گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6422
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6422 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱ ۔وسائل الشیعه،ج۱۴،ص۳؛رسول اسلام نے فرمایا:

“ مَا بُنِی بِنَاءٌ فِی الْإِسْلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنَ التَّزْوِیجِ ”

اسلام میں كوئی بیناد شادی سے بڑھ كر محبوب نهیں ۔

۲ ۔ مَنْ تَزَوَّجَ أَحْرَزَ نِصْفَ دِینِه‏،وسائل الشیعه،ج۱۴،ص۵ ۔

۳ ۔البته كچھ مراجع عظام جیسے آیت الله مكارم،وحید،تبریزی،كا كهناهے كه اگر عقد موقت كی مدت مرد و عورت دونوں كی یا ان میں سے كسی ایك كی عام عمر سے زیاده هو تو احتیاط واجب كی بناء پر اس پر عقد دائم كے احكام نافذ و جاری هوں گے اور آیت الله سیستانی،فرماتے هیں ایسا عقد موقت،باطل هے اور عقد دائم میں تبدیل نهیں هوگا ،ملاحظه فرمائیں سیستانی، وحید و تبریزی،منهاج الصالحین، فی عقد المتعه ،مكارم استفتاءات ،ج۲/س ۱۰۰۸۔

۲۲۱

صیغه كے عقدكی شرطیں

سوال نمبر۳۱۵: صیغه عقدكی كیا شرطیں ہیں؟

صیغه كی شرطیں كچھ اس طرح ہیں:

۱- صیغه عقد پڑھاجائے نه كه تحریری صورت میں لكھ دیاجائے۔

۲- صیغه عقد پڑھتے وقت قصد انشاء ركھتے ہوں۔

۳- ایجاب اور قبول میں موالات كا خیال ركھاجائے۔

۴- صیغه كو صحیح پڑھیں۔

۵- صیغه جاری كرنے والا بالغ اور عاقل ہو۔

۶- مرد اور عورت دونوں شادی كے لئے راضی ہوں۔

۲۲۲

حرام شادیاں

سوال نمبر۳۱۶: حرام شادیاں كون كون سی ہیں؟

حسب ذیل افراد سے شادی كرنا حرام ہے:

۱- محارم۔

۲- شادی شده عورت۔

۳- سالی۔

۴- جوعورت عده میں ہو۔

۵- جس سے اغلام بازی (لواط)كیاہے اس كی بهن ۔

۶- غیر كتابی كافر (جیسے كمیونسٹ)۔

۷- احرام كی حالت میں۔

۸- پانچویں عورت سے عقددائم(جبكه چار بیو یاں دائمی صورت میں موجود ہوں)۔

دوران عقد(یعنی عقد كے بعد رخصتی سے پهلے

سوال نمبر۳۱۷: كیا عقد كے زمانے میں(رخصتی سے قبل)ہم بستری كرنے كے لئے دلهن كے باپ كی اجازت ضروری ہے؟

تمام مراجع: اگر دلهن اپنے باپ كے گھر ہے تو ہم بستری كی خاطر اس گھر میں ور فت آمد كے‌لئے اس كے باپ كی اجازت ضروری ہے۔

حوالہ:

(آیت الله تبریزی،استفتاءات،س۱۶۵۶؛تمام آیات عظام كے دفاتر۔)

شادی كا واجب ہونا

سوال نمبر۳۱۸: كیا اسلام میں شادی كرنا واجب ہے یا یه كه انسان پوری عمر غیر شادی شده ره سكتاہے؟۔

تما م مراجع:اسلام میں خود شادی كرنا واجب نہیں ہے بلكه یه ایك ایسا مستحب عمل ہے جس كی بهت زیاده تاكید ہوئی ہے لیكن اگر كوئی شادی نه كرنے كے سبب گناه میں ملوث ہورہا ہے تو اس پر شادی كرنا واجب ہے او روه زندگی بھر غیر شادی شده نہیں ره سكتاہے۔

شادی میں تاخیر

سوال نمبر۳۱۹: اگر كوئی جوان مال اورشغل كے لحاظ سے شادی كرنے كی قوت نہیں ركھتا توكیا شادی كرنا اس پر پھربھی واجب ہے؟۔

تمام مراجع: اگر اس كے لئے شادی كے امكانات و حالات میسر نہیں ہیں تو وه معذور ہے لیكن اس كو چاهئے كه گناه سے دور رہے۔

حوالہ:

( امام خمینی ،استفتاءات ،ج۳،احكام ازدواج ،س۹؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج۵،ص۵۱۳؛تمام دفاتر۔)

۲۲۳

دولہے كی انگوٹھی

سوال نمبر۳۲۰: كیا لڑكی والے دولہے كے لئےسونے كی انگوٹھی یا چھلا خرید سكتے ہیں؟۔

تمام مراجع: اس كا خرید نا جائز نہیں ہے(۱)

زردسونا:

سوال نمبر۳۲۱: مردوں كیلئے زرد سونے كو پهننے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:سونا پهننا (جیسے سونے كی زنجیر گلے میں ڈالنا یا سونے كی انگوٹھی یا گھڑی پهننا)مردوں كے لئے حرام ہے۔(۲)

سفید سونا:

سوال نمبر۳۲۲: سفید سونا مردوں كے لئے پهنا كیسا ہے؟

تمام مراجع:اگر وه سونے ہی كی جنس سے ہے تو جائز نہیں ہے چاہے سفید كیوں نه ہو۔(۳)

پلاٹین كا حكم:

سوال نمبر۳۲۳: كیا ہاتھ میں پلاٹین پهننا اور اس كا استعمال مردوں كے لئے جائز ہے؟۔

تمام مراجع:پلاٹین كے استعمال كرنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔ (۴)

چونكه پلاٹین سونا نہیں بلکہ ایك دوسری دھات ہے۔

۲۲۴

حوالہ جات:

۱۔آیت الله فاضل ،جامع المسائل ج۱،س۹۷۰و ۹۷؛نوری استفتاءات، ج۲، س۵۳۲؛خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات ،س ۴۴۷؛امام،استفتاءات، ج۲،(كسب های حرام)، س ۱۳و۱۴؛صافی،هدیایة العباد،ج۱،ص۱۶۸۹؛تبریزی،منهاج الصالحین(المكاسب المحرمه)،م۸؛بهجت،وسیلة النجاة،ج۱،/م۱۴۴۱و ۱۴۴۲۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،م/۸۳۲؛آیت الله نوری، توضیح المسائل،م۸۳۳،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س ۴۴۴،وحید،توضیح المسائل،م۸۳۸۔

۳۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،س۲۱۹۴،نوری،استفتاءات،ج۲،س۵۱۷،امام خمینی،استفتاءات،ج۱،مصلی كالباس،س۵۲،سیستانی، org ۔ sistani (زینت) س۲،صافی، جامع الاحكام ، ج۲،س۱۷۳۷،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۴۴۳،دفتر ،بهجت،وحید،مكارم،استفتاءات،ج۱،س۸۱۱،فاضل ،جامع المسائل، ج۱،س۹۶۹۔

۴ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۸۱۱،تبریزی،استفتاءات،س۲۱۹۳،امام خمینی،استفتاءات،ج۱ (لباس مصلی) س۵۰، سیستانی، org ۔ sistani (زینت)س۳۳، فاضل جامع المسائل، ج۱،س۹۶۹،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۴۴۳،صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۷۳۹،دفتر وحید،بهجت،نوری۔

۲۲۵

شادی كی تاریخ:

سوال نمبر۳۲۴: كیا محرم و صفر میں شادی (عقداور رخصتی)ہوسكتی ہے؟۔

تمام مراجع:اگر یه عمل گناه یا سركار سیدالشهداء (علیہ السلام)كی توہین كا باعث نه ہو تو كوئی حرج نہیں ہے لیكن مومنین كے لئے مناسب ہےكه ان ایام كی حرمت كو باقی ركھیں اور ہر طرح كی خوشی كو انجام دینے سے پرہیز كریں۔

حوالہ:

( آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۵،س۵۲۱،تمام دفاتر)

منگنی( engejment )

سوال نمبر۳۲۵: منگنی كے دنوں میں(جبكه ابھی نكاح نہیں ہوا ہے)سیر وتفریح كےلئے منگیتر كے ساتھ باہر جانا كیسا ہے؟

تمام مراجع: جب تك شرعی عقد جاری نه ہو جائز نہیں ہے۔

حوالہ:

( آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،ص۱۰۹۵،تمام دفاتر)

۲۲۶

متعه

سوال نمبر۳۲۶: اگر كسی نے صیغه متعه جاری كیا اورہم بستری كے بعد یه معلوم ہوا كه كسی سبب صیغه متعه باطل تھا تو كیا یه عمل ،زنا اور بچه ناجائز ہوگا؟

تمام مراجع:اگر مسئله سے آگاه نہیں تھے تو یه عمل زنا نہیں ہوگا اور بچه حلال زاده ہے اور اگر متعه كی مدت كو جاری ركھنا چاهتے ہیں تو دوباره صیغه جاری كرنا ہوگا۔(۱)

متعه كی مدت

سوال نمبر۳۲۷: متعه كی كم سے كم اور زیاده سے زیاده مدت كیا ہے؟

تمام مراجع( آیت الله تبریزی،سیستانی ،مكارم،وحید كے علاوه):متعه كی كوئی مدت معین نہیں ہے اور اس كی مدت طرفین كے توافق پر ہے۔(۲)

آیت الله سیستانی:متعه كی مدت مرد و عورت یا ان میں سے كسی ایك كی عمر سے زیاده نه ہو ورنه عقد باطل ہوجائے گا۔(۳)

