گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6440
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6440 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،النكاح المنقطع ،م ۱۸؛آیت الله خامنه ای،استفتاءات ،س ۱۶۴؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح المنقطع،م۱۸۔

۲ ۔آیت الله نوری وفاضل،تعلیقات علی العروۀ،ج۲،النكاح فصل ۴،م ۱۷؛سیستانی،منهاج الصالحین، ج۲،النكاح،م ۲۶۱؛وحید،منهاج الصالحین، ج۳، م۱۳۰۳؛ مكارم، استفتاءات، ج۲،س۹۲۷و تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،م۱۳۰۳۔

۳ ۔امام خمینی،آیت الله نوری،مكارم وفاضل،العروة الوثقیٰ ،ج۲،م ۷؛وحید،منهاج الصالحین،ج۳،م۱۲۹۷؛تبریزی؛منها ج الصالحین،ج۲،م۲۹۸؛سیستانی،منها ج الصالحین، ج۲، م۲؛خامنه ای،اجوبه الاستفتاءات ،س۲۰؛صافی هدایة العباد،ج۲،م۴؛دفتر: بهجت وخامنه ای۔

۲۴۱

سنی سے شادی كرنا:

سوال نمبر۳۵۶: شیعه لڑكی كا سنی لڑكے سے شادی كرنا كیساہے؟

تمام مراجع ) سوائےآیت الله بهجت، تبریزی، وحید):یوں تو شیعه لڑكی كاسنی لڑكے كے ساتھ شادی كرنا مكروه ہے لیكن اگر شادی كرلینےكی وجه سے گمراه ہوجانے كا خوف ہو تو جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله بهجت،تبریزی،وحید:اگر گمراہی كا خوف ہو تو جائز نہیں اور اگر ایسا نہیں ہے تو احتیاط واجب كی بناء پر اس سے شادی نه كرے۔(۲)

نوٹ: بعض ناصبی اور خوارج (جو خود كو مسلمان كهتے ہیں مگر وه كافر لیكن ہیں )ان جیسے فرقوں سے نكاح كرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:

۱۔آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین، ج۲،م۲۱۵؛ مكارم، استفتاءات،ج۱، س۷۰۸؛ امام،تحریرالوسیله،ج۲،القول فی الكفر،م۱۸؛صافی،هدایة العباد،ج۲،القول فی الكفر،م۸؛ نوری، استفتاءات،ج۱،۶۶۸؛دفتر:فاضل۔

۲ ۔آیت الله وحید،منهاج الصالحین،ج۳،م۱۲۹۸؛تبریزی،منها ج الصالحین،ج۲،م۱۲۹۸ودفتر:بهجت۔

شوہر دار عورت:

سوال نمبر۳۵۷: كسی عورت سے دائمی یاعقدموقت (متعه)كرنے كے بعد معلوم ہو كه یه شوہر دارہے توكیا كیا جائے؟

تمام مراجع: عقد باطل ہے اور اس سے فوراً الگ ہونا ضروری ہے الگ ہونے كے لئے طلاق كی بھی ضرورت نہیں ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:احتیاط واجب كی بناء پر یه عورت اس مرد پر حرام ہے اور اس سے جدائی ضروری ہے اور احتیاط كی بناء پر طلاق كی بھی ضرورت پڑے گی۔(۲)

حوالہ جات:

۱- العروة الوثقیٰ،ج۲النكاح،فصل ۱۱،السابعه و الثامنه۔

۲ ۔منهاج الصالحین،ج۲،م۱۲۵۹وتوضیح المسائل،م ۲۴۱۴۔

۲۴۲

مفعول كی بهن:

سوال نمر۳۵۸: ایك شخص نے بالغ نے كے بعد نابالغ سے لواط كیا اس كے بهن سے شادی كرلی۔شادی كرنے كے بعد اسے معلوم ہوا كه اس سے شادی كرنا حرام تھی،اب ایسی حالت میں اس كی شرعی ذمه داری كیا ہے؟

