گلشن احکام

گلشن احکام0%

گلشن احکام مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: احکام فقہی اور توضیح المسائل
صفحے: 371

گلشن احکام

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ارجمند حجة الاسلام سید مجتبی حسینی
: مصنف/ مؤلف
: سیدہ ریاض فاطمہ زیدی
زمرہ جات: صفحے: 371
مشاہدے: 6706
ڈاؤنلوڈ: 80

تبصرے:

گلشن احکام
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 371 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6706 / ڈاؤنلوڈ: 80
سائز سائز سائز
گلشن احکام

گلشن احکام

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

سجده سہو

سوال نمبر۱۳۱: سجده سہوكا طریقه بیان كریں؟

تمام مراجع:سجده سہوكا طریقه یه ہے كه نماز كے سلام كے فوراًبعد سجده سہوكی نیت كرے اور پیشانی كسی ایسی چیز پرركھے جس پر سجده صحیح ہے اور كہے:

بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ اللُّهَّم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ،

لیكن بهتر یه ہے كه كہے ،

بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ السَّلَامُ عَلَیكَ أَیهَا النَّبِی وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ،

اس كے بعد بیٹھ جائے پھر دوباره سجده میں جائے اور مذكوره اذكار میں سے كوئی ایك كهكر بیٹھ جائے اور تشهد كے بعد كہے:

السَّلَامُ عَلَیكَ أَیهَا النَّبِی وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ،(۱)

حوالہ:

۱- توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۲۵۰؛آیت الله وحید،توضیح المسائل، مسئله۱۲۵۹؛نوری،توضیح المسائل، مسئله ۱۲۵۱، خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۸۱

قضانماز

سوال نمبر۱۳۲: اگر كسی كی نماز اور روزه قضا ہوں تو كیا وه مستحبی نماز اور روزه ركھ سكتاہے؟

تمام مراجع:مستحبی نماز توپڑھ سكتاہے لیكن مستحبی روزه نہیں ركھ سكتا۔(۱)

سوال نمبر۱۳۳: كیا قضانماز جماعت كے ساتھ پڑھی جاسكتی ہے؟

تمام مراجع:جی ہاں، قضا نماز كو جماعت كے ساتھ پڑھنے میں كوئی اشكال نہیں ہے اور ضروری نہیں ہے كه امام اور مامون دونوں كی نمازایك ہی ہو بلكه صبح كی قضا نماز كو ظہر وعصر كی جماعت كے ساتھ ادا كیا جاسكتا ہے۔(۲)

حوالہ جات:

۱ ۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۳۷۳؛ نوری،توضیح المسائل مسئله۱۳۷۳ ؛وحید،توضیح المسائل مسئله۱۳۸۱؛ خامنه ای،اجوبة الاستفتاءات سوال۷۴۳۔

۲۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۳۸۸؛ نوری،توضیح المسائل، مسئله ۱۳۸۷؛ وحید،توضیح المسائل مسئله۱۳۹۶،خامنه ای صاحب كا دفتر۔

۸۲

باب كی قضا نماز

سوال نمبر۱۳۴: كیاباپ كی قضا نماز صرف بڑے بیٹے پرواجب ہے یا دوسرے بیٹے بھی پڑھ سكتے ہیں؟

تمام مراجع:باپ كی قضانماز صرف بڑے بیٹے پرواجب ہے لیكن اگر دوسرے بیٹے پڑھتے ہیں تو كوئی حرج نہیں اور بڑے بیٹے سے یه شرعی وظیفه ختم جائے گانیزبڑابیٹا باپ كی نماز كو پیسه دیكر بھی پڑھوا سكتاہے۔

اگر باپ نےاپنے ایك تهائی مال سے قضانمازپڑھوانے كی وصیت كی ہو تواس شخص كے پڑھنے كے بعد بڑے بیٹے سے قضا ء نماز پڑ كی ذمه داری ختم ہوجائے گی۔(۱)

حوالہ:

۱-توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۳۹،۱۳۹۴؛آیت الله نوری،توضیح المسائل مسئله۱۳۹۳، ۱۳۹۰ ؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۱۴۱۰۲؛ دفتر خامنه ای۔

۸۳

نماز جماعت كی فضیلت

سوال نمبر۱۳۵: فرادا نماز میں بهتر طریقه سے مستحبات پر عمل كرتاہوں اس صورت میں پھر بھی نماز جماعت كش سفارش كرینگے؟

تمام مراجع:جی ہاں ،مختصر نماز جماعت بهتر ہے اس فری ٰ نماز سے جسكو گھنٹوں طول دے كر پڑھاجائے۔ روایت میں وارد ہواہے كه اگر ایك شخص امام جماعت كی اقتدا كرتاہے تو نماز كی ہر ركعت میں اسے ۱۵۰نماز كا ثواب ملتاہے اور اگر دوشخص اقتدا كرتے ہیں تو ۶۰۰نماز كا ثواب حاصل ہوتاہے،اور اگر انكی تعداد دس سے زیاده ہو جائے تو اس كا ثواب اتنا زیاده ہوجاتاہے كه اگرتمام آسمان كا غذتمام دریاروشنائی ،تمام درخت قلم ہوجائیں اور تمام جن و انس و ملائكه لكھنا چاہیں تو بھی اس ایك ركعت كا ثواب نہیں لكھ سكتے۔(۱)

