امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 501
ڈاؤنلوڈ: 34

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 501 / ڈاؤنلوڈ: 34
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

دسواں مطلب :

(قرآن مجید کے متعلق )چند مختلف احکام

۴۶۹۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ جب میں کسی کام کا ارادہ کرتا ہوں اور اس میں خدا سے طلب خیر کرتا ہوں مگر کسی شق پر رای مستقر نہیں ہوتی ہے،تو امام ؑ نے فرمایا: قرآن مجید کھولو اور اس کی پہلی سطر پر نگاہ کرو وہاں جو کچھ نظر آئے اسی کے مطابق عمل کرو۔ ان شاءاللہ تعالی۔ (۱)

۴۷۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قرآن سے فال نہ نکالو۔ (۲)میں کہوں گا فال سے مراد کسی غائب شخص یا حمل یا مریض وغیرہ کے حالات معلوم کرنا ہے اور استخارہ سے مراد کسی فعل کے انجام دینے یا ترک کرنے میں طلب خیر کرنا ہے تاکہ اس پر عمل کرے لہذا اس میں کوئی منافات و منع نہیں ہے۔

۴۷۱۔ ایک شخص نے امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرے پیٹ میں زرد پانی ہے، کیا اس کی شفایابی کا کوئی طریقہ ہے؟

تو آپؑ نے فرمایا: ہاں، آیۃ الکرسی کو لکھو اور اسے دھو کر اس کا پانی پی لو اور اسے اپنے پیٹ میں ذخیرہ کرو ان شاء اللہ شفایاب ہو جاؤ گے۔(۳)

۴۷۲۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کے کوئی خط یا نقطہ کو تھوک سے مٹانے یالکھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔ (۴)

۴۷۳۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن ہمراہ لے کر دشمن کی سرزمین میں سفر کرنے کی ممانعت فرمائی ہے تاکہ کہیں دشمن قرآن کی بے حرمتی نہ کرے۔ (۵)

۶۱

حوالہ جات:

۱ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۵/۱

۲ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۵/۲

۳ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۶/۱

۴ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۷/۲

۵ ۔ و سائل ۴ : ۸۸۷/۱

۶۲

گیارہواں مطلب : تعویذ وغیرہ ( کے احکام)

۴۷۴۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے بچھواور سانپ اور مجنون اور ایسے مسحور( جس پر جادو کیا گیا ہو) جو سخت تکلیف میں ہو ،کے تعویذ کے بارے میں پوچھا گیا ؛ توجواب میں فرمایا: ہر وہ تعویذ اورافسون اور منتر جو قرآن سے ماخوذ ہو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور جس کو قرآن شفا نہ دے اسے خدا شفا نہ دے کیا ان تکلیفات میں قرآن سے بڑھ کر بھی کوئی چیز مؤثر ہو سکتی ہے؟ تم ہم سے سوال کرو ہم تمہیں تعلیم دیں گے۔(۱)

۴۷۵۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: بہت سے افسون اور تعویذات مشرکانہ قسم کے ہوتے ہیں۔ (۲)

۴۷۶۔ امام صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں،جس کو بیماری لاحق ہو تی ہے تواس کی صحت کے لئے قرآن لکھا جاتا ہے اور اسے اس پر باندھ دیا جا سکتا ہے یا اسے دھو کر پلایا جاتا ہے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۳)

۴۷۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : تعویذ کو بچہ یا عورت پر باندھ دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۴)

۴۷۸۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا ہم قرآن یا افسون کو اپنے بچوں اور عورتوں پر باندھ سکتے ہیں؟ آپؑ نے فرمایا: ہاں جبکہ وہ تعویذ کسی چمڑے میں ہو تو اسے حائض بھی پہن سکتی ہے اگر چمڑے میں نہ ہو تو حائض اسے نہ پہنے۔ (۵)

