تیسری فصل: دعا کے آداب
دعا کے آداب بہت ہیں ان میں سے بارہ کوذکر کرتے ہیں۔
۱۔ دعا کرنے کے لیے دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا مستحب ہے۔
٦١٧۔ امام صادق علیہ السلام نے خدا کے اس فرمان
( فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ ) (۱)
کے بارے میں فرمایا: تضرع سے مراد دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا ہے۔ (۲)
٦١٨۔ ایک زندیق نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ ہاتھوں کے آسمان کی طرف بلند کرنے اور زمین کی طرف نیچا کرنے میں کیا فرق ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: جہاں تک خدا کے علم یا اس کے علمی احاطہ و قدرت کا تعلق ہے اس لحاظ سے تو ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن خدا نے اپنے بندوں اور دوستوں کو آسمان اور عرش کی طرف ہاتھ بلند کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اسنے عرش کو رزق کا معدن و منبع قرار دیا ہے(۳)
٦١٩۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے بندوں کو کئی قسم کی عبادت میں چون وچرا کے بغیراس کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے لہذا دعا اورطلب اور تضرّع وزاری کرتے وقت چون وچرا کے بغیرہاتھوں کو پھیلانے اور آسمان کی طرف بلند کرنے کا حکم دیا ہے۔ (۴)
۲۔ دعا کرنے والے کے لیے مختلف قسم کی دعاء کرتےوقت ہاتھوں کی مختلف کیفیت بنانا مستحب ہے۔
٦٢٠۔ امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: شوق ورغبت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلاؤ اور ان کے اندرونی حصہ کو ظاہر کرواور خوف و رہبت یہ ہے کہ ہاتھوں کے پشت کو ظاہر کرو اور تضرع و زاری یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کو دائیں بائیں حرکت دو اور تبتُّل(مکمل طور پر خدا کی طرف متوجہ ہونا) یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کی انگشت شہادت کو آہستگی کے ساتھ کبھی بلند کرو اور کبھی پست کرو اور ابتھال(گریہ وزاری) یہ ہے کہ ہاتھوں کو کہنیوں سمیت آسمان کی طرف بلند کرو اور ابتھال اسوقت کیا جاتا ہے جب گریہ و بکا کےاسباب جمع ہوں (۵)
٦٢١۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شوق و رغبت یہ ہے کہ اپنی ہتھیلیوں کو آسمان کے سامنے کرو اور خوف و ہراس یہ ہے کہ ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کرو اور تبتُّل(مکمل طور پر خدا کی طرف متوجہ ہونا) یہ ہے کہ ایک انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے دعا کرو اور تضرع و زاری یہ ہے کہ اپنی انگلیوں کے ساتھ اشارہ بھی کرو اور انہیں حرکت بھی دو اور ابتھال(گریہ وزاری)یہ ہے کہ ہاتھوں کو بلند کرو اور پھیلاؤ۔ (۶)
٦٢٢۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: تضرع و زاری اس طرح ہے، اسوقت اپنی انگلیوں کو دائیں بائیں گھمایا پھر فرمایا: تبتل (و انقطاع)اس طرح ہے،اس وقت انگلیوں کو کبھی اوپر کبھی نیچے کیا پھر فرمایا: ابتھال(گریہ وزاری کا اظہار) اس طرح ہے، اس وقت ہاتھوں کو اپنے منہ کے بالمقابل قبلہ کی سمت پھیلایا پھر فرمایا: جب تک آنسو جاری نہ ہواس وقت تک ابتھال نہ کرو۔(۷)
٦٢٣۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: پناہ مانگنے کا اظہاریہ ہے کہ ہاتھوں کی پشت کو قبلہ کی طرف کرو جب طلب رزق کی دعا کرنا ہو تو ہتھیلیوں کو پھیلا کر آسمان کی طرف بلند کرو اور جب تتبل اورانقطاع کا اظہار کرنا ہو تو اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کرو اور ابتھال(گریہ وزاری کا اظہار) یہ ہے کہ ہاتھوں کو اتنا بلند کرو کہ سر سے اونچے ہوجائیں اور تضرع وعجز کا اظہارکرنا یہ ہے کہ منہ کے سامنے انگشت شہادت کو حرکت دو اور یہی دعائے خوف ہے۔ (۸)
۶۲۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ خوشامد و چاپلوسی یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگشت ہائے شہادت کو آسمان کی طرف اٹھاؤ اور ان کو حرکت دو اور دعا کرو۔ (۹)
۶۲۵۔ دشمن کے خلاف بد دعا کے بارے میں منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنےکاندھوں پر رکھ رہے تھے پھر ان کو پھیلا کر انگشت شہادت اٹھا کر بد دعا کر رہے تھے۔ (۱۰)