نماز جماعت كی اقتدا

سوال نمبر۱۳۶: امام جماعت كی تكبیر كے بعد جبكه آگے كی صف نےا بھی تكبیر نه كہی ہوپیچھے كی صف میں كھڑے ہونے والے تكبیر كهه دیں تو ایسی صورت میں ،ان كی نماز كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع:اگر آگے كی صف والے نماز كے لئے آماده ہیں اور تكبیر كهنے ہی والے ہیں تو پیچھے كی صف والے ان سے پهلے تكبیر كهه كر نماز میں داخل ہوسكتے ہیں۔(۲)

۸۴

حوالہ جات:

۱- توضیح مراجع،مسئله۱۴۰۰؛نوری،توضیح،مسئله۱۳۹۹؛وحید،توضیح ، مسئله۱۴۱۰، دفتر خامنه ای۔

۲-توضیح مراجع،مسئله۱۴۱۸:نوری،توضیح،مسئله۱۴۱۵؛وحید،توضیح،مسئله۱۴۲۶دفتر خامنه ای

۸۵

نماز آیات

سوال نمبر۱۳۷: اگر سورج گهن ہم ارے شہر میں نہیں دكھائی دے رہا ہےیا كسی دوسرے شہر میں زلزله آیاہو تو كیا نماز آیات ہم پر بھی واجب ہوگی؟

تمام مراجع:جن چیزوں كے لئے نماز آیات واجب ہوتی ہے وه جس جس شہر میں واقع ہو گئی صرف اسی شہر كے لوگوں پر نماز آیات واجب ہوگی اور دوسری جگه كے رہنے والوں پر نماز واجب نہیں ہے۔(۱)

اجاره كی نماز

سوال نمبر۱۳۸: كیا میں اپنی قضا نماز اور روزه كو كسی كو پیسه دے كر ادا كرواسكتاہوں یا اپنے دوستوں سے مددلے سكتاہوں؟

تمام مراجع:بالغ وعاقل انسان جب تك خود زنده ہے كسی وه دوسرے سے اپنی قضا نماز اور روزے نہیں اداكرواسكتا یا كسی سے مدد نہیں لے سكتاہے بلكه جس طرح بھی ہوخود اسی پر واجب ہے كه انہیں انجام دے۔(۲)

۸۶

حوالہ جات:

۱۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۴۹۴؛ آیت الله نوری،توضیح المسائل مسئله۱۴۹۱؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۱۵۰۲؛خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات ،سوال۲۱۳۔

۲۔ توضیح المسائل مراجع،مسئله۱۵۳۳؛آیت الله نوری،توضیح المسائل ،مسئله۱۵۳۰؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۱۵۴۱؛خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات، سوال۷۰۹۔

۸۷

نماز شب

سوال نمبر۱۳۹: نماز شب پڑھنےكاطریقه كیاہے؟

تمام مراجع:نماز شب مجموعاً گیاره ركعت ہے كه جس میں دو۲دو۲ ركعت كركے آٹھ ركعت نماز“ شب” كی نیت سے اور ۲ ركعت نماز“شفع”كی نیت سے اور ایك ركعت نماز“ وتر” كی نیت سے پڑھی جاتی ہے ۔

نماز شب مستحبی نمازوں میں سب سے زیاده اہم ہے كیونكه آیات و روایات میں اس كی بهت زیاده تاكید كی گئی ہے اور روح، كی پاكیزه گی قلب كی طهارت اور نفس كی تربیت مشكلات كے حل میں بهت گہرا اثر ركھتی ہے۔ دعاوں كی كتابوں میں اس كے لئے كچھ آداب ذكر كئے گئے ہیں جنكی رعایت كرنا اچھی بات ہے۔لیكن ان آداب كی رعایت كے بغیر بھی نماز شب كو دوسری معمولی نمازوں كی طرح انجام دیا جاسكتاہے اور اگر كوئی آخر شب تك كسی بھی سبب نہیں جاگ سكتاتو وه سونے سے پهلے بھی اسے پڑھ سكتاہے۔(۱)

حوالہ:

۱-توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۶۵؛آیت الله نوری،توضیح المسائل، مسئله۷۶۶؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۷۷۱؛خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات، سوال۷۲۲۔

۸۸

مستحبی نماز كاسوره

سوال نمبر۱۴۰: كیا مستحبی نماز میں (الحمد كےعلاوه دوسرا)سوره پڑھنا ضروری ہے؟

تمام مراجع:مستحبی نمازوں میں سوره پڑھنا ضروری نہیں ہے لیكن بعض مستحبی نماز وں كو(جیسے نماز جعفرطیار كه جس میں مخصوص سوره پڑھاجاتاہے) اگر اسے اسی دستور كے مطابق پڑھنا چاہیں تو اس سوره كو پڑھنا ہوگا۔(۱)

