چوتھا مطلب: تلاوت قرآن کے احکام
ان کی کل تعداد بارہ ہے۔
۱۔ نماز میں ہو یا غیر نماز میں ہر حال میں قرآن کا کثرت کے ساتھ پڑھنا اورختم کرنا اورشروع کرنا اور اس کی قرائت کو توجہ سے سننا اور تمام مستحب اعمال پر اسے مقدم کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔
۳۸۶۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تم پر ہر حالت میں قرآن کی تلاوت کرنا لازم ہے۔ (۳۲)
۳۸۷۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سب سے افضل عمل حال مرتحل ہے امام ؑ سے دریافت کیا گیا کہ ( حال مرتحل) کیا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: قرآن کو شروع کرنا اور پھر اسے ختم کرنا کہ آدمی جب بھی اس کی ابتداء کرے تو اس کی انتہاء کی طرف کوچ کر جائے۔ (۳۳)
۳۸۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جنت کے درجات قرآنی آیات کی تعداد کے برابر ہیں اس لئے قاری سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا چنانچہ وہ پڑھتا جائے گا اور اوپر چڑھتا جائے گا۔ (۳۴)
۳۸۹۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نما ز میں کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرے تو خدا اس کے نامہ اعمال میں ایک ایک حرف کے عوض سو سو نیکیاں درج کرتا ہے اور جو شخص نماز میں بیٹھ کر تلاوت کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ہر ہر حرف کے عوض پچاس پچاس نیکیاں درج کرتا ہےاور جو شخص نماز کے علاوہ اس کی تلاوت کرے تو اس کے لئے ہر حرف کے عوض دس دس نیکیاں درج کرتا ہے۔ (۳۵)
۳۹۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص توجہ سے قرآن کی تلاوت سنے تو اللہ تعالی اس کے لئے ہر حرف کے عوض ایک نیکی لکھتا ہے اور اگر رات کو قرآن ختم کرلے تو صبح تک فرشتے اس پر درود پڑھتے ہیں اور جو شخص دن کو قرآن ختم کر لے اس پر حفاظت کرنے والے فرشتے شام تک درود پڑھتے ہیں، امام ؑ سے عرض کیا گیا کہ آیا یہ اس کے لئے ہے جو پورا قرآن ختم کرے لیکن جو پورا قرآن نہ پڑھ سکے تو اس کے لئے کیا ہے؟
تو آپؑ نے فرمایا: جب وہ شخص وہ کچھ پڑھے جو اس کے پاس ہے تو اسے بھی خدا یہی ثواب عطا فرمائے گا (۳۶
۳۹۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کا ختم وہاں تک کرے جہاں تک وہ (قاری) جانتا ہے۔ (۳۷)
۳۹۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعوں میں سے جو شخص کھڑے ہو کر نماز میں قرآن کی تلاوت کرے اسے ہر حرف کے عوض سو نیکیاں اور جو بیٹھ کر نماز میں قرآن پڑھے اسے ہر حرف کے عوض کے پچاس نیکیاں اور جو نماز کے علاوہ پڑھے اسے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (۳۸)
۳۹۳۔ منقول ہے کہ سب سے افضل عبادت قرآن کی تلاوت کرنا ہے۔(۳۹)
۳۹۴۔ حدیث قدسی میں (ارشاد خدا)ہے : جو شخص قرآن کی تلاوت میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجھ سے سوال کرنے سے بے خبر رہا اسے میں شاکرین کا ثواب عطا کروں گا۔ (۴۰)
۲۔ قرآن کی تلاوت کے لئے باطہارت ہونا مستحب ہے اور جنب اورحائض اور نفساء کے لئے سوائے واجب سجدہ والے سوروں کے باقی قرآن کا پڑھنا جائز ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۳۹۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے والے قائ قرآن کو ہر حرف کے عوض سو نیکیاں ملیں گی اور بیٹھ کر پڑھنے والے کے لئے پچاس اور نماز کے علاوہ با طہارت پڑھنے والے کے لئے پچیس اور بغیر طہارت کے پڑھنے والے کے لئے دس نیکیاں ملیں گی میں یہ نہیں کہتا کہ المر(ایک حرف ہے) بلکہ الف پر دس اور لام پر دس اور میم پر دس اور راء پر دس نیکیاں ملیں گی۔ (۴۱)
