انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 363
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 363 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

یہ سادہ لوحی ہے۔

اُس دن بھی ہمار دعویٰ چند نخلستانوں اور باغِ فدک پر نہ تھا بلکہ اصل دعویٰ خلافتِ رسول پر تھا۔

البتہ اُس دن یہ خیال کیاجارہا تھا کہ باغ فدک لے کر ہمیں اس حق سے مکمل طور پر محروم کیا جاسکتا ہے۔

اس لئے ہم اس مسئلے پر ڈٹ گئے۔

آج تم نے ہماری جو چیز غصب کرلی ہے وہ باغ فدک نہیں جس کی کوئی قیمت نہیں۔

تم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی مملکت کو غصب کیا ہے۔

امام حدود اربعہ بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں:

یہ ہے فدک۔

اب اگر تم دینا چاہتے ہو تو پورا دےدو۔

یوں موسی بن جعفر علیہ السلام نے واضح طور پر اپنے دعوائے خلافت و حاکمیت کا ذکر چھیڑا۔

(۲۳/۱/۱۳۶۴)

۱۴۱

(ہارون نے کہا:)

حُدَّ فَدَكاً حَتَّى أَرُدَّهَا إِلَيْكَ ۔

فدک کے حدود معین کیجئے تا کہ میں اسے آپ کو واپس کروں۔

امام نے پہلے انکار کیا لیکن بعد میں فرمایا:

’’لَا آخُذُهَا إِلَّا بِحُدُودِهَا‘‘

میں فدک نہیں لوں گا مگر اس کے اصلی حدود اربعہ کے ساتھ۔

اگر پورا پورا دے دو تو لوں گا۔

ہارون نے کہا: بہت خوب: اس کے حدود معین کیجئے۔

یہ بہت دلچسپ مرحلہ تھا۔

امام ہارون کے سامنے فدک کے حدود معین کررہے ہیں۔

حدود اربعہ یہ ہیں:

أَمَّا الْحَدُّ الْأَوَّلُ فَعَدَن‏:

فدک کی ایک حد عدن ہے۔

عدن جزیرہ نمائے عرب کی آخری سرحد ہے۔

یہ سن کر رشید کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اس نے کہا: عجب!

فرمایا:

وَ الْحَدُّ الثَّانِي سَمَرْقَنْد:

فدک کی دوسری حد سمرقند ہے۔ یہ سن کر ہارون کے چہرے کا رنگ خاکستری ہوگیا۔

وَالْحَدُّ الثَّالِثُ إِفْرِيقِيَةُ:

تیسری حد افریقہ(تیونس) ہے۔

فَاسْوَدَّ وَجْهُهُ

یعنی یہ سن کر ہارون کا چہرہ سیاہ ہوگیا

اور اس نے کہا: کیا عجیب بات ہے!فرمایا:

وَ الرَّابِعُ سيفُ الْبَحْرِ مِمَّا يَلِي الْجُزُرَ وَاِرْمِينِيَة:

چوتھی حد ساحل سمندر، جزائر اور آرمینیا ہے

(جسے شاید آجکل ارمنستان کہا جاتا ہے یا کوئی اور جگہ مثلاً بحیرہ روم کے سواحل و غیرہ) رشید نے کہا:

فَلَمْ يَبْقَ لَنَا شَيْ‏ءٌ

پس ہمارے لئے تو کچھ نہیں بچا۔

پس آؤ اور میری جگہ بیٹھ جاؤ۔

قَالَ مُوسَى: قَدْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّنِي إِنْ حَدَّدْتُهَا لَمْ تَرُدَّهَا:

موسی بن جعفر نے فرمایا: تحقیق میں نے تجھے یہ بتایا تھا کہ اگر میں فدک کے حدود معین کروں تو تم اسے نہیں لوٹاؤگے۔

فَعِنْدَ ذَلِكَ عَزَمَ عَلَى قَتْلِه‏

اس کے بعد ہارون نے موسی بن جعفر کو قتل کرنے کا پکارا ارادہ کیا۔

اسی سفر میں ہارون رشید نے مدینہ میں روضہ رسول پر حاضری کے دوران خلیفہ کی زیارت کا منظر دیکھنے والوں کے سامنے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ اپنی قرابت کا اظہار کرنا چاہا۔ چنانچہ وہ قبر رسول کے قریب جاکر کہتا ہے:

السلام علیک یا بن عمّ:

آپ پر سلام ہو اے میرے چچا زاد بھائی!ہارون نے یا رسول الله نہیں کہا بلکہ رسول کو چچا زاد کہہ کر سلام کیا۔

وہ گویا یہ کہہ رہاتھا: میں پیغمبر کا چچازاد ہوں۔

اس وقت موسی بن جعفر علیہ السلام فوراً ضریح مقدس کے سامنے آکر کھڑے ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں:

السلام علیک یا ابا!

(اے میرے پدر بزرگوار آپ پر سلام ہو)۔

گویا آپ ہارون کو بتا رہے ہیں: اگر رسول تیرے چچازاد بھائی ہیں تو جان لے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میرے پدربزرگوار ہیں۔

یوں آپ نے ہارون کی مکارانہ حکمت عملی کو اسی محفل کے اندر خاک میں ملادیا۔

ہارون الرشید کے قریبی لوگ اور حاشیہ نشین بھی یہ محسوس کررہے تھے کہ دربار خلافت کےلئے سب سے بڑا خطرہ موسی بن جعفر علیہ السلام کا وجود ہے۔

دربار خلافت کا ایک حامی وہاں کھڑا تھا۔

اس نے دیکھا کہ ایک شخص بغیر کسی رکھ رکھاؤ اور پروٹو کول کے گدھے پر سوار تشریف لائے۔ آپ قیمتی گھوڑے پر سوار نہ تھے جس سے یہ ظاہر ہو کہ آپ کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔

جونہی آپ تشریف لائے لوگوں نے راستہ دیا اور آپ داخل ہوگئے۔

اس شخص نے پوچھا: یہ کون تھا؟

جس کے آنے پر سب نے اس کا احترام کیا اور خلیفہ کے قریبی لوگوں نے اسے راستہ دیا تا کہ وہ اندر داخل ہو؟

جواب ملا کہ یہ موسی بن جعفر ہیں۔

جونہی لوگوں نے کہا کہ یہ موسی بن جعفر ہے

اس شخص نے کہا : وائے ہو اس قوم پر یعنی بنی عباس کی حماقت پر۔

یہ لوگ اس شخص کا جو اِن (بنی عباس) کی موت کا خواہاں ہے اور ان کی حکومت کو سرنگوں کردےگا اس قدر احترام بجا لا رہے ہیں؟

ان لوگوں کو علم تھا کہ دربار خلافت کےلئے موسی بن جعفر علیہ السلام کا خطرہ ایک ایسے عظیم رہبر کی طرف سے لاحق خطرہ ہے جو وسیع علم ،تقویٰ، عبودیت اور صلاحیتوں کا مرقع ہے۔

آپ علیہ السلام کو جاننے والے تمام لوگوں کو آپ کی ان خصوصیات کا علم تھا۔ آپ کے چاہنے والے اور معتقدین پورے عالم اسلام میں پھیلے ہوئے تھے۔ آپ کی شجاعت کا یہ عالم تھا کہ آپ کو خدا کے علاوہ کسی طاقت کا ذرہ برابر خوف نہ تھا۔

اسی لئے آپ ہارونی سطنت کے ظاہری دبدبے اور عظمت کے سامنے لاپروا ہوکر گفتگو کرتے اور اپنا مدعا بیان فرماتے تھے۔

امام ایک انقلابی مجاہد، خدا کے اندرفانی اور خدا پر توکل کرنے والے رہبر تھے۔ آپ کے چاہنے والے پورے عالم اسلام میں موجود تھے۔

اسلامی حکومت اور نظام چلانے کےلیے آپ کے پاس منصوبہ موجود تھا۔

چنانچہ آپ ہارونی سلطنت کےلئے سب سے بڑا خطرہ تھے۔ اس لئے ہارون نے فیصلہ کیا کہ وہ اس خطرے کو اپنے راستے سے ہٹادےگا۔