تمام مراجع: (آیت الله تبریزی كے علاوه):مذكوره فرضیه كے پیش نظر،وه عورت اس مرد پر حرام ہے۔اس سے جداہونا ضروری ہے اور طلاق كی بھی ضرورت نہیں ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:احتیاط واجب كی بنا ءپر عورت اس مرد پر حرام ہے۔اس سے جداہونا ضروری ہے اور احتیاط كی بناء پر طلاق بھی دے۔(۲)

سوال نمبر۳۵۹: اگر فاعل اور مفعول دونوں نابالغ ہوں تو كیاایسی صورت میں بھی فاعل مفعول كی بهن سے شادی كرسكتا ہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت ،نوری:ہاں فاعل كے لئےمفعول كی بهن سے شادی كرنا حرام ہے۔(۳)

آیت الله تبریزی،فاضل،مكارم،نوری: نہیں،اس كی بهن سے‌شادی كرنا حرام نہیں ہے۔(۴)

آیت الله سیستانی،وحید:احتیاط واجب كی بناء پر مفعول كی بهن سے شادی كرنا حرام نہیں ہے۔(۵)

۲۴۳

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،آیت الله نوری،مكارم،تعلیقات علی العروۀ ،النكاح ،فصل۴،مسئله۲۱؛فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال ۱۴۵۶؛صافی،جامع الاحكام،جلد۲،سوال ۱۳۷۰و ۱۳۸۸؛سیستانی؛ بهجت،وحید اور خامنه ای كے دفاتر۔

۲ ۔منهاج الصالحین،جلد۲،مسئله ۱۲۵۹ اور توضیح المسائل ،مسئله ۲۴۱۴۔

۳ ۔امام،بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۲۴۰۵؛نوری،توضیح المسائل ،م۲۴۰۱۔

۴ ۔مكارم،تبریزی وصافی،توضیح المسائل مراجع،م۲۴۰۵؛فاضل،توضیح المسائل مراجع،م ۲۴۰۵،و جامع المسائل،ج۱،س۱۴۵۵و۱۴۵۶۔

۵ ۔سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م۲۴۰۵؛وحید،توضیح المسائل،م۶۹۲۴۔

۲۴۴

عده كے دوران نكاح كرنا:

سوال نمبر۳۶۰: اگركوئی مردعده میں رہنے والی عورت سے‌مسئله نه جاننے كی بناپر نكاح كرلے تو كیا یه عورت اس پر ہم یشه كے لئے حرام ہوجائے گی؟

تمام مراجع:اگر مردا ور عورت دونوں یه مسئله نه جانتے ہوں كه عده میں رہنے والی عورت سے نكاح كرنا حرام ہے اور عده كے زمانه میں مرد اس سے ہم بستری كرے تو وه عورت اس پر ہم یشه كے لئے حرام ہوجائے گی لیكن اگر ہم بستری نہیں كی ہے توبہر حال عقد باطل ہے لیكن عده كےبعد دوباره شادی كرسكتے ہیں۔

(توضیح المسائل مراجع،م ۲۴۰۱؛وحید ،توضیح المسائل،م ۲۴۶۵؛نوری،توضیح المسائل،م ۲۳۶۷؛امام،تحریرالوسیله،ج۲،النكاح فی العده،م۱؛صافی،هدایة العباد،ج۲النكاح فی العده،م ۱؛خامنه ای،استفتاءات،س۱۲۲۔)

۲۴۵

مہر كی ادائیگی:

سوال نمبر۳۶۱: اگر اس یقین كے ساتھ شادی كی جائے كه عورت باكره ہے اور عقد كے بعد معلوم ہوا كه اس كی بكارت زائل ہوچكی ہے تو كیا عقد صحیح ہے؟كیامہرمیں سے كچھ كم كیا جائے گا؟

تمام مراجع:ہاں ،عقد صحیح ہے البته اس كی ہم سن و ہم شان باكره اور غیر باكره لڑكی كی مقدار كو ملاحظه كركے كم كریں گے بعنوان مثال اگر اس كامہر سو سكه اور اس جیسی ہم شان و حیثیت باكره لڑكی كا مہر اسی سكه ہو اور اسی كی حیثیت والی غیره باكره كی مہر ساٹھ سكےّ ہوں تو ایسی صورت میں مرد اس كو پچهتر سكّے دے سكتاہے۔(۱)

