امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 520
ڈاؤنلوڈ: 34

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 520 / ڈاؤنلوڈ: 34
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

آٹھویں فصل:

قرآن سے (دیکھ کر) قرائت کرنے اورگونگے اور قرائت کو اچھی طرح ادا نہ کرنے والے کے احکام :

۳۲۶۔ امام صادق علیہ السلام سےایسے شخص کے بارے میں جو چراغ کو قرآن کے قریب روشن کر کے اس میں سے دیکھ کر نماز میں قرائت کرتا ہے،پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۱)

۳۲۷۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایک ایسے مرد اور عورت کے بارے میں جو قرآن سامنے رکھ کر اور اس میں دیکھ کر قرائت کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: اس کو نماز نہ سمجھیں۔ (۲)

میں کہوں گا: کہ یہ حکم نماز فریضہ پر محمول ہے جب کہ سورہ یاد ہو اوراس سے قبل والا حکم، نافلہ نماز پر محمول ہے یا سورہ یاد نہ ہونے کی صورت پر محمول ہے۔

۳۲۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: گونگے آدمی کا (حج میں) لبیک کہنےاور نماز میں تشہد پڑھنے اور قرآن کی قرائت کرنے کے لئے صرف زبان کو حرکت دینا اور انگلی سے اشارہ کرنا کافی ہے۔ (۳)

۳۲۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم ایک عجمی کو احرام باندھتے ہوئے دیکھو گے اس سے اس طرح کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا جس طرح ایک فصیح و بلیغ عالم سے کیا جاتا ہے اسی طرح نماز کی قرائت اور تشہد اور ان جیسی چیزوں میں گونگا آدمی بھی ہے پس وہ بھی عجمی مُحرِم کی طرح ہے اس سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا جس کا مطالبہ ایک فصیح و بلیغ اور عاقل متکلم سے کیا جاتا ہے۔(۴)

نویں فصل:

نمازی کو اختیار ہے کہ تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ پڑھے یا تسبیحات اربعہ البتہ تسبیحات اربعہ کو پڑھنا ہر صورت میں افضل ہے۔

۳۳۰۔ امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آخری دو رکعتوں میں کیا پڑھنا کافی ہے؟

آپ ؑنےفرمایا:

" سُبحَانَ اللهِ وَالحَمدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إلَّا اللهُ وَاللُه اَکبَرُ"

پڑھنا اور تکبیر کہہ کر رکوع میں چلے جانا۔ (۵)

۳۳۱۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: دس رکعتیں ایسی ہیں جن میں شک و وہم کی گنجائش نہیں ہے یہ وہ نماز ہے جو خدا نے فرض کی اور پھر رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اضافہ کرنے کا حق تفویض کیا تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں سات رکعتوں کا اضافہ کیا اوریہ سنت ہیں ان میں قرائت نہیں ہے بلکہ ان میں صرف تسبیح اور تہلیل اور تکبیر و دعا ہے اور شک بھی صرف انہی رکعتوں میں ہوتا ہے۔(۶)

۳۳۲۔ امام صادق علیہ السلام سے ظہر کی آخری دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: ان میں خدا کی تسبیح اور حمد کرو اور اپنے گناہوں کے لئے طلب مغفرت کرو اور اگر چاہو تو سورہ حمد پڑھو کیونکہ یہ بھی حمد اور دعا پر مشتمل ہے۔ (۷)

۳۳۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پیش نماز( نماز کی آخری رکعتوں میں) سورہ فاتحہ پڑھے اور اس کے مقتدی تسبیحات پڑھے اور جب فرادی نماز پڑھو تو ان میں اگر چاہو تو قرائت کرو اور اگر چاہو تو تسبیح پڑھو۔ (۸)

۳۳۴۔ امام صادق علیہ السلام سے آخری دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان میں کیا کروں ؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: اگر چاہو تو سورہ فاتحہ پڑھو اور چاہو تو ذکر خدا کرو دونوں برابر ہیں آپ ؑسے عرض کیا گیا کہ ان میں سے افضل کیا ہے؟ تو فرمایا: بخدا دونوں برابر ہیں اگر چاہو تو تسبیح کرو اور چاہو تو وقرائت کرو۔ (۹)

میں کہوں گا :اس کو کافی ہونے کے لحاظ سے برابرہونے پرحمل کیا گیا ہے۔

۳۳۵۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ پیش نماز سورہ فاتحہ پڑھے اور فرادی نماز پڑھنے والا بھی ایسا کرے اور مقتدی قرائت نہ کرے۔ (۱۰)

۳۳۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کمترین ذکر جو آخری دو رکعتوں میں کافی ہے وہ

"سُبْحَانَ اللهِ،سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ "

کہنا ہے۔ (۱۱)

اور یہ ضرورت کے مقام پر محمول ہے۔

۳۳۷۔ امام رضا علیہ السلام تین بار

"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ"

پڑھتے تھے اور پھر رکوع میں تشریف لے جاتے تھے۔ (۱۲)

۳۳۸۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: پیش نماز ہو یا کوئی اور، فرض والی چار رکعتوں میں سے آخری دو رکعتوں میں کوئی قرائت نہ کرو آپ ؑسے عرض کیا گیا کہ اس میں کیا پڑھوں؟ تو فرمایا: جب تو پیش نماز ہو یا فرادی نماز پڑھ رہا ہو تو تین بارکہو:

"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ"

اس کے بعد تکبیر پڑھ کر رکوع میں چلے جاؤ۔ (۱۳)

۳۳۹۔ منقول ہے کہ

"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ"

کا مکمل ذکر ۹ بار پڑھنا ہے۔ (۱۴)

۳۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری دو رکعتوں میں جب خدا کی عظمت کو یاد کرتے تھے تو مدہوش ہو جاتے اور

"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ"

کہتے تھے اس وجہ سے تسبیح کرنا قرائت کرنے سے افضل قرار پایا ۔(۱۵)

۳۴۱۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قرائت اور دوسری دو رکعتوں میں تسبیح اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ اس نماز میں جخدا نے براہ راست فرض کی ہے اور جو رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے فرض کی ہے، میں فرق قائم رہ جائے۔ (۱۶)

۳۴۲۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: پہلی دو رکعتوں میں قرائت کرو اور آخری دو رکعتوں میں تسبیح کرو۔ (۱۷)

۳۴۳۔امام علی علیہ السلام پہلی دو رکعتوں میں قرائت کرتےتھےاور دوسری دو رکعتوں میں تسبیح پڑھتے تھے(۱۸)

۳۴۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب آخری دو رکعتوں کی بجا آوری کے لئے کھڑے ہوجاؤ تو ان میں قرائت نہ کرو بلکہ کہو:

"اَلحَمدُلِلَّهِ وَسُبحَانَ اللهِ وَاللهُ اَکبَرُ" (۱۹)

۳۴۵۔ منقول ہے کہ پیش نماز کے لئے قرائت افضل ہے۔ (۲۰)

۳۴۶۔ منقول ہے کہ ہر صورت میں قرائت افضل ہے۔ (۲۱) اور یہ تقیہ پر محمول ہے۔

۴۱

دسویں فصل:

واجب قرائت کا سیکھنا واجب ہے ۔

اور اختیاری حالت میں اس کا ترجمہ کافی نہیں ہےاس کی دلیل گزر چکی ہے اورمزید ایسی دلیل آنے والی ہے۔

۳۴۷۔ امام باقراور امام صادق علیھماالسلام میں سے ایک امام ؑسے خدا کے اس فرمان

( بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِين ) (۲۲)

کے متعلق سوال کیا گیا توآپؑ نے فرمایا: عربی، تمام زبانوں کی وضاحت کرسکتی ہے مگر کوئی زبان اس کی وضاحت نہیں کرسکتی۔ (۲۳)

۳۴۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر فصاحت کے ساتھ بولنے والاعالم اپنے فرض منصبی کو جو اسے ادا کرنا چاہئے تھا، ترک کر کے نبطی اور فارسی زبان میں ادا کرنے لگ جائے تو ادب، ان کے درمیان مانع ہوگامگر یہ کہ وہ اپنے علم و عقل کے مطابق عمل کرے (مزید) فرمایا: اور اگر کوئی ایسا شخص جو عجمی محرم( احرام باندھنے والے شخص) کی مانند نہ ہو مگر وہ عجمی اور گونگے شخص کی مانند عمل کرنے لگ جائے جیسا کہ ہم نے بیان کیا، توکوئی شخص کار خیر کرنے والا نہیں رہے گا اور نہ ہی جاہل و عالم کے درمیان کوئی فرق رہ جائے گا۔ (۲۴)

