امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 492
ڈاؤنلوڈ: 34

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 492 / ڈاؤنلوڈ: 34
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۲

۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۳

۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۴

۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۵

۸۱

نویں فصل:

عربی زبان کے بغیرہر زبان میں قنوت پڑھنے کا حکم

چنانچہ اس باب میں اورعجمی شخص کی قرائت (کے حکم) میں گزرچکا ہے۔

۵۶۳۔امام تقی علیہ السلام نے فرمایا:

اگر آدمی نماز فریضہ میں ہر قسم کا کلام کر کے خدا سے مناجات کرنا چاہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

( و سائل ۴ : ۹۱۷/۲ )

۸۲

دسویں فصل:

قنوت میں جہر و اخفات(بلند آواز اور دہمی آواز) دونوں جائز ہیں اور سوائے ماموم کے جہری اور غیر جہری نماز میں قنوت میں جہر کرنا مستحب ہے۔

۵۶۴۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا: انسان تشہد اور رکوع اور قنوت میں جہر کر سکتا ہے؟

توآپؑ نے جواب میں فرمایا: چاہے تو جہر کرے اور چاہے تو نہ کرے۔

( و سائل ۴ : ۹۱۷/)

۵۶۵۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: سارے قنوت جہری ہوتے ہیں۔

( و سائل ۴ : ۹۱۸/)

۵۶۶۔ امام صادق علیہ السلام کے متعلق منقول ہے کہ آپؑ قرائت کے برابر قنوت میں جہر کرتے تھے۔

( و سائل ۴ : ۱۱۸/)

۸۳

گیارہویں فصل:

قنوت کو طول دینا بالخصوص وتر کے قنوت کو، مستحب ہے۔

۵۶۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دنیا میں تم میں سے جس کا قنوت سب سے زیادہ طولانی ہوگا روز قیامت حساب کے موقع پر اس کی راحت بھی سب سے زیادہ طولانی ہوگی ۔(۱)

۵۶۸۔ اس جیسی روایت وتر کے قنوت میں نقل ہو چکی ہے۔ (۲)

۵۶۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جمعہ کے دن نماز صبح میں سورہ جمعہ اور اخلاص کی تلاوت کرو اور دوسری رکعت میں اتنا ہی قنوت پڑھو جتنا پہلی رکعت میں کھڑا رہا تھا۔(۳)

۵۷۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سب سےافضل نماز وہ ہے جس کا قنوت طویل ہو۔ (۴)

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۹۱۹/۲

۲. [۱] ۔ و سائل ۴ : ۹۱۸/۱

۳. [۱] ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۴

۴. [۱] ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۳

۸۴

بارہویں فصل:

نماز فریضہ کے قنوت میں ہاتھوں کا سر اور منہ پر پھیرنا مکروہ ہے جبکہ نوافل میں ایسا کرنا مستحب ہے۔

۵۷۱۔ امام مہدی (عج اللہ تعالی فرجه الشریف) سے نماز فریضہ کے قنوت کے بارے میں سوال کیا گیا:

آیا آدمی جب دعائے قنوت سے فارغ ہوجائے تو اسے اپنے ہاتھوں کو منہ اور سینہ پر پھیرنا چاہئے؟

اس حدیث کی وجہ سے کہ جس میں وارد ہوا ہے کہ خدا کی ذات اس سے بہت اجل و ارفع ہے کہ اپنے بندوں کے ہاتھوں کو خالی واپس لوٹا ئے بلکہ وہ انہیں اپنی رحمت سے بھر دیتا ہے! یا نہیں پھیرنا چاہیے؟

کیونکہ ہمارے بعض ساتھیوں نے ذکر کیا ہے کہ یہ نماز میں (جدید) عمل ہے، امام ؑ نے جواب میں فرمایا:

نماز فریضہ کے قنوت میں ہاتھوں کا سر اور منہ پر پھیرنا جائز نہیں ہے بلکہ اس میں معمول یہ ہے کہ جب نمازگزار دعائے قنوت سے فارغ ہو تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو سینہ کے اوپر سے نہایت آہستگی کے ساتھ گھٹنوں تک نیچے لے جائے اور تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور(مذکورہ) خبر صحیح ہے مگر وہ شب و روز کے نوافل کے بارے میں ہے نہ کہ فرائض کے بارے میں لہذا نوافل میں اس پر عمل کرنا افضل ہے۔ ( و سائل ۴ : ۹۱۹/۸ )

۸۵

ساتواں فعل : دعا

۵۷۲۔ امام باقر علیہ السلام سے نماز کے واجبات کے بارے میں سوال کیا گیا

تو آپؑ نے فرمایا:

وہ وقت اور طہارت اور قبلہ اور توجہ اور رکوع اور سجود اور دعا ہیں،

آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ:

ان کے علاوہ بقیہ افعال اور اذکار کیا ہیں؟

فرمایا: فریضہ کے اندر سنت ہیں۔

( و سائل ۴ : ۸۹۸/۱۳ )

۸۶

دعا کے احکام :

اس میں بارہ فصلیں ہیں

پہلی فصل:

نماز کے اندر پڑھی جانے والی واجب دعائیں

ان کی بارہ قسمیں ہیں۔

۱۔ سورہ فاتحہ: کیونکہ یہ سورہ دعا پر مشتمل ہے اور اسے پہلی دو رکعتوں میں پڑھنا واجب عینی ہے اس کی دلیل (قرائت کے حکم میں)گزر چکی ہے۔

۲۔ آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ: کیونکہ یہاں سورہ فاتحہ ( کا پڑھنا) واجب تخییری ہے ۔ اس کی دلیل (قرائت کے حکم میں) گزر چکی ہے۔

۵۷۳۔ امام صادق علیہ السلام سے نماز ظہر کی آخری دو رکعتوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: تسبیح پڑھواور خدا کی حمد کرو اور اپنے گناہوں کے لئے خدا سے طلب مغفرت کرو اور اگر چاہو تو سورہ فاتحہ پڑھو کیونکہ اس میں حمد و دعا ہے۔ ( و سائل ۴ : ۸۹۸/۱۳ )

۳۔ دعاؤں پر مشتمل ہو: کیونکہ پہلی اور دوسری رکعتوں میں سورہ کا پڑھنا واجب تخییری ہے اسکی دلیل (قرائت کے حکم میں) گزر چکی ہے۔

۴۔ دعائے قنوت: ایک قول کے مطابق اس کی دلیل(قنوت کے حکم میں) گزر چکی ہے۔

۵۔ رکوع میں ایسی دعا کا پڑھنا جو ذکر خدا پر مشتمل ہو : کیونکہ رکوع میں ذکر، واجب تخییری ہے اس کی دلیل، ہر قسم کے ذکر کے کافی ہونے کی بحث میں آنے والی ہے۔

۶۔ اسی طرح سجود میں وہ دعا پڑھنا جو ذکر پر مشتمل ہو:

۷۔ تشہد میں محمد و آل محمد علیھم السلام پر درود پڑھنا: اس کی دلیل(درود پڑھنے کے حکم میں) آنے والی ہے۔

۸۔ جب نماز میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد کرے یا ان کا اسمِ مبارک سنے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی آل پاک پر درود پڑھنا۔ اس کی دلیل بھی آنے والی ہے۔

۹۔ ایک قول کے مطابق آخری رکعتوں میں تسبیحات اربعہ کے بعد طلب مغفرت کرنا۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۰۔ وہ دعا جو نماز میں نذر کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۱۔ وہ دعا جو نماز میں عہد کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ اس کی دلیل بھی آنے والی ہے۔

۱۲۔ وہ دعا جو نماز میں قسم کھانے کی وجہ سے واجب ہوتی ہے۔ اس کی بھی دلیل آنے والی ہے ۔

۸۷

دوسری فصل

دعا کرنے کا حکم اور دعا ترک کرنے کی ممانعت

اس کے کل بارہ احکام ہیں۔

۱۔ دعا کرنے میں تکبر کرنا حرام ہے۔

۵۷۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سے سوال کرو ورنہ وہ تم سے ناراض ہو جائے گا۔(۱)

۵۷۵۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: خدا کے نزدیک اس شخص سے بڑھ کر کوئی ناپسندیدہ نہیں ہے جو اس کی عبادت سے تکبر کرتا ہےاور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کا اس سے سوال نہیں کرتا ہے۔(۲)

