گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6049
ڈاؤنلوڈ: 76

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6049 / ڈاؤنلوڈ: 76
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

"گلشن احكام"

تالیف: محقق ارجمند سید مجتبی حسینی

مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی

۱

۲

کتاب:''رسالہ دانشجویان '' ترجمہ: " گلشن احكام"

تالیف :محقق ارجمند حجة الاسلام والمسلمین سید مجتبی حسینی

مترجم: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی

ناشر: ''ادارہ''مشاورہ وپاسخ مرکز فرہنگی ''

۳

فہرستِ مطالب

مقدمه مؤلف ۳۷

عرض مترجم ۴۱

تقلید كے احكام ۴۳

اجتهاد اور تقلید ۴۳

تقلید كب سے شروع ہوئی ۴۵

تقلیدكی ضرورت ۵۰

فتوی كا سننا ۵۲

مجتهد وں كے نظر یات میں اختلاف ۵۳

تقلید كا معیار ۵۳

مجتهد كی توضیح المسائل ۵۴

اعلم كی پهچان كا طریقه ۵۵

مجتهد كا انتخاب ۵۶

افراد و خانه( familymimbers )كامجتهد: ۵۷

بیك وقت ایك سے زیاده كی تقلید: ۵۸

مساوی اور برابرمجتهد كی طرف رجوع ۶۰

مجتهد كااحتیاط واجب ۶۲

تقلید پرباقی رہنا ۶۲

احتیاط كامطلب ۶۳

جاہل قاصر اور مقصر ۶۴

وضو كے احكام ۶۵

وضو كے دو واضح فائدے ہیں ۶۶

وضو كے شرائط ۶۷

وضوواجب ہونے كے مواقع ۶۸

وضو میں دھونا ۶۸

تین بار دھونا ۷۱

سركا مسح ۷۱

بالوں كا رنگ ۷۲

وضومیں مانع(ركاوٹ) ۷۲

آنكھوں كی پنسل( Eye pencil ) ۷۴

ناخن كے نیچے كامیل ۷۴

بال پن كی سیاھی ۷۴

كھال كی كریم( (Skin crecrm : ۷۵

بالوں كا جیل( Hair jel ): ۷۵

نامحرم كو دیكھنا ۷۵

وضواورنل ۷۷

وضومیں شك ۷۷

نماز كے بعد شك ۷۹

وضو میں سہو و نسیان ۷۹

اذان سے پهلے وضو ۸۰

وضو میں ہاتھ پھیرنا ۸۰

اعضائے وضو كا خشك ہونا ۸۰

وضو كا باقی ركھنا ۸۱

حالت وضومیں سونا ۸۱

وضو كے دوران چلنا ۸۱

وضو كے دوران كھانا ۸۱

عورتوں كا وضو ۸۱

شرمگاه سے نكلنے والا سفید پانی ۸۳

وضوئے جبیره ۸۳

خدا كے نام كو چھونا ۸۵

ایران كا آرم ۸۵

عبدالله كا نام ۸۶

الله كے نام كی تعویذ ۸۶

قرآنی تعویذ ۸۷

خدا كےنام كا عقیق ۸۷

غسل كے احكام(غسل كی اہمیت) ۹۰

غسل جنابت كے دو اہم فائدے اور فلسفے ہیں ۹۱

متعدد غسل ۹۴

شاور كے نیچے غسل ۹۴

غسل كے مبطلات ۹۴

غسل كے دوران ریاح كا خارج ہونا ۹۴

بڑے بالوں كاغسل ۹۵

غسل كے دوران سہو و نسیان ۹۶

غسل میں شك ۹۶

جنابت كے احكام ۹۹

منی كو پهچانے كا طریقه ۱۰۱

عورت كی جنابت ۱۰۳

عورتوں سے خارج ہونے والی رطوبت كی طهارت ۱۰۳

جنابت كےمحرمات ۱۰۵

جنابت كےمكروهات ۱۰۶

وضو كے بدلے غسل ۱۰۷

غسل جنابت كی نیت ۱۰۷

غسل جنابت كاوقت ۱۰۹

غسل جنابت كی مدت ۱۰۹

جان بوجھ كر محنب ہونا اور تیمم كرنا ۱۰۹

وقت نماز سے پهلے غسل كرنا ۱۱۰

منی میں شك ہونا ۱۱۰

جنابت میں شك كرنا ۱۱۰

غسل كےبعد نكلنے والی رطوبت ۱۱۱

جنابت اور نماز میں تأخیر كرنا ۱۱۱

استمناء كے احكام (استمناء كی تعریف) ۱۱۳

اپنے شہوت كی بھڑاس نكالنے كا حرم ہونا ۱۱۳

خاص حالات میں استمناء ۱۱۳

استمناء كا حرام ہونا ۱۱۳

استمناء اور لیبرٹریز ۱۱۴

استمناء كا كفاره ۱۱۴

زوجه كااستمناء ۱۱۴

شہوت كو بھڑكانے والی تصویر یں ۱۱۴

منی كا روكنا ۱۱۵

تیمم كے احكام (تیمم كی اہمیت) ۱۱۷

تیمم كے دو اہم فائدے اور فلسفے ہیں ۱۱۸

۲- اخلاقی فائده ۱۱۸

تیمم كے موارد ۱۱۹

وضو كے بدلے تیمم كرنا ۱۱۹

غسل كے بدلے تیمم ۱۱۹

تیمم كی جگه ۱۲۰

تیمم كا وقت ۱۲۰

تیمم كے ساتھ نماز ۱۲۰

قرآن اورتیمم ۱۲۱

نماز كے احكام(نماز كی اہمیت) ۱۲۳

واجب نمازیں ۱۲۶

مستحب نمازیں ۱۲۷

نمازی كے مكان ۱۲۸

نماز میں حجاب كرنا ۱۲۹

مانتو(كوٹ)كے ساتھ نماز پڑھنا ۱۲۹

پیركا چھپانا ۱۳۰

نجس لباس ۱۳۰

لباس كی نجاست كابھول جانا ۱۳۲

اخبار(نیوز پیپر)پر نماز پڑھنا ۱۳۲

فرش كی نجاست ۱۳۲

نماز كا ركوع ۱۳۴

سجده گاه پر سركا دوبارركھنا ۱۳۴

سجده میں ركاوٹ ۱۳۵

سجده گاه ۱۳۵

پیشانی پر زخم ۱۳۵

نماز میں ذكر كادہرانا ۱۳۷

تسبیحات اربعه ۱۳۷

نماز كا سلام ۱۳۷

نماز اور سونے كے زیورات ۱۳۹

خوآتین كی نماز ۱۳۹

نماز میں حركت كرنا ۱۴۱

جهازمیں نمازكا پڑھنا ۱۴۱

نمازكےنامناسب حالات ۱۴۱

نماز میں كھانا ۱۴۲

نماز كے دوران خیالوں میں كھوجانا ۱۴۴

نماز میں شك ۱۴۵

بهت شك كرنے والا(كثیر الشك) ۱۴۵

نماز احتیاط ۱۴۶

سجده سہو ۱۴۷

قضانماز ۱۴۸

باب كی قضا نماز ۱۴۹

نماز جماعت كی فضیلت ۱۵۰

نماز جماعت كی اقتدا ۱۵۰

نماز آیات ۱۵۲

اجاره كی نماز ۱۵۲

نماز شب ۱۵۴

مستحبی نماز كاسوره ۱۵۵

مستحبی نماز ۱۵۵

جمعه كی نماز ۱۵۶

نماز غفیله ۱۵۸

استاتذه اور طلاب كی نماز اور روزه كے احكام ۱۵۹

وطن اور تعلیم گاه ۱۶۴

پهلا سفر: ۱۶۶

شرعی مسافت ۱۶۸

روزه كے احكام( روز كی اہمیت) ۱۶۹

احكام روزه ۱۷۲

واجب روزے ۱۷۲

حرام روزے ۱۷۳

مكروه روزے ۱۷۴

روزه نه ركھنے والے لوگ ۱۷۴

جبڑے كا خون ۱۷۶

روزه دار اوردانتوں كا علاج ۱۷۶

روزه دار كا بلغم ۱۷۸

گاڑیوں كا دھواں ۱۷۸

غسل خانه(حمام) كی بھاپ ۱۸۰

روزه داركا عطر لگانا ۱۸۰

روزه دار كاسردھونا ۱۸۰

نامحرم كو دیكھنا ۱۸۰

روزه كی حالت میں ازدواجی تعلقات ۱۸۱

سحری اور اذان ۱۸۳

روزه دار كے بدن كی كمزوری ۱۸۵

قضاروزوں كی تعداد كا بھول جانا ۱۸۶

عورت كے روزه كاكفاره ۱۸۶

روزه كاكفاره ۱۸۸

اذان سے پهلے مجنب ہونا ۱۸۸

غسل جنابت میں تاخیر كرنا ۱۸۸

روزه دار كا مجنب ہونا ۱۸۹

غسل جنابت كابھول جانا ۱۹۰

روزه دار كا استمناكرنا ۱۹۲

