گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6477
ڈاؤنلوڈ: 79

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6477 / ڈاؤنلوڈ: 79
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

[۱] ۔توضیح المسائل،مراجع،مسئله ۸۸۰۔

۲ ۔خمینی،استفتاءات،ج۱،س ۲۳۶؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۲۱۵؛فاضل،جامع المسائل ،ج۲،س ۱۸۴،دفتر تمام مراجع۔

۳ ۔ فاضل،جامع المسائل ،ج۲،س۱۳۱۸؛ مكارم،استفتاءات،ج۲،س۹۶۶؛ صافی،جامع الاحكام،ج۲،س۱۳۳۴؛ تبریزی،استفتاءات ،س ۱۴۶۷؛ دفتر:آیت الله نوری، وحید،بهجت ،سیستانی ؛امام استفتاءات ،ج۳،حقوق زوجیت ،س ۱۹۔

۴- توضیح المسائل مراجع،م۱۷۵۷؛ نوری توضیح المسائل،م۱۷۵۳؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۹۹۶؛وحید،توضیح المسائل،م۱۷۶۵۔

۵ ۔ امام استفتاءات ،ج۱،س۱۶۵؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۹۷۴؛ مكارم، استفتاءات، ج۲،س۵۲۷؛فاضل،جامع المسائل ،ج۱،س ۸۵۰؛بهجت،توضیح المسائل ،م ۱۳۷۹؛نوری ، استفتاءات ،ج۲،س۳۳۲؛تبریزی،صراط النجاة ،ج۱،س ۱۳۸۹؛ سیستانی، org ۔ sistarni خمس؛ صافی جامع الاحكام،ج۱،س۷۲۷؛دفتر :وحید۔

۶ ۔ امام استفتاءات ،ج۱،س۸۹؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۸۹۹۔

۷ ۔آیة الله فاضل،جامع المسائل ،ج۱،س۷۴۸؛ بهجت،توضیح المسائل ،م۱۳۹۱؛ نوری ، استفتاءات ،ج۲،س۳۴۱؛دفتر:آیت الله سیستانی۔

۸۔ آیة الله تبریزی،استفتاءات ،س ۸۰۵؛مكارم،توضیح المسائل،م۱۵۰۷؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،س۷۳۸ و۷۴۴؛وحید،توضیح المسائل ،م ۱۷۸۳۔

۳۶۱

ٹیلیفوں كارڈ

سوال نمبر ۵۳۵: ٹیلیفوں كا رڈ میں كچھ تبدیلی (فنی تصرف) كركے استفاده كرنا كیساہے؟

تمام مراجع:

حكومت كے‌اموال سے خلاف قانون استفاده كرنا حرام اور ضامن ہونے كا سبب ہے۔(۱)

نعلین(جوتے چپل) كی تبدیلی

سوال نمبر۵۳۶: بسا اوقات یونیورسٹی كے هال یا نماز خانه میں جوتے بدل جاتے ہیں كیا جائز ہے كه اپنے جوتے كے بدلے وه جوتا یا(چپل )جوره گئی ہے اس كو پهن لیں؟

تمام مراجع(آیت الله تبریزی ،سیستانی ،وحید كے علاوه):

اگر آپ كو اس بات كا علم ہے كه جس جوتے كو آپ نے اٹھایا ہے یه اسی كا جوتاہے جس نے آپ كے جوتے كو اٹھایا ہے اور وه اس بات سے راضی ہے كه اس كے بدله آپ اس كو استعمال كریں تو ایسی صورت میں اس كا استعمال كرنا جائز ہے۔

ورنه صاحب مال كو واپس كرنا ہوگا اور اگرصاحب مال كو تلاش كركے مایوس ہوچكے ہیں تو اپنے استعمال میں ركھ سكتے ہیں اوراگر اس جوتے كی قیمت آپ كے جوتے سے زیاده ہے تو جب بھی صاحب مال ملے ، اضافی قیمت كو اسے ادا كرناہوگا اور اگر اس كی ملاقات سے بالكل ناامید ہوچكے ہیں تو حاكم شرع(مجتهد جامع الشرائط) كی اجازت سے صاحب مال كی طرف سے فقیر كو صدقه دیدیں۔(۲)

آیت الله تبریزی،سیتانی،وحید:

اگر یه علم ہو كه جس جوتے كو آپ نے پهنا ہے اس كا مالك اس عمل پر راضی ہے كه اس كا جوتا استعمال كریں تو كوئی حرج نہیں ہے ورنه صاحب مال تك اس كو پهنچائیں اور اگر اس كو تلاش كركےمایوس ہوگئے ہیں تو حاكم شرع(مجتهد جامع الشرائط)كی اجازت سے جوتے كی پوری قیمت صاحب مال كی طرف سے فقر كو صدقه دیں۔(۳)

