گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6625
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6625 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

منگنی کے لئے دیکھنا

سوال نمبر٢٩٦: منگنی کے وقت آدمی کس حدتک عورت کے بدن کو دیکھ سکتا ہے (البتہ خاص شرائط کے ساتھ)؟

امام خمینی،خامنہ ای اور فاضل؛ لڑکی کے بدن کو دیکھ سکتا ہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ صرف ہاتھ، چہرہ ، پیر ،بال اور بدن کا کچھ ہی حصہ (جیسے گردن اور سینہ کے اوپری حصہ) کو دیکھے(۱)

آیت اللہ نوری : لڑکی کے ہاتھ ، چہرہ ، پیر ، بال اور بدن کا کچھ حصہ (جیسے گردن اور سینہ کے اوپری حصہ) کو دیکھ سکتا ہے اور اگر کپڑے کے اوپر سے اسے بدن کی ساری خصوصیت کا اندازہ نہیںہو پا رہا ہو تو بدن کو دیکھنا جائز ہے ۔(۲)

آیت اللہ بہجت ، تبریزی، سیستانی اور مکارم: لڑکی کا صرف ہاتھ ،چہرہ ،پیر ،بال اور بدن کا کچھ حصہ(جیسے گردن اور سینہ کا اوپری حصہ) ہی دیکھ سکتا ہے۔(۳)

آیت اللہ صافی: احتیاط واجب کی بناء پر صرف چہرہ اور ہاتھ کو کلائی تک دیکھنے پر اکتفاء کرے (۴)

نوٹ: منگنی کے لئے لڑکی کو دیکھنے کی کچھ خاص شرطیں ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں :

١۔لذت اور ریبہ کے قصد سے نہ ہو ۔

٢۔ اسکی جسمانی حالت سے آگاہی کے لئے ہو۔

٣۔ شادی کے لئے کوئی مانع نہ ہو ۔

٤۔احتمال یہ دے کہ لڑکی اسے منع نہیں کرے گی۔

۲۰۱

حوالہ جات

۱- امام خمینی، تحریر الوسیله، ج۲، النكاح،م۲۸؛ آیت الله فاضل، تعلیقات علی العروة، ج۲، النكاح، م۲۶وآیت الله خامنه‌ای، استفتاءات، س۵۲۵۔

۲- آیت الله نوری، تعلیقات علی العروة، النكاح، م۲۶۔

۳- آیت الله مكارم، تعلیقات علی العروة ، النكاح، م۲۶؛ سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲، النكاح،م۲۸؛ تبریزی، استفتاءات، س۱۵۸۰،النكاح،م۲۸؛بهجت، توضیح المسائل، م۱۹۴۴۔

۴- آیت الله صافی، هدایة العباد، ج۲۔

۲۰۲

لڑکی کی تصویر دیکھنا

سوال نمبر٢٩٧: کیا لڑکا جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اسکی جسمانی خصوصیت اور اسکی خوبصورتی کو جاننے کے لئے اسکی تصویر یا ویڈیو فلم دیکھ سکتا ہے ؟ اور اگر وہ لڑکی آشنا اور رشتہ دارہو تو کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع: اگر لذت کا قصد نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اگرچہ وہ لڑکی آشنااور رشتہ دار ہو۔(۱)

لڑکیوں کو دیکھنا

سوال نمبر٢٩٨: کوئی شخص شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو کیا وہ قصدلذت کے بغیر عورتوں کے چہرے اور بال کو (جسیے سڑکوں پر چلتے ہوئے) دیکھ سکتا ہے تاکہ ان میں سے کسی ایک کو پسند کر کے رشتہ بھجو اسکے؟

تمام مراجع : اس طرح کا دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ (۲)

نوٹ : شادی کی غرض سے عورت کے بدن کو دیکھنے کے لئے کچھ خاص شرطیںہیں اور مذکورہ بالا سوال اس مورد سے باہر ہے۔

بدن کے ابھار کو دیکھنا

سوال نمبر٢٩٩: کیا نامحرم عورت کے بدن کے ابھار(جسیے سینہ اور پشت ) کو کپڑے اور کوٹ کے اوپر سے دیکھنا جائز ہے ؟

تمام مراجع: اگر لذت کے ارادہ سے دیکھے یا گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو ان جگہوں کو دیکھنا جائزنہیں ہے۔(۳)

