درباری علماء سے امام سجاد کا شدید برتاؤ:
امام سجاد علیہ السلام کے حالات، آپ کی حکمت عملی اورآپ کی تدابیر سے مربوط مسائل کی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئےیہاں ہم ایک عظیم اسلامی تحریک کےلئے فراہم سازگار فضا کی بحث کرنا چاہیں گے جو علوی اور اسلامی حکومت پر منتج ہوسکتی تھی۔
بطور خلاصہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی تدابیر اور حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لوگوں کےلئے تشریح، توضیح اور تبیین کا اہتمام کیا جائے ، بعض لوگوں کو تنظیمی نیٹ ورک میں پرویا جائے اور بعض افراد کو رہنمائی و ہدایت سے نوازا جائے۔
بالفاظ دیگر ہم نے امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کی جو تصویر پیش کی ہے ا س کی رو سے ہم آپ کو ایک بردبار اور صابر انسان پاتے ہیں جو ۳۰یا ۳۵ سالوں تک مسلسل کوشش کرتے رہے تا کہ عالم اسلام کے سخت نامناسب حالات کا رخ اس طرف موڑدیں جہاں خود امام علیہ السلام اور آپ کے جانشین اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کی تشکیل کےلئے حقیقی اور نتیجہ بخش کوششوں اور سرگرمیوں کا سلسلہ قائم رکھ سکیں۔
اگر ہم امام سجاد علیہ السلام کی ۳۵ سالہ جد و جہد کو ائمہ کی مجموعی تاریخ سے حذف کریں تو یقیناً وہ حالات فراہم نہ ہوتے جن میں امام صادق علیہ السلام نے اموی حکومت کے مقابلے میں اور بعد میں عباسی خلافت کے مقابلے میں اس قدر صریح اور آشکار موقف اختیار کیا۔
ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کےلئے سب سے اہم اور لازمی چیز ذہنی اور فکری راستوں کو ہموار کرنا ہے۔
لیکن اُس دور میں عالمِ اسلام جن حالات سے گزر رہا تھا ان کے پیش نظر اس طرح سے ذہنی اور فکری فضا سازگار بنانے کےلئے سالہا سال کام کرنے کی ضرورت تھی۔
امام سجاد(علیہ السلام) نے اسی مہم کو سر کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس مقصد کےلئے کمر شکن زحمتیں برداشت کیں۔
اس کے علاوہ ہم امام سجاد علیہ السلام کی دیگر کوششوں کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں جو درحقیقت مذکورہ بالا میدان میں آپ کی پیشرفت کی علامت ہے۔
ان کوششوں کا زیادہ تر حصہ سیاسی نوعیت کا ہے جن میں کبھی کبھی بہت تیزی اور تندی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان کوششوں کا ایک نمونہ (درباری علماء اور سرکاری مشینری کےلئے کام کرنے والے بڑے بڑے محدثین کے ساتھ) امام سجادکے رویے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں ہم اسی رویے کا جائزہ لیں گے۔
ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے پرشور ترین مباحث میں سے ایک اسلامی معاشرے کی فکری اور ثقافتی لگام پکڑنے والوں یعنی علماء اور شعراء کے ساتھ ان معصومین کا طرز عمل ہے۔ یہ طبقہ لوگوں کی ذہنی اور فکری جہات کو متعین کرتا تھا۔
اموی اور عباسی خلفاء معاشرے پر جن اقدار اور احوال کی حکمرانی چاہتے تھے یہ طبقہ لوگوں کو ان اقدار و احوال کا خوگر بناتا اور ان کے آگے سرتسلیم خم بنا تا تھا۔ دیگر ائمہ علیہم السلام کی طرح امام سجاد علیہ السلام کا یہ طرزِ عمل ایک اہم اور دلچسپ باب ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ظالم اورستمگر خلفاء اسلام کے معتقد لوگوں پر حکومت کرنے کی خاطر اس بات پر مجبور تھے کہ اپنے مقاصد اور لائحہ عمل کی تکمیل کےلئے لوگوں کے قلبی ایمان اور ان کی عقیدت کا رخ اپنی طرف موڑلیں۔