چونکہ ہارون ایک ماہر سیاستدان تھا اس لئے اس نے فوراً یہ کام انجام نہیں دیا۔

پہلے وہ یہ چاہتا تھا کہ بالواسطہ یہ عمل انجام دے۔

پھر اس نے بہتر یہ سمجھا کہ موسی بن جعفر کو قید کردے تا کہ شاید زندان میں آپ کے ساتھ کوئی سودا بازی ہوجائے

نیز آپ کو رعایتوں یا دباؤ کے ذریعے تابع فرمان بنایاجائے۔

۱۴۲

امام صادق علیہ کی گرفتاری

بنابریں ہارون نے مدینہ میں موسی بن جعفر علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کیا البتہ اس بات کا خیال رکھا کہ مدینہ والوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور انہیں پتہ نہ چلے کہ موسی بن جعفر کا کیا بنا۔ بنابریں دو محمل تیار کئے گئے۔

ایک عراق کی جانب روانہ کیا گیا اور دوسرا شام کی جانب تا کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ موسی بن جعفرکہاں لے جائے گئے ہیں۔

موسی بن جعفر دار الخلافہ بغداد لائے گئے۔ وہاں آپ قید کیے گئے جس میں آپ طویل عرصہ رہے۔ البتہ اس بات کا احتمال ہے کہ آپ ایک دفعہ زندان سے آزاد پھر دوبارہ گرفتار کیے گئے تھے۔

قطعی بات یہ ہے کہ آخری بار آپ اس لئے گرفتار کیے گئے تا کہ زندان میں آپ کی زندگی کا چراغ گل کیا جائے اور یہی ہوا۔

زندان کے اندر بھی موسی بن جعفر کی شخصیت چراغ ہدایت بنی رہی جس نے اپنے تمام جوانب کو روشن کیا۔ ملاحظہ ہو کہ حق یہ ہے۔

یہ ہے قرآنی تعلیمات پر مبنی جہادی، فکری اور اسلامی جدوجہد۔

آپ(علیہ السلام) لمحے بھر کےلئے بھی نہیں رکے یہاں تک کہ سخت ترین حالات میں بھی۔

یہ موسی بن جعفر کا کارنامہ ہے۔

اس بارے میں بہت سے واقعات اور متعدد روایات مذکور ہیں۔

ان میں سے ایک اہم ترین روایت یہ ہے کہ معروف زندانبان سندی بن شاہک نے آپ کو اپنے گھر کے ایک نہایت سخت تہہ خانے میں قید کیا تھا۔

سندی ایک بہت طاقتور اور سنگدل زندانبان تھا۔ وہ بنی عباس کا سرفروش نوکر اور دربار سلطنت و خلافت کا وفادار کارندہ تھا۔ سندی بن شاہک کے گھر والے بعض اوقات ایک روشندان سے زندان کے اندر دیکھتے تھے۔

موسی بن جعفر علیہ السلام کی حالت دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔ یوں سندی بن شاہک کے گھرانے کے اندر اہل بیت کی محبت و مودت پنپنے لگی۔

سندی بن شاہک کی نسل کے ایک فرزند کا نام کشاجم ہے جس کا شمار مکتب تشیع کے معروف بزرگوں، شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ کشاجم کا تعلق سندی کے بعد پہلی یا دوسری نسل سے ہے۔

اس کا ذکر سب نے کیا ہے۔

۱۴۳

امام موسی بن جعفر علیہ السلام نے زندان میں اس قسم کی زندگی گزاری۔

حکومتی اہلکار کئی بار زندان میں آئے۔ انہوں نے آپ کو ڈرایا دھمکایا، لالچ دلائی اور آپ کو خوش کرنے کی کوشش کی لیکن آپ اللہ اور اس کے لطف و کرم پر بھروسہ کرتے ہوئے استقامت کا پہاڑ بنے رہے۔

اسی استقامت نے آج تک قرآن اور اسلام کو محفوظ رکھا ہے۔ یادر رکھیے کہ خرابیوں کے مقابلے میں ہمارے ائمہ علیہم السلام کی استقامت کے طفیل آج ہم حقیقی اسلام کو پہچان سکتے ہیں نیز آج مسلمان نسلیں اور انسانی نسلیں کتابوں میں اسلام، قرآن اور سنت پیغمبر کا سراغ لگا سکتی ہیں، صرف شیعہ کتابوں میں ہی نہیں بلکہ اہل سنت کی کتابوں میں بھی۔

اگر ان ڈھائی سو سالوں کے دوران ائمہ علیہم السلام کی سخت مزاحمتی جدوجہد کارفرما نہ ہوتی تو یقین جانئے کہ اموی اور عباسی دور کے قلم فروش اور زبان فروش گماشتے اسلام کو آہستہ آہستہ اس قدر بدل دیتے کہ ایک دو صدیوں کے بعد اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا۔

قرآن یا تو مٹ جاتا یا تحریف شدہ شکل میں باقی رہتا۔

ان سربفلک پرچموں، نورفگن مشعلوں اور بلند میناروں (یعنی ائمہ) کی تاریخی استقامت کے باعث اسلام کے شعاعوں نے یوں نور افشانی کی کہ تحریف کرنے والوں کو وہ تاریک گوشہ نصیب نہیں ہوا جہاں بیٹھ کر وہ تحریف کرنا چاہتے تھے۔

ائمہ علیہم السلام کے شاگردوں کا تعلق تمام اسلامی فرقوں سے تھا، صرف شیعوں سے نہیں۔ جو لوگ شیعی اعتقادات نہیں رکھتے تھے ان کی بھی ایک بڑی تعداد ائمہ کی شاگردی کرتی تھی۔

یہ لوگ ائمہ سے قرآن، حدیث ،تفسیر اور سنت نبوی سیکھتے تھے۔ائمہ کی اسی استقامت نے اسلام کو آج تک محفوظ رکھا ہے۔

آخرکار موسی بن جعفر علیہ السلام کو زندان کے اندر زہر دےدیا گیا۔ ائمہ کی تاریخِ زندگی کا ایک تلخ باب امام موسی بن جعفر کی یہی مظلومانہ شہادت ہے۔ یہاں بھی حکمرانوں نے دکھاوے کی کوشش کی۔ آخری ایام میں سندی بن شاہک بغداد کے بعض روساء،معروف شخصیات اور بزرگوں کو امام کے پاس لے آیا اور کہنے لگا: دیکھئے ان کی حالت ٹھیک ہے اور کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ امام نے اس موقعے پر فرمایا:’’ہاں لیکن تم لوگ بھی جان لو کہ ان لوگوں نے مجھے زہر دیا ہے ‘‘۔

ان لوگوں نے امام کو خرما کے چند دانوں کے ذریعے زہر دیا۔

اس وقت آپ کی گردن اور آپ کے ہاتھ پیر سنگین زنجیروں میں جھکڑے ہوئے تھے۔ آپ کو طوق بھی پہنایا گیا تھا۔ یوں اس عظیم اور مظلوم امام کی روح زندان کے اندر ملکوت اعلی سے جاملی اور آپ درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔شہادت کے بعد بھی حکمرانوں پر خوف طاری تھا۔ وہ آپ کے جنازے سے بھی ڈر رہے تھے۔ وہ آپ کی قبر سے بھی خائف تھے۔ اسی لئے جب وہ موسی بن جعفر علیہما السلامکا جنازہ زندان سے باہر لے آئے تو یہ اعلان کرنے لگے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔

وہ ان ہتھکنڈوں کے ذریعے موسی بن جعفر کی شخصیت کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔ حکمرانوں کےلئے بغداد کا ماحول اس قدر آشفتہ تھا کہ خود حکومت کے ایک رکن یعنی سلیمان بن جعفر (بن منصور عباسی جو ہارون کا چچا زاد اور بنی عباس کا ایک سرکردہ تھا) نے دیکھا کہ اس صورتحال میں ان کےلئے کوئی بحران کھڑا ہوسکتا ہے۔

