمہ:

بارہ قسم کی عبادات مستثنی ہیں جن میں نیت کرنا شرط نہیں ہے۔

۱۔ خود نیت: اگر خود نیت میں بھی نیت شرط ہو تو اس سے تسلسل اور تکلیف ما لا یطاق لازم آئے گا ۔

۲۔ معرفت خدا :معرفت خدا میں کسبی ہونے کی قول کی بنا پر، اس میں نیت اجمالی طور پر بھی شرط نہیں ہے۔

۳۔ جس نماز کی طرف عدول کیا گیا ہو ۔

۴۔ ترک محرمات: پس بغیر قصد و نیت اور ریا کی قصد کے ساتھ بھی کافی ہے جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے۔

۵۔ اسی طرح نجاسات کا ازالہ کرنا ۔

۶۔ وہ غسل جنابت جو بھول گیا ہو اور جمعہ کے لئے غسل کیا گیا ہو۔

۷۔ وہ طواف النساء جو بھول گیا ہو اور الوداعی طواف انجام دیا گیا ہو۔

۸۔ اگر واجب طواف میں بھولے سے( کعبے کے گرد) ایک یا ایک سے زیادہ چکرکا اضافہ ہو جائے اور دو طواف مکمل کرلےتو (دوسرے طواف میں جوکہ) طواف مستحب ہے۔

۹۔ علم کا طلب کرنا واجب ہو اور بغیر نیت و قصد یا قصد ریا کے ساتھ حاصل ہو جائے تو کافی ہے اور اس کا نیت کے ساتھ دوہرانا واجب نہیں ہے ۔

۱۰۔ مکہ کی طرف اگرحج کی نیت کے بغیر یا ربا کے قصد سے سفر کرے تو (کافی ہے) اسے نیت کے ساتھ دوہرانا واجب نہیں ہے ۔

۱۱۔ مالی و غیر مالی حقوق: جیسا کہ قرض اور زکواۃ اور میاں بیوی کے حقوق میں اگر یہ جبری طور پر حاصل ہوجائیں تو کافی ہے ان کو نیت کے ساتھ دوہرانا واجب نہیں ہے اور اسی طرح جہاد اور دین کے دشمنوں کو قتل کرنا بھی ہے اگر یہ جبری طور پر یا قصد ریا سے انجام پائے۔

۱۲۔ مستحب اور کفارے اور ان کی مانند کے روزے: اگر ماہ رمضان میں ایسے شخص سے انجام پائیں جو نہیں جانتا کہ ماہ مبارک رمضان ہے تو ماہ رمضان کے روزے کے لئے کافی ہے نہ کہ جس کی اس نے نیت کی ہے۔ اسی طرح وہ روزہ جس کی نیت دن کے دوران کی ہو ان میں سے بعض صورتیں محل تامل ہیں ان میں بحث و مناقشہ ہے اور یہ مسئلہ( قابل حل و) آسان ہے۔

تیسرا فعل:

دل و دماغ سے اور خشوع کے ساتھ نماز کی طرف متوجہ ہونا

۶۸- امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: بندہ خدا کی نماز، اس کی توجہ کے حساب سے قبول ہوتی ہے، آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: پھر تو ہم ہلاک ہوگئے! توآپؑ نے فرمایا: ہرگز نہیں اللہ تعالی مومنین (کی اس کمی)کو نوافل کے ذریعے پورا کرتا ہے۔(۷۲)

۶۹- امام باقر اورامام صادق علیہما السلام دونوں نے فرمایا: تمہیں نماز میں سے وہی حصہ ملے گا جسے تم قلبی توجہ سے ادا کروگے پس اگر کوئی شخص تمام نماز وہم و گمان کی حالت میں پڑھے گا یا اس کی ادائگی یا اس کے آداب میں غفلت برتے گا تو وہ نماز لپیٹ کر پڑھنے والے کے منہ پر مار دی جائے گی۔(۷۳)

۷۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کوئی شخص دو رکعت نماز پڑھے جب کہ وہ جو کچھ نماز میں بول رہا ہے اسے جانتا ہو تو وہ نماز سے یوں فارغ ہوجاتا ہے کہ اس اور خدا کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہ جاتا ہے۔(۷۴)

۷۱- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز پڑھو تو دل و دماغ کے ساتھ خدا عزوجل کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔(۷۵)

۷۲- امام علی علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص بھی نمازمیں سہل انگیزی کرتا ہوا اور اونگھتا ہوا کھڑا نہ ہواور نہ ہی نماز کی حالت میں دنیاوی امور میں غور و فکر کرے کیونکہ وہ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہے اور بندہ کو نماز میں سے وہی مقدار ملتی ہے جس مقدار کو وہ قلبی توجہ سے ادا کرتا ہے۔(۷۶)

۷۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ توجہ سے پڑھی ہوئی مختصر دو رکعت نماز رات بھر(عبادت کیلیے)بیدار رہنے سے افضل ہے۔

میں کہوں گا کہ مذ کورہ توجہ قرائت اور اذکار کے معانی میں تفکروتدبرکرنے کے ساتھ مخصوص ہے۔(۷۷)

۷۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم نماز میں مشغول ہو تو ضروری ہے خشوع اور توجہ کے ساتھ ہو۔(۷۸) کیونکہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

(الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ)(۷۹)

۷۵- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام زین العابدین علیہ السلام جب نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تو آپ ( کے چہرے) کا رنگ تغییر ہوتا تھا اور جب آپ ؑ سجدہ کرتے تو پسینے سے شرابور ہوجاتے تھے۔ (۸۰)

۷۶- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز پڑھو تونماز کو الوداع کرنے والے شخص کی طرح پڑھوجو دوبارہ نماز کی طرف نہ آنے کا خوف رکھتا ہےاور اپنی نگاہ کو سجدہ کرنے کی جگہ پر رکھو (گویا ) تجھے جب معلوم ہو کہ تیرے دائیں بائیں کوئی ہو تو اپنی نماز کو بہتر کرکے پڑھتے ہو اور جان لو کہ تم ایسی ذات کے دربار میں حاضر ہو جو تجھے دیکھتی ہے جب کہ تو اسے نہیں دیکھتا۔(۸۱)

۷۷- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مرد مومن فریضہ نماز کے لئے اللہ تعالہ کی بارگاہ میں حضور قلب کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے اور امور دنیا میں اس کا دل مشغول نہیں ہوتا ہے تو مجھے اس سے محبت ہوتی ہے پس ہر بندہ جب اپنی نماز میں دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالی بھی اس کی طرف توجہ فرماتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے پھر اہل ایمان کے دلوں میں اس کی محبت ڈال کراس کی طرف راغب کر دیتا ہے۔ (۸۲)

۲۷

چوتھا فعل:

تکبیرۃ الاحرام اور توجہ کے احکام

اس میں کل بارہ مسائل ہیں۔

۱۔ تکبيرۃ الاحرام واجب ہے۔

۷۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز کی ابتدا وضو ہے اس کی تحریم ،تکبیر ہے اور تحلیل، سلام ہے۔(۸۳)

۷۹- امام صادق علیہ السلام سب لوگوں سے بڑھ کر کامل ترین اور مختصر ترین نمازپڑھنے والے تھے آپؑ جب نماز شروع کرتے تھے تو فرماتے تھے

"أَللهُ أكبَرُ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ " ۔ (۸۴)

۸۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کی ایک ناک ہوتی ہے اور نماز کی ناک تکبیر ہے۔ (۸۵)

۸۱- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :نماز کی چابی تکبیر ہے ۔(۸۶)

۸۲- امام صادق علیہ السلام سے نماز کی افتتاح سے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: ایک تکبیر کافی ہے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ پھرسات (تکبیریں) کیا ہیں تو آپؑ نے فرمایا:وہ افضل ہیں۔ (۸۷)

۲۔ اگر تکبیرۃ الاحرام ترک ہوجائے تو اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے اگرچہ بھول کر ترک ہوجائے اور جب ترک ہونے کا یقین ہو تو نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے جبکہ شک کی صورت میں نہیں ۔

۸۳- امام باقر علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تکبیرۃ الاحرام کہنا بھول جاتا ہےتو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: (وہ نماز کو) دوبارہ پڑھے۔ (۸۸)

۸۴- امام باقر یا امام صادق علیھما السلام میں سے ایک امام ؑ سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جسکومعلوم ہوجائے کہ اس نے نماز کی ابتدا میں تکبیر نہیں کہی تھی تو آپؑ نے فرمایا: جب اسے یقین ہوجائے کہ اس نے تکبیر نہیں کہی تو دوبارہ پڑھے، لیکن اسے یہ یقین کس طرح ہوگا ؟ (۸۹)

۸۵- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوتکبير کہنا بھول جاتا ہے یہاں تک کہ (حمد و سورہ کی) قرائت کرتا، توآپؑ نے جواب میں فرمایا: وہ تکبیر پڑھے۔ (۹۰)

۸۶- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جوپیش نما ز کے پیچھے تکبیرۃ الاحرام کہنا بھول گیا ہو،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: نماز کو دوبارہ پڑھے (کیونکہ تکبیر) افتتاح کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔(۹۱)

۸۷- امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: پیش نماز اپنے مقتدیوں کے جملہ شکوک کو برداشت کرتا ہے سوائے تکبیرۃ الاحرام کے۔(۹۲)

۸۸- ایسے شخص کے بارے میں جو تکبیرۃ الاحرام کہنا بھول جائے اور نماز کے بعد یاد آجائے، روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: وہ اس (نماز) کی قضا کرے اور اس پر کچھ نہیں ہے۔ (۹۳)

اس حدیث کو نماز کو قضا کرنے اور تکبیرۃ الاحرام کوبھولنے کا یقین نہ ہونے کی صورت میں نما ز کو قضا کرنا مستحب ہونے پر حمل کیا گیا ہے۔

۸۹- ایسے شخص کے بارے میں جو تکبیر بھول گیا اور قرائت شروع کر دی، روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر رکوع سے پہلے یاد آجائے تو تکبیر کہے اگر رکوع میں جاچکا ہے تو نماز کو جاری رکھے ۔(۹۴)

اور یہ تكبیرۃ الاحرام کے ترک ہونے کا یقین نہ ہونے پر محمول ہے۔

۹۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: انسان تکبیرۃ الاحرام کو نہیں بھولتا۔ (۹۵)

۹۱- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز پڑھنا شروع کی مگر تکبیرۃ الافتتاح نہیں کہی،پوچھا گیا: آیا اس کے لئے رکوع والی تکبیر کافی ہے؟ آپؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: نہیں! بلکہ جب اسے یاد ہے کہ اس نے تکبیرۃ الاحرام نہیں کہی تو پھر وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ (۹۶)

۹۲- امام رضا علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوتکبیرۃ الاحرام کہنا بھول گیا یہاں تک کہ رکوع کی تکبیر کہہ دی تو آپؑ نے فرماما: یہی تکبیر کافی ہے۔(۹۷)

جیسا کہ گزر گیا اس کو گزشتہ(تکبیرۃ الاحرام بھولنے کا یقین نہ ہونے کی)صورت اور تکبیر کہنے والا ماموم ہونے کی صورت پر حمل کیا گیا ہے۔

۹۳- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب پیش نماز حالت رکوع میں ہو اور کوئی ماموم جلدل جلدی آجائے تو اس کے لئے ایک ہی تکبیر، تکبیرۃ الاحرام اور رکوع کے لئے کافی ہے۔ (۹۸)

۴۔ پانچ (وقت کی)نمازوں میں کل واجب اور مستحب تکبیریں پچانوے(۹۵) ہیں۔

۹۴- امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کہ شب و روز کی نمازوں میں پچانوے تکبیریں ہیں جن میں سے پانچ تکبیریں قنوت کی ہیں۔(۹۹)

۹۵- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پانچ فرض نمازوں میں کل تکبیریں پچانوے ہیں جن میں سے پانچ تکبیریں قنوت کی ہیں (۱۰۰)

۹۶- روایت نقل ہوئی کہ ظہر میں اکیس تکبیریں اور عصرمیں اکیس تکبیریں اور مغرب میں سولہ اور عشاء میں اکیس اور صبح میں گیار ہ تکبیریں اور پانچ نمازوں میں پانچ قنوت کی پانچ تکبیریں ہیں۔ (۱۰۱)

۵۔ نماز کی ابتدا میں مستحب تکبیر کا پہلے کہنا جائز ہے اور تکبیرۃ الاحرام کہنا بھول جائے تو گزشتہ تکبیریں کافی ہوں گی۔

۹۷- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب تم اکیس تکبیروں میں سے ایک تکبیر کے ساتھ نماز کی ابتداء کرنے کے بعد باقی تکبیریں بھول جاؤ تو وہی تکبیر دوسری تمام تکبیروں سے کافی ہے۔(۱۰۲)

۹۸- امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز شروع کی اورتکبیر کہنا بھول گیا یہاں تک کہ رکوع میں چلا گیا اور جب رکوع میں پہنچ گیا تب اسے یاد آگئی، پوچھا گیا کہ وہ ایک یا دو رکعت پڑھ چکا ہو تو اس کے لئے یہی نماز کافی ہے؟ اور کیا وہ نماز شمارہوگی؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: جس نماز کی ابتداء تکبیرة الاحرام سے کی گئی ہو وہی نماز شمار ہوگی۔(۱۰۳)

۶۔ سات یا پانچ یا تین تکبیروں سے نماز کا افتتاح کرنا مستحب ہےان میں سے تکبیرۃ الاحرام کو مقدم اور مؤخرکرنے کا اختیار ہے۔

۹۹- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: نماز کی طرف توجہ کرنی ہو تو کم از کم ایک تکبیر ہے اگرچہ تین یا پانچ یا سات تکبیریں افضل ہیں۔(۱۰۴)

