گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6673
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6673 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

وضو كے احكام

سوال نمبر ۱۸: كیا قرآن میں وضوكے بارے میں كوئی آیت موجود ہے؟وضوكے معنی اور اس كے فائده كو بیان كریں؟

> إِنَّ اللَّهَ یحِبُّ التَّوَّابِینَ وَ یحِبُّ الْمُتَطَهَرین‏ < ( سوره بقره،آیت۲۲۲ )

بہ تحقیق خدا توبہ کرنے والوں اور پاکیزہ رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

لغت میں وضو كے معنی پاكیزگی اور نظافت كے ہیں اورفقه كی اصطلاح میں:ایك خاص طریقه سے دھونے كے معنی میں ہیں كه جسے دو طریقه سے انجام دیاجاسكتاہے:ترتیبی اور ارتماسی۔

ترتیبی اس طرح سے ہے كه سب سے پهلے خدا كی قربت اور اطاعت كے قصد سے چہره كو پھرداهنا اوربایاں ہاتھ دھویاجائے۔اس كے بعد ہاتھوں كو دھونے سے جو رطوبت هتھیلی پربچ جائے اس سے سركا مسح كیاجائے پھر دائیں بائیں پیر كا مسح كیاجائے۔ارتماسی وضو سے مراد چہره اور ہاتھوں كو وضو كے قصدسے اوپرسے نیچے كی طرف دھونے كی رعایت كرتے ہوئے پانی میں ڈبودینا اورممكن ہےكه كبھی ان دونوں طریقوں كو اپس میں میں ملادیاجائے اس طرح سے كه صورت كو ارتماسی طریقه سے اور ہاتھوں كو ترتیبی طریقه سے دھویاجائےكیونكه اسطرح سے بھی وضو كرنا صحیح ہے۔یه بھی جاننا ضروری ہے كه وضو بعض كاموں كے لئے واجب اور بعض كاموں كے لئے مستحب ہے۔

۲۱

وضو كے دو واضح فائدے ہیں

جسمانی اور روحانی،جسمانی اعتبار سے(دن بھر میں پانچ یآتیں مرتبه)ہاتھوں اور چہره كو دھونےسے ایك خاص اثر بدن كی نظافت پر مرتب ہوتاہےسر اور پیروں كا مسح،(كه جس میں پانی كا سركی كھال یا بالوں تك پهنچنا مشرط ہے)ان اعضاء كو بھی پاكیزه ركھنے كا سبب بنتاہے اس كے ساتھ ساتھ بدن كی كھال سے پانی كاملنا اعصاب( parasempatik simpatik )كے تعادل میں ایك خاص اثرركھتا ہے۔روحانی لحاظ سے وضو چونكه قصد قربت كے ساتھ خدا كی رضایت و خوشنودی كےلئے انجام پاتا ہے لهذا اس كا ایك اخلاقی اور تربیتی اثر ہے كیونكه وضوكا باطنی مطلب یه ہے كه سرسے پیر تك تیری اطاعت كی راه میں قدم اٹھارہاہوں۔(۱)

حوالہ :

۱۔آیت الله مكار شیرازی،ناصر،تفسیر نمونه،ج۴،ص۲۹۱۔

۲۲

وضو كے شرائط

سوال نمبر۱۹: وضوكے كیا شرائط ہیں؟

۱-وضو كا پانی پاك ہو۔

۲- پانی مطلق ہو( مضاف نه ہو)۔

۳- وضو كاپانی مباح ہو۔

۴- وضوكابرتن مباح ہو۔

۵-وضوكا برتن سونےاور چاندی كانه ہو۔

۶-اعضائے وضوپاك ہوں۔

۷-وضوكے لئے وقت كافی ہو۔

۸-وضوقربت كے قصد سے ہو۔

۹-جس ترتیب سے بیان كیاگیاہے اسی طرح بجالائے۔

۱۰-افعال وضو كے درمیان فاصله نه ہو۔

۱۱-وضوكرنے میں كسی دوسرے كی مددنه لی جائے۔

۱۲-پانی كا استعمال نقصان ده نه ہو۔

۱۳-اعضائے وضوپر كوئی مانع(ركاوٹ) نه ہو۔

۲۳

وضوواجب ہونے كے مواقع

سوال نمبر۲۰: كن جگہوں پر وضو واجب ہوتاہے؟

وضو مندرجه ذیل جگہوں پرواجب ہے۔

۱-واجب نماز كے لئے(نمازمیت كے علاوه) ۔

۲-خانه كعبه كے واجب طواف كے لئے۔

۳-بھولے ہوئے سجده او رتشهدكے لئے۔

۴-بدن كو قرآن كی عبارت یاخدا كے نام سے مس كرنے كے لئے۔

۵-وضو كرنے كے لئےنذر،عهدیاقسم كھائے ۔

وضو میں دھونا

سوال نمبر۲۱: وضومیں ایك بار دھونے سے كیا مراد ہے؟

امام،بهجت،تبریزی،فاضل،مكارم:ایك بار دھونے سے مراد تمام اعضاء كادھوناہے چاهئے ایك چلوپانی سے ہو یاكئی چلوپانی سے ،لهذاجب عضوپوری طرح دھو جائے تو وه ایك بارحساب ہوگا۔(۱)

