گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6563
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6563 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

قرآن اور روایات اور علم نفسیات كی باتوں پر تھوڑاغوروفكر كرنے سے مندذرجه ذیل باتوں كو موسیقی كے حرام ہونے كی حكمتوں میں جانا جاسكتاہے:

۱- انسان كو برائی اورعمل فحشاء كی جانب كھینچتی ہے۔(۴)

۲- انسان كو خدا كی یادسے غافل كرتی ہے۔(۵)

۳- انسان كے نفسیات اور دماغ پر اثر ات ڈالتی ہے۔(۶)

غنا اور موسیقی كے بارے میں كچھ نكات پر توجه كرنا ضروری ہے:

اول:ہر طرح كی آواز اور ہر قسم كے آہنگ حرام نہیں كهلاتے بلكه صرف وہی آواز اور آہنگ حرام ہیں جس كا تعلق لہو ولعب كی مجلسوں سے ہو۔

لهذات ایسی آوازوں اور آهنگوں كو سننا جن میں مذكوره خصوصیتں نہیں پائی جاتیں یا مشكوك ہیں اشكال نہیں ہے۔

دوم:طرب اور لہو،دو بنیادی كلمات ہیں جو غناء اور موسیقی كے باب میں استعمال ہوئے ہیں۔

۱-"طرب"اس ہلكا پن اور عقلی وباؤ كےكم ہونے كی حالت كو كها جاتاہے جو آواز یاآهنگ كوسننے سے انسان كے نفس اورنفسیات و ذهن میں ظاہر ہوتی ہےاور اسے حداعتدل (نارمل حالت)سے باہر كردیتی ہے۔یه حالت صرف خوشحالی كی حالت سے مخصوص نہیں ہے بلكه ہوسكتاہے حزن وغم كے آهنگوں سے بھی یه حالت پیدا ہوجائے۔(۷)

۲-"لہو"آواز اور بجائے گئے آہنگ كی ایسی مشتركه آواز كو كهتے ہیں جولہو ولعب اور عیاشی كی نشستوں سے ساز گار ہو اس طرح سے كه ہوسكتاہے طرب (مست كرنےوالا سر بلا)نغمه تو نه ہولیكن ان نغموں میں سے ہو جوصرف فاسقوں اور ہواوہوس پرستوں كی نشستوں میں رائج ہو۔

اس طرح كی آہنگ كو“لہو”كهتے ہیں اور اگر طرب اور لہو دونوں حالتوں پر مشتمل ہو تو اسے “مطرب لہوی”كهتے ہیں۔

تمام مرجع حضرات:حرام موسیقی كےلئے"لہوہ ہونا"ضروری اور شرط مانتے ہیں لیكن "مطرب"كے سلسله میں ان كے درمیان اختلاف نظر ہے۔(۸)

سوم:موسیقی كے آلات كی دوقسمیں ہیں:حرام سے مخصوص آلات اور مشترك آلات“مخصوص آلات” موسیقی كےان آلات كو كهتے ہیں جو عام طورپر لہو ولعب میں استعمال ہوتے ہیں اور ان كا كوئی حلال فائده نہیں ہوتا“مشترك آلات” ان آلات كو كو كهتے ہیں جو حلال وجائز كام كے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں اور ناجائز و حرام كام كے لئے بھی ۔مخصوص آلات كا استعمال كرنا كسی بھی حال میں جائز نہیں ہےلیكن مشترك آلات كا حكم اس كے استعمال پر منحصر ہے۔

زیاده تر مراجع حضرات نےمشترك آلات كے استعمال كو بطور مطلق حرام نہیں كها ہے بلكه اس كے استعمال اور بجانے كی حالت كے مدنظر فتوی دیاہے۔(۹)

۱۶۱

حوالہ جات:

۱ ۔ امام خمینی،المكاسب المحرمه ،ج۱،ص۲۲۴، ۱۹۸،حسینی علی،الموسیقی،ص۱۶ اور ۱۷؛تبریزی،استفتاءات۱۰۴۷ اور ۱۰۴۸؛فاضل،جامع المسائل، ج۱، سوال۹۷۴، ۹۷۸، ۹۷۹

۲ ۔ملاحظه: سوره لقمان، آیت۶، فرقان،۷۲، مومنوں، آیت۳، حج، آیت۳۰، قصص،آیت۵۵

۳ ۔بعضی فقهائے دین نے اپنی استدلالی كتابوں میں اور بعض محققین نے اپنے نظریات اپنی كتابوں میں لكھا هے كه شیعه فقهاء میں دو لوگ(فیض كاشانی اور محمد باقر سبزواری)غنا ءكو حلال وجائز مانتے ہیں لیكن اگر ان كے كلام میں ذراغور وفكر كی جائے تو معلوم پڑجائے گا كه ان لوگوں كو بھی غناء كے حرام هونے میں كوئی شك و تردید نہیں هے بلكه صرف اس كی كچھ خصوصیتوں اور كیفیتوں كے بارے میں دوسروں سے نظریاتی اختلاف ركھتے ہیں۔رجوع كریں:سید ابوالقاسم،خوئی،مصباح الفقاهة،ج۱،باب الغناء،امام خمینی،المكاسب المحرم،ج۱،باب الغناء