۱۰۰- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے کے لئے تشریف لے گئے اسوقت امام حسین علیہ السلام ( اپنے بچپن کے عالم میں)ٹھہر ٹھہرکر دیر سے کر گفتگو فرماتے تھے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے دائیں پہلو میں بٹھایا پھرنماز کیلیے تکبیرۃ الاحرام کہی تو امام حسین علیہ السلام نے بھی تکبیر کہی جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام حسین علیہ السلام کی تکبیر سنی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کو دہرایا تو امام حسین علیہ السلام نے پھر تکبیرکہی یہاں تک کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات بار تکبیر کہی تو امام حسین علیہ السلام نے بھی تکبیرکہی اس لئے سات بار تکبیر کہنا سنت قرار پائی۔ (۱۰۵)

۱۰۱- اس کی علت و سبب کے بارے میں منقول ہے کہ جب رسول اکرام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آسمان پہ سیر کرایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات حجب (پردوں) کو توڑ دیا اور ہرحجاب کے ساتھ ایک تکبیر پڑھی۔ (۱۰۶)

۷۔ سات تکبیروں کو جدا کرکے تین بار پھر دو دو بار کہنا اور منقولہ دعائیں پڑھنا مستحب ہے۔

۱۰۲- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز شروع کرنے لگو تو دونوں ہاتھوں کو بلند کرو پھر ان کو چھوڑ دو پھر تین بار تکبیر کہو اور یہ دعا پڑھو:

"اللّٰهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الْمُبينُ، لَاإِلٰهَ إِلّا أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي إِنَّهُ لَايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ "

پھر دو تکبیریں کہو اس کے بعد کہو:

"لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدَيْكَ ذَلِيلٌ بَيْنَ يَدَيْكَ مِنْكَ وَبِكَ وَلَكَ وَ إِلَيْكَ لَامَلْجَأَ وَلَا مَنْجَىٰ وَلَا مَفَرَّ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ، سُبْحانَكَ وَحَنانَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ سُبْحانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ الْحَرامِ"

اس کے بعد پھر دو تکبیر کہو اور ان کے بعد یہ دعا پڑھو

"وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ عالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ حَنِيفاً مُسْلِماً وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِينَ لَاشَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ "

؛پھر شیطان سے پناہ مانگواس کے بعد سورہ فاتحہ کی تلاوت کرو۔ (۱۰۷)

۱۰۳۔ دعاے توجہ میں یہ دعا منقول ہے

"وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰاوٰاتِ وَ الْأَرْضَ، حَنِیفاً مُسلِماً عَلىٰ مِلَّةِ ابراهیمَ و دینِ مُحَمَّدٍ وَمِنهَاجِ عَلىٍّ عَلَيهِ السَّلَامُ)

اور

(وَهدَی عَلِيِّ أَمِیرِالمُؤمِنِینَ عَلَیهِ السَّلَامُ"

منقول ہے۔ (۱۰۸)

۸۔ واجب اور مستحب تکبیرکے ساتھ ہاتھوں کا بلند کرنا مستحب ہے خصوصا پیش نماز کے لئے۔

۱۰۴- امام صادق علیہ السلام جب نماز میں تکبیر کہتے تھے تو ہاتھوں کو اس قدربلند کرتے تھے کہ تقریبا کانوں تک پہنچ جاتے تھے۔(۱۰۹)

۱۰۵- روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام چہرے سے تھوڑا نیچے تک ہاتھ بلند کرتے تھے ۔(۱۱۰)

۱۰۶- روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام جب نماز کا افتتاح کرتے تھے تو چہرہ کے برابر ہاتھ بلند کرتے تھے۔(۱۱۱)

۱۰۷- امام صادق علیہ السلام سے ، اللہ تعالی کے اس ارشاد

(فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر)(۱۱۲)

کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اس(نحر) سے مراد چہرہ تک ہاتھوں کا اٹھانا ہے۔(۱۱۳)

۱۰۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کی ابتدا کرو اور تکبیر کہو تو کانوں سے آگے ہاتھ نہ اٹھاؤ اور نماز فریضہ میں جب دعا کے لئے ہاتھ اٹھاؤ تو سر سے اونچا نہ کرو۔ (۱۱۴)

۱۰۹- روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے نماز کی ابتدا کی تو ہاتھوں کو چہرہ کے برابر تک اس طرح بلند کیا کہ ہتھیلیاں قبلہ کی طرف تھیں۔ (۱۱۵)

۱۱۰- روایت نقل ہوئی ہے کہ پیش نماز کو چاہئے کہ نماز میں ہاتھوں کو بلند کرے اس کےعلاوہ کسی دوسرے شخص پر ہاتھوں کو بلندکرنا لازم نہیں ہے۔ (۱۱۶)

اور یہ مستحب مؤکد ہونے پر محمول ہے۔

۹- تکبیر کہتے وقت ہاتھوں کا اس قدر بلند کرنا کہ کانوں سے آگے نکل جائیں مکروہ ہے۔

۱۱۱- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کے لئے کھڑے ہو اورتکبیر کہو تو ہاتھوں کو بلند کرو اور ہتھیلیوں کو کانوں سے اوپر نہ لے جاؤ۔ (۱۱۷)

۱۱۲- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کا افتتاح کرو اور تکبیر کہو تو ہاتھوں کو کانوں سے اوپر نہ اٹھاؤ۔(۱۱۸)

۱۱۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک دفعہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہا تھا اور (تکبیر کہتے وقت ) اپنے ہاتھوں کو سر سے بھی اوپر بلند کر رہا تھا تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میں کچھ لوگوں کو دیکھتا ہوں جو اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں سے بھی اوپر لے جاتے ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ سرکش گھوڑوں کے کان کھڑے ہیں۔(۱۱۹)

۱۱۴- امام باقر علیہ السلام نے جب نماز کی ابتدا کے وقت پڑھی جانے والی تکبیروں کا تذکرہ فرمایا تو آپ سے پوچھا گیا: ہم کس طرح کریں؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: سات بار تکبیرکہو اس کے بعد سات بار حمد کرو اور سات بار تسبیح کرو اور سات بار تہلیل کرو اورسات بار خدا کی حمد و ثنا کرو پھر قرائت کرو۔(۱۲۰)

۱۱۵- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز شب کا افتتاح کر چکو تو آیۃ الکرسی اور معوذتین پڑھو اور اس کے بعد سورہ فاتحہ اور دوسرا سورہ پڑھو۔ (۱۲۱)

۱۱۔ پیش نماز کے لئے تکبیرۃ الاحرام کو جہر سے اور باقی چھ مستحب تکبیروں کو اخفات سے کہنا مستحب ہے۔

۱۱۶-امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم پیش نماز ہو تو تمہارے لئے کافی ہے کہ ایک تکبیر جہر سے کہو اور دوسری چھے تکبیروں کو آہستہ کہو۔ (۱۲۲)

۱۱۷- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کا افتتاح کرو تو چاہو تو ایک بار تکبیر کہو اور چاہو تو تین اور اگر چاہو تو پانچ اور اگر چاہو تو سات بار کہو یہ سب کچھ کافی ہیں البتہ جب تم پیش نماز ہو تو صرف ایک تکبیرجہرسے کہو۔ (۱۲۳)

۱۱۸- روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک تکبیر جہر سے باقی چھ اخفات سے کہا کرتے تھے۔ (۱۲۴)

۱۱۹۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوں تو کہو:

" بِسْمِ اَللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ مِنَ اَللَّهِ وَ إِلَى اَللَّهِ وَ كَمَا شَاءَ اَللَّهُ وَ لاٰ قُوَّةَ إِلاّٰ بِاللّٰهِ اَللَّهُمَّ اِجْعَلْنِي مِنْ زُوَّارِكَ وَ عُمَّارِ مَسَاجِدِكَ وَ اِفْتَحْ لِي بَابَ رَحْمَتِكَ وَ أَغْلِقْ عَنِّي بَابَ مَعْصِيَتِكَ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اَلَّذِي جَعَلَنِي مِمَّنْ يُنَاجِيهِ اَللَّهُمَّ أَقْبِلْ عَلَيَّ بِوَجْهِكَ جَلَّ ثَنَاؤُكَ"

اس کے بعد تکبیر کے ساتھ نماز کی ابتداء کرو۔ (۱۲۵)

۲۸

حوالہ حات:

۱. حر عاملی ، محمد ابن حسن (رح) وسائل شیعہ،ص ۶۷۰/۳ ،مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، ایران،چاپ : اول،۱۴۰۹ق۔

۲. ۔ وسائل ۴ : ۶۷۳/۱

۳. ۔ وسائل۴: ۶۷۶/۴

۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۷۷/۵

۵. ۔ و سائل ۴ :: ۶۸۳/۱۴

۶. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۳/۱۵

۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۲/۱۵

۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۱/۱۳

۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۹/۱

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۴

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۷

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۵

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۹

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۱/۱۰

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۹۹/۱

۱۶. ۔بقرہ:۱۷۳

۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۱

۱۸. ۔کوثر:۲

۱۹. ۔ و سائل ۴ :: ۴۹۴/۳

۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۲

۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۴

۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۳

۲۳. ۔۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۱

۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۲

۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۱

۲۶. ۔طہ:۱ و۲

۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۲

۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۳

۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۴

۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۱

۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۲

۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۸/۱

۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۸/۳

۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۲

۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۳

۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۱

۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۱

۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۲

۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۳

۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۲

۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۱

۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۳

۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۴

۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۵

۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۸/۶

۴۶. ۔قیامت:۱۴

۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۸/۲ و ۳

۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۹/۴

۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۱

۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۲

۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۱

۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۴

۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۳

۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۳/۱

۵۵. و سائل ۴ : ۶۹۰/۹

۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۳/۴

۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۵

۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۱

۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۵/۱

۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۵/۲

۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۶

۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۷

۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۸

۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۹

۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۷/۱۰

۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۷/۱۲

۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۳/۲

۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۱

۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۱/۱

۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۲

۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۳

۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۸/۶

۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۱

۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۲

۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۵

۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۴/۱

۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۵/۲

۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۵/۵

۷۹. ۔مومنون:۲

۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۶/۶

۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۱۵/۱۰

۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۱۰/۱۱

۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵/۱۰

۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۵/۱۱

۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۴/۶

۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۴/۷

۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۳/۲

۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۵/۱

۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۲

۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۴

۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۷

۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۶

۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۸

۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۱۰

۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۱۱

۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۸/۱

۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۸/۲

۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۳

۱۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۱۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۲

۱۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۱

۱۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۲

۱۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۳/۹

۱۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۲/۴

۱۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۲/۵

۱۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۳/۱

۱۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۴/۳

۱۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۱

۱۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۲

۱۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۳

۱۱۲. ۔کوثر:۲

۱۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۴

۱۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۵

۱۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۶/۶

۱۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۶/۷

۱۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۸/۲

۱۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۸/۳

۱۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۴

۱۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۱

۱۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۲

۱۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۳

۱۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۴

۱۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۲

۱۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۱/۱

۲۹

۱۲۶. پانچواں فعل :قرائت

اس میں کل بارہ فصلیں ہیں۔

پہلی فصل:

سورہ فاتحہ کے احکام

اس کی کل تعداد بارہ ہیں ۔

۱۔ دو رکعتی نماز کی ہر رکعت میں اور دوسری نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں اس کا پڑھنا واجب ہے۔

۱۲۰- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: سورہ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۱۵۸/۵)

۱۲۱- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص نماز ہے۔( و سائل ۴ : ۷۳۳/۶)

۱۲۲- امام باقر علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو نماز میں سورہ حمد نہیں پڑھتا ہے تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: جب تک جہر یا اخفات سے سورہ حمد کی تلاوت نہ کرے اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۲/۱)

۱۲۳- ایسے شخص کے بارے میں جو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے لیکن وہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنا بھول جاتا ہے منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تک رکوع میں چلا نہیں گیا ہے سورہ فاتحہ پڑھے کیونکہ جب تک جہر یا اخفات سے فاتحہ نہ پڑھے اس کی کوئی قرائت نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۲/۲)

۱۲۴- امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں کو اس لئے نماز میں قرآن پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ قرآن متروک ہو کر ضایع نہ ہوجائے اور تمام سوروں کو چھوڑ کر سورہ حمد سے قرآن کا اس لئےآغاز کیا ہے کیونکہ جس قدر خیر و خوبی اور علم و حکمت اس سورے میں ودیعت کی گئی ہے اتنی قرآن(کے کسی سورہ) اور کسی اورکلام میں نہیں کی گئی۔ (و سائل ۴ : ۷۳۳/۳)

٢-نماز فریضہ میں ضرورت کے وقت صرف سورہ فاتحہ کا پڑھنا کافی ہے۔

۱۲۵- امام باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی نماز گزار کوخوف ہو یا انتہائی جلدی میں ہو تو آپؑ کو کونسی بات پسند ہے کہ کوئی سا سورہ پڑھے یا سورہ فاتحہ؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: سورہ فاتحہ ۔( و سائل ۴ : ۷۳۲/۱)

۱۲۶- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کہ اگر کسی شخص کو کسی ضروری کام کی وجہ سے جلدی ہو یا کسی چیز کا خوف ہو تو پھر نماز فریضہ کی پہلی دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔( و سائل ۴ : ۷۳۴/۲)

۱۲۷- امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اگر میں جلدی میں ہوں یا کوئی چیز مجھے جلد بازی پر آمادہ کرے تو آیا میرے لئے صرف سورہ فاتحہ کا پڑھنا کافی ہے؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۴/۴)

۱۲۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: صرف سورہ فاتحہ، نماز فریضہ میں کافی ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۴/۳)

میں کہوں گا یہ وقتی ضرورت اور تقیہ پر محمول ہے اس کی دليل گزرچکی ہے اورآگے آنے والی بھی ہے۔

۳۔حالت اختیار میں نماز فریضہ میں تنہا سورہ فاتحہ کافی نہیں ہےاسکی دلیل گزر چکی ہے اور آگے آنے والی بھی ہے۔

۴۔ نافلہ نماز میں ہر صورت میں تنہا سورہ فاتحہ کافی ہے اس کی دلیل و سند آگے آئے گی۔