سوال نمبر۳۶۲: اگر مرد اپنی زوجه كی مہر كو دینے كااراده نه ركھتا ہو تو كیا ایسی صورت میں ان كا عقد باطل ہے؟

تمام مراجع:عقدتو صحیح ہے لیكن مرد كو چاهئے كه اس كی مہر ادا كرے۔(۲)

سوال نمبر۳۶۳: اگر عقد نكاح كےوقت دولها اتنی مہر ركھےكه جس كی ادائیگی اس كے بس كی بات نہیں ہے اوروه جانتاہے كه اسے نہیں دے سكتا توكیا ایسا عقد باطل ہے؟

تمام مراجع:نہیں عقد توصحیح ہے مگر جو چیزمعین ہوئی ہے اس كا ادا كرنا ضروری ہے۔(۳)

۲۴۶

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله وحید،منهاج الصالحین،ج۳، م۱۳۴۹؛تبریزی،منها ج الصالحین،ج۲،م۱۳۴۹،سیستانی،منها ج صالحین،ج۳،م۲۸۵؛امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،العیوب ،م ۱۶؛صافی،هدایة العباد،ج۲،العیوب،م۱۷؛دفتر: بهجت،خامنه ای،فاضل ،مكارم،و نوری۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،م۲۴۴۶؛نوری،توضیح المسائل،م۲۴۴۲؛وحید،توضیح المسائل،م۲۵۱۰؛دفتر:آیت الله خامنه ای۔

۳ ۔دفتر تمام مراجع۔

۲۴۷

مہر سنت:

سوال نمبر۳۶۴: مہر سنت كی مقدار كو بیان كریں؟

تمام مراجع:مہر سنت مہر كی اس مقدار كو كهتے ہیں جسے رسول اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ازواج اور حضرت فاطمه سلام الله علیها كے لئے ركھا تھا جو پانچ سو درہم ہے اور ہر درہم ۶/ ۱۲چنے برابر چاندی كا سكّه ہوتاہےمجموعاً۶۳۰۰ یا۲۶۲ مثقال ہوتاہے اور اس كی قیمت ہر زمانے كی رائجه قیمت كے لحاظ سے ہوگی۔

(تبریزی،استفتاءات،س۱۶۳۱؛امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام مهریه،س۳۱؛آیت الله مكارم استفتاءات ،ج۱،س۷۳۲؛فاضل،جامع المسائل،ج۲، س۱۲۸۴؛ سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،م۲۸۷؛نوری،استفتاءات،ج۲،س۶۲۸؛صافی،هدایة العباد،ج۲،فصل فی المهر ،م،۱ور دفتر:خامنه ای ،بهجت ،وحید)

۲۴۸

میاں بیوی کے حقوق

سوال نمبر٣٦٥: میاں بیوی کے حقوق کے بارے میں وضاحت فرمائیں؟

> وَ مِنْ آیاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْواجا لِتَسْكُنُوا إِلَیها < ( سوره آیت روم ٢١)

اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارا جوڑا تم ہی میں سے پیدا کیا ہے تاکہ تمھیں اس سے سکون حاصل ہو

ازدواجی زندگی میں کچھ ایسے حقوق ہیں جوحق اور ذمہ داری کی صورت میں ایک دوسرے(میاں بیوی)پر عائدہوتے ہیں ۔

جہاں ذمہ داری ہوتی وہیں اسکے مقابل حق بھی پایا جاتا ہے اس طرح سے کہ اگر کسی کے لئے کوئی حق معین ہوا ہے تو اسکے اوپر کچھ ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں ۔میاں بیوی کے اوپر ایک دوسرے کے سلسلہ میں کچھ ذمہ داریاں ہیں

لہذا ایک دوسرے کے مقابل میں کچھ حقوق بھی ہیں کہ اگر دونوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا

اور ایک دوسرے کے حقوق کو ادا کیا تو گھر میں خوشیاں ہونگی جسکے نتیجہ میں زندگی کا ہر پل یادگار لمحہ بن جائے گا ۔

گھر کی بنیاد ،احترام و محبت اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے میں ہے ۔

امام باقر علیہ السلام ـفرماتے ہیں :

