گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6680
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6680 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله بهجت،استفتاءات،پزشكی،سقط جنین،ص۴۳،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات، سوال۱۲۶۳،مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۹۸،فاضل،جامع المسائل، ج۱،سوال ۱۷۵۲ ،صافی،جامع الاحكام،ج۱، سوال۱۴۰۸،نوری، استفتاءات، ج۲،سوال ۸۷۶، تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۹۹،امام،استفتاءات،ج۳،سقط جنین،سوال۱۲،دفتر وحید ۔

۲ ۔ وحید،منهاج الصالحین،ج۳،مسئله۳۷۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱، سوال۱۹۴۶، امام،تحریرالوسیله،ج۲،دیه جنین،دفتر مراجع۔

۳۔تمام مراجع، كرام كے دفاتر۔

۴۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۲۶۶،بهجت،استفتاءات طبابت،سقط جنین،ص۴۲،مكارم استفتاءات،ج۱،سوال ۱۴۹۸،سیستانی، org ۔ sistani ،سقط اور تمام مراجع كرام كے دفاتر۔

۳۲۱

برین ہیمبرج Brain hembredgdl :

سوال نمبر۴۶۵: ایسا شخص جسے Brain hembredgdl ،ہوكیااسكے بدن كے اعضاء (جیسے دل او ر گرده)كو كسی دوسرے بیمار كی جان بچانے كے لئےاستعمال كرنا جائز ہے؟

امام،آیت الله بهجت،تبریزی،سیستانی،صافی،فاضل،وحید:اگر انسان ابھی نہیں مراہو تو ایسی صورت میں ا سكے بدن كے اعضاء كا استعمال كرنا قتل نفس میں شمار ہوگا اور جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله خامنه ای،اگر ایسے شخص كے بدن كے اعضا كو استعمال كرنے سے اس كی موت جلدی واقع ہو جاتی ہے تو جائز نہیں ہے۔ اس كے علاوه اگر یه كام خود اس كی پیشگی اجازت سے انجام دیاگیاہو یا كسی محترم شخص كی جان كی نجات اس عضو پر موقوف ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۲)

آیت الله نوری:جی ہاں،جائز ہے،لیكن اگر میت نے اس بارمیں وصیت نه كی ہو تو اس كام كے لئے جامع شرایط مجتهد سے اجازت لینی ضروری ہے۔(۳)

آیت الله مكارم:اگر Brain hembredge كامل اورپوری طرح سے ہو اور كسی بھی طرح عام زندگی كی طرف پلٹنے كا احتمال نه ہو اور كسی مسلمان كی جان كی نجات اس پر موقوف ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۴)

غیر مسلمان كے اعضاء

سوال نمبر۴۶۶: كیاغیر مسلمان(غیر ذمی)كے بدن كے اعضاء كو مسلمان بیمار كے بدن میں جوڑناجائز ہے؟

تمام مراجع:تبریزی اور نوری كے علاوه :كوئی حرج نہیں۔(۵)

آیت الله تبریزی:اگر مسلمان كے بدن كا اندونی جزء ہو(جیسےگرده)توكوئی حرج نہیں۔(۶)

آیت الله نوری:كوئی حرج نہیں لیكن اس كام كے لئے مجتهد جامع شرایط كی اجازت لینا ضروری ہے۔(۷)

گردے كی خرید وفروخت

سوال نمبر۴۶۷: ایسے مواقع پر جہاں بدن كے اعضاء كاپیوند دینا جائز ہے تو كیا بدن كے اعضاء اور گردوں وغیره كی خرید وفروخت بھی جائز ہے؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،نوری،مذكوره بالا مسئله میں خرید وفروخت جائز ہے نیز پیسه عضو كوجداكرنے كی اجازت كے بدلے لے سكتاہے۔(۸)

آیت الله فاضل اور مكارم:مذكوره بالا مسئله میں خرید وفروخت جائز ہے لیكن بهترہےكه پیسه عضو كو جدا كرنے كی اجازت كے بدلے میں لے۔(۹)

آیت الله تبریزی:انسان كے بدن كے اعضاء قابل خرید وفروخت نہیں ہیں۔(۱۰)

آیت الله بهجت،سیستانی،صافی،وحید:مذكوره بالا مسئله میں پیسه عضو كو جدا كی اجازت كے بدلے میں لے سكتاہے۔(۱۱)

۳۲۲

حوالہ جات:

۱۔ صافی،استفتاءات،پزشكی،سوال۵۹،فاضل،جامع المسائل،ج۱،

سوال۲۱۴۲، بهجت،توضیح ،متفرقه ،مسئله۲۴،تبریزی،استفتاءات ،سوال۲۰۷۱ اور ۲۰۵۸،اور دفتر خمینی

۲۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،سوال ۱۲۹۱۔

۳ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۹۵۔

۴ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۵۶۔

۵ ۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،التشریح،مسئله۶، صافی استفتاءات، پزشكی،سوال۴۹، سیستانی،توضیح المسائل،احكام پیوند،مسئله۶۴،وحید،توضیح،۲۸۹،مكارم، استفتاءات ج۱، سوال۱۴۶۱، بهجت،توضیح ،مسئله۲۴،فاضل ،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۱۲۷

