گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6578
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6578 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱۔ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۲۱۸۲، صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال۱۶۸۱، خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۴۵،نوری،استفتاءات،سوال ۵۴۵، امام خمینی،استفتاءات، ج۳،(احكام نظر)سوال،۵۷، ۶۵،تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۰۵۸،وحید،بهجت اور سیستانی، صاحبان كا دفتر۔

۲۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۱۷۶۴اور ج۱،سوال۷۸۵ اور دفتر استفتاءات۔

۳۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،(احكام نظر)سوال ۶۴،اور امام خمینی،كادفتر،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۰۵۸،خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۱۴۵،نوری، استفتاءات ، ج۲،سوال۵۴۴، ۵۴۴، ۵۴۹،سیستانی، org ۔ sistani ،غنا،سوال ۶ اور سیستانی،صاحب كادفتر،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۷۲۲، ۹۷۷ اور وحید صاحب كادفتر۔

۴۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۵۲۲،صافی،جامع الاحكام،ج۲ سوال۱۶۷۴، ۱۶۷۵، اور بهجت صاحب كادفتر۔

۱۸۱

حجاب (پرده)كے احكام

حجاب كی اہمیت

سوال نمبر۲۶۸: حجاب اور اس كے واجب ہونے كی دلیل كے بارے میں توضیح دیں؟

> وَ لا یبْدینَ زینَتَهُنَّ إِلاَّ ما ظَهر مِنْها وَ لْیضْرِبْنَ بِخُمُربهِن عَلى‏ جُیوبِهِنَّ ۔۔۔ < (نور،آیت ۳۱)“

اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں علاوہ اسکے جو ازخود ظاہر ہے اور اپنے دوپٹہ کو اپنے گریبان پر رکھیں"

“حجاب”لغت میں پرده ،چھپانے والا اور چھپانے كے معنی میں ہے

اور اصطلاح میں“عورت كا خود كو نامحرم اور اجنبی سےچھپاناہے”دین اسلام نے جو چیز عورتوں كے لئے ضروری سمجھی ہے وه وہی چھپانا ہے جس كو دینی كتابوں اور فقهاء كے كلاموں میں“چھپانا ،ڈھانپنا چھپانے والا اور ڈھانپ لینے والا ”سے تعبیر كیاگیا ہے۔

اسلام سے پهلے بھی بعض قوموں میں(جیسے قدیمی ایران اور قوم یہود اور شاید ہندوستان میں)حجاب اور پردھ موجود تھا بلكه اسلام كے قانون میں موجود حكم سے كہیں زیاده سخت اور شدید تھا(۱) دین اسلام میں یه قانون تقریباً چوتھے اور پانچویں سال میں آیا ہے۔(۲)

حجاب اسلام كے ضروری احكام میں سے ایك ہے ،اس پر شیعه اور سنی دونوں متفق ہیں۔خداوند عالم نےاس سلسله میں تین آیتیں ،(۳)

شہر مدینه میں نازل كیں جس كی دوآیتوں میں عورتوں كے حجاب كے سلسله میں اشاره ہوا ہے۔(۴)

اسكے علاوه حجاب كی كیفیت كے بار میں بهت سی حدیثیں نقل ہوئی ہیں حضرت علی(ع) فرماتے ہیں:عورت كا اپنے بدن كو چھپانا خود اس كے حق میں بهتر ہے اور اس كی خوبصورتی و حسن كو دوام بخشتا ہے۔(۵)

حوالہ جات:

۱۔مطهری،مرتضیٰ،مسأله حجاب،ص۲۱۔

۲-اس بات پر توجه رهے كه اگرچه حجاب و پرده سے متعلق آیتوں كے نزول كا سال تفسیر اور تاریخ كی كتابوں میں نہیں بتایاگیا هے لیكن اس بات كے مد نظر كه ایك طرف دو آیتیں سوره احزاب اور سوره نور میں آئی ہیں اور نزول كی ترتیب كے لحاظ سے سوره احزاب سوره نور سے قبل اور سوره آل عمران كے بعد هے۔ اور دوسری طرف تفسیر نمونه كے نقل كے مطابق سوره آل عمران دوسرے اور تیسرے سال كے درمیان نازل هواهے اور دونوں بیان كے مد نظر اچھی طرح سے یه نتیجه اخذ كیا جاسكتا هے كه سوره احزاب چوتھے اور پانچوایں سال میں نازل هوا هے ۔اس بناء پر حجاب كی یة آیت ان هی سالوں میں آئی هے۔(اس سوره كے مطالب بھی اسی بات كی تائید كرتے ہیں)۔