''من اتخذ المراة فلیکرمها “

اگرجو شادی کرے اسے چاہئے کہ اپنی بیوی کی عزت اور احترام کرے ”۔ (۱ )

اور امام کاظم علیہ السلام ـفرماتے ہیں :

“عورت کا جہاد شوہر کی بہترین خدمت میں ہے ”۔(۲)

میاں بیوی کے دو طرح کے حقوق ہوتے ہیں :

١۔ واجب اور قانونی حق یعنی صرف واجب حقوق کی ادائیگی کرنا جس کا قانون و عدالت دونوں دفاع کرتے ہیں۔

٢۔ مستحب اور اخلاقی حق یعنی مشترکہ زندگی کو خوشگوار باقی رکھنے کے لئے ہر ممکن حسن عمل کو انجام دینا جو زندگی کی حلاوت اور خوشی میں زیادتی کا سبب بنتا ہے ۔

حوالہ جات:

۱۔ وسائل الشیعہ، ج٥،باب ٣۔

۲۔ جهاد المرة حسن التَّبَعُل، فروع كافی ج۵ص۹۔

۲۴۹

واجب حق (مستحبی حق)

الف: بیوی کا حق شوہر پر

١۔ غذا مہیا کرنا

٢۔ لباس مہیا کرنا

٣۔ گھر کی ضرورتوں کو پوری کرنا

٤۔ رہنے کیلئے گھر کاانتظام کرنا

٥۔ساتھ سونے اور ہمبستری کا حق

ب:شوہر کا حق بیوی پر

١۔ گھر سے باہر اسکی اجازت کے ساتھ جانا

٢۔ نفرت انگیز امور کو برطرف کرنا

٣۔شوہرکےلئےسجنا سنورنا

٤۔شوہر کی اجازت سے نذر اور قسم کھانا

٥۔ شوہر کی (خصوصا جنسی) خواہشات کو پورا کرنا

۲۵۰

بیوی کا نفقہ

سوال نمبر ٣٦٦: کیا بیوی کا شرعی قرض جیسے کفارہ ، خمس، رد مظالم و غیره شوہر کے ذمہ ہے ؟

تمام مراجع:نہیں ، اس طرح کے قرض کی ادائیگی شوہر پر واجب نہیں ہے ۔ اگر بیوی کے پاس مال ہو تو وہ خود ادا کرے ورنہ اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ (۱)

اضافی خرچ

سوال نمبر٣٦٧: کیا بیوی کی ضروری، حاجتوں اور نفقہ کے علاوہ اسکی دیگر ضرورتوںکو(جیسے کتاب خریدنا، فقیروں میں خیرات کرنا، تحفہ دینا، مجالس و محافل کا برپا کرنا) پورا کرنا شوہر پر واجب ہے ؟

تمام مراجع:نہیں ، مذکورہ ضرورتوں کو پورا کرنا شوہر پرواجب نہیں ہے ۔ (۲)

۲۵۱

حوالہ جات:

۱- آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۲،س۱۳۱۳؛سیستانی،منهاج الصالحین، ج۳،م۴۲۸و تمام مراجع كے دفاتر۔

۲- امام خمینی ،استفتاءات،ج۳،احكام نفقه، س۱۵؛آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱، س۱۶۹۳و ج۲،س۱۳۱۰و۱۳۱۱؛مكارم، استفتاءات ج۱،س۸۴۶؛تبریزی، منهاج الصالحین،ج۲، النفقات؛وحید، منهاج الصالحین ،ج۳، النفقات؛ صافی، هدایة العباد،ج۲،النفقات، م۸؛ بهحت ، توضیح المسائل، م۱۸۹۷؛ نوری، توضیح المسائل، م۲۴۰۸؛دفتر خامنه‌ای؛سیستانی،منهاج الصالحین، ج۳،م۴۲۰۔

۲۵۲

زندگی کے اخراجات

سوال نمبر٣٦٨: اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو نفقہ نہ دے یا کم دے ،تو بیوی کس طرح سے اپنے نفقہ کو پورا کر سکتی ہے ؟

