انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 356
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 356 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ نوبت بھی آسکتی ہے۔ اگر حضرت زینب سے منسوب یہ شعر درست ہو:

مَا تَوَهَّمْتُ يَا شَقِيقَ فُؤَادِی كَانَ هَذَا مُقَدَّراً مَكْتُوبَاً

تو یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ یہ تمام لوگوں کی سوچ کی ترجمانی ہے لیکن اچانک معلوم ہوا کہ سیاست کا چہرہ بدل چکا ہے اور اب تک کے انداز ے سے کہیں زیادہ سخت گیری کا دور آچکا ہے۔ ناقابلِ تصور امور واقع ہوگئے اور ایک شدید خوف نے پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لےلیا سوائے کوفہ کے اور وہ بھی صرف توابین اور ان کے بعد مختار کی وجہ سے و گرنہ واقعہ کربلا نے مدینہ اور دیگر علاقوں میں جو دہشت قائم کی تھی (یہاں تک کہ مکہ میں بھی حالانکہ عبد اللہ بن زبیر نے کچھ مدت بعد وہاں بغاوت برپا کی تھی) اس کی دنیائے اسلام میں مثال نہیں ملتی۔

بنابریں یہ فکری ،اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن بھی ایک اور عامل ہے۔

اکثر بڑی شخصیات ان مادی خواہشات کے دام میں پھنسی ہوئی تھیں جن کی تسکین سرکاری حکام کے طفیل انجام پاتی تھی۔

محمد بن شہاب زہری جیسی بڑی شخصیات جو کسی زمانے میں امام سجادکی شاگردی کیا کرتا تھا آخرکار دربار سے وابستہ ہوگیا۔

اسی محمد بن شہاب زہری کے نام امام سجاد کا معروف خط ایک تاریخی تحریر ہے جو تحف العقول اور دیگر کتب میں مذکور ہے۔

اس خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی بڑی شخصیات کس طرح حکومت کے ہاتھوں پھنس جاتی تھیں۔ محمد بن شہاب جیسے لوگوں کی کمی نہیں تھی۔

مرحوم مجلسی نے بحار الانوار میں جابر (جس سے بظاہر جابربن عبد اللہ ہی مراد ہے) سے نقل کیا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:

مَا نَدْرِي كَيْفَ نَصْنَعُ بِالنَّاسِ إِنْ حَدَّثْنَاهُمْ بِمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ ضَحِكُوا

یعنی جب ہم لوگوں کو رسول کی حدیث سناتے ہیں تو وہ قبول کرنے کی بجائے ہنستے ہیں۔

وَ إِنْ سَكَتْنَا لَمْ يَسَعْنَا ۔

اس کے بعد وہ ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ امام نے کچھ لوگوں سے ایک حدیث بیان کی تو ان میں سے ایک شخص نے مذاق اڑایا اور اس حدیث کو قبول نہیں کیا۔

اس کے بعد وہ سعید بن مسیب اور زہری کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ منحرف ہونے والوں میں سے تھے۔ راقم سعید بن مسیب کے بارے میں اس بات کو قبول نہیں کرتا کیونکہ کچھ اور دلائل کی رو سے وہ امام کے اصحاب میں شامل تھے۔

البتہ زہری اور بہت سے دیگر لوگوں کے بارے میں یہ بات درست ہے۔

اس کے بعد ابن ابی الحدید اس زمانے کی بہت ساری اہم شخصیات کا ذکر کرتا ہے کہ یہ سب اہل بیت سے منحرف ہوئے تھے۔

پس یہ ضروری تھا کہ لوگوں کے دین اور اخلاق کی اصلاح ہو، لوگوں کو خرابیوں کے اس گرداب سے نکالا جائے اور معاشرے میں معنوی اہداف (جو دین کا لبّ لباب اور ایمان کی اصل روح ہیں) کا دوبارہ احیاء ہو۔

اسی لئے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امام سجاد کی زندگی اور آپ کے فرمودات زہد کا مرقع ہیں۔

إنّ علام ۃ الزاهدين في الدّنيا الرّاغبين في الآخرة

یہ ایک طویل اورمفصل گفتگو کے ابتدائی الفاظ ہیں۔

اس کلام میں بھی ان اہداف کی طرف اشارہ موجود ہے جن کا ہم ذکر کرچکے ہیں۔ اسی طرح فرماتے ہیں:

أَ وَ لَاحُرٌّ يَدَعُ هَذِهِ اللُّمَاظَةَ لِأَهْلِهَا يَعْنِي الدُّنْيَا فَلَيْسَ لِأَنْفُسِكُمْ ثَمَنٌ إِلَّا الْجَنَّةُ فَلَا تَبِيعُوهَا بِغَيْرِهَا ۔

امام سجاد علیہ السلام کے فرمودات کا اکثر حصہ ’’زہد‘‘ اور معارف سے مربوط ہے۔ البتہ معارف بھی دُعاؤں کی صورت میں مذکور ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دور کی شدید پابندیوں اور ناسازگار حالات کے باعث امام سجاد لوگوں سے کھل کر اور صاف صاف بات نہیں کرسکتے تھے۔

نہ صرف یہ کہ حکومتی اداروں کی جانب سے پابندی تھی بلکہ لوگ بھی اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ درحقیقت وہ معاشرہ ایک کھوکھلا، برباد اور نااہل معاشرہ تھا جسے تعمیر نو کی ضرورت تھی۔

۶۱ھ سے ۹۵ھ تک ۳۴ یا ۳۵ سال کا عرصہ امام سجاد علیہ السلام نے ان نا موافق حالات میں گزارا۔

البتہ وقت کی رفتار کے ساتھ حالات بتدریج بہتر ہوتے گئے چنانچہ امام صادق علیہ السلام سے مروی حدیث میں:

ارتد الناس بعد الحسین ک ے بعد فرمایا:ثم الناس لحقوا و کثروا

(یعنی واقعہ کربلا کے بعد لوگوں نے ہم سے منہ پھیرا لیکن پھر ہمارے ساتھ ملحق ہونے لگےاور ان کی کثیر تعداد ہوگئی)ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا کیونکہ امام باقر علیہ السلام کے دور میں حالات کافی بدل چکے تھے۔

یہ امام سجاد علیہ السلام کی ۳۵/سالہ زحمتوں کا نتیجہ تھا۔

( ۲۸/۴/۱۳۶۵ھ ش)۔

۱۰۱

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر امام سجاد علیہ السلام اموی حکومت کے خلاف مقاومت کے خواہاں ہوتے تو آپ کو علم بغاوت بلند کرنا چاہئے تھا یا آپ کو مختار اور عبد اللہ بن حنظلہ و غیرہ کے ساتھ ملحق ہونا چاہئے تھا یا ان کی قیادت سنبھال کر کھلم کھلا مسلح مزاحمت کرنی چاہئے تھی۔

اگر ہم عصرِ امام سجاد کے حالات کو مدنظر رکھیں تو دیکھیں گے کہ یہ طرز فکر ائمہ کے اہداف کے پیش نظر ایک غلط نظریہ ہے۔

اگر دیگر ائمہ اور امام سجادان حالات میں کھلم کھلا مزاحمت کرتے تو یقیناً شیعوں کا صفایا ہوجاتا نیز مکتب اہل بیت اور نظامِ ولایت کو پھر سے پنپنے کا کوئی موقع نہ ملتا بلکہ سب کچھ ختم اور نابود ہوجاتا۔

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام نے مختار ؒکے مسئلےمیں حمایت کا اعلان نہیں فرمایا اگرچہ بعض روایات کی روسے مختار کے ساتھ آپ کے خفیہ روابط تھے لیکن اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ مختار کے ساتھ آپ کے کھلم کھلا روابط نہیں تھے۔

یہاں تک کہ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ امام سجادنے مختار کو برا بھلا کہا تھا۔ یہ بھی ایک بہت ہی قدرتی، منطقی اور تقیہ آمیز حکمت ِعملی معلوم ہوتی ہے تا کہ اغیار کو ان لوگوں کے ساتھ آپ کے روابط کا احساس نہ ہونے پائے۔

اگر مختار کو کامیابی ملتی تو وہ حکومت اہل بیت کے سپرد کرتے لیکن اگر امام سجاداور مختار کے بطور آشکار روابط ہوتے تو مختار کی شکست کی صورت میں اس کی سزا امام سجاداور مدینہ کے شیعوں کو بھی ملتی اور تشیع کا قلع قمع ہوجاتا۔

اسی لئے امام سجادنے مختار کے ساتھ کسی قسم کا کھلم کھلا رابطہ نہیں رکھا۔

مروی ہے کہ جب واقعہ حرّہ میں مسلم بن عقبہ مدینہ آرہا تھا تو کسی کو اس بات میں شک نہیں تھا کہ سب سے پہلے علی ابن الحسین علیہما السلام اس کے غیظ و غضب کا شکار ہوں گے لیکن امام سجادنے ایسی حکیمانہ اور مدبرانہ پالیسی اپنائی کہ آپ کے سر سے ہر بلا ٹل گئی اور آپ زندہ و سلامت باقی بچ گئے۔ یوں تشیع کا محور و مرکز بچ گیا۔

البتہ بعض کتب (مثلاً بحار الانوار و غیرہ ) میں کچھ روایات مذکور ہیں جن کی رو سے حضرت سجاد علیہ السلام نے مسلم بن عقبہ کے سامنے اظہار تذلل کیا۔ میں ان روایات کی مکمل تکذیب کرتاہوں کیونکہ: اولاً: ان روایات کی کوئی صحیح سند موجود نہیں۔

ثانیاً ان کے مقابلے میں اور بھی روایات موجود ہیں جو ان روایات کے مضمون کی تکذیب کرتی ہیں۔

مسلم بن عقبہ کے ساتھ امام سجاد علیہ السلام کی ملاقات کے بارےمیں متعدد روایات مذکور ہیں یہ سب آپس میں غیر ہماہنگ ہیں۔ چونکہ ان میں سے بعض روایات ائمہ علیہم السلام کی سیرت اور روش کے ساتھ موافق ہیں اس لیے ہم انہیں قبول کرتے ہیں جو ایک قدرتی بات ہے۔ ان روایات کو قبول کرنے کی صورت میں وہ دوسری روایات مکمل طور پر مردود قرار پائیں گی۔ مجھے شک نہیں کہ وہ روایات غلط ہیں۔ بہرحال ان میں سے بعض روایات میں جس پالیسی کی نسبت امام سجادسے دی گئی ہے وہ امام سجادسے صادر نہیں ہوئی لیکن اس بات میں بھی شک کی گنجائش نہیں کہ آپ نے مسلم بن عقبہ کے ساتھ مخاصمت آمیز رویہ نہیں رکھا کیونکہ اگر آپ مخاصمت برتتے تو وہ آپ کو قتل کردیتا جس سے امام حسین کی فکری تحریک کو جسے امام سجادنے آگے بڑھایا تھا ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ اسی پالیسی کی بدولت امام سجاد علیہ السلام بچ گئے اور جیسا کہ ہم نے امام صادق(علیہ السلام) کی حدیث میں مشاہدہ کیا لوگ آہستہ آہستہ ائمہ علیہم السلام کے ساتھ ملحق ہوتے گئے اور ان کی تعداد زیادہ ہوتی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے ان نامساعد، سنگین اور پیچیدہ حالات میں اپنے کام کا آغاز کیا جن کے اندر کام کو آگے بڑھانا ناممکن معلوم ہوتا تھا۔یاد رہے کہ امام سجاد(علیہ السلام) کے ۳۵ سالہ دور ِ امامت کا اکثر حصہ عبدالملک کے دور حکومت میں گزرا۔ عبد الملک کی حکومت نے امام سجادکی کڑی نگرانی کا اہتمام کر رکھا تھا۔

حکومت نے ایسے جاسوس مقرر کررکھے تھے جو امام سجاد کی زندگی (یہاں تک کہ آپ کی نجی زندگی) کے بارے میں عبد الملک کو پل پل کی خبریں پہنچاتے تھے۔

۱۰۲

امام کے اہداف:

امام سجاد علیہ السلام جس صورتحال سے روبرو تھے اس کی وضاحت ہوچکی۔ ان نامساعد حالات میں امام اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے جارہے تھے۔

یہاں ائمہ معصومینعلیہم السلام کی روش اور ان کے ہدف کی طرف مختصر اشارہ کروں گا پھر اس روش کی روشنی میں امام سجادکی زندگی کی جزئیات کا جائزہ لوں گا۔

یقیناً امام سجاد علیہ السلام کا اصلی ہدف اسلامی حکومت کا قیام تھا اور جیسا کہ امام صادق(علیہ السلام) کی روایت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ نے ۷۰ھ کو اسلامی حکومت کےلئے چناتھا لیکن چونکہ ۶۰ھ میں حضرت حسین بن علی علیہما السلامشہید ہوگئے اس لئے ۱۴۷۔۱۴۸ھ تک اسے موخر کردیا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام اور باقی ائمہ علیہم السلام کا اصلی ہدف اسلامی حکومت کا قیام ہے لیکن اُن حالات میں اسلامی حکومت کی تشکیل کیونکر ممکن ہوسکتی تھی؟ اس کےلئے کئی چیزوں کی ضرورت تھی مثلاً:

۱۔ حقیقی اسلامی نظریات کی تدوین، تدریس اور ترویج و تبلیغ کا اہتمام ضروری تھا۔ ائمہ علیہم السلام ہی اس نظرئے کے حقیقی حامل ہیں اور اسلامی حکومت کی بنیاد یہی نظریہ ہے۔

چونکہ اسلامی معاشرہ سالہا سال تک صحیح اسلامی طرزِ فکر سے دور رہا تھا اس لئے اب یہ کیسے ممکن تھا کہ صحیح اسلامی طرزِ فکر کی بنیاد پر ایک حکومت تشکیل دی جائے جبکہ اس مقصد کےلئے لوگوں کے درمیان فکری راہیں ہموار نہیں کی گئی تھیں اور حقیقی احکام کی تدوین عمل میں نہیں آئی تھی۔

امام سجاد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے حقیقی اسلامی نظرئے یعنی توحید،نبوت، انسان کے معنوی مقام، خدا کے ساتھ انسان کے رابطے اور دیگر امور کی تدوین فرمائی۔صحیفہ سجادیہ کی اہم ترین خصوصیت یہی ہے ۔

اگر آپ صحیفہ سجادیہ کا جائزہ لیں پھر اس دور کے عوام کے اسلامی طرزِ فکر کا بھی جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ان کے درمیان کس قدر فاصلہ ہے۔ جس وقت دنیائے اسلام کے تمام لوگ مادہ پرستی، مادی مقاصد اور مادی دوڑ میں نیز خلیفۂ وقت (عبد الملک بن مروان) سے لےکر اس کے درباری علماء (بشمول محمد بن شہاب زہری) تک سبھی ذاتی مفادات اور دنیا کی طلب میں مگن تھے اس وقت امام سجادلوگوں سے یوں خطاب فرماتے ہیں:

أَوَلا حُرٌّ يَدَعُ هذهِ اللُّمّاظَةَ لِأَهلِها؟

کیا کوئی آزادمنش ایسا نہیں ہے جو کتے کے چاٹے ہوئے اس جھوٹے کو اس کے اہل لوگوں کےلئے چھوڑدے؟

اس جملے میں اسلامی طرز فکر کا جو تصور موجود ہے وہ یہ ہے کہ معنویات کو مقصد بنایا جائے، معنوی اور اسلامی اہداف کی جانب سفر کیا جائے نیز خدا اور انسانی ذمہ داریوں سے انسان کا رابطہ محکم کیا جائے۔ یہ طرزِ فکر اُس دور کے لوگوں کے مادی طرز عمل کے بالکل برعکس تھا۔ یہ ایک نمونہ تھا جو میں نے بیان کیا۔

امام سجاد علیہ السلام کو اس طرح کے بہت سے دیگر اقدامات انجا م دینے کی ضرورت تھی جن کے نتیجے میں صحیح اسلامی طرزِ فکر اپنی حقیقی صورت میں اسلامی معاشرے کے اندر محفوظ رہے۔ یہ امام سجاد کا پہلا کام تھا۔

۲۔ لوگوں کو ان ہستیوں کی حقانیت سے آگاہ کرنا جو اسلامی حکومت کی تشکیل کے اہل تھے جبکہ امام سجاد کے دور تک گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اہل بیت رسول علیہم السلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں نے طوفانِ بدتمیزی برپا کردیا تھا اور عالم اسلام کو اس سے پر کردیا تھا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منسوب بےشمار جھوٹی احادیث گھڑی گئی تھیں جو اہل بیت کے مشن اور ان کی جد وجہد سے متصادم تھیں یہاں تک کہ اہل بیت پر سبّ و لعن کے بارے میں بھی احادیث گھڑی گئیں اور لوگوں کے درمیان ان کی خوب ترویج کی گئی۔ لوگ اہل بیت کے معنوی اور حقیقی مقام سے بالکل ناآشنا تھے۔ ان حالات میں اہل بیت کے ہاتھوں اسلامی حکومت کی تشکیل کیسے ممکن تھی؟

بنابریں امام سجادکے اہم اہداف اور کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ لوگوں کو اہل بیت کی حقانیت سے آشنا کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ولایت ، امامت اور حکومت ان کا حق ہے اور اہل بیت ہی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حقیقی جانشین ہیں۔

لوگوں کو بھی چاہئے تھا کہ اس مسئلے سے آشنا ہوں۔ یہ مسئلہ اسلامی نظریہ حیات، عقائد اور آئیڈیالوجی کا حصہ ہونے کے علاوہ سیاسی پہلو کا بھی حامل ہےکیونکہ یہ حکمران طبقے کے خلاف سیاسی جدوجہد کا متقاضی ہے۔

۳۔ امام سجاد علیہ السلام کو ایسا تنظیمی نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت تھی جو مستقبل کی سیاسی سرگرمیوں کا اصلی محور ہو۔

جس معاشرے کے افراد ظالمانہ پابندیوں، فقر و تنگدستی اورمالی و معنوی مشکلات کے نتیجے میں گوشہ نشینی، تنہائی، ایک دوسرے سے دوری اور پراکندگی کے عادی ہوگئے ہوں یہاں تک کہ شیعہ لوگ بھی سنگین دباؤ اور خوف کے شکار ہوں جس کے باعث ان کا تنظیمی نیٹ ورک تباہ ہوچکا ہو، اس معاشرے میں امام سجادبعض نامنظم لوگوں کے ہمراہ تن تنہا اپنے کام کا آغاز کیسے کرسکتے تھے؟ بنابریں امام سجاد علیہ السلام کا دوسرا کام یہ تھا کہ آپ شیعی تنظیمی نیٹ ورک قائم کرتے۔

۱۰۳

ہماری نظرمیں یہ چیز امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے سے موجود تھی لیکن سانحۂ عاشورا، واقعۂ حرّہ اور مختار کی شکست کے بعد اس کی راہیں مسدود ہوگئیں۔

اس کی تعمیر نو اب امام سجاد کی ذمہ داری تھی۔

تین اہم امور

خلاصہ یہ کہ امام سجاد علیہ السلام کے سامنے تین اہم کام تھے:

الف: اس اسلامی آئیڈیالوجی کی تدوین جو حقیقت اور وحی الٰہی کے مطابق ہو، جبکہ اس آئیڈیالوجی کو تحریف یا طاق نسیان کی نذر ہوئے لمبی مدت گزرچکی تھی۔

ب: اہل بیت علیہ السلام کی حقانیت اور اس بات کا اثبات کہ وہی خلافت، ولایت اور امامت کے حقدار ہیں۔

ج: اہل بیت کے پیروکاروں یعنی تشیع کے پیروکاروں کےلئے ایک مربوط اور ہماہنگ تنظیمی نیٹ ورک کا قیام۔

یہ تین اصلی کام ہیں جن کا ہم نے جائزہ لینا ہے اور یہ دیکھنا ہے کہ امام سجاد(علیہ السلام) کے دورِحیات میں ان تینوں کاموں میں سے کس کام پر عملدرآمد ہورہا تھا۔ ان تینوں کاموں کے علاوہ کئی دوسرے امور بھی ہیں جو ضمنی اور فرعی نوعیت کی ہیں مثلاً یہ کہ گاہے خود امام یا ان کے اصحاب کی جانب سے اس قسم کے بیانات یا اقدامات کا اہتمام ہو جن کے باعث شدید پابندیوں، سختیوں اور گھٹن کی فضا قدرے معتدل ہوجائے۔

ہم ملاحظہ کرتے ہیں کہ مختلف واقعات میں امام کے ساتھی یا خود امام لوگوں کے مجمع میں ایسی باتیں کرتے تھےجن کا مقصد یہ تھا کہ شدید گھٹن اور سختیوں کی فضا میں جانفزا ہواؤں کے کچھ جھونکے بھی محسوس ہوں۔ یہ ان ذیلی کاموں میں سے ایک ہے جن کے بعض نمونوں کا ذکر بعد میں کروں گا۔

ان ذیلی کاموں میں سے ایک اور کام یہ تھا کہ سرکاری طاقت کے مراکز یا حکومت سے وابستہ قوتوں کے ساتھ چھوٹی موٹی مزاحمتوں اور دو دو ہاتھ کرنے کا بھی اہتمام کیا جائے جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام اور خلیفہ عبد الملک کے مابین کئی بار اس قسم کے واقعات پیش آئے تھے۔ اسی طرح امام اور عبد الملک سے وابستہ منحرف علماء (مثلاً محمد بن شہاب زہری و غیرہ) کے مابین بھی بعض واقعات پیش آئے۔ علاوہ ازیں ائمہ کے طرفداروں اور خلفا کے درمیان بعض جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ان اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ ماحول کے گھٹن کو قدرے کم کیا جاسکے۔

میں نے جو کچھ عرض کیا اگر اس کی روشنی میں کوئی شخص امام سجاد علیہ السلام سے مروی اخلاقی فرمودات، مواعظ، خطوط اور آپ سے منقول دیگر روایات یا آپ کے عملی اقدامات کا جائزہ لے تو یہ سب اس کی نظر میں مقصدیت سے لبریز نظر آئیں گے یعنی وہ دیکھ لےگا کہ یہ تمام اظہارات اور اقدامات ان تین مقاصد میں سے کسی ایک کے پیش نظر ہیں جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ درحقیقت مجموعی طور پر ان سب کا مقصد اسلامی حکومت کا قیام تھا۔

البتہ امام اس بات کے طالب نہ تھے کہ اسلامی حکومت خود آپ کی زندگی میں تشکیل پائےکیونکہ آپ کو علم تھا کہ یہ کام مستقبل میں (یعنی درحقیقت امام صادق علیہ السلام کے دور میں) شرمندہ تعبیر ہوگا۔ (پاسدار اسلام شمارہ ۸)۔

ان تین اقدامات کے نتیجے میں اسلامی نظام اور علوی حکومت کی تشکیل کےلئے راستہ ہموار ہوسکتا تھا۔ البتہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی تائید کرتا ہوں کہ امام صادق(علیہ السلام) کے برخلاف امام سجاد علیہ السلام کا یہ نظریہ نہیں تھا کہ خود آپ کی زندگی میں اموی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور اسلامی حکومت قائم ہوگی کیونکہ واضح تھا کہ امام سجاد کی زندگی میں اس بات کےلئے حالات سازگار نہیں ہو سکتے تھے۔ ظلم، سیاسی گھٹن، پابندیاں اور حکومتی سخت گیری اس قدر شدید تھیں کہ ان تیس سالوں میں ان موانع کو دور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ درحقیقت امام سجاد علیہ السلام مستقبل کےلئے کوشاں تھے، یہاں تک کہ متعدد قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام باقر علیہ السلام بھی اپنے دور میں اس بات کےدرپے تھے کہ اپنی زندگی میں اسلامی حکومت تشکیل دیں۔

بالفاظ دیگر ۶۱ ہجری سے لےکر ۹۵ ہجری تک جو امام سجادکی شہادت کا سال ہے نیز ۹۵ ھ سے لےکر ۱۱۴ھ تک جو امام باقر علیہ السلام کی شہادت کا سال ہے ان دونوں اماموں کےمدنظر یہ بات نہیں تھی کہ خود ان کی زندگی میں اسلامی حکومت تشکیل پائے۔ اسی لئے وہ طویل المدت پالیسی کے تحت کام کررہے تھے۔