۳۔سوره نور،آیت۳۱،سوره احزاب،آیت ۵۹، ۳۳۔

۴۔سوره نور،آیت ۳۱،سوره احزاب،آیت۵۹۔

۵۔صاینة المرة النعم لحالها و ادوم لجمالها،مستدرك الوسائل ،جلد۱۴،باب۷۰۔

۱۸۲

عورت كے حجاب كرنے كے دو مقصد اور اساسی فلسفے ہیں

۱- ہوی وہوس كے شكاریوں كے حرص و طمع سے عورت محفوظ ہوتی ہے۔

۲- شہوت كو بھڑكنے سے روكتا ہے اور معاشره برائیوں میں گرفتار ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔( سوره احزاب،آیت ۵۹ )

حجاب اور پرده كے حواله سے كچھ باتوں پر توجه ركھنا ضروری ہے:

الف:عورت كو چاہیئے كه وه اپنے بدن، زیورات اور میك اپ اسی طرح ہروه چیز جو عرف میں زنیت كهلآتی ہے، ان سب كو نامحرم سے چھپائے، اس حكم سے صرف اس كا ہاتھ اور چہره جدا كیا گیا ہے۔

ب:اگرچه دین اسلام نے كوالٹی ،رنگ ،یہاں تك كه لباس كی سلائی وغیره كے سلسله میں كوئی تاكید اور زور نہیں دیا ہے اور صرف اصل حجاب (چاہے چادر ہو برقعه ہو چاہے اور كوٹ ،گاؤن وغیره)پر اعتماد ه كیا ہے۔لیكن یه واضح رہے كه لباس كوٹائٹ(فٹ)،شہوت كو بھڑكانے والا ،بدن نما(جس سے بدن كی ساخت)اورلوگوں كی توجه كو جلب كرنے والا نہیں ہونا چاہے ، اسی وجه سے چادر (نقاب)سب سے بهتر او رمناسب حجاب سمجھاجاتا ہے۔اور یه ان چیزون میں سے ہے جن كا كلاہونا مكروه نہیں ہے بلكه وقار و متانت كی علامت ہے اور اس سلسله میں روایتوں میں اشاره بھی ہوا ہے۔

ج:گفتگومیں ایسے نرم لهجه سے پرہیز كرنا جو نامحرم كی طمع كا سبب بنے اور راسته چلنے میں متانت اور ایسے جوتوں كا استعمال نه كرنا جونامحرم كی توجه كا سبب بنتاہے عورت كے حجاب كا ایك حصه ہے۔

د:اگرچه مرد پر پورے بدن كا چھپانا واجب نہیں ہے لیكن عورت كا اس كے بدن كو دیكھنا حرام ہے بالكل ویسے ہی جس طرح چہره اور كلائی سے انگلیوں كے سرے تك كا چھپانا عورت پرواجب نہیں ہے لیكن مرد كے لئے شہوت كی نظر سے اس حصه كو بھی دیكھنا حرام ہے۔

اوركوٹ پهننے كا حكم

سوال نمبر۲۶۹: ایسا كوٹ جس سے بدن كی ساخت(جیسے سینه اور پشت وغیره )نمایاں ہو پهننے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع :اگر شہوت كو بھڑ كانے كا باعث بنے تو جائز نہیں ہے۔(۱)

بچوں كے سامنے حجاب

سوال نمبر۲۷۰: كیاعورت كے لئے ضروری ہے كه وه نابالغ بچه كے سامنے خود كو چھپائے؟

تمام مراجع(آیت الله بهجت ،تبریزی،مكارم كے علاوه):اگر بچه اچھے او ربرے كی سمجھ ركھتا ہو اور یه احتمال دیا جائے كه عورت كے بدن پر نظر پڑنے سے اس كی شہوت ابھر سكتی ہے تو احتیاط واجب كی بناء پر اپنے بدن او ربالوں كو بچے سے چھپانا واجب ہے۔(۲)

آیت الله بهجت:اگربچه اچھے اور برے كی تمیز ركھتاہو تو اس سے چھپایاجائے۔(۳)

آیت الله تبریزی اور مكارم:نہیں،ضروری نہیں ہے،لیكن بهتر ہے اپنے بدن اور بالوں كو اس بچے سے جو اچھے اور برے كی سمجھ ركھتا ہو چھپایاجائے۔(۴)

