گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6506
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6506 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

پڑھائی جاری رکھنے کی شرط

سوال نمبر٣٧٥: ایک شخص کسی Student لڑکی سے شادی کرتا ہے کیا شادی کے بعد شوہر اپنی بیوی کو پڑھائی جاری رکھنے سے روک سکتا ہے ؟

تمام مراجع(سوائے آیة اللہ نوری کے) : اگر عقد میں شرط نہ ہوئی ہو کہ لڑکی اپنی پڑھائی کو جاری رکھے گی یا عقد اس شرط پر واقع نہ ہواہوتو ایسی صورت میں بیوی شوہر کی جازت کے بغیر گھر سے نہیں نکل سکتی ہے ۔اسکے ورنہ وہ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتی ہے۔ (۱)

آیة اللہ نوری: اگر لڑکی کا پڑھنا شوہر کے حق کو ضائع کرنے کا سبب نہ بنے تو وہ اسکی اجازت کے بغیر بھی اپنی پڑھائی کو جاری رکھ سکتی ہے۔ (۲)

سوال نمبر٣٧٦: اگر شوہر کسی بھی سبب بیوی کو پڑھائی جاری رکھنے کی اجازت نہ دے تو کیا بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ اسکی خواہشوں کو پورا نہ کرے ؟

تمام مراجع :مذکورہ بالا صورت میں بیوی کو یہ حق حاصل نہیں ہے اور اسے چاہیئے کہ شوہر کی خواہشوں کو پورا کرے ۔ (۳)

۲۶۱

حوالہ جات:

[۱] ۔ امام خمینی، استفتاءات، ج۳، حقوق زوجیت، س۱۴و۱۹؛ آیت الله صافی ، جامع الاحكام ، ج۲، س۱۲۵۳ و ۱۳۳۴، مكارم ، استفتاءات،‌ج۲، س۹۶۶و ۹۰۱و ۹۰۲؛ بهجت ، توضیح المسائل متفرقه، م۱۸؛ فاضل ،‌جامع المسائل، ج۱، س۱۶۲۷و ۱۶۲۵؛ تبریزی، سراج النجاة ، ج۵، س۶۵۰و ۶۵۳،دفتر: آیت الله وحید و سیستانی ۔

۲۔ آیت الله نوری، استفتاءات، ج۲، س۶۷۵۔

۳۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۶۴؛ تمام مراجع كے دفاتر۔

۲۶۲

شوہر کی ہٹ دھرمی

سوال نمبر٣٧٧: اگر شوہر اپنی ضد اور انتقام لینے کی خاطر بیوی کو باہر جانے کی اجازت نہ دے تو کیا اسکی اطاعت واجب ہے ؟

تمام مراجع :اگرچہ شوہر کی جانب سے انتقامی کاروائی یا اس کو اذیت پہنچانا اسلامی تعلیمات کے بر خلاف ہے لیکن اگر کسی بھی سبب شوہر اجازت نہ دے تو عورت کو چاہئے کہ اطاعت کرے۔(۱)

نکاح اور رخصتی کے درمیان شوہر کی اجازت

سوال نمبر٣٧٨: بعض دفعہ نکاح اور رخصتی کے درمیان لڑکی اپنے ماں باپ کے گھر میں رہتی ہے تو کیا اس دوران اسے گھر سے باہر نکلتے وقت شوہر کی اجازت لینا ضروری ہے؟

امام خمینی، آیة اللہ بہجت،آیة اللہ صافی ، آیة اللہ فاضل، آیة اللہ مکارم اورآیة اللہ نوری: ہاں ، مذکورہ بالا صورت میں باپ کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت ضروری ہے۔ (۲)

آیة اللہ فاضل:

مذکورہ صورت میں احتیاط واجب کی بناء پر باپ کے گھر سے نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت لازمی ہے ۔ (۳)

آیة الله تبریزی اور وحید:نہیں، اس صورت میں شوہر كی اجازت لازم نہیں ہے۔(۴)

آیة اللہ سیستانی :جس شہر میں وہ زندگی بسر کرتی ہے اگر وہاں کے عرف میں یہ رواج ہو کہ اس مدت میں باہر نکلنے کے لئے شوہر کی اجازت نہیں لی جاتی ہے توایسی صورت میں اسے گھر سے باہر نکلنے کے لئے شوہر کی جازت ضروری نہیں ہے ورنہ اسکی اجازت ضروری ہے۔ (۵)

۲۶۳

نوٹ:

اگر نکاح کے درمیان یہ شرط ہوئی ہو کہ اس مدت میں لڑکی شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر نکلے گی یا نکاح اسی توافق پر واقع ہوا ہو، تو ایسی صورت میں تمام مراجع عظام کے فتوؤں کے مطابق یہ شرط نافذ ہے اور شوہر کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔

صلہ رحم کرنے کی اجازت

سوال نمبر٣٧٩: اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو صلہ رحم کرنے سے جیسے ماں باپ سے ملنے سے منع کرے تو بیوی کا کیا فریضہ ہے ؟ کیاا سکی اجازت کے بغیر وہ انھیں دیکھنے جا سکتی ہے؟

تمام مراجع :نہیں ، شوہر کی اجازت کے بغیر والدین سے ملنے نہیں جا سکتی اور صلہ رحم صرف ملاقات ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ ٹیلیفون کے ذریعہ حال چال پوچھ کر اور SMS اور خط بھیج کر بھی صلہ رحم کی جاسکتی ہے ۔ (۶)

شوہر کی رضامندی

س٣٨٠: کیا صرف عورت کے لئے اتنا علم ہونا کافی ہے کہ شوہر اسکے باہر نکلنے پر راضی ہے یا اسے چاہیے کہ شوہر سے اجازت لے؟

تمام مراجع :اگر اسے شوہر کے راضی ہونے کا علم ہے تو کافی ہے الگ سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔ (۷)

۲۶۴

نماز جمعہ کی اجازت

سوال نمبر٣٨١: کیا مذہبی رسومات جیسے نماز جمعہ اور مظاہروں میں شرکت کرنے کے لئے شوہرسے اجازت لیناضروری ہے؟

تمام مراجع (آیة اللہ تبریزی اورآیة اللہ مکارم کے علاوہ):ہاں ، شوہر کی اجازت ہونی چاہیے ۔ (۸)

آیة اللہ تبریزی اورآیة اللہ مکارم : احتیاط واجب کی بناء پر شوہر کی اجازت ہونی چاہیے ۔ (۹)

لباس کا انتخاب

سوال نمبر٣٨٢: کیابیوی کو کپڑے کے انتخاب میں شوہر کا مطیع ہونا چاہیے ؟

تمام مراجع :نہیں ، بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا صرف ازدواجی حقوق اور گھر سے باہر نکلنے میں ضروری ہے اور دوسرے کاموں میں اسکی اطاعت واجب نہیں ہے ۔ (۱۰)

شوہر کی اطاعت

سوال نمبر٣٨٣: اگر شوہر کسی خاص لباس کے پہننے یا کوئی خاص میکپ کرنے کو کہے تو کیا اسکی اطاعت بیوی پر واجب ہے؟

تمام مراجع :اگر شوہر کی یہ درخواست جنسی لذت حاصل کرنے کی غرض سے ہو اور جس پر عمل نہ کرنا اسکی نفرت کا سبب بنے تو بیوی پر واجب ہے کہ اطاعت کرے ورنہ واجب نہیں ہے ۔ (۱۱)

۲۶۵

مستحبی روزہ کی اجازت

سوال نمبر٣٨٤: کیا مستحبی روزہ رکھنے کے لئے شوہر کی اجازت لازم ہے ؟

تمام مراجع (آیة اللہ بہجت ،آیة اللہ صافی اورآیة اللہ مکارم کے علاوہ):اگر ازدواجی حقوق سے منافافت رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر اسے چاہیے کہ اجازت لے ۔ لیکن اگر شوہر نے اسے روزہ رکھنے سے منع کیا ہو تو اسے چاہیے کہ اطاعت کرے چاہے ازدواجی حقوق سے کوئی منافات بھی نہ رکھتا ہو۔ (۱۲)

آیة اللہ بہجت اورآیة اللہ مکارم : احتیاط واجب کی بناء پر اسے چاہیے کہ شوہر کی اجازت لے چاہے ازدواجی حقوق سے کوئی منافات بھی نہ رکھتاہو۔(۱۳)

آیة اللہ صافی : اگر شوہر کے حق سے منافات رکھتا ہو تو شوہر کی جازت ضروری ہے اور اگر منافات نہ رکھتا ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر اجازت ضروری ہے ۔ اور اگر شوہر نے روزہ رکھنے سے منع کیا ہو تو اطاعت لازمی ہے چاہے ازدواجی حقوق سے منافات نہ رکھتا ہو۔ (۱۴)

۲۶۶

حوالہ جات:

[۱] ۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۲۶؛امام ، استفتاءات،ج۳،س۱۰ اور دفاتر تمام مراجع۔

۲۔ آیت الله صافی، جامع الاحكام، ج۲، س۱۳۳۳؛ امام خمینی، استفتاءات،ج۳، حقوق زوجیت، س۲۲ و ۲۴ اور دفاتر :بهجت، مكارم، فاضل و نوری۔

