گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6656
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6656 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱۔العروة الوثقیٰ،جلد۲،زكات الفطره،فصل ۲،مسئله۲۔

۲۔امام خمینی،استفتاءات،جلد۱،زكات،سوال۱۷؛آیت الله خامنه ای،استفتاءات ،سوال۸۶۰۸۵۹اور۸۶۳؛فاضل،جلد۱،سوال ۸۷۶؛تبریزی،استفتاءات،سوال،۷۸۰، ۷۸۱، وحید،بهجت اورسیستانی كے دفاتر۔

۳۔ آیت الله نوری،استفتاءات،جلد۲،سوال۳۰۲۔

۴۔آیت الله مكارم،استفتاءات،جلد۱،سوال۳۶۹۔

۵۔آیت الله صافی،جامع الاحكام ،جلد۱،سوال۵۶۳۔

۶ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۰۰۸؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۰۴۔

۷۔العروة الوثقیٰ،جلد۲،زكاة الفطره،فصل۲،مسئله ۱۲۔

۸۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۹۴۸؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۹۴۴۔

۹۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۹۴۸؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۱۹۴۴؛خامنه ای،استفتاءات،سوال ۸۸۰۔

۱۲۱

اعتكاف كےاحكام (اعتكاف كی اہمیت )

سوال نمبر۱۹۱: اعتكاف كی اہمیت اور اس كی كیفیت كے بارے میں وضاحت فرمائیں؟

> وَعَهِدْنا إِلى‏ إِبْراهِیمَ وَ إِسْماعیلَ أَنْ طَهرا بَیتِی لِلطَّائِفینَ وَ الْعاكِفینَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُود < (بقره،آیت ۱۲۵)

اور ابراہیم علیه السّلام و اسماعیل علیه السّلام سے عہد لیا کہ ہمارے گھر کو طواف اور اعتکاف کرنے والوں او ر رکوع و سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک و پاکیزہ بنائے رکھو”۔

لغت میں“اعتكاف”كا معنی كسی جگه پرٹھہرنا اور ركنا ہے۔

اورفقه كی اصطلاح میں اعتكاف كا مطلب خداوند عالم كی عبادت كے قصد سے كچھ خاص شرطوں كے ساتھ كم سے كم تین دن تك مسجد میں رہنا ہے۔

اعتكاف كے كاآغازحضرت ابراہیم علیه السلام كےزمانه میں ہوا اور اں كے بعدبعض شریعتوں اور كچھ صالح لوگ كو جیسے حضرت مریم اور حضرت زكریا كی سیرت میں اس كا رواج نظر آتا ہےدین اسلام كی آمد كے ساتھ اس عمل نےایك نیارخ پایا اور مسلمانوں كے درمیان خاص آداب وشرائط كے ساتھ ایك مستحب عبادت كے عنوان سے رائج ہوا۔

اعتكاف ایك مستحب عبادت ہے اور اس كی بهت زیاده فضلیت ہے اورانسان كی روح و جان كو ایك خاص طرح كا سكوں عطاكرتی ہے۔ پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال رمضان كے مہینه میں(خاص طور سے اس كے آخری دس دنوں میں)اعتكاف كرتے تھے۔

“اور اپنے بستر كو اٹھا نے اور مسجد میں ایك چادر(خیمه)لگانے كا حكم دیتے تھے اور ہم یشه فرمایاكرتے تھے:رمضان كے مہینے میں دس دن كاعتكاف دوحج اور دو عمره كے برابر ہے”۔(۱)

اعتكاف كی بهت سی حكمتیں اور فایدے ہیں جن میں سے كچھ اس طرح ہیں:

الف: غور وفكر كرنا اور عقل كے استعمال كی مناسب فرصت فراہم ہونا۔

ب: توبه اور (خداكی طرف)واپسی كے لئے موقع ملنا۔

ج: دعا،نماز اور قرآن كی تلاوت كرنے كے لئے موقع ملنا۔

د: محاسبه نفس اور خودسازی كاایسا مختصر موقع جس میں كم سے كم مدت تین دنوں كےوقفه میں انسان نفسانی و خواہشتات ، عادتوں اور زندگی كی تمام مصروفیتوں سے آزادی پالیتاہے۔

اعتكاف كے سلسله میں چند باتوں كا خیال ركھنا ضروری ہے:

۱-اعتكاف بذات خود مستحب ہے لیكن بعض اوقات نذر ،عهد اور قسم وغیره كی وجه سے واجب بھی ہوجاتاہے۔

۲-اعتكاف چار مسجدوں میں سے كسی ایك میں ہواور یا شہر كی جامع مسجد میں ہونا چا ہ ئیے اس كے علاوه كہیں اور صحیح نہیں ہے۔(۲)

۳-اعتكاف كی كم سے كم مدت تین دن ہے اور اس سےكم میں صحیح نہیں ہے لیكن اس سے زیاده میں كوئی حرج نہیں ۔

۴-اس عبادت كو مردوں كی نیابت میں بھی انجام دیاجاسكتاہے۔

۵-اعتكاف كیلئےكوئی مخصوص زمانه نہیں ہے لهذا وه تمام ایام میں روزه ركھنا صحیح ہوان میں اعتكاف بھی صحیح ہے۔یہی وجه ہے كه،جولوگ روزه نہیں ركھ سكتے (جیسے مسافر،بیمار،حائض اورجوعمداروزه ركھتے ہیں جبكه روزه اس كے لئے مضر ہو)ان كا اعتكاف،صحیح نہیں ہے۔ اس عبادت كو بجالانے كا سب سے بهترین زمانه رمضان كا مہینه اور اس كے آخری دس دن ہیں۔

۶-اگر اعتكاف كی وجه سے شوہر كا حق ضائع ہو رہاہو تو اس كی اجازت كے ساتھ ہوناچاهئیے۔