۱۲۹- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بیمار کے لئے جائز ہے کہ نماز فریضہ میں صرف سورہ فاتحہ پراکتفا کرے اور تندرست کے لئے روز و شب کی مستحب نمازوں کی قضا میں صرف اس پر اکتفا کرنا جائز ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۴/۵)

۵-

۱۳۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے نماز میں رکوع اور سجود فرض کئے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص اسلام میں داخل ہوا ہو جو اچھی طرح قرآن نہ پڑھ سکتا ہو تو اس کے لئے جائز ہے کہ تکبیر و تسبیح کرکے نماز پڑھے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۵/۱)

۱۳۱- امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو انتہائی جلدی کی حالت میں ہو،پوچھا گیا کہ اس کے لئے نما زنافلہ میں کیا پڑھنا کافی ہے؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: قرائت کی جگہ تین بار تسبیح کرنا اور رکوع و سجود میں ایک ایک بار تسبیح کرنا کافی ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۵/۲)

۷۔ سورہ حمد اور دوسرے سوروں کا سیکھنا واجب ہے جیسے یہاں (اس فصل )میں اور مقدمات نماز میں اس کی دلیل و سند گزر چکی ہے اور مزید آئے گی۔

۸۔ سورہ حمد اورسوائے سورہ برائت کے باقی سوروں کی ابتداء میں بسم اللہ کا پڑھنا واجب ہے۔

۱۳۲- امام صادق علیہ السلام سے سبع مثانی اور قرآن عظیم کے متعلق پوچھا گیا کہ آیا اس سے مراد سورہ فاتحہ ہے؟ تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: ہاں، آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آیا

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

بھی سبع مثانی(سات آیتوں)میں سے ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ہاں اور یہ ان سب سے افضل ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۵/۲)

۱۳۳- ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوں تو سورہ فاتحہ کے ساتھ

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ "

پڑھوں؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں،پھر عرض کیا: جب سورہ حمد کے بعد دوسرا سورہ پڑھوں تو اس کے ہمراہ بھی

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

پڑھوں؟ فرمایا: ہاں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۶/۵)

۱۳۴- امام تقی علیہ السلام سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے نماز کو شروع کی تو سورہ حمد سے پہلے

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

پڑھی مگر جب دوسرا سورہ پڑھا تو اسے ترک کر دی،تو آپ ؑ نے اپنے دست مبارک سے لکھا کہ اس نماز کودوبارہ پڑھے (و سائل ۴ : ۷۴۶/۶)

۱۳۵- امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

سورہ فاتحہ کی ایک آیت ہے اور اس کی کل سات آیتیں ہیں ان کی تکمیل

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

سے ہوتی ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۶/۹)

۱۳۶- امام علی علیہ السلام سے

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

کےمتعلق پوچھا گیا کہ آیا وہ سورہ فاتحہ کا جزء ہے؟ تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: ہاں، کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے پڑھتے تھے اور اسے فاتحہ کی ایک آیت شمار کرتے ہیں ۔ (و سائل ۴ : ۷۴۷/۱۰)

۹۔ تقیہ کے مقام پر بسم اللہ کا ترک کرنا جائز ہے اور اخفات کے مقام پر اس میں جھرنہ کرنا جائز ہے۔

۱۳۷- امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو ایسی قوم کو نماز با جماعت پڑھاتا ہے جو

" بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ"

کوجھرسے پڑھنے کو ناپسند کرتی ہے توآپ ؑ نے جواب میں فرمایا: پھرجہر نہ کرے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۷/۱)

۱۳۸- روایت نقل ہوئی ہے کہ سورے میں بسم اللہ کا ترک کرنا جائز ہے جبکہ سورہ حمد میں نہیں۔

(و سائل ۴ : ۷۴۸/۴)

۱۳۹- منقول ہے کہ تمام سوروں میں ترک کرنا جائزہے ۔ (و سائل ۴ : ۷۴۹/۵)

اس کو تقیہ کی صورت اور جہر کی جگہ ضرورت کے تحت اخفات کرنے پر حمل کیا گیا ہے۔

۱۰۔ سورہ حمد کے اختتام پر آمین کہنا جائز نہیں ہے بلکہ

"اَلحَمدُ للّٰهِ رَبِّ العَالَمِینَ"

کہا جائے گا۔

۱۴۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہو اور وہ اس کی قرائت سے فارغ ہوجائے تو کہو:

"اَلحَمدُ للّٰهِ رَبِّ العَالَمِینَ"

اور (آمین" نہ کہو ۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۱)

۱۴۱- امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آیا سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد آمین کہوں ؟ تو آپؑ نے فرمایا: نہیں۔( و سائل ۴ : ۷۵۲/۳)

۱۴۲- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا : جب قرائت سے فارغ ہوجاؤ تو ہرگز نہ کہو:(آمین) اگر چاہو تو کہو:

"اَلحَمدُ للّٰهِ رَبِّ العَالَمِینَ" ۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۴)

۱۴۳- (آمین کہنا) جائز ہونا بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۳/۵)

اور یہ تقیہ کی صورت پر محمول ہے۔

۱۱۔ اخفات کے مقامات پربسم اللہ کو جہر سے پڑھنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل آگے آئے گی۔

۱۲۔ سورہ فاتحہ کا تیسری اور چوتھی رکعتوں میں پڑھنا واجب عینی نہیں ہے بلکہ مکلف کو اس کو یا تسبیحات اربعہ کو پڑھنے کا اختیار ہے لیکن تسبیحات اربعہ کا پڑھنا افضل ہے اس کی دلیل آگے آئے گی۔

۳۰

دوسری فصل:

تمام سوروں (کوپڑھنے) کے احکام

ان کی کل تعداد بارہ ہے۔

۱۔ فریضہ نماز کی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد ایک اور سورہ کا پڑھنا با اختیار شخص کے لئے واجب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔

۱۴۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز فریضہ میں (سورہ حمد کے بعد) ایک سورہ سے کم اور اس سے زیادہ نہ پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۷۳۶/۲)

۱۴۵- امام باقر یا امام صادق علیھماالسلام میں سے ایک امام ؑسے اس شخص کے بارے میں جو ایک رکعت میں دو سورے پڑھتا ہے،کے بارے میں پوچھا گیا توآپؑ نے فرمایا: نہیں، ہر رکعت کے لئے ایک ہی سورہ ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۶/۳)

۲۔ جب قرائت اور قیام کے درمیان، تعارض( ٹکراؤ) پیش آئے تو انسان کو(ان میں سے ایک کو مقدم کرنے کا) اختیار ہے لیکن سورہ کو مقدم کرنا مستحب ہے۔

۱۴۶ - ایسے شخص کے بارے میں روایت نقل ہوئی ہے جو مکہ کی طرف سفرکرتا ہے اور نماز کے لیے ایسے مقامات پر اترتا ہے جہاں عرب کے بدو موجود ہوتے ہیں آیا وہ ان حالات میں نماز فریضہ کو زمین پر صرف سورہ حمد کے ساتھ پڑھے گا یا سواری پر سورہ حمد اور دوسرے سورہ کے ساتھ پڑھے گا؟ (امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں) فرمایا: اگر تمہیں زمین پر نماز پڑھنے میں خوف و خطر ہو تو نماز فریضہ وغیرہ سواری کے اوپر پڑھو اور جب حمد و سورہ دونوں کو پڑھو تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اور تو نے جو کیا(زمین پر صرف سورہ حمد پڑھا) ہے میں اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا- (و سائل ۴ : ۷۳۶/۱)

۳۔ نماز آیات کے علاوہ کسی نماز فریضہ میں بغیر ضرورت کے سورہ کو تقسیم کرنا جائز نہیں ہے لیکن ضرورت کے وقت اور تقیہ کے مقام پر اور نافلہ نماز میں ایسا کرنا جائز ہے اسکی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۴۷- امام کاظم علیہ السلام سے سورہ کو تقسیم کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں البتہ نافلہ نماز میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۷/۴)

۱۴۸- ایک سورہ کو دو رکعتوں میں تقسیم کرنا جائز ہونا منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۷/۵)

اور یہ، نماز نافلہ اور ضرورت اور تقیہ کی صورتوں پر محمول ہے۔

۱۴۹- امام باقر علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جس نےایک رکعت میں کوئی سورہ پڑھا مگرغلط پڑھا،پوچھا گیاکہ آیا اس غلط پڑھے ہوئے مقام کو چھوڑ کر باقی سورہ کی تلاوت جاری رکھے یا اس سورہ کو چھوڑ کر کوئی اور سورہ پڑھے؟

تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: ان سب میں گنجائش ہے کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اگر سورہ کی صرف ایک آیت پڑھ کر بھی رکوع کرنا چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۷/۷)

میں کہوں گا: جیساکہ اسکی وجہ گزر چکی ہے مذکورہ صورت، ضرورت کے مقامات میں سے ایک ہے-

۱۵۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہم نے امام باقر علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھی اور آپ نے سورہ حمد کے بعد سورہ مائدہ کی آخری چند آیتیں پڑھیں جب سلام پڑھ لیا تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کہ تمہیں سمجھانا چاہا(اس لئے ایسا کیا)۔ (و سائل ۴ : ۷۳۸/۱)

میں کہوں گا: ظاہری طور پر یہ صورت، تقیہ کی صورت میں سے ہے

۴۔ نماز فریضہ اور نافلہ کی دو رکعتوں میں ایک ہی سورہ کو پے در پے دو دفعہ پڑھنا جائز ہے البتہ آدمی کوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہو تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔

۱۵١- امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آیا آدمی ایک ہی سورہ کو نماز فریضہ کی دو رکعتوں میں پڑھ سکتا ہے؟

آپ نے فرمایا: جب وہ حصہ تین آیتوں سے زیادہ پر مشتمل ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۹/۳)

۱۵۲- امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آپ کا غلام سلیم نے بتایا ہے کہ اس کے پاس سارے قرآن میں سے صرف سورہ یسین ہے جب کہ وہ رات کے وقت نماز کے لئے اٹھتا ہے تو اس کے پاس قرآن کا جو کچھ ہے وہ ختم ہوجاتا ہے آیا وہ اسی کی تکرار کرے جو پہلے پڑھ چکا ہے ؟ آپ ؑنے فرمایا: ہاں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۹/۴)

۱۵۳- امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے باے میں جو دو رکعتوں میں ایک ہی سورہ پڑھتا ہے جب کہ وہ دوسرا سورہ بھی پڑھ سکتا ہے،پوچھاگیا کہ اگر وہ ایسا کرے تو اس کی گردن پر کچھ ہے؟

آپ ؑنے جواب میں فرمایا: اگر وہ کوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتا ہے تو ایسا نہ کرے اور اگر نہیں پڑھ سکتا تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

(و سائل ۴ : ۷۳۸/۱)

۵۔ اس ( مذکورہ) حکم سے سورہ اخلاص مستثنی ہے۔

۱۵۴- امام باقر علیہ السلام سے کسی نے پوچھا: آیا میں نماز میں (صرف ) سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھ سکتا ہوں؟

تو آپ نے فرمایا: ہاں، رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں رکعتوں میں سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھا ہے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پہلے یا اس کے بعد سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد کے ساتھ اس نمازسے کاملتر نماز نہیں پڑھی ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۰/۲)

۱۵۵- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز اوّابین پچاس رکعت کی ہے اور وہ سب کی سب سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد کے ساتھ ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۰/۳)

۱۵۶- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ، پچاس نمازوں میں کافی ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۳۹/۱)

۱۵۷- رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر روانہ کیا اور اس کا سردار امام علی علیہ السلام کو مقرر فرمایا جب لوگ واپس آئے تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا: یہ سفر کیسا رہا؟

انہوں نے عرض کیا: اور تو ہر طرح خیریت رہی مگر علی علیہ السلام نے ہر نماز میں سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ہی پڑھا! آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے علی علیہ السلام آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟

آپ نے عرض کیا کہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد سے اپنی محبت کے پیش نظر، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اس وقت تک آپ کو اس سے محبت نہیں ہوئی جب تک خدا نے آپ سے محبت نہیں کی۔ (و سائل ۴ : ۷۴۰/۴)

۶۔ نماز فریضہ میں دو سوروں کو باہم ملا کر پڑھنا جائز نہیں ہے البتہ نافلہ میں ایسا کرنا جائز ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آنے والی ہے۔

۱۵۸- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: ( نماز فریضہ کی) ایک رکعت کے اندر دو سوروں کو ملا کر پڑھنا درست نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۲/۱۲)

۱۵۹- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: نماز فریضہ کی ایک رکعت میں دو سوروں کو ہرگز نہ پڑھو توافضل ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۲/۱۱)

۱۶۰- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: نماز فریضہ کے اندر( ایک رکعت میں) دو سوروں کو ملا کر پڑھنا ناپسندیدہ کام ہے البتہ نافلہ نماز میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۱/۶)

۱۶۱- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو ایک رکعت میں دو سورے ملا کر پڑھتا ہے،پوچھا گیا توجواب میں فرمایا: ہر سورہ کا حق ہے لہذا رکوع و سجود میں سے اس کا حق دو۔ (و سائل ۴ : ۷۴۱/۳)

۱۶۲- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: وہ (سوروں کو ملانا جائز نہ ہونے کا حکم ) نماز فریضہ میں ہے لیکن نافلہ میں ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۱/۵)

۱۶۳- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نافلہ نماز میں سوروں کو جمع کرکے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے- (و سائل ۴ : ۷۴۱/۷)

۱۶۴- امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: نماز شب کے اندر تو دو یا تین سورے پڑہو مگر دن کی نمازوں کے اندر ایک ہی سورہ پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۷۴۱/۴)

۱۶۵- امام علی علیہ السلام نماز وتر میں نو(۹) سورے پڑھا کرتے تھے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۲/۸)

۱۶۶- روایت نقل ہوئی ہے کہ فریضہ اور نافلہ(دونوں) میں سوروں کو ملا کر پڑھنا جائز ہے-( و سائل ۴ : ۷۴۲/۹)