۳۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۷۷۔

۴۔ آیت الله تبریزی، سراج انجاة،ج۳، ۷۳۵؛دفتر: وحید۔

۵۔ دفتر آیت الله سیستانی۔

۶- آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۶۳۲؛ امام، تحریرالوسیله، ج۲، فصل فی القسم و النشوز و استفتاءات، ج۳، سؤالات متفرقه، س۹۰، صافی، هدایة العباد،ج۲، فصل فی القسم و النشوز، تبریزی، استفتاءت، س۲۱۸۹و۱۵۲۰،صراة النجاة، ج۵، س۶۵۲؛سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲، الفصل الثامن، م۳۳۸؛ و sistani org .، صله رحم، س۱ و۲ و دفتر:آیت الله بهجت، وحید،‌مكارم، نوری و خامنه‌ای۔

۷- آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱، س۱۶۳۵؛ بهجت، توضیح المسائل، متفرقه، م۱۸؛ مكارم، توضیح المسائل، م۲۰۶۲؛ نوری، استفتاءات، ج۲،س۶۸۷اور دفاتر تمام مراجع۔

۸- آیت الله فاضل، جامع المسائل،ج۱،س۱۶۳۴؛امام، استفتاءات، ج۳، حقوق زوجیت، س۲۶و۲۹؛ بهجت، توضیح المسائل، متفرقه، م۱۸، دفتر : سیستانی، وحید، صافی و نوری۔

۹۔ آیت الله مكارم، استفتاءات،ج۲،س۹۷۶و۹۶۳و تبریزی، استفتاءات، س۱۴۵۴۔

۱۰۔ امام خمینی، استفتائات،ج۳،حقوق زوجیت،س۸؛آیت الله تبریزی،استفتاءات،س۱۵۵۷؛مكارم، استفتاءات،ج۲،س۶۹؛ وحید، منهاج الصالحین،ج۳، م۱۴۰۷؛ تبریزی، منهاج الصالحین، ج۲،م۱۴۰۷؛سیستانی، منهاج الصالحین، ج۳،م۳۳۹و۳۴۰؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النشوز؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۶۷۳و دفتر خامنه‌ای، نوری و بهجت۔

۱۱۔ آیت الله فاضل، جامع المسائل،ج۱،س۱۶۷۳؛وحید، منهاج الصالحین،ج۳،م۱۳۶۵و فصل فی النفقات؛ تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،م۱۳۶۵و فصل فی النفقات؛امام خمینی، تحریرالوسیله،ج۲،النشوز؛صافی،هدایة العباد،ج۲،النشوز؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،م۳۵۰و دفتر:خامنه‌ای؛بهجت، نوری و مكارم۔

۱۲۔ امام خمینی، سیستانی و نوری،تعلیقات علی العروة، اقسام الصوم، السابع؛ تبریزی،منهاج الصالحین، ج۱،م۱۰۶۷؛وحید،منهاج الصالحین،م۱۰۶۷ و دفتر:خامنه‌ای۔

۱۳- آیت الله مكارم، تعلیقات علی العروة، اقسام الصوم،السابع و بهجت، و سیلة النجاه، ج۱،م۱۱۸۶۔

۱۴۔ صافی،هدایة العباد،ج۱،م۱۳۹۹۔

۲۶۷

شوہر کا مال

سوال نمبر٣٨٥: کیا بیوی شوہر کے مال میںاسکی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے ؟

تمام مراجع :نہیں، اسے چاہیے کہ اجازت لے۔ (۱)

بیوی کا مال

سوال نمبر٣٨٦: کیا شوہر اپنی بیوی کو خود اسی کے مال میں تصرف کرنے سے روک سکتا ہے ؟

تمام مراجع :نہیں ، بیوی اپنے مال میں ہر طرح کا تصرف کر سکتی ہے اور شوہر کی اجازت ضروری نہیں ہے (لیکن اگر اجازت لے تو بہتر ہے )(۲)

نوٹ: بیوی کا اپنے مال میں نذر کرنے کا حکم ''بیوی کی نذر'' کے مسئلہ میں مراجعہ ہو۔

حوالہ جات:

۱۔ دفتر تمام مراجع

۲- آیت الله تبریزی، سراج النجاة ، ج۵،س۵۱۸ اور تمام مراجع كے دفاتر۔

۲۶۸

ہمبستری

سوال نمبر٣٨٧: ہمبستری کے سلسلہ میں بیوی کس حد تک خود کوشوہر کے حوالہ کرے؟

تمام مراجع :اگر کوئی عذر شرعی نہ ہو ( جیسے حیض یا بدن کو نقصان پہنچنے وغیرہ) اور شوہرجب چاہے تو اسے چاہیے کہ خود کو اس کے حوالہ کرے۔ (۱)