۴ ۔ایك حدث میں نبی اكرم سے وارد هوا هے كه ،الغناء رقیة الزنا(غناء زنا كی سیڑھی هے)۔بحار الانوار ج۷۶،باب۹۹،الغناء۔

۵ ۔سوره لقمان،كی آیت نمبر۶،میں الٰهی راسته سے گمراه كرنے كے عوامل میں سے ایك(لهو الحدیث،بتایاگیا هے اور (لهو)ایك ایسی چیزهے جو انسان كو اپنی جانب اس طرح مشغول كرتی هے جس سے وه اهم ترین كاموں سے عقب ره جائے اور غفلت كاباعث هوتی هے اور اسلامی روایتوں میں اس كو(غناء)سے تعبیر كیا گیاهے۔وسائل الشیعه ،ج۱۲،باب۹۹،ابواب مایكتسب به

۶ ۔ملاحظه فرمائیں،تفسیر نمونه ،ج۱۷،ص۲۴۔

۷ ۔المكاسب المحرمه،ج۱،باب الغناء۔

۸ ۔آیت الله سیستانی،تبریزی،وحید اور مكارم یه حضرات لهو ولعب سے تعلق ركھنے والی موسیقی كو حرام مانتے ہیں چاهے وه طرب آور (مست كرنیوالی )نه هو۔

۹ ۔آیة الله بهجت،اور آیة الله صافی،هر طرح كی موسیقی آلات كے استعمال كو حرام جانتے ہیں۔

۱۶۲

حرام موسیقی

سوال نمبر۲۴۴: اگر موسیقی كو بغور سننے كے باوجود انسان پر اس كا كوئی اثر نه ہو تو كیا پھربھی حرام ہے؟

تمام مراجع كرام:اگر وه حرام موسیقی كے اقسام میں سے ہو تو اس كا سنا جائز نہیں ہے چاہے انسان پر اس كا كوئی اثر نه ہو۔(۱)

نوٹ:حرام موسیقی عام طورپر تخریب كاری كے آثار كے ساتھ ہوتی ہے اور خدا سے جدائی ،گناہوں اور شہوت میں ملوث ہونے كا باعث بنتی ہے لیكن (اسكے حرام ہونے كا)حكم ان امور كا تابع نہیں ہے لهذا بالفرض اگر كسی مقام پر حرام موسیقی كا انسان كی روح اور نفسیات پر كوئی اثر نه بھی ہو تب بھی اس كا سننا جائز نہیں ہے۔

لہوی(لہو ولعب سےتعلق ركھنے والی)موسیقی

سوال نمبر۲۴۵: كیاموسیقی میں لہوی ہوناموضوع بحث ہے یا اس میں پڑھے گئےاشعار كے مضامیں ؟بالفاظ دیگر،اگر اچھے اور مذہبی اشعار، لہوی اور مطرب(مست كرنے والی )موسیقی میں پڑھا جائے، تب بھی حرام ہے؟

تمام مراج حضرات:موسیقی حرام ہونے كےلئےلہوی اور مطرب ہونا شرط ہے چاہے ان پڑھے جانے والے اشعار كے مطالب مذہبی اور اسلامی ہی كیونه ہوں۔(۲)

نوٹ: بعض مراجع كرام بعنوان مثال تبریزی،سیستانی،مكارم،اور وحید جیسے آیات عظام موسیقی كے حرام ہونے كے لئے “مطرب ”ہونا ضروری اور شرط نہیں مانتے۔

حرام موسیقی

سوال نمبر۲۴۶: حرام موسیقی كی خصوصیات(بغیر كلام كے) كیا كیا ہیں:ریتم (وجدآور) كاہونا،سننے والے میں رقص(تھركنے) كی حالت كا پیدا ہونا، اس كو مست كردینا یا ان میں سے كوئی بھی نہیں؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،فاضل اور نوری:حرام موسیقی كا معیار،(طرب اور مست كردینا)اور ا س كا لہوی ہونا ہے جو كه گناه،عیاشی اور اخلاقی جرائم كی مجلسوں سے تعلق ركھتی ہے۔(۳)

آیت الله بهجت اور صافی:موسیقی كے آلات كا استعمال مطلقاحرام ہے۔(۴)

آیت الله تبریزی،سیستانی،مكارم اور وحید:حرام موسیقی كا معیار اس كا لہوی ہونا ہے جو كه گناه ،عیاشی اور اخلاقی جرائم كی مجلسوں سے تعلق ركھتی ہے۔(۵)

۱۶۳

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،متفرقه سوالات،سوال۱۱۰،آیت الله مكارم، استفتاءات،ج۲، سوال۶۹۴، ۶۹۸، صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۰۳،اور۱۰۱۷،خامنه ای، اجوبةالاستفتاءات،سوال۱۱۳۱، اور ۱۱۳۵اور۱۱۵۵،سیستانی، sistani.org ،موسیقی،شماره۱۵،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۳۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۹۹۶،بهجت اوروحید، نوری، صاحبان كے دفتر۔

