تیسری تدبیر:
ان تمام باتوں کے باوجودعلی بن موسی الرضاعلیہما السلام نے صرف اس شرط پر ولیعہدی قبول کی کہ آپ حکومت کے کسی کام میں مداخلت نہیں کریں گے نیز صلح، جنگ، عزل و نصب اور انتظامی امور میں حصہ نہیں لیں گے۔
مامون نے امام رضا علیہ السلام کی یہ شرط قبول کرلی کیونکہ وہ سوچ رہاتھا کہ ابتدائے کار میں یہ شرط قابل تحمل ہے اور بعد میں امام کو آہستہ آہستہ سرکاری سرگرمیوں کے جال میں پھنسایا جاسکتا ہے۔
اس شرط کی موجودگی میں مامون کے منصوبے کا نقش برآب ہونا واضح تھا اور اس کے اکثر اہداف کا ناکام رہ جانا عیاں تھا۔ اگرچہ امام کو ولی عہد کہا جاتا تھا اور آپ کےلئے دربار خلافت کے وسائل بھی فراہم تھے اس کے باوجود آپ نے ایک ایسا انداز اپنایا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ دربار خلافت کے مخالف اور اس پر معترض ہیں۔ آپ نہ کوئی حکم دے رہے ہیں،نہ کسی چیز سے منع کررہے ہیں، نہ کوئی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، نہ کوئی عہدہ سنبھالتے ہیں، نہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور نہ سرکاری اقدامات کے حق میں کوئی توجیہ پیش کرتے ہیں۔
واضح ہے کہ حکومت کا ایک رکن جو اپنے ارادہ و اختیار سے تمام ذمہ داریوں سے یوں کنارہ کشی اختیار کرے وہ اس حکومت کا مخلص اور طرفدار نہیں ہوسکتا۔
مامون کو اس کمی کا بخوبی احساس تھا۔ اسی لئے ولیعہدی کا مرحلہ طے ہوجانے کے بعد اس نے بارہا زیرکانہ چالوں کے ذریعے کوشش کی کہ امام کو سابقہ عہدوپیمان کے برخلاف دربار خلافت کے امور میں دخیل کرے اور امام کی عدم تعاون والی پالیسی کا خاتمہ کرے لیکن امام ہر بار حکیمانہ طریقے سے اس کے منصوبے کو نقش برآب کرتے رہے۔ اس کا ایک نمونہ وہ واقعہ ہے جسے معمّر بن خلّاد نے خود امام ہشتم سے نقل کیا ہے۔ بقول امام مامون نے آپ سے درخواست کی کہ آپ آشفتہ حال علاقوں کے معاملے میں آپ کی بات ماننے والوں کے نام کوئی خط لکھیں لیکن امام علیہ السلام نے انکار فرمایا اور اسے سابقہ عہد و پیمان یعنی سرکاری امور میں مکمل عدم دخالت کا وعدہ یاد دلایا۔
ایک نہایت اہم اور دلچسپ نمونہ نمازِ عید کا واقعہ ہے۔ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو نماز عید کی امامت کرنے کی دعوت دی اور اس کی دلیل یہ دی کہ اس طرح لوگ آپ کی قدر وقیمت پہچانیں گے اور ان کے دلوں کو سکون ملےگا۔
امام نے انکار کیا لیکن جب مامون کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط پر یہ دعوت قبول فرمائی کہ آپ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے انداز میں نماز پڑھائیں گے۔ اس کے بعد امام نے اس موقعے سے ایسا استفادہ کیا کہ مامون اپنے اصرار سے پشیمان ہوگیا اور اس نے امام کو عیدگاہ کے راستے سے ہی واپس لوٹایا۔یوں مامون نے اپنی حکومت کی ریاکارانہ حکمت عملی پر لامحالہ ایک اور کاری ضرب لگائی ۔
چوتھی تدبیر:
امام علیہ السلام نے ولیعہدی کے واقعے سے جو بنیادی استفادہ کیا وہ مذکورہ باتوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ امام علیہ السلام نے ولیعہدی قبول فرماکر ایک ایسا کام انجام دیا جو سنہ ۴۰ھ میں اہل بیتعلیہم السلام کی خلافت کے خاتمے سےلےکر اس دن تک اور خلافت کے آخری ایام تک ائمہ علیہم السلام کی تاریخِ زندگی کا ایک عدیم المثال کارنامہ ہے۔ یہ کارنامہ پورے عالمِ اسلام کی سطح پر شیعی نظریہ امامت کو برملا کرنے، تقیہ کے دبیز پردے کو چاک کرنے اور تمام مسلمانوں کے کانوں تک تشیع کا یپغام پہنچانے سے عبارت ہے۔ امام کو خلافت کا عظیم سٹیج استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔ آپ نے اس سٹیج سے اُن باتوں کو پوری آواز کے ساتھ پکار کر سب کے کانوں تک پہنچایا جو گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں کے دوران کسی سے نہیں کہی گئی تھیں سوائے ائمہ کے خاص الخاص اور قریبی لوگوں کے اور وہ بھی چھپ چھپا کر اور تقیہ کی صورت میں۔
امام علیہ السلام نے ان باتوں کی تبلیغ کےلئے اُس زمانے کے ان دستیاب وسائل سے استفادہ کیا جو خلفا اور ان کے قریب ترین لوگوں کے علاوہ کسی اور کو میسر نہ تھے۔ امام کی اس عظیم کامیابی کی کچھ نشانیاں یہ ہیں:
۱۔ امام کے وہ مناظرے جو علماء اور مامون کی موجودگی میں انجام پائے۔ ان مناظروں میں امام علیہ السلام نے امامت کے مضبوط ترین دلائل کا ذکر فرمایا۔
۲۔ فضل بن سہل کے نام امام رضا علیہ السلام کا خط ’’جوامع الشریعۃ‘‘ جس میں آپ نے شیعی عقائد اور فقہ کے تمام بنیادی نکات کو بیان فرمایا ہے۔
۳۔ معروف ’’حدیث ِامامت‘‘ جو آپ(علیہ السلام) نے مرو میں عبد العزیز بن مسلم سے بیان فرمایا۔
۴۔ وہ بہت سارے قصائدجو ولیعہدی کی مناسبت سے آپ کی شان میں لکھے اور کہے گئے۔ ان میں سے بعض قصائد مثلاً دِعبِل کا قصیدہ اور ابونواس کا کلام وغیرہ معروف عربی قصائد کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔
۵۔جب اس سال مدینہ میں اور شاید عالم اسلام کے بہت سے دیگر علاقوں میں علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی ولی عہدی کی خبر پہنچی تو خطبوں میں اہل بیت علیہ السلام کے فضائل بیان ہونے لگے، وہی اہل بیت رسول جن پر ستر سال تک منبروں سے سب و شتم ہوتا رہا تھا۔ اس کے علاوہ سالہا سال تک کسی میں یہ جرأت نہ تھی کہ ان کے فضائل کو بیان کرے۔
لیکن اب ہر جگہ ان کی عظمتوں اور خوبیوں کے چرچے تھے۔ ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں کو اس واقعے سے باطنی اور قلبی قوت حاصل ہوئی۔ بےخبر اور بےخیال لوگ اس حقیقت سے آگاہ اور اس کی طرف مائل ہوئے جبکہ اہل بیت کے قسم خوردہ دشمن اپنے آپ کو کمزور اور شکست خوردہ محسوس کرنے لگے۔ شیعہ محدثین اور مفکرین بڑے بڑے درسی حلقوں اور عوامی مراکز میں وہ تعلیمات بیان کرنے لگے جنہیں اب تک صرف خلوت میں ہی بیان کیا جاسکتا تھا۔
پانچویں تدبیر:
اگرچہ مامون یہ چاہتا تھا کہ امام علیہ السلام لوگوں سے کٹ کر رہ جائیں تاکہ اس جدائی کے نتیجے میں امام اور عوام کا معنوی اور جذباتی رابطہ بھی قطع ہوجائے لیکن امام علیہ السلام نے ہر مناسب موقعے پر اپنے آپ کو عوام سے مربوط رکھا۔
