گیارھویں فصل :"امام صادق علیہ السلام"
اموی حکومت کا آخری دور
اور امام صادق علیہ السلام کی امامت
امام باقر علیہ السلام ۵۷ سال کی عمر میں بنی امیہ کے ایک مقتدر ترین خلیفہ یعنی ہشام بن عبدالملک کے دور حکومت میں دار فانی کو وداع کرگئے۔ اگرچہ اموی حکومت وسیع و عریض مسلمان مملکت کے اندر بےشمار مسائل، سرگرمیوں اور آشفتہ حالات کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی لیکن ان سب کے باوجود خلیفہ ہشام شیعی نیٹ ورک کے دھڑکتے دل (یعنی امام باقر ؑ) کے خلاف سازش اور بداندیشی سے غافل نہ رہا۔
ہشام کے حکم سے اس کے گماشتوں نے امام کو زہر دیا۔ یوں اس ظالم اور سرکش اموی بادشاہ نے اپنی مملکت کے اندر اپنے سب سے بڑے اور خطرناک دشمن کو قتل کرکے ملک کی مغربی اور مشرقی سرحدوں کی جانب اپنی فتوحات کی لذت اور سرمستی کو کامل کیا۔
امام باقر علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام اور آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام کی امامت کے ابتدائی سالوں کے دوران بنی امیہ کی حکومت ایک ایسے مرحلے سے گزر رہی تھی جو اس حکومت کے حوادث سے بھرپور ادوار میں سے ایک نازک دور تھا۔
ایک طرف سے مشرقی سرحدوں (ترکستان اور خراسان)، شمالی سرحدوں (ایشائے کوچک اور آذربائیجان)اور مغربی سرحدوں (افریقہ، اندلس اور یورپ) کی جانب کاروائیوں کے باعث اور دوسری جانب سے عراق، خراسان اور شمالی افریقہ کے اطراف میں رونما ہونے والی مسلسل شورشوں (جو عام طور پر بنی امیہ کے زیر ستم ناراض لوگوں کی جانب سے اور گاہے بنی امیہ کے منگول سرداروں کی مدد یا انگیخت کے نتیجے میں برپا ہوتی تھیں) کے باعث، علاوہ ازیں ملک کے اندر ہرجگہ پھیلی ہوئی بدحالی و پریشانی خاص کر عراق (جو بنی امیہ کے بڑے بڑے جاگیرداروں کا مرکز تھا نیز زرخیز اور منفعت خیز املاک کی یہ سرزمین زیادہ تر خلیفہ یا روسائے حکومت کے قبضے میں تھی) کے اندر موجود بدحالی نیز شام اور عراق میں اس کے مقتدر گورنر (خالد بن عبد اللہ قسری) کی افسانوی لوٹ مار کے علاوہ خراسان،عراق او ر شام کے بشمول ملک کے مختلف حصوں میں پھیلنے والے طاعون اور قحط سالی کے باعث بنی امیہ کی وسیع و عریض مسلمان مملکت کی حالت ناگفتہ بہ اور عجیب ہوگئی تھی۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ عالم اسلام سب سے بڑے نقصان یعنی معنوی، فکری اور روحانی خسارے سے بھی دوچار تھا۔
عالم اسلام کی ان پریشان کن اور غم آلود فضاؤں میں جہاں فقر، جنگ و جدل اور بیماریوں نیز اموی حکمرانوں کی استبدادیت اور جاہ پسندی نے بے آسرا لوگوں کو کچل کر اور جلاکر رکھ دیا تھا وہاں اسلامی و انسانی اقدار تقویٰ، اخلاق اورمعنویت کو پروان چڑھانا محال نظر آتا تھا۔ علماء، قضات، محدثین اور مفسرین جنہیں بے آسرا اور مظلوم لوگوں کی پناہگاہ کا کردار ادا کرنا چاہئے تھا نہ صرف یہ کہ مسائل کی گرہ کشائی نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر اوقات خود بھی کسی نہ کسی طریقے سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے تھے بلکہ گاہے وہ سیاسی شخصیات سے بھی زیادہ مضر تھے۔
فقہ و کلام اور حدیث و تصوف (عرفان) کے میدانوں کے معروف چہرے مثلاً حسن بصری، قتادہ بن دعامہ، محمد بن شہاب زہری، ابن بشر، محمد بن منکدر، ابن ابی لیلی اور ان جیسے دسیوں دیگر افراد در حقیقت دربار خلافت کے وسیع و عریض نظام کے مہرے تھے یا حکام اور فرمانرواؤں کے ہاتھوں بازیچہ بنے ہوئے تھے۔