بنابریں اس نے ایک حکمت عملی سوجھی۔ اس نے موسی بن جعفر کے جنازے کو قیمتی کفن پہنایا او راحترام کے ساتھ لےجاکر قریش کے مقبرے میں دفن کیا جو آج کاظمین کے نام سے معروف ہے۔

کاظمین بغداد کے قریب واقع ہے اور وہاں موسی بن جعفر علیہ السلام کا روضہ مبارک ہے۔

یوں حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام کی سراپا جہاد زندگی کا چراغ گل ہوگیا۔

( ۲۳/۱/۱۳۶۴ھ ش)

۱۴۴

پندرھویں فصل "امام رضا علیہ السلام "

جب حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام ہارون کے زندان میں سالہا سال قید رہنے کے بعد زہر دغا کے ذریعے شہید کیے گئے تو اس وقت عباسی حکومت کی وسیع و عریض قلمرو میں مکمل گھٹن اور شدید پابندیوں کی فضا حاکم تھی جس کے بارے میں امام علی بن موسی الرضاعلیہما السلام کے ایک پیروکار نے کہا تھا: ’’ہارون کی تلوار سے خون ٹپک رہا تھا‘‘ ۔

استبدادیت سے لبریز اس ماحول میں ہمارے معصوم اور عظیم المرتبت امام کا کارنامہ یہ تھا کہ آپ نے تشیع کے پودے کو حوادث کے طوفانوں سے محفوظ اور اپنے پدر بزرگوار کے مددگاروں کو پراکندگی اور مایوسی کے تھپیڑوں سے بچائے رکھا۔ آپ نے تقیہ پر مبنی ایک حیرت انگیز حکمت عملی کے ذریعے اپنی جان کو جو عالم تشیع کا محور اور اس کی روح رواں تھی دشمنوں کے شر سے بچایا نیز طاقتور عباسی خلفاء کے دور اقتدار میں (جب ان کی حکومت کی بنیادیں مکمل طور پر مستحکم ہوچکی تھیں) امامت کی عمیق اور مزاحمتی جدوجہد کو جاری و ساری رکھا۔

امام ہشتم علیہ السلام نے عصر ہارون میں دس سال کا جو عرصہ گزارا نیز اس کے بعد خراسان اور بغداد کے مابین جاری رہنے والی پانچ سالہ خانہ جنگی کے دوران جو زندگی گزاری اس کے بارے میں تاریخ کے اوراق واضح تفصیلات پیش کرنے سے قاصر ہیں، لیکن غور و فکر سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ امام ہشتم علیہ السلام نے اس دوران اہل بیت علیہ السلام کے اس طویل المیعاد جد و جہد کا سلسلہ جاری رکھا جو سانحہ کربلا کے بعد تمام ادوار میں جاری و ساری رہا تھا وہ بھی اُنہی اہداف اور اُنہی مقاصد کے عین مطابق۔

جب سنہ ۱۹۸ھ میں مامون اپنے بھائی امین کے خلاف اقتدار کی جنگ جیت چکا اور بلاشرکت غیرے خلیفہ بن گیا تو اس کی اولین تدابیر میں سے ایک یہ قرار پائی کہ علویوں کی تحریک اور شیعی جدوجہد کا قلع قمع کیا جائے۔

اس بارے میں تمام پیشرو خلفا کے تجربات مامون کے سامنے تھے۔

ان تجربات کی روشنی میں علوی اور شیعی تحریک کی روز افزون طاقت، وسعت اور گہرائی عیاں تھیں نیز اس تحریک کو جڑ سے اکھاڑنے یا کم از کم اسے متوقف اور محدود کرنےمیں حکمران طبقے کی ناکامی ہویدا تھی۔ مامون دیکھ رہاتھا کہ ہارونی حکومت اپنی تمامتر شوکت و سطوت کے باوجود نیز امام ہفتم علیہ السلام کو طویل عرصے تک مقید رکھنے اور آخرکار آپ کو زہر دغا سے شہید کرنے کے باوجود شیعوں کی فکری، تبلیغی، عسکری اور سیاسی جدوجہد اور شورشوں کا راستہ روکنے میں ناکام رہی ہے۔

اس وقت مامون کا اقتدار اس کے باپ اور اسلاف کے اقتدار کی طرح مضبوط نہ تھا۔

علاوہ ازیں مامون دیکھ رہا تھا کہ بنی عباس کے درمیان چھڑنے والی اندونی جنگوں کے باعث عباسی حکومت عظیم خطرات و مشکلات سے دوچار ہے۔ اس کے باوجود اس بات کی قطعی ضرورت تھی کہ وہ علوی تحریک کے خطرے کا زیادہ سنجیدگی سے جائزہ لے۔

شاید مامون شیعوں کی طرف سے اپنی حکومت کو لاحق خطرات کو پرکھنے میں حقیقت پسندانہ انداز میں سوچ رہا تھا۔

گمانِ غالب یہ ہے کہ امام ہفتم علیہ السلام کی شہادت سے لےکر اس وقت تک کے پندرہ سالہ عرصے میں خاص کر پانچسالہ خانہ جنگی کے دوران شیعی تحریک کو پنپنے اور اس بات کی تیاری کا زیادہ موقع میسّر ہوا کہ وہ علوی حکومت کا پرچم بلند کرے۔

مامون نے اپنی زیرکی کے باعث اس خطرے کا خوب اندازہ کرلیا اور اس کے مقابلے کی ٹھان لی۔

اس تجزئے اور تشخیص کا نتیجہ تھا کہ مامون نے امام ہشتم علیہ السلام کو مدینہ سے خراسان بلالیا اور آپ کو ولیعہدی قبول کرنے کی جبری پیشکش کی۔

امامت کے پورے طویل عرصے میں یہ ایک بےنظیر یا کم نظیر واقعہ تھا جو وقوع پذیر ہوا۔

یہاں اختصار کے ساتھ ولیعہدی کے واقعے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس واقعے میں امام ہشتم علی بن موسی الرضاعلیہما السلام ایک عظیم تاریخی تجربے سے روبرو ہوئے نیز آپ ایک پوشیدہ سیاسی جنگ سے دوچار ہوئے جس میں شکست یا کامیابی تشیع کے مستقبل کےلئے تقدیر ساز کردار ادا کرسکتی تھی۔

اس جنگ میں امام علیہ السلام کا مد مقابل مامون تھا جو تمامتر وسائل کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔ بظاہر میدان اسی کے ہاتھ میں تھا۔

مامون نے زبردست ہوشیاری ، محکم تدبیر اور بےمثال فہم و فراست کے ساتھ میدان میں قدم رکھا۔

اگر وہ اس میدان میں کامیاب ہوجاتا اور اپنی منصوبہ بندی کے مطابق کاروائی کو منطقی انجام تک پہنچا سکتا تو وہ یقیناً ایک ایسے ہدف کو حاصل کرلیتا جس کے حصول میں سنہ ۴۰ھ سے یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شہادت سے لے کر اب تک کوئی اموی یا عباسی خلیفہ اپنی کوششوں کے باوجود کامیاب نہیں ہوا تھا۔

بالفاظ دیگر اس جنگ میں کامیابی کی صورت میں مامون تشیع کے درخت کو جڑ سے اکھاڑ سکتا تھا اور اس مخالف تحریک کو (جو طاغوتی خلفاء کی آنکھوں میں کانٹوں کی طرح چبی ہوئی تھی) مکمل طور پر نابود کرسکتا تھا لیکن امام ہشتم علیہ السلام اپنی خداداد تدبیر کی بدولت مامون پر غالب آئے۔ آپ نے اسے اس سیاسی معرکے میں(جس کا اہتمام مامون نے خود کیا تھا) مکمل طور پر شکست سے دوچار کیا۔

اس معرکے کے باعث نہ صرف یہ کہ تشیع کمزور یا تباہ نہیں ہوا بلکہ سنہ ۲۰۱ھ یعنی امام رضا علیہ السلام کی ولیعہدی کا سال تشیع کی تاریخ کے سب سے بابرکت سالوں میں سے ایک ثابت ہوا۔

