گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6535
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6535 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

خمس كا مصرف

سوال نمبر۲۲۲: خمس كسے دینا چاہیئے؟

امام خمینی:اپنے مرجع یاایسے مجتهد كو جواس كے مرجع تقلید ہی كی طرح ضرورت كا لحاظ كرتے ہوئے خرچ كرتا ہو نیزوه خود بھی ایسی مد میں خرچ كرسكتاہے كه جس كی اس كے مرجع تقلید نے اجازت دی ہو ۔(۱)

آیت الله خامنه ای:خمس ولی امر مسلمین یا اس كے وكیل كو دیاجائے گا اور اگر وه اپنے مرجع تقلید كے فتوی پر نیز عمل كرے تو بری الذمه ہوگا۔(۲)

آیت الله بهجت،فاضل،مكارم،نوریاور وحید:سہم امام(علیہ السلام) كو اپنے مرجع یا ایسے مجتهد كو دے جو اس كے مرج تقلید ہی كی طرح خرچ كرتاہو نیز مرجع كی اجازت سے وه خود بھی خرچ كرسكتا ہے اور سہم سادات كو احتیاط واجب كی بنا پر مرجع تقلید یا اس كی اجازت سے سادات كو دیاجائے۔(۳)

آیت الله تبریزی:سہم امام(علیہ السلام) كو اپنے مرجع كو یا جہاں اس نے خرچ كرنے كی اجازت دی ہے پهنچائے اور اگر وه كسی دوسرےمجتهد كو دینا چاهتاہے تو احتیاط واجب كی بناپر اپنے مرجع سے اجازت لے۔سہم سادات خود ان ہی كو دیاجاسكتاہے۔(۴)

آیت الله سیستانی:سہم امام(علیہ السلام)كو اپنے مرجع كو یا جہاں اس نے خرچ كرنے كی اجازت دی ہے پهنچانا ضروری ہے اور احتیاط واجب یه ہے كه وه مرجع،مفاد عامه سے بخوبی باخبر ہو سہم سادات خود سادات ہی كو دیاجاسكتا ہے۔(۵)

آیت الله صافی:سہم امام(علیہ السلام)كو اپنے مرجع یا ایسے مجتهد كو دےجو اس كے مرجع تقلید كی ہی طرح خرچ كرتے نیز وه خود بھی اس جگه خرچ كرسكتاہے جہاں اس كے مرجع نے اجازت ہواور سہم سادات خود سادات كو دیاجاسكتاہے۔(۶)

نوٹ:خمس كےدو حصه ہیں آدھا سہم امام(علیہ السلام)اور آدھا سہم سادات ہوتاہے۔آیت الله سیستانی،تبریزی،اور صافی،سہم سادات كو دینے كے لئے مجتهد كی اجازت لازم و ضروری نہیں جانتے ہیں۔

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۱۸۳۴۔

۲ ۔ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۰۴اور۱۰۰۲۔

۳ ۔ توضیح مراجع،مسئله ۱۸۳۴، نوری، توضیح،مسئله ۱۸۳۰،وحید، توضیح ،مسئله ۱۸۴۳۔

۴ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله ۱۸۳۴۔

۵ ۔مذكوره بالا۔

۶۔مذكوره بالا۔

۱۴۱

خمس كا مصرف

سوال نمبر۲۲۳: كیاخمس كی رقم كو ثقافتی كاموں علمی مراكزاوریونیورسٹی كی تعمیر میں خرچ كیاجاسكتاہے ؟

تمام مراجع كرام:حاكم شرع (مرجع)كی اجازت كے مطابق مصرف ہونا چاهئیے۔(۱)

سہم سادات(سادات كا حصه)

سوال نمبر۲۲۴: جس سید كے پاس سال كے اخراجات سے زیاده ہو كیا اسے خمس دیاجاسكتاہے؟

تمام مراجع حضرات:قطعا نہیں كیونكه سہم سادات كو پانے كے لئےفقیر ہونا شرط ہے۔(۲)

سید كی بیوی

سوال نمبر۲۲۵: كیا ایسی سادات خاتون كو سہم سادات دیاجاسكتاہے جس كا شوہر اس كی زندگی كے اخراجات كو پورا كرنے پر قادرنه ہو؟

امام خمینی اور خامنه ای:حاكم شرع(مرجع)كی اجازت كے بغیر جائز نہیں ہے؟(۳)

آیت الله بهجت،فاضل،مكارم،نوری اور وحید:احتیاط واجب كی بناپر یه كام حاكم شرع كی اجازت سے انجام دیاجائے۔(۴)