اور یہ،تقیہ کے مقام پر محمول ہے۔

۷۔

۱۶۷- امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیا قرآن مجید کے کسی سورہ جیسے (قُل ھُوَ اللہَ أَحَدُ) کو ذکر کرکے اس کے ذریعے سے نماز میں دعا کی جاسکتی ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا: جب اسکے ذریعہ سے دعا مانگو تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۳/۱)

۸۔ کسی بھی سورہ سے دوسرے سورے کی طرف عدول کرنا جائز ہے جب تک اس کے نصف سے تجاور نہ کر جائے ماسواے سورہ توحید اور جحد کے پس ان دونوں سوروں سے سواے سورہ جمعہ اور منافقون کے کسی بھی سورے کی طرف عدول نہیں کیا جاسکتا۔

۱۶۸- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھاگیا جوکوئی خاص سورہ پڑھنا چاہتا تھا لیکن کوئی اور سورہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے توآپؑ نے جواب میں فرمایا: اس کے لئے دوسرے سورہ کے کی طرف رجوع کرنے اور اسی سورہ کے بقیہ دو تہائی حصے کوپڑھنے کا اختیار ہے-

(و سائل ۴ : ۷۷۶/۲)

میں کہوں گا: کہ ظاہر یہ ہے کہ امام(ع) کی مراد یہ ہے کہ جب تک اس کے نصف سے تجاوز نہ کر جائے۔

۱۶۹- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو کوئی خاص سورہ پڑھنا چاہتا ہے مگر کوئی اور سورہ پڑھنا شروع کر دیتا ہے، پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: اس (مخصوص سورہ) کی طرف رجوع کر سکتا ہے گرچہ اس سورہ کے نصف تک پہنچ گیا ہو-

اور یہ صورت اس صورت میں شامل نہیں ہے کہ جب نصف سے تجاوز کر جائے۔ (و سائل ۴ : ۷۷۶/۳)

۱۷۰- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو فریضہ نماز میں سورہ کی نصف تک پڑھ لیتا ہے پھر آگے بھول جاتا ہے پھر اسے چھوڑ دیتا ہے اور ایک اور سورہ شروع کر دیتا ہے جب اسے پڑھ لیتا ہے تو رکوع سے پہلے وہ بھولا ہوا سورہ یاد آجاتا ہے، توآپ ؑ نے جواب میں فرمایا: وہ رکوع میں جائے اس میں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۷۶/۵)

۱۷۱- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جونماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوجاتا ہے اور ایک مخصوص سورہ پڑھنا چاہتا ہے مگر سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور قُل یَا أَیُّھَا الکَافِرُونَ شروع کر دیتا ہے، توآپؑ نے جواب میں فرمایا: ہر سورہ کو جو(غلطی سے شروع کی جائے) چھوڑ کر (معینہ سورہ کی طرف) رجوع کیا جاسکتا ہے سواے سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور قُل یَا أَیُّھَا الکَافِرُونَ کے۔ (و سائل ۴ : ۷۷۵/۱)

۱۷۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کوئی سورہ شروع کرے اور پھر چاہے کہ اسے چھوڑ کر کوئی اور سورہ پڑھے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے سواے سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد کے کہ اسے چھوڑ کر کسی اور سورہ کی طرف عدول نہیں کیا سکتا اور سورہ قُل یَا أَیُّھَا الکَافِرُونَ کا بھی یہی حکم ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۷۵/۲)

۱۷۳- امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو ایک مخصوص سورہ پڑھنا چاہتا تھا مگر کوئی اور سورہ پڑھنا شروع کر دیا، پوچھا گیا کہ آیا اس کے لئے یہ جائز ہے کہ ا س سورہ کو نصف تک پڑھے پھر اسے چھوڑ کر اس سورہ کی طرف رجوع کرے جسے پڑھنا چاہتا تھا؟ آپ ؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں ایسا کرنا جائز ہے جب یہ سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور قُل یَا أَیُّھَا الکَافِرُونَ نہ ہو۔ (و سائل ۴ : ۷۷۶/۳)

۱۷۴- امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ نماز جمعہ میں کیا پڑھنا چاہئے؟ آپ علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: سورہ جمعہ اور منافقون اور اگر ان کے علاوہ کوئی اور سورہ شروع کر دو تواگرچہ وہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ہی کیوں نہ ہو تو اسے ترک کرکے سورہ جمعہ کی طرف عدول کر سکتے ہو۔

(و سائل ۴ : ۸۱۴/۴)

۱۷۵- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم نے نماز سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد سے شروع کر دی تو پھر اسے ہی جاری رکھومگر یہ کہ جمعہ کا دن ہو تو پھر تم سورہ جمعہ اور منافقون کی طرف رجوع کر سکتے ہو۔ (و سائل ۴ : ۸۱۴/۲)

۹۔ واجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کا نماز فریضہ میں پڑھنا جائز نہیں ہے جب کہ نافلہ میں پڑھنا جائز ہے اس کی دلیل آنے والی ہے ۔

۱۰۔ نماز میں ایک یا چند آیات کا تکرار کرنا اور(خوف خدا سے) گریہ کرنا جائز ہے۔

۱۷۶- امام زین العابدین علیہ السلام جب آیہ مبارکہ(مَالِكِ یَومِ الدِّینِ)پڑھتے تھے تو اس قدر تکرار کرتے تھے کہ قریب تھا کہ ان کی جان جسم سے نکل جائے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۳/۱)

۱۷۷- امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو نماز پڑھ رہا ہے اور ایک ایسی آیت کے پاس سے گزرتا ہے جس میں ڈرایا گیا ہے، پوچھا گیاکہ آیا اس کے لئے جائز ہے کہ وہ اس آیت کو بار بار پڑھے اور روئے؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: جس قدر چاہے قرآن کی تکرار کرے اور اگر رونا آئے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۳/۳)

۱۱۔ تیسری اور چھوتھی رکعت میں سورہ کا پڑھنا واجب نہیں ہے اس کی دلیل آگے آئے گی۔

۱۲۔ ایسے سورہ کا پڑھنا جائز نہیں ہے کہ جس کو پڑھنے سے( نماز کا) وقت ہی ختم ہو جائے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۷۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص آل حم( وہ سورے جو حم سے شروع ہوتے ہیں) میں سے کوئی سورہ پڑھے گا اس کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (و سائل ۴ : ۷۸۳/۱)

۱۷۹- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز فجر میں آل حم میں سے کوئی سورہ نہ پڑھو۔( و سائل ۴ : ۷۸۴/۲)

۳۱

تیسری فصل:

سورہ کو معین کرنے کے احکام ،جن کی كل تعداد بارہ ہے-

۱۔ سورہ الضحی اور الم نشرح دونوں مل کر ایک سورہ ہیں لہذا اگر کسی ایک رکعت میں ان میں سے کوئی ایک سورہ پڑھا جائے تو دوسرا بھی ضرور اس کے ساتھ پڑھا جائے اور سورہ فیل اور لایلاف کا بھی یہی حکم ہے -

۱۸۰- ہمارے محدثین نے حضرات ائمہ علیھم السلام سے اس مذکورہ حکم کو نقل کیا ہے اور امام صادق علیہ السلام نے نماز فجر کی نماز با جماعت پڑھائی تو سورہ ضحی اور الم نشرح کو ایک ہی رکعت میں پڑھا۔ (و سائل ۴ : ۷۴۳/۲)

۱۸۱- یہ بھی منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے پہلی رکعت میں سورہ ضحی اور دوسری رکعت میں الم نشرح پڑھا ہے۔

اور یہ( مذکورہ صورت) نماز نافلہ اور تقیہ پر محمول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۳/۳)

۱۸۲- امام باقر اور امام صادق علیھما السلام میں سے ایک امام سے منقول ہے کہ آپ ؑنے فرمایا: سورہ الم تر اور لایلاف قریش ایک سورہ ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۴/۶)

۱۸۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ(ایک رکعت میں) دو سوروں کو جمع نہ کرو سواے سورہ ضحی اور الم نشرح اور الم تر کیف اور لایلاف قریش کے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۴/۵)

۱۸۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: زوال کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں حمد اور" قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ" اور تیسری میں حمد اور "قُل ھُوَ اللہُ اَحَد "اور "آیة الکرسی" اور چوتھی میں "حمد" اور "قُل ھُوَ اللہُ اَحَد" اور "سورہ بقرہ "کی آخری آیتیں "آمَنَ الرَّسُولُ"( بقرہ:۲۸۵) سے سورہ کے آخرتک اور پانچویں رکعت میں "حمد" اور" قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ" اور"سورہ آل عمران" کی پانچ آیتیں

" اِنَّ فِي خَلقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرضِ ( آل عمران:۱۹۰ )

س ے

فَإِنَّكَ لَا تُخلِفُ المِیعَاد " ( آل عمران:۱۹۴ )

اور چھٹی رکعت میں سورہ حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ اور سور بقرہ کی تین آیات

(إِنَّ رَبَّکُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرضَ) (اعراف:۵۴)

سے

(إِنَّ رَحمَتَ اللهِ قَرِیبُ مِّنَ المُحسِنِینَ) (اعراف:۵۶)

تک) اورساتویں رکعت میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور سورہ انعام کی آیت

(وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ

سے

وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ) (انعام:۱۰۰ ۔ ۱۰۳)

تک سورہ حشر کی آخری آیتیں

(لَو أَنزَلنَا هَذَاالقُرآنَ عَلَی جَبَلِ ) (حشر:۲۱)

سے آخر سورہ تک پڑھی جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۹/۱)

۱۸۵- روایت نقل ہوئی ہے کہ ہر رکعت میں حمد اور سورہ قدر اور سورہ اخلاص اور آیة الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۰/۲)

۱۸۶- اور سورہ حمد اور اخلاص پڑھنا بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۰/۳)

۱۸۷- روایت نقل ہوئی ہے کہ مغرب کی نفل کی پہلی رکعت میں( حمد کے بعد) سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور تیسری رکعت میں سورہ حمد اور سورہ حدید کی پہلی آیات کو

( وَاللهُ عَلِیمُ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ( حدید:۶)

تک اور چوتھی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ حشر کی آخری آیات پڑھے جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۵۱/۱)

۳۔

۱۸۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سات مقامات پر سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور سورہ قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ کا پڑھنا ترک نہ کرو:

نماز فجر سے پہلی دو رکعت میں اور زوال کی نفل کی دو رکعت میں اور مغرب کی نفل کی دو رکعت میں اور نماز شب کی پہلی دو رکعت میں اور احرام کی دو رکعت میں اور نماز صبح کی دو رکعت میں اور نماز طواف کی دو رکعت میں۔ (و سائل ۴ : ۷۰۱/۱)

۱۸۹- روایت نقل ہوئی ہے کہ ان تمام (مذکورہ بالا نمازوں کی) پہلی رکعت میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ پڑھی جائے سوائے نافلہ صبح کے کہ ان میں پہلی میں قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ اور دوسری میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھی جائے۔ (و سائل ۴ : ۷۰۱/۲)

۱۹۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز صبح میں جو بھی دو سورے چاہو پڑھو مگر میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ ان میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ اور قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ پڑھو۔

۱۹۱- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: صبح کی دو رکعت نماز کو طلوع فجر کے بعد پڑھو اور پہلی رکعت میں ( حمد کے بعد) قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ اور دوسری میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۲)

۴۔ فرض نمازوں میں سورہ قدر اور توحید کو دوسرے سوروں پر ترجیح دے کر پڑھنا مستحب ہے البتہ ان کی ترتیب میں نماز گزار کو اختیار ہے۔

۱۹۲- روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شب معراج وحی ہوئی کہ پہلی رکعت میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھیں جو کہ خدا کی نسبت ونعت ہے پھر دوسری رکعت میں سورہ حمد پڑھنے کے بعد سورہ قدر پڑھیں جو کہ قیامت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی نسبت ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۲)

۱۹۳- امام رضا علیہ السلام شب و روز کی تمام نمازوں میں پہلی رکعت میں حمد اور انا انزلنا اور دوسری میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے۔

(و سائل ۴ : ۷۶۰/۳)

۱۹۴- امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: فرائض میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس میں سب سے افضل درجہ سورہ قدر اور توحید ہے آپ ؑ سے کسی شخص نے پوچھا کہ نماز صبح میں ان کو پڑھ کر میرا سینہ تنگ ہوتا ہے آپ ؑ نے فرمایا: تمہارا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ بخدا افضلیت انہیں میں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۶۰/۱)

۱۹۵- کسی شخص نے حضرت صاحب الزمان (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)کو خط لکھا جس میں اس نے فریضہ اور غیرفریضہ نمازوں میں قرآن کی قرائت کے ثواب کے بارے میں پوچھا اور یہ کہ عالم آل محمد علیہ السلام نے فرمایا: کہ تعجب ہے اس شخص پر جو نمازوں میں سورہ انا انزلناہ نہیں پڑھتا اس کی نماز کس طرح قبول ہوتی ہے- (و سائل ۴ : ۷۶۱/۶)

منقول ہے کہ وہ نمازہر (نقص سے) پاکیزہ نہیں ہوتی جس میں سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ نہ پڑھی جائے۔

روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص فریضہ نمازوں میں سورہ ھمزہ پڑھے اسے بقدر دنیا ثواب عطا کیا جاتا ہے تو آیا یہ جائز ہے کہ سورہ ھمزہ پڑھا جائے اور یہ سورے چھوڑ دئیے جائیں؟ آپ ؑ نے اس کے جواب میں لکھا: ان سوروں کا وہی ثواب ہے جو منقول ہے لیکن اگر کوئی ایسے سورہ کوچھوڑ دے کہ جس کے لئے ثواب ہو، اور سورہ

قُل هُوَ اللهُ اَحَدُ اور إِنَّا أَنزَلنَاهُ

کے فضل و کمال کی وجہ سے پڑھے تو اسے ان پڑھے ہوئے سوروں کا ثواب بھی ملے گا اور اس سوروں کا بھی جنہیں اُن سوروں کی خاطر اس نے چھوڑا ہے اور اگر کوئی بھی شخص ان دو سوروں کو چھوڑ کر کسی اور سورہ کو پڑھے تو یہ بھی جائز ہے اور اس کی نمازکامل بھی ہوگی لیکن اس نے افضل کوترک کیا۔