مامون نے مدینہ سے مرو تک امام علیہ السلام کے سفر کے لئے جان بوجھ کر وہ راستہ معین کیاجو کوفہ اور قم جیسے شہروں سے جو حبّ اہل بیت کےلئے معروف تھے نہ گزرے۔ اس کے باوجود امام نے اسی معینہ راستے میں بھی اپنے اور عوام کے درمیان جدید رابطہ استوار کرنے کےلئے ہرمناسب فرصت سے بھر پور استفادہ کیا۔ آپ نے اہواز میں امامت کی نشانیاں دکھائیں اور بصرہ میں ان لوگوں کے دل موہ لیے جن کے دلوں میں آپ کے بارے میں کدورت تھی۔ نیشاپور میں آپ نے ’’حدیث سلسلۃ الذہب‘‘ کو ہمیشہ کےلئے تاریخ کی پیشانی پر ثبت کردیا۔ ان کے علاوہ آپ نے دیگر اعجاز آمیز نشانیوں کو آشکار کیا۔اس طویل سفر کے دوران امام علیہ السلام نے جگہ جگہ لوگوں کی ہدایت کا کوئی موقع ضائع جانے نہیں دیا۔ مرو سفر کی آخری منزل اور خلیفہ کی جائے قیام تھا۔ یہاں بھی آپ کو جہاں جہاں موقع ملا وہاں عوام کے درمیان حاضر ہونے کےلئے آپ سرکاری حصار کا دائرہ توڑتے رہے۔
چھٹی تدبیر:
امام علیہ السلام نے بااثر شیعہ شخصیات کو سکوت اور حکومت کا ساتھ دینے کی دعوت نہیں دی بلکہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام کی نئی صورتحال نے ان کے دلوں کو گرمایا اور وہ باغی وانقلابی عناصر جو اپنی زندگی کا اکثر حصہ صعب العبور پہاڑوں میں نیز شہروں سے دور علاقوں میں سختی اور دشواری کے ساتھ گزار چکے تھے اب علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی حمایت کی بدولت مختلف شہروں میں سرکاری اہلکاروں کے ہاں محترم قرار پائے اور وہ ان کی عزت و تکریم کرنے لگے۔
دعبل ایک سر پھرا شاعر تھا جس کی زبان کی کاٹ معروف تھی۔ اس نے کسی خلیفہ، وزیر یا امیر کو گھاس نہیں ڈالا تھا اور ان کے دربار میں قیام نہیں کیا تھا نیز دربار خلافت کی کوئی موثر شخصیت اس کی زبان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہی تھی۔ اسی لئےسرکاری ادارے ہمیشہ اس کا پیچھا کرتے اور اس کا سراغ لگاتے رہتے تھے۔ وہ سالہا سال تک اپنی سولی اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا (ہمیشہ موت کے خطرے سے دوچار رہا۔ مترجم) وہ شہروں اور بستیوں میں مفرور بن کر سرگردان رہا لیکن اب یہی دِعبل اپنے محبوب امام اور پیشوا کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے آپ کی شان میں اپنا معروف ترین اور فصیح و بلیغ ترین قصیدہ کہا جو درحقیقت اموی اور عباسی حکمرانوں کے خلاف علوی تحریک کا فردِ جرم یا استغاثہ ہے۔ دعبل کے اشعار مختصر مدت میں عالم اسلام کے کونے کونے میں پہنچ گئے، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کے ہاں سے واپسی پر اس نے اپنے یہی اشعار ڈاکوؤں کے سردار کی زبان سے سنے۔
اب ہم ایک بار پھر اس خفیہ سرد جنگ کے مجموعی اوضاع پر طائرانہ نظر کریں گے۔ سرد جنگ کا یہ میدان مامون نے خود سجایا تھا۔ اس نے سابق الذکر مقاصد کے پیش نظر امام علی بن موسی الرضاعلیہما السلامکو اس میدان کارزار میں (اپنے مقابلے میں) اتارا تھا۔