یوں علویوں کی انقلابی کوششوں اور شیعی تحریکوں کے بدن میں ایک نئی روح پھونکی گئی۔

یہ سب امام ہشتم علیہ السلام کی اس خداداد تدبیر اور حکیمانہ حکمت عملی کے طفیل ممکن ہوا جس کا ثبوت آپ نے اس عظیم آزمائش کے دوران دیا۔

اس عجیب تاریخی واقعے پر روشنی ڈالنے کے لئے یہاں ہم اس سلسلے میں مامون کی تدابیر اور امام ہشتم کی تدابیر کے بارے میں مختصر وضاحت پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

مامون نے امام ہشتم علیہ السلام کو خراسان آنے کی دعوت دی۔

اس دعوت کے ذریعے مامون درج ذیل اہم مقاصد کے حصول کا خواہاں تھا:

۱۴۵

پہلا اور اہم ترین مقصد:

مامون چاہتا تھا کہ شیعوں کی تند و تیز انقلابی جدوجہد اور سرگرمیوں کو ایک بےخطر اور ملائم سیاسی سرگرمی میں تبدیل کرے۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں شیعیانِ اہل بیت تقیہ کے سائے تلے نہ تھکنے اور ختم نہ ہونے والی مزاحمتی کوششوں اور تحریکوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔

یہ کوششیں اور تحریکیں جو دو خصوصیات کی حامل تھیں بساطِ خلافت کو لپیٹنے میں ناقابلِ بیان تاثیر کی حامل تھیں۔ ان دو خصوصیات میں سے ایک ’’مظلومیت‘‘ کی جہت ہے جبکہ دوسری ’’قداست‘‘ کی۔

شیعیانِ اہل بیت علیہم السلام ان دو موثر عوامل کے ذریعے شیعی طرز ِفکر کو (جو اہل بیتعلیہم السلام کے نقطۂ نظر سے اسلام کی تبیین و تشریح سے عبارت ہے) اپنے مخاطبین کے قلوب واذہان تک پہنچاتے تھے اور ہر اس شخص کو جس کے اندر معمولی سی آمادگی پائی جاتی تھی اس طرز فکر کی طرف مائل یا اس کا معتقد بناتے تھے۔ اسی لئے عالم اسلام میں تشیع کا دائرہ روز بروز پھیل رہا تھا۔

مظلومیت اور قداست کا یہی پہلو تھا جو شیعی طرز فکر کے سہارے تمام ادوار میں مختلف مقامات پر خود ساختہ خلفا کے مقابلے میں مسلح بغاوتوں اور انقلابی تحریکوں کو منظم کررہا تھا۔

مامون چاہتا تھا کہ ان انقلابی جدوجہد کرنے والوں سے ان کا خفیہ طریقہ کار یکبارگی چھین لے اور امام علیہ السلام کو انقلابی جدوجہد کے میدان سے نکال کر سیاست کے میدان میں لے آئے اور یوں شیعی تحریک کی اس تاثیر اور صلاحیت کو ختم کرے جس کا دائرہ اسی خفیہ طریقہ کار اور زیر زمین حکمت ِعملی کے باعث روز بروز پھیل رہا تھا۔

اس طریقے سے مامون علویوں سے ان دو موثر اور کارگر خصوصیات (قداست اور مظلومیت) کو بھی چھین سکتا تھا کیونکہ وہ جماعت جس کا پیشوا دربارخلافت کی ممتاز شخصیت ہو نیز وقت کے مطلق العنان بادشاہ کا ولیعہد ہو وہ نہ اس قدر مظلوم ہو سکتی ہے اور نہ اتنی مقدس۔ مامون کی یہ تدبیر شیعی طرز فکر کو بھی ان عقائد و افکار کی سطح پر لاکھڑا کرسکتی تھی جن کے طرفدار معاشرے میں پائے جاتے تھے نیز شیعی طرز تفکر سے حکومت مخالف انداز فکر کا لیبل اتار سکتی تھی۔ حکومت کی مخالفت کا پہلو اگرچہ حکمرانوں کی نظر میں ممنوع اور مبغوض ہے لیکن عام لوگوں خاص کر کمزوروں کی نظر میں دلکش اور سوال انگیز ہے۔

دوسرا مقصد:

شیعوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا کہ اموی اور عباسی خلفاء غاصب ہیں نیز یہ ثابت کرنا کہ ان خلفاء کی خلافت جائزہے۔مامون اس منافقانہ حکمت عملی کے ذریعے تمام شیعوں کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ مسلمانوں پر حاکم خلافتوں کے غصبی اور ناجائز ہونے کا شیعی دعویٰ جو ہر دور میں شیعوں کے اعتقادی اصولوں کا حصہ رہا ہے بےبنیاد اور احساس کمتری کا نتیجہ ہے کیونکہ اگر دوسرے خلفاء کی خلافت ناجائز اور جابرانہ ہوتی تو مامون کی خلافت بھی ناجائز اور غصبی ہوتی کیونکہ مامون انہی خلفاء کا جانشین تھا نیز چونکہ علی بن موسی الرضا علیہما السلام نےاسی دربار خلافت کا حصہ بن کر اورمامون کی جانشینی قبول کرکے اس کی خلافت کی قانونی اور شرعی حیثیت کو تسلیم کیا ہے اس لئے دیگر خلفا کی خلافت کو بھی جائز تسلیم کرنا ہوگا۔

واضح ہے کہ یہ شیعوں کے تمام دعوؤں کا توڑ ہوتا۔ اس طریقے سے مامون نہ صرف یہ کہ علی ابن موسی الرضا(علیہ السلام) سے خود مامون کی اور اس کے اسلاف کی حکومت کے جواز کا اقرار لیتا بلکہ شیعوں کے ایک اعتقادی اصول یعنی سابقہ حکومتوں کے غصبی ہونے کے دعوے کی بھی دھجیاں اڑا کر رکھ دیتا۔

علاوہ ازیں اس حکمت عملی کے باعث ائمہ معصومینعلیہم السلام کے زہد و تقویٰ اور دنیا سے ان کی بےرغبتی کے بارے میں بھی شیعوں کا دعویٰ باطل ثابت ہوتا اور یہ تاثر ملتا کہ ائمہعلیہم السلامصرف اس وقت دنیا سے بےرغبتی اور زہدکا مظاہر کرتے ہیں جب وہ حصول دنیا میں ناکام رہیں اور اب چونکہ دنیوی بہشت کے راستے ان کے لئے کھل چکے ہیں اس لئے وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح اس کی طرف لپکے ہیں اور اس سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔

۱۴۶

تیسرا مقصد:

مامون اس حکمت عملی کے ذریعے امام کو (جو ہمیشہ مزاحمتی جدوجہد کا محور رہے) اپنی حکومت کے زیر تسلط لانا چاہتا تھا۔ مامون امام رضا علیہ السلام کے علاوہ تمام علوی روساء، باغیوں اور جنگجؤوں کو بھی اپنے زیر تسلط لانے کا خواہاں تھا۔ یہ مامون کی ایک ایسی کامیابی ہوتی جو مامون سے پہلے نہ کسی اموی خلیفہ کو نصیب ہوئی تھی اور نہ کسی عباسی خلیفہ کو۔

چوتھا مقصد:

امام علیہ السلام کو سرکاری گماشتوں کے محاصرے میں رکھنا اور اس تاثر کو آہستہ آہستہ ختم کرنا کہ امام کا تعلق عوام سے ہے نیز عوام اور امام کے درمیان فاصلہ ڈالنا جس کے نتیجے میں امام کے ساتھ لوگوں کی عقیدت اور محبت میں کمی واقع ہو۔ امام کا تعلق عوام سے تھا۔ آپ لوگوں کی امیدوں کا محور تھے۔ لوگ آپ سے ہی سوالات پوچھتے تھے اور اپنی شکایات آپ کے پاس پیش کرتے تھے ؛چنانچہ مامون اسی پہلو سے وار کرنا چاہتا تھا۔