آیت الله تبریزی،سیستانی اور صافی:جی ہاں،جائز ہے۔(۵)

۱۴۲

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله ۱۸۳۴،آیت الله نوری؛ توضیح المسائل ،مسئله ۸۳۰؛وحید، توضیح المسائل ،مسئله ۱۸۴۳، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۰۳اور۱۰۰۴۔

۲۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۸۳۴ ؛ آیت الله نوری، توضیح المسائل ،مسئله ۱۸۳۰؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۲۰،وحید، توضیح المسائل ،مسئله۱۸۴۳۔

۳۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۸۳۴، آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۱۷۔

۴۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۸۳۴،آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۳۵۵؛نوری، توضیح المسائل،مسئله۱۸۳۰۔،اور۱۸۳۹،وحید، توضیح المسائل،مسئله۱۸۴۳، اور ۱۸۵۲۔

۵ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۸۳۴۔

۱۴۳

خمس كاسال

سوال نمبر۲۲۶: انسان كب سے خمس كا سال حساب كرے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی اور فاضل:جولوگ روزانه آمدنی پر كام كرتے ہیں(جیسے تاجر اور كاروبار كرنے والا)ان كے خمس كے سال كا آغاز اس وقت سے ہوگا جب سے انہوں نے كام شروع كیا ہےاور نوكری پیشه لوگوں كے لئے ان كی سب سے پهلی تنخواه ہے اور كسانوں اور ان جیسے لوگوں كے لئے پهلی فصل ہے ،لهذا جب یه آمدنی كی سال كے اخراجات سے زائد ہو تو اس كا خمس دینا ضروری ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی،مكارم اور نوری:ہر شخص كے لئے سال كاآغاز اس كی سب سے پهلی آمدنی ہے لهذا اگر وه سال كے اخراجات سے زائد ہوئی تو اس پر خمس نكالنا لازم ہے۔(۲)

آیت الله سیستانی اور وحید:ہرشخص كےلئے خمس كے سال كاآغاز اس وقت ہے جب سے وه كام كرناشروع كرتاہے لهذا اگر وه رقم سال كے اخراجات سے زائدہوئی تو اس كا خمس ادا كرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،مسئله۱۳۵،آیت الله بهجت،وسیلة النجاة،مسئله ۱۳۸،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۹۵،صافی،توضیح المسائل۱۷۷۴،اورجامع الاحكام، ج۱،سوال ۶۰۸، فاضل جامع المسائل،ج۱،سوال۸۰۶ اور۸۱۴۔

۲- تبریزی،التعلیقه علی منهاج الصالحین،مسئله۱۲۱۸،مكارم،توضیح المسائل، مسئله۱۴۸۶، نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۳۱۰۔

۱۴۴

خمس كا زمانه

سوال نمبر۲۲۷: جس كی آمدنی اس كے اخراجات سے كم ہو لیكن خمس كی تاریخ آنےپر اس كے پاس كچھ پیسه،كھانے پینے كی چیزیں وغیره بچ گئی ہوں تو كیا اس پر سال كا حساب كركے خمس ادا كرنا واجب ہے؟

تمام مراجع كرام:بهجت اور نوری كے علاوه:ہاں اگر اس كی آمدنی ایك سال تك ضروریات میں خرچ نه ہوئی ہو اور خمس كی تاریخ آنے پر بچ گئی ہو تو اس كا خمس دینا ضروری ہے۔(۱)

آیت الله بهجت اور نوری:نہیں اور اگر خمس كی تاریخ آنے پر روپیه پیسه یا كچھ چیزیں زندگی كی ضروریات و اخراجات سے زائد ہوجائیں تو انہیں اپنی ضرورتوں سے متعلق مخارج میں خرچ كرسكتاہے اور خمس نہیں ہے۔(۲)

