گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6520
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6520 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

[۱] ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،دین(قرض)سوال۵،آیت الله صافی ،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۹۹۵،تبریزی،استفتاءات،سوال ۲۱۱۶،فاضل جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۱۴۸، سیستانی، org ۔ sistani قرض اوربینك،وحید،نوری،بهجت اور خامنه ای صاحبان كے دفتر۔

۲ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۶۶۳،ج۲،سوال۱۷۰۲۔

۳ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام ،ج۲،سوال ۱۹۹۵۔

۳۰۱

پیسه كی اہمیت كا كم ہونا

سوال نمبر۴۳۷: كسی نے دس سال پهلے ایك شخص كو ایك رقم قرض كے طور پر دی ،كیا پیسه كی اہمیت كےكم وزیاد ہونے كے پیش نظر اس كا اس سے زیاده لینا جائز ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،فاضل،نوری اور وحید:نہیں اس سے قرض كی مقدار سے زیاده لینا جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله بهجت اور خامنه ای،قرض دینے والاصرف اپنا اصل پیسه ہی لے سكتاہے اسے پیسه كی قیمت كے كم ہونے كو لینے كا حق نہیں ہے مگریه كه بهت زیاده دن گزرگئے ہوں اور بهت فرق ہوجائے تو اس صور ت میں احتیاط واجب كی بنا پر مصالحت كرنا ضروری ہے۔(۲)

آیت الله مكارم اور نوری:اگر اتناطولانی عرصه گزرجائے كه پیسه كی قیمت غیر قابل تصور گھٹ گئی ہو(یعنی اس كی قیمت اتنی كم ہوگئی ہو كه عرف كی نظر میں قرض كی ادائیگی نه كهلائے جیسے دس بیس سال پهلے كا قرض)تو موجوده قیمت سے محاسبه كیاجائے یا كم ازكم مصالحت كرلیں۔(۳)

صافی: قرض كی مقدار سے زیاده طلب كرنا جائز نہیں ہے۔لیكن اگر قرض دینے والا مطالبه كرتارہا ہو اور قرض لینے والا اپنے قرض كی ادائیگی كی طاقت ركھنے كے باوجود ادا نه كرے تو قرض دینے والے كا جو نقصان ہواہے اسے پورا كرے اوراحتیاط كی بنا پرباہم مصالحت كرلیں۔(۴)

سوال نمبر۴۳۸: كیا پیسه كی قیمت كم ہوجانے میں قرض، مہر،مضاربه،خمس اور باقی مقامات كے درمیان كچھ فرق ہے؟

تمام مراجع حضرات: قرض كی كسی بھی قسم میں كوئی فرق نہیں ہے۔(۵)

۳۰۲

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام مهر،سوال۱۷؛آیت الله سیستانی، org ۔ sistani مهر اور قرض؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،۱۷۷۲؛فاضل،جامع المسائل ،ج۱، س۱۱۱۷۷و ۱۴۹۰و۱۰۳۱؛ نوری ،استفتاءات ،ج۲،س ۴۴۶؛تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۶۴۹،و۱۲۶۳ اور بهجت و وحید كے دفاتر۔

۲ ۔ آیت الله خامنه ای استفتاءات،۲۲۷ بهجت،صاحب كا دفتر۔

۳ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،سوال ۶۳۶، ۶۳۷؛ مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۶۵۷، ۶۵۹۔

۴ ۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۹۶۵۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۶۴۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۴۹۰،امام خمینی،استفتاءات،ج۳،احكام مهر،سوال ۱۷،سیستانی، org ۔ sistani ،مهر ، نوری، استفتاءات ، ج۱،سوال ۶۳۶، ۶۳۷،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۱۶۹۰،صافی،جامع الاحكام ،ج۲،سوال ۱۲۹۶،خامنه ای،استفتاء،سوال ۲۲۷،آیت الله بهجت اور وحید كے دفتر۔

۳۰۳

كرنسی كی خرید و فروخت

سوال نمبر۴۳۹:نقداور ادھار كی صورت میں اختلاف قیمت كے ساتھ كرنسی خرید فروخت كرنے كا كیا حكم ہے؟ جواب: تمام مراجع عظام:كرنسی كی خرید و فروخت میں كوئی اشكال نہیں ہے۔(۱)

بهجت:احتیاط اس كے ترك میں سے ہےمگر یه كه اس اضافه كے مقالے میں كوئی معامله انجام دے او ر اس كے ضمن میں قرض كی شرط كرلے۔(۲)

چك كی خرید وفروخت

سوال نمبر۴۴۰: معینه مدت والے چك كو نقد كی صورت میں كم قیمت پر بیچنے كا كیا حكم ہے؟

