گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6414
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6414 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مصلحتی جھوٹ

سوال نمبر٤٠٩: مصلحت کی خاطر جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع:

معاشرہ میں “مصلحت کی خاطرجھوٹ ”کے جو معنی رائج ہیں

حقیقت میں وہ “منفعت کی خاطر جھوٹ”ہوتاہے جو کہ حرام ہے ۔

اسلام میں جھوٹ کے جائز ہونے کے موارد مشخص و معین ہیں

ان میں سے ایک اہم مصلحت (جیسے حفظ جان مومن یا دو مسلمانوں کے درمیان اختلاف کو برطرف کرنے )کی خاطر ہے۔

( امام،استفتاءات،ج۲،گناها ن كبیره،س۴؛دفتر :تمام مراجع۔)

۲۸۱

قطع رحم

سوال نمبر٤١٠: وہ رشتہ دار جن سے قطع رحم کرنا جائز نہیں ہے وہ کون ہیں؟

تمام مراجع:ارحام وہ ہیں جو ارث کے مرتبوں میں آتے ہیںجیسے: ماں ،باپ،بھائی ،بہن اورانکے بچے اور چچا،پھوپھی،خالہ،اور ماموں اورانکے بچے۔(۱)

سوال٤١١: اگر بھائی یا کوئی نزدیکی رشتہ دار دینی فریضہ (جیسے ،نماز ،روزہ،خمس ۔۔۔)پر عمل نہ کریںاور متوجہ کرانے پر بھی ان پر کچھ اثر نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں انکے یہاں آمدو رفت کو قطع کیا جاسکتا ہے ؟

تمام مراجع(سوائے امام خمینی): نہیں، اس بہانہ سے صلہ رحم کو قطع نہیں کیا جاسکتا ہے ؛مگر یہ کہ وقتی طور پر ان سے قطع رابطہ کرنا انکی بیداری و دینداری کا سبب بنے تواس صورت میں نہی عن المنکر کے زمرہ میں یہ کام لازم ہے ۔(۲)

امام خمینی :نہیں، رفت و آمد کے ذریعہ انھیں صحیح راستہ پر لانے کی کوشش کرے اور ہر حال میں قطع رحم سے پرہیز کرے۔ (۳)

صلہ رحم

سوال نمبر٤١٢: صلہ رحم کس طرح سے انجام دیاجاتا ہے کیا رشتہ داروں کے یہاں رفت و آمد کرنا واجب ہے ؟

تمام مراجع: صلہ رحم ، صرف رشتہ داروں میں رفت و آمد پر منحصر نہیں ہے ؛بلکہ یہ کام تحفہ دے کر،دعوت کرکے، پیغام بھیج کر، فون کرکے ،سلام کرکے اور ۔۔۔ بھی طریقہ سے انجام دیا جاسکتا ہے ۔ لہٰذا اتنی مقدار میں ہی کہ قطع رحم نہ ہو سکے کافی ہے ۔(۴)

۲۸۲

حوالہ جات:

[۱] ۔تمام مراجع، كے دفاتر۔

۲ ۔ آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۴۸۰و۴۸۱؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۴۰و۹۴۱؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۰۵۷؛مكارم، استفتاءات،ج۱، س۱۱۵۶؛نوری، استفتاءات،ج۱،س۱۰۶۴؛دفتر: آیت الله وحید،تبریزی،بهجت وسیستانی

۳ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،امربه معروف،س۱۳و۱۷و۲۲۔

۴ ۔ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۷۷۲؛تبریزی،استفتاءات،س۲۱۸۵و ۲۱۸۹؛سیستانی، org ۔ sistani ،صله رحم و دفتر :تمام مراجع۔

۲۸۳

لباس شہرت

سوال نمبر٤١٣: لباس شہرت سے مراد کس طرح کا لباس ہے ؟

تمام مراجع(سوائے آیت اللہ سیستانی اورمکارم ): لباس شہرت وہ لباس ہے جسے پہننا شخص کے لئے( چاہے کپڑے،رنگ،سلائی،یا اس پر موجود نقش و نگار کی وجہ سے)خلاف معمول اور اسکی شان کے خلاف ہو ؛اس طریقہ سے کہ اگر لوگوں کے درمیان وہ لباس پہنے تولوگوں کی نظریں اسکی جانب متوجہ ہوں گی اورلوگ اسکی طرف انگلیاں اٹھائیں گے ۔ (۱)

آیت اللہ مکارم: لباس شہرت وہ لباس ہے جو دکھاوے کی خاطر پہنا جاتا ہے اور شخص اس لباس کے ذریعہ چاہتاہے کہ زہد اورترک دنیا میں مشہور ہو چاہے کپڑے ،اسکے رنگ یا اسکی سلائی کی وجہ سے ہو ۔ لیکن اگر اس کا قصد صرف سادہ پہننا ہو اور کھاوے کی غرض بھی نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ شائستہ کام بھی ہے ۔(۲)