امام خمینی،آیة اللہ بہجت،آیة اللہ فاضل: سب سے پہلے وہ حاکم شرع کے پاس رجوع کرے ، اگر حاکم شرع تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو کچھ عادل افراد کے سامنے اپنا مسئلہ رکھے اور اس طرح سے شوہر کو نفقہ ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں اپنی زندگی کے اخراجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے ۔ (۱)

آیة اللہ تبریزی،آیة اللہ سیستانی،آیة اللہ صافی،آیة اللہ مکارم اور نوری:

امکان کی صورت میں اپنی زندگی کے اخرجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے ۔(۲)

آیة اللہ وحید:امور حسبیہ کے ذمہ دار افراد کے ذریعہ شوہر کو نفقہ کی ادائیگی پر ملزم کیاجائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اپنی زندگی کے اخرجات کو شوہر کی اجازت کے بغیر اسکے مال سے نکال لے البتہ احتیاط واجب کی بنیاد پر یہ کام حاکم شرع کی اجازت سے ہو۔(۳)

نوٹ: آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ مکارم شیر ازی کے فتووں کے مطابق مذکورہ صورت میں شوہر کے مال میں تصرف حکم شرع کی اجازت سے ہونا چاہئے۔

۲۵۳

حوالہ جات:

۱- توضیح المسائل مراجع،م۲۴۱۶۔

۲- حواله مذكور،م۲۴۱۶آیت الله نوری، توضیح المسائل،م۲۴۱۲۔

۳۔ آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۲۴۸۰۔

۲۵۴

بیوی کا حق

سوال نمبر٣٦٩: اگر بیوی کی آمدنی کافی مقدار میں ہوتو کیا شوہر کے لئے صحیح ہے کہ اپنی بیوی کو نفقہ نہ دے ؟

تمام مراجع : نہیں ، بیوی کی آمدنی چاہے جتنی ہو ، نفقہ کی ادائیگی شوہر پر واجب ہے۔ (۱)

منگیتر کا نفقہ

سوال نمبر٣٧٠: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نکاح کے بعدرخصتی ہونے تک دلہن اپنے باپ کے گھر میں رہتی ہے ایسی صورت میں کیاا س کا نفقہ بھی شوہر کے ذمہ ہے؟

امام خمینی، آیة اللہ بہجت،آیة اللہ خامنہ ای،آیة اللہ صافی، آیة اللہ فاضل،آیة اللہ مکارم،آیة اللہ نور ی :مذکورہ بالا صورت میں اگر بیوی شوہر کی جنسی ضرورتوں کو پورا کرتی ہو تو اسکا نفقہ شوہر پر واجب ہے۔ (۲)

آیة اللہ تبریزی اور آیة اللہ وحید: نہیں ، ایسی صورت میں نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں ہے ۔ (۳)

آیة اللہ سیستانی : اگروہ کسی ایسے شہر میں زندگی گزار رہی ہو جہاں معمول یہ ہے کہ لڑکی کا نفقہ اسکے گھر والے ادا کرتے ہوں تو شوہر کے ذمہ کچھ نہیں ہے ۔ ورنہ نفقہ کی ادائیگی شوہر کا فریضہ ہے۔(۴)

نوٹ: اگراس مدت میں دلہن کے طلب کرنے پر شوہر نفقہ ادا نہ کر ے تو (ان حضرات کے فتووں کے مطابق جو کہتے ہیں کہ بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے ) عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ اُس دوران میں نہ دئے گئے نفقہ کی قیمت کو شوہر سے مطالبہ کرے۔

۲۵۵

حوالہ جات:

[۱] ۔ امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،النفقات،۱۹؛ آیت الله صافی،هدایة العباد،ج۲،م۱۹؛تبریزی،منهاج الصالحین، ج۲،م۱۴۱۸؛وحید،منها ج الصالحین،ج۳،م۱۴۱۸؛فاضل، جامع المسائل، ج۲،س۱۳۱۰؛سیستانی، منها ج الصالحین،ج۳،م۴۳۳ و دفتر آیت الله خامنه‌ای ، نوری، مكارم و بهجت۔

