انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 319
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 319 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

گیارھویں فصل :"امام صادق علیہ السلام"

اموی حکومت کا آخری دور

اور امام صادق علیہ السلام کی امامت

امام باقر علیہ السلام ۵۷ سال کی عمر میں بنی امیہ کے ایک مقتدر ترین خلیفہ یعنی ہشام بن عبدالملک کے دور حکومت میں دار فانی کو وداع کرگئے۔ اگرچہ اموی حکومت وسیع و عریض مسلمان مملکت کے اندر بےشمار مسائل، سرگرمیوں اور آشفتہ حالات کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی لیکن ان سب کے باوجود خلیفہ ہشام شیعی نیٹ ورک کے دھڑکتے دل (یعنی امام باقر ؑ) کے خلاف سازش اور بداندیشی سے غافل نہ رہا۔

ہشام کے حکم سے اس کے گماشتوں نے امام کو زہر دیا۔ یوں اس ظالم اور سرکش اموی بادشاہ نے اپنی مملکت کے اندر اپنے سب سے بڑے اور خطرناک دشمن کو قتل کرکے ملک کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی جانب اپنی فتوحات کی لذت اور سرمستی کو کامل کیا۔

امام باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام اور آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی سالوں کے دوران بنی امیہ کی حکومت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی تھی جو اس حکومت کے حوادث سے بھرپور ادوار میں سے ایک نازک دور تھا۔

ایک طرف سے مشرقی سرحدوں (ترکستان اور خراسان)، شمالی سرحدوں (ایشائے کوچک اور آذربائیجان)اور مغربی سرحدوں (افریقہ، اندلس اور یورپ) کی جانب کاروائیوں کے باعث اور دوسری جانب سے عراق، خراسان اور شمالی افریقہ کے اطراف میں رونما ہونے والی مسلسل شورشوں (جو عام طور پر بنی امیہ کے زیر ستم ناراض لوگوں کی جانب سے اور گاہے بنی امیہ کے منگول سرداروں کی مدد یا انگیخت کے نتیجے میں برپا ہوتی تھیں) کے باعث، علاوہ ازیں ملک کے اندر ہرجگہ پھیلی ہوئی بدحالی و پریشانی خاص کر عراق (جو بنی امیہ کے بڑے بڑے جاگیرداروں کا مرکز تھا نیز زرخیز اور منفعت خیز املاک کی یہ سرزمین زیادہ تر خلیفہ یا روسائے حکومت کے قبضے میں تھی) کے اندر موجود بدحالی نیز شام اور عراق میں اس کے مقتدر گورنر (خالد بن عبد اللہ قسری) کی افسانوی لوٹ مار کے علاوہ خراسان،عراق او ر شام کے بشمول ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے والے طاعون اور قحط سالی کے باعث بنی امیہ کی وسیع و عریض مسلمان مملکت کی حالت ناگفتہ بہ اور عجیب ہوگئی تھی۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ عالم اسلام سب سے بڑے نقصان یعنی معنوی، فکری اور روحانی خسارے سے بھی دوچار تھا۔

عالم اسلام کی ان پریشان کن اور غم آلود فضاؤں میں جہاں فقر، جنگ و جدل اور بیماریوں نیز اموی حکمرانوں کی استبدادیت اور جاہ پسندی نے بے آسرا لوگوں کو کچل کر اور جلاکر رکھ دیا تھا وہاں اسلامی و انسانی اقدار تقویٰ، اخلاق اورمعنویت کو پروان چڑھانا محال نظر آتا تھا۔ علماء، قضات، محدثین اور مفسرین جنہیں بے آسرا اور مظلوم لوگوں کی پناہگاہ کا کردار ادا کرنا چاہئے تھا نہ صرف یہ کہ مسائل کی گرہ کشائی نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر اوقات خود بھی کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے تھے بلکہ گاہے وہ سیاسی شخصیات سے بھی زیادہ مضر تھے۔

فقہ و کلام اور حدیث و تصوف (عرفان) کے میدانوں کے معروف چہرے مثلاً حسن بصری، قتادہ بن دعامہ، محمد بن شہاب زہری، ابن بشر، محمد بن منکدر، ابن ابی لیلی اور ان جیسے دسیوں دیگر افراد در حقیقت دربار خلافت کے وسیع و عریض نظام کے مہرے تھے یا حکام اور فرمانرواؤں کے ہاتھوں بازیچہ بنے ہوئے تھے۔

یہ بات بہت اسفناک ہے کہ اگر ان معزز و موقر شخصیات کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ حضرات یا تو دنیوی آرزوؤں مثلاً جاہ و اقتدار کی خواہش، شہرت پسندی اور لذت جوئی و غیرہ کے ہاتھوں اسیر تھے یا کمزور، بزدل، عافیت طلب اور بےچارے تھے یا کم عقل اور ریاکار زاہد تھے یا ایسے عالم نما افراد تھے جو علم کلام اور اعتقادات کے خونین مباحث میں مشغول تھے ۔

قرآن اور حدیث کے ذریعے معرفت اور نیک خصلتوں کے پودے کو زندہ و ثمربخش بنانا مقصود تھا لیکن ارباب اقتدار انہی دونوں سے غلط استفادہ کررہے تھے۔

بدبخت اور فاسق عناصر نے ان دونوں کو اپنی بےثمر زندگی گزارنے کا مشغلہ قرار دے رکھا تھا۔

اس مسموم، تاریک اور گھٹن والی فضا میں نیز اس پرخار اور دشوار دور میں امام صادق علیہ السلام نے خدائی امانت کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

ہم نے شیعی ثقافت اور طرز تفکر کی رو سے امامت کے جس مترقّی مفہوم کو پہچانا اور جانا ہے اس کے پیش نظر اس قسم کے تاریک اور مصیبت آفرین زمانے میں زندگی گزارنے والی سرگرداں، فریب خوردہ، ستم دیدہ اور غلط فہمی میں مبتلا امت کےلئے امامت سچ مچ ایک بنیادی ضرورت ہے۔

ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ امامت دو حیات آفرین نظاموں یعنی درست اسلامی طرز فکر اور عادلانہ توحیدی نظام کا سرچشمہ ہے

اور ہر امام دو ذمہ داریوں کا حامل ہے:

الف: دین کی درست تبیین، تطبیق اور تفسیر (جو بجائے خود تحریفات کے خلاف جنگ نیز مفاد پرستی اور جہالت پر مبنی درستکاری کے خلاف جہاد کو شامل ہے۔)

ب: حق اور عدل پر مبنی توحیدی نظام کا راستہ ہموار کرنا، اس کی بنیادیں استوار کرنا اور اگر اس قسم کا نظام موجود ہو تو اسے جاری و ساری رکھنا۔ اس قسم کے ناگفتہ بہ حالات میں امام صادق علیہ السلام اس امانت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اور ان دونوں ذمہ داریوں کو قبول فرماتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں یہ دونوں ذمہ داریاں آپ کے سامنے ہیں۔ اب آپ ان میں سے کس ذمہ داری کو پہلے نبھائیں ؟

اگرچہ سیاسی کام کی راہ میں بہت سی دشواریاں درپیش ہوتی ہیں اور اموی خلیفہ ہشام اپنی تمامتر مصروفیات اور جنگی مہمات کے باوجود نہ امام کی سیاسی جدوجہد کو معاف کر سکتا تھا اور نہ سخت انتقامی کاروائی سے اجتناب کرسکتا تھا لیکن فکری کام (یعنی تحریفات کا مقابلہ) درحقیقت دربار خلافت کی شہ رگ کو کاٹنے کے مترادف تھا کیونکہ اموی حکومت کی بقاء انحرافی دین کا سہارا لئے بغیر ممکن نہ تھی۔ پس ہشام اور غیر شیعہ علماء (جو اس منحرف اور پست معاشرے میں رائج عوامی اور عمومی رخ پر رواں دواں اور سرگرم عمل تھے ) کی نظر میں یہ بھی نابخشودنی جرم تھا۔

دوسری جانب انقلابی شیعی طرز فکر کا دائرہ وسیع کرنے کےلئے حالات سازگار تھے۔ جنگ، فقر اور استبداد جو انقلاب کو پروان چڑھانے کے تین عوامل ہیں موجود تھے۔ علاوہ از یں سابق امام کی کوششوں کے باعث قریبی علاقوں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی ایک حد تک حالات سازگار ہوچکے تھے۔

امامت کی مجموعی پالیسی توحیدی اور علوی انقلاب برپا کرنے سے عبارت ہے البتہ ایک ایسے ماحول میں جہاں لوگوں کی مطلوبہ تعداد نظریۂ امامت کو سمجھ کر قبول کرچکی ہو نیز اس نظرئے کی عملی تعبیر کی منتظر ہو جبکہ لوگوں کی ایک اور مطلوبہ تعداد مزاحمتی جدوجہد پر کمر بستہ منظم جماعت کے ساتھ ملحق ہوچکی ہو۔

اس جامع لائحہ عمل کا منطقی لازمہ ایک ہمہ گیر دعوت ہے جو پورے عالم اسلام کو محیط ہو تا کہ تمام علاقوں میں شیعی نظریات کی نشر و اشاعت کےلئے فضا کو سازگار بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ایک اور دعوت مطلوب ہے تاکہ خُفیہ ’’شیعی نیٹ ورک‘‘ کےلئے باصلاحیت اور فداکار ممبروں کو تیّارکیا جائے۔

امامت کی حقیقی دعوت کی دشواری کا راز اسی نکتے میں پنہاں ہے۔ ایک کامل مذہبی دعوت جس کا مقصد یہ ہو کہ اقتدار کو ہر قسم کی زبردستی، تجاوز پسندی اور انسانی آزادی کے حق کی پامالی سے دور رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی اصولوں اور معیاروں کی رعایت کرے اس قسم کی دعوت کےلئے ضروری ہے کہ لوگوں کے ادراک و شعور پر بھروسہ کرے اور ان لوگوں کے فطری احساسِ ضرورت کی رعایت کرتے ہوئے اپنی پیشرفت کو جاری رکھے۔ اس کے برعکس جو تحریکیں مذہبی اور مسلکی نعروں کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز کرتی ہیں لیکن عملاً دوسرے اربابِ اقتدار کی طرح طاقت کے بل بوتے پر کام کرتی ہیں نیز اخلاقی و معاشرتی اصولوں سے چشم پوشی کرتی ہیں وہ مذکورہ دشواری سے فارغ البال ہوتے ہیں۔

امامت کی تحریک کے طولانی ہونے کا راز یہی ہے۔ علاوہ ازیں تحریک امامت کی متوازی تحریکوں (مثلاً عباسی تحریک) کی کامیابی اور تحریک امامت کی نِسبی شکست کی وجہ بھی یہی ہے۔

ہم تاریخی اسناد کی روشنی میں اس نکتے کی وضاحت مزید تفصیل کے ساتھ آئندہ صفحات میں پیش کریں گے۔

سازگار حالات اور سابق امام کی کوششوں سے وجود میں آنے والی مناسب فضا کے بموجب نیز تحریک تشیع کے پرمشقت اور طویل راستے کےپیش نظر امام صادق علیہ السلام کو اسی سچی امید کا مظہر ہونا چاہئے تھا جس کاشیعہ قوم سالہا سال سے انتظار کررہی تھی۔ آپ وہی ’’قائم‘‘ہوسکتے تھے جس نے اپنے اسلاف کی طویل جدوجہد کو ثمر بخش بنانا تھا اور عالم ِاسلام کے وسیع دائرے میں شیعی انقلاب کی شمع روشن کرنا تھی۔

امام باقر علیہ السلام کے اشارات اور گاہے آپ کی تصریحات بھی اس آرزو کے درخت کو پروان چڑھانے میں موثر رہی ہیں۔

جابر بن یزید کا بیان ہے: کسی نے امام باقر علیہ السلام سے آپ کے بعد قیام کرنے والے ’’قائم‘‘ کے بارے میں پوچھا تو امام نے ابوعبد اللہ (صادق) کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: خدا کی قسم قائم آل محمد یہی ہے ۔(پیشوای صادق، ص۵۴۔۶۱)۔

امام صادق کے حالاتِ زندگی:

ابہام کے پردے میں:

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو جن اسفناک ترین مسائل سے روبرو ہونا پڑتا ہے ان میں سے ایک کا تذکرہ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کےحالات زندگی خاص کر آپ کی امامت کے ابتدائی سالوں کے حالات ابہام کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ آپ کی امامت کے ابتدائی سال اموی دور حکومت کے اواخر سے عبارت ہیں۔ یہ ہنگامہ خیز اور حوادث سے لبریز زندگی (جس کے نشیب وفراز اور دشواریوں کا مشاہدہ سینکڑوں تاریخی روایات سے ہوتا ہے) نہ تاریخ کی کتابوں میں مربوط اور منظم شکل میں مذکور ہے نہ محدثین اور سیرت نگاروں کے قلمی آثار میں۔ اس دور کے حوادث کی مزید خصوصیات اور اوقات کی تفصیل بیان نہیں ہوئی ہیں۔

اربابِ تحقیق کو چاہئے کہ وہ اُس دور کے مجموعی حالات و قرائن کا سہارا لیتے ہوئے نیز ہرروایت کا موازنہ ان معلومات کے ساتھ کرتے ہوئے جو اس روایت میں مذکور اس دور کے اشخاص اور حوادث کے بارے میں دیگر مآخذ سے ہاتھ آسکتے ہیں ہر واقعے کی خصوصیات اور اس کے زمان و مکان کو کشف کریں۔

مذکورہ ابہام کی ایک علت خاص کر امام اور آپ کے ساتھیوں کے مابین تنظیمی سرگرمیوں کے بارے میں تاریخی ابہام کی علت کو ان کاموں کی خاص نوعیت کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ خفیہ تنظیمی سرگرمیاں اگر صحیح اصولوں کے مطابق انجام پائیں تو انہیں ہمیشہ خفیہ ہی رہنا چاہئے۔

انہیں پہلے دن کی طرح بعد میں بھی مخفی رہنا ہوگا۔ صاحبانِ اسرار کی راز داری غیر متعلقہ افراد کو ان اسرار کی وادی میں گھسنے نہیں دیتی۔ جب خفیہ کام اپنے نتیجے تک پہنچ جائے اور خفیہ کام کو چلانے والے اقتدار حاصل کرلیں تو وہ خود اپنے کام کی پوشیدہ باریکیوں کو برملا کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ آج عباسی تحریک کے دوران عباسی تنظیمی نیٹ ورک کے کارکنوں کے ساتھ عباسی روساء کے خفیہ روابط کی بہت ساری باریکیاں یہاں تک کہ ان کے خفیہ فرامین اور پوشیدہ ارتباطات تاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں اور سب ان سے آگاہ ہیں۔

یقیناً اگر علوی تحریک بھی کامیاب ہوتی اور اقتدار شیعہ اماموں یا ان کے نمائندوں کے ہاتھ آتا تو آج ہم علوی تحریک نیز اس تحریک کے ہر جگہ پھیلے ہوئے وسیع تنظیمی نیٹ ورک کے سر بمہر اسرار اور نہایت خفیہ رازوں سے آگاہ ہوتے۔

مذکورہ ابہام کی ایک اور علت کو تاریخ نویسی اور تاریخ نویسوں کی خصلت کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ اگر رسمی اور باقاعدہ تواریخ میں کسی محکوم،مظلوم اور زیر عتاب جماعت کا اتفاق سے کوئی تذکرہ مرقوم ہو بھی تو وہ یقیناً ظالم حکمرانوں کی خواہش، ان کے بیانات اور ان کے اظہارات کے مطابق ہوتا ہے۔

سرکاری مورخین محکوم اور زیر عتاب لوگوں کے بارے میں صرف وہی دل آزار باتیں لکھ سکتے ہیں جو انہوں نے بےتحاشا سعی و کوشش کے ذریعے اور سخت خوف و ہراس کی حالت میں ادھر ادھر سے جمع کی ہوں جبکہ حکمرانوں کے بارے میں خبروں اور باتوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے جنہیں وہ بغیر کسی زحمت اور خوف و ہراس کے حاصل کرسکتے ہیں اور اجرت لےکر سپرد قلم کرسکتے ہیں۔

اب ہم اس واضح حقیقت کو ایک اور حقیقت کے ساتھ پرکھتے ہیں۔

وہ تمام معتبر اور معروف تواریخ جو بعد میں انجام پانے والی اکثر تحقیقات اور تحریروں کےلئے مآخذ و منابع کی حیثیت رکھتی ہیں اور امام صادق علیہ السلام کے دور کے بعد پانچ سو سالوں تک انہیں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ان سب پر عباسی رنگ اور چھاپ واضح اور عیاں ہے کیونکہ عباسی حکومت کا سلسلہ ساتویں صدی ہجری کے نصف تک قائم رہا۔ تمام معروف اور قدیم تواریخ اس سخت جان سلسلۂ حکومت کے دور میں لکھی گئی ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر نتیجے کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