۷-اگر عتكاف،باپ اور ماں كی اذیت كا باعث ہو تو ان دونوں كی اجازت ضروری ہے ۔

حوالہ جات:

۱ ۔اعتكاف عشر فی شهررمضان،یعدل حجتین وعمرتین،وسائل الشیعه،جلد۱۰،ابواب الاعتكاف،اور اللمعة الدمشقیه،كتاب الاعتكاف۔

۲ ۔جامع مسجد اس مسجد كو كهتے ہیں جس میں هر طرح كے لوگ نماز پڑھنے كے لئے حاضر هوتے هوں اور وه كسی محله یا خاص گروه سے مخصوص نه هو ۔

اور چار مسجدوں سے مراد :

مسجد الحرام،مسجدالنبی،(مدینه)مسجد كوفه اور مسجد بصره هے

۱۲۲

محرمات اعتكاف

سوال نمبر۱۹۲: اعتكاف میں كونسی چیزیں حرام ہیں۔

اعتكاف میں مندرجه ذیل چیزیں حرام ہیں۔

۱- میاں بیوی كا ایك دوسرے سے رابطه۔

۲- غیر ضروری چیزوں كی خرید و فروخت۔

۳- استمنا(احتیاط واجب كی بنا پر)۔

۴- عطر اور پھولوں كی خوشبو كو لذت كے قصد سے سونگھنا۔

۵- دوسرےپر غلبه اور برتری پانے یا اپنی تعریف كے لئے مجادله كرنا۔

اعتكاف كی جگه

سوال نمبر۱۹۳: اس بات كے پیش نظر كه اعتكاف شہر كی جامع مسجد میں ہونا چاہیئے كیا اعتكاف یونیورسٹی كی مسجد میں رجاء كی نیت سے انجام دیا جاسكتاہے؟

خامنه ای:قصد رجاء كی صورت میں حرج نہیں ہے۔(۱)

تمام مراجع(آیت الله خامنه ای كے علاوه)تمام مراجع كی نظر میں یونیورسٹی كی مسجد وں میں اعتكاف صحیح نہیں ہے۔(۲)

حوالہ جات: ۱ ۔خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۴۹۔

۲ ۔دفتر تمام مراجع۔

۱۲۳

یونیورسٹی میں اعتكاف

سوال نمبر۱۹۴: آیا اعتكاف كے دنوں میں،كلاس یا درس وغیره میں شركت كی جاسكتی ہے؟

تمام مراجع:مسجد سے خارج ہونا اور كلاس میں شركت كرنا باعث اشكال ہے۔(۱)

اعتكاف كی نذر

سوال نمبر۱۹۵: اس بات كے پیش نظر كه اگرمراجع كے نزدیك اعتكاف فقط شہر كی جامع مسجد میں صحیح ہے كیا Students نذر كرسكتے ہیں كه ۳ دن كالج كی مسجد میں جمع ہو كر ایك ساتھ نماز روزه اور دوسری عبادتیں بجالائیں گے ۔

تمام مراجع:جی ہاں،اس طرح كی نذر صحیح ہے۔(۲)

نوٹ:جیسی نذرہو اس طرح پورا كرنا ضروری ہے البته اس لئے عبادت كے دن یا وقت كو بدل سكتےہیں ۔

سوال نمبر۱۹۶: كیامسجد كے صحن میں اعتكاف صحیح ہے یا نہیں ؟اسی طرح مسجد كے basement اورچھت پر؟

تمام مراجع:اگر مسجد كے جزء میں شمار ہو تو صحیح ہے۔(۳)

حوالہ،جات:۱۔نوری،استفتاءات،جلد۲،سوال۲۷۶؛سیستانی، orig ۔ Sistan اعتكاف؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۵۱۵؛فاضل،جامع المسائل،جلد۲،سوال۴۶۲ ، دفتر خمینی؛خامنه ای ،مكارم،تبریزی،وحید،بهجت ۔

۲ ۔تمام مراجع كرام كے دفتر۔ ۳ ۔العروة الوثقیٰ،شرائط الاعتكاف،مسئله۲۰۔

۱۲۴

اعتكاف كے وقت مطالعه

سوال نمبر۱۹۷: كیا اعتكاف كی حالت میں درس كا مطالعه یا مسئله وغیره حل كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع:جی ہاں، اس میں كوئی حرج نہیں۔(۱)

بغیرروزه كے اعتكاف

سوال نمبر۱۹۸: بیماری كی وجه سے روزه ركھنے سے معذور فرد بغیر روزه كے اعتكاف کر سكتے ہیں؟

تمام مراجع:نہیں،كیونكه روزه اعتكاف كی شرط ہے۔(۲)

نوٹ:خود مسجد میں توقف كرنا اور عبادت و غیره انجام دینا مستحب ہے اور ثواب بھی ركھتاہے چاہے اعتكاف كے عنوان سےنه بھی ہوں۔

اعتكاف كاروزه

سوال نمبر۱۹۹: آیا اعتكاف كی حالت میں قضا روزے ركھےجاسكتےہیں؟

تمام مراجع: جی ہاں جائز ہے۔(۳)

حالت اعتكاف میں فون

سوال نمبر۲۰۰:كیا مسجد میں غیر ضروری موقع پر مؤبائل كے ذریعه گفتگو كی جاسكتی ہے اور اس كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اس میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

۱۲۵

اعتكاف كو بیج میں چھوڑدینا

سوال نمبر۲۰۱: آیا اعتكاف كوبیج میں چھوڑاجاسكتاہے؟

تمام مراجع:اگر اعتكاف واجب ہو یا مستحبی اعتكاف دودن نے كے بعد چھو ڑنا چاه رہے ہیں تو گناه ہے۔(۵)