۵۔ فریضہ نمازوں میں سورہ جحد و توحید کا پڑھنا مستحب ہے۔

۱۹۶- اما م باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص پر پورا ایک دن گزر جائے اور اس میں پوری پانچ نمازیں پڑھے مگر کسی بھی نماز میں سورہ (قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ) نہ پڑھے تو اس سے کہا جاتا ہے اے بندہ خدا تو نماز گزاروں میں سے نہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۶۱/۱)

۱۹۷۔ اما م باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص پر پورا ایک دن گزر جائے اور اس میں پوری پانچ نمازیں پڑھے مگر کسی بھی نماز میں سورہ قل ھوا للہ احد نہ پڑھے تو اس سے کہا جاتا ہے اے بندہ خدا تو نماز گزاروں میں سے نہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۶۲/۲)

۱۹۸- روایت نقل ہوئی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ جحداور دوسری میں سورہ توحید پڑھے جائیں۔

(و سائل ۴ :۷۶۲/۲)

۶۔ معوذتین " قُل أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ

اور "

قُل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

کا نہ صرف یہ کہ فرائض اور نوافل میں پڑھنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔

۱۹۹- امام صادق علیہ السلام نے نماز مغرب با جماعت پڑھائی اور اس کی دو رکعتوں میں معوذتین پڑھیں۔

( و سائل ۴ : ۷۸۶/۱)

٢٠٠- امام صادق علیہ السلام نے نماز مغرب کی امامت فرمائی اور اس میں معوذتین کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: یہ دونوں سورے قرآن کا حصہ ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۶/۲)

۲۰۱- امام صادق علیہ السلام نے ایک خط میں کسی شخص کو ان دو سوروں کو پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔

(و سائل ۴ : ۷۸۶/۳)

۲۰۲- اما م صادق علیہ السلام سے ان دوسوروں کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا یہ دونوں قرآن کے جزء ہیں؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں یہ قرآن کے جزء ہیں آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ابن مسعود کی قرائت میں تو یہ قرآن کے جزء نہیں ہے اور نہ ہی یہ ان کے مصحف میں درج ہیں تو آپؑ نے فرمایا: ابن مسعود نے غلطی کی ہے یا فرمایا:

ابن مسعود نے جھوٹ کہا ہے یہ دونوں سورے قرآن کے جزء ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۶/۵)

۲۰۳- اور یہ بھی منقول ہے (آپؑ نے فرمایا:)کہ ابن مسعود نے ذاتی رائے کی بنیاد پر ایسا کہا ہے۔

(و سائل ۴ : ۷۸۶/۶)

۷۔

۲۰۴- اما م صادق علیہ السلام نماز عشاء کے بعد والی نافلہ میں سورہ واقعہ اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے۔

(و سائل ۴ : ۷۸۴/۲)

۲۰۵- منقول ہے کہ ہر شب سورہ واقعہ کا پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۵/۵)

۲۰۶- روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص نماز تہجد کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ حمد ایک ایک بار اور سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ تین تین بار پڑھے تو وہ اس حالت میں اپنی جگہ سے ہٹے گا کہ اس کے اور خدا کے درمیان جو بھی گناہ ہوگا وہ معاف ہوچکا ہوگا۔( و سائل ۴ : ۷۹۶/۱)

۲۰۷- روایت نقل ہوئی ہے کہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تہجد کی آخری رکعت میں سورہ ھَل أَتَی عَلَی الإِنسَانِ پڑھا کرتے تھے۔( و سائل ۴ : ۷۹۶/۱)

۲۰۸- ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں شب کے آخری حصہ میں بیدار ہوتا ہوں اورصبح ہونے کا خوف ہوتا ہے، توآپؑ نےجواب میں فرمایا: صرف سورہ حمد ہڑھتے جاؤ اور جلدی جلدی کرو ۔ (و سائل ۴ : ۷۹۷/۲)

۲۰۹- امام صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ نمازوتروشفع میں کیا پڑھے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھو، عرض کیا تینوں رکعتوں میں؟ آپؑ نےفرمایا: ہاں (و سائل ۴ : ۷۹۸/۱)

۲۱۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے کہ سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے اور وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وتر کی تینوں رکعتوں میں اسے ہی پڑھیں تاکہ انہیں پورے ( ختم) قرآن کا ثواب حاصل ہوجائے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۸/۳)

۲۱۱- منقول ہے کہ (وتر کی) تینوں رکعتوں میں معوذتین اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھے جائیں ۔ (و سائل ۴ : ۷۹۸/۵)

۲۱۲- منقول ہے کہ نماز شفع کی پہلی رکعت میں قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ اور دوسری رکعت میں قُل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھےجاتے ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۹۹/۹)

۲۱۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ تینوں رکعتوں میں نو سورے پڑھے جائیں، پہلی رکعت میں

اَلهَاکُمُ التَّکَاثُر اور اِنَّا اَنزَلنَاهُ اور إِذَا زُلزِلَتِ الاَرضُ

اور دوسری میں حمد کے بعد

وَالعَصرِ اور اِذا جَاءَ نَصرُ اللهِ

اور سورہ کَوثَرَ اورآخری ایک رکعت میں

قُل یَا اَیُّهَا الکَافِرُونَ اور تَبَّت یَدا اَبِي لَهَب اور اِذا جَاءَ نَصرُ اللهِ اور قُل هُوَ اللهُ اَحَدُ ۔

(و سائل ۴ : ۷۹۹/۱۰)

۲۱۴- روایت نقل ہوئی ہے کہ اگر وقت وسیع ہو تو نماز تہجد میں قرائت کو طول دینا اورطویل سوروں کو پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۶۲)

۸۔

۲۱۵- رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں سورہ

عَمَّ یَتسَاءَلُونَ اورهَل أَتَاكَ حَدِیثُ الغَاشِیَه اور هَل اَتَی عَلَی الاِنسَانِ اور لَآاُقسِمُ بِیَومِ القِیَامَه

جیسے سورے پڑھتے تھے اور ظہر کی نماز میں سورہ سَبح اور شمس اور وضحھا اورھل اتاك حدیث الغاشیہ جیسے سورے پرھتے تھے اور نماز مغرب میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ اور اِذَا جَاءَ نَصرُاللہِ وَالفَتحِ اور اِذَا زُلزِلَتِ الاَرضُ )اور نمازعشا ميں ظہرجیسے اور نماز عصر میں مغرب جیسے سورےپڑھتے تھے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۷/۱)

۲۱۶- اور ظہر و عشا میں

" سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ الاَعلَی" اور"وَالشَّمسِ وَضُحَی هَا"

اور ان جیسے سورے اور نماز عصر و مغرب میں اِذَا جَاءَ نَصرُاللہِ وَالفَتحِ اور اَلھَاکُمُ التَّکَاثُر اور ان جیسے سورے جب کہ صبح میں

"عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ "اورّهَل أَتَاكَ حَدِیثُ الغَاشِیَّه" اور" لَا اُقسِمُ بِیَومِ القِیَامَّه" اور ّهَل اَتَی عَلَى الاِنسَانِ"

پڑھنا منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۷/۲)

۲۱۷- امام رضا علیہ السلام نمازوں میں پہلی رکعت میں حمد اور سورہ قدر اور دوسری میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے سوائے شب جمعہ کی نماز عشاء کے اس کی پہلی رکعت میں حمد اور جمعہ اور دوسری رکعت میں حمد اور سَبِّحِ پڑھتے تھے اور روز جمعہ کی نماز صبح اور ظہر و عصر کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور جمعہ، دوسری میں حمد و منافقین پڑھتے تھے اور سوموار و جمعرات کی نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور ھَل اَتَی عَلَی الاِنسَانِ اوردوسری رکعت میں حمد و غاشیہ پڑھتے تھے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۳)

۹۔ شب جمعہ اور روز جمعہ نمازوں میں سورہ جمعہ اور منافقون اور سورہ اَعلَی اور توحید کا پڑھنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۲۱۸- امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آیا نماز میں پڑھنے کے لئے کوئی مخصوص سورہ ہے ؟

فرمایا: نہ، سواے نماز جمعہ کے کہ اس میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۱)

۲۱۹- روایت منقول ہے کہ شب جمعہ کی نمازوں میں سورہ جمعہ اور سورہ اعلی جبکہ جمعہ کی نماز فجر میں سورہ جمعہ اور اخلاص اور نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں ۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۲)

۲۲۰- منقول ہے کہ نماز عشاء میں سورہ جمعہ اور نماز فجر میں بھی سورہ جمعہ اور نماز عصر میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں ۔

(و سائل ۴ : ۷۸۹/۳)

۲۲۱- اورصبح کی نماز میں سورہ جمعہ اور اعلی پڑھنا بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۰/۹)

۲۲۲- نماز عصر میں اسی طرح نماز فجر میں سورہ جمعہ اور اخلاص پڑھنا منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۹/۴)

۲۲۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ جمعہ کے روز فجر اور ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھنا مستحب ہے اور روز جمعہ ظہر کی نماز میں ان کے سوا کچھ پڑھنا ہی نہیں چاہئے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۹/۶)

۲۲۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر مومن پر واجب ہے کہ اگر وہ ہمارا شیعہ ہے تو شب جمعہ سورہ جمعہ اور سَبِّح پڑھے اور ظہر کی نماز میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۰/۸)

میں کہوں گا کہ اس کو مستحب مؤکد ہونے پر حمل کیا گیا ہے جس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔

۲۲۵- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے (سورہ) جمعہ کے واسطہ سے مومنین کو عزت بخشی ہے اور رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ( اس کی تلاوت) کو سنت قرار دیا ہے اور مومنین کے لئے باعث بشارت اور سورہ منافقین، منافقين کے لئے باعث توبیخ و سرزنش قرار دیا ہے اور ان دونوں سوروں کی تلاوت کو( روزجمعہ) ترک نہیں کرنا چاہئے اور جو شخص جان بوجھ کر ان کو ترک کرے گا اس کی نمازنہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۵/۳)

۲۲۶- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: روز جمعہ سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۸۱۵/۴)

۲۲۷- منقول ہے کہ ( جمعہ کے روز) اگر سفر میں سورہ توحید پڑھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔( و سائل ۴ : ۸۱۵/۲)

۲۲۸- اما م کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو نماز جمعہ میں سورہ جمعہ نہیں پڑھتا ہے،پوچھا گیا توآپ ؑنے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۷/۱)

۲۲۹- منقول ہے کہ اگر تمہیں جلدی ہو تو نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون کے علاوہ کسی اور سورہ کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

(و سائل ۴ : ۸۱۷/۳)

۲۳۰- امام رضا علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز جمعہ میں سورہ سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ الاَعلَی اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھ لیا،پوچھا گیا تو فرمایا: یہی کافی ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۸/۵)

۲۳۱- منقول ہے کہ جو شخص سفر یا حضر میں نماز جمعہ، سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کے بغیر پڑھے وہ نماز کا تکرار کرے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۸/۱)

۳۳۲- ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز جمعہ پڑھنا چاہا مگر اس نے سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد شروع کردی،منقول ہے کہ امامؑ نے فرمایا: وہ اس نماز کودو رکعتوں میں مکمل کرے اور پھر از سر نو (سورہ جمعہ کے ساتھ) پڑھے۔( و سائل ۴ : ۸۱۸/۲)

یہ حکم، مستحب ہونے پر محمول ہے۔

۲۳۳- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم شب جمعہ میں نماز شب پڑھنا چاہوتو اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں حمد اور قُل یَا اَیُّھَا الکَافِرُونَ اور تیسری میں حمد اور الم سجدہ اور چوتھی میں حمد اور یَآاَیُّھَا المُدَّثِّر اور پانچویں میں حمد اور حم سجدہ اور چھٹی میں حمد و سورہ ملك اور ساتویں میں حمد و یس اور آٹھویں میں حمد اور سورہ واقعہ پڑھواس کے بعد نماز وتر میں معوذتین اور اخلاص پڑھو۔

(و سائل ۴ : ۸۰۵/۱)

۱۰۔

۲۳۴- روایت نقل ہوئی ہے کہ فرض اور نفل والی نمازوں میں سورہ دخان اور ق اور ممتحنہ اور الصف اور الحاقہ اور نوح اورمزمل اور انفطار اورانشقاق اور اعلی اورغاشیہ اور والفجراور والتین اور تکاثر اور أرأیت اور کوثراور نصر کا پڑھنا مستحب ہے- (و سائل ۴ : ۸۰۵/۶۴)

اوران سوروں ( کو پڑھنے) کے بڑے ثواب بھی منقول ہیں ۔

۱۱-

۲۳۵- منقول ہے کہ حم والے سوروں اور سورہ رحمن اور زلزال اور والعصر کا نوافل میں پڑھنا مستحب ہے-

اوران کو پڑھنے کے بڑے ثواب بھی منقول ہیں۔ (و سائل ۴ : ۸۰۸/باب ۶۵)

۲۳۶- منقول ہے کہ نفل نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ توحید، قدر اور آیۃ الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔

اور اس کا بہت بڑا ثواب بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۱)

۲۳۷- منقول ہے کہ نماز تہجد میں اگر وقت وسیع ہو تو قرائت کو طول دینا مستحب ہے۔( و سائل ۴ : ۸۰۳/باب ۶۲)

۲۳۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص شب و روز کی تمام نمازوں میں پانچ سو آیات پڑھے گا خداوند عالم اس کے لئے لوح محفوظ میں ایک قنطار نیکیاں لکھے گا اور ایک قنطار بارہ سواوقیہ کے برابر ہے اور ایک اوقیہ کوہ احد سے بڑا ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۱)