خامنه ای،سیستانی،صافی،نوری،وحید:ایك باردھونے كا معیارخود انسان كی نیت ہے لهذا اگر پهلی مرتبه دھونے كی نیت سے دس بار بھی پانی ڈالے تو كوئی حرج نہیں اور یه تمام كاتمام ایك باردھونا حساب ہوگا۔(۲)

سوال نمبر۲۲: كیا ہاتھوں كاكهنی سے كلائی تك دھونا كافی ہے جبكه پهلے هتھیلی كلائی تك دھوئی جاچكی ہو؟

تمام مراجع:نہیں ،چہره دھونے كے بعد ہاتھوں كو دھوتے وقت پورے ہاتھ دھونے ہونگے اور اگرصرف كلائی تك دھوئیں گے تووضوباطل ہوگا۔(۳)

سوال نمبر۲۳: وضومیں كتنی مرتبه ہاتھ پھیرنا ضروری ہے كه اطمینان ہوجائے كه پانی تمام حصوں تك پهنچ گیاہے؟ كیا ایساكرنا ٹھیك ہوگا؟

تمام مراجع،امام،خامنه ای:اگر یه علم وسواس كی حدتك نه پهنچنے تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۴)

سوال نمبر۲۴: وضو میں چہره اور ہاتھوں كو كتنی باردھونا جائز ہے؟

امام،خامنه ای،فاضل،نوری:پهلی مرتبه واجب،دوسری مرتبه جائز اور تیسری مرتبه یا اس سے زیاده دھونا حرام ہے۔(۵)

بهجت،سیستانی،صافی،وحید:پهلی مرتبه واجب دوسری مرتبه مستحب تیسری یا اس سے زیاده بار حرام ہے۔(۶)

تبریزی:پهلی مرتبه واجب دوسری مرتبه مشہور نظر كی بناءپر مستحب ہے لیكن احتیاط واجب یه ہے كه بائیں ہاتھ كو دوسری مرتبه نه دھویاجائے اور تیسری مرتبه یا اس سے زیاده دھوناحرام ہے۔(۷)

مكارم:پهلی مرتبه واجب ہے اور احتیاط واجب كی بناء پر دوسری مرتبه ترك كرنا بهترہے تیسری مرتبه یا اس سے زیاده دھونا حرام ہے۔(۸)

۲۴

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله،۲۴۸۔

۲ ۔ آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۴۹؛وحید،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۵۴؛توضیح المسائل،مراجع ،مسئله۲۴۸؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۲۔

۳ ۔العروة الوثقی،ج،۱،افعال الوضو،مسئله۱۳؛توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۷؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۵۳؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۴۸؛دفتر خامنه ای۔

۴- العروة الوثقیٰ،جلد،۱،افعال وضو،الاول ،مسئله،۴۷۔

۵- آیت الله امام،فاضل،نوری،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۸؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۰۲۔

۶ ۔آیت الله بهجت،صافی،وسیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله،۲۴۸؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۵۴۔

۷ ۔تبریزی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۸۔

۸ ۔مكارم،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۴۸۔

۲۵

تین بار دھونا

سوال نمبر۲۵: كیا تین بار چہره اور ہاتھوں كو دھونے سے وضو باطل ہوجاتاہے؟

تمام مراجع :چہره اور ہاتھوں كو وضو كے قصدسے تین بار دھونا حرام ہے لیكن اس سے وضو باطل نہیں ہوتا ہاں اگر بائیں ہاتھ كو تین باردھوئے تو اس كے مسح میں اشكال ہوگا اور وضو باطل ہے۔(۱)

سركا مسح

سوال نمبر۲۶:جس كے سركےاگلے حصه كا بال لمبا ہو اوروه اسے اوپر كے حصه میں جمع كرتا ہو تووه وضوكے دوران كیسےمسح كرلیگا؟

تمام مراجع: یابالوں كی جڑپر مسخ كریگا یا مانگ نكال كر سركی كھال پر مسح كریگا۔(۲)

حوالہ:

۱۔امام،اسستفتاءات،جلد۱،سوال۳۵؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۹۰؛فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال۱۱۳؛مكارم،استفتاءات،جلد۱،سوال۶۱، اور۶۴؛ نوری، استفتاء ات،جلد۲،سوال۳۹؛دفتر سیستانی،بهجت،خامنه ای، وحید۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع مسئله،۲۵۱؛وحید،توضیح المسائل،مسئله،۲۵۷؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۵۲اور دفتر خامنه ای۔

۲۶

بالوں كا رنگ

سوال نمبر۲۷: كیابا لوں كارنگ ،مهندی یاپھلوں كے چھلكوں كارنگ وضوكے لئے مانع ہے؟

تمام مراجع :اگر رنگ میں جرم(ذرات)نه ہوں تو كو ئی حرج نہیں ہے۔(۱)

وضومیں مانع(ركاوٹ)

سوال نمبر۲۸: اگر وضو كرنے كے بعد اعضائے وضو پر ایسی چیز دیكھائی دیں جوپانی اور بدن كے بیچ، مانع(ركاوٹ)ہوتو كیاكرنا چاہیئے؟