مستحبی نماز

سوال نمبر۱۴۱: كیا حركت كی حالت میں مستحبی نماز پڑھی جاسكتی ہے؟مستحبی نمازمیں قبله كی كس طرح رعایت كرنی ہوگی؟

تمام مراجع:حركت كی حالت میں مستحبی نماز پڑھنا صحیح ہے اور راسته چلتے وقت اور گاڑی میں قبله كی رعایت كرنا ضروری نہیں ہے۔(۲)

آیت الله بهجت:لیكن گھرمیں كام كرتے وقت احتیاط واجب كی بناءپر قبله كالحاظ كرنا ضروری ہے۔(۳)

حوالہ جات:

۱- توضیح المسائل مراجع،مسئله۹۸۶؛آیت الله نوری،توضیح المسائل، مسئله۹۹۵۔

۲-وضیح المسائل مراجع،مسئله۷۸۱؛آیت الله نوری،توضیح المسائل، مسئله۷۸۲؛وحید،توضیح المسائل، مسئله۷۸۷۔

۳- توضیح المسائل مراجع،مسئله۷۸۱۔

۸۹

جمعه كی نماز

سوال نمبر۱۴۲:جمعه كی نماز واجب ہے یا مستحب اور ظہر كی جگه حساب ہوگی یا نہیں؟

تمام مراجع:(تبریزی،صافی ومكارم كےعلاوه )امام زمانه(علیہ السلام)كے عصر غیبت میں نماز جمعه واجب تخییری ہے اور بهترہے كه انسان اس نماز میں ضرور شركت كرے اور جو نماز جمعه پڑھے گا اسے نماز ظہر پڑھنے كی ضرورت نہیں ہوگی(لیكن احتیاط یه ہے كه دونوں نماز یں پڑھے)۔(۱)

آیت الله صافی:نماز جمعه میں شركت كرنا بهت اچھا عمل ہے۔لیكن جو نماز جمعه پڑھے احتیاط واجب كی بناء پر اسے نماز ظہر پڑھنی ہوگی وه صرف نماز جمعه پر اكتفا نه كرے۔(۲)

آیت الله تبریزی:اگر نماز جمعه اپنے تمام شرائط كے ساتھ برپاہوئی ہے تو اس میں شركت كرنا احتیاط واجب ہے اور جو اسے بجالائے اسےنمازظہر پڑھنے كی ضرورت نہیں ہے۔(۳)

آیت الله مكارم:امام زمانه(علیہ السلام) كے دوران غیبت میں نماز جمه واجب تخییری ہے اور جواس كو بجالائے اسےنماز ظہر پڑھنے كی ضرورت نہیں ہے،لیكن اسلامی حكومت كےقیام كے بعداحتیاط یه ہے كه نماز جمعه پڑھی جائے۔(۴)

۹۰

حوالہ جات:

۱۔ امام خمینی،آیت الله فاضل،توضیح المسائل مراجع،،نماز جمعه كے احكام ؛خامنه ای، اجوبة الاستفتاءات،سوال ۶۰۶اور۶۱۱؛ نوری،استفتاءات، جلد۲، سوال۲۱۵ اور ۲۱۶؛ بهجت،توضیح المسائل نماز جمعه كے بار ےمیں۔

۲۔آیت الله صافی،جامع الاحكام،جلد۱سوال۳۵۳،نمازجمعه مسئله۲؛سیستانی،توضیح المسائل مراجع،دوسرا حصه، نماز جمعه كے احكام؛وحید،منهاج الصالحیں۔ جلد۲،تیرهویں فصل نماز جمعه كے باے میں۔

۳۔آیت الله تبریزی،استفتاءات،سوال ۶۲۷اور۶۳۰۔

۳۔آیت الله مكارم،استفتاءات،جلد،۲،سوال۳۵۶اور۳۵۷۔

۹۱

نماز غفیله

سوال نمبر۱۴۳: نماز غفیله كونسی نماز ہے؟

تمام مراجع:مستحبی نمازوں میں ایك نماز غفیله ہےجونماز مغرب اور عشاء كے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ پهلی ركعت میں حمد كے بعد سوره كی جگه اس آیت كی تلاوت كی جائے:

> وَ ذَا النُّونِ إِذْ ذَهَبَ مُغاضِباً فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَیهِ فَنادى‏ فِی الظُّلُماتِ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّی كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَ نَجَّیناهُ مِنَ الْغَمِّ وَ كَذالِكَ نُنْجِی الْمُؤْمنین‏ < ۔

اور دوسری ركعت میں حمد كے بعد اس آیت كو پڑھاجائے:

> وَ عِنْدَهُ مَفاتِحُ الْغَیبِ لا یعْلَمُها إِلَّا هو، وَ یعْلَمُ ما فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ ما تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا یعْلَمُها وَ لا حَبَّةٍ فِی ظُلُماتِ الْأَرْضِ وَ لا رَطْبٍ وَ لا یابِسٍ إِلَّا فِی كِتابٍ مُبِینٍ‏ <

اورقنوت میں یه دعا پڑھی جائے:

] َ اللَّهم إِنِّی أَسْأَلُكَ بِمَفَاتِحِ الْغَیبِ الَّتِی لَا یعْلَمُهَا إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُصَلِّی عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَفْعَلَ بِی كَذَا وَ كَذَا < ‏

كذا ًو كذا كی جگه اپنی حاجت بیان كریں اور پھر یه پڑھیں

] اللَّهم أَنْتَ وَلِی نِعْمَتِی وَ الْقَادِرُ عَلَى طَلِبَتِی تَعْلَمُ حَاجَتِی فَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ لَمَّا قَضَیتَهَا لِی [

نماز غفیله كو مغرب كی دور ركعت نافله كی جگه بھی پڑھاجاسكتاہے۔(۱)

حوالہ:

۱-توضیح المسائل،مراجع مسئله،۷۵۵،نوری،توضیح المسائل،مسئله۷۷۹،وحید،توضیح المسائل،مسئله۷۸۱،دفتر خامنه ای

۹۲

استاتذه اور طلاب كی نماز اور روزه كے احكام

سو ال نمبر۱۴۴: اساتید اور طلاب دس دن سے كم محل تعلیم اور ہاسٹل میں اقامت كریں تو ان كی نماز اور روزے كا كیا حكم ہے؟

امام خمینی:نماز قصر ہوگی اور روزه صحیح نہیں ہے،آیت الله بهجت صافی، فاضل اورنوری :اسآتید اور طلاب اگر دس دن سے كم مدت میں كم سے كم ایك مرتبه وطن اور ینورسٹی كےدرمیان سفر كرتے ہیں اور یه سلسله ایك مدت تك جاری رہے كه لوگ اس كے اس كام كو“سفر” شمار كریں تو تعلیم گاه اور راستے میں ان كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے ۔

نوٹ:۱-آیت الله صافی :سفركو“پیشه ”كهلانے كے لئے چار مهنه رفت و آمد كرنا لازم جانتےہیں ۔

نوٹ:۲- “پهلا سفر” مذكوره اسآتید وطلاب جب كبھی وطن میں دس دن سے زیاده قیام كے بعد پهلا سفر تعلیم گاه كریں گے تو نماز قصر ہوگی اور روزه بھی قصر ہوگا لیكن وطن اور تعلیم گاه ایك سفر كے درمیان انجام دینے كے بعد وه اپنے فرائض كو كثیر السفر كی طرح انجام دیں گے یعنی نماز پوری پڑھیں گے اور روزه بھی ركھیں گے۔

نوٹ:۳- بهجت صاحب كے نزدیك پهلا سفر اس وقت صادق ہوگا جب۸فرسخ،“۴۴كلومٹر”كی مسافت طے ہوگی لهذا اگر وطن اور تعلیم گاه كے درمیان كا فاصله ۸ فرسخ سے زیاده كاہے تو پهلے ہی سفرمیں نماز پوری اور روز ركھنا صحیح ہوگا۔

خامنه ای: حكومتی كوٹےاوراخراجات سے پڑھنے والےاسآتید اور طلاب اور حصول تعلیم کیلئےبھیجے گئےافراد اگر دس دن سے كم مدت میں كم از كم ایك مرتبه تعلیم گاه اور وطن كے درمیان سفر كرتے ہیں تو ان كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے لیكن دیگر طلاب كی نماز قصر اور روزه صحیح نہیں ہے

نوٹ:

چونكه آیت الله خامنه ای نے مساوی مرجع كی جانب رجوع كے مسئله میں رجوع كو احتیاط واجب جانا ہے لهذ طلاب اس مسئله میں دوسرے مرجع كی طرف رجوع كرسكتے ہیں(اس شرط كے ساتھ كه جدید مرجع)مساوی مرجع كی طرف رجوع كو جائز جانتاہو اور اس مسافر طلاب كی نماز كو پوری اور روزے كو صحیح جانتاہو،جیسے آیت الله بهجت ،

تبریزی: اسآتید اور طلاب اگر دس دن سے كم مدت میں وطن اور تعلیم گاه كے‌درمیان سفر كرے تو اس كو احتیاط كرنی ہوگی یعنی نماز كو پوری اور قصر دونوں طرح سے ادا كرے گا لیكن اگر روزه ركھاہے تو صحیح ہے اور اس كی قضا نہیں ہے۔اگر استاد هفته میں شرعی مسافت كی مقدار میں سفر كرے او راس كی مدت تدریس دوماه یا اس سے زیاده ہو تووه نمازكوپوری اد اكرے گا اور روزه بھی ركھےگا۔