۲۳۹- امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیاکہ جس کا ارادہ تھا کہ نماز نافلہ میں ایک سو آیات یا اس سے بھی زیادہ پڑھے گا مگر اسے اس بات کا خوف ہوا کہ شاید وہ کمزوری اور تھکاوٹ محسوس کرے پوچھا گیا: آیا وہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے؟تو آپ ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: جس طرح چاہے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھرے اس کے بعد وہ جو کچھ پڑھنا چاہتا تھا وہ بیٹھ کر پڑھ لے اسے کھڑے ہوکر قرائت کرنے کا متبادل سمجھا جائے گا اور اگر سلام کے بعد وہ کلام کرنا چاہا تو وہ بھی کر سکتا ہے اور تلاوت کر سکتا ہے ۔ (و سائل ۴ : ۸۰۲/۱)

۱۲۔

۲۴۰- روایت نقل ہوئی کہ فرض نمازوں میں سورہ حدید اور مجادلہ اور تغابن اور طلاق اور تحریم اور مدثراور مطففین اور بروج اور طارق اور بلد اور قدر اور ھمزہ اور حجر اور توحید کا پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۰/باب ۶۶)

۲۴۱- اور اس کے لئے بڑا ثواب منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۰/۱۔۱۱)

۳۲

چوتھی فصل:

قرائت کے آداب

ان کی تعداد بہت زیادہ اور وہ مختلف ہیں ان میں سے کل بارہ آداب کو ہم ذکر کریں گے۔

۱۔ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اور پڑھنے میں جلدی نہ کرنا اور رحمت اور عذاب والی آیات پڑھتے وقت رحمت کا سوال کرنا اور عذاب سے پناہ مانگنا مستحب ہے اس کی دلیل آگے آنے والی ہے۔

۲۴۲- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بندہ خدا کے لئے سزاوار ہے کہ جب وہ نماز پڑھے تو قرائت کو ترتیل کے ساتھ انجام دے اور جب قرائت میں ایسی آیات سے گزرے جس میں جنت اور جہنم کا ذکر ہو تو خدا سے جنت کا سوال کرے اور جہنم سے پناہ مانگے۔( ۱)

۲۴۳- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو امام ؑکے ساتھ اپنی معلومات لینے میں مصروف ہو اور کسی ایسے مسئلہ یا آیت سے گزرے جس میں جنت یا جہنم کا ذکر ہو، پوچھا گیا تو فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ اس وقت امام ؑسے سوال کرے اورخدا سے جہنم کی پناہ مانگے اور جنت کا سوال کرے۔ (۲)

۲۔

۲۴۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ سورہقُل ھُوَ اللہُ اَحَد کو ایک ہی سانس میں پڑھنا مکروہ ہے ۔ (۳)

۲۴۵- اور سورہ حمد اور سورہ کو ایک ہی سانس میں پڑھنا جائز ہونا بھی منقول ہے۔ (۴)

۳۔

۲۴۶- منقول ہے کہ سورہ توحید کو پڑھنے کے بعد تین دفعہ “

کَذَالِكَ اللهُ رَبِّي

” یافقط ایک دفعہ “

کَذَالِكَ اللهُ رَبِّي

” کہا جائے اور سورہ شمس اور ضحی کے بعد “ صَدَقَ اللہُ وَ صَدَقَ رَسُولُهُ ” کہا جائے اور آیت آللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ کے بعد

(اَللهُ خَيْرٌ ،اَللهُ خَيْرٌ وَاللهُ اَکبَرُ)

کہا جائے اور آیت

(ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِم یَعدِلُونَ)

کے بعد

“ کَذِبَ العَادِلُونَ بِاللهِ ”

اور آیت

“ وَلَم یَکُن لَّهُ وَلِيُّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرهُ تَکبِیرًا ”

کے بعد تین دفعہ “ اَللہَ اَکبَرُ ” کہا جائے اور یہ بھی(منقول ) ہے کہ روز جمعہ نماز صبح کے بعد سورہ رحمن پڑھا جائے اور جب بھی

( فَبِأَيِّ ا ٓ لَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ)

پڑھو توکہو:

“ لَا بِشَيئِ مِّن آلَائِكَ رَبِّي أُکَذِّبُ ” ۔ (۵)

۲۴۷ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کہ جب تم آخری مسبحات (اعلی) پڑھ چکو تو کہو: “

سُبحَانَ اللهِ الاَعلَی ”

اور جب یہ آیت پڑھو “

إنَّ اللهَ وَ مَلَائِکَتَهُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ

” تو خواہ نماز کی حالت میں ہو یا کسی اور حالت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجو اور جب سورہ وَالتِّینِ پڑھو تو اس کے آخر میں کہو:

“ وَنَحنُ عَلَی ذَالِكَ مِنَ الشَّاهِدِینَ ”

اور جب یہ آیت “ قُولُوا آمَنَّا بِاللہِ سےمُسلِمُونَ تک پڑھو تو کہو: “ آمَنَّا بِاللہِ ” ۔ (۶)

۲۴۸- روایت نقل ہوئی ہے کہ جب تم سورہ تَبَّت یَدَا أَبِي لَھَب پڑھو تو ابو لھب کے لئے بد دعا کرو اور سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھنے کے بعد تین دفعہ آہستہ کہو: ھُوَ اللہُ اَحَد اور سورہ قُل یَا اَیُّھَا الکَافِرُونَ پڑھنے کے بعد تین دفعہ آہستہ یَآایُّھَا الکَافِرُون

ہواور جب کوئی شخص اس کو پڑھ کر فاغ ہوجاے تو تین دفعہ کہے

“ اَللهُ رَبِّي وَدِینِي الإِسلَامُ

” اور سورہ لَآ أُقسِمُ بِیَومِ القِیَامَةِ پڑھنے کے بعد کہے:

“ سُبحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبَلَی ”

اور جب

سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ الاَعلَی

پڑھے توآہستہ کہے:

“ سبُحَانَ رَبِّيَ الاَعلَی ”

اور جب آیت،

یآاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا

پڑھے توآہستہ کہے:

“ لَبَّیكَ اللَّهُمَّ لَبَّیكَ ” ۔ (۷)

۲۴۹- امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب آیت (لَآاَعبُدُ مَا تَعبُدُونَ) پڑھو تو کہو: “

اَعبُدُ اللهَ وَحدَهُ ” ۔ (۸)

۴۔ اخفات کے مقام پر بھی بسم اللہ کو جہرسے پڑھنا مستحب ہے اور پیش نماز کے لئے اس کی زیادہ تاکید ہے۔

۲۵۰- امام صادق علیہ السلام اخفات والی نماز کے دونوں سوروں میں بِسمِ اللہِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ کو جہر کے ساتھ پڑھتے تھے۔ (۹)

۲۵۱۔ آپ( امام صادق) علیہ السلام نے نماز جماعت کی اقتداء فرمائی تو جہر سے اعوذ باللہ پڑھا پھر

بِسمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ

کو بھی جہر پڑھا۔ (۱۰)

۲۵۲- منقول ہے کہ اس (بسم اللہ ) کو جہرکے ساتھ پڑھنے سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ (۱۱)

۲۵۳- اورمنقول ہے کہ بسم اللہ کو جہر سے پڑھنا واجب ہے۔ (۱۲)

۲۵۴- اور یہ بھی منقول ہے کہ ( جہرکے ساتھ پڑھنا) سنت ہے۔ (۱۳)

۲۵۵- امام رضا علیہ السلام شب و روز کی تمام نمازوں میں بسم اللہ کو جہرکے ساتھ پڑھتے تھے۔ (۱۴)

۵۔ رات کی نفلوں میں جہر اور دن کی نفلوں میں اخفات کرنا مستحب ہے۔

۲۵۶- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جورات کے آخر میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور بلند آواز سے (نماز میں ) قرآن پڑھتا ہے،پوچھا گیا تو فرمایا: آدمی کو چاہئے کہ جب رات کے وقت نماز پڑھے تو اپنے گھر والوں کو آواز سنائیں تاکہ کھڑا ہونے والا کھڑا ہوسکے اور حرکت کرنے و الا حرکت کرسکے۔ (۱۵)

۲۵۷- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دن کی نمازوں میں اخفات کرنا سنت ہے جبکہ رات کی نمازوں میں جہر کرنا سنت ہے۔ (۱۶)

۲۵۸- اور دن کی مستحب نمازوں میں جہر کرنا جائز ہونا بھی منقول ہے۔ (۱۷)

۲۵۹ ۔امام صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو ایک جگہ نماز پڑھ رہا ہے اور آگے بڑھنا چاہتا ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: وہ آگے بڑھتے وقت قرائت کو روک دے اور جب وہ اس جگہ پہنچ جائے جہاں وہ پہنچنا چاہتا ہے تو پھر قرائت کرے۔ (۱۸)

۷۔

۲۶۰- اما م صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کوئی سورہ پڑھنے میں غلطی کرے تواسے چاہئے سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھے پھر رکوع میں چلا جائے۔ (۱۹)

۸۔

۲۶۱- امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے پوچھا گیا جو نمازکی امامت کرتا ہے اور قرائت میں غلطی کرتا ہے توآپ ؑنے فرمایا: اس کی اقتداء کرنے والوں میں سے کوئی اس کی گرہ کھول لے۔ (۲۰)

۹۔

۲۶۲- رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو جگہوں پر سکتہ(مختصر خاموشی)کرتے تھے جب سورہ فاتحہ سے فارغ ہوتے تھے اور جب سورہ سے فارغ ہوتے تھے۔ (۲۱)

۱۰۔

نماز کی ابتدا میں قرائت سے پہلے استعاذہ کا پڑھنا مستحب ہے اور واجب نہیں ہے۔

۲۶۳- امام صادق علیہ السلام نے تکبیرۃ الاحرام اور نماز میں متوجہ ہونے کی حدیث میں ارشاد فرمایا: پھر تم شیطان رجیم سے پناہ مانگو پھر سورہ فاتحہ پڑھو۔ (۲۲)

۲۶۴- روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام اخفات والی نماز میں بھی بسم اللہ کو جہر سے پڑھتے تھے اس کے علاوہ دیگرمقامات میں اخفات سے پڑھتے تھے۔ (۲۳)

۲۶۵- منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے جہر کے ساتھ اس طرح اعوذ باللہ پڑھا ہے:

’’ أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِیعِ العَلِیمِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ وَ أَعُوذُ بِاللهِ أَن یَّحضَرُونَ ” (۲۴)

۲۶۶- اور

’’ اَعُوذُ بِااللهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ

” بھی منقول ہے۔ (۲۵)

۲۶۷- اور

’’ اَستَعِیذُ بِاللهِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ اِنَّ اللهَ هُوَ السَّمِیعُ العَلِیمُ ”

بھی منقول ہے- (۲۶)

۲۶۸- نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ کامل ترین اور مختصر ترین نماز پڑھتے تھے اور جب نماز شروع کرتے تھے توفرماتے تھے:

’’ اَللهُ اَکبَرُ بِسمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ ” ۔ (۲۷)

۲۶۹-امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب تم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

پڑھوتو پھر پروا نہ کرو کہ اَعُوذُ بِاللہِ پڑھی ہے یا نہ۔ (۲۸)

۱۱۔

نماز جمعہ اور روز جمعہ کی نماز ظہر میں جہر کرنا مستحب ہے اس کی وجہ آگے آئے گی۔

۱۲۔

قرائت کے وقت حضور قلب اور ( آیات کے) معانی میں تدبر کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے

اور آگے بھی آئے گی۔

۳۳

حوالہ جات:

۱ ( و سائل ۴ : ۷۵۳/۱

۲ ( و سائل ۴ : ۷۵۳/۳

۳ ( و سائل ۴ : ۷۵۴/۱

۴ ( و سائل ۴ : ۷۸۵/۱

۵ ( و سائل ۴ : ۷۵۶/۹ و ۷۵۵/ ۳ و ۴

۶ ( و سائل ۴ : ۷۵۵/۵

۷ ( و سائل ۴ : ۷۵۶/۷ و ۸

۸ ( و سائل ۴ : ۷۵۷/۱۰

۹ ( و سائل ۴ : ۷۵۷/۱

۱۰ ( و سائل ۴ : ۷۵۸/۳

۱۱ ( و سائل ۴ : ۷۵۸/۴

۱۲ ( و سائل ۴ : ۷۵۸/۵

۱۳ ( و سائل ۴ : ۷۵۸/۶

۱۴ ( و سائل ۴ : ۷۵۸/۷

۱۵ ( و سائل ۴ : ۷۵۹/۱

۱۶ ( و سائل ۴ : ۷۵۹/۲

۱۷ ( و سائل ۴ : ۷۵۹/۳

۱۸ ( و سائل ۴ : ۷۷۵/۱

۱۹ ( و سائل ۴ : ۷۸۳/۱

۲۰ ( و سائل ۴ : ۷۸۳/۳

۲۱ ( و سائل ۴ : ۷۸۵/۲

۲۲ ( و سائل ۴ : ۷۲۳/۱

۲۳ ( و سائل ۴ : ۷۴۵/۱

۲۴ ( و سائل ۴ : ۸۰۰/۵

۲۵ ( و سائل ۴ : ۸۰۱/۶

۲۶ ( و سائل ۴ : ۸۰۰/۳

۲۷ ( و سائل ۴ : ۸۰۱/۲

۲۸ ( و سائل ۴ : ۸۰۱/۱

۳۴

پانچویں فصل:

جہر اور اخفات کےاحکام

ان کی کل تعداد بارہ ہے-

۱۔ مرد کے لئے نماز صبح اور مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں کی قرائت میں جہر کرنا واجب ہے۔

۲۷۰- امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کس وجہ سے نماز جمعہ اور نمازمغرب اور نماز عشاء اور نماز صبح میں جہر کیا جاتا ہے اور دوسری ساری نمازوں جیسے نماز ظہر اور عصر میں جہر نہیں کیا جاتا ہے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: جس کا خلاصہ یہ ہے: شب معراج میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ (۱)

۲۷۱- امام رضاعلیہ السلام سے تینوں نمازوں میں جہر واجب ہونا اور باقی نمازوں میں واجب نہ ہونا منقول ہے۔ (۲)