بنابریں امام سجاد علیہ السلام کی حکمت عملی آئندہ کےلئے تھی۔

اب ہم امام سجاد علیہ السلام کے فرمودات کا جائزہ لینے اور آپ کے فرمودات کے اندر سے مذکورہ باتوں کا استخراج کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ جب ہم آپ کی زندگی کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں تو اس بارے میں ہمارا سب سے خالص مأخذ اور منبع آپ ہی کے فرمودات ہیں۔

تمام ائمہ علیہم السلام کے بارے میں ہماری روش اور عادت یہی ہے کہ ہم خود ائمہ کے بیانات اور ان سے مروی روایات کو ان کی زندگی سے آشنا ہونے کا سب سے بہتر منبع اور سند سمجھتے ہیں۔ البتہ ہم ان کے فرمودات کو اس صورت میں بہتر درک کرسکتے ہیں جب ہم ائمہ کی جد و جہد، سرگرمیوں اور کوششوں کے اصل مقصود و مطلوب سے آشنا ہوں۔

بصورت دیگر ہم ان فرمودات کا غلط مفہوم اخذ کریں گے جن کا ذکر کرنے والا ہوں۔

اب جب ہم ائمہ کے اہداف و مقاصد سے آشنا ہوچکے ہیں (یہ آشنائی بھی خود ان کے فرمودات کے طفیل ہے)تو اب معلوم ہوگا کہ ہم اس بارے میں ائمہ کے فرمودات سے کس قسم کے درست فوائد و نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔

اصل بحث کو چھیڑنے سے پہلے ایک مختصر نکتے کی طرف اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ چونکہ امام شدید پابندیوں کے دور میں زندگی گزار رہے تھے اور اپنے اصل مدعا کو صریحاً بیان نہیں کرسکتے تھے اس لئے آپ وعظ و نصیحت اور دعا و مناجات کی روش سے استفادہ کیا کرتے تھے۔ آپ کی دعائیں صحیفہ سجادیہ میں مذکور ہیں جبکہ آپ کے مواعظ و نصائح آپ سے مروی روایات و فرمودات کی صورت میں محفوظ ہیں۔

امام سجاد علیہ السلام کے اکثر فرمودات بلکہ شاید تمام فرمودات کا انداز بیان واعظانہ اور ناصحانہ ہے۔ آپ نے وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ اپنے مواعظ و نصائح کے اندر ان چیزوں کا ذکر فرمایا ہے جن کی طرف راقم نےاشارہ کیا ہے۔

اگر آپ ان فرمودات کا جائزہ لیں تو آپ امام کی نہایت حکیمانہ ، زیرکانہ اور مدبرانہ روش کا مشاہدہ کریں گے اور دیکھیں گے کہ امام اس روش کے ذریعے بظاہر لوگوں کو وعظ و نصیحت فرما رہے ہوتے ہیں لیکن اسی کے ضمن میں لوگوں کے اذہان میں وہ باتیں بھی ڈالتے جا رہے ہیں جنہیں ان کے ذہن نشین کرنے کی ضرورت محسوس فرماتے تھے۔ یہ صحیح افکار و نظریات کو منتقل کرنے اور ذہنوں میں ڈالنے کا بہترین طریقہ ہے۔

۱۰۴

امام سجاد کے فرمودات:

سیاسی جدوجہد کی تجلی گاہ:

یہاں ہم امام علیہ السلام کے ان فرمودات پر بحث کریں گے جو تحف العقول میں منقول ہیں۔ ان فرمودات میں کئی قسم کے نکات کا مشاہدہ ہوتا ہے جو مذکورہ بالا جہات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

آپ کے فرمودات کی ایک قسم وہ ہے جس میں عام لوگوں سے خطاب ہوا ہے۔ ان فرمودات کے انداز بیان سے یہ ظاہر ہے کہ ان کے مخاطب ائمہ کے خصوصی، مقرب اور ہمراز لوگ نہیں ہیں۔

عام لوگوں سے اپنے خطاب میں امام ہمیشہ قرآنی آیات سے استفادہ فرماتے ہیں کیونکہ عام لوگ امام سجاد علیہ السلام کو ایک منصوص امام کی حیثیت سے نہیں مانتے بلکہ وہ آپ سے ہربات کی دلیل مانگتے ہیں۔ اسی لئے امام یا آیات سےاستدلال فرماتے ہیں یا بطور ِاستعارہ آیات سے مدد لیتے ہیں۔ ان روایات میں تقریباً پچاس یا اس سے زیادہ مقامات پر براہ راست یا بطور استعارہ قرآنی آیات کا استعمال ہوا ہے۔ اس کے برخلاف دوسری قسم کے خطابات میں چونکہ مومنین سے خطاب ہوا ہے اس لئے اندازِ تخاطب مختلف ہے کیونکہ یہ مخاطبین امام سجاد(علیہ السلام) کو پہچانتے ہیں اور آپ کی باتوں کو قبول کرتے ہیں۔

اس لئے امام سجاد قرآنی آیات سے استدلال نہیں فرماتے۔

بنابریں آپ اول سے آخر تک نگاہ کریں تو ان میں قرآنی آیات بہت کم نظر آئیں گی۔

تحف العقول میں ایک مفصل روایت مذکور ہے جس کا عنوان یہ ہے:

موعظته لسائر أصحابه و شيعته و تذكيره إياهم كل يوم جمعة

اس ناصحانہ کلام کامقصد یہ تھا کہ امام کے اصحاب، آپ کے شیعہ اور آپ کے دوستدار اس کلام کو ہر جمعہ کے دن اجتماعی شکل میں یا انفرادی صورت میں پڑھیں۔

یہاں آپ کے مخاطبین کا دائرہ وسیع ہے جو خود اس مفصل روایت کے اندر موجود قرائن سے معلوم ہوتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ اس مفصل روایت میں

أَيُّهَاالمُومِنُون، أَيُّهَاالاِخو ۃ

(اے مومنو! اے بھائیو!) یا اس طرح کےالفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ

’’أَيُّهَا النَّاس‏‘‘

کہہ کر خطاب کیا گیا ہے جو خطاب ِعام ہے۔

اس کے برعکس بعض دیگر روایات میں مومنین سے خطاب ہوا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت میں حکمران طبقے پر براہ راست تنقید یا اعتراض کا مشاہدہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں صرف عقائد و معارف کا ذکر ہوا ہے جن کا جاننا ہر انسان کےلئے ضروری ہے۔

جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں اس میں وعظ و نصیحت کا انداز اپنایا گیا ہے جس کی ابتدا ء یوں ہوتی ہے:

أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللهَ وَ اعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُون‏

(اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ تم نے اس کی طرف پلٹنا ہے۔) اس کے بعد اسلامی عقائد کا تذکرہ ہوا ہے اور لوگوں سے کہاگیا ہے :تمہیں اسلام کو صحیح طریقے سے پہچاننے کی ضرورت ہے۔ گویا امام فرما رہے ہیں:تم اسلام کو صحیح طریقے سے نہیں پہچانتے ہو۔

درحقیقت امام سجاد اس اندازِ بیان کے ذریعے لوگوں کے اندر اسلام کی درست شناخت کا جذبہ بیدار فرما رہے ہیں۔ بطور مثال ملاحظہ کیجئے کہ امام سجاد کس قدر دلنشین انداز میں وعظ و نصیحت فرما رہے ہیں:

أَلَا وَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يَسْأَلَانِكَ عَنْ رَبِّكَ الَّذِي كُنْتَ تَعْبُدُه ۔

فرمارہے ہیں کہ اس وقت سے ڈرو جب تم قبر میں اتارے جاؤ گے اور نکیر و منکر تمہارے پاس آئیں گے اور سب سے پہلے تمہارے اس پروردگار کے بارے میں تم سے سوال کریں گے جس کی تم عبادت کرتے ہو۔

یہاں امام توحید کی شناخت اور خدا کی معرفت کا جذبہ لوگوں کے اذہان میں بیدار فرما رہے ہیں۔

وَ عَنْ نَبِيِّكَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَيْكَ

وہ اس رسول کے بارے میں سوال کریں گے جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔

اس جملے میں نبوت کی شناخت کے جذبے کو بیدار کیا گیا ہے۔

وَعَنْ دِينِكَ الَّذِي كُنْتَ تَدِينُ بِهِ

وہ تیرے دین کے بارے میں سوال کریں گے۔

وَعَنْ كِتَابِكَ الَّذِي كُنْتَ تَتْلُوهُ

وہ تیری کتاب کے بارے میں سوال کریں گے۔

یہاں امام ان بنیادی عقائد اور اصولوں یعنی توحید، نبوت، قرآن اور دین کے ساتھ ساتھ اپنے پیش نظر اس بنیادی نکتے کو بھی بیان کرتے ہیں:

وَ عَنْ إِمَامِكَ الَّذِي كُنْتَ تَتَوَلَّاه‏

اور تیرے اس امام کے بارے میں سوال کریں گے جس کی ولایت کو تم قبول کرتے ہو۔

یہاں امام سجادنے مسئلۂ امامت کو چھیڑا ہے۔

ائمہ کی زبان میں امامت سے مراد حکومت ہے۔

ائمہ کے فرمودات میں ولایت اور امامت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ اگر چہ ممکن ہے کہ ولی اور امام کے معانی مختلف ہوں، لیکن ائمہ کی زبان میں ان دونوں (ولایت، امامت) سے مراد ایک ہے۔

آپ جس امام کا یہاں ذکر فرمارہے ہیں اس سے مراد وہ شخص ہے جو ایک طرف سے لوگوں کی دینی رہنمائی اور ہدایت کا ضامن ہے اور دوسری طرف سے لوگوں کی دنیوی زندگی کے امور کو چلانے کا بھی ذمہ دار ہے۔ یہی جانشینِ پیغمبر ہے۔ امام معاشرے کا رہبر و پیشوا ہوتا ہے۔ ہم لوگ اس سے دین بھی سیکھتے ہیں اور ہمارے دنیوی امور کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ دین اور دنیوی امور میں اس کی اطاعت ہمارے اوپر واجب ہے لیکن آپ ملاحظہ فرمائیے کہ عالمِ تشیع میں صدیوں تک اس مسئلے کے بارے میں کس قدر غلط فہمی کا سایہ قائم رہا۔ لوگ یہ خیال کرتے رہے کہ معاشرے کا حکمران وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دنیوی امور کو چلاتا ہے، فیصلے کرتا ہے، جنگ اور صلح کرتا ہے، جو چاہے کرتا ہے، ٹیکس لگاتا ہے، حکم دیتا ہے اورنہی کرتا ہے۔

دوسری طرف ایک شخص وہ ہے جو لوگوں کے دین کو درست کرتا ہے۔اب لوگ اس پہلے شخص کو حکمران کہتے رہے جبکہ اس دوسرے شخص کو ائمہ کے زمانے میں امام اور صدیوں پر محیط عصرِ غیبت میں ’’عالم‘‘ کہتے رہے۔ گویالوگ عصر ائمہ کے امام کو وہی حیثیت دیتے تھے جو عصر غیبت کے عالم کو۔ یہ ایک غلط تصور ہے۔

لفظ ’’امام‘‘سے مراد ہے:پیشوا۔ جب امام صادق علیہ السلام مِنا یا عرفات میں آتے تھے تو آپ اعلان فرماتے تھے:

أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ الْإِمَام‏ ۔

اے لوگو!پیغمبر امام تھے۔ امام وہ شخص ہے جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دینی امور کی باگ ڈور بھی ہوتی ہے اور دنیوی امور کی بھی۔ عبد الملک بن مروان کے دور کے مسلمان معاشرے میں امامت کا غلط مفہوم رائج ہوگیا تھا۔ امام سجاد علیہ السلام بھی اسی دور میں زندگی گزارتے تھے۔ معاشرے کا امام وہ ہے جو لوگوں کے نظام زندگی کو چلائے۔

یہ امامت کا ایک اہم حصہ ہے لیکن یہ حصہ اہل خرد کے ہاتھوں سے چھین کر نااہلوں کے سپر د کیا گیا تھا اور وہ نا اہل اپنے آپ کو امام سمجھتے تھے۔لوگ بھی اسے اس پورے عرصے میں امام سمجھتے رہے۔ بالفاظ دیگر لوگوں نے عبد الملک بن مروان، اس سے پہلے یزید اور عبد الملک کے بعد دوسرے حکمرانوں کو امام، معاشرے کے پیشوا اور لوگوں کے اجتماعی نظام کو چلانے والے حاکم کے طور پر قبول کرلیا تھا۔ یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوچکی تھی۔

امام سجاد علیہ السلام فرمارہے ہیں کہ قبر میں تجھ سے امامت کے بارے میں سوال ہوگا یعنی تجھ سے پوچھا جائےگا کہ کیا تو نے درست امام کا انتخاب کیا تھا؟

کیا وہ شخص جو تیرے اوپر حکومت کرتا تھا اور جس کے ہاتھ میں تیرے معاشرے کی قیادت تھی کیا وہ سچ مچ امام تھا؟

کیا وہ سچ مچ وہی شخص تھا جس کی امامت سے خدا راضی ہو؟

امام سجاداس جملے کے ذریعے مسئلہ امامت کے بارے میں لوگوں کو حساس بنانے اور بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یوں امام سجادوعظ ونصیحت کی شکل میں اور عام لوگوں سے خطاب کے لبادے میں لوگوں کے اذہان کے اندر مسئلہ امامت کو زندہ فرماتے ہیں جبکہ اس دور کی اموی حکومت کسی صورت راضی نہ تھی کہ اس مسئلے کے بارے میں کسی قسم کی گفتگو کی جائے۔

یہ امام سجاد علیہ السلام کی بہت ہی نرم پالیسیوں میں سے ایک ہے۔ بعد میں ہم آپ کی تند وتیز حکمت عملی کے نمونوں کا بھی ذکر کریں گے۔ بنابریں عام لوگوں سے امام کے عمومی خطاب میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اسلامی معارف کو خاص کر ان معارف کو جن پر آپ کی خاص توجہ تھی وعظ و نصیحت کی شکل میں لوگوں کے اذہان میں زندہ فرماتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ لوگ ان امور سے آگاہ ہوں۔

۱۰۵

امام کے اس خطاب میں دو چیزیں قابل توجہ ہیں:

الف: امام کے یہ فرمودات جن کے مخاطب عام لوگ ہیں تعلیم اور آموزش کے طور پر بیان نہیں ہوئے بلکہ تذکر اور یاد آوری کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔

یعنی ان فرمودات میں امام سجاد لوگوں کو توحید کی باریکیوں سے آشنا نہیں کررہے ہیں،یا مسئلہ نبوت کی تفسیر نہیں فرما رہے ہیں بلکہ آپ صرف تذکر دے رہے ہیں اور یاد آوری فرما رہے ہیں۔ نبوت کے بارے میں یہ روش کیوں؟

اس لئےکہ امام سجاد کے دور کا معاشرہ ہنوز عصر رسول سے اتنا دور واقع نہیں ہوا تھا کہ اسلامی عقائد مکمل طور پر تحریف اور انحراف کے شکار ہوں۔ اس دور میں بہت سے لوگ زندہ تھے جنہوں نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا اور خلفائے راشدین کا زمانہ دیکھا تھا نیز ہمارے عظیم ائمہ یعنی امیرالمؤمنین علیہ السلام ، امام حسن اور امام حسین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ معاشرتی لحاظ سےہنوز وہ نوبت نہیں آئی تھی کہ لوگ توحید، نبوت، معاداور قرآن کے بارے میں بنیادی یا اصولی انحراف و تحریف سے دوچار ہوں۔ البتہ لوگ بھول گئے تھے نیز مادیات کا ایسا غلبہ ہوا تھا کہ لوگ اسلام اور اسلامی اعتقادات کی طرف توجہ سے مکمل طور پر غافل ہوگئے تھے۔

معاشرے کے اندر رونما ہونے والی دنیوی اور مادی تبدیلیوں نے لوگوں کو اس طرح جھکڑ لیا تھا کہ وہ سرے سے اس بات کو بھول گئے تھے کہ انسان کی زندگی میں معنویات اور اچھائیوںمیں سبقت کا بھی کوئی میدان موجود ہے۔

ان باتوں کو سیکھنے کی طرف کسی کی توجہ مرکوز نہ تھی۔ اگر وہ سیکھتے بھی تھے تو بعض ظاہری اور سطحی چیزیں سیکھتے تھے۔ عصر رسول اور اس سے متصل دور میں لوگوں کے اذہان میں توحید کا جو تصور اور احساس موجود تھا عصرِ امام سجاد کے لوگ اُس احساس ، اُس حساسیت اور اُس ادراک سے عاری تھے۔ اسی لئے تذکر اور یاددہانی کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں کے اندر یہ احساس و ادراک زندہ ہوجائے۔ ان چیزوں میں تحریف نہیں ہوئی تھی جس کی تصحیح کی ضرورت ہو۔ اس کے برخلاف بعد کے ادوار میں مثلاً امام صادق علیہ السلام کے دور میں صورتحال مختلف تھی۔ اس دور میں مسلمانوں کے اندر بہت سے متکلمین (یعنی علم کلام و عقائد کا مطالعہ رکھنے والے)اورفلسفہ دانی کا دعویٰ کرنے والے وجود میں آچکے تھے جو مختلف ناموں سے بڑی بڑی مساجد مثلاً مسجد نبوی اور مسجد شام یہاں تک کہ مسجد الحرام میں بیٹھ کر انحرافی افکار و عقائد کی تعلیم دیتے تھے۔

اس دور میں ابن ابی العوجاء جیسے زندیق اور ملحد بھی موجود تھے۔وہ لوگوں کو الحاد یعنی خدا کو نہ ماننے کا درس دیتا تھا۔وہ اس عقیدے کی ترویج کرتا اور اس پر استدلال کرتا تھا۔

اسی لئےہم امام صادق علیہ السلام کے فرمودات اور بیانات میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام توحید، نبوت اور دیگر عقائد کو استدلال کے ذریعے بیان فرماتے ہیں۔ آپ دیکھ رہے تھے کہ اغیار کے استدلال کا جواب دلیلوں سے دینے کی ضرورت ہے۔ امام سجاد علیہ السلام کے فرمودات میں یہ بات نظر نہیں آتی۔

آپ(علیہ السلام) اسلامی معارف کو استدلال کی صورت میں بیان کرنے کے خواہاں نہیں تھے بلکہ آپ تذکر اور یاد آوری کی روش اپنانے کے درپے تھے۔

فرماتے تھے ’’قبر میں تجھ سے توحید اور نبوت کے بارے میں پوچھا جائےگا ‘‘۔

ملاحظہ ہوکہ اس روش کا مقصد لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھٹکا دینا تھا تا کہ وہ ان چیزوں پر توجہ دیں اور ان فراموش شدہ حقائق کو دوبارہ ذہنوں میں زندہ کریں۔

خلاصہ یہ کہ عصر امام سجاد میں اسلامی نظریات و افکار سے انحراف(اگرچہ حکام کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو)دکھائی نہیں دیتا۔

البتہ مجھے ایک جگہ یزید کے شعر میں اس قسم کی بات نظر آئی ہے۔جس مجلس میں اہل بیت کے اسیروں کو لایا گیا تھا وہاں یزیدنے بدمستی کے عالم میں کہا: لعبت هاشم بالملك فلا خبر جاء و لا وحى نزل‏ یعنی بنی ہاشم نے حکومت کا کھیل کھیلا تھا وگرنہ دین اور وحی کا مسئلہ تو فقط ایک ڈھونگ تھا۔

اس بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ شاید یزید نے یہ غلطی نشے اور مستی میں کی ہے وگرنہ خود عبد الملک یا حجاج و غیرہ بھی ایسے لوگ نہ تھے جو نظریۂ توحید یا عقیدۂ نبوت کی برملا مخالفت کریں۔ عبد الملک بن مروان قرآن کی اس قدر تلاوت کیا کرتا تھا کہ اس کا شمار قرآن کے قاریوں میں ہوتا تھا البتہ جب اسے خبر ملی کہ وہ خلیفہ اور حکمران بن چکا ہے تو اس نے قرآن کو چوما اور کہا:

هذا فِراقُ بَيْنِي وَ بَيْنِك‏

یعنی اے قرآن!اب ہم دونوں کے راستے جدا ہیں۔ اب قیامت کو ملیں گے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ اس کے بعد اس نے قرآن کی طرف رجوع کرنا چھوڑدیا۔

حجاج بن یوسف کے بےتحاشا مظالم کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہے اور جو کچھ آپ نے سنا ہے وہ یقیناً اس کے اصلی مظالم سے بہت کم ہیں۔

جب وہ منبر سے خطبہ دیتا تھا تو لوگوں کو تقوا اور خداسے ڈرنے کی تلقین کرتا تھا۔

بنابریں امام سجاد علیہ السلام نے لوگوں کو اسلامی افکار و نظریات یاد دلانے اور اس بارے میں انہیں تذکر دینے کی کوشش کی تا کہ آپ ان افکار کو مادیات اور دنیوی خواہشات کے گدلے پانی سے خارج کرتے ہوئے خدا، دین اور قرآن کی طرف متوجہ کریں۔

۱۰۶

دوسرا نکتہ وہ ہے جس کی طرف اشارہ کرچکا ہوں۔ امام اپنے عام خطاب میں بھی اچانک مسئلہ امامت کا سہارا لیتے ہیں۔

آپ اسلامی تعلیمات و معارف بیان کرتے ہوئے درمیان میں امامت کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ کوئی شخص سابقہ شاہی دور میں آپ سے یوں خطاب کرے:

حضرات! خدا کو یاد کریں، توحید پر توجہ دیں، نبوت پر توجہ دیں اور حکومت کے مسئلے کو مد نظر رکھیں۔ حکومت پر تبصرہ ایک خطرناک کام تھا اور حکومت اسے آسانی سے نہیں بخش سکتی تھی۔ لیکن اگر وعظ و نصیحت کےلہجے میں اور ایک عابد و زاہد شخص کی زبان سے بیان ہو تو یہ حکومت کےلئے ایک حد تک قابل قبول بن سکتا ہے اور اس قدر حساسیت کا موجب نہیں بنتا۔

یہ تھی ایک صورت۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۹)۔

دوسری قسم:

یہ ان بیانات سے عبارت ہے جن کے مخاطب کچھ خاص لوگ ہیں اگرچہ یہ واضح نہیں کہ مخاطب کون تھے لیکن بالکل واضح ہے کہ خطاب ایک خاص گروہ سے ہے جو حکمران طبقے کا مخالف تھا۔ دراصل یہ لوگ امام کے پیروکار اور اہل بیت کی حکومت کےمعتقد تھے۔

خوش قسمتی سے کتاب تحف العقول میں امام سجاد علیہ السلام کے اس قسم کے فرمودات کا ایک نمونہ موجود ہے۔ میں نے ایک نمونے کا ذکر اسی لئے کیا ہے۔

اگر ہم دیگر کتب میں بھی تلاش کریں تو ان معدودے چند نمونوں کے علاوہ اس بارے میں امام سجاد سے مروی کوئی چیز نہیں مل سکتی لیکن انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں اس طرح کے نمونوں کی بہتات تھی۔

ہاں اس دور کے گوناگون حوادث، سیاسی پابندیوں، سختیوں، حملوں، ایذا رسانیوں، قتل وخونریزی اورائمہ کے اصحاب کی شہادت کے باعث یہ آثار معدوم ہوتے گئے اور ان کی بہت کم مقدار ہم تک پہنچی ہے۔

اس دوسری قسم کے بیان کا آغاز یوں ہوتا ہے:

’’كَفَانَا اللهُ وَ إِيَّاكُمْ كَيْدَ الظَّالِمِينَ وَ بَغْيَ الْحَاسِدِينَ وَبَطْشَ الْجَبَّارِين‏‘‘ ۔