عباسی دور کے کسی مورخ سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ امام صادق یا دیگر شیعہ اماموں کے بارے میں درست اور باقاعدہ معلومات حاصل کرکے انہیں اپنی کتاب میں لکھنے پر قادر ہوگا یا اس کا خواہاں ہوگا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام کے حالات زندگی کے بارے میں موجود بہت سے ابہامات اور تحریفات کی وجہ یہی ہے۔

وہ واحد راستہ جو ہمیں امام(علیہ السلام) کی زندگی کے مجموعی خد و خال سے آگاہ کرسکتا ہے یہ ہے کہ ہم ان ابہامات کی بھول بھلیوں سے امام کی زندگی کی بعض اہم خصوصیات کو ڈھونڈھ نکالیں اور آپ کے افکار و اخلاق کے کلی اور دستیاب اصولوں کی مدد سے آپ کی زندگی کے اصلی خدوخال کی تصویر کشی کریں۔

پھر خصوصیات اور باریکیوں کی تعیین کےلئے تاریخ کے اندر بکھرے ہوئے قرائن و دلائل نیز غیر تاریخی قرائن کے منتظر رہیں۔

(پیشوای صادق ، ص۶۵۔ ۶۸)۔

۱۲۱

بارھویں فصل : "امام صادق علیہ السلام"

جس وقت امام باقر علیہ السلام رحلت فرماگئے اس وقت خود امام باقر اور امام سجاد علیہ السلام کی زبردست کوششوں کے نتیجے میں حالات بہت حد تک آل محمد کے حق میں تبدیل ہوچکے تھے۔ میں دو جملوں میں آپ کے لئے امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے منصوبے کو برملا کروں گا۔ البتہ یہ منصوبہ اس وقت اسرار کا حصہ تھا۔

یہ وہی اسرار ہیں جن کے بارے میں آپ نے سن رکھا ہے کہ جابر بن عبد اللہ جعفی صاحبان سر (راز داروں) میں سے ایک تھے۔ (نیز معصوم نے فرمایا: ) جو ہمارے راز کو فاش کرے اس پر خدا کی لعنت ہو و غیرہ۔۔۔ اُس وقت اگر کوئی ان اسرار کو فاش کرتا تو وہ ملعون قرار پاتا۔

میں آج ان اسرار کو فاش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ آج انہیں برملا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ لوگوں کےلئے یہ جاننا واجب ہےکہ امام کیا کرنا چاہتے تھے۔

امام صادق علیہ السلام کا منصوبہ یہ تھا کہ امام باقر علیہ السلام کی رحلت کے بعد معاملات کو سلجھائیں، اعلانیہ قیام کریں اور اموی حکومت کو (جو آئے روز بدلتی رہتی اور بہت کمزور ہوچکی تھی) سرنگوں کریں۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ خراسان، رے، اصفہان، عراق، حجاز ، مصر اور مراکش غرض تمام مسلمان نشین علاقوں سے آپ کے طرفدار مدینہ میں جمع ہوں۔

ان سب علاقوں میں آپ کے طرفدار یعنی شیعہ موجود تھے۔

امام انہیں مدینہ میں جمع کرنے کے بعد شام پر لشکر کشی کا ارادہ رکھتے تھے تا کہ شام کی اموی حکومت کا خائمہ کریں اور خود خلافت کا پرچم بلند کریں پھر مدینہ تشریف لاکر پیغمبر والی حکومت قائم کریں۔ یہ تھا امام صادق(علیہ السلام) کا منصوبہ۔

اسی لئے جب امام باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام میں آپ سے سوال ہوا کہ

’’قائم آل محمد‘‘ کون ہے؟

تو آپ نے امام صادق کی طرف ایک نظر ڈالی اور فرمایا: گویا میں دیکھ رہاہوں کہ ’’قائم آل محمد‘‘ یہ ہیں۔

البتہ آپ جانتے ہیں کہ قائم آل محمد ایک اسم عام ہے، اسم خاص نہیں۔

یہ حضرت ولی عصر (آخری امام) صلوات اللہ علیہ کا نام نہیں۔

حضرت ولی عصر آل محمد کےآخری ’’قائم‘‘ہیں لیکن "آلِ محمد" کے وہ تمام افراد جنہوں نے مختلف زمانوں میں قیام کیا (خواہ وہ کامیاب ہوئے یا نہیں ہوئے) سب" قائمِ آل محمد" ہیں۔

جن احادیث میں کہا گیا ہے جب ہمارا قائم قیام کرےگا تو فلان فلان کام کرےگا، خوشحالی لائےگا، عدل قائم کرےگا و غیرہ ان احادیث کا مقصود اُس وقت حضرت ولی عصر (آخری امام) نہ تھے۔ احادیث کا مقصود یہ تھا کہ آل محمد کا جو فرد حق اور عدل کی حکومت قائم کرےگا وہ اپنے قیام کےساتھ ان کاموں کو انجام دےگا۔ یہ بات درست بھی تھی۔ امام صادق علیہ السلام نے اس دور میں ’’قائم آل محمد‘‘ کا کردار ادا کرنا تھا۔ اس قسم کے حالات میں امام صادق علیہ السلام امامت کے منصب پر فائز ہوئے۔

امام صادق علیہ السلام مرد ِمیدان اور مجاہد تھے، علم و دانش کے وارث تھے اور تنظیمی شخص تھے۔ آپ سب لوگوں نے امام علیہ السلام کے علم و دانش کی شہرت بہت سن رکھی ہے۔ امام صادق علیہ السلام نے جس درسی محفل اور تعلیمی سلسلے کی بنیاد رکھی وہ آپ کے دور سے پہلے اور آپ کے دور کے بعد شیعہ ائمہ کی تاریخِ زندگی میں ایک بےنظیر کارنامہ تھا۔ امام صادق نے اسلام کی جملہ اصلی تعلیمات اور حقیقی قرآنی مفاہیم کو (جو گزشتہ ایک صدی سے زیادہ کے عرصے میں مفاد پرستوں، مفسدوں یا جاہلوں کے ہاتھوں تحریفات سے دوچار ہوئے تھے) حقیقی شکل میں بیان فرمایا۔اسی لئے دشمنوں کو آپ سے خطرہ محسوس ہوا۔ (یہ امام کا علمی کارنامہ تھا۔ مترجم) لیکن آپ لوگوں نے بہت کم سنا ہے کہ امام صادق علیہ السلام مرد میدان و جہاد بھی تھے۔ امام صادق ایک مسلسل جہاد میں مصروف رہے جس کا دائرہ بہت وسیع تھا۔ اس جہاد کا مقصد اسلامی اور علوی حکومت کی تشکیل کےلئے اقتدار پر قبضہ کرنا تھا یعنی امام صادق بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ کرنے اور اس کی جگہ علوی حکومت قائم کرنے کےلئے راستہ ہموار کررہے تھے کیونکہ علوی حکومت ہی حقیقی اسلامی حکومت ہے۔

جو شخص امام صادق علیہ السلام کی زندگی کا بغور مطالعہ کرے اس کےلئے یہ نکتہ واضح اور آشکار ہے۔ امام کی سیرت کا تیسرا رخ وہ ہے جس کے بارے میں بہت سے لوگوں نے سنا ہی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ تنظیمی انسان تھے۔ امام صادق علیہ السلام نے خراسان کے آخری حدود اورماوراء النہر سے لےکر شمالی افریقہ تک پورے عالمِ اسلام میں اپنے معتقدین اور علوی تحریک کے حامیوں پر مشتمل ایک عظیم تنظیمی نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ تنظیمی نیٹ ورک سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد یہ ہے کہ جب امام صادق علیہ السلام یہ چاہیں کہ لوگ آپ کے پیغام سے آشنا ہوں تو عالم اسلام کے تمام حصوں میں آپ کے نمائندے لوگوں کو اس پیغام سے آگاہ کریں، وہ آل علی کی عظیم سیاسی تحریک کو چلانے کےلئے ہر جگہ سے مالی وسائل اور مالی واجبات کو جمع کریں نیز آپ کے وکلاء اور نمائندے تمام شہروں میں موجود ہوں جن کی طرف آپ کے پیروکار رجوع کریں اور ان نمائندوں کے ذریعے آپ سے اپنی شرعی اور سیاسی ذمہ داریوں کے بارے میں استفسار کریں۔

دیگر دینی ذمہ داریوں کی طرح سیاسی ذمہ داریوں پر عملدرآمد بھی واجب ہے۔ جس ولی امر کی اطاعت ہمارے اوپر واجب ہے اس کے مذہبی و اسلامی فتاویٰ جو نماز، روزے ،زکات اور دیگر واجبات کے بارے میں ہیں اس کے ان سیاسی فتاویٰ اور فرامین کے ساتھ یکساں ہیں جن کا تعلق جہاد، سیاسی روابط، اندرونِ ملک روابط اور دیگر مسائل سے ہے۔ ان سب پر عمل واجب ہے۔امام صادق علیہ السلام نے اس قدر عظیم تنظیمی ڈھانچہ قائم کیا تھا۔ آپ اس تنظیمی نیٹ ورک اور اس سے وابستہ لوگوں کے ذریعے اموی حکومت کےخلاف جدوجہد کررہے تھے۔ امام صادق علیہ السلام کے حالات بہت اہم اور سبق آموز ہیں۔ آپ نے دس سال بنی امیہ کے خلاف اورایک طویل مدت بنی عباس کے خلاف جدوجہد کی۔ جب بنی امیہ پر آپ کی فتح یقینی ہوگئی تو بنی عباس نے ایک موقع پرست حریف کے طور پر تحریک چلاکر میدان سیاست پر قبضہ کرلیا۔اس کے بعد امام صادق بنی امیہ اور بنی عباس دونوں کےخلاف مصروف عمل رہے۔

معروف مورخ طبری سے منقول ہے کہ امام اپنی امامت کے دس سال بنی امیہ سے لڑتے رہے۔ اس دوران امام صادق علیہ السلام کی جدوجہد واضح اور صریح تھی یعنی اس دوران آپ نے پردہ پوشی، تقیہ اور کتمان سے کام نہیں لیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اموی خلفا اس قدر مصروف تھے کہ ان کے پاس امام صادق علیہ السلام اور شیعوں کا پیچھا کرنے اور ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی گنجائش یا فرصت نہیں تھی۔ اس لئے امام صادق علیہ السلام کو چھپ چھپا کر کام کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

عرفہ کے دن امام صادق علیہ السلام عرفات جاتے تھے اور مسلمانوں کے عظیم اجتماع میں کھڑے ہوجاتے تھے۔ (یہ لوگ کہاں سے آئے تھے؟ عالم اسلام کے ہر حصے سے، افریقا سے، مشرق وسطی سے، حجاز سے،عراق سے، اُس وقت کے ایران سے ، خراسان سے، اُس وقت کے افغانستان سے اور مشرقی ترکستان سے)۔ یہاں ہرعلاقے کے لوگ موجود تھے۔ اگر کوئی یہاں دھماکہ خیز اقدام کرے تو گویا اس نے پورے عالم اسلام میں دھماکہ کر دیا۔ اگر کوئی شخص یہاں بات کرے تو گویا اس نے ایک عالمی ذریعہ ابلاغ یا بین الاقوامی چینل سے بات کی۔ امام صادق علیہ السلام اس عظیم اجتماع میں آکر باقاعدہ اور صاف صاف اعلان فرماتے تھے:

’’لوگو! آج تمہارا برحق امام اور حاکم جعفر بن محمد ہے ، ابوجعفر منصور نہیں۔‘‘ امام اس کی دلیل بھی دیتے تھے۔ آپ علم کلام اور عمیق عقلی دلائل سے استدلال نہیں فرماتے تھے کیونکہ ظاہر ہے کہ اس اجتماع میں شریک لوگوں کے پاس اس قسم کا استدلال سننے کا یارا نہ تھا۔ آپ دوسرے طریقے سے استدلال فرماتے تھے کیونکہ منصور عباسی و غیرہ لوگوں کے ذہنوں کو رام کرنے کےلئے یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ خود پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانشین ہیں۔ انہوں نے ایک سلسلۂ نسب بھی تیار کیا تھا۔

وہ کہتے تھے: ہم عباس کی اولاد ہیں۔ ان کے پاس دو طرح کے سلسلے موجود تھے۔ وہ مختلف موقعوں پر ان میں سے ایک کا ذکر کرتے تھے۔ ان کا ایک دعویٰ یہ تھا: ہم پیغمبر کے چچا عباس کی اولاد ہیں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد خلافت بنی ہاشم کا حق ہے۔

بنی ہاشم میں سب سے عمر رسیدہ اور موقر شخص پیغمبر کے چچا عباس تھے۔ پس رسول کے بعد خلافت حضرت عباس کا حق تھا۔ ان کے بعد خلافت ہمارا حق ہے کیونکہ ہم عباس کی اولاد ہیں۔ یہ ایک سلسلۂ نسب تھا۔

بنی عباس دوسرا سلسلہ نسب یہ پیش کرتے تھے: ہم علی عباسی یعنی علی بن عبد اللہ بن عباس کی اولاد ہیں۔ یہ درست تھا کیونکہ وہ علی عباسی کے پوتے تھے یا بیٹے تھے جبکہ علی عباسی محمد بن حنفیہ کا شاگرد تھا۔

محمد حنفیہ امیرالمؤمنین علیہ السلام علی بن ابی طالب کے فرزند تھے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام دامادِ رسول تھے۔

بنی عباس کہتے تھے:پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خلافت علی کو ملی اور علی کے بعد (حسن اور حسین کو نہیں بلکہ) محمد بن حنفیہ کو ملی۔ محمد حنفیہ کے بعد عبد اللہ بن عباس کے بیٹے علی کو ملی (جو ہمارا دادا ہے) اس کے بعد ہمیں ملی۔

پس ہم خلیفہ ہیں۔

پس بنی عباس اس قسم کا سلسلۂ نسب جوڑتے تھے اور اس زمانے کے لوگ اس سے مطمئن ہوجاتے تھے کیونکہ ان کی ذہنی سطح بہت پست تھی۔

۱۲۲

اسی لئے امام صادق علیہ السلام اس عظیم اجتماع میں کھڑے ہوکر امامت کے اصلی سلسلے کو بیان فرماتے تھے:

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ الْإِمَامَ‘‘

لوگو! پیغمبر اکرم خود امام تھے، یعنی معاشرے کے پیشوا اور رہبر تھے۔

’’ ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِب‏‘‘

آنحضرت کے بعد علی ابن ابی طالب امام تھے۔ یہ وہی شیعہ نظریہ ہے۔ پھر حسن پھر حسین پھر علی بن حسین پھر محمد بن علی اور آپ کے بعد میں امام ہوں۔

پس امام صادق علیہ السلام اپنا تعارف امامِ وقت کی حیثیت سے پیش کرتے تھے۔ یہ کوئی عام اور سادہ بات نہیں تھی بلکہ اس کےلئے ہمت اور جرأت کی ضرورت تھی۔ یہ مخالفت کا سب سے بڑا اعلان تھا۔ امام صادق علیہ السلام بنی امیہ کے آخری دور میں اس کام کو انجام دیتے تھے۔ بنی عباس کے دور ِحکومت میں آپ ایسا نہ کرتے تھے بلکہ تقیہ اور کتمان سے کام لیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بنی عباس آلِ علی والا نعرہ لگاتے تھے اور آلِ علی والی باتیں زبان پر لاتے تھے۔ وہ آل ِعلی کا روپ دھار کر بنی امیہ کی سیرت پر کاربند تھے۔

اموی دور حکومت میں امام کی جدوجہد اعلانیہ تھی لیکن عباسی دور حکومت میں (جو زیادہ طولانی تھا) نسبتاً پوشیدہ تھی۔ بنی عباس کی تحریک انحرافی تھی۔ انہوں نے موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس انقلاب کا رخ اپنی طرف موڑ دیا جسے امام صادق برپا کرنے جارہے تھے۔ بنی عباس نے اسے منحرف کردیا۔ یہ انقلابات کو درپیش دائمی خطرہ ہے۔ گاہے انقلاب کا سچا راستہ جو انقلاب کے حقیقی اصولوں اور معیاروں کے مطابق ہوتا ہے کسی ایسے نقلی، منحرف، فاسد اور باطل راستے میں تبدیل ہوجاتا ہے جس کے نعرے بظاہر برحق ہوتے ہیں۔ اس مرحلے میں انسان کو خوب بیدار رہنا چاہئے۔

اُس دور کے لوگوں کے اذہان بیدار نہ تھے۔ اسی لئے سالہا سال بعد یعنی (بنی عباس کی حکومت قائم ہونے کے) بیس یا تیس سال بعد بھی دور دراز کے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ یہ حکومت ان لوگوں کی ان کوششوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے آل علی کےلئے انجام دی تھیں۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ آل علی کی حکومت یہی ہے۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ بنی عباس غاصب ہیں۔

( ۱۲/۶/۱۳۵۹ھ ش)