۵۷۶۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم کا ارشا ہے

( إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِين ) (۳)

(جو لوگ میری عبادت کرنے میں تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کرجہنم میں داخل ہوں گے۔(۴)

۵۷۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا عبادت ہے اس کے بعد مذکورہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی۔(۵)

۵۷۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا ہی وہ عبادت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے، پھر آپؑ نے مذکورہ بالا آیت کی تلاوت فرمائی۔(۶)

۵۷۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص خدا کے فضل و کرم کا سوال نہ کرے وہ فقیر و تنگدست ہو جاتا ہے۔(۷)

۸۸

۲۔ کثرت سے دعا کرنا مستحب ہے۔

۵۸۰۔ امیر المومنین علیہ السلام نےفرمایا: دعا مؤمن کی ڈھال ہے۔ جب تم زیادہ دروازہ کھٹکھٹاؤ گے تو تمہارے لئے کھول دیا جائے گا۔ (۸)

۵۸۱۔ امام باقر علیہ السلام نے خدا کے اس ارشاد

( إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ ) (۹)

کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ اوّاہ سے مرد الدّعا(بہت دعا کرنے والا) ہے۔ (۱۰)

۵۸۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا، حتمی اور اٹل ہونے والی قضاء کو بھی ٹال دیتی ہے لہذا کثرت سے دعا کرو کہ یہ ہر رحمت کی چابی ہے اور ہر حاجت کی کامیابی( کاضامن) ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے اسے دعا کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا اور جس دروازے کو زیادہ سے زیادہ کھٹکھٹایا جائے گا آخرکار کھول ہی دیا جاتا ہے۔ (۱۱)

۵۸۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ سب لوگوں سے بڑھ کر عاجز وہ شخص ہے جو دعا کرنے سے عاجز اور سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل کرے۔(۱۲)

۵۸۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کو دعا کرنے کی توفیق دی جائے وہ قبولیت سے محروم نہیں ہوتا۔(۱۳)

۵۸۵۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو بھی مؤمن خدا سے دعا کرتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے یا تو وہ دنیا میں ہی جلدی قبول کر لی جاتی ہے یا اس کے لئے ذخیرہ آخرت بنا دی جاتی ہے اور پھردعا کی مقدار میں اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں بشرطیکہ یہ دعا کسی گناہ سے متعلق نہ ہو۔(۱۴)

۳۔ دوسری مستحب عبادات پر دعا کو ترجیح دینا مستحب ہے۔

۵۸۶۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: افضل ترین عبادت دعا ہے۔ (۱۵)

۵۸۷۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو کچھ خدا کے پاس ہے اس کا سوال کرنے اور مانگنے سے بڑھ کرخدا کے نزدیک کوئی چیزافضل نہیں ہے۔ (۱۶)

۵۸۸۔ امام باقرعلیہ السلام سے پوچھا گیا کہ قرآن زیادہ پڑھنا افضل ہے یا دعا زیادہ کرنا؟آپ ؑنے جواب میں فرمایا: دعا کرنا افضل ہے پھر آپ ؑ نے یہ آیت پڑھی

( مَا یَعبَؤُ بِکُم رَبِّي لَولَا دُعاءُکُم ) (۱۷)

(اگر تمہاری پکار اور دعا نہ ہوتو میرا پروردگار تمہاری کوئی پرواہ ہی نہ کرے)۔ (۱۸)

۵۸۹۔ امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: زمین کے اندر خدا کی نظر میں محبوب ترین عمل، دعا کرنا ہے اور افضل ترین عبادت عفت و پاکدامنی ہے۔ (۱۹)

۵۹۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم پر دعا کرنا لازم ہے کیونکہ تم اس جیسی کسی اور چیز سے ( خدا کا) قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ (۲۰)

۵۹۱۔ امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: تم پر دعا کرنا لازم ہے کیونکہ مسلمان اپنے پروردگار سے حاجات پوری کرانے میں دعا کرنے اور اس کی بارگاہ میں رغبت کرنے اور تضرع و زاری کرنے سے بڑھ کر کامیاب ہونے کے کسی اور طریقہ کو نہیں پہچانتے ۔ پس تم اس چیز(دعا) میں رغبت کرو جس کی خدا نے تمہیں رغبت دلائی ہے۔(۲۱)

۴۔ چھوٹی سی بھی حاجت کے لئے دعا کرنا مستحب ہے اور اسے معمولی سمجھ کر دعا کو نظر انداز کرنا مکروہ ہے۔

۵۹۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے ایک چیز کوخود کے لئے پسند کیا ہے مگر اسے اپنی مخلوق کے لئے ناپسند کیا ہے اپنی مخلوق سے سوال کرنے کو ناپسند کیا ہے لیکن خود سے سوال کرنے کو پسند کیا لہذا خدا کی نگاہ میں اس سے بڑھ کر کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اس لئے تم میں سے کسی شخص کو خدا سے کسی چیز کے طلب کرنے میں شرم و حیاء نہیں کرنی چاہئے اگرچہ وہ جوتے کا تسمہ ہی کیوں نہ ہو۔(۲۲)

۵۹۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم پر دعا کرنا لازم ہے کیونکہ اس سے بہتر کسی اور چیز سے خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتے اور کسی چھوٹے کام کے لئے اس کے چھوٹے پن کی وجہ سے دعا کرنا ترک نہ کرو کیونکہ چھوٹے کام والوں کو ہی بڑے کام درپیش آتے ہیں۔ (۲۳)

۵۹۴۔ حدیث قدسی میں ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: اے موسی! تجھے جس چیز کی ضرورت ہے وہ مجھ سے مانگ اگرچہ وہ بکری کا چارہ اور آٹے کا نمک ہی کیوں نہ ہو۔ (۲۴)

۵۔ حاجت کا نام لینا مستحب ہے اگرچہ نماز فریضہ کے اندر ہی ہو اس طرح بڑی بڑی حاجات کا خدا سے طلب کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے اور سجود کے حکم میں بھی آئیگی۔

۵۹۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بندہ دعا کرتا ہے تو خدا اس کی مراد جانتا ہے مگر وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی بارگاہ میں حاجات کو پھیلا کر پیش کی جائیں لہذا جب دعا کرو تو اپنی حاجت کا نام لو۔(۲۵)

۵۹۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم پر دعا کرنا لازم ہے اور خوب جدو جہد کرو اور جو چیز بھی خدا سے طلب کرنا ہو بلا جھجک طلب کرو اور یہ نہ کہو کہ یہ چیز تو مجھے عطا نہیں کی جائے گی، دعا کرو کیونکہ خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ (۲۶)

۸۹

۶۔ قضا و قدر پر بھروسہ کر کے دعا نہ مانگنا مکروہ ہے۔

۵۹۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سے دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ معاملات( طے ہو چکے ہیں اور ان) سے فراغت حاصل ہو چکی ہے، کیونکہ خدا کے نزدیک کچھ ایسی منزلیں ہیں جو سوال کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں۔(۲۷)

۵۹۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ خدا معاملات طے کر چکا ہے۔ (۲۸)

۷۔ مقرر شدہ بلاء اور مصیبت کے ٹالنے کی دعا کرنا اور بُری قضاء کو بدلنے کی دعا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب ہے ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے ۔

۵۹۹۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: دعا اس بلاء کو دفع کر دیتی ہے جو محکم ہو چکی ہے۔ (۲۹)

۶۰۰۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی اس بلاء کو ٹالتا ہے جو آسمان سے نازل ہو چکی ہوتی ہے اور اس کو بھی ٹالتا ہے جو ابھی نازل نہیں ہوئی ہے۔(۳۰)

۶۰۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:دعا قضاء کو رد کر دیتی ہے اور اسے اس طرح کھولتی ہے جس طرح دھاگہ کھولا جاتا ہے جس کی گرہیں مضبوط ہوں۔(۳۱)

۸۔ جب بلاء نازل ہونے کا خوف و اندیشہ ہو تو دعا کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۰۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعاء مومن کا ہتھیاراور دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نورہے۔(۳۲)

۶۰۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ ہتھیار نہ بتاؤں جو تمہیں دشمنوں سے بچا لے اور تمہاری روزیوں کو گشادہ کرے؟