۳۹۶۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگرکوئی بندہ با طہارت نہ ہو تو اس وقت تک قرآن کی تلاوت نہ کرے جب تک وہ طہارت نہ کرے۔ (۴۲)
۳۹۷۔ امام کاظم علیہ السلام سے کسی شخص نے سوال کیا کہ میں قرآن مجید پڑھ رہا ہوتا ہوں کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوتی ہے لہذا اٹھ کر پیشاب کرتا ہوں اور استنجا کر کے اور ہاتھ دھو کر پھر قرآن مجید پڑھنے لگتا ہوں،
تو آپ ؑنے فرمایا: ایسا نہ کرو جب تک نماز والا وضوء نہ کر لو۔ (۴۳)
۳۔ تلاوت کرتے وقت شیطان سے پناہ مانگنا مستحب ہے۔
۳۹۸۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیا ہر سورہ کو شروع کرتے وقت شیطان سے پناہ مانگنی چاہئے؟
تو آپؑ نے فرمایا: ہاں ،خدا سے شیطان رجیم کی پناہ مانگو۔ (۴۴)
۳۹۹۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: وہ چیز کہ جس کی طرف خدا نے تمہیں قرآن کی تلاوت کے وقت بلایا اور اس کا حکم دیا ہے وہ
" اَعُوذُ بِاللهِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ"
ہے اور استعاذہ وہ ہے جس کا خدا نے اپنے بندو کو قرآن کی تلاوت کرتے وقت حکم دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے:
( فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ) (۴۵)
پس جو شخص اپنے آپکو ادب خداوندی سےباآدب بنائے گا خدا بھی اسے دائمی فوز و فلاح تک پہنچائے گا۔(۴۶)
۴۔ ہر روز قرآن کی تھوڑی سی تلاوت کرنا اگرچہ پچاس آیتوں کی ہو اور ہر شب کم از کم ایک سورہ کا پڑھنا مستحب ہے،اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۴۰۰۔ امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی رات میں دس آیتوں کی تلاوت کرے وہ غافلوں میں سے نہیں لکھا جائےگا اور جوشخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے وہ ذاکرین میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ قانتین(اطاعت گزاروں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص دو سوآیتوں کی تلاوت کرے وہ خاشعین میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ فائزین (فوز و فلاح پانے والوں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص پانچ سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ مجتھدین ( راہ خدا میں ہمیشہ سعی و تلاش کرنے والوں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص ایک ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کے لئے ایک قنطار نیکیاں لکھا جائے گا۔ (۴۷)
۴۰۱۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کی آیات خزانے ہیں پس جب بھی کسی خزانے کا تالا کھولو تو دیکھو کہ اس کے اندر کیا ہے۔(۴۸)
۴۰۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن خدا کا اپنے بندوں کے نام عہد و پیمان ہے لہذا ایک مسلمان آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے عہد و پیمان پر نگاہ ڈالے اور روزانہ اس کی پچاس آیتیں پڑھے۔ (۴۹)
۴۰۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے درمیان میں وہ تاجر جو بازار میں (تجارت میں) مشغول رہتا ہے جب وہ اپنی منزل کو لوٹتا ہے تو سونے سے قبل قرآن کا ایک سورہ پڑھنے میں کیا مانع ہے! تاکہ اسے ہر آیت جو وہ پڑھتا ہے کے عوض سے دس نیکیاں لکھی جائیں اور اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں۔ (۵۰)
۴۰۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: آدمی کو چاہئے کہ جب صبح کرے تو نماز کی تعقیبات میں قرآن کی پچاس آیتوں کی تلاوت کرے۔ (۵۱)
۵۔ قرآن کو کھول کے پڑھنا مستحب ہے اگرچہ پڑھنے والے کو زبانی یاد ہو۔
۴۰۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص دیکھ کر قرآن پڑھے وہ الہی بینائی سے لطف اندوز ہو گا اور اس کے ماں باپ کے عذاب میں تخفیف ہو گی اگرچہ وہ کافر ہوں۔ (۵۲)