۱۲۳

امام صادق علیہ السلام کے دو مرحلے

اس دوران امام صادق علیہ السلام نے دو مرحلے طے کیے۔

پہلا مرحلہ ۱۱۴ھ سے لےکر منصور کی خلافت تک کا ہے جو آزادی اور سکون و آسائش کا مرحلہ تھا۔

معروف ہے کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے باہمی اختلافات کے باعث ائمہ معصومینعلیہم السلامکو کام کرنے کا موقع ملا تھا۔

اس کا تعلق اسی دور سے ہے۔ امام باقر علیہ السلام کے دور میں ایسا نہیں ہوا۔ امام باقر کے دور میں ہشام بن عبدالملک کی حکومت تھی۔

’’وكان هشام رجلهم‘‘

عبد الملک کے بعد ہشام بنی امیہ کا سب سے مضبوط اور سب سے بڑی شخصیت تھا۔ بنابریں امام باقر علیہ السلام کے دور میں دشمنوں کے درمیان ایسا اختلاف نہیں تھا جس کے باعث ائمہ کو کارکردگی کا کھلا موقع ملے۔ امام صادق(علیہ السلام) کے دور میں بنی عباس کی دعوت کا آہستہ آہستہ آغاز ہوا پھر ان کی دعوت کا دائرہ پھیل گیا۔ ادھر پورے عالم اسلام میں شیعی یا علوی دعوت بھی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔

جب منصور برسر اقتدار آیا تو امام کےلئے حالات سنگین ہوگئے۔ آپ کےلئے پھر وہی صورتحال پیش آئی جو امام باقر علیہ السلام کے دور میں تھی۔ ایک بار پھر پابندیاں اور سختیاں پلٹ آئیں۔ آپ کو بارہا شہر بدر کیا گیا۔ آپ کبھی حیرہ ، کبھی رمیلہ اور دیگر مقامات کی طرف نکالے گئے۔ منصور نے کئی بار آپ کو بلایا۔ ایک بار اس نے کہا:

’’قَتَلَنِي اللَّٰهُ إِنْ لَمْ أَقْتُلْك ‘‘‏

(اگر میں تجھے قتل نہ کروں تو خدا مجھے قتل کردے)۔

ایک بار حاکم مدینہ کو پیغام بھیجا کہ وہ جعفر بن محمد کے گھر کو جلا دے۔ امام صادق(علیہ السلام) نے آگ کے درمیان قدم رکھ کر ایک عجیب منظر پیش کیا اور فرمایا:

’’أَنَا ابْنُ أَعْرَاقِ الثَّرَى ‏‘‘

میں زمین کی گرم رگوں کا بیٹا ہوں۔

اس واقعے نے مخالفین کو پہلے سے زیادہ شکست خوردہ بنادیا۔

امام صادق کے ساتھ منصور کا رویہ بہت سخت تھا۔

اس نے کئی بار امام کو دھمکی دی۔کچھ روایات میں مذکورہے کہ امام علیہ السلام نے منصور کے سامنے اظہار تذلل کیا اور اپنی شخصیت کو گھٹایا۔ ان میں سے کوئی روایت درست نہیں ہے۔ میں نے ان روایات کاجائزہ لیا تو دیکھا کہ ان کی سرے سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔

اکثر روایات کا سلسلہ ربیع حاجب تک پہنچتا ہے۔ ربیع حاجب بطور یقین فاسق تھا اور منصور کا قریبی آدمی تھا۔کچھ سادہ لوح افراد نے کہا ہے کہ ربیع شیعہ تھا۔

ربیع کہاں شیعہ تھا؟

ہم نےربیع بن یونس کی زندگی کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک عام گھر میں پیدا ہوا پھر بنی عباس کا ملازم اور منصور کا حاجب (دربان) بن گیا۔ بعد میں اس نے ان کےلئے بڑی خدمات انجام دیں۔ اگر منصور کی موت کے وقت ربیع نہ ہوتا تو خلافت منصور کے گھرانے سے نکل جاتی کیونکہ اس کے چچے موجود تھے۔ چنانچہ ربیع نے ایک جعلی وصیت نامہ منصور کے بیٹے مہدی کے نام تیار کیا اور اسے خلیفہ بنایا۔

فضل بن ربیع اسی ربیع کا بیٹا ہے۔ ربیع کا گھرانہ بنی عباس کا وفادار اور مخلص گھرانہ تھا۔ وہ اہل بیت سے کوئی ارادت نہ رکھتے تھے۔ اس نے امام کے بارے میں جو کچھ نقل کیا ہے وہ جعلی اور جھوٹ کا پلندہ ہے تاکہ امام کو اس دور کے مسلمان معاشرے میں ایک ایسے فرد کے طور پر پیش کرے جسےخلیفہ کے مقابلے میں اظہار تذلل کرنا چاہئے تا کہ دوسروں کو بھی اپنی اوقات کا پتہ چلے۔ بہرحال امام کے ساتھ منصور کا رویہ بہت سخت تھا جو ۱۴۸ھ میں امام صادق علیہ السلام کی شہادت پر منتج ہوا۔

( ۲۸/۴/۱۳۶۵)

۱۲۴

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کےنمایاں خصوصیات

امام صادق علیہ السلام کی زندگی کی وہ اہم اور نمایاں خصوصیات جو ہمارے مخصوص موضوع بحث سے مربوط ہیں میری نظر میں کچھ یوں ہیں:

۱۔ امامت کی تبلیغ اور توضیح۔

۲۔ شیعی فقہ کے مطابق احکام دین کی تبلیغ و تشریح۔

۳۔ خفیہ سیاسی / نظریاتی تنظیمی نیٹ ورک کا اہتمام۔

امام صادق کی دعوتِ امامت:

آئیے اب اصلی موضوع کی طرف پلٹتے ہیں اور وہ یہ کہ شیعوں کے دیگر اماموں کی طرح امام صادق علیہ السلام کی دعوت کا بھی نمایاں پہلو مسئلۂ امامت رہا ہے۔ اس تاریخی حقیقت کے اثبات کےلئے سب سے قطعی دلیل وہ روایات ِکثیرہ ہیں جن میں امام صادق علیہ السلام کی زبانی دعوائے امامت کو مکمل وضوح اور صراحت کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔

جیسا کہ وضاحت کروں گا امام علیہ السلام اس مسئلے کی تبلیغ و اشاعت کے وقت اپنے آپ کو مزاحمتی جدوجہد کے اس مرحلے میں دیکھ رہے تھے جہاں آپ کو براہ راست اور صریح انداز میں وقت کے حکمرانوں کی نفی کرنے اور امامت و ولایت کے اصلی حقدار کی حیثیت سے لوگوں کے درمیان اپنا تعارف کرانے کی ضرورت تھی۔ اصولی طور پر یہ اقدام صرف اس صورت میں معقول ہے جب مزاحمتی جدوجہد کے تمام ابتدائی مراحل کامیابی سے طے ہوچکے ہوں، لوگوں کے ایک وسیع حلقے کے اندر سیاسی اور اجتماعی آگاہی و بیداری جنم لے چکی ہو، ہرجگہ ممکنہ آمادگی کے آثار مشہود ہوں، لوگوں کی بڑی تعداد کے اندر نظریاتی بنیادیں مستحکم ہوچکی ہوں، لوگوں کی کثیر تعداد کے ہاں حق اور عدل پر مبنی حکومت کی ضرورت ثابت ہوچکی ہو اور امت کا رہبر آخری جد و جہد کےلئے عزم صمیم کرچکا ہو۔ ان سارے مراحل کو طے کیے بغیر معاشرے کے برحق امام اور حکمران کے طور پر کسی خاص شخص کا نام پیش کرنا جلد بازی کا مظاہرہ اور بےفائدہ ثابت ہوگا۔ ایک اور قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات امام صادق علیہ السلام اس بات پر اکتفا نہیں کرتے تھے کہ صرف اپنے حق امامت کا اثبات کریں بلکہ آپ اپنے نام کے ساتھ دوسرے برحق ائمہ اور اپنے اسلاف کا بھی ذکر کرتے تھے۔ بالفاظ دیگر آپ اہل بیت کے سلسلہ امامت کو متصل، بلافصل اورناقابل جدائی قرار دیتے رہے۔ چونکہ شیعی نقطہ نظر سے وہ تمام لوگ قابلِ مذمت اور طاغوت ہیں جنہوں نے ماضی میں اقتدار پر ناحق قبضہ کیا تھا اس لئے امام صادق(علیہ السلام) کا مذکورہ عمل اس بات کی طرف اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ گزشتہ دور اور موجودہ دور کے شیعوں کاجہاد ایک دوسرے سے مربوط اور متصل ہے۔ درحقیقت امام صادق علیہ السلام اپنے اس بیان کے ذریعے اپنی امامت کو گزشتہ اماموں کی امامت کا قہری لازمہ، تسلسل اور نتیجہ قرار دیتے ہیں نیز یہ سمجھاتے ہیں کہ آپ کی امامت بےبنیاد،غیر مربوط اور غیر متصل نہیں ہے۔ بلکہ آپ اپنے سلسلہ امامت کو ناقابل تردید اور مطمئن راستے سے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ اب آپ امام صادق کی دعوت و تبلیغ کی کیفیت کے چند نمونوں کی طرف توجہ فرمائیے۔

میں نے اس سلسلے میں جن روایات کا مطالعہ کیا ہے ان میں سب سے دلچسپ عمرو بن ابی المقدام کی روایت ہے جو ایک تعجب خیز منظر کی تصویرکشی کرتی ہے۔ ۹ ذی الحجۃ کا دن (روز عرفہ) ہے۔ عرفات کے میدان میں لوگوں کا جم غفیر اس دن کے مخصوص مراسم و مناسک کی ادائیگی کےلئے جمع ہیں۔ خراسان کی آخری سرحدوں سے لےکر بحر روم کے ساحل تک کے تمام مسلمان نشین علاقوں کے نمائندے وہاں موجود ہیں۔ اگر اس جگہ ایک درست اور معقول بات کی جائے تو وہ (اُس زمانے کے) وسیع ترین ذرائع ابلاغ کا کام انجام دے سکتی ہے۔

اب دیکھئے کہ امام صادق علیہ السلام اس عظیم اجتماع میں تشریف لاتے ہیں اور اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔

راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ امام لوگوں کے درمیان کھڑے ہوگئے۔ آپ نے پوری آواز کے ساتھ اپنے پیغام کو تین بار دہرایا۔

پھر آپ نے دوسری جانب رخ کرکے تین مرتبہ اسی پیغام کو دہرایا۔ اس کے بعد تیسری جانب رخ کیا اور پوری آواز سے پھر وہی پیغام پہنچایا۔

۱۲۵

یوں امام نے بارہ بار اپنی بات کو دہرایا۔ یہ پیغام کچھ یوں تھا:

’’أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ الْإِمَامَ ثُمَّ كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ثُم‏‘‘

(لوگو! رسول اللہ امام تھے۔ پھر علی ابن ابی طالب امام تھے پھر حسن، پھر حسین پھر علی ابن الحسین پھر محمد بن علی پھر...)۔

ایک اور حدیث ابو صباح کنانی سے مروی ہے جس میں امام صادق نے اپنے اور دیگر شیعہ اماموں کا یوں تعارف پیش کیا ہے: ہم وہ ہیں جن کی اطاعت کو اللہ نے لوگوں پر لازم قرار دیا ہے۔ انفال اور صفو المال کا اختیار ہمیں دیا گیا ہے۔

صفوالمال سے مراد وہ برگزیدہ اموال ہیں جنہیں مستکبر طاغوتی حکمران اپنے ساتھ مختص رکھتے تھے اور مستحق لوگوں کو ان سے محروم رکھتے تھے۔ جب یہ غصب شدہ اموال مسلمان جنگجؤوں کی فتح کے بعد مغلوب ستمگروں کے قبضے سے نکل جاتے ہیں تو دیگر اموالِ غنیمت کی طرح تقسیم نہیں ہوتے تا کہ کسی ایک فرد کے قبضے میں نہ آئیں اور اس کے لئے بےبنیاد فخر و مباہات اور جھوٹی عزت و حشمت کا ذریعہ نہ بن جائیں بلکہ یہ اموال اسلامی حکمران کے حوالے ہوتے ہیں اور وہ انہیں عام مسلمانوں کے مفاد میں استعمال کرتا ہے۔ اس روایت میں امام علیہ السلام نے صفو المال اور انفال (یہ بھی امام سے مختص ہے) کے صاحبِ اختیار کے طور پر اپنا تعارف کرایا ہے۔ اس بیان کے ذریعے امام نے واضح طور پر بتادیا ہے کہ آج اسلامی معاشرے کا حقیقی حاکم آپ ہیں اور آج سارے اموال کا اختیار آپ کے پاس ہونا چاہئے اور آپ کی ہی صوابدید پر درست مصارف میں ان کا استعمال ہونا چاہئے۔

ایک اور حدیث کی رو سے آپ نے گزشتہ اماموں میں سے ہر ایک کا نام لیتے ہوئے ان کی امامت اور ان کے اوامر کی اطاعت کے وجوب کی گواہی دی پھر جب خود آپ کے نام کی باری آئی تو خاموش رہے۔ امام کی گفتگو سننے والے بخوبی جانتے تھے کہ امام باقر علیہ السلام کے بعد علم وحکمت کے وارث امام صادق علیہ السلام ہی ہیں۔ یوں آپ ایک طرف سے اپنے حق حکومت کو بھی بیان کرتے ہیں اور دوسری جانب سے استدلالی انداز میں اپنے جد امجد علی ابن ابی طالب کے ساتھ اپنے ارتباط و اتصال کا اعلان فرماتے ہیں ۔

الکافی کی کتاب ’’الحجۃ‘‘ میں نیز بحار الانوار کی ۴۷ویں جلد میں اس قسم کی بہت سی احادیث مذکور ہیں جن میں صراحت کے ساتھ یا بطور کنایہ دعوائے امامت اور اس کی طرف دعوت کی بابت گفتگو ہوئی ہے۔

ایک اور قطعی سند وہ شواہد ہیں جو پوری اسلامی مملکت کے اندر امام کے وسیع تبلیغی نیٹ ورک کا پتہ دیتے ہیں اور اس نیٹ ورک کی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ شواہد اس قدر زیادہ اور مدلّل ہیں کہ اگر ایک بھی صریح حدیث موجود نہ ہو تب بھی اس حقیقت کے قطعی ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔

ائمہ معصومین علیہم السلام کے غیر مدوّن حالات زندگی کا مطالعہ کرنے والا محقق اپنے آپ سے پوچھتا ہے: کیا اموی دورِ حکومت کے اواخر میں عالم اسلام کے اطراف و اکناف میں شیعہ اماموں نے اپنے داعی اور مبلغ پھیلا نہیں رکھے تھے جو ان کی امامت کی تبلیغ کریں اور لوگوں سے ان کی اطاعت و حمایت کا عہد لیں؟ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر اس تنظیمی رابطے کی نشانیوں اور علامات کی کیا توجیہ ہوسکتی ہے جو ائمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں کے فکری و مالی روابط کی صورت میں مشہود اورعیاں ہیں؟

دنیا کے مختلف حصوں سے مالی واجبات اور اموال مدینہ کی طرف کیوں بھیجے جاتے تھے؟ شرعی مسائل کے بارے میں (ائمہ سے) اس قدر سوالات کیوں ہوتے تھے؟ ہرجگہ تشیع کی طرف دعوت کا جو اہتمام تھا اس کی کیا وجہ تھی؟ پھر اسلامی مملکت کے اہم حصوں میں آل علی کو یہ بےنظیر محبوبیت اور عزت کیوں حاصل تھی؟ خراسانی، سیستانی، کوفی، بصری، یمنی اور مصری راویوں اور محدثین کا خیل عظیم امام کے گرد کیوں جمع تھا؟

کس مقتدر قوت نے ان سب کا اہتمام کیا تھا؟

کیا یہ مربوط، ہماہنگ اور متناسب امور اتفاقات کا نتیجہ تھے؟

کیا یہ سب اتفاقاً وجود میں آئے جبکہ اموی خلافت کی طرف سے ہرجگہ اور ہر وقت وسیع سطح پر مخالفانہ پروپیگنڈوں کا بازار گرم رہتا تھا؟

یہاں تک کہ عالم اسلام کے بدنام ترین چہرے کے طور پر منبروں سے اور خطبوں میں علی ابن ابی طالب کا ذکر کیا جاتا تھا۔

کیا ایک مضبوط اور وسیع تبلیغی نیٹ ورک کے بغیر یہ ممکن تھا کہ آل علی دنیا کے دور دراز ناآشنا علاقوں میں اس قدر محبوبیت اور جاذبیت کے حامل بن جائیں کہ لوگ صرف ان کے دیدار یا ان سے فیض حاصل کرنے یا ان کے حضور عرض ارادت کی خاطر طویل راستوں کو طے کرکے حجاز اور مدینہ آنے کی زحمت کریں، ان سے اس دین کا علم حاصل کریں جو شیعی نقطہ نظر سے حکومت و سیاست کو بھی شامل ہے نیز متعدد موقعوں پر بےصبری سے عسکری اقدام (روایات کے الفاظ میں قیام اور خروج) کا مطالبہ کریں؟