۲ ۔ امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه سوال۲۵؛ خامنه ای،اجوبة الا ستفتاءات،سوال۱۱۵۷؛بهجت،وسیلة النجاة،ج۱،مسئله ۱۴۴۹؛صافی،جامع الاحكام،ج۱؛ سوال۱۰۰۳ نوری،توضیح المسائل ،مسائل مستحدثه،وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله ۱۸اور۱۷؛ فاضل ،جامع الاحكام،ج۱،سوال۹۹۹؛تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال ۱۰۰۸،اور ۱۰۲۵؛سیستانی، org ۔ sistani موسیقی،شماره۵؛مكارم،استفتاءات ،ج۲،س۷۰۸۔

۳ ۔ امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه سوال۲۷،اور ج۳، سولات مترفقه سوال۱۰۷،تحریر الوسیله ج۱،مكاسب محرمه مسئله۱۳،فاضل،جامع المسائل، ج۱ ، سوال ۱۰۰۵، ۹۸۷،و۹۸۸،۹۷۴، نوری،توضیح المسائل ،مسائل مستحدثه، خامنه ای،اجوبة الا ستفتاءات،سوال۱۱۲۷، ۱۱۳۲۔

۴ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۹۹۵، اور۱۰۱۸،آقای بهجت كا دفتر۔

۵ - آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۲۰، وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۱۷،تبریزی،التعلیقه علی منهاج الصالحین،المكاسب المحرمه ،مسئله ۱۷، مكارم، استفتاءات،ج۱،سوال۵۱۹، ۵۲۰

۱۶۴

شہوت كو ابھارنے والی موسیقی

سوال نمبر۲۴۷:كیاشوہر وزوجه ایك دوسرے كی جانب میلان ،جھكاؤ یاشہوت كی افزائش كی خاطر لہوی موسیقی كو سن سكتے ہیں؟

تمام مراجع حضرات:حرام موسیقی كاسننا جائز نہیں ہے۔صرف میاں بیوی میں چاهت كوابھارنا اس كے سننے كے لئے شرعی جواز نہیں ہو سكتا۔(۱)

موسیقی كی مجلس (نشیتیں و پارٹیاں)

سوال نمبر۲۴۸: اگر ہم كسی مجلس (پارٹی)میں مطرب اور لہوی موسیقی كو سننے پر مجبور ہوں تو كیا پھربھی مرتكب گناه ہوئے ہیں؟

تمام مراجع كرام:اگر آپ اپنی بات كو اثر انداز ہونے كا احتمال دے رہے ہیں(اور تمام شرائط امربالمعروف وانہی عن المنكر بھی فراہم ہیں) تو نہی عن المنكر آپ پر ضروری ہے۔اگروه قبول نہیں كرتے(اور وہاں پر آپ كی موجود گی حرام موسیقی سننے یاگناه كی تائید كا سبب بن رہی ہو)تو مجلس (پارٹی)كو ترك كردیں مگر یه كه آپ كا اس طرح ترك كرنافتنه وفساد كا باعث نبے تو ایسی صورت میں وہاں پر ضرورت كے لحاظ سے ٹھہر نے میں كوئی حرج نہیں ہے البته جہاں تك ممكن ہو حرام موسیقی كو سننے سے پرہیز كریں اور اگر نه چاهتے ہوئےموسیقی كی آواز آپ كے كانوں میں پهنچ رہی ہو تو كوئی اشكال نہیں۔(۲)

سوال نمبر۲۴۹: ایسی پارٹیوں میں شركت كرنا كیسا ہے جن میں موسیقی اور گندے ترانے چل رہے ہیں(اوروہاں آپ كے منع كرنے كا كوئی اثر اور فائده نه ہو؟

تمام مراجع حضرات:ایسی پارٹیوں میں شركت كرنا جن میں حرام موسیقی كا سننا گناه كی تائید كا باعث بن رہا ہو جائز نہیں ہے مگر یه كه وہاں نہی عن المنكر كرسكتاہو(تو كوئی حر ج نہیں)۔(۳)

تشخیص موسیقی

سوال نمبر۲۵۰:اسلامی نظام میں موسیقی اور حرام غنا كی تشخیص كا ملاك و معیار كون ہے:وزارت ارشاد،حوزه هنری سازمان تبلیغات اسلامی ،موسیقی كے ماہرین،فقهاء ،عرف عام یا شخص؟

تمام مراجع حضرات:حرام اور حلا ل موسیقی كی تشخیص و تعین كے لئے عرف عام كی طرف رجوع كرنا چاهئے۔(۴)

نوٹ:موضوعات كے سلسله میں فقهاء،موسیقی كے ماہرین ،ثقافتی انجمنیں بھی اظهارنظر كرسكتے ہیں(او راپنے عرفی نظر یه كی بنیادپر حلال اور حرام موسیقی كو بتاسكتے ہیں۔

۱۶۵

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الا ستفتاءات،سوال۱۱۵۲، ۱۱۵۵، صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال ۹۹۹، اور ۱۰۰۵، تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۸۳،اور صراط النجاة، ج۵،سوال۱۱۴۹،امام خمینی،بهجت،وحید، مكارم،نوری،سیستانی،فاضل،صاحب كے دفاتر۔