تو لوگوں نے عرض کیا: ہاں، ضرور؛ آپؑ نے فرمایا: رات دن خدا کو پکارو کیونکہ مومن کا اسلحہ دعا ہے۔(۳۳)

۶۰۴۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: دعا مومن کی ڈھال ہے۔(۳۴)

۶۰۵۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: جب گھبراہٹ بڑھ جائے تو خدا کی ذات ہی پناہ گاہ اور گھبراہٹ کے ازالے کا مرکز ہے۔(۳۵)

۶۰۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا لوہے کے نیزے سے بھی زیادہ نافذ ہونے والی ہے۔ (۳۶)

۶۰۷۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے لئے انبیاء کے اسلحہ سے لیس ہونا ضروری ہے آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ انبیاء کا اسلحہ کیا ہے؟ تو آپ ؑنےفرمایا: دعاء ! ۔(۳۷)

۹۔ آسائش کے وقت اور بلاء نازل ہونے سے پہلے دعا کرنا مستحب ہے اور اس کا مؤخر کرنا مکروہ ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۰۸۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: آرام و آسائش میں خدا سے جان پہچان رکھ وہ شدت و سختی میں تجھ سے جان پہچان رکھے گا۔ جب سوال کرنا ہو تو خدا سے کرو اور جب مدد مانگنی ہو تو خدا سے مانگو۔(۳۸)

٦٠٩۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص پہلے دعا کرے تو اس وقت قبول ہوتی جب بلاء کے نازل ہونے کا وقت آئے گا اور( اس سے دعا کرتے وقت) کہا جائے گا کہ یہ تو جانی پہنچانی ہوئی آواز ہے اس لئے اسے آسمان تک پہنچنے سے نہیں روکا جائے گا اور جو شخص پہلے سے دعا نہیں کرے گا جب اس پر بلاء نازل ہوجائے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوگی اور ملائکہ کہیں گے: اس آواز کو ہم نہیں پہچانتے ہیں۔(۳۹)

٦١٠۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: آرام و آسائش کے وقت دعا کرنا بلاء اورمصیبت کے وقت حاجت بر آوری کا سبب ہوتی ہے۔(۴۰)

٦١١۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: بلا و مصیبت نازل ہونے کے بعد دعا سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔(۴۱)

٦١٢۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: وہ شخص جو کسی سخت ترین بلاء ومصیبت میں گرفتار ہو وہ دعا کرنے کا اس شخص سے زیادہ مستحق نہیں ہے جوابھی عافیت میں ہے مگر بلاء و مصیبت میں گرفتار ہونے سے محفوظ نہیں ہے۔ (۴۲)

۱۰ ۔ بلاء و مصیبت کے نزول اور پریشانی کے وقت دعا کرنامستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

٦١٣۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ بلا و مصیبت کس طرح طول پکڑتی ہے اور کس طرح مختصر ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں، آپ ؑنے فرمایا: جب کسی پر کوئی بلاء نازل ہو اور اسے دعا کرنے کا الہام ہوجائے تو سمجھ لو اسکی بلاء کی مدت مختصر ہے۔(۴۳)

٦١٤۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی موجودگی میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی:مصائب کے وقت دعاء اور گناہ کے وقت استغفار اور نعمت کے وقت شکر۔ (۴۴)

٦١٥۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: جب کسی بندہ مومن پر کوئی بلاء نازل ہو اور خدا اسے دعا کرنے کا الہام کرے تو وہ بلاء جلد دور ہوجاتی ہے اور جب کسی بندہ مومن پر کوئی بلاء نازل ہو اور وہ دعا نہ کرے تو وہ مصیبت طول پکڑ جاتی ہے۔ پس جب کوئی بلاء نازل ہو تو تم پر دعا و پکار کرنا اور خدا کی بارگاہ میں تضرع و زاری کرنا لازم ہے۔ (۴۵)

۱۱۔ بیماری کے وقت دعا کرنا مستحب ہے۔ اسکی دلیل گزر چکی ہے۔

٦١٦۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تم پر دعا کرنا لازم ہےکیونکہ یہ ہر مرض کی دواء ہے۔(۴۶)

۱۲۔ حصول رزق کیلئے دعا کرنا مستحب ہے۔ اسکی دلیل آنے والی ہے۔

۹۰

حوالہ جات: ۔

۱. و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۸

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۳

۳. ۔غافر:۶۰

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۳/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۳/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۴

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۶

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۵/۳ و۴

۹. ۔توبہ:۱۱۴

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۵/۱

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۷

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۱۰

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۱۳

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۹

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۱

۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۲

۱۷. ۔فرقان:۷۷

۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۶

۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۴

۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۳

۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۵

۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۰/۲

۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۱

۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۰/۳

۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۱

۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۳

۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۱

۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۲/۲

۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۲

۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۸

۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۴ و۳

۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۳

۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۵/۵

۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۵/۷

۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۴

۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۲

۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۶

۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱۳

۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۱

۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۲

۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۶

۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱۲

۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۲

۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۳

۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱

۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۱

۹۱

تیسری فصل: دعا کے آداب

دعا کے آداب بہت ہیں ان میں سے بارہ کوذکر کرتے ہیں۔

۱۔ دعا کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا مستحب ہے۔

٦١٧۔ امام صادق علیہ السلام نے خدا کے اس فرمان

( فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ) (۱)

کے بارے میں فرمایا: تضرع سے مراد دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا ہے۔ (۲)

٦١٨۔ ایک زندیق نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہاتھوں کے آسمان کی طرف بلند کرنے اور زمین کی طرف نیچا کرنے میں کیا فرق ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: جہاں تک خدا کے علم یا اس کے علمی احاطہ و قدرت کا تعلق ہے اس لحاظ سے تو ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن خدا نے اپنے بندوں اور دوستوں کو آسمان اور عرش کی طرف ہاتھ بلند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اسنے عرش کو رزق کا معدن و منبع قرار دیا ہے(۳)

٦١٩۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے بندوں کو کئی قسم کی عبادت میں چون وچرا کے بغیراس کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے لہذا دعا اورطلب اور تضرّع وزاری کرتے وقت چون وچرا کے بغیرہاتھوں کو پھیلانے اور آسمان کی طرف بلند کرنے کا حکم دیا ہے۔ (۴)

۲۔ دعا کرنے والے کے لیے مختلف قسم کی دعاء کرتےوقت ہاتھوں کی مختلف کیفیت بنانا مستحب ہے۔

٦٢٠۔ امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: شوق ورغبت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاؤ اور ان کے اندرونی حصہ کو ظاہر کرواور خوف و رہبت یہ ہے کہ ہاتھوں کے پشت کو ظاہر کرو اور تضرع و زاری یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کو دائیں بائیں حرکت دو اور تبتُّل(مکمل طور پر خدا کی طرف متوجہ ہونا) یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کو آہستگی کے ساتھ کبھی بلند کرو اور کبھی پست کرو اور ابتھال(گریہ وزاری) یہ ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں سمیت آسمان کی طرف بلند کرو اور ابتھال اسوقت کیا جاتا ہے جب گریہ و بکا کےاسباب جمع ہوں (۵)

٦٢١۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شوق و رغبت یہ ہے کہ اپنی ہتھیلیوں کو آسمان کے سامنے کرو اور خوف و ہراس یہ ہے کہ ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کرو اور تبتُّل(مکمل طور پر خدا کی طرف متوجہ ہونا) یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے دعا کرو اور تضرع و زاری یہ ہے کہ اپنی انگلیوں کے ساتھ اشارہ بھی کرو اور انہیں حرکت بھی دو اور ابتھال(گریہ وزاری)یہ ہے کہ ہاتھوں کو بلند کرو اور پھیلاؤ۔ (۶)

٦٢٢۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تضرع و زاری اس طرح ہے، اسوقت اپنی انگلیوں کو دائیں بائیں گھمایا پھر فرمایا: تبتل (و انقطاع)اس طرح ہے،اس وقت انگلیوں کو کبھی اوپر کبھی نیچے کیا پھر فرمایا: ابتھال(گریہ وزاری کا اظہار) اس طرح ہے، اس وقت ہاتھوں کو اپنے منہ کے بالمقابل قبلہ کی سمت پھیلایا پھر فرمایا: جب تک آنسو جاری نہ ہواس وقت تک ابتھال نہ کرو۔(۷)