۱۸۳

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،(حجاب كے احكام)سوال۲۷؛سیستانی، org ۔ sistani (حجاب)سوال۵؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۷۰۸،مكارم،استفتاءات، ج۲،سوال ۱۳۵،اور۱۰۲۳، نوری،استفتاءات،ج۲،سوال ۶۷۹،تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال ۹۰۷،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال۱۶۹۴، ۱۷۲۹،خامنه ای،استفتاءات سوال،۶۱۸ اور ۵۵۹،وحید ،بهجت صاحب كا دفاتر۔

۲۔توضیح المسائل،مراجع،مسئله۲۴۳۵،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۴۴۴،نوری،توضیح المسائل مسئله ۲۴۳۱۔

۳۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل،مسئله۱۹۳۷۔

۴۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲۴۳۵۔

۵۔سیستانی، org ۔ sistani حجاب)سوال ۳،تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال ۸۷۸،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۷۰۶،صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۶۹۶، خامنه ای، استفتاءات سوال۴۳۸،دفتر،نوری،وحید،بهجت ،امام ۔

۱۸۴

ٹھڈی كو چھپانا

سوال نمبر۲۷۱: آیا ٹھڈی هتھیلی اور پیر كے اوپری حصه كونامحرم كے سامنے چھپانا واجب ہے؟

تمام مراجع(آیت الله تبریزی اور مكارم كے علاوه):جی ہاں اسے نامحرم سے چھپانا چاہے۔(۵)

آیت الله مكارم:ٹھڈی كا چھپانا واجب ہے لیكن هتھیلی اور پیر كو ٹخنه تك چھپانا واجب نہیں ہے ۔(۱)

تبریزی:ٹھڈی كو چھپاناواجب ہے لیكن هتھیلی اور پیر كو ٹخنه تك احتیاط كی بناءپر چھپانا واجب ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱-آیت الله مكارم كا دفتر۔

۲۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۵،سوال ۱۲۷۵، استفتاءات ،سوال ۱۶۱۴۔

۱۸۵

چہره كو چھپانا

سوال نمبر۲۷۲: وه عورت جو جانتی ہو كه اس كی خوبصورت كی وجه سے نامحرم اسے دیكھیں گے ایسی صورت میں اس كا شرعی وظیفه كیا ہے؟كیا چہره چھپاناواجب ہے؟

امام خمینی،آیت الله سیستانی،فاضل،مكارم،نوری:اگر مفسده كاباعث نه بنے تو چہره كا چھپانا اس پر واجب نہیں ہے،لیكن مردوں پروظیفه ہے كه اس كی طرف نگاه نه كریں۔(۱)

آیت الله بهجت،تبریزی،وحید:اگر نامحرم مردكی توجه كے جلب كا باعث نه بنے تو احتیاط واجب كی بناء پر اپنے چہره كو چھپانا چاہیئے۔(۲)

آیت الله صافی:اپنے چہره كو نامحرم كے سامنے چھپانا چاہیئے۔(۳)

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۱۰۱۹،امام،تعلیقات علی العروه ،النكاح،مسئله ۵۱،واستفتاءات،ج۳،سوال ۳۰اور۲۹،فاضل اور نوری،تعلیقات علی العروه ، النكاح ،مسئله۵۱،سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،النكاح مسئله۱۸۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۵،سوال ۱۲۶۲،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۴۴۴،تهجت،صاحب كا دفتر۔

۳ ۔آیت الله صافی،صاحب كا دفتر۔

۱۸۶

عورت كا پرفیوم لگانا

سوال نمبر۲۷۳: كیا عورت كے لئے جائز ہے كه عطر لگا كرگھر سے باہر آئے؟

تمام مراجع:نہیں جائز نہیں ہے۔(۱)

نوٹ: اوپردئیےگئےمسئله كا مطلب یه ہے كه معطر حالت میں اگر عورت گھر سے باہر نكلتی ہے تو نامحرم مردوں كی توجه كے جلب اور تحریك كا سبب بنتی ہے لیكن اگر كہیں یه مفسده نه پایا جاتا ہو تو ایسی حالت میں باہر نكلنے میں كوئی اشكال نہیں ہے۔

عورتوں كے زیورات

سوال نمبر۲۷۴: اگر عورتوں كے زیوارت نامحرم كودكھائی دے رہے ہوں تو كیا حكم ہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،صافی،خامنه ای،فاضل،وحید:نامحرم كی نظروں سے چھپانا چاہیئے۔(۲)