نوٹ:اگر كوئی ترك اعتكاف كے گناه سے بچناچاهتاہےتو،نیت كرتے وقت ہی یه شرط كرسكتاہے كه كسی عذر یا مشكل كے سبب اعتكاف چھوڑ سكتاہے تو ایسی صورت میں اگر درمیان میں چلاجائے تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۶)

اعتكاف سے خارج ہونا

سوال نمبر۲۰۲: كن صورتوں میں مسجد سے خارج ہوناجائزہے؟

تمام مرجع:مسجد سے خارج ہونا جائز نہیں ہے مگر یه كه كوئی عقلی،عرفی یا شرعی ضرورت ہو،جیسے علاج كے لئےڈاكٹر كے پاس جانا،بیت الخلا جانا(عقلی ضرورت)بیمار كی عیادت،ایسے شخص كے تشیع جنازه میں جو آشناہو(ضرورت عرفی)غسل كرنا،وضوكرنا (شرعی ضرورت)۔(۷)

اعتكاف اور مسجد

سوال نمبر۲۰۳: اگر كوئی كسی ضرورت كے تحت مسجد سے باہرجائے اور بهت دیر تك باہر رہے تو اس كے اعتكاف كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر باہر رہنا اس قدر طولانی ہو جائے كه حالت اعتكاف سے خارج ہوجائے تو اعتكاف باطل ہے۔(۸)

اعتكاف میں جمعه كی نماز

سوال نمبر۲۰۴: آیا نماز جمعه كے لئے اعتكاف كی جگه سے خارج ہوسكتاہے ؟

تمام مراجع (آیت الله تبریزی،نوری ،وحید كے سوا):جی ہاں،جائز ہے۔(۹)

آیت الله تبریزی،وحید:احتیاط واجب كی بنا پر جائز نہیں ہے۔(۱۰)

آیت الله نوری :جائز نہیں ہے۔(۱۱)

نوٹ:وه لوگ جو اعتكاف میں نماز جمعه كے لئے باہر جانے كو جائز سمجھتے ہیں ان كے نزدیك بھی كم سے كم وقت كی رعایت ضروری ہے تاكه اعتكاف كی حالت نه بدل جائے۔

۱۲۶

حوالہ جات:

۱ ۔مذكوره حواله ،كتاب الاعتكاف۔

۲ ۔ العروة الوثقیٰ،شرائط الاعتكاف،مسئله۴۔

۳ ۔سابق ،حواله۔

۴ ۔تمام مراجع كے دفاتر۔

۵ ۔العروة الوثقیٰ،شرائط الاعتكاف،مسئله۳۹۔

۶- العروة الوثقیٰ،شرائط الاعتكاف،مسئله۴۰۔

۷ ۔امام خمینی،آیت الله نوری،مكارم،فاضل،تعلیقات علی العروه ،الاعتكاف،مسئله۳۰؛صافی،هدایة العباد،ج۱،مسئله۱۴۱۲؛بهجت،وسیلة النجاة،ج۱،مسئله۱۲۰۳،تبریزی ، سیستانی، وحید،منهاج الصالحین،الاعتكاف۔

۸ ۔مذكوره حواله،مسئله۳۷۔

۹ ۔امام خمینی ،تحریر الوسیله،ج۱،شروط الاعتكاف،مسئله۹،سیستانی،تعلیقات علی العروه،شرائط الاعتكاف،مسئله۳۰،بهجت،وسیلة النجاة،ج۱،مسئله ۱۲۰۳،صافی،هدایة العباد، ج۱، مسئله۱۴۱۲،مكارم ،استفتاءات ج۲،سوال ۴۴۹۔فاضل،جامع المسائل،ج۱ سوال ۶۱۹۔

۱۰ ۔آیت الله وحید،منهاج الصالحین،ج۲،الاعتكاف،السادس،تبریزی،منهاج الصالحین،ج۱،الاعتكاف،السادس۔

۱۱ ۔آیت الله نوری صاحب كا دفتر۔

۱۲۷

خمس كے احكام (خمس كی اہمیت )

سوال نمبر۲۰۵: خمس اور اس كی اہمیت كے بارمیں توضیح فرمائیں؟

> وَ اعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَی‏ءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَ لِلرَّسُولِ وَ لِذِی الْقُرْبى‏ وَ الْیتامى‏ وَ الْمَساكینِ وَ ابْنِ السَّبیلِ < ( انفال،آیت ۴۱)

اور یہ جان لو کہ تمہیں جس چیز سے بھی فائدہ حاصل ہو اس کا پانچواں حصہ اللہ ،رسول،رسول کے قرابتدار ،ایتام ،مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے”

لغت میں“خمس كا معنی ٰ”پانچواں حصه ہے اور فقه كی اصطلاح میں كھیتی ،كاروربار،تجارت،تحقیق یامختلف اداروں میں نوكری ملازمت كے ذریعه حاصل ہونے والی رقم كا پانچواں حصه ادا كرنا ہے۔

(البته ہدایا انعامات،اور وه فائده بغیر محنت اور كمائے حاصل ہو اس كے سلسله میں مراجع عظام كے درمیان نظریاتی اختلاف ہے جس ك طرف عبارت میں اشاره ہے)

خمس كا تعلق امام زمانه(علیہ السلام)اور سادات سے ہے اور اسے غیبت كے زمانه میں فقیه جامع الشرائط كو دنیا چاهئیے۔

( العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله۷۲)

شارع مقدس نے ہر مال كے مالك كو مهلت دی ہے كه جس مال كو ایك سال تك اپنی اوراپنے عیال كی ضرورتوں میں استعمال نه كیا ہو اور پورے كاپورا یااس كا كچھ حصه سال كے آخر تك بچ جائے اس میں خمس نكالے۔