خمس كا محاسبه

سوال نمبر۲۲۸: خمس كے محاسبه كا طریقه بیان كریں؟

كسان،نوكری پیشه افراد،محنت و مزدوری كرنے والے،تجارت اور كاروباری حضرت وه لوگ جو تجارت كے ذربعه منافع كماتے ہیں ان سب كو چاہیئے كه وه اپنے خمس كے لئے ایك تاریخ معین كریں اور خمس كے محاسبه كے لئے مندرجه ذیل طریقه پر عمل كریں:جس وقت انہیں پهلی در آمد (تنخواه یاآمدنی یا مزدوری و غیره)ملی(۳) اس دن ایك سال گزرگئےہوں تووه دن سال كے حساب كا وقت ہے۔چنانچه خمس كی تاریخ پهنچنے كے بعد جوچیزبھی اخراجات سے زائد بچ جائے اور بازار میں اس قیمت بھی ہو تو اس كے خمس كی مقدار كے برابر پیسے دے(جیسے كھانےپینے كے سامان،دھلائی اور صفائی وستھرائی سے متعلق چیزیں،تعلیم كے وسائل جیسے كاپی،قلم وغیره)اگر وه اس معین تاریخ میں اتنی مقدار میں ہوں كه بازار میں ان كی قیمت اور اہمیت ہو تو اس كا خمس(پانچواں حصه)موجوده قیمت كے لحاظ س نكالے لیكن وه اخراجات جس كا تعلق انسان كی ضرورتوں سے ہے اور ان كے استعمال سے اصل چیز ختم نہیں ہوتی(جیسےزندگی كے اسباب و وسائل مانند قالین،فرج،گاڑی وغیره)وه چاہیے جتنے سالوں تك رہیں اور كتنے ہی سال گزرجائےتو ان پر خمس نہیں ہے۔(۴)

مثال:نوكری كرنے والے ایك شخص كو ۱۳۸۰هجری كے تیسرے مہینه كے تمام ہونے پر پهلی تنخواه ملی،تو اس كے سال كا حساب ۱۳۸۱هجری كے تیسرے مہینه كی آخری تاریخ ہوگا۔ اب اس تاریخ میں اس كے پاس دس كلوچاول،پانچ كیلوچنے كی دال،پانچ ڈبے كپڑا دھونے كاپوڈر اور مبلغ پچاس هزار تومان بچ گیا ہے اسے چاہیئے كه مذكوره وسائل میں سے ہر ایك سے پانچواں حصه جدا كركے خمس كی بابت نكال دے البته یه بھی جائز ہے كه وه ان سب كی موجوده قیمت كا حساب كركے اس كا پانچواں حصه نقد پیسه كی شكل میں ادا كردے ۔

نوٹ(۱):جوكاروباری نه ہو لیكن اتفاقا ایك معامله میں اسے منافع مل گیا ہو (اور اس منافع پر ایك سال گزرگیاہو)تو اس پر ضروری ہے كه اس مقدار كا خمس نكالے جو اس كے سال كے اخراجات سے زائدہو۔(۵)

نوٹ(۲):بعض آمدنی(جیسے شہیدوں كی فمیلی كو ملنے والی رقم،ہدیه ،بینك سے ملنے والاانعام اور۔۔۔)كے خمس كے بارے میں مراجع حضرات كے درمیان اختلاف ہے۔

۱۴۵

خمس سے فرار

سوال نمبر۲۲۹: كیا كوئی شخص خمس كی تاریخ آنے سے قبل،اپنے اموال كو خمس سے بچنےكے لئے اپنی بیوی كو ہدیه كرسكتا ہے كه وه خمس كی تاریخ كے گزرجانے كےبعد دوباره اسی پیسه كو اپنے شوہر كو ہدیه كردے؟

تمام مراجع كرام:آیت الله مكارم صاحب كے علاوه:ہرگز نہیں خمس كی تاریخ آنے پر اس كاخمس نكا لاجائے۔(۶)

آیت الله مكارم:احتیاط واجب كی بناء پر خمس كی تاریخ آنے پر اس كا خمس ادا كیا جائے۔(۷)

حوالہ جات:

۱ ۔ فاضل،جامع المسائل،ج۱،سولا۸۰۷؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۹۹۶؛مكارم ، استفتاءات،ج۱،سوال،۳۰۸،امام خمینی،تبریزی،صافی سیستانی،اور وحید خراسانی، دفاتر۔

۲ ۔ آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۳۱۸،بهجت، توضیح المسائل،مسئله۱۴۰۰۔

۳ ۔البته خمس كے سال كے آغاز میں مراجع حضرات كے درمیاں اختلاف نظر هے ۔رجوع كریں خمس كے سال كا زمانه۔

۴ ۔العروة الوثقیٰ،ج۲،باب خمس،مسئله۶۷۔

۵ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۶۵،آیت الله نوری، توضیح المسائل،مسئله۱۷۶۱،وحید، توضیح المسائل،مسئله۱۷۷۳۔

۶ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،سوال۱۷۷؛آیت الله نوری،استفتاءات ج۲،سوال ۳۵۲؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۸۳۰؛تبریزی،طراط النجاة،ج۲، سوال۵۸۰؛ خامنه ای اجوبة الاستفتاءات ،سوال ۸۵۶،سیستانی،بهجت اور صافی صاحب كے دفاتر۔