آیت الله مكارم،نوری: وه زیورات جو نظر نہیں آتے (جیسے برسلٹ،چوڑیاں اور هار) نامحرم كی نظروں سے چھپانا واجب نہیں ہے۔(۳)

آیت الله سیستانی:هار كا نامحرم كی نظروں سے چھپانا واجب ہے لیكن چوڑیاں،برسلٹ اور شادی كی انگوٹھی كا چھپانا واجب نہیں ہے۔(۴)

آیت الله تبریزی:چھپے ہوئے زیورات (جیسے برسلٹ،چوڑی اور هار)كا نامحرم كی نظروں سے چھپاناواجب ہے لیكن وه انگوٹھی جو بزرگ خوآتین كے نزدیك متعارف ہے اسے چھپانا واجب نہیں ہے۔(۵)

۱۸۷

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۷۹۷،تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۶۱۶،خامنه ای،استفتاءات،سوال ۶۶۷،۶۲۱،نوری،استفتاءات ج۱،سوال ۱۰۳۳ ، دفتر:وحید، صافی، بهجت،امام،فاضل، سیستانی،۔

۲ ۔امام خمینی،تعلیقات علی العروه،مسئله،۱،اور استفتاءات،ج۳،سوال ۳۶،خامنه ای،استفتاءات،سوال ۵۴۳،فاضل،توضیح المسائل،مسئله ۷۹۶،جامع المسائل ، ج۱، مسئله ۱۷۰۷،دفتر ، صافی، بهجت،وحید۔

۳ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۸۰۱،توضیح المسائل،مسئله۷۲۹،نوری،استفتاءات،ج۲،سوال ۶۶۹،اور ج۱،سوال ۵۴۲۔

۴ ۔سیستانی،تعلیقات علی العروه ،مسئله۱۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال ۸۸۳،۸۸۲، ۸۸۴۔

۱۸۸

چہره كا حجاب

سوال نمبر۲۷۵: كیاآنكھوں كے كاجل، Thrading ہوئے چہره كو یا ابرو كے كلركو نامحرم سے چھپانا چاہیئے؟

امام خمینی: Thrading ہوئے چہره كوچھپانا واجب نہیں ہے لیكن آنكھوں كے كاجل اورابرو كے كلركو اگر عرف میں زینت شمارہوں تو چھپانا واجب ہے۔(۱)

آیت الله سیستانی،مكارم،نوری،نامحرم سے انہیں چھپانا واجب نہیں ہے۔(۲)

آیت الله بهجت،صافی:نامحرم سے انہیں چھپانا چاہیئے۔(۳)

آیت الله خامنه ای ،فاضل،وحید:اگروه زینت میں شمارہوتاہے تو اسے نامحرم سے چھپانا چاہیئے۔(۴)

آیت الله تبریزی، Thrading ہوئے چہر ه كو(اگر بزرگ خوآتین كے نزدیك متعارف ہو تو)چھپانا واجب نہیں ہے۔(۵)

نوٹ:اگریه تمام چیزیں جویہاں بیان كی گئی ہیں مفسده كا سبب یانامحرم مرد كی توجه كے جلب كا سبب بنے تو ان كا چھپاناواجب ہے۔

۱۸۹

حوالہ جات:

۱۔ دفتر،امام اور استفتاءات،ج۳،سوال ۳۴۔

۲ ۔سیستانی، org ۔ sistani ،زینت؛مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۱۰۳۴،اور۱۵۱،اور ج۱،سوال۸۰۲،نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۴۹۱، ۵۴۲،۵۰۰۔

۳ ۔دفتر،آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۶۸۳،اور دفتر بهجت۔

۴ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،سوال۵۷۷، ۴۶۴، فاضل جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۷۰۷،دفتر وحید۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۱،سوال ۸۸۲، ۸۸۳،اور ج۵،سوال ۱۲۳۸۔

نامحرم كے احكام

ٹیلیفوں پر بات چیت كرنا

سوال نمبر ۲۷۶: نامحرم مرد اور عورت كا آمنے سامنے یا ٹیلیفون پر ایك دوسرے سے گفتگو كرنے كے درمیان كوئی فرق ہے؟

تمام مراجع:نہیں ان دونوں كے حكم میں كوئی فرق نہیں اور اگر ان دونوں مورد میں لذت یا حرام میں پڑنے كا قصد ہو تو اشكال ہے۔(۱)