آیت الله تبریزی،مكام اوروحید:احتیاط كی بناء پر اس كی مدت مرد و عورت یا دونوں میں سے كسی ایك كی عمر سے زیاده نه ہو ورنه احتیاط واجب كی بناء پر اس صورت میں اس پر عقد دائم كے احكام جاری ہوں گے۔(۴)

۲۲۷

حوالہ جات:

۱۔آیت الله مكارم، استفتاءات،ج۲، س۱۲،۱۰، نوری، استفتاءات،ج۲، س۶۳۴، وحید،منهاج الصالحین،ج۳،عقدالمتعه،م،۱۳۷۵، ۱۳۷۶،سیستانی ،منهاج الصالحین،ج۳،م ۲۳۳اور ۹۲،تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،عقد المتعه و۱۳۷۵، ۱۳۷۶؛امام تحریر الوسیله ،ج۲،النكاح المنقطع،م۵و النسب،م۲؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح المنقطع، م ۵والنسب،م۲و دفترخامنه ای،بهجت و فاضل۔

۲ ۔امام خمینی،آیت الله بهجت،صافی و نوری،توضیح المسائل مراجع،احكام نكاح؛فاضل و جامع المسائل،ج۱،س۱۵۴۴ونوری،توضیح المسائل،احكام نكاح۔

۳ ۔آیت الله سیستانی ،توضیح المسائل مراجع،احكام نكاح۔

۴ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،س۱۰۰۸؛وحید،منها ج الصالحین،ج۳،عقد المتعه؛وتبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،عقدالمتعه۔

۲۲۸

دائمی عقد:

سوال نمبر۳۲۸: كیا متعه كی مدت ختم ہونے سے قبل عورت كو عقددائم میں لانا جائز ہے؟

تمام مراجع:جائز نہیں ہے،ہاں بقیه مدت اس كو بخش دے پھر اس كے بعد دائمی عقد جاری كرسكتاہے۔(۱)

صیغه عقد كا عربی میں ہونا

سوال نمبر۳۲۹: كیا عقد نكاح چاہے وه دائمی ہویا موقت اس كا عربی زبان میں ہونا ضروری ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،خامنه ای،مكارم،سیستانی،وحید :احتیاط واجب كی بناء پر عقد نكاح كا صیغه صحیح عربی زبان میں پڑھاجائے۔(۲)

صافی ،فاضل ،نوری:ضروری ہے كه عقد كا صیغه صحیح عربی زبان میں پڑھاجائے ۔(۳)

آیت الله بهجت:نہیں شرط نہیں ہے بلكه جس زبان میں چاہیں جاری كرسكتے ہیں لیكن احتیاط مستحب یه ہے كه عربی زبان میں ہو۔(۴)

صیغه عقد كا غلط پڑھنا

سوال نمبر۳۳۰: اگر نكاح كا صیغه پڑھنے میں ایك حرف یا اس سے زیاده غلط ہوجائے تو كیا عقد باطل ہے؟

تمام مراجع:اگر اس عمل سے اس كے معنی بدل جائیں تو عقد باطل ہے۔(۵)

صیغه كا پڑھنا

سوال نمبر۳۳۱: جوشخص صیغه نكاح كے‌الفاظ كے معانی نہیں سمجھتا تو كیا وه عقد پڑھ سكتاہے؟

تمام مراجع(سوائےآیت الله بهجت كے:جائز نہیں ہے مگر یه كه عقد كے ہر كلمه كے معنی كو الگ الگ جانتاہو اور اس كے كلمات كو صحیح ادا كرے۔(۶)

آیت الله بهجت:احتیاط واجب كی بناء پر اس كو عربی میں جاری نہیں كرسكتاہے لیكن اگر اس كا ترجمه ،فارسی یادوسری زبانوں میں جاری كرنا چاهتاہے تو احتیاط مستحب كی بناپر دونوں طرح سے پڑھے (یعنی عربی اور اس كا ترجمه بھی)۔(۷)

فارسی میں صیغه نكاح كا پڑھنا

سوال نمبر۳۳۲: كیا مرد عورت اپنا عقد خوداپنی مادر زبان یا فارسی میں جاری كرسكتے ہیں یا ضروری ہے كه كسی كو وكیل بنائیں تا كه عربی میں جاری كیا جاسكے؟۔

امام خمینی ،آیت الله سیستانی،صافی،مكارم،نوری اوروحید:اگر صحیح عربی میں خودنہیں پڑھ سكتے ہیں تو كسی دوسری زبان میں صیغه جاری كر سكتے ہیں لیكن اس زبان میں انہی كلمات كو ادا كریں جو لفظ

(زَوَّجَت‏)اور(قَبِلْت‏)

كےمعنی كو ادا كرے اور وكیل كرنا ضروری نہیں ہے ۔(۸)