نوٹ:

مجہول المالك مال میں مایوسی اور ناامیدی كے بعد حاكم شرع كی اجازت سے فقیر كو صدقه دیاجاتاہے۔(۴)

كمرے میں ساتھ رہنے والے كا جوتا

سوال نمبر ۵۳۷: اگر كوئی اپنے ساتھ رہنے والے كا جوتا اس كی اجازت كے بغیر پهن كر وضو كرلے تو اس وضو كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:

اگر اس كی رضایت كا علم و اطمینان ہو تو كوئی حرج نہیں ہے اور اگر اس كی مرضی كے بغیر یه كام انجام دیاہے تو گناه كیا ہے لیكن وضو صحیح ہے۔(۵)

ہاسٹل میں تجسس كرنا

سوال نمبر۵۳۸: صرف اس بات كوجاننے كے لئے كه ہاسٹل میں گناه( نه كه حكومت كے خلاف كوئی سازش ) ہورہاہے یانہیں، كیا ہم ارے لئے تجسس كرنا جائز ہے؟(۶)

تمام مراجع: نہیں،یه كام حرام ہے۔

امتحان میں نقل كرنا

سوال نمبر۵۳۹: امتحان میں نقل كرنا كیسا ہے؟

تمام مراجع: امتحان میں نقل كرنا جائز نہیں ہے۔(۷)

ٹسٹ یاكمپٹیشن میں نقل كرنا

سوال نمبر۵۴۰: وه امتحانات جو اسٹوڈٹنس كی صلاحیت كو جاننے او رٹسٹ كے لئے ہوتےہیں ان میں نقل كرنا كیسا ہے؟

تمام مراجع:

اس طرح كے امتحان میں نقل كرنا اگر چه حرام نہیں ہے لیكن اس كا نقصان خود اسی كو ہو گا مگریه كه وه یه كہے :كه میں نے خود لكھا ہے تو یه جھوٹ كے سبب حرام ہوگا۔(۸)

ملازمت كے متعلق امتحان میں نقل كرنا

سوا ل نمبر۵۴۱: ملازمت اور نوكری كےسلسله میں ہونے والے امتحان میں اگر نقل كی جائے (اور اس میں كامیابی بھی مل جائے)تو نوكری لگ جانے كے بعدجو تنخواه ملے گی كیا اس كا لینا صحیح ہے یانہیں ؟

تمام مراجع(آیت الله وحید كے علاوه ):

اس كام میں جن مهارت كی ضرورت ہے اگر وه اس كا اهل ہے اور ملازمت كے قوانین كی رعایت كرتاہے تو جو تنخواه لے رہا ہے اس میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۹)

آیة الله وحید :اس كمپنی یا انجمن كی سہولیات سے استفاده كرنا جائز نہیں ہے۔(۱۰)

گریجویٹ كے امتحان میں نقل كرنا

سوال نمبر ۵۴۲: اگر كوئی طالب علم (اسٹوڈنٹ) خود میں پوسٹ گریجوٹ كی تعلیم جاری ركھنے كی صلاحیت ركھتے ہوئے اور انڑنس میں نقل كرے اور اس كی وجه اس خاص موقعے پر روحی اور نفسیآتی حالات كافراہم نه ہونااور ٹسٹ كے سلسله میں خودمیں مهارت كی كمی بتائے تو كیا اس كا یه عمل جائز ہے؟

تمام مراجع:

امتحان میں نقل كرنا كسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔(۱۱)

رضایت لیكر نقل كرنا

سوال نمبر۵۴۳: اگر سامنے والاا س بات پر راضی ہے كه اس كی تحریر(یا كاپی) سےنقل كرسكتے ہیں تو اس نقل كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:سامنے والی كی مرضی سے شریعت كا حكم نہیں بدلتا ۔(۱۲)

۳۶۲

حوالہ جات:

[۱] ۔دفتر تمام مراجع۔

۲- توضیح المسائل مراجع،م ۲۵۸۱۔

۳ ۔ توضیح المسائل مراجع،م ۲۵۸۱ وآیت الله وحید، توضیح المسائل ،م۲۶۴۵ و۲۶۴۶۔

۴ ۔آیات عظام،سیستانی، ،فاضل،صافی، تبریزی۔مكارم و وحید،رجوع كریں :توضیح المسائل مراجع،م ۲۲۷۹؛خامنه ای ،استفتاءات ،۱۵۵۹۔