آیت اللہ سیستانی:لباس شہرت سے مراد وہ لباس ہے جو مومن کو قبیح و نا مناسب صورت میں پیش کرے ۔(۳)

سوال نمبر٤١٤: لباس شہرت پہننے کا کیا حکم ہے ؟

امام خمینی،خامنہ ای ،فاضل،نوری:وہ لباس جو انگلی اٹھنے کا سبب ہو اسکا پہننا احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے۔(۴)

آیت اللہ بہجت،صافی اوروحید:وہ لباس جو انگلی اٹھنے کا سبب ہو اسکا پہنناحرام ہے۔(۵)

آیت اللہ تبریزی اور سیستانی: اس کا پہننا حرام نہیں ہے مگر یہ کہ ہتک حرمت اورآدمی کی ذلت کا سبب بنے۔(۶)

آیت اللہ مکارم: لباس شہرت وہ لباس ہے جو دکھاوے کی خاطر پہنا جاتا ہے اور شخص اس لباس کے ذریعہ چاہتاہے کہ زہد اورترک دنیا میں مشہور ہو چاہے کپڑے ،اسکے رنگ یا اسکی سلائی کی وجہ سے ہو ۔ لیکن اگر اس کا قصد صرف سادہ پہننا ہو اور کھاوے کی غرض بھی نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ شائستہ کام بھی ہے ۔(۷)

نوٹ: ہر اس لباس کا پہننا جو ہتک حرمت اور شخص کی ذلت کا سبب بنے ،تمام مراجع کے فتوؤں کے مطابق حرام ہے۔

۲۸۴

حوالہ جات:

۱-توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵؛ آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۸۴۶؛بهجت،توضیح المسائل،م۷۱۱؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۶۱؛وحید،توضیح المسائل،م۸۵۱۔

۲۔ آیت الله توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵۔

۳ ۔دفتر: آیت الله سیستانی۔

۴ ۔امام خمینی،و آیت الله فاضل،توضیح المسائل مراجع،۸۴۵؛بهجت،توضیح المسائل،م۷۱۱؛وحید،توضیح المسائل،م۸۵۱۔

۵ ۔ آیت الله صافی، توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵؛بهجت،توضیح المسائل،م۷۱۱؛وحید،توضیح المسائل،م۸۵۱۔س

۶ ۔ آیت الله تبریزی و سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵۔

۷ ۔ آیت الله مكارم،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵۔

۲۸۵

صنف مخالف کا لباس

سوال نمر٤١٥: کیا مرد عورتوں کا اور عورتیں مردوں کا لباس پہن سکتی ہیں ؟

امام خمینی و آیت اللہ بہجت:

وہ لباس جو جنس مخالف سے مخصوص ہے احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے ۔(۱)

آیت اللہ سیستانی:اگر صنف مخالف کا لباس پہننے سے اسی شکل کا دکھائی دینے لگے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کا پہننا جائز نہیں ہے۔(۲)

آیت الله تبریزی،خامنه ای،صافی،فاضل ووحید:اگر صنف مخالف کےمخصوص لباس كو پہننا اپنی شان اور پهچان قرار دے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کا پہننا جائز نہیں ہے۔(۳)

آیت اللہ مکارم:اگر صنف مخالف کا لباس پہننے میں کوئی خاص قباحت اور اخلاقی جرم نہ سمجھا جاتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے(۴)

آیت اللہ تبریزی ،خامنہ ای، فاضل اور وحید: جب تک وہ صنف مخالف کے لباس کو اپنا مستقل لباس قرار نہیں دیتا ہے کوئی حرج نہیں ہے ۔(۵)

آیت اللہ نوری :

احتیاط واجب کی بنا پر صنف مخالف کا لباس پہننا (ان موارد کو چھوڑ کر جہاں مقصد عاقلانہ اور قوی مصلحت موجود ہو)جائز نہیں ہے ۔(۷)

سوال نمبر٤١٦: صنف مخالف کا کپڑا پہننے کی حرمت میں کیا گھر اور باہر میں کوئی فرق ہے ؟

امام خمینی اور آیت اللہ بہجت :احتیاط واجب کی بنا پر صنف مخالف سے مخصوص کپڑا پہننا جائز نہیں ہے (چاہے گھر میں ہی کیوں نہ ہو )۔(۷)

آیت اللہ نوری :

احتیاط واجب کی بنا پر صنف مخالف کا لباس پہننا (ان موارد کو چھوڑ کر جہاں مقصد عاقلانہ اور قوی مصلحت موجود ہو)جائز نہیں ہے (اوراس سلسلہ میں گھر اور باہر میں کوئی فرق نہیں ہے )(۸)