خمس كی آیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)كے زمانه میں نازل ہوئی اور پیغمبرگرامی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس فریضه پر عمل كیا قطعی طور پر آنحضرت ؐ جنگی غنائم كے خمس كو لیتےتھے لیكن تجارت وكاروبار كے منافع كا خمس (مصلحتوں اور ضرورت كی بناپر)ائمه علیہم السلام كے زمانه تك نہیں لیاگیالیكن اماموں كے دور میں اس كے وجود كا انكار نہیں كیا جاسكتاہے۔(۱)

خمس اسلامی فرائض میں سے ہے قرآن مجید نے اسے جهاد كے ساتھ قرار دیا اور دونوں كو ایمان كی جڑ اوربنیاد بتایاہے كیونكه ایمان كی صداقت كی پهچان ،مال و دولت كو جمع كرنے كی خواهش سے لڑنا اور نفس كو پاك طاہر كرنا ہے۔

حضرت امام محمدباقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں:

جس مال میں خمس واجب ہو اس سے خرید و فروخت حرام ہے مگر یه كه ہم ارے حق كو ہم تك پهنچادے۔(۲)

سوره“انفال”كی آیت ا۴،واضح اور صریح طور پر خمس كے وجوب پر دلالت كرتی ہے ۔

اسی وجه سے شیعه اور سنی دونوں اس كی اصل و حقیت پر اتفاق نظر ركهتے ہیں۔

البته یه ممكن ہے كه بعض چیزوں كے سلسله میں(جیسے كاروبار كے منافع)آیت كی دلالت واضح اور روشن نه ہو لیكن اس میں شك نہیں كه متعدد روایات سے منفعت میں بھی خمس كا وجوب،ثابت كیا جاسكتاہے۔(۳)

خمس كے مختلف اسرار اور حكمتیں ہیں جن میں سے بعض كی طرف اشاره كیا جارہا ہے:

۱- حكومت كے ذمه دار اور حاكم كی حیثیت سے امام(علیہ السلام)كےاخراجات كو پورا كرنے كے لئے خمس واجب ہواہے(۴)

تاكه معاشره كی دیكھ بھال اور اسلامی نظام كو آگےبڑھایاجاسكے ۔ اس لئے روایت میں خمس كو“وجه الاماره”(حكومتی رقم)سے یاد كیا گیا ہے۔(۵)

۲- خداوند عالم نے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)كی عزت و كرامت كی حفاظت كے لئے بنی هاشم اور آنحضرت سے منسوب فقراء كے اخراجات كو خمس كے ذریعه ادا كرایاہے اور ان كے حصه كو اپنے اور رسول كے حصه سے نزدیك كیاتاكه تحقیر سے محفوظ رہیں۔(۶)

۳- خمس تمام نیك كام اور امام كی صلاح دید كے مطابق كاموں میں خرچ كیا جاسكتا۔(۷)

۴- خمس انسان كے كمال و رشد كے لئے ایك وسیله سمجھاگیاہے جس كی ادائیگی روزی میں اضافه كا سبب اور گناہوں كی بخشش كا ذریعه ہے۔(۸)

۵- خمس كو خداكے دین كو زنده ركھنے اور اسلامی حكومت كے قیام كے لئے واجب قرار دیاگیاہے۔(۹)

سوال نمبر۲۰۶: مؤونه كسے كهتے ہیں؟

مؤونه ان اخراجات كو كها جاتاہے جو زندگی میں پیش آتے ہیں اور مندرجه ذیل موارد اس میں شامل ہیں۔

۱- ذآتی زندگی كے اخراجات : جیسے كھانا پینه،لباس،گھر،زندگی كے وسائل و ضروریات،گاڑی،تعلیم سے متعلق ضروریات كمپیوٹر،شادی كا خرچ اور۔۔۔

۲- هدایا اور بخشش جیسے:خیرات،صدقے،انعامات اور۔۔۔

۳- (واجب او رمستحب) سفر،زیارت،سیاحت و تفریح كے سفر كے اخراجات۔

۴- وه حقوق جو انسان كے ذمه ہوتے ہیں:جیسے دیت،خسارت اور كفاره۔(۱۰)

۱۲۸

بیوی كی كمائی كا خمس

سوال نمبر۲۰۷: كیا اس بیوی كی كمائی ہوئی رقم پرخمس ہے جس كے اخراجات كو شوہر پورا كرتاہے؟ جواب: تمام مراجع حضرات:جی ہاں،اس میں خمس نكالنا واجب ہے۔

لیكن اگر اس كی كمائی ہوئی رقم سے تھوڑا بهت زندگی كی ضروریات پرخرچ كردیاہو تو صرف بچی ہوئی رقم پر ہی خمس دینا ہوگا۔

( توضیح مراجع،مسئله۱۷۵۷؛نوری،توضیح ،مسئله۱۷۵۳،العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله ۸۳،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۹۹۶؛ وحید توضیح، مسئله۱۲۶۵)

۱۲۹

حوالہ جات:

۱ ۔خوئی،سید ابوالقاسم،مستند العروة الوثقیٰ،كتاب الخمس،ص۶،هاشمی،شاهرودی،سید محمود،كتاب الخمس،ج۲،ص۴۵اور مدرسی،محمد تقی،احكام الخمس،ص۱۶۔

۲ ۔ وَ لَا یحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یشْتَرِی مِنَ الْخُمُسِ شَیئاً حَتَّى یصِلَ إِلَینَا حَقَّنَا ،وسائل،ج۶،باب۱،حدیث۴۔

۳ ۔رجوع كریں:وسائل الشیعه،ابواب مایجب فیه الخمس وابواب الانفال۔

۴ ۔آیت الله ناصرمكارم، شیرازی،یكصد وهشتاد پرسش وپاسخ ،ص۴۲۳، ۴۲۵اور تعلیقات علی اعروه كتاب الخمس،ص۳۹۲۔