۷ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۵۸۰۔

۱۴۶

خمس نه نكالے گئے مال كا حكم

سوال نمبر۲۳۰: جس گھرانه میں خمس نہیں نكالاجاتا وہاں آنے جانے(تعلق ركھنے)كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع حضرات:آیت الله تبریزی اور سیستانی كے علاوه:انكے گھرآنے جانے میں كوئی حرج نہیں۔اور اگر ان كے كھانے میں خمس كے تعلق ہونے كا یقین نه ہو تو اس كا كھانا بھی جائز ہے اور اگر نصیحت پر اثر كا احتمال دے رہا ہو تو انہیں نصیحت كرے ۔(۱)

آیت الله تبریزی اور سیستانی:ان سے تعلقات ركھنے میں كوئی حرج نہیں اور ان كے كھانے كو كھا سكتاہے چاہے اسے پته ہو كه اس كا خمس نہیں دیاگیا ہے۔البته اگرنصیحت كے اثرانداز ہونے كا احتمال دے رہاہو تو انہیں بتائے،نصیحت كرے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۹۵،آیت الله نوری، توضیح المسائل،مسئله۱۷۹۱؛بهجت، توضیح المسائل ،مسئله۱۴۰۸؛خامنه ای اجوبة الاستفتاءات ،سوال ۹۳۲، ۹۳۳؛وحید، توضیح المسائل،مسئله۱۸۰۳۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۷۹۵۔

۱۴۷

نذر كے احكام (نذر كی اہمیت )

سوال نمبر۲۳۱: نذر كی اہمیت اور اس كی تاریخی حیثیت كے بارے میں توضح دیں؟

> یوفُونَ بِالنَّذْرِ وَ یخافُونَ یوْماً كانَ شَرُّهُ مُسْتَطیراً ) < سوره انسان،آیت۷)

یہ بندے نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوگی۔

لغت میں“نذر”كا معنیٰ وعده دینا اور كسی چیز پرعهد و پیمان كرنا ہے اور اصطلاح میں خداوند عالم سے ایك خاص طریقه كا عهد وپیمان كرنا ہے جسے انسان خود پر واجب كرلیتاہے ۔نذر دو طرح سے كی جاسكتی ہے:

مشروط نذر اور مطلق نذر “مشروط نذر”ایسی نذرہے جسے انسان كسی نیك عمل كو انجام دینے یا كسی برے كام سے بچنے كے لئے خود پر واجب كرلیتاہے تاكه اس كے نتیجه میں خداوند عالم اس كی حاجت كو پورا كردے۔مثال كے طور پر وه كهتا ہے:اگر میرا بیٹاٹھیك ہوگیا اور اس كو بالكل صحت وسلامتی ملی گئی تو ایك هزار تومان فقیر كو دوں گا۔

“مطلق نذر”جس نذر میں كسی طرح كی كوئی قید وشرط نہیں ہوتی ۔مثال كے طورپر كهتاہے:میں خدا كے لئے نذر كرتاہوں كه نماز شب پڑھتا رہوں گا۔

نذر كی تاریخ بهت پرانی ہے اور ہر دوركے انسان نے اس سےفائده اٹھایاہے اور نذر كے ذریعه اپنے پروردگار كی رضایت وخوشنودی حاصل كرنے كی كوشش كی ہے۔ پیغمبروں اور گذشته امتوں(۱) كے درمیان بھی یه عمل رائج تھا وه اس پر خاص توجه دیتے تھے اور اسلام میں بھی اس كو پسند كیاگیا اور اس عمل كو شرعی حیثیت دی گئی۔

قرآن میں حضرت مریم علیهاالسلام اور ان كی والده گرامی كی نذر كاواقعه بھی بیان ہوا ہے۔(۲)

اورنذر كے پورا كرنے كو خدا كے بندوں كی خصوصیت بتایاگیاہے(وه لوگ نذر كو پورا كرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس كی سختی ہر طرف پھیلی گی(یعنی قیامت)۔(۳)

