گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6636
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6636 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

متعدد غسل

سوال نمبر۵۹: اگر كسی شخص پركئی غسل واجب ہوں تو كیا وه تمام غسل كی نیت سے صرف ایك غسل انجام دے سكتا ہے؟

تمام مراجع:جی ہاں ،انجام دے سكتاہے۔(۱)

شاور كے نیچے غسل

سوال نمبر۶۰: كیا شاور كے نیچے غسل ارتماسی كیا جاسكتاہے؟

تمام مراجع:شاور كے نیچے غسل ارتماسی نہیں ہوسكتا بلكه اسیای جگہوں پر ترتیبی جاسكتاہے۔(۲)

غسل كے مبطلات

سوال نمبر۶۱: غسل كرنے كے بعد پیشاب یاریاح خارج ہونے سے تو كیا غسل باطل ہوجاتاہے؟

تمام مراجع:نہیں ،غسل باطل نہیں ہوگا لیكن نماز كے لئے وضو كرنا ہوگا۔(۳)

غسل كے دوران ریاح كا خارج ہونا

سوال نمبر۶۲: اگر غسل جنابت كے دوران حدث اصغر (جیسے پیشاب؛ریاح۔۔۔)خارج ہوجائے تو كیا غسل صحیح ہے؟

امام خمینی،خامنه ای،صافی،فاضل،نوری:غسل باطل نہیں ہوگا اسے مكمل كرے لیكن بهتر(احتیاط مستحب) ہےكهاس كو اس قصدسے كه جو اس كے ذمه (تمام یا اعاده)ہےپھرسےانجام دے اور ہر صورت میں اسےنماز اور ہروه كام جس میں طهارت شرط ہے وضو بھی كرنا ہوگا۔(۴)

سیتیانی:غسل باطل نہیں ہوگا لیكن احتیاط واجب كی بناءپر نماز اور ہر وه كام جس میں طهارت شرط ہے وضو كرنا ہوگا۔(۵)

مكارم:احتیاط واجب كی بناء پر غسل كو دوباره انجام دے اور نماز اورہر وه كام جس میں طهارت ضروری ہے وضو كرے۔(۶)

تبریزی: پھر سے غسل انجام دے اور احتیاط واجب كی بناءپر نماز اور ہر وه كام جس كے لئے طهارت ضروری ہے وضو بھی كرے۔(۷)

وحید:احتیاط واجب ہے كه غسل كو مكمل كرے اور پھر دوباره غسل انجام دے اور نمازاور وه كام جس میں طهارت ضروری ہے وضو كرے۔(۸)

بهجت:ضروری نہیں ہے كه غسل كوپورا كرے بلكه احتیاط واجب كی بناءپر مافی الذمه كی نیت سے اسے دوباره انجام دے اور نماز زاوروه كام جس میں طهارت ضروری ہے وضو كرے۔(۹)

بڑے بالوں كاغسل

سوال نمبر۶۳: كیاغسل میں بدن كے بڑے بالوں كا دھونا واجب ہے؟

امام خمینی خمینی،آیت الله فاضل،مكارم،نوری:احتیاط واجب كی بناءپر بڑے بالوں كابھی دھونا واجب ہے۔(۱۰)

بقیه تمام مراجع:نہیں ۔ بڑے بالوں كا دھوناواجب نہیں ہے۔(۱۱)

ٹوٹ:اگربڑے بالوں كو دھوئے بغیر پانی بدن تك نہیں پهنچ رہا ہے تو ان كو دھویا جائے تاكه پانی آسانی سے بدن تك پهنچ سكے۔

غسل كے دوران سہو و نسیان

سوال نمبر۶۴: اگر غسل كرنےكے بعد پته چلے كه بدن كے كچھ حصه تك پانی نہیں پهنچا ہے تو كیا حكم ہے؟

امام خمینی خمینی ،آیت الله بهجت،صافی،فاضل،نوری:اگر بدن كابایاں حصه ہو تو اسی حصه كا دھونا كافی ہے اور گر دایاں حصه ہو تو اس كے دھونے كے بعد بائیں حصے كو دورباره دھونا ہوگا اور اگرسرو گردن ہوں تو ان كے دھونے كے بعد دوباره دائیں حصه اور اس كے بعد بائیں حصه كو دھونا پڑے گا۔(۱۲) تبریزی:اگر بایاں حصه ہو تو اسی حصه كا دھونا كافی ہے اور اگر دایاں حصه ہو تو احتیاط مستحب ہے كه اس كو دھونے كے بعد دوباره دایاں حصه دھویاجائے اوراگر سرو گردن ہے تو اس كو دھونے كے بعد دوباره دائیں اور اس كے بعد بائیں حصه كو دھویاجائے۔(۱۳)

سیستانی:اگر بایاں حصه ہو تو اسی حصه كا دھونا كافی ہے اور اگر دایاں حصه ہو تو احتیاط مستحب ہے كه اسے دھونے كے بعد بائیں حصه كو پھر سے دھویاجائے اور اگر سروگردن ہے تواحتیاط واجب ہے اسے دھونے كے بعد دوباره بدن دھویا جائے۔(۱۴)

خامنه ای،مكارم،وحید:اگر بایاں حصه ہو تو اسی حصه كا دھونا كافی ہے اور اگر دایاں حصه ہو تو احتیاط مستحب ہے كه اسے دھونے كے بعد دوباره دائیں حصه كو دھویا جائے اور اگر سروگردن ہو تو ان كو دھونے كے بعد دوباره دائیں پھر بائیں حصه كو دھویاجائے۔(۱۵)