۵۔ رجوع كریں:وسائل الشیعه،ج۶،كتاب الخمس،باب۲،حدیث ۱۲۔

۶ ۔ رجوع كریں:وسائل الشیعه،ج۶،ابواب قسمة الخمس،باب۱،حدیث ۴اور۸۔

۷۔ فَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ لِرَسُولِهِ ص یضَعُهُ حَیثُ شَاء،جوچیز خداکیلئے اس میں پیغمبر (ص)كو حق حاصل هے كه جهاں صلاح سمجھیں اسے وهاں قرار دیں)مذكوره حواله،ابواب الانفال،باب ۱،حدیث۲۔

۸۔امام رضا(علیہا السلام)نے اپنے ایك صحابی كو خط كے جواب میں لكھا:ان اخرجه(خمس)مفتاح رزقكم و تمحیص ذنوبكم،خمس كا نكالنا روزی میں اضافه هونے كی چابھی او رگناهوں كی بشش كا ذریعه هے،حواله سابق،ابواب الانفال ،باب۳،حدیث۳۔

۹۔اسكے جواب هے كه:ان الخمس عوننا علی دیننا،خمس خداكے دین كے نفاذ میں ہماری مدد هے۔

۱۰۔العروة الوثقیٰ،ج۲،كتاب الخمس،مسئله۶۱،لوگوں كی شان اور ضرورت سے زائداخراجات جزء مؤونه نہیں ہیں لهذا اگر اس سے زیاده رقم خرچ كی گئی اس طرح سے كه عرف و معاشره میں اسراف كهلائے تو خمس كی تاریخ آنے پر اس كا خمس دینا ضروری ہوگا۔

۱۳۰

تعلیمی وظیفه كا خمس:

سوال نمبر۲۰۸:وه رقم جو اسٹوڈنٹ كو تعلیمی وظیفه كے عنوان سے ملتی ہے اس میں خمس ہے؟

تمام مراجع حضرات:جی ہاں،بشرطیكه سا ل كے اخراجات سے زائد ہو۔(۱)

توضیح:كسی دبیر وسكرٹیری شپ كا وظیفه پانے والے اسٹوڈنٹ وه لوگ ہیں جو كچھ سال تك تعلیم حاصل كرتے ہیں اور اس عرصه میں یونیورسٹی یا متعلقه وزارت خانوں سے وظیفه اور تنخواه بھی پاتے ہیں اور اس بات كا عهد كرتے ہیں كه تعلیم كے مكمل ہوجانے كے بعد حاصل شده وظائف كے مقابله میں خدمت كریں گے۔یه حقوق دوسرے منافع سےالگ نہیں ہیں لهذا ان میں بھی خمس دیاجائے گا۔

فكس ڈپازٹ(جمع رقم) كا خمس

سوال نمبر۲۰۹ :كیا جن پیسوں كو بینك میں فكس ڈپازٹ كے طور پركھدیاجاتاہے اور اس كے (سود)منافع سے خرج چلتا ہے ان میں خمس نكالاجائے؟

امام خمینی،آیت الله سیستانی،خامنه ای،فاضل اور مكارم:اگر فكس ڈپازٹ كی رقم كاروباركے منافع سے حاصل ہو تو اس پر خمس ہے لیكن(اگر)خمس اداكرنے كی وجه سے(چاہےقسط كی صورت میں)اپنی زندگی كے اخراجات پورا نه كرسكے تو خمس نہیں ہے۔(۲)

آیت الله بهجت،تبریزی،اور نوری:اس رقم كا تعلق اگر تجارت اور كاروبار كے منافع سے ہو تو جمع كی گئی رقم میں سے(جتنی رقم كا تعلق زندگی كے اخراجات سے ہو)اس میں خمس نہیں ہے لیكن اس سے زائدمقدار میں خمس نكالاجائے۔(۳)

آیت الله صافی اوروحید:اگر جمع كی گئی رقم كاروبار سے حاصل ہوئی ہو تو اس میں خمس ہے لیكن اگر اس كا خمس نكا لنے سے اخراجات پورے نہیں ہوں تو حاكم شرع سے دوباره حاصل كرسكتاہے۔(۴)

وضاحت :(۱)اس كے حاصل ہوئے سود میں خمس ہے۔

وضاحت:(۲)اگر جمع كی گئی رقم هدیۀ انعام اور اس جیسے راسته سے ملی ہو تووه اپنی اصل كا حكم ركھتی ہے۔(۵)

ہدیه كا خمس

سوال نمبر۲۱۰: اگر كسی شخص كو كوئی چیز ہدیه یاانعام كے طور پر دی جائے تو اس كا خمس دینا واجب ہے؟

امام خمینی، آیت الله خامنه اور نوری:ہدیه پر خمس نہیں ہے۔(۶)

آیت الله سیستانی اور صافی،اگر خمس كی تاریخ تك اس میں سے كچھ بچ جائے تو اضافه مقدار میں خمس ہے۔(۷)

آیت الله بهجت،فاضل اور مكارم:اگر خمس كی تاریخ تك اس میں سے كچھ بچ جائے تو احتیاط واجب كی بناءپر اس میں خمس دینا ضروری ہے۔(۸)

آیت الله تبریزی اور وحید:اگر اس كی مقدار زیاده ہو اور سال كے اخراجات سے‌زیاده ہو تو زائد مقدار میں خمس دیا جائے گا۔(۹)

۱۳۱

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۵۲؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۱۷۵۳،العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله ۸۳؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۹۹؛ وحید،صاحب كا دفتر۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۱۷۵۲؛نوری ،توضیح المسائل،مسئله ۱۷۴۸؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،سوال ۹۹۵ اور وحید توضیح المسائل ،مسئله۱۲۶۰۔