۶ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۶۴۔

۷ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۹۹۶۔

۸ ۔امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،التشریح،مسئله۷، نوری،استفتاءات،ج۱، سوال۱۰۰۴، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۹۰۔

۹ ۔فاضل،جامع المسائل، ج۱، س۲۱۲۲، مكارم، استفتاءات،ج۱، س۱۴۴۸،اور۱۴۶۰

۱۰ ۔ تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰ی۷۸۔

۱۱ ۔ بهجت،توضیح المسائل، متفرقه، مسئله۲۴، صافی، استفتاءات، پزشكی، سوال۵۶، اور۵۰،سیستانی،توضیح المسائل،احكام پیوند مسئله۶۲،وحید،توضیح المسائل، مسئله ۲۸۹۲

۳۲۳

بدن كے كسی حصه كو كاٹنے كی دیت

سوال نمبر۴۶۸: كیا مسلمان كی میت كے اعضاء كو پیوند كے لئے كاٹنے پردیت ہےاگر ہوگی تو یه "دیت" كسے ملے گی؟

امام خمینی ،آیت الله خامنه ای،سیستانی،نوری:اگر میت نے اپنی زندگی میں وصیت نه كی ہو تو كاٹنے والے كو دیت دینی ہوگی اور یه دیت وارثوں كے بیچ تقسیم نہیں ہوگی بلكه میت كی طرف سے خیرات كردی جائیگی۔(۱)

آیت الله مكارم:اگر میت نے اپنی زندگی میں وصیت نه كی ہو كاٹنے والے كودیت دینی ہوگی اور یه دیت وارثوں كے بیچ تقسیم نہیں ہوگی بلكه احتیاط واجب كی بناء پر میت كی طرف سے خیرات كردی جائے گی۔(۲)

آیت الله فاضل:كاٹنے والے كو دیت دینا ہوگا اور یه دیت وارثوں كے درمیان تقسیم نہیں ہوگی بلكه احتیاط واجب كی بناء پر میت كی طرف سے خیرات كردی جائے(اگرچه میت نے اپنی زندگی میں وصیت ہی كیوں نه كی ہو)۔(۳)

آیت الله بهجت،تبریزی اور وحید:كاٹنے والے كودیت دینی ہوگی اور یه دیت وارثوں كے درمیان تقسیم نہیں ہوگی بلكه میت كی طرف سے خیرات كی جائیگی۔(۴)

پیوند لگے عضو كی طهارت

سوال نمبر۴۶۹: میت كے بدن كے كسی حصه كو زنده انسان كے بدن سے جوڑنا،طهارت اور نجاست كے لحاظ سے كیاحكم ركھتاہے؟

تمام مراجع:اگر زنده انسان كے بدن كا جزء ہوجائے تو پاك ہے۔(۵)

۳۲۴

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،التشریح،مسئله۵ اور ۷،آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۸۸،نوری،استفتاءات،ج۱،سوال۱۹۹۲،اور۹۹۵،سیستانی،توضیح المسائل الاحكام پیوند، مسئله۵۸ اور۶۱۔

۲ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۴۳،دفتر مكارم۔

۳ ۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۱۳۵۔

۴ ۔ تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۷۵،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۸۹۴،اور دفتربهجت۔

۵ ۔امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،التشریح،مسئله۶،آیت الله سیستانی،توضیح المسائل،احكام پیویند،مسئله۵۹،وحید ،توضیح المسائل،مسئله۲۸۹۴، نوری،استفتاءات، ج۲، سوال۹۰۲، دفتر،بهجت،فاضل مكارم، خامنه ای اور تبریزی۔

۳۲۵

مسلمان كی میت كا پوسٹ مارٹم

سوال نمبر۴۷۰: كیاطلباء كو تعلیم دینےیا علم طبابت كے نئے مطالب كا پته لگانے كے لئے مسلمان كی میت كا پوسٹ مارٹم كرنا جائز ہے؟

تمام مراجع (آیت الله تبریزی كے علاوه):اگر غیرمسلمان كی میت كے حاصل ہونے كا امكان نه ہو اور نئے طبی مسائل اور مطالب كاحاصل كرنا اس حدتك ضروری ہو كه مسلمان كی جان كی نجات(اگرچه مستقبل میں)اس كا م پر موقوف ہو تو مسلمان كی میت كا پوسٹ مارٹم (به حد ضرورت)كرنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۱)

آیت الله تبریزی:اگر پوسٹ مارٹم كی ضرورت ہے تو كسی غیر مسلمان كے جنازے كاانتظام كیاجائے اور مسلمان كے جنازے كا پوسٹ مارٹم جائز نہیں ہے۔(۲)

غیر مسلمان كا پوسٹ مارٹم

سوال نمبر۴۷۱: غیر مسلمان كے جنازے كو پوسٹ مارٹم كرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:غیر مسلمان كے جنازے كے پوسٹ مارٹم میں كوئی حرج نہیں۔(۳)