٦٢٣۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پناہ مانگنے کا اظہاریہ ہے کہ ہاتھوں کی پشت کو قبلہ کی طرف کرو جب طلب رزق کی دعا کرنا ہو تو ہتھیلیوں کو پھیلا کر آسمان کی طرف بلند کرو اور جب تتبل اورانقطاع کا اظہار کرنا ہو تو اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرو اور ابتھال(گریہ وزاری کا اظہار) یہ ہے کہ ہاتھوں کو اتنا بلند کرو کہ سر سے اونچے ہوجائیں اور تضرع وعجز کا اظہارکرنا یہ ہے کہ منہ کے سامنے انگشت شہادت کو حرکت دو اور یہی دعائے خوف ہے۔ (۸)

۶۲۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ خوشامد و چاپلوسی یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگشت ہائے شہادت کو آسمان کی طرف اٹھاؤ اور ان کو حرکت دو اور دعا کرو۔ (۹)

۶۲۵۔ دشمن کے خلاف بد دعا کے بارے میں منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنےکاندھوں پر رکھ رہے تھے پھر ان کو پھیلا کر انگشت شہادت اٹھا کر بد دعا کر رہے تھے۔ (۱۰)

۳۔ نماز فریضہ میں کی جانے والی دعا کے علاوہ جب بھی دعا سے فارغ ہو تو ہاتھوں کا منہ، سر اور سینہ پر پھیرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۲۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی بندہ، خدائے عزیز و جبار کی بارگاہ میں سوال کرنے کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے تو خدائے کریم جب تک اس میں اپنی رحمت و رافت میں سے کچھ ڈال نہیں دیتا اسے اس کو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے شرم آتی ہے لہذا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو اس وقت تک اپنے ہاتھ واپس نہ لوٹائے جب تک ان کو اپنے منہ اور سر پر نہ مل لے۔(۱۱)

دوسری روایت میں ہے کہ جب تک اپنے منہ اور سینہ پر نہ مَل لے۔

۴۔ قبولیت کے متعلق اچھی نیت اور اچھا گمان کرنا مستحب ہے۔

۶۲۷۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باران طلب کیا مگر باران نازل نہ ہوئی دوبارہ باران طلب کیا توباران نازل ہوئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: پہلی بار میں نےبغیر نیت کے دعا کی تھی، پھر دوسری مرتبہ نیت کر کے دعا کی تھی۔(۱۲)

۶۲۸۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نےفرمایا: خدا سےاسطرح دعا کیا کرو تمہیں قبول ہونےکا یقین ہو(۱۳

۶۲۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب دعا کرو تو دل و دماغ سے اس کی طرف متوجہ ہو اور یوں حسن ظن رکھو کہ بس تمہاری حاجت دروازہ پر موجود ہے۔(۱۴)

۵۔ دعا کرتے وقت حضور قلب مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۳۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا، غافل دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (۱۵)

۶۳۱۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: خدا اس دعا کو قبول نہیں کرتا جو غافل دل کے ساتھ کی جائے۔(۱۶)

اور آپؑ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی میت کے لئے دعا کرے تو اس حالت میں نہ کرے کہ اس کا دل غافل ہو بلکہ دعا کرنے میں انتھک کوشش کرے۔

۶۳۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سخت دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (۱۷)

۶۔ دعا کرنے میں جلدبازی کرنا، جلدی لوٹنا اور قبولیت میں جلدی کرنا مکروہ ہے۔

۶۳۳۔ امام صاق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی بندہ جلدبازی سے کام لیتے ہوئے اپنے کام کے سلسلے میں چلا جائے تو خدا فرماتا ہے: کیا میرا بندہ یہ نہیں جانتا کہ میں ہی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہوں؟ (۱۸)

۶۳۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی بندہ خدا سے دعا کرتا ہے تو خدا برابر اس کی حاجت برآوری میں لگا رہتا ہے جب تک وہ جلدبازی سے کام نہ لے۔ (۱۹)

۶۳۵۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن برابر خیر و خوبی کا طلبگار اور رحمت خدا کا امیدوار رہتا ہے جب تک جلدبازی کا مظاہرہ کر کے اور نا امید ہو کردعا کرنا ترک نہ کرے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: وہ کس طرح جلد بازی کرتا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: وہ کہتا ہے کہ اتنا عرصہ ہو گیا کہ میں دعا کر رہا ہوں مگر قبولیت کا اثر نظر نہیں آتا۔ (۲۰)

۷۔ مستحب دعا میں اعراب کا لحاظ رکھنا، اور اعراب کی غلطی سے اجتناب کرنا مستحب ہے۔

۷۳۶۔ روایت منقول ہے کہ وہ دعا جو غلط پڑھی جائے وہ بارگاہ خدائے عزوجل میں بلند نہیں کی جاتی۔ (۲۱)

۸۔ اجابت دعا سے نا امید ہونا حرام ہے اگرچہ بہت دیر بھی ہوجائے۔

۶۳۷۔ امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کی دعا قبول تو ہو جائے مگر پھر بھی تاخیر ہو جائے؟

آپؑ نے فرمایا: ہاں، بیس سال کی تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔(۲۲)

۶۳۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کے اس فرمان

( قَد اُجِیبَت دَّعوَتُکُمَا ) (۲۳)

اور فرعون کی گرفت کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا۔(۲۴)

۶۳۹۔ امام علی رضا علیہ ا لسلام کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا: میں اتنی اتنی مدت سے ایک حاجت کے سلسلےمیں دعا کر رہا ہوں مگر تاخیر کی وجہ سے میرے دل میں کچھ برے خیالات پیدا ہونے لگے ہیں تو آپؑ نے فرمایا: خبردار! کہیں شیطان کو اپنے اوپر مسلط نہ کرنا جو تمہیں مایوس کر دے، خداوند عالم فرماتا ہے

( لَا تَقنَطُوا مِن رَّحمَةِ اللهِ )(۲۵)

( خدا کی رحمت سے نا امید نہ ہونا)۔(۲۶)

۹۔ دعا کرنے میں الحاح و اصرار کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا اس بندہ پر رحم و کرم فرمائے جو خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے اور پھر دعا کرنے میں الحاح و اصرارکرتا ہے خواہ قبول ہو یا نہ ہو۔ (۲۷)

۶۴۱۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: بخدا کوئی بندہ دعا کرنے میں الحاح و اصرار نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس کی حاجت روا کر دیتا ہے۔ (۲۸)

۶۴۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا واند عالم نے بندوں کے لئے اس چیز کو ناپسند کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مانگنے میں الحاح واصرار کریں مگر اپنی ذات کے لئے اسے پسند کیا ہے۔(۲۹)

۶۴۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سے اپنی حاجت کا سوال کرو پھر طلب کرنے میں اصرار کرو کیونکہ خدا اپنے مومن بندوں کے اصرار کو پسند کرتا ہے۔ (۳۰)

۱۰۔ جب قبولیت دعا میں تاخیر ہو جائے بلکہ اجابت کے ہمراہ بھی دعا کا کثرت کے ساتھ تکرار کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۴۴۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: بندہ مومن خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے اور خدا اس کی قبولیت کو مؤخر کر دیتا ہے کیونکہ اسے اس کی آواز اور گریہ و زاری پسند ہوتی ہے۔(۳۱)

آپ علیہ السلام نے فرمایا: مؤمن کو چاہئے کہ آرام و آسائش کے دنوں میں اس کی دعا، شدت و سختی کے وقت کی دعا کی مانند ہو ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جب اس کا مدعا حاصل ہو جائے توسستی کا شکار جائے۔

۶۴۵۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات آدمی ایک دعا کرے اور وہ قبول بھی ہو جائے، مگر کچھ وقت کے لئے قبولیت مؤخر ہو جائے؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیوں کیا اس لئے کہ وہ دعا زیادہ کرے؟ آپؑ نے فرمایا: ہاں۔ (۳۲)

۶۴۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بندہ خدا کوئی دعا کرتا ور خدا دونوں فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میں نے اس کی دعا قبول تو کرلی ہے مگر اس کی حاجت برآوری کو روک دو کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز کو (بار بار) سنوں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ کوئی دعا کرتا ہے اور خدا فرماتا ہے کہ اس حاجت جلدی پوری کردو کیونکہ میں اس کی آواز کو ناپسند کرتا ہوں۔ (۳۳)