۳۔ نماز فریضہ میں کی جانے والی دعا کے علاوہ جب بھی دعا سے فارغ ہو تو ہاتھوں کا منہ، سر اور سینہ پر پھیرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۶۲۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی بندہ، خدائے عزیز و جبار کی بارگاہ میں سوال کرنے کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے تو خدائے کریم جب تک اس میں اپنی رحمت و رافت میں سے کچھ ڈال نہیں دیتا اسے اس کو خالی ہاتھ لوٹاتے ہوئے شرم آتی ہے لہذا جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو اس وقت تک اپنے ہاتھ واپس نہ لوٹائے جب تک ان کو اپنے منہ اور سر پر نہ مل لے۔(۱۱)
دوسری روایت میں ہے کہ جب تک اپنے منہ اور سینہ پر نہ مَل لے۔
۴۔ قبولیت کے متعلق اچھی نیت اور اچھا گمان کرنا مستحب ہے۔
۶۲۷۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے باران طلب کیا مگر باران نازل نہ ہوئی دوبارہ باران طلب کیا توباران نازل ہوئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: پہلی بار میں نےبغیر نیت کے دعا کی تھی، پھر دوسری مرتبہ نیت کر کے دعا کی تھی۔(۱۲)
۶۲۸۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نےفرمایا: خدا سےاسطرح دعا کیا کرو تمہیں قبول ہونےکا یقین ہو(۱۳
۶۲۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب دعا کرو تو دل و دماغ سے اس کی طرف متوجہ ہو اور یوں حسن ظن رکھو کہ بس تمہاری حاجت دروازہ پر موجود ہے۔(۱۴)
۵۔ دعا کرتے وقت حضور قلب مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۶۳۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا، غافل دل کے ساتھ کی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (۱۵)
۶۳۱۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: خدا اس دعا کو قبول نہیں کرتا جو غافل دل کے ساتھ کی جائے۔(۱۶)
اور آپؑ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی میت کے لئے دعا کرے تو اس حالت میں نہ کرے کہ اس کا دل غافل ہو بلکہ دعا کرنے میں انتھک کوشش کرے۔
۶۳۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سخت دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔ (۱۷)
۶۔ دعا کرنے میں جلدبازی کرنا، جلدی لوٹنا اور قبولیت میں جلدی کرنا مکروہ ہے۔
۶۳۳۔ امام صاق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی بندہ جلدبازی سے کام لیتے ہوئے اپنے کام کے سلسلے میں چلا جائے تو خدا فرماتا ہے: کیا میرا بندہ یہ نہیں جانتا کہ میں ہی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہوں؟ (۱۸)
۶۳۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی بندہ خدا سے دعا کرتا ہے تو خدا برابر اس کی حاجت برآوری میں لگا رہتا ہے جب تک وہ جلدبازی سے کام نہ لے۔ (۱۹)
۶۳۵۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن برابر خیر و خوبی کا طلبگار اور رحمت خدا کا امیدوار رہتا ہے جب تک جلدبازی کا مظاہرہ کر کے اور نا امید ہو کردعا کرنا ترک نہ کرے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: وہ کس طرح جلد بازی کرتا ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: وہ کہتا ہے کہ اتنا عرصہ ہو گیا کہ میں دعا کر رہا ہوں مگر قبولیت کا اثر نظر نہیں آتا۔ (۲۰)
۷۔ مستحب دعا میں اعراب کا لحاظ رکھنا، اور اعراب کی غلطی سے اجتناب کرنا مستحب ہے۔
۷۳۶۔ روایت منقول ہے کہ وہ دعا جو غلط پڑھی جائے وہ بارگاہ خدائے عزوجل میں بلند نہیں کی جاتی۔ (۲۱)
۸۔ اجابت دعا سے نا امید ہونا حرام ہے اگرچہ بہت دیر بھی ہوجائے۔
۶۳۷۔ امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ کیا ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کی دعا قبول تو ہو جائے مگر پھر بھی تاخیر ہو جائے؟
آپؑ نے فرمایا: ہاں، بیس سال کی تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔(۲۲)
۶۳۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کے اس فرمان
( قَد اُجِیبَت دَّعوَتُکُمَا ) (۲۳)
اور فرعون کی گرفت کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ تھا۔(۲۴)
۶۳۹۔ امام علی رضا علیہ ا لسلام کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا: میں اتنی اتنی مدت سے ایک حاجت کے سلسلےمیں دعا کر رہا ہوں مگر تاخیر کی وجہ سے میرے دل میں کچھ برے خیالات پیدا ہونے لگے ہیں تو آپؑ نے فرمایا: خبردار! کہیں شیطان کو اپنے اوپر مسلط نہ کرنا جو تمہیں مایوس کر دے، خداوند عالم فرماتا ہے
