انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 271
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 271 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

بسم الله الرحمن الرحیم

۲۵۰ سالہ انسان

آل محمد علیہم السلام کی ڈھائی سو سالہ انسان ساز معاشرتی و سیاسی سیرت

آیۃ اللہ خامنہ ای کی نگاہ میں

اثر:

آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

ترجمہ:

حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

ناشر: جامعۃ النجف ،سکردو بلتستان

۱

۲

۳

کتاب: ۲۵۰ سالہ انسان (ترجمۂ انسانِ ۲۵۰ سالہ)

اثر: ..............آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای

ترجمہ:........... حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

نظرثانی :......... حجۃ الاسلام غلام حسن جعفری

کمپوزنگ :.......... حجۃ الاسلام علی رضا مظفری

ڈیزائننگ: حجۃ الاسلام موسیٰ عارفی

ناشر : ..............جامعۃ النجف اسکردو، بلتستان، پاکستان

تاریخ اشاعت :........ اول ۔ اپریل ۲۰۱۸

تعداد : . ۱۰۰۰

قیمت: ۳۵۰ روپے

ٹیلی فون : ۰۰۹۲۳۱۲۵۱۴۲۴۲۴ ۔ ۰۰۹۲۵۸۱۵۴۵۳۳۸۷

ای میل: jnajafskd@yahoo,com

۴

فہرستِ مضامین

حرف آغاز : ۱۲

مقدمہ : ۱۸

پہلی فصل ۳۶

رسول اعظم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۳۶

خاتم الانبیاء کی بعثت: ۳۸

بیداری کا نقطۂ آغاز ۳۸

بعثت کاآغاز ۴۱

اسلامی نظام کی بنیادوں کی تعمیر: ۴۴

’’قسط‘‘ کیا ہے؟ ۴۶

سات خصوصیات ۴۹

پہلی خصوصیت۔ ایمان اور معنویت: ۴۹

دوسری خصوصیت۔عدل و انصاف: ۵۰

تیسری خصوصیت۔ علم و معرفت: ۵۰

چوتھی خصوصیت۔ اخلاص اور اخوت: ۵۰

پانچویں خصوصیت۔ اخلاق و کردار کی درستی: ۵۰

چھٹی خصوصیت: اقتدار اور عزتِ نفس ۵۱

ساتویں خصوصیت: مسلسل جدوجہد، حرکت اور دائمی پیشرفت ۵۱

اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کا کارنامہ : ۵۹

اسلامی نظام کی حفاظت: ۶۳

پہلا مرحلہ: ۶۳

دوسرا مرحلہ: ۶۳

تیسرا مرحلہ: ۶۳

تین خصوصیات ۷۱

اسلامی نظام کو محکم کرنے کی تدبیر: ۸۶

دوسری فصل: امامت ۹۹

امامت کے چار ادوار: ۱۰۹

پہلا دور: ۱۰۹

دوسرا دور: ۱۱۱

تیسرا دور: ۱۱۱

چوتھا اور آخری دور: ۱۱۲

تیسری فصل: امیر المومنین علیہ السلام ۱۱۵

خلفاء کے ساتھ تعاون اور خاموشی کا دور: ۱۲۵

آپ(علیہ السلام)کا دور خلافت: ۱۳۴

اسلامی اصول ۱۵۰

حیاتِ علوی میں طاقت،مظلومیت اور فتح کا امتزاج : ۱۵۲

طاقت سے مراد ۱۵۲

پہلا محاذ قاسطین: ۱۵۸

تیسرا محاذ مارقین: ۱۶۳

چوتھی فصل ۱۷۱

حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام ۱۷۱

پانچویں فصل ۱۹۲

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ۱۹۲

تاریخ کی پرشکوہ ترین فاتحانہ صلح: ۱۹۷

اقدار کی حفاظت: ۲۳۱

حق پرست محاذ کی شکست کی وجوہات کا تجزیہ: ۲۳۳

چھٹی فصل ۲۳۷

امام حسین علیہ السلام ۲۳۷

پہلا دشمن: ۲۳۸

دوسرا دشمن: ۲۳۸

قیام حسینی کا ہدف: ۲۴۵

ساتویں فصل " زینب ِ کبریٰ" ۲۷۶

سفیرانِ کربلا اور انقلابی کارنامہ ۲۷۶

اسارت کے باوجود امام سجاد کی جد وجہد: ۲۹۰

آٹھویں فصل ۲۹۸

سانحہ عاشورا کے بعد کی سیاسی ومعاشرتی صورتحال ۲۹۸

واقعہ حرّہ، توابین و مختار ۳۰۳

نویں فصل " امام سجاد علیہ السلام " ۳۱۴

امام کے اہداف: ۳۳۰

تین اہم امور ۳۳۴

امام سجاد کے فرمودات: ۳۳۹

سیاسی جدوجہد کی تجلی گاہ: ۳۳۹

رسالۃ الحقوق ۳۶۱

صحیفہ سجادیہ ۳۶۴

ائمہ کی جدوجہد کا تیسرا دور: ۳۶۶

ا مام سجاد کی ابتدائی حکمت عملی: ۳۶۶

درباری علماء سے امام سجاد کا شدید برتاؤ: ۳۸۰

دسویں فصل "امام باقر علیہ السلام " ۳۹۷

فکری اور تنظیمی تعمیر نو کا دور: ۳۹۷

امام باقر علیہ السلام کی شام طلبی: ۴۱۷

گیارھویں فصل :"امام صادق علیہ السلام" ۴۳۱

اموی حکومت کا آخری دور ۴۳۱

اور امام صادق علیہ السلام کی امامت ۴۳۱

امام صادق کے حالاتِ زندگی: ۴۳۸

ابہام کے پردے میں: ۴۳۸

بارھویں فصل : "امام صادق علیہ السلام" ۴۴۲

’’قائم آل محمد‘‘ کون ہے؟ ۴۴۳

امام صادق علیہ السلام کے دو مرحلے ۴۵۱

ربیع کہاں شیعہ تھا؟ ۴۵۳

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کےنمایاں خصوصیات ۴۵۴

امام صادق کی دعوتِ امامت: ۴۵۴

شیعی فقہ کی تبلیغ : ۴۶۳

خفیہ سیاسی / نظریاتی تنظیمی نیٹ ورک: ۴۷۲

تنظیمی نیٹ ورک ۴۷۴

تیرھویں فصل "خفیہ تنظیمی سرگرمیاں" ۴۷۶

چودھویں فصل : "امام کاظم علیہ السلام " ۴۸۸

انتھک جدوجہد اور تقیہ پر عمل: ۴۹۵

ہارون رشید اور فدک ۵۰۹

امام صادق علیہ کی گرفتاری ۵۱۷

پندرھویں فصل "امام رضا علیہ السلام " ۵۲۲

پہلا اور اہم ترین مقصد: ۵۲۷

دوسرا مقصد: ۵۲۸

تیسرا مقصد: ۵۳۰

چوتھا مقصد: ۵۳۰

پانچواں مقصد: ۵۳۰

چھٹا مقصد: ۵۳۱

پہلی تدبیر: ۵۳۳

دوسری تدبیر: ۵۳۴

تیسری تدبیر: ۵۳۶

چوتھی تدبیر: ۵۳۸

پانچویں تدبیر: ۵۴۰

چھٹی تدبیر: ۵۴۱

سولھویں فصل ۵۴۷

امام محمد تقی الجواد علیہ السلام ۵۴۷

امام علی نقی الہادی علیہ السلام ۵۴۷

امام حسن عسکری علیہ السلام ۵۴۷

طویل المیعاد منصوبہ بندی پر مبنی منظم ” اور ہمہ گیر جدوجہد ”: ۵۴۷

سترھویں فص "- ۲۵۰ سالہ انسان کی جدوجہد کی آخری منزل ۵۶۸

پہلی خصوصیت: ۵۸۲

دوسری خصوصیت: ۵۸۲

تیسری خصوصیت: ۵۸۴

چوتھی خصوصیت: ۵۸۴

۵

حرف آغاز :

دوسری عالمی امام رضا(علیہ السلام) کانگریس (ماہ مرداد ۱۳۶۵ ھ ش ) میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی مزاحمتی / سیاسی جد و جہد کے بارے میں رہبر معظم نے اپنے تفصیلی ارشادات میں’’ ۲۵۰ سالہ انسان ‘‘ کے کلیدی تصور کو اجاگر کیا۔ یہ تصور اس بات کا آئینہ دار ہے کہ سارے ائمہ ہدی(علیہ السلام) کی جدو جہد ایک ہی مقصد کی جانب ان کی مربوط ،منظم ،ہماہنگ اور یکساں حرکت سے عبارت ہے۔