۱۱۔ پوشیدہ طور پر ایک دفعہ دعا کرنا خدا کے نزدیک ستر دفعہ علانیہ دعا کرنے سے افضل ہے۔

۶۴۷۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: بنده کا پوشیدہ طور پر ایک دفعہ دعا کرنا علانیہ طور پر ستر دفعہ دعا کرنے کا برابر ہے۔ (۳۴)

۶۴۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک دعا جسے تم پوشیدہ طور پر کرتے ہو وہ ان ستر دعاؤں سے افضل ہے جسے علانیہ طور پر کرتے ہو۔ (۳۵)

۶۴۹۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: نیکی کے ساتھ دعا اس قدر کافی ہے جس طرح کھانے میں (تھوڑا سا) نمک کافی ہوتا ہے، اس شخص کی مثال جو عمل کے بغیر دعا کرتا ہے اس شخص جیسی ہے جو کمان کے بغیر تیر چلاتا ہے اور خداوند عالم ایک آدمی کے نیک بن جانے سے اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو بھی نیک بنا دیتا ہے۔ (۳۶)

۶۵۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی دعا قبول ہو تو وہ اپنے کسب و کمائی کو حلال بنا دے۔(۳۷)

۶۵۱۔ امام رضا (ع) نے فرمایا: دعا سے نہ تھکنا کیونکہ اس کو خدا کی بارگاہ میں ایک مقام ومنزلت ہے اور تم پر صبراور کسب حلال اور صلہ رحمی کرنا لازم ہےاور خبردار!لوگوں کےعیب اور خرابی کوآشکار کرنے سے بچو(۳۸

۶۵۲۔ امیر المومنین (ع)نے فرمایا: اے دعا کرنے والے! جو چیز حرام اور ناروا ہو اس کا سوال نہ کرو(۳۹)

۶۵۳۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کونسی دعا بے اثر ہے؟ آپؑ نے فرمایا: ناروا کام کے لئے دعا کرنے والے کی دعا۔(۴۰)

۹۲

چوتھی فصل :

دعا کے اوقات بہت ہی زیادہ ہیں بلکہ تمام اوقات میں دعا کرنا مستحب ہے۔

ان میں سے بارہ اہم اوقات کو ذکر کرتے ہیں۔

۱۔ زوال آفتاب کا وقت۔

۶۵۴۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: پانچ اوقات میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں: بارش برستے وقت اورجہاد کرتے وقت اور قرآن پڑھتے وقت اور زوال آفتاب اور طلوع فجر کے وقت۔(۴۱)

۶۵۵۔ امام زین العابدین علیہ السلام کا وطیرہ یہ تھا کہ جب انہیں خدا سے کوئی حاجت طلب کرنا ہوتی تھی تو وہ زوال آفتاب کے وقت طلب کرتے تھے۔ (۴۲)

۶۵۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چاراوقات میں دعا مانگا کرو:

۱۔ ہواوں کے چلنے کے وقت ۲۔ زوال آفتاب کے وقت ۳۔ بارش برستے وقت ۴۔ مقتول مومن کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے وقت کیونکہ ان اوقات میں آسمان کےدروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (۴۳)

۶۵۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب زوال آفتاب ہو جائے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور خدا اپنی مخلوق پر نگاہ کرتا ہے اور میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اس میں میرا کوئی عمل صالح آسمان کی طرف بلند کیا جائے۔ (۴۴)

۶۵۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب زوال آفتاب ہو جائے تو آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور بڑی بڑی حاجتیں بر لائی جاتی ہیں، آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: کب سے کب تک ؟

آپ ؑنے جواب میں فرمایا: آرام و سکون سے چار رکعت پڑھنے کی مقدار تک۔(۴۵)

۲۔ سحر کا وقت۔

۶۵۹۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کواپنے پرورد گار سے کوئی حاجت ہو تو وہ ان تین ساعتوں میں طلب کرے:

۱۔ جمعہ کے دن زوال آفتاب کی ساعت میں جب ہوائیں چلتی ہیں۔

۲۔ آخر شب میں طلوع فجرکے نزدیک والی ساعت۔

۳۔ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان رزق طلب کرو۔ (۴۶)

۶۶۰۔ روايت نقل ہوئی ہے کہ بہترین وقت جس میں تم خدا سے دعا مانگتے ہو وہ سحرکا وقت ہے۔ (۴۷)

۶۶۱۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جب آخر شب کا وقت ہوتا ہے تو خدا فرماتا ہے: آیا کوئی دعا کرنے والا ہے تاکہ اس کی دعا قبول کروں؟۔(۴۸)

۶۶۲۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم اپنے مومن بندوں کی ہر دعا کو دوست رکھتا ہے پس تم پر لازم ہے کہ سحر کے وقت سے لے کر طلوع آفتاب تک دعا کرو کیونکہ یہ وہ ساعت ہے جس میں آسمان کےدروازے کھول دئیے جاتے ہیں اس میں رزق تقسیم ہوتے ہیں او ر اس میں بڑی بڑی حاجتیں بر لائی جاتی ہیں۔(۴۹)

۳۔ طلوع فجر سے طلوع آفتا ب تک کا وقت

اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔

۴۔

۶۶۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جب اس میں بندہ مومن کو نماز پڑھ کر خدا سے دعا کرنے کی توفیق ہو جائے تو اس کی تمام شب کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں، آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ رات کی کونسی گھڑی ہے؟

آپ ؑنے جواب میں فرمایا: جب نصف شب گزر جائے تو اس کے بعدکےایک تہائی حصہ تک۔(۵۰)

۶۶۴۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (امام ؑ نے اس سوال کے جواب میں فرمایا) وہ ساعت، رات کے دوسرے نصف کا پہلا چھٹا حصہ ہے۔(۵۱)

۶۶۵۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا: لوگ کہتے ہیں کہ رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں بندہ مومن جو دعا کرتا ہے وہ ضرور قبول ہو جاتی ہے؟

تو آپؑ نے فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے،آپؑ سے عرض کیا گیا کہ وہ کونسی ساعت ہے؟

آپؑ نے جواب میں فرمایا: آدھی رات سے لے کر آخری ثلث تک، آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا یہ ساعت کسی خاص رات میں ہوتی ہے یا ہر رات میں ؟

آپ ؑنے جواب میں فرمایا: ہر رات میں۔ (۵۲)

۵۔ طلوع آفتاب سے پہلے

اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۶۶۔ امام صادق علیہ السلام سے خدا کے اس فرمان

( وَظِلَالُهُم بِالغُدوِّ وَالآصَالِ)(۵۳)

کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: اس سے مراد طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے دعا کرنا ہےاور وہ قبولیت دعا کی ساعت ہے۔ (۵۴)

۶۶۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے دعا کرنا سنت واجبہ ہے اور طلوع و غروب آفتا ب کے وقت....۔(۵۵)

۶۔ غروب آفتاب سے پہلے

اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۔ رات کا وقت

۶۶۸۔ خداوند عالم نے حضرت موسی علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی :اے موسیٰ وہ شخص جھوٹ بولتا ہے جو مجھ سے محبت کا دعوی کرتا ہے لیکن جب رات کی تاریکی اسے ڈھانپ لیتی ہے تو وہ مجھ سے منہ موڑ کر سو جاتا ہے کیا کوئی دوست اپنے دوست سے خلوت میں باتیں کرنا پسند نہیں کرتا؟ اے فرزند عمران! مجھے اپنے دل سے خشوع اور ہاتھوں سے خضوع اور آنکھوں سے آنسو دو اور پھر رات کی تاریکیوں میں بلاؤ تومجھے اپنے قریب دعا قبول کرتے ہوئے پاؤ گے۔ (۵۶)

۶۶۹۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم ہر شب کو اول شب سے آخر شب تک ندا دیتا ہے: کیا کوئی بندہ مومن ہے جو طلوع فجر سے پہلے دین و دنیا کے لئے مجھ سے دعا کرے، تاکہ میں قبول کروں؟۔ (۵۷)