۲۰۳

حوالہ جات:

۱- منگیتر كودیكھنے كے احكام سے یه مسئله لیا گیا هے۔

۲۔ آیت الله مكارم، تعلیقات علی العروة ، م۲۶و استفتاءات ، ج۲،م۸۱۶؛فاضل،ج۲،النكاح، م۲۶؛صافی، هدایة العباد، ج۲، النكاح،م۲۸؛امام، تحریرالوسیله، ج۲، النكاح، م۲۸، سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲، النكاح،م۲۸؛ تبریزی، صراط النجاة،ج۶،م۹۴۸؛دفتر: آیت الله وحید۔

۳۔ ر۔ك،امام خمینی، استفتاءات، ج۳(احكام حجاب)، س۲۷؛آیت الله سیستانی، org sistani ،(حجاب)،س۵؛فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۷۰۸؛ مكارم، استفتاءات، ج۲،س۱۵۳و۱۰۲۳؛آیت الله نوری، استفتائات، ج۲،س۶۷۹؛ تبریزی، صراط النجاة، ج۱،س۹۰۷؛صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۶۹۴و۱۷۲۹؛خامنه‌ای ، استفتائات،س۶۱۸و ۵۵۹؛ العروة الوثقی، ج۱،م۱۶ و دفتر:آیت الله وحید و بهجت۔

۲۰۴

آدمی کو دیکھنا

سوال نمبر٣٠٠: عورت کا نامحرم مرد کے بازو اور کہنی کو دیکھنا کیسا ہے ؟

امام خمینی، آیت اللہ خامنہ ای اورآیت اللہ صافی :جائز نہیں ہے ۔(۱)

آیت اللہ بہجت: احتیاط واجب کی بناء پر جائز نہیں ہے ۔ (۲)

آیت اللہ تبریزی، آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ فاضل،آیت اللہ مکارم،آیت اللہ نوری اور آیت اللہ وحید: اگر قصد لذت اور گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ (۳)

کھلاڑیوں کو دیکھنا

سوال نمبر٣٠١: عورتوں کا مردوں کے کھیل (جسیے فٹبال اور کشتی )کے میدان میں آنا کیسا ہے ؟ جبکہ وہ نیکر اور ٹی شرٹ میں ہوں ؟

تمام مراجع(سوائے آیت اللہ بہجت، آیت اللہ تبریزی اور آیت اللہ سیستانی کے ) : عورت کا نامحرم کے بدن کو دیکھنا جائز نہیں ہے ۔چاہے لذت کے ارادہ سے نہ بھی ہو۔ (۴)

آیت اللہ تبریزی اور آیت اللہ سیستانی :چونکہ اس طرح کے کھیل کے میدانوںمیں عورتوں کا آنا مفسدہ کا سبب ہے لہٰذا جائز نہیں ہے۔ (۵)

آیت اللہ بہجت: احتیاط واجب کی بناء پر اسکے بدن کو دیکھنا جائز نہیں ہے اور اگر مفسدہ کا سبب ہو تو وہاں جانا حرام ہے ۔ (۶)

۲۰۵

حوالہ جات:

۱ ۔ آیت الله صافی،جامع الاحكام، ج۲،س۱۷۱۲،امام ، استفتاءات،ج۳،(نظر)،س۶و۳۹ و خامنه‌ای، استفتاءات،س۴۸۷۔

۲ - آیت الله بهجت،توضیح المسائل، م۱۹۳۳۔

۳- آیت الله مكارم،استفتاءات، ج۲،م۱۰۴۳؛تبریزی، استفتاءات، س۱۵۹۱؛وحید، توضیح المسائل،م۲۴۴۲،دفتر:آیت الله فاضل وسیستانی۔

۴- امام ، استفتاءات،ج۳،س۶و۳۹؛آیت الله وحید، توضیح المسائل،م۲۴۴۲؛مكارم، تعلیقات العروة،النكاح،م۵۱؛نوری، توضیح المسائل، م۲۴۴۲، خامنه‌ای، استفتاء،س۴۸۲و دفتر آیت الله فاضل۔