۴۲

۔۔۔حوالہ جات:۔۔

۱ ( و سائل ۴ : ۷۸۰/۱

۲ ( و سائل ۴ : ۷۸۰/۲

۳ ( و سائل ۴ : ۸۰۱/۱

۴ ( و سائل ۴ : ۸۰۲/۲

۵ ( و سائل ۴ : ۷۸۲/۵

۶ ( و سائل ۴ : ۷۸۲/۶

۷ ( و سائل ۴ : ۷۸۱/۱

۸ ( و سائل ۴ : ۷۸۱/۲

۹ ( و سائل ۴ : ۷۸۱/۳

۱۰ ( و سائل ۴ : ۷۸۲/۴

۱۱ ( و سائل ۴ : ۷۸۲/۷

۱۲ ( و سائل ۴ : ۷۸۲/۸

۱۳ ( و سائل ۴ : ۷۹۲/۲

۱۴ ( و سائل ۴ : ۷۹۱/۱

۱۵ ( و سائل ۴ : ۷۹۲/۳

۱۶ ( و سائل ۴ : ۷۹۲/۴

۱۷ ( و سائل ۴ : ۷۹۲/۵

۱۸ ( و سائل ۴ : ۷۹۳/۹

۱۹ ( و سائل ۴ : ۷۹۳/۷

۲۰ ( و سائل ۴ : ۷۹۴/۱۱

۲۱ ( و سائل ۴ : ۷۹۴/۱۲

۲۲ ( شعرا:۱۹۵

۲۳ ( و سائل ۴ : ۸۱۲/۱

۲۴ ( و سائل ۴ : ۸۱۲/۲

۴۳

گیارہویں فصل:

مشہور قرائت کے مطابق قرائت کرنا(کافی ہے) نہ کہ شاذ اور غیر منقول کے مطابق ۔

۳۴۹۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں قرآن کے چند حروف اس قرائت کے خلاف پڑھے جس طرح عام لوگ پڑھتے تھے آپ ؑ نے فرمایا: ایسی قرائت سے باز رہو اور اس طرح پڑھو جس طرح عام لوگ پڑھتے ہیں یہاں تک کہ قائم آل محمد (عَجَّلَ اللہُ فَرَجهَ الشَّرِیفُ) تشریف لائیں جب وہ آئیں گے تو قرآن کو اس کی شان ومرتبہ کے مطابق پڑھیں گے اور قرآن کا وہ نسخہ باہر نکالیں گے جوامام علی علیہ السلام نے مرتب کیا تھا(۱

۳۵۰۔ معصومین علیھم السلام سے منقول ہے کہ جس قرائت میں قاریوں کے درمیان اختلاف ہے اس کو پڑھنا جائز ہے۔ (۲)

۳۵۱۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ہم آپؑ کی بارگاہ میں قرآن کی کچھ آیتیں سنتے ہیں جو ہمارے پاس(مصاحف میں) اس کیفیت کے ساتھ نہیں ہیں جس طرح ہم سنتے ہیں اور ہم اس طرح عمدگی سے پڑھ بھی نہیں سکتے جس طرح آپ کی جانب سے ہم تک پہنچتی ہے تو کیا اس طرح ہم گناہگار ہوں گے؟ آپ ؑنےفرمایا: نہیں، قرآن اسی طرح پڑھو جس طرح تم نے سیکھا ہے، عنقریب وہ (صاحب الزمان علیہ السلام) آئیں گے وہی تمہیں سکھائیں۔ (۳)

۳۵۲۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میرے پاس خدا کی طرف سے آنے والا آیا اور آکر کہا: خدا آپ کو حکم دیتا ہے کہ قرآن کو ایک حرف(قرائت) پر پڑھو تو میں نے عرض کیا: پروردگارا! میری امت کے لئے وسعت پیدا کر تب اس نے کہا: خدا فرماتا ہے کہ سات حروف پر پڑھو۔ (۴)

۔۔۔حوالہ جات:۔۔

۱- و سائل ۴ : ۸۲۱ /۱

۲- و سائل ۴ : ۸۲۱ /۵

۳- و سائل ۴ : ۸۲۱ /۲

۴- و سائل ۴ : ۸۲۲ /۶

۴۴

بارہویں فصل: پہلا مطلب :

قرآن پڑھنے کے احکام اگرچہ نماز میں نہ ہو ۔ اس میں کل بارہ (۱۲) مطالب ہیں۔

قرآن پڑھنے اور پڑھانے کے احکام : اس کے کل بارہ احکام ہیں۔ ۱۔ قرآن کا پڑھنا اور پڑھانا واجب کفائی ہے اور مستحب عینی ہے اس کی دلیل مقدمات نمازمیں گزر چکی ہے۔

۳۵۳۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: خداوند عالم اس دل کو عذاب نہیں دے گا جو قرآن کو سمجھ کر پڑھے گا۔(۱)

۳۵۴۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ (۲)

۳۵۵۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: یہ قرآن خدا کا دسترخوان ہے اس کے دسترخوان سے جتنا سیکھ سکتے ہو توسیکھو۔

۲۔ اولاد کو قرآن سکھانا مستحب ہے اس کی دلیل گزر گئی ہے۔ (۳)

۳۵۶۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو بھی شخص اپنی اولاد کو قرآن پڑھائے گا خدا بروز محشر اس کے والدین کو بادشاہوں کا تاج پہنائے گا اور انہیں جنت کے دو ایسے حلّے زیب تن کئے جائیں گے کہ ان جیسے حلّے کسی نے دیکھے بھی نہ ہوں گے۔ (۴)

۳۵۷۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جب معلم قرآن بچے سے کہتا ہے کہو:

( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ )

اور بچہ کہتا ہے: ( بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) تو خدا اس کے والدین کے لئے اور اس معلم کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ لکھ دیتاہے۔ (۵)

حوالہ جات:

۱ ( و سائل ۴ : ۸۲۵/۴

۲ ( و سائل ۴ : ۸۲۵/۶

۳ ( و سائل ۴ : ۸۲۶/۱۳

۴ ( و سائل ۴ : ۸۲۵/۸

۵ ( و سائل ۴ : ۸۲۶/۱۶

۳۵۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جس نے قرآن سیکھا اسے جنت کے دو حلّے پہنائے جائیں گے پھر اسے کہا جائے گا قرآن پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا پس جب بھی قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا جنت میں ایک درجہ چڑھ جائے گا اور اگر اس کے والدین مومن ہوں گے تو انہیں بھی دو دو حلّے پہنائے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے بیٹے کو قرآن پڑھانے کا صلہ ہے۔ (۱)

۳۔ قرآن کا حفظ کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر گئی ہے۔

۳۵۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص قرآن کا حافظ ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے وہ خدا کے کریم و نیک سفیروں کے ہمراہ ہو گا۔(۲)

۴۔ قرآن کے پڑھنے اور یاد کرنے میں زحمت و مشقت برداشت کرنا مستحب ہے،اس کی دلیل گزر گئی ہے۔

۳۶۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص حافظہ کی کمی کی وجہ سے بڑی زحمت و مشقت کے ساتھ قرآن یاد کرے تو خدا اسے دوہرا اجر و ثواب عطا کرتا ہے۔ (۳)

۳۶۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص پر قرآن ( کا حفظ کرنا) سخت ہو اسے دوہرا ثواب عطا کیا جائے گا اور جس کے لئے آسان ہوگا وہ اولین کے ہمراہ (محشور)ہو گا۔ (۴)

۵۔ قرآن پڑھانے اور پڑھنے والوں کو نظرانداز کرنا حرام جبکہ ان کا اکرام و احترام کرنا واجب ہے اس کی دلیل گزر گئی ہے۔

۳۶۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اہل قرآن نبیوں اور رسولوں کے سوا آدمیت کے اعلی درجہ پر فائز ہیں پس تم اہل قرآن کے حقوق کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ ان کو خدائے غالب و جبار کی بارگاہ میں بڑی منزلت حاصل ہے۔ (۵)

۳۶۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میری امت کے با شرف ترین لوگ، حاملان قرآن اور راتوں کو جاگ کر خدا کی عبادت کرنے والے ہیں۔ (۶)

۳۶۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حاملان قرآن، اہل جنت کے عرفاء ہیں۔ (۷)

۶۔ جوانی میں قرآن پڑھنا اور پڑھانا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳۶۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جوشخص جوانی میں قرآن پڑھے تو قرآن اس کے گوشت و پوست اور خون کے ساتھ مخلوط ہو جاتا ہے اور خداوند عالم اسے اپنے نیک و کریم سفراء کے ہمراہ قرار دیتا ہے اور اسے جنت الفردوس کے حلّوں میں سے دو حلّے پہنائے گا اور اس کے سر پر عزت و کرامت کا تاج رکھا جائے گا اور امان اس کے دائیں ہاتھ میں اور جنت میں ہمیشگی کا پروانہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا پھر وہ جنت میں داخل ہو جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا کہ ایک ایک آیت پڑھتا جا اور ایک ایک درجہ چڑھتا جا جو شخص کثرت کے ساتھ قرآن پڑھے اور زحمت و مشقت کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرے خدا اسے دوہرا اجر و ثواب عطا فرمائے گا۔ (۸)

۷۔ قرآن پڑھنے اور پڑھانے والے کے لئے خشوع و خضوع اورعبادت اور ورع وتقوی اور اخلاص کی پابندی کرنا لازم ہے اس کی دلیل گزر گئی ہے اور آگے بھی آنے والی ہے۔