نوٹ: چونكه آیت الله تبریزی نے‌اس مسئله میں احتیاط كو واجب جانا ہے‌لهذا ان كے مقلدین مساوی مرجع یا ان كے بعد كے اعلم كی طرف رجوع كركے اپنی نماز كو پوری پڑھ سكتے ہیں اور روزے ركھ سكتے‌ہیں ۔

سیستانی:۱- اگر اساتذه كی تعلیم و تدریس كی مدت كم از كم دوسال ہو اور وہیں پر قیام كرتے ہوں( اگر چه هفته میں دو دن كامل۲۴ گھنٹه وہاں رہیں اس طرح سےكه ان كو مسافر نه كها جائے) تو وه جگه وطن كے حكم میں ہے لهذا ایسی جگه ان كی نماز و رزوه قصر نہیں ہوگا۔

۲- اگر اساتذه اور طلاب هفته میں كم سے كم تین دن شرعی مسافت سے زیاده آمد و رفت كریں یا سفر میں ہوں اور یه سلسله ایك مدت تك(بطور مثال ایك سال میں چھ۶ ماه یا تعلیم كے چند سالوں میں تین۳ ماه تك )جاری رہے تو وه كثیر السفر شمار ہوں گے اور تعلیم گاه اور سفركے دوران ان كی نماز اورروزه قصر نہیں ہوگا۔

نوٹ: ۱ - دونوں صورتوں میں اگر پهلے مہینه میں دس دن كے قیام كا اراده نه ہو تو احتیاط كرنی ہوگی یعنی نماز پوری بھی ادا كریں اور قصر بھی اسی طرح روزه بھی ركھیں اور اس كی قضا بھی بجالائیں ۔

۲- چونكه آیت الله سیستانی دوسرے مساوی مرجع كی طرف رجوع كو جائز جانتے ہیں لهذا ان كے مقلدین اس مسئله میں ایسے مساوی مرجع كی طرف رجوع كرسكتے ہیں جو نماز كو كامل اور روزه كو صحیح جانتاہے۔

آیت الله مكارم:۱- اگر اساتذه اور طلاب ایك طولانی مدت تك(یعنی ایك سال یا اس سے زیاه مدت تك)تعلیم گاه یا محل تدریس میں ره جا ئیں تو وه جگه وطن كے حكم میں ہے اور ان كا روزه و نماز قصر نہیں ہوگا اور وہاں پر دس روز مسلسل قیام كرنے كی شرط بھی نہیں ہے۔

۲- جولوگ ہر دن یا هفته میں كم ازكم ۳دن تعلیم گاه یا محل تدریس تك آمد ور فت كرتے ہیں یعنی صبح جاتے ہیں اور شام كو واپس ہوتے ہیں اور یه سلسله كچھ مدت تك جاری رہتاہے تو وه كثیر السفر شمار ہوں گے اور ان كی نماز و روزه اس جگه اور سفر میں قصر نہیں ہوگا۔

وحید:اگر هفته میں كم از كم چار دن وطن اور یونیورسٹی درمیان رفت و آمد ركرے اور یه سلسله ایك سال یا اس سے زیاده مدت تك جاری رہے تو وه جگه وطن كے حكم میں ہے اور وہاں نماز پوری اور روزه صحیح ہے اور راستے میں اس كو احتیاط كرنی چاهئے یعنی نماز كو قصر اور پوری دونوں ادا كرے اور روزه بھی ركھے اور اس كی قضابھی كرے اور اگر رفت و آمد تین دن ہو تو اس صورت میں بھی احتیاط كرنا چاهئے۔( ۱ )

۹۳

سوال نمبر۱۴۵: اسآتید اور طلاب دس دن سے زیاده قیام كا اراده ركھتے ہوں تو تعلیم گاه اور محل تدریس میں ان كی نماز اور روزه كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع كرام :ایسے افراد كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔

نوٹ: اگر ابتداء میں یقینی دس۱۰ دن كے قیام كا مصّمم اراده ہواور ایك چار ركعتی نماز پڑھنے كے بعد كسی وجه سے واپس ہونے كا اراده كرلے تو تعلیم گاه میں اس كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔

سوال نمبر۱۴۶: جو طلاب“ہاسٹل” میں دس دن یا اس سے زیاده قیام اور وہاں سے تعلیم گاه تك رفت و آمد كرتے‌ہیں اور ان دونوں كے بیچ كا فاصله چا۴ شرعی فرسخ سے كم( ۵/۲۲ )كیلومٹرہے تو ان كی نماز اور روزے كا كیا حكم ہے؟

آیت الله خمینی:اگر دس دن میں صرف ایك بار دو گھنٹه كے لئے ہاسٹل سے یونیورسٹی جاتے ہیں تو ان كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے ورنه نماز قصر اور رزوه صحیح نہیں ہے۔(۲)

آیت الله خامنه ای:اگر دس دن میں ایك یا دو گھنٹه كے‌لئے ہر دن رفت و آمد كرےیا كئی بار آئے جائے جس كی مقدار ایك تهائی دن یارات كے برابر ہو تو اس كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے ورنه نماز قصر اور روزه صحیح نہیں ہے۔(۳)