کیونکہ ہنوز اُس دور اور صدر ِاسلام کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ واقع نہیں ہوا تھا اور اسلام پر لوگوں کا قلبی ایمان حسب ِدستور باقی تھا۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ انہوں نے اس ظالم خلیفہ کی جو بیعت کی ہے وہ درست نہیں اور یہ ظالم آدمی رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی جانشینی اور خلافت کا سزاوار نہیں تو یقیناً وہ اس کے آگے سر نہ جھکاتے۔
اگر سب لوگوں کے بارے میں ہم اس بات کو قبول نہ کریں تب بھی اسلامی معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو قلبی ایمان کی رو سے دربارِ خلافت کی غیر اسلامی حالت کو برداشت کرتے تھے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صورتحال اسلامی ہے۔
اسی لئے ظالم خلفاء اس دور کے محدثین اور علماء سے زیادہ سے زیادہ کام لیتے تھے اور انہیں اپنے من پسند کاموں پر آمادہ کرتے تھے نیز ان سے کہتے تھے کہ وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور آپ کے بڑے بڑے اصحاب کی جانب سے ایسی احادیث گھڑلیں جو ان حکمرانوں کی مرضی اور پسند کے مطابق ہوں۔ اس سلسلے میں کئی دل ہلا دینے والے واقعات مروی ہیں۔
بطور مثال منقول ہے کہ معاویہ کے زمانے میں ایک شخص کی ملاقات کعب الاحبار سے ہوگئی۔ معاویہ اور شام کے حکمرانوں کے ساتھ کعب الاحبار کے دوستانہ روابط تھے۔ اس لئے کعب الاحبار نے اس شخص سے پوچھا: کہاں سے تعلق رکھتےہو؟ اس نے کہا: شامی ہوں۔ بولا: شاید تمہارا تعلق اس لشکر سے ہے جس کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔
شامی: وہ کون لوگ ہیں؟
کعب: وہ اہل دمشق ہیں۔
شامی: لیکن میں دمشقی نہیں ہوں۔
کعب: پس شاید تیرا تعلق ان لشکریوں سے ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ ہر روز دوبار نظر فرماتا ہے۔
شامی: وہ کون ہیں؟
کعب: وہ اہل فلسطین ہیں۔
شایداگر وہ شامی یہ کہتا : میں فلسطینی نہیں ہوں تو کعب الاحبار دیگر شہروں مثلاً بعلبک، طرابلس و غیرہ کے مکینوں کے بارے میں ایسی جعلی احادیث نقل کرتا جن سے یہ ظاہر ہوتا کہ ان شہروں کے لوگ ممتاز اور بلند مقام رکھتے ہیں اور جنتی ہیں۔
کعب الاحبار یا تو شامی حکام کی خوشامد اور چاپلوسی کی خاطر اس قسم کی احادیث گھڑتا تھا تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ مالی مدد لے اور ان کی ہمدردی حاصل کرےیا اسلام سے دشمنی اور عناد کی بنا پر ایسا کرتا تھا تا کہ اسلامی احادیث کو جھوٹی احادیث کے ذریعے مخلوط اور مشکوک بنا دے جس کے نتیجے میں رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال کی شناخت آسانی سے میسر نہ ہو۔
سیرت اور رجال کی کتب میں اس قسم کے بہت سے واقعات درج ہیں۔
ان میں سے ایک اس حاکم کا واقعہ ہے جس کا بیٹا مکتب گیا اور صاحبِ مکتب نے اسے مارا۔ بیٹا روتا ہوا گھر لوٹا اور باپ سے شکایت کرنے لگا کہ آج صاحبِ ِمکتب نے مجھے مارا ہے۔
باپ نے غصے میں کہا: میں ابھی جاتا ہوں اور اس کے خلاف ایک حدیث تیار کرنے کا حکم دیتا ہوں تاکہ یہ صاحبِ مکتب پھر اس قسم کی جرأت نہ کرے۔
اس داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی احادیث تیار کرنا ان لوگوں کےلئے اس قدر آسان تھا کہ وہ اپنے بچوں کے آنسوؤں پر ترس کھانے کے باعث مکتب کے مالک یا اس کے شہر کے بارے میں جعلی حدیث تیار کرتے تھے۔
بہرحال اس صورتحال کے باعث عالم اسلام میں اسلام کے حوالے سے بہت ہی خراب، خود ساختہ اور مخلوط ذہنیت یا ثقافت وجود میں آچکی تھی۔
اس غلط ذہنیت کا سرچشمہ وہی علماء ومحدثین تھے جو اس دور کے طاقتور اور مقتدر لوگوں کے کاسہ لیس اور خدمتگار تھے۔