۳ ۔آیت الله نوری،استفتاءات ج۱،سوال۲۷۱،تبریزی،التعلیقه علی منهاج الصالحین،مسئله ۳۲،تبریزی،استفتاءات،سوال ۹۴۸،اور بهجت،توضیح المسائل، مسئله۱۴۰۱۔

۴ ۔دفتر :آیت الله صافی،وحید۔

۵ ۔رجوع كریں:ہدیه كا خمس۔

۶ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۵۳؛ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۵۰،آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله ۱۷۴۹۔

۷ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۵۳۔

۸ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۵۳۔

۹ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۵۳؛آیت الله وحید،توضیح المسائل مسئله۱۷۶۱۔

۱۳۲

بینك میں ڈپازٹ پیسوں كا خمس

سوال نمبر۲۱۱: جوپیسه، ضروریاتِ زندگی كی خریدکیلئےجمع كیا جاتاہے كیا اس پر خمس ہے؟

امام خمینی، آیت الله تبریزی،سیستانی،مكارم اور وحید:اگر اس كو جمع كئے ایك سال ہوگیا ہو تو اس پر خمس ہے۔(۱)

آیت الله صافی:اگر اسے ان وسائل كی ضرورت ہو اور چند سال پیسه جمع كئے بغیر انہیں فراہم نہیں كرسكتا تھا تو اس پر خمس نہیں ہے۔(۲)

آیت الله خامنه ای:اگرضروری اخراجات كے لئے پیشه جمع كیاہو اورعنقریب چندمهنوں میں ضرورت ہو تو جمع شده رقم پر خمس نہیں ہے۔(۳)

نوری:اگر جمع كئے بغیروه آئنده اپنےاخراجات پورے نه كرسكے تو اس پر خمس نہیں ہے۔(۴)

آیت الله بهجت اور فاضل:اگر وه پیسه جمع كئے بغیر مستقبل میں اپنی ضروریات پئرل تع كرسكتا ہو اور مختصر مدت(مثال كے طورپر تین سا ل تك)كے لئے رقم جمع كی گئی ہو تو خمس نہیں ہے۔(۵)

نوٹ: لیكن اگر جمع كی گئی رقم سے وه اپنےاخراجات پورے نه كرے تو اسكا خمس دینا ضروری ہے

مكان كے لون كا خمس

سوال نمبر۲۱۲: كیامكان خریدنے كی غرض سے بینك میں ركھی گئی رقم پر خمس ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،خامنه ای،سیستانی،مكارم اور وحید:جی ہاں اس رقم پر خمس ہے۔(۶)

آیت الله بهجت،فاضل اور نوری:اگر اپنی ضرورت كے مطابق گھربنانے كے لئے اس كے سواكوئی اور راسته نه ہو تو جمع كی گئی رقم پر خمس نہیں ہے۔(۷)

آیت الله صافی:اگر اس وقت اس كی ضرورت اور شاں كے مطابق رہنے كے لئے گھر كی ضرورت ہے اور مذكوره راسته كے سوا كوئی چاره بھی نہیں ہے تو اس رقم پرخمس نہیں ہے۔(۸)

نوٹ:جن مراجع حضرات كے نظریه كے مطابق مذكوره پیسه پر خمس نہیں ہے لیكن اگر اس جمع رقم سےمستقبل میں گھر نه خریدا جائے تو اس پیسه میں خمس نكالنا ضروری ہے۔

عمره كے لئے دی گئی رقم كاخمس

سوال نمبر۱۲۱: میں ایك میڈیكل سائنس كا اسٹوڈنٹ ہوں مجھے نو مہینے كاوظیفه ایك ساتھ ملاہے میں نے اس رقم كو عمره كے لئے قافله سالار كو دئے ہیں ،كیا اس پیسه پر خمس ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،فاضل اور وحید:جی ہاں،اگر خمس كی تاریخ تك عمره كے لئےنه گئے تو اس پر خمس ہے ۔(۹)

آیت الله صافی،مكارم اور نوری:جی نہیں اس پر خمس نہیں ہے۔(۱۰)

آیت الله بهجت:اگر عمره پر جانے كا صرف یہی راسته ہو كه پهلے پیسه جمع كیاجائے تو اس پر خمس نہیں ہے۔(۱۱)

آیت الله خامنه ای:اگر حج و زایارت كمیٹی كے توافق نامو( Agriment )كی بنیاد پر قیمت یا سفر حج (عمره)كی اجرت كے عنوان سے مذكوره رقم دی گئی ہو تو خمس نہیں ہے۔(۱۲)

۱۳۳

حوالہ جات:

۱۔امام،خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۲۴،تبریزی،استفتاءات،سوال۸۵۶،سیستانی

sistani ۔ orig خمس شماره۸،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۵۱۶،دفتر آیة الله وحید۔

۲ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۷۳۸۔

۳ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۸۷، ۸۶۰۔

۴۔ آیت الله نوری، الاستفتاءات،ج۲،سوال۳۳۰۔

۵۔آیت الله بهجت، توضیح المسائل،مسئله۱۳۹۱،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۷۴۸۔

۶۔مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۵۳۳،تبریزی،استفتاءات،سوال۸۸۹،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۰۸،سیستانی، org ۔ sistani خمس شماره۱۰،دفتر امام خمینی اور وحید خراسانی۔

۷۔بهجت، توضیح،مسئله۱۳۹۱،فاضل،جامع المسائل، ج۱، سوال۶۷۷، نوری، استفتاءات، ج۲،سوال۳۲۸

۸۔صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۷۰۶۔

۹۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۱۰۸،تبریزی،استفتاءات،سوال۸۷۳،فاضل،جامع المسائل،ج۲،سوال۴۹۳،دفتر وحید خراسانی اور سیستانی۔

۱۰۔صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۷۰۱،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۵۴۱،دفتر نوری،۔