۲ ۔تمام مراجع،حضرات كا دفاتر۔

۳ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۷۱۹،اور ج۱،سوال۵۳۷؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۱۱،اور ۱۰۱۳،ارو ج۲،سوال۱۴۶۶، ۱۴۷۷، ۱۴۷۵؛ تبریزی، استفتاءات ، سوال۱۰۴۵، ۱۰۷۱، ۱۰۷۴؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال،۹۴۸، ۹۴۶، ۹۵۰، اور ج۲،سوال ۹۴۷؛ خامنه اجوبة الاستفتاءات،سوال،۱۱۴۳۷، ۱۴۲۹،۱۱۵۴،بهجت،اور وحید صاحب كے دفتر۔

۴ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات ،ج۲،سوال ۶۵۹؛صافی ،جامع الاحكام ،ج۱،سوال ۹۹۴، ۱۰۱۸و۱۲۰۹؛تبریزی، استفتاءات،سوال ۱۰۷۷و۱۰۵۰و۱۰۵۹ ؛ فاضل ، جامع المسائل ،ج۱،سو ال ۹۹۶؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،سوال ۱۱۵۴و۱۱۲۷؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۲۰؛نوری،استفتاءات،ج۱،سوال ۱۰۰۸،اور وحید منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۱۷۔

۱۶۶

موسیقی كے اقسام كا حكم

سوال نمبر۲۵۱ :كیاموسیقی كے اقسام جیسے: اصیل(سنتی ورائج)كلاسیكل،محلی،پاپ اور۔۔۔كے درمیان حكم كے لحاظ سے كوئی فرق ہے؟

تمام مراجع:جی نہیں،حكم كے لحاظ ان كےدرمیان كوئی فرق نہیں ہے۔موسیقی كے حرام ہونے كا معیا راس كا طرب آور (مست كرنیوالی)اور لہوی ہوناہے۔(۱)

موسیقی كی كسیٹوں كی كاپی كرنا(ڈپنیگ)

سوال نمبر۲۵۲:موسیقی كی سی ڈیوں اور كیسٹوں كی فروخت اور اس كی كاپی كرنے كے راستے سے ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟

تمام مراجع حضرات:اگر حرام موسیقی كی قسم سے ہو تو اس كی خرید و فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱-آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۰۲؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات، سوال۱۱۲۷،اور ۱۱۴۶، مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۵۲۷، تبریزی، استفتاءات ، سوال۱۰۴۳،سیستانی، sistani org ،موسیقی،شماره ۲۶اور ۲۲اور۵،نوری ،استفتاءات،ج۲،سوال۵۴۸،بهجت،وحید،امام،فاضل حضرات كے دفتر۔

۲۔آیت الله خامنه اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۱۰ اور۱۱۶۵، مكارم، استفتاءات، ج۲، سوال۸۱۲،اورج۱،سوال۵۱۸،توضیح مراجع،مسئله۲۰۵۵،اور۲۰۶۱۷ اور ۲۰۶۸؛نوری،توضیح، مسئله۲۰۵۱،و۲۰۶۲،اور۲۰۶۳؛وحید،توضیح،مسئله۲۰۶۳و۲۰۷۵ اور۲۰۷۶

۱۶۷

موسیقی كی تعلیم

سوال نمبر۲۵۳: موسیقی كے آلات كے استعمال كے طریقه كو سیكھنا اور اس كی تعلیم دینے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع كرام(بهجت اور صافی كے علاوه):لہو ولعب سے مخصوص آلات كے ذریعه استعمال كے طریقه كو سیكھنا اور سكھانا جائز نہیں ہے لیكن اگر مشترك آلات سے جائز او رحلال استعمال كے پیش نظر ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۱)

آیت الله بهجت اور صافی:آلات موسیقی كے ذریعه استعمال كے طریقه كوسكھنا اور سیكھانا حرام ہے۔(۲)

شادی كی رات میں گانا بجانا

سوال نمبر۲۵۴: شادی میں ڈھول اور طبله كے استعمال كا كیا حكم ہے؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای اور فاضل:آلات موسیقی كو مطرب اور لہوی موسیقی كے انداز میں بجانے كے لئے استعمال كرنا(جوكه گناه اور عیاشی كی مجلسوں كے مناسب ہو)جائز نہیں ہے اور اس سلسله میں شادی اور غیر شادی میں كوئی فرق نہیں ہے۔(۳)

آیت الله تبریزی،سیستانی ،نوری،فاضل اور وحید:آلات موسیقی كو لہوی موسیقی كے لئے استعمال كرنا (جوكه گناه اور عیاشی كی مجلسوں كے مناسب ہو)جائز نہیں ہے۔(۴)

آیت الله بهجت اور صافی:كسی بھی طریقه سے آلات موسیقی كا استعمال كرنا جائز نہیں ہے اور اس سلسله میں شادی اور غیر شادی میں كوئی فرق نہیں ہے۔(۵)