۸-

۳۶۶۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص خوشی سے اسلام میں داخل ہو اور با طہارت قرآن کی تلاوت کرے تو اسے ہر سال مسلمانوں کے بیت المال سے دو سو دینار دئیے جائیں گے اور اگر دنیا میں وہ اس سے محروم ہوگیا توقیامت کے دن جب کہ وہ اس کا سب سے زیادہ محتاج ہو گا پوری طرح اسے وصول کرے گا۔ (۹)

۹۔ عورتوں کو سورہ نور پڑھانا مستحب ہے جبکہ ان کو سورہ یوسف اور لکھنے کی تعلیم دینا مکروہ ہے۔

۳۶۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: عورتوں کو منزلوں میں نہ ٹھہراؤ اور ان کو لکھنے کی تعلیم نہ دو اور نہ ہی ان کو سورہ یوسف پڑھاؤ البتہ ان کو سورہ نور اور چرخہ کاتنا سکھاؤ۔(۱۰)

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:ان (عورتوں) کو سورہ یوسف نہ سکھاؤ۔

۳۶۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص قرآن سیکھے پھر جا ن بوجھ کر بھلا دے تو وہ اس حالت میں خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو گا کہ اس کے ہاتھ گردن کے پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے اور ہر آیت کے عوض خدا اس پر ایک ایک سانپ مسلط کرے گا جو اس کو جہنم میں ڈالے جانے تک اس کے ساتھ رہے گا مگر یہ کہ خدا اس کی مغفرت کرے۔ (۱۱)

۳۶۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی شخص قرآن کے کسی سورہ کو (یاد کرنے کے بعد) بھلا دے توہ وہ سورہ جنت میں ایک اعلی مرتبہ کی خوبصورت شکل میں بدل جائے گا جب اسے یہ شکل نظر آئے گی تو پوچھے گا: تو کون ہے؟

تووہ کہے گی : میں فلاں فلاں سورہ ہوں اگر تو مجھے نہیں بھلاتا تو میں آج تجھے اس درجہ پر پہنچاتی۔ (۱۲)

۱۱۔

۳۷۰۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو قرآن پڑھتا ہے(حفظ کرتا ہے) پھر بھول جاتا ہے پھر پڑھتا ہے پھر بھول جاتا ہے تو ، پوچھا گیا آیا اس میں کوئی حرج ہے؟تو آپؑ نے فرمایا: نہیں۔ (۱۳)

میں کہوں گا : یہ اس صورت پر محمول ہے کہ جب آدمی تفریط اور کوتاہی کئے بغیر فراموش کر بیٹھے۔

۱۲۔ قرآن کا اعراب( زیر، زبراور پیش) سیکھنا واجب ہے اور جب (سیکھنا)ممکن نہ ہو توغلط پڑھناجائز ہے،مقدمات نماز میں اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳۷۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کو اس کی صحیح عربی کیفیت کے ساتھ سیکھو اور خبردار! اس میں بے جا نبر(ھمزہ کی شدت کی صفت) نہ کرنا۔ (۱۴)

۳۷۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میری امت کا ایک عجمی، قرآن کو اپنے عجمی لہجے میں پڑھتا ہے مگر ملائکہ اس کو عربی کی کیفیت میں بلند کرتے ہیں۔ (۱۵)

۳۷۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سوائے اصلی ھمزہ کے باقی ہر ھمزہ قرآن میں زائد ہیں۔

جیسا کہ خدا کا ارشاد

( أَلَّا يَسْجُدُواْ لِلَّهِ الَّذِى يخُرِجُ الْخَبْ‏ءَ ) (۱۶)اور ( لَكُمْ فِيهَا دِفْ‏ءٌ ) (۱۷)اور ( فَادَّارَأْتُمْ فِيهَا ) (۱۸)ہے ۔ (۱۹)

۳۷۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: عربی سیکھو کیونکہ یہ اللہ تعالی کا کلام ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے بات کرتا ہے۔(۲۰)

۴۵

حوالہ جات

۱ ( و سائل ۴ : ۸۳۴/۱

۲ ( و سائل ۴ : ۸۳۲/۱

۳ ( و سائل ۴ : ۸۳۲/۲

۴ ( و سائل ۴ : ۸۳۲/۳

۵ ( و سائل ۴ : ۸۳۰/۱

۶ ( و سائل ۴ : ۸۳۱/۲

۷ ( و سائل ۴ : ۸۳۱/۳

۸ ( و سائل ۴ : ۸۳۳/۱

۹ ( و سائل ۴ : ۸۳۸/۱

۱۰ ( و سائل ۴ : ۸۳۹/۱

۱۱ ( و سائل ۴ : ۸۴۷/۸

۱۲ ( و سائل ۴ : ۸۴۵/۲

۱۳ ( و سائل ۴ : ۸۴۶/۶

۱۴ ( و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۱۵ ( و سائل ۴ : ۸۶۶/۴

۱۶ ( نمل:۲۵

۱۷ ( نحل:۵

۱۸ ( بقرہ:۷۲

۱۹ ( و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۲۰ ( و سائل ۴ : ۸۶۶/۲

۴۶

دوسرا مطلب:

۳۷۵ قرآن مجید کا اکرام واحترام اور اس کے مطالب ومعانی میں غور وفکرکرنا۔

۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب خدا(میدان حشر میں) اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا تو اچانک ایک ایسا خوبصورت شخص وارد محشر ہو گا کہ اس جیسا کوئی خوبصورت شخص نہیں دیکھا گیا ہوگا، جبکہ وہ در حقیقت قرآن ہوگا آپ ؑ نے مزید فرمایا: اس کے بعد خداوند متعال اس سے فرمائے گا: مجھے اپنی عزت و جلالت اور بلندیِ مقام کی قسم! میں آج اس کا ضرور اکرام کروں گا جس نے تیرا اکرام کیا تھا اور اس کی ضرور اہانت کروں گا جس نے تمہاری اہانت کی تھی۔ (۲۱)

۳۷۶۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جس نے قرآن پڑھا اور پھر گمان کیا کہ خدا نے کسی اور کو اس سے بہتر نعمت عطا کی ہے تو اس نے اس چیز کو حقیر سمجھا جسے خدا عظیم سمجھتا ہے اور اس چیز کو عظیم سمجھا ہے جسے خدا نے حقیر سمجھتا ہے۔(۲۲)

۳۷۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اس قرآن میں ہدایت کے منارے اور اندھیروں کے چراغ ہیں پس نگاہ کرنے والے کو چاہئے کہ اپنی نگاہ کو جولان دے اور اس سے روشنی حاصل کرنے کے لئے اپنی آنکھ کو کھولے کیونکہ غور و فکر کرنا ایک با بصیرت آدمی کے دل کی اسی طرح زندگی ہے جس طرح روشنی حاصل کرنے والا اندھیروں میں نور سے راہنمائی حاصل کر کے چلتا ہے۔ (۲۳)

۳۷۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کے قاری کو چاہئے کہ قرآن پڑھتے وقت جب کسی ایسی آیت کے پاس سے گزرے جس میں (جنت کا) سوال کیا گیا ہو یا (خدا کے عذاب) سے ڈرایا گیا ہو، تو جن چیزوں کی اسے آرزو ہے ان میں سے بہتر چیز (جنت) کا سوال کرے اور آتش دوزخ اور عذاب خدا سے پناہ مانگے۔ (۲۴)

۳۷۹۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مجھے تعجب ہے کہ میں کس طرح بوڑھا ہو جاتا ہوں جب کہ قرآن کی تلاوت کرتاہوں! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بڑھاپا کیوں آپ کی طرف آ گیا؟ تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مجھے سورہ ھوداور واقعہ اور مرسلات اور عم یتساءلون نے بوڑھا کر دیا۔ (۲۵)

حوالہ جات:

۲۱ ( و سائل ۴ : ۸۲۷/۱

۲۲ ( و سائل ۴ : ۸۲۷/۳

۲۳ ( و سائل ۴ : ۸۲۸/۱

۲۴ ( و سائل ۴ : ۸۲۸/۲

۲۵ ( و سائل ۴ : ۸۲۹/۴ و ۵

۴۷

تیسرا مطلب :

حاملان وقاریان قرآن کے آداب۔

ان میں سے بارہ آداب کوان کی دلائل کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔

ا-خشوع و خضوع پیدا کرنا۔

۲ - نماز و روزہ کی زیادہ سے زیادہ پائبندی کرنا۔

۳ - تواضع و فروتنی پیدا کرنا۔

۴ - جہالت اور غصہ سے اجتناب کرنا۔

۵ - حلم و درگزر کرنا۔

۶ - قرآن کی تعظیم و تکریم کرنا۔

۷ - اخلاص پیدا کرنا۔

۸ طمع اور لالچ سے اجتناب کرنا۔

۹ - حرام کاموں سے اجتناب کرنا۔

۱۰ - دنیا سے متعلق زہد اختیار کرنا۔

۱۱ - صلح و صفائی کرنا۔

۱۲ - قرآن (کی تعلیمات) پر عمل کرنا

۳۸۰۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سب لوگوں سے بڑھ کر ظاہر و باطن میں خشوع و خضوع کرنے کا مستحق حامل قرآن ہے اور ظاہر و باطن میں سب لوگوں سے بڑھ کر صوم و صلاۃ کی پابندی کرنے کا حقدار بھی حامل قرآن ہے پھر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلند آواز سے فرمایا: اے حامل قرآن! تواضع و فروتنی کر اس سے خدا تجھے بلند کرے گا، حامل قرآن ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھ ورنہ خدا تجھے ذلیل کر دے گا اے حامل قرآن! قرآن کے ذریعے خدا کی رضا کے لئے اپنے آپ کو زینت دو خدا تجھے اس سے زینت دے گا اور لوگوں کی خوشنودی کے لئے اس سے اپنے آپ کو مزین نہ کرو ورنہ خدا تجھے عیب دار بنا دے گا جو شخص قرآن ختم کرتا ہے گویا اس کے دونوں پہلوں میں نبوت سمٹ جاتی ہے البتہ اس کی طرف وحی نہیں ہوتی اور جو شخص قرآن جمع کرے اور اس کا پاس و لحاظ کرے تو یہ شخص ہر اس شخص کے ساتھ جاہلانہ سلوک نہیں کرے گا جو اس سے جہالت آمیز سلوک کرے گا، اور یہ ہر اس شخص پر قہر و غضب نہیں کرے گا جو اس پر قہر و غضب کرے گا اور یہ اس سے ہرگز کینہ نہیں رکھے گا جو اس سے کینہ رکھے گا، بلکہ یہ اسے عفو و درگزر کرے گا اور قرآن کی تعظیم کرتے ہوئے حلم و بردباری سے کام لے کر اسے معاف کرے گا۔ (۲۶)

۳۸۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بعض لوگ اس لئےقرآن کی تلاوت کرتے ہیں کہ انہیں قارئ قرآن کہا جائے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو صرف اس لئے قرآن پڑھتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے دنیا کمائیں، ان میں کوئی خیر و خوبی نہیں ہے البتہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو محض اس لئے اس کی تلاوت کرتے ہیں تاکہ اس سے اپنی نماز میں اور اپنے شب و روز میں فائدہ اٹھائیں۔ (۲۷)

۳۸۲۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص قرآن کی تلاوت کرے اور اس کے ذریعہ سے حرام پیئے یا قرآن پر دنیا کی محبت اور اس کی زیب و زینت کو ترجیح دے وہ خدا کےغضب کا مستحق قرار پائے گا مگر یہ کہ توبہ کرے۔ (۲۸)

۳۸۳۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اگر یہ سدھر جائیں تو ساری امت سدھر جائے گی اور اگر یہ بگڑ جائیں تو ساری امت بگڑ جائے گی (وہ) حکمران اور قاریان قرآن ہیں(۲۹

۳۸۴۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص قرآن اس لئے پڑھے تاکہ اس کے ذریعے سے لوگوں کا مال کھائے تو وہ قیامت کے دن میدان میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر ہڈیوں کے سوا کوئی گوشت نہیں ہو گا۔(۳۰)

۳۸۵۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص قرآن سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور اس پر دنیا کی محبت اور اس کی زیب و زینت کو ترجیح دے تو وہ خدا کے غضب کا مستحق قرار پائے گا۔ (۳۱)

۴۸

حوالہ جات:

۲۶ - و سائل ۴ : ۸۳۵/۱

۲۷ - و سائل ۴ : ۸۳۶/۲

۲۸۔ و سائل ۴ : ۸۳۶/۴

۲۹۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۶

۳۰ ۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۷

۳۱۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۸

۴۹

چوتھا مطلب: تلاوت قرآن کے احکام

ان کی کل تعداد بارہ ہے۔

۱۔ نماز میں ہو یا غیر نماز میں ہر حال میں قرآن کا کثرت کے ساتھ پڑھنا اورختم کرنا اورشروع کرنا اور اس کی قرائت کو توجہ سے سننا اور تمام مستحب اعمال پر اسے مقدم کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔

۳۸۶۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: تم پر ہر حالت میں قرآن کی تلاوت کرنا لازم ہے۔ (۳۲)

۳۸۷۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سب سے افضل عمل حال مرتحل ہے امام ؑ سے دریافت کیا گیا کہ ( حال مرتحل) کیا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: قرآن کو شروع کرنا اور پھر اسے ختم کرنا کہ آدمی جب بھی اس کی ابتداء کرے تو اس کی انتہاء کی طرف کوچ کر جائے۔ (۳۳)

۳۸۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جنت کے درجات قرآنی آیات کی تعداد کے برابر ہیں اس لئے قاری سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا چنانچہ وہ پڑھتا جائے گا اور اوپر چڑھتا جائے گا۔ (۳۴)

۳۸۹۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نما ز میں کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرے تو خدا اس کے نامہ اعمال میں ایک ایک حرف کے عوض سو سو نیکیاں درج کرتا ہے اور جو شخص نماز میں بیٹھ کر تلاوت کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ہر ہر حرف کے عوض پچاس پچاس نیکیاں درج کرتا ہےاور جو شخص نماز کے علاوہ اس کی تلاوت کرے تو اس کے لئے ہر حرف کے عوض دس دس نیکیاں درج کرتا ہے۔ (۳۵)

۳۹۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص توجہ سے قرآن کی تلاوت سنے تو اللہ تعالی اس کے لئے ہر حرف کے عوض ایک نیکی لکھتا ہے اور اگر رات کو قرآن ختم کرلے تو صبح تک فرشتے اس پر درود پڑھتے ہیں اور جو شخص دن کو قرآن ختم کر لے اس پر حفاظت کرنے والے فرشتے شام تک درود پڑھتے ہیں، امام ؑ سے عرض کیا گیا کہ آیا یہ اس کے لئے ہے جو پورا قرآن ختم کرے لیکن جو پورا قرآن نہ پڑھ سکے تو اس کے لئے کیا ہے؟

تو آپؑ نے فرمایا: جب وہ شخص وہ کچھ پڑھے جو اس کے پاس ہے تو اسے بھی خدا یہی ثواب عطا فرمائے گا (۳۶

۳۹۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کا ختم وہاں تک کرے جہاں تک وہ (قاری) جانتا ہے۔ (۳۷)

۳۹۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعوں میں سے جو شخص کھڑے ہو کر نماز میں قرآن کی تلاوت کرے اسے ہر حرف کے عوض سو نیکیاں اور جو بیٹھ کر نماز میں قرآن پڑھے اسے ہر حرف کے عوض کے پچاس نیکیاں اور جو نماز کے علاوہ پڑھے اسے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں۔ (۳۸)

۳۹۳۔ منقول ہے کہ سب سے افضل عبادت قرآن کی تلاوت کرنا ہے۔(۳۹)

۳۹۴۔ حدیث قدسی میں (ارشاد خدا)ہے : جو شخص قرآن کی تلاوت میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجھ سے سوال کرنے سے بے خبر رہا اسے میں شاکرین کا ثواب عطا کروں گا۔ (۴۰)

۲۔ قرآن کی تلاوت کے لئے باطہارت ہونا مستحب ہے اور جنب اورحائض اور نفساء کے لئے سوائے واجب سجدہ والے سوروں کے باقی قرآن کا پڑھنا جائز ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳۹۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز میں کھڑے ہو کر قرآن پڑھنے والے قائ قرآن کو ہر حرف کے عوض سو نیکیاں ملیں گی اور بیٹھ کر پڑھنے والے کے لئے پچاس اور نماز کے علاوہ با طہارت پڑھنے والے کے لئے پچیس اور بغیر طہارت کے پڑھنے والے کے لئے دس نیکیاں ملیں گی میں یہ نہیں کہتا کہ المر(ایک حرف ہے) بلکہ الف پر دس اور لام پر دس اور میم پر دس اور راء پر دس نیکیاں ملیں گی۔ (۴۱)

۳۹۶۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگرکوئی بندہ با طہارت نہ ہو تو اس وقت تک قرآن کی تلاوت نہ کرے جب تک وہ طہارت نہ کرے۔ (۴۲)

۳۹۷۔ امام کاظم علیہ السلام سے کسی شخص نے سوال کیا کہ میں قرآن مجید پڑھ رہا ہوتا ہوں کہ مجھے پیشاب کی حاجت ہوتی ہے لہذا اٹھ کر پیشاب کرتا ہوں اور استنجا کر کے اور ہاتھ دھو کر پھر قرآن مجید پڑھنے لگتا ہوں،

تو آپ ؑنے فرمایا: ایسا نہ کرو جب تک نماز والا وضوء نہ کر لو۔ (۴۳)