امام صادق(علیہ السلام)اس آیت كے شان نزول كے بارے میں فرماتے ہیں:جس وقت امام حسن(علیہ السلام)اور امام حسین(علیہ السلام)بیمار تھے ایك دن پیغمبر خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ان سے ملاقات كے لئے تشریف لائے اور حضرت علی(علیہ السلام)سے فرمایا:بهتر ہے اپنے بچوں كی سلامتی اور شفا كے لئے نذر كرو۔حضرت علی(علیہ السلام)نے فرمایا:میں نذر كرتاہوں اگر یه دونوں بچے ٹھیك ہوگئے اور انہیں صحت وشفامل گئی تو خداكے شكر كی ادائیگی كے لئے میں تین دن روزه ركھوں گا۔اس كے بعد حضرت فاطمه زہر سلام الله علیها اور حضرت فضّه(انكی كنیز)نے بھی اسی نذر كی تكرار كی۔خدانے بھی ان دواماموں كو شفاوسلامتی عطاكی اور ان حضرات نے روزه ركھا۔(۴)

نذركی مختلف حكمتیں ہوسكتی ہیں جن میں سب سے اہم مطلوب تك رسائی پانا،حاجت كا پورا ہونا،معنوی معراج وسعادت كو پانے كے لئے اور اراده كا قوی ہونا ہے۔

نذر اسلام ایك رائج اور عملی احكام میں سے ہے اس كے كچھ احكام اور شرطیں ہیں۔اس كام كے لئے ایك خاص صیغه كی ضرورت پڑتی ہے جسے جس زبان میں بھی پڑھاجائے كافی ہے۔البته نذر كے صیفه میں الله كانام یا اس كا ترجمه ہونا ضروری ہے اور ان شرطوں كالحاظ كئے بغیر ،نذر صحیح نہیں ہوگی۔لهذا اگر وه كہے كه اگر میرا مرض ٹھیك ہوگیا تو خدا كے لئے مجھ پر ہے كه میں فقیر كو دس تومان دوں،تو اس كی نذر صحیح ہے۔

۱۴۸

حوالہ جات:

۱ ۔فقه القرآن،ج۲،ص۲۷۵

۲ ۔سوره آل عمران،آیت۳۶۔

۳ ۔سوره انسان،آیت۷۔

۴ ۔وسائل الشیعه،حدیث۲۳،باب۶،میزان الحكمه ،حدیث۱۰،ص۴۸۔

۱۴۹

نذر كی شرطیں

سوال نمبر۲۳۲: نذر كی كیا شرطیں ہیں؟

نذر كی شرطیں حسب ذیل ہیں:

۱- نذر كرنے ولا،بالغ ہو،عاقل ہو اور قصد و اختیار كے ساتھ نذر كرے۔

۲- نذر كی وفا ممكن ہو۔

۳- شرعی اعتبار سے اس كا انجام دینا مطلوب اور رجحان ركھتاہو(جیسے نماز،روزه،قربانی كرنا،دوسروں كی مدد،بیمار كی عیادت وغیره)۔

۴- اس كا شرعی اعتبار سے ترك كرنا مطلوب ہو(جیسے حرام كاترك كرنا یا مكروه كا چھوڑنا)۔

نوٹ:جس چیزكے با رے میں نذر كی ہے اگر وه مباح ہو یعنی اس كا انجام دینا یا تر ك كرنا برابر ہو تو نذر باطل ہے لیكن اگر كسی اعتبار سے اس كا انجام دینا یا ترك كرنا بهتر ہو تو نذر صحیح ہے۔مثال كے طورپر وه نذر كرے كه وه ایك ایسا كھانا كھائے گا جس سے عبادت كرنے كے لئے اسے طاقت مل سكے یا ایسا كھانا نہیں كھائے گا جس سے عبادت كرنے میں اس كا بدن سست اور ضیعف ہوجاتاہے تو اس كی نذر صحیح ہے ۔

۱۵۰

نذر كا صیغه

سوال نمبر۲۳۳: نذركا صیغه كیا ہے اور كیا اس كے لئے كوئی خاص جمله كهنا ضروری ہے؟

تمام مراجع كرام:جی ہاں،نذر كے لئے ایك خاص صیغه ہے مثال كے طورپر كوئی شخص اپنی بیماری كےشفاپانے كے لئے نذر كرتاہےكه معین رقم فقیر كو دے گا تووه اس طرح كہے:

ان شفی الله مرضی فلله علی ان اعطی الفقیر كذا،

البته عربی میں كهنا ضروری نہیں ہے صرف اگر اتنا كهه دے تو كافی ہے:اگر میری بیماری ختمم گئی تو خدا كے لئے مجھ پر فرض ہے كه میں فلان مقدار میں رقم فقیر كو دوں۔(۱)