۲- آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۳۳۳؛امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام نفقه، س۱۴،نوری، استفتاءات،ج۲،س۶۶۲؛فاضل،جامع المسائل،ج۲،س۱۳۱۲؛ مكارم ، استفتاءات،ج۲،س۱۰۵۱و ج۱،س۸۳۹و دفتر : آیت الله بهجت و خامنه‌ای۔

۳- آیت الله تبریزی،منها ج الصالحین،ج۲، م۱۳۹۹و آیت الله وحید، منها ج الصالحین، ج۳،م۱۳۹۹۔

۴۔ آیت الله سیستانی، منها ج الصالحین، ج۳،م۴۱۵۔

۲۵۶

بیوی کے لئے گھر

سوال نمبر٣٧١: کیا بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ جس گھر میں شوہر کے ماں باپ زندگی گزار رہے ہوں اس میں رہنے سے منع کرے اور الگ گھر کی درخواست کرے ؟

تمام مراجع: شوہر پر واجب ہے کہ مناسب ، بیوی کے شایان شان ( Status ) اور سماج کو دھیان میں رکھ کر گھر کا انتظام کرے۔الگ سے گھر کا انتظام کرنا لازم نہیں ہے مگر یہ کہ الگ سے گھر رکھنا بیوی کے شایان شان ( Status ) ہو۔ (۱)

رہائش میں پیروی

سوال نمبر٣٧٢: کیا شادی کے بعد عورت کسی خاص شہر میں رہنے سے منع کر سکتی ہے ؟

تمام مراجع: نہیں ، اسے اس طرح کا حق حاصل نہیں ہے مگر یہ کہ عقد کے وقت شرط کی گئی ہو( یا عقد میں اس بات پرآپس میں اتفاق کیا گیا ہو)۔(۲)

۲۵۷

حوالہ جات:

[۱] ۔ آیت الله خامنه‌ای، استفتاء،س۳۰؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۶۸۷ و تمام مراجع كے دفاتر۔

۲- توضیح المسائل مراجع،م۲۴۵۱؛ آیت الله نوری، توضیح المسائل، م۲۴۴۷؛ وحید، توضیح المسائل، م۲۵۱۵ اور دفتر :آیت الله خامنه‌ای۔

۲۵۸

مہر کا مطالبہ

سوال نمبر٣٧٣: اگر ہمبستری کے بعدبیوی شوہر سے مہر کا مطالبہ کرے لیکن وہ اسے ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو وظیفہ کیا ہے ؟

تمام مراجع: اگر شوہر کے پاس گھر ،سازو سامان اور وہ چیزیں جسکی اسے ضرورت یا شان کے مطابق ہے اسکے علاوہ اور کچھ نہ ہو تو عورت مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتی ہے بلکہ اسے چاہیے صبر کرے یہاں تک کہ شوہر اپنے اس قرض کو ادا کردے۔ (۱)

سوال نمبر٣٧٤: اگر عورت کے باہر جانے سے شوہر کی حق تلفی نہ ہوتی ہو (کہ جیسے شوہر کام پر ہو) تو کیا پھر بھی اسکی اجازت ضروری ہے ؟

تمام مراجع: (سوائے آیة اللہ تبریزی ا ورآیة اللہ مکارم کے):

ہاں ! اس مثال میں بھی شوہر کی اجازت لازم ہے ۔ (۲)

آیة اللہ تبریزی اورآیة اللہ مکارم :

اس موقع پر بھی احتیاط واجب کی بناء پر شوہر کی اجازت لازمی ہے۔ (۳)

۲۵۹

حوالہ جات:

[۱] ۔ توضیح المسائل مراجع،م۲۲۷۷؛ آیت الله نوری، توضیح المسائل، م۲۲۷۱، وحید، توضیح المسائل، م۲۳۲۹و دفتر:خامنه‌ای۔

۲- توضیح المسائل مراجع، م۲۴۱۲؛ آیت الله سیستانی، منهاج الصالحین،ج۲،م۳۳۷‌ و ۳۳۸؛وحید، منها ج الصالحین،‌ج۳، م۱۴۰۷و نوری، استفتاءات، ج۲،س۶۷۵۔

۳- آیت الله تبریزی، منهاج الصالحین، م۱۴۰۷و مكارم، استفتاءات، ج۲، س۹۶۴۔

۲۶۰