آیت اللہ سیستانی: اگر صنف مخالف کا لباس پہننے سے وہ اسی شکل کا دکھائی دینے لگے تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کا پہننا جائز نہیں ہے ۔(۹)

آیت اللہ مکارم:

اگر صنف مخالف کا لباس پہننے میں کوئی خاص قباحت اور اخلاقی جرم نہ جانا جاتا ہو تو کوئی حرج نہیں ہے (اگرچہ گھر ہی میں کیوں نہ ہو )۔(۱۰)

آیت اللہ تبریزی ،خامنہ ای، فاضل اور وحید: جب تک وہ صنف مخالف کے لباس کووہ اپنا مستقل لباس قرار نہیں دیتا ہے کوئی حرج نہیں ہے ۔(۱۱)

زنانہ چپل

سوال نمبر ٤١٧: کیا گھرمیں مرد زنانہ چپل اور عورتیں مردوں کی چپل پہن سکتی ہیں ؟

تمام مراجع (امام خمینی اورآیت بہجت کے علاوہ):

اگر مفسدہ کا سبب نہ ہو توکوئی حرج نہیں ہے ۔(۱۲)

امام خمینی اور آیت اللہ بہجت : اگر عورت یا مرد سے مخصوص ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر ایک دوسرے کی چپل پہننا جائز نہیں ہے۔(۱۳)

نوٹ: اگر کہیں چپل کا پہننا لباس پہننے کے حکم میں آتا ہو تو اسکے پہننے میں حرج ہے ۔

۲۸۶

حوالہ جات:

[۱] ۔توضیح المسائل مراجع،م۸۴۵۔

۲ ۔حواله مذكور،م۸۴۶۔

۳ ۔آیت الله وحید،توضیح المسائل،م۸۵۲؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۷۲، صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۶۸۸؛تبریزی،صراط النجاة،ج ۳،س۷۸۱و فاضل،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶۔

۴ ۔ آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۳۸۔

۵ ۔ آیت الله وحید،توضیح المسائل، م۸۵۲؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاأءاٹ ،س۱۳۶۸؛ صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۶۸۸؛تبریزی،طراط النجاة،ج۳،س۷۸۱و فاضل،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶۔

۶ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۸۴۷۔

۷ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،(سوالات متفرقه)س۱۷۴؛توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶وآیت الله بهجت۔

۸ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۸۴۷۔

۹ ۔ آیت الله سیستانی،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶۔

۱۰ ۔ آیت الله مكارم،استفتاءات، ج۲،س۱۵۹و ج۱،س۱۳۲۔

۱۱ ۔ آیت الله وحید،توضیح المسائل، م۸۵۲؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاأءاٹ ،س۱۳۶۸؛ صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۶۸۸؛تبریزی،طراط النجاة،ج۳،س۷۸۱و فاضل،توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶۔

۱۲ ۔ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۶۸؛تبریزی،صراط النجاة ،ج۳، س۷۸۱؛ وحید،توضیح المسائل،م۸۵۲؛صافی،جامع الاحكام،ج۲،۱۶۸۸؛مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۳۸و ج۲،س۱۵۹؛فاضل و سیستانی، توضیح المسائل مراجع،م۸۴۶؛نوری،توضیح المسائل،م۸۴۷۔

۱۳ ۔ آیت الله بهجت،توضیح المسائل،م۷۱۱؛امام خمینی،استفتاءات،ج۳،(سوالات متفرقه)،س۱۷۴۔

۲۸۷

ڈاڑھی منڈوانا

سوال نمبر٤١٨: بلیڈ یا مشین کے ذریعہ پوری ڈاڑھی منڈوانے کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع(آیت اللہ بہجت اور صافی کے علاوہ): ڈاڑھی کا منڈوانا (چاہے بلیڈ سے ہو یا مشین سے)احتیاط واجب کی بنا پر حرام ہے ۔(۱)

آیت اللہ بہجت اور صافی: ڈاڑھی کا منڈوانا حرام ہے ۔(۲)

نوجوان کی ڈاڑھی

سوال نمبر٤١٩: کیا اچھی اور گھنی ڈاڑھی نکلنے کے لئے چہرے کے تھوڑے بہت بال کومنڈوانے یا مونڈنے میں کوئی حرج ہے؟

تمام مراجع: اگر چہرہ کے بال کم ہوں اور انھیں ڈاڑھی نہ کہا جائے تو اسکے منڈوانے یا مونڈنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(۳)

ڈاڑھی کا مذاق اڑانا

سوال نمبر٤٢٠: اگر انسان صرف اس لئے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے ڈاڑھی کو منڈوادے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع: وہ مسلمان جو اپنے دین کو اہمیت دیتا ہو اسکے لئے ڈاڑھی کا رکھنا اسکی ذلت و ندامت کا سبب نہیں بن سکتا ہے ۔اور دوسروں کے مضحکہ اڑانے سے احکام الہٰی تبدیل نہیں ہوتے ہیں مگر یہ کہ ایسے حرج کا سبب ہو کہ جس کا تحمل ناممکن ہو۔(۴)