سوال نمبر۴۷۲: كیا كافرذمی كے جنازے كا پوسٹ مارٹم كرنا جائز ہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،تبریزی،فاضل اور مكارم:كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

آیت الله نوری:جائز نہیں ہے۔(۵)

آیت الله سیستانی اور وحید:احتیاط واجب كی بناءپر جائز نہیں ہے مگر یه كه ان كے مذهب میں پوسٹ مارٹم كی حلیت میں كوئی اشكال نه ہو۔(۶)

۳۲۶

حوالہ جات:

۱۔امام خمینی،تحریر الوسیله،ج۲،الشریح،مسئله۳،آیت الله بهجت،احكام پزشكی، ص۴۶، فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۱۴۲،خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۲۸، مكارم، استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۱۷ ،نوری،استفتاءات ج۲،سوال۹۹۳،سیستانی،توضیح المسائل،احكام تشریح ،مسئله۵۷،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۸۹۳۔

۲ ۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۶۲ اور۲۰۶۸۔

۳ ۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال ۲۱۴۲،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۸۹۲،مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۷،امام،تحریرالوسیله،ج۲،التشریح،مسئله۱،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ءات سوال ۱۲۸۰،تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۶،سیستانی،توضیح المسائل،احكام تشریح،مسئله۵۶،نوری،استفتاءات،ج۱فسوال۸۹۳،بهجت،احكام پزشكی ، س۹۔

۴ ۔امام خمینی،تحریرالوسیله، ج۲،مسئله۱،آیت الله بهجت،احكام پزشكی،ص۴۵،تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۸۱،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۸۹۴،مكارم،استفتاءات ج۱،سوال ۱۴۷۷۔

۵ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،سوال۸۹ اور ج۱،سوال۹۷۴۔

۶ ۔وحیدخراسانی،توضیح،مسئله۲۸۹۲،سیستانی،توضیح المسائل،احكام تشریح مسئله۵۹۔

۳۲۷

بدن كا چیر نا اورپھاڑنا

سو ال نمبر۴۷۳: قاتل كی پهچان اور جرم كا پته لگانے كے لئے میت كے بدن كو چیرنے یا پھاڑنے كا كیا حكم ہے؟

آیت الله بهجت اور مكارم: اگر یه كام بهت ضروری ہو جیسے كسی بے گناه كی جان بچانی ہو یا قاتل كا پته لگانا ہو تو كوئی اشكال نہیں۔(۱)

آیت الله خامنه ای،فاضل اور نوری:اگر حقیقت كا پته لگانا اس كام پر موقوف ہو تو كوئی اشكال نہیں۔(۲)

آیت الله تبریزی:نہیں،جائز نہیں ہے۔(۳)

غیر مسلم كی لاش كا طبی معائنه

سوال نمبر۴۷۱: غیر مسلم (غیرذمی)كی لاش كاطبی معائنه كرنا كیساہے؟

تمام مراجع:غیر مسلم كی لاش كا پوسٹ مارٹم اورطبی معائنه كرنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

سوال۴۷۲ : كیاكافر ذمی كی لاش كا طبی معائنه كرنا جائز ہے؟

امام خمینی ،آیت الله بهجت،تبریزی،فاضل،مكارم:اس میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۵)

آیت الله نوری:جائز نہیں ہے۔(۶)

آیت الله سیستانی اور وحید :احتیاط واجب كی بناء پر جائز نہیں ہے مگر یه كه ان كے دین میں لاش كا پوسٹ مارٹم اور طبی معائنه كرنے میں كوئی حرج نه ہو۔(۷)

لاش كا پوسٹ مارٹم

سوال نمبر۴۷۳: قاتل كی شناخت اورجرائم كو سمجھنے كے لئے پوسٹ مارٹم كرنا كیسا ہے؟

آیت الله بهجت ، آیت الله مكارم:

اگر اس كی ضرورت ہے تو كوئی حرج نہیں ہے جیسے بے گناه كو نجات دینا اور قاتل كی شناخت كرنا۔(۸)

آیت الله خامنه ای،فاضل ،نوری:اگر حقیقت كا انكشاف اسی عمل پرمنحصر ہے تو كوئی حرج نہیں۔(۹)

آیت الله تبریزی:نہیں،جائز نہیں‌ ہے۔(۱۰)

خون كا بیچنا

سوال نمبر۴۷۴: كیا ایك شخص ضرورت مند مریضوں كو خون دے كر پیسه لے سكتاہے؟

تمام مراجع: ہاں جائز ہے(اس شرط كے ساتھ كه اس كوكوئی بڑا نقصان نه ہو)(۱۱)

۳۲۸

حوالہ جات:

۱ ۔مكارم،استفتاءات،ج۱،سوال۱۴۷۸،بهجت،احكام پزشكی،ص۵۰۔

۲۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،۱۲۸۱ نوری، استفتاءات،ج۱، سوال۹۷۷اور ۹۸۲،فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۲۱۹۔