۴۷۹۔ امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا مریض پر قرآنی آیات اور تعویذ لکھ کر باندھ دیا جاسکتا ہے؟ جواب میں آپؑ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے آپؑ سے نے عرض کیا گیا کہ ہم بعض اوقات جنب ہو جاتے ہیں،تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: مومن نجس نہیں ہوتا البتہ جب وہ تعویذ چمڑے میں بند نہ ہو تو پھر عورت نہ پہنے مگر مرد اور بچےکے لئے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۶)

حوالہ جات:

۱ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۷/۱

۲ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۳

۳ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۶

۴ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۷

۵ ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۸

۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۹/۹

۶۳

بارہواں مطلب : سجدہ تلاوت کے کچھ احکام

۴۸۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب واجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کو پڑھو تو سجدہ کرنے سے قبل تکبیر نہ پڑھو البتہ (سجدے سے) سر اٹھاتے وقت تکبیر پڑھواور واجب سجدے والے سورے چار ہیں :

الم تنزیل، اور حم سجده، اور النجم، اور اِقرَأبِاسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ (۱)

۴۸۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگرواجب سجدہ والے سوروں میں سے کسی سورہ کی تلاوت کی جائے اور اس کی آواز تیرے کانوں تک پہنچے تو سجدہ کرو اگر چہ تم باوضونہ ہو اگرچہ تم جنب ہو اوراگرچہ عورت( حیض وغیرہ کی وجہ سے) نماز نہ پڑھتی ہو البتہ باقی سارے قرآن (کے سجدوں) میں تیرے لئے اختیار ہے اگر چاہو تو سجدہ کرو نہ چاہو تو سجدہ نہ کرو۔(۲)

۴۸۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب آیت سجدہ کی تلاوت کرو تو سجدہ کرو اور جب تک اس سے سر نہ اٹھاؤ تکبیر نہ کہو۔ (۳)

۴۸۳۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جس نے ایسے شخص کے سامنے آیت سجدہ کی تلاوت کی جو با وضو نہ ہو، پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: وہ سجدہ کرے۔ (۴)

۴۸۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ (مذکورہ مسئلہ میں) وہ شخص اس صورت میں سجدہ کرے جب وہ آیت،واجب سجدے والے سورے کی ہو۔(۱۳۷)

۴۸۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: واجب سجدے والے سورے چار ہیں:

الم تنزیل، اور حم سجده اوروالنجم اور اِقرَأبِاسمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ۔ (۵)

۴۸۶۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ان کے علاوہ قرآن کے باقی سارے سجدے مستحب ہیں واجب نہیں ہیں۔ (۶)

۴۸۷۔روایت نقل ہوئی ہے کہ سورہ فصّلت میں سجدہ، خدا کے اس ارشاد

(اِن کُنتُم اِیَّاهُ تَعبُدُونَ)(۷)

کے ساتھ ہے۔(۸)

۴۸۸۔ روایت نقل ہوئی ہے ایسے پیش نماز کے بارے میں جونماز میں آیت سجدہ پڑھے اور سجدہ کرنے سے پہلے اس سے حدث سرزد ہو جائے (تو اس کے بارے میں)امام ؑ نے فرمایا: وہ کسی دوسرے شخص کو آگے کرے جو تشہد پڑھے اور سجدہ کر کے لوٹ جائے اس طرح ان کی نماز مکمل ہو جائے گی۔ (۹)

۴۸۹۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو سجدہ والی آیت کی تلاوت(کی آواز) سنتاہے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: جب تک تلاوت کی خاطرخاموش ہوکرکان لگا کرتوجہ سے نہ سنے یا پڑھنے والے کی اقتداء میں نماز نہ پڑھ رہا ہو سجدہ نہ کرے اگر کوئی شخص ایک طرف نماز پڑھ رہا ہو اور دوسری طرف تم نماز پڑھ رہے ہو تواس کی کان پڑی آواز پر سجدہ نہ کرو۔ (۱۰)

