بارہواں مطلب :
سجدہ تلاوت کے کچھ احکام
۴۸۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب واجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کو پڑھو تو سجدہ کرنے سے قبل تکبیر نہ پڑھو البتہ (سجدے سے) سر اٹھاتے وقت تکبیر پڑھواور واجب سجدے والے سورے چار ہیں :
الم تنزیل، اور حم سجده، اور النجم، اور اِقرَأبِاسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ (۱)
۴۸۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگرواجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کی تلاوت کی جائے اور اس کی آواز تیرے کانوں تک پہنچے تو سجدہ کرو اگر چہ تم باوضونہ ہو اگرچہ تم جنب ہو اوراگرچہ عورت( حیض وغیرہ کی وجہ سے) نماز نہ پڑھتی ہو البتہ باقی سارے قرآن (کے سجدوں) میں تیرے لئے اختیار ہے اگر چاہو تو سجدہ کرو نہ چاہو تو سجدہ نہ کرو۔(۲)
۴۸۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب آیت سجدہ کی تلاوت کرو تو سجدہ کرو اور جب تک اس سے سر نہ اٹھاؤ تکبیر نہ کہو۔ (۳)
۴۸۳۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جس نے ایسے شخص کے سامنے آیت سجدہ کی تلاوت کی جو با وضو نہ ہو، پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: وہ سجدہ کرے۔ (۴)
۴۸۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ (مذکورہ مسئلہ میں) وہ شخص اس صورت میں سجدہ کرے جب وہ آیت،واجب سجدے والے سورے کی ہو۔(۱۳۷)
۴۸۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: واجب سجدے والے سورے چار ہیں:
الم تنزیل، اور حم سجده اوروالنجم اور اِقرَأبِاسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ (۵)
۴۸۶۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ان کے علاوہ قرآن کے باقی سارے سجدے مستحب ہیں واجب نہیں ہیں۔ (۶)
۴۸۷۔روایت نقل ہوئی ہے کہ سورہ فصّلت میں سجدہ، خدا کے اس ارشاد
(اِن کُنتُم اِیَّاهُ تَعبُدُونَ)(۷)
کے ساتھ ہے۔(۸)
۴۸۸۔ روایت نقل ہوئی ہے ایسے پیش نماز کے بارے میں جونماز میں آیت سجدہ پڑھے اور سجدہ کرنے سے پہلے اس سے حدث سرزد ہو جائے (تو اس کے بارے میں)امام ؑ نے فرمایا: وہ کسی دوسرے شخص کو آگے کرے جو تشہد پڑھے اور سجدہ کر کے لوٹ جائے اس طرح ان کی نماز مکمل ہو جائے گی۔ (۹)
۴۸۹۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو سجدہ والی آیت کی تلاوت(کی آواز) سنتاہے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: جب تک تلاوت کی خاطرخاموش ہوکرکان لگا کرتوجہ سے نہ سنے یا پڑھنے والے کی اقتداء میں نماز نہ پڑھ رہا ہو سجدہ نہ کرے اگر کوئی شخص ایک طرف نماز پڑھ رہا ہو اور دوسری طرف تم نماز پڑھ رہے ہو تواس کی کان پڑی آواز پر سجدہ نہ کرو۔ (۱۰)
۴۹۰۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو ایسے وقت میں آیت سجدہ کی آواز سنتا ہے جس میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے جیسے غروب آفتاب سے پہلےاور طلوع فجر کے بعد،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: وہ سجدہ نہ کرے۔(۱۱)
اورآپ ؑ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوایسے لوگوں کے ہمراہ نماز پڑھ رہا ہے جن کی وہ اقتداء نہیں کرتا اس لئے وہ اپنی نماز فرادیٰ پڑھ رہا ہے اور بعض اوقات وہ لوگ سجدے والے سوروں کی آیت سجدہ کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدہ نہیں کرتے تو وہ شخص کیا کرے؟