۵ - دفتر آیت الله سیستانی و تبریزی۔

۶ - آیت الله بهجت، توضیح المسائل، م۱۹۳۳و دفتر استفتاءات۔

۲۰۶

نابالغ لڑکی کو دیکھنا

سوال نمبر٣٠٢: کیا نابالغ لڑکی کے بال اور بدن کو دیکھنا جائز ہے ؟

امام خمینی اور آیت اللہ سیستانی : اگر قصد لذت نہ پایاجائے اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن احتیاط (مستحب) کی بناء پر وہ جگہیں جنہیں عام طور پر چھپایا جاتا ہے (جیسے ران ، پیٹ، اور سینہ ) اسے نہ دیکھے (۱) ۔

آیت اللہ بہجت: اگر لڑکی اچھے برے کو سمجھتی ہے تو احتیاط واجب کی بناء پر اسے دیکھنا جائز نہیں ہے چاہے لذت کے ساتھ ہو یا بغیر لذت کے ۔ (۲)

آیت اللہ فاضل، آیت اللہ مکارم او رآیت اللہ نوری: اگر قصد لذت کے بغیر ہواور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن احتیاط واجب کی بناء پر وہ جگہیں جنہیں عام طور پر چھپایا جاتا ہے (جیسے پیٹ اور سینہ ) اسے نہ دیکھے ۔(۳)

آیت اللہ تبریزی،آیت اللہ صافی اور آیت اللہ وحید: اگرلڑکی اچھے برے کو سمجھتی ہو (اور اس عمر میں داخل ہو گئی ہو کہ اسے شہوت بھری نگاہوں سے دیکھا جا سکتا ہے ) ایسی صورت میں اسے دیکھنا جائز نہیںچاہے قصد لذت نہ ہو ۔ (۴)

۲۰۷

حوالہ جات:

۱۔ امام،توضیح المسائل مراجع، م۲۴۳۳و تحریرالوسیله،ج۲،النكاح،م۲۵؛سیستانی،‌منهاج الصالحین،ج۳،النكاح،م۲۳۔

۲- توضیح المسائل مراجع، م۲۴۳۳۔

۳- حواله مذكور،م۲۴۳۳؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۴۲۹۔

۴- توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۳؛آیت الله تبریزی، التعلیقه علی منها ج الصالحین،م۱۲۳۲و صراط النجاة، ج۳‌،س۸۹۲؛دفتر آیت الله وحید۔

۲۰۸

نامحرم کی ویڈیو فلم ا ور تصویر

سوال نمبر٣٠٣: بعض آشنا اور رشتہ دار کی ویڈیو فلم اور تصویر کو دیکھنے کا کیا حکم ہے جبکہ وہ پردہ کے سلسلہ میں لا پرواہ ہوں ؟

امام خمینی ،آیت اللہ تبریزی ،آیت اللہ سیستانی ، آیت اللہ مکارم ،آیت اللہ نوری اورآیت اللہ وحید: اگر مفسدہ کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔(۱)

آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ صافی : انکی ویڈیو فلم اور تصویر کو دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ (۲)

آیت اللہ بہجت اورآیت اللہ فاضل : احتیاط واجب کی بناء پر انکی ویڈیو فلم اور تصویر کو دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ (۳)

بچپن کی تصویر

سوال نمبر٣٠٤: نامحرم عورت کے بچپن کی تصویر کو دیکھنا کیسا ہے جبکہ اس نے ضرورت کے مطابق لباس نہ پہنا ہو ؟

تمام مراجع(آیت اللہ سیستانی کے علاوہ ):اگر اسے دیکھنا اسکی توہین اور شہوت کو بھڑکانے کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

آیت اللہ سیستانی:اگر مذکورہ تصویر عورت کی فعلی حالت کی حکایت کر رہی ہو اور نیز وہ اسے پہچانتا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر جائز نہیں ہے۔(۵)

۲۰۹

حوالہ جات:

۱۔ آیت الله نوری،توضیح المسائل، م۲۴۳۵؛امام،سیستانی، مكارم، توضیح المسائل مراجع،م۲۴۳۹؛وحید،توضیح المسائل،م۲۴۴۸؛تبریزی،صراط النجاة،ج۲،س۱۱۵۸۔

۲۔ آیت الله صافی، توضیح المسائل، م۲۴۴۸و خامنه‌ای، استفتاء، س۱۴۲۷و۴۸۳۔

۳۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل،س۱۷۲۸و ۱۷۳۲و دفتر آیت الله بهجت۔