پانچواں مقصد:

مامون کا منصوبہ یہ تھا کہ امام علیہ السلام کی جانشینی کا اعلان کرکے وہ خود لوگوں کے درمیان ایک قسم کی معنوی حیثیت اور عزت حاصل کرے۔ اس صورت میں قدرتی بات تھی کہ اُس دور کی دنیا کے سارے لوگ مامون کی تعریف و تمجید کرتے کہ اس نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک فرزند کو (جو مقدس اور معنوی حیثیت کا حامل تھا) اپنا جانشین بناکر اپنے بھائیوں اور اپنی اولاد کو اس منصب سے محروم کردیاہے۔

یہ ایک دائمی اصول ہے کہ جب دیندار لوگ دنیا پرستوں کے قریب ہوجاتے ہیں تو دینداروں کی آبرو میں کمی آتی ہے جبکہ دنیا پرستوں کی آبرو میں اضافہ ہوتا ہے۔

چھٹا مقصد:

مامون کا خیال تھا کہ اس کا ولیعہد بننے کے بعد امام رضا علیہ السلام دربار خلافت کے حمایتی بن جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر امام رضا علیہ السلام جیسی علمی اور ایمانی شخصیت جو فرزند رسول ہونے کی بناء پر تمام لوگوں کی نظروں میں بے مثال عزت و احترام کی حامل تھی حکومتی اقدامات کی تعریف میں رطب اللسان ہوتی تو کوئی مخالف آواز اس حکومت کی حیثیت کو داغدار نہ کرسکتی۔ یہ وہ مضبوط دیوار تھی جو دربار خلافت کی تمام برائیوں اور خطاؤں کو لوگوں کی نگاہوں سے چھپا سکتی تھی۔

ان مقاصد کے علاوہ مامون کے پیش نظر اور بھی مقاصد ہوسکتے تھے۔جیسا کہ مشاہدہ ہوتا ہےیہ منصوبہ اس قدر پیچیدہ اور عمیق تھا کہ یقیناً مامون کےعلاہ کوئی اور شخص اس منصوبے کو آگے نہیں بڑھا سکتا تھا۔ اسی لئے مامون کے دوست اور قریبی لوگ بھی اس منصوبے کی جہات سے بےخبر تھے۔ بعض تاریخی روایات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فضل بن سہل بھی اس تدبیر کی اصل حقیقت سے بےخبر تھا حالانکہ فضل مامون کا وزیر ،کمانڈر انچیف اور دربار خلافت کا مقرب ترین فرد تھا۔ مامون اس پیچیدہ منصوبے کے احتمالی نقصانات سے اپنے اہداف کو بچانے کےلئے اس اقدام کے اسباب و مقاصد کے بارے میں جعلی داستانیں تراشتا اور مختلف لوگوں کو سناتا تھا۔ اس بات کا سچ مچ اعتراف کرنا پڑےگا کہ مامون کی سیاسی پالیسی بےمثال پختگی اور گہرائی کی حامل تھی لیکن معرکے کا دوسرا فریق امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام تھے۔ اسی لئے آپ نے مامون کی شیطنت آمیز چالاکی و زیرکی کے باوجود اس کی پختہ اور جامع تدبیر کو بے اثر اور بازیچۂ اطفال میں تبدیل کردیا۔

اس منصوبے کے بارے میں مامون کی بےتحاشا کوششوں اور عظیم سرمایہ کاری کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکا بلکہ اس کی پالیسی خود اس کےلئے نقصان دہ بن گئی۔ مامون نے جس تیر سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی حیثیت ، آپ کے اعتبار اور آپ کے مقاصد کو شکار کرنا چاہا تھا وہ تیر خود اس کے گلے پڑگیا یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے بعد وہ مجبور ہوگیا کہ اپنی تمام سابقہ تدابیر کو کالعدم قرار دیتے ہوئے آخرکار امام کے بارے میں وہی طریقہ کار اپنائے جو اس کے تمام پیشرو خلفا نے اپنایا تھا، اور وہ یہ کہ امام کو قتل کرے۔

مامون نے اپنے آپ کو ایک باوقار،مقدس اور خردمند خلیفہ ظاہر کرنے کی آرزو میں زبردست جدوجہد کی تھی لیکن آخرکار وہ بھی کرپشن، فحشا ء ، بےحیائی، عیش و عشرت، ظلم وستم اور تکبر کے اسی گھورے میں جاگرا جس میں اس کے تمام پیشرو خلفا جاگرے تھے۔ ولیعہدی کے واقعے کے بعد والے پندرہ سالوں کے دوران مامون کی ریاکاری کا پردہ چاک ہوتا رہا جس کے دسیوں نمونے دیکھے جاسکتے ہیں؛ بطور مثال یحیی بن اکثم جیسے فاسق و فاجر اور عیاش قاضی القضاۃ کی تعیناتی، اپنے گویّے چچا ابراہیم بن مہدی کی ہم نشینی و مجالست نیزاپنے دارالخلافہ بغداد میں عیش و نوش اور بےحیائی کی محافل کا انعقاد و غیرہ۔

اب ہم اس واقعے(جانشینی) کے حوالے سے امام علی بن موسی الرضاعلیہما السلامکی حکیمانہ تدابیر اور حکمت علمی کی وضاحت پیش کریں گے۔

پہلی تدبیر:

جب مامون نے امام رضا علیہ السلام کو مدینہ سے خراسان بلایا تو امام نے مدینہ کی فضا کو اس دعوت کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کے تاثر سے بھردیا یہاں تک کہ امام کے آس پاس موجود تمام لوگوں نے یقین کرلیا کہ مامون بری نیت سے امام کو اپنے وطن سے دور کررہا ہے۔ امام نے مامون کے بارے میں اپنی بدظنی کو ہرممکنہ طریقے سے تمام لوگوں کے کانوں تک پہنچایا۔

حرم رسول کو الوداع کہتے وقت، اپنے خاندان سے جدا ہوتے وقت، مدینہ سے نکلتے وقت اور کعبہ کے گرد الوداعی طواف کرتے وقت آپ نے اقوال و افعال، دعاؤں اور آنسوؤں کے ذریعے سب پر ثابت کردیا کہ یہ سفر آپ کی موت کا سفر ہے۔

وہ تمام لوگ جن کے بارے میں مامون کو توقع تھی کہ وہ اس سے خوش بین ہوں گے اور اس کی طرف سے ولی عہدی کی پیش کش قبول کرنے پر امام رضا علیہ السلام سے بدظن ہوجائیں گے ان کے دل امام رضا علیہ السلام کے سفر کے ابتدائی لمحات میں ہی مامون کے خلاف نفرت سے بھرگئے کیونکہ مامون ان لوگوں کے محبوب امام کو ظالمانہ انداز میں ان سے جداکرکے قتلگاہ کی طرف لےجارہا تھا۔

دوسری تدبیر:

جب مرو میں امام علیہ السلام کو ولایت عہدی کی پیش کش کی گئی تو آپ نے اسے قبول کرنے سے سخت انکار کیا۔ آپ نے اس وقت تک یہ پیش کش قبول نہیں کی جب تک مامون نے آپ کو قتل کرنے کی صریحاً دھمکی نہیں دی۔

یہ خبر ہرطرف پھیل گئی کہ علی بن موسیٰ الرضا(علیہ السلام) نے ولی عہدی کی پیشکش اور اس سے قبل خلافت کی پیشکش کو ٹھکرادیا ہے۔ مامون نے پہلے شد و مد کے ساتھ امام کو خلافت کی پیش کش کی تھی۔ ان ذمہ دار شخصیات نے جو مامون کی حکمت عملی کی باریکیوں سے آگاہ نہیں تھے ناسمجھی میں امام کے انکار کی خبر کو ہر طرف منتشر کردیا؛ یہاں تک کہ فضل بن سہل نے سرکاری اہلکاروں اور گماشتوں کی ایک محفل میں کہا: میں نے خلافت کو ہرگز اس قدر حقیر نہیں دیکھا تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام (مامون) علی ابن موسی الرضا کو اس کی پیشکش کررہے ہیں لیکن علی بن موسیٰ اسے ٹھکرارہے ہیں۔