فرنچ کٹ ڈاڑھی

سوال نمبر٤٢١: کیا فرنچ کٹ ڈاڑھی رکھنا کافی ہے ؟

تمام مراجع (آیت اللہ تبریزی اور مکارم کے علاوہ):نہیں کافی نہیں ہے اور اسکا حکم پوری ڈاڑھی منڈوانے کا حکم ہے ۔(۵)

آیت اللہ تبریزی اور مکارم:اگر ٹھڈی اور اسکے اطراف میں (چہرہ کا ایک چوتھائی حصہ)منڈوایا نہ جائے اس طرح سے کہ اگر ملاقات کے وقت اس پر ڈاڑھی کا اطلاق ہوتا ہو تو کافی ہے۔(۶)

۲۸۸

حوالہ جات:

۱- امام خمینی ،استفتاءات ،ج۲، مسكاسب محرمه ،س۷۹؛ نوری،استفتاأءات ،س۴۹۲ و۴۹۳؛مكارم،استفتاءات ،ج۲،س۷۵۰و۷۵۳؛تبریزی،استفتاءات ،س ۱۰۸۹و۱۰۸۹؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۵۷و ۹۵۵؛سیستانی، org ۔ sistani ،ریش تراشی ،س۱و۳؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۴۲۱و۱۴۱۶؛دفتر:آیت الله وحید۔

۲ ۔ صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۷۴۰و۱۷۴۲؛بهجت،توضیح المسائل، متفرقه، م۴

۳ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه،س۸۰؛ آیت الله مكارم، استفتاءات، ج۲، س۷۵۳وج۱،س۵۷۰؛تبریزی،استفتاءات،س۱۰۹۶؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س ۹۵۶و۹۶۰و۹۵۷؛ سیستانی، org ۔ sistani ،ریش تراشی ،س۱۴؛دفتر :آیت الله وحید، بهجت، نوری وصافی۔

۴ ۔ خامنه ای،الاستفتاءات، س۱۴۱۸؛مكارم، استفتاءات،ج۲،س۷۵۳؛ تبریزی، صراط النجاة،ج۲،س۹۰۵و التعلیقه علی منهاج الصالحین،م۴۳؛وحید،منهاج الصالحین، ج۳،م۴۳؛سیستانی،منهاج ، ج۲، م۴۶؛ دفتر: صافی،بهجت،وحید،فاضل و امام خمینی

۵ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه،س۸۴؛وحید،مناج الصالحین، ج۳، م۴۳؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۴۱۳؛سیستانی، org ۔ sistani ،ریش تراشی، س۱و۳؛صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۷۴۳؛بهجت،توضیح المسائل، متفرقه،س۴،نوری، استفتاءات،ج۱،س۴۹۲و ۴۹۳وفاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۵۷و ۹۵۵۔

۶ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،س۷۵۱وتبریزی،استفتاءات،س۱۰۸۷۔

۲۸۹

آلات قمار

سوال نمبر٤٢٢: اگر کھیل کے بعض ساز و سامان کسی شہر میں آلات قمار میں شمار ہوں لیکن دوسرے شہر میں ایسا نہ ہو تو کیا ان سے کھیلنا جائز ہے ؟

امام خمینی ،آیت اللہ بہجت،تبریزی،صافی،نوری اور وحید: اگر بعض شہر وں میں بھی اسے آلات قمار میں جانا جاتا ہو تو اس سے کھیلنا جائز نہیں ہے ۔(۱)

آیت اللہ خامنہ ای: اگر ان ساز و سامان کو دو شہر میں سے کسی ایک میں آلات قمار میں سے جانا جاتا ہو اور گذشتہ زمانہ میں دونوں جگہ وہ آلات قمار شمار ہوتے تھے تو ان سے کھیلنا حرام ہے ۔(۲)

آیت اللہ سیستانی،فاضل اور مکارم: اگر اس جگہ (شہر)کے عرف میں اسے آلات قمار میں سے جانا جاتا ہو تو ان سے کھیلنا جائز نہیں ہے ورنہ کوئی حرج نہیں ہے ۔(۳)

شطرنج کھیلنا

سوال نمبر٤٢٣: اگر مقلد کے لئے ثابت ہوجائے کہ عصر حاضر میں شطرنج آلات قمار میں سے نہیں ہے تو بغیر ہار اور جیت کے اسکے کھیلنے کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع (آیت اللہ بہجت اور صافی کے علاوہ): اگر ثابت ہوجائے کہ عرف میںاب اسے آلات قمار نہیں کہا جاتا ہے تواس سے کھیلنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(۴)