۵ ۔ امام خمینی،سیستانی،فاضل، توضیح المسائل مراجع،م۲۶۶، تبریزی استفتاءات،۱۵۹و رتمام مراجع كرام كے‌دفاتر ۔

۶- تبریزی، استفتاءات،سوال ۲۲۱۸،فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال۲۱۹۳،وحید توضیح المسائل،مسئله۱۲۰۷۳؛خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۳۹۳۔

۷ ۔ فاضل،جامع المسائل ،ج۱،س۲۱۹۷؛مكارم،استفتاءات ،ج۱،س ۱۶۰۸؛تبریزی،استفتاءات،س ۱۳۰۳؛ سیستانی، org ۔ sistarni نقل؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۲۴۶۸ ودفتر :امام،بهجت،صافی،نوری و وحیدصاحب ۔

۸ ۔مكارم،استفتاءات ،ج۱،س ۱۶۰۸و دفتر :تمام مراجع۔

۹ ۔ امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه ۱۳۸؛آیت الله فاضل،جامع المسائل ،ج۱،س۲۱۹۵و دفتر :تمام مراجع۔

۱۰ ۔دفترآیت الله وحید۔

۱۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،مكاسب محرمه ،س۱۳۸؛آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س ۲۱۹۴و دفتر تمام مراجع ۔

۱۲ ۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۲۱۹۷؛مكارم،استفتاءات،ج۱،س ۱۶۰۸ و دفتر تمام مراجع ۔

۳۶۳

كاپی رائٹ كے احكام

سوال نمبر۵۴۴:كیا بنیادی طور سافٹ ویر بنانے والوں كوحق ایجاد حاصل ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی، صافی:

نہیں، ان كوحق ایجاد حاصل نہیں ہے۔(۱)

آیت الله بهجت،خامنه ای،وحید:احتیاط واجب كی بناء پر ان كو حق ایجاد حاصل ہے۔(۲)

آیت الله مكارم،فاضل ،نوری:

ہاں،یه ان كے لئےعقلائی حقوق شمار ہوتاہے لهذا ان كو حق ایجاد حاصل ہے۔(۳)

سوال نمبر۵۴۵: كیا سافٹ ویر بنانے والے كی اجازت كے بغیر اس كی كاپی كی جاسكتی ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی ،صافی:كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

آیت الله بهجت ،خامنه ای، و حید:

احتیاط واجب كی بناء پر اس كو بنانے والے كی اجازت كے بغیر جائز نہیں ہے۔(۵)

آیت الله فاضل،مكارم،نوری:

یه كام اس كے اصلی بنانے والے كی اجازت كے بغیر جائز نہیں ہے۔(۶)

۳۶۴

كاپی رائٹ كی شرط

سوال نمبر۵۴۶: اگر سافٹ ویر كی خرید وفروخت كے ضمن میں بیچنے والا(اس كا اصلی بنانے والا)كاپی رائٹ نه كرنے كی شرط كرے یا اسی بنیاد پر معامله كرے تو اس كی كاپی كرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:

ایسی صورت میں اس كی كاپی كرنا جائز نہیں ہے۔(۷)

كاپی رائٹ كا قانون

سوال نمبر۵۴۷: اگر سافٹ ویر بنانے والے كی اجازت كے بغیر ا س كی كاپی كی جائے جبكه قانونی لحاظ سے یه كام منع بھی ہو تو اس كا كیاحكم ہے؟

تمام مراجع: اگر اس سلسله میں قانون معین ہو تو اس كی رعایت كرنی چاهئے۔(۸)

۳۶۵

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث ؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س ۷۰۶،سیستانی، org ۔ sistarni حق چاپ ،ش ۱؛دفتر:آیة الله صافی۔

۲ ۔ آیة الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۴۱و ۱۳۴۲،دفتر :آیة الله وحید و بهجت۔

۳ ۔آیة الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۶۹۷ و۱۶۲۴؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۴۱۹؛نوری استفتاءات،ج۱،س ۵۰۴ و۵۱۰۔

۴ ۔ امام خمینی ،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث وج۲،خیار الشرط،م ۲؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س۷۰۶ والتعلیقه علی منهاج الصالحین و دفتر :صافی و سیستانی۔

۵ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س۱۳۴۱و ۱۳۴۲،دفتر :وحید و بهجت۔

۶ ۔ مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۶۹۷ و۱۶۲۴؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۴۱۹؛نوری استفتاءات،ج۱،س ۵۰۱ و۵۰۴۔

۷ ۔دفتر:تمام مراجع ۔

۸ ۔دفتر تمام مراجع ۔

۳۶۶

ایجاد كرنے والے كا نقصان

سوال نمبر۵۴۸: اگرسافٹ ویر كی كاپی كرنے سے اس كے بنانے والے كا نقصان ہو تو كیا یه عمل ضامن ہونے كا سبب ہوگا؟