اگر تشیع کی تبلیغ کا دائرہ ائمہ علیہم السلام کے زہد اور علم تک ہی محدود ہوتا تو پھر عسکری قیام اور مسلح خروج کی درخواست کا کیا مطلب ہوگا؟

ممکن ہے یہاں کوئی یہ سوال کرے کہ اگر سچ مچ اس قسم کا وسیع اور کارآمد تبلیغی نیٹ ورک موجود ہوتا تو پھر تاریخ میں اس کا ذکر کیوں موجود نہیں ہے اور اس سے مربوط کوئی واقعہ صریحاً کیوں مذکور نہیں ہے؟

اس کا جواب (جیسا کہ ذکر ہوچکا) بطور خلاصہ یہ ہے کہ :

اس گمنامی کی پہلی وجہ ’’تقیہ‘‘ کا معتبر اور مترقّی اصول ہے کیونکہ ائمہ کےساتھی بڑی سختی اور زبردست احتیاط کے ساتھ اس اصول پر کاربند رہتے تھے۔

تقیہ کا اصول امام کے تنظیمی نیٹ ورک میں ہربیگانے اور اجنبی کے نفوذ کی راہ روکتا تھا۔ دوسری وجہ اس مرحلے میں شیعی جدوجہد کی ناکامی اور اقتدار تک رسائی میں ان کی شکست سے عبارت ہے۔

اگر بنی عباس بھی حصول اقتدار میں ناکام رہتے تو یقیناً ان کی خفیہ سرگرمیاں اور ان کی تبلیغی جدوجہد کی تلخ و شیرین یادیں بھی سینوں کے اندر دبی رہتیں، کسی کو ان کی خبر نہ ہوتی اور تاریخ کے صفحات میں بھی ان کا تذکرہ نہ ہوتا۔ (پیشوائے صادق، ص۷۴۔۸۰)۔

جب ہم تقیہ کی بات کرتے ہیں تو ممکن ہے یہ سوال ذہن میں آئے کہ تقیہ اس زمانے سے مربوط تھا جب ایک طاقتور حکومت کا تسلط تھا اورشیعہ اس کے خوف سے مخفی اور خاموش تھے۔

جواب یہ ہے کہ نہیں جناب اُس وقت بھی تقیہ کا مطلب خوف نہ تھا۔

’’التَّقِيَّةُ تُرْسُ الْمُؤْمِن‘‘

‏ تقیہ مومن کی ڈھال ہے۔ ڈھال کا استعمال کہاں ہوتا ہے؟

اس کا استعمال میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ ڈھال لڑائی کے وقت کام آتی ہے پس تقیہ کا استعمال بھی ٹکراؤ کی صورت میں ہوتا ہے کیونکہ تقیہ ڈھال ہے، جنگی لباس ہے، مورچہ اور اسلحہ ہے۔

اُس دوران بھی حقیقت یہی تھی۔

جب ہم تقیہ کرتے تھے تو اس لئے کہ دشمن کے منحوس جسم پر شمشیر کا وار کریں لیکن کچھ اس طرح سے کہ وہ نہ تلوار کو دیکھے نہ اس ہاتھ کو جس میں شمشیر ہے اور نہ شمشیر کے بلند ہونے اور نشانے پر لگنے کو بلکہ صرف اس کے درد کوہی محسوس کرے۔ یہ تھا اس روز کا تقیہ۔ اُس دور کے مومنین اس طریقے سے تقیہ کرتے تھے۔

یہ لوگ دشمن کی نظروں سے چھپ کر ، پوشیدہ کمروں میں، زبردست احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرتے تھے مثلاً اعلامیے تیار کرتے تھے۔ جب یہ اعلامیے تقسیم ہوتے تھے تو حکومت کی آبرو مکمل طور پر خاک میں مل جاتی تھی۔ یہ عمل تلوار کی ضربت کی طرح تھا جو ہوا میں بلند ہوکر دشمن کی کمر اور اس کے سر کو شگافتہ کرتی ہے۔ پس ہم تقیہ کرتے تھے یعنی ہم دشمن کو معلوم ہونے نہ دیتے تھے کہ اندر کیا ہورہا ہے۔ تقیہ ڈھال تھا اور تقیہ کرنے والا ڈھال کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔ تقیہ کا مطلب یہ ہے۔ آج بھی اس کا یہی مفہوم ہے۔

( ۹/۱/۱۳۶۸)

۱۲۶

شیعی فقہ کی تبلیغ :

یہ بھی امام صادق علیہ السلام کی زندگی کا ایک تابناک کارنامہ اور انداز ہے۔ یہ انداز دیگر ائمہ کے انداز سے زیادہ نمایاں، زیادہ صریح اور زیادہ کامیاب نظر آتا ہے۔ اسی لئے فقہِ شیعہ کو فقہ جعفری کا نام ملا یہاں تک کہ جن لوگوں نے امام صادق کی سیاسی جدوجہد سے چشم پوشی کی ہے وہ بھی اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے زمانے کے وسیع ترین علمی وفقہی مراکز (یا وسیع ترین مراکز میں سے ایک) کو اپنے علم سے سیراب کیا تھا۔

اس سلسلے میں جو چیز امام کی زندگی پر تحقیق کرنے والوں کی نظروں سے پوشیدہ رہی ہے وہ اس عمل کا سیاسی اور مزاحمتی مفہوم ہے جس پر ہم اس وقت روشنی ڈال رہے ہیں۔

بطور تمہید یہ جاننا ضروری ہےکہ اسلام کا نظام خلافت اس لحاظ سے دیگر تمام نظام ہائے حکومت سے مختلف ہے کہ نظام خلافت صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی /مذہبی قیادت کا نام ہے۔ اسلامی حکمران کو ’’خلیفہ‘‘ کا نام یا لقب دیا جاتا ہے جو اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ خلیفہ صرف ایک سیاسی قائد نہیں بلکہ وہ رسول کا جانشین ہےجبکہ رسول دین کو لانے والا اور معلّم اخلاق ہونے کے علاوہ سیاسی حاکم اور رہبر بھی ہے۔ پس اسلام کی نظر میں ’’خلیفہ‘‘سیاست کے علاوہ لوگوں کے دینی امور کا ذمہ دار اور ان کا مذہبی پیشوا بھی ہے۔

یہ مسلمہ حقیقت اس بات کی موجب بن گئی کہ اسلامی خلفاء کے پہلے سلسلے کے بعد آنے والے حکمران جو دینی علوم و معارف سے بالکل بےبہرہ یا بہت کم آگاہ تھے یہ کوشش کریں کہ اس خلا کو اپنے تابعدار دینی علماء و شخصیات کے ذریعے پر کریں۔

ان حکمرانوں نے پیسوں کےلئے کام کرنے والے فقہاء ، مفسرین اور محدثین کو اپنے نظام حکومت سے منسلک کرکے اس نظام کو دین و سیاست کا مرکب قرار دینے کی سعی کی۔ حکومت کے اندر شریعت مآب اور مقدس نما افراد کی موجودگی کا ایک اور فائدہ یہ تھا کہ یہ لوگ ظالم اور ڈکٹیٹر حکمرانوں کی مرضی اور ان کے حکم کے مطابق آسانی کے ساتھ احکام دین کو مصلحتوں کےمطابق تبدیل کرسکتے تھے۔ یہ حضرات استنباط و اجتہاد (جو عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے) کے لبادے میں حکم خدا کو سلاطین کی خوشنودی کی خاطر دگرگون کرسکتے تھے۔

گزشتہ صدیوں کے مولفین اور مورخین نے حدیث کے میدان میں جعلسازی اور تفسیربالرائے کے وحشت انگیز اور لرزا دینے والے واقعات کا تذکرہ کیا ہے۔ ان واقعات میں زیادہ تر سیاسی طاقتوں کا عمل دخل نمایاں ہے۔ یہ عمل ابتدائی ادوار میں (پہلی صدی ہجری کےاواخر تک) زیادہ تر روایت اور حدیث کی شکل میں انجام پاتا تھا لیکن بتدریج فتوا کی شکل بھی اختیار کرگیا۔ اسی لئے اموی دور حکومت کے اواخر اور عباسی دور کے اوائل میں بہت سے فقہاء بدعت آمیز طریقوں مثلاً قیاس و استحسان وغیرہ سے کام لیتے ہوئے اسلامی احکام کو اپنے نقطہ نظر (جو حقیقت میں زیادہ تر حکمرانوں کا نقطہ نظر ہوتا تھا) کے مطابق بیان کرتے تھے۔ہو بہو یہی عمل تفسیر قرآن کے معاملے میں بھی انجام پاتا تھا۔

مفسر کی رائے اور مرضی کے مطابق قرآن کی تفسیر ان کاموں میں سے ایک تھی جو حکم خدا کو لوگوں کی نظر میں بہ آسانی دگرگوں کرسکتا تھا اور انہیں مفسر کی پسند کا معتقد بناسکتے تھے (عام طور پر مفسر وہی چاہتا تھا جو حاکم چاہے)۔

یوں قدیم ترین اسلامی ادوار سے ہی فقہ، حدیث اور تفسیر دو بنیادی سلسلوں میں بٹ گئیں۔

ایک سلسلہ غاصب حکمرانوں سے وابستہ تھا۔

یہاں بہت سے مواقع پر حقائق کو ان حکمرانوں کےمفادات پر قربان کیا جاتا اور حقیر سی اجرت کے بدلے میں حکم خدا کو تبدیل کیا جاتا تھا۔

دوسرا سلسلہ حقیقت اور امانت کی بنیادوں پر استوار تھا جو کسی مصلحت کو احکام الٰہی کی درست تبیین پر ترجیح نہیں دیتا تھا۔ اس کا لازمی اور قہری نتیجہ یہ تھا کہ قدم قدم پر حکومتی مشینری اور حکومت کے آلہ کار فقہاء، اس کے آڑے آتے تھے۔

اس کے بعد سے یہ سلسلہ اکثر اوقات غیر رسمی اور خفیہ انداز میں کام کرنے پر مجبور ہوگیا۔ اس نکتے سے آگاہی کے بعد یہ بات واضح ہےکہ امام صادق علیہ السلام کے عہد کے سرکاری و درباری فقہاء کی فقہ کے ساتھ فقہ جعفری کا اختلاف دینی عقائد کا معمولی اور سیدھا سادا اختلاف نہ تھا بلکہ فقہ جعفری اس کے ساتھ دو اور مزاحمتی و اختلافی پہلوؤں کا بھی حامل تھا۔

ان میں سے پہلا اور زیادہ اہم پہلو یہ کہ فقہ جعفری کی رو سے حکمران طبقہ دینی شناخت سے محروم اور لوگوں کے فکری مسائل کو حل کرنے سے عاجز تھا۔

( یعنی درحقیقت وہ منصب خلافت کا اہل نہ تھا۔) دوسرا پہلو یہ کہ فقہ جعفری نے سرکاری فقہ کے اندر تحریف کے موارد کو واضح کیا۔

یہ تحریفات فقہی احکام کو بیان کرنے میں فقہاء کی مصلحت اندیشی نیز حکمرانوں کی پسند اور استبدادیت کے سامنے ان کی لحاظ داری کا نتیجہ تھیں۔

امام صادق علیہ السلام نے علم کی بساط کو وسیع ترکرکے نیز حکومت سے وابستہ علماء کی روش سے ہٹ کر فقہ، اسلامی تعالیم و معارف اور تفسیرِ قرآنی کے درسوں کا سلسلہ شروع کرکے عملی طور پر حکومتِ وقت کے ساتھ ٹکر لی تھی۔

یوں امام صادق علیہ السلام سرکاری سطح پر مرسوم مذہبی اور فقہی نظام (جو خلفا کی حکومت کا ایک اہم حصہ شمار ہوتا تھا) کو غلط ثابت کررہے تھے اور نظام حکومت کے مذہبی پہلو کو کھوکھلا قرار دے رہے تھے۔

امام صادق علیہ السلام کی علمی و فقہی بساط کے مزاحمتی مزاج پر اموی حکومت کی توجہ کس حد تک مرکوز تھی؟

اس بارے میں کوئی واضح سند ہمارے پاس موجود نہیں ہے لیکن گمانِ غالب یہی ہے کہ عباسی دور خلافت کے حکام اس بالواسطہ مزاحمتی جدوجہد کے موثر کردار پر توجہ رکھتے تھے۔

خاص کر منصور دوانیقی جو بڑا زیرک اور ذہین و فطین آدمی تھا اور اپنی خلافت سے پہلے اپنی پوری زندگی بنی امیہ کے خلاف جدوجہد میں گزارچکا تھا علوی تحریک کی سرگرمیوں اور ان میں حصہ لینے والوں کے بارے میں تفصیلی اور دقیق معلومات کا حامل تھا۔

امام علیہ السلام کی تدریسی، تعلیمی اور فقہی سرگرمیوں کے معاملے میں منصور کی بےتحاشا سخت گیری، دھمکیوں اور زبردست دباؤ (جن کا ذکر بعض تاریخی روایات میں ہوا ہے) کی ایک وجہ مذکورہ احساس اور توجہ ہے۔

اس کے علاوہ اپنے دار الحکومت میں حجاز اور عراق کے فقہاء کو جمع کرنے لئے منصور کا زبردست اصرار اور اہتمام اسی احساسِ ضرورت کا نتیجہ ہے۔

امام نے اپنے ساتھیوں اور قریبی لوگوں کے ساتھ اپنی گفتگو میں نیز انہیں اپنے علوم سے بہرہ مند کرتے وقت خلفاء کی علمی بےبضاعتی کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا کہ یہ خلفا اسلام کی نظر میں حکومت کا حق نہیں رکھتے۔

ان فرمودات میں اس دلیل کا واضح طور پر مشاہدہ ہوتا ہے۔

بالفاظ دیگر امام کے فقہی اور قرآنی دروس جس مزاحمتی موضوع کے حامل تھے اسے آپ صریحاً بھی بیان فرماتے تھے۔

ایک حدیث میں آپ سے یوں مروی ہے:

نَحْنُ قَوْمٌ فَرَضَ اللَّٰهُ طَاعَتَنَا وَ أَنْتُمْ تَأْتَمُّونَ بِمَنْ لَا يُعْذَرُ النَّاسُ بِجَهَالَتِه‏

ہم وہ ہیں جن کی اطاعت کو اللہ نے فرض قرار دیا ہے جبکہ تم لوگ ان کی پیروی کررہے ہو جن کی جہالت کی وجہ سے خدا کے ہاں لوگوں کا عذر مقبول نہیں ہوگا۔

مطلب یہ ہے کہ جولوگ نااہل حکمرانوں اور رہبروں کی جہالت کے باعث انحراف کے شکار ہوتے ہیں اور راہ خدا سے ہٹ کر کسی اور راہ پر چلتے ہیں وہ خدا کے حضور یہ عذر پیش نہیں کرسکتے کہ ہم جان بوجھ کر غلط راستے پر نہیں چلے بلکہ ہمارے پیشواؤں اور حکمرانوں نے اپنی جہالت کے باعث ہمیں اس راستے پرچلایا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کے رہبروں کی اطاعت بجائے خود ایک جرم ہے جس کے ذریعے بعد کے غلط کاموں کی توجیہ نہیں ہوسکتی ۔

امام صادق علیہ السلام سے پہلے اور آپ کے بعد والے ائمہ کی تعلیمات میں بھی یہ بات بطور آشکار موجود رہی ہے کہ انقلابی اسلامی معاشرے میں سیاسی قیادت سے مراد دینی انقلابی قیادت ہے جو قطعی طور پر فکری اور نظریاتی قیادت کے ساتھ توأم ہوتی ہے۔

ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام اپنے جد بزرگوار امام محمد باقر علیہ السلام کے بقول سلسلہ امامت کے ’’اسلحے‘‘ کو بنی اسرائیل کی گزشتہ اقوام کے ’’تابوت‘‘سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمارے ہاں کا ’’اسلحہ‘‘ بنی اسرائیل کے ہاں موجود ’’تابوت‘‘ کی طرح ہے۔

یہ تابوت جس کے پاس ہوتی تھی نبوت (بروایتے حکومت)اس کا حق ہوتی تھی۔

ہمارے ہاں بھی ’’اسلحہ‘‘ جس کے پاس ہو قیادت و امامت اسی کی ہوگی۔

اس جملے کے نہایت عمیق مفہوم اور علامتی بیان کی طرف توجہ کیجئے۔

راوی نے سوال کیا:

فَيَكُونُ السِّلَاحُ مُزَائِلًا لِلْعِلْم‏؟

یعنی کیا یہ ممکن ہے کہ کسی شخص کے پاس اسلحہ تو ہو لیکن دین کا نظریاتی علم نہ ہو؟

امام نے جواب دیا: نہیں یعنی مسلمان معاشرے کی انقلابی قیادت اس شخص کا حق ہے جو اسلحے اور علم دونوں کا حامل ہو۔

پس اما م ایک طرف سے علمِ دین اور قرآن کے درست فہم کو امامت کی شرط قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف سے علم و دانش کا دائرہ وسیع کرکے نیز اپنے پاس تشنگانِ علومِ دینی کی بڑی تعداد جمع کرکے اور انہیں مخصوص طریقے سے علم دین پڑھا کر عملی طور پر اپنی دین شناسی کو اور فہم دین سے دربار خلافت اور دربار سے وابستہ تمام نامی گرامی علماء کے تہی دامن ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔ یوں آپ نرم،عمیق اور علمی انداز میں مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں اور اپنی جدوجہد کو نئی جہت دیتے ہیں۔

امام صادق علیہ السلام کا طریقۂ تعلیم فقہ، حدیث اور تفسیر کی تعلیم کے مروجہ طریقوں سے بلکہ مجموعی طور پر دربارِ خلافت سے وابستہ علماء، محدثین اور مفسرین کے ہاں رائج دین شناسی سے مختلف تھا۔

جیسا کہ پہلے اشارہ ہوچکا ہے بنی عباس کے ابتدائی حکمران حصولِ اقتدار سے قبل سالہاسال تک بنفس نفیس علوی تحریک کے ماحول میں نیز آل علی کے پیروکاروں اور ساتھیوں کے ہمراہ رہ چکے تھے اور ان کے ہمراہ بہت سارے اسرار اور نشیب و فراز سے آگاہ ہوچکے تھے۔ اسی لئے یہ عباسی حکام اپنے اموی اسلاف سے زیادہ اس درس و تدریس اور حدیث و تفسیر کے مزاحمتی کردار کو درک کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ منصور عباسی نے امام صادق علیہ السلام کے ساتھ اپنی رذالت آمیز کشمکش کے دوران مدتوں تک آپ کو لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور انہیں دین کی تعلیم دینے سے نیز لوگوں کو امام کے پاس آنے جانے اور آپ سے سوال کرنے سے روکے رکھا۔

یہاں تک کہ مفضل بن عمر کی نقل کے مطابق جب بھی حقوقِ زوجین اور طلاق وغیرہ کے بارے میں کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ بآسانی امام سے جواب حاصل نہیں کرسکتا تھا۔

(پیشوائے صادق ص۸۸ تا ۹۵)۔

۱۲۷

خفیہ سیاسی / نظریاتی تنظیمی نیٹ ورک:

امام صادق علیہ السلام کے پدر بزرگوار اور جد بزرگوار یعنی امام سجاد اور امام باقر علیہما السلام کی زبردست جدوجہد خاص کر امام باقر کی زندگی کے اواخر میں انجام پانے والی کوششوں کے طفیل نیز اپنی کوششوں کے باعث امام صادق علیہ السلام پورے عالم اسلام میں مومنوں اور مسلمانوں کی ایک نظریاتی، خالص، انقلابی، فداکار اور خطرات میں کودنے پر تیار جماعت تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ عام لوگ نہیں تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا تعلق معاشرے کے بالائی طبقے سے تھا بلکہ ان کا تعلق محنت کشوں، مزدوروں، تاجروں اور غلاموں و غیرہ سے تھا لیکن معنوی اور فکری لحاظ سے یہ افراد عام لوگوں سے کوئی شباہت نہ رکھتے تھے۔

یہ وہ لوگ تھے جن کی زندگی ان کے ہدف اور نظرئے کےلئے وقف تھی۔

یہ لوگ ہرجگہ موجود تھے۔

عجیب بات ہے کہ امام صادق علیہ السلام کے طرفدار ہرجگہ موجود تھے۔

آپ خیال نہ کریں کہ یہ صرف مدینہ میں تھے۔

نہیں بلکہ کوفہ میں ان کی تعداد مدینہ سے زیادہ تھی یہاں تک کہ خود شام میں بھی ایسے لوگ موجود تھے۔

یہ افراد امام صادق علیہ السلام کے تنظیمی نیٹ ورک یعنی حزبِ علوی اور حزبِ تشیع کا حصہ تھے۔

امام کے تنظیمی نیٹ ورک سے مراد یہی تشیع ہے۔

یہ امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے نہفتہ اور پوشیدہ ابواب ہیں۔

راقم اس موضوع کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے۔

امام صادق علیہ السلام پورے عالم اسلام میں ایک عظیم تنظیمی نیٹ ورک اورایک کامل حزبی نظام چلا رہے تھے۔

یہ ایک بڑی خصوصیت ہے۔

( ۱۴/۶/۱۳۵۹)

۱۲۸

تنظیمی نیٹ ورک

مسلمان مملکت کے بہت سے دور افتادہ علاقوں خاص کر خراسان اور عراق کے نواحی علاقوں میں یہ تنظیمی نیٹ ورک مسئلۂ امامت کے حوالے سے زبردست ثمربخش سرگرمیوں کا محور تھا۔

البتہ یہ اصل موضوع کا صرف ایک پہلو اور اس کا ایک چھوٹا حصہ ہے۔ خفیہ تنظیمی سرگرمیوں کا مسئلہ امام صادق اور دیگر ائمہ علیہم السلام کی نشیب و فراز سے لبریز زندگی کے سب سے اہم ، سب سے پرشور، سب سے ہیجان انگیز ، سب سے مجہول اور سب سے مبہم ابواب میں سے ایک ہے۔

جیساکہ ہم پہلے عرض کرچکے اس قسم کی تنظیم کے وجود کو ثابت کرنے کےلئے صریح اور واضح اسناد و مدارک کی توقع رکھنا معقول اور درست نہیں۔اس بات کی توقع غلط ہے کہ کوئی امام یا اس امام کا کوئی قریبی ساتھی صریح الفاظ میں کسی خفیہ شیعی تنظیمی نیٹ ورک کا اعتراف کرے جو سیاسی اور فکری میدان میں مصروف عمل ہو۔ اس طرح کے امور کے اعتراف معقول نہیں ہے۔ معقول توقع تو یہ ہے کہ اگر کسی دن دشمن کو کسی رہبر کی خفیہ تنظیمی سرگرمیوں کا پتہ چل جائے اور وہ خود رہبر سے یا اس کے کسی ساتھی سے اس بارے میں استفسار کرے تو وہ اس کا سرے سے انکار کرے او راسے بدگمانی یا غلط الزام قرار دے۔

خفیہ کاموں کا دائمی تقاضا یہی ہوتا ہے۔ البتہ ائمہ علیہم السلام کی زندگی پر تحقیق کرنے والے محقق سے بھی یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ کسی معقول اور قابل قبول دلیل یا سند کے بغیر اس قسم کی تنظیم کے وجود کو تسلیم کرے۔ اس قسم کے اقرار سے قبل ضروری ہے کہ ان قرائن و شواہد نیز بظاہر معمولی اور سادہ نظر آنے والے حوادث کا جائزہ لیا جائے جو اگرچہ عام لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے لیکن غور و فکر کی صورت میں بہت سی پوشیدہ سرگرمیوں کی خبر دیتے ہیں۔اگر اس انداز فکر کے ساتھ ائمہ علیہم السلام کی ڈھائی سو سالہ زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ائمہ کے ذریعے اور ائمہ کے حق میں کام کرنے والے خفیہ تنظیمی نیٹ ورک کا وجود تقریباً مسلّمہ اور قطعی ہوجاتا ہے۔ (پیشوائے صادق ، ص۹۶، ۹۷)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۲۹

تیرھویں فصل "خفیہ تنظیمی سرگرمیاں"

تنظیم یا تنظیمی نیٹ ورک سے کیا مراد ہے؟ واضح ہے کہ یہاں اس سے مراد آج کل کی دنیا میں رائج منظم پارٹی یا تنظیم (جو علاقوں، شہروں، قصبوں و غیرہ کی سطح پر منظم تنظیمی شعبوں کی حامل ہو) نہیں ہے۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔ (ائمہ کے دور کے حوالے سے) تنظیمی نیٹ ورک کا یہ مفہوم ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت ،مشترکہ ہدف اور نصب العین کے تحت ایک مرکزی قیادت (جو اس تنظیم کے لیے دل اور مغز کی حیثیت رکھتی ہو) کے زیر نظر مختلف کاموں اور ذمہ داریوں کوا نجام دے نیز خود ان لوگوں کے درمیان قریبی روابط اور برادرانہ جذبات کار فرما ہوں۔

حضرت امام علی علیہ السلام کے دور میں (یعنی سقیفہ اور آپ کی خلافت کے درمیان حائل پچیس سالہ دور میں) یہ جماعت آپ کے اصحاب خاص سے عبارت تھی۔

یہ اصحاب اس بات کے معتقد تھے کہ حکومت اسلام کے سب سے برتر اور سب سے فداکار بطل جلیل (علی ابن ابی طالب) کا حق ہے۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علی کی جانشینی کا جو صریح اعلان فرمایا تھا وہ ان اصحاب کو یاد تھا چنانچہ انہوں نے واقعۂ سقیفہ کے بعدکے ابتدائی ایام میں بھی خلافت کی مسند تک رسائی حاصل کرنے والوں کی مخالفت اور امام علی کی حمایت کا برملا اظہار کیا۔

بعد میں جب امام علیہ السلام نے اسلام کی عظیم تر مصلحتوں کی خاطر سکوت بلکہ ابتدائی خلفا کے ساتھ تعاون کی پالیسی اپنائی تو آپ کی متابعت میں ان افراد نے بھی اسلامی معاشرے کی عام روش پر چلنا شروع کیا لیکن وہ ہرگز اپنی درست رائے، تشخیص اور برحق نقطہ نظر سے دستبردار نہیں ہوئے بلکہ ہمیشہ علی کے ہی پیروکار رہے۔

اسی لیے انہوں نے ’’شیعۂ علی‘‘ ہونے کا برحق لقب پایا۔ یہ حضرات اس فکر ی و عملی نظرئے اور ہدف کے باعث معروف ہیں۔

سلمان،ابوذر، ابی ابن کعب، مقداد، عمار اور حذیفہ و غیرہ کا شمار ان تابناک اور افتخار آفرین چہروں میں ہوتا ہے۔

تاریخی شواہد سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ جماعت شیعی طرز ِفکر (یعنی فکری اور سیاسی پیشوا کی حیثیت سے امام کی پیروی کے وجوب پر اعتقاد) کو مصلحت آمیز اور حکمت آمیز طریقوں سے لوگوں کے درمیان پھیلانے میں ہمیشہ کوشاں رہی اور بتدریج اپنے ہم خیال افراد کی تعداد بڑھاتی رہی۔ ان کی یہ پالیسی علوی حکومت کی تشکیل کےلئے ایک واجب اورضروری تمہید محسوب ہوتی تھی۔

جب ۳۵ہجری میں امیر المومنین علیہ السلام تخت حکومت پر بیٹھے تو وہ واحد گروہ جس نے شیعی معیاروں پر مکمل اعتقاد اور راسخ ایمان کے ساتھ علی علیہ السلام کی حکومت و امامت کی حمایت کی وہ انہی شیعہ افراد سے عبارت تھا۔ ان افراد نے گزشتہ پچیس سالہ دور میں امام سے بلاواسطہ او ر بالواسطہ تربیت حاصل کی تھی۔

دوسرے لوگ (یعنی اکثر لوگ) اگرچہ امام کی قیادت کے زیر سایہ زندگی گزارتے تھے اور عملی طور پر شیعی طرز فکر کی سمت میں گامزن تھے لیکن وہ اس فکری اور روحانی وابستگی سے عاری تھے جو انہیں شیعی تنظیمی حلقے میں داخل کرتی۔

اگر ہم امام علیہ السلام کے طرفداروں کے درمیان موجود اس دوگانگی کو مدنظر رکھیں تو امام کے بارے میں اس دور کے مسلمانوں کے مختلف رویوں کی توجیہ و تفسیر آسان ہوجاتی ہے۔

ان رویوں میں ایک طرف عمار یاسر، مالک اشتر، حجر بن عدی، سہل بن حنیف اور قیس بن سعد وغیرہ کا رویہ نظر آتا ہے جبکہ دوسری طرف ابوسیٰ اشعری، زیاد بن ابیہ اور سعد بن ابی وقاص وغیرہ کا رویّہ نظر آتا ہے۔صلحِ امام حسن کے بعد ایک بہت اہم کام ہوا جو شیعی طرز فکر کی ترویج اور اس مربوط جماعت کے امور کو سنوارنے سے عبارت تھا۔ اموی حکمران کے ظالمانہ تسلّط اور اموی حکومت کی طرف سے اس جماعت پر ہونے والی سختیوں کے باعث اب اس جماعت کے مزید فعال اور متحرک ہونے کا امکان بڑھ گیا تھا کیونکہ یہ ایک دائمی اصول ہے کہ منظم لوگوں پر روا رکھی جانے والی سختیاں ان لوگوں کو پراکندہ اور منتشر کرنے کی بجائے ان کے روابط کو زیادہ منظم، زیادہ راسخ اور زیادہ وسیع بنانے کی موجب بنتی ہیں۔

امام حسن علیہ السلام کی سٹریٹجی یا پالیسی یا وہ آخری علت جس کے باعث صلح کو قبول کرنا آپ کےلئے ناگزیر ہوگیا تھا درج ذیل امور سے عبارت تھی:قابل اطمینان اور خالص شیعی افرادی قوت کی جمع آوری، اموی حکومت کی شیعہ دشمن اور بےرحم سازشوں کے گزند سے ان لوگوں کی حفاظت، ایک محدود لیکن عمیق دائرے کے اندر خالص اسلامی افکار کی توسیع،قابلِ تربیت افرادی قوت کو جذب کرنا ، انہیں تشیع کے دائرے میں داخل کرنا، مناسب وقت کا انتظار کرنا اور آخرکار ایسا برمحل قیام یا اقدام کرنا جو بنی امیہ کے جاہلی نظام کو دھماکے سے اڑاکر اس کی جگہ ایک بار پھر علوی اور اسلامی نظام کو پابرجا کرے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ صلح کے بعد جب مسیب بن نجَبہ اور سلیمان بن صُرد خُزاعی کی سرکردگی میں شیعوں کی ایک جماعت مدینہ میں امام حسن علیہ السلام کے پاس گئی اور انہوں نے آپ کو نئے سرے سے لشکر مرتب کرنے اور کوفہ پر قبضہ کرنے کے بعد شامی لشکر پر حملہ آور ہونے کی تجویز دی تو امام نے ان لوگوں میں سے ان دو افراد کو منتخب کیا اور انہیں خلوت میں ملاقات کےلئے بلایا۔ آپ نے ان دلائل کے ذریعے جن کی کمیت و کیفیت کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ، ان دونوں کو اس تجویز کی ناپختگی کا قائل بنایا۔ یہاں تک کہ جب یہ دونوں اپنے ساتھیوں اور ہم سفر افراد کےپاس پہنچ گئے تو دونوں نے انہیں مختصر الفاظ میں سمجھایا کہ مسلح قیام کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے انہیں کوفہ پلٹ کر اپنے کاموں میں مصروف ہونا چاہئے۔ انہی قرائن کی روشنی میں تیز بین معاصر عرب مورّخ حسین اس بات کا معتقد ہوگیا کہ شیعوں کی منظم سیاسی سرگرمیوں کی سنگِ بنیاد اس دن اور اسی محفل میں رکھی گئی جس میں ان دو معروف شیعی شخصیات نے امام حسن علیہ السلام سے ملاقات اور گفتگو کی تھی۔

’’میری رحلت کے بعد تم لوگ بہت سی ایسی چیزیں دیکھوگے جن کے باعث تم موت کی تمنا کروگے: بےانصافی، عداوت و دشمنی، خود محوری، خدا کے حق کو معمولی سمجھنا اور جان کا خوف۔ جب ایسا ہو تو تمہیں چاہئے کہ متحد ہوکر اپنے دینی رشتے اور رابطے کےذریعے اپنی حفاظت کرو اور اختلاف و پراکندگی سے احتراز کرو۔ مقاومت، نماز (یاد الٰہی) اور تقیہ (خفیہ جدوجہد) کو اپنا وطیرہ بناؤ اور جان لو کہ اللہ تعالی رنگین مزاج اورہردم بدلتے رہنے والے بندوں سے ناراض ہوتا ہے۔حق اور اہل حق کی رعایت سے چشم پوشی نہ کرو، کیونکہ جو شخص ہمارے بدلے کسی اور کا انتخاب کرے گا وہ دنیا سے محروم ہوگا اور اس جہاں سے گناہگار بن کرخصت ہوجائےگا‘‘ ۔

اس گفتگو میں امام حسن علیہ السلام نے واضح طور پر اموی دور کی آشفتہ حالی کے اہم ترین موارد کی تصویر کشی فرمائی ہے نیز شیعوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو منظم اور ہماہنگ کریں۔