جواب میں آپؑ نےفرمایا:وہ سجدہ نہ کرے۔
میں کہوں گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بغیر توجہ کے آیت سنی ہے یا تقیہ کا مقام ہے یا وہ سورہ واجب سجدہ والا سورہ نہیں ہو سکتا ہے۔
۴۹۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آیت سجدہ پڑھو تو اسے سجدے میں پڑھنا چاہئے۔
"سَجَدْتُ لَكَ یَا رَبِّ تَعَبُّداً وَّ رِقّاً لَّا مُسْتَکبِراً عَن عِبَادَتِكَ وَلَا مُستَنکِفاً وَّلَا مُستَعظِماً بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائِفٌ مُسْتَجِیرُ"(۱۲)
۴۹۲۔ امام صاق علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب وہ واجب سجدہ والی آیت پڑھے تو کیا کرے؟ آپ ؑنےجواب میں فرمایا: جب سجدہ میں جاؤ یا اس سے سر اٹھاؤ تو اس میں تکبیرنہیں ہے، ہاں البتہ سجدہ میں جاؤ تو وہی کچھ پڑھو جو سجدہ میں پڑھتے ہو۔(۱۴۶)
۴۹۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ آیت سجدہ پڑھنے والا واجب سجدے میں کہے
"لا إلهَ اِلاّ اللّه حَقّاً حَقّاً، لا اِلهَ اِلاّ اللّه ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلاّ اللّه عُبودِیةً وَ رِقّاً، سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقّاً لا مُسْتَنکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائِفٌ مُسْتَجی"
پھر سر اٹھا کر تکبیرکہے۔ (۱۳)
۴۹۴۔ امام صادق علیہ السلام سےاس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جوسواری پر سوار ہے اور آیت سجدہ کی تلاوت کرتا ہے توجواب میں آپ ؑنے فرمایا: جدھر سواری کا رخ ہو ادھر ہی منہ کر کے سجدہ کرے کیونکہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے تھے جبکہ مدینہ کی طرف آ رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے
( فَأَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجهُ اللهِ)(۱۴)
( تم جدھر بھی منہ کرو اُدھر خدا کی ذات موجود ہے)۔ (۱۵)
۴۹۵۔روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص آیت سجدہ پڑھتا ہے اور سجدہ تلاوت کرنا بھول جاتا ہے یہاں تک کہ رکوع کرکے دو سجدے بجا لاتا ہے پھر اسے یاد آتا ہے تو اس کے بارے میں امام ؑ فرمایا: اگر وہ آیت واجب سجدے والے سورے کی ہے تو سجدہ کرے اور واجب سجدے والے سورے چار ہیں، اور امام زین العابدین علیہ السلام کو یہ بات پسند تھی کہ ہر اس سورہ کے پڑھنے میں سجدہ کریں جس میں سجدہ ہے۔ (۱۶)
۴۹۶۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نماز جماعت میں شامل ہوتا ہے تو ایک آدمی آیت سجدہ پڑھتا ہے تو وہ کیا کرے؟ جواب میں امام ؑ نے فرمایا: وہ سر سے اشارہ کرے۔ (۱۷)
۴۹۷۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو نماز میں سورہ سجدہ کا آخری حصہ کی تلاوت کرتا ہے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: جب واجب سجدے والے سورے کی آیت(سجدہ) سنے تو وہیں سجدہ کرے پھر کھڑا ہو کر نماز تمام کرے مگر یہ کہ نماز فریضہ پڑھ رہا ہو اس صورت میں صرف سر سے اشارہ کرے۔ (۱۸)
۴۹۸۔ امام باقر علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو واجب سجدے والے سورہ کی آیت(سجدہ) پڑھاتا ہے اس لئے ایک ہی نشست میں آیت سجدہ کئی بار تکرار کرتا ہے تو جواب میں فرمایا: سننے والے پر اور پڑھانے والے پر ہر بار سجدہ کرنا واجب ہے۔ (۱۹)