۸۔ شب جمعہ

اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۹۔ روز جمعہ

اس کی دلیل آنے والی ہے

۱۰۔ شب قدر

اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۱۔ ماہ مبارک رمضان

اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۲۔ روز عرفہ

اس کی دلیل آنے والی ہے جس میں بیان ہو گا کہ اس دن میں دعا کرنا روزہ رکھنے سے افضل ہے۔

۹۳

پانچویں فصل: جن حالات میں دعا کی جاتی ہے

جن حالات میں دعا کی جاتی ہے وہ بہت ہی زیادہ ہیں ان میں سے بارہ اہم حالات کو ذکر کریں گے۔

۱۔ ہوائیں چلتے وقت۔

اس کی دلیل زوال آفتاب کی روایات میں گزر چکی ہے۔

۲۔ قرآن کی تلاوت کرتے وقت۔

خصوصا سو آیات کی تلاوت کے بعد اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۷۰۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: چار مقامات پر دعا کرنے کو غنیمت سمجھو :

۱۔ قرآن پڑھتے وقت ۲۔ اذان پڑھتے وقت ۳۔ بارش برستے وقت ۴۔ شہاد ت کی خاطر دو صفوں میں مڈبھیڑ کے وقت۔ (۵۸)

۶۷۱۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص جہاں سے چاہے قرآن کی سوآیتیں پڑھے اور اس کے بعد سات مرتبہ کہے:(یَاأَللہُ) اس کے بعد اگر پتھر کے لئے بھی دعا کرے گا تو وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیگا۔ ان شاء اللہ۔ (۵۹)

۶۷۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تین اوقات ایسے ہیں جن میں دعا کو خدائے عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں (شرف قبولیت تک)پہنچنے سے نہیں روکی جاسکتی :

۱۔ نماز فریضہ کے بعد ۲۔ بارش برستے وقت ۳۔ خدا کی مخلوقات میں (زمین پر) اس ذات کی نشانی کا کوئی معجزہ ظاہر ہوتے وقت۔ (۶۰)

۳۔ بارش برستے وقت، اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴۔ دوصفوں میں مڈبھیڑ اور شہید قتل ہوتے وقت، اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۵۔ آذان کے وقت، اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۔ خدا کی نشانیوں کا ظہور ہوتے وقت،اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۔ نماز کے بعد اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۸۔ دل میں رقّت، اخلاص اور خوف خدا کی کیفیت طاری ہوتے وقت۔

۶۷۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے دل میں رقت پیدا ہو تو دعا کرو کیونکہ کسی دل میں اس وقت تک رقت پیدانہیں ہوتی ہے جب تک اس میں اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔(۶۱)

۶۷۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب جسم کانپنے لگے، آنکھیں اشکبار ہو جائیں اور دل میں خوفِ خدا طاری ہو جائے تو جان لو تیرے ہدف و مقصد حاصل ہونے کا وقت آ چکاہے۔(۶۲)

۶۷۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سخت دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔(۶۳)

۶۷۶۔امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: اخلاص کے ذریعہ سے (مشکلات)سے نجات ملتی ہے جب بھی گھبراہٹ بڑھ جائے تو جائے پناہ خدا ہے۔ (۶۴)

۹۔ جب رونا آجائے یا رونے کی شکل بن جائے ۔

اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۷۷۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا: میں دعا کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ روؤں مگر مجھ سے رویا نہیں جاتا ہاں البتہ بعض اوقات اپنے کسی مرے ہوئے عزیز کو یاد کرتا ہوں تو رقت پیدا ہو جاتی ہے اور رو پڑتا ہوں توکیا ایسا کرنا جائز ہے؟

آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں! بے شک اپنے عزیز کو یاد کرو اور جب ر قت پیدا ہو جائے تو گریہ کرو اور اپنے پروردگار سے دعا مانگو۔ (۶۵)

۶۷۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل بناؤ۔ (۶۶)

۶۷۹۔ کسی نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں زبردستی رونے کی کوشش کرتا ہوں مگر گریہ نہیں آتا ہے، تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: کوشش کرو اگرچہ مکھی کے سر کے برابر آنسو آجائے۔ (۶۷)

۶۸۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنی حاجت کو خدا سے طلب کرو اور رونے کی کوشش کرو اگرچہ مکھی کے سر کے برابر (آنسو آجائے)۔ (۶۸)

-۶۸۱ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی چالیس آدمی اکٹھے ہوکر کسی معاملے میں دعا کریں تو خدا ان کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے اگر چالیس آدمی اکٹھے نہ ہو سکیں توپھر چار اکٹھے ہوکردس دس مرتبہ دعا کریں تو خدا ان کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے اور اگر چار بھی میسر نہ ہوں تو ایک ہی شخص چالیس مرتبہ دعا کرے تو خدا اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔(۶۹)

-۶۸۲ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی چار آدمی اکٹھے ہوکر کسی معاملے میں خدا سے دعا کریں توجب وہ ایک دوسرے سے جدا ہونگے تو ان کی دعا قبول ہوچکی ہوگی۔(۷۰)

۹۴

حوالہ جات:

۱. مومنون:۷۶

۲. یونس:۸۹

۳. زمر:۵۳

۴. رعد:۱۵

۵. و سائل ۴ : ۱۱۰۰/۲

۶. و سائل ۴ : ۱۱۰۰/۵

۷. و سائل ۴ : ۱۱۰۱/۱

۸. و سائل ۴ : ۱۱۰۱/۶

۹. و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۲

۱۰. و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۴

۱۱. و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۵

۱۲. و سائل ۴ : ۱۱۰۳/۷

۱۳. و سائل ۴ : ۱۱۰۳/۸

۱۴. و سائل ۴ : ۱۱۰۴/۱

۱۵. و سائل ۴ : ۱۱۰۴/۱ و۲

۱۶. و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۱

۱۷. و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۲

۱۸. و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۴

۱۹. و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۱

۲۰. و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۲

۲۱. و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۳

۲۲. و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۴

۲۳. و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۱

۲۴. و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۱

۲۵. و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۳

۲۶. و سائل ۴ : ۱۱۰۸/۲

۲۷. و سائل ۴ : ۱۱۰۸/۴

۲۸. و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۱

۲۹. و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۲

۳۰. و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۴

۳۱. و سائل ۴ : ۱۱۱۰/۸

۳۲. و سائل ۴ : ۱۱۱۱/۱

۳۳. و سائل ۴ : ۱۱۱۱/۲

۳۴. و سائل ۴ : ۱۱۱۲/۳

۳۵. و سائل ۴ : ۱۱۱۳/۱

۳۶. و سائل ۴ : ۱۱۱۳/۲

۳۷. و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۱

۳۸. و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۲

۳۹. و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۳

۴۰. و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۴

۴۱. و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۶

۴۲. و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۷

۴۳. و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۸

۴۴. و سائل ۴ : ۱۱۱۶/۱

۴۵. و سائل ۴ : ۱۱۱۶/۹

۴۶. و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۱

۴۷. و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۲

۴۸. و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۳

۴۹. و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۱

۵۰. و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۲

۵۱. و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۳

۵۲. و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۴

۵۳. و سائل ۴ : ۱۱۱۹/۱

۵۴. و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۱

۵۵. و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۲

۵۶. و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۴

۵۷. و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۱

۵۸. و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۴

۵۹. و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۶

۶۰. و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۲

۶۱. و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۳

۶۲. و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۴

۶۳. و سائل ۴ : ۱۱۲۴/۲

۶۴. و سائل ۴ : ۱۱۲۵/۴

۶۵. و سائل ۴ : ۱۱۲۸/۹

۶۶. و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۱

۶۷. و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۲

۶۸. و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۱۰

۶۹. و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۳

۷۰. و سائل ۴ : ۱۱۴۳/۱

۹۵

چھٹی فصل: دعا کرنے کے مقامات

ان میں سے بارہ مقامات کو ذکر کریں گے۔

ان میں سے بعض مقامات کی دلیل و سند گزر چکی ہے

اور باقی مقامات کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۔کعبہ شریف میں