شادی كے لئے بات چیت كرنا

سوال نمبر۲۷۷:جس كے ساتھ شادی كا قصد اور اراده ہو، كیااس سےبات كرنا گناه ہے ؟

تمام مراجع: اگر لذت كا قصد یا حرام میں پڑنے كا خطره اور آبروریزی كا خوف نه ہو تو كوئی اشكال نہیں۔(۲)

صنف مخالف سے Chating كرنا

سوال نمبر۲۷۸: صنف مخالف سے Chating كرنے یا روزمره كی معمول بآتیں كرنے كاكیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر فتنه یا گناه میں پڑنے كا خوف ہوتو جائز نہیں ہے۔(۳)

اینٹرنٹ پرچیٹنگ كرنا

سوال نمبر۲۷۹: ایسے شخص سے جس كی صنف كی اطلاع نه ہو Chating كرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع: اگر حرام میں پڑنے كا خطره ہو تو جائز نہیں ہے۔(۴)

نامحرم كو سلام كرنا

سوال نمبر۲۸۰: كیا مرد كا نامحرم عورت كو یا عورت كا نامحرم مرد كو سلام كرنا جائز ہے؟

تمام مراجع:اگر لذت كا قصد اور حرام میں پڑنے كا خطره نه ہو تو كوئی مشكل نہیں۔(۵)

نوٹ:اگر صنف مخالف ،نوجوان لڑكی ہو تو بهتر ہے اسے سلا م نه كریں تاكه گناه میں پڑنے سے محفوظ رہیں۔

نامحرم سے ہنسی مذاق

سوال نمبر۲۸۱: نامحرم سے هنسی مذاق كرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر جنسی لذت كا اراده یا گناه میں پڑنے كا خطره ہو تو جائز نہیں ہے۔(۶)

نامحرم كے سامنے ہنسنا

سوال نمبر۲۸۲: نامحرم مرد سے بات كرتے وقت عورت كے ہنسنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر اس كی ہنسنی ایسی ہو جو نامحرم میں شہوت كے ابھرنے كا سبب ہو تو جائز نہیں ہے۔(۷)

۱۹۰

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،سوال ۵۲،آیت الله بهجت،توضیح المسائل ،مسئله۱۹۳۶، مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۸۱۹، تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۶۲۲،صافی،جامع الاحكام،ج۲، مسئله۱۶۷۳، نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۶۵۶،فاضل ،جامع المسائل،مسئله۱۷۱۸،خامنه ای،استفتاءات،ج۲،سوال ۱۱۴۵،العروة الوثقیٰ، ج۲، مسئله۳؛ سیستانی، org ۔ sistani ،سوال ۲۰،اور۱۹ ، دفتر وحید۔

۲ ۔ آیت الله خامنه ای،استفتاءات،سوال ۷۸۲ اورتمام مراجع كرام كے دفاتر۔

۳ ۔آیت الله سیستانی، org ۔ sistani ،اینترنیٹ،تبریزی، Yabrizi. org ،تمام مراجع كے دفاتر۔

۴-تمام مراجع،كے دفاتر۔

۵۔العروة الوثقیٰ،ج۲،النكاح،مسئله۳۹،اور۴۱۔

۶۔سابق حواله،مسئله۱۳۱، ۳۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۷۲۰؛آیت الله خامنه ای،استفتاءات ،سوال۷۸۲۔

۷۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۶۷۰،سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،النكاح،مسئله ۲۹،نوری،مكارم اور امام خمینی تعلیقات علی العروه، مسئله ۳۹، دفتر،آیت الله وحید ،

۱۹۱

نامحرم كے ساتھ تنهائی

سوال نمبر۲۸۳: كیا دو نامحرم كا ایك مكان میں تنها رہنا جائز ہے؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،نوری:اگر كوئی اس مكان میں نہیں آسكتا اور انكے حرام میں پڑنے كا خطره ہو تو ان كا وہاں ٹھرنا حرام ہے۔(۱)

آیت الله صافی:اگر كوئی اس مكان میں داخل نہیں ہوسكتا تو انكا وہاں ٹھہرنا حرام ہے،اگرچه گناه میں ملوث ہونے كا احتمال نه دیں اور علمی یا ضروری بآتیں كریں۔(۲)

آیت الله بهجت؛سیستانی،وحید:اگر گناه میں ملوث ہونے كا احتمال ہو تو ان كا وہاں ٹھہرنا حرام ہے اگرچه وه مكان ایسا ہو كه كوئی دوسرا بھی وہاں آسكتاہو۔(۳)