آیت الله تبریزی اور فاضل:اگر عربی زبان میں نہیں پڑھ سكتے ہیں اور وكیل كرنا ان كے لئے آسان ہو تو احتیاط واجب كی بناپر وكیل كرنا بهتر ہے لیكن اگر ممكن نه ہو تو فارسی یا جس زبان میں چاہے پڑھ سكتے ہیں البته جس زبان میں بھی ہو ایسے الفاظ كا استعمال ضروی ہے جولفظ

“زَوَّجَت ”و“قَبِلْت‏”

كے معنا كو پهنچا سكے۔(۹)

آیت الله بهجت:صیغه عقد كو فارسی یا جس زبان میں چاہیں پڑھ سكتے ہیں چاہے عربی زبان پر تسلط بھی ہوں اور وكیل كرنا ضروری نہیں ہے۔(۱۰)

سوال نمبر۳۳۳: اگركوئی لڑكی یا لڑكا خودصیغه متعه كو پڑھنا چاہیں تو كیسے پڑھیں گے؟

تمام مراجع:وقت اور مہر كو معین كرنے اور عقد كے شرائط كی رعایت (جیسے لڑكی كے باپ كی اجازت ) كے بعد پهلے لڑكی كہے

“َ زَوْجتُكَ ْنفسِی‏ فِی الْمُدَّة الْمَعْلُومَة عَلَى الْمَ ہ ر الْمَعْلُوم”

اس كے بعد فوراً لڑكا كہے

“ قَبِلْتُ‏ التَّزْوِیج‏”(۱۱)

مجلس عقد

سوال نمبر۳۳۴: جس نشست اور اجتماع میں صیغه نكاح جاری كیاجارہا ہے كیا وہاں دولها اور دولهن كا حاضر ہونا ضروری ہے؟

تمام مراجع: نہیں ،ضروری نہیں ہے۔(۱۲)

۲۲۹

حوالہ جات:

۱۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،س۴۰؛وحید،منها ج الصالحین، ج۳ ،۱۳۱۱؛ تبریزی، منها ج الصالحین،ج۲،م۱۳۱۱؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،م۲۴۹؛امام ،تحریر الوسیله،ج ۲،النكاح المنقطع،م۱۱؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح منقطع،م۱۱، نوری استفتاءات،ج۲،س۶۹۴؛فاضل،جامع المسائل،ج۲،۱۲۵۵؛دفتر:بهجت و مكارم۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰؛وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۴،خامنه ای،استفتاءات،س۴۰۔

۳ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰؛نوری،توضیح المسائل،م۲۳۶۶۔

۴ ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰۔

۵ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۱؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۶۷،وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۵۔

۶ ۔آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،م۳۶، ۳۷؛توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۲؛وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۶؛نوری،توضیح المسائل،م۲۳۶۸۔

۷ ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل،م۱۸۸۴۔

۸ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۶۶،وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۴،دفتر:خامنه ای۔

۹ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰۔

۱۰۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰۔

۱۱ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۶۸؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م ۲۳۶۴،وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۲و دفتر، خامنه ای۔

۱۲۔ تمام دفاتر۔

۲۳۰

جائز تعلقات

سوال نمبر۳۳۵: كیا شادی كے علاوه كوئی دوسراشرعی اور قانونی راسته ہے جس كے ذریعه دو جوان جائز تعلقات كی سكیں؟

كیا اسلام میں خواہر اور برادر كےنام كاكوئی صیغه ہے؟

تمام مراجع: نہیں،صرف شادی ہی ایك راه ہے(چاہے دائمی یا موقت)نامحرم كے ساتھ خواہر وبرادر كا صیغه پڑھنا جائز نہیں‌ہے۔(۱)

عقد نكاح كاوكیل

سوال نمبر۳۳۶: كیا خودمرد (دولها)عورت (دولهن)كی طرف سے وكیل ہو كر عقد نكاح جاری كرسكتاہے؟

تمام مراجع:ہاں جائز ہے ۔(۲)

اجباری شادی

سوال نمبر۳۳۷: اگر ماں باپ اپنی لڑكی یا لڑكے كسی ایسے شخص سے شادی كرنے پر مجبور كریں جوان كی پسند كانه ہو تو كیا یه عقد صحیح ہے؟

تمام مراجع: نہیں مذكوره صورت میں عقد باطل ہے۔(۳)

۲۳۱

حوالہ جات:

۱۔تمام دفاتر۔

۲۔توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۶۷؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۶۳،وحید توضیح المسائل،م۲۴۳۱،دفتر خامنه ای۔

۳۔تو ضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۰؛آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۲۴۳۴؛نوری،توضیح المسائل،۲۳۶۶،صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۲۶۷،۱۲۶۸؛فاضل جامع المسائل، ج۱،س۱۴۴۴ ،۱۴۴۵،خامنه ای،استفتاءات،س۷۰۔