غسل میں شك

سوال نمبر۶۵: اگر غسل تمام ہونے كے بعد اس كے صحیح ہونے میں شك ہو تو كیا كیاجائے؟

تمام مراجع:غسل صحیح ہے۔(۱۶)

۴۱

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۸۹،نوری،توضیح المسائل،مسئله۱۳۹۰؛وحید،توضیح المسائل ،مسئله۳۹۵اور خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۸۷۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۶۱،نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۶۲، خامنه ای،صاحب كا دفتر۔

۳ ۔العروة الوثقیٰ،فصل فی مستحبات غسل الجنابة،مسئله۱۰۔

۴ ۔امام،تحریر الوسیله،جلد۱،واجبات الغسل مسئله،۱۹،توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۸۹؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات سولا۱۸۵؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۸۷اور تعلیقات علی العروة ،فعل مستحبات الغسل،مسئله۸۔

۵ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۸۶۔

۶ ۔حواله سابقه،مسئله۳۸۶۔

۷ ۔آیت الله تبریزی،منهاج الصالحین،جلد۱،مسئله۲۰۶۔

۸ ۔آیت الله وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۹۲۔

۹ ۔آیت الله بهجت،وسیلة النجاة ،جلد۱،مسئله۲۱۸۔

۱۰ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۷۹؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۸۰۔

۱۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۶۵؛ وحید،توضیح المسائل ،مسئله۳۸۵۔

۱۲ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۶۵،نوری،توضیح المسائل مسئله،۳۶۶۔

۱۳ ۔ توضیح المسائل مسئله،۳۶۵۔

۱۴ ۔سیستانی، توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۶۵۔

۱۵ ۔خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۱۹۱،وحید، توضیح المسائل مسئله۳۷۰،مكارم، توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۶۵۔

۱۶۔ آیت الله بهجت،وسیلةالنجاة،جلد۱، مسئله۳۷۵؛ صافی، هدایةالعباد،جلد۱، مسئله۱۳۸؛وحید، منهاج الصالحین،جلد۲، مسئله۱۹۳؛تبریزی،منهاج الصالحین،جلد۱، مسئله۱۹۳؛ امام خمینی ،فاضل، نوری،مكارم،تعلیقات علی العروة ،احكام الغسل،مسئله۱۴،خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۴۲

جنابت كے احكام

سوال نمبر۶۶: جنابت كی پهچاں كا طریقه كیاہے؟

تمام مراجع:انسان دو چیزوں سے مجنب ہوتاہے:(۱-جماع ،اگرچه صرف دخول ہی كیوں نه ہو(اور منی باہر بھی نه آئے) عورت اور یا مرددونوں ۔(۲-منی كا بیداری یانیند كی حالت میں ،تھوڑا یا زیاده ،شہوت كے ساتھ یا بغیر شہوت كے اختیارسےیا بے اختیار خارج ہونا۔(۱)

سوال نمبر۶۷: وذی،مذی،ودی،كے بارے میں بیان فرمائیں؟

تمام مراجع:"مذی": اس تری و رطوبت كو كهتے ہیں جو انسان كو چھیڑچھار(ہنسی مذاق)كے وقت باہر آئے۔"وذی":اس تری و رطوبت كو كهتے جو كبھی منی كے بعدباہر آئے۔

"ودی" اس تری و رطوبت كو كهتے ہیں جو پیشاب كے بعد باہر آتی ہے اور تھوڑا سفید اور چپكنےوالی ہوتی ہے۔

یه تمام رطوبت اس وقت پاك ہوں گی جب پیشاب كی نلی میں پیشاب اور منی نه ہو۔(۲)

نوٹ:پیشاب كے بعد استبراء كرنے كا فائده یه ہے كه اگر پیشاب كے بعد كوئی تری خارج ہو جس كے بارے كه پیشاب ہے یا نہیں میں شك ہو تو وه پاك ہوگی اور وضو بھی باطل نہیں ہوگا لیكن اگر استبراء نه كیا ہو تو دوباره وضو كرنا ہوگا اور جگه كو بھی دھونا پڑے گا ۔ اور منی كے بعد استبراء كافائده یه ہے كه اگر اس كے بعد كوئی رطوبت خارج ہوتی ہےجس كے بار ے میں نہیں معلوم كه منی ہے یا پاك پانی تو غسل واجب نہیں ہے لیكن اگر استبراء نه كیا ہو اور یه احتمال دے كه منی كے ذرات پیشاب كی نلی میں ره گئے ہوں جواب پیشاب یا دوسری رطوبت كے ساتھ خارج ہو رہے ہیں تو دوباره غسل كرنا ہوگا۔

۴۳

حوالہ جات:

۱- توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۴۵،وحید،توضیح المسائل مسئله۳۵۱؛مكارم، توضیح المسائل مسئله۳۵۱؛نوری، توضیح المسائل مسئله۳۲۶؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،احكام غسل جنابت۔

۲-توضیح المسائل مراجع، مسئله۷۳،۳۴۸،العروة الوثقیٰ،جلد۱،غسل جنابت كے مستحبات مسئله۲اور ۳؛نوری، توضیح المسائل مسئله۳۴۹؛وحید، توضیح المسائل مسئله ۷۴اور۳۵۴؛خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۴۴

منی كو پهچانے كا طریقه

سوال نمبر۶۷: مرد كے لئے منی اور احتلام كی پهچاں كا كیا طریقه ہے؟

تمام مراجع:(بهجت ،صافی اور مكارم كے سوا)منی كی تین علامتیں ہیں:

۱- شہوت كے ساتھ نكلے۔

۲- اچھل كر باہر آئے۔

۳- بدن میں سستی محسوس ہو ۔

اگر ان تین علامتوں میں سے كوئی ایك بھی علامت موجود نه ہو تو وه منی نہیں ہوگی مگر یه كه كسی اور طریقه سے یقین ہوجائے كه منی ہے۔(۱)

بهجت ،مكارم:مرد میں منی كے خارج ہونے كی دو علامتیں ہیں:

۱- شہوت كے ساتھ نكلے۔

۲- اچھل كرباہر آئے۔

اگر ان دو علامتوں میں سے كوئی ایك بھی علامت موجود نه ہو تو وه منی كا حكم نہیں ركھتی مگر یه كه كسی اور طریقه سے یقین حاصل ہوجائے كه منی ہے۔(۲)

صافی:جورطوبت شہوت كے ساتھ اچھل كر باہر آئے یا اچھل كر باہر آئے اور بدن سست ہو جائے وه منی كا حكم ركھتی ہے اور اگر ان دونوں میں سے كوئی علامت موجود نه ہو تو وه منی نہیں ہے مگر یه كه كسی اور طرح سے اطمنیان حاصل ہوجائے كه منی ہے۔(۵)

۴۵

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۴۶؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۳۵۲؛نوری،توضیح المسائل مسئله۳۴۷؛خامنه ای، اجوبه الاستفتاءات،سوال ۱۸۰۔

۲ ۔آیت،بهجت،توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۴۶؛مكارم،تعلیقات علی العروه،غسل جنابت۔

۳ ۔ توضیح المسائل، مسئله۱۳۵۲۔

۴۶

عورت كی جنابت

سوال نمبر۶۹: عورت كے لئے منی یا احتلام كی پهچان كا كیا طریقه ہے؟

تمام مراجع:(تبریزی،بهجت،نوری كے سوا)عورت سےنكلنے والی رطوبت اگر شہوت كے ساتھ ہو تو جنابت كا حكم ركھتی ہے اور ضروری نہیں ہے كه اچھل كر ہی باہر آئے اور بدن سست ہو ۔ لیكن اگروه بغیر شہوت كے ہو تو منی كا حكم نہیں ركھتی مگر یه كه كسی اور طریقه سے منی ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۱)

بهجت:اگر رطوبت شہوت كے ساتھ ہو اور اچھل كرباہر آئے تو منی كا حكم ركھتی ہے اور اگر ان دونوں میں سے كوئی بھی یا ان میں سےایك بھی علامت موجود نه ہو تو وه منی كا حكم نہیں ركھتی مگر یه كه كسی اور راه سے منی ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۲)

تبریزی،نوری:خارج ہونے والی رطوبت اگر خاص شہوت كے ساتھ آئے اوراس كے بعد بدن بھی سست ہوجائے تو وه منی ہے لیكن اگر ان دونوں میں سے كوئی بھی یا ایك بھی نشانی نه ہو تو منی كا حكم نہیں ركھتی مگر یه كه كسی اور طریقه سے منی ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۳)

عورتوں سے خارج ہونے والی رطوبت كی طهارت

سوال نمبر۷۰: كیا عورتوں سے خارج ہونے والی رطوبت یاپانی پاك ہے؟

تمام مراجع:خارج ہونے والی رطوبت پاك ہےاس سےغسل واجب نہیں ہوتامگر یه كه پیشاب یامنی ہونے كایقین حاصل ہوجائے۔(۴)

۴۷

حوالہ جات:

۱۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۴۶؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۳۵۲؛سیستانی،تعلیقات علی العروه،جلد۱،غسل جنابت؛خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات سوال، ۱۷۱؛ صافی،هدایة العباد،جلد۱،مسئله۱۷۵۔

۲۔آیت،بهجت،توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۴۶۔

۳ ۔آیت،تبریزی،استفتاءات،سوال۲۴۸۔

۴۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،مستحبات غسل جنابت،مسئله۶۔

۴۸

جنابت كےمحرمات

سوال نمبر۷۱: وه كام جو مجنب پر حرام ہیں كون كون سے ہیں؟

كچھ چیزیں ہیں جو جنابت كی حالت میں حرام ہیں:

۱- مسجدمیں كوئی چیز ركھنا۔

۲- واجب سجدوں كی آیتوں‌كی تلاوت كرنا۔

(قرآن كے چارسوروں :سجده،فصلیت،نجم،علق، میں سجدہ واجب ہے البته بعض مراجع كرام نے واجب سجده والے سوروں كامجنب کوپڑھنا حرام قرار دیاہے)

۳- مسجدالحرام اور مسجدالنبی میں داخل ہونا اگرچه ایك دروازے سے داخل ہو اور دوسرے سے باہر نكل آئے۔

۴- اپنے بدن كے كسی حصه كو حروف قرآن یا خدا كے نام سے مس كرنا۔

۵- دوسری مساجد میں ٹھہرنا البته اگر ایك دروازے سے داخل ہو كر دوسرے سے نكل آئے تو كوئی حرج نہیں ہے۔

۴۹

جنابت كےمكروهات

سوال نمبر۷۲: وه چیزیں جو مجنب پر مكروه ہیں كونسی ہیں؟

چندچیزیں مجنب پر مكروه ہیں:

۱- كھانا اور پینا۔

۲- بغیر وضو كے سونا لیكن اگر وضو كرلے یا اگر پانی نه ہونے كی صورت میں تیمم كرلے تو مكروه نہیں ہے۔