بنابریں ان حالات میں اس گروہ کی مخالفت ایک بہت ہی اہم اور فیصلہ کن اقدام تھی۔ یہاں ہم امام سجاد علیہ السلام کی سیرت سے اس قسم کی مخالفت کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔ یہ امام کی جانب سے محمد بن شہاب زہری کی مخالفت کا واقعہ ہے۔
محمد بن شہاب زہری شروع میں امام سجاد علیہ السلام کے قریبی لوگوں اور شاگردوں میں شامل تھا۔
اس نے امام سے بعض علوم حاصل کیے اور احادیث نقل کیں لیکن آہستہ آہستہ (اپنی جرأتمندی کے باعث) دربارخلافت کا مقرب اور خدمتگار بن گیا۔ یوں وہ ان علماء ومحدثین کے زمرے میں شامل ہوگیا جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے مدّ مقابل کھڑے تھے۔
محمد بن شہاب زہر ی کے حالات سے مزیدآشنائی کےلئے ہم اس کے بارے میں چند روایات نقل کریں گے۔
ان روایات میں سے ایک میں زہری کہتا ہے:
شروع میں ہم علم سپردِ قلم کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان حکمرانوں نے ہمیں لکھنے پر مجبور کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ کوئی مسلمان اس سے منع نہیں کرے گا اور علم و دانش ہمیشہ سپردِ قلم ہوتا رہےگا۔
اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تک محدثین کی اس جماعت کے ہاں احادیث کو لکھنے کا رواج موجود نہیں تھا نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محمد بن شہاب زہری حکام کا خدمتگار تھا اور یہ حکام اپنی مرضی کی احادیث اس سے لکھواتے تھے۔
معمّر نامی شخص کا بیان ہے: ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم نے زہری سے بہت سی احادیث نقل کی ہیں یہاں تک کہ ولید قتل ہوگیا۔ اس کے قتل ہونے کے بعد ہم نے بہت سی کتابوں اور دفاتر کو دیکھا جنہیں چوپایوں پر لادکر ولید کے خزانوں سے خارج کیا جا رہا ہے۔
یہ لوگ کہہ رہے تھے: یہ زہری کا علم ہے۔ گویا زہری نے (ولید کے کہنے پر اس کےلئے) احادیث کی کتابوں اور دفاتر کے اتنے انبار لگادیے تھے کہ انہیں ولید کے خزانوں سے نکالتے وقت چوپایوں کے اوپر لادنے کی ضرورت پڑی۔
ولید کے حکم سے لکھی جانے والی احادیث پر مشتمل ان دفاتر اور کتابوں میں کس قسم کی احادیث ہوں گی؟
یقیناً ان میں ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہو گی جس میں ولید کی مذمت کی گئی ہو بلکہ یہ ان احادیث سے عبارت تھیں جن میں ولید اور اس جیسے لوگوں کے اعمال پر مہر تصدیق ثبت کی گئی تھی۔
زہری کے بارے میں ایک اور روایت ہے جو یقیناً اس دور سے مربوط ہے جب زہری دربارخلافت سے وابستہ ہوچکا تھا۔ یعقوبی اپنی تاریخ میں یوں رقمطراز ہیں:
یعنی زہری رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کی طرف مقد س ایمانی سفر کیا جاسکتا ہے۔
وہ تین مساجد یہ ہیں:
مسجد الحرام، مسجد مدینہ اورمسجد اقصیٰ۔
وہ پتھر (جو مسجد اقصیٰ میں ہے اور) جس پر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا پاؤں رکھا تھا وہ کعبے کا نعم البدل ہے۔میری توجہ کا مرکز اس حدیث کا آخری حصہ ہے جس میں اس پتھر کو کعبے کا نعم البدل قرار دیا گیا ہے اور کعبے کی جو قدر و قیمت اور عزت ہے وہ اس پتھر کےلئے ثابت کی گئی ہے۔