امام فرماتے ہیں: خدا ہمیں اور آپ کو ظالموں کی چالوں، حاسدوں کی سرکشی اور جابرطاقتوں کی گرفت سے محفوظ رکھے۔

یہ خطاب بذات خود اس بات کا آئینہ دار ہے کہ امام اور یہ جماعت اس زاوئے سے یکسان ہیں یعنی ان سب کو حکمران طبقے کی طرف سے خطرہ لاحق تھا۔

ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ کچھ خاص لوگوں کے ساتھ مختص ہے۔ یہ خاص گرو ہ اہل بیت کے معتقدین، ان کے دوستوں اور قریبی لوگوں سے عبارت ہے۔ اس قسم کے فرمان میں

’’یَا َأَيُّهَا الْمُؤْمِنُون‏‘‘

کہہ کر خطاب کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف سابقہ الذکر خطاب میں

" یَا أَيُّهَاالنّاس"

اور بعض خطابات میں یا بن آدم کہہ کر خطاب کیا گیا ہے۔ گویا امام یہ اعتراف فرما رہے ہیں کہ اس کلام کے مخاطبین صاحبِانِ ایمان ہیں یعنی وہ ارباب ِایمان جو اہل بیت علیہ السلام اور ان کےافکار و نظریات کے حقیقی معتقدتھے۔

امام یہاں گفتگو کا آغاز فرماتے ہیں۔

امام کا طرزِ خطاب اس بات کی روشن دلیل ہے کہ آپ کے یہ مخاطبین مومنین (اہل بیت کے مقرب لوگ) ہیں۔

أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الطَّوَاغِيتُ وَ أَتْبَاعُهُمْ مِنْ أَهْلِ الرَّغْبَةِ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا الْمَائِلُونَ إِلَيْهَا الْمُفْتَوِنُونَ بِهَا الْمُقْبِلُونَ عَلَيْهَا

اے مومنو! کہیں طاغوت اور ان کے پیروکار جو حبّ دنیا میں مبتلا ہیں، دنیا پرستی کے خوگر ہیں، دنیا کے دامِ فریب میں گرفتار ہیں اور دنیا کو قبلۂ دل بنائے ہوئے ہیں تمہیں فریب نہ دیں۔

یہاں مومنین سے امام کے اس خطاب کے لب و لہجے سے ظاہر ہے کہ اس کا اصل مقصد مومنین کی حفاظت اور مستقبل کےلئے ضروری فریم ورک کی تشکیل سے عبارت ہے۔

ظاہر ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے طرفداروں کے درمیان جاری شدید کشمکش کے باعث ائمہ کے حامی بہت سی چیزوں سے محروم تھے جس کے باعث ان کی زندگی تلخ تھی۔

قدرتی بات ہے کہ مزاحمتی جدوجہد میں مشغول افراد اپنی عام زندگی میں بہت سی تلخیوں اور ناکامیوں سے روبرو ہوتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ بہت سی آسائشات اور سہولیات سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔

مزاحمتی جدوجہد کرنے والوں کو درپیش سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ ان آسائشات سے دل لگانے لگیں۔ یہ وہ آسائشات ہیں جو مقدس مزاحمت کو خیرباد کہے بغیر حاصل نہیں ہوتیں۔

امام نے اپنے اس خطاب میں زیادہ زور اس بات پر دیا ہے کہ لوگوں کو دنیا کی ظاہری اور کھوکھلی چمک دمک نیز زرق و برق کی حامل بے قیمت دنیوی زندگی کی سطحی آسائشات وسہولیات (جو طاغوتی قوتوں کی قر بت کے بغیر ہاتھ نہیں آتیں) کے خطرے سے خبردار کیا جائے۔ اسی لئے آپ امام سجاد علیہ السلام کے اس خطاب میں نیز آپ سے منقول دیگر بہت سی مختصر روایات اور فرمودات میں اس لب و لہجے کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

۱۰۷

آپ مشاہدہ کریں گے کہ امام علیہ السلام لوگوں کو دنیا سے پرہیز کی تلقین فرماتے ہیں۔

دنیا سے پرہیز کی تلقین کیا ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو اس محاذ کے اندر جذب ہونے سے محفوظ رکھا جائے جو انسان کو آسائشات سے بہرہ مند کرتا ہے تا کہ اس کے ایمان کو چھین لے اور اسے سہولیات دیتا ہے تا کہ اس کی تند و تیز مزاحمت کو کم کرے۔

یہ تلقین مومنین سے خطاب کے اندرموجود ہے۔عام لوگوں سے خطاب کے اندر اس جہت کا مشاہدہ کم ہوتا ہے۔

عام لوگوں سے خطاب میں جو چیز زیادہ نمایاں نظر آتی ہے(جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا )کچھ یوں ہے:

لوگو! خدا کو یاد کرو، قبر اور قیامت کی فکر کرو اور کل کی تیاری ابھی سے کرلو وغیرہ۔

پس اس دوسری قسم کی گفتگو سے امام کا مقصود کیا ہے؟ امام کا مقصد مضبوط فریم ورک اور منظم نیٹ ورک قائم کرنے سے عبارت ہے۔

امام علیہ السلام چاہتے ہیں کہ مومنین پر مشتمل ایسے منظم حلقے قائم کریں جو ضرورت پڑنے پر ان کے کام آسکیں۔ اسی لئے آپ(علیہ السلام) لوگوں کو سرکاری حلقوں کے اندر جذب ہونے اور بےبنیاد آسائشات میں کھو جانے سے برحذر کرتے ہیں۔

دوسری قسم کے خطاب میں امام علیہ السلام بار بار حکمران طبقے کا تذکرہ کرتے ہیں حالانکہ سابق الذکر کلام میں اس قدر صریح انداز میں گفتگو نہیں فرماتے لیکن یہاں امام سجاد علیہ السلام بار بار حکمران طبقے کی مذمت فرماتے اور اسے شیطان کا ہم پلہ قرار دیتے ہیں مثلا فرماتے ہیں:

’’إِنَّ الْأُمُورَ الْوَارِدَةَ عَلَيْكُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ مِنْ مُظْلِمَاتِ الْفِتَنِ وَ حَوَادِثِ الْبِدَعِ وَ سُنَنِ الْجَوْرِ وَ بَوَائِقِ الزَّمَان‏ ‘‘

تمہارے اوپر ہر روز اور ہرشب تاریک فتنے، جدید بدعتیں (وہ بدعتیں جو ظالم حکمرانوں کے ذریعے جنم لیتی ہیں)، ظالمانہ رسوم اور زمانے کی سختیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔

’’وَ هَيْبَةِ السُّلْطَانِ‘‘

حکمران کی ہیبت

’’وَ وَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ‘‘ ۔

یہاں امام سجاد علیہ السلام ہیبتِ سلطان کے ذکر کے فوراً بعد شیطانی وسوسے کا ذکر فرماتے ہیں یعنی مکمل صراحت کے ساتھ وقت کے حکمران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے شیطان کے ساتھ ایک پلڑے میں رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ایک بہت خوبصورت جملہ فرماتے ہیں۔

چونکہ یہ بہت اہم ہے اس لئے میں اسے نقل کررہا ہوں۔

۱۰۸

یہ جملہ اس نکتے کا آئینہ دار ہے جو پہلے عرض کرچکا ہوں:

لَتُثَبِّطُ الْقُلُوبَ عَنْ تَنَبُّهِهَا ۔

یہ حوادث جو (شدید پابندیوں کے دور میں) شب و روز پیش آتے ہیں وہ دلوں کو ان کی نیتوں اور جہتوں سے باز رکھتے ہیں نیز مجاہدت کے شوق اور جذبے کو ختم کر دیتے ہیں۔

وَ تُذْهِلُهَا عَنْ مَوْجُودِ الْهُدَى

اور اس ہدایت کو جو معاشرے میں موجود ہے لوگوں کے دلوں سے محو کر دیتے ہیں

وَ مَعْرِفَةِ أَهْلِ الْحَق

‏ اور اہل حق کی شناخت کو جو ان کے دلوں میں موجود ہے طاق نسیان کی نذر کرا دیتے ہیں اور اہل حق کو ان لوگوں کے حافظے کے خزینے میں باقی رہنے نہیں دیتے۔

یوں امام سجاد علیہ السلام اسی طریقے پر جس کا میں ذکر کرچکا ہوں لوگو ں کو وعظ و نصیحت سے نوازتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حوادث روزگار تمہیں تمہارے اصلی راستے سے منحرف کریں اور تم اسے بھول جاؤ۔

امام بار بار ظالم حکمرانوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

وَ إِيَّاكُمْ وَ صُحْبَةَ الْعَاصِينَ وَ مَعُونَةَ الظَّالِمِين

خبردار! گناہ گاروں کا ہم نشین اور ظالموں کا مددگار نہ بننا۔ گناہگاروں سے مراد کون لوگ ہیں؟ وہی لوگ جو عبد الملک کی ظالمانہ حکومت کے کارندے بن چکے تھے۔ خبردار ان کے پاس نہ جانا! خبردار ظالموں کی مدد نہ کرنا!۔ ان بیانات کی روشنی میں آپ امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کی تصویر کشی کیجئے اور دیکھئے کہ آپ کے ذہن میں کس قسم کا چہرہ ابھرتا ہے۔ کیا اب بھی اس مظلوم امام کا تصور ابھرتا ہے جو بیمار ہے، باتیں نہیں کرتا اور زندگی کے کاموں سے لاتعلق ہے؟ امام اہل ایمان، اپنے دوستداروں، طرفداروں اور حامیوں کی ایک جماعت کو جمع کرکے اس طریقے سے انہیں وقت کے ظالم حکمرانوں کے قریب ہونے اور مزاحمتی جدوجہد ترک کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ آپ انہیں جہاد کے راستے سے منحرف ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔ آپ ان لوگوں کو شاداب، تازہ دم اور متحرک رکھنا چاہتے ہیں تا کہ وہ ایک دن اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے موثر کردار اداکرسکیں۔

امام سجاد علیہ السلام کے بیانات کے اس حصے میں جو باتیں مجھے سب سے زیادہ دلچسپ اور اہم معلوم ہوئیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ امام نے اہل بیتعلیہم السلام کے بعض تجربات کا ذکر کیا ہے۔ آپ لوگوں سے فرماتے ہیں: تمہیں یاد ہے (یاخبر ہے) کہ ماضی میں ظالم حکمرانوں کی طرف سے تمہارے اوپر کس قدر دباؤ پڑا تھا؟

اس سے مراد وہ مظالم ہیں جو معاویہ، یزید اور مروان کے زمانے میں اہل بیت علیہم السلام کے پیروکاوں پر توڑے گئے۔

امام کا اشارہ سانحۂ حرّہ، سانحہ عاشورا، حُجر بن عُدی کی شہادت، رُشَید ہجری کی شہادت نیز دیگر دسیوں اہم اور معروف واقعات کی طرف ہے جن کا اہل بیت کے پیروکاروں نے ماضی میں تلخ تجربہ کیا تھا اور وہ تجربات اب بھی انہیں یاد تھے۔

امام چاہتے تھے کہ ماضی کے ان تلخ تجربات کی یاد آوری کے ذریعے لوگوں کو ان کی مزاحمتی جدوجہد میں زیادہ ثابت قدم بنائیں۔

آپ امام کی اس عبارت پر ذرا توجہ کیجئے:

لَعَمْرِي اسْتَدْبَرْتُمُ مِنَ الْأُمُورِ الْمَاضِيَةَ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ مِنَ الْفِتَنِ الْمُتَرَاكِمَةِ وَ الِانْهِمَاكِ فِيمَا تَسْتَدِلُّونَ بِهِ عَلى‏ تَجَنُّبِ الْغُوَا ،

مجھے اپنی جان کی قسم! تم لوگوں نے ماضی کے ایام میں ایسے امور کا تجربہ کیا ہے جو تہہ در تہہ فتنو ں کے گرداب میں غرق ہونے و غیرہ سے عبارت ہیں۔

تم ان تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہو کہ گمراہ لوگوں، بدعتیوں اور مفسدوں سے دور رہنا چاہئے۔

بالفاظ دیگر تم لوگوں کے پاس ماضی کا تجربہ موجود ہے اور تم جانتے ہو کہ ظالم اور مفسد لوگ (یعنی یہی حکامِ جور) تسلط پیدا کریں تو وہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔

تم لوگ (سابقہ تجربات کی روشنی میں) اس وقت اس بات سے بخوبی آگاہ ہو کہ تمہیں ان ظالموں سے الگ اور دور ہونا نیز ان کے مقابلے میں صف آرا ہونا چاہئے۔

اس خطاب میں امام سجاد علیہ السلام مسئلۂ امامت یعنی مسلمانوں پرائمہ کی حکومت، ولایت اور خلافت نیز اسلامی نظام کے انتظام وانصرام کے مسئلے کو صریحاً بیان فرماتے ہیں حالانکہ اس دور میں عوام الناس کے درمیان اس قسم کے موضوعات پر کھل کر گفتگو کرنے کی گنجائش نہ تھی۔

آپ فرماتے ہیں:

فَقَدِّمُوا أَمْرَ اللَّهِ وَ طَاعَتَهُ وَ طَاعَةَ مَنْ أَوْجَبَ اللَّٰهُ طَاعَتَه ۔

‏ اللہ کے فرمان، اس کی اطاعت اور اس شخص کی اطاعت کو مقدم رکھو جس کی اطاعت کو خدا نے واجب قرار دیا ہے۔

یہاں امام شیعہ نقطہ نظر سے فلسفۂ امامت اور امامت کی بنیاد کو واضح فرما رہے ہیں۔

اللہ کی اطاعت کے بعد کس کی اطاعت کی جائے؟ اسی کی جس کی اطاعت کو خدا نے فرض قرار دیا ہے۔ اگر اُس دور کے لوگ اس نکتے پر غور کرتے تو وہ واضح طور پر یہ نتیجہ اخذ کرلیتے کہ عبدالملک کی اطاعت واجب نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ عبد الملک کی اطاعت کو واجب قرار دے۔ صاف ظاہر ہے کہ عبد الملک جیسا سخت ظالم، جابر، کرپٹ اور سرکش حکمران اطاعت کے لائق ہو ہی نہیں سکتا۔

۱۰۹

امام علیہ السلام یہاں امامت کے مسئلے کو چھیڑتے ہیں۔

پھر اپنے سامعین کے اذہان میں موجود واحد کھٹکے کو دور کرنے کےلئے فرماتے ہیں:

وَ لَا تُقَدِّمُوا الْأُمُورَ الْوَارِدَةَ عَلَيْكُمْ مِنْ طَاعَةِ الطَّوَاغِيتِ وَ فِتْنَةِ زَهْرَةِ الدُّنْيَا بَيْنَ يَدَيْ أَمْرِ اللَّٰهِ وَ طَاعَتِهِ وَ طَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم‏

طاغوتوں (یعنی عبد الملک جیسے لوگوں) کی اطاعت کے باعث تمہیں جن امور کا سامنا ہوتا ہے انہیں خدا کی اطاعت، رسول خدا کی اطاعت اور حقیقی اولوالامر کی اطاعت پر مقدم نہ رکھو۔

امام علیہ السلام اپنے کلام کےاس حصے میں بھی مسئلہ امامت کو صریحاً بیان فرماتے ہیں۔

امام نے اپنے سابق الذکر بیان میں بھی اور اِس بیان میں بھی دو بنیادی باتوں پر توجہ دی ہے۔ ان دونوں خطبوں میں ان تین امور میں سے جن کی طرف پہلے اشارہ کرچکا ہوں، دو کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک لوگوں کے اسلامی اعتقادات و نظریات کی فکری تجدید اور تعمیر نو نیز اصلی اسلامی عقائد کی طرف ان کی توجہ مرکوز کرنے اور دین کے بارے میں موجود ناخالص سوچ پر تجدید نظر کی تشویق و ترغیب سے عبارت ہے۔ دوسرا مسئلہ ’’ولایت امر‘‘ کے سیاسی مسئلے یعنی اسلامی نظام کی قیادت اور حکمرانی سے عبارت ہے۔ امام اس دور کے لوگوں کو ان دو مسئلوں سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ درحقیقت آپ اپنے پیش نظر نظام حکومت (یعنی علوی حکومت اور اسلامی نظام) کی تبلیغ فرمارہے ہیں۔

۱۱۰

رسالۃ الحقوق

امام سجاد علیہ السلام کے بیانات کی ایک اور قسم ان دو پہلوؤں سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ یہ وہ بیانات ہیں جن میں امام نےتقریباً صریح انداز میں لوگوں کو ایک اسلامی نیٹ ورک قائم کرنے کی دعوت دی ہے۔

البتہ یہ دعوت ان لوگوں کے ساتھ مختص ہے جو آپ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اگر آپ عام لوگوں کو اس قسم کے تنظیمی نیٹ ورک کی دعوت دیتے تو یہ دعوت برملا ہوجاتی اور آپ کےلئے دشواریوں کا موجب بنتی۔

خوش قسمتی سے ’’تحف العقول‘‘ میں اس قسم کے بیانات کا ایک نمونہ بھی موجود ہے جسے یہاں نقل کررہاہوں۔

إِنَّ عَلَامَةَ الزَّاهِدِينَ فِي الدُّنْيَا الرَّاغِبِينَ فِي الْآخِرَةِ تَرْكُهُمْ كُلَّ خَلِيطٍ وَ خَلِيلٍ وَ رَفْضُهُمْ كُلَّ صَاحِبٍ لَا يُرِيدُ مَا يُرِيدُون‏

دنیا سے بےتوجہی اور بےرغبتی برتنے والے زاہدوں نیز آخرت سے دل لگانے والوں کی علامت یہ ہے کہ وہ ان دوستوں اور یاروں کو چھوڑ دیتے ہیں جو ان کے ساتھ اعتقادات، افکار اور مقاصد میں اشتراک نہیں رکھتے ہیں۔

یہ واضح طور پر شیعی تنظیمی نیٹ ورک کی دعوت ہے۔ لوگ امام کے اس بیان کے ذریعے یہ سیکھ سکتے ہیں کہ جو لوگ ان کے اہداف و مقاصد سے ہماہنگ اور متفق نہیں ہیں نیز برحق علوی حکومت کے طالب نہیں ہیں انہیں بیگانہ اور اجنبی سمجھنا چاہئے اگرچہ ان کے ساتھ رفت و آمد اور تعلقات کا سلسلہ قائم ہو۔

اس قسم کے تعلقات کا مشاہدہ انقلاب ایران سے قبل ایرانی قوم کے ہاں ہوتا ہے مثلاً کسی گلی کے نکڑ پر موجود فلان پرچون فروش کے ساتھ تعلقات جس کے بارے میں لوگ جانتے تھےکہ اس کا تعلق ساواک سے ہے یا فلان انسپکٹر کے سات تعلقات جس کے بارے میں لوگ جانتے تھے کہ وہ عوام کے درمیان حکومت کا جاسوس ہے۔

امام علیہ السلام فرماتے ہیں: جو لوگ تمہارے راستے، تمہارے مقصد اور تمہارے عقائد کو نہیں مانتے اور ان کے متلاشی نہیں ہیں ان کے ساتھ بیگانوں اور اجنبیوں کا سا سلوک کرو اور انہیں چھوڑدو۔

امام علیہ السلام کے فرمودات کی ایک اور قسم وہ ہے جو عام موضوعات پر مشتمل ہے۔

اس قسم میں یہ خاص زاویے جن کی طرف راقم نے اشارہ کیا ہے مذکور نہیں۔

اس کی مثال امام سجاد کا رسالۃ الحقوق ہے۔ یہ ایک تفصیلی خط ہے جو آج کل کی اصطلاح کے مطابق ایک ’’رسالے‘‘ کے برابر ہے۔

عربی میں ’’رسالہ‘‘ سے مراد ہے: خط۔رسالۃ الحقوق سے مراد ہے امام سجاد علیہ السلام کا وہ خط جو آپ نے اپنے کسی دوست کو لکھا تھا اور جس میں آپ نے باہمی حقوق کا ذکر فرمایا تھا۔

اس میں امام نے مختلف حیثیتوں میں لوگوں کے تمام باہمی حقوق پر روشنی ڈالی ہے مثلاً بندے پر خدا کا حق، انسانی اعضاء و جوارح کا حق نیز کان، آنکھ، زبان اور ہاتھ کے وہ حقوق جن کی ادائیگی انسان پر لازم ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں پر اسلامی حکمران کا حق، حاکم کے ذمے رعایا کے حقوق، دوستوں کے حقوق، ہمسایوں کے حقوق، گھر والوں کے حقوق اور اس قسم کے وہ تمام حقوق جو اسلامی نظام کے اندر افراد کے باہمی روابط کی جہات کو معین اور منظم کرتے ہیں اس رسالے میں مذکور ہیں۔امام نے بہت ہی نرم انداز میں نیز حکومت، مزاحمتی جدوجہد او ر مستقبل کے مطلوب نظام کا نام لئے بغیر اس خط میں مستقبل کے اجتماعی روابط کی بنیادوں کا ذکر کیا ہے تا کہ اگر کسی دن امام سجاد علیہ السلام کے اپنے زمانے میں اسلامی حکومت قائم ہوجائے (جو تقریباً محال تھا) یا آنے والے ادوار میں ایسا ہو تو مسلمانوں کے ذہنوں میں اسلامی حکومت میں عوام کے باہمی روابط کا منظم اور تیار خاکہ پہلے سے موجود ہو۔ بالفاظ دیگر امام کا خط لوگوں کو مستقبل میں برپا ہونے والی اسلامی حکومت کے خدوخال سے آشنا بناتا ہے۔یہ امام سجاد علیہ السلام کے فرمودات کی ایک اور قسم تھی جو بہت دلچسپ ہے۔آپ کے فرمودات کی ایک اور قسم وہ ہے جس کا مشاہدہ آپ صحیفہ سجادیہ میں کرسکتے ہیں۔

۱۱۱

صحیفہ سجادیہ

صحیفہ سجادیہ ایک بہت ہی مفصل موضوع بحث ہے۔ اس کتاب شریف پر دانشمندوں کو تحقیقی کام کرنا چاہئے۔ صحیفہ سجادیہ دعاؤں کا مجموعہ ہے۔ ان دعاؤں میں وہ تمام موضوعات شامل ہیں جن کی طرف ایک بیدار اور ہوشیار انسان کی توجہ مرکوز ہوتی ہے۔ ان دعاؤں میں سب سے زیادہ توجہ خدا کے ساتھ انسان کے قلبی و معنوی روابط پر دی گئی ہے۔ اس کتاب میں گوناگون دعائیں اور مناجاتیں نیز بےشمار معنوی اور کمال آفرین مقاصد کا تذکرہ ہے۔ امام(علیہ السلام) ان مناجاتوں کے اندر دعائیہ انداز میں اسلامی زندگی کے مختلف مقاصد کو لوگوں کے اذہان میں بیدار اور زندہ فرماتے ہیں۔ دعاؤں کے نتائج و آثار میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دلوں کے اندر تعمیری اور صحیح مقاصد کو بیدار کرتی ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں:

’’اللّهمّ اجعل عواقب أمورنا خيرا‘‘

(اے اللہ ! ہمارے کاموں کے انجام کو نیک بنا) تو یہ دعا ہمارے دلوں میں عاقبت کی یاد تازہ کرتی ہے۔ گاہے انسان اپنی عاقبت سے غافل ہوجاتا ہے لیکن اس دعا کے باعث اس کے دل میں خدا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، عاقبت پر توجہ کا جذبہ بیدار ہوتا ہے اور انسان عاقبت کی اصلاح کےلئے سرگرم عمل ہوجاتا ہے۔ اگر انسان صحیفۂ سجادیہ کی دعاؤں پر توجہ مبذول کرے تو یہی کتاب اس بات کےلئے کافی ہے کہ پورے معاشرے کو بیدار اور اس کی اصلاح کرے۔ان دعاؤں کے علاوہ امام سجاد علیہ السلام کے بہت سارے مختصر فرمودات بھی منقول ہیں جن میں سے ایک کا ذکر میں نے گزشتہ مباحث میں کیا تھا:

’’أَوَلا حُرٌّ يَدَعُ هذهِ اللُّمّاظَةَ لِأَهلِها؟‘‘

لماظۃ کتے کے منہ کے جھوٹے کو کہتے ہیں۔ یہ جملہ کس قدر اہم ہے۔ فرماتے ہیں: ’’کیا کوئی مرد حر (آزادمنش انسان) نہیں ہے جو کتے کے چاٹے ہوئے جھوٹے کو اس کے اہل کےلئے چھوڑدے؟‘‘ کتے کا جھوٹا کیا ہے؟ دنیا کی یہی رنگینیاں،یہی زرق و برق، محلات، رکھ رکھاؤ، پروٹوکول اور وہ خواہشات جن کے اندر عبد الملک کے دور کے کمزور اذہان و قلوب اٹکے ہوئے تھے۔ ان چیزوں کو کتے کا جھوٹا کہا گیا ہے۔اسی بنا پر جو لوگ عبد الملک کی چاکری، یا اس کے نوکروں کی نوکری یا اس کے مقاصد کے ساتھ حرکت کے خواہاں تھے، وہ سب کتے کے جھوٹے کے متلاشی تھے۔

امام فرماتے ہیں: اے مومنو! کتے کے جھوٹے کے طالب نہ بنو تا کہ عبد الملک کے دام میں نہ پھنس جاؤ۔امام سجاد علیہ السلام کے فرمودات میں اس قسم کے انقلابی اور دلچسپ بیانات کی کمی نہیں۔ انشاء اللہ ہم ان پر بحث کریں گے۔ یہی حال امام کے اشعار کا ہے۔ آپ شاعر تھے اور شعر کہتے تھے۔ ان اشعار کے موضوعات بھی یہی تھے۔ انشاء اللہ آگے چل کر ہم ان کا تذکرہ کریں گے۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۱۰)۔

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک پہلو یہ ہے کہ کیا آپ نے دربار خلافت کے خلاف مزاحمتی اور تعرض آمیز روش رکھی یا نہیں؟ گزشتہ مباحث میں راقم نے اس موضوع کی طرف مختصر اشارہ کیا تھا۔ یہاں ہم اس کی مزید توضیح پیش کریں گے۔

۱۱۲

ائمہ کی جدوجہد کا تیسرا دور:

ا مام سجاد کی ابتدائی حکمت عملی:

جہاں تک میں نے امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا مطالعہ کیا ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے امام سجاد نے اپنی زندگی میں حکمران طبقے کے خلاف کوئی ایسی صریح ،قاطع اور اعتراض آمیز مزاحمتی حکمت عملی نہیں اپنائی جس طرح بنی امیہ کے دور میں امام صادق علیہ السلام نے یا امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے اپنائی تھی۔

اس کی وجہ صاف ظاہر ہے۔ اگر ائمہ کی جدوجہد کے چار ادوار میں سے تیسرے دور کے آغاز میں (جس کی ابتدا امام سجاد کی زندگی کے آغاز سے ہوتی ہے) امام کسی قسم کی سخت حرکت کرتے تو انتہائی اہم ذمہ داریوں کا حامل قافلۂ اہل بیت اپنی منزل مقصود تک نہ پہنچ سکتا۔ ہنوز اہل بیت کا باغ جو امام سجاد کی ماہرانہ باغبانی کے زیر سایہ آبیاری اور تربیت کے مرحلے سے گزر رہا تھا اس قدر مستحکم نہیں ہوا تھا۔ اس باغ کے اندر ایسے نورس پودے تھے جو سخت طوفانوں کامقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ امام سجاد علیہ السلام کے ارد گرد اہل بیت کے ارادتمندوں، شیعوں اور مومنوں کی مٹھی بھر تعداد موجود تھی۔ اس دور میں یہ ممکن اور معقول نہیں تھا کہ اس قلیل تعداد کو (جس کے کندھوں پر شیعی نتظیمی ڈھانچے کو چلانے کی اہم ترین ذمہ داری عائد تھی) دشمنوں کی تلواروں کے حوالے کرکے تباہی و بربادی کا خطرہ مول لیا جاتا۔

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کے اس دور کو ہم مکہ میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کے ابتدائی دور سے یعنی مکی زندگی کے ابتدائی چند سالوں سے جب اعلانیہ دعوت کی نوبت نہیں آئی تھی تشبیہ دے سکتے ہیں۔ اسی طرح شاید امام باقر علیہ السلام کے دور کو مکی زندگی کے دوسرے دور (جب اعلانیہ دعوت کا آغازہوچکا تھا) سے تشبیہ دی جاسکے جبکہ اس کے بعد کے ادوار کو دعوت نبوی کے بعد والے ادوار سے تشبیہ دی جاسکے۔ اسی لئے امام سجاد کے دور میں صحیح مزاحمت اور تعرض کی نوبت نہیں آئی۔

یقیناً اگر امام سجاداس قسم کی سخت روش اپناتے جس کی مثالیں امام صادق ، امام کاظم اور امام ہشتم کے فرمودات میں دکھائی دیتی ہیں تو عبد الملک بن مروان جس کی طاقت عروج پر تھی آسانی کے ساتھ اہل بیت علیہ السلام کی تعلیمات کی بساط لپیٹ سکتا تھا۔

یوں نئے سرے سے کام شروع کرنے کی نوبت آتی۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی عاقلانہ اور پائیدار کام نہ ہوتا۔ اس کے باوجود امام سجاد کے فرمودات کے درمیان دربار خلافت کے خلاف تعرض آمیز رویے کے اشارے اور جلوے دکھائی دیتے ہیں۔

ان فرمودات کا تعلق بطور احتمال امام سجاد علیہ السلام کے طویل دور امامت کے اواخر سے ہے۔

ان اعتراض آمیز اقدامات کی تین صورتیں تھیں۔ ایک صورت معمول کی دینی تعلیمات کے لباس میں اموی خلفاء کی حیثیت اور حقیقت کو بیان اور برملا کرنے سے عبارت تھی۔ امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:

إِنَّ بَنِي أُمَيَّةَ أَطْلَقُوا لِلنَّاسِ تَعْلِيمَ الْإِيمَانِ،وَلَمْ يُطْلِقُوا تَعْلِيمَ الشِّرْكِ، لِكَيْ إِذَا حَمَلُوهُمْ عَلَيْهِ لَمْ يَعْرِفُوه‏

بنی امیہ نے لوگوں کو ایمان سکھانے کی آزادی دے دی لیکن شرک (کی حقیقت) سکھانے کی آزادی نہیں دی تا کہ جب وہ (بنی امیہ) لوگوں کو شرک کے راستے پر لگائیں تو لوگوں کو شرک کی شناخت ہی نہ ہو۔

بنابریں بنی امیہ علماء اور دینداروں کو (جن میں ائمہ بھی شامل تھے) نماز، حج، زکات، روزہ اور عبادات و غیرہ نیز توحید اور نبوت کے بارے میں بات کرنے اور اس قسم کے موارد میں احکام الٰہی بیان کرنے کی اجازت دیتے تھے لیکن اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ شرک کے مفہوم، مصادیق اور آثار کے بارے میں لوگوں سے گفتگو کی جائے اور انہیں تعلیم دی جائے کیونکہ اگر شرک سے مربوط معارف لوگوں کو سکھائے جاتے تو لوگ فوراً سمجھ جاتے کہ وہ مشرک ہیں اور یہ جان لیتے کہ بنی امیہ انہیں جس راستے پر چلا رہے ہیں وہ شرک کا راستہ ہے نیز انہیں فی الفورپتہ چلتا کہ عبد الملک اور بنی عباس کے دیگر خلفاء وہ طاغوت ہیں جو خدا کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور ان کی اطاعت کرنے والے درحقیقت شرک کے مرتکب ہیں۔

۱۱۳

اسی لئے بنی امیہ لوگوں کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ شرک سے مربوط معارف کو سیکھیں۔

جب ہم لوگ توحید کے بارے میں بحث کرتے ہیں تو ہمارے مباحث کا ایک بڑا حصہ شرک اور مشرک کی شناخت سے مربوط ہوتا ہے۔

ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ بُت اور بُت پرستی کیا ہیں۔

مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار، ج ۴۸، ص۹۶، ۹۷ میں ایک عمدہ بات کی ہے۔

فرماتے ہیں:

’’ان آيات الشرك ظاهرها في الأصنام الظاهرة و باطنها في خلفاء الجور الذين أشركوا مع أئمة الحق و نصبوا مكانهم‏‘‘ ۔

بظاہر شرک سے مربوط آیاتِ قرآنی کا تعلق ظاہری بتوں سے ہے لیکن حقیقت اور باطن میں ان آیات کا مقصود خلفائے جور ہیں۔

یہ خلفا اپنے آپ کو بر حق خلیفہ کہتے تھے اور برحق ائمہ کی جگہ خود غاصبانہ طریقے سے اسلامی معاشرے پر حکومت کرتے تھے۔ انہوں نے اسلامی حکومت اور مسلمان معاشرے کی حاکمیت کے دعوے میں اپنے آپ کو ائمہ برحق کا شریک قرار دیا۔

ائمہ حق کے ساتھ یوں اپنے آپ کو شریک قرار دینا بجائے خود خدا کے ساتھ شرک برتنے کے مترادف ہے کیونکہ ائمہ حق خدا کے نمائندے اور خدا کے ترجمان ہیں جو خدا کی جانب سے بات کرتے ہیں اور چونکہ خلفائے جور اپنے آپ کو ان کی جگہ رکھتے ہیں نیز دعوائے امامت میں اپنے آپ کو ان کا شریک قرار دیتے ہیں اس لئے یہ لوگ بُت اور طاغوت ہیں۔

پس جوکوئی ان کی اطاعت کرتا ہے وہ درحقیقت شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔

علامہ مجلسی اس عبارت کے بعد ایک عمدہ توضیح پیش کرتے ہیں۔

وہ پہلے کہتے ہیں کہ قرآنی آیات عصر رسول کے ساتھ مختص نہیں ہیں بلکہ تمام زمانوں کےلئے ہیں۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:

فهُوَ يَجرِي في أقوام تَركُوا طاعةَ أئمةِ الحقِّ و اتبعُوا أئمةَ الجَور

یعنی شرک کا مفہوم ان لوگوں پر بھی صادق آتا ہے جو برحق ائمہ کی اطاعت ترک کرتے ہوئے ائمہ جور کی متابعت کرتے ہیں

لِعُدولِهم عَن الأدِلّةِ العَقليةِ و النَقليةِ وَ اِتّباعِهم الأهواءَ وَ عُدولِهم عنِ النُصوصَ الجَليّةِ

کیونکہ یہ لوگ عقلی و نقلی دلائل کا انکار رکرتے ہیں، خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور واضح نصوص سے سرتابی کرتے ہیں ۔

بالفاظ دیگر یہ لوگ ان عقلی و نقلی دلائل سے سرتابی کرتے ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ (بطور مثال) عبد الملک بن مروان مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ نہیں بن سکتا۔

یہ لوگ واضح نصوص اور احادیث کے منکر اور ہوا و ہوس کے پیروکار ہیں۔

ادھر لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ حکمران طبقے کے تعرض سے آزاد پرسکون زندگی گزارنا ان کےلئے زیادہ آرام دہ ہے۔

لہذا وہ اسی آرام پسندی پر مبنی زندگی گزارنے کے لیے ظالم حکمرانوں کی اطاعت کرتے ہیں۔ بنابریں یہ لوگ بھی مشرک ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جب ائمہ شرک کی تشریح کرتے ہیں تو دربارِ خلافت پر بھی اس کی ایک نیم واضح چوٹ پڑتی ہے۔

امام سجاد علیہ السلام کی زندگی اور آپ کے فرامین میں اس بات کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

امام سجاد علیہ السلام اور مقتدر اموی خلیفہ عبد الملک کے مابین خط و کتابت میں بھی اس قسم کے تعرض کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

یہاں میں ا س کے دو نمونوں کی طرف اشارہ کرتاہوں۔

۱۔ ایک دفعہ عبد الملک نے امام سجاد علیہ السلام کو خط لکھا اور اپنی آزاد کردہ کنیز کے ساتھ شادی کرنے پر امام کی ملامت کی۔

امام کی ایک لونڈی تھی جسے آپ نے آزاد کردیا پھر آپ نے اس سے شادی کرلی۔

عبد الملک نے امام کو خط لکھا جس میں اس نے آپ کو طعنہ دیا حالانکہ امام علیہ السلام کا یہ اقدام ایک بہت ہی انسانی اور اسلامی اقدام تھا کیونکہ اولاً آپ نے ایک لونڈی کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا۔

ثانیاً اس لونڈی کو عزت و شرف بخشتے ہوئے اسے شریک حیات قرار دیا۔ یہ ایک نہایت عمدہ انسانی اقدام تھا۔ لیکن عبد الملک نے اس ارادے سے یہ خط لکھا تھا کہ ایک طرف سے امام سجاد علیہ السلام کے اوپر اعتراض وارد کرے اور دوسری طرف سے امام کو یہ بتائے کہ وہ آپ کے اندرونی اور گھریلو امور سے بھی واقف ہے۔

یوں یہ امام کےلئے ایک ضمنی دھمکی بھی تھی۔

امام سجاد علیہ السلام نے جوابی خط لکھا جس میں آپ نے فرمایا: اس اقدام میں کوئی قباحت نہیں ہے اور بزرگوں نے بھی اس قسم کا اقدام کیا ہے۔ پیغمبر خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی ایسا کیا ہے۔ اس لئے میرے اوپر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔

فَلَا لُؤْمَ عَلَى مُسْلِمٍ إِنَّمَا اللُّؤْمُ لُؤْمُ الْجَاهِلِيَّة ’’

یعنی یہ عمل کسی مسلمان کےلئے ذلت و خواری اور پستی کا موجب نہیں ہے۔ اگر کوئی چیز باعث ذلت و پستی ہے تو وہ جاہلیت کی پستی ہے۔

‘‘ یوں امام علیہ السلام نے نہایت لطیف اور طنزیہ انداز میں عبد الملک کے آباء و اجداد کے جاہلی سوابق کی طرف اس کی توجہ دلائی۔

یعنی یہ بتایا کی تم ایک جاہلی، مشرک اور خدا کے دشمن خاندان کی اولاد ہو اور وہ پستی تمہارے اندر موجود ہے۔ اگر کوئی چیز باعث ملامت و ذلت ہے تو وہ جاہلیت کی ذلت ہے۔ کسی مسلمان عورت سے شادی باعث ِخواری نہیں ہے۔

جب یہ خط عبد الملک کے پاس پہنچا تو عبد الملک کا دوسرا بیٹا سلیمان باپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب خط پڑھا گیا تو اس نے بھی سن لیا اور اپنے باپ کی طرح اس نے بھی اس خط میں امام کی طنز آمیز ملامت کو محسوس کرلیا۔

سلیمان نے باپ کا رخ کیا اور کہا: اے امیر المومنین! دیکھئے علی بن حسین نے آپ کے مقابلے میں کس طرح اظہار تفاخر کیا ہے۔ یعنی اس نے اس خط کے ذریعے یہ سمجھایا ہے کہ اس کے سارے آباء و اجداد اللہ پر ایمان رکھنے والے تھے جبکہ آپ (عبدالملک) کے سارے آباء و اجداد کافر اور مشرک تھے۔ یوں سلیمان نے اپنے باپ کو اکسانے کی کوشش کی تاکہ وہ اس خط کے مقابلے میں کوئی سخت اقدام کرے لیکن عبد الملک اپنے بیٹے سے زیادہ سمجھدار تھا اور جانتا تھا کہ اس قسم کے معاملات میں حضرت سجاد علیہ السلام کے ساتھ ٹکر لینا درست نہیں۔

لہذا اس نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹا چپ رہو، یہ بنی ہاشم کی زبان ہے جو چٹانوں کو بھی چیر دیتی ہے یعنی ان کی استدلالی زبان بہت طاقتور اور کاٹ دار ہے۔

۲۔ دوسرا نمونہ بھی امام سجاد علیہ السلام اور عبد الملک کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کے سلسلے میں امام کا خط ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ عبد الملک کو اطلاع ملی کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار حضرت سجاد علیہ السلام کے پاس موجود ہے۔ یہ ایک دلچسپ اورقابل توجہ مسئلہ تھا کیونکہ یہ تلوار پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یادگار اور باعث فخر تھی۔علاوہ ازیں امام سجاد(علیہ السلام) کے پاس اس تلوار کی موجودگی عبد الملک کےلئے خطرے کا باعث تھی کیونکہ یہ تلوار لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی تھی۔ بنابریں عبد الملک نے امام کو خط لکھا اور درخواست کی کہ امام علیہ السلام یہ تلوار اس کے پاس بھیج دیں۔ خط کے نیچے اس نے یہ بھی لکھا : اگر آپ کا کوئی کام ہو تو اس کی انجام دہی کےلئے حاضر ہوں۔ گویا اس نے خط کے اندر اس تحفے کی پاداش کا بھی وعدہ کیا۔

امام علیہ السلام نے منفی جواب دیا۔ عبد الملک نے امام کو دوبارہ خط لکھا اور دھمکی دی: اگر آپ تلوار ارسال نہ کریں تو میں بیت المال سے آپ کا وظیفہ بند کردوں گا۔ امام نے یوں جواب لکھا: امابعد! اللہ تعالیٰ نے عہد کیا کہ وہ اپنے متقی بندوں کو ان عواقب سے نجات دےگا جو انہیں ناپسند ہوں اور انہیں اس جگہ سے روزی دےگا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔

خدا نے قرآن میں فرمایا ہے:

إِنَّ اللّٰهَ لَا يحُبُّ كُلّ َخَوَّانٍ كَفُور

اللہ کسی خیانت کار ناشکر ےکو پسند نہیں کرتا۔

اب تم یہ دیکھو کہ ہم دونوں میں سے کون ہے جس پر یہ آیت بہتر منطبق ہوتی ہے۔

خلیفہ کے مقابلے میں امام کا یہ جواب بہت تلخ اور تند تھا کیونکہ یہ خط جس کے بھی ہاتھ لگتا وہ یہ سمجھ جاتا کہ اولاً امام سجاد علیہ السلام اپنے آپ کو خیانت کار اور ناشکرا نہیں سمجھتے۔

ثانیاً کوئی دوسرا شخص بھی آپ کے بارے میں اس قسم کا تصور نہیں رکھتا کیونکہ آپ خاندان نبوت کی برگزیدہ، بزرگ اور قابل قدر شخصیت ہیں اور ہرگز اس آیت کا مصداق نہیں۔

بنابریں امام سجاد کا نقطہ نظر یہ تھا کہ عبد الملک ہی خیانت کار اور ناشکرا ہے۔ خلاصہ یہ کہ امام نے عبد الملک کی دھمکی کے مقابلے میں اس حد تک تندی دکھائی۔

یہ تھے اموی دربارِ خلافت کے مقابلے میں امام سجاد کے اعتراض آمیز اورتنقیدی موقف کے بعض نمونے۔

۳۔ اگر ہم ایک اور نمونے کا بھی اضافہ کرنا چاہیں تو وہ حضرت سجاد سے منقول اشعار یا آپ کے دوستوں سے مروی اشعار ہیں۔

یہ بھی ایک قسم کا تعرض تھا کیونکہ اگر بالفرض خود امام کسی قسم کا تعرض نہیں فرماتے تھے تو آپ کے قریبی لوگ تعرض کرتے تھے جو ایک طرح سے امام کا ہی تعرض محسوب ہوتا ہے۔

آپ سے مروی چند اشعار بہت ہی تند اور انقلابی اشعار ہیں۔

فرزدق کے اشعار بھی ایک اور نمونہ ہیں۔ فرزدق کے واقعے کو بھی مورخین اور محدثین نے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:

عبد الملک کا بیٹا ہشام خلیفہ بننے سے پہلے مکہ گیا۔ وہ طواف میں مشغول تھا اور حجر الاسود کو چھونا چاہتا تھا۔ حجر اسود کے پاس لوگوں کا سخت ازدحام تھا۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود حجر اسود کے قریب نہ پہنچ سکا حالانکہ شاہزادہ تھا اور خلیفہ کا فرزند تھا نیز ہمراہیوں، محافظوں اور چیلے چانٹوں کے ہمراہ تھا لیکن لوگوں نے اس شاہزادے سے بے اعتنائی برتتے ہوئے اسے پیچھے دھکیل دیا۔

ناز و نعمت میں پلا ہوا یہ شاہزادہ لوگوں کے درمیان گھس کر ان کی طرح دھکم پیل میں حجر اسود کو بوسہ دینے کی پوزیشن میں بھی نہ تھا۔

خلاصہ یہ کہ وہ حجر اسود کو چھونے سے مایوس ہوگیا تو ایک بلند جگہے پر آکر بیٹھ گیا جس کے سامنے مسجد الحرام واقع تھی۔ وہاں سے وہ لوگوں کو دیکھنے لگا۔ اس کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے تھے۔

اسی دوران ایک باوقار، سنجیدہ شخص جو زاہدانہ اور ملکوتی شکل و صورت کا حامل تھا طواف کرنے والوں کے درمیان ظاہر ہوا اور حجراسود کی طرف بڑھا۔ لوگوں نے بے اختیار اسے راستہ دیا۔ اس نے کسی زحمت کے بغیر آرام سے حجر اسود کو مس کیا اور بوسہ دیا پھر پلٹ کر دوبارہ طواف کا سلسلہ شروع کیا۔

یہ بات ہشام پر سخت گراں گزری کہ خلیفہ کا بیٹا ہونے کے باوجود کسی نے اسے اہمیت نہیں دی بلکہ ہاتھوں اور پیروں سے دھکیل کر اسے دور کردیا اور حجر اسود کو چھونے کا راستہ نہیں دیا جبکہ دوسری طرف ایک اور شخص آتا ہے اور نہایت آرام کے ساتھ حجر اسود کو چومتا ہے۔

اس نے غصے سے پوچھا: یہ شخص کون ہے؟

اس کے ہمراہیوں نے پہچان لیا تھا کہ وہ شخص علی ابن الحسین علیہما السلام ہیں لیکن انہوں نے اس کا اظہار نہیں کیا تا کہ کہیں ہشام ان سے ناراض نہ ہوجائے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ہشام کے خاندان اور امام سجاد علیہ السلام کے خاندان میں اختلاف موجود ہے۔

یعنی بنی امیہ اور بنی ہاشم کے مابین ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔

پس وہ ہشام سے یہ نہ کہہ سکے :’’یہ شخص تیرے دشمن گھرانے کا رئیس ہے اور لوگ اس کے اس قدر مشتاق ہیں۔‘‘ یہ لوگ اسے ایک طرح سے ہشام کی اہانت سمجھتے تھے۔

اتفاق سے وہاں معروف شاعر فرزدق (جو اہل بیت کے مخلص دوستداروں میں سے ایک تھا) موجود تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ لوگ تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہے ہیں اور ایسا ظاہر کررہے ہیں کہ وہ علی ابن حسین(علیہ السلام) کو نہیں پہچانتے تو فوراً آگے بڑھ کر کہا:

اے امیر! اگر آپ اجازت دیں تو میں اس کا تعارف پیش کروں گا۔ ہشام نے کہا: تعارف کراؤ۔ وہاں فرزدق نے امام کی شان میں ایک قصیدہ کہا جو شعرائے اہل بیت کے معروف ترین قصائد میں سے ایک ہے۔

یہ فصیح و بلیغ اور درخشان قصیدہ شروع سے آخر تک علی بن الحسین(علیہ السلام) کی تعریف و تمجید پر مشتمل ہے۔ قصیدے کی ابتدا اس بیت سے ہوتی ہے:

هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتَهُ وَ الْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَ الْحِلُّ وَ الْحَرَمُ‏

یعنی اگر تو اسے نہیں پہچانتا تو جان لے کہ سرزمین بطحاء اس کے پیروں کے نشان اور اس کے قدموں کی چاپ کو پہچانتا ہے۔ یہ وہ ہستی ہے جسے حل اور حرم خوب پہچانتے ہیں۔