۲۷۲- امام کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ نماز صبح میں کیوں جہر کیا جاتا ہے حالانکہ وہ دن کی نمازوں میں سے ہے جبکہ جہر تو رات کی نمازوں میں کیا جاتا ہے؟ تو آپؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز صبح اندھیرے(بہت سویرے) میں پڑھتے تھے اس لئے اسے رات کے قریب کر دیا تھا۔ (۳)

۲۷۳- امام کاظم علیہ السلام سے ایسےشخص کے بارے میں جوفریضہ نمازوں میں سے ایک ایسی نماز پڑھتا ہے کہ جس کی قرائت میں جہر کیا جاتا ہے،پوچھا گیا کہ آیا اس کے لئے جائز ہے کہ اس میں جہر نہ کرے؟

تو آپؑ نے فرمایا: اگر چاہے تو جہر کرے اور چاہے تو نہ کرے۔ (۴)

میں کہوں گا :اس کو تقیہ اور واجب مقدار سے زیادہ جہر کرنے پر حمل کیا گیا ہے۔

۲۔ جمعہ کے روزنماز جمعہ اور نماز ظہر میں جہر کرنا واجب ہے اس کی حدیث گزر گئی ہے اور آگے بھی آئے گی۔

۲۷۴ -امام باقرعلیہ السلام نے نماز جمعہ کے بارے میں فرمایا: اس میں قرائت جہر سے کی جائے- (۵)

۲۷۵-امام صادق علیہ السلام سے جمعہ کے روز چار رکعت (نماز ظہر) پڑھنے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ اس میں جہر کرے؟ آپ ؑنے اس کے جواب میں فرمایا: ہاں۔ (۶)

۲۷۶۔ امام صادق علیہ السلام سے جمعہ کی نماز میں قرائت سے متعلق سوال ہوا کہ جب میں تنہا جمعہ کے روز( نماز ظہرکی) چار رکعت پڑھوں تو آیا قرائت میں جہر کروں؟ تو آپ ؑنے فرمایا: ہاں۔ (۷)

۲۷۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم جمعہ کے روز اسوقت نماز میں شامل ہو جبکہ پیش نماز ایک رکعت پہلے پڑھ چکا ہو تو تم اس کے ساتھ ایک رکعت کا اضافہ کرو اور اس میں جہر کرو۔ (۸)

۲۷۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سفر میں نماز جمعہ کو جماعت کے ساتھ پڑھو البتہ بغیر خطبہ کے اور قرائت میں جہر کرو، آپؑ سے عرض کیا گیا: ہمارے جہر کرنے پر اعتراض کیا جاتا ہے،تو آپ ؑنے فرمایا: جہر کرو۔ (۹)

۲۷۹۔ امام صادق علیہ السلام نے روز جمعہ کی نماز ظہر کے بارےمیں فرمایا: سفر میں دو رکعت پڑھو اور اس میں جھر سے قرائت کرو۔ (۱۰)

۲۸۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ پیش نماز نماز جمعہ کی قرائت میں جہر نہ کرے کیونکہ جہر صرف اس وقت کیا جاتا ہے جب اس میں خطبہ ہو۔ (۱۱)

اس کو تقیہ اور جہر کرنا مستحب مؤکد نہ ہونے پر حمل کیا گیا ہے۔

۳۔ بسم اللہ کو اخفات کے مقام پر جہر کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴۔ جو شخص جان بوجھ کر اخفات اور جہر کو ان کے مقام پر ترک کرے اس پر نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔

۲۸۱۔ امام باقرعلیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے اخفا ت کے مقام پر جہر اور جہر کی جگہ اخفا ت کیا تھا،پوچھا گیا توآپ ؑنے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر ایسا کرے اس کی نماز ناقص ہے اور اس پر نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے اور اگر اسنے بھول کر یا جہالت و لاعلمی کی بناء پر ایسا کیا ہے تو اس پر کچھ نہیں (۱۲

۵۔ جو شخص جہر اور اخفات کو بھول چوک کر یا جہالت اور لاعلمی کی بنا پر ترک کرے تو اسکودوبارہ انجام دینا واجب نہیں ہےاس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۲۸۲- امام باقر علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے وہاں جہر کیا جہاں جہر نہیں کرناچاہیے تھا اور وہاں اخفات کیا جہاں اخفات نہیں کرنا چاہئے تھا اور وہاں قرائت ترک کردی جہاں قرائت کرنی تھی اور وہاں قرائت کردی جہاں قرائت نہیں کرنی تھی،پوچھا گیا توآپ ؑنے فرمایا: اگر اس نے بھول چوک کریا غلطی سے ایسا کیا ہے تو اس پر کچھ نہیں۔ (۱۳)

۶۔ عورت پر جہرکرنا واجب نہیں ہے۔

۲۸۳۔ امام کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیا فریضہ نماز میں عورتوں پر قرائت میں جہر کرنا واجب ہے؟ (۱۴)

آپ نےفرمایا: نہیں! مگر یہ کہ عورت عورتوں کو نماز پڑھائے تو پھر اس قدر جہر کرے کہ اپنی قرائت سنا سکے۔

۷۔ اگر عورت، عورتوں کی امامت کرے تو جہر کرنا مستحب ہے اس کی حدیث گزر چکی ہے۔

۲۸۴۔ امام کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ جب عورت عورتوں کو نماز باجماعت پڑھائے تو قرائت اور تکبیر کے ساتھ کس قدر آواز بلند کرے؟ آپ ؑ نے فرمایا: اس قدر کہ اپنی قرائت سنا سکے۔ (۱۵)

۸ ۔ جہر اور اخفات کی حد

۲۸۵۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: قرائت ہو یا دعا ان میں سے صرف وہی مقدار لکھی جاتی ہے جو آدمی اپنے آپ کو سنائے۔ (۱۶)

۲۸۶۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیا آدمی اس حالت میں قرائت کر سکتا ہے جبکہ اس کے منہ پر کپڑا ہو؟ آپؑ نے فرمایا: جب اپنے کانوں کو قرائت کا ہمہمہ سنائے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۱۷)

۲۸۷۔ امام صادق علیہ السلام سے خدا کے اس ارشاد

(وَلَا تَجهَر بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِت بِهَا) (۱۸)

؛اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ تو اپنی نماز چلّا کر پڑھو اور نہ بالکل چپکے سے) کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اس میں جو جہر (ممنوع) ہے وہ یہ ہے کہ اپنی آواز کو بہت بلند کرو اور جو اخفات(ممنوع )ہے وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھی نہ سنائے بلکہ اس کے درمیان کا طریقہ اختیار کرو۔(۱۸)

۹۔ اخفات اور جہر میں افراط و تفریط کی حد،جوکہ گزر چکی ہے۔

۲۸۸۔ خدا کے اس فرمان

(وَلَا تَجهَر بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِت بِهَا)(۱۹)

کے متعلق روایت نقل ہوئی ہے کہ امام ؑ نے فرمایا: وہ اخفات (جو ممنوع ہے) وہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھی سنائی نہ دے اور جو جہر (ممنوع) ہے وہ یہ ہے کہ اپنی آواز کو بہت زیادہ بلند کرو۔ (۲۱)

۲۸۹۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: (ممنوع) جہر یہ ہے کہ اس قدر آواز بلند کرو کہ اپنی آواز کو اتنابلند کرو کہ جو تم سے بہت دور ہے اسے سناؤ اور (ممنوع) اخفات یہ ہے کہ آواز اس قدر پست کرو کہ جو تمہارے پاس موجود ہے اسے نہ سناؤ( یا بہت ہی کم سناؤ)، [اوراسرار واخفات یہ ہے کہ اپنے آپ کو بھی نہ نہ سناؤ] (۲۲)

۲۹۰۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: تم پر لازم ہے کہ دو بُرے اعمال کے درمیان جو اچھا عمل ہے اسے بجا لاؤ تو وہ ان کو مٹا دے گا،آپ سے پوچھا گیا کہ وہ کیسے؟ آپؑ نےفرمایا: جس طرح اللہ تعالی کا ارشاد ہے (وَلَا تَجھَر بِصَلَاتِكَ) (میں ممنوع جہر )ایک بُرا عمل ہے اور (وَلَا تُخَافِت بِھَا) (میں ممنوع اخفات) ایک بُرا عمل ہے

(وَابتَغِ بَینَ ذَالِكَ سَبِیلًا) (۲۳)

(میں ان کا درمیانی طریقہ) ایک حسنہ ہے۔ (۲۴)

۱۰۔ پیش نماز کے لئے مستحب ہےکہ جو کچھ پڑھے اسے اس کی اقتداء کرنے والوں کو سنائے جبکہ اس قدر نہ ہو کہ اس کی آواز بلند ہو جائے۔

۲۹۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پیش نماز کوچاہئے کہ جو کچھ وہ پڑھاتا ہے اسے اپنی اقتداء کرنے والوں کو سنائے اور جو مقتدی ان کے پیچھے ہے ان کو نہیں چاہئے کہ جو کچھ وہ پڑھتا ہے ان میں کوئی چیز پیش نماز کو سنائے۔ (۲۵)

۲۹۲- امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیاپیش نماز کے لئے واجب ہے کہ مقتدی جتنے بھی ہوں سب کو سنائے؟ تو آپ ؑ نے فرمایا: اسے درمیانی آواز سے قرائت کرنی چاہئے۔ ( و سائل ۴ : ۷۷۳/۳ )

(جیساکہ) خداوندعالم کا ارشاد ہے:

(وَلَا تَجهَر بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِت بِهَا)(۲۷)

۱۱-

مقتدی کے لئے پیش نماز کو کچھ سنانا مکروہ ہے اس کی دلیل ابھی گزر چکی ہے۔

۱۲-

جس شخص کی اقتداء نہیں کی جاسکتی ہے اس کے پیچھے اس طرح آہستہ قرائت کرنا کافی ہے جس طرح دل میں کی جاتی ہے اگرچہ جہر والی نماز میں ہو، اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۲۹۳-امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ان لوگوں کے ساتھ اس طرح کی آہستہ قرائت کافی ہے جیسے دل میں کی جاتی ہے۔ (۲۸)

۲۹۴۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی نماز ایک ایسے شخص کے پیچھے بیٹھ کر پڑھتا ہے جس کی وہ اقتداء نہیں کرتا اور پیش نماز جہر سے قرائت کرتا ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: تم اپنی قرائت خود کرو اگرچہ اپنے آپ کو نہ سنا سکواس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے (۲۹)

۲۹۵۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو نماز میں اس طرح قرائت کرتا ہے کہ زبان کو فقط کوا(اقصی اللسان کے مقابل کے بالائی حصے) میں حرکت دیتا ہے اور خود بھی نہیں سن پاتا ہے،پوچھاگیا تو آپ ؑنے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ زبان کو حرکت نہ دے اور خیال خیال میں قرائت کرے۔ (۳۰)

میں کہوں گا: کہ اس کو مخالف فرقہ والے کے پیچھے نماز پڑھنے پر حمل کیا گیا ہے۔

۳۵

حوالہ جات:

۱ ( و سائل ۴ : ۷۶۴/۲

۲ ( و سائل ۴ : ۷۶۳/۱

۳ ( و سائل ۴ : ۷۶۴/۳

۴ ( و سائل ۴ : ۷۶۵/۶

۵ ( و سائل ۴ : ۸۱۹/۲

۶ ( و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۷ ( و سائل ۴ : ۸۱۹/۳

۸ ( و سائل ۴ : ۸۱۹/۵

۹ ( و سائل ۴ : ۸۲۰/۶

۱۰ ( و سائل ۴ : ۸۲۰/۷

۱۱ ( و سائل ۴ : ۸۲۰/۹

۱۲ ( و سائل ۴ : ۷۶۶/۱

۱۳ ( و سائل ۴ : ۷۶۶/۲

۱۴ ( و سائل ۴ : ۷۷۲/۳

۱۵ ( و سائل ۴ : ۷۷۲/۱

۱۶ ( و سائل ۴ : ۷۷۳/۱

۱۷ ( و سائل ۴ : ۷۷۴/۴

۱۸ ( اسراء:۱۱۰

۱۹ ( و سائل ۴ : ۷۷۴/۶

۲۰ ( اسراء:۱۱۰

۲۱ ( و سائل ۴ : ۷۷۳/۲

۲۲ ( و سائل ۴ : ۷۷۴/۷

۲۳ ( اسراء:۱۱۰

۲۴ ( و سائل ۵ : ۴۵۲/۷

۲۵ ( و سائل ۵ : ۴۵۱/۳

۲۶ ( و سائل ۴ : ۷۷۳/۳

۲۷ ( اسراء:۱۱۰

۲۸ ( و سائل ۵ : ۴۲۸/۴

۲۹ ( و سائل ۵ : ۴۲۷/۱

۳۰ ( و سائل ۴ : ۷۷۴/۵

۳۶

چھٹی فصل:

قرائت کو ترک کرنے اور بھولنے یا اس میں شک کرنے کے احکام

ان کی کل تعداد بارہ ہے۔

۱- جو شخص پوری قرائت یا اس میں سے کچھ، جان بوجھ کر ترک کرے تو اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہے اس کی دلیل سورہ حمد اور سورہ اور بسم اللہ کے احکام میں گزر چکی ہے۔

۲۹۶۔ امام باقریا امام صادق علیھما السلام میں سے کسی ایک سے منقول ہے کہ ا ٓپؑ فرمایا: خدا نے رکوع اور سجود اور قرائت کوسنت کے طور پر فرض قرار دیا ہے لہذا جو شخص جان بوجھ کر قرائت کو ترک کرے وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ (۱)

۲۹۷۔ (اور آپؑ نے فرمایا:) جو قرائت بھول کر ترک کرے تو اس کی نماز کامل ہے اس پر کچھ نہیں ہے۔ (۲)

۲۹۸۔ امام باقرعلیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جونماز میں سورہ حمد نہ پڑھے،پوچھا گیا تو آپؑ فرمایا: اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔ (۳)

۲۹۹۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جس نے (نماز میں) قرآن کی قرائت ترک کردی،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: اگر اس نے عمدا ایسا کیا ہے تو اس کی کوئی نماز نہیں ہے اور اگر بھول چوک کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۴)