اس حدیث کا تعلق اس زمانے سے ہے جب عبد اللہ بن زبیر کا مکہ پر تسلط تھا۔ جب لوگ حج پر جاتے تھے تو وہ مکہ (جہاں عبد اللہ بن زبیر کی حکومت تھی) میں چند روز ٹھہرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ یہ امر عبد اللہ بن زبیر کو بہت اچھا موقع فراہم کرتا تھا تاکہ وہ اپنے دشمنوں (خاص کر عبد الملک بن مروان) کے خلاف تبلیغ کرے۔ چونکہ عبد الملک یہ چاہتا تھا کہ لوگ ابن زبیر کی باتوں سے متاثر نہ ہوں اور مکہ نہ جائیں اس لئے اس نے آسان ترین راستہ یہی دیکھا کہ ایک جعلی حدیث تیار کی جائے جو مسجد اقصی کی فضیلت و منزلت کو مسجد الحرام اور مسجد مدینہ کے برابر قرار دےیہاں تک کہ مسجد اقصی کے پتھر کو کعبے کے برابر اہمیت دی جائے۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ (اسلامی عرف اور ثقافت کی رو سے) دنیا کا کوئی نقطہ کعبے سے زیادہ شرف نہیں رکھتا اور دنیا کا کوئی پتھر خانہ کعبہ کے حجر الاسود کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بنابریں اس حدیث کو گھڑنے کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو خانۂ خدا اور مدینہ منورہ کی طرف سفر کرنے سے روکا جائے(احتمال ہے کہ مدینہ عبد الملک کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کا مرکز تھا) اور انہیں فلسطین کی جانب روانہ کیا جائے کیونکہ فلسطین شام کا حصہ اور عبد الملک کے زیر اثر تھا۔ رہی یہ بات کہ لوگوں نے اس جعلی حدیث پر کتنا عمل کیا تو اسے تاریخ کے اوراق میں تلاش کرنا چاہئے کہ کیا کسی زمانے میں لوگ مکہ جانے کی بجائے بیت المقدس کے صخرہ (پتھر) کی زیارت کےلئے جاتے تھے یا نہیں؟
اگر ایسا اتفاق ہوا ہو تو اس کے اصلی مجرموں میں سے ایک محمد بن شہاب زہری کو قرار دینا پڑےگا جس نے اس قسم کی جعلی احادیث تیار کرکے لوگوں کو گمراہ کردیا۔
یہ سب عبد الملک بن مروان کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کےلئے تھا اور بس۔
جب محمدبن شہاب دربارِ خلافت کا کارندہ بن چکا تو اس کے بعد اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی کہ وہ امام سجاد علیہ السلام اور آل علی علیہ السلام کے خلاف بھی احادیث گھڑنا شروع کرے۔
اس بارےمیں مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین کی تالیف ’’اجوبة مسائل جارالله‘‘ میں دو حدیثیں میری نظر سے گزری ہیں جن میں سے ایک روایت میں محمد بن شہاب دعویٰ کرتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام جبری یعنی نظریہ جبر کے طرفدار تھے۔
وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منسوب کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ آیت شریفہ:
میں لفظ انسان سے مراد (نعوذ باللہ) امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں۔
وہ ایک اور روایت میں نقل کرتا ہے کہ حضرت حمزہ سیدالشہداء نے شراب نوشی کی تھی۔
ان دونوں احادیث کو تیار کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے مقابلے میں مقتد ر سیاسی قوتوں (عبد الملک اور بنی امیہ) کی حمایت کی جائے نیز آل رسول کو (جو بنی امیہ کے مقابلے میں تھے) صف اول کے مسلمانوں کے دائرے سے خارج کیا جائے اور ان کے بارے میں یہ تاثر دیا جائے کہ وہ احکام دین پر عمل اور ان سے دلبستگی کے لحاظ سے عام لوگوں یا ان سے بھی کمتر اور نچلے درجے کےلوگوں میں شامل ہیں۔
امام سجاد علیہ السلام نے اس شخص کے مقابلے میں بہت سخت اور تند موقف اپنایا۔
اس موقف کا مشاہدہ ایک خط میں ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ ایک عدد خط آخر اس سخت موقف کی کس حد تک عکاسی کرسکتا ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اس خط کا مضمون خود زہری کے علاوہ حکمران طبقے کے خلاف بھی بہت تند و تیز لہجے کا حامل ہے نیز یہ خط صرف محمدبن شہاب سے مختص نہیں بلکہ دوسروں کے ہاتھ بھی لگ سکتا تھا نیز واضح طور پر لوگوں کے درمیان بتدریج اس کا تذکرہ پھیلتا جو تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے (چنانچہ یہ تاریخ میں زندہ رہا ہے اور آج ۱۳۰۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہم اس خط پر بحث کررہے ہیں) اس لئے ان حقائق کے پیش نظر ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خط اس قسم کے ضمیر فروش علماء کے مصنوعی اور شیطانی تقدس پر کس قدر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ خط محمد بن شہاب کے نام ہے لیکن یہ اس جیسے دیگر افراد کو بھی شامل ہے۔