ماه رمضان میں سفركرنا ۱۹۳

فطره كے احكام ۱۹۵

طلاب Students) )كافطره ۱۹۵

حكومت كانان خور ۱۹۵

منگیتر (عقد شده لڑكی)كافطره ۱۹۶

جنین كافطره ۱۹۶

والدین كوفطره دینا ۱۹۶

اولاد كو فطره دینا: ۱۹۶

اعتكاف كےاحكام(اعتكاف كی اہمیت) ۱۹۸

محرمات اعتكاف ۲۰۱

اعتكاف كی جگه ۲۰۱

یونیورسٹی میں اعتكاف ۲۰۲

اعتكاف كی نذر ۲۰۲

اعتكاف كے وقت مطالعه ۲۰۳

بغیرروزه كے اعتكاف ۲۰۳

اعتكاف كاروزه ۲۰۳

حالت اعتكاف میں فون ۲۰۳

اعتكاف كو بیج میں چھوڑدینا ۲۰۴

اعتكاف سے خارج ہونا ۲۰۴

اعتكاف اور مسجد ۲۰۴

اعتكاف میں جمعه كی نماز ۲۰۵

خمس كے احكام(خمس كی اہمیت) ۲۰۷

بیوی كی كمائی كا خمس ۲۱۰

تعلیمی وظیفه كا خمس: ۲۱۳

فكس ڈپازٹ(جمع رقم) كا خمس ۲۱۳

ہدیه كا خمس ۲۱۴

بینك میں ڈپازٹ پیسوں كا خمس ۲۱۶

مكان كے لون كا خمس ۲۱۶

عمره كے لئے دی گئی رقم كاخمس ۲۱۷

زمین كا خمس ۲۱۹

رہن(پگڑی)كاخمس ۲۱۹

ضروری سامان كا خمس ۲۲۲

شادی كے لئے جمع كی گئی رقم كا خمس ۲۲۴

گاڑی اور موبائل كا خمس ۲۲۵

قرض الحسنه كا خمس ۲۲۵

سكه(سونے كے سكه)كا خمس ۲۲۶

سونے پر خمس ۲۲۶

خمس كا مصرف ۲۲۸

خمس كا مصرف ۲۳۰

سہم سادات(سادات كا حصه) ۲۳۰

سید كی بیوی ۲۳۰

خمس كاسال ۲۳۲

خمس كا زمانه ۲۳۴

خمس كا محاسبه ۲۳۴

خمس سے فرار ۲۳۶

خمس نه نكالے گئے مال كا حكم ۲۳۸

نذر كے احكام(نذر كی اہمیت) ۲۳۹

نذر كی شرطیں ۲۴۲

نذر كا صیغه ۲۴۳

نذر كا بدلنا ۲۴۳

نذر پرعمل كرنا ۲۴۵

نذر كا زمانه(وقت) ۲۴۵

نذر میں شك ۲۴۷

نذر كو بھول جانا ۲۴۷

نذر كا كفاره ۲۴۸

فرزند كی نذر ۲۴۹

بیوی كی نذر ۲۵۱

روزه كی نذر ۲۵۳

موسیقی كے احكام ۲۵۴

موسیقی كے آثار ۲۵۴

حرام موسیقی ۲۵۹

لہوی(لہو ولعب سےتعلق ركھنے والی)موسیقی ۲۵۹

حرام موسیقی ۲۶۰

شہوت كو ابھارنے والی موسیقی ۲۶۳

موسیقی كی مجلس (نشیتیں و پارٹیاں) ۲۶۳

تشخیص موسیقی ۲۶۴

موسیقی كے اقسام كا حكم ۲۶۶

موسیقی كی كسیٹوں كی كاپی كرنا(ڈپنیگ) ۲۶۶

موسیقی كی تعلیم ۲۶۸

شادی كی رات میں گانا بجانا ۲۶۸

شادی بیاه كی مجلس ۲۷۰

شادی كا پروگرام ۲۷۱

گناه آور اور حرام میوزك ۲۷۱

دوردرشن(ٹیلی ویزن اور ریڈیو)كے آہنگ و میوزك ۲۷۳

كام اور سرویس كی جگه پربجنے والی موسیقی ۲۷۳

تالی بجانا: ۲۷۵

ائمه علیہم السلام كی ولادت كاجشن ۲۷۶

رقص كا حكم ۲۷۸

بیوی كا ناچنا ۲۷۸

رقص كو دیكھنا: ۲۸۰

عورت كی آواز كوسننا ۲۸۰

عورتوں كا مجلس پڑھنا ۲۸۲

عورتوں كا گروپ كی صورت میں پڑھنا ۲۸۲

حجاب (پرده)كے احكام ۲۸۴

حجاب كی اہمیت ۲۸۴

عورت كے حجاب كرنے كے دو مقصد اور اساسی فلسفے ہیں ۲۸۶

اوركوٹ پهننے كا حكم ۲۸۷

بچوں كے سامنے حجاب ۲۸۷

ٹھڈی كو چھپانا ۲۸۹

چہره كو چھپانا ۲۹۰

عورت كا پرفیوم لگانا ۲۹۱

عورتوں كے زیورات ۲۹۱

چہره كا حجاب ۲۹۳

نامحرم كے احكام ۲۹۵

ٹیلیفوں پر بات چیت كرنا ۲۹۵

شادی كے لئے بات چیت كرنا ۲۹۵

صنف مخالف سے Chating كرنا ۲۹۵

اینٹرنٹ پرچیٹنگ كرنا ۲۹۵

نامحرم كو سلام كرنا ۲۹۶

نامحرم سے ہنسی مذاق ۲۹۶

نامحرم كے سامنے ہنسنا ۲۹۶

نامحرم كے ساتھ تنهائی ۲۹۸

لڑكے اور لڑكی كا ایك دوسرے كے ساتھ تعاون ۲۹۹

نامحرم كے ساتھ بیٹھنا ۲۹۹

نامحرم سے ہاتھ ملانا ۲۹۹

نامحرم سے خط ونگارش ۳۰۰

نگاہ كے احکام ۳۰۲

نامحرم کو دیکھنا ۳۰۲

شریعت میں حرام نگاہیں مندرجہ ذیل ہیں: ۳۰۲

حرام نگاہیں ۳۰۳

حلال نگاہیں ۳۰۴

منگیتر کو دیکھنا ۳۰۵

بہن کی نظر سے دیکھنا ۳۰۵

لذت کی غرض سے دیکھنا ۳۰۷

آیئنہ سے دیکھنا ۳۰۷

منگنی کے لئے دیکھنا ۳۰۸

لڑکی کی تصویر دیکھنا ۳۱۰

لڑکیوں کو دیکھنا ۳۱۰

بدن کے ابھار کو دیکھنا ۳۱۰

آدمی کو دیکھنا ۳۱۲

کھلاڑیوں کو دیکھنا ۳۱۲

نابالغ لڑکی کو دیکھنا ۳۱۴

نامحرم کی ویڈیو فلم ا ور تصویر ۳۱۶

بچپن کی تصویر ۳۱۶

تائید شده فلم ۳۱۸

غیر اخلاقی فلم ۳۱۸

تحریک کرنے والی فلم ۳۲۰

انٹرنٹ پر تصویر ۳۲۰

میاں بیوی کا شہوت انگیز فلم کا دیکھنا ۳۲۲

سنسر ( Cencer ) کی غرض سے فلم دیکھنا ۳۲۲

کھیل کود کی فلم ۳۲۴

فوٹو دھلوانا ۳۲۵

ویڈیو بنوانا ۳۲۵

شادی كے احكام ۳۲۷

صیغه كے عقدكی شرطیں ۳۳۰

حرام شادیاں ۳۳۱

دوران عقد(یعنی عقد كے بعد رخصتی سے پهلے ۳۳۱

شادی كا واجب ہونا ۳۳۲

شادی میں تاخیر ۳۳۲

دولہے كی انگوٹھی ۳۳۳

زردسونا: ۳۳۳

سفید سونا: ۳۳۳

پلاٹین كا حكم: ۳۳۳

شادی كی تاریخ: ۳۳۵

منگنی( engejment ) ۳۳۵

متعه ۳۳۶

متعه كی مدت ۳۳۶

دائمی عقد: ۳۳۸

صیغه عقد كا عربی میں ہونا ۳۳۸

صیغه عقد كا غلط پڑھنا ۳۳۸

صیغه كا پڑھنا ۳۳۹

فارسی میں صیغه نكاح كا پڑھنا ۳۳۹

مجلس عقد ۳۴۰

جائز تعلقات ۳۴۲

عقد نكاح كاوكیل ۳۴۲

اجباری شادی ۳۴۲

انٹرنیٹ پر نكاح ۳۴۴

نكاح پر گواه ۳۴۴

معاطآتی شادی ۳۴۴

باپ كی اجازت ۳۴۴

عقد كے بعد اجازت ۳۴۵

متعه كی اجازت ۳۴۵

مرجع تقلید كا نظریآتی اختلاف ۳۴۵

باپ كی قلبی رضایت: ۳۴۶

لڑكی كی شادی ۳۴۶

لڑكی كی طلاق ۳۴۶

منگنی كا زمانه( Engejment peariud ) ۳۵۱

باپ كی موت ۳۵۱

عقدسے پهلے كا روابط: ۳۵۲

باپ كی مخالفت ۳۵۲

باپ كی اجازت: ۳۵۲

دوسری شادی: ۳۵۵

بدكار عورتیں: ۳۵۷

بے نمازی سے شادی كرنا: ۳۵۷

سنی سے شادی كرنا: ۳۵۹

شوہر دار عورت: ۳۶۰

مفعول كی بهن: ۳۶۱

عده كے دوران نكاح كرنا: ۳۶۳

مہر كی ادائیگی: ۳۶۴

مہر سنت: ۳۶۶

میاں بیوی کے حقوق ۳۶۷

واجب حق (مستحبی حق) ۳۶۹

ب:شوہر کا حق بیوی پر ۳۶۹

بیوی کا نفقہ ۳۷۰

اضافی خرچ ۳۷۰

زندگی کے اخراجات ۳۷۲

بیوی کا حق ۳۷۴

منگیتر کا نفقہ ۳۷۴

بیوی کے لئے گھر ۳۷۶