۲۳۲

انٹرنیٹ پر نكاح

سوال نمبر۳۳۸: كیا چیٹ( chat )كے ذریعه یا آن لائن ہوكر براه راست صیغه عقد جاری كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع:اگر عقد كے صحیح ہونے كی شرطوں كا لحاظ كیاجائے اور دونوں ایك دوسرے كی آواز كو سنیں اور ان كے كلمات اور جملوں میں طولانی فاصله نه ہو تو كوئی حرج نہیں ہے او رعقدصحیح ہے۔(۱)

نكاح پر گواه

سوال نمبر۳۳۹: كیا عقد نكاح پر گواه ركھنا لازم ہے؟

تمام مراجع: نہیں،چاہے دائمی عقد ہو یا متعه گواه كا ہونا ضروری نہیں‌ہے۔(۲)

معاطآتی شادی

سوال نمبر۳۴۰: كیا معاطآتی عقد و نكاح جائز ہے مثلاً لڑكا صیغه عقد پڑھے بغیر لڑكی كوایك انگوٹھی پهنا دے تاكه وه اس كی بیوی بن جائے؟

تمام مراجع: معاطآتی عقد صحیح نہیں ہے ،صیغه پڑھنا ضروری ہے۔(۳)

باپ كی اجازت

سوال نمبر ۳۴۱ : كیا باكره لڑكی سے شادی كے وقت باپ كی اجازت واجب ہے؟

امام خمینی وآیت الله سیستانی :ہاں،ان كی اجازت ضروری ہے ۔(۴)

آیت الله بهجت ،تبریزی ،خامنه ای ،صافی ،فاضل ،مكارم ،وحید :احتیاط واجب كی بنا پر اجازت ضروری ہے ۔(۵)

آیت الله نوری:نہیں، یوں تو لڑكی كے باپ یا داد اكی اجازت ضروری نہیں ہے لیكن اگر احتیاط پر عمل كرنا چاہے تو مذكوره سوال میں انكی اجازت ضروری ہے۔(۶)

عقد كے بعد اجازت

سوال نمبر ۳۴۲: اگر لڑكی نے باپ كی اجازت كے بغیر شادی كرلی اور بعد میں باپ اس پر راضی نه ہو تو كیا حكم ہے ؟كیا عقد باطل ہے؟

امام خمینی ،آیت الله تبریزی ،سیستانی :عقد باطل ہے ، اور طلاق كے بغیر دونوں ایك ددسرے سے جدا ہوسكتے ہیں۔(۷)

خامنه ای،صافی، مكارم ،وحید:اگر باپ نے تائید اور رضایت نہیں دی تو احتیاط (واجب) كی بناپر دونوں ایك دوسرے پر محرمانه نگاه نه كریں اور مرد،عورت كو طلاق دے۔(۸)

آیت الله بهجت ،فاضل،نوری: نہیں عقد صحیح ہے اور اگر ایك دوسرے سے جدا ہونا چاہیں تو طلاق دینا ضروری ہے۔(۹)

متعه كی اجازت

سوال نمبر:۳۴۳: كیا دائمی عقد كی طرح متعه كرنے كے لئے باپ كی اجازت ضروری ہے؟

تمام مراجع: ہاں،ان دونوں كے درمیان كوئی فرق نہیں ہے۔(۱۰)

مرجع تقلید كا نظریآتی اختلاف

سوال نمبر۳۴۴: اگر مردكسی ایسے مجتهد كی تقلید كرتاہے جس كے یہاں باكره لڑكی سے عقد موقت(متعه)لڑكی كے باپ كی اجازت كے بغیر جائز ہے اورلڑكی كسی ایسے مجتهد كی تقلید كرتی ہے جن كے یہاں عقد موقت(متعه) میں باپ كی اجازت ضروری ہے تو كیا مرد اس لڑكی سے اس كے باپ كی اجازت كے بغیر عقد موقت(متعه) كرسكتاہے؟

تمام مراجع:ہاں ،ہاں اس صورت میں بھی لڑكی كے باپ كی اجازت ضروری ہے۔(۱۱)

باپ كی قلبی رضایت:

سوال نمبر۳۴۵: اگر لڑكی یه كہے كه میرے ماں باپ دل سےشادی پر راضی ہیں تو كیا اس كی بات پربھروسه كرتے ہوئے اس كے باپ كی اجازت كے بغیر شادی كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع:باپ كی اجازت كے لئے اظهار ضروری ہے قلبی رضایت كافی نہیں ہے۔(۱۲)

لڑكی كی شادی

سوال نمبر۳۴۶: اگر لڑكی كاپرده بكارت بچپن میں زائل ہوجائے( البته غیر شرعی طریقه سے نہیں بلكه كھیل یا اچھل كودكی وجه سے) تو كیا اسےبھی شادی كرنے كے لئے اپنے باپ كی اجازت ضروری ہے؟

تمام مراجع: یه لڑكی باكره لڑكی كے حكم میں ہے۔ (۱۳)