۴۹۰۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو ایسے وقت میں آیت سجدہ کی آواز سنتا ہے جس میں نماز پڑھنا درست نہیں ہے جیسے غروب آفتاب سے پہلےاور طلوع فجر کے بعد،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: وہ سجدہ نہ کرے۔(۱۱)

اورآپ ؑ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوایسے لوگوں کے ہمراہ نماز پڑھ رہا ہے جن کی وہ اقتداء نہیں کرتا اس لئے وہ اپنی نماز فرادیٰ پڑھ رہا ہے اور بعض اوقات وہ لوگ سجدے والے سوروں کی آیت سجدہ کی تلاوت کرتے ہیں اور وہ سجدہ نہیں کرتے تو وہ شخص کیا کرے؟

جواب میں آپؑ نےفرمایا:وہ سجدہ نہ کرے۔

میں کہوں گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے بغیر توجہ کے آیت سنی ہے یا تقیہ کا مقام ہے یا وہ سورہ واجب سجدہ والا سورہ نہیں ہو سکتا ہے۔

۴۹۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آیت سجدہ پڑھو تو اسے سجدے میں پڑھنا چاہئے۔

"سَجَدْتُ لَكَ یَا رَبِّ تَعَبُّداً وَّ رِقّاً لَّا مُسْتَکبِراً عَن عِبَادَتِكَ وَلَا مُستَنکِفاً وَّلَا مُستَعظِماً بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائِفٌ مُسْتَجِیرُ"(۱۲)

۴۹۲۔ امام صاق علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جب وہ واجب سجدہ والی آیت پڑھے تو کیا کرے؟ آپ ؑنےجواب میں فرمایا: جب سجدہ میں جاؤ یا اس سے سر اٹھاؤ تو اس میں تکبیرنہیں ہے، ہاں البتہ سجدہ میں جاؤ تو وہی کچھ پڑھو جو سجدہ میں پڑھتے ہو۔(۱۴۶)

۴۹۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ آیت سجدہ پڑھنے والا واجب سجدے میں کہے

"لا إلهَ اِلاّ اللّه حَقّاً حَقّاً، لا اِلهَ اِلاّ اللّه ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلاّ اللّه عُبودِیةً وَ رِقّاً، سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقّاً لا مُسْتَنکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائِفٌ مُسْتَجی"

پھر سر اٹھا کر تکبیرکہے۔ (۱۳)

۴۹۴۔ امام صادق علیہ السلام سےاس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جوسواری پر سوار ہے اور آیت سجدہ کی تلاوت کرتا ہے توجواب میں آپ ؑنے فرمایا: جدھر سواری کا رخ ہو ادھر ہی منہ کر کے سجدہ کرے کیونکہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اونٹنی پر نماز پڑھتے تھے جبکہ مدینہ کی طرف آ رہے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے

( فَأَینَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجهُ اللهِ)(۱۴)

( تم جدھر بھی منہ کرو اُدھر خدا کی ذات موجود ہے)۔ (۱۵)

۴۹۵۔روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص آیت سجدہ پڑھتا ہے اور سجدہ تلاوت کرنا بھول جاتا ہے یہاں تک کہ رکوع کرکے دو سجدے بجا لاتا ہے پھر اسے یاد آتا ہے تو اس کے بارے میں امام ؑ فرمایا: اگر وہ آیت واجب سجدے والے سورے کی ہے تو سجدہ کرے اور واجب سجدے والے سورے چار ہیں، اور امام زین العابدین علیہ السلام کو یہ بات پسند تھی کہ ہر اس سورہ کے پڑھنے میں سجدہ کریں جس میں سجدہ ہے۔ (۱۶)

۴۹۶۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نماز جماعت میں شامل ہوتا ہے تو ایک آدمی آیت سجدہ پڑھتا ہے تو وہ کیا کرے؟ جواب میں امام ؑ نے فرمایا: وہ سر سے اشارہ کرے۔ (۱۷)