۳- قرآن مجید كا اپنے ساتھ ركھنا۔

۴- بدن پر مالش كرنا۔

۵- محتلم ہوجانے كے بعد جماع كرنا۔

۶- مهندی وغیره سے خضاب لگانا۔

۷- قرآن كی جلدیاحاشیه سے بدن كو مس كرنا۔

۸- واجب سجده والے سوروں كے علاوه سات آیت سے زیاده كی تلاوت كرنا۔

۵۰

وضو كے بدلے غسل

سوال نمبر۷۳: كن غسلوں كے ذریعه نمازپڑھی جاسكتی ہے؟

امام خمینی،بهجت،خامنه ای،صافی:صرف غسل جنابت كے ذریعه نماز پڑھی جاسكتی ہے لیكن دوسرے غسلوں كے ساتھ وضو بھی كرنا ہوگا۔(۱)

مكارم: تمام واجب اور مستحب غسلوں كے ساتھ نماز پڑھی جا سكتی ہے اور وضو كرنا واجب نہیں ہے لیكن احتیاط مستحب یه ہے كه غسل جنابت كے علاوه دوسرے تمام غسلوں كے ساتھ وضوبھی كیا جائے۔(۲)

فاضل: استحاضه متوسطه كے علاوه تمام واجب غسل سے ،نمازپڑھی جاسكتی ہے اگرچه احتیاط مستحب ہے كه غسل جنابت كے علاوه بقیه غسل میں وضو بھی كیا جائے۔(۳)

تبریزی،سیستانی،نوری،وحید: استحاضه متوسطه كے علاوه تمام غسلوں میں چاہے واجب ہوں یا مستحب نماز پڑھی جاسكتی ہے اگرچه احتیاط مستحب یه ہے كه غسل جنابت كے علاوه دوسرےغسلوں میں وضو كیاجائے۔(۴)

غسل جنابت كی نیت

سوال نمبر۷۴: غسل جنابت كے قصد سے میں غسل خانه میں گیا لیكن جب باہر آیا تو شك ہوا كه غسل كیا یانہیں،میرا شرعی وظیفه كیا ہوگا؟

تمام مراجع: غسل انجام نه دینے پربنا ركھیں اور غسل جنابت كی نیت سے غسل انجام كریں۔(۵)

۵۱

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۹۱اور۶۴۶۔

۲ ۔حواله سابقه،مسئله ۳۹۱اور۶۴۶۔

۳۔حواله سابقه،مسئله۳۹۱اور۶۴۶۔

۴ ۔حواله سابقه،مسئله۳۹۱اور۶۴۶،وحید،توضیح المسائل، مسئله۳۹۷،نوری،توضیح المسائل مسئله۳۹۲اور۶۴۷۔

۵۔بهجت،وسیلة النجاة،جلد۱،مسئله۶۷۵؛صافی،هدایة العباد؛جلد۱،مسئله۱۲۸؛وحید،منهاج الصالحین،جلد۲،مسئله۱۹۳؛تبریزی،منهاج الصالحین،جلد۱،مسئله۱۹۳، امام خمینی فاضل، نوری،مكارم،تعلیقات علی العروه،احكام غسل مسئله۱۴،اور دفتر خامنه ای۔

۵۲

غسل جنابت كاوقت

سوال نمبر۷۵: كیا غسل جنابت كا فوراًانجام دیناواجب ہے؟

تمام مراجع:نہیں، غسل جنابت فقط نماز اور ان كاموں كے لئے واجب ہوتاہے جن میں طهارت ضروری ہے۔(۱)

غسل جنابت كی مدت

سوال نمبر۷۶: غسل جنابت سے كتنے وقت كی نماز پڑھی جاسكتی ہے؟

تمام مراجع: جب تك كوئی ایسا كام سرزدنه ہو جس سےوضو ٹوٹتاہے اس سے نماز پڑھی جاسكتی ہے۔(۲)

جان بوجھ كر محنب ہونا اور تیمم كرنا

سوال نمبر۷۷: جوشخص غسل نہیں كرسكتالیكن تیمم كرسكتاہے كیاوه اپنی بیوی كے ساتھ جماع كركے تیمم كے ساتھ نماز پڑھ سكتاہے؟

تمام مراجع:(فاضل كے سوا)جی ہاں:اپنی بیوی كے ساتھ جماع كرسكتاہے چاهئے نماز كاوقت داخل ہونے كے بعد ہو یا پهلے۔(۳)

فاضل :نماز كا وقت داخل ہونے سے پهلے كوئئ حرج نہیں ہے لیكن اس كے بعد (اگر بغیر كسی ضرورت كے جماع كرے تو )صحیح نہیں ہے ۔ لیكن اگر نزدیكی، لذت یا شہوت كی وجه سے یا كسی اورعقلائی كام كی وجه سے ہو تو كوئی حرج نہیں ۔(۴ )

۵۳

وقت نماز سے پهلے غسل كرنا

سوال نمبر۷۸: كیا نماز سے پهلے غسل جنابت كیا جاسكتاہے ؟

تمام مراجع:اگر قربت اور طهارت كی نیت سے غسل كیا جائے تو كافی ہے اور اس غسل سے نماز پڑھی جاسكتی ہے۔(۵)

منی میں شك ہونا

سوال نمبر۷۹: اگر خواب كی حالت میں انسان سے كوئی ایسی رطوبت خارج ہو جس كے بارے میں نہیں معلوم كه منی ہے یا نہیں، تو اس رطوبت كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر منی كی علامتیں پائی جائیں تو غسل واجب ہوگا لیكن شك كی صورت میں غسل واجب نہیں ہے۔(۶)

جنابت میں شك كرنا

سوال نمبر۸۰: میں جب صبح اٹھا تو میں نے محسوس كیا كه محتلم ہوگیا ہوں جبكه میں نے كسی قسم كی لذت اپنے اندر محسوس نہیں كی ہے تو كیا غسل واجب ہوگا؟