۱۱ ۔آیت الله بهجت ،وسیلة النجاة،مسئله۱۳۸۹۔

۱۲۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۷۲۔

۱۳۴

زمین كا خمس

سوال نمبر۲۱۴: میں نے اپنی در آمد سے ایك زمین خریدی ہے تاكه دوسال بعد اس پر گھر بنوا كر رہوں كیا خمس كی تاریخ آنے پر اس كا خمس نكالنا ہوگا؟

تمام مراجع حضرات(آیت الله تبریزی ،مكارم اور وحید كے علاوه):اگر گھر بنانے كے لئے اس كے سوا كوئی اور راسته نه ہو تو اس پر خمس نہیں ہے۔(۱)

مكارم:خمس نہیں ہے۔(۲)

تبریزی اور وحید:موجوده قیمت كے لحاظ سے زمین كا خمس نكالنا ضروری ہے۔(۳)

رہن(پگڑی)كاخمس

سوال نمبر۲۱۵: كاروبار كے ذریعه حاصل ہوئی در آمدكاپیسه جورہن كےطور پر مكان مالك كو دیاجاتاہے كیا اس پر خمس ہے؟

امام خمینی اور آیت الله سیستانی:خمس ہے اور جب بھی وه رقم مل جائے یا اس كا حاصل كرنا ممكن ہوتو فوراً اس كا خمس ادا كردینا چاہیئے۔(۴)

آیت الله صافی اور مكارم:پگڑی كی رقم خرچ میں شمارہوتی ہے اس لئے اس میں خمس نہیں ہے لیكن اگر اسے واپس لے لیا اور پھر اس كی ضرورت نه ہو تو احتیاط كی بناءپر اس كا خمس ادا كیا جائے۔(۵)

آیت الله بهجت،فاضل،تبریزی اور وحید:اگرپگڑی كے بغیر گھر كاحاصل كرنا ممكن نه ہو تو اس پرخمس نہیں ہے لیكن جب بھی اس رقم كو واپس لے گا یاپھر اس كی ضرورت نه ره جائے اور سال كے اخراجات سے زائد ہو تو اس پر خمس ہے۔(۶)

آیت الله نوری:اگرگھر كرایه پر لینے كوئی اور راسته نه ہو تو اس رقم پر خمس نہیں ہے۔(۷)

آیت الله خامنه ای:جب تك گھر كے لئے رقم ضروری ہے اس وقت تك ان پر خمس نہیں ہے لیكن جب بھی وه اس رقم كو واپس لے اس میں خمس نكالنا ضروری ہے مگریه كه كسی دوسری جگه كرایه كے طورپر اس رقم كی ضرورت ہو۔(۸)

۱۳۵

حوالہ جات:

۱ ۔امام،استفتاءات،ج۱،سوال۲۳؛نوری استفتاءات،ج۱،سوال۲۸۳؛فاضل جامع المسائل،ج۱،سوال۶۷۵؛بهجت،توضیح المسائل،مسئله۱۳۹۱؛سیستانی، منهاج الصالحین،ج۱، مسئله ۱۲۱۹؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۷۱۹اور خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،سوال۹۰۲، ۹۵۶۔

۲ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۵۱۴۔

۳ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۸۰۴،دفتر آیة الله وحید۔

۴ ۔امام خمینی،استفتاءات،سوال ۱۱۶،دفتر آیة الله سیستانی۔

۵ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۱،سولا۷۰۷،مكارم،استفتاءات،ج۲سوال۵۲۴اور توضیح المسائل،مسئله۵۰۶۔

۶ ۔ بهجت ،توضیح المسائل ،مسئله۱۳۹۶؛فاضل،جامع المسائل،ج۱ سوال۶۸۷ اور۶۸۸؛دفتر آقای وحید اور تبریزی۔

۷ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج،۲،سوال۳۴۴۔

۸۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۹۷اور۹۴۵۔

۱۳۶

ضروری سامان كا خمس

سوال نمبر۲۱۶: ضرورت كے پیش نظر میں نے كچھ سامان خریدا ہے لیكن ان كے خریدنے كے بعد ایك سال سے زایده مدت گزر چكی ہے اور اب تك میں نے انہیں استعمال نہیں كیا،كیا ان پر خمس ہے؟

تمام مراجع(آیت الله سیستانی اور وحید كے علاوه):اگر ضرورت كے پیش نظر لیاگیا تھا تو ان پر خمس نہیں ہے۔(۱)

آیت الله سیستانی:ان پر خمس نكالنا ضروری ہے مگر یه كه ان كا گھر میں ہونا ضروری ہو اور بوقت ضرورت فوراً فراہم كرنا ممكن نه ہواور عام طورسے ایسی چیزكا گھر میں رہنا ضروری ہو تو خمس نہیں ہے۔(۲ )

آیت الله وحید:خمس ہے۔(۳)

نوٹ:اگرچه جرائد اور توضیح المسائل كی عبارتوں میں لفظ كتاب آیاہے لیكن كتاب كی كوئی حضوصیت نہیں ہے اور یه حكم ہر اس سامان كو شامل ہے جس كا انسان ضرورت مند ہو۔

حوالہ جات:

۱- خمینی،استفتاءات،ج۱ سوال۴۱؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال ۷۴۰؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۲۲اور۹۰۴؛نوری،استفتاءات،ج۱، س۔۲۶۷، جامع المسائل، ج۱سوال۷۰۲بهجت،توضیح،۱۳۷۶؛تبریزی،استفتاءات،سوال ۸۸۸، ۸۲۶مكارم، مسئله۱۵۰۷