۱۶۸

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه،مسئله۲۶، خامنه اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۴۴،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۷۸،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۹۹۲، مكارم، استفتاءات، ج۲،سوال۷۱۱،سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۱۱، اور org ۔ sistani ،سوال۱۷، اور۱۸،وحید،اور نوری كادفتر۔

۲ ۔آیت الله صافی جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۰۵، ۱۰۰۷، ۱۰۲۰، ۱۰۱۸؛بهجت،كادفتر ۔

۳ ۔آیت الله خامنه اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۳۴؛امام خمینی،استفتاءات،مكاسب محرمه،سوال۲۵؛ فاضل،صاحب كا دفتر۔

۴ ۔تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۵۴؛سیستانی org ۔ sistani ،شماره۲،منهاج الصالحین ج۲،مسئله۲۰؛نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۵۷۱،مكارم،استفتاءات،ج۱ ، سوال۵۲۵، ۵۲۸،دفتر آقای وحید۔

۵ ۔آیت الله بهجت كا دفتر؛صافی جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۰۵، ۱۰۰۷و۱۰۲۰اور۱۰۱۸ ۔

۱۶۹

شادی بیاه كی مجلس

سوال نمبر۲۵۵: شادی كی شب (عورتوں كے درمیان)كسی عورت كا گانا گانا اور كچھ كارقص كرنا اور میز كرسی كو بجانے میں مشغول ہونا جائز ہے؟ایسی مجلس كا شرعی حكم كیا ہے(البته موسیقی كے آلات كا استعمال نہیں كیا جاتا)؟

تمام مراجع كرام:تبریزی اور خامنه ای كے علاوه:مذكوره فرضیه كے پیش نظر اشكال ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:اگر عورتوں كی بزم میں كوئی مرد یاممیز(اچھے اور برے كی تمیز كرنے ولا)بچه نه ہو اور لہوی موسیقی كا استعمال نه كریں تو عورتوں كے درمیان كسی عورت كاناچناگان اورمیز كرسی جیسی چیزوں پر بجانا(جوكه آلات موسیقی نہیں كهلاتے)كوئی حرج نہیں ركھتا۔(۲)

آیت الله خامنه ای:اگر بجانے كی كیفیت عام اور شادیوں میں رائج شیوه كے مطابق ہو اور اسے لہو نه كها جائے نیز عورتوں كے درمیان اسے كسی عورت كا ناچنا شہوت كے ابھرنے یا كسی دوسرے فساد كاباعث نه ہو تو كوئی اشكال نہیں ہے۔(۳)

حوالہ جات:

۱۔مكارم، استفتاءات، ج۱،سوال۵۳۵، صافی جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۲۳، فاضل،جامع المسائل،ج۱، سوال۱۷۳۶،اور ۱۷۳۷،سیستانی،امام خمینی ، نوری، وحید ،اور بهجت ، دفتر۔

۲۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۶،سوال ۱۴۵۶، ۱۴۴۸، ۱۴۴۴۔

۳۔آیت الله خامنه اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۳۳، ۱۱۳۴، ۱۱۶۶۔

۱۷۰

شادی كا پروگرام

سوال نمبر۲۵۶: اگر ہم یں كسی ایسی شادی اور پروگرام میں بلایا جائے وہاں موسیقی اور نامناسب گانا لگادیا جائے تو وہاں ہم اری ذمه داری كیا ہے؟كیا اس جگه كو چھوڑكر چلے جائیں؟

تمام مراجع حضرات:اگر آپ اپنی بات كو كنہے میں تاثیر كا احتمال دیتے ہیں تو شرائط (امربالمعروف ونہی عن المنكر )كے فراہم ہونے كی صورت میں نہی عن المنكر كریں اور اگر وه لوگ قبول نہیں كرتے(اور آپ كی وہاں موجودگی حرام موسیقی كے سننے یا گناه كی تائید كا سبب ہو)تو فوراً اس پرورگرام سے باہر چلے جائیں مگر یه كه آپكےاس عمل سے عسروحرج لازم آئے۔(۱)

گناه آور اور حرام میوزك

سوال نمبر۲۵۷: شادیوں میں خوآتیں كے درمیان گناه كی طرف كھینچنے والی آهنگ(حرام موسیقی)كے استعمال كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع حضرات:حرام موسیقی كاسننا(چاہے وه شادیوں میں خوآتین كے درمیان كیوں نه ہو)جائز نہیں ہے۔(۲)

نوٹ:“موسیقی” اور“غناو گاناگانا ”دو الگ الگ مقولے ہیں جوچیز شادیوں میں جائز قرار دی گئی ہے وه عورتوں كے درمیان كسی عورت كا گاناگانا اور غنا ہے لیكن لہوی موسیقی ہر حالت میں اور ہر زمانه میں حرام ہے۔

۱۷۱

حوالہ جات:

۱۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۱۶۹۰،اورج۲،سوال۱۳۸۸،اور۷۱۹،صافی،جامع الاحكام،ج۱سوال۱۰۱۳،۱۰۱۱،اورج۲،سوال۱۴۸۲،۱۴۵۹، ۱۰۱۰،۱۴۷۵،تبریزی، استفتاءات سوال۱۰۷۱، ۱۰۷۴،۱۰۴۵،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۹۴۸، ۹۴۶، ۹۵۰، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۶۷، ۱۱۷۴، ۱۰۶۴، ۱۱۹۳، ۱۴۲۹، ۱۱۵۴،سیستانی، org ۔ sistan شماره۱۳، بهجت،وحید،امام خمینی،نوری،حضرات كے دفتر۔