تمام مراجع :(سیستانی،وحید؛مكارم كے علاوه)اگر نہیں جانتاہو كه یه مانع وضو كرتے وقت تھا یا بعد میں لگاہے تو وضو صحیح ہے لیكن اگر وضو كرتے وقت اس مانع كی طرف توجه نه تھی تو احتیاط واجب كی بناء پر دوباره وضو كرے۔(۲)

مكارم،وحید:اگر نہیں معلوم كه مانع وضو كے وقت تھا یا بعد میں لگا ہے تووضو صحیح ہے لیكن اگروضو كرتے وقت اس طرف توجه نه تھی تو پھر دوباره وضو كرے۔(۳)

سیستانی:اگر نہیں معلوم كه وضو كے وقت مانع موجود تھایابعد میں لگا ہے تو وضو صحیح ہے لیكن اگر وضو كے وقت مانع كی طرف توجه نہیں تھی تو احتیاط كی بناءپر دوباره وضو كرے۔(۴)

۲۷

حوالہ جات:

۱۔امام،استفتاءات،جلد،۱،سوال۴۲؛فاضل،جامع المسائل،جلد،۱ سوال۱۲۷؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۴۰؛تبریزی،استفتاءات،سوال۱۷۶؛دفتر سیستانی، بهجت ، صافی، نوری، مكاارم،وحید۔

۲۔ توضیح المسائل مراجع مسئله،۲۹؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۹۸، دفتر خامنه ای۔

۳۔ وحید،توضیح المسائل،مسئله،۳۳،مكارم،توضیح المسائل،مسئله۳۲۱۔

۴۔ توضیح المسائل مراجع مسئله،۲۹۔

۲۸

آنكھوں كی پنسل( Eye pencil )

سوال نمبر۲۹: وضو كرتے وقت ( eyepenil یا Mascara )كا كیا حكم ہے؟

وضو كرتے وقت اگرب Eye pencil یا Mascara لگائی گئی ہو اور وه گاڑةی ہو یعنی اس میں ذرات موجود ہوں تو پهلے انہیں بر طرف كرلینا چاہیئے لیكن وه مقدار جو آنكھ كے اندر ہے اس كا برطرف كرنا لازم نہیں ہے۔(۱)

نوٹ:میكپ كے ذرات كو برطرف كرنے كے بعد وه رنگ جوباقی ره جاتاہے وضو كے لئے مانع نہیں ہے۔

ناخن كے نیچے كامیل

سوال۳۰: اگرناخن كے نیچےاتنا میل ہو جو پانی پهنچنے میں مانع ہو رہاہوتو كیا ایسی صورت میں وضو صحیح ہے؟

تمام مراجع: اگر میل ظاہر نه ہو تو وضو صحیح ہے۔(۲)

بال پن كی سیاھی

سوال نمبر۳۱: كیابال پن كی سیاھی وضو كے لئے مانع ہے؟

تمام مراجع:اگرروشنائی كا جوہر اورذرات ہیں تو مانع ہے لهذا وضو سے پهلےسے برطرف كرنا ہوگا۔(۳)

نوٹ:آیت الله مكارم كهتے ہیں:بال پن كی سیاھی میں بهت هلكے ذرات ہوتےہیں جوپانی كے اعضائے وضوتك پهنچنے میں مانع نہیں ہیں۔(۴)

كھال كی كریم( (Skin crecrm :

سوال نمبر۳۲: كیا چہره اور ہاتھ پر لگائی جانے والی كریم و ضو كے لئے مانع ہے؟

تمام مراجع:اگراتنی مقدا میں لگائی جائے كه پانی كھال تك آسانی سے پهنچے جائے تو كوئی حرج نہیں ہے۔(۵)

نوٹ: اس كی تشیخص عرف پرہے۔

بالوں كا جیل( Hair jel ):

سوال نمبر۳۳: تیل لگے بالوں پر كس طرح مسح كیا جائے گا؟

تمام مراجع:اگر تیل كی مقدار اتنی زیاده نہیں ہے جو پانی كو بالوں كی جڑیاكھال تك پهنچنے میں مانع ہو تو كوئی مشكل نہیں ہے۔(۶)

نامحرم كو دیكھنا

سوال نمبر۳۴: كیا وضو كرتے وقت نامحرم كودیكھنے سے وضو ٹوٹ جاتاہے؟

تمام مراجع:جان بوجھ كرنا محرم كودیكھنا حرام ہے لیكن اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔(۷)

۲۹

جوالہ جات:

۱ ۔حواله سابقه،مسئله۲۴۲،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۴۳،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۴۸،دفتر خامنه ای۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع مسئله،۲۹۱،وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۹۷؛نوری،توضیح المسائل،مسئله،۲۹۲؛دفتر خامنه ای۔

۳ ۔امام،استفتاءات،ج،۱،سوال۴۱،صافی،جامع الاحكام ج،۱۹۳؛فاضل،جامع المسائل،ج۱،سوال۱۲۴؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۱۴؛تبریزی، استفتاءات، سوال۱۷۶؛ مكارم،استفتاءات،جلد،۲،سوال۵۵؛دفتر بهجت،وحید سیستانی اور نوری۔