۴- آیت الله تبریزی، صراط النجاة ،س۸۸۹؛دفتر تمام مراجع۔

۵۔ دفتر آیت الله سیستانی۔

۲۱۰

تائید شده فلم

سوال نمبر٣٠٥: ان فلموں کا دیکھنا کیسا ہے جو وزارت ارشاد کی جانب سے تائید ہوئی ہیں ؟

تمام مراجع: (اگر فلم “غیر اخلاقی”نہ ہو) اورلذت کا ارادہ اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف اور اخلاقی انحرافات و جرائم کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے(چاہے فلم اپنے ملک کی ہو یا کسی اور ملک کی )۔(۱)

غیر اخلاقی فلم

سوال نمبر٣٠٦: ان غیر اخلاقی فلموں کو دیکھنا جس میں زیادہ تر غیر مسلمان عورتیں ہوتی ہیں اگر انسان کی تحریک کا سبب نہ ہوں تو کیسا ہے؟

تمام مراجع(آیت اللہ تبریزی اوآیت اللہ ر سیستانی کے علاوہ ): چونکہ اس طرح کی فلمیں شہوت کو تحریک کرتی ہیں اور ارتکاب گناہ کا پیش خیمہ ہیں لہٰذا انکا دیکھنا حرام ہے ۔ (۲)

آیت اللہ تبریزی:وہ فلمیں جو شہوت کو بھڑکانے اور معاشرہ میں گناہ کے رائج کرنے کا سبب ہوں ان کا دیکھنا جائزنہیں ہے۔ (۳)

آیت اللہ سیستانی:اگرقصدلذت کا ارادہ اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر عورتوں کو دیکھنا جائز نہیں ہے۔ (۴)

۲۱۱

حوالہ جات:

۱- آیت الله خامنه‌ای، اجوبة الاستفتاءات، س۱۱۹۴و۱۲۰۶؛فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۷۲۶و ۱۷۲۷؛بهجبت، توضیح المسائل(متفرقه)،م۲،مكارم، استفتاءات، ج۲۷۷۵و۷۷۲؛ نوری، استفتاءات،ج۱،س۴۵۰و ۴۴۵۲؛ امام، استفتاءات، ج۳،(نظر)،س۱۵و۱۹؛سیستانی، org ۔ sistani ، (فیلم)،س۸؛تبریزی،استفتاءات ، س۱۰۸۱و۱۶۰۳؛صافی، جامع الاحكام، ج۲، س۱۷۰۸و۱۷۱۹؛دفتر: آیت الله وحید۔

۲- آیت الله خامنه‌ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۸۷؛صافی ، جامع الاحكام، ج۲،س۱۷۱۷ و۱۶۰۵؛فاضل، جامع المسائل،ج۱،س۱۷۲۹و ۱۷۳۱؛مكارم، استفتاءات،ج۱، س ۷۷۸و ۷۸۲؛دفتر :آیت الله نوری و امام ، بهجت،‌وحید۔

۳- آیت الله تبرزی، استفتاءات، س۱۶۰۳و صراط النجاة، ج۵،س۱۱۲۹۔

۴ - آیت الله سیستانی، org ۔ sistani ،(فیلم)،س۴۔

۲۱۲

تحریک کرنے والی فلم

سوال نمبر٣٠٧: اگر شہوت کو بھڑکانے والی فلموں کو دیکھنے سے انسان کی تھوڑی شہوت کم ہو جائے اور وہ حرام میں مبتلا ہونے سے بچ جائے تو کیا اسطرح کی فلموں کا دیکھنا جائز ہے ؟

تمام مراجع: اس طرح کی شہوت کو بھڑکانے والی فلموں کا دیکھنا جائز نہیں ہے اور مذکورہ توجیہ کسی دوسرے حرام کے ارتکاب کا سبب نہیں ہو سکتی ہے۔ (۱)

انٹرنٹ پر تصویر

سوال نمبر٣٠٨: انٹرنٹ پر کام کرتے ہوئے بعض دفعہ مقالات کے ساتھ گندی تصویریں بھی کھل جاتی ہے کہ جسکا دیکھنا ناگزیر ہے ایسے میں آپ کیا رہنمائی فرمائیں گے ؟

امام خمینی ، آیت اللہ تبریزی، آیت اللہ خامنہ ای، آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ فاضل اورآیت اللہ وحید: اگر اتفاقی طور پر آپ کی نظر اس پر پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن لذت کے ارادہ سے دیکھنا حرام ہے اور احتیاط واجب کی بنا ء پر لذت کے ارادہ اور گناہ میں مبتلا ہونے کے خوف کے بغیر بھی دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ (۲)