ماہواری کے ایام

سوال نمبر٣٨٨: کیا ماہواری کے ایام میں میاں اور بیوی، ہمبستری کے علاوہ دیگر ازدواجی لذتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟

تمام مراجع :ہاں ،جائز ہے۔ لیکن ناف سے لے کر زانو تک کے حصہ سے لذت حاصل کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ کپڑے کے اوپر سے ہو۔ (۲)

پیچھے سے جماع کرنا

سوال نمبر٣٨٩: جن ایام میں عورت حائض ہو پیچھے سے جماع کرنے کا کیا حکم ہے ؟

امام خمینی ،آیةاللہ خامنہ ای، آیةاللہ صافی ، آیةاللہ مکارم اورآیةاللہ نوری: بہت زیادہ مکروہ ہے ( شدیدا مکرہ ہے) ۔(۳)

آیةاللہ سیستانی اور آیةاللہ فاضل :اگربیوی راضی ہو تو شدیدا مکروہ ہے اور اگر راضی نہ ہو تو احتیاط واجب کی بناء پر جائز نہیں ہے ۔ (۴)

آیةاللہ بہجت ،آیةاللہ تبریزی اورآیةاللہ وحید : احتیاط واجب کی بناء پر جائز نہیں ہے ۔ (۵)

۲۶۹

حوالہ جات:

[۱] ۔ امام، استفتاءات، ج۳،احكام نفقه،س۲۵؛توضیح المسائل مراجع، م۲۴۱۲؛وحید،توضیح المسائل، م۲۴۷۶؛نوری،توضیح المسائل،م۲۴۰۸ و دفتر: خامنه‌ای۔

۲۔ العروةالوثقی،احكام الحیض،السابع۔

۳۔ آیت الله نوری، توضیح المسائل،م۴۵۲؛امام و صافی، توضیح المسائل مراجع، م۴۵۰؛ مكارم، تعلیقات علی العروة، احكام الحیص، السابع و خامنه‌ای، استفتاءات،س۴۲۵۔

۴۔ آیت الله فاضل، تعلیقات علی العروة، احكام الحیص، السابع؛ سیستانی، توضیح المسائل مراجع، م۴۵۰۔

۵۔ آیت الله وحید، منهاج الصالحین، ج۲،م۲۲۸؛ بهجت، وسیلة النجاة، ج۱،م۲۴۸، تبریزی، منهاج الصالحین، ج۱،‌م۲۲۸۔

۲۷۰

امر بالمعروف کے احکام

سوال نمبر٣٩٠: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں توضیح دیجئے؟

> کُنْتُمْ خَیْرَ ُمَّةٍ ُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْ ہ ونَ عَنْ الْمُنکَرِ < ( سوره آلعمران ،١١٠ )

تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیاہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔

''معروف''اسے کہتے ہیں کہ عقل و شرع جسے خوب سمجھے

اور ''منکر''وہ ہے کہ عقل و شرع جسے ناپسند اور بدجانے ۔

لہذا جو کچھ بھی نیک ہو چاہے وہ ثقافتی،اعتقادی،اقتصادی، عبادتی،اخلاقی،سیاسی،جسمی اور نفسیاتی وغیرہ ہو سب معروف ہے اور ہر وہ چیز جو ناپسند ہو وہ منکر کے زمرہ میں ہے ۔

لہٰذا امر بالمعرو ف کامعنی “اچھے کام کی ترغیب دلانا ”

اور نہی عن المنکرکا معنی “برے کاموں سے روکنا ”ہے ۔

معروف و منکر کے مصادیق کو سمجھنے کا بہترین راستہ شریعت کی جانب رجوع کرنا ہے ۔

بعض معروف مندرجہ ذیل ہیں :

تقوی،احسان اور نیکی،توکل،خدا پر حسن ظن،توبہ،قرآن مجید کی تلاوت، خدا کا شکر ، مشورہ کرنا ،دعا ،نیک اخلاق، بردباری،دین کی راہ پر ثابت قد م رہنا، خدا کا خوف ،انفاق،غور و فکر، عفوو بخشش، غصہ کو پی جانا،جہاد،نماز،روزہ اور ۔۔۔

اور بعض منکر جیسے : کفر، نفاق، کافروں سے دوستی، ظلم و ستم، بیت المال میں خیانت، حق پر پردہ پوشی، دین فروشی، کنجوسی، دشمن کے آگے تواضع کرنا ، بد گمانی، جھوٹ، تہمت، تفرقہ اندازی، حب جاہ، حسد، قطع رحم ، اور ۔۔۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ، تمام ادیان میں پایا جاتا رہا ہے اسکا وجوب صرف مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے۔

یہ حکم بنی اسرائیل کے درمیان بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔

خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

“اہل کتاب سارے ایک جیسے نہیں ہیں ؛ بلکہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس فریضہ کو انجام دیتے ہیں اور ان کا شمار نیکوں میں ہوتا ہے۔ ” (سوره آل عمران آیت،١٠٣ ،١٠٤)

حضرت لقمان اپنے بیٹے کو اس فریضہ کی انجام دہی کا حکم دیتے ہیں ۔( سوره لقمان آیت، ١٧)

پروردگار حضرت موسی اور ہارون کو حکم دیتا ہے کہ فرعون کونرم ملائم زبان میں نصیحت کریں ۔ (سوره طہ آیت،٤٣،٤٤)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی واجبا ت کا بہترین ،مہم ترین اور عالی ترین فریضہ ہے ؛ کیونکہ بعض فقہا اسے ضروریات دین میں سے جانتے ہیں ۔

آیات و روایات میں بھی مختلف اور خوبصورت تعبیروں سے اسے بیان کیا گیا ہے ۔

حضرت علی(علیہ السلام) فرماتے ہیں :

وَ مَا أَعْمَالُ الْبِرِّ كُلُّهَا وَ الْجِهَادُ فِی سَبِیلِ اللَّهِ عِنْدَ الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّهْی عَنِ الْمُنْكَرِ إِلَّا كَنَفْثَةٍ فِی بَحْرٍ لُجِّی (نهج البلاغه،كلمات القصار،۳۷۴ )

“تمام نیک کام یہاں تک کہ راہ خدا میں جہاد بھی امر بالمعروف اور نہی المنکر کے آگے ایسے ہی ہیں جیسے لعاب دہن کسی بحر عظیم کے آگے” ۔

امام باقر (علیہ السلام)فرماتے ہیں :

بِئْسَ الْقَوْمُ قَوْمٌ یعِیبُونَ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ النَّهْی عَنِ الْمُنْكَرِ"(وسائل الشیعه،ج۱۱،ط جدید،ص۳۹۲ )

“وہ قوم بری ہے جو امر بالمعروف اور نہی المنکر کو برا جانے اور اسے بے وقعت سمجھے۔ ”

اس سلسلہ میں کچھ باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے :

١۔ یہ ایک عمومی فریضہ ہے اور ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس کا پاس و لحاظ رکھے۔

ایسا نہیں ہے کہ اسلامی حکومت کے اقتدار کے زمانہ میں یہ فریضہ صرف پلس ، عدالتی حکام یا حکومتی اداروں کے ذمہ ہیں بلکہ ایک ایک آدمی پراس فریضہ کی انجام دہی ضروری ہے ۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب کفائی ہےلہٰذا اگر کچھ لوگ اس فریضہ کو انجام دے رہےہوں یعنی:

معروف کو نشر اور منکر کو روکنےمیں کوشاں ہو تو دوسروں پر سے یہ فریضہ ساقط ہے۔

٢۔فریضہ ا مر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی میں عورت و مرد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں ۔

٣۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک مرتبہ یہ ہے کہ گنہگار شخص کے خلاف عملی اقدام ہو لیکن مراجع تقلید کے فتوؤں کے مطابق یہ کام حاکم شرع کی اجازت یا اسلامی حکومت کے عہدیداروں کی اجازت کے ساتھ ہونا چاہئے اور انکی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے ۔

٤۔ اس فریضہ کو انجام دینے کے لئے کچھ شرطیں ہیں کہ انکے مہیا ہوئے بغیر اس فریضہ کی انجام کسی شخص پر واجب نہیں ہے ؛بلکہ بعض جگہوں پر حرام بھی ہے ۔

۲۷۱

سوال نمبر٣٩١:

امر بالمعروف اونہی عن المنکر کے کتنے رتبہ ہیں ؟

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے رتبہ مندرجہ ذیل ہیں:

١۔ دل سے انکار

٢۔زبان سے انکار

٣۔ عمل سے روک تھام

شرائط امر بالمعروف

سوال نمبر٣٩٢: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے کیا شرائط ہیں؟

١۔ امر کرنے اور نہی کرنے والا خود معروف اور منکر کو پہچانتا ہو

٢۔اس بات کا احتمال دے کہ اس کے امر و نہی کا اثر ہوگا ۔

٣۔امر و نہی کرنے میں کسی قسم کا نقصان( جانی ،مالی اور عزت و آبرو )نہ ہو

٤۔معروف کو چھوڑنے والااور منکر کا مرتکب ہونے والا اپنی عادت پر مصر ہو

امر بالمعروف کہاں کرنا چاہئے

سوال نمبر٣٩٣: شرعی طور پر کس معروف کا حکم دینا اور کس منکر سے روکنا واجب ہے ؟

امام خمینی ،آیت اللہ بہجت، مکارم، فاضل، خامنہ ای اور نوری: واجبات و محرمات میں امر و نہی واجب اور مستحبات و مکروہات میں امر و نہی مستحب ہے ۔(۱)