نذر كا بدلنا

سوال نمبر۲۳۴: كیا نذر كابدلنا جائز ہے؟مثال كے طور پر جس شخص نے روزعاشور لوگوں كو حلیم كھلانے كی نذر كی ہے كیاوه اس كی جگه كوئی دوسری چیز كھلاسكتاہے؟یا حلیم ہی كو محرم كے مہینه میں كس دوسرے دن كھلاسكتاہے؟

تمام مراجع حضرات:اگر نذر معتبر شرعی صیغه كے مطابق رہی ہو تو اسكا بدلنا جائز نہیں ہے بلكه اسے اسی طرح انجام دینا ضروری ہے جس طرح نذر كی تھی اور اگر ایسا نہیں ہے تو نذر كی تبدیلی میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح مراجع،مسئله۲۶۴۱،آیت الله وحید، توضیح المسائل،مسئله۲۷۰۵؛نوری، توضیح المسائل،مسئله۲۶۳۹؛خامنه ای،استفتاءات سوال۱۰۶۰ اور ۱۱۰۰۰۔

۲ ۔ توضیح مراجع،مسئله۲۶۵۱، وحید،مسئله۲۷۱۵؛نوری، توضیح،مسئله۲۶۴۹؛خامنه ای، سوال۱۰۷۲

۱۵۱

نذر پرعمل كرنا

سوال نمبر۲۳۵: كیا نذر پر فوراً عمل كرنا چاہیئے؟مثال كے طورپر كوئی شخص نذر كرے كه اگر اس كی حاجت پوری ہوگئی تودس دن روزه ركھے گا تو كیانذر پوری ہوتے ہی فوراً اس كام كو انجام دے؟

تمام مراجع كرام:اگر روزوں كے لئے كوئی خاص زمانه(مہینه خاص دن)معین نہیں كیا تو حاجت كے پورا ہونے كے بعد فوراً روزه ركھنا ضروری نہیں ہے۔(۱)

نوٹ:البته نذر پر عمل كرنے میں كوتاہی اور سستی كرنا جائز نہیں ہے۔

نذر كا زمانه(وقت)

سوال نمبر۲۳۶: اگر انسان اپنی نذر كے لئے ایك وقت معین كرے لیكن معینه وقت میں انجام نه دے سكے تو اس كا وظیفه كیا ہے؟

تمام مراجع حضرات:روزه كے علاوه اگر نذر كو وقت پر بجانه لاسكےتو تكلیف شرعی ساقط ہے اور كوئی كفاره بھی نہیں ہے۔(۲)

نوٹ:لیكن اگر اس نے روزه كی نذر كی تھی تو اس كا حكم مختلف ہے اور اس مسئله میں مراجع حضرات كے درمیان اختلاف ہے۔

۱۵۲

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۵۲، آیت الله نوری، توضیح المسائل،مسئله۲۶۵۰؛وحید، توضیح المسائل،مسئله۲۷۱۶؛خامنه ای،استفتاءات سوال۱۱۱۶۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۷۲۹،امام،تحریر الوسیله،ج۲،النذر،مسئله۲۴؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النذر مسئله۲۴؛سیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲۶۴۷؛ خامنه ای استفتاءات،سوال۱۰۷۴،فاضل،نوری،مكارم،وحید،بهجت ،كے دفاتر۔

۱۵۳

نذر میں شك

سوال نمبر۲۳۷: میں نے ایك نذر كی ہے لیكن دو چیزوں(روزه ركھنے اور فقیر كو صدقه دینے)كے درمیان مجھے شك ہے اوریه نہیں جان پارہاہوں كه دونوں میں سے كس كی نذر كی ہے تو اسی صورت میں ہم اراكیا فریضه ہے؟

تمام مراجع كرام:احتیاط كرنا چاہیئے اور دونوں پر عمل كریں۔(۱)

نذر كو بھول جانا

سوال نمبر۲۳۸: كسی نے فقیر كو ایك رقم دینے كی نذر كی لیكن اس كی مقدار كو بھول گیاہے تو اس صورت میں اس كا كیا فریضه ہے؟

تمام مراجع حضرات:اگر نذر شرعی معتبر صیغه كے مطابق تھی تو حد اقل مقدار پر اكتفا كرسكتاہے مثال كے طورپر اگر اسے هزار یا اس سے زائد تومان كے درمیان شك ہو تو هزار تومان كی ادائیگی كافی ہے(اور اگر زائد مقدار كو دے تو محبوب اور پسندیده عمل ہے)۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله خامنه ای استفتاءات،سوال۱۱۰۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۳۲۹،اور تمام مراجع كرام كے دفتر۔