ان ارشادات نے ہمارے اندر یہ جذبہ پیدا کیا کہ ہم ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے اس پہلو سے مربوط رہبر معظم کے فرمودات کو یکجا کر کے ایک فکر کو پروان چڑھائیں۔

رہبر معظم کے ان فرمودات کو اکھٹا کرنے کی کوشش کا نتیجہ زیر نظر کتاب ہے۔اس کتاب کا عنوان ہوبہو رہبر معظم کے بیانات سے ماخوذ ہے۔یہ عنوان ائمہ علیہم السلام کی سیاسی/ مزاحمتی جدو جہد کے بارے میں موصوف کے نقطہ نظر کا غماز ہے۔ کتاب کے مقدمے میں رہبر معظم کے فرمودات کی روشنی میں اس بات کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے کہ حیات ائمہ کے لئے یہ نام کیوں تجویز کیا گیا؟

ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ اس کتاب کے اصلی فصول کا مطالعہ کرنے سے پہلے اس مقدمے کا مطالعہ فرمائیں تا کہ آپ ۲۵۰ سالہ انسان کے مترقی اور پرمغز معنی و مفہوم کے بارے میں زیادہ آشنائی حاصل کریں اور آپ کتاب کے نفس مضمون سے بہتر استفادہ کرسکیں۔

یہ کتاب سترہ فصلوں پر مشتمل ہے۔ان فصلوں کے عناوین کا انتخاب رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور سے لےکر امام جواد ،امام ہادی اور امام عسکری علیہم السلام کے دور تک حیات ائمہ کے تاریخی ادوار کی ترتیب کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ ان تین اماموں کے بارے میں رہبر معظم کے بیانات کو ایک ہی فصل میں جمع کیا گیا ہے۔

پہلی فصل میں پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیاسی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے کیونکہ کتاب کے شروع میں اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی مجموعی زندگی کے مکمل آئینے کے طور پر نیز ائمہ کی ۲۵۰ سالہ زندگی کے دوران اسلام کی طویل اور خالص انقلابی جد وجہد کی شناخت کی کسوٹی کے طور پر عصر رسول کے واقعات کا جائزہ لیا جائے۔

کتاب کی تین فصلوں میں اسلامی معاشرے کی اجتماعی اور سیاسی صورتحال خاص کر سانحہ کربلا سے لے کر امام صادق علیہ السلام کے دور امامت تک کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ان حالات سے آشنائی اُس حساس دور میں ڈھائی سو سالہ انسان کی جد وجہد کی بہتر شناخت میں زبردست مددگار ہوسکتی ہے۔

مجموعی طور پر اس کتاب کا مواد رہبر معظم کی تقریروں اور تحریروں سے ماخوذ ہے۔اسی لئے کتاب کے جو حصے براہ راست موصوف کے رشحاتِ قلم پر مشتمل ہیں وہ کتاب کے باقی حصوں کے مقابلے میں جو آپ کے زبانی فرمودات سے ماخوذ ہیں زیادہ غور و فکر کے طالب ہیں۔

اسی طرح چونکہ رہبر معظم کی تحریریں براہ راست آپ کے مبارک قلم سے نکلے ہوئے گوہر ہیں اس لئے ان حصوں کے حوالے سے قواعد تحریر اور ایڈٹینگ کے اصولوں کی رعایت پر ادارہ صہبا کی خاص توجہ رہی ہے۔

محترم قارئین کتاب کے ان حصوں کےمطالعے کے دوران کتاب کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نظر ثانی کے ایک مختلف اور خاص اسلوب کا مشاہدہ کریں گے بطور مثال پیراگرافوں کی خاص ترتیب ،ائمہ کے ناموں کے ساتھ احترام کے مخصوص رموز مثلا (ع)،(ص) اور (س) نیز ہلالین کے درمیان ذکر شدہ مواد کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں رہبر معظم کے ہاتھوں لکھی ہوئی تحریروں کے فٹ نوٹس اور حواشی اصلی تحریر سے براہ راست مربوط ہیں ۔ان فٹ نوٹس کے آخر میں لفظ نویسندہ (مصنف /مولف) لکھ کر انہیں نمایاں کیا گیا ہے ۔پیشوائے صادق نامی کتاب اور پاسدار اسلام نامی مجلے سے ماخوذ مواد میں اس اہتمام کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔

کتاب کے مضامین کے درمیان ربط کو برقرار رکھنے کی خاطر بعض محدود مقامات پر ان مطالب کو جو معاصر دور کے خاص وقائع سے مربوط ہوں یا اصل مضمون سے براہ راست مربوط نہ ہوں یا تو حذف کیا گیا ہے یا کسی اور حصے سے مربوط ہونے کی صورت اسی متعلقہ حصے میں منتقل کیا گیا ہے۔اس قسم کے مواد کو (...) کی علامت کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے۔

کتاب کے متن میں متعدد آیات و احادیث کا مشاہدہ ہوتا ہے جن کی عربی عبارات کو رہبرمعظم نے خود مرقوم فرمایا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے (ایک مختصر تقریر کے دوران) عربی عبارات کو نقل کرنے کے موضوع کو جو اہمیت دی تھی اس کے پیچھے ایک گرانقدر مقصد کار فرما تھا۔ یہ مقصد فصیح و بلیغ عربی زبان سے آشنائی کے بارے میں مخاطبین کی خاص دلچسپی سے عبارت ہے۔اس زبان سے زیادہ سے زیادہ آشنائی قرآن کریم اور احادیث معصومین کی رہنمائیوں سے زیادہ کامل صورت میں استفادہ کرنے کا موجب بنتی ہے۔

کتاب’’۲۵۰ سالہ انسان ‘‘ کے مضامین کا مقصد ائمہ علیہم السلام کی مجاہدانہ زندگی کے مقصد اور طرز عمل کے عالی ترین مفاہیم کو بنی نوع بشر تک پہنچانا ہے۔بنابریں یہ کتاب ایک خالص تاریخی کتاب ہونے سے زیادہ تاریخ کا عمیق تجزیہ ہے جس میں حیاتِ ائمہ علیہم السلام کے وقائع کی تشریح وتفصیل کی بجائے ہر معصوم کے معاصر دور کے تاریخی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معصوم کی زندگی کا مجموعی جائزہ لیا گیا ہے اور اُس واحد ہدف کی نشاندہی کی گئی ہے جس کا حصول تمام ائمہ کا مقصود و مطلوب تھا۔

 اس بات کے مد نظر ائمہ علیہم السلام کی تاریخ زندگی سے قارئین محترم کی آشنائی جس قدر زیادہ ہو گی اسی قدر ’’۲۵۰ سالہ انسان‘‘ کی فضاؤں میں سانس لینا اس کے لئے زیادہ دلربا ہوگا۔ آخرمیں اس نکتے کا تذکرہ قابل توجہ ہے کہ معصومین خاص کر حضرت رسول اکرم ، امیرالمؤمنین اورامام حسین علیہما السلام کی زندگی کے مختلف زاویوں نیز ہرمعصوم کی انفرادی سیرت کے بارے میں رہبر معظم کے بیانات کا حجم اس مقدار سے کہیں زیادہ ہے جو’’۲۵۰ سالہ انسان‘‘ کی صورت میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔اس لحاظ سے یہ کتاب رہبر معظم کے ارشادات کی روشنی میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کے پاکیزہ معارف سے آشنائی کے لئے ایک تمہید یا دیباچہ ثابت ہوسکتی ہے۔

  کتاب ’’۲۵۰ سالہ انسان‘‘ کے مطالعے کے بعد شاید آپ یہ سوال کریں : یہ کیسے ممکن ہے کہ جس شخص کی اس قدر زیادہ سیاسی مصروفیات ہوں (مثلا انقلاب سے پہلے کی وسیع مجاہدانہ سرگرمیاں نیز انقلاب کے بعد ملک کے اہم ترین مناصب کو سنبھالنے کی سنگین ذمہ داریاں وغیرہ )وہ اس قدر باریک بینی کے ساتھ ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے بارے میں تحقیق وتفحص کا کام انجام دے سکے؟ ممکن ہے کہ ایک ایسا انسان جو چھوٹی بڑی ذمہ داریوں اور مصروفیات سے فارغ البال ہو وہ سالہا سال کے مطالعہ و تحقیق کے ذریعے ایک حد تک یہ کارنامہ انجام دےسکے۔