آیت اللہ صافی: شطرنج کھیلناہر حال میں حرام ہے ۔(۵)

آیت اللہ بہجت: بغیر ہار جیت کے ہی شطرنج کھیلنا احتیاط واجب کی بنا پر جائز نہیں ہے۔ اور یہ احتیاط نہایت شدید ہے ۔(۶)

شرط لگانا

سوال نمبر٤٢٤: کیا ہر وہ کھیل جس میں ہار جیت اور شرط لگائی جائے حرام ہے ؟

تمام مراجع: ہر وہ کھیل جو ہار جیت اور شرط بندی کے ساتھ ہو حرام ہے مگر یہ کہ تیر اندازی اور گھوڑسواری کا مقابلہ ہو۔(۷)

آلات قمار کو سنبھال کے رکھنا

سوال نمبر٤٢٥: آلات قمار کو سنبھال کے رکھنے کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع(آیت اللہ تبریزی اور وحید کے علاوہ): آلات قمار کی حفاظت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اسے برباد کردینا ضروری ہے ۔(۸)

آیت اللہ تبریزی اور وحید: احتیاط واجب کی بنا پر آلات قمار کی حفاظت کرنا جائز نہیں ہے بلکہ اسے برباد کردینا ضروری ہے۔(۹)

۲۹۰

حوالہ جات:

۱ ۔ تبریزی،استفتاءات، س۹۸۱و فتر :امام خمینی،وحید،بهجت و نوری،صافی۔

۲ ۔ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۲۶۔

۳ ۔ سیستانی، org ۔ sistani ،قمار،س۴،و دفتر :آیت الله مكارم۔

۴ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲ مكاسب محرمه،س۲۱؛آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۱۵،فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۵۲؛مكارم، استفتاءات،ج۱، س۵۴۳؛ تبریزی، استفتاءات،س۹۸۲؛وحید منهاج الصالحین،ج۳،م۱۹و نوری،استفتاءات،ج۱،س۵۵۹ وسیستانی، org ۔ sistani ،س۱۲۔

۵ ۔ صافی،جامع الاحكام،ج۱،س۴۱و۱۰۴۲۔

۶ ۔ بهجت،توضیح المسائل،متفرقه،س۹۔

۷ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه،س۱۷؛آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۱۲۳؛سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲،م۲۲، وحید،منهاج،ج۳، م۱۹؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۵۳؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،س۱۰۳۹؛ مكارم، اسفتتاءات،ج۲،س۷۲۷؛ تبریزی،اسفتتاءات،س۹۹۲،دفتر: آیت الله بهجت و نوری۔

۸ ۔امام خمینی ،تحریر الوسیله،ج۱،م۸؛بهجت،وسیلة النجاة،ج۱،م۱۴۴۱؛صافی،هدایة العباد،ج۱،م۱۶۸۹؛نوری،استفتاءات،ج۲،س۵۵۹؛سیستانی،منهاج ،ج۲،م۱۱؛دفتر،: خامنه ای و فاضل

۹ ۔آیت الله وحید،منهاج الصالحین،ج۳،م۱۹،تبریزی،منهاج الصالحین،ج۲،التجارة،م۹

۲۹۱

مجسمہ سازی

سوال نمبر٤٢٦: انسان یا حیوان کا مجسمہ بنانا چاہے آدھے بدن کی صورت ہو یا دیوار پرابھار کی برجستگی کی صورت میں اس کا کیا حکم ہے ؟

امام خمینی، بہجت،سیستانی،فاضل،مکارم اور وحید: آدھا اور پورا مجسمہ حکم کے لحاظ سے فرق نہیں رکھتا ہے بلکہ دونوں کو بنانے میں حرج ہے ۔(۱)

تبریزی،خامنہ ای اور صافی: ناقص صورت میں مجسمہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(۲)

نوری: اگر کسی عقلائی غرض سے مجسمہ بنایا جائے اور اسراف بھی نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور اس حکم میں کامل اور ناقص مجسمہ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔(۳)

مجسمہ کی خرید و فروخت

سوال نمبر٤٢٧: کسی جاندار کے مجسمہ کی خرید و فروخت اور اسکی حفاظت کا کیا حکم ہے ؟

تمام مراجع(آیت اللہ صافی اور مکارم کے علاوہ): اسکی خرید و فروخت اور حفاظت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(۴)

آیت اللہ مکارم: اسکی خرید و فروخت میں اشکال ہے اور بہتر یہ ہے کہ اسکی حفاظت بھی نہ کی جائے ۔صافی: احتیاط واجب کی بنا پر اسکی خرید و فروخت اور حفاظت جائز نہیں ہے ۔(۵) (۶)

کارٹون

سوال نمبر ٤٢٨: صلوگوں کا کارٹون بنانا کیا حکم رکھتا ہے جبکہ وہ انکے تمسخر اور ہتک حرمت کا سبب بنے ؟جواب: تمام مراجع:مومن کا تمسخر اور اسکی ہتک حرمت عمومی طور پر حرام ہے(۷)