خود امام علیہ السلام جہاں موقع ملتا وہاں لوگوں کو یہ بتاتے تھے کہ یہ منصب آپ کے اوپر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ آپ ہمیشہ فرماتے تھے: مجھے قتل کی دھمکی دی گئی جس کی بنا پر میں نے ولیعہدی قبول کی ہے۔ ایک عجیب ترین سیاسی خبر کے طور پر اس بات کا دہن بدہن اور شہر بہ شہر پھیلنا ایک قدرتی بات تھی۔ اس دن یا اس کے بعد پورے عالم اسلام نے اس بات سے آگاہ ہونا ہی تھا کہ علی ابن موسی الرضا علیہ السلام جیسا انسانِ کامل بھی موجود ہے جو ولیعہدی کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اسے ناپسندیدگی کے ساتھ اس وقت قبول کرتا ہے جب اسے قتل کی دھمکی دی جاتی ہے جبکہ یہی مامون صرف اس بنا پر کہ اسے اس کے بھائی امین کی ولیعہدی سے معزول کیا گیا تھا کئی سالوں تک اس کے ساتھ جنگ لڑتا ہے ، پھر اپنے بھائی امین کے ساتھ ہزاروں لوگوں کو اسی خاطر تہہ تیغ کردیتا ہےنیز بطور انتقام اپنے بھائی کے سر کو شہر بہ شہر پھراتا ہے۔

اس زاویے سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام اور مامون عباسی کے درمیان موازنے کی جو تصویر لوگوں کے اذہان میں نقش ہوگئی وہ مامون کے اس توقع کے بالکل برعکس تھی جس کے پیش نظر مامون نے اس قدر جدوجہد اور منصوبہ بندی کی تھی۔

۱۴۷

تیسری تدبیر:

ان تمام باتوں کے باوجودعلی بن موسی الرضاعلیہما السلام نے صرف اس شرط پر ولیعہدی قبول کی کہ آپ حکومت کے کسی کام میں مداخلت نہیں کریں گے نیز صلح، جنگ، عزل و نصب اور انتظامی امور میں حصہ نہیں لیں گے۔

مامون نے امام رضا علیہ السلام کی یہ شرط قبول کرلی کیونکہ وہ سوچ رہاتھا کہ ابتدائے کار میں یہ شرط قابل تحمل ہے اور بعد میں امام کو آہستہ آہستہ سرکاری سرگرمیوں کے جال میں پھنسایا جاسکتا ہے۔

اس شرط کی موجودگی میں مامون کے منصوبے کا نقش برآب ہونا واضح تھا اور اس کے اکثر اہداف کا ناکام رہ جانا عیاں تھا۔ اگرچہ امام کو ولی عہد کہا جاتا تھا اور آپ کےلئے دربار خلافت کے وسائل بھی فراہم تھے اس کے باوجود آپ نے ایک ایسا انداز اپنایا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ دربار خلافت کے مخالف اور اس پر معترض ہیں۔ آپ نہ کوئی حکم دے رہے ہیں،نہ کسی چیز سے منع کررہے ہیں، نہ کوئی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، نہ کوئی عہدہ سنبھالتے ہیں، نہ حکومت کی حمایت کرتے ہیں اور نہ سرکاری اقدامات کے حق میں کوئی توجیہ پیش کرتے ہیں۔

واضح ہے کہ حکومت کا ایک رکن جو اپنے ارادہ و اختیار سے تمام ذمہ داریوں سے یوں کنارہ کشی اختیار کرے وہ اس حکومت کا مخلص اور طرفدار نہیں ہوسکتا۔

مامون کو اس کمی کا بخوبی احساس تھا۔ اسی لئے ولیعہدی کا مرحلہ طے ہوجانے کے بعد اس نے بارہا زیرکانہ چالوں کے ذریعے کوشش کی کہ امام کو سابقہ عہدوپیمان کے برخلاف دربار خلافت کے امور میں دخیل کرے اور امام کی عدم تعاون والی پالیسی کا خاتمہ کرے لیکن امام ہر بار حکیمانہ طریقے سے اس کے منصوبے کو نقش برآب کرتے رہے۔ اس کا ایک نمونہ وہ واقعہ ہے جسے معمّر بن خلّاد نے خود امام ہشتم سے نقل کیا ہے۔ بقول امام مامون نے آپ سے درخواست کی کہ آپ آشفتہ حال علاقوں کے معاملے میں آپ کی بات ماننے والوں کے نام کوئی خط لکھیں لیکن امام علیہ السلام نے انکار فرمایا اور اسے سابقہ عہد و پیمان یعنی سرکاری امور میں مکمل عدم دخالت کا وعدہ یاد دلایا۔

ایک نہایت اہم اور دلچسپ نمونہ نمازِ عید کا واقعہ ہے۔ مامون نے امام رضا علیہ السلام کو نماز عید کی امامت کرنے کی دعوت دی اور اس کی دلیل یہ دی کہ اس طرح لوگ آپ کی قدر وقیمت پہچانیں گے اور ان کے دلوں کو سکون ملےگا۔

امام نے انکار کیا لیکن جب مامون کا اصرار حد سے بڑھ گیا تو آپ نے اس شرط پر یہ دعوت قبول فرمائی کہ آپ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے انداز میں نماز پڑھائیں گے۔ اس کے بعد امام نے اس موقعے سے ایسا استفادہ کیا کہ مامون اپنے اصرار سے پشیمان ہوگیا اور اس نے امام کو عیدگاہ کے راستے سے ہی واپس لوٹایا۔یوں مامون نے اپنی حکومت کی ریاکارانہ حکمت عملی پر لامحالہ ایک اور کاری ضرب لگائی ۔

چوتھی تدبیر:

امام علیہ السلام نے ولیعہدی کے واقعے سے جو بنیادی استفادہ کیا وہ مذکورہ باتوں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ امام علیہ السلام نے ولیعہدی قبول فرماکر ایک ایسا کام انجام دیا جو سنہ ۴۰ھ میں اہل بیتعلیہم السلام کی خلافت کے خاتمے سےلےکر اس دن تک اور خلافت کے آخری ایام تک ائمہ علیہم السلام کی تاریخِ زندگی کا ایک عدیم المثال کارنامہ ہے۔ یہ کارنامہ پورے عالمِ اسلام کی سطح پر شیعی نظریہ امامت کو برملا کرنے، تقیہ کے دبیز پردے کو چاک کرنے اور تمام مسلمانوں کے کانوں تک تشیع کا یپغام پہنچانے سے عبارت ہے۔ امام کو خلافت کا عظیم سٹیج استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔ آپ نے اس سٹیج سے اُن باتوں کو پوری آواز کے ساتھ پکار کر سب کے کانوں تک پہنچایا جو گزشتہ ڈیڑھ سو برسوں کے دوران کسی سے نہیں کہی گئی تھیں سوائے ائمہ کے خاص الخاص اور قریبی لوگوں کے اور وہ بھی چھپ چھپا کر اور تقیہ کی صورت میں۔

امام علیہ السلام نے ان باتوں کی تبلیغ کےلئے اُس زمانے کے ان دستیاب وسائل سے استفادہ کیا جو خلفا اور ان کے قریب ترین لوگوں کے علاوہ کسی اور کو میسر نہ تھے۔ امام کی اس عظیم کامیابی کی کچھ نشانیاں یہ ہیں:

۱۔ امام کے وہ مناظرے جو علماء اور مامون کی موجودگی میں انجام پائے۔ ان مناظروں میں امام علیہ السلام نے امامت کے مضبوط ترین دلائل کا ذکر فرمایا۔

۲۔ فضل بن سہل کے نام امام رضا علیہ السلام کا خط ’’جوامع الشریعۃ‘‘ جس میں آپ نے شیعی عقائد اور فقہ کے تمام بنیادی نکات کو بیان فرمایا ہے۔