تمام مراج ع:(آیت الله صافی كے سوا)اگرمنی كی علامتوں میں سے كوئی ایك علامت بھی موجود نه ہو یااس كے بارےمیں شك ہو رہاہے توغسل واجب نہیں ہوگا مگر یه كه كسی اور طریقه سے منی ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۷)

صافی:اگر منی كی علامتوں میں سے كوئی بھی علامت نه ہو یا اس كے بارے میں شك ہو رہا ہو تو غسل واجب نہیں ہوگا مگر یه كه كسی اور طریقه سے منی كے ہونے كا یقین حاصل ہوجائے۔(۸)

۵۴

غسل كےبعد نكلنے والی رطوبت

سوال نمبر۸۱: اگر غسل جنابت كے بعد كوئی مشكوك رطوبت خارج ہو تو كیا یه نجس ہے اور غسل ضروری ہے؟

تمام مراجع كرام:اگر غسل سے پهلے پیشاب یا استبراء كیا تھا تو یه رطوبت پاك ہوگی اور غسل واجب نہیں ہے لیكن اگر ایسا نہیں كیا تو خارج ہونے والی رطوبت منی كا حكم ركھتی ہے۔(۹)

نوٹ:یه مسئله اس شخص كے لئے ہے جو منی كے باہر آنے كی وجه سےمجنب ہوا ہو او رغسل كے بعداس كے مشكوك رطوبت خارج ہوئی ہو۔ لیكن اگر وه جماع كے ذریعه مجنب ہوا(منی باہر آئے بغیر)توغسل كے بعد اگر مشكوك رطوبت دیكھتاہے تو وه پاك ہے اور غسل بھی نہیں ہے چاہے غسل سے پهلے پیشاب بھی نه كیا ہو۔

جنابت اور نماز میں تأخیر كرنا

سوال نمبر۸۲: اگر كوئی اذان صبح كے بعد احتلام كی حالت میں جاگے تو كیا طلوع آفتاب تك نمازمیں تأخیر كركے تیمم سے پڑھ سكتاہے؟

تمام مراجع:اگر نماز میں تأخیر اس لئے كرے تا كه وقت كم ره جائے تو اس نے گنا ه كیا لیكن تیمم كركے نمازپڑھ سكتاہے اور اس كی نماز صحیح ہوگی۔(۱۰)

۵۵

حوالہ جات:

۱۔العروة الوثقیٰ،جلد۱،احكام غسل۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۲۳،نوری،توضیح المسائل مسئله۳۲۴۔

۳ ۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۵۳،امام،تحریر الوسیله،جلد۱،غسل جنابت،مسئله۳؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۵۴؛وحید،توضیح المسائل ،مسئله۳۵۹اور خامنه ای اجوبة الاتسفتاءات مسئله۱۹۰۔

۴ ۔فاضل،تعلیقات علی العروه،غسل جنابت،مسئله۸۔

۵ ۔العروة الوثقیٰ،فصل غسل جنابت۔

۶ ۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۴۶؛وحید،توضیح المسائل مسئله۳۵۲؛نوری،توضیح المسائل، مسئله۳۲۷؛خامنه ای اجوبة الاستفتاءات،سوال۱۸۰۔

۷ ۔ توضیح المسائل مراجع، مسئله۳۴۶؛وحید،توضیح المسائل مسئله۳۵۲؛نوری،توضیح المسائل ،مسئله۳۴۷؛خامنه ای اجوبة الاستفتاءات ،سوال۱۸۰۔

۸ ۔ توضیح المسائل مسئله۳۵۲۔

۹۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۴۸؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۳۵۴؛نوری،توضیح المسائل، مسئله۳۴۹،دفتر خامنه ای۔

۱۰ ۔العروة الثقیٰ،فصل فی التیمم،مسئله۲۶۔

استمناء كے احكام (استمناء كی تعریف )

سوال نمبر۸۳: استمناء كسے كهتے ہیں؟

تمام مراجع:استمناء ایسا عمل ہے جس میں انسان خود سے یا كسی اور كے ذریعه ایسا كام كرے جس سےمنی باہر آجائے ۔ اور اس عمل(استمناء) كا انجام دینا حرام ہے(۱)

لیكن منی نكلنے كی صورت میں غسل جنابت واجب ہوجاتا ہے۔

اپنے شہوت كی بھڑاس نكالنے كا حرم ہونا

سوال نمبر۸۴: كیااپنے شہوت كی بھڑاس لنكالناحرام ہےچاہے منی خارج ہونیکی حدتك نه پهنچے؟

تمام مراجع كرام:(تبریزی،سیستانی اور وحید كے علاوه) حرام ہے لیكن اس پرغسل واجب نہیں(۲

تبریزی،سیستانی اور وحید:احتیاط واجب كی نباء پر حرام ہے،لیكن اس پر غسل واجب نہیں (۳)

خاص حالات میں استمناء

سوال نمبر۸۵: جب صحیح و سالم روح كے تعادل كی حفاظت ممكن نه ہو تو بعض ماہر ین نفسیات استمناء كو صحیح ٹھہراتے ہیں۔مراجع كرام:كی اس سلسله میں كیا نظر ہے؟

تمام مراجع:ہر حال میں حرام ہے مگر یه كه یه كام معالجه اور علاج كی غرض سے ہو اور اس كا علاج صرف استمناء پر ہی منحصر ہو۔(۴)

استمناء كا حرام ہونا

سوال نمبر۸۶: جس كے ساتھ شادی كے حالات فراہم نه ہوں اور غریزه جنسی كے لحاظ سے بهت پریشان حال رہتاہو كیا وه استمناء كرسكتاہے؟