آیت اللہ تبریزی ،آیت اللہ سیستانی،آیت اللہ صافی،اورآیت اللہ وحید: واجبات و محرمات میں امر و نہی واجب اور مستحبات میں مستحب ہے ۔(۲)

امر بالمعروف کے شرائط

سوال٣٩٤:کیا کسی ایسے شخص پر امر بالمعروف کرنا واجب ہے جو شرعی احکام اور امر بالمعروف کرنے کے طریقہ سے آشنائی نہیں رکھتا ہے ؟

تمام مراجع: نہیں، واجب نہیں ہے ،لیکن اسے چاہئے امر بالمعروف کہ شرائط اور مسائل کو جان لے تاکہ خطا اور لغزشوں میں گرفتار نہ ہو۔(۳)

فریضہ امر بالمعروف

سوال نمبر٣٩٥: اگر کوئی ایسا عمل انجام دے جو دوسرے شخص کے مرجع تقلید کے نزدیک حرام ہو ؛لیکن خود اس شخص کے مرجع تقلید کے نزدیک جائز ہو ؛تو کیا اسے اس عمل سے روکا جائے گا ؟

تمام مراجع: نہیں ، نہی عن المنکر اس جگہ واجب نہیں ہے ۔(۴)

سوال ٣٩٦:جو شخص خود معروف پر عمل نہیں کرتا اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے کیا وہ دوسروں کو امر و نہی کرسکتا ہے ؟

تمام مراجع: ہاں! اس پر بھی واجب ہے کہ شرائط کے مہیا ہوتے ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے ۔البتہ اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اسکی بات دوسروں کے دلوں پر اثر انداز ہو تو وہ عمل اور سیرت حسنہ کے ذریعہ اس مقصد تک پہنچ سکتا ہے ۔(۵)

رشتہ داروں کو امر بالمعروف

سوال نمبر٣٩٧: ہمارے بعض رشتہ دار اور خاندان والے بری طرح سے نماز ،روزہ اور تمام واجبات کے سلسلہ میں بے توجہ ہیں اور انکا مال بھی یا حرام یا مشکوک ہے اور وعظ و نصیحت کا بھی ان پر کچھ اثر نہیں ہے تو کیا ایسی صورت میں ان سے رابطہ رکھنا جائز ہے ؟

تمام مراجع: ان سے رابطہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے خاص کر اگریہ رابطہ انکی ہدایت کا سبب بنے اور جب تک کسی کھانے کے بارے میں یقین نہ ہو کہ یہ مال حرام سے ہے اسکا تصرف جائز ہے ۔(۶)

بے حجاب کو امر بالمعروف

سوال نمبر٤٠٠: بے حجابی اورمعاشرہ میں موجودغیر اخلاقی حرکتوں کے خلاف لوگوں کا کیا فریضہ ہے ؟

تمام مراجع: امر بالمعروف و نہی عن المنکرہر شخص کا فریضہ ہے۔ لیکن اسکے شرائط اور مرتبہ کا خیال رکھنا ضروری ہے (ایڈرس)

نامحرم کی طرف دیکھنا

سوال نمبر٤٠١: اگر نہی عن المنکر آراستہ اور بد حجاب عورتوںکو دیکھنے کا سبب بنے تو کیا پھر بھی واجب ہے ؟

تمام مراجع: نہی عن المنکرکے لئے ضروری نہیں ہے کہ نگاہ کی جائے اور اتفاقی و جبری نگاہ میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(ایدرس)

۲۷۲

حوالہ جات:

[۱] ۔ امام خمینی وآیت اللہ فاضل ،توضیح المسائل مراجع،مسئلہ ٢٧٨٦؛آیت اللہ بہجت،توضیح المسائل ،امر بالمعروف؛آیت اللہ نوری،توضیح المسائل،مسئلہ٢٧٨٤؛دفتر: آیت اللہ مکارم وآیت اللہ خامنہ ای۔

۲ ۔ آیت اللہ وحید،منھاج الصالحین،ج٢،مسئلہ١٢٧١؛آیت اللہ تبریزی وآیت اللہ سیستانی،منھاج الصالحین،ج١،مسئلہ١٢٧١؛صافی، توضیح المسائل ،مسئلہ٢٨٦٠اور ٢٨٦١

۳ ۔ امام خمینی،تحریر الوسیلہ،جلد١،القول فی شرائط وجوبھما،مسئلہ٨ اور توضیح المسائل ، مسئلہ٢٧٩١؛سیستانی،منھاج الصالحین،جلد١،مسئلہ١٢٧١،الرابع؛بہجت،توضیح المسائل، مسئلہ١٦٠٨؛ مکارم ،استفتاء ات ،جلد٢،س١٣٨٣؛دفتر: آیت اللہ خامنہ ای ، وحید، تبریزی، نوری، صافی، فاضل۔