۲ ۔ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۲،سوال۱۱۷۳،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۷۳۱، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۰۹، اور تمام مراجع كرام كے دفتر۔

۱۵۴

نذر كا كفاره

سوال نمبر۲۳۹: جس نذر كو جان بوجھ كر انجام نہیں دیا اور كافی عرصه بھی گزر گیاہوتو اس كا كفاره كس طرح دیا جائے گا؟

تمام مراجع كرام(تبریزی،خامنه ای ،سیستانی اور وحید كے علاوه):اس كا كفاره ایك غلام آزاد كرنے یا ساٹھ فقیر كو كھانا كھلانے یا مسلسل دوماه روزه ركھنے میں اختیار ہے۔(۱)

تبریزی،خامنه ای،سیستانی اور وحید:اس كا كفاره ایك غلام آزاد كرنا یا دس فقیر كو كھانا كھلانا یا انہیں كپڑا پهنانا ہے اور اگر وه انہیں انجام دینے پر قادر نہیں ہے تو اسے مسلسل تیں دن روزه ركھنا چاہیئے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۵۴،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۶۵۲۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۱۵۶۴؛خامنه ای استفتاءات،سوال۱۱۴۹اور۱۱۰۹؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۷۴۶؛وحید،منهاج الصالحین، ج ۳، مسئله۱۵۴۔

۱۵۵

فرزند كی نذر

سوال نمبر۲۴۰: كیا نذر كے لئے والد كی اجازت ضروری ہے؟

امام خمینی اور خامنه ای:نہیں،والد كی اجازت ضروری نہیں ہے اور والد فرزند كو نذر سے نہیں روك سكتے ہیں۔(۱)

آیت الله تبریزی،صافی،فاضل،نوری اور وحید:نہیں،والد كی اجازت ضروری نہیں ہے لیكن اگر والد ایك ایسے كام سے منع كرے جس كی بیٹے نے نذر كی ہے تو اس كی نذر صحیح نہیں ہے۔(۲)

آیت الله سیستانی:نہیں والد كی اجازت ضروری نہیں ہے مگر یه كه باپ نے اس كام سے جس كی فرزند نے نذر كی ہے منع كیا ہو(اور والد كا روكنا شفقت اور چاهت كی روسے ہو اور بیٹے كی مخالفت والد كی تكلیف كا باعث ہو) تو اس صورت میں نذر صحیح نہیں ہے۔(۳)

آیت الله مكارم:نہیں باپ كی اجازت ضروری نہیں ہے مگر یه كه اس كا یه عمل باپ كی اذیت كا باعث ہو تو اس صورت میں نذر صحیح نہیں ہے۔(۴)

آیت الله بهجت:احتیاط واجب كی بناءپر والد كی اجازت ضروری ہے اور اگر باپ كی اجازت كے بغیروه نذر كرے تو احتیاط كی بناپر اپنی نذر پر عمل كرنا ضروری ہے۔(۵)

۱۵۶

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تحرالوسله،ج۲،النذر ،مسئله۳،اورآیت الله خامنه ای،استفتاءات ،سوال ۱۰۶۷۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۶،آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۶۴۴،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۷۱۰۔

۳ ۔آیت الله سیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۶۔

۴ ۔مكارم،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۶،

۵ ۔دفتر آیة ا۔۔۔بهجت۔

۱۵۷

بیوی كی نذر

سوال نمبر۲۴۱: كیا شوہر كی اجازت كے بغیر بیوی اپنے مال میں نذر كرسكتی ہے؟

امام خمینی اورآیت الله خامنه ای:ہرگز نہیں،بیوی كا اپنے مال میں شوہر كی اجازت كے بغیر نذر كرنا صحیح نہیں ہے۔(۱)

آیت الله نوری: ہاں كرسكتی ہے۔شوہر كی اجازت كے بغیر بیوی كا اپنے مال پر نذر كرنا صحیح ہے۔(۲)

آیت الله سیستانی،صافی،وحید:اگر بیوی كی نذر شوہر كی حقوق میں مزاحمت كاباعث ہو تو(بہرحال)اس كی اجازت كے بغیر صحیح نہیں ہے اور احتیاط واجب كی بناءپر اپنے مال میں بھی(حج،زكات،صله رحم اور ماں باپ كے ساتھ احسان كرنے كے علاوه شوہر كی اجازت سے نذر كرے۔(۳)