زمزم اور صفا کو اس کی پہچان ہے، یہ رسول کا بیٹا ہے، یہ بہترین انسان کا بیٹا ہے۔

یوں فرزدق ؒنے اپنے اس شاندار قصیدے میں امام سجاد علیہ السلام کی خصوصیات کو گننا شروع کیا۔ قصیدے کا ہر لفظ خنجر کی طرح ہشام کے دل میں پیوست ہوتا گیا۔

اس کے بعد ہشام فرزدق سے ناراض ہوگیا۔ ہشام نے اسے راندۂ درگاہ کر دیا اور حضرت علی ابن الحسین نے ہشام کے لئے نقد انعام بھیجا۔ اس نے پیسہ قبول نہیں کیا اور کہا: میں نے یہ اشعار رضائے الٰہی کی خاطر کہے ہیں لہذا آپ سے پیسہ نہیں لوں گا۔

تاریخ میں امام علیہ السلام کے دوستداروں کی طرف سے حکمرانوں کے خلاف اس قسم کے تعرض آمیز رویوں کا مشاہدہ ہوتا ہے جن میں سے ایک اور نمونہ یحیی بن ام طویل کا رویہ ہے۔ البتہ اس کا کلام اشعار کی صورت میں نہیں ہے۔

یحیی بن ام الطویل جوان ، بہت بہادر اور اہل بیت کا مخلص دوستدار تھا۔ وہ ہمیشہ کوفہ جاتا ، لوگوں کو جمع کرتا اور اعلان کرتا تھا: لوگو! (تم وہی ہو جو اموی حکومت کے پیروکار تھے) ہم تم سے کفر برتنے والے ہیں اور تمہیں قبول نہیں کرتے، جب تک تم خدا پر ایمان نہ لاؤ۔

اس گفتگو سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مشرک سمجھتا تھا نیزانہیں مشرک اور کافر کہہ کر پکارتا تھا۔امام سجاد اور آپ کے دوستداروں کی زندگی میں اس قسم کے تعرض آمیز اقدامات کے جلوے نظر آتے ہیں۔

(پاسدار اسلام، شمارہ ۱۲)۔

۱۱۴

درباری علماء سے امام سجاد کا شدید برتاؤ:

امام سجاد علیہ السلام کے حالات، آپ کی حکمت عملی اورآپ کی تدابیر سے مربوط مسائل کی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئےیہاں ہم ایک عظیم اسلامی تحریک کےلئے فراہم سازگار فضا کی بحث کرنا چاہیں گے جو علوی اور اسلامی حکومت پر منتج ہوسکتی تھی۔

بطور خلاصہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ امام سجاد علیہ السلام کی تدابیر اور حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لوگوں کےلئے تشریح، توضیح اور تبیین کا اہتمام کیا جائے ، بعض لوگوں کو تنظیمی نیٹ ورک میں پرویا جائے اور بعض افراد کو رہنمائی و ہدایت سے نوازا جائے۔

بالفاظ دیگر ہم نے امام سجاد علیہ السلام کی شخصیت کی جو تصویر پیش کی ہے ا س کی رو سے ہم آپ کو ایک بردبار اور صابر انسان پاتے ہیں جو ۳۰یا ۳۵ سالوں تک مسلسل کوشش کرتے رہے تا کہ عالم اسلام کے سخت نامناسب حالات کا رخ اس طرف موڑدیں جہاں خود امام علیہ السلام اور آپ کے جانشین اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کی تشکیل کےلئے حقیقی اور نتیجہ بخش کوششوں اور سرگرمیوں کا سلسلہ قائم رکھ سکیں۔

اگر ہم امام سجاد علیہ السلام کی ۳۵ سالہ جد و جہد کو ائمہ کی مجموعی تاریخ سے حذف کریں تو یقیناً وہ حالات فراہم نہ ہوتے جن میں امام صادق علیہ السلام نے اموی حکومت کے مقابلے میں اور بعد میں عباسی خلافت کے مقابلے میں اس قدر صریح اور آشکار موقف اختیار کیا۔

ایک اسلامی معاشرے کی تشکیل کےلئے سب سے اہم اور لازمی چیز ذہنی اور فکری راستوں کو ہموار کرنا ہے۔

لیکن اُس دور میں عالمِ اسلام جن حالات سے گزر رہا تھا ان کے پیش نظر اس طرح سے ذہنی اور فکری فضا سازگار بنانے کےلئے سالہا سال کام کرنے کی ضرورت تھی۔

امام سجاد(علیہ السلام) نے اسی مہم کو سر کرنے کا بیڑا اٹھایا اور اس مقصد کےلئے کمر شکن زحمتیں برداشت کیں۔

اس کے علاوہ ہم امام سجاد علیہ السلام کی دیگر کوششوں کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں جو درحقیقت مذکورہ بالا میدان میں آپ کی پیشرفت کی علامت ہے۔

ان کوششوں کا زیادہ تر حصہ سیاسی نوعیت کا ہے جن میں کبھی کبھی بہت تیزی اور تندی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان کوششوں کا ایک نمونہ (درباری علماء اور سرکاری مشینری کےلئے کام کرنے والے بڑے بڑے محدثین کے ساتھ) امام سجادکے رویے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں ہم اسی رویے کا جائزہ لیں گے۔

ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے پرشور ترین مباحث میں سے ایک اسلامی معاشرے کی فکری اور ثقافتی لگام پکڑنے والوں یعنی علماء اور شعراء کے ساتھ ان معصومین کا طرز عمل ہے۔ یہ طبقہ لوگوں کی ذہنی اور فکری جہات کو متعین کرتا تھا۔

اموی اور عباسی خلفاء معاشرے پر جن اقدار اور احوال کی حکمرانی چاہتے تھے یہ طبقہ لوگوں کو ان اقدار و احوال کا خوگر بناتا اور ان کے آگے سرتسلیم خم بنا تا تھا۔ دیگر ائمہ علیہم السلام کی طرح امام سجاد علیہ السلام کا یہ طرزِ عمل ایک اہم اور دلچسپ باب ہے۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں ظالم اورستمگر خلفاء اسلام کے معتقد لوگوں پر حکومت کرنے کی خاطر اس بات پر مجبور تھے کہ اپنے مقاصد اور لائحہ عمل کی تکمیل کےلئے لوگوں کے قلبی ایمان اور ان کی عقیدت کا رخ اپنی طرف موڑلیں۔

کیونکہ ہنوز اُس دور اور صدر ِاسلام کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ واقع نہیں ہوا تھا اور اسلام پر لوگوں کا قلبی ایمان حسب ِدستور باقی تھا۔ اگر لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ انہوں نے اس ظالم خلیفہ کی جو بیعت کی ہے وہ درست نہیں اور یہ ظالم آدمی رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی جانشینی اور خلافت کا سزاوار نہیں تو یقیناً وہ اس کے آگے سر نہ جھکاتے۔

اگر سب لوگوں کے بارے میں ہم اس بات کو قبول نہ کریں تب بھی اسلامی معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی جو قلبی ایمان کی رو سے دربارِ خلافت کی غیر اسلامی حالت کو برداشت کرتے تھے۔ یعنی وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ صورتحال اسلامی ہے۔

اسی لئے ظالم خلفاء اس دور کے محدثین اور علماء سے زیادہ سے زیادہ کام لیتے تھے اور انہیں اپنے من پسند کاموں پر آمادہ کرتے تھے نیز ان سے کہتے تھے کہ وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور آپ کے بڑے بڑے اصحاب کی جانب سے ایسی احادیث گھڑلیں جو ان حکمرانوں کی مرضی اور پسند کے مطابق ہوں۔ اس سلسلے میں کئی دل ہلا دینے والے واقعات مروی ہیں۔

بطور مثال منقول ہے کہ معاویہ کے زمانے میں ایک شخص کی ملاقات کعب الاحبار سے ہوگئی۔ معاویہ اور شام کے حکمرانوں کے ساتھ کعب الاحبار کے دوستانہ روابط تھے۔ اس لئے کعب الاحبار نے اس شخص سے پوچھا: کہاں سے تعلق رکھتےہو؟ اس نے کہا: شامی ہوں۔ بولا: شاید تمہارا تعلق اس لشکر سے ہے جس کے ستر ہزار لوگ بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے۔

شامی: وہ کون لوگ ہیں؟

کعب: وہ اہل دمشق ہیں۔

شامی: لیکن میں دمشقی نہیں ہوں۔

کعب: پس شاید تیرا تعلق ان لشکریوں سے ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ ہر روز دوبار نظر فرماتا ہے۔

شامی: وہ کون ہیں؟

کعب: وہ اہل فلسطین ہیں۔

شایداگر وہ شامی یہ کہتا : میں فلسطینی نہیں ہوں تو کعب الاحبار دیگر شہروں مثلاً بعلبک، طرابلس و غیرہ کے مکینوں کے بارے میں ایسی جعلی احادیث نقل کرتا جن سے یہ ظاہر ہوتا کہ ان شہروں کے لوگ ممتاز اور بلند مقام رکھتے ہیں اور جنتی ہیں۔

کعب الاحبار یا تو شامی حکام کی خوشامد اور چاپلوسی کی خاطر اس قسم کی احادیث گھڑتا تھا تا کہ ان سے زیادہ سے زیادہ مالی مدد لے اور ان کی ہمدردی حاصل کرےیا اسلام سے دشمنی اور عناد کی بنا پر ایسا کرتا تھا تا کہ اسلامی احادیث کو جھوٹی احادیث کے ذریعے مخلوط اور مشکوک بنا دے جس کے نتیجے میں رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال کی شناخت آسانی سے میسر نہ ہو۔

سیرت اور رجال کی کتب میں اس قسم کے بہت سے واقعات درج ہیں۔

ان میں سے ایک اس حاکم کا واقعہ ہے جس کا بیٹا مکتب گیا اور صاحبِ مکتب نے اسے مارا۔ بیٹا روتا ہوا گھر لوٹا اور باپ سے شکایت کرنے لگا کہ آج صاحبِ ِمکتب نے مجھے مارا ہے۔

باپ نے غصے میں کہا: میں ابھی جاتا ہوں اور اس کے خلاف ایک حدیث تیار کرنے کا حکم دیتا ہوں تاکہ یہ صاحبِ مکتب پھر اس قسم کی جرأت نہ کرے۔

اس داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی احادیث تیار کرنا ان لوگوں کےلئے اس قدر آسان تھا کہ وہ اپنے بچوں کے آنسوؤں پر ترس کھانے کے باعث مکتب کے مالک یا اس کے شہر کے بارے میں جعلی حدیث تیار کرتے تھے۔

بہرحال اس صورتحال کے باعث عالم اسلام میں اسلام کے حوالے سے بہت ہی خراب، خود ساختہ اور مخلوط ذہنیت یا ثقافت وجود میں آچکی تھی۔

اس غلط ذہنیت کا سرچشمہ وہی علماء ومحدثین تھے جو اس دور کے طاقتور اور مقتدر لوگوں کے کاسہ لیس اور خدمتگار تھے۔

بنابریں ان حالات میں اس گروہ کی مخالفت ایک بہت ہی اہم اور فیصلہ کن اقدام تھی۔ یہاں ہم امام سجاد علیہ السلام کی سیرت سے اس قسم کی مخالفت کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں۔ یہ امام کی جانب سے محمد بن شہاب زہری کی مخالفت کا واقعہ ہے۔

محمد بن شہاب زہری شروع میں امام سجاد علیہ السلام کے قریبی لوگوں اور شاگردوں میں شامل تھا۔

اس نے امام سے بعض علوم حاصل کیے اور احادیث نقل کیں لیکن آہستہ آہستہ (اپنی جرأتمندی کے باعث) دربارخلافت کا مقرب اور خدمتگار بن گیا۔ یوں وہ ان علماء ومحدثین کے زمرے میں شامل ہوگیا جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے مدّ مقابل کھڑے تھے۔

محمد بن شہاب زہر ی کے حالات سے مزیدآشنائی کےلئے ہم اس کے بارے میں چند روایات نقل کریں گے۔

ان روایات میں سے ایک میں زہری کہتا ہے:

كُنّا نَكرَهُ كتابَ ۃ العِلم حتّٰى أكرَهَنا علَيهِ هٰؤلاءِ الأمَراءُ. فَرأينا أن لا یَمنَعهُ أحدٌ من المسلمين

‏ شروع میں ہم علم سپردِ قلم کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان حکمرانوں نے ہمیں لکھنے پر مجبور کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ کوئی مسلمان اس سے منع نہیں کرے گا اور علم و دانش ہمیشہ سپردِ قلم ہوتا رہےگا۔

اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت تک محدثین کی اس جماعت کے ہاں احادیث کو لکھنے کا رواج موجود نہیں تھا نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ محمد بن شہاب زہری حکام کا خدمتگار تھا اور یہ حکام اپنی مرضی کی احادیث اس سے لکھواتے تھے۔

معمّر نامی شخص کا بیان ہے: ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم نے زہری سے بہت سی احادیث نقل کی ہیں یہاں تک کہ ولید قتل ہوگیا۔ اس کے قتل ہونے کے بعد ہم نے بہت سی کتابوں اور دفاتر کو دیکھا جنہیں چوپایوں پر لادکر ولید کے خزانوں سے خارج کیا جا رہا ہے۔

یہ لوگ کہہ رہے تھے: یہ زہری کا علم ہے۔ گویا زہری نے (ولید کے کہنے پر اس کےلئے) احادیث کی کتابوں اور دفاتر کے اتنے انبار لگادیے تھے کہ انہیں ولید کے خزانوں سے نکالتے وقت چوپایوں کے اوپر لادنے کی ضرورت پڑی۔

ولید کے حکم سے لکھی جانے والی احادیث پر مشتمل ان دفاتر اور کتابوں میں کس قسم کی احادیث ہوں گی؟

یقیناً ان میں ایک حدیث بھی ایسی نہیں ہو گی جس میں ولید کی مذمت کی گئی ہو بلکہ یہ ان احادیث سے عبارت تھیں جن میں ولید اور اس جیسے لوگوں کے اعمال پر مہر تصدیق ثبت کی گئی تھی۔

زہری کے بارے میں ایک اور روایت ہے جو یقیناً اس دور سے مربوط ہے جب زہری دربارخلافت سے وابستہ ہوچکا تھا۔ یعقوبی اپنی تاریخ میں یوں رقمطراز ہیں:

’’اِنَّ الزَهريَّ يُحَدِّثكُم أنَّ رسُولَ اللهِ قالَ: لا تُشَدُّ الرِحالُ إلاّ إلىٰ ثلاثةِ مَساجِدَ:المسجدِ الحرامِ وَ مسجدِ المدینةِ وَ المسجدِ الاَقصیٰ وَ اَنّ الصخرةَ الَّتي وَضعَ رسول الل ہ قدمَه عَليها، تقُوم مَقام الكعبةِ‘‘ ۔

یعنی زہری رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: صرف تین مساجد ایسی ہیں جن کی طرف مقد س ایمانی سفر کیا جاسکتا ہے۔

وہ تین مساجد یہ ہیں:

مسجد الحرام، مسجد مدینہ اورمسجد اقصیٰ۔

وہ پتھر (جو مسجد اقصیٰ میں ہے اور) جس پر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا پاؤں رکھا تھا وہ کعبے کا نعم البدل ہے۔میری توجہ کا مرکز اس حدیث کا آخری حصہ ہے جس میں اس پتھر کو کعبے کا نعم البدل قرار دیا گیا ہے اور کعبے کی جو قدر و قیمت اور عزت ہے وہ اس پتھر کےلئے ثابت کی گئی ہے۔

اس حدیث کا تعلق اس زمانے سے ہے جب عبد اللہ بن زبیر کا مکہ پر تسلط تھا۔ جب لوگ حج پر جاتے تھے تو وہ مکہ (جہاں عبد اللہ بن زبیر کی حکومت تھی) میں چند روز ٹھہرنے پر مجبور ہوتے تھے۔ یہ امر عبد اللہ بن زبیر کو بہت اچھا موقع فراہم کرتا تھا تاکہ وہ اپنے دشمنوں (خاص کر عبد الملک بن مروان) کے خلاف تبلیغ کرے۔ چونکہ عبد الملک یہ چاہتا تھا کہ لوگ ابن زبیر کی باتوں سے متاثر نہ ہوں اور مکہ نہ جائیں اس لئے اس نے آسان ترین راستہ یہی دیکھا کہ ایک جعلی حدیث تیار کی جائے جو مسجد اقصی کی فضیلت و منزلت کو مسجد الحرام اور مسجد مدینہ کے برابر قرار دےیہاں تک کہ مسجد اقصی کے پتھر کو کعبے کے برابر اہمیت دی جائے۔

ہم سب کو معلوم ہے کہ (اسلامی عرف اور ثقافت کی رو سے) دنیا کا کوئی نقطہ کعبے سے زیادہ شرف نہیں رکھتا اور دنیا کا کوئی پتھر خانہ کعبہ کے حجر الاسود کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بنابریں اس حدیث کو گھڑنے کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو خانۂ خدا اور مدینہ منورہ کی طرف سفر کرنے سے روکا جائے(احتمال ہے کہ مدینہ عبد الملک کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کا مرکز تھا) اور انہیں فلسطین کی جانب روانہ کیا جائے کیونکہ فلسطین شام کا حصہ اور عبد الملک کے زیر اثر تھا۔ رہی یہ بات کہ لوگوں نے اس جعلی حدیث پر کتنا عمل کیا تو اسے تاریخ کے اوراق میں تلاش کرنا چاہئے کہ کیا کسی زمانے میں لوگ مکہ جانے کی بجائے بیت المقدس کے صخرہ (پتھر) کی زیارت کےلئے جاتے تھے یا نہیں؟

اگر ایسا اتفاق ہوا ہو تو اس کے اصلی مجرموں میں سے ایک محمد بن شہاب زہری کو قرار دینا پڑےگا جس نے اس قسم کی جعلی احادیث تیار کرکے لوگوں کو گمراہ کردیا۔

یہ سب عبد الملک بن مروان کے سیاسی مقاصد کی تکمیل کےلئے تھا اور بس۔

جب محمدبن شہاب دربارِ خلافت کا کارندہ بن چکا تو اس کے بعد اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی کہ وہ امام سجاد علیہ السلام اور آل علی علیہ السلام کے خلاف بھی احادیث گھڑنا شروع کرے۔

اس بارےمیں مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین کی تالیف ’’اجوبة مسائل جارالله‘‘ میں دو حدیثیں میری نظر سے گزری ہیں جن میں سے ایک روایت میں محمد بن شہاب دعویٰ کرتا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام جبری یعنی نظریہ جبر کے طرفدار تھے۔

وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منسوب کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ آیت شریفہ:

وَ كاَنَ الْانسَانُ أَكْثرَ شَیْى‏ءٍ جَدَلاً

میں لفظ انسان سے مراد (نعوذ باللہ) امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہیں۔

وہ ایک اور روایت میں نقل کرتا ہے کہ حضرت حمزہ سیدالشہداء نے شراب نوشی کی تھی۔

ان دونوں احادیث کو تیار کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے مقابلے میں مقتد ر سیاسی قوتوں (عبد الملک اور بنی امیہ) کی حمایت کی جائے نیز آل رسول کو (جو بنی امیہ کے مقابلے میں تھے) صف اول کے مسلمانوں کے دائرے سے خارج کیا جائے اور ان کے بارے میں یہ تاثر دیا جائے کہ وہ احکام دین پر عمل اور ان سے دلبستگی کے لحاظ سے عام لوگوں یا ان سے بھی کمتر اور نچلے درجے کےلوگوں میں شامل ہیں۔

امام سجاد علیہ السلام نے اس شخص کے مقابلے میں بہت سخت اور تند موقف اپنایا۔

اس موقف کا مشاہدہ ایک خط میں ہوتا ہے۔ ممکن ہے کوئی یہ سوال کرے کہ ایک عدد خط آخر اس سخت موقف کی کس حد تک عکاسی کرسکتا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اس خط کا مضمون خود زہری کے علاوہ حکمران طبقے کے خلاف بھی بہت تند و تیز لہجے کا حامل ہے نیز یہ خط صرف محمدبن شہاب سے مختص نہیں بلکہ دوسروں کے ہاتھ بھی لگ سکتا تھا نیز واضح طور پر لوگوں کے درمیان بتدریج اس کا تذکرہ پھیلتا جو تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے (چنانچہ یہ تاریخ میں زندہ رہا ہے اور آج ۱۳۰۰ سال گزرنے کے بعد بھی ہم اس خط پر بحث کررہے ہیں) اس لئے ان حقائق کے پیش نظر ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ خط اس قسم کے ضمیر فروش علماء کے مصنوعی اور شیطانی تقدس پر کس قدر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔

اگرچہ یہ خط محمد بن شہاب کے نام ہے لیکن یہ اس جیسے دیگر افراد کو بھی شامل ہے۔

واضح ہے کہ اس خط کا مسلمانوں خاص کر اس دور کے شیعوں کے ہاتھ لگنا اور ہاتھوں ہاتھ گردش کرنا ان درباری گماشتوں کی ساکھ کےلئے کس قدر شدید دھچکا تھا۔یہاں ہم اس خط کے بعض حصوں کو نقل کریں گے۔

خط کی اتبدا میں مذکور ہے:

كَفَانَا اللّٰهُ وَ إِيَّاكَ مِنَ الْفِتَنِ وَ رَحِمَكَ مِنَ النَّار ۔

خدا ہمیں اور تجھے فتنوں کے شر سے بچائے اور اللہ آگ کے معاملے میں تجھ پر رحم کرے۔

اس جملے کے دوسرے حصے

(رَحِمَكَ مِنَ النَّار)

میں صرف زہری سے خطاب ہے (جبکہ پہلے حصے میں سب کےلئے فتنے سے محافظت کی دعا کی گئی ہے۔ مترجم) کیونکہ فتنے سے ہرکوئی دوچار ہوسکتا ہےیہاں تک کہ خود امام سجاد علیہ السلام بھی کسی نہ کسی طرح فتنے سے روبرو ہوسکتے ہیں البتہ آپ فتنے میں غرق نہیں ہوسکتے۔

اس کے بر عکس محمد بن شہاب نہ صرف فتنے سے دوچار ہوا بلکہ اس میں غرق ہوگیا اور وہ امام سجاد علیہ السلام کے برخلاف آتش جہنم کا مستحق ٹھہرا۔

اس لئے محمد بن شہاب کے بارے میں آتش جہنم کی بات ہوئی۔ اس انداز بیان کے ساتھ خط کا آغاز ابن شہاب کے ساتھ امام کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رویہ تحقیر آمیز بھی ہے اور معاندانہ بھی۔ اس کے بعد فرماتے ہیں:

فَقَدْ أَصْبَحْتَ بِحَالٍ يَنْبَغِي لِمَنْ عَرَفَكَ بِهَا أَنْ يَرْحَمَك‏

اب تیری حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہر اس شخص کو جو تیری حالت سے آشنا ہوجائے تیرے اوپر رحم کھانا چاہئے۔(تیری یہ حالت لوگوں کی نظر میں قابلِ رحم ہے۔ مترجم) ملاحظہ ہو کہ امام کس سے خطاب فرمارہے ہیں۔

امام علیہ السلام کا مخاطب وہ ہے جس پر سب رشک کرتے ہیں۔ وہ حکومت کے منظور نظر بڑے بڑے علماءمیں سے ایک ہے۔ لیکن امام اسے اس قدر ذلیل و خوار کرتے ہیں کہ فرماتے ہیں: جو کوئی تیری اس حالت سے آشنا ہوجائے اسے تیرے اوپر ترس کھانا چاہئے۔

پھر امام علیہ السلام بعض آیات کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: اللہ تیرے قصور اور تیری تقصیر کو ہرگز نہیں بخشےگا کیونکہ خدا نے علماء کو حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کےلئے حقائق کو بیان کریں:

لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَ لا تَكْتُمُونَه‏

اس تمہید کے بعد امام علیہ السلام محمدبن شہاب پر بہت سخت اور کڑی تنقید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَ اعْلَمْ أَنَّ أَدْنَى مَا كَتَمْتَ وَ أَخَفَّ مَا احْتَمَلْتَ أَنْ آنَسْتَ وَحْشَةَ الظَّالِمِ وَ سَهَّلْتَ لَهُ طَرِيقَ الْغَيِّ بِدُنُوِّكَ مِنْهُ حِينَ دَنَوْتَ وَ إِجَابَتِكَ لَهُ حِينَ دُعِيتَ ۔

‏ جان لے کہ تو نے جن چیزوں کو چھپایا ہے اور جن چیزوں کا بوجھ اپنی گردن پر لادا ہے ان میں سب سے معمولی اور خفیف چیز یہ ہے کہ تو نے ستمگر کی اجنبیت کو انس میں تبدیل کیا ہے اور اس کےلئے گمراہی کا راستہ ہموار کیا ہے اور وہ یوں کہ تو اس کے قریب ہوگیا اور جب اس نے تجھے دعوت دی تو تو نے اس کی دعوت قبول کرلی۔

یہاں امام علیہ السلام دربارِ خلافت و حکومت کے ساتھ ابنِ شہاب کی قربت کی یوں تصویر کشی فرماتے ہیں اور اس کے سر پر مذمت کا تازیانہ برساتے ہیں:

إِنَّكَ أَخَذْتَ مَا لَيْسَ لَكَ مِمَّنْ أَعْطَاكَ وَ دَنَوْتَ مِمَّنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَى أَحَدٍ حَقّاً وَ لَمْ تَرُدَّ بَاطِلًا حِينَ أَدْنَاكَ ۔

تو نے اس سے وہ کچھ لیا ہے جو تیرا حق نہیں بنتا۔تو اس (ظالم خلیفہ) کے قریب ہوگیا ہے جس نے کسی کا حق اسے نہیں لوٹایا ہے اور جب سے اس نے تجھے اپنے قریب کیا ہے تو نے کسی باطل کو برطرف نہیں کیا ہے۔

بالفاظ دیگر تو یہ عذر نہیں تراش سکتا :’’ میں نے تو احقاق ِ حق اور ابطال ِباطل کےلئے اس کی قربت اختیار کی ہے ‘‘کیونکہ جب تک تو اس کے ساتھ رہا تو نے کسی باطل کا خاتمہ نہیں کیا جبکہ اس کا حکومتی نظام باطل سے لبریز ہے۔

وَ أَحْبَبْتَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ

تو نے اس شخص کے ساتھ دوستی کی ہے جس نے خدا سے دشمنی برتی ہے۔

اس تنقیدی خط میں امام کا ایک نہایت لرزا دینے والا اعتراض یہ ہے:

’’ أَ وَ لَيْسَ بِدُعَائِهِ إِيَّاكَ حِينَ دَعَاكَ جَعَلُوكَ قُطْباً أَدَارُوا بِكَ رَحَى مَظَالِمِهِمْ وَ جِسْراً يَعْبُرُونَ عَلَيْكَ إِلَى بَلَايَاهُمْ وَ سُلَّماً إِلَى ضَلَالَتِهِمْ دَاعِياً إِلَى غَيِّهِمْ سَالِكاً سَبِيلَهُمْ يُدْخِلُونَ بِكَ الشَّكَّ عَلَى الْعُلَمَاءِ وَ يَقْتَادُونَ بِكَ قُلُوبَ الْجُهَّالِ إِلَيْهِم‏‘‘ ۔

کیا ایسا نہیں ہے اور کیا تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تجھے اپنے قریب لاکرتجھے وہ محور اور کیلی قرار دیا ہے جس کے گرد ان کے مظالم کی چکی کا پتھر گھومتا ہے۔

انہوں نے تجھے ایک پل قرار دیا ہے جس سے گزر کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی طرف بڑھتے ہیں۔

انہوں نے تجھے ایک سیڑھی قرار دی ہے جس پر چڑھ کر وہ اپنی گمراہی کی جانب جاتے ہیں۔

انہوں نے تجھے اپنی ضلالت کی طرف بلانے والا اور اپنے راستے کا راہی بنایا ہے۔ وہ تیرے ذریعے علماء کے اذہان میں شکوک پیدا کرتے ہیں اور تیرے ذریعے جاہلوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تیرے باعث علماءاس شک میں مبتلا ہوئے کہ کیا دربار حکومت کے ساتھ ہمارے قریب ہونے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

پھر کچھ لوگ اس دام میں پھنس بھی گئے۔ علاوہ ازیں تیرے ہی باعث جاہل لوگ آسانی سے خلفاء کی جانب راغب اور ان کے دلدادہ ہوگئے۔

اس کے بعد امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

فَلَمْ يَبْلُغْ أَخَصُّ وُزَرَائِهِمْ وَ لَا أَقْوَى أَعْوَانِهِمْ إِلَّا دُونَ مَا بَلَغْتَ مِنْ إ ِصْلَاحِ فَسَادِهِم

‏ یعنی تو نے ان کی برائیوں کو لوگوں کی نگاہوں میں اچھا ظاہر کرکے ان کی جو خدمت کی ہے وہ خدمت ان کے خاص وزیروں اور طاقتور مددگاروں نے بھی نہیں کی۔ اس نہایت تند و تیز، پر مغز اور پرمعنی خط کے ذریعے امام سجاد علیہ السلام نے اس فکری و علمی قیادت کو رسوا کیا جو ظالم سیاسی قوت اور حکومت کی خدمتگار بن گئی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس ظالم حکومت کے ساتھ سازباز کرنے والوں کو سوالیہ نشان بنادیا۔ یہ سوالیہ نشان اس دور کے اسلامی معاشرے میں ہمیشہ مد نظر رہا اور تاریخ کے ہر دور میں اہمیت کا حامل رہےگا۔میں اسے امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم حصہ سمجھتا ہوں۔میرا خیال ہے کہ امام نے ایک محدود جماعت کے اندر علمی و تربیتی سرگرمیوں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ نے اس قسم کی سیاسی جدوجہد بھی فرمائی۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۱۱)

یہ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کا ایک خلاصہ ہے۔یہاں اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کرتا چلوں کہ اگرچہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنے ۳۴ سالہ پُربار دور ِامامت میں دربارِ خلافت کے ساتھ بطور آشکار کوئی ٹکر نہیں لی اس کے باوجود آپ نے امامت کا پرفیض بساط بچھاکرمومن اور مخلص عناصر کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ فرماکر اور اہل بیتعلیہم السلام کی دعوت کا دائرہ وسیع کرکے اپنے حصے کا کام انجام دیا جس کے نتیجے میں اموی خلافت آپ سے بدظن اور خائف ہوگئی یہاں تک کہ امویوں نے آپ کو ستایا بھی اور کم از کم ایک بار وہ آپ کو غل و زنجیر میں جھکڑ کر مدینہ سے شام لےگئے۔سانحہ کربلا کے بعد امام سجاد علیہ السلام کو غل و زنجیر پہنانے کا جو واقعہ معروف ہے اس کے بارے میں یقین سے نہیں کہاجا سکتا کہ آپ کی گردن کو بھی غل و زنجیر سے باندھا گیا یا نہیں لیکن بعد والے واقعے میں یہ یقینی ہے یعنی امام غل و زنجیر میں جھکڑ کر اور اونٹ پر سوار کرکے مدینہ سے شام لے جائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی دشمنوں نے کئی بار آپ کو تشدد اور ایذارسانی کا نشانہ بنایا۔ آخر کار ۹۵ھ (ولید بن عبد الملک کے دورِ خلافت)میں دربار خلافت کے کارندوں کے ہاتھوں آپ علیہ السلام کو زہر دیا گیا اور آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔(پاسدار اسلام، شمارہ ۱۲)۔ =====٭٭٭٭٭=====

۱۱۵

دسویں فصل "امام باقر علیہ السلام "

فکری اور تنظیمی تعمیر نو کا دور:

پانچویں امام یعنی امام باقر علیہ السلام کا دور مکمل طور پر امام سجاد علیہ السلام کے دورِ زندگی کا منطقی تسلسل تھا۔ اس دور میں حامیوں کی ایک جماعت دوبارہ اکٹھی ہوچکی تھی اور شیعہ ایک بار پھر اپنے وجود اور تشخص کا احساس کرنے لگے تھے۔ سانحۂ کربلا اور اس کے بعد کے خونین حوادث (مثلاً واقعۂ حرّہ اور سانحۂ توابین) نیز خلفا کی سخت گیری کے باعث شیعی دعوت کا سلسلہ کئی سالوں تک معطل رہا تھا اور صرف سخت پردوں کے پیچھے ہی دعوت کا عمل انجام پاتا تھا۔ لیکن اب اسلامی ممالک کے بہت سے حصوں خاص کر عراق، حجاز اور خراسان میں اس دعوت کی جڑیں پھیل چکی تھیں اور لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس دعوت کی طرف متوجہ ہوچکا تھایہاں تک کہ یہ دعوت ایک محدود دائرے کے اندر ایک فکری اورعملی ارتباط کی صورت اختیار کرچکی تھی جسے حزبی وتنظیمی نیٹ ورک کہا جاسکتا ہے۔ اب وہ دن بیت چکے جب امام سجاد علیہ السلام فرماتے تھے: ’’پورے حجاز میں ہمارے دوستداروں اور معتقدین کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں ہے۔‘‘ اب وہ نوبت آچکی ہے کہ جب امام باقر علیہ السلام مدینہ کی مسجد نبوی میں قدم رکھتے ہیں تو خراسان اور دیگر علاقوں کے لوگوں کا جم غفیر آپ کے گرد جمع ہوکر آپ سے فقہی مسائل کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔

طاؤوس یمانی، قتادہ بن دعامہ، ابوحنیفہ اور علوم دینی کے حامل دیگرمعروف دانشور جو امامت کے شیعی نظرئے کے حامل نہیں تھے امام کی بےپناہ علمی صلاحیت کی شہرت سن کر آپ سے کسب فیض کی خاطر یا آپ سے بحث و مجادلہ کےلئے آپ کے پاس آتے ہیں۔کُمیت اسدی جیسے فصیح و بلیغ اور زبردست ہنرمند شاعر کا اہم ترین فنی سرمایہ وہ قصائد ہیں جو ’’ہاشمیات‘‘ کے نام سے زبانزد خاص و عام ہیں اور لوگوں کو آل محمدعلیہم السلام کےحق، ان کے فضائل و علوم اور معنوی مقام سے آشنا کرتے ہیں۔ دوسری طرف چونکہ عبد الملک بن مروان (متوفی ۸۶ھ) کی بیس سالہ حکومت کے بعد نیز تمام مخالفین کی سرکوبی اور مخالفت کے تمام شعلوں کو خاموش کرنے کے بعد اب مروانی خلفاء امن و اطمینان محسوس کررہے ہیں نیز اپنے پیشرو خلفاء کے برعکس وہ مفت میں ہاتھ آئے ہوئے متاعِ خلافت کی صحیح قدر محسوس نہیں کررہے ہیں، علاوہ ازیں چونکہ وہ ان سرگرمیوں اور عیاشیوں میں غرق ہیں جو عام طور پر شاہانہ جاہ و جلال کا لازمہ ہیں اس لئے اب وہ شیعوں کی طرف زیادہ متوجہ نہیں ہیں جس کے نتیجے میں امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھی ایک حد تک ان کے تعرضات سے محفوظ اور مامون ہیں۔جی ہاں اب حالات کئی زاویوں سے امامت اور تشیع کے حق میں کروٹ بدل چکے ہیں جس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام اپنے دورِ امامت میں چند قدم آگے بڑھ کر شیعی جدوجہد کو آخری منزل کی جانب مزید آگے بڑھا چکے ہیں۔

امام باقر علیہ السلام کے دور ِامامت کی خاص شناخت یہی ہے۔(پیشوائے صادق، ص۳۲۔۳۳)۔

امام باقر علیہ السلام کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی گنجائش ہے لیکن میں آپ کی زندگی کے دو گوشوں کی طرف اشارہ کروں گا۔ ان میں سے ایک اسلامی تعلیمات و احکام میں تحریف کے خلاف آپ کی جدوجہد ہے۔ امام باقر علیہ السلام کے دور میں اس میدان میں جو کام ہوا وہ تمام سابقہ ادوار کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور تفصیلی نوعیت کا تھا۔

تحریف کے خلاف جدوجہد سے کیا مراد ہے؟

اس سے مراد یہ ہے کہ دین مقدس اسلام نے اپنے احکام و معارف اور قرآنی آیات کی صورت میں اسلامی معاشرے بلکہ انسان کی دنیوی زندگی کےلئے بعض خصوصیات اور شرائط کی تعیین فرمائی ہے۔

اگر لوگ ان احکام و معارف سے آشنا اور ان کے پابند ہوں تو اسلامی معاشرے کے اندر ان کےلئے ممکن ہی نہیں کہ بعض چیزوں کو برداشت کریں۔ بطور مثال وہ ظالموں کی حکومت، فاسق و فاجر لوگوں کے تسلط اور بےدین لوگوں کےاقتدار کو برداشت نہیں کرسکتے۔

اسی طرح وہ طبقاتی امتیاز اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو بھی برداشت نہیں کرسکتے۔ اسلامی معاشروں میں آج جو خرابیاں موجود ہیں وہ اسلامی احکام اور اسلامی نظام سے متصادم ہیں۔

رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانشینی و خلافت کے نام پر بر سر اقتدار آنے والے بعض حکمران اور سلاطین (مثلاً اموی اور مروانی خلفاء) کسی صورت اس بات کے اہل نہ تھے کہ اسلامی معاشرے پر حکمرانی کریں۔ ان حکاّم کے عہدِ حکومت میں ہر قسم کے فسق و فجور، کرپشن، امتیازی سلوک اور جہالت کا دور دورہ تھا۔ اگر اسلامی احکام اور آیاتِ قرآنی کما حقہ لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام ہوتا تو ان ظالم لوگوں کی حکومت اور ان کے اقتدار کو دوام نہ ملتا اور وہ حکومت پر قبضہ نہ کرسکتے۔ اسی لئے وہ تحریف کا سہارا لیتے تھے۔ یہ لوگ کئی طریقوں سے تحریف انجام دیتے تھے۔ ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ بعض فقہا، علماء، محدثین، قرّاء اور محترم شخصیات کو اپنے دام میں پھنسا لیتے، انہیں اپنے پاس رکھتے، انہیں پیسہ دیتے یا ڈراتے دھمکاتے تھے۔ وہ بعض افراد کو لالچ دے کر اور بعض کو ڈرا کر اس بات پر آمادہ کرتے تھے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کی ترویج کریں جو حکمرانوں کو مطلوب ہوں۔

اسی لئے اگر آپ اسلام کی ایک دو ابتدائی صدیوں کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایک عجیب منظر نظر آئےگا۔ کتنے ہی مقدس، متقی، عالم اور معروف چہرے نظر آئیں گے جو ظالم حکمرانوں کی خدمت کررہے تھے۔ ان لوگوں نے اسلام کے نام سے عجیب و غریب احکام معاشرے میں پھیلائے۔ بطور نمونہ ایک عالم کا یہ عجیب حکم ملاحظہ ہو کہ خدا نے جس اولی الامر کی اطاعت کا ہمیں حکم دیا ہے اس اولی الامر سے مراد ہر وہ شخص ہے جو کسی بھی طریقے سے اقتدار حاصل کرے اگرچہ دھوکہ و فریب، مکر و حیلہ، طاقت، تلوار، دہشت اور لوٹ مار کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ہے اولی الامر۔

یہ اس قدر نامعقول اور غلط نظریہ ہے کہ اگر اس کا تعلق اسلام اور لوگوں کے اعتقاد وایمان سے نہ جوڑا جائے تو یہ کسی کےلئے قابلِ قبول نہیں ہے لیکن ان حضرات نے اسے اسلام کے ساتھ جوڑ دیا۔

تاریخ اسلام کی ابتدائی ایک دوصدیوں میں اس قسم کے باتوں کی بےشمار مثالیں ملتی ہیں۔ خلفاء ان معروف چہروں کو اپنے ساتھ چلاتے تھے، مکہ لے جاتے تھے، مدینہ لےجاتے تھے، لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے، عام محافل میں ان کی ترویج کرتے تھے اور انہیں اپنی تائید کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ دین میں تحریف کا ایک راستہ یہی تھا۔ اس قسم کے عالم نما، فقیہ نما، مقدس نما اور زاہد نما لوگ خلفاء کی نوکری کرتے تھے اور دین کے نام پر لوگوں کے درمیان اس قسم کے عقائد پھیلاتے تھے جن کو لوگوں کے اعتقادات میں شامل کرنا حکمرانوں کو مطلوب تھا۔ان میں سے بعض واقعات کا ذکر آج بھی کتابوں میں موجود ہے اور بدقسمتی سے بہت سے مسلمان اب تک ان چیزوں کے معتقد ہیں۔

تحریف کا ایک طریقہ یہ تھا کہ جب خلفا مسند اقتدار پر براجمان ہوتے تھے اور یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ جو کچھ کہیں لوگ اسے قبول کرنے پر مجبور ہیں تب وہ یونہی کسی بات یا سوچ یا خود ساختہ اصول کو اسلام کے نام پر پیش کرتے تھے اور اسے معاشرتی ثقافت کے طور پر رائج کرتے تھے۔ پورے عالم اسلام میں اس بات کا اتنا چرچا اور تکرار کیا جاتا تھا کہ یہ زبانزد خاص وعام اور لوگوں کی ذہنیت میں تبدیل ہوجاتی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عبد الملک کی حکومت کے بعض روساء مثلاً حجاج و غیرہ اس بات کے معتقد تھے یا اس کا اظہار کرتے تھے کہ خلافت کا مقام نبوت سے بالاتر ہے۔ یہ لوگ اس بات پر قانع نہیں تھے کہ عبد الملک بن مروان ، اس کی اولاد اور فاسق و فاجر لوگ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانشین کہلائیں (حالانکہ یہ بھی ایک غلط دعویٰ تھا اور وہ اس منصب کے ہرگز اہل نہ تھے )۔ انہوں نے اس منصب کو غصب کیا تھا لیکن اس پر اکتفا کرنے کی بجائے انہوں نے ایک قدم آگے بڑھاکر یہ دعویٰ کیا کہ خلافت نبوت سے بھی برتر ہے۔ دین کے اندر اس قسم کی تحریفات جنم لےچکی تھیں۔

بنی امیہ اور بنی عباس کے اقتدار کو طول دینے کا اصلی سبب نیز برحق اسلامی حکومت کے راستے کی اصلی رکاوٹ یہی غلط کلچر تھا جو لوگوں کے ذہنوں میں راسخ تھا۔

اب اگر ائمہ علیہم السلام چاہتے ہیں کہ صحیح اسلامی حکومت برپا کریں اور علوی نظام برقرار کریں تو کس طرح؟ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی ذہنیت تبدیل کریں اور اسلام کے نام پر رائج غیر اسلامی ثقافت کو جو لوگوں کی ذہنوں میں راسخ ہوچکی ہے ختم کریں اور اس کی جگہ درست، صحیح، قرآنی اور توحیدی ثقافت رائج کریں۔ یہ وہی ثقافتی جدوجہد ہے۔

پس ثقافتی جہاد صرف یہ نہیں کہ انسان مقصد کی تعیین کے بغیر اور انقلابی و جہادی جہت معین کیے بغیر آرام سے بیٹھ کر بعض اسلامی احکام بیان کرنے پر اکتفا کرے۔ یہ وہ جدوجہد نہیں۔ ثقافتی جدوجہد یہ ہے کہ لوگوں کے اذہان کو اور ان اذہان پر حاکم ثقافت کو تبدیل کیا جائے تا کہ خدائی حکومت کا راستہ ہموار ہو اور شیطانی و طاغوتی حکومت کا راستہ مسدود ہو۔ امام باقر علیہ السلام نے یہی کام شروع کیا۔ ’’باقر علم الاولین‘‘ کا مطلب یہی ہے۔ امام باقر علیہ السلام قرآنی اور اسلامی علوم کی موشگافی کرنے والی شخصیت تھے۔ آپ سچ مچ لوگوں کےلئے قرآن کی تبیین و تشریح فرماتے تھے۔ اسی لئے جو بھی آپ سے کسب فیض کرتا اس کا نقطہ نظر اپنے زمانے کی حکومت کے بارےمیں بدل جاتا تھا بشرطیکہ وہ حکمرانوں کا کاسہ لیس اور سر سپردہ غلام نہ ہو۔ اسی لئے درمیانی طبقے کے بہت سے افراد امام باقر علیہ السلام کے زمانے میں مکتب اہل بیتعلیہم السلام اور مکتب امامت جسے آج کل کی اصطلاح میں مکتب تشیع کہاجاتا ہے کی طرف مائل ہوئے۔ تشیع در اصل یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی حاکمیت، تعلیمات ِقرآن کی حقیقی سربلندی نیزقرآنی معارف کو معاشرے میں واضح اور نافذ کرنے کےلئے مکتب اہل بیت کی پیروی کی جائے۔

جب کسی شخص کا امام باقر علیہ السلام سے رابطہ ہوتا تھا اور آپ اسے حقائق سے آگاہ فرماتے تھے تو اس کی ذہنیت بدل جاتی تھی۔ یہ امام باقر علیہ السلام کا پہلا، بہت اہم اور بنیادی اقدام تھا۔ آپ کی زیادہ تر سرگرمیوں کا تعلق اسی میدان سے تھا۔

امام باقر علیہ السلام کا دوسرا اقدام تنظیمی عمل سے عبارت ہے۔ تنظیمی کام کیا ہے؟ اس کی توضیح یہ ہے کہ گاہے انسان معاشرے میں دینی معارف اور ثقافتی تبدیلی کی کوششوں کو بغیر کسی نپی تلی پالیسی کے یونہی انجام دیتا ہے جس طرح کوئی شخص کسی زمین کے اندر بغیر کسی نظم ، تربیت اور حساب کے یونہی بیج پھینک دے۔

ظاہر ہے کہ کوئی اگے گا، کوئی ضائع ہوگا اور کوئی سبز ہونے کے بعد سوکھ جائےگا نیز کوئی اگنے کے بعد پیروں تلے پامال اور ختم ہوجائےگا۔ اس طریقے سے بیچ بونا زیادہ ثمر بخش نہیں ہے۔

اس کے برعکس ایک ماہر باغبان یا تجربہ کار اور عاقل کسان بیج بونے کے علاوہ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ (امام بھی اسی طریقے سے اپنے مشن کی حفاظت کرتا ہے۔ مترجم)

حفاظت کا طریقہ کیا ہے؟ طریقہ یہ ہے کہ امام بعض لوگوں کو پورے عالم اسلام میں مامور کریں تاکہ جولوگ ائمہ کی تعلیمات عالیہ اور تبلیغی کوششوں سے متاثر ہوتے ہوں وہ اپنے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات اور الجھنوں کو ان لوگوں کے سامنے پیش کریں، ان کے ذریعے ان سوالات کو حل کریں، مزید معرفت حاصل کریں، دشمن کے گمراہ کن پروپیگنڈوں سے محفوظ رہیں، اشتباہ کے شکار نہ ہوں اور اپنے درمیان اتحاد و ارتباط کو قائم رکھیں۔

خلاصہ یہ کہ امام اس زرخیز اور آمادہ زمین میں بوئے جانے والے صحیح و سالم بیج کےسرسبز ہونے کےلئے مطلوبہ ضمانت فراہم کریں۔

امام باقر علیہ السلام کا ایک کام یہی تھا کہ اپنے شاگردوں اور پیروکاروں میں سے بعض کو خصوصی تربیت دیں، ان کی کیفیت کو اوپر لے آئیں، ان پر (خاص شاگردوں پر) خصوصی توجہ دیں پھر انہیں ایک دوسرے سے مربوط کریں اور پورے عالم اسلام میں انہیں اسلامی سرگرمیوں کے محور اور قطب کے طور پر نیز اپنے وکیل اور نائب کےطور پر معین فرمائیں تا کہ وہ امام کے مشن کو آگے بڑھائیں نیز امام کی تعلیمات اور تبلیغات کا دائرہ وسیع کرنے کی ذمہ داری نبھائیں۔