امام خمینی اور خامنه ای،قرض دینے والے كی جانب سے قرض لینےوالے كو بیچنے میں كوئی حرج نہیں ہے لیكن اسے تیسرے شخص كو بیچنا صحیح نہیں ہے۔(۳) تبریزی؛سیستانی،فاضل،مكارم اور نوری:اگر چك كو فروخت كرنے والا ،چك كو جاری كرنے والےسے اس كے مبلغ كاقرض خواه ہو تو اس كا(قرضداریا كسی دوسرے كو)كم قیمت اور نقد كی صورت میں فروخت كرنے میں كو ئی اشكال نہیں۔(۴)وحید:احتیاط واجب كی بنا پر جائز نہیں ہے۔(۵)بهجت:اگر چك كو بیچنے والا اسكی رقم كو چك جاری كرنیوالے سےطلب ركھتاہو تو اسے كم قیمت پراس وقت فروخت كرنا جائز ہے جب دونوں قیمتوں كے فرق میں شرعی معامله كیاجائے اور اسكے ضمن میں(چك كو فروخت كركےحاصل ہونے والی رقم كے برابر)قرض كی شرط كی جائے(۶)

نوٹ:اس بات كے مد نظر كه بهجت نے مساوی (ہم پله)مرجع كی طرف رجوع كرنا جائز مانا ہے لهذا انكے مقلدین انكے ہم پله مرجع تقلید كی طرف رجوع كرسكتےہیں جنہوں نے چك كو فروخت كرنے كے جواز كا فتوی دیا ہے۔

۳۰۴

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله سیستانی،توضیح المسائل،عملیات بانكی مسئله ۲۶،مكارم،توضیح المسائل،مسئله ۲۴۳۲،امام خمینی،توضیح المسائل،مسئله ۲۸۴۵،وحید،توضیح المسائل،مسئله ۲۱۰۳، صافی،جامع الاحكام،ج۲،سوال ۱۹۹۸،خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۶۰۳،تبریزی وفاضل توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲۰۷۵۔

۲ ۔آیت الله بهجت كا دفتر۔

۳ ۔،آیت الله خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۹۵۰؛امام خمینی،توضیح المسائل،مسئله،۲۸۳۹،استفتاءات،ج۲،احكام معاملات سوال۲۲۵۔

۴ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۲۱۴۴،۲۱۴۲،اور توضیح المسائل احكام سفته ،مسئله ۶؛سیستانی،توضیح المسائل،عملیات بانكی،مسئله ۲۸،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۰۳۲، مكارم،توضیح المسائل،مسئله ۲۴۲۹،نوری، استفتاءات، ج۲، سوال۴۲۶، ۴۲۷۔

۵ ۔آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۸۶۹۔

۶ ۔آیت الله بهجت، توضیح المسائل،متفرقه،مسئله۲۹۔

۳۰۵

نیانوٹ

سوال نمبر۴۴۱: كیا زیاده قیمت پر نئےنوٹوں او رٹوٹےپیسوں كی فروخت جائز ہے؟

تمام مراجع كرام(آیت الله بهجت كے علاوه):

جی ہاں جائز ہے۔(۱)

آیت الله بهجت:

جائز نہیں ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۶۰۳، ۱۶۰۴،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۰۲۶،امام خمینی،استفتاءات،احكام معاملات،ج۲،سوال ۱۷۹، سیستانی، توضیح المسائل،عملیات بانكی،تنزیل برات،تبریزی، توضیح المسائل،احكام سفته،مسئله۴،وحید،توضیح المسائل،۲۸۶۷۔

۲ ۔آیت الله بهجت ، كا دفتر۔

۳۰۶

مزدوری

سوال نمبر۴۴۲: صندوق اخراجات كو پورا كرنے كے لئے كیا قرض الحسنه كے ادارے بهت معمولی رقم جیسے ایك فیصد رقم مزدوری كے عنوان سے لے سكتے ہیں ؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،فاضل،مكارم اور نوری: قرض كا فائده لینا خواه زیاده ہو یا كم حرام ہے چاہے مزدوری كے نام سے كیوں نه ہو لیكن اگر لی جانے والی رقم در حقیقت ملازمین كی تنخواه اور صندوق كے اخراجات كے لئے ہو تو طرفین كی رضامند ی كی صورت میں اس میں كوئی حرج نہیں۔(۱)

آیت الله بهجت،تبریزی،سیستانی،صافی،اور وحید:مزدوری كا لینا حرام ہے چاہے واقعا ملازمین كی تنخواه اور صندوق كے مخارج كے لئے ہی ہو۔(۲)

حلال ربا

سوال نمبر۴۴۳: كن مواقع پر ربا لینا جائز ہے؟

تمام مراجع حضرات:

۱-مسلمان كا كافر سے ربالینا(بشرطیكه وه اسلام كی پناه میں نه ہو یعنی كافر ذمی نه ہو)۔

۲- باپ اور فرزند كا ایك دوسرے سے ربالینا۔

۳- شوہر اور زوجه كا ایك دوسرے سے ربالینا ۔(۳)

نوٹ:آیت ا۔۔۔تبریزی،كے فتوی كے مطابق ،كافر سے بھی ربوی معامله كرنا حرام ہے لیكن مسلمان اس سے كسی چیز كواستنقاذ یعنی مجاز تصرف كے قصد سے ربا كی صورت میں لے سكتاہے۔