رہائش میں پیروی ۳۷۶

مہر کا مطالبہ ۳۷۸

پڑھائی جاری رکھنے کی شرط ۳۸۰

شوہر کی ہٹ دھرمی ۳۸۲

نکاح اور رخصتی کے درمیان شوہر کی اجازت ۳۸۲

صلہ رحم کرنے کی اجازت ۳۸۳

شوہر کی رضامندی ۳۸۳

نماز جمعہ کی اجازت ۳۸۴

لباس کا انتخاب ۳۸۴

شوہر کی اطاعت ۳۸۴

مستحبی روزہ کی اجازت ۳۸۵

شوہر کا مال ۳۸۸

بیوی کا مال ۳۸۸

ہمبستری ۳۸۹

ماہواری کے ایام ۳۸۹

پیچھے سے جماع کرنا ۳۸۹

امر بالمعروف کے احکام ۳۹۱

شرائط امر بالمعروف ۳۹۴

امر بالمعروف کہاں کرنا چاہئے ۳۹۴

امر بالمعروف کے شرائط ۳۹۵

فریضہ امر بالمعروف ۳۹۵

رشتہ داروں کو امر بالمعروف ۳۹۵

بے حجاب کو امر بالمعروف ۳۹۶

نامحرم کی طرف دیکھنا ۳۹۶

فرش کی نجاست ۳۹۹

ماں باپ کو امر بالمعروف ۴۰۱

امر بالمعروف کی تکرار ۴۰۱

کھانے والی چیزوں میں امربالمعروف ۴۰۱

غیبت کاحکم ۴۰۴

غیبت کے موارد ۴۰۴

مصلحتی جھوٹ ۴۰۶

قطع رحم ۴۰۷

صلہ رحم ۴۰۷

لباس شہرت ۴۰۹

صنف مخالف کا لباس ۴۱۲

زنانہ چپل ۴۱۳

ڈاڑھی منڈوانا ۴۱۶

نوجوان کی ڈاڑھی ۴۱۶

ڈاڑھی کا مذاق اڑانا ۴۱۶

فرنچ کٹ ڈاڑھی ۴۱۷

آلات قمار ۴۱۹

شطرنج کھیلنا ۴۱۹

شرط لگانا ۴۲۰

آلات قمار کو سنبھال کے رکھنا ۴۲۰

مجسمہ سازی ۴۲۲

مجسمہ کی خرید و فروخت ۴۲۲

کارٹون ۴۲۲

حق الناس ( مالی حقوق كی اہمیت) ۴۲۴

بچپنے كے زمانه كا حق الناس ۴۲۵

صاحب مال تك رسائی نه ہونا ۴۲۵

صاحب مال(مالك)كا مرجانا ۴۲۶

دوسروں كابیمه ( insurance ): ۴۲۶

بینك كےاحكام(اسلامی بینكنگ) ۴۲۸

فكس ڈپازٹ كافائده: ۴۲۸

قرض الحسنه ۴۲۹

بینك سے لیاگیا قرض ۴۲۹

بینك سے لیا گیا قرض ۴۳۰

رقم تاخیر سے لوٹانے كا جرمانه ۴۳۲

پیسه كی اہمیت كا كم ہونا ۴۳۴

كرنسی كی خرید و فروخت ۴۳۶

چك كی خرید وفروخت ۴۳۶

نیانوٹ ۴۳۸

مزدوری ۴۳۹

حلال ربا ۴۳۹

قرض كو سونےسے بدلنا ۴۴۰

پیسه كا فائده ۴۴۰

مضاربه اور نسیه(ادھار) ۴۴۲

پیسه كی حیثیت وقیمت ۴۴۴

اپنی خوشی سے فائده كی ادائیگی ۴۴۴

بینك كی جانب سے ملنے والے انعامات ۴۴۶

ملازموں كی عیدی ۴۴۶

دفتری( official )كاموں میں رشوت ۴۴۸

طبابت (میڈیكل)كے احكام ۴۵۰

مقدمه ۴۵۰

نامحرم ڈاكٹر: ۴۵۱

نامحرم سے معاینه(جانچ): ۴۵۱

طبی تعلیم حاصل كرنا: ۴۵۳

نامحرم نرس: ۴۵۳

طبی(میڈیكل) تعلیم كا حاصل كرنا ۴۵۶

نامحرم سے انجكشن لگوانا ۴۵۶

نامحرم ڈاكٹر ۴۵۷

بچه كاساقط كرنا ۴۶۰

بچه كو ساقط كرنے كی دیت ۴۶۰

ناجائز بچه ۴۶۱

برین ہیمبرج Brain hembredgdl : ۴۶۳

غیر مسلمان كے اعضاء ۴۶۳

گردے كی خرید وفروخت ۴۶۴

بدن كے كسی حصه كو كاٹنے كی دیت ۴۶۶

پیوند لگے عضو كی طهارت ۴۶۶

مسلمان كی میت كا پوسٹ مارٹم ۴۶۸

غیر مسلمان كا پوسٹ مارٹم ۴۶۸

بدن كا چیر نا اورپھاڑنا ۴۷۰

غیر مسلم كی لاش كا طبی معائنه ۴۷۰

لاش كا پوسٹ مارٹم ۴۷۱

خون كا بیچنا ۴۷۱

مصنوعی تلقیح(غیر فطری طریقه سے نطفه كارحم میں منتقل كرنا) ۴۷۳

اسپرم كی تلقیح(مرد كے نطفه كے انڈوں كا عورت كےرحم میں ڈالنا) ۴۷۳

اجنبی مردكا بذره(نطفه) ۴۷۳

منشیات كا استعمال ۴۷۵

منشیات كے ذریعه علاج ۴۷۵

سگریٹ كا حكم ۴۷۵

الكحل كا حكم ۴۷۶

مسوڑھوں كا خون ۴۷۸

زخم كا خون ۴۷۸

انجكش كا خون ۴۷۸

ہونٹ كی كھال ۴۷۸

غسل مس میت ۴۸۰

میت كی هڈی ۴۸۰

مس میت ۴۸۰

مصنوعی تنفس ۴۸۱

سكته ۴۸۱

غیر مسلم،ایران اورایران كے باہر كے احكام ۴۸۳

اهل كتاب كی طهارت ۴۸۳

بیرونی ممالك میں پرده ۴۸۶

بے حجاب خاتون كو دیكھنا ۴۸۶

غیرمسلم عورت سے ہاتھ ملانا ۴۸۶

غیر مسلم كو دیكھنا ۴۸۷

غیر مسلم عورتوں سے متعه ۴۸۹

نومسلم كی شادی ۴۸۹

عیسائی لڑكی سے متعه ۴۸۹

غیر مسلم عورتوں سے چیٹنگ كرنا ۴۹۱

شرابی كے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ۴۹۱

اسلامی ذبیحه ۴۹۲

چرم سے بنا سامان ۴۹۲

اسٹوڈینٹس (طلاب)كے خصوصی احكام ۴۹۴

اسٹوڈینٹس كے حق ۴۹۴

كھانے كا ٹوكن ۴۹۴

ہاسٹل(دارلااقامه)كی فرج ۴۹۵

كھانے پینے‌كی اشیاء ۴۹۵

انڈے كاخون ۴۹۷

امانتی كتاب ۴۹۹

استاد كی غیبت ۵۰۰

استاد كو دیكھنا ۵۰۰

پورا پرده نه كرنیوالی لیڈی ٹیچر ۵۰۱

یونیورسٹی فیسٹیول ۵۰۳

لڑكے اور لڑكیوں كا ایك ساتھ پكنك پر جانا ۵۰۳

طلاب كو امربالمعروف كرنا ۵۰۳

صحیح پرده نه كرنے والی عورت كو امر بالمعروف كرنا ۵۰۴

اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں موسیقی ۵۰۶

ہم كلاس لڑكیاں ۵۰۶

محرم بنانے كا صیغه ۵۰۶

ہاف(آدھی) آستین ۵۰۷

كھیل كود اورموسیقی ۵۰۹

علاج سے مربوط موسیقی ۵۰۹

كمپیوٹر گیم ۵۱۰

كھیل سے متعلق انعامات ۵۱۰

تخت پرنماز ۵۱۲

جنابت اور مہمانی ۵۱۲

تعلیم كو جاری ركھنا ۵۱۲

طلباء كی در آمد میں خمس ۵۱۲

اسكا لرشپ كاخمس ۵۱۳

كتاب كا خمس ۵۱۳

ٹیلیفوں كارڈ ۵۱۵

نعلین(جوتے چپل) كی تبدیلی ۵۱۵

كمرے میں ساتھ رہنے والے كا جوتا ۵۱۶

ہاسٹل میں تجسس كرنا ۵۱۶

امتحان میں نقل كرنا ۵۱۷

ٹسٹ یاكمپٹیشن میں نقل كرنا ۵۱۷

ملازمت كے متعلق امتحان میں نقل كرنا ۵۱۷

گریجویٹ كے امتحان میں نقل كرنا ۵۱۸

رضایت لیكر نقل كرنا ۵۱۸

كاپی رائٹ كے احكام ۵۲۰

كاپی رائٹ كی شرط ۵۲۱

كاپی رائٹ كا قانون ۵۲۱

ایجاد كرنے والے كا نقصان ۵۲۳

آزاد سافٹ ویر ۵۲۳

غیر ملكی سافٹ ویر ۵۲۴

ایجاد كرنے والے كی مرضی ۵۲۵

پگڑی اور كرایه ۵۲۷

گلدكوئیسٹ(حلقه دار تجارت) ۵۲۷

مقد مه مؤلف

سوال و جواب کا سلسلہ آغاز خلقت ہی سے رہا ہے کبھی اس نے فرشتوں کو اپنے نرم و لطیف پروں پر بٹھا کر اور شیطان کو اپنے پنجون میں جکڑ کا مقام و منزلت آدمیت کا جلوہ دکھایا ۔