۴ ۔استفتاءات ،جلد۲،سوال۵۵۔

۵ ۔تبریزی،استفتاءات،سوال۱۵۲؛سیستانی، Skin crecrm ،وضو؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاء ات۲۹۹،سوال،۱۰۴؛فاضل،جامع المسائل، جلد۱، سوال ۱۲۵؛ امام، استفتاءات جلد،۱،(وضو، سوال۴۰؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۹۱اور دفتر،نوری،وحید،مكارم،اور بهجت۔

۶ ۔تبریزی ،استفتاءات،سوال۱۵۴۰؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سولا۱۰۶؛فاضل،جامع المسائل،جلد،۱،سوال۱۲۵؛امام،استفتاءات،جلد۱،وضو،سوال ۴۲اور ۴۳؛ خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات سوال۱۰۴،اور۱۱۴،اور۱۴۰؛مكارم،استفتاءات،جلد۱،سوال۶۹؛ستیتانی۔ irg ۷۔ sis tani ؛دفتر نوری،بهجت،وحید۔

۳۰

وضواورنل

سوال نمبر۳۵: وضوكرتے وقت نل (ٹوٹی)كوبندكرنے كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:كوئی حرج نہیں۔(۱)

نوٹ:بایاں ہاتھ دھونے كے بعد اگرنل كوبند كیا جائے اور وضو كاپانی نل كی رطوبت بر غالب نه آئے پھر اسی ہاتھ سے مسح كركیاجائے تو وضو باطل ہوگا۔(۲)

وضومیں شك

سوال نمبر۳۶: مجھے وضو اور غسل كرتے وقت بهت شك ہوتاہے اس صورت میں میرا شرعی وظیفه كیاہے؟

تمام مراجع(تبریزی ،وحید كے سوا):اپنے شك كی پرواه نه كریں(عام لوگوں كی طرح وضو كریں)۔(۳)

تبریزی،وحید:اگر وسواس كی حد تك ہے تو اپنے شك كی پرواه نه كریں(عام لوگوں كی طرح وضو كریں)۔(۴)

سوال نمبر۳۷: اگر كوئی شك كرے كه اس نے وضو كیایا نہیں تو كیا نماز كے لئے وضو كرنا ہوگا؟

تمام مراجع: جی ہاں،نماز كے لئے وضو كرنا ہو گا۔(۵)

سوال نمبر۳۸: اگر كوئی شك كرے كه اس كا وضو باطل ہوا یا نہیں تو كیا حكم ہے؟

تمام مراجع :بناء ركھے كه ابھی وضو باقی ہے۔(۶)

۳۱

حوالہ جات:

۱ ۔اما خمینی،استفتاءات،جلد،۱،سوال۳۴،العروة الوثقی،ٰجلد،۱،افعال الوضومسئله،۳؛آیت الله نوری،استفتاءات،جدل۲،سوال،۱۲۳؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۱۲۔

۲ ۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،افعال الوضو،مسئله۵۔

۳ ۔توضیح،المسائل مراجع،مسئله۲۹۹،آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله ،۳۰۰۔

۴ ۔آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۰۵؛تبریزی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۹۹۔

۵ ۔توضیح المسائل مراجع،جلد۱،مسئله،۳۰۱؛آیت الله وحیدتوضیح المسائل،مسئله،۳۰۷؛نوری،توضیح المسائل،مسئله،۳۰۲،دفتر خامنه ای۔

۶ ۔توضیح المسائل،مراجع،مسئله ۳۰۰،آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۰۶؛نوری،توضیح المسائل،مسئله،۳۰۱؛دفتری خامنه ای۔

۳۲

نماز كے بعد شك

سوال نمبر۳۹: اس شخص كا شرعی وظیفه كیاہے جسے نماز كے بعد شك ہو كه وضو كیا تھا یانہیں؟

تمام مراجع ) آیت الله تبریزی ،صافی ،وحید كے سوا):جو نماز پڑھ چكاہے صحیح ہے لیكن بعد والی نماز كے لئے وضو كرنا ہوگا۔(۱)

آیت الله تبریزی ،صافی ،وحید:اگر احتمال دے كه نماز سے پهلے وضوكی جانب متوجه تھا تو پڑھی جاچكی نماز صحیح ہے لیكن بعد والی نماز كے لئے وضو كرناہوگا۔(۲)

وضو میں سہو و نسیان

سوال نمبر۴۰: اگروضو كے بعد یقین ہو كه كسی ایك وضو كے عمل كو انجام نہیں دیا ہے تو شرعی وظیفه كیاہے؟

تمام مراجع:اگر موالات وضو ابھی نہیں ٹوٹاہے تو بھولا ہوا عمل اور اس كے بعد كے عضو كودھوئے اور اگر موالات ٹوٹ چكا ہے تو پھر سے وضو كرے۔(۳)

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۳؛آیت الله نوری،توضیح المسائل،مسئله،۳۰۴؛دفتر خامنه ای۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۰۳،وحید ،توضیح المسائل،مسئله ۳۱۰۔