اس سوال کا جواب دینا اللہ کی جانب سے اپنی ولایت کے سلسلے کو جاری و ساری رکھنے کے حوالے سے رہبر معظم کے حق میں اس کے خاص لطف کو مد نظر رکھے بغیر ممکن نہیں۔امام عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس نائب برحق کو اللہ نے اپنے نظر انتخاب سے نوازتے ہوئے عصر غیبت میں انبیاء و اولیاء کا وارث قرار دیا ہے۔اس کی وجہ نہ صرف یہ کہ بہت سارے علمی مآخذ ومنابع کے اندر ان کی سعی و جانفشانی سے عبارت ہے بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں آپ کے اجداد کی عملی پیروی کی انتھک جد و جہد بھی ہے۔

اس شجرۃ طیبہ (ولایت الٰہی ) کے تسلسل نے ان کو شعبہ تاریخ کا ایک صاحب نظر استاد ہی نہیں بلکہ انہیں علم و حکمت کا ایک ایسا چشمہ جوشان قرار دیا ہے جس کا ایک قطرہ زیر نظر کتاب ’‘۲۵۰ سالہ انسان‘‘ ہے۔

خوش قسمت ہیں وہ رہروانِ راہ ِحق جو ولایت الٰہی کے شراب ِناب سے اپنا جام بھرلیتےہیں۔ =====٭٭٭٭٭=====

۶

مقدمہ :

ائمہ معصومین علیہم السلام سے لوگوں کی بے توجہی یا ان کی مہجوریت ان کی زندگی کے ایام تک محدود نہ تھی بلکہ صدیوں تک ان معصومین کی زندگی کے نہ صرف اہم بلکہ اصلی زاویوں کی جانب لوگوں کی بےتوجہی نے ان کی تاریخی مہجوریت و مظلومیت کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ اگرچہ ان صدیوں کے دوران لکھی جانے والی کتابوں اورتحریروں کی قدر و قیمت یقیناً بے نظیر ہے کیونکہ ان تحریروں میں ان معصومین علیہم السلام کی زندگی سے مربوط احادیث وروایات کو آنے والوں کےلئے محفوظ کیا گیاہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ان ہستیوں کی علمی و معنوی زندگی سے مربوط روایات، احادیث اور سوانح کی بھول بلیوں میں ان کی بھرپور سیاسی جد و جہد کا وہ پہلو مستور اور پوشیدہ رہ گیا ہے جو ان کی ۲۵۰ سالہ زندگی کا نقطۂ امتیاز ہے۔

ہمیں چاہیئے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کو صرف چند گرانقدر اور پرشکوہ واقعات و معلومات کا خزینہ ہی نہیں بلکہ اپنے لئے نمونہ اور اسوۂ حسنہ سمجھیں۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم ان ہستیوں کی سیاسی روش اور سیرت کو مد نظر نہ رکھیں۔

مجھے ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے اس پہلو سے ذاتی شغف رہا ہے۔

یاد رہے کہ میرے ذہن میں یہ نکتہ پہلی بار ۱۳۵۰ھ ش میں ایک تکلیف دہ اور دشوار آزمائش کے دوران نمودار ہوا۔

اگرچہ اس سے قبل بھی ائمہ معصومین علیہم السلام پر میری نظر اس لحاظ سے مرکوز تھی کہ وہ کلمۂ توحید کی سربلندی اور حکومت ِالٰہی کی تشکیل کےلئے جد و جہد اور فداکاری کے پرچمدار رہے ہیں لیکن اس دوران اچانک میرے ذہن میں یہ نکتہ نمودار ہوا کہ ان معصومین کی مجموعی زندگی ایک طویل او ر مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔

اس ڈھائی سو سالہ زندگی کا آغاز ۱۰، ۱۱ ہجری سے ہوتا ہے اور ۲۶۰ ھ میں غیبت صغری کے ساتھ اس دورانئے کا اختتام عمل میں آتا ہے۔

یہ معصومین ایک ’’اکائی‘‘اور ایک ’’شخصیت‘‘ہیں۔ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ ان کا ہدف اور مقصد ایک ہے۔ بنابریں ہمیں چاہئے کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی زندگی کا الگ جائزہ لینے، امام حسین علیہ السلام کی زندگی کا جداگانہ مطالعہ کرنے اور امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا الگ سے تجزیہ کرنے کی بجائے ایک ایسے انسان کا تصور کریں جس نے ۲۵۰ سالہ زندگی گزاری ہو، ۱۱ ھ/میں اپنے سفر کا آغاز کیا ہو اور ۲۶۰ھ/ تک اپنا سفر جاری رکھا ہو۔

اس عظیم اور معصوم انسان کی تمام حرکات اسی نقطہ ٔنظر کی روشنی میں قابل فہم اور قابل توجیہ ہوسکتی ہیں۔

ہر وہ انسان جو عقل و حکمت کا حامل ہو (اگر چہ معصوم نہ بھی ہو) ایک طویل المدت جدوجہد کے دوران مختلف پالیسیاں اپناتا ہے اور گوناگون حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں عمل میں لاتا ہے۔ ممکن ہے کہ گاہے وہ اپنی صوابدید کے مطابق تیز رفتاری کو لازم سمجھے اور گاہے کندی و سست روی کو، یہاں تک کہ ممکن ہے گاہے وہ حکیمانہ انداز میں پیچھے ہٹ جائے اور پسپائی اختیار کرے۔البتہ اس کے علم و حکمت اور اس کی مقصدیت سے آگاہ افراد کی نظر میں اس کی یہ پسپائی بھی ایک طرح سے پیشقدمی محسوب ہوتی ہے۔

اس نقطہ ٔنگاہ سے امیرالمومنین علیہ السلام کی زندگی،امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زندگی ،حضرت ابو عبد اللہ علیہ السلام کی زندگی اور (۲۶۰ھ تک) دیگر ائمہ علیہم السلام کی مجموعی زندگی ایک مربوط ومسلسل حرکت یا جد و جہد سے عبارت ہیں۔

راقم ۱۳۵۰ ھ ش میں اس نکتے کی طرف متوجہ ہوا اور اس زاویۂ نگاہ سے ان کی زندگی کا مطالعہ کرنے لگا۔ میں نے ایک بار پھر اس حقیقت کا جائزہ لیا۔یوں میں جس قدر آگے بڑھتا گیا یہ نظریہ مضبوط ہوتا گیا۔

آل رسول کی ان معصوم ہستیوں کی مربوط اور مسلسل زندگی ایک مشترکہ سیاسی ہدف کی بھی حامل ہے۔ بنابریں ایک الگ موضوع بحث کے طور پر اس زاویے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ میری یہ کوشش ہوگی کہ اس موضوع پر ذرا تفصیل سے بحث کروں۔

یہاں ہم سب سے پہلے اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ائمہ علیہم السلام کی انقلابی/ سیاسی جدوجہد یا دشوار سیاسی / مزاحمتی جدوجہد سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی مزاحمتی جدوجہدصرف علمی اور اعتقادی جدوجہد نہیں تھی جس کا مشاہدہ آپ تاریخ اسلام کے اس دورانیے میں ائمہ علیہم السلام کی اعتقادی و کلامی جدوجہد کی صورت میں کرتے ہیں۔

معتزلہ، اشاعرہ اور دیگر مکاتب فکر کی مثالیں موجود ہیں۔ ائمہ علیہم السلام لوگوں سے گفتگو فرماتے تھے، درسی حلقے قائم کرتے تھےنیز احادیث واحکام اور دینی تعلیمات بیان فرماتے تھے لیکن ان سب کا مقصد صرف یہ نہ تھا کہ اپنے اعتقادی یا فقہی مکتب فکر کو سوفیصد ثابت کریں اور مخالفین کو مسکت جواب دیں۔

ائمہ کا مقصد اس سے عظیم تر تھا۔اس طرح کی مسلح جدوجہد بھی مقصود نہ تھی جس کا مشاہدہ ائمہ کی زندگی میں جناب زید اور ان کی اولاد کے مسلح قیام یا بنی حسن اور آل جعفر کے قیام کی شکل میں ہوتا ہے۔

البتہ ائمہ علیہم السلام ان افراد کی جدوجہد کو مکمل طور پر غلط بھی قرار نہیں دیتے تھے۔

۷

ہاں بعض وجوہات ودلائل کی بنیاد پر بعض کو غلط قرار دیتے تھے ، بعض کی مکمل تائید فرماتے تھے اور بعض کی چھپ کر پشت پناہی فرماتے تھے۔

’’لَوَدِدْتُ أَنَ‏ الْخَارِجِيَ‏ مِنْ‏ آلِ مُحَمَّدٍ خَرَجَ وَ عَلَيَّ نَفَقَةُ عِيَالِهِ‘‘

ان کی مالی مدد فرماتے تھے ، ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتے تھے، انہیں جگہ دیتے تھے اور چھپاتے تھے لیکن اپنے مکتبِ فکر کے پیشواؤں کی حیثیت سے مسلح جد و جہد کے میدان میں قدم نہیں رکھتے تھے۔ سیاسی جدوجہد سے مراد نہ وہ پہلی بات ہے نہ دوسری بلکہ اس سے مراد ایک باہدف سیاسی جد وجہد ہے۔ وہ سیاسی ہدف کیا ہے؟