اور روایت نقل ہوئی ہے کہ دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز شیطان پر بھاری نہیں گزرتی۔
۴۰۶۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کہ مجھے قرآن زبانی یاد ہے آیا اسے زبانی پڑھوں تو افضل ہے یا دیکھ کر پڑھنا؟
تو آپؑ نے فرمایا: بلکہ مصحف میں نگاہ کر کے پڑھو یہ افضل ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ قرآن پر نظر کرنا بھی عبادت ہے۔(۵۳)
۶ ۔ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اور پڑھنے میں جلد بازی نہ کرنا مستحب ہے۔
۴۰۷۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آیت کو دوسری آیت سے الگ کر کے پڑھتے تھے۔(۵۴)
۴۰۸۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے خداکے اس ارشاد
( وَرَتِّلِ القُرآنَ تَرتِیلًا ) (۵۵)
(قرآن کو ترتیل سے پڑھو) کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: حروف کو خوب واضح طور پر ادا کرو اور شعر و شاعری کی طرح عجلت سے نہ پڑھو اور نہ ہی ریت کے ذروں کی مانند اسے بالکل بکھیرو بلکہ اس کے ذریعہ سے سخت دلوں کو کھٹکاؤاور پڑھتے وقت تمہارا عزم (جلدی) سورہ کے آخری حصہ تک پہنچنا نہ ہو۔ (۵۶)
۴۰۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کو واضح طور پر پڑھو کیونکہ عربی ہے۔ (۵۷)
۴۱۰۔ امام صادق علیہ السلام نے خدا كے اس ارشاد
( وَرَتِّلِ القُرآنَ تَرتِیلًا ) (۵۸)
کے متعلق فرمایا: ترتیل یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھواور پڑھتے وقت اپنی آواز کو حسین بناؤ۔ (۵۹)
۷۔ مستحب ہے کہ قرآن کی تلاوت اس طرح حزن کے ساتھ کی جائے کہ گویا تلاوت کرنے والا کسی انسان سے خطاب کر رہا ہو۔
۴۱۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن حزن کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا تم بھی اسے حزن کےساتھ پڑھو۔ (۶۰)
۴۱۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام کاظم علیہ السلام کی تلاوت حزن کی حالت میں ہوتی تھی اور جب آپ ؑ تلاوت فرماتے تھے ایسامحسوس ہوتا تھا کہ گویا کسی انسان سے مخاطب ہیں۔ (۶۱)
۸۔ آہستہ اور آوازکیساتھ تلاوت کرنا۔
۴۱۳۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے ابوذر! جنازوں کے پاس اور جنگ و جدال کے وقت اور تلاوت قرآن کے وقت آواز آہستہ کرو۔ (۶۲)
۴۱۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سب سے افضل عبادت سب سے کم آواز والی عبادت ہے۔ (۶۳)
۴۱۵۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص
"سور ہ اِنَّا اَنزَلنَا ہ فِي لَیلَةِ القَدرِ"
کو بلندآواز سے پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو شمشیر بہ کف ہو کر راہ خدا میں جہاد کرے اور جو اسے آہستہ آواز سے پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو راہ خدا میں اپنے خون میں لتھڑا ہوا ہو اور جو اسے دس مرتبہ پڑھے تو یہ تلاوت اس کے قریبا ایک ہزار گناہوں پر پانی پھیر دے گا۔ (۶۴)
۴۱۶۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ایک شخص ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی دعا و پکار اور تلاوت بے کار ہے جب تک بلند آواز نہ ہو،تو آپؑ نےفرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عمدہ آواز کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور وہ بھی اس قدر بلند آواز کے ساتھ کہ جیسے سب اہل خانہ سنتے تھے۔ (۶۵)
۹۔ قرآن پڑھنے میں غنا وسرود حرام ہے۔ اور ایسی اچھی آواز سے پڑھناجو غنا کی حد تک نہ پہنچے اور آواز بلند کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا مستحب ہے۔