آیت اللہ بہجت،آیت اللہ صافی ، آیت اللہ مکارم اورآیت اللہ نوری: اگر اتفاقی طور پر آپکی نظر اس پر پڑجائے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن جان بوجھ کر دیکھنا جائز نہیں ہے ۔(چاہے قصد لذت کے بغیر ہو ) ۔

۲۱۳

حوالہ جات:

۱ ۔ آیت الله خامنه‌ای ، اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۹۲؛تبریزی، صراط النجاة، ج۵،س۱۱۲۹؛سیستانی، org ۔ sistani ،(تصویر)،س۴؛ دفتر تمام مراجع۔

۲ ۔ امام خمینی،تعلیفات علی العروة، (احكام التخلی)، م۳؛آیت الله مكارم، استفتاءات، ج۲،س۱۰۳۳ و تعلیقات العروة، (احكام المتخلی)،م۲؛صافی، جامع الاحكام،س۱۷۰۷؛نوری ، تعلیقات علی العروة، (احكام التخلی)،م۲؛ دفتر آیت الله بهجت؛ سیستانی، تعلیقا ت علی العروة، (احكام التخلی)، م۲و org ۔ sistani ، (تصویر)، س۱و ۲؛ تبریزی، صراط النجاة ، ج۳، س۷۷۸؛ خامنه‌ای اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۱۴؛فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۷۳۱و تعلیقات علی العروة ، ج۱،(احكام التخلی)،م۲؛دفتر آیت الله وحید۔

۲۱۴

میاں بیوی کا شہوت انگیز فلم کا دیکھنا

سوال نمبر٣٠٩: کیا میاں بیوی جنسی شہوت کو بھڑکانے کے لئے سیکسی( Sexy ) فلموں کو دیکھ سکتے ہیں ؟

تمام مراجع(سوا ئےآیت اللہ تبریزی کے ):نہیں ، واہیات اور غیر اخلاقی فلموں کے ذریعہ جنسی شہوت کو بھڑکانا جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت اللہ تبریزی : وہ فلمیں جو حرام کا م پر شہوت کو بڑھاوا دیں اور معاشرہ میں تباہی و فساد کے رائج ہونے کا سبب بنیں ان کا دیکھنا جائز نہیں ہے۔ (۲)

سنسر ( Cencer ) کی غرض سے فلم دیکھنا

س وال نمبر ٣١٠: سنسر( Cencer )کی غرض سے فلم دیکھنے کا کیا حکم ہے ؟

امام خمینی، آیت اللہ خامنہ ای ، آیت اللہ فاضل اورآیت اللہ مکارم: نظارتی اہل کاروں کا اپنے قانونی فریضہ پر عمل کرنے کی غرض سے (ضرورت کے مطابق) دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ لذت کا قصد اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہولیکن پھر بھی انہیں چاہیے کہ لذت کے قصد سے پرہیز کریں۔ اور واجب ہے کہ وہ افراد کہ جنہیں اس طرح کی ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ فکری اور روحی لحاظ سے اعلی عہدیداروں کے زیر ہدایت رہیں۔ (۳)

آیت اللہ سیستانی: اگر لذت کے ارادہ سے ہو توحرام ہے اور اگر لذت کے اردہ اور گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو پھر بھی احتیاط واجب کی بناء پر اسے دیکھنا جائز نہیں ہے۔ (۴)

آیت اللہ بہجت ،آیت اللہ صافی اورآیت اللہ وحید: اس طرح کی فلموں کا دیکھنا (جن پر نظر پڑتے ہی شہوت بھڑک اٹھتی ہے) جائز نہیں ہے ۔ (۵)

۲۱۵

حوالہ جات:

۱۔ آیت الله خامنه‌ای، اجوبه الاستفتاءات،س۱۲۰۳؛صافی،جامع الاحكام، ج۲، س۱۳۲۹؛نوری،استفتاءات،ج۲،س۵۵۴؛سیستانی، org ۔ sistani ، (فیلم) ، س۳؛دفتر :آیت الله وحید،‌ بهجت، امام خمینی، فاضل،‌مكارم۔