۲۹۲

حوالہ جات:

[۱] ۔ آیت الله مكارم، استفتاءات،ج۱،س۵۴۶،ج۱س۵۴۶و ج۲،س۷۳۷؛سیستانی org ۔ sistani ،مجمسه سازی،فاضل،جامع المسائل،ج۲،س۹۴۵ودفتر: امام،وحید و بهجت۔

۲۔ آیت الله خامنه‌ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۲۲۱؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،س۱۰۵۷؛تبریزی، استفتاءات،س۱۰۶۱۔

۳۔ آیت الله نوری، استفتاءات، ج۱،س۴۶۵۔

۴۔ امام خمینی ، تحریر الوسیله، ج۱، مكاسب المحرمه، م۱۲؛ آیت الله فاضل، جامع المسائل، ج۱،س۱۰۱۴و توضیح المسائل مراجع، م۲۰۶۹؛تبریزی، توضیح المسائل مراجع، م۲۰۶۹ و استفتاءات، س۱۰۰۷،خامنه‌ای، اجوبة الاستفتاءات، س۱۲۲۱؛ سیستانی، منهاج الصالحین، ج۲،م۱۸؛ وحید، توضیح المسائل، م۲۰۷۷؛ بهجت، وسیلة النجاة ، ج۱،م۱۴۴۸ و دفتر :آیت الله نوری۔

۵۔ آیت الله مكارم،استفتاءات، ج۱، س۵۴۷و۵۴۸۔

۶۔ آیت الله صافی،هدایة العباد،ج۱،م۱۶۹۶و توضیح المسائل مراجع، م۲۰۶۹۔

۷- سب کے دفاتر۔

۲۹۳

حق الناس ( مالی حقوق كی اہمیت )

سوا ل نمبر۴۲۹: حق الناس اور مالی حقوق كی وضاحت فرمائیں

> إِنَّ اللَّهَ یأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَماناتِ إِلى‏ أَهْلِها < ( سوره نساءآیت۵۸)

بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہنچا دو۔

حق الناس سے متعلق مسائل اور احكام دو طرح كے ہیں:

۱- مالی امور(جیسے قرض،ظالم(گناہوں كے كفارے)خمس،زكات اور۔۔۔۔

۲- غیر مالی امور(جیسے غیبت،الزام تراشی،هتك حرمت(توہین وبے عزتی كرنا اور۔۔۔)۔

یہاں پهلی قسم كے مسائل اور احكام بیان كئے جارہے ہیں ۔

اسلام میں مالی حقوق كی ایك خاص اہمیت ہے اوران كا بهت دقت كےساتھ خیال ركھاجانا چاہیئے۔

كیونكه اگر دوسروں كے مال كا تھوڑا حصه بھی ضائع ہوگیا اور وه راضی نه ہوا تو كسی بھی صورت میں یه گناه توبه اور ندامت كے ذریعه پاك نہیں گا۔

امام صادق(علیہ السلام)فرماتے ہیں:

شہید كے خون كا پهلا قطره اس كے گناہوں كا كفاره ہے سوائے قرض كے كه اس كا كفاره اس كی ادائیگی ہے۔(۱)

۲۹۴

بچپنے كے زمانه كا حق الناس

سوال نمبر۴۳۰: میں نے بجپن میں كسی كا پیسه اٹھالیااور اس كے بارے میں اس سے نہیں كهه سكتاہوں ایسی صورت میں میری ذمه داری كیا ہے؟

كیا اس كی طرف سے صدقه كرسكتاہوں؟

تمام مراجع كرام:

جس طرح سے بھی ہو سكے پیسه اس تك پهنچائیں اور ضروری نہیں كه اسے بتائیں كس بابت ہے،یہاں تك كه آپ دوسرے كے ذریعه اس تك پهنچا سكتے ہیں یا اس كے بینك اكاونٹ میں ڈال سكتے ہیں۔صدقه دینا كافی نہیں ہوگا۔(۲)

صاحب مال تك رسائی نه ہونا

سوال نمبر۴۳۱: اگر ہم نے كسی كا كوئی مال(روپیه)اٹھالیا اور اب اس تك رسائی نہیں ہوپارہی ہے تو ہم اری كیا ذمه داری ہے؟

امام خمینی،بهجت،صافی اور نوری:اگرآپ صاحب مال كو پانے سے مایوس ہوگئے ہیں تو مجتهد كی اجازت سے اس كے مالك كی طرف سے فقیر كو صدقه دینا ضروری ہے۔(۳)