کیا خوب کہا ہے آفتاب کوفہ نے

“من احسن السوال علم ِو علم السوال”

جو اچھے سوال کرتا ہے وہ علم حاصل کرلیتاہے اور جو علم حاصل کرتا ہے وہی اچھے سوال کرتا ہے ۔

هم سوال از علم خیزدهم جواب + هم چنان كه خار و گل از خاک و آب

سوال و جواب علم ہی کہ وجہ سے ہوتے ہیں جیسے کہ خار و گل پانی و مٹی کی وجہ سے

ہاں ! جسکے سوالات آسمانی ہوتے ہیں اسکے جوابات بھی بلند و بالا و علمی ہوتے ہیں ۔

سماج اور ثقافت کی گہرائی و گیرائی کا اندازہ آگاہی کی غرض سے کئے گئے سوال اور اسکے عالمانہ جواب سے لگایا جاتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ کا شرف و افتخار ہے کہ جہاں اسکے پاس ایسے پاک دل اور کمال طلب سوال کرنے والے جوان ہیں تو دوسری طرف اسکے پاس ایسا بے نیاز مکتب ہے جسکی تعلیمات عظیم ہیں جو سوال کرنے والوں کے پیاسے دل کو سیراب کرتی ہیں ۔

''مشاورہ وپاسخ مرکز فرہنگی ''ادارہ نے ایک ایسا زمینہ فراہم کیا ہے تاکہ سوالات کا ''ابر رحمت'' جوابات کی زمین پر برسے تاکہ علم و اخلاق کی سبز فصل تیار ہو اور اگر اس راہ میں ہماری یہ ادنی کوشش اپنے عزیز جوانوںکی خدمت میں قابل قبول ہو تو ہمارے فخر و مباہات کے لئے کافی ہے

یہ بتانا ضروری ہے کہ اپنی دینی ثقافت کی ترویج کی غرض سے''ادارہ مشورت و جواب اورکالجوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی نمائندگی ''نے مختلف علمی گروہوں کی مدد سے ٥٠ ہزار سوالات کو مختلف موضوعات جیسے اعتقادی، مشورت اور احکام وغیرہ پر جمع اور انکے جوابات دئیے ہیں ۔

یہ ادارہ آٹھ علمی گروہ پر مشتمل ہے جو مندرجہ ذیل ہیں :

١۔ گروہ قرآن و حدیث

٢۔ گروہ احکام

٣۔ گروہ فلسفہ ،عقائد،اور دینیات

٤۔ گروہ اخلاق و عرفان

٥۔ گروہ تربیت و نفسیات

٦۔ گروہ سیاست

٧۔ گروہ سماجیات

٨۔ گروہ تاریخ و سیرت

کتاب حاضر احکام سے مربوط سوالوں کا مجموعہ ہے جو جوانوں اور کالج کے طلاب کے ذہن کو مشغول کئے ہوئے ہے ۔جسکے جوابات محقق ارجمند حجة الاسلام والمسلمین سید مجتبی حسینی کے توسط سے دئے گئے ہیں ۔اس کتاب کی کچھ خصوصیتیں مندرجہ ذیل ہیں :

الف: سوالوں کے جوابات کو حوالہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔

ب: ایک جیسے جوابات کو آسان اور روان عبارت میں لکھا گیاہے جسکی وجہ سے زیادہ تر جوابات اقتباسی ہیں۔

ج: زیادہ اطمینان اور یقین کی غرض سے جوابات کو حوالہ کے ساتھ ذکر کرنے کے علاوہ مراجع عظام کے دفاتر سے بھی استفتا ٰء کیا گیا ہے ۔

د: کتاب کی تنظیم میں امام خمینی کے فتویٰ کو پہلے بیان کیا گیا ہے اسکے بعد دیگر مراجع عظام کے فتوے حروف الفباء کی ترتیب سے بیان کئے گئے ہیں :

١۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ محمد تقی بہجت (دام ظلہ العالی)

٢۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ میرزا جواد تبریزی(دام ظلہ العالی)

٣۔حضرت آیت اللہ حاج سید علی حسینی خامنہ ای(دام ظلہ العالی)

٤۔حضرت آیت اللہ حاج سید علی حسینی سیستانی (دام ظلہ العالی)

٥۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ لطف اللہ صافی گلپائیگانی(دام ظلہ العالی)

٦۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ فاضل لنکرانی(دام ظلہ العالی)

٧۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ حسین نوری ہمدانی(دام ظلہ العالی)

٨۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ ناصر مکارم شیرازی(دام ظلہ العالی)

٩۔حضرت آیت اللہ حاج شیخ حسین وحید خراسانی(دام ظلہ العالی)

یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ کتاب میں اختصار کی غرض سے مراجع عظام کے نام ہی پر اکتفا کیا گیا ہے لہٰذا ہم ان بزرگوں کی خدمت میں معافی چاہتے ہیں ۔اور خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ انکی عزت و سلامتی میں اضافہ فرمائے۔

خداوند متعال کی توفیق و نصرت سے یہ ارادہ ہے کہ آپ قارئین کی خدمت میں اس سلسلہ کی دوسری کتاب بھی پیش کرنے کا شرف حاصل کریں لہٰذا آپ حضرات کی رائے اور تعمیری نقد اس کتاب کو اور زیادہ پر اہمیت و بے نقص بنانے میں ہماری مدد کرے گی ۔

آخر میں اس کتاب کے مولف ''ادارہ مشاورہ و پاسخ''کے تمام ساتھیوں خاص کر حجة الاسلام سید محمد تقی علوی اور صالح قنادی جنھوں نے اس کتاب کی پرو ف ریڈنگ اور اسے آمادہ کرنے میں ہماری مدد کی ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور بارگاہ رب العزت میں دعاگو ہیں کہ ان حضرات کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔ اور مکتب اہل بیت کی خدمت اور اسلامی و دینی معاشرہ کے فروغ میں انکی نصرت و یاری فرمائے ۔

والله ولی التوفیق

مسئول مرکز فرھنگی نھاد

سید محمد رضا فقیھی

۴

عرض مترجم

الحمد لله الذی هدانالهذا و ما کنا لنهتدی لو لا ان هدانا الله لقد جاء ت رسل ربنا بالحق ثم الصلاة والسلام علی سید المرسلین و خاتم النبیین محمد المصطفیٰ وآله الطیبین الطا ہ رین المعصومین المظلومین لاسیما بقیة الله فی الارضیین واللعن علی اعدائ ہ م اجمعین ۔

اما بعد...

عرصہ دراز سے میری یہ خواہش تھی کہ ایک ایسی فقہی کتاب کا ترجمہ کروں جس میں جدید و مبتلا بہ احکام جوان نسل کو روز مرہ پیش آنے والے مسائل کا کامل و متقن اور یکجا جواب موجود ہو تاکہ لوگ اپنی شرعی ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں اور اس پر عمل کر سکیں ۔ اس سلسلہ میں مجھے ''رسالہ دانشجویان ''تالیف سید مجتبی حسینی ملی ۔ جس میں عصر حاضر میں در پیش مسائل کو ایک جگہ دس مراجع عظام کے نظریات و فتاوی کی روشنی میں ، حوالہ جات کے ساتھ سوال و جواب کی صورت میں ، بہت ہی اچھے انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

اس طرح کی کتاب ، اردو زبان میں یا تو ناپید تھی یا بہت ہی کم تھی لہذا میں نے اس کتاب کو ترجمہ کے لئے منتخب کیا اگر چہ میں نے اردو زبان میں متعدد مقالات کا ترجمہ کیا ہے لیکن کتاب کی شکل میں یہ میری پہلی کاوش ہے۔ ترجمہ میں اس بات کو ملحوظ رکھا گیا کہ زبان سادہ سے سادہ اور آسان ہو تاکہ قارئین با آسانی مطلب کو درک کرسکیں ۔ اسی لئے کہیں کہیں انگریزی کے رائج اور مستعمل کلمات کا استعمال بھی کیا گیا ہے ۔

اس کتاب کا ترجمہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جہاں میں نے معاشره میں تبلیغ کی غرض سے قدم رکھا تو محسوس ہوا کہ ہمارا معاشرہ بالخصوص جوان طبقه اور صنف نسواں شرعی احکام سے یا بالکل ناواقف ہے یا اگر واقف ہے تو بہت ہی ناقص بلکہ بہت سی جگہوں پر شریعت کی جگہ خام خیالیوں ،بزرگوں سے چلی آئی رسموں نے لے رکھی ہے ۔ اس پر ستم بالائے ستم یہ کہ یا جوان طبقه اور خواتین شرعی احکام کی ضرورت نہیں سمجھتے اور اگر سمجھتےبھی ہیں تو سوال کرنے سے شرم و حیا محسوس کرتے ہیں یا کچھ مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنھیں واضح طور لوگ بیان بھی نہیں کرتے ۔