۴۹۷۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں جو نماز میں سورہ سجدہ کا آخری حصہ کی تلاوت کرتا ہے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: جب واجب سجدے والے سورے کی آیت(سجدہ) سنے تو وہیں سجدہ کرے پھر کھڑا ہو کر نماز تمام کرے مگر یہ کہ نماز فریضہ پڑھ رہا ہو اس صورت میں صرف سر سے اشارہ کرے۔ (۱۸)

۴۹۸۔ امام باقر علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو واجب سجدے والے سورہ کی آیت(سجدہ) پڑھاتا ہے اس لئے ایک ہی نشست میں آیت سجدہ کئی بار تکرار کرتا ہے تو جواب میں فرمایا: سننے والے پر اور پڑھانے والے پر ہر بار سجدہ کرنا واجب ہے۔ (۱۹)

۶۴

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۳

۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۵

۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۶

۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۷

۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۹

۸. ۔فصلت:۳۷

۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۸

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۴

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۱

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۲

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۱

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۳

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۲

۱۶. ۔بقرہ:۱۱۵

۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۷/۱

۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۳/۲

۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۳

۶۵

ساتواں فعل: قنوت

اس میں کل بارہ فصلیں ہیں۔

پہلی فصل

ہر نماز میں خواہ فرض ہو یا نافلہ، جہری ہو یا اخفاتی سب میں قنوت مستحب مؤکد ہے اور جہری نماز میں اس کی زیادہ تاکید ہے اسی طرح نماز وتر اور نماز جمعہ میں بھی زیادہ تاکید ہے۔

۴۹۹۔ امام باقرعلیہ السلام نےفرمایا: دعائے قنوت تمام نمازوں میں ہے۔(۱)

۵۰۰۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: دعائے قنوت ہر دو رکعتوں میں ہے خواہ نافلہ ہو یا فریضہ۔ (۲)

۵۰۱۔ امام باقرعلیہ السلام سے نماز پنجگانہ میں قنوت سے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: سب میں قنوت پڑھو۔(۳)

۵۰۲۔ امام باقرعلیہ السلام سے منقول ہے کہ دعائےقنوت ہر نماز میں فرض ہے۔ (۴)

۵۰۳۔ امام باقرعلیہ السلام نے قنوت کے متعلق فرمایا: اگر چاہو تو قنوت پڑھو اور اگر چاہو تو نہ پڑھو۔ (۵)

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اور جب تقیہ کا مقام ہو تو پھر نہ پڑھو اور میں اس کی تائید کرتا ہوں۔

۵۰۴۔ امام صادق علیہ السلام سے رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا: نہ رکوع سے پہلےہے نہ رکوع کے بعد۔ (۶)

۵۰۵۔ امام صادق علیہ السلام جہری اور غیر جہری دونوں نمازوں میں قنوت پڑھتے تھے۔ (۷)

۵۰۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوت تمام نمازوں کی دوسری رکعت میں قرائت کے بعد اور رکوع کرنے سے پہلے سنت واجبہ(مؤکدہ) ہے۔(۸)

۵۰۷ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تمام فریضہ اور نافلہ نمازوں میں قنوت پڑھو۔ (۹)

۵۰۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بے رغبتی کی وجہ سے قنوت ترک کردے اس کی نماز(کامل) نہیں ہے۔ (۱۰)

۵۰۹۔ امام صادق علیہ السلام سے قنوت کے متعلق کسی نے سوال کیا تو فرمایا: وہ ان نمازوں میں ہے جن میں جہر کیا جاتا ہے اس نے عرض کیا کہ میں نے یہی سوال آپؑ کے والد ماجد سے کیا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ قنوت نماز ہائے پنجگانہ میں ہے آپ ؑنے فرمایا: خدا میرے والد ماجد پر رحمت نازل فرمائے میرے والد کے اصحاب ان کی بارگاہ میں آتے تھے تو وہ ان کو حق و حقیقت سے آگاہ فرماتے تھے مگر میرے پاس لوگ شک کی حالت میں آتے ہیں اس لئے میں تقیہ کی حالت میں جواب دیتا ہوں۔ (۱۱)