آیت الله تبریزی،فاضل:اگر كوئی دوسرا اس مكان میں نہیں آسكتا اور گناه میں ملوث ہونے كا احتمال ہو تو ان كا وہاں ٹھہرنا حرام ہے۔(۴)

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۴۵،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۴۴۱،خامنه ای،استفتاءات،سوال،۶۳۹،اور ۶۲۷۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۴۵۔

۳ ۔حواله سابق،مسئله ۲۴۴۵۔

۴ ۔حواله ،سابق،مسئله ۲۴۴۵۔

۱۹۲

لڑكے اور لڑكی كا ایك دوسرے كے ساتھ تعاون

سوال نمبر۲۸۴: كیا لڑكی اور لڑكوں كا دعوتوں میں یاكسی كام میں ایك دوسرے كی مدد كی غرض سےگہرا رابطه ركھنا صحیح ہے؟

تمام مراجع:لڑكے اور لڑكی كے درمیان دوستی جائز نہیں ہے كیونكه گناه میں پڑنے كا خطره ہے لیكن ایك ساتھ كام كرنا اگر گناه میں ملوث ہونے كا خطره نه ہو اور شرعی حدود كا لحاظ كیا جائے تو كوئی حرج نہیں۔(۱)

نامحرم كے ساتھ بیٹھنا

سوال نمبر۲۸۵: كبھی كبھی گاڑیوں میں مرد اور عورت كے ایك ساتھ بیٹھنے سے ان كے بدن ایك دوسرے سے ٹكراجاتے ہیں ،ایسی صورت میں شرعی وظیفه كیا ہے؟

تمام مراجع:عورت اور مرد كے بدن كا ایك دوسرے سے لباس كے اوپر سے ٹكراجانا حرام نہیں ہے لیكن اگر شہوت كے ابھرنے كا خطره ہو تو جائز نہیں ہے۔(۲)

نوٹ:اگر بدن كے ملنے سے دباؤ یا ایك دوسرے پر ٹیك لگانے كا سبب بنے تو اس سے پرہیز كرنا ضروری ہے۔

نامحرم سے ہاتھ ملانا

سوال نمبر ۲۸۶: اگر كسی علاقے یا ماحول میں یه رسم ہو كه لوگ ایك دوسرے سے ملتے وقت مصافحه كرتے ہیں(حتی عورتیں مردوں سے)اور اگر اس كام كو ترك كردیاجائےتو ایسی صورت میں سامنے والااسے اپنی اهانت سمجھتاہے تو ایسے حالات میں عورتوں اور مردوں كا آپس میں ہاتھ ملانا كیساہے؟

تمام مراجع:نامحرم عورت سے ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے دینی قوانین كا لحاظ ركھنا ضروری ہے اور حكم شرعی كو بیان كرنے اور اس پر عمل كرنے سے توھین كا گمان ختم ہوجاتاہے۔(۳)

سوال نمبر۲۸۷:كیا جنسی شہوت بھڑكانے والی كهانیوں كاپڑھنا جائز ہے؟

تمام مراجع:اگر انسان كی شہوت كوبھڑكانے كاسبب بن رہی ہے تو اس كا پڑھنا جائز نہیں ہے۔(۴)

نامحرم سے خط ونگارش

سوال نمبر۲۸۸: نامحرم سے خط ونگارش اور شہوانی مسائل كو ایمیل كے ذریعه بھیجنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:ایسے مسائل كو بیان كرنے میں اشكال ہے جو فتنه وفساد كے ہونے یا اس كے لئے زمینه فراہم ہونے كاباعث بنیں۔(۵)

۱۹۳

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،سوال ۷۷۹،اور۶۵۱،اور تمام دفاتر ۔

۲ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،سوال ۶۴۵،اور۱۵۸۶،مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۱۶۶۵، نوری،استفتاءات ج۱،سوال ۱۰۳۱،تبریزی،صراط النجاة،ج۲،سوال ۱۱۵۲ ،العروة الوثقیٰ،ج۲،مسئله۴۷،تمام مراجع ،كےدفتر جیسے وحید،بهجت،فاضل،سیستانی اور صافی۔