۲۔ مسجد الحرام

۳۔مسجد نبوی میں

۴۔مسجد کوفہ میں

۵۔ امام حسین علیہ السلام کی قبر شریف پرسر مقدس کے نزدیک

۶۔امیر المومنین علیہ السلام کی قبر شریف کے نزدیک

۷۔ حضرت امام رضا علیہ السلام کی قبر شریف کے نزدیک

۸۔بقیہ معصومین علیہ السلام کی قبور شریفہ کے نزدیک

۹۔ مقام عرفہ میں

۱۰۔ مقام مشعر الحرام میں

۱۱۔ والدین کی قبر کے نزدیک

۱۲۔تمام مساجد میں

۶۸۳۔ امام صادق علیہ السلام جب کوئی حاجت طلب کرتے تو زوال آفتاب کے وقت کرتے تھے اور جب طلب کرنے کا ارادہ کرتے تو پہلے کچھ صدقہ دیتے یا کچھ خوشبو سونگھتے پھر مسجد کی طرف تشریف لے جاتے تھے پھر جو چاہتے تھے خدا سے طلب کرتے تھے۔

( و سائل ۴ : ۱۱۴۳/۱)

۹۶

ساتویں فصل:

وہ امورجنہیں دعا کرنے سے پہلے یا دعا کرنے کے بعد انجام دینا مستحب ہے ۔

اس میں کل بارہ احادیث ہیں، جبکہ صدقہ دینے اور خوشبو سونگھنے وغیرہ کے متعلق (احادیث مقدمات نماز) گزر چکی ہیں۔

۶۸۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خبردار! جب تم میں سے کوئی شخص خدا سے دنیا و آخرت کی کسی چیز کا سوال کرنا چاہے تو اس وقت تک نہ کرے جب تک پہلے خدا کی حمد و ثناء نہ کر لے اور محمد و آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود نہ پڑھ لے، پھر اپنی حاجات کا سوال کرے۔ (۱)

۶۸۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم خدا سے حاجت طلب کرنا چاہو تو خدائے عزیز و جبار کی تعریف کرو اوراس کی حمد وثناء کرو اور خدا کے اسماء مبارکہ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرو کیونکہ خدا کے بہت سے اسماء ہیں۔ (۲)

۶۸۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امیر المومنین علیہ السلام کی کتاب ( صحیفہ) میں ہے کہ خدا کی حمد و ثناء دعا سے پہلے کی جاتی ہے پس جب تم خدا سے دعا کرو تو اس کی تعریف کرو، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کس طرح خدا کی تعریف کروں؟

تو آپؑ نے فرمایا: کہو

"يا مَنْ هُوَ أقْرَبُ إلَىَّ مِنْ حَبْلِ الْوَريدِ يا فَعَّالًا لِما يُريدُ يا مَنْ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ يا مَنْ هُوَ بِالْمَنْظَرِ الْأعْلى يا مَنْ هُوَ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَىْ ءٌ " (۳)

۶۸۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: (آداب دعا) وہی حمد اور ثناء کرنا ہے، پھر گناہوں کا اقرار کرنا ہے اس کے بعد خدا سے سوال کرنا ہے خدا کی قسم بندہ مومن گناہوں کے اقرار کے ذریعہ سے ہی گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔(۴)

۶۸۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب خدا سے دعا کرنا چاہو تو اس ذات کی تعریف کرو اور اس کی حمد و ثناء کرو اور اس کی تسبیح و تہلیل کرو اور رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی آلِ پاک پر درود پڑھو اس کے بعد خدا سے سوال کرو تو تیری حاجت عطا کی جائے گی۔ (۵)

۶۸۹۔ امام صادق علیہ السلام نے خدا کے اس فرمان

" اُدعُونِي اَستَجِب لَکُم "(۶)

کے متعلق فرمایا: جو شخص اس چیز میں خدا کی اطاعت کرے جس کا خدا نے حکم فرمایا ہے اس کے بعد دعا کرنے کے طریقہ سے دعا کرے تو خدا قبول فرماتا ہے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: دعا کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: پہلے خداوند عالم کی حمد کرو اور اس کی ان نعمتوں کوجوتمہارے پاس ہیں، یاد کرو اس کے بعد اس کا شکر ادا کرو پھر رسول خدا اور ان کی آل پاک پر درود پڑھو اس کے بعد اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان کا اقرار بھی کرو اس کے بعد خدا سے مغفرت طلب کرو یہ دعا کرنے کا طریقہ ہے۔ (۷)

۶۹۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص دس مرتبہ(یَا اَللہُ) کہے اس سے کہا جاتا ہے:(لبیک تیری کیا حاجت ہے؟) (۸)

۶۹۱۔ اس جیسی حدیث اس شخص کے بارے میں جو دس مرتبہ کہے: (یَارَبِّ) اور اس شخص کے بارے میں بھی جوکہے:

"یَا رَبِّ یَا اَللهُ"

یہاں تک کہ سانس قطع ہو جائے اور اس شخص کے بارے میں بھی جو سجدے کی حالت میں تین مرتبہ کہے:

"یَااَللهُ یَا رَبَّاهُ یَا سَیِّدَاهُ"،

نقل ہوئی ہے (۹)

۶۹۲ ۔ اور اس شخص کے بارے میں بھی جوکہے: " یَارَبِّ " (یا رب) یہاں تک کہ سانس قطع ہو جائے اور اس شخص کے بارے میں بھی جودس مرتبہ کہے: " یَارَبِّ "(یا رب) (۱۰)

۶۹۳۔ اور اس شخص کے بارے میں بھی جو دس مرتبہ کہے:" یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہ " اور اس شخص کے بارے میں جو دس دفعہ کہے

"یَا سَیِّدَاهُ یَا سَیِّدَاهُ" ۔ (۱۱)

۶۹۴۔ اوراس شخص کے بارے میں بھی جو سات مرتبہ کہے:

"یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ" ۔ (۱۲)

۶۹۵۔ اور اس شخص کے بارے میں بھی جو تین مرتبہ کہے: " أَي رَبِّ " نقل ہوئی ہے۔(۱۳)

۶۹۶۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے اپنی ذات پر لازم قرار دیا ہے کہ جو شخص سو بار اس کی تکبیر اور سو بار تسبیح اور سور بارحمد سور بار تہلیل کہے گا اور سو بار محمد و آل محمد پر درود پڑھ کر کہے گا:

"أَللَّهُمَّ زَوِّجنِي مِنَ الحُورِ العِينِ"

تو یقنا خدا اس کی حور العین سے شادی کرے گا اور ان (اذکار) کو اس کا حق مہر قرار دے گا۔(۱۴)

البتہ وہ امور کہ جن کو دعا کے بعد انجام دینا مستحب ہے ان میں سے دعا کا تکرار اور اصرار کرنا مستحب ہونے کے بارے میں گزر چکا ہے۔

۶۹۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب آدمی دعا کرے اور دعا کے بعد کہے:

"مَاشَا ٓ ءَ الله ُ لَاحَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "

تو خدا فرماتا ہے: میرا بندہ کھل کر میدان میں آگیا ہے اور کھلم کھلا میرے امر کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے لہذا اس کی حاجت برآوری کر دو۔(۱۵)

۶۹۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص دعا کرے اور اپنی دعا کو

"مَاشَا ٓ ءَ الله ُ لَاحَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ "

پر ختم کرے تو اس کی حاجت ضرور برآوردہ ہوتی ہے۔

(و سائل ۴ : ۱۱۳۴/۲)

۶۹۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود پڑھنے تک دعا حجاب میں(قبول ہونے سے رکی) رہتی ہے۔

(و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۵)

۹۷

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۶/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۶/۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۳

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۵

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۶

۶. ۔غافر:۶۰

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۸/۷

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۱

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۳ و ۴ و۵

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۰ و ۱۱

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۴

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۶

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۳/۲۳

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۳/۱

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۴/۱

آٹھویں فصل:

دعا کے اول اور وسط اور آخر میں محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود پڑھنا اور خدا کی بارگاہ میں ان ذوات مقدس علیہم السلام کو واسطہ قرار دینے کے احکام۔

۷۰۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر وہ دعا جو خدا سے کی جائے وہ اس وقت تک آسمان پر بلند ہونے سے رکی رہتی ہے جب تک محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود نہ پڑھا جائے۔(۱)