لڑكی كی طلاق

سوال نمبر۳۴۷: اگركسی لڑكی نے شادی تو كرلی مگر ہم بستر ی سے پهلے طلاق لے ،كیا ایسی لڑكی سے شادی كرنے كے لئے باپ كی اجازت ضروری ہے؟

امام خمینی وآیت الله سیستانی: ہاں باپ كی اجازت ضروری ہے۔(۱۴)

آیت الله بهجت ،تبریزی،خامنه ای،صافی،فاضل مكارم وحید: احتیاط واجب كی بناء پرباپ كی اجازت ضروری ہے۔(۱۵)

آیت الله نوری:نہیں، یوں تو لڑكی كے باپ ،داد كی اجازت كی ضرورت نہیں ہے لیكن اگر احتیاط كرنا چاہے تو مذكوره صورت حال میں باپ كی اجازت لازم ہے۔(۱۶)

۲۳۳

حوالہ جات:

۱۔امام،نوری،فاضل،تعلقات علی عروه و باب العقد و احكام، م۱۰؛ مكارم استفتاءات، ج۲،س۸۹۸؛تبریزی،صراط النجاة،ج۱،س۸۴۴؛خامنه ای،استفتاءات، س ۳۰؛ صافی،جامع الاحكام ،ج۲،م۱۲۵۸،نیز وحید ،بهجت ،سیستانی۔

۲ ۔آیت الله وحید منهاج الصالحین ،ج۳، ۱۲۲۹؛بهجت ،توضیح المسائل،م۱۸۸۷؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲، النكاح،م۳؛تبریزی، منهااج الصالحین ،ج۲، م۱۲۲۹؛امام خمینی،نوری ،مكارم وفاضل،تعلیقه علی العروة ،النكاح ،م۵،صافی،هدایة العباد ،ج۲،النكاح،م۵؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،س۲۲۔

۳ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج۱، س ۱۴۷۹،جامع الاحكام ،ج ۲،س۲،۱۲۴۹؛امام ،نوری،مكارمو فاضل،التعلیقات علی العروة،باب العقد واحكام،م۱؛دفتر:سیستانی ، بهجت ،وحید و خامنه ای۔

۴ ۔آیت الله سیستانی ،منها الصالحین،ج۲،النكاح ،م۷۰،استفتاءات ،ج۳،اولیاء العقد ،س۲۷۔

۵ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،س۷۸۹؛فاضل ،جامع المسائل،ج۱،۳۱،۱۴۳۸؛مكارم ،تعلیقات علی العروه ،اولیاء العقد ،م۲؛وحید منها ج الصالحین ،ج ۳،م۱۲۳۷؛ تبریزی،منهاج الصالحین ،اولیاء العقد،م۱۲۳۷؛بهجت ،توضیح المسائل ،م ۱۸۹۱؛دفتر صافی۔

۶ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۷۲و ۲۳۷۳۔

۷ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات ،س۱۵۴۷؛امام استفتاءات،ج۳، اولیاء العقد، س ۴؛دفتر: سیستانی۔

۸ ۔ آیت الله خامنه ای،استفتاءات،س ۸۹؛صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۲۷۲؛دفتر:مكارم ووحید۔

۹-آیت الله نوری ،توضیح المسائل،م۲۳۷۲؛بهجت، توضیح المسائل،م۱۸۹۲؛فاضل،تعلیقات علی العروه ،اولیاء العقد ،م۱۔

۱۰۔امام خمینی،تعلیقات علی العروة ،اولیاءالعقد ،م ۱و استفتاءات ،ج۳،اولیاء العقد،س ۳؛آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲، اولیاء العقد،م۶۹؛مكارم وفاضل،تعلیقات علی العروة ، اولیا العقد،م۱؛ بهجت،توضیح المسائل،م۱۸۹۱؛صافی،هدایة العباد ،ج۲،اولیاء العقد م۲،تبریزی،استفتاءات ،س ۱۵۱۱، و منهاج الصالحین،ج-۲،م۱۲۳۷؛وحید منهاج الصالحین، ج۳، م۱۲۳۷؛ نوری،استفتاءات ،ج۱،س ۶۲۷،وتوضیح المسائل ،م۲۳۷۲۔

۱۱۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳، اولیاء العقد ،س ۳؛آیت الله سیستانی،تعلیقات علی العروه،التقلید، م ۵۵،و توضیح المسائل مراجع ،م۲۳۷۶؛تبریزی،صراط النجاة ،ج۱،س ۱۴۶۷، و منهاج الصالحین، ج۲،م۱۲۳۷؛مكارم،استفتاءات ،ج۱،س۶۹۴و تعلیقات علی العروۀ،التقلید،م ۵۵،فاضل،تعلیقات علی العروۀ،التقلید،م۵۵و توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۷۶؛بهجت ، توضیح المسائل ،م۱۸۹۱و وسیلة النجاة،ج۱،م ۳۵؛صافی،هدایة العباد،ج۱،التقلید،م ۳۶و توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۷۶؛دفتر:وحید؛نوری، تعلیقات علی العروۀ، التقلید؛م۵۵۔