قرض كو سونےسے بدلنا

سوال نمبر۴۴۴: كیا كسی كو تھوڑا بهت پیسه دے كراسے سونے كی قیمت محاسبه كرنااور قرض كی ادائیگی كے وقت سونے كی موجوده قیمت كی بنا پر محاسبه كرنا جائز ہے؟

تمام مراجع كرام:اگر اسے پیسه بطور قرض دیا ہو تو اس سے اس مقدار سے زیاده مطالبه نہیں كرسكتاہے اور نه ہی سونے كی موجود ه قیمت سے محاسبه كرتے ہوئے اسے واپس لے سكتا ہے لیكن اگر سونے كی روز كے لحاظ سے قیمت معلوم ہو اور اس رقم كے ذریعه پیسه لینے والے سے سونا خریدا ہوا(تاكه سونامستقبل میں دے)تو بیچنے والے پر اسی سونے كو دینا واجب ہے۔(۴)

پیسه كا فائده

سوا ل نمبر۴۴۵: كیا كوئی شخص دوسروں كے پاس پیسه ركھ كر ہرمہینے اس سے اس كا سود لےسكتاہے؟

تمام مراجع كرام:اگر دوسروں كے پاس شرعی شرطوں كا لحاظ كرتے ہوئے ایك صحیح عقد كے عنوان سے پیسه ركھا گیا ہے تو كوئی حرج نہیں لیكن اگر قرض كے طورپر دیاگیا ہواور اس میں فائده لینے كی شرط كی جائے تو ربا اور حرام ہے۔(۵)

۳۰۷

حوالہ جات:

[۱] ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،قرض،سوال ۳۹،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۷۸۶؛مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۶۶۵اور توضیح المسائل، مسئله ۴۲۷؛ فاضل، جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۰۸۸؛نوری،استفتاءات،ج۱،سوال ۵۷۶۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال ۱۲۶۶؛صافی،جامع الاحكام، ج۲،سوال ۱۲۸۵۔

۳ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۲۰۸۰،وحید،توضیح المسائل،۲۱۰۸،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۷۵۹،نوری،توضیح المسائل،مسئله ۲۰۷۴،صافی،جامع الاحكام، ج۲،سوال۱۹۸۲۔

۴ ۔مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۷۷۸،تبریزی اور سیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۱۱۱،وحید توضیح المسائل،مسئله ۲۱۳۹،تمام مراجع حضرات كے دفتر۔

۵ ۔ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۷۷۴،اورتمام مراجع حضرات كے دفتر۔

۳۰۸

مضاربه اور نسیه(ادھار)

سوال نمبر۴۴۶: اگر كسی كو پیسه دے كر ہر مہینے ایك معین فیصد اس رقم سے فائده لینا چاہیں تو بغیر ربا كے اس كا راه حل كیا ہے؟

تمام مراجع حضرات:اگر كسی كو پیسه دے كر ہر ماه معین طور پر سود لیں تو ربا حرام ہے لیكن ربا سے بچنے كے كچھ راستے ہیں:

۱- پیسه لینے والے كو آپ اپنا وكیل بنالیں تاكه آپ كے پیسه كے ذریعه ایك سامان خرید كر جسے چاہے(خواه وه خود اسی كو)ادھار كے طورپر بیچے دے اور ہر ماه معین مبلغ (علی الحساب)آپ كو دے اور آخر میں بقیه رقم كو(جس میں اصل رقم بھی شامل ہوتی ہے)آپ كو لوٹادے۔(۱)

۲- آپ اس كو اپنا وكیل بنالیں تا كه وه آپ كے پیسه كے ذریعه حلال اور جائز كاروبار كرے۔اب جتنا بھی فائده ہوگا وه آپ كا ہوگا اور آپ اسے حق وكالت دیں۔

۳- اس كے ساتھ عقد مضاربه كرلیں اس طرح سے كه پیسه آپ كا اورمحنت اس كی اور جو فائده حاصل ہواسے آپ اپنے اور اس كے درمیان(عهد وپیمان میں طے شده فیصد كے مطابق)تقسیم كریں مضاربه میں حصه كی نسبت اورفائده كافیصد معین ہونا ضروری ہے مثال كے طورپر وه طے كریں كه جتنا بھی فائده حاصل ہواس كا كچھ حصه(آدھا ایك تهائی اور۔۔۔)مالك كا ہو اور كچھ حصه كا م كرنے والے كا ۔(۲)

نوٹ:وكالت ،مضاربه وغیره كی قرارداد كرتے وقت ہر جائز شرط كو اس كے ضمن میں لگا سكتے ہیں۔

۳۰۹

حوالہ جات:

[۱] ۔توضیح المسائل مراجع،احكام وكالت،مسئله۲۱۰۸۔

۲۔العروة الوثقیٰ،ج۲،كتاب المضاربه،اور توضیح المسائل مراجع،احكام وكالت۔

۳۱۰

پیسه كی حیثیت وقیمت

سوال نمبر۴۴۷: بعض اقتصاد دانوں اور ماہرین اقتصاد كی نظر میں پیسه كی حیثیت وقیمت كے كم ہونے كا قرض لینے والاضامن ہے لهذا وہی اس كمی كو پورا كرے اور یه عمل ان كے نزدیك ربا نہیں كهلاتا كیا ان كی یه ماہرانه نظر معیار بن سكتی ہے؟