۳۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال۲۰۶۲۔

۴۔ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۴۲؛،وحید،توضیح المسائل، م۲۸۹۲؛ مكارم، استفتاءات،ج۱،س۱۴۷۷؛امام خمینی، تحریرالوسیله،ج۲، التشریع،م۱؛خامنه ای،اجوبة الا ستفتاء ات س۱۲۸۰؛ تبریزی،استفتاءات، س۲۰۶۰؛ سیستانی ،توضیح المسائل ،احكام تشریح،مسئله ۵۶،نوری،استفتاءات،ج۲،ص۸۹۳،بهجت احكام پزشكی۔

۵۔ خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،التشریح،م۱؛آیت الله بهجت،احكام پزشكی، ص۴۵؛ تبریزی، استفتاءات،س۲۰۸۱؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۴۵،مكارم،استفتاءات،ج۱، س ۱۴۷۷

۶۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،س۸۹۴و ج۱،س۹۷۴۔

۷۔ وحیدخراسانی،توضیح المسائل،م۲۸۹۲؛سیستانی،توضیح المسائل،احكام تشریح،م۵۶۔

۸۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۴۷۸؛بهجت ،احكام پزشكی ،ص۵۰۔

۹۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،۱۲۸۱؛ نوری،استفتاءات،ج۱،س۹۷۷و۹۸۲وفاضل،جامع المسائل ،ج۱،س۲۱۹۔

۱۰۔ آیت الله تبریزی،استفتاءات،س۲۰۶۲۔

۱۱ ۔ بهجت،توضیح المسائل،متفرقه،م ۱۵؛امام،تحریر الوسیله،ج۲،الشریح،مسئله ۷كےبعد؛نوری، استفتاءات،ج۱،س۱۰۰۵؛سیستانی،توضیح المسائل،احكام پیوند م۶۳؛وحید توضیح المسائل،م۲۸۹۶و دفتر:فاضل ،مكارم وخامنه ای۔

۳۲۹

مصنوعی تلقیح(غیر فطری طریقه سے نطفه كارحم میں منتقل كرنا)

سوال نمبر۴۷۵: كیا غیرفطری طریقه سے عورت كے رحم میں اسی كے شوہر كانطفه ڈال كر حمل ٹہرایا جا سكتا ہے؟اور اس نطفه سے پیدا ہونے والا بچه،كیااس كا حقیقی بچه شمار ہوگا؟

تمام مراجع:خود اس كام میں كوئی حرج نہیں ہے بشرطیكه حرام كے مقدمات (جیسے نامحرم كے دیكھنے اور چھونے )سے پرہیز كیاجائے اور اس نطفه سے بچه پیداہونے والا اسی مرد و عورت كامانا جائےگا(۱)

اسپرم كی تلقیح(مرد كے نطفه كے انڈوں كا عورت كےرحم میں ڈالنا)

سوال نمبر۴۷۶: شوہر كے نطفه كے انڈوں كوكسی دوسرے مرد كے نطفه كے ساتھ ملاجلا كر اسے بیوی كے رحم میں ڈالناكیساہے؟

تمام مرجع : (خامنه ای كے علاوه)یه عمل جائز نہیں ہے۔(۲)

آیت الله خامنه ای:اصل عمل میں كوئی حرج نہیں ہے بشرطیكه نامحرم كی نگاه پڑنے یا نامحرم كے چھونے جیسے مقدمات سے پرہیز كیا جائے۔(۳)

اجنبی مردكا بذره(نطفه)

سوال نمبر۴۷۷:ایك اجنبی مرد كا بذره (نطفه)عورت كے رحم میں داخل كرنا(جبكه اس عورت كا شوہر نامرد ہو كیسا ہے؟ایسے میں جوبچه پیدا ہوگا و ه كس كا ہوگا؟

تمام مراجع:(سوائے خامنه ای):یه كام حرام ہے اوراس طرح پیدا ہونے والا بچه صاحب نطفه اور صاحب رحم كا ہوگا۔(۴)

آیت الله خامنه ای:اصل عمل میں كوئی حرج نہیں ہے بشرطیكه حرام مقدمات (جیسے نامحرم كی نظر كا پڑنا چھونا )سےپرہیز كیا جائے اور بچه صاحب نطفه مرداور صاحب رحم عورت كا ہوگا۔(۵)

۳۳۰

حوالہ جات:

۱ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۲۷۱و۱۲۷۷؛امام،تحریر الوسیله،ج۲،التلقیح،م۱؛تبریزی،صراط النجاة،ج۵،س۱۰۱۳؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۰۳و۲۱۰۴؛ وحید،توضیح المسائل،م۲۹۰۰؛سیستانی،توضیح المسائل،تلقیح مصنوعی ،م۶۹؛صافی،جامع الاحكام ،ج۲،س۱۳۹۲؛نوری، استفتاءات،ج۲، س۹۰۳وج۱ ،۹۸۵؛مكارم، استفتاءات،ج۲، س۱۷۵۷و دفتر:تبریزی ۔