۳۔ تلاوت کرتے وقت شیطان سے پناہ مانگنا مستحب ہے۔

۳۹۸۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آیا ہر سورہ کو شروع کرتے وقت شیطان سے پناہ مانگنی چاہئے؟

تو آپؑ نے فرمایا: ہاں ،خدا سے شیطان رجیم کی پناہ مانگو۔ (۴۴)

۳۹۹۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: وہ چیز کہ جس کی طرف خدا نے تمہیں قرآن کی تلاوت کے وقت بلایا اور اس کا حکم دیا ہے وہ

" اَعُوذُ بِاللهِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ"

ہے اور استعاذہ وہ ہے جس کا خدا نے اپنے بندو کو قرآن کی تلاوت کرتے وقت حکم دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے:

( فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِ ) (۴۵)

پس جو شخص اپنے آپکو ادب خداوندی سےباآدب بنائے گا خدا بھی اسے دائمی فوز و فلاح تک پہنچائے گا۔(۴۶)

۴۔ ہر روز قرآن کی تھوڑی سی تلاوت کرنا اگرچہ پچاس آیتوں کی ہو اور ہر شب کم از کم ایک سورہ کا پڑھنا مستحب ہے،اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴۰۰۔ امام عسکری علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی رات میں دس آیتوں کی تلاوت کرے وہ غافلوں میں سے نہیں لکھا جائےگا اور جوشخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے وہ ذاکرین میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ قانتین(اطاعت گزاروں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص دو سوآیتوں کی تلاوت کرے وہ خاشعین میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ فائزین (فوز و فلاح پانے والوں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص پانچ سو آیتوں کی تلاوت کرے وہ مجتھدین ( راہ خدا میں ہمیشہ سعی و تلاش کرنے والوں) میں سے لکھا جائے گا اور جو شخص ایک ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کے لئے ایک قنطار نیکیاں لکھا جائے گا۔ (۴۷)

۴۰۱۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کی آیات خزانے ہیں پس جب بھی کسی خزانے کا تالا کھولو تو دیکھو کہ اس کے اندر کیا ہے۔(۴۸)

۴۰۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن خدا کا اپنے بندوں کے نام عہد و پیمان ہے لہذا ایک مسلمان آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنے عہد و پیمان پر نگاہ ڈالے اور روزانہ اس کی پچاس آیتیں پڑھے۔ (۴۹)

۴۰۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے درمیان میں وہ تاجر جو بازار میں (تجارت میں) مشغول رہتا ہے جب وہ اپنی منزل کو لوٹتا ہے تو سونے سے قبل قرآن کا ایک سورہ پڑھنے میں کیا مانع ہے! تاکہ اسے ہر آیت جو وہ پڑھتا ہے کے عوض سے دس نیکیاں لکھی جائیں اور اس کے دس گناہ معاف کئے جائیں۔ (۵۰)

۴۰۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: آدمی کو چاہئے کہ جب صبح کرے تو نماز کی تعقیبات میں قرآن کی پچاس آیتوں کی تلاوت کرے۔ (۵۱)

۵۔ قرآن کو کھول کے پڑھنا مستحب ہے اگرچہ پڑھنے والے کو زبانی یاد ہو۔

۴۰۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص دیکھ کر قرآن پڑھے وہ الہی بینائی سے لطف اندوز ہو گا اور اس کے ماں باپ کے عذاب میں تخفیف ہو گی اگرچہ وہ کافر ہوں۔ (۵۲)

اور روایت نقل ہوئی ہے کہ دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز شیطان پر بھاری نہیں گزرتی۔

۴۰۶۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کہ مجھے قرآن زبانی یاد ہے آیا اسے زبانی پڑھوں تو افضل ہے یا دیکھ کر پڑھنا؟

تو آپؑ نے فرمایا: بلکہ مصحف میں نگاہ کر کے پڑھو یہ افضل ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ قرآن پر نظر کرنا بھی عبادت ہے۔(۵۳)

۶ ۔ قرآن کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اور پڑھنے میں جلد بازی نہ کرنا مستحب ہے۔

۴۰۷۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آیت کو دوسری آیت سے الگ کر کے پڑھتے تھے۔(۵۴)

۴۰۸۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے خداکے اس ارشاد

( وَرَتِّلِ القُرآنَ تَرتِیلًا ) (۵۵)

(قرآن کو ترتیل سے پڑھو) کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: حروف کو خوب واضح طور پر ادا کرو اور شعر و شاعری کی طرح عجلت سے نہ پڑھو اور نہ ہی ریت کے ذروں کی مانند اسے بالکل بکھیرو بلکہ اس کے ذریعہ سے سخت دلوں کو کھٹکاؤاور پڑھتے وقت تمہارا عزم (جلدی) سورہ کے آخری حصہ تک پہنچنا نہ ہو۔ (۵۶)

۴۰۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کو واضح طور پر پڑھو کیونکہ عربی ہے۔ (۵۷)

۴۱۰۔ امام صادق علیہ السلام نے خدا كے اس ارشاد

( وَرَتِّلِ القُرآنَ تَرتِیلًا ) (۵۸)

کے متعلق فرمایا: ترتیل یعنی ٹھہر ٹھہر کر پڑھواور پڑھتے وقت اپنی آواز کو حسین بناؤ۔ (۵۹)

۷۔ مستحب ہے کہ قرآن کی تلاوت اس طرح حزن کے ساتھ کی جائے کہ گویا تلاوت کرنے والا کسی انسان سے خطاب کر رہا ہو۔

۴۱۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن حزن کے ساتھ نازل ہوا ہے لہذا تم بھی اسے حزن کےساتھ پڑھو۔ (۶۰)

۴۱۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام کاظم علیہ السلام کی تلاوت حزن کی حالت میں ہوتی تھی اور جب آپ ؑ تلاوت فرماتے تھے ایسامحسوس ہوتا تھا کہ گویا کسی انسان سے مخاطب ہیں۔ (۶۱)

۸۔ آہستہ اور آوازکیساتھ تلاوت کرنا۔

۴۱۳۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اے ابوذر! جنازوں کے پاس اور جنگ و جدال کے وقت اور تلاوت قرآن کے وقت آواز آہستہ کرو۔ (۶۲)

۴۱۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سب سے افضل عبادت سب سے کم آواز والی عبادت ہے۔ (۶۳)

۴۱۵۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص

"سور ہ اِنَّا اَنزَلنَا ہ فِي لَیلَةِ القَدرِ"

کو بلندآواز سے پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو شمشیر بہ کف ہو کر راہ خدا میں جہاد کرے اور جو اسے آہستہ آواز سے پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو راہ خدا میں اپنے خون میں لتھڑا ہوا ہو اور جو اسے دس مرتبہ پڑھے تو یہ تلاوت اس کے قریبا ایک ہزار گناہوں پر پانی پھیر دے گا۔ (۶۴)

۴۱۶۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ایک شخص ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اس کی دعا و پکار اور تلاوت بے کار ہے جب تک بلند آواز نہ ہو،تو آپؑ نےفرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام سب لوگوں سے بڑھ کر عمدہ آواز کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور وہ بھی اس قدر بلند آواز کے ساتھ کہ جیسے سب اہل خانہ سنتے تھے۔ (۶۵)

۹۔ قرآن پڑھنے میں غنا وسرود حرام ہے۔ اور ایسی اچھی آواز سے پڑھناجو غنا کی حد تک نہ پہنچے اور آواز بلند کرنے میں میانہ روی اختیار کرنا مستحب ہے۔

۴۱۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن کو عربوں کی آواز اور ان کے لہجے میں پڑھو۔ خبردار! اسے فاسقوں، فاجروں اور گناہ کبیرہ کرنے والوں کے لہجے میں نہ پڑھنا، کیونکہ میرے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کو غنا اور نوحہ اور رہبانیت کے لہجہ میں پڑھیں گے قرآن ان لوگوں کے حلقوم سے نیچے نہیں اترے گا ان کے دل ٹیڑھے ہوں گے اور ان کے بھی دل ٹیڑھے ہوں گے جن کو ان کی یہ روش پسند ہوگی۔(۶۶)

۴۱۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کا ایک زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیوراچھی آواز ہے۔ (۶۷)

۴۱۹۔ امام زین العابدین علیہ السلام قرآن پڑھنے میں سب لوگوں سے زیادہ خوش آواز تھے آپ کے دروازے کے پاس سے جب سقاء گزرتے تھے تو آپؑ کی تلاوت سننے کے لئے دروازے پر رُک جاتے تھے۔ (۶۸)

۴۲۰۔ ایک شخص نے حضرت امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ جب میں بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں تو شیطان میرے پاس آکر کہتا ہے کہ تو ریا کاری کی خاطر اہل خانہ اور دوسرے لوگوں کو سناتا ہے! یہ سن کر امام ؑ نے فرمایا: قرائت میں میانہ روی اختیار کرو، اہلخانہ کو سناؤ اور قرآن پڑھتے وقت آواز کو پھیرو کیونکہ اللہ تعالی اس اچھی آواز کو پسند کرتا ہے جسے پھیرا جائے۔ (۶۹)