واضح ہے کہ اس خط کا مسلمانوں خاص کر اس دور کے شیعوں کے ہاتھ لگنا اور ہاتھوں ہاتھ گردش کرنا ان درباری گماشتوں کی ساکھ کےلئے کس قدر شدید دھچکا تھا۔یہاں ہم اس خط کے بعض حصوں کو نقل کریں گے۔
خط کی اتبدا میں مذکور ہے:
خدا ہمیں اور تجھے فتنوں کے شر سے بچائے اور اللہ آگ کے معاملے میں تجھ پر رحم کرے۔
اس جملے کے دوسرے حصے
میں صرف زہری سے خطاب ہے (جبکہ پہلے حصے میں سب کےلئے فتنے سے محافظت کی دعا کی گئی ہے۔ مترجم) کیونکہ فتنے سے ہرکوئی دوچار ہوسکتا ہےیہاں تک کہ خود امام سجاد علیہ السلام بھی کسی نہ کسی طرح فتنے سے روبرو ہوسکتے ہیں البتہ آپ فتنے میں غرق نہیں ہوسکتے۔
اس کے بر عکس محمد بن شہاب نہ صرف فتنے سے دوچار ہوا بلکہ اس میں غرق ہوگیا اور وہ امام سجاد علیہ السلام کے برخلاف آتش جہنم کا مستحق ٹھہرا۔
اس لئے محمد بن شہاب کے بارے میں آتش جہنم کی بات ہوئی۔ اس انداز بیان کے ساتھ خط کا آغاز ابن شہاب کے ساتھ امام کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رویہ تحقیر آمیز بھی ہے اور معاندانہ بھی۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:
اب تیری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہر اس شخص کو جو تیری حالت سے آشنا ہوجائے تیرے اوپر رحم کھانا چاہئے۔(تیری یہ حالت لوگوں کی نظر میں قابلِ رحم ہے۔ مترجم) ملاحظہ ہو کہ امام کس سے خطاب فرمارہے ہیں۔
امام علیہ السلام کا مخاطب وہ ہے جس پر سب رشک کرتے ہیں۔ وہ حکومت کے منظور نظر بڑے بڑے علماءمیں سے ایک ہے۔ لیکن امام اسے اس قدر ذلیل و خوار کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں: جو کوئی تیری اس حالت سے آشنا ہوجائے اسے تیرے اوپر ترس کھانا چاہئے۔
پھر امام علیہ السلام بعض آیات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اللہ تیرے قصور اور تیری تقصیر کو ہرگز نہیں بخشےگا کیونکہ خدا نے علماء کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کےلئے حقائق کو بیان کریں:
اس تمہید کے بعد امام علیہ السلام محمدبن شہاب پر بہت سخت اور کڑی تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
جان لے کہ تو نے جن چیزوں کو چھپایا ہے اور جن چیزوں کا بوجھ اپنی گردن پر لادا ہے ان میں سب سے معمولی اور خفیف چیز یہ ہے کہ تو نے ستمگر کی اجنبیت کو انس میں تبدیل کیا ہے اور اس کےلئے گمراہی کا راستہ ہموار کیا ہے اور وہ یوں کہ تو اس کے قریب ہوگیا اور جب اس نے تجھے دعوت دی تو تو نے اس کی دعوت قبول کرلی۔
یہاں امام علیہ السلام دربارِ خلافت و حکومت کے ساتھ ابنِ شہاب کی قربت کی یوں تصویر کشی فرماتے ہیں اور اس کے سر پر مذمت کا تازیانہ برساتے ہیں:
تو نے اس سے وہ کچھ لیا ہے جو تیرا حق نہیں بنتا۔تو اس (ظالم خلیفہ) کے قریب ہوگیا ہے جس نے کسی کا حق اسے نہیں لوٹایا ہے اور جب سے اس نے تجھے اپنے قریب کیا ہے تو نے کسی باطل کو برطرف نہیں کیا ہے۔
بالفاظ دیگر تو یہ عذر نہیں تراش سکتا :’’ میں نے تو احقاق ِ حق اور ابطال ِباطل کےلئے اس کی قربت اختیار کی ہے ‘‘کیونکہ جب تک تو اس کے ساتھ رہا تو نے کسی باطل کا خاتمہ نہیں کیا جبکہ اس کا حکومتی نظام باطل سے لبریز ہے۔
تو نے اس شخص کے ساتھ دوستی کی ہے جس نے خدا سے دشمنی برتی ہے۔