یہ بات بہت اسفناک ہے کہ اگر ان معزز و موقر شخصیات کے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ حضرات یا تو دنیوی آرزوؤں مثلاً جاہ و اقتدار کی خواہش، شہرت پسندی اور لذت جوئی و غیرہ کے ہاتھوں اسیر تھے یا کمزور، بزدل، عافیت طلب اور بےچارے تھے یا کم عقل اور ریاکار زاہد تھے یا ایسے عالم نما افراد تھے جو علم کلام اور اعتقادات کے خونین مباحث میں مشغول تھے ۔
قرآن اور حدیث کے ذریعے معرفت اور نیک خصلتوں کے پودے کو زندہ و ثمربخش بنانا مقصود تھا لیکن ارباب اقتدار انہی دونوں سے غلط استفادہ کررہے تھے۔
بدبخت اور فاسق عناصر نے ان دونوں کو اپنی بےثمر زندگی گزارنے کا مشغلہ قرار دے رکھا تھا۔
اس مسموم، تاریک اور گھٹن والی فضا میں نیز اس پرخار اور دشوار دور میں امام صادق علیہ السلام نے خدائی امانت کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
ہم نے شیعی ثقافت اور طرز تفکر کی رو سے امامت کے جس مترقّی مفہوم کو پہچانا اور جانا ہے اس کے پیش نظر اس قسم کے تاریک اور مصیبت آفرین زمانے میں زندگی گزارنے والی سرگرداں، فریب خوردہ، ستم دیدہ اور غلط فہمی میں مبتلا امت کےلئے امامت سچ مچ ایک بنیادی ضرورت ہے۔
ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ امامت دو حیات آفرین نظاموں یعنی درست اسلامی طرز فکر اور عادلانہ توحیدی نظام کا سرچشمہ ہے
اور ہر امام دو ذمہ داریوں کا حامل ہے:
الف: دین کی درست تبیین، تطبیق اور تفسیر (جو بجائے خود تحریفات کے خلاف جنگ نیز مفاد پرستی اور جہالت پر مبنی درستکاری کے خلاف جہاد کو شامل ہے۔)
ب: حق اور عدل پر مبنی توحیدی نظام کا راستہ ہموار کرنا، اس کی بنیادیں استوار کرنا اور اگر اس قسم کا نظام موجود ہو تو اسے جاری و ساری رکھنا۔ اس قسم کے ناگفتہ بہ حالات میں امام صادق علیہ السلام اس امانت کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اور ان دونوں ذمہ داریوں کو قبول فرماتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں یہ دونوں ذمہ داریاں آپ کے سامنے ہیں۔ اب آپ ان میں سے کس ذمہ داری کو پہلے نبھائیں ؟
اگرچہ سیاسی کام کی راہ میں بہت سی دشواریاں درپیش ہوتی ہیں اور اموی خلیفہ ہشام اپنی تمامتر مصروفیات اور جنگی مہمات کے باوجود نہ امام کی سیاسی جدوجہد کو معاف کر سکتا تھا اور نہ سخت انتقامی کاروائی سے اجتناب کرسکتا تھا لیکن فکری کام (یعنی تحریفات کا مقابلہ) درحقیقت دربار خلافت کی شہ رگ کو کاٹنے کے مترادف تھا کیونکہ اموی حکومت کی بقاء انحرافی دین کا سہارا لئے بغیر ممکن نہ تھی۔ پس ہشام اور غیر شیعہ علماء (جو اس منحرف اور پست معاشرے میں رائج عوامی اور عمومی رخ پر رواں دواں اور سرگرم عمل تھے ) کی نظر میں یہ بھی نابخشودنی جرم تھا۔
دوسری جانب انقلابی شیعی طرز فکر کا دائرہ وسیع کرنے کےلئے حالات سازگار تھے۔ جنگ، فقر اور استبداد جو انقلاب کو پروان چڑھانے کے تین عوامل ہیں موجود تھے۔ علاوہ از یں سابق امام کی کوششوں کے باعث قریبی علاقوں بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی ایک حد تک حالات سازگار ہوچکے تھے۔
امامت کی مجموعی پالیسی توحیدی اور علوی انقلاب برپا کرنے سے عبارت ہے البتہ ایک ایسے ماحول میں جہاں لوگوں کی مطلوبہ تعداد نظریۂ امامت کو سمجھ کر قبول کرچکی ہو نیز اس نظرئے کی عملی تعبیر کی منتظر ہو جبکہ لوگوں کی ایک اور مطلوبہ تعداد مزاحمتی جدوجہد پر کمر بستہ منظم جماعت کے ساتھ ملحق ہوچکی ہو۔