آیت الله تبریزی:احتیا واجب كی بناء پر نماز قصر اور پوری دونوں ادا كرے لیكن اگر روزه ركھے تو صحیح ہے او راس كی قضانہیں ہے۔(۴)

آیت الله بهجت ،سیستانی؛فاضل،صافی ،مكارم،نوری اور وحید: مذكوره صورت حال میں نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔(۵)

سوال نمبر۱۴۷: اگر اسآتید یا طلاب اتفاقی طور پر محل درس كے علاوه كسی دوسرے شہر میں سفر كریں تو ان كی نماز اور روزه كا كیا حكم ہے؟

تمام مراجع كرام“ آیت الله سیستانی كے علاوه”:نماز قصر ہے اور روزه صحیح نہیں ہے۔(۶ )

آیت الله سیستانی:نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔(۷)

سوال نمبر۱۴۸: اگر اسآتید هفته میں ایك یا كئی بار محل تدریس تك رفت و آمد كریں(وطن سے جس كا فصله شرعی مسافت سے زیاده ہے )تو حسب ذیل دو صورتوں میں ان كی نماز اور روزه كا كیا حكم ہے۔؟

الف: محل تدریس ایك ہی شہر ہے ۔

ب:محل تدریس كئی شہرہیں۔

آیت الله خمینی:نماز قصر ہے اور روزه صحیح نہیں ہے۔

آیت الله وحید:اگر هفته میں چار دن محل تدریس تك رفت و آمد كریں تو اُن كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے اور اگر تین دن سفر كررہے ہوں تو بنابر احتیاط نماز پوری اور قصر دونوں طرح سے ادا كریں اور روزه بھی ركھیں نیز اس كی قضا بھی بجالائیں،اور اگر تین دن سے كم ہو تو نماز قصر اور روزه صحیح نہیں ہے۔

آیت لله سیستانی:اگر ایك مہینه میں دس دن یا اس سے زیاده سفر میں ہوں اور ایك سال كی مدت میں چھ۶ ماه تك اور ایك سال سے زیاده مدت میں تین ماه تك یه سلسله جاری رہے تو ان كی نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔اور اگر ایك مہینه میں آٹھ یا نودن سفر میں ہوں تو ایسی صورت میں احتیاط كرنی ہوگی یعنی نماز پوری اور قصر دونوں طرح سے بجالائیں اور روزه كی ادائیگی كے ساتھ اس كی قضا بھی كریں۔(۸)

آیت الله تبریزی:اگر هفته میں كم از كم ایك بار پڑھانے كےلئے وطن اور یونیورسٹی كے درمیان رفت و آمد كریں تو تماز پوری اور روزه صحیح ہے اور اگر آٹھ یا نو دن میں ایك بار سفر كریں تو احتیاط پرعمل كرنا ہوگا یعنی نماز پوری اور قصر ادا كریں اور روزه ركھیں اور قضابھی بجالائیں ۔(۹)

آیت الله صافی:اگر رفت و آمد كم سے كم چار مہینے تك جاری رہے تو نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔(۱۰)

آیت الله بهجت و خامنه ای،فاضل اور نوری:اگر رفت و آمد كم سے كم اتنی مدت تك جاری رہے كه لوگ اس كو شغل جانیں،تو نماز پوری اور روزه صحیح ہے۔(۱۱)

وطن اور تعلیم گاه

سوال نمبر۱۴۹: كیا تعلیم گاه وطن كے حكم میں شمار ہوگی؟

تمام مراجع(سوائےسیستانی، مكارم او روحید):نہیں وطن كے حكم میں شامل نہیں‌ہے(۱۲)

آیت الله سیستانی:اگر دوسال یا اس سے زیاده هفته میں دو دن كامل وہاں قیام كرے تووه وطن كے حكم میں ہے۔(۱۳)

آیت الله مكارم:اگر ایك سال یا اس سے زیاده مدت میں هفته میں پورے تین دن قیام كرے تووه وطن كے حكم میں ہے۔(۱۴)

آیت الله وحید:اگر ایك سال یا اس سے زیاده مدت میں هفته میں ۴چاردن سفر میں ہو تو وه جگه وطن كے حكم میں ہے۔(۱۵)

۹۴

حوالہ جات:

۱ ۔تمام مراجع كرام كے دفتر۔

۲ ۔ توضیح المسائل مراجع،م ۱۳۳۸۔

۳ ۔خامنه ای،اجوبة الاستفاءت ،س ۶۵۹۔

۴ ۔دفتر،تبریزی۔

۵ ۔دفتر نوری،سیستانی،مكارم،بهجت ،صافی ،فاضل اوروحید۔

۶ ۔توضیح المسائل مراجع،م/۱۳۰۷و وحید، توضیح المسائل ،م ۱۳۱۶وخامنه ای،اجوبة الاستفاءات ،س۶۴۵۔