تمام مراجع:ہرگز نہیں، استمناء كسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔(۵)

استمناء اور لیبرٹریز

سوال نمبر۸۷: بچه دار ہونے كی قدرت كو جاننے كے لئے كوئی مرد استمناء كرسكتاہے تاكه اس كی منی پر ڈاكٹری ٹسٹ انجام دیاجاسكے؟

تمام مراجع:قطعا نہیں،یه كام جائز نہیں ہے مگر یه كه كوئی ضرورت در پیش ہو۔(۶)

نوٹ: اگر ضرورت ،استمناء پر ہی موقوف ہو اور وه شادی شده ہے تو واجب ہے اس عمل كو زوجه كے ذریعه انجام دے(نه كه اپنے اعضاء اور جوارح سے)۔

استمناء كا كفاره

سوال نمبر۸۸: كیا استمناء كے لئے كفاره ہے؟اور اگر ہے تو كیا؟

تمام مراجع:نہیں كوئی كفار ه نہیں ہے لیكن توبه ضروری ہے اور پھردوباره اس كا م كو انجام نه دے۔(۷)

زوجه كااستمناء

سوال نمبر۸۹: ایك شخص اپنی زوجه سے منی نكالنے كے اراده سے اس كی شہوت كو اپنےہاتھ كے ذریعه بھڑكاتا ہے كیا شرعی اعتبار سے یه كام جائز ہے؟

تمام مراجع:ہاں، زوجه كے بدن سے استمناء كرنا جائز ہے۔(۸)

شہوت كو بھڑكانے والی تصویر یں

سوال نمبر۹۰: شہوت كو بھڑكانے والے مطالب كو پڑھتے وقت یا شہوت كو بھڑكانے والی تصویروں كو دیكھنے سے جورطوبت(یاپانی)انسان كے نكلتاہے اس كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر یقین ہے كه منی ہے یا منی كی علامتیں اس میں پائی جاتی ہیں تو غسل واجب ہوجاتاہےاور شك كی صورت میں وه پاك ہے اورغسل كی بھی ضرورت نہیں ہے۔(۹)

منی كا روكنا

سوال نمبر۹۱: جوشخص اپنے شہوت كی بھڑاس كوتو نكالتاہے لیكن منی نہیں نكلنے دیتا كیا ایسی صورت میں بھی غسل واجب ہے؟

تمام مراجع:نہیں ،جب تك منی نه نكلے، غسل واجب نہیں ہوتا۔(۱۰)

۵۶

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۵۷۲؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۱۵۸۰ اور دفتر خامنه ای۔

۲ ۔صافی،جامع الاحكام،جلد۲،سوال۱۳۳۰؛فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال۹۸۴؛بهجت،مكارم،نوری،خامنه ای۔

۳ ۔ تبریزی،استفتاءات،سوال۸۳اور سیستانی و وحیدكے دفتر۔

۴ ۔تمام مراجع كے دفتر۔

۵ ۔ مكارم،استفتاءات،جلد۲،سوال۱۰۷۳؛بقیه تمام مراجع كے دفتر۔

۶ ۔ خامنه ای ،اجوبةالاستفتاءات،سوال۷۹۰؛امام خمینی،استفتاءات،جلد۱،غسل جنابت،سوال۹۶اور بقیه مراجع كے دفتر۔

۷ ۔ سیستانی، org ۔ sistoni ،استمناءاور بقیه مراجع كے دفتر۔

۸ ۔العروة الوثقیٰ ،۱۹،فاضل،جامع المسائل،جلد۱،سوال ۹۸۶؛مكارم،استفتاءات،جلد۱،سوال ۱۲۴۶؛تبریزی،صراط النجاة، جلد۵،سوال۶۵۶؛سیستانی، org ۔ sistoni اور خامنه ای،اجوبةالاستفتاءت،سوال۷۸۸۔

۹ ۔العروةالوثقیٰ،۱۹؛فاضل،جامع المسائل، جلد۱، سوال۹۸۶؛مكارم، استفتاءات، جلد۱، سوال۱۲۴۶؛تبریزی،صراط النجاة،جلد۵،سوال۶۵۶؛سیستانی،

org ۔ sistoni استمناءاورخامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال ۷۸۸ ۔

۱۰ ۔توضیح المسائل مراجع،مسئله۳۴۶؛وحید،توضیح المسائل،مسئله۳۵۲؛نوری،توضیح المسائل،مسئله۳۴۷؛خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات ،سوال۱۸۰۔

۵۷

تیمم كے احكام (تیمم كی اہ میت)

سوال نمبر۹۲: تیمم كی دلیل اور اس كے فائدے كے بار ےمیں بیان فرمائیں؟

> فَلَمْ تَجِدُوا ماءً فَتَیمَّمُوا صَعیداً طَیباً < (نساء،آیت ۴۳)

اگر پانی(وضو یا غسل كے لئے) نہ ملے تو پاک مٹی سے تمیم کرلو ۔

لغت میں“ تیمم” كے معنی قصد اور اراده كے ہیں اور فقه كی اصطلاح میں“ اس عمل كو كها جاتاہے جو خاص حالات میں وضو یا غسل كے بدلے انجام دیاجائے”۔