وجہ جو بھی ہو لیکن وہ صنف جو مستقبل كی ذمه دار اوربچوں کی پہلی تربیت گاہ ہے ،مذہب کی بنیاد جسکی لوریوں سے نونہال کے دل و دماغ میں پڑتی ہے جس کی آغوش میں بچے اور مذہب کا مستقبل بنتا اور سنورتا ہے جب وہی شرعی احکام سے بے خبر ہو تو انجام کیا ہوگا ،! اسی خلا کو ایک حد تک پورا کرنے کے لئے میں نے “رسالہ دانشجویان”کا ترجمہ کیا ہے ۔اس ترجمه میں میں نے حجم اور اپنی ملكی ثقافت كو مدنظر ركھتے ہوئے اصل متن اور حاشیه كے شروع میں ایك بار“ آیت الله ”لكھ كر باقی آیات عظام كے اسماء كو اسی پر عطف كردیاہے پھر بھی اگر كسی مرجع كے اسم كے آغا زمیں یه لفظ نه آسكاہو تو میں اس كے لئے معذرت خواه ہوں۔اور بهت سے مواقع پر عبارت میں موجود اسماء كی ترتیب كے لحاظ سے اصل كتاب میں حاشیه مرتب نہیں ہوا تھا یا بعض جگہوں پر حاشیه نہیں تھا اسے حتی الامكان پورا كرنے كی كوشش كی ہے۔ اسی طرح اگر حاشیه میں كہیں“ س” ہے تو اس كامطلب سوال ہے اور اگر “م”ہے تو اس كامطلب مسئله ہے۔

امید ہے قارئین کے لئے مفید ہوگا ،اور بارگاہ الہیٰ میں شرف قبولیت حاصل کرے گا اور میرے بزرگوں بالخصوص میری والدہ مرحومہ کے لئے ذخیرۂ آخرت قرار پائے گا ۔(آمین)

والسلام

سیدہ ریاض فاطمہ زیدی

تقلید كے احكام

اجتهاد اور تقلید

سوال نمبر۱: اجتهاد اور تقلید كا كیا مطلب ہے؟

> : وَ ما كانَ الْمُؤْمِنُونَ لِینْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْ ہ م طائِفَةٌ لِیتَفَقَّ ہ وا فِی الدِّینِ وَ لِینْذِرُوا قَوْمَ ہ م إِذا رَجَعُوا إِلَی ہ م لَعَلَّ ہ م یحْذَرُونَ < سوره توبه،آیت،۱۲۲ ۔

علم لغت میں توانائی اور استعداد كی حدتك ایسی سعی و كوشش كرنے كو اجتهاد كهتے ہیں جو محنت و مشقت كے ساتھ ہو۔اور فقه كی اصطلاح میں“ اسلام كے فقهاء كے نزدیك معمول و رائج منابع(۱) اور راہوں سے شرعی احكام كو حاصل كرنے میں اپنی پوری سعی و كوشش كو بروئے كارلانے كو” اجتهاد كهتے ہیں۔اس كا مطلب،مجتهد وه شخص ہے جو شریعت كے احكام كو دلیل كے ذریعه حاصل كرے اور اپنی فكر و نظر كے مطابق عمل كرے۔(۲)

“تقلید” کا مطلب،پیروی کرنا اور پیچھے پیچھے چلناہے۔اورفقہی اصطلاح میں“شرعی مسائل میں مجتهد جوفتوی دیتاہے اس پر عمل كرنے كا نام تقلیدہے”۔

قابل غور بات ہے كه:اگرچه لفظ تقلید“ بغیر چون و چرا كه پیروی كرنے كے معنی میں” كچھ اچھا تو نہیں لگتاہے لیكن اسلامی ثقافت و تهذیب كی تعلمات میں مقلد اس شخص كو كهاجاتاہے جو مجتهد كی علمی كوشش كے نتیجه سے استفاده كرتاہے اور احكام كے استنباط(حصول )كےصحیح اور غلط ہونے كی ذمه داری كو مجتهد پر چھوڑدیتاہے۔اور كیا پته لفظ“ تقلید”(تلاده سے لیا گیا ہو جس كے معنی گلے كا پٹه ہے)اور اس كا استعمال اسی لحاظ سے ہو۔

۵

حوالہ :(۱)-منابع سے مراد: كتاب،سنت،اجماع اور عقل ہے۔

(۲)-لسان العرب،ماده جهدتنقیح فی شرح العروة الوثقی (الاجتهاد و التقلید) ص۲۰۔

۶

تقلید كب سے شروع ہوئی

سوال نمبر۲: مجتهد كی تقلید كب سے شروع ہوئی؟

كیا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور ائمه علیہم السلام كے زمانه میں بھی یه سلسله رہاہے؟

خداكے احكام سے واقفیت اور اعمال كے صحیح ہونے كے لحاظ سے اطمیناں حاصل كرنے كے لئے فقیه اور ماہر اسلام كی جانب رجوع كرنے صدر اسلام كی تاریخ اور ائمه علیہم السلام كے زمانه میں ملتاہے۔اور بعض بزرگ علماء كے نظریه كے مطابق اسی سلسله میں دو آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں۔(۱)ایك تو وه جگه جہاں خداوند عالم ارشاد فرماتاہے:

> فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لا تَعْلَمُون < ‏(۲)

اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو۔

اگرچه روایات میں“ اهل ذكر”ائمه علیہم السلام(جوكه آیت كے كامل و واضح مصداق ہیں)كوبتایاگیاہے لیكن شان نزول اور موقعیت آیت كی عمومیت كو تخصیص نہیں دیتی اور ان ہی ذوات میں منحصر نہیں ہے بلكه ہر اهل خبره(باخبر و آگاه)كو شامل ہے فقهاء بھی اں میں سے ایك ہیں اور دوسری جگه پر خدافرماتاہے >

: وَ ما كانَ الْمُؤْمِنُونَ لِینْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْ لا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْ ہ م طائِفَةٌ لِیتَفَقَّ ہ و ا فِی الدِّینِ وَ لِینْذِرُوا قَوْمَ ہ م إِذا رَجَعُوا إِلَی ہ م لَعَلَّ ہ م یحْذَرُونَ < (۳)

صاحبان ایمان کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ سب کے سب جہاد کے لئے نکل پڑیں تو ہر گروہ میں سے ایک جماعت اس کام کے لئے کیوں نہیں نکلتی ہے کہ دین کا علم حاصل کرے اور پھر جب اپنی قوم کی طرف پلٹ کر آئے تو اسے عذاب الٰہی سے ڈرائے کہ شاید وہ اسی طرح ڈرنے لگیں۔

اس میں ذره برابر بھی شك نہیں كه اس آیت میں“ تفقه ”كامفہوم بهت وسیع ہےاور معارف و احكام اسلام (دین كے اصول و فروع كے بالاتر) سب كوشامل ہے۔دوسری طرف،وه گروه(جوكه دینی ماحول میں تربیت و رشد پایاہے)لوگوں كو انكی باتوں كو قبول كرنے كی دعوت دی گئی ہے۔اور یه وہی فقیه اور با خبر لوگوں كی طرف رجوع كرنا ہے۔

رسول اكرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)،بعضی اصحاب كو دین كے احكام كی تبلیغ اورتعلیم كے لئے اطراف كے علاقوں میں بھیجتے تھے۔مصعب بن عمیر اور معاذبن جبل ان میں سب سے زیاده معروف و مشہور نمونے شمار ہوتے ہیں آنحضرت فرماتے تھے:بغیر علم فتوی دینے سے پرہیز كرو ورنه فرشتوں كی لعنت شامل حال ہوگی۔(۴)

یه فرمان اس بات كی علامت ہے كه مفتی اور فقیه كی جانب سے فتوی دینا اور لوگوں كا انكی تقلید كرنا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)كے زمانے میں موجود تھا اور فقیه كی جانب رجوع كرنا انكی رحلت كے بعد بھی پهلے كی طرح رواں دواں رہا یہاں تك كه یه طریقه امام محمد باقر(علیہ السلام)اور امام صادق(علیہ السلام)كے زمانے میں مزید رونق پایا۔

ان دو معصوم كے مدرسه میں بے شمار فقهاء نے تعلیم اور تربیت پائی۔(۵)

اور دین كوزنده كرنے اور احكام كی تعلیم دینے كے لئے مختلف شہروں میں كوچ كیا۔اور سب سے لوگ(جوكه معارف اور احكام دیں كے تشنه و شدائی تھے اور بهت دور دراز علاقه میں رهتے تھے اور انكی اهلیت علیہم السلام تك رسائی نہیں تھی)ان كی تلاش میں جاتے تھے اور اپنے دینی مسائل كو ان سے پوچھتے تھے اور ائمه علیہم السلام كےبے كراں علوم سے سیراب ہوتے تھے۔یه وہی تقلید ہے جس كے بعض نمونوں كی طرف اشاره كیا جارہاہے:

۱- حضرت امام باقر علیہ السلام ابان بن تغلب سے فرماتے ہیں:

“ اجلس فی مسجد المدینه واَفتِ الناس فانی احب اَن اری فی شیعتی مثلك”(۶)

(مدینه كی مسجد میں بیٹھ اور لوگوں كو فتوی دو كیونكه مجھے پسند ہے كه میرے شعیوں میں تم جیسے افراد ہوں)۔