۳۔ معروف ’’حدیث ِامامت‘‘ جو آپ(علیہ السلام) نے مرو میں عبد العزیز بن مسلم سے بیان فرمایا۔

۴۔ وہ بہت سارے قصائدجو ولیعہدی کی مناسبت سے آپ کی شان میں لکھے اور کہے گئے۔ ان میں سے بعض قصائد مثلاً دِعبِل کا قصیدہ اور ابونواس کا کلام وغیرہ معروف عربی قصائد کے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔

۵۔جب اس سال مدینہ میں اور شاید عالم اسلام کے بہت سے دیگر علاقوں میں علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی ولی عہدی کی خبر پہنچی تو خطبوں میں اہل بیت علیہ السلام کے فضائل بیان ہونے لگے، وہی اہل بیت رسول جن پر ستر سال تک منبروں سے سب و شتم ہوتا رہا تھا۔ اس کے علاوہ سالہا سال تک کسی میں یہ جرأت نہ تھی کہ ان کے فضائل کو بیان کرے۔

لیکن اب ہر جگہ ان کی عظمتوں اور خوبیوں کے چرچے تھے۔ ائمہ علیہم السلام کے چاہنے والوں کو اس واقعے سے باطنی اور قلبی قوت حاصل ہوئی۔ بےخبر اور بےخیال لوگ اس حقیقت سے آگاہ اور اس کی طرف مائل ہوئے جبکہ اہل بیت کے قسم خوردہ دشمن اپنے آپ کو کمزور اور شکست خوردہ محسوس کرنے لگے۔ شیعہ محدثین اور مفکرین بڑے بڑے درسی حلقوں اور عوامی مراکز میں وہ تعلیمات بیان کرنے لگے جنہیں اب تک صرف خلوت میں ہی بیان کیا جاسکتا تھا۔

پانچویں تدبیر:

اگرچہ مامون یہ چاہتا تھا کہ امام علیہ السلام لوگوں سے کٹ کر رہ جائیں تاکہ اس جدائی کے نتیجے میں امام اور عوام کا معنوی اور جذباتی رابطہ بھی قطع ہوجائے لیکن امام علیہ السلام نے ہر مناسب موقعے پر اپنے آپ کو عوام سے مربوط رکھا۔

مامون نے مدینہ سے مرو تک امام علیہ السلام کے سفر کے لئے جان بوجھ کر وہ راستہ معین کیاجو کوفہ اور قم جیسے شہروں سے جو حبّ اہل بیت کےلئے معروف تھے نہ گزرے۔ اس کے باوجود امام نے اسی معینہ راستے میں بھی اپنے اور عوام کے درمیان جدید رابطہ استوار کرنے کےلئے ہرمناسب فرصت سے بھر پور استفادہ کیا۔ آپ نے اہواز میں امامت کی نشانیاں دکھائیں اور بصرہ میں ان لوگوں کے دل موہ لیے جن کے دلوں میں آپ کے بارے میں کدورت تھی۔ نیشاپور میں آپ نے ’’حدیث سلسلۃ الذہب‘‘ کو ہمیشہ کےلئے تاریخ کی پیشانی پر ثبت کردیا۔ ان کے علاوہ آپ نے دیگر اعجاز آمیز نشانیوں کو آشکار کیا۔اس طویل سفر کے دوران امام علیہ السلام نے جگہ جگہ لوگوں کی ہدایت کا کوئی موقع ضائع جانے نہیں دیا۔ مرو سفر کی آخری منزل اور خلیفہ کی جائے قیام تھا۔ یہاں بھی آپ کو جہاں جہاں موقع ملا وہاں عوام کے درمیان حاضر ہونے کےلئے آپ سرکاری حصار کا دائرہ توڑتے رہے۔

چھٹی تدبیر:

امام علیہ السلام نے بااثر شیعہ شخصیات کو سکوت اور حکومت کا ساتھ دینے کی دعوت نہیں دی بلکہ قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام کی نئی صورتحال نے ان کے دلوں کو گرمایا اور وہ باغی وانقلابی عناصر جو اپنی زندگی کا اکثر حصہ صعب العبور پہاڑوں میں نیز شہروں سے دور علاقوں میں سختی اور دشواری کے ساتھ گزار چکے تھے اب علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی حمایت کی بدولت مختلف شہروں میں سرکاری اہلکاروں کے ہاں محترم قرار پائے اور وہ ان کی عزت و تکریم کرنے لگے۔

دعبل ایک سر پھرا شاعر تھا جس کی زبان کی کاٹ معروف تھی۔ اس نے کسی خلیفہ، وزیر یا امیر کو گھاس نہیں ڈالا تھا اور ان کے دربار میں قیام نہیں کیا تھا نیز دربار خلافت کی کوئی موثر شخصیت اس کی زبان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہی تھی۔ اسی لئےسرکاری ادارے ہمیشہ اس کا پیچھا کرتے اور اس کا سراغ لگاتے رہتے تھے۔ وہ سالہا سال تک اپنی سولی اپنے کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا (ہمیشہ موت کے خطرے سے دوچار رہا۔ مترجم) وہ شہروں اور بستیوں میں مفرور بن کر سرگردان رہا لیکن اب یہی دِعبل اپنے محبوب امام اور پیشوا کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے آپ کی شان میں اپنا معروف ترین اور فصیح و بلیغ ترین قصیدہ کہا جو درحقیقت اموی اور عباسی حکمرانوں کے خلاف علوی تحریک کا فردِ جرم یا استغاثہ ہے۔ دعبل کے اشعار مختصر مدت میں عالم اسلام کے کونے کونے میں پہنچ گئے، یہاں تک کہ امام علیہ السلام کے ہاں سے واپسی پر اس نے اپنے یہی اشعار ڈاکوؤں کے سردار کی زبان سے سنے۔

اب ہم ایک بار پھر اس خفیہ سرد جنگ کے مجموعی اوضاع پر طائرانہ نظر کریں گے۔ سرد جنگ کا یہ میدان مامون نے خود سجایا تھا۔ اس نے سابق الذکر مقاصد کے پیش نظر امام علی بن موسی الرضاعلیہما السلامکو اس میدان کارزار میں (اپنے مقابلے میں) اتارا تھا۔

امام رضا علیہ السلام کی ولیعہدی کے اعلان کے ایک سال بعد کی صورتحال کچھ یوں ہے:

مامون نے علی بن موسی علیہما السلام کو بےحساب احترام اور وسائل و امکانات فراہم کیے ہیں لیکن سب کو علم ہوچکا ہے کہ یہ عظیم المرتبت ولی عہد کسی سرکاری کام میں حصہ نہیں لیتے اور اپنی مرضی کے مطابق دربار خلافت سے مربوط تمام امور سے روگرداں ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ آپ نے اس شرط پر ولیعہدی قبول فرمائی ہے کہ آپ کسی حکومتی کام میں حصہ نہیں لیں گے۔

مامون نے ولی عہدی کے سرکاری حکمنامے کے علاوہ اپنے دیگر بیانات میں امام کے فضائل،تقویٰ، عظیم حسب و نسب اور بلند علمی مرتبے کی تعریف و تمجید کی ہے۔ اب آپ ان تمام لوگوں کی نظر میں جن میں سے بعض نے آپ کا صرف نام سنا تھا جبکہ بعض آپ کو نام کی حد تک بھی نہیں پہچانتے تھے (اور بعض شاید ایسے بھی تھے جن کے دلوں میں آپ کا بغض بھرا ہوا تھا) ایک قابل تعظیم شخصیت کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں نیز آپ خلافت کے حقدار انسان کی حیثیت سے(جو عمل،علم،تقویٰ اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرابتداری میں خلیفہ مامون سے بڑھ کر اور اس سے زیادہ اہل ہیں)معروف ہو چکے ہیں۔