تیمم كرنے كا طریقه اس طرح ہے:سب سے پهلے دو نوں ہاتھوں كی هتھیلی كو ایسی چیز پر مارنا جس پرتیمم كرنا صحیح ہے پھر دونوں ہاتھ كی هتھیلی كوپوری پیشانی كو دونوں طرف كی كنپٹی تك سر كے بال اگنےكی جگه سے بھنووں آبروں اور ناك كے اوپر والے حصه تك گھینچاجائے ۔پھر بائیں ہاتھ كی هتھیلی كو دائیں ہاتھ كی پشت پر(كلائی سے انگلیوں كےسرتك) اور آخر میں دائیں ہاتھ كی هتھیلی كو بائیں ہاتھ كی پشت پركھنچناچاهئےانگلیاں بھی هتھیلی كا جزء ہیں۔(۱)

حوالہ:

(۱)آیت الله خامنه ای كی نظر میں احتیاط واجب ہے یه كه دوسری بار بھی هاتھوں كو زمین پرمارا جائے پھر بائیں ہاتھ كو دائیں ہاتھ كی پوری پشت پر اور پھردائیں ہاتھ كو بائیں ہاتھ كی پشت پرپھیراجائے ،اجوبة الاستفتاءات،سوال نمبر۲۰۹۔

۵۸

تیمم كے دو اہم فائدے اور فلسفے ہیں

۱- ڈاكڑی فائده مٹی اپنے اندر پائے جانے والے بے پناه بیكڑیا( Bacteria )كے ذریعه سب گندگی كو ختم كرنے كی صلاحیت ركھتی ہے یه بیكڑیا معمولا زمین كی سطح پربهت زیاده ہوتے ہیں۔چونكه ہوا اور سورج كی روشنی سے بهتراستفاده كرتےہیں۔اس لحاظ سے مٹی بهت حد تك پانی كی جانشین بن سكتی ہے اس فرق كے ساتھ كه پانی میں تحلیل كی بهت زیاده صلاحیت ہوتی ہے یعنی و ه مكروب كو تحلیل كركے ختم كردیتاہے لیكن خاك میكروب كو مارتی ہے اور یه اس خاك كی خاصیت ہے جو كاملا پاك ہو یہی وجه ہے كه قرآن نے اسے“ طَیب ”سے تعبیر كیا ہے۔

۲- اخلاقی فائده

تیمم بھی ایك عبادت ہے كیونكه انسان اپنی پیشانی كو( جو اس كے تمام اعضاءمیں سب سے باشرف عضوہے)ان ہاتھوں سے چھوتاہے جس پر خاك لگی ہے تاكه اپنے تواضع اورانكساری كو خداوند متعال كی بارگاه میں ظاہر كرسكے اور اس كام سے وه نمازیا دوسری عباتوں كی طرف بھی متوجه ہوتاہے جس میں وضو یا غسل كرنا شرط ہے اس وجه سےتیمم بندوں میں تواضع بندگی اور شكر گزاری كی روح پیدا كرنے میں كافی اثرانداز ہے۔( تفسیر نمونه،جلد۳،صفحه۴۴۳)

شرعی تیمم دو طرح كا ہوتاہے:وضو كے بدلے تیمم اور غسل كے بدلے تیمم۔ جس كا وظیفه تیمم ہے جب تك اس كا عذر باقی ہےوه تمام كام جس میں وضو یا غسل شرط ہے تیمم سے انجام دے سكتا ہےاور اگر مبطلات وضو میں سےكسی عمل كو انجام دےتواس كآتیمم باطل ہوجائے گا اور یاد رہے كه تیمم تنها زمین یا ہروه چیز جو زمین صدق كرتی ہے اس پر كرنا جائز ہے جیسے مٹی،ریت،ڈھیلا،سنگ مرمر اور دوسرے قسم كے پتھر۔(۱)

تیمم كے موارد

سوال نمبر۹۳: وه كونسی جگہیں ہیں جہاں تیمم كیا جاسكتاہے؟

۱- وقت كم ہو۔

۲- پانی میسر نه ہو۔

۳- پانی كااستعمال نقصان ده ہو۔

۴- بدن یا لباس نجس ہو اورپانی اتنا ہے كه جس سےصرف نجاست كوہی پاك كرسكتاہے اور كوئی دوسرا لباس بھی نہیں ہے۔

۵- اگر پانی سے وضو یاغسل كریں تو اس سے وابسته دوسرے افراد پیاس سے هلاك ،بیمار یا سختی میں گرفتار ہوسكتے ہیں۔

وضو كے بدلے تیمم كرنا

سوال نمبر۹۴: كیاوضو اور غسل كے بدلے كئے جانے والے تیمم میں كوئی فرق ہے؟

تمام مراجع:نہیں اں دونوں میں كوئی فرق نہیں ہے۔(۲)

غسل كے بدلے تیمم

سوال نمبر۹۵: كیا غسل كے بدلے كئے جانے والے تیمم كے بعد وضو كے بدلےبھی تیمم كرنا ضروری ہے؟

تمام مراجع:(سیستانی،مكارم،نوری كے سوا):غسل جنابت كے بدلے كئے جانے والے تیمم كے بعد نماز كے لئے وضو یا تیمم كرنا ضروری نہیں ہے لیكن اس كے علاوه دوسرے تمام غسلوں میں تیمم كے بعد نماز كے لئے وضو یا تیمم كرنا ضروری ہے۔(۳)

سیستانی،مكارم،نوری:نہیں ضروری نہیں ہے كه نماز كے لئے وضو یاوضوكے بدلےتیمم كرے(چاہے وه غسل جنابت ہو یا دوسرے غسل سوائے غسل استحاضه متوسط كے ،لیكن اگر كرلے تو بهتر(احتیاط مستحب)ہے۔(۴)