۲ ۔ آیت الله تبریزی، صراط النجاة، ج۵،س۱۱۲۹و ج۱،س۸۹۴و۸۹۵۔

۳ ۔ آیت الله خامنه‌ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۲۰۱؛دفتر : امام خمینی، فاضل، مكارم۔

۴ - دفتر آیت الله سیستانی۔

۵ - دفتر آیت الله بهجت، صافی،وحید۔

۲۱۶

کھیل کود کی فلم

سوال نمبر٣١١: عورتوں کا ٹی وی سے کشتی بازوں یا دوسرے کھلاڑیوں کے نیم برہنہ بدن کو دیکھنے کا کیا حکم ہے ؟

امام خمینی، آیت اللہ فاضل ،آیت اللہ سیستانی،آیت اللہ نوری اورآیت اللہ وحید: اگر لذت کا قصد اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو اور مفسدہ کا سبب بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔(۱)

آیت اللہ بہجت، آیت اللہ صافی اور آیت اللہ مکارم :چونکہ اس طرح کے پروگرام گناہ اور شہوت کو بھڑکانے کا سبب ہوتے ہیں لہٰذا جائز نہیں ہے ۔ (۲)

آیت اللہ تبریزی: اگر پروگرا م براہ راست ( Live ) نشرنہ ہو رہا ہو اور لذت کا قصد اور حرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر پروگرام براہ راست ( Live ) دکھایا جا رہا ہو تو کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے ۔ (۳)

آیت اللہ خامنہ ای : اگر پروگرام براہ ر است ( Live )دکھایا نہ جا رہا ہو اور لذت کا قصد اورحرام میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ لیکن اگر پروگرام براہ ر است ( Live )ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر کسی بھی حال میں اسکا دیکھنا جائز نہیں ہے ۔

نوٹ : یہ مسئلہ اس جگہ کیلئے ہے جہاں مرد کھلاڑی ناآشنا ہوں (یعنی فلم کے علاوہ شخصی طور پر انہیں نہ جانتے ہوں) ورنہ تمام مقلَّد مراجع عظام کے فتوؤں کے مطابق ان کا دیکھنا حرام ہے ۔

۲۱۷

فوٹو دھلوانا

سوال نمبر٣١٢: مرد کے ذریعہ فوٹو دھلوانے اور مکسنگ( Mixing ) کرانے کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع: اگر عورتوں کو نہ پہچانے اور اخلاقی جرائم میںمبتلا ہونے کا خوف نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ (۴)

ویڈیو بنوانا

سوال نمبر٣١٣: ہم جانتے ہیں کہ رشتہ دار اور آشنا مرد ہماری ویڈیو فلم دیکھیں گے تو کیا ہم (عورتوں ) کے لئے جائز ہے کہ جو شخص ویڈیو بنا رہا ہے اسکے سامنے بے حجاب آئیں؟

تمام مراجع: نہیں، حجاب کی رعایت کرنا ضروری ہے۔ (۵)

۲۱۸

حوالہ جات:

۱- آیت الله نوری، استفتاءات ج۱،س۴۵۸؛امام، اسفتاءات،ج۳(نظر)،س۱۲؛تبریزی،صراط النجاة،س۸۹۷وج۱،س۱۴۸۷؛دفتر : آیت الله سیستانی و وحید۔

۲- آیت الله صافی،جامع الاحكام، ج۲،س۱۶۰۷و۱۶۲۲؛ بهجت، توضیح المسائل، متفرقه، م۲ و دفتر آیت الله مكارم۔

۳- آیت الله خامنه‌ای ، اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۸۹۔

۴- امام،الاستفتاءات، ج۳،(نظر)،س۲۵؛آیت الله وحید، توضیح المسائل،م۲۴۴۸؛ خامنه‌ای، اجوبه الاستفتاءات،س۱۱۸۲؛تبریزی، استفتاءات، ج۱، س۴۵۸؛ فاضل،جامع المسائلْ،ج۱،س۱۷۳۲؛تبریزی، استفتاءات، س۱۵۸۸،صافی،جامع الاحكام، ج۲،س۱۷۱۹ و توضیح المسائل مراجع، م۲۴۳۹؛ بهجت، توضیح المسائل ، (متفرقه) م۲؛ مكارم، استفتاءات ، ج۲،س۱۰۴۴؛سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲، النكاح،م۲۳۔