۴ ۔آیت الله صافی ،جامع الاحکام،جلد٢،س١٤٧٥؛امام،تحریر الوسیلہ،جلد١،القول فی شرائط وجوبھما،مسئلہ٢؛وحید،منھاج الصالحین،جلد٢،مسئلہ١٢٧١،الرابع؛تبریزی، منھاج الصالحین ،جلد٢،مسئلہ١٢٧١،الرابع؛سیستانی،منھاج الصالحین،جلد١،مسئلہ١٢٧١،الرابع ودفتر :خامنہ ای ،بہجت ، نوری،مکارم،اور فاضل۔

۵۔ امام خمینی ،تحریر الوسیلہ ،جلد١،شرائط الامر بالمعروف، الشرط الرابع ،مسئلہ٢؛ آیت الله وحید،منھاج الصالحین ، جلد٢،مسئلہ١٢٧٢اور ١٢٧٥؛ تبریزی،منھاج الصالحین،جلد١، مسئلہ١٢٧٢اور ١٢٧٥؛سیستانی،منھاج الصالحین،جلد٢،مسئلہ١٢٧٢اور ١٢٧٥؛صافی،جامع الاحکام،جلد٢،سوال ١٤٥٨اور دفتر: خامنہ ای ،بہجت،نوری،مکارم،فاضل۔

۶۔ مام خمینی، استفتا ء ا ت ،جلد١،امر بالمعروف،سوال٣؛ فاضل،جامع المسائل،جلد١، سوال٩٣١؛خامنہ ای ،اجوبة الاستفتاء ات ، سوال ١٠٥٧ اور ١٠٦٨، مکارم ، استفتاء ات ،جلد ١، سوال١١٥٦؛تبریزی،استفتاء ات،سوال١٢٩١ اور دفتر: وحید، بہجت ، صافی،نوری

۲۷۳

فرش کی نجاست

سوال نمبر٤٠٢: اگر کسی کا فرش نجس ہو اور دیکھے کہ لوگ اس پر گیلے پاؤں سے گزررہے ہیں تو اسکا فریضہ کیا ہے؟

امام خمینی،آیت اللہ خامنہ ای،صافی،فاضل اورنوری: انھیں بتانا ضروری نہیں ہے۔ (۱)

آیت اللہ مکارم: احتیاط کے پیش نظر انھیں متوجہ کرے۔(۲)

آیت اللہ بہجت: نہیں ! انھیں بتانا ضروری نہیں ہے ،مگر یہ کہ اس سے رابطہ اس طرح کا ہو کہ اگر نہ کہے تو انکے درمیان جو مشترک چیزیں ہیں وہ نجس ہوجائیں گی۔(۳)

آیت اللہ تبریزی: اگر نجاست کھانے پینے والی چیزوں تک سرایت کرتی ہوتو انھیں بتانا ضروری ہے (۴)

آیت اللہ وحید: اگر اسکے سبب یہ ہوا ہے اور نجاست اس طرح سے ہو کہ کھانے پینے والی چیزوں تک سرایت کرسکتی ہے تو بتانا ضروری ہے (۵)

آیت اللہ سیستانی: اگر اسکے سبب یہ ہوا ہو تودو شرطوں کے ساتھ بتانا ضروری ہے :

پہلی یہ کہ نجاست اس طرح سے ہو کہ کھانے پینے والی چیزوں تک پہنچے،اور دوسرے یہ کہ اس بات کا احتمال دے کہ اسکی بات کا اثر ہوگا؛لیکن اگر جانتا ہو کہ اسکی بات کو کوئی اثر نہیں ہوگا تو کہنا لازم نہیں ہے(۶)

۲۷۴

حوالہ جات:

[۱] ۔توضیح المسائل مراجع،م۱۴۴؛نوری،توضیح المسائل،م۱۴۴؛دفتر خامنه ای۔

۲۔ آیت الله مكارم،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۳۔

۳۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۴۔

۴۔ آیت الله تبریزی،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۴۔

۵ ۔ آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۱۴۵۔

۶ ۔ آیت الله سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۲و ۱۴۴۔

۲۷۵

ماں باپ کو امر بالمعروف

سوال نمبر٤٠٣: اگر انسان کے ماں باپ گناہ کے مرتکب ہوں تو کیا انکو نہی عن المنکر کرنا انکی بے احترامی نہیں ہوگی؟

تمام مراجع: نہیں،(شرائط مہیا ہونے کی صورت میں)انھیں نہی عن المنکر کرنا بیٹے پر واجب ہے لیکن کوشش کرے کہ یہ کام نرم لہجہ اورنیک اخلاق کے ساتھ انجام پائے ۔