۱۲-آیت الله تبریزی؛استفتاءأت ،س ۴۵۷و صراط النجاة ،ج۱،س ۸۲۶؛سیستانی، org ۔ sistani ،موقت،س۳۳؛امام خمینی،استفتاءات ،ج۳،اولیاء العقد،س ۱۹؛خامنه ای، استفتاءات،س ۸۷؛مكارم،استفتاءات ،ج۲،س ۹۱۷ودفتر:بهجت ،فاضل،وحید،صافی و نوری۔

۱۳۔امام خمینی،آیت الله فاضل،نوریو مكارم،تعلیقات علی العروۀ ،اولیاء العقد،م۲؛وحید،منهاج الصالحین،ج۳،م۱۲۳۷؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،اولیاء العقد م۷۰؛تبریزی ، منهاج الصالحین،اولیاء العقدم۱۲۳۷؛خامنه ای،استفتاءات،س ۸۴؛بهجت،توضیح المسائل،م ۱۸۹۱؛دتفسیر صافی۔

۱۴ ۔آیت الله سیستاانی،منهاج الصالحین،ج۲،النكاح،م۷۰؛امام خمینی،استفتاءات ،ج۳، اولیاء العقد ،س ۲۷۔

۱۵ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،س۷۹۸؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۴۳۸؛مكارم،تعلیقات علی العروۀ ،اولیاء العقد،م۲،وحید؛منهاج الصالحین، ج ۳، م۱۲۳۷؛تبریزی،منهاج الصالحین،اولیاء العقد ،م ۱۲۳۷؛بهجت،توضیح المسائل ،م ۱۸۹۱؛دفتر:صافی۔

۱۶ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۷۲، ۲۳۷۳۔

۲۳۴

منگنی كا زمانه( Engejment peariud )

سوال نمبر۳۴۸: اگرلڑكی كے باپ نے لڑكی كو ایك لڑ كے كے ساتھ دائمی عقد كی اجازت دے دی تو كیا وه دونوں گھروالوں كو بتائے بغیر ایك دوسرے سے مزید واقف ہونے كےلئے عقد موقت (متعه) كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع :اس سوال كے پیش نظر بھی عقد موقت پڑھنے كے لئے باپ كی اجازت لینی ہوگی۔(۱)

باپ كی موت

سوال نمبر۳۴۹: جس باكره لڑكی كاباپ مرگیا ہے وه عقد كے لئے كس سے اجازت لے؟

تمام مراجع:باكره لڑكی سےشادی كے لئے باپ اور دادا كی اجازت كے علاوه كسی اور كی اجازت ضروری نہیں ہے۔(۲)

حوالے:

۱۔ تمام دفاتر۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۷۶؛آیت الله تبریزی،مناج الصالحین ،ج۲،م ۱۲۳۷؛وحید،توضیح المسائل ،م ۲۴۴۰وخامنه ای،استفتاءات س۵۵۔

۲۳۵

عقدسے پهلے كا روابط:

سوال نمبر۳۵۰: كیا بالغ وعاقل لڑكی اور لڑكا گھروالوں كی اطلاع كے بغیر آپس میں شادی كی بات كرسكتے ہیں اور بعد میں گھروالوں كو اس كی اطلاع دیں؟

تمام مراجع:منگنی اور عقد سے پهلے بات چیت كرنا اگر اخلاق جنسی كی پامال اور قصد لذت كے بغیر ہو اور گناه میں ملوث ہونے كا خطره نه ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۱)

باپ كی مخالفت

سوال نمبر۳۵۱: جب لڑكی لڑكارشته كے لحاظ سے ایك دوسرے كےكفو( لائق ) ہوں لیكن لڑكی كاباپ ان كی شادی سے راضی نه ہوتو كیا پھربھی اس كی رضایت ضروری ہے(اس بات كا خیال رہے كه لڑكی بالغ وعاقل ہے اورفی الوقت اسے شادی كی ضرورت ہے؟

تمام مراجع(آیت الله بهجت تبریزی اورصافی كے علاوه):اگر لڑكا (عرفاً اور شرعاً)لڑكی كے لئے مناسب كفو اور ہم صفات ہو تو باپ كی اجازت ضروری نہیں ہے۔(۲)

آیت الله بهجت اور تبریزی: اگر لڑكا (شرعاً اور عرفاً) لڑكی كا كفو اور ہم مثل و صفات ہو اور شادی كرنے میں دونوں كی بھلائی ہے تو باپ كی اجازت ضروری نہیں ہے۔(۳)

آیت الله خامنه ای و صافی:اگر لڑكا (شرعاً اور عرفاً) لڑكی كا كفو ہو اور اس كے علاوه دوسرا كفو میسر نه ہو تو باپ كی اجازت ضروری نہیں ہے۔(۴)