اس جامع لائحہ عمل کا منطقی لازمہ ایک ہمہ گیر دعوت ہے جو پورے عالم اسلام کو محیط ہو تا کہ تمام علاقوں میں شیعی نظریات کی نشر و اشاعت کےلئے فضا کو سازگار بنایا جائے۔ اس کے علاوہ ایک اور دعوت مطلوب ہے تاکہ خُفیہ ’’شیعی نیٹ ورک‘‘ کےلئے باصلاحیت اور فداکار ممبروں کو تیّارکیا جائے۔
امامت کی حقیقی دعوت کی دشواری کا راز اسی نکتے میں پنہاں ہے۔ ایک کامل مذہبی دعوت جس کا مقصد یہ ہو کہ اقتدار کو ہر قسم کی زبردستی، تجاوز پسندی اور انسانی آزادی کے حق کی پامالی سے دور رکھتے ہوئے اسلام کے بنیادی اصولوں اور معیاروں کی رعایت کرے اس قسم کی دعوت کےلئے ضروری ہے کہ لوگوں کے ادراک و شعور پر بھروسہ کرے اور ان لوگوں کے فطری احساسِ ضرورت کی رعایت کرتے ہوئے اپنی پیشرفت کو جاری رکھے۔ اس کے برعکس جو تحریکیں مذہبی اور مسلکی نعروں کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز کرتی ہیں لیکن عملاً دوسرے اربابِ اقتدار کی طرح طاقت کے بل بوتے پر کام کرتی ہیں نیز اخلاقی و معاشرتی اصولوں سے چشم پوشی کرتی ہیں وہ مذکورہ دشواری سے فارغ البال ہوتے ہیں۔
امامت کی تحریک کے طولانی ہونے کا راز یہی ہے۔ علاوہ ازیں تحریک امامت کی متوازی تحریکوں (مثلاً عباسی تحریک) کی کامیابی اور تحریک امامت کی نِسبی شکست کی وجہ بھی یہی ہے۔
ہم تاریخی اسناد کی روشنی میں اس نکتے کی وضاحت مزید تفصیل کے ساتھ آئندہ صفحات میں پیش کریں گے۔
سازگار حالات اور سابق امام کی کوششوں سے وجود میں آنے والی مناسب فضا کے بموجب نیز تحریک تشیع کے پرمشقت اور طویل راستے کےپیش نظر امام صادق علیہ السلام کو اسی سچی امید کا مظہر ہونا چاہئے تھا جس کاشیعہ قوم سالہا سال سے انتظار کررہی تھی۔ آپ وہی ’’قائم‘‘ہوسکتے تھے جس نے اپنے اسلاف کی طویل جدوجہد کو ثمر بخش بنانا تھا اور عالم ِاسلام کے وسیع دائرے میں شیعی انقلاب کی شمع روشن کرنا تھی۔
امام باقر علیہ السلام کے اشارات اور گاہے آپ کی تصریحات بھی اس آرزو کے درخت کو پروان چڑھانے میں موثر رہی ہیں۔
جابر بن یزید کا بیان ہے: کسی نے امام باقر علیہ السلام سے آپ کے بعد قیام کرنے والے ’’قائم‘‘ کے بارے میں پوچھا تو امام نے ابوعبد اللہ (صادق) کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا: خدا کی قسم قائم آل محمد یہی ہے ۔(پیشوای صادق، ص۵۴۔۶۱)۔
امام صادق کے حالاتِ زندگی:
ابہام کے پردے میں:
امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو جن اسفناک ترین مسائل سے روبرو ہونا پڑتا ہے ان میں سے ایک کا تذکرہ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ مسئلہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام کےحالات زندگی خاص کر آپ کی امامت کے ابتدائی سالوں کے حالات ابہام کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ آپ کی امامت کے ابتدائی سال اموی دور حکومت کے اواخر سے عبارت ہیں۔ یہ ہنگامہ خیز اور حوادث سے لبریز زندگی (جس کے نشیب وفراز اور دشواریوں کا مشاہدہ سینکڑوں تاریخی روایات سے ہوتا ہے) نہ تاریخ کی کتابوں میں مربوط اور منظم شکل میں مذکور ہے نہ محدثین اور سیرت نگاروں کے قلمی آثار میں۔ اس دور کے حوادث کی مزید خصوصیات اور اوقات کی تفصیل بیان نہیں ہوئی ہیں۔
اربابِ تحقیق کو چاہئے کہ وہ اُس دور کے مجموعی حالات و قرائن کا سہارا لیتے ہوئے نیز ہرروایت کا موازنہ ان معلومات کے ساتھ کرتے ہوئے جو اس روایت میں مذکور اس دور کے اشخاص اور حوادث کے بارے میں دیگر مآخذ سے ہاتھ آسکتے ہیں ہر واقعے کی خصوصیات اور اس کے زمان و مکان کو کشف کریں۔