میں کہوں گا کہ آواز کو پھیرنے کو تقیہ اورغنا و سرود کی حد تک نہ پہنچنے کی صورت پر حمل کیا گیا ہے۔

۱۰۔ قرآن پڑھنے اور سننے والے کے لئے مستحب ہے کہ اپنے اندر رقت اور خوف و خشیت الہی کا اظہار کرے البتہ بے ہوشی وغیرہ کا اظہار نہ کرے۔

۴۲۱۔ امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جب قرآن کا تذکرہ کرتے ہیں یا ان کے سامنے قرآن پڑھنے کا ثواب ذکر کیا جائے تو ان میں سے کچھ اس طرح بے ہوش ہو کر گر پڑتے ہیں کہ گویا اگر ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں تو انہیں احساس نہ ہوگا!امام ؑ نے فرمایا: سُبحَانَ اللہِ! یہ حرکت شیطان کی طرف سے ہے ان کی اس صفت سے تعریف نہیں کی گئی ہے بلکہ جس چیز کی خدا نے تعریف کی ہے وہ نرمی اور رقت قلبی اور آنسو بہانا اور خوف و خشیت الہی ہے۔ (۷۰)

۱۱۔ قرآن کی تلاوت کا ثواب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ ہدیٰ علیہم السلام اور زندہ و مردہ مؤمنین کو ہدیہ کرنا مستحب ہے اس کی دلیل دفن کے احکام میں گزر چکی ہے۔

۴۲۲۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں کسی شخص نے عرض کیا کہ میرے والد ماہ مبارک رمضان میں چالیس قرآن ختم کیا کرتے تھے اور ان کے بعد میں بھی اتنے ہی قرآن ختم کیا کرتا تھا بلکہ کبھی اس سے زیادہ کبھی اس سے کم! اور جب عید الفطر کا دن ہوتا تھا تو ایک ختم قرآن کا ثواب حضرت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اور ایک حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں اورایک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں اور ایک دوسرے ائمہ ہدیٰ علیھم السلام کی خدمت میں یہاں تک کہ نوبت آپؑ تک پہنچتی ہے تو ایک ختم قرآن کا ثواب آپ کی خدمت میں ہدیہ کرتا ہوں تو اس کارخیر کا مجھے کیا ثواب و اجر ملے گا؟ فرمایا: اس کا تمہیں یہ اجر ملے گا کہ تم بروز قیامت انہیں ذوات مقدسہ کے ہمراہ ہو گے۔ (۷۱)

۱۲۔ وہ مقامات جہاں قرآن کی تلاوت نہیں کرنی چاہئے۔

۴۲۳۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: سات آدمی ایسے ہیں جنہیں قرآن نہیں پڑھنا چاہئے۔

رکوع کرنے والا اور سجدہ کرنے والا اورپائخانہ پھرنے والا اور حمام کرنے والا اور جُنُب اورنفسآء اور حائض۔(۷۲)

---------

۵۰

حوالہ جات:

۳۲ ( و سائل ۴ : ۸۳۵/۱

۳۳ ( و سائل ۴ : ۸۳۶/ ۲

۳۴ ( و سائل ۴ : ۸۳۶/۴

۳۵ ( و سائل ۴ : ۸۳۷/۶

۳۶ ( و سائل ۴ : ۸۳۷/۷

۳۷ ( و سائل ۴ : ۸۳۷/۸

۳۸ ( و سائل ۴ : ۸۳۹/۱

۳۹ ( و سائل ۴ : ۸۳۹/ ۲

۴۰ ( و سائل ۴ : ۸۴۰/۳

۴۱ ( و سائل ۴ : ۸۴۰/۴

۴۲ ( و سائل ۴ : ۸۴۱/۵

۴۳ ( و سائل ۴ : ۸۴۱/۷

۴۴ ( و سائل ۴ : ۸۴۲/۸

۴۵ ( و سائل ۴ : ۸۴۳/۱۵

۴۶ ( و سائل ۴ : ۸۴۴/۲۰

۴۷ ( و سائل ۴ : ۸۴۸/۳

۴۸ ( و سائل ۴ : ۸۴۷/ ۲

۴۹ ( و سائل ۴ : ۸۴۷/ ۲

۵۰ ( و سائل ۴ : ۸۴۸/۲

۵۱ ( نحل:۹۸

۵۲ ( و سائل ۴ : ۸۴۸/۱

۵۳ ( و سائل ۴ : ۸۵۱/ ۲

۵۴ ( و سائل ۴ : ۸۴۹/۲

۵۵ ( و سائل ۴ : ۸۴۹/۱

۵۶ ( و سائل ۴ : ۸۵۱/ ۱

۵۷ ( و سائل ۴ : ۸۴۹/۳

۵۸ ( و سائل ۴ : ۸۵۳/۱و۲

۵۹ ( و سائل ۴ : ۸۵۴/۴

۶۰ ( و سائل ۴ : ۸۵۶/۵

۶۱ ( مزمل:۴

۶۲ ( و سائل ۴ : ۸۵۶/۱

۶۳ ( و سائل ۴ : ۸۵۶/ ۲

۶۴ ( مزمل:۴

۶۵ ( و سائل ۴ : ۸۵۶/۴

۶۶ ( و سائل ۴ : ۸۵۷/۱

۶۷ ( و سائل ۴ : ۸۵۷/۳

۶۸ ( و سائل ۴ : ۸۵۸/۳

۶۹ ( و سائل ۴ : ۵۸/۸

۷۰ ( و سائل ۴ : ۸۵۷/۱

۷۱ ( و سائل ۴ : ۸۵۸/۲

۷۲ ( و سائل ۴ : ۸۵۸/۱

۵۱

پانچواں مطلب:

تلاوت قرآن کے مقامات اوراوقات

اس کے کل بارہ احکام ہیں۔

۱۔ بیت الخلاء میں تلاوت نہیں کرنی چاہئے اس کی دلیل اس باب میں اور آداب خلوت میں گزر چکی ہے۔

۲۔ حمام میں قرآن پڑھنا اس شخص کے لئے جائز ہے جس نے تہبند باندھا ہواور اس کے بغیر پڑھنا مکروہ ہے اس کی دلیل اس باب میں اور حما م کے آداب میں گزر چکی ہے۔

۳۔ مسجد میں قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴۲۴۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: مسجدوں کو قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔ (۷۳)

۴۔ گھر میں قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے اور قرآن کی تلاوت نہ کرنا مکروہ ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴۲۵۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گھروں کو بھی تلاوت قرآن میں سے کچھ حصہ دیا کرو کیونکہ جس گھر میں قرآن پڑھا جائے گا اس میں رہنے والوں کے کام آسان ہونگےاورا ن کے خیروبرکت میں اضافہ ہو گا اوراس میں رہنے والے فائدے میں ہوں گے اور اگر گھرمیں قرآن نہ پڑھا جائے تو اس میں رہنے والوں کے کام مشکل ہونگے اس کے خیر وبرکت کم ہوں گے اور اس میں رہنے والےنقصان میں ہونگے۔(۷۴)

۴۲۶۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: اپنے گھروں کو قرآن کی تلاوت سے منور کرو اور ان کو قبور مت بناؤ جس طرح یہود و نصاریٰ نے بنایا۔ (۷۵)

۴۲۷۔ جس گھر میں قرآن کی تلاوت اور ذکر خدا کیا جائے اس میں برکت زیادہ ہو گی اور اس میں فرشتے حاضر ہو جائیں گے اورشیاطین اس گھر سے فرار ہو جائیں گے اور جس طرح زمین پہ رہنے والوں کے لئے ستارے روشن ہوتے ہیں اسی طرح یہ آسمان میں رہنے والوں کے لئے روشن ہوگا اور جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا اور نہ ذکر خدا کیا جاتا ہے اس میں برکت کم ہو گی اور فرشتے وہاں سے چلے جائیں گے اور اس میں شیاطین آئیں گے۔ (۷۶)

۴۲۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس گھر میں قرآن کی تلاوت ہو گی اس کے لئے آسمان میں ایک نور بلند ہو گا اور دوسرے گھروں کے درمیان اسے پہچانا جاتا ہے۔ (۷۷)

۵۔ مکہ میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے۔

۴۲۹۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جو شخص مکہ میں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک یا اس سے کم تر مدت میں یا اس سے زیادہ مدت میں قرآن مجید ختم کرے بشرطیکہ ختم بروز جمعہ کرے تو خدا اس کو اس قدر ثواب و نیکیاں عطا فرمائے گا کہ جو دنیا کے پہلے جمعہ سے لے کر اس کے آخری جمعہ تک کی گئی ہوں گی اور ہفتہ کے دوسرے دنوں میں بھی ختم کرے تو اسی طرح ہو گا۔(۷۸)

۶۔ماہ مبارک رمضان میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۴۳۰۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کے لئے بہار کا موسم ہوتا ہے اور قرآن کا موسمِ بہار ماہ مبارک رمضان ہے۔(۷۹)