۷۰۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنی دعا کا ایک تہائی حصہ آپ کے لئے مخصوص كرديتا ہوں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:بہتر ہے، پھر اس نے عرض کیا: یا رسول خدا! میں اپنی آدھی دعا کو آپ کے لئے مخصوص کردیتا ہوں، آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: یہ اور بھی افضل ہے اس نے عرض کیا: بلکہ میں پوری دعا آپ کے لئےکر دیتا ہوں! آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو خداوند عالم تیری دنیا و دین کی تمام مرادوں میں کفایت کرے گا ایک شخص نے امام ؑ کی خدمت میں عرض کیا: وہ اپنی دعا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے کس طرح مخصوص کرتا ہے؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: وہ جب بھی خدا سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اس کی ابتداء محمد و آل محمد علیھم السلام پر درود پڑھ کے کرتا ہے۔ (۲)

۷۰۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی شخص دعا کرے مگر اس میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکرخیر نہ کرے تو وہ دعا اس کےسر پر منڈلاتی رہتی ہے پس جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر خیر کرے تو وہ دعا بلند ہوتی ہے (۳)

۷۰۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مجھے سوار کے پیالہ کی مانند نہ بناؤ کیونکہ جب سوار اپنا پیالہ بھر لیتا ہے تو پھر جب چاہتا ہے اس سے پیٹ بھر لیتا ہے بلکہ دعا کے اول اور وسط اور آخر میں مجھے قرار دو (میرا ذکر کرو)۔(۴)

۷۰۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی شخص سو بار کہے:

" یَا رَبِّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدِ وَّ آلِ مُحَمَّد"

تو اس کی سو حاجتیں پوری کی جاتی ہیں جن میں سے تیس حاجتیں دنیوی ہوتی ہیں۔ (۵)

۷۰۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو اسے چاہئے کہ وہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنے سے اس کا آغاز کرے کیونکہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود تو یقینا قبول ہوتا ہےاب یہ خدا کی شان نہیں ہے کہ وہ دعا کےبعض حصے کو تو قبول کرےاور بعض کو رد کر دے(۶)

۷۰۶۔ امام رضا علیہ السلام اپنی دعا کی ابتداء محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود پڑھنے سے کرتے تھے اور اسی روش کو نماز وغیرہ میں کثرت سے بروی کارلاتے تھے ۔ (۷)

۷۰۷۔ حدیث قدسی میں خدا کافرمان ہے: میں نے خود پر لازمی و حتمی فیصلہ کردیا ہے کہ کوئی بھی بندہ مجھ سے محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی آل پاک علیہم السلام کے حق کے واسطے سے دعا کرے تو اس کے ان گناہوں کو جو میرے اور اس کے درمیان ہوں گے، معاف کر دوں گا۔ (۸)

۷۰۸۔ امام صادق علیہ السلام خدا سے دعا کرتے وقت اکثر و بیشتر پنجتن پاک یعنی رسول خدااور امیر المومنین اور فاطمہ زہرا اور حسن و حسین علیہم السلام کے حق کا وسطہ دیتے تھے۔ (۹)

۷۰۹۔ جن کلمات کو حضرت آدم علیہ السلام نے خداوند عالم سے حاصل کی اور ان کے طفیل سے خدا نے ان کی توبہ قبول کی تھی ان کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورحضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہراء اور حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کا واسطہ دے کر توبہ کیا تو خدا نے ان کی توبہ قبول فرمائی تھی۔(۱۰)

۷۱۰۔ اسی طرح کی روایت حضرت نوح ؑ کےمتعلق جب ان کو غرق ہونے کا خوف واندیشہ ہوا اورحضرت ابراہیمؑ کے متعلق بھی انہیں آگ میں ڈالا گیا اور حضرت موسی ؑ کے متعلق جب ان کو خوف محسوس ہوا اور حضرت یعقوب ؑ کے متعلق جب انہوں نے خدا سے اپنے فرزند کو واپس لوٹانے کی خواہش کی اور حضرت عیسی ؑ کے متعلق جب یہودیوں نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور ان کے علاوہ دوسرے موقعوں کے متعلق بھی نقل ہوئی ہے۔(۱۱)

۹۸

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۵/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۴

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۶

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۷

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۸

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۸/۱۴

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۸/۱۷

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۹/۲

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۹/۱

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۰/۴

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۰/۶



۹۹

نویں فصل:

تمام زندہ اور مردہ مومنین و مومنات کے لئے دعا کرنے اور ان سے دعا کی التماس کرنے اور ان کے لئے دعا کرنے کو اپنی ذات پر مقدم کرنے کے احکام

اس میں کل بارہ احادیث ہیں۔

۷۱۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے ( مومن) بھائی کے لئے پس پشت دعا کرے اسے آسمان سے ایک فرشتہ ندا دیتا ہے کہ تمہارے لئے اس کا دوگنا ہے۔(۱)

۷۱۲۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: چار شخص ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی:

امام عادل، اور بیٹے کے لئے والد کی دعا، اور جب آدمی اپنے برادر ( مومن) کے لئے پس پشت دعا کرے، اورمظلوم (کی بد دعا)(۲)

۷۱۳۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: (مومن) بھائی کی اپنے (مومن) بھائی کے لئے کی جانے والی دعا،سب سے زیادہ جلدی شرف قبولیت کوپہنچنے والی دعا ہے۔(۳)

۷۱۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: غائب شخص کا دوسرے غائب شخص کے لئے کی جانے والی دعا سے بڑھ کر جلد قبول ہونے والی کوئی چیز(دعا) نہیں ہے۔(۴)

۷۱۵ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص اپنے برادر مومن کے لئے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرے تو اسے سب سے نچلے آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: جو کچھ تو نے اس کے لئے طلب کیا ہے اس کے ایک لاکھ گنا تیرے لئے ہے، اور دوسرے آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے دو لاکھ گنا ہے، اور تیسرے آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے تین لاکھ گنا ہے، اور چوتھے آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے چار لاکھ گنا ہے، اور پانچویں آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے پانچ لاکھ گنا ہے، چھٹے آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے چھ لاکھ گنا ہے، اور ساتویں آسمان سے ایک فرشتہ ندا کرتا ہے: تیرے لئے اس کے سات لاکھ گنا ہے پھر اسے خدا ندا دیتا ہے: تیرے لئے اس سے کئی لاکھ گنا زیادہ ہے۔(۵)

۷۱۶۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص پس پشت اپنے (مومن) بھائی کے لئے دعا کرے اسے عرش سے ندا آتی ہے تمہارے لئے اس کا ایک لاکھ گنا ہے۔(۶)

۷۱۷۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا جب دعا کرتی تھیں تو مومنین و مومنات کے لئے دعا کرتی تھیں اور اپنے لئے دعا نہیں کرتی تھیں۔ میں (امام حسن علیہ السلام )نے اس کا ماجرا پوچھا تو فرمایا:

(الجار ثم الدار)

پہلے پڑوسی پھر گھر۔(۸)

۷۱۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو جہنم میں ڈالنے کا حکم دیا جائے گا پس اسے کھینچ کر اُدھر لے جایا جا رہا ہوگا کہ مومنین و مومنات کہیں گے:

پروردگارا!

یہ شخص تو ہمارے لئے دعا کیا کرتا تھا ہمیں اس کے متعلق سفارش کرنے کا حق دیں چنانچہ ان کو یہ حق دیا جائے گا اور ان کی سفارش کی برکت سے اس کو نجات ملے گی ۔ (۸)

۷۱۹۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص زندہ یا مردہ مومنین و مومنات اور مسلمین و مسلمات ک لئے دعا کرے گا، خدا بعثت حضرت آدم علیہ السلام سے قیامت تک آنے والے ہر مومن و مومنہ کے عوض اس کے لئے نیکیاں لکھے گا۔(۹)

۷۲۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ مومن کو چاہئے کہ روزانہ پچیس مرتبہ کہے:

" أَللَّهُمَّ اغفِر لِلمُؤمِنِینَ وَ المُؤمِنَاتِ وَالمُسلِمِینَ وَ المُسلِمَاتِ" ۔ (۱۰)

- ۷۲۱ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

جو شخص پہلے چالیس مومنین کے لئے دعا کرے اس کے بعد خود کے لئے دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہو گی۔(۱۱)

۷۲٢۔ روايت نقل ہوئی ہے کہ پیش امام کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ مومنین کو چھوڑ کر خود کے لئے دعا کرے(۱۲

۱۰۰