۲- شعیب عقرقوقی ناقل ہیں كه میں نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے عرض كی:

“ربما احتجنا أن نسأل عن الشئ فمن نسأل”

كبھی ہم اپنے دینی مشكلات اور سوال كو كسی سے پوچھناچاهتے ہیں(اور راسته كی دوری یا تقیه وغیره كی وجه سے آپ تك رسائی نہیں ہے)تو آپ ہی فرمائیں كسی كے پاس جاؤں اور كسی كی بات كو قبول كروں؟

حضرت نے جواب میں فرمایا:

“عَلَیكَ بِالْأَسَدِی یعْنِی أَبَا بَصِیرٍ”(۷)

تم ابوبصیر كی طرف رجوع كرسكتے ہو)

اسی طرح سے یه طریقه بعدكے اماموں كے زمانه میں بھی یہاں كه تك حضرت مهدی(عج) كی غیبت صغریٰ كے زمانه تك جاری رہا۔

۳-حسن بن علی بن یقطین سے مروی ہے كه میں نے امام رضا(ع) كی خدمت میں عرض كی:

“لَا أَكَادُ أَصِلُ إِلَیكَ أَسْأَلُكَ عَنْ كُلِّ مَا أَحْتَاجُ إِلَیهِ مِنْ مَعَالِمِ دِینِی أَ فَیونُسُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ثِقَةٌ آخُذُ عَنْهُ مَا أَحْتَاجُ إِلَیهِ مِنْ مَعَالِمِ دِینِی فَقَالَ نَعَمْ”(۸)

میری موقعیت ایسی نہیں ہے كه میں درپیش دینی مشكل كو آپ سے معلوم كرسكوں !تو كیا یونس بن عبدالرحمن موثق اور صادق ہیں اور میں اپنی دینی ضرورتوں كے جواب كو ان سے پوچھ سكتاہوں؟حضرت نے فرمایا:بالكل۔

۳- حضرت مهدی(عج)اپنی معروف و مشہور توقیع میں(ایك قاعده كلی كے عنواں سے) اسحاق بن یعقوب كو اس طرح تحریر كرتے ہیں:

“وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِیهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِیثِنَا فَإِنَّهم حُجَّتِی عَلَیكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّه‏علیهم ”(۹)

جو واقعات ومسائل رونما ہوتے ہیں ان كے بارےمیں ہم اری حدیث كےراویوں(فقهاء)كی طرف رجوع كرو كیونكه وه تم پرمیری حجت ہیں اور میں ان پر خدا كی حجت ہوں ۔

اس توقیع اور دوسری روایتوں كی بنیاد پر غیبت كبریٰ كے زمانه میں فقیه كی طرف رجوع كرنے كا مسئله،ایك خاص طریقه سے ابھر كر سامنے آیا اور(اجتهاد)و(تقلید)نامی دو اصطلاحیں وجود میں آئیں۔اور جامع الشرائط مجتهدوں اور فقیہوں نے فتویٰ اور جوابدہی كی ذمه داری قبول كی اور اس طرح اجتماع میں اپنے وجود كو پیش كركے امام معصوم تك نه پہونچے سكنے كی مشكل اور خلا كو پورا كردیا جوكه اب تك جاری رہاہےاور آگے بھی رہے گا۔جیساكه شیخ طوسی كهتے ہیں:میں نے امامی شیعه(شیعه اثنا عشری)كو حضرت علی(علیہ السلام)كے زمانه سے ابتك(پانچویں صدی تك)اسی طرح پایا كه وه برابرا پنے فقیہوں كے پس رجوع كرتے رہے اور اپنی عبادتوں اور احكام كے سلسله میں ان سے فتویٰ دریافت كرتے تھے ان كے بزرگ حضرات بھی انہیں جواب اور فتویٰ پرعمل كرنے كےراسته كوبتاتے تھے۔(۱۰)

۷

حوالہ جات:

۱. ۔تنقیح فی شرح العروة الوثقی(الاجتهاد و التقلید)ص،۸۵،۸۸۔

۲. ۔سوره نحل،آیت۴۳اور سوره انبیاء آیت۷۔

۳. ۔سوره توبه،آیت،۱۲۲۔

۴. ۔وسائل الشیعه،ج۲،باب۴اور ۷۔

۵. ۔مورخوں نے لكھا ہے: امام صادق  كے چارهزار شاگرد تھے جو مختلف ممالك اور شہروں سے حضرت كے مدرسه میں كسب فیض كے لئے آئے تھے ۔ملاحظ كریں:اسد،حیدر،الامام الصادق والمذاهب الاربعه،جلد۱،ص۶۹۔

۶. ۔مستدرك الوسائل،جلد۱۷،باب۱۱۔

۷. ۔وسائل الشیعه،ج۲۷،باب۱۱۔

۸. ۔ وسائل الشیعه،ج۲۷،باب۱۱۔

۹. ۔ وسائل الشیعه،ج۲۷،باب۱۱۔

۱۰. ۔عدة الاصول۔

۸

تقلیدكی ضرورت

سوال نمبر۳: ہم تقلید كیوں كریں؟اس كا فلسفه كیا ہے۔

ہرایك مسلمان كا سوال كرنے وا لاذمن شرعی احكام كے فلسفه كی جستجو میں ہے۔دوسرےاحكام كے لحاظ سے فلسفۀ تقلید سے واقفیت كی اہمیت زیاده كیونكه شریعت اسلام میں ایسے واجبات اور محرمات ہیں جن میں خدائے حكیم نے انسان كی دنیا و آخرت سعادت كے لئے بیان فرمایاہے اور اگر انسان ان پر عمل نه كرے تو نه وه مطلوب سعادت تك پهنچ سكے گا اور نه ہی انكی مخالفت كےعذاب سے خود كوبچایائے گا۔

شرعی احكام كو پهچاننے كے لئے بهت زیاده معلومات(جیسے آیتوں اور روایتوں كا سمجھنا ،صحیح حدیث كو غیر صحیح سے پهچانا، تركیب اور روایتوں و آیتوں كو جمع كرنے كی كیفیت كو جاننا اور بهت سے دوسرے مسائل سے واقفیت)كی ضرورت ہوتی ہے كه جس كو سیكھنے كے لئے كئی سا لوں تك سخت محنت و تلاش كی ضرورت ہے۔

ایسی حالت میں بالغ وعاقل انسان اپنے كو تین راستوں كے مقابله میں دیكھتا ہے۔

پهلا:اس علم(اجتهاد)كو سیكھنےكے لئے نكل پڑے۔(یعنی مجتهد بن جائے)۔

دوسرا:ہر كام میں موجود آراء و نظریات كا مطالعه كركے اس طرح عمل كرے كه تمام لوگوں كے لحاظ سے اس كا عمل صحیح ہو(یعنی احتیاط كرے)۔

تیسرا:ایسے شخص كی رائے و نظرسے فائده اٹھائے جس نے ان علم كومكمل طور پر سیكھا ہو اور شرعی احكام كو جانے میں ماہر ہو (یعنی تقلید كرے)۔اس میں شك نہیں كه اگرانسان پهلے راسته میں اجتهاد پر فائز ہوئے تو شرعی احكام كا ماہر ہوگیا لهذا بقیه دو راستوں سے بے نیاز ہوجائے گا۔لیكن جب تك اس مقام پر نہیں پهنچتا ہے وه بقیه دوراستوں میں سے كسی ایك كے انتخاب پر مجبور ہے۔

دوسرے راسته كے لئے اسے ہر مسئله میں موجود آراء و نظریات اور احتیاط كے طریقوں كے بارے میں كافی معلومات كی ضرورت ہے لیكن احتیاط كی راه كے سخت ہونے كی وجه سے بهت سے مواقع پر اس كی عادی( normol )زندگی مختل ہو كر ره جائے گی۔تو عام لوگوں كے لئے صرف ایك راسته بچتاہے جوكه“تقلید”ہے۔ یه تین راستے انسان كے لئے صرف شرعی احكام میں پیش نہیں آتے بلكه مهارت كےہر دوسرے موضوع میں بھی پائے جاتے ہیں۔مثال كے طور پر فرض كریں كه ایك ماہر انجنیر بیمار ہوجاتاہے وه اپنی بیماری كے علاج كے لئے یا تو وه خودعلم طب(ڈاكٹری)پڑھے یا ڈاكٹروں كی تمام آراء و نظریات كا اس طرح مطالعه كرےكه بعد میں ندامت نه ہو اور یا تو پھر ماہر ڈاكٹركے پاس رجوع كرے۔

پهلا راسته اسے جلدی علاج تك نہیں پهنچتا، دوسرا راسته بھی بهت دشوار و مشكل ہے اور اسے اپنے مهارت كےموضوع (انجنیرنگ)سے روك دے گا۔اسی وجه سے وه بے درنگ ماہر ڈاكٹرسے مددلیتاہے اور اسكی رائے ونظر پر عمل كرتاہے۔

وه ماہر ڈاكٹركے نظریه پر عمل كركے نه صرف یه كه خود كو آئنده كی ندامت اور دوستوں كی ملامت سے نجات دلاتاہے بلكه اكثر موقع پر ٹھیك بھی ہوجاتاہے۔بالغ و عاقل انسان بھی ماہر مجتهد كے نظریه پر عمل كركے نه صرف یه كه خود كو آخرت كی پشیمانی ااور الٰہی عذاب سے نجات دلاتاہے بلكه شرعی احكام كی مصلحتوں تك رسائی بھی حاصل كرلیتاہے۔