۴۱۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کو عربوں کی آواز اور ان کے لہجے میں پڑھو۔ خبردار! اسے فاسقوں، فاجروں اور گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لہجے میں نہ پڑھنا، کیونکہ میرے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کو غنا اور نوحہ اور رہبانیت کے لہجہ میں پڑھیں گے قرآن ان لوگوں کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا ان کے دل ٹیڑھے ہوں گے اور ان کے بھی دل ٹیڑھے ہوں گے جن کو ان کی یہ روش پسند ہوگی۔(۶۶)
۴۱۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کا ایک زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیوراچھی آواز ہے۔ (۶۷)
۴۱۹۔ امام زین العابدین علیہ السلام قرآن پڑھنے میں سب لوگوں سے زیادہ خوش آواز تھے آپ کے دروازے کے پاس سے جب سقاء گزرتے تھے تو آپؑ کی تلاوت سننے کے لئے دروازے پر رُک جاتے تھے۔ (۶۸)
۴۲۰۔ ایک شخص نے حضرت امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ جب میں بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں تو شیطان میرے پاس آکر کہتا ہے کہ تو ریا کاری کی خاطر اہل خانہ اور دوسرے لوگوں کو سناتا ہے! یہ سن کر امام ؑ نے فرمایا: قرائت میں میانہ روی اختیار کرو، اہلخانہ کو سناؤ اور قرآن پڑھتے وقت آواز کو پھیرو کیونکہ اللہ تعالی اس اچھی آواز کو پسند کرتا ہے جسے پھیرا جائے۔ (۶۹)
میں کہوں گا کہ آواز کو پھیرنے کو تقیہ اورغنا و سرود کی حد تک نہ پہنچنے کی صورت پر حمل کیا گیا ہے۔
۱۰۔ قرآن پڑھنے اور سننے والے کے لئے مستحب ہے کہ اپنے اندر رقت اور خوف و خشیت الہی کا اظہار کرے البتہ بے ہوشی وغیرہ کا اظہار نہ کرے۔
۴۲۱۔ امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جب قرآن کا تذکرہ کرتے ہیں یا ان کے سامنے قرآن پڑھنے کا ثواب ذکر کیا جائے تو ان میں سے کچھ اس طرح بے ہوش ہو کر گر پڑتے ہیں کہ گویا اگر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں تو انہیں احساس نہ ہوگا!امام ؑ نے فرمایا: سُبحَانَ اللہِ! یہ حرکت شیطان کی طرف سے ہے ان کی اس صفت سے تعریف نہیں کی گئی ہے بلکہ جس چیز کی خدا نے تعریف کی ہے وہ نرمی اور رقت قلبی اور آنسو بہانا اور خوف و خشیت الہی ہے۔ (۷۰)
۱۱۔ قرآن کی تلاوت کا ثواب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ ہدیٰ علیہم السلام اور زندہ و مردہ مؤمنین کو ہدیہ کرنا مستحب ہے اس کی دلیل دفن کے احکام میں گزر چکی ہے۔
۴۲۲۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں کسی شخص نے عرض کیا کہ میرے والد ماہ مبارک رمضان میں چالیس قرآن ختم کیا کرتے تھے اور ان کے بعد میں بھی اتنے ہی قرآن ختم کیا کرتا تھا بلکہ کبھی اس سے زیادہ کبھی اس سے کم! اور جب عید الفطر کا دن ہوتا تھا تو ایک ختم قرآن کا ثواب حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اور ایک حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں اورایک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں اور ایک دوسرے ائمہ ہدیٰ علیھم السلام کی خدمت میں یہاں تک کہ نوبت آپؑ تک پہنچتی ہے تو ایک ختم قرآن کا ثواب آپ کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں تو اس کارخیر کا مجھے کیا ثواب و اجر ملے گا؟ فرمایا: اس کا تمہیں یہ اجر ملے گا کہ تم بروز قیامت انہیں ذوات مقدسہ کے ہمراہ ہو گے۔ (۷۱)
۱۲۔ وہ مقامات جہاں قرآن کی تلاوت نہیں کرنی چاہئے۔
۴۲۳۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جنہیں قرآن نہیں پڑھنا چاہئے۔
رکوع کرنے والا اور سجدہ کرنے والا اورپائخانہ پھرنے والا اور حمام کرنے والا اور جُنُب اورنفسآء اور حائض۔(۷۲)
---------