باپ كی اجازت:

سوال نمبر۳۵۲: اگر باكره لڑكی كا ولی اصل شادی سے تو راضی ہے لیكن شادی كی خصوصیات (جیسے مہر كی مقدار شادی كی تاریخ وغیره) میں مخالف ہے جب كه لڑكا لڑكی دونوں ہر طرح راضی ہیں،تو كیا ایسی صورت میں بھی باپ كی اجازت ضروری ہے؟

تمام مراجع:اگر اصل شادی كے مسئله میں راضی ہے لیكن خصوصیات و جزئیات میں مخالف ہے تو ایسی صورت میں باپ كی اجازت ضروری نہیں ہے اور نكاح و شادی صحیح ہے ۔(۵)

۲۳۶

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۳۷۶؛آیت الله مكارم،استفتاءات ،ج۱،س۷۹۵؛فاضل،جامع المساائل،ج۱،س۱۷۱۹،نوری،توضیح المسائل،م۲۳۷۲،وحید،توضیح المسائل،۲۳۸۵۔

۲ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۲۳۷۳؛صافی،هدایة العباد ،ج۲،اولیاء العقد،م ۲؛ امام خمینی،فاضل و مكارم،تعلیقات علی العروۀ ،اولیاء العقد م۱؛سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۷۷؛دفتر:آیت الله وحید۔

۳ ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م ۲۳۷۷؛تبریزی،استفتاءات ،س۱۴۵۶ و صراط النجاة،ج۲،س ۱۱۳۰۔

۴ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات،س۵۴؛صافی؛هدایة العباد ،ج۲،اولیاء العقد،م ۲و جامع الاحكام ،ج۲،س ۱۲۶۰۔

۵ ۔امام خمینی،استفتاءات ،ج۳،اولیاء العقد،س ۱۹و دفتر :تمام مراجع

۲۳۷

دوسری شادی:

سوال نمبر۳۵۳: كیا عورت عقد میں یه شرط كر سكتی ہے كه میرا شوہرمیرے ہوتے ہوئے دوسری شادی نہیں كرے گا؟

امام خمینی،آیت الله بهجت ،خامنه ای،فاضل ،نوری،مكارم:نہیں یه شرط صحیح نہیں ہے اور قابل عمل بھی نہیں ہے لیكن اگر وه عورت یه شرط كرے كه اگر میرا شوہردوسری شادی كریگا تومرد طلاق دینے كی وكالت كا اپنا حق مجھے دے گا تو یه صحیح ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی:ہاں یه شرط صحیح اور قابل عمل بھی ہے ایسی صورت میں اگر شوہر دوسری شادی كرے اور اس شرط پر عمل نه كرے تو گهنگار ہے۔(۲)

آیت الله وحید:احتیاط واجب كی بناء پر یه شرط صحیح اور قابل عمل نہیں ہے لیكن اگر یه شرط كرے كه جب بھی مرد دوسری شادی كریگا تو مرد عورت كو یه وكالت دے گا كه عورت مرد كی طرف سے وكیل بن كر اپنے كو طلاق دیدے گی تو یه شرط صحیح ہے۔(۳)

۲۳۸

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام ازدواج،س۵۵؛آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،س ۹۰۷؛خامنه ای،استفتاءات،س۷؛فاضل،جامع المسائل ،ج۱،س ۱۵۳۳؛ نوری،استفتاءات ،ج۲،س۶۳۷و توضیح المسائل،م۲۵۳۴؛دفتر:بهجت۔

۲۔آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،م ۳۳۳؛تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،م۱۳۹۵؛صافی،جامع الاحكام،ج۲،م۱۲۵۵۔

۳ ۔آیت الله وحید،منها ج الصالحین،ج۳،م۱۳۵۹

۲۳۹

بدكار عورتیں:

سوال نمبر۳۵۴: بدكار اور فاحشه عورتوں سے متعه كرنا كیسا ہے؟

امام خمینی ،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی:ایسی عورتوں سے متعه كرنا شدیداً مكروه ہے لیكن اگر اس سے متعه كر ہی لیا ہے تو واجب ہے كه مرد اسے اس برے كام سے روكے۔(۱)

آیت الله تبریزی،سیستانی،فاضل ،مكارم،نوری،وحید:احتیاط واجب كی بناءپر اس كےتوبه كرنے سےپهلے متعه كرنا جائز نہیں ہے۔(۲)

بے نمازی سے شادی كرنا:

سوال نمبر۳۵۵: كیابےنمازی كے ساتھ شادی كرنا جائز ہے؟

تمام مراجع:بی نمازی سے شادی كرنا جائز توہے لیكن مكروه ہے۔(۳)

نوٹ:

فاسق سے شادی كرنا مكروه ہے اور بے نمازی تو فسق كانمایاں مصداق ہے۔

۲۴۰