فتوی كا سننا

سوال نمبر۴: كیا ذرائع ابلاغ(جیسے ٹیلیفوں،انٹرنٹ ریڈیو وغیره)سے فتوی كا سننا مكلف(یعنی بالغ عاقل انسان) كے لئے حجت اور اعتبار ركھتاہے؟

تمام مراجع كرام،اگر اس كے ذریعه سے اطمینان حاصل ہو تو حجت اور عتبار ركھتاہے۔(۱)

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل،مسئله۵؛العروة الوثقی،جلد۱،مسئله ۳۶؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات سوال۲۵؛بهجت،وسیلة النجاة،جلد۱،مسئله۲۷؛نوری اور وحید،توضیح المسائل،مسئله۵۔

۹

مجتهد وں كے نظر یات میں اختلاف

سوال نمبر۵: كیوں مجتهدوں كے نظریات میں اختلاف ہوتاہے؟

ادبیات (نحو و صرف و غیره)اور اصول فقه میں مختلف نظریات كاہونا،آیتوں اور روایتوں سے مختلف و متفاوت نتیجه گیری (یعنی آیات و روایات میں اختلاف فہم )حدثیوں كی سند اور راویوں كی شناخت میں اختلاف نظر كاہونا یه تمام بآتیں بعض فتووں میں اختلاف نظر كا باعث بنی ہیں۔

یه بات ذهن میں رہے كه اتنا اختلاف سلیقه اور نظر كا ہونا صاحباں نظر بلكه ماہر ڈاكٹروں میں بھی معمولی سی بات ہے۔اگرچه ایسے حالات كا فراہم ہونا ضروری ہے جس میں موضوع كی شناخت كےلئےمهارت كااستعمال كیاجائےتا كه اختلاف فتویٰ كم سے كم ہوسكے۔

تقلید كا معیار

سوال نمبر۶: ایك مرجع(مجتهد)كی تقلید كیسے كی جاتی ہے؟

تمام مراجع حضرات(سوائے صافی صاحب كے):مجتهد كے فتویٰ پر عمل كركے۔(۱)

صافی صاحب:عمل كے اراده سے مجتهد كے فتویٰ كویاد كركے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۳۴؛توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲؛نوری اور وحید،توضیح المسائل،مسئله ۲۔

۲ ۔صافی،توضیح المسائل،مسئله۲۔

۱۰

مجتهد كی توضیح المسائل

سوال نمبر۷: كیا ایك مجتهد كی تقلید كرنے كے لئے اس كی پوری توضیح المسائل كا پڑھنا ضروری ہے؟

تمام مراجع كرام:نہیں،پوری توضیح المسائل كا پڑھنا ضروری نہیں ہے، لیكن جن مسائل سے انسان عام طورپر دوچار ہوتاہے انكا یاد كرنا واجب ہے۔(۱)

سوال نمبر۸: اگر مجتهد كی اپنی كوئی توضیح المسائل نه ہوتوكیا اس كی تقلید كرناجائز ہے؟

تمام مراجع حضرات:اگر اس میں مجتهد جامع الشرائط كی صفتیں اور شرطیں موجود ہیں تو اس كی تقلید كرنا جائز ہے اور توضیح المسائل كاہونا شرط نہیں ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱-خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۶؛توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۱؛نوری اور وحید،توضیح المسائل مسئله ۱۱؛العروةالوثقی،جلد۱،التقلید،مسئله۶۲۔

۲- خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹، توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲؛نوری اور وحید،توضیح المسائل،مسئله ۲۰۔

نوٹ:(۱)آیة الله سیستائی،تبریزی اور وحید فرماتے ہیں:اگر ایك باخبر اور اطمینان كے قابل عالم بھی تصدیق كردے تو كافی ہے۔

(۲)آیة الله بهجت فرماتے ہیں:انسان كو جس راستے سے بھی كسی كے اعلم ہونے كا اطمینان ہوجائے كافی ہے۔

۱۱

اعلم كی پهچان كا طریقه

سوال نمبر۹: اعلم كو پهچاننے كے كیا راستے ہیں؟

تمام مراجع:اعلم كو تین راستوں سے پهچاناجاسكتا ہے:

۱-خود یقین حاصل ہو،جیسے یه كه وه خود اهل علم ہو اور اعلم كو پهچانے كی صلاحیت ركھتاہو۔

۲-دو عادل عالم(جواعلم كو پهنچانتےہوں)اس كے اعلم ہونے كی تصدیق كریں(بشرطیكه ان كے بیان كے خلاف دو دوسرے عادل عالم بیان نه دیں)۔

۳-بعض اهل علم(جواعلم كی تشخیص دے سكتے ہیں ان)كے كهنے سے یقین یا اطمینان حاصل ہو۔(۱)

حوالہ جات:

خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۲۵؛ نوری توضیح المسائل مراجع،مسئله ۳ ۔

۱۲

مجتهد كا انتخاب

سوال نمبر۱۰: اگر اعلم كو نه پهچاں سكیں تو ہم اری ذمه داری كیاہے؟

امام خمینی،خامنه ای،مكارم اور نوری:آپ كو اهل خبره(جانكار لوگوں)كی جانب رجوع كرناچاہیئے۔اگر انكی گواہی كے درمیان تعارض و اختلاف ہوجائے تو احتیا واجب كی بناپر ایسے شخص كی تقلید كریں جس كے اعلم ہونے كا احتمال دیتے ہوں۔

بهجت،فاضل،صافی اوروحید:اهل خبره كی طرف آپ رجوع كریں اور اگر انكی شهادت میں تعارض و تضاد ہوتاہے تو واجب ہے آپ كسی ایسے شخص كی تقلید كریں جس كے اعلم ہونے كا احتمال دیتے ہیں۔(۱)

تبریزی اور سیستانی:آپ اہل خبرہ ماہرو(جانكار)كی طرف رجوع كریں اور اگر انكی شهادت وگواہی میں تضاد واختلاف ہوجائے توان حضرات كی بات كومقدم ركھیں جن میں مهارت زیاده ہے۔ورنه كسی ایسے شخص كی تقلید كریں جس میں اعلم ہونے كا احتمال دیتے ہیں۔(۲)

نوٹ:

آیة الله مكارم كی تعبیر كے مطابق اعلم كے احتمال سے مراد“اعلم ہونے كا گمان”ہے۔

۔۔۔۔

حوالہ جات:

۱-توضیح المسائل مراجع،مسئله ۳اور۴؛ وحید،توضیح المسائل،مسئله ۳اور۴ ۔

۲-سیستانی،تعلیقات علی العروة،مسئله،۱۳اور ۲۰و۲۱،اور تبریزی،توضیح المسائل،مسئله ۳اور ۴؛استفتاءات ،سوال۳۲۔

۱۳

افراد و خانه( familymimbers )كامجتهد:

سوال نمبر۱۱: كیایه صحیح ہے كه افراد خانه(جیسے زوجه وفرزند)كی تقلید گھركے سرپرست كی تابع ہونا چاهئیے؟

تمام مراجع كرام:نہیں ،تقلید كے سلسله میں ایك دوسرے كی پیروی كرناصحیح نہیں ہے،ہر شخص اس میں مستقل و آزاد ہے۔(۱)

نوٹ:البته اگر گھركے سرپرست كی تحقیق كے صحیح ہونے پراطمینان حاصل ہوجائے توافراد خانه اس كے كهنے كی بنیاد پر عمل كرسكتے ہیں۔

۔۔۔

حوالہ جات:

۱-امام خمینی،استفتاءات جلد۱،سوال۲۴؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۷؛فاضل،جامع المسائل،جلد۲،سوال۲۴؛نوری،استفتاءات،جلد۱،سوال۱۴؛ بهجت، سیستانی، خامنه ای،مكارم،وحید اور تبریزی صاحبان كا دفتر۔

نوٹ:

(۱)مذكوره حكم ابتدائی تبعیض كے بارےمیں ہے یعنی یه اختیار مقلد كو وہاں دیاگیاہے جہاں بھی تك اس نے عمل نہیں كیاہے لیكن اگر عمل كرنے كے بعد كسی دوسرے مجتهد كے نظریه وفتویٰ پرعمل كرناچاہے تو ایسی صورت میں حكم رجوع او رعدول اس پر فافذ ہوگا۔

۱۴

بیك وقت ایك سے زیاده كی تقلید:

سوال نمبر۱۲: كیاتقلید میں تبعیض(كچھ مسائل میں ایك كی تقلیداور كچھ مسائل میں كسی دوسرے كی تقلید)جائز ہے؟یعنی كچھ مسائل میں ایك مجتهد كے فتویٰ پر اور كچھ دوسرے مسائل میں دوسرے مجتهد كے فتویٰ پرعمل كر؟

وحیدصاحب كے علاوه تمام مراجع حضرات:اگر دو یا كئی مجتهد،اجتهاد كے لحاظ سے مساوی و برابر ہوں تو تقلید میں تبعیض جائز ہے۔

مثال كے طورپر،نماز اور روزه كے مسائل میں كسی مجتهد كی اور خمس میں كسی دوسرے مجتهدكی اور شادی كے مسائل میں كسی تیسرے مجتهد كی تقلید كی جاسكتی ہے لیكن وه مسائل جوآپس میں ایك دوسرے سے مربوط ہیں(اگر ان كے فتووں پر عمل كرنے كی صورت میں عمل كاباطل ہونا یایقینی مخالفت لازم آئے)تو تبعیض جائز نہیں ہے۔جیسے بدن اور لباس كی نجاست كے احكام میں كسی مجتهد كی اور نمازی كے لباس كے احكام میں كسی دوسرے كے فتویٰ پر عمل كیاجائے۔(۱)