فاضل:اگر بیوی كی نذر شوہر كے حقوق میں مزاحمت اور ركاوٹ كا سبب ہو تو(ہرحا ل میں) اس كی اجازت كے بغیر صحیح نہیں ہے لیكن اگر زحمت كا سبب نه ہو تو احتیاط واجب یه ہے كه اس كی اجازت كے ساتھ ہو خاص طور سے اموال كی نذر میں(چاہے وه مال اس كا اپناہی كیوں نه ہو)(۴)

آیت الله تبریزی اور مكارم:اگر بیوی كی نذر سے شوہر كے حقوق كی ادائیگی میں ركاوٹ ہورہی ہو تو(ہر حالت میں)اس كی اجازت كے بغیر صحیح نہیں ہے اور اگر كوئی ركاوٹ یا مزاحمت كا سبب نه ہو تب بھی احتیاط مستحب یه ہے كه اس كی اجازت سے ہو(چاہے وه اس كا مال ہی كیوں نه ہو(۵)

آیت الله بهجت:بیوی كی نذر شوہركی اجازت كےبغیر(چاہے اس كے اپنے ذآتی مال سے ہی كیوں نه ہو)احتیاط واجب كی بناء پر صحیح نہیں ہے۔(۶)

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،نذر ،سوال ۱۰،اور خامنه ای استفتاءات ،سوال۱۰۹۳۔

۲ ۔نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۷۵۹۔

۳ ۔صافی اور سیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۴،اور وحید ،توضیح المسائل،مسئله ۲۷۰۸۔

۴ ۔آیت الله فاضل،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۴۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۱۵۵۱،اور مكارم،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۴۔

۶ ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۶۴۴۔

۱۵۸

روزه كی نذر

سوال نمبر۲۴۲: كیا سفر میں روزه كی نذر كرنا صحیح ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،صافی،فاضل،نوری اور وحید:سفر میں،روزه كی نذر كرنا جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله بهجت،خامنه ای اور سیستانی:جی ہاں،سفرمیں روزه كی نذر كرنا جائز اور صحیح ہے۔(۲)

آیت الله مكارم:سفر میں روزه كی نذر كرنے میں اشكال ہے اور اگرنذر كرلی ہے تو احتیاط واجب یه ہے كه اپنی نذر پرعمل كرے۔(۳)

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تبریزی،صافی،اور وحید ،كے دفتر،فاضل،جامع المسائل ،ج۱،سوال ۵۸۴؛نوری،استفتاءات،جلد۱،سوال ۲۳۱۔

۲ ۔آیت الله بهجت،خامنه ای اور سیستانی،كے دفتر۔

۳۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سولا۴۸۲ اور ۴۷۵۔

۱۵۹

موسیقی كے احكام

موسیقی كے آثار

سوال نمبر۲۴۳: موسیقی اور اس كے حرام ہونے كی دلیل كے بار میں وضاحت فرمائیں؟

> وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یشْتَری لَهو الْحَدیثِ لِیضِلَّ عَنْ سَبیلِ اللَّهِ بِغَیرِ عِلْمٍ < (سوره،لقمان،آیت۶)

لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے جو مہمل باتوں کو خریدتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ بغیر سمجھے بوجھے لوگوں کو راه خدا سے گمراہ کرے۔

“موسیقی”(یاموسیقیا)یونانی لفظ ہے جو لغت میں“غنا”كے معادل و مترادف ہے۔لیكن دینی مفاہیم اورفقہی اصطلاح میں غنا اور موسیقی كے درمیان فرق ہے۔شرعی اصطلاح میں غنا كا مطلب ہے ایسی آواز جو انسان كے حنجره سے باہر آئے اور گلے میں گھمائی جائے اور سننے والے میں سرور اور وجدكی حالت پیدا كرے،لہو ولعب كی مجلسوں اورنشستوں كے مناسب ہولیكن موسیقی اس آواز اور آہنگ كو كهاجاتاہے جو موسیقی كے آلات سے پیدا ہو۔

اس بنیاد پر علمی موسیقی اور فقہی موسیقی كے درمیان عموم وخصوص مطلق كی نسبت ہے۔(۱)

اس سلسله میں قرآن میں كچھ آیتیں نازل ہوئی ہیں جن میں سے بعض آیتوں اور حدیثوں پر توجه اور غور وفكر كرنے سے غنا اور لہوولعب سے مربوط موسیقی كا حرام ہونا اچھی طرح سے ثابت ہوتاہے۔(۲)

اسكے ساتھ ساتھ تمام شیعه فقهاء بھی موسیقی اور غناء كے حرام ہونے پر اتفاق نظر ركھتے ہیں۔(۳)

۱۶۰