۷ ۔ توضیح المسائل مراجع،م/۱۳۰۷۔

۸ ۔ سیستانی، منها الصالحین ،ج۱ ،صلاة المسافرالخامس و sistani.org ،نماز مسافر۔

۹ ۔استفتاءات،س،۴۹۸،۴۷۲۔

۱۰ ۔صافی،جامع الاحكام،ج۱،نماز مسافر۔

۱۱۔نوری استفتاءات،ج۱و۲ ،نماز مسافر بهجت توضیح المسائل نماز مسافر ،شرط پنجم۔

۱۲ ۔ توضیح المسائل مراجع/م۱۳۲۹،دفتر خامنه ای و بهجت۔

۱۳ ۔ سیستانی،نماز مسافر، org ۔ sistani ۔

۱۴ ۔ توضیح المسائل مراجع،م۱۲۷۲۔

۱۵۔دفتر وحید۔

۹۵

پهلا سفر:

سوال نمبر ۱۵۰: پهلے سفر میں طالب علم كی نماز اور روزے كا كیا حكم ہے؟

امام خمینی وآیت الله خامنه ای: اس كے ہر سفر میں نماز اور روزه قصر ہے۔(۱)

آیت الله سیستانی: پهلے مہینه میں اس كو احتیاط پر عمل كرنا ہوگا یعنی نماز پوری اور قصر ادا كرے اور روزه ركھے اور اس كی قضا بھی بجالائیں۔(۲)

آیت الله صافی،فاضل اور نوری:نماز قصر ہے اور روزه صحیح نہیں ہے۔(۳)

آیت الله وحید: پهلے اور دوسرے مہینے میں احتیاط كرے یعنی نماز كو پوری اور قصر پڑھے اور اگر روزه ركھے تو اس كی قضا بجالائیں۔(۴)

آیت الله مكارم:ابتداء كے چند سفر میں احتیاط كرے یعنی نماز كو قصر اور تمام ادا كرے اوراگر روزه ركھے تو اس كی قضا بھی كرے۔(۵)

آیت الله تبریزی:احتیاط ضروری ہے یعنی نماز كو قصر اور تمام ادا كرے اور اگر روزه ركھا ہے تو صحیح ہے اور اس كی قضا نہیں ہے۔(۶)

آیت الله بهجت: اگر پهلے سفر میں اس كی مسافت آٹھ فرسخ سے زیاده ہو تو نماز پوری ادا كرے اور اگر اس سے كم ہو تو نماز قصر پڑھے۔(۷)

۹۶

حوالہ جات:

۱ ۔توضیح المسائل مراجع،نماز مسافر، شرط هفتم،خامنه ای ،اجوبة الاستفتاءات ،س۶۵۲۔

۲ ۔سیستانی،منهاج الصالحین،ج۱،صلاة المسافر،الخامس ، org ۔ sistani ، نماز مسافر۔

۳ ۔صافی،جامع الاحكام،ج۱،نماز مسافر،دفتر فاضل ونوری۔

۴ ۔دفتر وحید۔

۵۔مكارم،استفتاءات،ج۱،ص۲۸۴۔

۶۔تبریزی،استفتاءات،س۵۰۱۔

۷۔دفتر بهجت۔

۹۷

شرعی مسافت

سوال نمبر۱۵۱: شرعی مسافت كتنے كیلومیٹر ہے؟

امام خمینی ،آیت الله بهجت ،خامنه ای،فاضل،صافی،ونوری:شرعی مسافت تقریباً ساڑھے بائیس۵/۲۲ كیلومیٹر ہے۔

آیت الله مكارم:شرعی مسافت ساڑھے اكیس۵/۲۱ كیلومیٹر ہے۔

آیت الله تبریزی،سیستانی و و حید:شرعی مسافت تقریباً ۲۲ كیلومیٹر ہے۔(۱)

حوالہ:

۱-تبریزی،سیستانی،وحید،منهاج الصالحین،م/۸۸۴۔

۹۸

روزه كے احكام ( روز كی اہمیت )

سوال نمبر۱۵۲: روزه كی اہمیت اور ا سكے فائدے كو بیان كریں؟

> یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیكُمُ الصِّیامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذینَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ < (۱ )

اےصاحبانِ ایمان! تمہارے اوپر روزے اسی طرح لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تمہارے پہلے والوںپر لکھے گئے تھے شایدتم اسی طرح متقی بن جاؤ۔

لغت میں روزه كے معنی امساك اور ہر چیز سے پرہیز كرنا ہے اور فقہی اصطلاح میں الله تعالٰی كے فرمان كو بجالانے كے لئے اذان صبح سےلیكر مغرب تك آٹھ چیزوں(۲) سے پرہیز كرناہے۔