یہ امام علیہ السلام کی خفیہ تنظیمی سرگرمی تھی۔

البتہ اس کا آغاز امام باقر علیہ السلام کے دور سے پہلے ہوا تھا لیکن آپ کے دور میں اس میں نئی جان آگئی۔

امام صادق علیہ السلام اور امام کاظم علیہ السلام کے زمانے میں یہ عمل اپنے عروج کو پہنچ گیا۔

یہ ایک نہایت خطرناک اور حساس عمل تھا۔

اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ روایات میں امام باقر علیہ الصلاۃ و السلام کے بعض اصحاب کو ’’اصحاب السر‘‘ کہا جاتا ہے۔ان میں سے ایک جابر بن یزید جعفی ہے۔

جابر جعفی ’’اصحاب السرّ‘‘ یعنی رازدانوں میں سے ایک تھے۔

یہ راز شناس لوگ کون تھے؟

یہ وہی لوگ تھے جو عالم اسلام کے اطراف و اکناف میں اور ہرجگہ موجود تھے۔

ائمہ علیہم السلام کو چاہنے والے کارآمد لوگوں کی رہنمائی، دستگیری اورہدایت بطور خلاصہ ان لوگوں کے اذہان کو مطمئن کرنے کی ذمہ داری انہی نمائندوں پر عائد تھی۔

جب یہ لوگ حکومت کی نظروں میں آجاتے تھے تو حکومت انہیں سخت ترین مشکلات سے دوچارکرتی تھی۔

(۹/۵/۱۳۶۶)۔

۱۱۶

اگر ہم امام باقر علیہ السلام کے انیس سالہ دور ِامامت (۹۵ھ تا ۱۱۴ھ) پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو اس کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے: آپ کے پدر بزرگوار امام سجاد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں آپ کو اپنا جانشین اور شیعوں کا پیشوا معین فرمایا۔ امام سجادنے اپنے دوسرے بیٹوں اور مربوط لوگوں کے سامنے یہ منصب امام باقر کو سونپا۔ امام سجاد علیہ السلام نے آپ کو وہ صندوق دکھایا جس میں روایات کی رو سے علم و دانش کا ذخیرہ اور رسول اللہ کا اسلحہ موجود تھے۔ پھر فرمایا: ’’اے محمد! یہ صندوق اپنے گھر لےجاؤ۔‘‘ اس کے بعد دوسرے حاضرین سے فرمایا: ’’اس صندوق میں کوئی درہم و دینار نہیں بلکہ یہ علم سے پر ہے۔‘‘

گویا امام سجاد علیہ السلام اس طریقے اور اس اندازِ بیان کےذریعے حاضرین کے سامنے اس شخص کا تعارف کرا رہے ہیں جو علمی و فکری قیادت کی میراث اور انقلابی قیادت کی میراث (رسول کے اسلحے) کا حقیقی وارث ہے۔

ابتدائی لمحات سے ہی امام علیہ السلام اور آپ کے سچے ساتھیوں نے تشیع کی با ہدف اور انقلابی دعوت کی تبلیغ و ترویج کی جو کوششیں وسیع پیمانے پر شروع کیں انہیں ایک نیا افق مل گیا۔ اس دعوت کا دائرہ اس قدر وسیع ہوگیا کہ شیعہ نشین علاقے (مدینہ و کوفہ وغیرہ ) کے علاوہ جدید علاقے خاص کر اسلامی مملکت کے وہ حصے جو اموی حکومت کے مرکز سے دور تھے شیعی طرز ِفکر کی قلمرو میں شامل ہوگئے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ خراسان کا تذکرہ کرنا چاہئے کیونکہ اس علاقے میں شیعی تبلیغ کے اثرات کا تذکرہ متعدد روایات میں ملتا ہے۔

اس کمر شکن جدوجہد کے پورے عرصے میں جس چیز نے امام علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں کو آرام و سکون سے خالی مسلسل حرکت پر آمادہ کیا اور انہیں ان کی دینی ذمہ داریوں کا احساس دلایا وہ اسلامی معاشرے کا افسوسناک ذہنی دیوالیہ پن تھا۔

امام اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے وہ لوگ تھے جو ایک طرف سے تباہ کن تربیت کے باعث روز بروز معاشرتی خرابیوں اور کرپشن کے گرداب میں غرق ہو رہے تھےاور نوبت یہ ہوگئی تھی کہ عام لوگ بھی اربابِ ِحل و عقد کی طرح ائمہ علیہم السلام کی نجات بخش تعلیمات پر توجہ نہیں دے رہے تھے:

إِنْ دَعَوْنَاهُمْ لَمْ يُجِيبُونَا

(اگر ہم انہیں پکاریں تو وہ اَن سنی کر دیتے ہیں)اور دوسری طرف سے اس انحرافی ماحول میں جس کی ہر چیز یہاں تک کہ تعلیم و تعلم، فقہ، علم کلام، حدیث اور تفسیر و غیرہ اموی طاغوتوں کی خواہشات کی تابع تھیں ان کے سامنے امید کا کوئی دریچہ کھلا ہوا نہیں تھا۔

اگر تشیع بھی ان لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کےلئے کمر ہمت نہ باندھتی تو ان کے سامنے ہدایت کے سارے راستے مسدود ہوجاتے:

وَ إِنْ تَرَكْنَاهُمْ لَمْ يَهْتَدُوا بِغَيْرِنَا

اگر ہم انہیں رہا کریں تو وہ کسی اور طریقے سے ہدایت حاصل نہیں کر سکتے۔

اس ناگفتہ بہ اجتماعی بحران کے صحیح ادراک کے باعث امام نے فکری اور ثقافتی طاقتوں یعنی درباری علماء و شعراء (جو معاشرے کی فکری فضا کو آلودہ کررہے تھے) کے مقابلے میں اپنے معاندانہ موقف کو برملا کیا اور ان کے اوپر شماتت کے کوڑے برساتے ہوئے خود ان لوگوں کے سوئے ہوئے ضمیر کے اندر نہیں تو کم از کم ان کے غافل پیروکاروں کے دلوں میں بیداری اور آگاہی کی ایک لہر دوڑا دی۔ امام علیہ السلام کثیر نامی شاعر کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تو نے عبدالملک کی تعریف کی ہے؟ کثیر نے سادہ لوحی کے ساتھ یا رِندانہ انداز میں اپنے گناہ کی رفوگری کرتے ہوئے جواب دیا: میں نے اسے ہدایت کرنے والا پیشوا کہہ کر خطاب نہیں کیا بلکہ میں نے اسے شیر،سورج، سمندر، اژدھا اور پہاڑ کہا ہے جبکہ شیر ایک کتا ہے، سورج ایک جامد جسم ہے، سمندر ایک بےجان شے ہے، اژدھا ایک بدبودار کیڑا ہے اور پہاڑ ایک سخت چٹان ہے۔اس غیر معقول توجیہ پر امام نے ایک معنی خیز تبسم فرمایا: اس وقت کمیت (جو ایک انقلابی اورنظریاتی شاعر تھا) اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنے معروف قصائد ’’ہاشمیات‘‘ کا ایک قصیدہ فی البدیہ سنانا شروع کیا۔ یوں کمیت نے حاضرین اور اس واقعے سے آگاہ ہونے والے تمام لوگوں کے اذہان میں ان دو شاعروں کے فن پاروں کے درمیان موازنے کی یاد گار تصویر نقش کردی۔

عکرمہ جو حضرت ابن عباس کےمعروف شاگرد اور لوگوں کے درمیان عظیم شہرت کے حامل ہیں امام سے ملنے گئے وہ امام کے وقار ، آپ کی معنویت نیز آپ کی روحانی اور علمی عظمت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ بے اختیار آپ کی آغوش میں گرگئے۔ وہ خود تعجب کے ساتھ کہتے ہیں: میں ا بن عباس جیسے بزرگوں کے ساتھ رہا ہوں لیکن ان کے سامنے ہرگز میری یہ حالت نہیں ہوئی۔

امام نے جواب میں فرمایا:

وَيْلَكَ يَا عُبَيْدَ أَهْلِ الشَّامِ إِنَّكَ بَيْنَ يَدَيِ بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّٰهُ أَنْ تُرْفَعَ وَ يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُه

وائے ہو تجھ پر اے شامیوں کے حقیر غلام! تو اس وقت ان گھروں کے سامنے ہو جنہیں خدا کے اذن سے رفعت ملی ہے اور ذکر الٰہی کا مرکز ہونے کا شرف حاصل ہوا ہے۔

امام ہر مناسب موقعے پر شیعوں کی تلخ اور تکلیف دہ زندگی کے کسی نہ کسی گوشے کو بیان کرتے ہیں نیز آپ اور آپ کے مددگاروں پر حکمرانوں کی جانب سے ہونے والی سختیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔یوں آپ غافل لوگوں کے احساسات و جذبات کو بیدار کرتے ہیں، ان کے مردہ اور راکد خون کو جوش میں لاتے ہیں نیز ان کے بے حس دلوں میں جوش پیدا کرتے ہیں یعنی انہیں تند و تیز میلانات اور انقلابی اہداف کا حامل بناتے ہیں۔

جب کسی شخص نے آپ سے پوچھا: اے فرزند رسول! آپ نے کیسے صبح کی؟

تو آپ نے اس سے فرمایا:کیا ہنوز وہ وقت نہیں آیا کہ تجھے معلوم ہو کہ ہم کیسے ہیں اور ہم کس حالت میں صبح کرتے ہیں؟ ہماری کہانی فرعونی معاشرے میں بنی اسرائیل کے داستان کی طرح ہے جب فرعون کے لوگ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔

جان لو کہ یہ لوگ (بنی امیہ) ہمارے بیٹوں کو قتل کرتے ہیں اور ہماری عورتوں کو زندہ چھوڑتے ہیں۔ اس موثر اور جوش میں لانے والے بیان کے بعد امام علیہ السلام اصل مسئلے (یعنی شیعی دعوت اور اہل بیت کی حاکمیت) کو یوں سامنے لاتے ہیں:

’’عربوں کا خیال تھاکہ وہ عجم سے برتر ہیں کیونکہ محمدعربی ہیں اور عجم اس خیال کے سامنے سر جھکاتے تھے۔ قریش کا خیا ل تھا کہ وہ دیگر عرب قبائل سے افضل ہیں کیونکہ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریشی ہیں اور یہ قبائل اسے تسلیم کرتے تھے۔ اگران (عربوں اور قریشیوں) کا یہ دعویٰ درست ہو تو ہم (اہل بیت) قریش کی دیگر شاخوں سے بہترہیں کیونکہ ہم محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اولاد اور آپ کے اہل بیت ہیں اور اس نسبت میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔‘‘ْْ

یہ شخص جو گویا سخت جذباتی ہوگیا تھا کہنے لگا: خدا کی قسم ہم آپ کے خاندان سے محبت کرتے ہیں۔

چونکہ امام علیہ السلام اسے فکری،قلبی اور عملی لحاظ سے ائمہ علیہم السلام کے ساتھ مکمل اور محکم رشتے (ولایت) کی حد تک آگے لاچکے تھے اس لئے اب آپ نے اسے آگاہ و بیدار کرنے کےلئے حسنِ ختام کے طور پر فرمایا:

’’پس اپنے آپ کو آزمائش اور مشکلات کےلئے تیار کرلو۔ خد کی قسم سیلابی پانی پہاڑ کے دامن سے جس قدر قریب ہے اس سے زیادہ بلا و آزمائش ہمارے شیعوں کے قریب ہے۔ بلا و آزمائش پہلے ہمیں لاحق ہوتی ہے پھر تمہیں، جس طرح امن وسکون پہلے ہم سے روبرو ہوتا ہے پھر تم سے۔‘‘

زیادہ محدود اور محتاط دائرے میں شیعوں کے ساتھ امام علیہ السلام کے روابط کچھ اور خصوصیات کے حامل نظر آتے ہیں۔

ان روابط میں ہم امام کا یوں مشاہدہ کرتے ہیں جس طرح ایک زندہ جسم کے اعضاء و جوارح کے درمیان ایک متفکر مغز کا یا اعضائے بدن کو خوراک فراہم کرنے میں دھڑکتےہوئے دل کا۔

ان لوگوں کے ساتھ امام کے روابط کے بارے میں جو معلومات ہماری دسترس میں ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ

اولاً :امام علیہ السلام ان لوگوں کو صریح انداز میں فکری تعلیمات سے نواز تے تھے۔ ثانیاً ان کے اور امام کے درمیان منظم اور نپا تلا تنظیمی رابطہ موجودتھا۔

فضیل بن یسار امام کے سب سے قریبی اور رازدار اصحاب میں سے ایک تھے۔ وہ حج کے مراسم میں امام کے ہمراہ تھے۔ امام علیہ السلام نےکعبہ کے گرد گھومنے والے حجاج کی طرف دیکھ کر فرمایا: دور جاہلیت میں بھی لوگ اسی طرح چکر لگاتے تھے۔

حکم یہ ہے کہ لوگ ہماری طرف سفر کریں نیز ہم سے اپنی دوستی اور رابطے کا ذکر کریں اور ہمارے آگے اپنی مدد پیش کریں۔

قرآن (حضرت ابراہیم کی زبان میں) کہتا ہے: خدایا! لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنادے۔

امام علیہ السلام کے ساتھ جابر جعفی کی پہلی ملاقات میں آپ اسے نصیحت فرماتے ہیں کہ وہ کسی سے یہ نہ کہے کہ کوفہ سے آیا ہے بلکہ یہ ظاہر کرے کہ اس کا تعلق مدینہ والوں سے ہے۔ یوں امام نے اس نو آموز شاگرد کو رازداری کی تعلیم دی۔

امام کے اس باصلاحیت شاگرد کو بعد میں امام کا ’’صاحب السرّ‘‘(رازدان) کہا گیا اور دربار ِخلافت کے ساتھ اس کا معاملہ گھمبیر ہوگیا۔نعمان بن بشیر کا بیان ہے: میں حج کے سفر میں جابر کے ساتھ تھا۔ مدینہ میں وہ ابوجعفر (امام باقر علیہ السلام ) سے ملا۔ آخری دن اس نے امام سے الوداعی ملاقات کی اور خوشی خوشی آپ کے ہاں سے خارج ہوا۔ پھر ہم کوفہ روانہ ہوئے۔ راستے میں کسی منزل پر ایک شخص ہمارے پاس پہنچا۔ (نعمان اس شخص کی نشانیوں اور جابر کے ساتھ اس کی مختصر گفتگو کا ذکر کرتا ہے۔) اس نے جابر کو ایک خط دیا۔ جابر نے خط کو چوما، آنکھوں سے لگایا اور اسے کھول کر پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ جوں جوں خط کو پڑھتا جارہا ہے اس کے چہرے کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ اس نے خط کو مکمل کیا اور لپیٹ لیا۔ پھر ہم کوفہ پہنچے لیکن میں نے جابر کو خوش نہیں دیکھا۔کوفہ پہنچنے کے دوسرے دن جابر کے احترام میں میں اس کی ملاقات کےلئے گیا لیکن میں نے اچانک ایک عجیب منظر دیکھا۔ جابر بچوں کی طرح ایک ڈنڈے پر سوار بھیڑ کی ہڈیوں کا ہار گردن میں ڈالے، بےسروپا اشعار پڑھتے ہوئے گھر سے نکلا۔ اس نے میری طرف ایک نظر ڈالی لیکن کچھ نہ بولا۔ میں نےبھی کچھ نہیں کہا لیکن اس حالت کو دیکھ کر میں بےاختیار رو پڑا۔ بچے میرے اور اس کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ وہ لاپروائی کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ ’’رحبہ‘‘ پہنچ گیا۔ بچے ہر جگہ اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: جابر بن یزید دیوانہ ہوگیاہے۔ اس کے صرف چند روز بعد حاکم کوفہ کے نام خلیفہ (ہشام بن عبد الملک)کا خط پہنچا جس میں لکھا تھا: تحقیق کرو کہ جابر بن یزید جعفی کون ہے۔ اسے گرفتار کرو، اس کی گردن اڑا دو اور اس کا سر میرے پاس روانہ کرو۔ حاکم نے اپنے قریبی لوگوں سے جابر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: امیر سلامت رہے۔ وہ حدیث سے آشنا عالم وفاضل شخص تھا لیکن اس سال حج کرنے کے بعد وہ دیوانہ ہوگیا ہے۔ اس وقت وہ ’’رحبہ‘‘کے مقام پر بانس کے ڈنڈے پر سوار بچوں کے ساتھ کھیل میں مصروف ہے۔

نعمان کا بیان ہے: حاکم اطمینان حاصل کرنے کےلئے جابر اور بچوں کی طرف گیا۔اس نے جابر کو کو ڈنڈے پر سوار کھیل میں مصروف دیکھا اور کہا: خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے جابر کے قتل سے بچالیا۔

یہ واقعہ امام کے قریبی ساتھیوں کے ساتھ آپ کے ارتباط کا ایک نمونہ نیز ان کے درمیان سوچے سمجھے اور نپے تلے تنظیمی روابط کا آئینہ دار ہونے کے علاوہ امام کے ان ساتھیوں کے بارے میں حکومت کے موقف کا غماز ہے۔

واضح ہے کہ دربارِ خلافت کے آلہ کار عناصر (جو سب سے پہلے اپنی حیثیت کو بچانے اور مستحکم کرنے کے درپے ہوتے ہیں) امام کے قریبی اصحاب کے ساتھ آپ(علیہ السلام) کے روابط اور ان کی سرگرمیوں سے یکسر بےخبر نہیں تھے بلکہ اس بارے میں کم و بیش آگاہی رکھتے تھے نیز ان روابط کو کشف کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے درپے تھے ۔ آہستہ آہستہ امام اور عام شیعی ماحول کے اندر (حکومت کے مقابلے میں) ایک قسم کی دفاعی اور مخاصمانہ صورتحال وجود میں آئی جو ائمہ معصومینعلیہم السلام کی زندگی میں ایک نئے باب کے آغاز کی نوید بن گئی۔

اگرچہ تاریخ اسلام اور کتبِ حدیث و غیرہ میں امام باقر علیہ السلام کی مزاحمتی، مخاصمانہ اور نسبتاً سخت سرگرمیوں کا تذکرہ صراحت کے ساتھ نہیں ہوا (جس کے اپنے کئی اسباب و عوامل ہیں جن میں سب سے اہم معاشرے میں موجود سخت پابندی کی فضا اور امام کے ہم عصر ساتھیوں کےلئے تقیہ کی ضرورت سے عبارت ہے۔ امام کے یہی ساتھی امام کی سیاسی زندگی کے حالات و واقعات سے آشنائی کا واحد ذریعہ تھے) اس کے باوجود آگاہ دشمنوں کے سوچے سمجھے ردّ عمل سے کسی شخص کی کارکردگی کی گہرائی کا پتہ چل سکتا ہے۔

مورخین ہشام بن عبد الملک کو بنی امیہ کا سب سے مقتدر خلیفہ قرار دیتے ہیں۔ اگر ہشام جیسے خلیفہ کی مقتدر اور باتدبیر حکومت امام باقر علیہ السلام یا کسی اور شخص کے خلاف معاندانہ رویہ رکھے تو یقیناً اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت اس شخص کے طرز عمل کو اپنے لئے خطرناک اور اس کے وجود کو اپنے لئے ناقابل تحمل سمجھتی ہے۔ اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ اگر امام باقر علیہ السلام صرف علمی سرگرمیوں میں مشغول رہتے (فکری اور تنظیمی اصلاح میں نہیں) تو خلیفہ اور دربار خلافت کے روساء اس بات کو اپنے لئے فائدہ مند نہ سمجھتے کہ اپنی سخت گیری کے ذریعے اولاً امام کو اپنے خلاف سخت مزاحمت پر ابھارتے (جیسا کہ ہم اس کے قریبی دور میں اس قسم کے تجربے مثلاً حسین بن علی شہید فخ کے قیام کا مشاہدہ کرتے ہیں) ثانیاً امام کے دوستداروں اور معتقدین کی جماعت (جن کی تعداد کم نہیں تھی)کو اپنے آپ سے نیز دربار خلافت سے ناراض بناتے۔ مختصر یہ کہ امام باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں حکومت کے نسبتاً سخت ردّ عمل سے امام کی نسبتاً سخت سرگرمیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

۱۱۷

امام باقر علیہ السلام کی شام طلبی:

امام باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام کے اہم واقعات میں سب سے اہم واقعہ اموی حکومت کے مرکز شام میں آپ کی طلبی ہے۔ دربار خلافت کے بارے میں امام باقر علیہ السلام کے موقف سے آشنائی کےلئے اموی خلیفہ نے امام باقر علیہ السلام کو (اور بعض روایات کی رو سے آپ کے جوان فرزند، مددگار، ساتھی اور معاون یعنی امام صادق علیہ السلام کو بھی) گرفتار کرکے شام بھیجنے کا حکم صادر کیا جس کی تعمیل میں امام علیہ السلام شام اور قصر خلافت لےجائے گئے۔ ہشام نے اپنے درباریوں اور حواریوں کو پہلے ہی ضروری ہدایات اور فرامین سمجھا دیے تھے کہ انہوں نے امام سے روبرو ہونے پر کیا رویہ اختیار کرنا ہے۔

منصوبہ یہ تھا کہ پہلے خود خلیفہ اور اس کے بعد حاضرین مجلس (جو سب کے سب امراء اور روساء تھے) امام کے اوپر تہمت اور سرزنش کی بارش کردیں۔ ایسا کرنے میں خلیفہ کے دو مقاصد تھے۔

پہلا مقصد یہ کہ ان دشنام طرازیوں اور سخت رویوں کے ذریعے امام کا حوصلہ پست کیا جائے اور ہر اس کام کا راستہ ہموار کیا جائے جس کی ضرورت محسوس ہو۔

۱۱۸

دوسرا مقصد:

یہ کہ دو متخاصم محاذوں کے اہم ترین لیڈروں کی مشترکہ نشست میں دشمن کی مذمت کی جائے۔

یوں اس مذمت کی خوب تشہیر کے ذریعے امام کے تمام طرفداروں کو نہتا کیا جائے۔ خلیفہ کے کارندے مثلاً خطباو عمال اور خلیفہ کے ذاتی جاسوسوں پرمشتمل ٹیم دربار خلافت کی ترجمانی کےلئے ہر وقت تیار تھے اور ان کے ذریعے یہ کام قابل عمل تھا۔

امام علیہ السلام وارد ِمحفل ہوئے اور اس رسم کے برخلاف جس کی رو سے ہرنووارد، خلیفہ کو ’’امیرالمومنین‘‘کے مخصوص لقب کے ساتھ سلام کیا کرتا تھا،

آپ نے تمام حاضرین کا رخ کرکے ہاتھ کے اشارے سے انہیں مخاطب قرار دیا اور فرمایا:

السلام علیکم ۔

اس کے بعد اجاز ت لئے بغیر بیٹھ گئے۔ اس روش کو دیکھ کر ہشام کے دل میں کینہ و حسد کے شعلے بھڑک اٹھے۔

وہ منصوبے کے مطابق کہتا ہے :’’تم لوگوں (اولاد علی علیہ السلام) نے ہمیشہ مسلمانوں کے اتحاد کو توڑا ہے اور انہیں اپنی طرف دعوت دےکران کے درمیان نفاق اور رخنہ ڈال دیا ہے۔

تم لوگوں نے اپنی بے عقلی و نادانی کے باعث اپنے آپ کو پیشوا اور امام سمجھ رکھا ہے۔‘‘

اس طرح کی بعض یاوہ گوئیوں کے بعدوہ خاموش ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس کے نمک خواروں اور کاسہ لیسوں میں سے ہر ایک نے بھی اسی قسم کی یاوہ سرائی کی اور اپنی اپنی زبان میں امام کو تہمت و ملامت کے تیروں کا نشانہ قرار دیا۔