تمام مراجع كرام:قطعا نہیں ،شرعی احكام كامحوروه موضوعات ہیں جو لوگوں كےعرف عام سے لئے جاتے ہیں بعض اقتصاد دانوں كی رائے(اگرچه محترم ہے)لیكن شرعی احكام كے لئے معیار نہیں ہو سكتی۔(۱)

نوٹ:كچھ دوسرے ماہرین اقتصاد كاعقیده ہے كه انسانی طاقت كے رشد اور پیداوار میں مدد كے لئے مقروض كو موقع دینا چاهئیے اس سےفائده نہیں لینا چاهئیے بعض تو یہاں تك كهتے ہیں كه كمپنوں كے مالكوں كو سبسڈی بھی دی جانی چاہیئے۔

اپنی خوشی سے فائده كی ادائیگی

سوال نمبر۴۴۸: مقروض اگر پوری خوشی ورضایت كے ساتھ فائده دینا چاہیئے تو كیا پھربھی حرام ہے؟

تمام مراجع حضرات:اگر قرض كی ادائیگی میں فائده كی شرط كی گئی ہو تو حرام ہے دونوں كے راضی ہونےسے وه حلال نہیں ہوگا لیكن اگر شرط كے بغیر مقروض خود سے كچھ زیاده دینا چاہے تو نه صرف یه كه كوئی حرج نہیں بلكه مستحب بھی ہے۔(۲)

۳۱۱

حوالہ جات:

[۱] ۔مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال۱۶۹۳،اور تمام مراجع حضرات كے دفاتر۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۲۸۳،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۲۳۵،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۲۷۷۔

۳۱۲

بینك كی جانب سے ملنے والے انعامات

سوال نمبر۴۴۹: بینكوں كے قرض الحسنه یا پرٹیوانسٹیوٹس كے حساب میں(قرعه اندازی میں شركت كی شرط كے بغیر)انعام پانے كے قصد سے پیسه جمع كرنا كیساہے؟

تمام مراجع كرام:كوئی اشكا ل نہیں ہے۔(۱)

نوٹ(۱):اراده او رشرط كے درمیان فرق ہے۔اس لئے اگر پیسه كو قرعه اندازی میں شركت كے اراده سے جمع كرے تو كوئی حرج نہیں ہے۔اور اس وقت بینكوں اور پرائیویٹ افسٹیوٹس میں رائج ہے وه اسی طرح ہے۔ (۲)آیت الله سیستانی،كی رائےكے مطابق پیسه جمع كرنے والا انعام كو لے توسكتاہے لیكن اس كا آدھا دیندار فقیر كودے۔

ملازموں كی عیدی

سوال نمبر۴۵۰:حكومتی ادارےمیں ایك شخص نئے سال كی آمد پر ملازمین كوعیدی دیتاہےیااپنے لئے كام كرنے والوں كی حوصله افزائی كے لئے پهلے سے كسی توافق كے بغیر اپنی مرضی اور خوشی سے كچھ رقم دیتاہے۔تو كیا اس كا لینا جائز ہے؟

آیت الله خامنه ای كے علاوه تمام مراجع حضرات:مذكوره سوال كے پیش نظر اگر اس رقم كا لینا حكومتی كی قوانین كے مخالفت كاسبب نه ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۲)

آیت الله خامنه ای:ملازمین كے لئے جائز نہیں ہے كه اس طرح كے هدایا وتحالف كسی بھی عنوان كے تحت اپنے پاس آنے والے افرادسے لیں مگریه كه ہدیه دینے والا بهت اصرار كے ساتھ اور كام كرنے والے كےمنع كرنے كے باوجود اسے كسی طرح ہدیه كرے(وه بھی كسی مذاكره یا پهلے سے نظر میں ركھے بغیر۔(۳)

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۲۱۳۵،مكارم،استفتاءات ج۲،سوال ۱۶۹۵،صافی،جامع الاحكام،ج۲سوال۱۹۸۹،و۲۰۰۴،وحید،توضیح المسائل، مسئله۲۸۶۲، سیستانی،توضیح المسائل،جوائز بانك،مسئله ۲۴، org ۔ sistani قرض ،امام خمینی،توضیح المسائل،مسئله۲۸۵۸،نوری،استفتاءات ج۲،سوال ۴۷۶، بهجت،توضیح المسائل، متفرقات، مسئله۲۲، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سو ال۱۹۴۵، ۱۹۴۶، فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۱۰۹۸۔

۲ ۔فاضل،جامع المسائل،ج۲،سوال ۹۴۹،صافی جامع الاحكام،ج۲،سوال۱۵۴۳،اور تمام مراجع كے دفتر۔