۲ آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۱۳؛نوری، استفتاءات،ج۱،س۱،۹۸۴؛مكارم، استفتاءات،ج۱،س۱۵۳۳؛امام،تحریرالوسیله،ج۲،التلقیح،م۱؛وحید،توضیح المسائل ، م۲۸۹۸ ؛ سیستانی،توضیح امسائل،تلقیح مصنوعی،م۶۵؛بهجت،استفتاءات پزشكی،ص۴۱؛صافی،جامع الاحكام ،ج۲،س۱۳۹۳و۱۳۹۷و دفتر تبریزی۔

۳ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۲۷۷، ۱۲۷۱۔

۴ ۔ امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،التلقیح،م۲و۳؛آیت الله تبریزی،استفتاءات،س۲۰۹۴؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۰۵و وحید،توضیح المسائل،م۲۸۹۸؛سیستانی،توضیح المسائل،تلقیح مصنوعی ،م۶۵؛صافی، جامع الاحكام،ج۲،س۱۳۹۱؛نوری، استفتاءات،ج۲،س۹۰۸؛ مكارم،استفتاءات،ج۱، س۱۵۰۵وبهجت، استفتاءات،پزشكی، ص۳۵۔

۵۔ آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۲۷۷، ۱۲۷۱۔

۳۳۱

منشیات كا استعمال

سوال نمبر۴۷۸: منشیات (جیسے ہیروئن ،تریاك ،حشیش وغیره)كا استعمال كرنا كیساہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت ،تبریزی،وحید: منشیات كا عادی ہونا جائز نہیں ہے۔(۱)

آیت الله خامنه ای،صافی،فاضل ،مكارم نوری: منشیات كا استعمال كرنا جائز نہیں ہے۔(۲)

آیت الله سیستانی:احتیاط واجب كی بناءپر منشیات كے استعمال سے پرہیز كرنا چاهئے۔(۳)

منشیات كے ذریعه علاج

سوال نمبر۴۷۹: دوا كے طور پر منشیات كے استعمال كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر ماہر اور قابل اطمینان ڈاكٹر كی تشخیص كی بنا پرمنشیات كا استعمال منحصر علاج كے طور پر ہو تو(بقدر ضرورت)استعمال كرنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

نوٹ: جوچیز اسلام میں حرام ہیں ان كا استعمال دوا اور علاج كے طور پر مذكوره شرطوں كے ساتھ جائز ہے اور منشیات بھی انہیں میں سے ایك ہے۔

سگریٹ كا حكم

سوال نمبر۴۸۰: سكریٹ پینا كیسا ہے؟

تمام مراجع(سوائے آیت الله مكارم):اگر شدید نقصان كاباعث ہو تو جائز نہیں ہے۔(۵)

آیت الله مكارم: كافی ڈاكٹروں كی تحقیق اور سكریٹ پینے كے خطرناك اثرات اور اس كے ذریعه ہونے والی اموات اور بیماری سے یه پته چلتاہے كه سكریٹ كا دھواں ایك مهلك حقیقت ہے لهذا اس كا پینا حرام ہے۔(۶)

الكحل كا حكم

سوال نمبر۴۸۱: كیالیبرٹریزیا جانچ خانوں‌میں استعمال ہونے والی دوا اورانجكشن میں استعمال ہونے والے الكحل نجس ہیں؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،صافی،نوری: اگر اس كا یقین نه ہو كه سیال(بهنے والے)نشه دار الكحل سے بنا ہے تو پاك ہے۔(۷)

آیت الله تبریزی،سیستانی ،فاضل،مكارم،وحید:نہیں وه پاك ہے۔(۸)

آیت الله بهجت: طبی اور صنعتی الكحل احتیاط كی بناءپر نجس ہے۔(۹)

۳۳۲

حوالہ جات:

۱- امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه،س۱۰۳وآیت الله تبریزی، استفتاءات، س۲۱۸۴و دفتر وحید،بهجت۔

۲ ۔آیت الله نوری،استفتاءات،ج۲،س۵۶۱؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۴۰۳؛ مكارم استفتاءات ،ج۲،س۷۴۹؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۹۶۴؛دفتر: صافی۔

۳ ۔آیت الله سیستانی، org ۔ sistani ،منشیات ۔

۴ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۲،س۷۴۹؛صافی،جامع الاحكام،ج۱، س۱۰۰۴؛ سیستانی، org ۔ sistani ،استمناء ش۱؛فاضل،جامع المسائل،ج۱، س۹۸۵؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۴۰۴؛دفتر :امام؛بهجت ،وحید ،تبریزی ،نوری۔

۵ ۔ نوری،استفتاءات،ج۲،س۵۶۲؛فاضل،جامع المسائل ،ج۲،س۹۴۴؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۴۰۴؛دفتر:خمینی،بهجت،وحید،تبریزی،صافی ، سیستانی، org ۔ sistani ۔