۳ ۔العروة الوثقیٰ،جلد،۱،شرایط الوضو،مسئله۴۵۔

۳۳

اذان سے پهلے وضو

سوال نمبر۴۱: آیا اذان سے پهلے نماز كے لئے وضو كیا جاسكتاہے؟

تمام مراجع:اگر نماز كا وقت قریب ہے اور آمادگی نماز كے قصد سے وضو كیا جائے تو كوئی حرج نہیں اور اس كے علاوه نماز كےوقت سے پهلے طهارت كی غرض سے اگر وضو كیا جائے تو اس سے بھی نماز پڑھی جاسكتی ہے۔(۱)

وضو میں ہاتھ پھیرنا

سوال نمبر۴۲: اگر وضو كے دوران بھولے سے ہاتھ نیچے سے اوپر كی طرف چلاجائے تو كیا وضو صحیح ہوگا؟

تمام مراجع:اگر وه معمولاً اوپرسے نیچے كی طرف دھوتاہے تو وضو صحیح ہے چاہے بھولے سے ہاتھ نیچے سے اوپر كی طرف ہی كیوں نه چلاجائے۔(۲)

اعضائے وضو كا خشك ہونا

سوال نمبر۴۳: كیا اعضائے وضوكا نماز سے پهلے خشك ہونا ضروری ہے؟

تمام مراجع:جی نہیں،ضروری نہیں ہے،صر ف مسح كی جگه خشك ہونی چاهئے۔

ٹوٹ:اگر اعضائےمسح كی رطوبت اتنی كم ہو كه هتھیلی كی رطوبت اس پر غالب آجائے اور كها جائے ہاتھوں كی رطوبت سے مسح ہوا ہے تو كوئی حرج نہیں۔(۳)

سوال نمبر۴۴: كیا پیر كا مسح انگوٹھے پر كیا جاسكتاہے؟

تمام مراجع:ضروری نہیں ہے كه پیر كا مسح صرف انگوٹھے پر ہی كیا جائے بلكه پیر كی كسی ایك انگلی پر بھی مسح كرلینا كافی ہے۔(۴)

وضو كا باقی ركھنا

سوال نمبر۴۵: وضوكی حالت میں جان بوجھ كر ریاح كو خارج ہونے سے روكنا كیسا ہے؟

تمام مراجع:اس سے وضو باطل نہیں ہوتاہے۔(۵)

حالت وضومیں سونا

سوال نمبر۴۶: وضو كی حالت میں كس حدتك سونا وضو كو باطل كرتاہے؟

تمام مراجع:اس حد تك كه نه آنكھ دیكھ رہی ہو اور نه ہی كان سن رہاہو لیكن اگر ان دونوں میں سے كوئی ایك حالت بھی باقی ہو تو وضو باطل نہیں ہوگا۔(۶)

وضو كے دوران چلنا

سوال نمبر۴۷: اگر مسح كے دوران چل رہے ہوں تو كیاوضو باطل ہوگا؟

تمام مراجع:مسح كے دوران چلنے میں كوئی حرج نہیں ہے۔(۷)

وضو كے دوران كھانا

سوال نمبر۴۸: اگر وضو كرتے وقت كوئی چیز كھالی جائے تو كیا وضو صحیح ہوگا؟

تمام مراجع:وضو كے دوران كھانے میں كوئی حرج نہیں لیكن بهترہے كه ان تمام كاموں سے پرہیز كیاجائے جووضو كے دوران قلبی رجحان كو ختم كرتے ہیں ۔(۸)

عورتوں كا وضو

سوال نمبر۴۹: عورت كا ایسی جگه وضو كرنا كیساہے جہاں كوئی نا محرم اسے دیكھ رہاہو ؟

تمام مراجع: گنا ه ہے لیكن اس كا وضو صحیح ہوگا۔(۹)

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله ۳۲۰،وحید،توضیح المسائل مسئله،۳۲۶،نوری،استفتاءات،جلد۱،سوال۴۲۔

۲ ۔امام،استفتاءات،جلد۱،سولا۱۶،،صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۱۹۷؛فاضل،جامع المسائل ،جلد۲،سوال۱۱۰؛دفتر مكارم،سیستانی،تبریزی،نوری،خامنه ای۔

۳ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۵۶؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۶۲،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۵۷،خامنه ای صاحب كادفتر۔

۴ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۵۳؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۲۵۸،نوری،توضیح المسائل،مسئله۲۵۴،خامنه ای صاحب كادفتر۔

۵ ۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،موجبات الوضو،الثالث۔

۶۔ توضیح المسائل مراجع،جلد۱،مسئله۳۲۳،وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۲۹،نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۲۴،خامنه ای صاحب كادفتر۔

۷ ۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،مسئله۲۵،شرایط الوضو،گیارهویں فصل۔

۷ ۔ العروة الوثقیٰ،جلد۱،مسئله۲۵،شرایط الوضو،اور مستحاب الوضو،چودهویں فصل۔

۹۔امام،سیستانی،نوری،مكارم،فاضل،تعلیقات علی العروة الوثقیٰ،جلد۱،شرایط الوضو مسئله۳۰،اور تبریزی،استفتاءات،سوال۱۵۸،خامنه ای،بهجت ،صافی،نوری كے دفاتر۔