۳ ۔ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۴۳، ۱۲۴۴۔

۳۱۳

دفتری( official )كاموں میں رشوت

سوال نمبر۴۵۱: دفتری مشكل كو حل كرنے اور كام كو جلدی انجام دینے كےلئے رشوت دینا كیساہے؟

امام خمینی ،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی،فاضل،مكارم اور نوری:دفاتركے ملازمین كو(جن كا كام لوگوں كے كاموں كو انجام دینا ہے)رجوع كرنیوالے كی جانب سے پیسه یا كچھ مال و دولت دینے سے اداروں میں بدنظمی اور رشوت خوری كا بازار گرم ہوگا جوكه شرعی لحاظ سے حرام ہے لینے والے كے لئے بھی اس پیسه كالینا حرام ہے اور اس میں اسے تصرف كا حق نہیں ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی،سیستانی اور وحید:قضاوت كے علاوه كہیں بھی اپنے حق كو حاصل كرنے كے لئے رشوت دینا جائز ہے لیكن جس كا كام لوگوں كےامور كو انجام دینا ہے اس كے لئے اس كا لینا جائز نہیں ہے۔(۲)

سوال نمبر۴۵۲: اگردفتری امور میں اپنے حق كا حصول ،رشوت دینے پر ہی منحصر ہو تو كیا اس كا دینا جائز ہے؟

آیت الله خامنه ای كے علاوه تمام مراجع حضرات:اگر واقعاًحق كا حصول اسی راسته سے ممكن ہو تو كوئی حرج نہیں لیكن پیسه لینے والے كے لئے اس كا لینا حرام ہے۔(۳)

آیت الله خامنه ای:نہیں ہر حال میں رشوت دینا اور لینا حرام ہے چاہے حق تك پهچنے كے لئے ہی كیو ن نه ہو۔(۴)

نوٹ:قوانین اور دستورات كی مخالفت كرنا جائز نہیں ہے۔

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،كتاب القضاء مسئله۶،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۴۷، ۱۲۴۷،صافی،جامع الاحكام،ج۲،بهجت،توضیح المسائل ، متفرقات،مسئله ۱۶، سوال۱۵۴۰، نوری؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۹۷۲،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۶۶۴، ۶۶۵ ۔۔

۲ ۔تبریزی،استفتاءات،سوال۹۹۹،وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۳۲،اور سیستانی، org ۔ sistani ،رشوت ۔

۳ ۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،كتاب القضاءمسئله،۶،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۹۷۲،مكارم،استفتاءات،ج۲،سوال ۶۶۴،صافی،جامع الاحكام،ج۲، سوال۱۵۴۰،آیت الله بهجت، كا دفتر، تبریزی،استفتاءات،سوال۹۹۹،وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۳۲ اور سیستانی، org ۔ sistani ،رشوت۔

۴ ۔ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۴۶،۱۲۴۷۔

طبابت (میڈیكل)كے احكام

مقدمه

> وَ مَنْ أَحْیاها فَكَأَنَّما أَحْیا النَّاسَ جَمیعاً < (سوره مائده،آیت۳۲)

اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دی۔

طبابت عظیم اور نازك پیشه ہے كیونكه طبیب مریض كے جسم وجان سے بھی اور خدا كے دستور وحكم سے دوا اور علاج بھی مرتبط ہوتاہے۔

حقیقت میں اسے اس وظیفه اور حق سے بخوبی عهده برآ ہونا چاہیئے (الٰہی وظیفه اور انسانی حق)اگر ڈاكٹرنے ایك انسان كی زندگی بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں كوزندگی دی ہے اور بهت بلند مقام پر فائز ہوگیا ہے اور اگروه اس كے ساتھ خود سے متعلق مسائل اور احكام پر عمل كرلے تو اس كاثواب كئی گنا ہوجاتاہے۔

اور چونكه ڈاكٹر كے دوش پر ایك بڑی ذمه داری ہوتی ہے لهذا اسے ڈاكٹری سے متعلق مسائل اور احكام سے آگاه او ر واقف ہونا چاہیئے۔اور اگر اس نے اس سلسله میں ذره برابر كوتاہی اور غفلت كی تو خدا كے عذاب كا مستحق ہوگا۔

حضرت امام صادق(علیہ السلام)فرماتے ہیں:

ہر ملك كے لوگ تین لوگوں كے محتاج ہوتے ہیں تا كه اپنے دین اور دنیا(سے متعلق مسائل)میں ان كی پناه حاصل كریں:

متقی اور دانشمند فقیه ،ایك ایسا نیك حاكم جس كی لوگ اطاعت وپیروی كریں۔اور ماہر اور بھروسه مند ڈاكٹر۔

باقی فقہی موضوعات كی طرح“طبابت”كے بھی بهت سے احكام اور مسائل ہیں جیسے:بیمار كودیكھنا اور چھونا بچه گرانا،نطفه كومنتقل كرنا،پوسٹ مارٹم،اور اعضاء كاجوڑنا،صنفیت كابدلنا بانجھ كرنا وغیره ان عناویں میں سے خود ہر ایك كے مختلف مسائل اور جزئیات ہیں ان میں سے صرف كچھ ہی كو اس كتاب میں بیان كیاگیاہے۔