۱۳۰

یہ گفتگو شیعی تنظیم کے بارے میں موجود دلچسپ ترین اسناد میں سے ایک ہے۔

امام حسن علیہ السلام کے ساتھ دو اہم ترین شیعہ شخصیات کی ملاقات میں اسی منصوبے کو عملی اور حقیقی شکل دی گئی۔ یقینی بات ہے کہ سارے شیعہ اور امام کے سب پیروکار اس نہایت حکیمانہ وعاقلانہ منصوبے سے آشنا نہ تھے۔

امام کے حامیوں کی طرف سے آپ پر ہونے والے اعتراضات کی وجہ بھی یہی تھی۔ لیکن امام کا جواب اسی سیاسی تدبیر کی طرف خفیہ اشارہ تھا۔

آپ نے تقریباً کئی بار اس قسم کا جواب دیا: ’’کیا خبر کہ شاید یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہو اور (تمہارے دشمن کےلئے) محدود اور زوال پذیر فائدے کا موجب ہو۔

معاویہ کی بیس سالہ جابرانہ حکومت کے پورے عرصے میں ملک کے تمام گوشوں میں علی اور آل علی کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈوں کے باوجود جن کا ذکر مورخین نے کیا ہے (یہاں تک کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام پر لعن اور سب و شتم کی رسم ہر جگہ رائج ہوچکی تھی) نیز امام حسن اور امام حسینعلیہما السلام کی طرف سے کسی واضح اور نمایاں جدوجہد کے مشہود نہ ہونے کے باوجود جس چیز نے شیعی نظریات کی پیشرفت اور پورے حجاز و عراق میں شیعوں کی تعداد میں اضافے کو ممکن بنایا وہ ان لوگوں کا یہی تنظیمی ارتباط ہے۔

صلح کے بیس سال بعد ان علاقوں کی جو فکری صورتحال تھی اس پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفہ میں شیعہ شخصیات ہی وہاں کے نامور ترین اور معروف ترین چہرے تھے۔ مکہ ومدینہ یہاں تک کہ بعض دور دراز علاقوں میں پھیلے ہوئے شیعہ عناصر زنجیر کے حلقوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل اور ایک دوسرے کے حالات سے آشنا تھے۔ جب کچھ سالوں بعد ایک شیعہ سرکردہ شخصیت (یعنی حجر بن عدی) شہید کیے گئے تو ملک کے بعض حصوں میں شدید پابندیوں کے باوجود اعتراض اور احتجاج کی آواز بلند ہوئی اور خراسان کی ایک معروف شخصیت نے خشم آلود احتجاج کے بعد شدتِ غم سے جان دےدی ۔

معاویہ کی موت کے بعد ہزاروں لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھا اور آپ کو قیام کی خاطر کوفہ آنے کی دعوت دی۔ امام کی شہادت کے بعد دسیوں ہزار لوگ آپ کا انتقام لینے والوں کے ساتھ ملحق ہوگئے اور توابین کے ساتھ یا مختار اور ابراہیم بن مالک اشتر کے لشکروں میں شامل ہوکر اموی حکومت سے نبرد آزما ہوئے۔

جوکوئی تاریخ ِاسلام کا مطالعہ کرے وہ اپنے آپ سے یہ سوال کرےگا: کیا شیعی افکار اور میلانات کا اس حد تک رائج ہونا شیعوں کی منظم اور نپی تلی جدوجہد کے بغیر ممکن اور معقول ہے؟

یعنی کیا ایک ہی مقصد کے تحت متحد شیعی جماعت (وہی تنظیمی نیٹ ورک جس کے وجود میں آنے کا اندازہ امام حسین علیہ السلام نے صلح امام حسن کے فوراً بعد لگایا تھا) کی کوششوں کے بغیر یہ ممکن ہے؟

اس سوال کا جواب یقیناً منفی ہے۔ اموی حکومت کے منظم پروپیگنڈوں کےلئے سینکڑوں قاضی، قاری، خطیب اور والی سرگرم عمل تھے۔ ان پروپیگنڈوں کا جواب دینا اور بعض مقامات پر ان کو بے اثر بنانا اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک ایک منظم ، ہماہنگ اور خفیہ گروہ کی جانب سے ایک اور منظم تبلیغی جدوجہد کا اہتمام نہ کیاجاتا۔

معاویہ کی زندگی کے آخری ایام میں یہ منظم جدوجہد مزید تیز ہوگئی یہاں تک کہ مدینہ کے گورنر نے امام حسین علیہ السلام کی سرگرمیوں کے بارے میں معاویہ کو لکھا: ’’اما بعد عمر بن عثمان (متعلقہ جاسوس) نے رپوٹ دی ہے کہ عراق کے کچھ لوگ اور حجاز کے بعض معروف افراد حسین کے ساتھ رفت و آمد رکھتے ہیں اور گمان ہے کہ وہ قیام کرےگا۔ میں نے اس بارے میں جستجو کی تو معلوم ہوا کہ وہ (حسین) اس وقت مخالفت کا پرچم بلند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اپنے نقطہ نظر اور حکم سے مطلع کیجئے‘‘۔

واقعہ کربلا اورامام حسین کی شہادت کے بعد عراق کے اندر شیعوں کی منظم سرگرمیاں پہلے سے کہیں زیادہ منظم، فعال اور تیز ہوگئیں۔ یہ شیعیانِ کوفہ کے نفسیاتی ردّ عمل کا ثمرہ تھا۔ (بہت سے کوفی شیعہ دربارِ خلافت کے کریک ڈاؤن کے باعث غفلت میں اچانک پھنس گئے تھے اور عاشورا کی جنگ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔) ان لوگوں کا سوزِ تاسف اور اندرونی کرب ان کے جذبۂ عمل کےلئے مہمیز ثابت ہورہا تھا۔

تیسری صدی ہجری کے معروف مورخ طبری لکھتے ہیں:

یہ لوگ (شیعہ) اسلحہ جمع کرنے، جنگی تیاری کرنے اور خونِ حسین کا انتقام لینےکےلئے خفیہ طریقے سے لوگوں کو (خواہ وہ شیعہ ہوں یا غیر شیعہ) دعوت دینے میں مسلسل مصروف رہے۔

لوگ جوق در جوق ان کے ساتھ ملحق ہوتے اور ان کی دعوت پر لبیک کہتے رہے۔

یہ سلسلہ یونہی جاری رہا یہاں تک کہ یزید مرگیا ۔

کتاب ’’جہاد الشیعہ‘‘کے مولف نے بجا کہا ہے کہ ’’حسین کی شہادت کے بعد شیعہ لوگ ایک مربوط اور منظم جماعت کی صورت میں ظاہر ہوئے۔

وہ سیاسی رشتوں اور مذہبی عقائد کے باعث متحد تھے۔ ان کے قائدین اور جنگجو عناصر آپس میں ملتے رہتے تھے۔ اس جماعت کا پہلا اظہارِ وجود توابین کی شکل میں ہوا ۔

۱۳۱

تاریخی واقعات کے مطالعے اور ان مورخین کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر معاویہ کے حوادث اورا مام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی منصوبہ بندی و قیادت کرنے اور آگے بڑھ کر ان کو منصۂ شہود پر لانے والے عناصر شیعہ ہی تھے و گرنہ ایسے عام لوگوں کی کمی نہ تھی جو انسانی مقاصد کی خاطر یا اموی حکومت سے ناراضگی کے باعث یا دیگر علل و اہداف کی بناپر شیعوں کےساتھ مل کر جنگوں میں شرکت کرتے تھے یا شیعی رنگ میں رنگے ہوئے اقدامات میں شریک ہوتے تھے۔

بنابریں یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ تاریخ کے اس دور کے گوناگوں واقعات میں شرکت کرنے اور ان میں فعال یا عام نوعیت کا کردار ادا کرنے والے سارے لوگ شیعہ یعنی ائمہ کی سوچی سمجھی اور منظم تنظیم میں شامل تھے۔

مذکورہ بالا وضاحت کی روشنی میں زور دےکر یہ بات کہوں گا کہ اس دور (یعنی امام حسین کی شہادت کے بعد والے دور)تک لفظ شیعہ کا اطلاق امیر المومنین علیہ السلام کے دور کی طرح صرف ان لوگوں پر ہوتا تھا جو فکرو عمل کے لحاظ سے امام ِبرحق کے ساتھ مضبوط اور واضح رابطے کے حامل ہوں۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے صلح امام حسن کے بعد آپ کے حکم سے شیعوں کا منظم و مربوط تنظیمی نیٹ ورک قائم کیا۔ انہی لوگوں نے وسیع پیمانے پر اپنے عمیق تبلیغ کے ذریعے بہت سے لوگوں کو اس تنظیمی ڈھانچے میں شامل کیا اور اس سے زیادہ لوگوں کو جو نظریاتی طور پر ان کے ہم سطح اور ان جیسے نہ تھے تشیع سے روشناس کرایا۔ اس بحث کے آغاز میں ہم نے امام صادق علیہ السلام کی جس روایت کا ذکر کیا (جس میں مومنین کی تعداد صرف تین یا پانچ بتائی گئی تھی) اس میں مذکور مومنین سے یہی لوگ مراد ہیں یعنی ائمہ کے وہ مضبوط اور ثابت قدم شیعہ یا پیروکار جو علوی اور ہاشمی انقلاب کی ارتقائی و تکاملی جدوجہد میں آگاہی کے ساتھ موثر کردار ادا کررہے تھے۔

امام سجاد علیہ السلام کی ان خفیہ کوششوں کے باعث جو بظاہر نرم پالیس پر مبنی تھیں اس مخلص جماعت نے ان عناصر کو جو اہل بیت کی پیروکاری کی صلاحیت رکھتے تھے پالیا اور انہیں اپنے دائرے میں شامل کیا اور ان کی تعداد میں اضافہ کیا۔ یوں امام صادق علیہ السلام کی مذکورہ بالا روایت کے مطابق لوگ ان سے ملحق ہوتے گئے اور ان کی تعداد زیادہ ہوگئی۔ امام سجادؑ، امام باقر اور امام صادق علیہ السلام کے ادوار میں اسی گروہ کی حکومت مخالف کوششوں کے باعث دربارِ خلافت کے روساء خوف و ہراس میں مبتلا ہوتے تھے اور گاہے تشدد آمیز کاروائیوں پر اتر آتے تھے۔

خلاصہ یہ کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں اور عصر ائمہ کے شیعہ معاشرے میں نیز غیر شیعہ لوگوں کے عرف میں لفظ شیعہ کا اطلاق اس شخص پر نہیں ہوتا تھا جو اہل بیت سے صرف قلبی محبت رکھتا ہو یا ان کی حقانیت اور ان کی دعوت کی سچائی کا معتقد ہو (لیکن امام کی قیادت میں ہونے ہونے والی جدوجہد میں شریک نہ ہو)۔ اس کے علاوہ شیعہ ہونے کی ایک اور بنیادی و قطعی شرط یہ تھی کہ انسان فکری اور عملی طور پر امام سے وابستہ ہو اور امام کی قیادت میں ہونے والی اس جدوجہد میں شریک ہو جس کا مقصد اہل بیت کے غصب شدہ حق کی بازیابی نیز فکری،سیاسی اور گاہے عسکری زاویوں سے اسلامی اور علوی نظام کی تشکیل سے عبارت تھا۔

یہ رابطہ وہی ہے جسے شیعی ثقافت میں ’’ولایت‘‘ کہاجاتا ہے۔

درحقیقت ائمہ کی جماعت یا پارٹی کا نام ’’شیعہ‘‘ تھا یعنی وہ حزب یا پارٹی جو امام کی قیادت میں مخصوص سرگرمیوں میں مصروفِ عمل تھی نیز دیگر حکومت مخالف احزاب اور تنظیموں کی طرح ظالمانہ پابندیوں کے دوران چھپ کر اور تقیہ کی حالت میں زندگی گزارتی تھی۔

یہ ائمہ معصومین علیہم السلام خاص کر امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے غائرانہ مطالعے کا خلاصہ اور لبّ لباب ہے۔

جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ وہ حقیقت ہے جس کے اثبات کےلئے صریح دلائل کی ضرورت نہیں کیونکہ کسی خفیہ ٹھکانے کے دروازے پر ایک ایسے سائن بورڈ کو ڈھونڈنا عبث اور غلط ہے جس پر لکھا ہو: ’’یہ ایک خفیہ ٹھکانہ ہے‘‘۔

البتہ قطعی اور یقینی قرائن کے بغیر اسے مسلّمہ قرار دینا بھی درست نہیں ہے۔بنابریں ہمیں چاہئے کہ قرائن و شواہد اور اشارات کی جستجو کریں۔ (پیشوای صادق، ص۹۷ تا ۱۰۷)۔

۱۳۲

چودھویں فصل : "امام کاظم علیہ السلام "

حضرت ابوالحسن موسیٰ بن جعفرعلیہما السلام کی امامت کا ۳۵ سالہ دور (۱۴۸ھ تا ۱۸۳ھ) ائمہ معصومینعلیہم السلام کی تاریخِ زندگی کے اہم ترین ادوار میں سے ایک ہے۔ بنی عباس کے دو مقتدر ترین حکمرانوں (منصور اور ہارون) نیز ان کے دو ظالم ترین خلیفوں (مہدی اور ہادی) نے اسی دور میں حکومت کی۔ اس دور کی بات ہے کہ خراسان، افریقہ، جزیرۂ موصل، دیلمان، جرجان، شام، نصیبین، مصر، آذربائیجان، آرمینیہ اور دیگر علاقوں میں سر اٹھانے والی بہت سی شورشوں، بغاوتوں اور باغیوں کی سرکوبی عمل میں آئی اور وہاں کے لوگ حکومت کے تابع فرمان ہوئے۔ علاوہ ازیں وسیع و عریض اسلامی مملک کی مشرقی، جنوبی اور شمالی سرحدوں کی جانب نئی فتوحات کے باعث نیز وہاں سے حاصل ہونے والے بےتحاشا اموال و غنائم کی بدولت عباسی اقتدار کے استحکام میں اضافہ ہوا۔

اس دوران بعض فکری و اعتقادی تحریکوں کو عروج حاصل ہوا اور بعض کی ابتدا ہوئی۔ یوں معاشرے میں فکری و دینی انتشار اور تعارضات کی بھر مار ہوگئی۔

اربابِ اقتدار نے اس صورتحال کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا۔ اس ذہنی خلفشار سے لوگوں کی اسلامی اور سیاسی بیداری پر کاری ضرب لگی۔

یوں اسلام کی حقیقی تعلیمات اور علوی دعوت کے پرچمداورں کی سرگرمیوں کا میدان تنگ اور دشوار ہوگیا۔ شعر و ہنر،فنون اور فقہ وحدیث یہاں تک کہ زہد وتقوی بھی اربابِ اقتدار کی خدمت کا ذریعہ بن گئے اور حکمرانوں نے دولت اور طاقت کےہتھکنڈے کی طرح ان امور سے بھی خوب استفادہ کیا۔

یہ دور نہ اموی دور کے آخری سالوں کے مشابہہ تھا، نہ عباسی دور کے ابتدائی دس سالوں کی طرح تھا اور نہ ہارون کی موت کےبعد والے ایام کے مانند تھا کیونکہ ان تمام ادوار میں حکومت وقت کو خطرات درپیش تھے لیکن اب دربار خلافت کو کوئی خاص خطرہ درپیش نہ تھا جو خلیفہ کو اہل بیت علیہم السلام کی عمیق اور دائمی دعوت سے غافل بنادے۔

اس دوران وہ واحد چیز جو اہل بیت علیہ السلام اور ان کے سچے مددگاروں کی فکری و سیاسی تحریک اور جدوجہد کو پروان چڑھنے اور تسلسل کے ساتھ جاری رہنے کا موقع فراہم کر رہی تھی وہ ان بزرگ ہستیوں کی انتھک کوششوں، خطر آمیز جہاد اور تقیہ کے اسلامی اصول سے عبارت تھی۔ یہیں سے حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ و علی آبائہ التحیۃ و السلام کےجہاد کی حیرت انگیز اور تعجب خیز عظمت آشکار ہوتی ہے۔

عرض کروں کہ تاریخ اسلام پر تحقیق کرنے والوں نے امام موسیٰ ابن جعفر علیہ السلام کی زندگی کا جائزہ لیتے وقت اس امام ہُمام کے طویل عرصے تک ہارون کی قید میں محبوس رہنے کے عظیم اور عدیم المثال سانحے کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی ہے اور اس مسئلے پر خوب غور وخوض نہیں کیا ہے۔ یوں وہ اس امام عالیمقام کے بےنظیر جہاد سے غافل رہےہیں۔