اس سے مراد ہے:’’اسلامی حکومت‘‘یا ہماری اصطلاح میں ’’علوی حکومت کی تشکیل‘‘۔

رحلت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر ۲۶۰ھ تک ائمہ علیہم السلام اسلامی معاشرے میں حکومت الٰہیہ کے قیام کےدرپے رہے۔ یہ اصل مدعا ہے۔

البتہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ہرامام اپنے مخصوس دور میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا ارادہ یا منصوبہ رکھتے تھے۔ بطور مثال ہماری نظر میں امام مجتبی علیہ السلام کے دور میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی کوشش مستقبل قریب کےلئے تھی۔جب مسیب بن نجبہ و غیرہ نے امام علیہ السلام سے کہا کہ آپ خاموش کیوں ہیں تو آپ نے فرمایا:

’’وَ إِنْ أَدْرِى لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكمُ‏ وَ مَتَاعٌ إِلىَ‏ حِين‏‘‘ ۔

میرے خیال میں حضرت امام سجاد علیہ السلام کے دور میں حکومت اسلامی کی کوشش مستقبل قریب کےلئے نہ تھی بلکہ کچھ دیر بعد کےلئے تھی۔ اس بارے میں بعض شواہد و دلائل کا ذکر کروں گا۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ امام باقر علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں مستقبل قریب میں اس کی توقع تھی۔

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد قوی احتمال کی بنا پر مستقبل بعید میں اسلامی حکومت کی توقع قائم ہوئی لیکن اس کا موقع معین نہ تھا۔ یہ ہے سیاسی جد و جہد کا مفہوم۔

ائمہ معصومین علیہ السلام کے سارے امور مثلاً درس و تدریس، بیانِ حدیث، علمی افاضات، عقائد کی بحث، سیاسی وعلمی مخالفین کے ساتھ بحث و تمحیص ، جلاوطنی، کسی گروہ کی حمایت اور کسی جماعت کی مخالفت و غیرہ اسی حکمت ِعملی اور مقصد یعنی اسلامی حکومت کی تشکیل کےہدف کے تابع تھیں سوائے ان معنوی اور باطنی کاموں کے جن کا تعلق نفس ِانسانی کے تکامل، قرب ِخداوندی اور عبد و معبود کے تعلقات سے ہو۔ (۲۸/۴/۱۳۶۵ھ ش)۔

۸

یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا ائمہ علیہم السلام سرے سے کسی سیاسی زندگی کے حامل بھی تھے یا نہیں؟

کیا ائمہ کی زندگی صرف یہ تھی کہ کچھ شاگردوں ، مریدوں اور ارادتمندوں کو اپنے گرد جمع کرلیں نیز انہیں نماز، زکات اور حج کے احکام یا اسلامی اخلاقیات و معارف، اصول دین، عرفانیات اور اس قسم کی باتوں سے آگاہ کریں اور بس؟

کیا ان چیزوں کے علاوہ ان کی زندگی کا محور کچھ اور بھی تھا جو ان کی سیاسی زندگی سے عبارت ہو؟

یہ ایک بہت ہی اہم موضوع ہےجسے واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

البتہ جہاں وقت کم ہو وہاں تفصیلی اور استدلالی بحث کی گنجائش نہیں ہوتی۔ میں بنیادی اور محوری موضوعات کو عرض کیئے دیتا ہوں تا کہ ارباب ِذوق ان مسائل کی خود چھان بین کریں، اس محور کی بنیاد پر روایات کا دوبارہ جائزہ لیں اور تاریخی کتب کا مطالعہ کریں۔

اس وقت معلوم ہوگا کہ موسی بن جعفر علیہما السلام یا دیگر ائمہ علیہم السلام کی زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے جو آج بھی مبہم، ناشناختہ اور ناگفتہ صورت میں موجود ہے۔

۹

جب ائمہ علیہم السلام نے امامت اور اہل بیت علیہ السلام کے ماحول میں یہ محسوس کرلیا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے اہداف کی تکمیل عمل میں نہیں آئی یعنی

’’يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَة‘‘

کے ثمرات سامنے نہیں آئے نیزجب ائمہ علیہم السلام نے یہ دیکھ لیا کہ صدرِ اسلام کے دور کے بعد اسلامی نظام او اسلامی معاشرے کی تشکیل کا مسئلہ مکمل طور پر کھٹائی میں پڑگیا اور انبیاء کے خوابوں کی تکمیل نہیں ہوئی بلکہ نبوت و امامت کی جگہ ملوکیت نے لےلی نیز خلافت اور رسول کی جانشینی کے نام پر قیصروں، کسراؤں، سکندروں اور تاریخ کے دیگر نامور ظالموں نے بنی امیہ اور بنی عباس کی شکل میں اپنا اقتدارقائم کرلیا اور قرآن کی تفسیر اس طرح ہونے لگی جس طرح ارباب ِاقتدار چاہتے تھے نیز جب ائمہ علیہم السلام نے دیکھ لیا کہ حکومت کے کاسہ لیس دنیا پرست علماء کی خیانت آمیز سیرت سے عوام الناس کے اذہان متأثر ہورہے ہیں تو ان تمام امور کے مشاہدے کے بعد ائمہ علیہم السلام کی زندگی میں ایک جامع اور کلی حکمت ِعملی نے جنم لیا۔یہاں ائمہ سے ہماری مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام سے لےکر امام عسکری علیہ السلام تک کے سارے ائمہ ہیں۔ میں کئی بار عرض کرچکا ہوں کہ ہمیں ائمہ معصومین علیہم السلام کی ڈھائی سو سالہ زندگی کو ایک ہی انسان کی زندگی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

۱۰

سارے ائمہ علیہم السلام کی مثال ایک ۲۵۰ سالہ انسان کی طرح ہے۔ یہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔

’’كلهم‏ نور واحد‘‘

یہ سب ایک ہی نور ہیں۔ ان میں سے جو کوئی ایک لفظ کہتا ہے وہ درحقیقت دوسروں کی زبان سے جاری شدہ لفظ بھی ہے۔ ان میں سے جس جس نے جو بھی کام انجام دیا ہے وہ درحقیقت دوسروں کا بھی کام ہے۔ یہ سب ایک انسان کے مانند ہیں جس نے ڈھائی سو سال زندگی گزاری ہو۔ اس ڈھائی سوسال کے عرصے میں ائمہ علیہم السلام نے جتنے کام انجام دیے ہیں وہ گویا ایک ہی انسان کے کام ہیں جو اس نے ایک ہی ہدف، ایک ہی نیت لیکن مختلف طریقوں سے انجام دیے ہوں۔

جب ائمہ (ع) نے محسوس کیا کہ حقیقی اسلام معاشرے میں مہجور و متروک ہوچکا ہے اور اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پا رہا تو انہوں نے بعض اہداف کو اپنا اصلی نصب العین قرار دیا۔ پہلا یہ کہ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی جائے۔ جولوگ اس طویل عرصے کے دوران حکمران رہے انکی نظر میں اسلام ان کے راستے کی رکاوٹ تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) کا اسلام، قرآن کا اسلام، بدر و حنین کا اسلام، تجمل پرستی کا مخالف اسلام، امتیازی سلوک کا مخالف اسلام، کمزوروں کا حامی اسلام اور مستکبروں کی سرکوبی کرنے والا اسلام اُن حکمرانوں کیلئے کار ساز نہ تھا جو موسیٰ کےلبادے میں فرعونیت کے حامل تھے اور ابراہیم کے لباس میں نمرودی باطن کے حامل تھے۔

۱۱

اسی لئے یہ لوگ اسلام میں تحریف کرنے پر مجبور تھے۔چونکہ لوگوں کے قلوب واذہان سے اسلام کو یکدم مٹانا ممکن نہ تھا کیونکہ لوگ مومن تھے اس لئے یہ حکمران مجبور تھے کہ اسلام کی روح، ماہیت اور مفہوم کو بدل دیں یا ختم کریں۔آپ کو یاد ہو گا کہ سابقہ حکومت کے دور میں بھی اسلام کی ظاہری تعلیمات کے معاملے میں یہی کام انجام پایاتھا۔ سابقہ حکومت اسلام کی ظاہری شکل و صورت کی مخالفت نہیں کرتی تھی لیکن اسلام کی روح، اس کے مفہوم اور اسلامی جہاد کی دشمن تھی،امر بالمعروف اور نہی از منکر کی مخالف تھی اور اسلامی حقائق کو بیان کرنے کی مخالف تھی۔ وہ اسلام کے ظاہری احکام کی مخالفت نہیں کرتی تھی مثلاً یہ کہ لوگوں کی بھیڑ بکریوں اور چوپایوں کو نقصان نہ پہنچے۔

بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومت و خلافت کے دوران بھی اسی پالیسی پر عمل ہوتا رہا۔ اسلام کو اس کی حقیقی روح سے عاری کرنے کےلئے بعض قلم فروشوں اور زبان فروشوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ پیسوں کے عوض احادیث وضع کی جاتی تھیں اور ان حکمرانوں کے مناقب تراشے جاتے تھے نیز ان کی خاطر کتابیں لکھی جاتی تھیں۔

راوی کہتا ہے: جب سلیمان بن عبد الملک دنیا سے چل بسا تو ہم نے دیکھا کہ فلان بزرگ عالم (جس کا میں نام نہیں لیتا) کی کتابیں حیوانوں اور خچروں پر لاد کر سلیمان بن عبد الملک کے خزانےسے نکالی گئیں۔ گویا یہ مولف ، یہ بزرگ محدث اور یہ معروف عالم جس کا نامِ نامی اسلامی کتابوں میں خوب مذکور ہے سلیمان بن عبد الملک کے لئے کتابیں لکھتا تھا۔

ظاہر ہے کہ جو کتاب سلیمان بن عبد الملک کےلئے لکھی جائے کیا اس کے بارے میں آپ یہ توقع باندھ سکتے ہیں کہ اس میں سلیمان بن عبد الملک کی مرضی اور پسند کے برخلاف کوئی چیز موجود ہوگی؟ ذرا سوچئے کہ وہ سلیمان بن عبد الملک جو ظلم کرتا ہو، شراب پیتا ہو، کفار سے ساز باز کرتا ہو، مسلمانوں پر جبر و تشدد کرتاہو، لوگوں کے درمیان امتیازی سلوک روا رکھتا ہو، فقیروں کو تنگی میں مبتلا رکھتا ہو اور لوگوں کا مال چھینتا ہو وہ کس قسم کے اسلام کا خواہاں ہوگا؟

یہ ابتدائی صدیوں میں اسلامی معاشرے کا بہت بڑا المیہ اور بحران تھا۔ ائمہ علیہم السلام اس حقیقت کو دیکھ رہے اور محسوس کررہے تھے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گرانقدر میراث یعنی اسلامی احکام تحریف کی نذر ہوچکے ہیں جبکہ ان احکام کو قیامت تک تاریخ کے تمام ادوار ہیں انسانوں کی رہنمائی کےلئے صحیح و سالم باقی رہنا چاہئے تھا۔

ائمہ علیہم السلام کے اہم ترین اہداف میں سے ایک اسلام کی صحیح تبیین، قرآن کی حقیقی تفسیر نیز تحریفات اور تحریف کرنے والوں کے چہروں سے پردہ چاک کرنے سے عبارت ہے۔

آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کے بہت سے فرمودات میں درباری و سرکاری علماء، فقہاء اور محدثین کی طرف سے اسلام کے نام پر بیان ہونے والے امور کا تذکرہ ہوا ہے۔

ائمہ ان باتوں کی تردید کرتے اور حقائق کو آشکار فرماتے تھے۔ اسلامی احکام کی تبیین و تشریح تمام ائمہ کی اصلی اور عظیم ذمہ داری تھی۔

غور کریں تو یہی امر بجائے خود سیاسی پہلو کا حامل ہے۔

یعنی جب دربار خلافت و حکومت کےہاتھوں تحریف انجام پائے نیز عالم نما، قلم فروش سوداگر حکام و سلاطین کی خاطر تحریف کے عمل میں مشغول ہوجائیں تو ظاہر ہے کہ جو شخص ان تحریفات کے خلاف کوئی قدم اٹھائے گا اس کا یہ اقدام ان حکام و سلاطین کی سیاست سے یقیناً متصادم ہوگا۔

آج بعض اسلامی ممالک میں کچھ کرائے کے لکھاری، مولفین اور درباری علماء مسلمانوں کے درمیان افتراق ڈالنے یا اپنے مسلمان بھائیوں کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کےلئے کتابیں لکھتے ہیں۔ اگر ان ممالک میں کوئی آزاد منش انسان پیدا ہو جو اتحاد امتِ مسلمہ اور اسلامی گروہوں کے درمیان اخوت و برادری کی ضرورت پر کتاب لکھے تو حقیقت میں یہ ایک سیاسی کام ہوگا جو حکمران طبقے کے مفادات کے برخلاف ہوگا۔

۱۲

ائمہ علیہم السلام کی سرگرمیوں میں سے ایک اہم سرگرمی یہی تھی۔ ائمہ اسلامی احکام کو بیان فرماتے تھے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور کے اسلامی معاشرے میں اسلامی احکام بیان نہیں ہوتے تھے۔ عالم اسلام کے ہرگوشے میں ایسے لوگ موجود تھے جو قرآن سکھاتے تھے، حدیث بیان کرتے تھے اور پیغمبر کی باتیں نقل کرتے تھے۔ بعض محدثین کو ہزاروں احادیث کا علم تھا۔ صرف مکہ مدینہ، کوفہ اور بغداد و غیرہ میں ایسا نہیں ہوتا تھا بلکہ عالم اسلام کے تمام علاقوں میں ایسا ہوتا تھا۔ (آپ تاریخ کا مطالعہ کیجئے) خراسان کا فلان جوان دانشور کئی ہزار احادیث پر مشتمل کتاب لکھتا ہے۔ طبرستان کا فلان عالم رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ سے ہزاروں احادیث نقل کرتا ہے۔ اس دور میں احادیث موجود تھیں اور اسلامی احکام بیان ہوتے تھے البتہ جس چیز کی کمی تھی وہ تھی اسلام اور اسلامی معاشرے کی تمام جہات کی درست تفسیر و تبیین۔ائمہ علیہم السلام اس بحران کی تلافی چاہتے تھے۔ ائمہ(علیہ السلام) کے اہم کاموں میں سے ایک یہی تھا۔

دوسرا اہم کام مسئلہ ’’امامت‘‘ یعنی اسلامی معاشرے کی زمامداری کی توضیح و تشریح تھی۔

یہ اہم مسئلہ اس دور کے مسلمانوں کےہاں واضح نہ تھا۔

عملی اور نظریاتی زاویے سے نظریۂ امامت میں تحریف ہوئی تھی۔

اسلامی معاشرے کی امامت و قیادت کا سزاوار کون ہے؟ (یہ مسئلہ مبہم تھا۔) نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جو لوگ اکثر اسلامی احکام پر عمل نہیں کرتے تھےاور اکثر محرمات کا اعلانیہ ارتکاب کرتے تھےوہ بھی رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانشینی کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت بےشرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ مسندر سول پر براجمان ہوئے تھےاور ایسا بھی نہیں تھا کہ لوگوں کو علم نہ ہو۔ لوگ دیکھتے تھے کہ ایک شخص نشے میں دھت اور عقل سےعاری ہوکر بطورِ خلیفہ نماز جمعہ پڑھانے آتا ہے،لوگوں کی امامت کرتا ہے اور لوگ اس کی اقتداء کرتے ہیں۔ لوگ جانتے تھے کہ یزید بن معاویہ شدید اخلاقی بیماریوں میں مبتلا تھا اور گناہانِ کبیرہ کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔ اس کے باوجود جب لوگوں سے کہاجاتا تھا کہ یزید کے خلاف قیام کرو تو وہ کہتے تھے: ہم نے یزید کی بیعت کی ہوئی ہے، پس ہم اس کے خلاف قیام نہیں کرسکتے۔

امامت کا مسئلہ لوگوں کے درمیان واضح نہ تھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کا امام اور اسلامی معاشرے کا حاکم گناہوں ، برائیوں ،مظالم اور قرآن و اسلام کے ساتھ واضح طور پر متصادم اعمال کا مرتکب ہوسکتا ہے۔لوگ اسے اہمیت نہیں دیتے تھےجو ایک سنگین بحران تھا۔ انسانی معاشرے میں مسئلۂ حکومت اور معاشرے کی جہت معین کرنے میں حکمران طبقے کی تأثیر کی اہمیت کے پیش نظر، یہ بحران عالم اسلام کےلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ بنابریں ائمہ(علیہ السلام) یہ لازم سمجھتے تھے کہ لوگوں کو دوچیزوں سے آگاہ کریں:

الف: یہ کہ امام کی شرائط کیا ہیں اور اسلامی حکمران کی کیا خصوصیات ہیں، مثلاً عصمت، تقویٰ، علم، معنویت، لوگوں کے ساتھ سلوک اور خدا کی بندگی کے طریقے و غیرہ۔ امام یعنی اسلامی حکمران کی خصوصیات کو بیان کرنا ائمہ کی ذمہ داری تھی۔