نامحرم ڈاكٹر:

سوال نمبر۴۵۳: اگر خاتون طبیب موجود ہو تو كیامرد ڈاكٹر كا عورت كے بدن كو لباس كے اوپر سے چھونا جائز ہے؟

تمام مراجع:لباس كے اوپر سے عورت كے بدن كو چھونا حرام نہیں ہے لیكن اگر لذت حاصل كرنے كی نظر سے ہو یافساد كا خطره ہوتو جائز نہیں ہے۔(۱)

نامحرم سے معاینه(جانچ):

سوال نمبر۴۵۴: معاینه اور علاج كے لئے بیمار كو چھونے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع(تبریزی اور سیستانی كے علاوه):اگر ہم صنف ڈاكٹر موجود نه ہوں تو بیمار كو معاینه اور علاج كی غرض سے چھونے میں كوئی حرج نہیں لیكن فقط اتنا چھواجائے جتنی ضرورت ہو۔(۲)

تبریزی اور سیستانی:اگر ہم صنف ڈاكٹر موجود نه ہوں یا مرد زیاده مهارت ركھتاہو،تو معاینه او رعلاج كی غرض سے بیماركو چھونے میں كوئی حرج نہیں لیكن جتنی ضرورت ہے اسی پراكتفا كیا جائے۔(۳)

نوٹ(۱):اگر معاینه لباس كے اوپر سے ممكن ہے تو اسی پر اكتفا كیاجائے ۔

نوٹ(۲):معاینه كی غرض سے بیماركوچھونے كا جواز باعث نہیں ہوگا كه بدن پر نظر كرنا بھی جائز ہو مگر یه كه اس پر نظر كرنا ضروری ہو۔

۳۱۴

حوالہ جات:

۱ ۔بهجت،احكام، استفتاءات،پزشكی،ص،۳۱،سوال۹،امام،فاضل،مكارم اور نوری تعلیقات علی العروه،النكاح ،مسئله۴۷،صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح ، مسئله ۲۰، سیستانی،منهاج الصالحین، ج۳،النكاح،مسئله۱۶،وحید اور تبریزی،كے دفاتر۔

۲ ۔آیت الله مكارم،نوری،فاضل اور امام،تعلیقات علی العروه،النكاح،ج۳۵،اور ۴۸، صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح،مسئله۲۲،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۴۱،وحید ،توضیح المسائل، مسئله۲۴۵۰۔

۳ ۔آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۳،النكاح،مسئله۲۰ اور۲۱،تبریزی،صراط النجاة ج۵،سوال۱۰۳۹، ۱۰۲۴۔

۳۱۵

طبی تعلیم حاصل كرنا:

سوال نمبر۴۵۵: طبی تعلیم حاصل كرنے كی غرض سے نامحرم كو چھونے كا كیاحكم ہے؟

تبریزی كے علاوه تمام مراجع:

اگر طبی تعلیم حاصل كرنا اس حدتك ضروری ہو كه بیماروں كی جان او رصحت كی حفاظت اگرچه مستقبل میں اس پر موقوف ہو توضرورت كی مقدار بھر چھونے میں كوئی حرج نہیں ۔(۱)

تبریزی:اگر طبی تعلیم كا حاصل كرنا اس حدتك ضروری ہو كه بیمار كی جان اور صحت كی حفاظت( اگرچه مستقبل میں)یا مسلمانوں كی طبابت كی ثقافت كی حفاظت اور ترقی اس پرموقوف ہو تو ضرورت مقدار بھر چھونے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۲)

نامحرم نرس:

سوال نمبر۴۵۶: كیا نرس نامحرم مریض كی نبض دیكھنے اور بلڈپشرچیك كرنےكے لئے اس كے بدن پر نظر كرسكتی ہے؟

اس طرح كیا نرس كے فرائض انجام دینے والا مرد نامحرم مریض خاتون كی نبض دیكھنے او ربلڈپشر چیك كرنے كے لئے اس كے بدن پر نظر كرسكتاہے؟

آیت الله تبریزی اور سیستانی كے سوا تمام مراجع:

ہم صنف نرس كے ہوتے ہوئے یه كام غیر ہم صنف كے لئے جائز نہیں ہے لیكن اگرضرورت ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۳)

آیت الله تبریزی اور سیستانی:اگر ان كاموں كو انجام دنے كےلئے ہم صنف نرس موجود نه ہوں یا غیر ہم صنف كی مهارت زیاده ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۴)

نوٹ(۱):

نرس كا فقط بدن كے ان ہی حصوں كو دیكھنا اور چھونا صحیح ہے كه جس كا تعلق معاینه سے ہے۔

نوٹ(۲):

چنانچه اگر معاینه كے لئے بیمار كے بدن كو دیكھنا یا چھونا پڑجائے تو كوئی حرج نہیں لیكن اس كے علاوه ان دونوں میں سے كسی ایك ہی راستے كو اپنانا ہوگا۔