۴۳۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص ماہ رمضان المبارک میں ایک آیت پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہے جوماہ رمضان کے علاوہ دوسرے مہینوں میں قرآن ختم کرتا ہے اور امام ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا میں ماہ رمضان کی ایک رات میں قرآن ختم کروں؟

تو آپؑ نے فرمایا: نہ، عرض ہوا: دو راتوں میں ختم کروں؟

آپؑ نے فرمایا : نہ،عرض ہوا: تین راتوں میں ؟ فرمایا: ہاں۔(۸۰)

۴۳۲۔ امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ کتنی مدت میں قرآن ختم کیا جائے؟ آپؑ نے فرمایا: چھ یا چھ سے زیادہ دنوں میں، آپؑ سےعرض کیا گیا: ماہ رمضان میں ؟ فرمایا: تین یا اس سے زیادہ دنوں میں۔(۸۱)

۴۳۳۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک رات میں قرآن ختم کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: ہر رات میں! عرض کیا گیا ماہ رمضان میں؟

فرمایا: ماہ رمضان میں(ہاں)۔ (۸۲)

۷۔ قرآن ختم کرنے کی مدت

اس کی بحث (ابھی)گزرچکی ہے۔

۴۳۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ ایک ماہ سے کم مدت میں قرآن ختم کیا جائے۔(۸۳)

۴۳۵۔ امام صاق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کیا کہ کتنی مدت میں قرآن پڑھوں؟ فرمایا: چار دنوں میں اور پانچ دنوں میں اور سات دنوں میں پڑھو، پھر فرمایا: مگر میرے پاس ایک ایسا قرآن ہے جو چودہ حصوں پرمشتمل ہے۔ (۸۴)

۴۳۶۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کیا: کیامیں پورا قرآن ایک رات میں ختم کروں؟

تو آپؑ نے فرمایا: نہ، پھر عرض کیا دو راتوں میں؟

فرمایا: نہ،یہاں تک وہ جب چھ راتوں تک پہنچ گیا تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: ہاں!

پھر آپ ؑ نے فرمایا: قرآن کو جلدی جلدی نہیں پڑھا جاتا بلکہ ترتیل کے ساتھ پڑھا جاتا ہے اور جب کسی ایسی آیت کے پاس سے گزرو جس میں جہنم کا تذکرہ ہو تو وہاں ٹھہر جاؤ اور جہنم سے خدا کی پناہ مانگواور جب کسی ایسی آیت کے پاس سے گزرو جس میں جنت کا تذکرہ ہو تو وہاں ٹھہر جاؤ اور اللہ تعالی سے جنت طلب کرو۔(۸۵)

۴۳۷۔ امام رضا علیہ السلام ہر تین دن میں ختم قرآن کیا کرتے تھے۔(۸۶)

۸۔ شب جمعہ قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۹۔ روز جمعہ قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔

۱۰۔ شب قدر میں قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔

۱۱۔ ہر روز و شب قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آگے آئے گی۔

۱۲۔ سوتے وقت قرآن کی تلاوت کرنا مستحب ہے اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۵۲

حوالہ جات:

۷۳ ( و سائل ۴ : ۸۵۹/۳

۷۴ ( و سائل ۴ : ۸۵۹/۴

۷۵ ( و سائل ۴ : ۸۵۹/۵

۷۶ ( و سائل ۴ : ۸۶۰/۱

۷۷ ( و سائل ۴ : ۸۶۴/۱

۷۸ ( و سائل ۴ : ۸۸۵/۱

۷۹ ( و سائل ۴ : ۴۹۲/۱

۸۰ ( و سائل ۴ : ۸۵۰/۵

۸۱ ( و سائل ۴ : ۸۵۰/۴

۸۲ ( و سائل ۴ : ۸۵۰/۲

۸۳ ( و سائل ۴ : ۸۵۱/۶

۸۴ ( و سائل ۴ : ۸۵۲/۱

۸۵ ( و سائل ۴ : ۸۵۳/۲

۸۶ ( و سائل ۴ : ۸۶۲/۴

چھٹا مطلب:

گھر میں قرآن رکھنا اور وہ بھی لٹکا کر رکھنا اوراس میں کثرت سے تلاوت کرنا اور اس کی طرف نگاہ کرنا مستحب ہے اوراس کو بےکاراور بغیر تلاوت کے رکھنا مکروہ ہے۔

۴۳۸۔ امام باقرعلیہ السلام سے منقول ہے کہ مستحب ہے کہ گھر میں قرآن لٹکایا جائے جس کے ذریعے سے شیطانوں سے اپنی حفاظت کی جائے اور یہ بھی مستحب ہے کہ اس کی تلاوت ترک نہ کی جائے۔ (۸۷)

۴۳۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند ہے کہ گھر میں قرآن مجید موجود ہو جس کے ذریعے سے خدا، شیطانوں کو دور بھگائے۔ (۸۸)

۴۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جو بروز قیامت بارگاہ خدا میں شکایت کریں گی: وہ ویران مسجد جس میں اس محلے کے لوگ نماز نہ پڑھیں۔(۸۹)

وہ عالم دین جو جاہلوں میں گِھرا ہواہو۔ وہ قرآن جسے گھرمیں لٹکایا گیا ہو اورگرد و غبار میں اٹا ہو مگر گھر والے اس کی تلاوت نہ کریں۔

۴۴۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ والدین کی طرف پیار و محبت سے نگاہ کرنا عبادت ہے اور قرآن کی طرف نگاہ کرنا عبادت ہے اورکعبہ کی طرف نگاہ کرنا عبادت ہے اور قرائت کے بغیر قرآن کی طرف نگاہ کرنا بھی عبادت ہے۔ (۹۰)

۵۳

حوالہ جات:

۸۷ ( و سائل ۴ : ۸۶۴/۸

۸۸ ( و سائل ۴ : ۸۶۴/۱

۸۹ ( و سائل ۴ : ۸۶۲/۱

۹۰ ( و سائل ۴ : ۸۶۲/۲

۵۴

ساتواں مطلب:

قرآن کی تلاوت کو توجہ سے سننا اور سننے کے لئے خاموش رہنا اور سنتے وقت اپنے اندر رقت اور خوف و خشیت الہی کا اظہار کرنا مستحب ہے۔

۴۴۲۔ امام باقرعلیہ السلام سے منقول ہے کہ وہ وقت جس میں توجہ سے قرآن سننے اور خاموش رہنے کا حکم ہوا ہے وہ اس پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھنے کےدوران ہے جب (شرعا)اس کی اقتداء کی جاتی ہو جبکہ اس کی قرائت کی آواز سنی جائے۔(۹۱)

۴۴۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن سننے کے لئے خاموش رہنا نماز وغیرہ میں واجب ہے۔ (۹۲)

اور یہ مستحب ہونے پر محمول ہے۔

۴۴۴۔ امام صادق علیہ السلام سے قران پڑھنے والے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ آیا اس کو سننے والے پر خاموشی اور توجہ سے اس کا سننا واجب ہے؟

تو آپؑ نےفرمایا: ہاں جب تمہارے پاس قرآن پڑھا جائے تو تم پر خاموشی اور توجہ سےاسکا سننا واجب ہے(۹۳)

۴۴۵۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی نماز فریضہ میں پیش نماز قرآن پڑھے تو

( فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ) (۹۴)

(تم توجہ اور خاموشی سے سنو تاکہ تم پر رحم کیا جائے)۔ (۹۵)

۴۴۶۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب تم پیش نماز کے پیچھے ہوتوپہلی دو رکعتوں میں کچھ بھی نہ پڑھو اور اس کی قرائت کو غور سے سنو اور آخری دو رکعتوں میں کچھ بھی نہ پڑھو کیونکہ خداوند عالم نے مومنین سے فرمایا ہے

(وَ إِذَا قُرِءَ القُرآنُ)

یعنی جب نماز فریضہ میں پیش نماز کے پیچھے( تمہارے لئے) قرآن پڑھا جائے تو

( فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون ) (۹۶)

تم خاموشی سے توجہ کے ساتھ سنا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور آخری دو رکعتیں پہلی دو رکعتوں کی تابع ہیں۔ (۹۷)

۴۴۷۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کے چند جوانوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: میں تمہارے سامنے قرآن پڑھنا چاہتا ہوں تم میں سے جو قرآن سن کر رو پڑے گا اس کے لئے جنت ہے۔

چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورہ زمر کی آخری آیتیں

(وَسِیقَ الَّذِینَ کَفَرُوا جَهَنَّمَ زُمَرًا) (۹۸)

سورہ کے آخر تک پڑھیں تو یہ سن کر سب جوان سوائے ایک جوان کے رو پڑے اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے رونے کی بہت کوشش کی مگر میری آنکھوں میں آنسو نہیں آئے!