ب: یہ کہ آج ان خصوصیات کا حامل انسان کون ہے؟ ائمہ اپنا تعارف کراتے تھے۔ یہ بھی ائمہ کی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ یہ ایک اہم ترین سیاسی و تبلیغی ذمہ داری اور سیاسی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اگرا ئمہ علیہ السلام کے سامنے مذکورہ دو کاموں کے علاوہ کوئی اور کام نہ ہوتا تب بھی ہم یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ ائمہ کی پوری زندگی سیاسی زندگی ہے۔ جب ائمہ علیہم السلام تفسیر یا اسلامی تعلیمات بیان کررہے ہوتے ہیں تو وہاں بھی درحقیقت وہ ایک سیاسی عمل انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ امام کی خصوصیات بیان کرتے ہیں تب بھی وہ ایک سیاسی عمل انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اگر ائمہ کی تعلیمات کا محور یہی دو خصوصیات، یہی دو عنوانات یا یہی دوموضوعات ہوتے تب بھی ان کی زندگی ایک سیاسی زندگی ہوتی لیکن وہ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ ان سب کے علاوہ ائمہ علیہم السلام نے کم از کم امام حسن مجتبیٰ(علیہ السلام) کے زمانے اور اس کے بعد سے اسلامی حکومت قائم کرنے کےلئے ایک ہمہ گیر اور خفیہ سیاسی و انقلابی جد و جہد شروع کی تھی۔

ائمہ علیہم السلام کی تاریخ پر تحقیق کرنے والے کےلئے ائمہ کی اس جد و جہد کے بارے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہتی لیکن افسوس کا مقام ہے کہ امام صادق علیہ السلام ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور بہت سے دیگر ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں اس نکتے کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔

ائمہ علیہم السلام نے جو وسیع اور ہمہ پہلو سیاسی و تنظیمی جد وجہد کی تھی اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ اس کے باوجود ائمہ کی سیاسی جد و جہد پر روشنی نہیں ڈالی گئی جو ائمہ کی سیرت کو سمجھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پس تمام برادران و خواہران بطورِ خلاصہ یہ جان لیں کہ :

سارے ائمہ علیہم السلام امامت کا مسند سنبھالتے ہی جن امور کو شروع کرتے تھے ان میں سے ایک سیاسی جد و جہد کا عمل تھا تا کہ اسلامی حکومت قائم کرسکیں۔

یہ سیاسی کوشش ان تمام کوششوں کی طرح ہے جنہیں وہ لوگ انجام دیتے ہیں جو کسی نظام کی تشکیل کے خواہاں ہوتے ہیں۔

ائمہ علیہم السلام بھی یہی کام کرتے تھے۔(۲۳/۱/ٍ۱۳۶۴ھ ش)۔

۱۳

ائمہ علیہم السلام اور حکمرانوں کے درمیان آپ جن اختلافات اور نزاعات کا مشاہدہ کرتے ہیں ان سب کی وجہ یہی مسئلہ ہے۔ جولوگ ہمارے ائمہ کی مخالفت کرتے ، انہیں زہر دیتے ، قتل کرتے ، قید کرتے اور ان کا محاصرہ کرتے تھے وہ ان ائمہ کے دعوائے حکومت کے باعث ایسا کرتے تھے۔ اگر ائمہ علیہم السلام حکومت کے دعویدار نہ ہوتے اور سیاسی قوت کے خواہاں نہ ہوتے تو حکمرانانِ وقت ائمہ علیہم السلام سے کسی قسم کا تعرض نہ کرتے اگرچہ ائمہ علیہم السلام علومِ اولین و آخرین کا حامل ہونے کا لاکھ دعویٰ کیوں نہ کرتے۔ کم از کم وہ ائمہ کی اس قدر مخالفت نہ کرتےجس کی اصل وجہ یہی ہے۔اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کی دعوت اور تبلیغ کے اندر لفظ امامت اور مسئلہ امامت کو زبردست اہمیت دی گئی ہے۔ امام صادق علیہ السلام بھی اسلامی حاکمیت اور سیاسی طاقت کا دعویٰ ان الفاظ کے ذریعے کرتے ہیں:

’’ أيها الناس إن رسول الله كان هو الإمام ‘‘

آپ(علیہ السلام) عرفات میں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لوگو! بےشک رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امام تھے۔یعنی معاشرے کے امام، لوگوں کے پیشوا، معاشرے کے رہبر و رہنما اور لوگوں کے حاکم رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تھے۔

’’ثم کان علی بن ابی طالب، ثم الحسن ثم الحسین ‘‘

(پھر علی پھر حسن اور پھر حسین لوگوں کے امام و پیشوا تھے)۔ پھرآپ(علیہ السلام) (باقی پیشواؤں کو گنتے گنتے) اپنا ذکر کرتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان مخالفین کے درمیان وجہِ نزاع نیز ائمہ کے اصحاب کی مزاحمتی جدوجہد کا محور یہی حکومت، حاکمیت، مسلمانوں پر ائمہ کی ولایت ِعامہ، ولایت ِمطلقہ اور سیاسی اقتدار کا مسئلہ تھا۔ مخالفین کا ائمہ علیہم السلام کے ساتھ ان کے معنوی مقامات کے بارے میں کوئی جھگڑا نہ تھا۔بسا اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ عصرِ خلفاء کے اربابِ زہد، صاحبان ِعلم ، معروف مفسرین اوردانشوروں کے ساتھ خلفاء کی کوئی مخالفت نہیں ہوتی تھی۔

صرف یہی نہیں بلکہ خلفاء ان کے ساتھ ہمدردی بھی برتتے تھے، ان کے ساتھ اظہارِ ارادت کیا کرتے تھے، ان کے پاس جاتے تھے اور ان سے نصیحت بھی چاہتےتھے۔ لیکن کیوں؟ اس لئے کہ وہ خلفاء کے مقابلے میں سیاسی حاکمیت کے دعویدار نہیں تھے۔ جناب حسن بصری، ابن شُبرُمہ اور عمر و بن عبید جیسے بزرگ علماء کو حکمران خلفاء کے ہاں پذیرائی اور توجہ حاصل تھی۔ ان حضرات کو علم، زہد، معنویت، تفسیر اور معنوی علوم کا دعویٰ بھی تھا لیکن انہیں خلفاء کی جانب سے کسی قسم کے تعرض کا سامنا نہ تھا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ وجہ یہ تھی کہ وہ سیاسی قوت اور اقتدار کے دعویدار نہیں تھے۔ اموی اور عباسی خلفاء کے ساتھ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کا اختلاف اسی امامت وخلافت کے مسئلے کی بنا پرتھا یعنی امامت کے اسی مفہوم کی بنا پر جو آج ہمارے ہاں رائج اور معروف ہے۔ ۲/۱۱/۱۳۶۶ھ ش۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۴

پہلی فصل

رسول اعظم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہم ذمہ داری حق اور حقیقت کی طرف لوگوں کو دعوت دینے اور اسی دعوت کی راہ میں جہاد کرنے سے عبارت تھی۔ اپنے زمانے کی تاریک دنیا کے مقابلے میں آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو تشویش نہیں ہوئی۔ آپ اس وقت بھی نہ گھبرائے جب آپ مکہ میں تنہا تھے یا مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت آپ کے گرد جمع تھی جبکہ آپ کے مقابلے میں عرب کے متکبر روساء، سردارانِ قریش نیز غرور و نخوت کے پیکر، بداخلاق، اکھڑ مزاج اور طاقتور لوگ موجود تھےیا آپ کے مقابلے میں معرفت سے عاری عوام الناس تھے۔ پر آپ نے اپنا حرفِ حق تکرار کے ساتھ کہا، اس حرف ِحق کی وضاحت و تشریح کی، اہانتوں کو برداشت کیا، سختیوں اور رنج وآلام کو دل و جان سے قبول کیا اور یوں لوگوں کی کثیر تعداد کو مسلمان بنایا۔