شرمگاه سے نكلنے والا سفید پانی

سوال نمبر۵۰: كیا خوآتین سے عام طور پر آنے والے سفید پانی سے وضو كو باطل ہوجاتاہے؟

تمام مراجع:نہیں ،وضو باطل نہیں ہوتا مگر یه كه منی پا پیشاب ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۱)

وضوئے جبیره

سوال نمبر۵۱: اگر كسی كا داهنا یاتھ ٹوٹا ہو اور اس پرپلاسٹر چڑھاہو تو وه كیسے وضو كریگا؟

امام خمینی،آیت الله خامنه ای،سیستانی،صافی،فاضل،نوری:اسے وضوئے جبیره كرنا ہوگا۔(۲)

آیت الله تبریزی،مكارم،وحید:احتیاط واجب كی بناءپر وضوئے جبیره بھی كرے اور تیمم بھی كرے۔(۳)

آیت الله بهجت:وضوئے جبیره كرے اور احتیاط واجب كی بناءپر تیمم بھی كرے۔(۴)

نوٹ:وه چیزیں جس سے زخم یا ٹوٹی هڈی كو باندھ دیاجائے یا وه دوائی جوزخم وغیره پر لگائی جائے اسے“جبیره”كهتے ہیں ۔ایسا شخص اس طریقه سے وضوئےجبیره انجام دے سكتاہےكه سب سے پهلے چہره كو(بائیں ہاتھ سے یا نل كے نیچے كركے یاپانی میں ڈبوكر دھوئے پھر دائیں ہاتھ پر وضوئے جبیره كرےگا مرطوب ہاتھ كوپلاسٹر یا پٹی پر پھیر ے)پھر بائیں ہاتھ كو چہره كی طرح دھوئے اس كے بعد اس باقی بچی رطوبت سے سر اور پیر كا مسح كرے۔

۳۴

حوالہ جات:

۱ ۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،باب الاستبراء،توضیح المسائل مراجع،مسئله۲۳۔

۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۳۰،نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۳۱،خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۳ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۳۰،وحید،توضیح المسائل ،مسئله۳۳۶۔

۴۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۳۰۔

۳۵

خدا كے نام كو چھونا

سوال نمبر۵۲: كلمه“بسمه تعالی”یا“ا۔۔۔”جوكلمه“ الله” كی جگه لكھاجاتاہے بغیر وضو اس كے چھونے كا كیا حكم ہے؟

امام:خداكے نام كو یا اس كے نام كےكسی بھی جزء كو چاہے كسی بھی زبان اور كیفیت میں لكھا گیاہو بغیر وضو اس كو چھونا جائز نہیں ہے۔(۱)

تبریزی،خامنه ای،سیستانی،فاضل،مكارم،نوری:مس كرنے میں كوئی اشكال نہیں لیكن بهتر ہے كه مس نه كیاجائے۔(۲)

بهجت،صافی:احتیاط واجب كی نباءپر بغیر وضو كے نه چھواجائے۔(۳)

وحید: كلمه “۱۔۔۔”چھونے میں كوئی اشكال نہیں لیكن“بسمه تعالی”كو احتیاط واجب كی بناءپر مس كرنا جائز نہیں ہے۔(۴)

ایران كا آرم

سوال نمبر۵۳: كیا اسلامی جمہوریه ایران كا آرم جو خط یا بسو ں كے ٹكٹوں پر ہوتا ہے اسےبغیر وضو چھونا حرام ہے؟

امام خمینی،آیت الله تبریزی،سیستانی،صافی،وحید،نوری:احتیاط واجب كی بناء پر بغیر طهارت كے نه چھواجائے۔(۵)

آیت الله خامنه ای :اگر عرف كی نظر میں وه الله كے ناموں میں شمار ہوتاہے تو بغیر وضو مس كرنا حرام ہے۔(۶)

آیت الله فاضل،مكارم:كوئی اشكال نہیں لیكن بهترہے كه مس نه كیاجائے۔(۷)

آیت الله بهجت:بغیر طهارت كےمس كرنا جائز نہیں ہے۔(۸)

عبدالله كا نام

سوال نمبر۵۴: جن كے نام “عبدالله”“ یا حبیب الله”جیسے ہوں ، بغیر وضو ان كے نام كو لكھنے یا چھونے كا كیا حكم ہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی ،نوری:لفظ الله كو بغیر وضو كے چھونا جائز نہیں ،بھلے ہی وه مركب اسم كا جزء ہو۔(۹)

آیت الله مكارم،وحید:احتیاط واجب كی بناء پر الله كے نام كو بغیر وضو كے چھونا جائز نہیں اگرچه وه مركب اسم كاجزء كیوں نه ہو۔(۱۰)

آیت الله تبریزی،سیستانی،فاضل:كوئی حرج نہیں لیكن بهتر ہے كه بغیر وضو كے نه چھواجائے۔(۱۱)

الله كے نام كی تعویذ

سوال نمبر۵۵: ایسی تعویذپهننے كاكیا حكم ہے جس پر خدا كا نا م نقش ہو ؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،خامنه ای،صافی،نوری،پهنے میں كوئی ہرج نہیں لیكن بغیر طهارت كے مس نه كیا جائے۔(۱۲)