امام رضا علیہ السلام کی ولیعہدی کے اعلان کے ایک سال بعد کی صورتحال کچھ یوں ہے:
مامون نے علی بن موسی علیہما السلام کو بےحساب احترام اور وسائل و امکانات فراہم کیے ہیں لیکن سب کو علم ہوچکا ہے کہ یہ عظیم المرتبت ولی عہد کسی سرکاری کام میں حصہ نہیں لیتے اور اپنی مرضی کے مطابق دربار خلافت سے مربوط تمام امور سے روگرداں ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ آپ نے اس شرط پر ولیعہدی قبول فرمائی ہے کہ آپ کسی حکومتی کام میں حصہ نہیں لیں گے۔
مامون نے ولی عہدی کے سرکاری حکمنامے کے علاوہ اپنے دیگر بیانات میں امام کے فضائل،تقویٰ، عظیم حسب و نسب اور بلند علمی مرتبے کی تعریف و تمجید کی ہے۔ اب آپ ان تمام لوگوں کی نظر میں جن میں سے بعض نے آپ کا صرف نام سنا تھا جبکہ بعض آپ کو نام کی حد تک بھی نہیں پہچانتے تھے (اور بعض شاید ایسے بھی تھے جن کے دلوں میں آپ کا بغض بھرا ہوا تھا) ایک قابل تعظیم شخصیت کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں نیز آپ خلافت کے حقدار انسان کی حیثیت سے(جو عمل،علم،تقویٰ اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرابتداری میں خلیفہ مامون سے بڑھ کر اور اس سے زیادہ اہل ہیں)معروف ہو چکے ہیں۔
مامون اس بات میں ناکام ہوچکا ہے کہ اپنے خلاف سرگرم عمل شیعوں کے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرے نیز ان کے ہاتھ اور زبان کی تندی سے اپنے آپ کو اور اپنی خلافت کو گلو خلاصی دے سکے بلکہ اس کے برعکس علی ابن موسیٰ علیہ السلام ان (شیعوں) کےلئے باطنی اطمینان و سکون اور ذہنی و روحانی تقویت کا موجب بنے ہیں۔
مدینہ، مکہ اور دیگر اہم اسلامی علاقوں میں نہ صرف یہ کہ علی بن موسی الرضا علیہ السلام پر دنیا پرستی اور حبّ ِجاہ و مقام کا الزام نہیں لگ سکا اور آپ کی شہرت و محبوبیت میں کمی نہیں آئی بلکہ آپ کی معنوی تعظیم پر ظاہری حشمت کا بھی اضافہ ہوا ہے اور کئی دہائیوں کے بعد تعریف کرنے والے آپ کے مظلوم و معصوم آباء و اجداد کے فضل و مقام کا برملا تذکرہ کرنے لگےہیں۔
خلاصہ یہ کہ اس عظیم کھیل میں مامون نہ صرف کہ کوئی بازی جیت نہیں سکا ہے بلکہ بہت سی چیزیں ہار کر اب اس بات کا منتظر ہے کہ باقیماندہ چیزوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
اس مقام پر مامون کو اپنی شکست اور ہزیمت کا احساس ہوا اور اس نے اس بات کی ٹھانی کہ اپنی فاش غلطی کا ازالہ کرے۔ اسے اب اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس قدر سرمایہ کاری اور زحمت کے بعد دربار خلافت کے صلح ناپذیر دشمنوں یعنی ائمہ اہل بیت علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کےلئے اسی طریقہ کار یعنی قتل کا سہارا لے جو اس کے ظالم و فاجر پیشرو حکام کا دائمی وطیرہ رہا تھا۔