آپ اس وقت بھی نہ گھبرائے جب آپ نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور اس حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے اقتدار کی لگام سنبھالی۔ اس وقت بھی مختلف قسم کے دشمن اور مخالفین پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں صف آراء تھے۔ ان میں عرب کے مسلح جتھے شامل تھے (یعنی وہ وحشی جو حجاز اور یمامہ کے بیابانوں میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ دعوت اسلام کے ذریعے ان کی اصلاح مطلوب تھی لیکن وہ برابر مزاحمت کررہے تھے)اور اس وقت کے بڑے بڑے بادشاہ (اس زمانے کی دوسپر طاقتیں) یعنی ایران اور روم کے سلاطین بھی۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطوط لکھے، مناظرے کئے، باتیں کیں، متعدد بار لشکر کشی کی، سختیاں برداشت کیں اور اقتصادی بائیکاٹ کا سامنا کیا۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مدینہ کے لوگ گاہے دو تین دنوں تک کھانے کی روٹی کےلئے بھی ترس گئے۔ ہر طرف سے خطرات اور چیلنجوں نے پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھیر لیا۔ بعض لوگ پریشان ہوتے تھے، بعض کے ارادے متزلزل ہوتے تھے، کچھ لوگ اعتراض کرتے تھے، کچھ لوگ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نرمی اور سازباز کی دعوت دیتے تھے لیکن آنحضرت نے دعوت اور جہاد کے میدان میں ایک لمحے کےلئے بھی سستی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ آپ پوری قوت کے ساتھ اسلامی معاشرے کو آگے بڑھاتے رہے یہاں تک کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسے عزت اور طاقت کے بام عروج تک پہنچا دیا۔ یہ وہی نظام اور معاشرہ تھا جو جہاد اور دعوت کے میدانوں میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی استقامت کی بدولت کئی سال بعد دنیا کی سب سے بڑی قوت میں تبدیل ہوگیا۔

(۵/۷/۱۳۷۰ھ ش)۔

۱۵

خاتم الانبیاء کی بعثت:

بیداری کا نقطۂ آغاز

ایک متواتر اور معروف حدیث کی روسے خود آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:

’’بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ ‘‘

(میں اخلاقی خوبیوں کی تکمیل کےلئے مبعوث ہوا ہوں۔) بعثت کا ہدف یہ تھا کہ دنیا میں اخلاقی کمالات اور انسان کی باطنی خوبیوں کا دائرہ عام ہوجائے اور یہ خوبیاں درجۂ کمال کو پہنچ جائیں۔ جب تک کوئی شخص بذات خود مکارم اخلاق کے اعلی ترین درجے پر فائز نہ ہو تب تک اللہ تعالیٰ اسے اس عظیم اور ہم ذمہ داری سے سرافراز نہیں فرماتا۔ اسی لئے بعثت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے:

’’وَ إِنَّكَ لَعَلىٰ‏ خُلُقٍ عَظِيمٍ‏ ‘‘

(بےشک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔)

اللہ نے پیغمبر کو بعثت سے قبل ہی اس طرح سے خلق فرمایا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وحی الٰہی کےلئے مناسب ترین ظرف قرار پائیں۔

اسی لئے مروی ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جوانی کے دوران تجارت سے خوب فائدہ کما یا لیکن آپ نے وہ سب خدا کی راہ میں صدقہ دیا اور غریبوں میں تقسیم کردیا۔

اس دوران یعنی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تکامل کے آخری مراحل میں اور نزولِ وحی سے پہلے (جبکہ ہنوز آپ مبعوث برسالت نہیں ہوئے تھے) آنحضرت کوہ حرا پر چڑھتے تھے اور اللہ کی نشانیوں کو دیکھتے تھے۔

آپ آسمان، ستاروں، زمین، اور روئے زمین پر مختلف احساسات کے ساتھ اور مختلف طریقوں سے زندگی گزارنے والی مخلوقات کا مشاہدہ فرماتے تھے۔

آپ ان سب میں اللہ کی نشانیاں دیکھتے تھے۔ چنانچہ حق کے سامنے آپ کا خضوع نیز اللہ کے اوامر و نواہی اور ارادۂ خداوندی کےسامنے آپ کا جذبۂ تسلیم بڑھتا گیا اور اخلاق ِحسنہ کی کونپلیں آپ کے من میں روز بروز تیزی سے پنپنےلگیں۔

حدیث میں مذکور ہے:

’’کان اعقل النّاس وَاکرَمهُم‘‘

آپ لوگوں میں سب سے زیادہ خردمند اور سب سے زیادہ کریم تھے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعثت سے قبل اللہ کی نشانیاں دیکھ کر روز بروز کاملتر ہوتے گئے یہاں تک کہ آپ چالیس سال کے ہوگئے۔

’’ فَلَمَّا اسْتَكْمَلَ‏ أَرْبَعِينَ‏ سَنَةً وَ نَظَرَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ إِلَى قَلْبِهِ فَوَجَدَهُ أَفْضَلَ الْقُلُوبِ وَ أَجَلَّهَا وَأَطْوَعَهَا وَ أَخْشَعَهَا وَ أَخْضَعَهَا ‘‘ ۔

(جب آپ مکمل چالیس سال کے ہوگئے تو اللہ نے آپ کے قلب کو دیکھا۔ پس اسے سب سے اچھا، سب سے جلیل القدر، سب سے زیادہ تابعدار اور سب سے زیادہ خاشع و خاضع پایا)۔

چالیس سال کے عرصے میں آپ کا دل سب دلوں سے زیادہ روشن، خاشع اور اللہ کا پیغام سمیٹنے کےلئے سب سے زیادہ وسیع دل تھا۔

’’أَذِنَ لِأَبْوَابِ السَّمَاءِ فَفُتِحَتْ وَ مُحَمَّدٌ يَنْظُرُ إِلَيْهَا‘‘ ۔

جب آنحضرت معنویت، روحانیت اور نورانیت کے اس اونچے مقام تک پہنچے تو اللہ تعالی نے آسمانوں اور غیبی عوالم کے دروازے آپ کے سامنے کھول دیے۔

اللہ نے آپ کو معنوی اور غیبی عوالم کا نظارہ کرایا۔

’’وَأَذِنَ لِلْمَلَائِكَةِ فَنَزَلُوا وَ مُحَمَّدٌ يَنْظُرُ إِلَيْهِم‘‘

‏ آپ فرشتوں کو دیکھتے تھے۔ وہ آپ سے بات کرتے تھے۔

آپ ان کی بات سنتے تھے یہاں تک کہ جبرئیل آپ کے ہاں نازل ہوئے اور بولے:

’’اقرأ ‘‘

پڑھ۔

۱۶

بعثت کاآغاز

یہ بعثت کا نقطۂ آغاز تھا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اللہ کا بے مثال بندہ اور انسانِ کامل تھے اور نزول وحی سے پہلے کمال کے اس مرتبے تک پہنچ گئے تھے۔ آپ نے بعثت کے ابتدائی لمحے سے ہی ایک مربوط،ہمہ گیر اور دشوار جہاد کا آغاز کیا اور ۲۳ سال تک نہایت دشواری کے ساتھ اس جہاد کو جاری رکھا۔ آپ نے ان لوگوں کےساتھ جہاد کیا جو حقیقت کا کوئی ادراک نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے اس ماحول میں جہاد کیا جہاں مطلق تاریکی کا راج تھا۔ اس بارے میں نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا فرمان ہے:

’’فی فِتَنٍ دَاسَتْهُمْ بِأَخْفَافِهَا وَوَطِئَتْهُمْ‏ بِأَظْلَافِهَا وَ قَامَتْ عَلَى سَنَابِكِهَا‘‘

فتنے ہر طرف سے لوگوں کو کچل رہے تھے۔ دنیا پرستی، شہوترانی، ظلم و تعدی اور اخلاقی رذائل انسانی وجود کی گہرائیوں میں راسخ ہوچکے تھے۔

ظالم قوتیں بغیر کسی رکاوٹ کے کمزوروں پر ظلم ڈھارہی تھیں۔ ظلم و تعدی کا یہ سلسلہ نہ صرف مکہ اور جزیرہ نمائے عرب میں بلکہ اس دور کے سب سے متمدن معاشروں یعنی عظیم رومی سلطنت اور ایرانی شہنشاہیت کی قلمرو میں بھی جاری و ساری تھا۔

۱۷

تاریخ کا مطالعہ کیجئے۔ تاریخ کے تاریک صفحات نے پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ بعثت اور نزولِ وحی کے لمحۂ آغاز سے ہی اس عظیم باطنی قوت کے ہمراہ مجاہدت فی سبیل اللہ نیز ناقابل تصور اور مسلسل جد و جہد کا آغاز ہوگیا۔

اللہ کی وحی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے پاکیزہ دل پر تسلسل کے ساتھ یوں نازل ہورہی تھی جس طرح صاف ستھرا پانی زرخیز زمین کو سیراب کرتا ہے۔ وحی آپ کے دل کو قوت بخشتی تھی۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس دنیا کو ایک عظیم تحول سے روبرو کرنے کےلئے اپنی پوری قوت صرف کردی اور کامیابی حاصل کی۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشوار مکی زندگی کے دوران ہی اپنے توانا ہاتھوں سے امتِ مسلمہ کی عمارت کی تعمیر فرمائی اور ان مضبوط ستونوں کی بنیاد رکھی جن کے اوپر امت کی عمارت کھڑی ہوسکے۔ سب سے پہلے ایمان لانے والے اس قدر دانائی، شجاعت اور نورانیت کے حامل تھے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کا مفہوم سمجھ سکیں اور آپ سے دل لگائیں۔