( لَا تَقنَطُوا مِن رَّحمَةِ اللهِ )(۲۵)
( خدا کی رحمت سے نا امید نہ ہونا)۔(۲۶)
۹۔ دعا کرنے میں الحاح و اصرار کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۶۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا اس بندہ پر رحم و کرم فرمائے جو خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے اور پھر دعا کرنے میں الحاح و اصرارکرتا ہے خواہ قبول ہو یا نہ ہو۔ (۲۷)
۶۴۱۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: بخدا کوئی بندہ دعا کرنے میں الحاح و اصرار نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس کی حاجت روا کر دیتا ہے۔ (۲۸)
۶۴۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا واند عالم نے بندوں کے لئے اس چیز کو ناپسند کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مانگنے میں الحاح واصرار کریں مگر اپنی ذات کے لئے اسے پسند کیا ہے۔(۲۹)
۶۴۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا سے اپنی حاجت کا سوال کرو پھر طلب کرنے میں اصرار کرو کیونکہ خدا اپنے مومن بندوں کے اصرار کو پسند کرتا ہے۔ (۳۰)
۱۰۔ جب قبولیت دعا میں تاخیر ہو جائے بلکہ اجابت کے ہمراہ بھی دعا کا کثرت کے ساتھ تکرار کرنا مستحب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۶۴۴۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: بندہ مومن خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے اور خدا اس کی قبولیت کو مؤخر کر دیتا ہے کیونکہ اسے اس کی آواز اور گریہ و زاری پسند ہوتی ہے۔(۳۱)
آپ علیہ السلام نے فرمایا: مؤمن کو چاہئے کہ آرام و آسائش کے دنوں میں اس کی دعا، شدت و سختی کے وقت کی دعا کی مانند ہو ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جب اس کا مدعا حاصل ہو جائے توسستی کا شکار جائے۔
۶۴۵۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات آدمی ایک دعا کرے اور وہ قبول بھی ہو جائے، مگر کچھ وقت کے لئے قبولیت مؤخر ہو جائے؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے، آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیوں کیا اس لئے کہ وہ دعا زیادہ کرے؟ آپؑ نے فرمایا: ہاں۔ (۳۲)
۶۴۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بندہ خدا کوئی دعا کرتا ور خدا دونوں فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میں نے اس کی دعا قبول تو کرلی ہے مگر اس کی حاجت برآوری کو روک دو کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ اس کی آواز کو (بار بار) سنوں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ کوئی دعا کرتا ہے اور خدا فرماتا ہے کہ اس حاجت جلدی پوری کردو کیونکہ میں اس کی آواز کو ناپسند کرتا ہوں۔ (۳۳)
۱۱۔ پوشیدہ طور پر ایک دفعہ دعا کرنا خدا کے نزدیک ستر دفعہ علانیہ دعا کرنے سے افضل ہے۔
۶۴۷۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: بنده کا پوشیدہ طور پر ایک دفعہ دعا کرنا علانیہ طور پر ستر دفعہ دعا کرنے کا برابر ہے۔ (۳۴)
۶۴۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک دعا جسے تم پوشیدہ طور پر کرتے ہو وہ ان ستر دعاؤں سے افضل ہے جسے علانیہ طور پر کرتے ہو۔ (۳۵)
۶۴۹۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: نیکی کے ساتھ دعا اس قدر کافی ہے جس طرح کھانے میں (تھوڑا سا) نمک کافی ہوتا ہے، اس شخص کی مثال جو عمل کے بغیر دعا کرتا ہے اس شخص جیسی ہے جو کمان کے بغیر تیر چلاتا ہے اور خداوند عالم ایک آدمی کے نیک بن جانے سے اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد کو بھی نیک بنا دیتا ہے۔ (۳۶)
۶۵۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی دعا قبول ہو تو وہ اپنے کسب و کمائی کو حلال بنا دے۔(۳۷)
۶۵۱۔ امام رضا (ع) نے فرمایا: دعا سے نہ تھکنا کیونکہ اس کو خدا کی بارگاہ میں ایک مقام ومنزلت ہے اور تم پر صبراور کسب حلال اور صلہ رحمی کرنا لازم ہےاور خبردار!لوگوں کےعیب اور خرابی کوآشکار کرنے سے بچو(۳۸
۶۵۲۔ امیر المومنین (ع)نے فرمایا: اے دعا کرنے والے! جو چیز حرام اور ناروا ہو اس کا سوال نہ کرو(۳۹)
۶۵۳۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کونسی دعا بے اثر ہے؟ آپؑ نے فرمایا: ناروا کام کے لئے دعا کرنے والے کی دعا۔(۴۰)