اس عظیم المرتبت امام کا زندگی نامہ لکھتے وقت آپ کی ۳۵ سالہ زندگی کو محیط منظم اور مسلسل جہادی راستے کو مد نظر رکھے بغیر مختلف حالات و حوادث کا غیر مربوط جائزہ پیش کرنا اور رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس پاک فرزند کے پاکیزہ علمی و معنوی مقام پر زور دینا نیز آل محمد، ان کے اصحاب اور ان کے شاگردوں کے حالات پر تبصرہ کرنا اور ان کے علمی و اعتقادی مباحثات و غیرہ کا تذکرہ کرنا ناقص اور نامکمل ہیں۔

امام کے اس جہادی راستے کی تشریح و تبیین ہی آپ کی پرفیض زندگی کے سارے اجزاء کو ایک دوسرے سے مربوط کرسکتی ہے

نیز ایک ایسی واضح، کامل اور بامقصد تصویر پیش کرسکتی ہے جس کے اندر ہر واقعہ،ہر حادثہ، ہر حرکت اور ہر چیز بامعنی اور باہدف نظر آتی ہے۔

کیا وجہ ہے کہ امام صادق مفضّل سے فرماتے ہیں:

اس نوجوان کی امامت کا تذکرہ صرف قابل اعتماد اور موثق افراد کے پاس کرو؟

کیا وجہ ہے کہ آپ عبد الرحمٰن بن حجاج سے بطور صریح فرمانے کی بجائے بطور کنایہ فرماتے ہیں: ’’یہ زرہ اس کے بدن کے عین مطابق ہے‘‘؟

کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے قریبی ساتھیوں مثلاً صفوان جمال و غیرہ کے پاس مستقبل کے امام کا تعارف علامات اور نشانیوں کے ذریعے فرماتے ہیں؟

کیا وجہ ہےکہ آپ اپنے وصیت نامے میں اپنے وصی بیٹے کا نام چار افراد کے ناموں کے بعد لاتے ہیں جن میں سب سے پہلا منصور عباسی، پھر حاکم مدینہ، پھر دو عورتیں ہیں ؟

اسی لئے آپ کی رحلت کے بعد بعض شیعہ بزرگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کا جانشین یہی بیس سالہ جوان ہے۔

کیا وجہ ہے کہ آپ ہارون سے نرم اور انکار آمیز لہجے میں فرماتے ہیں:

"خَلِيفَتَانِ يَجِي‏ءُ إِلَيْهِمَا الْخَرَاجُ "

لیکن شروع میں ایک زاہد اور موثر شخصیت یعنی حسن بن عبد اللہ سے گفتگو کرتے وقت آپ معرفتِ امام کی بات کرتے ہیں اور اپنا تعارف واجب الاطاعت امام کے طور پر کراتے ہیں؟

گویا آپ فرماتے ہیں کہ آپ اس منصب کے حقدار ہیں جس پر اُس دن عباسی خلیفہ ہارون متمکن تھا۔

کیا وجہ ہے کہ آپ علی بن یقطین کو جو ہارون کی حکومت کے اندر بلند منصب پر فائز تھا اور آپ کا دلدادہ تھا تقیہ آمیز عمل کا حکم دیتے ہیں لیکن اسی حکومت کی خدمت کرنے پر صفوان جمال کی سرزنش فرماتے ہیں اور اسے خلیفہ سے رابطہ توڑنے کا حکم دیتے ہیں؟

آپ کس طرح اور کس وسیلے سے اسلام کی وسیع و عریض قلمرو میں اپنے دوستوں اور حامیوں کے درمیان اس قدر زیادہ رابطہ برقرار کرتے ہیں اور باہمی روابط کا ایک ایسا وسیع نیٹ ورک قائم کرتےہیں جس کا دائرہ چین تک پھیلا ہوا تھا؟ کیا وجہ ہے کہ منصور، مہدی، ہارون اور ہادی اپنے اپنے دور میں آپ کو قتل کرنے، قید کرنے اور شہر بدر کرنے پر کمر بستہ ہوتے ہیں؟

بعض روایات کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ امام نے اپنے ۳۵ سالہ دور میں کچھ عرصے تک مخفی زندگی گزاری تھی۔ اس دوران آپ شام کی بعض بستیوں یا طبرستان کے بعض علاقوں میں چلے گئے تھے اور خلیفۂ وقت کی طرف سے آپ کا پیچھا کیا گیا تھا اور آپ نے اپنے حامیوں سے فرمایا تھا: اگر خلیفہ میرے بارے میں تم سے سوال کرے تو کہنا: ہم اسے نہیں جانتے اور ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے۔

آخر ان سب باتوں کی کیا وجہ تھی؟

کیا وجہ ہے کہ حج کے ایک سفر میں ہارون نے آپ کی خوب تعظیم و تکریم کی جبکہ دوسرے سفر میں آپ کو قید کرنے اور شہر بدر کرنے کا حکم دیا؟

کیا وجہ ہے کہ جب ہارون نے اپنی خلافت کے ابتدائی عرصے میں ملائمت، نرمی اور بخشش پر مبنی رویہ اپنایا تھا اور علویوں کو زندانوں سے آزاد کیا تھا تو اس وقت امام کاظم علیہ السلام نے فدک کی ایسی تعریف پیش کی جو وسیع اسلامی مملکت پر منطبق ہوتی تھی یعنی باغ فدک کی طرح وسیع و عریض اسلامی مملکت پر آپ کی حکمرانی کا حق ثابت کرتی تھی، یہاں تک کہ خلیفہ نے بطور کنایہ کہا: پس آؤ اور میری جگہ بیٹھ جاؤ؟

کیا وجہ ہے کہ خلیفہ کی یہی نرمی کئی سال بعد اس قدر سختی میں بدل جاتی ہے کہ وہ آپ کو سخت طریقے سے قید کرتا ہے اور سالہا سال تک قید رکھنے کے بعد اس قیدی کے مقید وجود کو بھی برداشت نہیں کرتا اور ظلم کا پہاڑ ڈھاتے ہوئے آپ کو زہر دے کر شہید کرتا ہے؟

ان کے علاوہ امام کی زندگی میں سینکڑوں دیگر قابلِ توجہ اور معنی خیز حوادث نظر آتے ہیں جو بظاہر ایک دوسرے سے غیر مربوط اور گاہے متناقض معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ سب اُس وقت ایک مربوط معنی و مفہوم کے حامل بن جاتے ہیں جب ہم اس تسلسل آمیز لڑی میں ان سب حقائق کو پروئیں جو آپ کی امامت کے آغاز سے لےکر آپ کی شہادت کے لمحے تک پھیلی ہوئی ہیں۔

یہ لڑی ائمہ کی جدوجہد اور جہاد کا وہی راستہ ہے جس کا تسلسل ڈھائی سو سال تک مختلف شکلوں میں برقرار رہا۔

۱۳۳

اس جدوجہد کا مقصد

اولاً: حقیقی اسلام کی تبیین، قرآن کی سچی تفسیر اور اسلامی معارف کی واضح تصویر کشی،

ثانیاً :اسلامی معاشرے میں مسئلہ امامت اور سیاسی حاکمیت کی تشریح اور ثالثاً اسلامی معاشرے کی تشکیل نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام انبیاء علیہ السلام کے ہدف یعنی عدل وانصاف کے عملی نفاذ، حکومت کے منظر نامے سے شرک کے خاتمے اور زندگی کے امور کی لگام اللہ کے حقیقی خلفاء اور صالح بندوں کے حوالے کرنے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔

حضرت امام موسیٰ بن جعفرعلیہما السلام نے بھی اپنی پوری زندگی اس مقدس جہاد کےلئے وقف کردی تھی۔ آپ نے اسی مقصد کی تکمیل کےلئے تدریس و تعلیم، فقہ و حدیث اور تقیہ وتربیت کی روش اپنائی۔البتہ آپ کے دور کی بعض الگ خصوصیات تھیں۔ اسی لئے وقت کی مناسبت سے آپ کا جہاد بھی خاص جہات کا حامل تھا۔ یہی حال دیگر آٹھ اماموں کا ہے جن کا دور امام سجاد علیہ السلام کے زمانے سے لے کر حضرت امام عسکری علیہ السلام کے زمانے تک پھیلا ہوا ہے۔ان میں سے ہر امام یا ایک سے زیادہ اماموں کا زمانہ مخصوص جہات کا حامل تھا جس کے نتیجے میں ان کے جہاد کی نوعیت بھی مختلف تھی۔ ان ائمہ کی مجموعی زندگی ائمہ کی ڈھائی سوسالہ زندگی کے چوتھے حصے کو تشکیل دیتی ہے جبکہ یہ مرحلہ یا حصہ بجائے خود کئی مراحل میں تقسیم ہوتا ہے۔

( ۲۶/۷/۱۳۶۸ ھ ش)

انتھک جدوجہد اور تقیہ پر عمل:

امام موسی بن جعفرعلیہما السلام کی زندگی ایک حیرت انگیز اور تعجب خیز زندگی تھی۔

پہلی بات تو یہ کہ موسی بن جعفر علیہ السلام کی زندگی کا مقصد آپ کے قریبی افراد کےلئے واضح تھا۔

آپ کے قریبی لوگوں اور خاص اصحاب میں سے ہر ایک کو علم تھا کہ آپ کی کوششوں کا ہدف کیا ہے۔

حضرت موسیٰ بن جعفرعلیہما السلام بذات خود اپنے واضح بیانات اور اشارات میں نیز اپنے رمزی کاموں میں دوسروں کو اس بات سے آگاہ کرتے تھے۔

امام علیہ السلام کی جائے سکونت اور آپ کے مخصوص کمرے میں بھی اسی قسم کا ماحول تھا۔

راوی (جو امام کا قریبی تھا )کہتا ہے: میں آپ کے کمرے میں داخل ہوا۔

وہاں میں نے تین چیزیں دیکھیں: ایک کھردرا لباس جو عام خوشحال لوگوں کے معیار سے دور تھا۔

آج کل کی اصطلاح میں یہ سمجھا اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک جنگی لباس تھا۔

موسی ابن جعفر علیہ السلام نے یہ لباس ایک علامتی لباس کے طور پر وہاں رکھا تھا لیکن اسے پہنا نہیں۔

اس کے علاوہ کمرے میں ایک تلوار لٹک رہی تھی:

سَیفٌ مُعَلَّقٌ

یا دیوار کے ساتھ یا چھت کے ساتھ۔

وَمُصحَفٌ یعنی تیسری چیز اللہ کی کتا ب تھی۔

ملاحظہ ہو کہ اس کمرے میں کس قسم کی علامتی اور خوبصورت چیزیں رکھی گئی تھیں۔

امام علیہ السلام کے جس خصوصی کمرے میں آپ کے خاص اصحاب کے علاوہ کوئی نہیں پہنچ سکتا تھا وہاں ایک نظریاتی جنگجو انسان کی نشانیوں کا ملاحظہ ہوتا ہے۔

ایک تلوار ہے جو یہ بتا رہی ہے کہ آپ کا ہدف جہاد ہے۔

ایک کھردرا لباس ہے جو زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ وسیلہ ایک دشوار، جہادی اور انقلابی زندگی ہے۔ ادھر ایک قرآن ہے جو اس بات کا ترجمان ہے کہ اصل مقصود ان وسائل کے ساتھ قرآنی زندگی تک رسائی ہے جس کے لئے ہم سختیاں برداشت کریں گے۔ امام کے دشمنوں کو بھی اس بات کا اندازہ تھا۔

حضرت موسی ابن جعفر علیہ السلام کی زندگی یعنی آپ کی امامت کا آغاز سخت ترین حالات میں ہوا۔۔میرے گمان کے مطابق امام سجاد علیہ السلام کے دور کے بعد کوئی دور حضرت موسی ابن جعفر علیہ السلام کے دور سے زیادہ سخت نہیں تھا۔

حضرت موسی ابن جعفر علیہ السلام ۱۴۸ھ میں اپنے والد بزرگوار امام صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے۔

اس وقت کی صورتحال کچھ یوں ہے کہ بنی عباس اپنی ابتدائی جھڑپوں، اندرونی اختلافات اور اپنی خلافت کے ابتدائی دور میں خود بنی عباس کے درمیان ہونے والی جنگوں سے فارغ البال ہوچکے تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے باغیوں کو جو ان کی خلافت کے لیے خطرہ تھے سرکوب کیا تھا۔ ان باغیوں میں بنی الحسن یعنی محمد بن عبداللہ بن حسن ، ابراہیم بن عبداللہ بن حسن، اور امام حسن علیہ السلام کی دیگر اولاد شامل تھے۔انہوں نے بنی عباس کے خلاف شورش اور مزاحمت کی تھی لیکن اب ان سب کی سرکوبی ہو چکی تھی۔

بنی عباس نے بہت سے اہم مخالفین اور باغیوں کو قتل کیا تھا۔ منصور عباسی کی موت کے بعد جب ایک بڑے گودام کو کھولا گیا تو معلوم ہوا کہ بہت سی اہم شخصیات اور افراد ان کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔ان کی لاشیں ایک جگہ رکھی گئی تھیں اور ان مقتولوں کے ڈھانچے وہاں آشکار تھے۔

منصور نے اولادِ حسن ،بنی ہاشم ،اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں میں سے بہت سے معروف اور نمایاں افراد کو قتل کیا جن کی ہڈیوں کا ایک ڈھیر بن گیا تھا۔

جب وہ ان تمام کاموں سے فارغ ہوا تو امام صادق علیہ السلام کی باری آئی۔

اس نے امام صادق کو بھی مکر اور حیلے سے زہر دیا۔ اب بنی عباس کی سیاسی زندگی کے افق پر کوئی خطرہ باقی نہیں رہا تھا۔ ان حالات میں جب منصور مسندِ اقتدار کے اوج ِکمال پر براجمان ہو کر زندگی گزار رہا تھاموسی ابن جعفر علیہ الصلاۃ و السلام کی خلافت کی نوبت آگئی۔

آپ ایک نو عمر جوان تھےاور آپ کی کڑی نگرانی ہو رہی تھی۔

اسی لئے جو لوگ امام صادق علیہ السلام کے بعد اپنے پیشوا کو پہچاننے کے خواہاں تھے وہ مشکل سے آپ تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ موسی ابن جعفر علیہ السلام انہیں محتاط رہنے کی تلقین کرتے اور فرماتے تھے: اگر حکومت کو پتہ چل گیا کہ تم نے میری باتیں سنی ہیں، مجھ سے تعلیمات حاصل کی ہیں اور مجھ سے رابطہ قائم کیا ہے تو وہ تمہیں ذبح اور قتل کریں گے۔

پس ہوشیار اور محتاط رہو۔ موسی ابن جعفر نے ان ناگفتہ بہ حالات میں امامت کی زمام سنبھالی اور اپنی مزاحمتی جدوجہد کا آغاز کیا۔

اب اگر آپ یہ سوال کریں کہ موسی بن جعفر علیہ السلام نے امام بننے کے بعد کس طرح اپنی مزاحمتی جدوجہد شروع کی ،کیا اقدامات کیے،کن لوگوں کو جمع کیا، آپ کہاں کہاں گئے اور ان ۳۵/سالوں کے دوران موسی بن جعفر کن کن حوادث سے روبرو ہوئے تو بد قسمتی سے میرے پاس ان سوالات کے واضح جوابات نہیں ہیں۔

۱۳۴

صدر اسلام کی تاریخ میں تحقیق کرنے والے شخص کے لئے یہ ایک سخت کربناک اور افسوسناک مرحلہ ہے کہ ہمارے پاس معلومات کا فقدان ہے۔ اس ۳۵ سالہ منظم اور مرتب زندگی کے بارے میں کسی کے پاس معلومات نہیں۔اسی لئے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اس بارے میں کتابیں نہیں لکھی گئیں ہیں اور تحقیقی کام نہیں ہوا ہے جبکہ اس کی سخت ضرورت ہے۔ کچھ پراکندہ اور بکھری ہوئی باتیں ملتی ہیں جن کے مجموعی مطالعے سے بہت کچھ سمجھا جا سکتا ہے۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام کے ۳۵ سالہ دورِ امامت میں چار افراد خلیفہ بنے۔ ان میں سے ایک منصور عباسی ہے۔موسی بن جعفر علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی دس سالوں کے دوران منصور حکمران رہا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا مہدی دس سال تک خلیفہ بنا رہا۔ مہدی کے بعد اس کا بیٹا ہادی ایک سال تک خلیفہ رہا۔

اس کے بعد ہارون رشید کا دور آیا۔ ہارون کی خلافت کے تقریبا ً بارہ تیرہ سالوں کے دوران موسی ابن جعفر علیہ الصلاۃ و السلام امامت کی دعوت و تبلیغ میں مشغول رہے۔

ان چار خلفا میں سے ہر ایک نے موسی ابن جعفرکو کسی نہ کسی طرح سے ستایا اور دباؤ کا شکار رکھا۔ منصور نے امام کو دعوت دی۔ یعنی آپ کو شہر بدر کرتے ہوئے جبراً بغداد بلایا۔ یوں آپ مدینہ سے بغداد لائے گئے۔ ایک عرصے تک آپ بغداد میں حکومت کی کڑی نگرانی میں اور سخت دباؤ کے تحت زندگی گزارتے رہے۔