نوٹ(۳):

اگر معاینه لباس كے اوپرسے ممكن ہوتو پھر بدن كو چھونا جائز نہیں ہے۔

۳۱۶

حوالہ جات:

[۱] ۔ فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۲۰۸۲اور۲۰۹۰، مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال ۱۵۵۱،۱۵۷۳،صافی،هدایة العباد،ِج۲،النكاح۲۲اورجامع الاحكام،ج۲،سوال۱۷۰۶ ، نوری استفتاءات،ج۱، سوال۹۵۷،بهجت،احكام اور استفتاءات، پزشكی،ص۳۳، سوال۲۰ ، امام،استفتاءات،ج۳،(نظر)سوال۴۹۴۷،اور۵۰،دفتر سییتانی،وحید ۔

۲ ۔ آیت الله تبریزی،صراط النجاة ج۱،سوال۹۷۸۔

۳۔آیت الله بهجت، احكام اور استفتاءات،ص۲۹،سوال ۳ اور۴،مكارم،نوری،فاضل،اور امام تعلیقات علی العروه،النكاح،مسئله۳۵،صافی هدایة العباد،ج۲،النكاح،مسئله۲۲، وحید،توضیح المسائل، مسئله۲۴۵۰،توضیح المسائل مراجع ،مسئله۲۴۴۱۔

۴۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة ج۵،سوال۱۰۲۳، ۱۰۲۴،استفتاءات،سوال ۱۵۴۵،سیستانی، org ۔ sistani ،( طبی) سوال۱، او رمنهاج الصالحین،ج۲،النكاح،مسئله۲۰ اور۲۱۔

۳۱۷

طبی(میڈیكل) تعلیم كا حاصل كرنا

سوال نمبر۴۵۷: هاسپٹل اور طبی تعلیم كے مراكز میں اكثر طلباءكو بیمار عورت كے بدن كے مختلف حصوں (پیٹ،سینه،شرمكاه)وغیره كا معاینه كرنا پڑتاہے اس بات كے پیش نظر كه یه ایك تعلیمی موضوع ہے جواطباء كی تعلیم كا ایك حصه ہے اس كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع(تبریزی كے سوا):اگرطبی تعلیم كاحاصل كرنا اس حدتك ضروری ہو كه بیمار كی جان اورصحت كی حفاظت(اگرچه مستقبل میں)اس پر موقوف ہو تو ضرورت بھر مقدار میں جائز ہے (۱)

تبریزی:اگر طبی مسائل كا سیكھنا اس حدتك ضروری ہو كه بیمار كی جان اور صحت كی حفاظت (گرچه مستقبل میں)یامسلمانوں كی طبابت كی ثقافت او ر ترقی اس پر موقوف ہو تو كوئی حرج نہیں (۲)

سوال نمبر۴۵۸:ایسے عریاں اور برہنه ؤں كےیكھنے كا، جوطبی كی كتابوں میں موجود ہیں اور ان كی تعلیم حاصل كرناطلباءكے لئے ضروری ہے۔كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر لذت كی قصد سے نه ہو اور حرام میں پڑنے كا خطره نه ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۳)

نامحرم سے انجكشن لگوانا

سوال نمبر۴۵۹: نامحرم سے انجكشن لگوانے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع (آیت الله تبریزی اور سیستانی كے علاوه ): اگر(ہم صنف)میں سے كوئی موجود نه ہو اورضرورت كا تقاضا ہو توكوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

تبریزی اور سیستانی،اگر ہم صنف موجود نه ہو یا انجكشن لگانے والے غیر ہم صنف كی مهارت انجكشن لگانے میں زیاده ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۵)

نامحرم ڈاكٹر

سوال نمبر۴۶۰: ایسی صورت میں جبكه ہم صنف ڈاكٹر موجود ہو اور علاج كے لئے چھونا اور دیكھنا بھی ضروری ہے،لیكن احتمال پایاجائے كه غیر ہم صنف ماہر ڈاكٹر بیماری كو بهتر طریقه سے تشخیص دے سكتا ہے ایسے ڈاكٹر كو دكھانے كاكیا حكم ہے؟

تمام مراجع:تبریزی اور سیستانی كے علاوه:زیاده ماہر ہو نا اس بات كی دلیل نہیں ہے كه عورت مرد ڈاكٹر سے علاج كروائے مگر یه كه ضرورت ہو اور خطرے كا احتمال پایاجاتاہو۔(۶)

تبریزی اور سیستانی:اگر مرد ڈاكٹر كی مهارت اس بیماری میں زیاده ہو تو اسے دكھانے میں كوئی حرح نہیں۔(۷)

۳۱۸

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۰۸۲ اور۲۰۹۰،مكارم، استفتاءات،ج۱، سوال۱۵۵۱ اور ۱۵۷۳،صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح مسئله۲۲اور جامع الاحكام،ج۲، سوال۱۷۰۶، نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۵۷،بهجت،احكام استفتاءات، پزشكی، ص۳۳،سوال۲۰،امام،استفتاءات،ج۳،(نظر)سوال۴۷، ۴۹ اور۵۰،دفاتر سیستانی، وحید۔