۶ ۔دفتر:مكارم۔

۷ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۱،نجاسات ،س۲۶۰؛آیت الله خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،س۳۰۷، ۳۰۴؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،س۱۵۰و۱۵۲۔

۸۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۷۳وج۲،س۹۹؛مكارم، استفتاءات،ج۱، س۴۸،۴۹وج۲،س۴۰،۴۲؛تبریزی،استفتاءات،س۹۰و۹۴؛سیستانی، org

۔ sistani ، الكحل و دفتر:وحید۔

۹۔دفترآیت الله بهجت۔

۳۳۳

مسوڑھوں كا خون

سوال نمبر۴۸۲: اگر مسوڑے یا دانت سے خون نكل كر تھوك میں مل جائے تو اس كوحلق كے اندر نِگلنا كیسا ہے؟كیا كلی كرنا ضروری ہے؟

تمام مراجع : اگر خون اتنا كم ہو كه تھوك میں مل كر ختم ہوجائے تو پاك ہے اور اس كا نِگلنا جائز ہے۔(۱) البتہ آیت اللہ نوری:اگر اتنا ہو كه تھوك میں مل كرختم ہوجائے تو پاك ہے لیكن اس كا گھوٹنا صحیح نہیں ہے۔(۲)اور اسی طرح آیت اللہ مكارم:اگر تھوك میں مل كر ختم ہوجائے تو پاك ہے اور اس كانِگلنا جائز توہے لیكن جان بوجھ كر ایسا نه كرے۔(۳)

زخم كا خون

سوال نمبر۴۸۳: جو خون زخم پر سوكھ جاتاہے كیا وه نجس ہے؟

تمام مراجع:ہاں،وه خون نجس ہے ۔چاہے وه سوكھ ہی كیو ں نه جائے۔(۴)

انجكش كا خون

سوال نمبر۴۸۴:كبھی كبھی بیماركے بدن سے خون نكلتے وقت تھوڑا بهت خون بهه جاتاہے تو كیا الكحل میں ملی ہوئی روئی سے اس كو صاف كرسكتے ہیں؟

تمام مراجع:خون(چاہے جتنا كم ہو)نجس ہے،اس كو پانی سے دھونا ضروری ہے۔(۵)

ہونٹ كی كھال

سوال نمبر۴۸۵:ہونٹ اور بدن یا كسی دوسری جگه كی كھال كا نوچنا اور چبانا كیساہے؟

تمام مراجع:ہونٹ اور دیگر اجزائے بدن كی معمولی سی كھال اگر آسانی سے جدا ہو سكتی ہے اورخود سے گرنے كی حالت میں ہے تو پاك ہے۔(۶)

۳۳۴

حوالہ جات:

[۱] ۔توضیح المسائل مراجع،م۱۰۰؛آیت الله بهجت ،وسیلة النجاة،ج۱،م۵۲۷؛وحید،توضیح المسائل،م۱۰۱و فتر:خامنه ای۔

۲ ۔آیت الله نوری،توضیح المسائل،م۱۰۰۔

۳ ۔آیت الله مكارم،توضیح المسائل،م۱۰۶۔

۴ ۔تمام مراجع كے دفتر۔

۵ ۔العروة الوثقیٰ ج۱،فی النجاسات ،الخامس۔

۶ ۔توضیح المسائل مراجع،ج۱،م۹۱؛آیت الله نوری،توضیح المسائل ،م ۹۱؛وحید توضیح المسائل ،م۹۲و خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،س۲۷۲۔

۳۳۵

غسل مس میت

سوال نمبر۴۸۶: اگرلاش كے طبی معائنه كے وقت مرده كے بدن سے ہاتھ لگ جائے اور اس مردے كا مسلمان یا كافر ہو نا معلوم تو كیا غسل مس میت واجب ہے؟

تمام مراجع:

غسل مس میت واجب ہے چاہے میت كافر كی ہو یامسلم كی۔ مگر یه كه معلوم ہوجائے كه مسلمان كی ہے اور اسے غسل دیاجاچكا ہے۔(۱)

میت كی هڈی

سوال نمبر۴۸۷: میڈیكل اسٹوڈنٹ كا میت كی(بغیر گوشت)هڈی كو چھونا كیساہے؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،نوری: گوشت كو غسل نہیں دیا گیا ہےتو اس كی هڈی چھونے كی وجه سے غسل واجب ہے۔(۲)

آیت الله بهجت،صافی،فاضل:

اگر میت كوغسل نہیں دیا گیا ہے تو احتیاط واجب كی بناءپر غسل واجب ہے۔(۳)

آیت الله تبریزی،سیستانی،مكارم،وحید: اگر هڈی پر گوشت نہیں ہے تو غسل واجب نہیں ہوگا۔(۴)

مس میت

سوال نمبر۴۸۸: جوشخص كسی غسل نه دی گئی میت كو چھولے تو كیا اس كا جسم اور لباس نجس ہوجائیگا اور اس كو پاك كرنا ہوگا ،یا صرف غسل كافی ہے؟