آیت الله تبریزی،خامنه ای،سیستانی،فاضل،مكارم اور وحید:اگر آپ اس كے مالك كو پانے سے ناامید ہوگئے ہیں تو آپ اس كی جانب سے فقیر كو صدقه دیں اورا حتیاط واجب یه ہے كه یه كام مجتهدكی اجازت سے انجام دیاجائے۔(۴)

صاحب مال(مالك)كا مرجانا

سوال نمبر۴۳۲:اگر پهلے كبھی ہم نے كسی كا كوئی پیسه اٹھالیا ہو اور اب وه مرچكا ہے تو اسے كیسے ادا كریں؟

امام خمینی،بهجت،صافی،اور نوری:اگر آپ اس كے وارثوں كو پهنچانتے ہیں تو جس طرح سے بھی ہو سكے ان تك وه رقم پهنچائیں اور اگر انہیں پانے سے ناامید ہوچكے ہیں تو مجتهد كی اجازت سے ان كی جانب سے فقیر كوصدقه دیدیں۔(۵)

آیت الله تبریزی،خامنه ای،سیستانی،فاضل،مكارم اور وحید: اگر اس كے وراثوں كو آپ پهچانتے ہیں تو كسی بھی ممكنه طریقه سے ان تك پهنچوائیں اور اگر انہیں پانے سے ناامید ہوچكے ہیں تو اس رقم كو ان كی طرف سے فقیر كو صدقه دیں اور احتیاط واجب یه ہے كه یه كام مجتهد كی اجازت سے ہو۔(۶)

دوسروں كابیمه ( insurance ):

سوال نمبر۴۳۳:كیا دوسروں كے بیمه كا استعما ل كرنا جائز ہے؟

تمام مراجع كرام:دوسرے كے بیمه كا استعمال خلاف قانون ہے اور استعمال كرنے والاضامن ہوگا۔(۷)

۲۹۵

حوالہ جات:

[۱] ۔اول قطرة من دم الشهیدكفارة لذنوبه الاالذین فان كفارة قضائه،من لایحضره الفقیه،ج۳،ص۱۸۳،حدیث ۳۶۸۸۔

۲ ۔تمام مراجع كرام كے دفافتر۔

۳ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۲۷۹،اورنوری،توضیح المسائل،مسئله۲۲۷۳۔

۴ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۲۷۹،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۳۳۱،خامنه ای،استفتاءات،سوال ۱۵۵۹۔

۵ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۲۷۹،اورنوری،توضیح المسائل،مسئله۲۲۷۳۔

۶ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۲۷۹،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۳۳۱،اور خامنه ای،استفتاء،سوال۱۵۵۹ ۔

۷- تمام مراجع كرام كےدفاتر

۲۹۶

بینك كےاحكام (اسلامی بینكنگ )

سوال نمبر۴۳۴:ہم ارے ملك میں بینك كے نظام سے متعلق توضیح دیں

> أَحَلَّ اللَّهُ الْبَیعَ وَ حَرَّمَ الرِّبا < (سوره بقره،آیت ۲۷۵)

خدا نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سودکو حرام ۔

اسلامی جمہوریه نظام میں بینك كے قوانین ،پارلیمنٹ كے ممبران كےپاس كرنے اورگارجین كاؤنسل كی زیر نگرانی اور تائید كے ذریعه ایك شرعی عقد كی بنیاد پر بنائے گئے ہیں اس لئے اگر تمام بینك پاس ہونیوالے قانون كے مطابق عمل كریں تو ان سےقرضه لینااور وہاں اكاؤنٹ ركھنے والےافراد كا جمع شده رقم كے منافع كا لینا ربا اور حرام نہیں ہوگا۔

لیكن افسوس اس بات كا ہے كه بینكوں كے بعض ذمه دار حضرات قانون كا لحاظ كئے بغیر یا جعلی اسناد و مدارك كی بنیاد پر عمل كرتے ہیں اور رجوع كرنے والے حضرات بھی اس كے مسائل سے واقف نہیں ہیں اس لئے فكس ڈپازٹ كرنا اورقرضه لیناسود كا حكم ركھتاہے اور حرام ہوجاتاہے۔اس سلسله میں كچھ اصطلاحوں كی وضاحت كرنا ضروری ہے:

فكس ڈپازٹ كافائده:

فكس ڈپازٹ كی حقیقت یه ہے كه ایك انسان اپنے پیسوںكو سرمایه گزاری (بڑھانے)كے لئے كم وقت یا لمبے عرصه كے لئے ڈپازٹ كے طور پر بینك میں جمع كردیتاہے۔اور بینك كو تحریر ی عهد و پیمان كے مطابق اس بات كا وكیل بناتا ہے كه وه اس رقم كے ذریعه تجارت وغیره كرے ایسی صورت میں بینك كا كا سودنہیں كهلائے گا اور اس سے حاصل ہونیوالافائده ڈپازٹ كرنیوالے كا ہوگا۔اوراس فائده سے بینك صرف حق وكالت لے گا ۔