واضح ہے کہ امام ہشتم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس قدر ممتاز حیثیت کے پیش نظر آپ کا قتل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مامون نے امام کو شہید کرنے کا قطعی اقدام کرنے سے پہلے کچھ دیگر اقدامات کیے تا کہ اس آخری راہِ حل پر عملدرآمد آسان تر رہے۔ ان تدابیر میں پروپیگنڈے، افواہ سازی اور غلط باتوں کو امام سے منسوب کرکے نقل کرنے کے ہتھکنڈے شامل تھے۔ چنانچہ مرو میں اچانک یہ افواہ پھیل گئی کہ علی بن موسی الرضاتمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ گمان غالب یہی ہے کہ مامون کے کارندوں کی منصوبہ بندی کےبغیر یہ کام ممکن نہ تھا۔
جب ابوصلت امام رضا علیہ السلام کے پاس یہ خبر لےآئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے خدا! اے آسمانوں اور زمین کے خالق! تو گواہ ہے کہ نہ میں نے ایسی بات کی ہے نہ میرے آباء و اجداد میں سے کسی نے یہ بات کی ہے۔ یہ ان لوگوں کی طرف سے ہمارے اوپر ہونے والے مظالم میں سے ایک ہے‘‘۔
مامون نے ہر اس شخص کے ساتھ امام کے مناظرے کی محفل برپا کی جس کے بارے میں اسے معمولی سابھی احتمال ہوتا کہ وہ امام کے مقابلے میں جیت جائےگا۔ یہ بھی مامون کی انہی تدابیر میں سے ایک ہے۔ جب امام نے مختلف ادیان و مذاہب کے مناظرین کو بحث ومناظرے میں شکست فاش دےدی اور یوں آپ کے علم و دانش اور مضبوط دلائل کا چرچا ہرجگہ ہونے لگا تو مامون نے اس بات کی کوشش کی کہ علم کلام کے ماہرین اور مناظرہ و مجادلہ کرنے والوں کو امام کے ساتھ مناظرے کی محفل میں لےآئے تا کہ ان میں سے کوئی ایک فرد امام کو شکست دے سکے لیکن مناظروں کا اہتمام جس قدر زیادہ کیا گیا اسی قدر امام علیہ السلام کی علمی طاقت زیادہ آشکار ہوتی گئی اور مامون اس ہتھکنڈے کی تاثیر سے مزید ناامید ہوتا گیا۔
روایات کے مطابق ایک دفعہ یا دو دفعہ مامون نے اپنے نوکروں اور کارندوں کے ذریعے امام کو قتل کرنے کی سازش تیار کی اور ایک بار امام کو سرخس میں قید بھی کیا لیکن ان ہتھکنڈوں کا نتیجہ بھی سوائے اس کے کچھ نہ نکلا کہ مامون کے وہی گماشتے امام کے معنوی مقام کے معتقد ہو گئے۔ یوں مامون کی شکست اور اس کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوگیا۔ آخرکار اس نے سوائے اس کے کوئی چارہ کار نہیں دیکھا کہ وہ کسی درمیانی واسطے کے بغیر براہِ راست اپنے ہاتھوں سے امام کو زہر دے چنانچہ اس نے یہی کیا۔
یوں ماہ صفر سنہ ۲۰۳ ھ میں یعنی امام کو مدینہ سے خراسان لانے کے قریباً دوسال بعد نیز امام کی ولی عہدی کا فرمان صادر ہونے کے ایک سال سے کچھ زائد عرصے بعد مامون نے قتل ِامام کے ناقابلِ فراموش اور سنگین جرم میں اپنے ہاتھ رنگ لئے۔
یہ تھا ائمہ اہل بیتعلیہم السلام کی ڈھائی سوسالہ سیاسی زندگی کے اہم ابواب میں سے ایک کا طائرانہ جائزہ۔ امید ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں کا جائزہ لینے والے ارباب تحقیق، دانشور اور ریسرچرز اس سلسلے میں تنقیح ، اصلاح، تشریح اور نقد وتحقیق کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے کمر ہمت باندھ لیں گے۔
( ۱۸/۵/۱۳۶۳ھ ش)۔
=====٭٭٭٭٭=====