آیت الله تبریزی،سیستانی،مكارم،وحید:پهننے میں كوئی حرج نہیں لیكن احتیاط واجب كی بناءپر الله كے نام كو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہے۔(۱۳)

آیت الله فاضل:پهننے میں كوئی حرج نہیں لیكن بهترہے كه بغیر طهارت كے نه چھواجائے۔(۱۴)

ٹوٹ:اوپر بتائی گئی تعویذ كا استعمال كرنا اور پهنناجائز ہے صرف اسے بدن سےمس كرنا جائز نہیں ہے لهذا اگر كوئی اسے اپنے لباس كے اوپر سے پهنے یا اس پر كوئی cover چڑھا دے تو بغیر طهارت بھی كوئی حرج نہیں ہے۔

قرآنی تعویذ

سوال نمبر۵۶: حیض كےدنوں میں ایسی تعویذ كو پهننے كا كیاحكم ہےجس پر قرآنی آیات لكھی ہوں؟

تمام مراجع:تعویذ پهننے میں كوئی ہرج نہیں صرف قرآن كی آیت بدن كے كسی حصه سے مس نه ہونے پائے۔(۱۵)

خدا كےنام كا عقیق

سوال۵۷: كیا ایسی عقیق جس پر خدا كانام كنده یا لكھاہے گلے میں پهن كرپاخانه وغیره كی جگہوں میں جایا جاسكتاہے؟

تمام مراجع:اگر بے احترامی اور بےحرمتی كا باعث نه ہو تو كوئی حرج نہیں۔(۱۶)

۳۶

حوالہ جات:

۱ ۔امام،استفتاءات،جلد۱،وضو،سوال۷۹۔

۲ ۔تبریزی،صراط النجاة،جلد۵،سوال۹۹۰؛خامنه ای،اجوبة الااستفتاءات سوال۱۴۷اور۱۴۸؛نوری،استفتاءات جلد۱،سوال۵۲؛فاضل،جامع المسائل جلد۱، سوال۱۸۴ ؛سیستانی،مكارم صاحب كا دفتر۔

۳ ۔جامع الاحكام،جلد۱،سوال۵۳،اور ۵۴ اور بهجت صاحب كادفتر۔

۴ ۔وحید صاحب كادفتر۔

۵ ۔آیت الله تبریزی،صراط النجاة،جلد۵،سوال،۹۸۷،امام،استفتاءات جلد۱،وضو،سوال۸۰؛صافی،جامع الاحكام،جلد۱،سوال۵۳،اور ۵۴؛سیستانی،وحید اور نوری صاحب كا دفاتر۔

۶ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۵۷۔

۷ ۔جامع المسائل ،جلد۱،سوال ۱۸۴،آیت الله مكارم،استفتاءات،جد۲،سوال۲۵۔

۸ ۔آیت الله بهجت صاحب كا دفتر۔

۹ ۔امام خمینی،استفتاءات،جلد۱،وضو،سوال۸۲؛آیت االله نوری،استفتاءات،جلد۱،سوال۵۳؛خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۵۲؛صافی جامع الاحكام، جلد۱، سوال۵۴؛ بهجت صاحب كا دفتر۔

۱۰ ۔آیت الله مكارم،اور وحیدكے دفاتر۔

۱۱ ۔آیت الله فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال۱۸۴؛تبریزی،صراط النجاة،جلد۵،سوال ۹۹۰؛سیستانی،صاحب كا دفتر۔

۱۲ ۔آیت الله خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۵۲، ۱۵۳،توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۱۹،نوری،توضیح المسائل ،مسئله۳۲۰۔

۱۳ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله،۳۱۹،آیت الله وحید،توضیح المسائل ،مسئله۳۲۵۔

۱۴ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۱۹۔

۱۵۔سابقه حواله،مسئله۳۱۹،وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۲۳؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۱۸؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۵۳اور ۱۵۴۔

۱۶۔تمام مراجع كرام كے دفاتر۔

۳۷

غسل كے احكام (غسل كی اہمیت )

سوال نمبر۵۸:غسل كی اہمیت كے بارے میں فرمائیں؟

> وَ إِنْ كُنْتُمْ جُنُباً فَاطَّهَّروا < (سوره،مائده،آیت۶)

اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کرو۔

غسل،لغوی اعتبار سے كسی چیز كی گندگی كے دھونے كو كهتے ہیں۔اور فقه كی اصطلاح میں خدا كے حكم كی فرمانبرداری اور قصد قربت سے پورے بدن كے دھونے كو غسل كهتے ہیں۔

غسل كی دو قسمیں ہیں :واجب غسل اور مستحب غسل۔

واجب غسلوں سے مراد:جنابت كا غسل،حیض كا غسل،نفاس كا غسل،استحاضه كا غسل،میت كو چھونے كا غسل،میت كا غسل ہےاور وه غسل جونذر و عهد اور قسم وغیره كے ذریعه واجب ہوجاتاہے۔