امام خمینی، آیه الله تبریزی اور سیستانی: نہیں ،ضامن ہونے كا سبب نہیں ہے ۔(۱)

آیت الله بهجت،خامنه ای،فاضل،مكارم ،نوری: ہاں ،كیونكه اس نقصان كی تلافی ہونی چاهئے۔(۲)

آیت الله وحید: احتیاط واجب كی بناء پر ضامن ہے لیكن یه مدنظر رہے كه اس میں سود لینا نفع و نقصان شمار نہیں كیاجاتا۔(۳)

آیت الله صافی:اگر نقصان ہو تو وه ضامن ہوگا لیكن یه خیال رہے كه اس میں سود نه لینا نفع نقصان شمار نہیں كیا جاتا۔(۴)

آزاد سافٹ ویر

سوال نمبر۵۴۹: وه سافٹ ویر جو پهلے سے كسی فرد یا دوسرے افراد كے‌ذریعه آزاد ہوچكاہے (یعنی اس كا لاك توڑ دیاگیاہے)او ربازار میں كھلم كھلا رائٹ ہورہاہے اور بك رہاہے اس كے بارے میں كیا حكم ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی:ان دونوں كے حكم میں كوئی فرق نہیں ہے اور ہرحال میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۵)

آیت الله بهجت،خامنه ای،وحید: سافٹ ویر كا لاك توڑنے اور اس كی كاپی كرنے میں( چاہے اس كا لاك دوسروں كے ذریعه توڑا جاچكا ہو) ان دونوں كے حكم میں كوئی فرق نہیں ہے احتیاط واجب كی بناء پر دونوں صورت میں اس میں تصرف كرنا اور اس كی كاپی كرنا جائز نہیں ہے۔(۶)

آیت الله مكارم،نوری،فاضل: لاك توڑ نے اور اس كی كاپی كرنے میں (چاہے اس كے لاك كو كسی ددسرے شخص نے توڑ دیاہو)كوئی فرق نہیں ہے ہر حال میں تصرف اور اس كی كاپی كرنا جائز نہیں ہے۔(۷)

غیر ملكی سافٹ ویر

سوال نمبر ۵۵۰: كیا سافٹ ویر كی كاپی كرنے میں ملكی اورغیرملكی ایجاد كے حكم میں فرق ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی، سیستانی،نوری،صافی:ملكی اور غیرملكی ایجاد میں كوئی فرق نہیں ہے۔(۸)

آیت الله خامنه ای:اگرایجاد ملك كی ہے تو احتیاط واجب كی بناء پر ایجاد كرنے والے كی اجازت ضروری ہے اور اگر غیر ملكی ہے تو معاهدے كے تابع ہے۔(۹)

آیت الله مكارم:ملكی اورغیر ملكی ایجاد میں كوئی فرق نہیں ہے مگر یه كه وه ایجاد امریكه یا اسرائیل كی ہو۔(۱۰)

آیت الله وحید:ملكی اور غیر ملكی ایجاد كی بنیاد پر شریعت كا حكم میں نہیں بدلتا۔(۱۱)

۳۶۷

ایجاد كرنے والے كی مرضی

سوال نمبر۵۵۱: اگر اس بات كا علم نه كه اس كے موجد كی مرضی اس كی كاپی كرنے میں ہے یا نہیں تو كیا حكم ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی:اس سے استفاده اور اس كی كاپی كرنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۱۲)

آیت الله بهجت،خامنه ای،وحید: احتیاط واجب كی بناء پر اس كے موجد كی مرضی معلوم كرنا ضروری ہے۔(۱۳)

آیت الله مكارم،فاضل؛نوری:نشرواشاعت اور كاپی رائٹ كا حق صرف مولف اور موجد كا ہے لهذا موجد كی اجازت اور مرضی كا حاصل كرنا ضروری ہے۔(۱۴)

۳۶۸

حوالہ جات:

[۱] ۔ امام خمینی ،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث ؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س ۱۷۰۶، سیستانی، org ۔ sistarni حق چاپ ،ش ۱۔

۲ ۔دفترآیة الله مكارم؛فاضل؛خامنه ای و بهجت۔

۳ ۔دفترآیت الله وحید۔

۴ ۔دفتر آیت الله صافی۔

۵ ۔ امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث ؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س ۱۷۰۶ سیستانی، org ۔ sistarni حق چاپ ،ش ۱ ۔

۶ ۔آیة الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،س ۱۳۴ و ۱۳۴۲؛دفترآیة الله وحید۔