’’فَمَن يُرِدِ اللّٰهُ أَن يَهْدِيَهُ‏ يَشرَح صَدْرَهُ لِلْاسْلَامِ‘‘

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے توانا ہاتھوں نے ان بااستعداد دلوں نیز علوم الٰہی اور احکام خداوندی کو قبول کرنے والے قلوب کے کھلے دروازوں کی تعمیر فرمائی۔

اس کے نتیجے میں اذہان منور ہوگئے اور ارادے دن بدن محکم تر ہونے لگے۔ مکی زندگی کے دوران مومنین کی قلیل تعداد (جس میں روز بروز اضافہ ہورہا تھا) جن مشکلات سے روبرو ہوئی اس کا تصور ہمارے اور آپ کےلئے ممکن نہیں۔ اُس ماحول میں جملہ اقدار، جاہلی تھے۔تعصبات، باطل غیرت، عمیق کینے، قساوت ِقلبی، سنگدلی، بدبختی، مظالم اور شہوت پرستی آپس میں مخلوط تھیں۔یہ لوگوں کی زندگی کو مکدر کررہی تھیں اور ان کو محیط تھیں۔ ان سخت اور ناقابل نفوذ پتھروں کے درمیان ایمان کے سرسبز پودے اگ آئے۔

’’ إِنَّ الشَّجَرَةَ الْبَرِّيَّةَ أَصْلَبُ عُوداً وَ أَقْوَىٰ وَقُودا‘‘

امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ قول اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی طوفان ان سبزوں ، ان پودوں اور ان درختوں کو نہیں ہلا سکتا جو چٹانوں کے درمیان اگتے ہیں، ان کے اندر اپنی جڑیں پھیلاتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔یوں تیرہ سال گذرگئے۔ پھر ان مضبوط بنیادوں کے اوپر مدینہ کے اسلامی و نبوی معاشرے کی عمارت تعمیر کی گئی۔

۱۸

اسلامی نظام کی بنیادوں کی تعمیر:

یہ امت سازی خالی سیاست نہیں تھی بلکہ سیاست اس کا ایک حصہ تھی۔

اس کا دوسرا اہم حصہ ایک ایک فرد کی تربیت سے عبارت تھا:

’’هُوَ الَّذِى بَعَثَ فىِ الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنهُم يَتْلُواْ عَلَيهِم آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الحِکمَةَ‘‘

،’’يُزَكِّيهِمْ‘‘

یعنی رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک ایک دل کی تربیت فرماتے تھے۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہرذہن اور ہر دماغ کو علم و دانش عطا فرماتے تھے۔

’’وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الحِکْمَةَ‘‘

حکمت کا مقام علم سے بالاتر ہے۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)لوگوں کو صرف قوانین، ضوابط اور احکام نہیں سکھاتےتھے بلکہ انہیں حکمت سکھاتے تھے۔ آپ ان کی آنکھوں کو حقائق ِعالم سے آشنا بناتے تھے۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس طریقے پر کام کیا۔

ایک طرف سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سیاست، حکمرانی، اسلامی معاشرے کی حفاظت، اسلام کے پھیلاؤ اور مدینہ سے باہر والوں کی دائرہ اسلام میں شمولیت کی راہ ہموار کی اور دوسری طرف سے ہر فرد کی تربیت کا اہتمام فرمایا۔ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔

کچھ لوگوں نے اسلام کو صرف انفرادی مسئلہ سمجھ لیا اور اسلام کو سیاست سے الگ قرار دیا جبکہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکی زندگی کی دشواریوں سےنجات پانے کے بعد ابتدئے ہجرت میں ہی جو کام سب سے پہلے انجام دیا وہ سیاسی تھا۔

اسلامی معاشرے کی تشکیل، اسلامی حکومت کی تشکیل، اسلامی قوانین کی تشکیل، اسلامی لشکر کی تشکیل، دنیا کی عظیم سیاسی شخصیات کے نام خطوط اور اس زمانے کے عظیم سیاسی میدان میں قدم رکھنا سیاست نہیں تو اور کیا ہیں؟ اسلام کو سیاست سے کیسے جدا کیا جاسکتا ہے؟

اسلام کے ہدایت آفرین نظام کے علاوہ کس نظام کے ذریعے سیاست کی تفسیر کی جاسکتی ہے؟

’’الَّذِينَ جَعَلُواْ الْقُرْءَانَ عِضِين‘‘‏

کچھ لوگ قرآن کے حصے بخرے کردیتے ہیں:

’’يُؤْمِنُ بِبَعْضِ‏ الْكِتَابِ‏ وَ يَكْفُرُ بِبَعْض‘‘‏

وہ قرآنی عبادات کو مانتے ہیں لیکن قرآنی سیاست پر ایمان نہیں لاتے۔

’’لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘

۱۹

’’قسط‘‘ کیا ہے؟

قسط سے مرادہے: معاشرتی عدل و انصاف کا قیام۔

کون یہ کام انجام دے سکتا ہے؟

عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ایک سیاسی عمل نہیں تو کیا ہے؟

یہ ملکی حکمرانوں کا کام ہے۔

یہ انبیاء کا مقصد ہے۔

نہ صرف ہمارے نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلکہ عیسی علیہ السلام ،موسیٰ علیہ السلام ابراہیم علیہ السلام اور سارے انبیاء سیاست اور اسلامی نظام کی تشکیل کےلئے تشریف لائے تھے۔

( ۳۱/۵/۱۳۸۵ھ ش)۔

مدینہ میں اسلامی حاکمیت کے دس سالوں کے دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت تاریخ انسانیت کے درخشاں ترین ادوار میں سے ایک (بلکہ سب سے درخشاں دور) ہے۔ تاریخ ِبشریت کے اس مختصرمگر فعال ترین، غیرمعمولی اورموثر دور کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

مدنی دور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تئیس سالہ رسالت کی دوسری فصل ہے۔

تیرہ سالہ مکی زندگی اس کی پہلی فصل تھی(جو دوسری فصل کی تمہید محسوب ہوتی ہے)۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدنی زندگی تقریباً دس سالوں کو محیط ہے۔

یہ دور اسلامی نظام کی بنیادیں استوار کرنے نیز تاریخ ِبشریت کے ہر دور اور ہر مقام کےلئے اسلامی حاکمیت کا نمونہ اور اسوۂ حسنہ قائم کرنے کا دور ہے۔ یہ ایک کامل نمونہ ہے۔ کسی اور زمانے میں اس کی مثال دکھائی نہیں دیتی۔ اس کامل نمونے کی روشنی میں معیاروں کی شناخت عمل میں آسکتی ہے۔

تمام انسانوں اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ان معیاروں کے ذریعے نظاموں اور انسانوں کو پہچانیں اور ان کے بارے میں قضاوت کریں۔

مدینہ کی جانب رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کا مقصد یہ تھا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس زمانے میں پوری دنیا پر حاکم ظالمانہ ، طاغوتی اور باطل سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی ماحول یا نظام کا مقابلہ کریں۔ آپ کا مقصد صرف کفارِ مکہ کا مقابلہ کرنا نہ تھا۔

یہ ایک عالمگیر مقصد تھا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقصد یہ تھا کہ جہاں جہاں حالات سازگار ہوں وہاں فکر و نظر اور عقیدے کا بیج بوئیں اس امید کے ساتھ کہ مناسب وقت پر یہ بیج اگ کر سرسبز بن جائے۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ انسانی آزادی، بیداری اور خوش بختی کا پیغام تمام دلوں تک پہنچ جائے۔

یہ مقصد ایک ایسے نظام کی عملی تشکیل کے بغیر ممکن نہ تھا جو دوسروں کےلئے نمونہ اور قابل تقلید ہو۔ اسی لئے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تا کہ اس قابلِ تقلید نظام کو وجود بخشیں۔

رہی یہ بات کہ بعد والے اس نظام کی کہاں تک حفاظت کرسکتے ہیں یا اس کے قریب ہوسکتے ہیں تو یہ ان کے عزم و ہمت پر موقوف ہے۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام یہ ہے کہ نمونہ قائم کریں او ر اسے پوری بشریت اور تاریخ کے سامنے آشکار کریں۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نظام تشکیل دیا اس کی مختلف خصوصیات ہیں جن میں سے سات خصوصیات سب سے اہم اور نمایاں ہیں۔

۲۰