مستحب غسلوں كی تعداد بهت زیاده ہے تفصیلی كتابوں میں ان كا نام بتایاگیاہے۔

واجب غسلوں میں سب سے اہم غسل جنابت ہے۔غسل جنابت خود بخود واجب نہیں ہے بلكه(نماز، قرآن كو چھونا وغیره جیسے)بعض كاموں انجام دینے كے لئے خدا كے حكم سے واجب ہواہے۔اور اس طرح كے اعما ل غسل كے بغیر انجام دینا گناه ہے بلكه بعض مواقع پر عمل باطل ہوجاتاہے۔

۳۸

غسل جنابت كے دو اہم فائدے اور فلسفے ہیں

۱- دانشوروں كی تحقیقات كے مطابق ،انسان كے بدن میں دو طرح كے نبائی(رشد پانے والے)اعصاب پائے جاتے ہیں جوبدن كی تمام حركتوں اور Acfivities كو كنڑول كرتے ہیں:ایك Sampatik اعصاب اور دوسرے Parasmpatik اعصاب كی یه دو رگیں انسان كے پورے بدن میں كنڑل ہوئی ہیں۔ Sampatik اعصاب كی ذمه داری بدن كی مختلف مشنیریوں كو تیز كرنا اور Parasampatik اعصاب كا وظیفه انہیں سست كرناہے كبھی كبھی بدن میں ایسے حالات پیدا ہوتے ہی جو اس تعادل (میزان)كو خراب كردیتے ہیں جن میں سے ایك orgasm (یعنی جنسی و شہوانی لذت كی اوج)كی حالت ہے جو عام طور پرمنی كے خارج ہونے كے ساتھ ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ ایسے وقت جو چیز Sampatik اعصاب كو كام كرنے پر مجبور كرتی ہے اور بگڑے ہوئے تعادل كو دوباره صحیح كرسكتی ہے وه پانی كا بدن سے ملناہے۔اور چونكه orgasm كا اثر بدن كے تمام اعضاء كے اوپر محسوس طریقه سے دكھائی دیتاہے لهذا حكم دیا گیا كه ہم بستری كے بعد یا منی كے خارج ہونے كے بعد پورے بدن كو پانی سے دھویا جائے۔

۲- تمام عمر میں بدن كو پاك وصاف ركھنے اور نظافت و پاكیزگی كا خیال ركھنے كے لئے غسل جنابت ایك اسلامی قانون ہے۔كچھ لو گ ہم یشه اپنی نظافت و صفائی سے غافل ہوجاتے ہیں لیكن یه اسلامی حكم انہیں مجبور اورآماده و تیار كرتاہے كه وه مختلف فاصلوں میں خود كو دھوئیں اور بدن كو پاك و صاف ركھیں جوكه صرف حكمت اور فلسفه كے عنواں سے غسل كهلاتا ہے ورنه كسی بھی لحاظ سے غسل كے واجب ہونے كا اصلی معیارنہیں ہے۔كیونكه غسل ایك واجب تعبدی ہے(یعنی خدا كے حكم كی بنیادپرہے)جس میں قربت كا قصد و ارده كرنا ضروری ہے۔ اسی لئے جس نے ابھی تازه اپنے بدن كو دھویا ہو(یعنی نهایا ہو)اگراس سے منی خارج ہوجائے تو پھر اسے غسل كرنا ضروری ہے۔(۱)

غسل كو دو طریقه سے كیا جاسكتاہے:ترتیبی اور ارتماسی ۔ترتیبی غسل میں،پهلے سروگردن كو اس كے بعد بدن كے بائیں پھردائیں حصه كودھویا جاتاہے۔(۲)

اور ارتماسی غسل میں یكبار گی پورے بدن كو پانی میں ڈبودیاجاتاہے(جیسے Swimmingpool میں نهانا)۔دونوں طریقوں میں ہاتھ كا پھیرنا ضروری نہیں ہے بلكه اتنا ہی كه غسل كی نیت سے پورے بدن پر پانی پهنچ جائے كافی ہے۔وه تمام شرطیں جو وضو كے صحیح ہونے كے لئے ضروری ہیں وہی غسل كے صحیح ہونے كے لئے بھی شرط ہیں۔لیكن كچھ چیزیں وضوسے جدا ہیں:

۱-غسل میں موالات(پے درپے)شرط نہیں ہے۔

۲- غسل میں اوپرسے نیچے كی طرف دھونا ضروری نہیں ہے۔(۳)

۳- غسل میں بدن كی كھال تك پانی كا پهنچنا لازم ہے لیكن وضومیں اگر بالوں كے اندر سے كھال نظر نہیں آرہی ہو تو پانی كاوہاں تك پهنچانا ضروری نہیں ہے۔

واجب اور مستحب غسلوں كی تمام قسموں كے لئے غسل كرنے كی كیفیت بالكل ایك جیسی ہے اور اس میں كسی طرح كا كوئی فرق نہیں ہے۔

۳۹

حوالہ جات:

۱ ۔تفسیر نمونه،جلد۴،ص۳۹۴۔

۲ ۔یه جانا ضروری ہے كه بعضی مراجع حضرات ،اعضاء كے دھونے كی ترتیب میں احتیاط واجب كے قائل ہیں۔

۳ ۔البته بعضی مراجع(آیت الله بهجت)اوپرسے نیچے كی طرف دھونے كو احتیاط واجب مانتےہیں۔

۴۰