اس تنقیدی خط میں امام کا ایک نہایت لرزا دینے والا اعتراض یہ ہے:
کیا ایسا نہیں ہے اور کیا تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تجھے اپنے قریب لاکرتجھے وہ محور اور کیلی قرار دیا ہے جس کے گرد ان کے مظالم کی چکی کا پتھر گھومتا ہے۔
انہوں نے تجھے ایک پل قرار دیا ہے جس سے گزر کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی طرف بڑھتے ہیں۔
انہوں نے تجھے ایک سیڑھی قرار دی ہے جس پر چڑھ کر وہ اپنی گمراہی کی جانب جاتے ہیں۔
انہوں نے تجھے اپنی ضلالت کی طرف بلانے والا اور اپنے راستے کا راہی بنایا ہے۔ وہ تیرے ذریعے علماء کے اذہان میں شکوک پیدا کرتے ہیں اور تیرے ذریعے جاہلوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تیرے باعث علماءاس شک میں مبتلا ہوئے کہ کیا دربار حکومت کے ساتھ ہمارے قریب ہونے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟
پھر کچھ لوگ اس دام میں پھنس بھی گئے۔ علاوہ ازیں تیرے ہی باعث جاہل لوگ آسانی سے خلفاء کی جانب راغب اور ان کے دلدادہ ہوگئے۔
اس کے بعد امام علیہ السلام فرماتے ہیں:
یعنی تو نے ان کی برائیوں کو لوگوں کی نگاہوں میں اچھا ظاہر کرکے ان کی جو خدمت کی ہے وہ خدمت ان کے خاص وزیروں اور طاقتور مددگاروں نے بھی نہیں کی۔ اس نہایت تند و تیز، پر مغز اور پرمعنی خط کے ذریعے امام سجاد علیہ السلام نے اس فکری و علمی قیادت کو رسوا کیا جو ظالم سیاسی قوت اور حکومت کی خدمتگار بن گئی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس ظالم حکومت کے ساتھ سازباز کرنے والوں کو سوالیہ نشان بنادیا۔ یہ سوالیہ نشان اس دور کے اسلامی معاشرے میں ہمیشہ مد نظر رہا اور تاریخ کے ہر دور میں اہمیت کا حامل رہےگا۔میں اسے امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ امام نے ایک محدود جماعت کے اندر علمی و تربیتی سرگرمیوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ نے اس قسم کی سیاسی جدوجہد بھی فرمائی۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۱۱)
یہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک خلاصہ ہے۔یہاں اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کرتا چلوں کہ اگرچہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنے ۳۴ سالہ پُربار دور ِامامت میں دربارِ خلافت کے ساتھ بطور آشکار کوئی ٹکر نہیں لی اس کے باوجود آپ نے امامت کا پرفیض بساط بچھاکرمومن اور مخلص عناصر کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ فرماکر اور اہل بیتعلیہم السلام کی دعوت کا دائرہ وسیع کرکے اپنے حصے کا کام انجام دیا جس کے نتیجے میں اموی خلافت آپ سے بدظن اور خائف ہوگئی یہاں تک کہ امویوں نے آپ کو ستایا بھی اور کم از کم ایک بار وہ آپ کو غل و زنجیر میں جھکڑ کر مدینہ سے شام لےگئے۔سانحہ کربلا کے بعد امام سجاد علیہ السلام کو غل و زنجیر پہنانے کا جو واقعہ معروف ہے اس کے بارے میں یقین سے نہیں کہاجا سکتا کہ آپ کی گردن کو بھی غل و زنجیر سے باندھا گیا یا نہیں لیکن بعد والے واقعے میں یہ یقینی ہے یعنی امام غل و زنجیر میں جھکڑ کر اور اونٹ پر سوار کرکے مدینہ سے شام لے جائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی دشمنوں نے کئی بار آپ کو تشدد اور ایذارسانی کا نشانہ بنایا۔ آخر کار ۹۵ھ (ولید بن عبد الملک کے دورِ خلافت)میں دربار خلافت کے کارندوں کے ہاتھوں آپ علیہ السلام کو زہر دیا گیا اور آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔(پاسدار اسلام، شمارہ ۱۲)۔ =====٭٭٭٭٭=====