مذکورہ ابہام کی ایک علت خاص کر امام اور آپ کے ساتھیوں کے مابین تنظیمی سرگرمیوں کے بارے میں تاریخی ابہام کی علت کو ان کاموں کی خاص نوعیت کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ خفیہ تنظیمی سرگرمیاں اگر صحیح اصولوں کے مطابق انجام پائیں تو انہیں ہمیشہ خفیہ ہی رہنا چاہئے۔
انہیں پہلے دن کی طرح بعد میں بھی مخفی رہنا ہوگا۔ صاحبانِ اسرار کی راز داری غیر متعلقہ افراد کو ان اسرار کی وادی میں گھسنے نہیں دیتی۔ جب خفیہ کام اپنے نتیجے تک پہنچ جائے اور خفیہ کام کو چلانے والے اقتدار حاصل کرلیں تو وہ خود اپنے کام کی پوشیدہ باریکیوں کو برملا کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ آج عباسی تحریک کے دوران عباسی تنظیمی نیٹ ورک کے کارکنوں کے ساتھ عباسی روساء کے خفیہ روابط کی بہت ساری باریکیاں یہاں تک کہ ان کے خفیہ فرامین اور پوشیدہ ارتباطات تاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں اور سب ان سے آگاہ ہیں۔
یقیناً اگر علوی تحریک بھی کامیاب ہوتی اور اقتدار شیعہ اماموں یا ان کے نمائندوں کے ہاتھ آتا تو آج ہم علوی تحریک نیز اس تحریک کے ہر جگہ پھیلے ہوئے وسیع تنظیمی نیٹ ورک کے سر بمہر اسرار اور نہایت خفیہ رازوں سے آگاہ ہوتے۔
مذکورہ ابہام کی ایک اور علت کو تاریخ نویسی اور تاریخ نویسوں کی خصلت کے اندر تلاش کرنا چاہئے۔ اگر رسمی اور باقاعدہ تواریخ میں کسی محکوم،مظلوم اور زیر عتاب جماعت کا اتفاق سے کوئی تذکرہ مرقوم ہو بھی تو وہ یقیناً ظالم حکمرانوں کی خواہش، ان کے بیانات اور ان کے اظہارات کے مطابق ہوتا ہے۔
سرکاری مورخین محکوم اور زیر عتاب لوگوں کے بارے میں صرف وہی دل آزار باتیں لکھ سکتے ہیں جو انہوں نے بےتحاشا سعی و کوشش کے ذریعے اور سخت خوف و ہراس کی حالت میں ادھر ادھر سے جمع کی ہوں جبکہ حکمرانوں کے بارے میں خبروں اور باتوں کا تانتا بندھا ہوتا ہے جنہیں وہ بغیر کسی زحمت اور خوف و ہراس کے حاصل کرسکتے ہیں اور اجرت لےکر سپرد قلم کرسکتے ہیں۔
اب ہم اس واضح حقیقت کو ایک اور حقیقت کے ساتھ پرکھتے ہیں۔
وہ تمام معتبر اور معروف تواریخ جو بعد میں انجام پانے والی اکثر تحقیقات اور تحریروں کےلئے مآخذ و منابع کی حیثیت رکھتی ہیں اور امام صادق علیہ السلام کے دور کے بعد پانچ سو سالوں تک انہیں لکھنے کا سلسلہ جاری رہا ان سب پر عباسی رنگ اور چھاپ واضح اور عیاں ہے کیونکہ عباسی حکومت کا سلسلہ ساتویں صدی ہجری کے نصف تک قائم رہا۔ تمام معروف اور قدیم تواریخ اس سخت جان سلسلۂ حکومت کے دور میں لکھی گئی ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر نتیجے کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
عباسی دور کے کسی مورخ سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ امام صادق یا دیگر شیعہ اماموں کے بارے میں درست اور باقاعدہ معلومات حاصل کرکے انہیں اپنی کتاب میں لکھنے پر قادر ہوگا یا اس کا خواہاں ہوگا۔ حضرت امام صادق علیہ السلام کے حالات زندگی کے بارے میں موجود بہت سے ابہامات اور تحریفات کی وجہ یہی ہے۔
وہ واحد راستہ جو ہمیں امام(علیہ السلام) کی زندگی کے مجموعی خد و خال سے آگاہ کرسکتا ہے یہ ہے کہ ہم ان ابہامات کی بھول بھلیوں سے امام کی زندگی کی بعض اہم خصوصیات کو ڈھونڈھ نکالیں اور آپ کے افکار و اخلاق کے کلی اور دستیاب اصولوں کی مدد سے آپ کی زندگی کے اصلی خدوخال کی تصویر کشی کریں۔
پھر خصوصیات اور باریکیوں کی تعیین کےلئے تاریخ کے اندر بکھرے ہوئے قرائن و دلائل نیز غیر تاریخی قرائن کے منتظر رہیں۔
(پیشوای صادق ، ص۶۵۔ ۶۸)۔