۵۱۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں جہر سے قرائت کی جاتی ہے اس میں قنوت ہے۔ (۱۲

۵۱۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوت نماز فجراور نماز جمعہ اور نماز وتر اور نماز مغرب میں ہے۔ (۱۳)

۵۱۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوط فقط، فجر اور جمعہ اوروتر اور مغرب کی نماز میں ہے۔ (۱۴)

۵۱۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:سوائے نماز فجر کے کسی نماز میں قنوت نہ پڑھو۔ (۱۵)

۵۱۴۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: قنوت نماز صبح، ظہر و عصر اور مغرب و عشاء میں سنت واجبہ ہے(۱۶)

میں کہوں گا کہ جن روایات میں قنوت کی عمومی یا خصوصی طور پر نفی ہوئی ہے وہ تقیہ یا قنوت پڑھنا واجب نہ ہونے یا بعض میں مستحب مؤکد نہ ہونے پر محمول ہیں۔

۶۶

حوالہ جات: ۱۔ و سائل ۴ : ۸۹۵/۱

۲۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۲

۳۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۷

۴۔ و سائل ۴ : ۸۹۸/۱۳

۵۔ و سائل ۴ : ۹۰۱/۱

۶۔ و سائل ۴ : ۹۰۲/۲

۷۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۳

۸۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۶

۹۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۹

۱۰۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۱۱

۱۱۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۱۰

۱۲۔ و سائل ۴ : ۸۹۸/۱

۱۳۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۲

۱۴۔ و سائل ۴ : ۸۹۹/۶

۱۵۔ و سائل ۴ : ۸۹۹/۷

۱۶۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۴

۶۷

دوسری فصل :

ہر نماز یہاں تک کہ نماز شفع میں بھی دوسری رکعت میں قرائت کے بعد اور رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا مستحب ہے سوائے نماز جمعہ کے اس کی پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اور دوسری رکعت میں رکوع کےبعد ہے۔

۵۱۵۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

قنوت ہر نماز میں دوسری رکعت کے اندر رکوع سے پہلے ہے۔(۱)

۵۱۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

میں کسی قنوت کو نہیں جانتا مگر اسی کوجو رکوع سے پہلے ہوتا ہے۔ (۲)

۵۱۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

قنوت رکوع سے پہلے اور قرائت کے بعد ہوتا ہے۔(۳)

۵۱۸۔ امام صادق علیہ السلام نے جمعہ کے قنوت کے متعلق فرمایا:

اگر پیش نماز ہے تو قنوت پہلی رکعت میں پڑھے۔ (۴)

۵۱۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جمعہ کا قنوت پہلی اور دوسری رکعت ( دونوں) میں ہوتا ہے۔ (۵)

۵۲۰۔ امام رضا علیہ السلام نماز شفع کی دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھتے تھے۔ (۶)

۵۲۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ نماز وتر میں قنوت، تیسری رکعت میں ہے۔ (۷)

اور یہ، نماز شفع اور وتر کو جمع کرنے کی صورت پر محمول ہے

چونکہ اس میں کوئی منافات نہیں ہے یا نماز وتر میں قنوت مستحب مؤکد ہونے پر محمول ہے۔

۵۲۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے ہوتا ہے اگر چاہو تو رکوع کے بعد پڑھو۔ (۸)

اور یہ،قنوت کی قضاء یا تقیہ یا رکوع کے بعد قنوت کے جائز ہونے پر محمول ہے۔

۵۲۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ہر قنوت رکوع سے پہلے اور قرائت کے بعد ہوتا ہے۔ (۹)

۵۲۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ نماز جمعہ میں قنوت نہیں ہے۔ (۱۰)

۶۸

حوالہ جات:

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۱

۔ و سائل ۴ : ۹۰۱/۶

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۳

۔ و سائل ۴ : ۹۰۲/۱

۔ و سائل ۴ : ۹۰۴/۱۲

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۱

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۲

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۴

۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۳

۔ و سائل ۴ : ۹۰۴/۱۰

۶۹

تیسری فصل:

قنوت میں پڑھے جانے والے ازکار اور دعائیں۔

۵۲۵۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: قنوت میں پانچ بار تسبیح( سُبحَانَ اللہِ ) آرام سے پڑھنا کافی ہے۔ (۱)

۵۲۶۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: سوائے روز جمعہ کے باقی تمام دنون میں قنوت کے اندر یہ دعا پڑھو:

" اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ لِی وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِوُلْدِی وَ أَهْلِ بَیْتِی وَ إِخْوَانِیَ الْمُؤْمِنِینَ فِیکَ الْیَقِینَ وَ الْعَفْوَ وَ الْمُعَافَاةَ وَ الرَّحْمَةَ وَ الْمَغْفِرَةَ وَ الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَةِ" (۲)

۵۲۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوت میں تین بار تسبیح پڑھنا کافی ہے۔ (۳)

۵۲۸۔ قنوت کے بارے میں منقول ہے کہ جب کوئی سخت مجبوری ہو تو ہاتھوں کو بلند کرو اور صرف تین بار :

" بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيم "

ِپڑھ لیں۔ (۴)

۵۲۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوت میں یہ دعا پڑھنا کافی ہے

"اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَنا وَارْحَمْنَا وَعافِنا وَاعْفُ عَنَّا فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ"(۵)

۵۳۰۔ اور کلمات فرج بھی منقول ہے۔ (۶)

۵۳۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز وترمیں قنوت، استغفار اور نماز فریضہ میں قنوت، دعا ہے۔ (۷)

۵۳۲۔ امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: نماز جمعہ کے قنوت میں یہ نہ کہو

(وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ) ۔ (۸)

۷۰

حوالہ جات

۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۵/۲

۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۵/۳

۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۴

۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۱

۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۴

۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۷/۱

۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۷/۶

۷۱

چوتھی فصل : قنوت

قنوت کے اندر زبان پر جاری ہونے والی ہردعاء کا مانگنا

اور دشمن کے لئے بد دعا کرنا اور ائمہ(علیہم السلام) کو ذکر کرنا جائز ہے۔

۵۳۳۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: سات مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی دعا مقررنہیں ہے:

نماز جنازہ میں اورقنوت میں اور مقام مستجار میں اور صفا اور مروہ میں اور وقوف عرفات میں اور دو رکعت نماز طواف میں۔(۱)

۵۳۴ ۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ قنوت میں کیا دعا پڑھنی چاہئے؟

تو آپؑ نے فرمایا: جو دعا خدا تیری زبان پر جاری کردے اور میں اس سلسلے میں کوئی مقرر دعا نہیں جانتا۔ (۲)

۵۳۵۔ امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا وتر کے قنوت میں کوئی مخصوص دعا ہے؟

جواب میں آپؑ نے فرمایا: نہ، البتہ خدا کی حمد وثنا کرو رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجو اور اپنے بڑے گناہوں کے لئے مغفرت طلب کرو اس کے بعد فرمایا: ہر گناہ بڑا ہے۔ (۳)

۵۳۶۔ امام صادق علیہ السلام سے قنوت میں معین ذکر و دعا کے متعلق پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: اپنے رب کی حمد و ثنا کر و اور نبی اکر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجو اور اپنے گناہوں کے لئے مغفرت طلب کرو۔(۴)

۵۳۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز وتر ( کے قنوت) میں دشمن کے برخلاف دعا کرو اور اگر چاہو تو اس کا نام بھی لو اور اپنے لئے استغفار کرو۔ (۵)