۳ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،سوال۵۱۵،اور۴۷۹،تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۶۰۶،نوری،استفتاءات،ج۲،سوال ۶۵۵،مكارم،استفتاءات ج۱،سوال ۸۱۸، صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۶۶۰، فاضل،جامع المسائل،،ج۱،سوال ۱۷۱۷،بهجت،توضیح المسائل،مسئله۱۹۳۴،سیستانی،منهاج الصالحین، ج۲،النكاح مسئله۱۶، امام خمینی،تحریرالوسیله ج۲،النكاح مسئله۲۰،دفتر وحید۔

۴ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۱۹۶،سیستانی، org ۔ sistani متفرقات ،سوال ۷،تمام كے دفتر۔

۵ ۔امام،استفتاءات،ج۳،سوال متفرقه،منزل ۱۲۷۰،تمام مراجع كے دفاتر ۔

۱۹۴

نگاہ كے احکام

نامحرم کو دیکھنا

سوال نمبر٢٨٩: نامحرم کو دیکھنے کی حرمت کے بارے میں توضیح دیجیے؟

> قُلْ لِلْمُؤْمنینَ یغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهم < ( سوره نور،آیت ٣٠)

اور پیغمبر آپ مؤمنین سے کہہ دیں کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں

> وَ قُلْ لِلْمُؤْمِناتِ یغْضُضْنَ مِنْ أَبْصارهن‏ < (سوره نور آیت ۳۱)

اور مومنات سے کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں

شریعت میں حرام نگاہیں مندرجہ ذیل ہیں:

مرد کا نامحرم عورت کے بدن کو دیکھنا(سوائے چہرہ اور ہاتھ کی کلائی سے انگلیوں کے سرے تک ) چاہے قصد کے ساتھ ہو یا بغیر قصد کے ۔ نیز چہرہ اور ہاتھ کو دیکھنا اگر شہوت کے ارادہ کے ساتھ یا حرام میں مبتلا ہونے کا خوف پایا جائے اور اسی طرح سے عورت کا نامحرم مرد کے بدن کو دیکھنا (چہرہ، گردن ، ہاتھ اور پیر کے کچھ حصہ کے علاوہ) چاہے قصد کے ساتھ ہو یا بغیر قصد کے، اور ہاںمذکورہ اعضاء کو اگر شہوت کے ارادہ سے یا حرام میں مبتلا ہونے کے خوف سے دیکھے ۔

امام صادق فرماتے ہیں:“نامحرم کی جانب دیکھنا شیطان کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر ہے ۔اور چہ بسا ایک بار کا دیکھنا ایک طولانی حسرت واندوہ کا پیش خیمہ بنے”۔

( النَّظَرُ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِیسَ مَسْمُومٌ وَ كَمْ مِنْ نَظْرَةٍ أَوْرَثَتْ حَسْرَةً طَوِیلَةً ،بحار،ج۱۰۱/۴۰ ۔ )

۱۹۵

حرام نگاہیں

سوال نمبر٢٩٠: حرام اور ممنوع نگاہیں کون سی ہیں ؟

حرام نگاہیں مندرجہ ذیل ہیں :

١۔میکپ کی ہوئی عورت کے چہرے کو دیکھنا

٢۔ عورت کے زیورات کی جانب دیکھنا

٣۔ بے حجاب آشنا عورت کی تصویر دیکھنا

٤۔ ریبہ(حرام میں مبتلا ہونے کے ڈر)کے ساتھ دیکھنا

٥۔ نامحرم مرد کے بدن کی جانب دیکھنا (سوائے چہرے اور ہاتھ کے )

٦۔نامحرم عورت کے پورے بدن کو دیکھنا(سوائے چہرے اوہاتھوںکو کے کلائی انگلیوں کے سرے تک)

٧۔شہوت آلود نگاہیں(چاہے چہرہ ہوہاتھ ہو یا ہم جنس کا بدن )

۱۹۶

حلال نگاہیں

سوال نمبر٢٩١: جائز اور حلال نگاہیں کون سی ہیں ؟

جائز نگاہیں مندرجہ ذیل ہیں :

١۔گاؤںمیں رہنے والی عورتوں کی دیکھنا (۱)

٢۔بے حجاب نا آشنا عورت کی دیکھنا ۔

٣۔ہم جنس کا ہم جنس کو دیکھنا (سوائے شرمگاہ کے)

٤۔ شادی کی قصد سے عورت کو دیکھنا(خاس شرائط کے ساتھ)

٥۔ایسی بے حجاب عورت کی جانب دیکھنا کہ اگر اسکی سرزنش کی جائے پھر بھی اس پر اثر اندازنہ ہو۔