۲ ۔ آیت الله تبریزی،صراط النجاة ج۱،سوال۹۷۸۔

۳ ۔آیت الله خامنه ای،استفتاءات ،سوال۱۳۱۳،مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۶۸۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱، سوال۲۰۹۳،نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۳۱،صافی،جامع الاحكام ،ج۲، سوال۱۷۰۷، بهجت،احكام اور استفتاءات،پزشكی،ص۳۱،سوال۱۲،امام،استفتاءات،ج۳،نظر سوال۴۰،اور۵۰،تبریزی،صراط النجاة،ج۵،سوال۱۰۲۲،دفاتر سیستانی،وحید۔

۴ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۳۰۳،مكارم، استفتاءات،ج۱، سوال۸۰۳ اور ۱۵۶۷،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۰۹۱ ،۲۰۸۷،بهجت،احكام اور استفتاءات ،پزشكی،ص۳۰، سوال۴و۸،امام،استفتاءات،ج۳،(نظر)سوال ۴۹۰،نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۳۳،اور۹۶۶،صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح ،مسئله ۲۲ اوردفتر وحید۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،ج۵،سوال۱۰۲۳،اور ۱۰۲۴،اور استفتاءات ، سوال۱۵۴۵، سیستانی،منهاج الصالحین،ج،۳ النكاح ،مسئله۲۱،

اور org ۔ Sistani ،سوال۱، اور۵۔

۶ ۔آیت الله صافی،هدایة العباد،ج۲،النكاح،مسئله۲۲،نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۳۳،امام،(نظر)استفتاءات،ج۳،سوال۴۲،۴۳اور۸۴بهجت،احكام اوراستفتاءات، پزشكی ،ص ۳۰،سوال۵ اور۶، فاضل، جامع المسائل ج۱،سوال۲۰۸۹،خامنه ای اجوبة الاستفتاءات، سوال۱۳۰۳، مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۵۷۲،دفتر،وحید۔

۷ ۔آیت الله سیستانی،منهاج الصالحین،ج۲، النكاح ،مسئله۲۱،اور org ۔ sistani ، سوال۱،تبریزی،استفتاءات،سوال۱۵۴۵ اور صراط النجاة ،ج۵،سوال۱۰۲۴، اور۱۰۲۳۔

۳۱۹

بچه كاساقط كرنا

سوال نمبر۴۶۱: كیاحمل كے پهلے مہینه میں بچه كا ساقط كرنا اشكال شرعی ركھتاہے؟

تمام مراجع:

جی ہاں،انعقاد نطفه كے بعد كسی بھی مہینه میں بچه كا ساقط كرنا جائز نہیں ہے۔(۱)

بچه كو ساقط كرنے كی دیت

سوال نمبر۴۶۲: بچه كو ساقط كرنے كی كتنی دیت ہے؟

تمام مراجع:

نطفه كے لئے دیت شرعی ۲۰ مثقال سونے كاسكه،علقه(جمے ہوئے خون)كے لئے ۴۰مثقال اور مضغه(گوشت كےلوتھڑے)كے لئے ۶۰مثقال سونے كا سكه ہےاگر هڈی ہو گوشت نه ہو تو۸۰مثقال ہے۔

اور اگر گوشت چڑھ گیاہو اور بچه كا مل ہوگیاہے تو۱۰۰مثقال ہے اگر اس میں روح پڑگئی ہو تو اگر لڑكا ہے تو۱۰۰۰ مثقال

اور اگر لڑكی ہے تو۵۰۰مثقال سونے كا سكه دیت كی صورت میں دینا ہوگا

یا د رہے كه تقریباً چار مہینے میں جنین میں روح پڑجاتی ہے۔(۲)

سوال نمبر۴۶۳: اس بچه كی دیت كس كے ذمه ہو گی كه جیسے كسی ڈاكٹرنے گرایا ہے ؟

ان ماں باپ كا شرعی وظیفه كیاہے جنہوں نے ایسا كام كیا ہے؟

تمام مراجع حضرات:

ساقط ہوئے بچه كی دیت اس پر ہوگی جو اس كے قتل كابراه راست ذمه دار ہے چونكه یه كام ڈاكٹركے ذریعه انجام پایا ہے لهذا ماں باپ پر كوئی شرعی ذمه داری نہیں ہے بلكه وہی ڈاكٹر ضامن ہے اور یه دیت بچه كے والدین كودی جائے گی۔

البته ان كو اختیار ہے كه اپنا حق معاف كركے اس سے كچھ نه لیں۔

بہركیف انہیں اپنے اس كام سے توبه واستغفار كرنا چاہیئے۔(۳)

ناجائز بچه

سوال نمبر۴۶۴: ناجائز بچه كو ساقط كرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:جائز نہیں ہے۔(۴)

۳۲۰