اور یہ کام انکی بے احترامی نہیں کہلاتی ہے ۔

اوراگر اسکی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تواس کا اب کوئی فریضہ نہیں ہے ۔(۱)

امر بالمعروف کی تکرار

سوال نمبر٤٠٤: کیا ایک بار امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرنا کافی ہے یا کئی باراسکی تکرار کی جائے؟

تمام مراجع: اگر تکرار کی صورت میں تاثیر کا احتمال دیتا ہو تو تکرارکرے۔(۲)

کھانے والی چیزوں میں امربالمعروف

سوال نمبر٤٠٥: اگر انسان دیکھے کہ کوئی شخص نجس چیز کھا رہا ہے تو کیا اسے بتانا ضروری ہے؟

تما م مراجع(سوائے آیت اللہ بہجت ): نہیں،اسے بتانا لازم نہیں ہے۔(۳)

آیت اللہ بہجت: نہیں ،ضروری نہیں ہے کہ اسے بتائے ،مگر یہ کہ اس سے رابطہ اس طرح کا ہو کہ اگر نہ کہے تو انکے درمیان جو مشترک چیزیں ہیں وہ نجس ہوجائیں گی۔(۴)

۲۷۶

سوال٤٠٦: اگر کھانا کھانے کے دوران میزبان دیکھے کہ غذا نجس ہے (جیسے کھانے میں چوہے کا بیت یا منگنی دیکھ لے)تو کیا اس پر مہمانوں کو بتانا ضروری ہے؟

تمام مراجع: (سوائے آیت اللہ سیستانی اور مکارم ):ہاں، ضروری ہے کہ انھیں بتائے(۵)

آیت اللہ مکارم: احتیاط واجب کی بنا پر ،انھیں بتائے(۶)

آیت اللہ سیستانی: اگر اس بات کا احتمال دے کہ مہمانوں پر اسکی باتوں کا اثر ہوگا، توانھیں بتائے ،لیکن اگر جانتا ہوکہ اسکے بتانے کا کوئی اثر نہیں ہوگا تو بتانا ضروری نہیں ہے ۔(۷)

۲۷۷

حوالہ جات:

[۱] ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،امربه معروف،س ۱۸؛ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۳۷؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۰۶۸و دفتر :تمام مراجع۔

۲۔تمام مراجع كے دفاتر۔

۳ ۔تووضیح المسائل مراجع،م۱۴۳؛ آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۱۴۶؛نوری،توضیح المسائل،م۱۴۳وفتر خامنه ای۔

۴۔ آیت الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۳۔

۵۔توضیح المسائل مراجع،م۱۴۵؛ آیت الله وحید ،توضیح المسائل،م۱۴۶؛نوری،توضیح المسائل،م۱۴۵و دفتر خامنه ای۔

۶ ۔ آیت الله مكارم،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۵۔

۷۔ آیت الله سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م۱۴۲و ۱۴۵۔

۲۷۸

غیبت کاحکم

سوال نمبر٤٠٧: اگر کسی نے کسی شخص کی غیبت کی یا سنی ہے تو کیا جسکی غیبت ہوئی ہے اسکی رضایت حاصل کرنا لازم ہے ؟

تمام مراجع:

نہیں،اسکی رضایت حاصل کرنا واجب نہیں ہے ؛لیکن اس گناہ سے توبہ کرے۔(۱)

غیبت کے موارد

سوال نمبر٤٠٨: اگر کوئی ظاہری عیب رکھتا ہو (جیسے اسکا قد چھوٹا ہو)تو کیا اسکے پیٹ پیچھے اس عیب کو بیان کیا جاسکتا ہے ؟

تمام مراجع:

کسی کی ظاہری و آشکار صفت کو بیان کرنے میں جسے سب جانتے ہوں (اگر اسکی تحقیر کرنے ،مذاق اڑانے اور ہتک حرمت کا قصد نہ ہو تو)کوئی حرج نہیں ہے ۔(۲)

۲۷۹

حوالہ جات:

[۱] ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،گناهان كبیره،س۱۶و ۲۱؛ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱س۹۸۲؛سیستانی، org ۔ sistani ،غیبت ؛تبریزی، استفتاءات،س۱۰۰۴ و ۱۰۰۰۶و دفتر: آیت الله بهجت،نوری،وحید،خامنه ای ،مكارم۔

۲۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،گناهان كبیره،س۱۱و۱۲ ؛تبریزی،صراط النجاة ،ج۵،س۷۴۰؛مكارم،استفتاءات،ج۱،س۵۵۶و ج۲،۷۴۲و دفتر:تمام مراجع۔

۲۸۰