تمام مراجع (سوائے آیت الله مكارم):اگر اس كا ہاتھ یالباس یا میت كابدن تر ہو تو نجس ہے اور اس كو پاك كرناہوگا اور اگر خشك ہو تو (احتیاط مستحب كی بناء پر) بهتر ہے اس كو دھولے۔(۵)

آیت الله مكارم:

اگر ہاتھ یا لباس میت كابدن تر ہو تو نجس ہے اور اس كو پاك كرنا ہوگا اور خشك ہو تو احتیاط واجب كی بناءپر اس كو دھولے۔(۶)

سوال نمبر۴۸۹: اگر اس كامیت كو دستانه پهن كر چھواجائے تو كیا پھربھی غسل مس میت واجب ہے؟

تمام مراجع:نہیں ،غسل واجب نہیں ہے۔(۷)

مصنوعی تنفس

سوال نمبر۴۹۰:جس شخص كے بار ےمیں معلوم نہیں كه وه زنده یا مرده اس كی سانس كو واپس لانے كے لئے كیا سینه كودبانے سے غسل مس میت واجب ہوجاتاہے؟

تمام مراجع:جب تك اس كے بدن سےروح نه نكلے یا ا س كا بدن گرم ہے تو اس كو چھونے سے‌غسل مس میت واجب نہیں ہے۔(۸)

سكته

سوال نمبر۴۹۱: كیا سكته سے‌دوچار ہونے والے انسان كو چھونے سے جوچند لمحه میں مرجائے گا غسل مس میت واجب ہے؟

تمام مراجع:جب تك بدن سے روح نه نكل جائے یا بدن گرم ہے اس كو چھونے سے غسل مس میت واجب نہیں ہوگا۔(۹)

۳۳۶

حوالہ جات:

[۱] ۔العروة الوثقیٰ،فصل فی غسل المیت وفصل فی تغسل المیت۔

۲- توضیح المسائل مراجع،مسئله ۵۲۹،آیت الله نوری،توضیح المسائل ،م۵۳۰،خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات ،س۲۲۹و ۲۵۲۔

۳ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۵۲۹۔

۴ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۵۲۹،آیت الله وحید توضیح المسائل ،مسئله۵۳۵۔

۵ ۔امام خمینی،فاضل،نوری،تعلیقات علی العروۀ،فی غسل المیت،مسئله۲۰،آیت الله بهجت ،وسیلة النجاة،ج۱،مسئله ۳۲۵،تبریزی،منهاج الصالحین،ج۱،م۳۲۳،وحید،منهاج الصالحین، ج۲،مسئله۳۳۲،دفتر خامنه ای۔

۶ ۔آیت الله مكارم،تعلیقات علی العروة ،فی غسل المیت،م۲۰۔

۷ ۔ العروة الوثقیٰ،فصل فی غسل المیت۔

۸- حواله سابق۔

۹- امام،العروة الوثقیٰ،ج۱فی لنجاسات الثامن و دفتر:بهجت۔

۳۳۷

غیر مسلم،ایران اورایران كے باہر كے احكام

اهل كتاب كی طهارت

سوال نمبر۴۹۲: اهل كتاب پاك ہیں یا نجس؟

امام خمینی،آیت الله بهجت:ہاں ،وه لوگ نجس ہیں۔

آیت الله تبریزی،خامنه ای،فاضل،سیستانی،نوری،وحید:نہیں اهل كتاب پاك ہیں لیكن بهتر (احتیاط مستحب )ہے كه ان سے پرہیز كیاجائے۔(۱)

آیت الله صافی،مكارم:نہیں احتیاط واجب كی بنا ءپر نجس ہیں۔(۲)

نوٹ:

چونكه امام خمینی اور آیة الله بهجت مساوی اور ہم سان مرجع كی طرف رجوع كرنے كو جائز جانتے ہیں اور آقائے مكارم وآقائے صافی احتیاط واجب كهتے ہیں لهذا ان كے‌مقلدین دوسرے مرجع كی طرف رجوع كرسكتے ہیں۔

سوال نمبر۴۹۳: اگر قبله كو میعن كرنے كا كوئی معتبر اور مطمئن راسته نه ہو (جیسے اسٹوڈنیس جو ایران سے باہر رہے ہیں)تو ان كی شرعی ذمه داری كیا ہے؟

تمام مراجع(سوائے آقائے بهجت):اگر مطمئن اور معبتر راسته نه مل سكے تو جس طرح بھی اس كو قبله كا گمان ہوجائے اسی طرح رخ كركے نماز پڑھنا كافی ہے۔

آیت الله بهجت:نمازی كے لئےقبله معین كرنے كے لئے یقین آور راہوں كی تلاش كرنے كی ضرورت نہیں‌ہے بلكه جس طریقےسے بھی اسے قبله كا عقلانی گمان ہوجائے كافی ہے البته مطمئن راه حاصل كرنا بهتر اور احتیاط كے موافق ہے۔(۳)