وحید:تقلید میں تبعیض،جائز نہیں ہے اور اگر ایك وقت میں دو یا اس سے زائد مجتهد(اجتهاد كے لحاظ سے)مساوی ہوں تو اس مجتهد كے فتویٰ پرعمل كرناچاہیئے جس كی نظر،احتیاط كے مطابق ہے ورنه دونوں كےنظریات پرعمل كرے(مثال كے طورپر ایك نے نما زكے قصر ہونے اور دوسرے نے پوری پڑھنے كا فتویٰ دیاہے تو ان دونوں كے درمیان جمع كرے یعنی دونوں پرعمل كرے۔اور اگر حتیاط ممكن نه ہو یا اس میں مشقت وزحمت ہو تو ان میں سے كسی ایك كی تقلید كی جاسكتی ہے۔(۲)

۱۵

حوالہ جات:

۱-آیت الله نوری،استفتاءات جلد۲،سوال۱۱ااور جلد۱،سوال۴؛امام خمینی،استفتاءات جلد۱،سوال،۸اور۹؛ مكارم،استفتاءات، جلد۲،سوال۱۱؛ تبریزی،استفتاءات ، سوال۲۴؛فاضل ،جامع المسائل،جلد۱، سوال۱۱اور۱۲؛صافی،جامع الاحكام جلد۱،سوال۱۳اور۱۴؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۸؛بهجت ،وسیلة النجاة،جلد۱،مسئله۴ اور توضیح المسائل، مسئله۵؛ سیستانی،تعلیقات العروة ،مسئله۱۳اور ۲۳۔

۲-آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۴۔

نوٹ:

(۱)

آیت الله بهجت اور آیت الله سیستانی كے فتویٰ كے مطابق تقلیدمیں تبعیض اس وقت جائز ہے جب تمام مجتهد تقویٰ اور ورع كے لحاظ سے بھی مساوی ہوں ۔

۱۶

مساوی اور برابرمجتهد كی طرف رجوع

سوال نمبر۱۳:كیازنده مجتهد كی تقلید سے اس كے برابر كے مجتهد كی طرف رجوع كرناجائز ہے؟مثال كے طورپر كیا مسافرطالب علم كے نماز روزه كے سلسله میں كسی ایسے دوسرے مرجع و مجتهد كی طرف رجوع كیاجاسكتاہے جوكه پهلے كے مساوی ہے ؟

امام خمینی اور آیت الله فاضل:ہاں،مساوی كی طرف رجوع كرناجائز ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:جن مسائل كو اس نے یاد كرلیاہے ان میں دوسرے كی طرف رجوع كرناجائز نہیں ہے۔(۲)

صافی:جن مسائل كو اس نے یادكرلیاہے احتیاط واجب كی بناءپر اں میں مساوی كی طرف رجوع كرناجائز نہیں ہے۔(۳)

خامنه ای:احتیاط واجب كی بناءپر مساوی كی طرف رجوع كرناجائز نہیں ہے۔(۴)

مكارم اور نوری:جن مسائل میں تقلید(یعنی عمل)كرچكاہے ان میں مساوی كی طرف رجوع كرناجائز نہیں ہے۔(۵)

آیت الله بهجت اور سیستانی:اگر علم اور ورع میں دونوں مساوی ہیں تو جومسائل ایك دوسرے سے مربوط اور وابسته نہیں ہیں ان میں رجوع كرناجائز ہے مثال كے طورپر وه یه نہیں كرسكتا كه مسافر كے روزه كے احكام سے مربوط مسائل میں اس پر باقی رہے اوراحكام نماز كے بارےمیں دوسرے كی طرف رجوع كرلے۔(۶)

آیت الله وحید: احتیاط كےمطابق فتووں پرعمل كرناچاہیئے اور اگر احتیاط نه ہو سكےیا اس میں مشقت ہورہی ہو تو دوسرے كے فتویٰ پر عمل كرسكتاہے۔(۷)

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله امام خمینی،تحریر الوسیله،جلد۱،مسئله۴؛فاضل،توضیح المسائل،مسئله۱۱۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۱۔

۳ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۱۸۔

۴ ۔ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۳۱۔

۵ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،جلد۲،سوال۱۴،اور جلد۱،صفحه۲۶؛نوری استفتاءات،جلد۲،سوال۱۲۔

۶ ۔آیت الله بهجت ،وسیلة النجاة،جلد۱،مسئله۴؛سیستانی،تعلیقات علی العروة ،مسئله۱۱اور۱۳۔

۷ ۔آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۴۔

۱۷

مجتهد كااحتیاط واجب

سوال نمبر۱۴: اگر ہم ارے مجتهد نے كسی مسئله میں احتیاط واجب كها اور ہم نے بھی اس پر عمل كرلیاہے تو كیا عمل كرنے كے بعد كسی دوسرے مجتهد كی طرف (جوكه اس كے بعد اعلم ہے)رجوع كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع كرام:ہاں،رجوع كرسكتے ہیں۔(۱)

نوٹ:اگر مسئله پرتوجه كئے بغیر اپنے مجتهد كے احتیاط واجب كے خلاف عمل كیا ہے اور(اعلم فالاعلم)كالحاظ ركھتے ہوئے دوسرے مجتهدكے فتویٰ كے مطابق ہو تو یه عمل صحیح ہے۔

تقلید پرباقی رہنا

سوال نمبر۱۵: میں ایك مجتهد كا مقلد تھااور ان كی وفات كے بعد كسی دوسرےزنده مجتهد كی طرف رجوع كئے بغیر ان كی ہی تقلیدپر باقی ہوں، اب اس وقت میری كیا ذمه داری ہے؟

تمام مراجع حضرات:سب سے پهلے آپ كسی زنده اعلم مجتهد كی طرف رجوع كریں اس كے بعد میت كی تقلید پر باقی رہنے كے مسئله میں اس كی نظر كے مطابق عمل كریں۔(۲)

حوالہ جات:

[۱] ۔تمام مراجع كا دفتر؛عروة الوثقی،جلد۱،باب التقلید،مسئله۶۳۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله،۹؛نوری توضیح المسائل،مسئله۹؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۲۳؛وحید صاحب كا دفتر۔

۱۸

احتیاط كامطلب

سوال نمبر۱۶:احتیاط واجب اور احتیاط مستحب كی وضاحت فرمائیں؟

اگر مرجع تقلید(مجتهد)نے كسی مسئله میں كوئی فتویٰ نہیں دیا اور احتیاط واجب كها تھا تو مقلد اس كو ترك نہیں كرسكتا بلكه وه احتیاط واجب پر عمل كرسكتاہے یا اس مسئله میں كسی دوسرے مرجع كی طرف(الاعلم فالاعلم)(۱)

كالحاظ كرتے ہوئے رجوع كرسكتاہے۔اوراگراس نے كسی مسئله میں احتیاط مستحب كها تو اس كا ترك كرنا مقلد كے لئے جائز ہے اگرچه اس كا انجام دینا ثواب اور اجر كا باعث ہوگا۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔الاعلم فالاعلم،سے مراد یه ہے كه مقلد كسی ایسے دوسرے مجتهد كے فتویٰ پر عمل كرسكتاہے جس كا علم اس كے اپنے مجتهد سے كم لیكن بقیه دوسرے مراجع تقلید سے زیاده هو،اور اگر دوسرا مرجع(مجتهد)بھی اس مسئله میں احتیاط واجب كهتاهو تو پھروه كسی ایسے تیسرے مرجع كی طرف رجوع كرسكتاہے جس كا علم دوسرے والے مرجع سے كم هو لیكن بقیه دوسرے مراجع سے زیاده هو اسی طرح۔۔۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله،۷اور۸۔

۱۹

جاہل قاصر اور مقصر

سوال نمبر۱۷: جاہل قاصر اور جاہل مقصر سے كیا مراد ہے؟

“جاہل قاصر”اسے كهتے ہیں جس نے علم كو حاصل كرنے میں (باالفاظ دیگر مسئله كو جاننے میں)كوئی كوتاہی نہیں كی ہے۔

یعنی اس كے ساتھ ایسے حالات رہے ہوں جنكی وجه سے اس كے لئے حكم خداتك رسائی ممكن نه تھی یا یه كه وه خود كو جاہل نہیں جانا اور اپنے اعمال كے باطل ہونے كا احتمال بھی نہیں دیتاہے۔

“جاہل مقصر”اسےكهتے ہیں جس نے مسئله كو جاننے میں كوتاہی كی ہے یعنی اس كے پاس احكام خدا كو سكیھنے اور جاننے كا امكان تھا لیكن اس نے سیكھا نہیں یامعلوم نہیں كیا۔

جاہل قاصر بعض مواقع پر خداوند متعال كے عذاب و عقاب سے بچ جاتاہے لیكن جاہل مقصر نہیں بچ سكتاہے۔(۱)

حوالہ :

(۱)فرائد الاصول،جلد۲،صفحه۳۷۴اور۳۷۹؛نتقیح فی شرح العروة الوثقیٰ(كتاب الاجتهاد والتقلید)مسئله۱۶،صفحه۱۹۵اور۲۰۲۔

۲۰