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میں ایک بار پھر ان آیتوں کا تکرار کرتا ہوں پس جس نے صرف رونے کی شکل بنائی اس کے لئے بھی جنت ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکرار فرمایا تو پھر سب جوان رو پڑے اور اس جوان نے رونے کی شکل بنائی تو وہ سب جوان جنت میں داخل ہونے کے مستحق قرار پائے۔(۹۹)

۵۵

حوالہ جات:

۹۱ ( و سائل ۴ : ۸۶۳/۳ و ۴

۹۲ ( و سائل ۴ : ۸۶۳/۶

۹۳ ( و سائل ۴ : ۸۵۵/۳

۹۴ ( و سائل ۴ : ۸۵۵/۱

۹۵ ( و سائل ۴ : ۸۵۵/۲

۹۶ ( و سائل ۴ : ۸۵۴/۵ و ۶

۹۷ ( و سائل ۴ : ۸۶۱/۱

۹۸ ( و سائل ۴ : ۸۶۱/۲

۹۹ ( و سائل ۴ : ۸۶۱/۴

۵۶

آٹھواں مطلب:

بعض سوروں کو پڑھنا مستحب مؤکد ہے چنانچہ چند سوروں کے پڑھنے کی فضیلت گزر چکی۔

۴۴۸۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو کچھ عرشِ الہی میں ہے ان میں سے سب سے اشرف و افضل سورہ فاتحہ ہے۔ (۱۰۰)

۴۴۹۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا: کیا میں تجھے وہ افضل ترین سورہ نہ پڑھاؤں جو خدا نے اپنی کتاب میں نازل کی ہے؟ اس نے عرض کیا: ہاں ضرور؛ پس آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو سورہ حمد پڑھائی اور فرمایا: اس میں ہر بیماری کی شفا ہے سوائے سام کے اور سام سے مراد موت ہے۔(۱۰۱)

(امام صادق علیہ السلام سے) روایت نقل ہوئی ہے: جب بھی سورہ حمد کو ستر بار کسی درد کے مقام پر پڑھا گیا تواذن خدا سے اسے ضرور آرام آگیا۔

۴۵۰۔ امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: اگر سورہ حمد کسی مردہ پر ستر بار پڑھا جائے اور اس میں روح لوٹ آئے تو یہ امر باعث تعجب نہ ہو گا۔(۱۰۲)

۴۵۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سورہ حمد، قرآن مجید کا ایک تہائی اور سورہ جحد ایک چوتھائی کے برابر ہیں۔ (۱۰۳)

۴۵۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص ایک بار سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد پڑھے گویا اس نے قرآن کا ایکَ تہائی حصہ پڑھا، اور جو اسے دو بار پڑھے تو گویا اس نے نے قرآن کا دو تہائی پڑھا اور جو تین بار پڑھے تو ایسا ہے جیسے اس نے پورا قرآن ختم کیا ہے۔ (۱۰۴)

۴۵۳۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جناب سعد بن معاذ کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا: اس نماز میں سترہزار فرشتے بھی شامل ہوئے ہیں ان میں جبرئیل بھی داخل ہیں۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا: اے جبرئیل! یہ شخص تم فرشتوں کی نماز کا کس طرح مستحق قرار پایا؟ انہوں نے کہا: اس وجہ سے کہ وہ اٹھتے اور بیٹھتے اورپیدل اور سواراورجاتےاور آتے وقت سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد کی تلاوت کرتا تھا۔ (۱۰۵)

۴۵۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد کو بارہ مرتبہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں بارہ قلعے تعمیر کرتا ہے۔ (۱۰۶)

۴۵۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کو پورا ایک جمعہ گزر جائے اور وہ اس دوران سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد نہ پڑھے اور پھر مر جائے تو وہ ابو لہب کے دین پر مرے گا۔ (۱۰۷)

۴۵۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بیمار ہو جائے یا اسے کوئی سختی لاحق ہو جائے اور وہ اس بیماری اور سختی میں سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد نہ پڑھے اور پھر وہ مر جائے تو وہ جہنمی ہے۔ (۱۰۸)

۴۵۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کو تین دن گزر جائیں اور وہ اس دوران میں سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد نہ پڑھے تو اس کے گلے سے ایمان كے طوق کواتارا جاتا ہے اور اگر ان تین دنوں میں مرجائے تو خدائے بزرگ و برتر کا کافر و منکر ہو کر مرتا ہے۔ (۱۰۹)

میں کہوں گا کہ اس روایت کو سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد کی تلاوت کو ہلکا سمجھ کر ترک کرنے والے یا اس کی تلاوت کی فضیلت کے انکار کرنے والے کو تنبیہ کرنے پر حمل کیا گیا ہے۔

۴۵۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تمام سورہ انعام ایک ہی دفعہ میں نازل ہوا ہے جب یہ سورہ نازل ہوا تو اس کی تعظیم و تکریم کی خاطر ستر ہزار فرشتوں نے مشایعت کی تھی کیونکہ اس میں خداے عزوجل کا اسم مبارک ستر مقامات پر وارد ہوا ہے۔ اور اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس کی تلاوت میں کیا اجر وثواب ہے تو وہ اس کی تلاوت کبھی ترک نہ کرتے۔ (۱۱۰)

۴۵۹۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سورہ یسین کی تلاوت کرنے کا بہت عظیم ثواب و اجر ہے اسی طرح سورہ ملک اور اکثر سوروں بلکہ قرآن کے تمام سوروں کوپڑھنے کے ثواب منقول ہیں۔ (۱۱۱)

روایت نقل ہوئی ہے کہ سورہ یسین کی تلاوت کرنے کا بڑاثواب ہے۔

حضرت صاحب الزمان(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) سے سوروں کی تلاوت کے متعلق روایات گزر چکی ہیں، لہذا ان کے ثواب ان روایات کے مطابق ہیں۔

۵۷

حوالہ جات:

۱۰۰ ( اعراف:۲۰۴

۱۰۱ ( و سائل ۴ : ۸۶۱/۵

۱۰۲ ( اعراف:۲۰۴

۱۰۳ ( و سائل ۴ : ۴۲۲/۳

۱۰۴ ( زمر:۷۱

۱۰۵ ( و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۱۰۶ ( و سائل ۴ : ۸۷۵/۱۰

۱۰۷ ( و سائل ۴ : ۸۷۴/۸ و ۶

۱۰۸ ( و سائل ۴ : ۸۷۳/۱

۱۰۹ ( و سائل ۴ : ۸۶۷/۳

۱۱۰ ( و سائل ۴ : ۸۶۸/۵

۱۱۱ ( و سائل ۴ : ۸۶۷/۲

۵۸

نواں مطلب:

وہ سورے جن کوسوتے وقت پڑھنا مستحب ہے۔

۴۶۰۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص سونے سے پہلے مسبحات(وہ سورے جو سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ سے شروع ہوتے ہیں) پڑھا کرے تو اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک قائم آل محمد علیہ السلام کے زمانے کو نہیں پالے گا اور اگر اس سے پہلے مر گیا تو وہ حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوار میں ہو گا۔ (۱)

۴۶۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بستر خواب پر لیٹتے وقت سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد کو ایک سور بار پڑھے تو خدا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کردیتا ہے۔ (۲)

۴۶۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص رخت خواب پر جا کر گیارہ مرتبہ سورہ قُل ھُواللہُ اَحَد پڑھے اس کا گھر بھی محفوظ رہے گا اور اس کے ارد گرد کے سارے گھر بھی محفوظ رہیں گے۔ (۳)

۴۶۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ہر شب معوذتین تین تین بار اور سورہ اخلاص کا سو بار پڑھنا بہتر ہے اگر سو بار نہ پڑھ سکے تو پچاس بار پڑھے۔(۴)

۴۶۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا؛ جو شخص بستر پر لیٹ کر سورہ کافرون اور قُل ھُواللہُ اَحَد پڑھے تو خداوند عالم اس کے لئے شرک سے برائت لکھ دیتا ہے۔ (۵)

۴۶۵۔ منقول ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورہ اَلھَاکُمُ التَّکَاثُرپڑھے وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا۔ (۶)

۴۶۶۔ منقول ہے کہ مستحب ہے کہ انسان سوتے وقت گیارہ بار سورہ ا ِنَّا اَنزَلنَاہُ فِي لَیلَةِ القَدرِ کی تلاوت کرے۔(۷)

۴۶۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بندہ سورہ کہف کا آخری حصہ پڑھ کر سو جائے تو جس وقت چاہے گا اسی وقت بیدار ہو جائے گا۔ (۸)

۴۶۸۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: جو بندہ

( قُل اِنَّمَا اَنَا بَشَرُ مِّثلُکُم)(۹)

سےسورہ کہف کے آخر تک پڑھے تو اس کے خوابگاہ سے لے کر مسجد الحرام تک کے راستے کے لئے ایک نور روشن ہو گا۔(۱۰)

۵۹

۱. حوالہ جات:
۔ و سائل ۴ : ۸۸۶/۱ و ۲

۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۰/۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۳

۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۳

۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۴

۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۱

۹. ۔کہف: ۱۱۰

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۳/۳

۶۰