اس دوران امام مکمل خاموش اور پرسکون بیٹھے رہے۔

جب سب خاموش ہوگئے تو امام علیہ السلام کھڑے ہوگئے۔ آپ نے حاضرین کا رخ کرکے حمد وثنائے الٰہی بجالانے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجنے کے بعد چند مختصر مگر لرزہ خیز جملوں کے ذریعے اس پراکندہ جماعت کی بےہدفی اور سرگردانی کو ان کے سامنے برملا کیا نیز ان کے سروں اور چہروں پر اس حقیقت کے تازیانے برسائے کہ وہ دوسروں کے آلۂ کار نیز ان کے سامنے بےاختیار اور لاچار ہیں۔

ساتھ ہی آپ نے اپنی حیثیت اور اپنے خاندان کے افتخار آفرین کردار کو جو اسلام کے سب سے برتر معیار (یعنی ہدایت) پر منطبق ہوتا ہے واضح کیا۔

علاوہ ازیں اپنے راستے کے نیک انجام پر جو خداوندِ عالم کےتکوینی قوانین کے عین مطابق ہے روشنی ڈالی اور حاضرین کے متزلزل باطن کو پہلے سے زیادہ متزلزل کردیا۔

’’أَيُّهَا النَّاسُ أَيْنَ تَذْهَبُونَ وَ أَيْنَ يُرَادُ بِكُمْ؟ بِنَا هَدَى اللَّٰهُ أَوَّلَكُمْ وَ بِنَا يَخْتِمُ آخِرَكُمْ فَإِنْ يَكُنْ لَكُمْ مُلْكٌ مُعَجَّلٌ فَإِنَّ لَنَا مُلْكاً مُؤَجَّلًا وَ لَيْسَ بَعْدَ مُلْكِنَا مُلْكٌ لِأَنَّا أَهْلُ الْعَاقِبَةِ يَقُولُ اللَّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ: وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِين‘‘ ۔

لوگو: کہاں بھٹک رہے ہو؟

تم کس انجام کی طرف لےجائے جارہے ہو؟

خدا نے ہمارے ذریعے تمہارے گزرے ہوئے لوگوں کو ہدایت دی اور وہ ہمارے ذریعے تمہارے معاملے پر آخری مہر ثبت کرےگا۔ اگر آج تمہارے پاس جلدی ہاتھ آنے والی حکومت ہے تو جان لو کہ ہمارے لئے دیر سے ملنے والی (پائیدار) حکومت ہے۔ ہماری حکومت کے بعد کسی اور کی حکومت نہیں ہوگی کیونکہ عاقبت ہماری ہے جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتا ہے: عاقبت تو تقویٰ والوں کےلئے ہے ۔

یہ مختصر اور پرمغز بیان (جس کے اندر ظلم کو قبول کرنے اور ظلم کرنے کا، خوشخبری اور تہدید کا نیز نفی و اثبات کا باہم ذکر ہوا ہے) اس قدر تاثیر اور جامعیت کا حامل ہے کہ اگر یہ پیغام پھیل جائے اور لوگوں کے کانوں تک پہنچ جائے تو ممکن ہے کہ ہر سننے والا اس کلام کی حقانیت کا معتقد ہوجائے۔ اس کلام کا جواب دینے کےلئے فصاحت و بلاغت اور سخن دانی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی باطنی اطمینان و یقین کی۔ امام کے مخاطبین کے اندر یہ سب خصوصیات موجود نہیں تھیں۔ اسی لئے تشدد اور طاقت کے استعمال کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارۂ کار نہیں تھا چنانچہ ہشام نے امام کو قید کرنے کا حکم دیا۔یوں اس نے اپنی باطنی بےبضاعتی و کمزوری نیز اپنے عقلی و منطقی دیوالیہ پن کا عملی اعتراف کیا۔ زندان کے اندر امام نے رہنمائی اور حقائق کے بیان کا سلسلہ شروع کیا اور اپنے ساتھی قیدیوں کو متاثر کیا یہاں تک کہ کوئی قیدی ایسا نہیں رہا جس نے آپ کی باتوں کو دل کی گہرائیوں سے قبول نہ کیا ہو اور آپ کا گرویدہ نہ ہوا ہو۔ سرکاری گماشتوں نے ہشام کو صورتحال کی رپوٹ دی۔

یہ صورتحال اس حکومت کےلئے کسی صورت قابلِ برداشت نہ تھی جس نے کئی دہائیوں تک شام کو خاص طور سے علوی تبلیغات کی دسترس سے دور رکھا تھا چنانچہ ہشام نے حکم دیا کہ امام اور آپ کے ساتھیوں کو زندان سے نکالا جائے۔ ان کےلئے مدینہ سے زیادہ مناسب جگہ اور کہیں نہ تھی۔ مدینہ وہ شہر تھا جہاں انہوں نے زندگی گزاری تھی البتہ ان کی نگرانی اور ان کے ساتھ سخت گیری کا سلسلہ حسب ِسابق بلکہ پہلے سے زیادہ سخت انداز میں جاری رہا۔ ضرورت پڑنےپر حریف کا کام تمام کیا جاسکتا تھا اور اسے اپنے ہی گھر میں اپنے بستر پر ملک ِعدم بھیجا جاسکتا تھا اور امام کُشی کے الزام سے بھی گلو خلاصی حاصل ہوسکتی تھی۔ پس ہشام کے حکم کے مطابق انہیں تیز رفتار سواریوں پر (جو پورے راستے کو کسی وقفے کے بغیر مسلسل طے کرتی تھیں) سوار کرکے مدینہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ پیشگی حکم دیا جاچکا تھا کہ راستے کے شہروں میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اس مغضوب قافلے کے ساتھ کوئی لین دین یا معاملہ کرے اور انہیں سامان خورد و نوش فروخت کرے۔ وہ مسلسل تین دنوں تک اسی حالت میں سفر کرتے رہے یہاں تک کہ پانی اور خوراک کا ذخیرہ ختم ہوگیا۔

اب وہ شہر مدینہ پہنچ چکے ہیں۔ شہر والوں نے سرکاری حکم کے مطابق دروازے بند کرلیے اور زادِ راہ فروخت کرنے سے اجتناب کیا۔ امام کے ساتھی بھوک اور پیاس کی شکایت کرنے لگے۔ امام ایک بلند ٹیلے پر چڑھے جہاں سے شہر نظر آتا تھا۔ آپ نے اپنی موثر ترین آواز کے ذریعے شہر والوں پر یوں تازیانے برسائے: اے ستمگروں کے شہر کے باسیو! میں ہوں اللہ کا باقیماندہ ذخیرہ جس کے بارے میں خدا نے کہا ہے: اللہ کا باقیماندہ ذخیرہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے بشرطیکہ تم مومن ہو۔ اچانک ایک شخص کی ہوشیاری اور جرأت و شہامت کے باعث حکومت کی سازش ناکام ہوجاتی ہے۔ شہر کا ایک مرد اپنے فریب خوردہ اور غافل ہموطنوں کو خبردار کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ یہ وہی تازیانہ ہے جو شعیب پیغمبر نے اپنے زمانے کے گمراہ لوگوں کے سروں پر مارا تھا۔ وہ انہیں سمجھاتا ہے کہ وہ آج اسی پیغام کے مخاطَب ہیں جس پیغام کے مخاطَب کسی زمانے میں ان کے گزرے ہوئے لوگ تھے۔ آج کے لوگ اپنے گزرے ہوئے لوگوں پر اس لئے لعنت بھیجتے ہیں کہ انہوں نے اس پیامِ حق کو اَن سنی کردیا تھا۔ آج تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ آج بھی ایک بار پھر وہی پیغام ہے، وہی پیغام رساں ہے اور وہی مخاطبین ہیں۔ اس شخص کی برمحل گفتگو لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گئی چنانچہ لوگوں نے دروازے کھول دیے اور دربار ِخلافت کی سازشوں کے باوجود لوگوں نے اس نظامِ حکومت کے دشمن کو خوش آمدید کہا۔

اس تاریخی روایت کا آخری حصہ کچھ یوں ہے: جب مدینہ کی خبر شام پہنچی تو ہشام نے حکم دیا کہ سب سے پہلے اس گستاخ شخص کو اس خیانت کی سزا دی جائے جس نے دربار خلافت کے روساء کے منصوبے کے خلاف بات کرکے لوگوں کو ایک عظیم خوابِ غفلت سے بیدار کیا تھا۔ یوں خلیفہ کے حکم سے اس شخص کو قتل کردیا گیا۔

ان سب باتوں کے باوجود امام(علیہ السلام) نے حکومتِ وقت کے ساتھ گرم جنگ اور براہِ راست ظاہری ٹکراؤ سے اجتناب فرمایا اور تلوار ہاتھ میں نہیں لی بلکہ جن لوگوں نے جلد بازی میں حکومت کے خلاف تلوار اٹھائی تھی ان کے ہاتھوں سے بھی تلوار لےکر انہیں تیز بینی، تدبر اور مزید موقع شناسی کی ترغیب دی۔ آپ نے زبان کی تلوار کو بھی (تلوار کی زبان کی طرح۔ مترجم) نیا م میں رکھا مگر وہاں جہاں کسی بنیادی اقدام کی ضرورت ہو۔آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی زید بن علی کو خروج (یعنی حکومت کے خلات قیام) کی اجازت نہیں دی حالانکہ جذبات کے آتش فشان سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اور وہ اپنی جان نچھاور کرنے پر تلے ہوئےتھے۔

زندگی کے عام روابط اور غیر آزمودہ عناصر کے معاملے میں آپ نے زیادہ توجہ ثقافتی اور فکری سرگرمیوں پر مرکوز رکھی۔ اس کے باوجود یہ طرزِ عمل بنیادی آئیڈیالوجی کی بنیادوں کو محکم کرنے کا ذریعہ ہونے کے علاوہ ایک قسم کا سیاسی تقیہ بھی تھا لیکن یہ حکیمانہ، منطقی اور عاقلانہ حکمت عملی ہرگز اس بات کی موجب نہیں بنی کہ امام علیہ السلام اپنے قریبی ساتھیوں، عقیدتمندوں اور حقیقی شیعوں کو مکتب ِامامت کی جدوجہد کے بنیادی مقاصد اور نصب العین سے آگاہ نہ کریں اورتشیع کے عظیم ہدف کو (جو ناگزیر مزاحمتی جدوجہد کے ذریعے اسلامی نظام اور علوی حکومت کے قیام سے عبارت ہے) لوگوں کے دلوں میں زندہ نہ کریں یہاں تک کہ مناسب مواقع پر اس مقصد کے حصول کی راہ میں لوگوں کے جذبات کو ضرورت کی حد تک بیدار نہ کریں۔

امام باقر علیہ السلام کے امیدبخش طریقہ ہائے کار میں سے ایک یہ تھا کہ آپ لوگوں کو ایک پسندیدہ اور خوبصورت مستقبل کی نوید دیتے تھے۔ یہ مستقبل اتنا دور بھی نہیں تھا۔ یہ اس بات کا بھی غماز ہے کہ آپ(علیہ السلام) شیعوں کی تدریجی جدوجہد میں اپنی جگہ اور حیثیت کو کہاں اور کس مرحلے میں دیکھ رہے تھے۔

(راوی کہتا ہے:) ہم حضرت ابوجعفر کے ساتھ تھے اور گھر پُر تھا۔ اتنےمیں ایک بوڑھا اندر داخل ہوا۔ اس نے سلام کیا اور کہا: اے فرزند رسول! اللہ کی قسم! میں آپ کو اور آپ کے دوستداروں کو چاہتا ہوں۔ خدا کی قسم!یہ چاہت اور دوستی دنیوی زندگی کی رنگینیوں کی خاطر نہیں۔ میں آپ کے دشمن سے دشمنی برتتا ہوں اور اس سے بیگانہ وبیزارہوں۔ یہ کینہ و عداوت اس لئے نہیں کہ ہمارے درمیان کسی کا خون بہایا گیا ہو۔ خدا کی قسم! میں آپ کے اوامر و نواہی کو قبول کرتا ہوں۔ میں آپ کی فتح و کامرانی کا منتظر ہوں۔ میں آپ کے قربان جاؤں! اب کیا آپ میرے لئے کوئی امید رکھتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے اس شخص کو قریب بلایا، پاس بٹھایا پھر فرمایا: ’’اے بزرگ! کسی نے میرے بابا علی ابن الحسین سے بالکل یہی سوال کیا تو میرے بابا نے اس سے فرمایا: اگرتم اس انتظار میں مرجاؤگے تو تم پیغمبر، علی، حسن، حسین اور علی ابن الحسین کے پاس پہنچ جاؤگے۔ یہ تمہارے دل کی ٹھنڈک، روح کی لذت اور آنکھوں کی روشنی کا موجب ہوگا اور تم اللہ کے عظیم المرتبت احوال نویسوں کے ہمراہ آرام و راحت کی زندگی پاؤگے لیکن اگر تم زندہ رہوگے تو اسی دنیا میں وہ زمانہ دیکھوگے جس سے تمہاری آنکھیں روشن ہوں گی اور تم اس وقت ہمارے ساتھ عالی ترین جگہ حاصل کروگے‘‘۔ جب وہ شخص جارہا تھا تو امام اسے دیکھ رہے تھے اور فرمارہے تھے: جو کوئی یہ چاہے کہ کسی بہشتی کو دیکھے وہ اس شخص کو دیکھے ۔

گاہے امام علیہ السلام اس سے بھی چند قدم آگے بڑھ کر کامیابی کے سال کی تعیین فرماتے تھے اور شیعوں کی دیرینہ آرزو کی عملی تعبیر پیش کرتے تھے۔

ابوحمزہ ثمالی کا بیان ہے: میں نے ابوجعفر کو یہ فرماتے سنا: ’’خدا نے اس کام (علوی حکومت کی تشکیل) کےلئے سنہ ۷۰ کو معین کیا تھا لیکن جب حسین قتل ہوگئے تو اللہ اہل زمین سے ناراض ہوگیا۔ پس اس نے اس امر کو سنہ ۱۴۰ تک موخر کردیا۔ ہم نے اس وعدے کا ذکر تم (قریبی دوستوں) سے کیا تو تم نے اس راز کا پردہ چاک کردیا۔ اس کے بعد خدا نے ہمارے لئے کسی اور معین وقت کا وعدہ نہیں فرمایا۔ جان لو کہ خدا جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ‘‘

۱۱۹

ابوحمزہ کا بیان ہے: میں نے ابوعبد اللہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں یہ درست ہے ۔

اس قسم کے بیانات اسلامی نظام اور علوی حکومت کی تشکیل کو (جو ہلاکت خیز پابندیوں اور شدید گھٹن کے اس ماحول میں ایک دل انگیز خواب کی طرح شیعوں کے ستم کشیدہ دلوں میں امید اور حرکت کی شمع روشن کیے ہوئے تھی) مستقبل میں شرمندہ تعبیر ہونے والی اٹل حقیقت کی شکل میں پیش کرتے ہیں نیز ان لوگوں کے اور اس حکومت کے مابین حائل وقت کے فاصلوں کو طے کرنے میں ان کی طاقت اور جذبۂ تسلیم میں اضافہ کرتے تھے۔

یوں امام باقر علیہ السلام کی قیادت کے انیس سال ایک سیدھے، متصل اور روشن خط کی صورت میں گزرگئے۔ ان انیس سالوں میں نظریاتی و اعتقادی تعلیمات اور انفرادی تربیت کا اہتمام تھا ، مزاحمتی جدوجہد کے طریقے بھی تھے نیز اس دور میں تنظیمی نیٹ ورک کی تشکیل، سیاسی اہداف کی حفاظت، ان کے تسلسل اور تقیہ کا بھی مشاہدہ ہوتا ہے۔علاوہ ازیں پہلے سے زیادہ اور راسخ بنیادوں پر امیدوں کی آبیاری بھی نظر آتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ یہ انیس سال جدوجہد اور کوششوں کی سنگلاخ وادیوں سے گزرتے گزرتے گزر گئے۔ آخرکار جب یہ مختصر اور پربرکت مدت گزر گئی اور علوی تحریک کے قسم خوردہ دشمنوں نے اس تحریک کے قائد کی رحلت کے باعث یہ گمان کرلیا کہ اب وہ آرام کی سانس لیں گے اور شیعوں کی تبلیغی کوششوں سے فارغ البال ہوکر ملک کے بےشمار اندرونی اور بیرونی بحرانوں کی طرف توجہ دیں گےتو اس وقت اس دہکتی تحریک کی گرم اور سوزان راکھ سے نکلنے والی آخری روح شگاف چنگاری نے اموی حکومت کی عمارت میں آگ لگادی۔ جس امام نے اپنی زندگی حقائق کا پردہ چاک کرنے میں گزاری تھی اس نے اپنی موت کے بعد بھی اپنے کام کا سلسلہ باقی رکھا۔ امام نے اپنی زندگی کے ذریعے آگاہی دی تھی اور اپنی موت کے ذریعے اس کوشش کو جاری رکھا۔ آپ نے اپنے ساتھیوں نیز حقائق سے بےخبر لیکن سمجھنے اور غور کرنے کی تڑپ رکھنے والوں کی بڑی تعداد کےلئے ایک نیا پیغام اور سبق دیا۔

یہ پیغام بھی آپ کی زندگی کی مجموعی پالیسی کی طرح گہرا اور پرسکون ہے۔ یہ پیغام دوستوں اور ضرورت مندوں کےلئے فائدہ مند ہے لیکن دشمن کو نیند سے نہیں جگاتا۔

یہ امام باقر علیہ السلام کے تقیہ کا ایک نمونہ ہے اور تاریخ کے اس خاص دور میں آپ کے مجموعی طرز عمل کا ایک خاکہ ہے۔ بعد میں جن لوگوں نے امام کی تاریخ ِزندگی لکھی انہوں نے اس عظیم اقدام کے بارے میں جس کا ذکر ایک مختصر سی حدیث میں ہوا ہے غفلت برتی ہے یا تغافل کا ثبوت دیا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اسے نہ دیکھا ہو؟

اسے ہم بطورِ خلاصہ یوں عرض کریں گے کہ امام باقر علیہ السلام نے اپنے فرزند جعفر صادق علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ آپ کے مال کا ایک حصہ (آٹھ سو درہم) دس سال تک آپ پر گریہ اور آپ کی عزاداری برپا کرنے پر خرچ کرتے رہیں۔ اس عزاداری کی جگہ منیٰ کا صحرا ہے اور اس کا وقت صرف ایام حج ہیں۔ حج کے ایام دورافتادہ اور ناآشنا بھائیوں کی ملاقات کے ایام ہیں۔ ہزاروں افراد اس خاص موقعے اور جگہے پر جمع ہوتے ہیں۔

مختلف زبانیں بولنےوالے یہ لوگ جن کے دل ایک ہیں اس مقام پر ایک ہی زبان میں خدا کو پکارتے ہیں اور یک ہی پرچم کے نیچے مختلف اقوام کے اجتماع کا معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر پورے عالم اسلام تک کوئی پیغام پہنچانا مقصود ہوتو اس سے زیادہ مناسب موقع کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ پھر حج کے اعمال کا سلسلہ کئی دنوں تک کئی مقامات پر جاری رہتاہے۔ ان ایام اور مقامات میں سب سے مناسب دن کون سا ہے اور سب سے مناسب جگہ کون سی ہے؟ مکہ کو لیجئے جو ایک شہر ہے۔ شہر میں لوگ پراکندہ بھی ہوتے ہیں اور مصروف بھی۔ اس کے علاوہ سب لوگ وہاں حج کے اعمال مثلاً طواف، سعی اور نماز و غیرہ میں مشغول ہوتے ہیں۔

ادھر مشعر الحرام رات کے وقت ٹھہرنے کی جگہ ہے جہاں وقت کم ہوتا ہے اور وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ یہ منا کے راستے میں واقع ایک استراحت گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ادھر عرفات اگرچہ دن کے وقت ٹھہرنے کی جگہ ہے لیکن اس توقف کی مدت کوتاہ ہے:

صرف ایک دن۔ اس دن صبح کے وقت لوگ سفر کی صعوبتوں سے تھکے ماندے ہوتے ہیں اور شام کے وقت دوسرے سفر کی تیاری میں مصروف۔

اس عزاداری کےلئے سب سے مناسب جگہ منیٰ ہے۔ عرفات سے واپسی پر حجاج منیٰ میں تین دن تک پراؤ ڈالتے ہیں۔ یہاں ایک دوسرے سے آشنائی، گفتگو اور اظہار ہمدردی کا موقع سب سے زیادہ فراہم ہوتا ہے۔ کون ہے جو دن کے وقت مکہ جائے اور وہاں سے واپس منیٰ آنے کی زحمت برداشت کرے؟ یہ ٹھہرنے، ہر جماعت سے ملنے اور ہر محفل یا اجتماع میں شرکت کرنے کےلئے سب سے مناسب جگہ اور وقت ہے۔ اس بیابان میں ہر سال مسلسل تین دنوں تک برپا ہونے والی مجلس عزا سے ہرایک کا واسطہ پڑنا ایک قدرتی امر تھا۔ دور دراز سے آنے والے آہستہ آہستہ اس عزاداری سے واقف ہوتے گئے۔ سالہا سال تک مدینہ کےلوگوں کی ایک جماعت ان ایام میں اس مقام پر عزاداری کی محفل برپا کرتے رہے۔ (مدینہ اسلام کا نیز بزرگ محدثین، فقہار اور صحابہ کا مرکز تھا۔) یہ محافل عزا کس کےلئے برپا ہوتی تھیں؟

عالم اسلام کی ایک نمایاں ترین شخصیت محمد بن علی بن حسین علیہ السلام کےلئے۔ آپ آل رسول کی عظیم شخصیت تھےاور فقہاء و محدثین کے سرخیل تھے۔ علاوہ ازیں آپ فقہ و حدیث کے تمام معروف دانشورں کے استا د تھے۔

کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ ہر جگہ سے یہاں جمع ہوتے ہیں اور یہاں اپنے مدعا کا اظہار کرتے ہیں؟

آخر وہ کس لئے بولتے ہیں؟

کیا امام کی موت طبیعی نہیں تھی؟ کس نے آپ کو قتل یا مسموم کیا اور کس لئے ایسا کیا؟ آخر آپ کیا کرتے تھے اور کیا کہتے تھے؟ کیا آپ کسی چیز کے مدعی تھے؟ کیا آپ کسی تحریک کے داعی تھے؟ کیا آپ خلیفہ کےلئے خطرے کا باعث تھے؟

اس قسم کے دسیوں مبہم سوالات ذہن میں ابھرسکتے تھے جن کےبےتحاشا جوابات عزاداری برپا کرنے والوں اور اس عظیم جمعیت کے اندر بکھرے ہوئے باخبر افراد کے پاس موجود تھے۔

یہ افراد مدینہ یا کوفہ سے یہاں آتے تھے اور درحقیقت اسی لئے آتے تھے تا کہ ان سوالوں کا جواب دیں۔ وہ اس لئے آتے تھے تا کہ اس بےمثال موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے عالم اسلام سے یہاں جمع ہونے والوں کے سامنے مسائل کو واضح کریں، اپنے نظریاتی بھائیوں اورائمہ کے دوستداروں سے ملاقات کریں، انہیں معلومات فراہم کریں اور (اپنے امام سے) حکم حاصل کریں، خلاصہ یہ کہ اس دور کے عظیم ترین عالمی تبلیغی نیٹ ورک کے ہزاروں چینلوں سے شیعی دعوت کا سلسلہ آگے بڑھے۔یہ ہے امام باقر علیہ السلام کا کامیاب منصوبہ یا پلان (اپنی موت کے بعد بھی جہاد کے تسلسل کا پلان)۔ یہ ہے وہ بابرکت وجود جس کی زندگی اور موت دونوں کا مقصد خدا اور اس کی راہ میں مجاہدت سے عبارت تھا۔

’’وَ جَعَلَهُ مُبارَكاً أَيْنَما كانَ وَ سَلامٌ عَلَيْه‏ يَوْمَ وُلِدَ وَ يَوْمَ يَمُوتُ وَ يَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا‘‘ ۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۲۰