تیمم كی جگه

سوال نمبر۹۶: كیا تیمم كی جگه پر گردو غبار كا ہونا لازمی ہے؟

امام خمینی،آیت الله بهجت،خامنه ای ،صافی،فاضل،نوری:نہیں لازمی نہیں ہے لیكن مستحب ہے كه گرد وغبار ہو۔(۵)

آیت الله تبریزی،سیستانی،وحید:احتیاط واجب كی بناء پر جہاں تك ممكن ہو سكے گرد غبار موجودہو۔(۶)

آیت الله مكارم:جہاں تك ممكن ہو گرد پرہی كرے ۔(۷)

تیمم كا وقت

سوال نمبر۹۷: اگر كسی كو شك ہو كه غسل كرنے كےبعد نماز كے لئے وقت بچے گا یا نہیں تو اس كا شرعی وظیفه كیا ہے؟

تمام مراجع:ایسی صورت میں اسے تیمم كرنا چاهئے۔(۸)

تیمم كے ساتھ نماز

سوال نمبر۹۸: عذر برطرف ہوجانے كے بعد آیا وه نمازیں جوتیمم سے بڑھی تھیں كیا پھرسے انكی قضا كرنی ہوگی؟

تمام مراجع:نہیں ،قضا لازم نہیں ہے۔

سوال نمبر۹۹: اگر كوئی غسل جنابت كے بدلے تیمم كرے تو كیا بعد كی نمازیں بھی اسی تیمم سے پڑھ سكتاہے؟

تمام مراجع:جی ہاں،جب تك اس كا عذ اورتیمم باقی ہے وه تمام كام انجام دےسكتاہے جس میں وضو یا غسل شرط ہے ۔(۹)

قرآن اورتیمم

سوال نمبر۱۰۰ :جس شخص كی شرعی ذمه داری غسل كے بدلے تیمم كرناہے كیا اس تیمم كے ذریعه قرآن كی آیتوں كو چھوسكتاہے یا مسجد میں جاسكتاہے؟

امام خمینی،نوری:اگر پانی سے نقصان كےڈر كیوجه سے تیمم كیا تھا تو جب تك تیمم اور اس كا عذر باقی ہےان تمام كاموں كو انجام دے سكتاہے لیكن اگر وقت كی قلت كی وجه سے تیمم كیا تھا تو احتیاط واجب كی بناءپرانجام نہیں دےسكتا۔(۱۰)

بهجت،تبریزی سیستانی،خامنه ای ،صافی،فاضل،وحید:اگر پانی سے نقصان كےڈر كی وجه سے غسل كے بدلے تیمم كیا تھا تو جب تك اس كا عذر اورتیمم باقی ہے وه تمام كام انجام دے سكتاہے لیكن اگر وقت كی كمی كیوجه سے تیمم كیا تھا توان كاموں و انجام نہیں دےسكتا۔(۱۱)

مكارم:اگر تیمم اور اس كا عذر ابھی بھی باقی ہے تو اوپربیان ہوئےتمام امور كو اس تیمم سے انجام دے سكتاہے۔(۱۲)

۵۹

حوالہ جات:

۱-البته اس مورد میں مراجع تقلید كے درمیاں اختلاف ہے(جسے اینٹ چونا اور اس جیسی چیزوں پر تمیم)لهذا هر كوئی اپنے مرجع تقلید كے فتوے كے مطابق عمل كرے)

۲۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۰۱، نوری،توضیح المسائل مسئله۷۰۲؛ وحید،توضیح المسائل مسئله۷۰۷؛خامنه ای،صاحب كا دفتر۔

۳ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۲۳،وحید،توضیح المسائل مسئله۷۳۰، خامنه ای ، دفتر۔

۴ ۔مكارم،سیستانی،توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۲۳اور نوری،توضیح المسائل مسئله۷۲۴۔

۵ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۶۹۸،نوری،توضیح المسائل، مسئله۶۹۹، خامنه ای، دفتر۔

۶۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۶۹۸،وحید،توضیح المسائل ،مسئله۲۰۵۔

۷ ۔مكارم،توضیح المسائل مراجع،مسئله۶۹۸۔

۸ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۶۸۰، نوری،توضیح المسائل، مسئله۶۸۱،وحید،توضیح المسائل ،مسئله۶۸۷؛ خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۹ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۲۷۶، نوری،توضیح المسائل مسئله۷۲۸، وحید،توضیح المسائل مسئله۷۳۴، خامنه ای صاحب كا دفتر ۔

۱۰ ۔امام،توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۲۶، نوری،توضیح المسائل مسئله۷۲۹۔

۱۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۲۶، وحید،توضیح المسائل مسئله۷۳۳، خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات،سوال۲۰۲۔

۱۲ ۔مكارم، توضیح المسائل مراجع،۷۲۶۔

نماز كے احكام (نماز كی اہمیت )

سوال نمبر۱۰۱: نماز كے وجوب اور اس كے فائده كے بار ےمیں توضیح دیں؟

> أَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْری ) < طه،آیه۱۴)

میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔

نماز وه عبادت ہے جو نه صرف،شریعت اسلام میں بیان كی گئی ہے بلكه گذشته ادیان میں بھی مختلف صورتوں میں موجود تھی۔قرآن مجید نے اسے كچھ پیغمبروں جیسے حضرت اسماعیل،لقمان،موسیٰ،عیسیٰ اور پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) كی وصیت اور امام صادق(علیہ السلام)نے اسے تمام پیغمبروں كی سب سے آخری اور اہم سفارشوں میں شمار كیاہے۔(۱)

حوالہ:

( ۱) ۔ ( أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ الصَّلَاةُ وَ هِی آخِرُ وَصَایا الْأَنْبِیاءِ ع‏،كافی جلد۳ )

۶۰