٦۔بوڑھی عورت(۲) کی جانب دیکھنا کہ جس سے شادی کرنے میں کوئی رغبت نہ ہو۔

٧۔غیر مسلمان عورت کی جانب دیکھنا چاہے اہل کتاب ہو یا نہو۔ (۳)

حوالہ جات:

۱- بعض مراجع کرام کے فتووں کے مطابق (آیت اللہ بہجت اور آیت اللہ مکارم ۔

۲- معمولاً جس جگہ عام طور پرکو نہیں چھپاتی ہے (جیسے بال، گردن اور ہاتھ)۔

۳۔ سوائے ان جگہوں کے جنہیں عام طور پر چھپاتی ہے ۔

۱۹۷

منگیتر کو دیکھنا

سوال نمبر٢٩٢: کیا مرد کا اپنی منگیتر کے بدن(جو کہ ابھی نامحرم ہے لیکن شادی اس سے کرناقطعی و یقینی ہے) دیکھنا جائز ہے ؟

تمام مراجع:نہیں ، نامحرم منگیتر ،دیگر عورتوںسے کوئی فرق نہیں کرتی ہیں۔(۱)

بہن کی نظر سے دیکھنا

سوال نمبر٢٣٩: بغیرقصد لذت کے بلکہ محبت و دلبستگی کے تحت(جیسے بہن کی نظر سے دیکھنا) نامحرم عورتوں کو دیکھنا (خاص کر رشتہ دار اور آشنا عورتوں کا )کیسا حکم رکھتاہے ؟

تمام مراجع(سوائے آیت اللہ صافی کے )؛ اگر لذت کا ارادہ اورحرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہوتو انکے چہرے اور ہاتھ کو کلائی تک دیکھنا جائز ہے لیکن دیگر جگہوں کو دیکھنا (اگرچہ لذت کا قصد نہ ہو) حرام ہے ۔ (۲)

آیت اللہ صافی: انکے بدن کودیکھنا (اگرچہ لذت کا قصد نہ ہو) حرام ہے اور احتیاط واجب کی بناء پر انکے چہرے اور ہاتھ کو کلائی تک قصد لذت کے بغیر بھی نہ دیکھا جائے۔ (۳)

۱۹۸

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۳؛العروة الوثقی،ج۲،النكاح،م۲۶؛آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۲۴۴۲؛نوری،توضیح المسائل،م۲۴۲۹و خامنه ای ،استفتاءات،س۱۴۰۲۔

۲۔توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۳؛نوری،توضیح المسائل،م۲۴۲۹؛وحید،توضیح المسائل،م۲۴۴۲؛دفتر:خامنه ای۔

۳۔آیت الله صافی،توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۳،جامع الاحكام،ج۲،س۱۷۰۰و هدایة العباد ،ج۲،النكاح م۱۸۔

۱۹۹

لذت کی غرض سے دیکھنا

سوال نمبر:٢٩٤: جس طرح سے انسان باغ و گلستان کو دیکھ کر لطف انداوز ہوتا ہے اسی طرح سے عورت کے چھرے کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتا ہے تو کیا یہ کام حرام ہے اور اسے قصد لذت کہا جائیگا؟

تمام مراجع: اس طرح کا دیکھنا چونکہ جنسی لذت کے زمرہ میں آتا ہے لہٰذا جائز نہیں ہے۔ (۱)

آیئنہ سے دیکھنا

سوال نمبر٢٩٥: کیا نامحرم عورت کے بال کو آئینہ کے ذریعہ دیکھا جا سکتا ہے ؟

تمام مراجع: نہیں ،جائز نہیں ہے (۲)

نوٹ:آئینہ، شیشہ، صاف پانی اور ان جیسی دیگر چیزوں سے دیکھنے کا حکم عورت کی تصویر اور فلم دیکھنے کے حکم سے الگ ہے ۔ آئینہ کے ذریعہ نامحرم عورت کو دیکھنا جائز نہیں ہے لیکن اسکی تصویر اور فلم (اگر وہ ناآشنا ہو تو) جائز ہے۔

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۷۹۹؛تبریزی،صراط النجاة،ج۵،س۱۲۷۴؛دفتر تمام مراجع۔

۲۔توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۳، ۲۴۳۶؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۴۲۹و ۲۴۳۲؛العروة الوثقی،ج۱،(الستر)م۲و(احكام التخلی)م۸،وحید،توضیح المسائل،م۲۴۴۲و ۲۴۴۵و خامنه ای،استفتاء،س۴۸۱۔

۲۰۰