۵۔ مكارم، استفتاءات، ج۱،س۷۹۸و۸۳۸؛امام، استفتاءات،ج۳،(احكام حجاب)،س۱۵؛فاضل، جامع المسائل، س۱۷۳۲و۱۷۳۰؛دفتر آیت الله بهجت،وحید، خامنه‌ای ، صافی، سیستانی ، تبریزی و نوری۔

۲۱۹

شادی كے احكام

سوال نمبر۳۱۴: شادی كی اہمیت اور اس كے فوائد پر روشنی ڈالیں؟

> وَ أَنْكِحُوا الْأَیامى‏ مِنْكُمْ وَ الصَّالِحینَ مِنْ عِبادِكُمْ وَ إِمائِكُمْ إِنْ یكُونُوا فُقَراءَ یغْنِهُم اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَ اللَّهُ واسِعٌ عَلیمٌ < ( سوره نورآیت،۳۲)

اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے۔

شادی كی اعلیٰ او رارفع بینادسےزیاده مقدس كوئی اصل نہیں ہے ۔( ۱ )

اور ہر قوم وملت اپنے دین كے آئین و قانون كے تحت اس سے مستفید ہوتی ہے لیكن اسلام نے سب سے زیاده اس كی تاكید كی ہے اور اس كےبهت سے فوائدذكر كیئے ہیں فقهاء نے شادی كو مستحب موكد شمار كیا ہے اور اگر كوئی شادی نه كرنے كی وجه سے گناه میں ملوث ہو رہاہو تو واجب جاناہے۔

رسول اسلام نے فرمایا:“جوكوئی شادی كرے گویا اس نے اپنا نصف دین محفوظ كرلیا۔( ۲ )

شادی كے كچھ فائدے حسب ذیل ہیں:

۱- نسل كی بقاء۔

۲- روحی او رجسمی سكون و آرام۔

۳- معاشرے كی اخلاقی اور اجتماعی امنیت و سلامتی۔

۴- محبت كرنے كے غریزه كی تسكیں اور كسی كی محبت كو پانا وغیره وغیره۔۔۔ اس طرح مرد وعورت تین طریقے سے ایك دوسرے كے محرم ہوتے ہیں :

(۱)نسب(رشته داری)(۲)رضاع(دودھ پینا)اور شادی (۳) شادی،شادی كی دو قسمیں ہیں دائمی اور موقت(متعه)دائمی شادی وه ہے جس میں‌نكاح كی مدت معین نه ہو اور موقت شادی اسے كهتے ہیں ،جس میں نكاح كی مدت معین ہو ،مثلا كسی عورت سے ایك گھنٹه ایك دن ایك ماه ،ایك سال یا اس سے زیاده مدت كے لئے عقد كرنا۔( ۳ )

جس عورت كے ساتھ ایسا عقدكیا جائے اس عقد كو متعه كهتے ہیں۔دونوں طرح كی شادیوں كے بهت سارے احكام ومسائل آپس میں مشترك ہیں۔مثلاً دونوں میں صیغه پڑھنا ضروری ہے صرف مرد اور عورت كا راضی ہونا كافی نہیں ہے ،خود مردد و عورت صیغه كو پڑھ سكتے ہیں یا كسی كو وكیل معین كریں تاكه ان كی طرف سے اس صیغه كو جاری كرے۔

اوركچھ مسائل میں ایك دوسرے سے جدا ہیں:

۱- عقددائم میں اگر مہر ذكر نه ہو تو عقد باطل نہیں ہوگا لیكن عقد موقت باطل ہوجائے گا۔

۲- عقد دائم میں میاں اور بیوی ایك دوسرے كی میراث پاتے‌ہیں بر خلاف عقد موقت كے ۔

۳- عقد دائم میں شوہر او رزوجه یه شرط نہیں كرسكتے كه ہم بستری نه ہو،لیكن عقد موقت میں ایسی شرط لگا سكتے ہیں۔

۴- عقددائم میں شوہر پر بیوی كا نان و نفقه واجب ہے برخلاف عقد موقت كے۔

۵- عقددائم میں بیوی شوہر كی اجازت كےبغیر باہر نہیں جاسكتی لیكن عقد موقت میں جاسكتی ہے مگریه كه شوہر كے حق كے ضائع ہونے كاباعث بنے۔

۶- عقددائم میں مدت كا ذكرضروری نہیں ہے لیكن عقدموقت میں مدت كا ذكركرنا لازم ہے۔

۲۲۰