قرض الحسنه

قرض الحسنه(چاہے چالو كھاته ہو یا بچت كھاته) كے حساب سے جوبھی فائده حاصل ہوتا ہے وه بینك كاہوتاہے قرض دینے والے كا اس منافع سے كوئی تعلق نہیں ہوتا ہے مگریه كه بینك حوصله افزائی كے لئے،صاحب اكاونٹ كو كوئی انعام دے۔

بینك سے لیاگیا قرض

بینك (جعاله ،شركت،مضاربه وغیره جیسے)كسی ایك شرعی عقدكی بنیاد پر صاحب حساب كو قرض دیتاہے اور اس تجارتی كاروبار میں كچھ فائده لیتاہے۔

البته بینك كبھی صاحب حساب كو قرض قرض الحسنه كے عنوان سے دیتاہے اور اس كے مقابلے صورت میں كوئی فائده نہیں لیتا ہے بلكه صاحب حساب سے صرف مزدوری لیتاہے اس كا حكم متن میں بیان ہوا ہے۔

قابل ذكربات یه ہے كه آیة ا۔۔۔بهجت اور آیت ا۔۔۔وحید خراسانی بینك كی موجوده تمام روشوں كے مخالف ہیں اور ان كا كهنا ہے:

جوشخص اپنے پیسه كو سرمایه گزاری (بڑھانے)كے عنوان سے بینك كودینا چاهتاہے یا بینك سے قرض لینا چاهتاہے اس كے لئے ضروری ہے كه وه خود مطالبه كی گئی رقم پربانك سے شرعی معامله كرے اور اس كے ضمن میں قرض كی شرط لگائے۔

۲۹۷

بینك سے لیا گیا قرض

سوال نمبر۴۳۵: جوقرضه بینك ایك خاص استعمال (جیسے تعمیر ،خریداری ،گھر بنانے)كے لئے لوگوں كو دیتاہے كیا اسے دوسرے كاموں میں مصرف كرناجائز ہے؟

تمام مراجع حضرات(آیت الله بهجت صاحب كے علاوه):ہرگز اسے یه حق نہیں پہونچتا ہے كه وه اس كو معین شده مصر ف كے خلاف ، استعمال كرے۔(۱)

بهجت:مجموعی طورپربینك سے سود كے ساتھ قرض لینا حرام ہے مگر یه كه وه خود بینك سے شرعی معامله كرے۔(۲)

نوٹ:آیة الله بهجت كا نظریه یه ہے كه مثال بینك كسی بھی چیز كو ڈپازٹ كی گئی رقم كے فائده كی مقدار كے برابر قرض لینے والے كواس شرط پر بیچ دے كه وه ایك معین مدت كچھ رقم كے طورپربینك كو قرض دے۔(۳)

۲۹۸

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،اموربانكی،سوال۲،آیت الله تبریزی،ستفتاءات،سوال۲۱۳۴، ۲۱۴۷،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۷۹۰،مكارم ،استفتاءات، ج۲، سوال ۱۶۹۹، فاضل،جامع المسائل، ج۲،سوال۱۰۰۱،اور وحید،سیستانی،نوری،اور صافی صاحبان كےدفاتر۔

۲ ۔آیت الله بهجت ، كادفتر۔

۳ ۔آیت الله بهجت،توضیح المسائل،مسئله۲۲۸۳۔

۲۹۹

رقم تاخیر سے لوٹانے كا جرمانه

سوال نمبر۴۳۶: كیابینك كا قرض كو تاخیر سے ادا كرنے كے گھاٹے كو لینا شرعی طور پر جائز ہے؟

تمام مراجع كرام(سوائے فاضل،صافی اور مكارم):قطعا نہیں تاخیر سے ادائیگی كے گھاٹے كو لینا جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله مكارم:اگر تاخیر سے لوٹا نے كا جرمانه،زبردستی فائده لینے كے متراف ہو تو جائز نہیں ہے لیكن اگر حكومت كی جانب سے سزا كے عنوان سے ہو اور عادلانه صورت میں ہو یا ایك جداگانه عقد لازم كے ضمن میں شرط ہواہو، تو جائز ہے۔(۲)

آیت الله صافی: تاخیر سے ادائیگی كے گھاٹے كو لینا جائز نہیں ہے مگر یه كه عقدلازم كے ضمن میں شرط كیا جائے اور مهلت اور مطالبه میں تاخیر كے لئے نه ہو۔(۳)

آیت الله فاضل: تاخیر سے ادائیگی كے گھاٹے كو لینا جائز نہیں ہے مگر تین شرطوں كے ساتھ:

۱- عقدلازم كے ضمن میں شرط كیاجائے۔

۲- قرض لینے والا اس كی ادائیگی پر قدرت ركھتاہو۔

۳- اس كی مقدار بھی معلوم ہو۔

۳۰۰