بےپناه تاریخی شواهد ہم یں نظر آتے ہیں جس سے یه پته چلتاہے كه روزه یہودی،عسیائی اور دوسری قوموں كے درمیان بھی موجود تھا وه لوگ جب غم واندوه سے درچار ہوتے، یا توبه كے وقت یاخدا كی خشنودی حاصل كرنا چاهئے تھے تو روزه ركھتے تھے تاكه اس كام كے ذریعه اس كی بارگاه میں اپنی عاجزی اور تواضع كا اظهار كریں اوراپنے گناہوں كا اعتراف كریں۔انجیل میں موجود ہے كه حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) نے ۴۰ دن تك روزه كھاہے۔(۳)اور قرآن مجید میں بھی صراحت كے ساتھ اس بات كا اعلان كررہاہے كه یه فریضه گذشته امت پر بھی واجب تھا۔(۴)روزه كے مختلف پهلو ہیں اور اسی كے ذریعه انسان كے وجود پر بهت فائده مند اثرات مرتب ہوتے ہیں ان میں سے كچھ اہم فوائد اس طرح ہیں:

۱- روزه انسان كی روح كو لطیف بنائی ہے، اس كے ارادے كو قوی اور اس كی خواہشات كو معتدل ركھتاہے۔ > لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ  <

۲- روزه امیر و غریب كے درمیان مساوات اور برابری كو قائم كرتاہے تاكه لوگ بھوك كی لذت سے آشنا ہوں اور فقیرو محروم افراد كو یاد كرسكیں اور انكے حقوق كو ادا كریں۔(۵)

۳- روزه بهت سی بیماریوں كا بهترین علاج ہے اور جسم كی صحت وسلامتی كاباعث ہوتاہے۔الكسی سوفوریں(روسی دانشور)روزه كو بهت سی بیماریوں(جیسے خون كی كمی،آنتوں كی كمزوری،روماتھیزم(جوڑوں كی بیماریوں)،گٹھیا آنكھوں كی بیماری،شوگركی بیماری،پھیھڑے اور گردے كی بیماریوں)كاعلاج مانتے ہیں۔(۶)روزه عبادت ہے اور اسے خداكے فرمان كی اطاعت كے لئے اذان صبح سے مغرب تك ایسے كاموم سے پرہیز كیاجائے جس سے روزه باطل ہوجاتاہے یه وہی روزه كی نیت ہے اور ضروری نہیں ہے كه اسے دل میں یازبان پر جاری كیاجائے۔ ماه رمضان كے روز یا كسی معین نذر كے روزه كی نیت كاوقت اول شب سے اذان صبح تك ہے اور غیر معین روزه (جیسے قضاروزه ،مطلق نذر)كی نیت كاوقت اول شب سے دوسرےدن ظہر تك ہے۔مستحبی روزه كی نیت كا وقت اول شب سے شروع ہوكر پورے دن اس وقت تك كه باقی رہے گی مغرب سے اتنا پهلے تك باقی رہنا ہے كه انسان اسمیں نیت كرسكے۔ اگر انسان جان بوجھ كر یااپنے اختیار سے ایساكام انجام دے جوروزه كو باطل كردیتاہے تو اس كا روزه باطل ہوجائیگا اور قضاكے علاوه اسے كفاره بھی دیناہوگا۔روزه كاكفاره دومہینه روزه ركھناہے كه جس میں اكتیس دن پےدرپے ركھنے ہونگے یاساٹھ فقیروں كو كھانا كھلاناہوگا اور اگر ہر ایك كو ایك( مد تقریباً۷۵۰گرام گیہوں یاجو یا اس جیسی دوسری چیزیں)طعام دے دے تو كافی ہے۔فقیر كو پیسه دیناكافی نہیں ہے مگریه كه اس كو یه ہو كه فقیر اس كی طرف سے اس پیسه سے طعام خریدے گا پھربعنوان كفاره اسے قبول كرےگا اسی طرح كفاره كے پیسه كو كسی مطمئن اور بھروسه مند مراكز اور انجمنوں كو بھی دیاجاسكتاہے جو اس پیسه كو (مراجع كرام كے دفاتر یا امداد كمیٹی جیسی)جگہوں تك پهنچادے۔

۹۹

حوالہ جات:

۱ ۔سوره بقره،آیت۱۸۳۔

۲- جیسے كھانا اور پینا ،جماع كرنا،استمنا كرنا،خدا ورسول اور ان كے جانشینوں پر جھوٹ باندھنا،غلیظ غبار كو حلق تك پهنچانا،پورے سر كو پانی میں ڈبونا،جنابت،حیض یانفاس پر اذان صبح تك باقی رہنا، كسی بهنے والی چیزسے حقنه(ایمنا)كرنا اور قے كرنا۔

۳ ۔ تفسیرنمونه، جلد۱،صفحه۶۳۳۔

۴ ۔ > یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَیكُمُ الصِّیامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذینَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ < سوره بقره ،آیت۱۸۳ ۔

۵ ۔اس سلسله میں بهت سی احادیث وارد ہوئی ہیں رجوع كریں:من لایحضره الفقیه ،جلد۲،حدیث۱۷۶۹- ۱۷۶۶۔

۶ ۔ماخوز از تفسیرنمونه،جلد۱،صفحه۶۳۲۔

۱۰۰