نوٹ: مراجع تقلید نے جن گمان آور راہوں كو بتایا ہے وه حسب ذیل ہیں۔

۱- مساجد كے محراب كاقبله اور مسلمانوں كی قبریں۔

۲- قبله شناس كی نشاندہی چاہے وه قبله شناس مسلمان نه ہو۔

۳- رائج قبله نما۔(۴)

نوٹ: آیت الله وحید قبلۀ شہر اور مسلمانوں كی قبروں كو معتبر اور مطمئن راه جانتے ہیں۔

سوال نمبر۴۹۴: میں ایك ایسی جگه پر ہوں جہاں قبله كو معین كرنےكی كوئی صورت نہیں ہے اور كسی طرف كا گمان بھی نہیں ہوپارہاہے ایسی جگه پر ہم اری ذمه داری كیا ہے؟

امام خمینی،آیت الله صافی،فاضل،نوری:

اگر نماز كا وقت تنگ نہیں ہے تو چاروں طرف رخ كركے نماز ادا كریں تاكه یقین ہوجائے كه میں نے قبله كی طرف نماز ادا كی ہے۔(۵)

آیت الله بهجت،تبریزی،سیستانی،مكارم،وحید:

اگر كسی ایك طرف نماز پڑھ لینا كافی ہے ہاں اگر وقت تنگ نہیں ہے تو بهتر (احتیاط مستحب)ہے كه چاروں طرف نماز پڑھیں۔(۶)

آیت الله خامنه ای:اگر وقت تنگ نہیں ہےتو احتیاط واجب كی بناء پر چاروں طرف نماز پڑہیں۔(۷)

۳۳۸

حوالہ جات:

[۱] ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۳۱۳؛سیستانی،تبریزی،فاضل،توضیح المسائل مراجع،م ۱۰۶؛آیت الله نوری،استفتاءات،ج۱،س۳۸؛آیت الله وحید،توضیح المسائل ،م۱۰۸۔

۲ ۔آیت الله مكارم،صافی،توضیح المسائل مراجع،م۱۰۶۔

۳ ۔آیة الله بهجت،توضیح المسائل مراجع،م۷۸۲۔

۴ ۔توضیح المسائل مراجع،م۷۸۲؛العروة الوثقیٰ،ج۱،القبلة م۲؛وحید،توضیح المسائل ،م ۷۸۸ و دفتر:آیة الله خامنه ای۔

۵ ۔ توضیح المسائل مراجع،م۷۸۴۔

۶ ۔آیة الله وحید،توضیح المسائل،م ۷۹۰؛ توضیح المسائل مراجع،م۷۸۴۔

۷ ۔آیة الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۳۶۸۔

۳۳۹

بیرونی ممالك میں پرده

سوال نمبر۴۹۰: كیا غیر مسلم ممالك كےسفر كے‌دوران پرده كرنا واجب ہے؟

تمام مراجع:ہاں،عورت كے لئےنامحرم مردوں سے پوراپرده(شرعی حجاب) كرناواجب ہے چاہےوه نامحرم مسلمان ہویاكافر اسلامی ملك ہو یا غیر اسلامی۔(۱)

بے حجاب خاتون كو دیكھنا

سوال نمبر۴۹۶:دیگر ممالك میں رہنے والی بے پرده مسلم خوآتین كو دیكھنا كیسا ہے؟

امام خمینی،آیة الله خامنه ی،صافی،فاضل،نوری:

چاہے قصد لذت اور حرام میں پڑنے كا خوف نه پایا جائے احتیاط واجب كی بناءپرجائز نہیں ہے (۲)

آیت الله بهجت: چاہے قصد لذت نه بھی ہوتب بھی ان پر نظر ڈالنا جائز نہیں ہے ۔(۳)

آیة الله تبریزی،سیستانی، مكارم،وحید:

اگر قصد لذت اور حرام میں پڑنے كا خطر ه نه ہو تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)(مگر یه كه وه ایسی عورتوں میں سے ہوں كه اگر ان كو روكا جائے تو مان جائیں گی)۔

غیرمسلم عورت سے ہاتھ ملانا

سوال نمبر۴۹۷: غیر مسلم عورتوں سےہاتھ ملانا كیساہے؟

تمام مراجع:غیر مسلم عورتوں سے‌ہاتھ ملانا جائز نہیں ہے چاہےوه عورت كافر حربی ہو یاكتابی(جیسے یہود و نصاری)۔(۵)

غیر مسلم كو دیكھنا

سوال نمبر۴۹۸: غیر مسلم مرد اور عورت كی برہنه تصویر كو دیكھنا كیساہے؟

امام خمینی،تبریزی،خامنه ای،سیستانی،فاضل،وحید:

اگر قصد لذت ہو تو حرام ہے اور احتیاط واجب كی بناءپر قصد لذت اور حرام میں پڑنے كا خوف نه بھی ہو تب بھی جائز نہیں۔(۶)

آیة الله بهجت،صافی،مكارم،نوری:

چاہے لذت كا قصد نه بھی ہوتب بھی ان كو دیكھنا جائز نہیں ہے ۔(۷)

۳۴۰