۵۳۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کا اور ان کے باپوں کا اور ان کے قبیلوں کا نام لے کر نماز کے دعائے قنوت میں بد دعا کی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد امام علی علیہ السلام نے بھی اپنے دشمن کے خلاف ایسا کیا ہے۔ (۶)

۵۳۹۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کیا کہ کیا میں نماز میں ائمہ کا نام لوں؟ فرمایا: ہاں، مگر اجمال کے ساتھ۔ (۷)

۵۴۰۔ نماز جمعہ کے قنوت میں یہ درود

" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِمَّنْ خَلَقْتَهُ لِدِينِكَ وَ مِمَّنْ خَلَقْتَ لِجَنَّتِكَ"

منقول ہے، امام ؑ سے عرض کیا گیا کہ کیا نماز میں ائمہؑ کا نام لوں؟

تو آپؑ نے فرمایا: ہاں اجمال کے ساتھ نام لو۔ (۸)

۷۲

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۹/۵

۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۴

۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۱

۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۳/۲

۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۳/۱

۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۲

۷۳

پانچویں فصل:

نماز وتر کے قنوت میں پڑھی جانے والی دعا اور ذکر

۵۴۱۔ امیر المومنین علیہ السلام ستر بار استغفار کیا کرتے تھے اورسات بار پڑھا کرتے تھے

" هَذَا مَقَامُ العَائِذِ بِكَ مِنَ النَّارِ" ۔ (۹)

۵۴۲۔ امام زین العابدین علیہ السلام سحر کے وقت نماز وتر میں تین سو مرتبہ ( اَلعَفوَ اَلعَفوَ) کہتے تھے۔(۱۰)

۵۴۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: وتر(کے قنوت) میں خدا سے ستر بار مغفرت طلب کرو۔ (۱۱)

۵۴۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ارشاد خداوندی

( وَبِالاَسحَارِ هُم یَستَغفِرُونَ)(۱۱)

( کہ مومن وہ ہیں جو سحری کے وقت طلب مغفرت کرتے ہیں) کے متعلق فرمایا: کہ اس سے آخر شب میں وتر کے اندر ستر بار استغفار پڑھنا مراد ہے۔ (۱۲)

۵۴۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز وترمیں ستر بار استغفار کرو بائیں ہاتھ کو بلند کرواور دائیں ہاتھ سے استغفار کو شمار کرو۔ (۱۳)

۵۴۶۔ امیر المؤمنین علیہ السلام نماز میں بایاں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے کسی نے آنحضرت ؑ سے سوال کیا: اے بندہ خدا! دائیں ہاتھ سے! آپ ؑنے فرمایا: خدا کا حق جس طرح اس ہاتھ پر ہے اسی طرح اس ہاتھ پر بھی ہے۔ (۱۴)

۷۴

حوالہ جات:

۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۴

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۵

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۸

۱۲. ۔زاریات:۱۸

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۷

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۱

۷۵

چھٹی فصل: تکبیر اور قنوت

تکبیر اور قنوت میں ہاتھوں کو بلند کرنا مستحب ہونے اور بلند کی حد کے بارے میں۔

۵۴۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: قنوت میں ہاتھوں کو اپنے منہ کے بالمقابل بلند کرو اور اگر چاہو تو کپڑوں کے نیچے ہی رکھو۔ (۱)

۵۴۸۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے ڈر ہے کہ میں قنوت پڑھوں اور میرے پیچھے مخالف لوگ موجود ہوں تو میں کیا کروں؟ آپؑ نے فرمایا: صرف تمہارا ہاتھوں کو اس طرح اٹھانا جیسے کہ تم رکوع کرنا چاہتے ہو کافی ہے۔ (۲)

۵۴۹۔ قنوت کے بار ے میں منقول ہے کہ (امام ؑ نے فرمایا) جب کوئی سخت مجبوری ہو تو ہاتھوں کو بلند نہ کرو اور صرف تین بار

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

پڑھ لیں۔ (۳)