۲ ۔آیت الله سیستانی،صاحب كادفتر،

۳ ۔آیت الله وحید خراسانی، صاحب كا دفتر۔

۱۳۷

شادی كے لئے جمع كی گئی رقم كا خمس

سوال نمبر۲۱۷:جس رقم كو انسان نے شادی كے لئے جمع كیا ہے كیا اس پر خمس ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی اور مكارم:جی ہاں خمس ہے۔(۱)

آیت الله خامنه ای:اگر عنقریب (مثال كے طورپر خمس كی تاریخ كے تین مہینے بعدتك)ہونے والی شادی كے اخراجات كے لئے جمع كیاہے اور خمس دے دینے كی صورت میں انہیں پورا نه كرسكے تو خمس نہیں ہے۔(۲)

آیت الله نوری:خمس نہیں ہے۔(۳)

آیت الله بهجت اور فاضل :اگر جمع كی مدت مختصر اورمعمول كے مطابق ہو(مثال كے طور پر تین سال تك)تو خمس نہیں ہے۔(۴)

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۲۴؛تبریزی،استفتاءات،سوال۸۸۰؛سیستانی ڈاٹ اوآرجی،خمس شمار۸؛صافی،جامع الااحكام،ج۱،سوال۷۴۷،مكارم، استفتاءات ،ج۲، سوال۵۱۶

۲۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۶۰ اور۹۷۸۔

۳۔ آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۳۳۰۔

۴۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل ،مسئله۱۳۹۱؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۷۴۸

۱۳۸

گاڑی اور موبائل كا خمس

سوال نمبر۲۱۸: اگر آمدنی كا كچھ حصه موبائل اور گاڑی خریدنے كے لئے كمپنی كے اكاونٹ میں جمع كیا جائے اور ایك سال بھی پورا ہو چكا ہو كیا اس پر خمس ہے؟

امام خمینی ،آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی اور وحید:خمس ہے۔(۱)

آیت الله مكارم:اگر بیعانه كے عنوان سے اكاونٹ میں جمع كیا ہے تو خمس نہیں ہے اور اگر امانت كے طورپر جمع كیا ہے تو خمس ہے۔(۲)

آیت الله بهجت،خامنه ای ،فاضل اور نوری:اگر گاڑی كا خرید ناا س كی ضرورت ہو اور ا س كو فراہم كرنے كار استه صرف كمپنی كے اكاونٹ میں پیسه جمع كرنا ہو تو خمس نہیں ہے۔(۳)

نوٹ(۱):اگر كمپنی میں جمع كرده پیسوں پر منافع ہو او رایك سال مكمل ہوجائے تو اس منافع پرخمس ہے۔

نوٹ(۲):مذكوره حكم گاڑی سےمخصوص نہیں ہے بلكه ہر وه ضرورت كاسامان جو بینكنك كے ذریعه خریداجاتاہے ان سب كو شامل ہے۔

قرض الحسنه كا خمس

سوال نمبر۲۱۹: كاروبار كے منافع سے حاصل ہوئی رقم كواگر قرض الحسنه كے عنوان سے دوسرے كو دے دیاہوتوكیا اس پر خمس ہے؟

تمام مراجع كرام:اگر خمس كی تاریخ پر(كسی زخمت كے بغیر)اس كا واپس لینا ممكن ہو تو اس كا خمس ادا كرناضروری ہے ورنه جب بھی وه رقم واپس ملے فوراً خمس نكالاجائے۔(۴)

سكه(سونے كے سكه)كا خمس

سوال نمبر۲۲۰:كیا سكه بهار آزادی(سونے كا سكه) پر خمس ہے؟

تمام مراجع كرام:اگركاروبار كی آمدنی سے لیاگیا ہے اور سال كے اخراجات سے زائد ہو تو خمس ہے۔(۵)

نوٹ(۱):سكه بهارآزادی ضروری اخراجات میں شمار نہیں كیئے جاتے اسی لئے خمس كی تاریخ آنے پر اس میں خمس ہے۔

نوٹ(۲):جومراجع حضرات،ہدیه پر خمس كے قائل ہیں،ان كے نظریه كے مطابق اگر سكه بهارآزادی كسی كو ہدیه میں ملا ہو اور سال كے اخراجات سے زائد ہو تو اس پر خمس ہے۔

سونے پر خمس

سوال نمبر۲۲۱: ایك خاتون نے اپنی تنخواه یا آمدنی سے سونا اور زیور خریدا ہے اور اس كے شوہر كے پاس اتنا پیسه نہیں ہےكه وه اس كے لئے زیور خریدے تو كیا ان جیسی چیزوں كی خرید اری كا خمس عورت پر لازم ہے؟

تمام مرجع كرام:اگررائج مقدار اور اس كی شان كے اعتبار سے ہو تو خمس نہیں ہے۔(۶)

۱۳۹

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۹۸، تبریزی،سیستانی،صافی اوروحید،صاحب كا دفتر۔

۲-آیت الله ناصر،مكارم صاحب كا دفتر۔

۳-آیت الله بهجت،وسیلة النجاة،مسئله۱۳۸۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۷۰۴،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۸۳،نوری،صاحب كا دفتر۔

۴۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۹۶؛آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۸۸۳؛مكارم استفتاءات،ج۱،سوال،۳۱۹؛بهجت توضیح المسائل،مسئله۱۳۷۹؛سیستانی، منهاج الصالحین، ج۱، مسئله ۱۲۵۱؛نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۳۷۲،تبریزی،استفتاءات ،سوال۹۴۶، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۸۷۰، صافی،جامع الااحكام، ج۱،سوال۶۲۱،وحیدخراسانی،كادفتر۔

۵-آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۶۴۹،العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله۱،صافی،جامع الااحكام،ج۱،سوال۶۲۸، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۵۲۔

۶- العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله،۲،توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۲۵۷؛ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۹۸،وحید،توضیح المسائل،مسئله۱۷۸۳۔

۱۴۰