۱۳۵

روایات کی رو سے آپ کو بہت سی مشکلات میں مبتلا رکھا گیا۔

یہ ایک واقعہ ہے (کئی وقائع میں سے) اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کتنے عرصے تک جاری رہا۔ ایک بار منصور کے زمانے میں آپ کو عراق کے ایک علاقے ’’ابجر‘‘ کی جانب شہر بدر کیا گیا جہاں آپ نے کچھ عرصہ گزارا۔ راوی کہتا ہے: میں وہاں موسی بن جعفرعلیہما السلامکی خدمت میں پہنچا۔ وہاں آپ نے فلان بات کی اور فلان کام کیا۔۔۔ مہدی عباسی کے دور میں آپ علیہ السلام کم از کم ایک بار مدینہ سے بغداد لائے گئے۔

راوی کہتا ہے: جب امام پہلی بار بغداد لےجائے جارہے تھے تب میں راستے میں امام سے ملا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی عباس امام کو کئی بار مدینہ سے جبرا لےگئے تھے۔

میرا خیال ہے کہ خلیفہ مہدی کے دور میں آپ کو دو تین مرتبہ بغداد لےگئےتھے)

راوی کہتا ہے: میں نے افسوس اور کرب کا اظہار کیا۔

آپ(علیہ السلام) فرمایا: پریشان نہ ہونا کیونکہ میں اس سفر سے صحیح و سالم واپس لوٹوں گا۔

یہ لوگ اس سفر میں مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہ مہدی کے دور کی بات ہے۔

عباسی خلیفہ ہادی کے دور میں بھی امام کو شہید کرنے کے ارادے سے بغداد بلانے کا منصوبہ بنایا گیاتھا۔

۱۳۶

ہادی عباسی کے قریبی فقہاء میں سے ایک کو یہ بات ناگوار گزری اور اس کو ترس آیا کہ رسول کے فرزند کے ساتھ اس قسم کی سختی برتی جائے۔ چنانچہ اس نے سفارش کی اور ہادی عباسی نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ ہارون کے زمانے میں بھی آپ بغداد لائے گئے اور طویل مدت تک مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر آپ کو قید و بند میں رکھا گیا۔

میرے خیال میں ہارون کےدور میں بھی آپ علیہ السلام ایک سے زائد بار مدینہ سے نکالے گئے۔ البتہ ایک بار تو قطعی اور مسلّمہ ہے۔

آخر کار آپ بغداد میں سندی بن شاہک کی قید میں شہید کردئے گئے۔

ملاحظہ کیجئے کہ ان چونتیس پینتیس سالوں کے دوران جب امام کاظم علیہ السلام تبلیغ ِامامت نیز اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی کوششوں میں مصروف تھے آپ کئی بار بغداد لائے جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ موسی بن جعفرعلیہما السلامکے دور کے خلفاء نے کئی بار آپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ منصور کے بیٹے مہدی نے خلیفہ بنتے ہی اپنے وزیر یا دربان ربیع سے کہا کہ وہ موسی ابن جعفر کو ختم کرنے کا اہتمام کرے۔

وہ موسی بن جعفر کو اصل خطرہ سمجھتا تھا۔

ہادی عباسی نے بھی اپنی خلافت کی ابتدا میں (امام کو قتل کرنے کا) ارادہ کیا یہاں تک کہ اس نے ایک شعر کی صورت میں کہا: وہ وقت اب بیت چکا جب ہم بنی ہاشم کے بارے میں سہل انگاری سے کام لیتے تھے۔ اب میں نے پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تم میں سے کسی کو زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں سب سے پہلے موسی بن جعفر کو ختم کروں گا۔ بعد میں ہارون رشید نے اسی کام کا ارادہ کیا اور اس عظیم جرم کا ارتکاب کیا۔

ملاحظہ کیجئے کہ حضرت موسی بن جعفرعلیہما السلامکی زندگی کس قدر حوادث سے لبریز تھی۔ ان کے علاوہ موسی بن جعفر کی زندگی میں اور بھی بہت سارے باریک نکات موجود ہیں جن پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ آپ نے یقیناً ایک عرصہ چھپ کر زندگی گزاری تھی لیکن یہ معلوم نہیں کہ آپ کہاں پوشیدہ رہے تھے۔ خلیفۂ وقت لوگوں کو بلاکر پوچھتا تھا: کیا تم نے موسی بن جعفر کو نہیں دیکھا؟ کیا تم جانتے ہو کہ وہ کہاں ہے؟

لوگ کہتے تھے: نہیں معلوم۔ یہاں تک کہ (روایت کی روسے) موسی بن جعفرعلیہما السلام نے ایک شخص سے فرمایا: تجھے بلایا جائےگا اور میرے بارے میں تجھ سے سوال ہوگا کہ تو نے موسی بن جعفر کو کہاں دیکھا ہے؟

اس وقت تم بالکل اقرار نہ کرنا کہ تم نے مجھے دیکھا ہے۔ بعد میں ایسا ہی ہوا۔ اس شخص کو موسی بن جعفر کے بارے میں پوچھ گچھ کےلئے قید کردیا گیا۔

آپ سوچئے کہ اس قسم کی زندگی کس طرح کے انسان کی ہوسکتی ہے؟

وہ شخص جو صرف شرعی مسائل بیان کرتا ہو، اسلامی معارف بیان کرتا ہو، حکومت سے کوئی سروکار نہ رکھتا ہو اور سیاسی جدوجہد نہ کرتا ہو وہ اس قسم کی سختیوں سے روبرو نہیں ہوتا۔

میں نے ایک روایت میں یہاں تک پڑھا ہے کہ موسی بن جعفر شام کی جانب فرار ہوگئے اور وہاں کے دیہات میں چھپ چھپاکر پھر تے رہے:

وَقعَ مُوسَى بْنُ جَعْفَرٍ بَعْضَ قُرَى الشَّامِ مُتَنَكِّراً هَارِباً فَوَقَعَ فِي غَار

مروی ہے کہ موسی بن جعفر ایک عرصے تک مدینہ میں موجود ہی نہیں تھے۔

آپ شام کے دیہات میں روپوش ہوگئے۔ حکومت ِوقت کے کارندے اور جاسوس آپ کا پیچھا کررہے تھے۔ آپ بھیس بدل کر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں منتقل ہوتے تھے یہاں تک کہ آپ ایک غار کے اندر پہنچ گئے جہاں ایک نصرانی موجود تھا۔ آپ نے اس سے بحث و گفتگو کی۔

اس وقت بھی آپ علیہ السلام اپنی دینی و شرعی ذمہ داری یعنی حقیقت کی طرف رہنمائی سے غافل نہیں رہے۔

چنانچہ آپ نے اس نصرانی کے ساتھ گفتگو کی اور اسے مسلمان بنالیا۔

ملاحظہ کیجئے کہ امام موسی بن جعفر علیہما السلام کی نشیب و فراز سے معمور زندگی کس قدر پرشور اور ہیجان انگیزتھی۔

۱۳۷

آج ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ موسی بن جعفر ایک مظلوم انسان تھے جو مدینہ میں گوشہ نشینی اور خاموشی کی زندگی گزارتے تھے پھر سرکاری گماشتے آپ کو گرفتار کرکے بغداد یا کوفہ یا بصرہ لائے اور انہوں نے آپ کو وہاں قید کیا اور قید میں ہی زہر دے کر شہید کیا اور بس۔ امام کی زندگی کی یہ تصویر کشی درست نہیں۔ آپ نے ایک طویل مزاحمتی اور تنظیمی جدوجہد کی قیادت کی۔ آپ کے افراد کی تعداد بھی کم نہ تھی۔ پورے عالم اسلام میں آپ کے چاہنے والے موجود تھے۔

چنانچہ موسی بن جعفر علیہما السلام کے ناخلف بھتیجے نے (جو دربار سے وابستہ تھا) ہارون کےپاس آپ کے خلاف بات کی اور کہا: ’’خلیفتان یجیئ الیهما الخراج‘‘ یعنی اے ہارون! یہ خیال نہ کرنا کہ عالم اسلام اور روئے زمین میں صرف آپ ہی خلیفہ ہیں اور لوگ صرف آپ کو خراج اور ٹیکس دیتے ہیں۔ ایسا نہیں بلکہ دو خلیفے ہیں۔ ایک خلیفہ آپ ہیں اور دوسرا موسی بن جعفر ہے۔ لوگ جس طرح آپ کو ٹیکس اور خراج دیتے ہیں اسی طرح موسی بن جعفر کو بھی ٹیکس اور خراج دیتے ہیں۔ اس کی یہ بات درست تھی البتہ اس نے باطنی خباثت اور بدنیتی کی بناپر ایسا کہا تھا۔ وہ آپ کی چغلخوری کرنا چاہتا تھا لیکن بات درست تھی۔

تمام مسلمان علاقوں میں ایسے لوگ موجود تھے جن کے آپ سے روابط تھے۔ البتہ یہ روابط اس قدر مضبوط اور منظم نہ تھے کہ موسی بن جعفر علیہما السلام ایک ہی جست میں ایک مسلح اور آشکار مزاحمتی جدوجہد شروع کرسکتے۔

امام موسی بن جعفر اسی نہج پر زندگی گزارتے رہے یہاں تک کہ ہارون الرشید کی باری آئی۔ جب ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس دوران اگرچہ اسلامی معاشرے میں دربار خلافت کا کوئی حریف نہ تھا اور ہارون فارغ البال ہوکر آرام و سکون سے حکومت کرنے لگا تھا اس کے باوجود موسی بن جعفر کی زندگی اور آپ کی تبلیغی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ حکومتِ وقت کےلئے اس مسئلے کا علاج اتنا آسان نہیں تھا۔

ہارون ایک لائق سیاستدان اور ذہین و فطین خلیفہ تھا۔

ہارون کے اقدامامت میں سے ایک یہ تھا کہ وہ بذات خود مکہ چلاگیا۔

معروف مورخ طبری بطور یقین یا بطور احتمال کہتے ہیں کہ ہارون الرشید نے حج کا سفر کیا لیکن اندر سے اس کا مقصد یہ تھا کہ مدینہ جاکر موسی بن جعفر کا جائزہ لے کہ آپ کس قسم کے انسان ہیں۔

وہ آپ کی شخصیت کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔

وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ شخصیت کون ہے جس کی اتنی شہرت ہے، جس کے اتنے چاہنے والے ہیں، یہاں تک کہ بغداد میں بھی اس کے شیعہ موجود ہیں؟

یہ شخص خطرناک ہے یا نہیں؟

چنانچہ ہارون آیا اور اس نے موسی بن جعفر علیہ السلام سے کئی ملاقاتیں کیں جو غیر معمولی اہمیت کی حامل اور بہت حساس نوعیت کی تھیں۔

ایک ملاقات مسجد الحرام میں ہوئی۔ بظاہر اس دفعہ حضرت موسی بن جعفر نے ناشناس انداز میں ہارون سے ملاقات کی۔

ان دونوں کے درمیان تند و تیز گفتگو ہوئی اور موسی بن جعفر نے حاضرین کے سامنے ہارون کے دبدبے کو خاک میں ملایا۔ وہاں ہارون نے موسی بن جعفر کو نہیں پہچانا۔

مدینہ آنے کے بعد ہارون نے موسی بن جعفر علیہما السلام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی جو اہمیت کی حامل ہیں۔

میں اسی قدر اشارہ کرنے پر اکتفا کروں گا کیونکہ ارباب مطالعہ، اہل تحقیق اور ان مسائل سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اتناہی اشارہ کافی ہے اور وہ خود ان امور کی مزید تحقیق کرسکتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ ہارون نے ان ملاقاتوں میں وہ تمام حربے آزمائے جو ایک مخالف انسان کو یا ایک حقیقی انقلابی مجاہد کو قابو میں لانے کےلئے بروئے کار لائے جاسکتے ہیں۔

ان حربوں میں تخویف، تطمیع اور دھوکہ و فریب و غیرہ سب شامل تھے۔

(۲۳/۱/۱۳۶۴)

۱۳۸

جب ہارون خلیفہ بننے کے بعد پہلی بار مدینہ آیا تو اس نے موسی بن جعفرعلیہما السلام کی مکمل آؤبھگت کی اور آپ کا خوب احترام کیا۔

مامون سے مروی معروف داستان میں مامون کہتا ہے:

ہم گئے تو حضرت (موسی بن جعفر ) ایک گدھے پر سوار ہوکر اس جگہ آئے جہاں ہارون ساکن تھا۔ آپ نے اترنا چاہا تو ہارون نے آپ کو قسم دی: آپ میری فرش تک سوار ہوکر آئیں گے۔ چنانچہ آپ سوار ہو کر تشریف لائے۔

اس کے بعد ہارون نے آپ کا احترام کیا اور پھر فلان فلان باتیں ہوئیں۔ پھر جب آپ چلے گئے تو (ہارون نے) ہم سے کہا: آپ کی رکاب تھامو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روایت میں مامون کہتا ہے: میرے باپ ہارون نے سب کو پانچ پانچ ہزار دینار اور دس دس ہزار دینار بطور انعام دیے لیکن موسی بن جعفر کو دوسو دینار دیے، صرف دوسو دینار۔

حالانکہ جب گفتگو کےدوران ہارون نے آپ کا حال پوچھا تو آپ نے فرمایا: ہاں میرے بال بچے زیادہ ہیں،مشکلات بہت ہیں اور اقتصادی حالت ٹھیک نہیں۔

راقم کی نظر میں حضرت موسی بن جعفر کی یہ باتیں ہارون کےلئے بہت دلچسپ تھیں۔ البتہ امام کا مقصد نہ مانگنا تھا نہ اظہار تذلّل۔

بہرحال آپ کی باتوں کے پیش نظر ہارون کو یہ کہنا چاہئے تھا: بہت خوب، پس یہ پچاس ہزار دینار آپ کے۔ لیکن اس نے صرف دوسو دینار دیے۔

مامون کہتا ہے: میں نے بعد میں اپنے باپ (ہارون) سے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟

اس نے کہا: اگر میں اسے (زیادہ) دوں تو یہ خراسان کے شمشیرزنوں کو منظم کرےگا اور دولاکھ جنگجوؤں کو میرے خلاف لاکھڑا کرےگا۔

یہ ہے ہارونی سوچ۔ ہارون نے درست سوچا تھا۔ کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ امام کے خلاف چغلخوری ہوئی تھی۔

جی نہیں بلکہ یہ ایک حقیقت تھی۔ جس دوران حضرت موسی بن جعفر ہارون کے خلاف جدوجہد میں مصروف تھے اس دوران اگر آپ کے پاس پیسے ہوتے تو بہت سے لوگ آپ کی حمایت میں شمشیر زنی کےلئے تیار تھے۔ اس کی تائید حسین بن علی (شہید فخ) و غیرہ کے قیام سے ہوتا ہے جو امام نہ تھے۔ انہوں نے ہارون سے پہلے موسی الہادی کے دور میں قیام کیا تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی مثالیں موجود ہیں۔ ان کی جدوجہد سے صاف واضح ہے کہ ائمہ بہت سے لوگوں کو اپنے گرد جمع کرسکتے تھے۔ ہارون نے اس حقیقت کو خوب درک کیا تھا۔ (۲۸/۴/۱۳۶۵ھ ش)۔

۱۳۹

ہارون رشید اور فدک

وہاں ہارون نے موسی بن جعفر علیہ السلام کے ساتھ جو باتیں کیں ان میں سے ایک یہ تھا: آپ بنی ہاشم کو فدک سے محروم کیا گیا ہے یعنی آل علی سے فدک چھینا گیا ہے۔ اب میں چاہتا ہوں کہ فدک آپ کو واپس کروں۔ فرمائیے کہ فدک کہاں ہے؟

بتائیے فدک کے حدود اربعہ کیا ہیں تا کہ میں فدک دوبارہ آپ کے حوالے کروں؟

واضح ہے کہ فدک کی واپسی ایک دھوکہ تھی۔ ہارون یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ آل محمد کے غصب شدہ حق کو واپس لوٹا رہا ہے تا کہ اپنے آپ کو ان کا خیرخواہ ظاہر کرے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: بہت اچھا۔

اب اگر تم یہ چاہتے ہو کہ فدک مجھے واپس کردو تو میں تمہیں فدک کے حدود اربعہ سے آگاہ کرتاہوں۔

آپ فدک کے حدود کو معین فرمانے لگے۔

امام فدک کے جو حدود بتار ہے تھے وہ اس دور کی پوری اسلامی مملکت کو محیط تھے۔ یہ ہے فدک۔

تیرا یہ خیال ہے کہ اس دن ہمارا دعویٰ ایک باغ کے بارے میں تھا جہاں کھجور کے چند درخت تھے۔

۱۴۰