۵۵۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

نماز فریضہ میں دعا کے لئے ہاتھوں کو اتنا بلند نہ کرو کہ سر سے بھی زیادہ بلند ہو جائیں۔ (۴)

۵۵۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

نماز پنجگانہ میں اُنسٹھ (۵۹) تکبیریں ہیں ان میں سے قنوت کی پانچ تکبیریں ہیں۔ (۵)

۷۶

حوالہ جات:

۱ ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۲

۲ ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۱

۳ ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۲

۴ ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۳

۵ ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۴

۷۷

ساتویں فصل:

قنوت بھول جانے اور رکوع کو مقدم کرنے کے احكام

۵۵۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر کوئی شخص قنوت پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ رکوع میں چلا جائے تو اس کی نماز صحیح ہے اس پر کچھ بھی نہیں ہے البتہ عمدا ترک نہیں کرنا چاہئے۔ (۱)

۵۵۳۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جونماز وتر یا غیر وتر میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے،پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا: اس پر کچھ نہیں ہے پھر فرمایا: ہاں اگر رکوع کے لئے جھک رہا ہو اور گھٹنوں پر ہاتھ رکھنے سے پہلے یاد آجائے تو پھر سیدھا کھڑا ہو جائے اور قنوت پڑھ کر رکوع کرے اور اگر ہاتھ گھٹنوں پر رکھ چکا ہو تو پھر نماز کو جاری رکھے اس پر کچھ بھی نہیں ہے۔ (۲)

۵۵۴۔ امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نماز صبح کی دوسری رکعت میں پیش نماز کے ساتھ آکر شامل ہوتا ہے تو پیش نماز قنوت پڑھتا ہے کیا یہ شخص بھی اس کے ساتھ قنوت پڑھے؟ جواب میں آپؑ نے فرمایا: ہاں اور یہی قنوت اس کے لئے کافی ہے۔ (۳)

۵۵۶۔ امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو نماز فریضہ میں قنوت بھول جائے،کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب میں آپؑ نے فرمایا:اس کودوبارہ پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔(۴)

۷۸

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۳

۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۱

۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۱

۷۹

آٹھویں فصل:

بھولے ہوئے قنوت کی قضاء

۵۵۶۔ امام باقر علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جونماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول گیا اور اسے راستہ طے کرتے ہوئے یاد آیا پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا: رو بقبلہ ہو کر پڑھ لے۔ (۱)

۵۵۷۔ امام باقرعلیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو نماز میں قنوت پڑھنا بھول جاتا ہے یہاں تک کہ وہ رکوع میں چلا جاتا ہے پوچھا گیا ،جواب میں آپؑ نے فرمایا: رکوع کے بعد قنوت پڑھ لےاور اگر پھر بھی یاد نہ آئے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے (۲)

۵۵۸۔ امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے متعلق جو قنوت پڑھنا بھول گیا ہو،سوال کیا گیا توآپ ؑ نے فرمایا: نماز سے فارغ ہونے کے بعد بیٹھ کر پڑھ لے۔ (۳)

۵۵۹۔ امام صادق علیہ السلام سے کسی شخص کے بھولے ہوئے قنوت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: رکوع کے بعد پڑھ لے اور نمازختم ہونے تک یاد نہ آئے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے۔ (۴)

۵۶۰۔ امام صاق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو قنوت پڑھنا بھول گیا اور رکوع میں گیا ہو،پوچھا گیا تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: رکوع سے سر اٹھا کر قنوت پڑھے۔ (۵)

۵۶۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص قنوت پڑھنا بھول جائے وہ اس کی قضا نہ کرے۔ (۶)

یہ روایت قنوت واجب نہ ہونے پر محمول ہے۔

۵۶۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ نماز صبح اور وتر میں رکوع کے بعد قنوت کی قضا نہیں کی جا سکتی ۔ (۷)

۸۰