۲۔ قرائت بھولنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳۔ جو شخص قرائت بھول جائے مگر رکوع میں جانے سے قبل یاد آجائے تو اسے بجالائے اور اگر رکوع میں جانے کے بعد یاد آجائے تو نماز کو جاری رکھے۔

۳۰۰۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جوسورہ فاتحہ پڑھنا بھول گیا ہوپوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا :اگر ابھی رکوع میں نہیں گیا ہے تو سورہ حمد پڑھے۔(۵)

۳۰۱۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے مگر سورہ حمد پڑھنا بھول جاتا ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: جب تک وہ رکوع میں نہیں چلا گیا سورہ فاتحہ پڑھے اگر رکوع میں چلا گیا تو وہی(نماز) کافی ہے ان شاءاللہ تعالی۔ (۶)

۴۔

۳۰۲۔ امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جوایک سورہ شروع کرتا ہے اور اس کا بعض حصہ پڑھتا بھی ہے اور پھر اس سے خطا ہو جاتی ہے تو وہ دوسرا سورہ شروع کرتا ہے یہاں تک کہ اسے ختم کر لیتا ہے اس کے بعد اسے علم ہو جاتا ہے کہ اس نے اس میں بھی خطا کی ہے،پوچھا گیا: آیا اس کے لئے جائز ہے کہ پھر پلٹ کر وہی سورہ پڑھے جو پہلے شروع کیا تھا اگرچہ رکوع و سجود کر چکا ہو؟ آپ ؑنےفرمایا: اگر ابھی رکوع میں نہیں گیا ہے تو وہ چاہے تو ایسا کر سکتا ہے لیکن اگر رکوع میں گیا ہے تو پھر نماز کو جاری رکھے۔ (۷)

۵۔

۳۰۳۔ امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جس نے نماز شروع کی مگر سورہ حمد سے پہلے کوئی اور سورہ پڑھ لیا اور جب اس سے فارغ ہوا تو یاد آیا،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: نماز کو جاری رکھے اور آئندہ سورہ حمد پڑھ لے۔ (۸)

اس کو رکوع میں جانے کے بعد یاد آنے کی صورت پر حمل کیا گیا ہے۔

۶۔ جو شخص پوری قرائت یا اس میں سے کچھ حصہ بھول جائے یہاں تک کہ رکوع میں چلا جائے تواس پرنہ نماز کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے نہ اور کچھ ،اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳۰۴۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلا کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے نماز فریضہ پڑھی مگر ساری نماز میں قرائت بھول گیا توآپ ؑنے فرمایا: کیا تو نے رکوع و سجود مکمل طور پر ادا کیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ ؑنے فرمایا : پھر جب بھول کر قرائت ترک کی ہے تو تمہاری نماز (مکمل) ہو گئی ہے۔(۹)

۳۰۵۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ فقط پانچ چیزوں کی(کمی بیشی کی) وجہ سے نماز کودوبارہ پڑھاجاتا ہے: طہارت اور وقت اورقبلہ اور رکوع اور سجود،پھرآپؑ نے فرمایا: قرائت سنت ہے اور کوئی سنت، فریضہ کو نہیں توڑتی۔ (۱۰)

۷۔ جو شخص نماز میں بے محل جگہ پر بھولے سے قرائت کرے اس پر کچھ نہیں ہے اس کی دلیل گزر گئی ہے اور آگے (بھی) آئے گی۔

۸۔ جو شخص نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قرائت بھول جائے اس پر آخری دو رکعتوں میں اس کی قضاء کرنا واجب نہیں ہے۔

۳۰۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کوئی نماز گزارپہلی اور دوسری رکعت میں قرائت بھول جائے تو اس کے لئے رکوع و سجود کی تسبیح کافی ہے اور اگر نماز صبح میں قرائت بھول جائےتو نماز کو جاری رکھے۔ (۱۱)

۳۰۷۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جونماز کی پہلی دورکعتوں میں قرائت بھول جاتا ہے اور اسے آخری دو رکعتوں میں یاد آتی ہے کہ اس نے قرائت نہیں کی ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نےفرمایا: آیا اس نے رکوع وسجود مکمل طور پر ادا کیا ہے؟ عرض کیا گیا: ہاں، فرمایا: میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ نماز کے آخری حصے کو پہلا حصہ بناؤں۔ (۱۲)

۳۰۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص رکعت اول میں قرائت بھول جائے تو دوسری رکعت میں پڑھے اور جو دوسری رکعت میں بھول جائے تو تیسری میں پڑھے. (۱۳)

یہ حکم دوسری اور تیسری رکعت کی مخصوص قرائت پر محمول ہے۔

۳۰۹۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ پہلی اور دوسری رکعت میں بھولی ہوئی قرائت اگرآخری دو رکعتوں میں یاد آجائے تواس کی قضا کی جائے گی۔ (۱۴)

اس کو نماز سے فارغ ہونے کےبعد قضاکرنا مستحب ہونے پر حمل کیا گیا ہے۔

۹۔

۳۱۰۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جونماز میں قرآن کا ایک آدھا حرف بھول جاتا ہے اور رکوع کی حالت میں اسے یاد آجاتا ہے،پوچھا گیا: کیا وہ اسے رکوع میں پڑھ سکتا ہے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: نہیں، لیکن جب وہ سجدہ میں جائے تب پڑھے۔ (۱۵)

۳۱۱- منقول ہے کہ نہ رکوع میں کوئی قرائت ہے اور نہ سجود میں۔ (۱۶)

۱۰-

۳۱۲- امام صادق علیہ السلام سے کسی نے عرض کیا کہ جب نماز میں ایک سورہ پڑھتا ہوں اور شک میں پڑ جاتا ہوں (کہ اس کا کچھ حصہ پڑھا ہے یا نہیں) اور نماز کے آخر میں پہنچتا ہوں تو متوجہ ہوتا ہوں آیا اس کو دوبارہ پڑھوں یا نماز کو جاری رکھوں؟

آپ ؑنے جواب میں فرمایا: نماز کو جاری رکھو۔ (۱۷)

۱۱۔ جو شخص قرائت میں شک کرے جبکہ وہ اس کے پڑھنے کے محل میں ہو تو اسے پڑھے اوراگر محل سے گزر چکا ہے تو اس پر کچھ نہیں ہے،اس کی دلیل گزر گئی ہے اور آگے بھی آنے والی ہے۔

۱۲۔

۳۱۳۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کہ بعض اوقات مجھے سورہ میں شک ہو جاتا ہے کہ آیا پڑھا ہے یا نہیں تو آیا اس کو دوبارہ پڑھوں؟ آپؑ نے فرمایا: اگر سورہ لمبا ہے تونہ پڑھو اور اگر چھوٹا ہے تو پھر پڑھو۔ (۱۸)

میں کہوں گا :احتمال ہے کہ یہ نماز نافلہ پر محمول ہو گا اس لیے کہ اس کی حدیث آگے آنے والی ہے۔

۳۷

-----حوالہ جات:

۱ ( و سائل ۴ : ۷۶۶/۱

۲ ( و سائل ۴ : ۷۶۷/۲

۳ ( و سائل ۴ : ۷۶۷/۴

۴ ( و سائل ۴ : ۷۶۷/۵

۵ ( و سائل ۴ : ۷۶۸/۱

۶ ( و سائل ۴ : ۷۶۸/۲

۷ ( و سائل ۴ : ۷۶۸/۳

۸ ( و سائل ۴ : ۷۶۸/۴

۹ ( و سائل ۴ : ۷۶۹/۲

۱۰ ( و سائل ۴ : ۷۷۰/۵

۱۱ ( و سائل ۴ : ۷۶۹/۳

۱۲ ( و سائل ۴ : ۷۷۰/۱

۱۳ ( و سائل ۴ : ۷۷۱/۳

۱۴ ( و سائل ۴ : ۷۷۱/۶

۱۵ ( و سائل ۴ : ۷۷۱/۴

۱۶ ( و سائل ۴ : ۹۳۱/۴

۱۷ ( و سائل ۴ : ۷۷۲/۱

۱۸ ( و سائل ۴ : ۷۷۳/۲

۳۸

ساتویں فصل:

نماز میں واجب سجدے والے سوروں کو پڑھنے کے احکام

اس میں کل بارہ احادیث ہیں۔ ۱-

۳۱۴۔امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جوسورہ کے آخر میں (آیت) سجدہ پڑھتا ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: سجدہ کرے اور اٹھ کر سورہ فاتحہ پڑھے اس کے بعد رکوع و سجود کرے۔ (۱)

۲- ۳۱۵۔روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ اِقرَأ بِاسمِ رَبِّكَ پڑھے تو جب اسے ختم کرے تو سجدہ کرے اور جب کھڑا ہو تو سورہ فاتحہ کی تلاو ت کرے اس کے بعد رکوع میں جائے، پھر آپؑ نے فرمایا: اگر کبھی تمہیں ایسے پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھنی پڑ جائے جو سجدہ نہیں کرتا تو پھر صرف اشارہ سے سجدہ کرنا اور پھر رکوع میں چلا جانا کافی ہے۔ (۲)

۳- ۳۱۶۔امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جب سورہ کے آخر میں آیت سجدہ ہو تواس کی بجائے رکوع میں چلا جانا کافی ہے(۳)

۴- ۳۱۷۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر تمہیں مخالفین کے ساتھ نماز پڑھنی پڑ جائے اور ان کا پیش نماز سورہ اِقرَأ بِاسمِ رَبِّكَ پڑھے یا واجب سجدہ والے سوروں میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے اور پھر سجدہ نہ کرے تو تم اشارہ سے سجدہ کرو اور حائض جب آیت سجدہ سنے تو وہ بھی سجدہ کرے۔ (۴)

۵-

۳۱۸۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جوایسے افراد کیساتھ نماز پڑھتا ہے جس کی وہ اقتداء نہیں کرتا اور وہ دل میں فرادی کی نیت کر کے اپنی نماز پڑھتا ہے،پوچھا گیا کہ بسا اوقات وہ واجب سجدہ والے سوروں کی کوئی آیت پڑھتے ہیں مگر وہ سجدہ نہیں کرتے تو یہ شخص کیا کرے؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: وہ سجدہ نہ کرے۔ (۵)

میں کہوں گا: کہ اس کو اشارہ سے سجدہ کرنے پر محمول کیاگیا ہے، اس کی دلیل (ابھی)گزر چکی ہے۔

۶-

۳۱۹۔ روایت نقل ہوئی ہے ایسےشخص کے بارے میں جو آیت سجدہ پڑھتا ہے مگر سجدہ کرنا بھول جاتا ہے یہاں تک کہ رکوع و سجود میں چلا جاتا ہے،تو امام ؑ نے فرمایا: جب بھی اسے یاد آ ئے سجدہ کرے اگر آیت واجب سجدہ والی ہو۔ (۶)

۷-

۳۲۰۔ امام باقر یا امام صادق علیھماالسلام میں سے کسی ایک امام ؑسے منقول ہے کہ آپ ؑنے فرمایا: نماز فریضہ میں واجب سجدہ والے سوروں میں سے کوئی سورہ نہ پڑھو کیونکہ نماز فریضہ میں سجدہ کرنا زیادتی ہے۔ (۷)

۸-

۳۲۱۔ منقول ہے کہ نماز فریضہ میں واجب سجدہ والے سورے نہ پڑھو البتہ نافلہ میں پڑھو۔ (۸)

۹-

۳۲۲۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جونماز فریضہ میں واجب سجدہ والے سوروں میں سے کوئی سورہ پڑھتا ہے، پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: جب آیت سجدہ پر پہنچے تو اس کی تلاوت نہ کرے اور اگر چاہے تو اس سورہ کو چھوڑ کر کسی ایسے سورہ کو پڑھے جس میں سجدہ نہ ہو۔ (۹)

۱۰-

۳۲۳۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایسےشخص کے بارے میں جو نماز فریضہ میں سورہ نجم پڑھتا ہے، پوچھا گیا کہ آیا اسے ختم کر کے رکوع میں چلا جائے یا سجدہ تلاوت کرے اور اٹھ کر کوئی دوسرا سورہ پڑھے؟

توآپؑ نے فرمایا: سجدہ کرے اور اٹھ کر سورہ فاتحہ پڑھے پھر رکوع کرے اور پھر نماز فریضہ میں سجدہ والا سورہ پڑھنے کا تکرار نہ کرے۔ (۱۰)

۱۱-

۳۲۴۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایسے پیش نماز کے بارے میں جوآیت سجدہ پڑھتا ہے اور سجدہ کرنے سے قبل اس سے حدث سرزد ہوتا ہے، پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: کسی اور کو آگے کرے اور وہ سجدہ کرے اورمامومین بھی سجدہ کریں اور وہ نماز سے پلٹ جائے تو ان سب کی نماز کامل ہے۔ (۱۱)

۱۲-

۳۲۵۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص غروب شمس سے قبل اور عصر کے بعد ایسے وقت میں آیت سجدہ سنتا ہے جس میں نماز قائم نہیں ہو سکتی تواس کے بارے میں امامؑ نے فرمایا: وہ سجدہ نہ کرے۔ (۱۲)

میں کہوں گا :کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے آیت سجدہ کو توجہ سے نہیں سنا ہے اس کی دلیل آگے آئے گی۔

۳۹

---حوالہ جات:---

۱ ( و سائل ۴ : ۷۷۷/۱

۲ ( و سائل ۴ : ۷۷۷/۲

۳ ( و سائل ۴ : ۷۷۷/۳

۴ ( و سائل ۴ : ۷۷۸/۱

۵ ( و سائل ۴ : ۷۷۸/۲

۶ ( و سائل ۴ : ۷۷۸/۱

۷ ( و سائل ۴ : ۷۷۹/۱

۸ ( و سائل ۴ : ۷۷۹/۲

۹ ( و سائل ۴ : ۷۷۹/۳

۱۰ ( و سائل ۴ : ۷۸۰/۴

۱۱ ( و سائل ۴ : ۷۸۰/۵

۱۲ ( و سائل ۴ : ۷۷۹/۳

۴۰