۷ ۔آیت الله مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۶۹۷ و۱۶۲۴؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۴۱۹۔

۸ ۔ امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث ؛آیت الله تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س ۷۰۶،سیستانی، org ۔ sistarni حق چاپ ،ش ۱؛دفتر :صافی۔

۹ ۔آیت الله خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات،س ۱۳۴۳۔

۱۰ ۔دفترآیت الله مكارم۔

۱۱ ۔دفترآیت الله وحید۔

۱۲ ۔ امام خمینی،تحریرالوسیله،ج۲،فروع متفرقه ،الثالث ؛دفتر آیت الله صافی؛تبریزی،صراط النجاة ،ج ۵، س ۱۷۰۶ ؛دفترآیت الله سیستانی۔

۱۳ ۔خامنه ای،اجوبة استفتاءات،س ۱۳۴۱و ۱۳۴۲؛دفتر:آیت الله وحید وبهجت۔

۱۴ ۔مكارم،استفتاءات،ج۱،س۱۶۹۷ و۱۶۲۴؛ فاضل،جامع المسائل،ج۱،س۱۴۱۹؛ نوری،استفتاءات،ج۱،س۵۰۱و ۵۰۴۔

پگڑی اور كرایه

سوال نمبر۵۵۲: گھر كی پگڑی كے لئے كیا كریں تاكه رباسے دوچار نه ہوں؟

تمام مراجع( آیت الله سیستانی كے علاوه):

صحیح راه یه ہے كه شروع ہی سے كرایه كا معاهده كریں اس طرح سے كه مكان كامالك اپنے كو معین مدت تك طے شده كرایه پر كرایه دار كو دے اور شرط كرے كه كرایه دار كچھ رقم اس كو بطور قرض دے۔ہیں لیكن اگر شروع میں مكان مالك كو بعنوان قرض پیسه دے اس شرط كے ساتھ كه گھر كاكرایه كم كر دے تویه ربا اور حرام ہے۔(۱)

آیت الله سیستانی:

احتیاط واجب كی بناء پر قرض كی شرط كے ساتھ كرایه پر گھر دینا جائز نہیں ہے۔(۲)

گلدكوئیسٹ(حلقه دار تجارت)

سوال نمبر۵۵۳: گلد ئیسٹ اور اس جیسی تجارتی پروجیكٹ میں شریك(حصه دار) كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:

كسی بھی طرح كی ہرمی مانند (یعنی ایك سے دو،دوسے چار،چارسے آٹھ)اوربے انتها تجارتی حلقه كاعضو ہونا یا شریك بننا جائز نہیں ہے۔(۳)

نوٹ :

ہر طرح كا تجارتی حلقه اور بازاری سلسله حرام نہیں ہے ۔صرف اس كی وه قسم جائز نہیں ہے جو ہرمی شكل( pyramid scheme )اوربے انتها ہوتی ہے۔

۳۶۹

سوال نمبر۵۵۴: اس پیسه كی كیا شرعی حیثیت ہےجو گلد كوئیسٹ كمپنی سے معامله كركے(حصه داربن كر) حاصل ہواہے؟

تمام مراجع:

اگر اس پیسه كے اصلی مالكوں كو پهچانتاہے تو اسے ان كے مالكوں كو واپس كرنا ضروری ہے ورنه (مجتهدِ جامع الشرائط كی اجازت سے)ان كی طرف سے فقیر كو صدقه دے۔(۴)

نوٹ:

(تبریزی،خامنه ای؛سیستانی،فاضل،مكارم اور وحید جیسےآیات عظام ):مجتهدِجامع الشرائط سے اجازت لینے كو احتیاط واجب جانتے ہیں۔

۳۷۰

حوالہ جات:

۱ ۔امام خمینی،استفتاءات،ج۲،اجاره ،س ۳۵؛آیت الله وحید منها ج الصالحین،ج۳،م ۷۹۸؛تبریزی،استفتاءات،س۱۲۱۰؛مكارم،استفتاءات ،ج۲،س ۸۳۰؛فاضل،جامع المسائل ، ج۱،س ۱۱۰۷،س ۱۱۰۷؛خامنه ای ،احوبة الاستفتاءات،س۱۶۶۲؛صافی،جامع الاحكام،ج۱،س ۱۲۰۵؛بهجت،توضیح المسائل،متفرقات،م ۶؛دفتر :آیت الله نوری۔

۲ ۔آیت الله سیستانی،منها ج الصالحین،ج۲،م۱۰۱۴۔

۳ ۔تمام مراجع۔

۴ ۔تمام مراجع۔

۳۷۱