۲ ۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۱،مسئله۱۳،آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۳۴،بهجت،توضیح المسائل،متفرقه ،مسئله۲۰،اور وسیلة النجاة،ج۱،مسئله ۱۴۴۹،فاضل جامع المسائل، ج۱،سوال۹۹۷،سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،مسئله۲۰،وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۱۷،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۵۷،والتعلیقه علی منهاج الصالحین، المكاسب المحرمه،مسئله۱۷، مكارم، استفتاءات،ج۱،سوال ۵۲۸،صافی،هدایة العباد،ج۱،مسئله ۱۶۹۷،اور جامع الاحكام،ج۲،سوال۱۵۸۵،نوری،صاحب كا دفتر۔

۱۷۲

دوردرشن(ٹیلی ویزن اور ریڈیو)كے آہنگ و میوزك

سوال نمبر۲۵۸: كبھی كبھی ٹیلیویزن اور ریڈیو اسٹیشن یاٹیپ ریكارڈر كی كیسٹوں سے ایسی میوزك اور آہنگ نشراور سنائی دیتی ہے جس سے ایسا لگتاكه وه لہوی اور عیاشی كی بزم كے مناسب ہیں درحالیكه دوسروں كی نظر میں ایسانہیں ہے توكیا میں انہیں ایسی موسیقی كو سننے سے روك سكتاہوں؟

تمام مراجع كرام:آپ پرواجب یه ہے كه اسے نه سنیں لیكن دوسروں كو اس وقت روكا جاسكتاہے جب وه بھی اسے حرام موسیقی جانتے ہوں۔(۱)

نوٹ:امربالمعروف ونہی عن المنكر كے فرائض كے وجوب كی شرطوں میں سے ایك یه ہے كه اس كو انجام دینے والے كے نزدیك منكر كا حرام ہونا ثابت ہو یاوه گناه پر اصرار كرتے فرض مسئله وہاں كے لئے ہے جہاں مذكوره موسیقی دوسروں كی نگاه میں حلال ہے تو پھر ایسے موقع پر نہی عن المنكر ساقط ہوجائے گا۔

كام اور سرویس كی جگه پربجنے والی موسیقی

سوال نمبر۲۵۹: میں ایك ایسی جگه كام كرتاہوں جس كا مالك ہم یشه ناجائز او رحرام موسیقی كی كیسٹوں كو سنتارہتا ہے اور میں بھی اس كو سننے پر مجبور ہوتا كیا یه میرے لئے جائز ہے یا نہیں؟

تمام مراجع حضرات:اگر آپ تاثیر كا احتمال دیتے ہیں(البته تمام شرائط امربالمعروف ونہی عن المنكر كے ساتھ)تو اسے نہی عن المنكر كریں اور اگر وه قبول نہیں كرتا اور آپ بھی اسی جگه كام كرنے پر مجبور ہیں تو آپ كے لئےوہاں جگه كام كرنے میں كوئی اشكال نہیں ہے لیكن ضروری ہے كه حرام موسیقی سے پرہیز كریں اور اگر نه چاهتے ہوئے بھی اس كی آواز آپ كے كانوں میں پهنچ رہی ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۲)

نوٹ:اگر كسی زحمت و تكلیف كے بغیر یه شخص كوئی دوسرا كام پاسكتاہے تو ایساہی كرے چونكه مذكوره مسئله اس بات كےمد نظر ہے كه اس جگه كا ترك كرنا اور دوسرا كام انتخاب كرنا اس كے لئے دشوارا ور حرج كاباعث ہے۔

حوالہ جات:

۱۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۹۲۹، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۴۰،امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۱،القول فی شرائط وجوبهما،مسئله۲،وحید منهاج الصالحین،ج۲، مسئله۱۲۱۷، الرابع،تبریزی،منهاج الصالحین،ج۱،مسئله ۱۲۷۱،الرابع،سیستانی،منهاج الصالحین،ج۱،مسئله۱۲۱۷،الرابع،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۴۷۵، بهجت،نوری، مكارم، صاحب كادفتر۔

۲ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۱۱۶۰،صافی جامع الاحكام،ج۱،سوال۱۰۱۶،تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال۱۰۰۴،اور استفتاءات ،سوال۱۰۷۱، ۱۰۷۴ ، فاضل،جامع المسائل،ج۱، سوال۹۳۳ ، ۹۴۷، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۳۸، ۱۱۵۸، ۱۰۶۴،بهجت،وحید،امام خمینی،اور نوری صاحبان كا دفتر۔

۱۷۳

تالی بجانا:

سوال نمبر۲۶۰: شادیوں میں تالی بجانا كیساہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی اور مكارم:اگر معمولی اورغیر لہوی طریقه سے ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۱)

آیت الله نوری : اگر خلاف شان نه ہوتو كوئی حرج نہیں ہے۔(۲)

آیت الله تبریزی،سیستانی اور فاضل:ذآتی طورپر تالی بجانے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۳)

آیت الله وحید:احتیاط واجب اس كے ترك میں ہے۔(۴)

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی كا دفتر،آیت الله بهجت ،توضیح المسائل،متفرقه،مسئله۳۰، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۸۱، ۱۱۸۰،صافی جامع الاحكام، ج۲،سوال۱۵۱۸ ، مكارم، استفتاءات، ج۲، سوال۵۳۸، ۵۳۹۔

۲۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۵۸۴۔

۳ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۰۵۱،سیستانی، irg ۔ sistani موسیقی شماره۵۔

۴ ۔آیت الله وحید،كادفتر۔

۱۷۴

ائمه علیہم السلام كی ولادت كاجشن

سوال نمبر۲۶۱: ائمه علیہم السلام كی ولادت اور عید كی مناسبت سے منعقد ہونے والے جشن اور مراسم میں تالی بجانا كیسا ہے؟

امام خمینی، بهجت،خامنه ای،صافی،فاضل اورمكارم:اگر رائج(غیر لہوی)طریقه سے تالی بجائی جائے تو كوئی اشكال نہیں ہے لیكن یه كام اہلبیت علیہم السلام كی مجلسوں كی شان كے خلاف ہے

اور بهتر ہے كه ان مراسم كی فضاء صلوات و تكبیر اور اس كے جیسی چیزوں سے معطر ہو۔(۱)

آیت الله نوری :اس طرح كی مجلسوں میں تالی بجانا (اگر لہوی نه ہو)تو كوئی اشكال نہیں لیكن بهتر ہے ان مراسم كی فضاء صلوات و تكبیر اور ان جیسی چیزوں سے معطر ہو۔(۲)

آیت الله تبریزی و سیستانی :اس طرح كی مجلسوں میں تالی بجانے میں كوئی اشكال نہیں ہے لیكن یه كام اہلبیت كی مجلسوں كی شان كے خلاف ہےاور بهتر ہے ان مراسم كی فضا صلوات و تكبیر اور ان جیسے ذكر سے معطر ہو۔(۳) آیت اللہ وحید:احتیاط واجب اس (عمل)كے ترك میں ہے۔(۴)

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل،متفرقه،مسئله۳۰، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۸۱،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال،۱۵۸۳، ۱۵۸۱،فاضل،جامع المسائل، ج۱، سوال۱۷۳۶، ۱۷۳۵،آیت الله مكارم، ج۱،سوال ۵۳۹، ۵۳۸۔

[۱] ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،سوال،۵۴۸۔

[۱] ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۳۷،اور صراط النجاة،ج۱،سوال۱۰۲۰،سیستانی،، org ۔ sistani كف زدن شماره ۳اور۴۔

[۱] ۔آیت الله وحید،صاحب كا دفتر۔

۱۷۵

رقص كا حكم

سوال نمبر۲۶۲: كیا مر اور عورت كارقص كرنا جائز ہے؟

امام خمینی،اورآیت الله خامنه ای:اگر رقص،شہوت كے ابھرنے اور گناه میں ملوث ہونے كا سبب بنے یا اس پر مفسده لازم آئے یا عورت نامحرم مردوں كے درمیان ناچے تو حرام ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:شادی اور اس جیسے پرورگراموں میں بیوی كاشوہر كے لئے اورعورتوں كے درمیان رقص كرنے میں كوئی اشكال نہیں ہے(بشرطیكه وہاں مرد اور اچھے برے كی تمیز ركھنے والا كوئی لڑكا نه ہو اور كسی دوسرے حرام كام جیسے موسیقی وغیره پر مشتمل نه ہو)پس ان دومورد كے علاوه عورت كا ناچنا لہو ہےاور مومن كے لئے مناسب ہے كه لہو سے پرہیز كرے۔(۲)

آیت الله سیستانی اور وحید:صرف بیوی كا شوہر كے لئے اور شوہر كابیوی کیلئےناچنا جائز ہے۔(۳)

آیت الله صافی: فاضل اورمكارم،نوری:صرف بیوی كاشوہر كے لئے رقص كرنا جائز ہے۔(۴)

آیت الله بهجت:كسی بھی حال میں رقص صحیح نہیں ہے۔(۵)

بیوی كا ناچنا

سوال نمبر۲۶۳: كیا بیوی اپنے شوہر كے لئے رقص كرسكتی ہے اور اس كے ساتھ ساتھ وه شاد و مست كرنیوالی موسیقی سن سكتے ہیں؟

آیت الله بهجت كے علاوه تمام مراجع كرام:اگر حرام موسیقی كا استعمال نه ہو تو بیوی كا اپنے شوہر كے لئے رقص كرنا جائز ہے۔(۶)

آیت الله بهجت:اگر یه رقص،حرام موسیقی كےساتھ ہورہا ہو تو جائز نہیں ہے اور اگر اس كے بغیر ہو تب بھی احتیاط واجب كی بناء پر جائز نہیں ہے۔(۷)

۱۷۶

حوالہ جات:

۔امام خمینی،كادفتر، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۶۸۔

۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۴۲۔

۔آیت الله سیستاانی org ۔ sistani ،رقص شماره ۷،وحید؛صاحب كا دفتر۔

۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال۱۵۸۰؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۷۳۷ور۹۸۹؛مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۵۲۰،۵۳۴،۵۳۵؛نوری،استفتاءا ت ، ج۲، سوال ۵۷۴ ۔

۔آیت الله بهجت،صاحب كا دفتر۔

۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۴۲،خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال،۱۱۷۴، ۱۱۷۱، امام خمینی،استفتاءات،ج۲،سوال ۳۵، ۲۳،نوری، استفتاءات، ج۲،سوال۵۷۴،توضیح المسائل،جدیدمسائل،مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۵۳،۵۳۵،۵۲۰،وحید،صاحب،كادفتر،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال،۱۵۸۰،۱۵۸۵، فاضل، جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۷۳۷ ، ۹۸۹سیستانی ، org. sistani ،قص شماره ۲۔

۔آیت الله بهجت، صاحب كا دفتر۔

۱۷۷

رقص كو دیكھنا:

سوال نمبر۲۶۴: كیاداخل ملك یا بیرون ملك سے نشر ہورہے رقص كو ٹیلی ویژن پر دیكھنے میں اشكال ہے؟

تمام مراجع حضرات:ٹیلی ویژن پر رقص كو دیكھنااگر شہوت كے ابھرنے یا حرام موسقی كے سننے یا اخلاقی و شرعی جرم كا سبب بنے تو جائز نہیں ہے۔(۱)

نوٹ : ٹیلی ویژن پر رقص كودیكھنا گناه كی مجلس میں حاضر ہونےكا حكم نہیں ركھتا مگر یه كه گناه اور فساد كا سبب بنے۔

عورت كی آواز كوسننا

سوال نمبر۲۶۵: ایسی كیسٹوں كو سننا جس میں پڑھنے والی عورت ہو اور حافظ ومولوی جیسے شعراء كے كلام سے استفاده كیاگیا ہوتو كیساہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،صافی،فاضل،مكارم اور وحید:اس كا سننا جائز نہیں ہے۔(۲)

آیت الله تبریزی،جامنه ای،سیستانی اور نوری:عورت كی آواز سننے میں كوئی اشكال نہیں ہے بشرطیكه غنا نه كهلائے نیز جنسی لذت اور شہوت كے بھڑكنے كا سبب نه بنے اور اس پر كوئی مفسده بھی مرتب نه ہو۔(۳)

نوٹ: غنا كامطلب ہے آواز كا ایسا اتار چڑھاؤ جوطرب انگیز (مست و مسرور كرنیوالا)اور لہوو گناه كی مجلسوں كے مناسب ہو۔

۱۷۸

حوالہ جات:

۱۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۸۲۱، خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۶۹،بقیه تمام مراجع كرام كا دفتر۔

۲۔امام خمینی،آیت الله بهجت،اور وحید صاحب كا دفتر،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۶۱۷،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۷۲۴، مكارم،استفتاءات،ج۲، سوال۷۰۹،اور ج۱،سوال ۵۲۶۔

۳۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۵۸، ۱۰۴۹، ۱۰۷۵؛خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۴۵؛سیستانی، org ۔ sistani ،غنا،شمار۶؛نوری،استفتاءات،ج۱ ، سوال۴۴۴،اور جلد۲،سوال ۵۴۲،۵۴۴، ۵۴۹۔

۱۷۹

عورتوں كا مجلس پڑھنا

سوال نمبر۲۶۶: بعض مواقع پر عورتیں اپنی ہی مجلس میں اس طرح مائیك پر مجلس اور مرثیه پڑھتی ہیں كه انكی آواز راسته چلنے والے مردوں كے كانوں تك پهنچتی ہے تو كیا یه عمل جائز ہے؟

آیت الله مكارم كے علاوه تمام مراجع حضرات:اگر انكی آوازسے ان كی عفت كو خطره میں پڑنے كا گمان ہو، اسی طرح لذت اور شہوت كے بھڑكنے كا باعث ہے تو جائز نہیں ہے۔(۱)

مكارم:جی نہیں قطعا جائز نہیں ہے۔(۲)

عورتوں كا گروپ كی صورت میں پڑھنا

سوال نمبر۲۶۷: عورت كاآپس میں ایك ساتھ یا مردوں كے ساتھ اشعار پڑھنا،تواشیح (مذہبی و كلامی اشعار) پڑھنا كیسا ہے اور كیا اس كاسننا جائز ہے؟

تمام مراجع حضرات(آیت الله بهجت ،صافی اور مكارم كے علاوه):اگر غنا كی صورت میں نه ہو اور شہوت كے بھڑكنے اور فتنه وفساد كا سبب نه بنے تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۳)

آیت الله مكارم،صافی اور بهجت:اگر مفسده كاباعث بنے تو حرام ہے اور اگر ایسا نه ہوتب بھی احتیاط واجب كی بناءپر جائز نہیں ہے۔(۴)

۱۸۰