مامون اس بات میں ناکام ہوچکا ہے کہ اپنے خلاف سرگرم عمل شیعوں کے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرے نیز ان کے ہاتھ اور زبان کی تندی سے اپنے آپ کو اور اپنی خلافت کو گلو خلاصی دے سکے بلکہ اس کے برعکس علی ابن موسیٰ علیہ السلام ان (شیعوں) کےلئے باطنی اطمینان و سکون اور ذہنی و روحانی تقویت کا موجب بنے ہیں۔

مدینہ، مکہ اور دیگر اہم اسلامی علاقوں میں نہ صرف یہ کہ علی بن موسی الرضا علیہ السلام پر دنیا پرستی اور حبّ ِجاہ و مقام کا الزام نہیں لگ سکا اور آپ کی شہرت و محبوبیت میں کمی نہیں آئی بلکہ آپ کی معنوی تعظیم پر ظاہری حشمت کا بھی اضافہ ہوا ہے اور کئی دہائیوں کے بعد تعریف کرنے والے آپ کے مظلوم و معصوم آباء و اجداد کے فضل و مقام کا برملا تذکرہ کرنے لگےہیں۔

خلاصہ یہ کہ اس عظیم کھیل میں مامون نہ صرف کہ کوئی بازی جیت نہیں سکا ہے بلکہ بہت سی چیزیں ہار کر اب اس بات کا منتظر ہے کہ باقیماندہ چیزوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس مقام پر مامون کو اپنی شکست اور ہزیمت کا احساس ہوا اور اس نے اس بات کی ٹھانی کہ اپنی فاش غلطی کا ازالہ کرے۔ اسے اب اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اس قدر سرمایہ کاری اور زحمت کے بعد دربار خلافت کے صلح ناپذیر دشمنوں یعنی ائمہ اہل بیت علیہ السلام کا مقابلہ کرنے کےلئے اسی طریقہ کار یعنی قتل کا سہارا لے جو اس کے ظالم و فاجر پیشرو حکام کا دائمی وطیرہ رہا تھا۔

واضح ہے کہ امام ہشتم علیہ الصلاۃ والسلام کی اس قدر ممتاز حیثیت کے پیش نظر آپ کا قتل کوئی آسان کام نہیں تھا۔ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ مامون نے امام کو شہید کرنے کا قطعی اقدام کرنے سے پہلے کچھ دیگر اقدامات کیے تا کہ اس آخری راہِ حل پر عملدرآمد آسان تر رہے۔ ان تدابیر میں پروپیگنڈے، افواہ سازی اور غلط باتوں کو امام سے منسوب کرکے نقل کرنے کے ہتھکنڈے شامل تھے۔ چنانچہ مرو میں اچانک یہ افواہ پھیل گئی کہ علی بن موسی الرضاتمام لوگوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ گمان غالب یہی ہے کہ مامون کے کارندوں کی منصوبہ بندی کےبغیر یہ کام ممکن نہ تھا۔

جب ابوصلت امام رضا علیہ السلام کے پاس یہ خبر لےآئے تو آپ نے فرمایا: ’’اے خدا! اے آسمانوں اور زمین کے خالق! تو گواہ ہے کہ نہ میں نے ایسی بات کی ہے نہ میرے آباء و اجداد میں سے کسی نے یہ بات کی ہے۔ یہ ان لوگوں کی طرف سے ہمارے اوپر ہونے والے مظالم میں سے ایک ہے‘‘۔

مامون نے ہر اس شخص کے ساتھ امام کے مناظرے کی محفل برپا کی جس کے بارے میں اسے معمولی سابھی احتمال ہوتا کہ وہ امام کے مقابلے میں جیت جائےگا۔ یہ بھی مامون کی انہی تدابیر میں سے ایک ہے۔ جب امام نے مختلف ادیان و مذاہب کے مناظرین کو بحث ومناظرے میں شکست فاش دےدی اور یوں آپ کے علم و دانش اور مضبوط دلائل کا چرچا ہرجگہ ہونے لگا تو مامون نے اس بات کی کوشش کی کہ علم کلام کے ماہرین اور مناظرہ و مجادلہ کرنے والوں کو امام کے ساتھ مناظرے کی محفل میں لےآئے تا کہ ان میں سے کوئی ایک فرد امام کو شکست دے سکے لیکن مناظروں کا اہتمام جس قدر زیادہ کیا گیا اسی قدر امام علیہ السلام کی علمی طاقت زیادہ آشکار ہوتی گئی اور مامون اس ہتھکنڈے کی تاثیر سے مزید ناامید ہوتا گیا۔

روایات کے مطابق ایک دفعہ یا دو دفعہ مامون نے اپنے نوکروں اور کارندوں کے ذریعے امام کو قتل کرنے کی سازش تیار کی اور ایک بار امام کو سرخس میں قید بھی کیا لیکن ان ہتھکنڈوں کا نتیجہ بھی سوائے اس کے کچھ نہ نکلا کہ مامون کے وہی گماشتے امام کے معنوی مقام کے معتقد ہو گئے۔ یوں مامون کی شکست اور اس کے غیظ و غضب میں اضافہ ہوگیا۔ آخرکار اس نے سوائے اس کے کوئی چارہ کار نہیں دیکھا کہ وہ کسی درمیانی واسطے کے بغیر براہِ راست اپنے ہاتھوں سے امام کو زہر دے چنانچہ اس نے یہی کیا۔

یوں ماہ صفر سنہ ۲۰۳ ھ میں یعنی امام کو مدینہ سے خراسان لانے کے قریباً دوسال بعد نیز امام کی ولی عہدی کا فرمان صادر ہونے کے ایک سال سے کچھ زائد عرصے بعد مامون نے قتل ِامام کے ناقابلِ فراموش اور سنگین جرم میں اپنے ہاتھ رنگ لئے۔

یہ تھا ائمہ اہل بیتعلیہم السلام کی ڈھائی سوسالہ سیاسی زندگی کے اہم ابواب میں سے ایک کا طائرانہ جائزہ۔ امید ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدائی صدیوں کا جائزہ لینے والے ارباب تحقیق، دانشور اور ریسرچرز اس سلسلے میں تنقیح ، اصلاح، تشریح اور نقد وتحقیق کے کام کو آگے بڑھانے کے لئے کمر ہمت باندھ لیں گے۔

( ۱۸/۵/۱۳۶۳ھ ش)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۴۸

سولھویں فصل

امام محمد تقی الجواد علیہ السلام

امام علی نقی الہادی علیہ السلام

امام حسن عسکری علیہ السلام

طویل المیعاد منصوبہ بندی پر مبنی منظم اور ہمہ گیر جدوجہد ”:

امام جواد علیہ السلام دیگر معصوم ائمہ علیہم السلام کی طرح ہمارے لئے نمونۂ عمل اور اسوۂ حسنہ ہیں۔ اللہ کے اس بندۂ صالح کی مختصر زندگی کفر و طغیان کے خلاف جہاد میں بیت گئی۔

آپ نوجوانی میں امت مسلمہ کے رہبر منصوب ہوئے۔

آپ نے کچھ ہی سالوں کے دوران خدا کے دشمنوں کے ساتھ مختصر لیکن جامع جہاد کیا یہاں تک کہ ۲۵ سال کی عمر میں یعنی جوانی میں ہی آپ کا وجود خدا کے دشمنوں کےلئے ناقابلِ برداشت بن گیا اور انہوں نے آپ کو زہر دےکر شہید کیا۔

جس طرح ہمارے دیگر ائمہ علیہم السلام میں سے ہر ایک نے اپنے جہاد کے ذریعے اسلام کی افتخار آمیز تاریخ میں ایک ایک ورق کا اضافہ کیا اسی طرح اس عظیم امام نے ابھی اسلام کے ہمہ گیر جہاد کے ایک اہم گوشے کو عملی جامہ پہنا کر ہمارے لیے ایک درسِ عمل کا اہتمام کیا۔

وہ بڑا سبق یہ ہے کہ جب ہم منافق اور ریاکار قوتوں کے مقابلے میں کھڑے ہوں تو ہمت سے کام لیں اور ان قوتوں کےمقابلے میں عوام کی ہوشیاری کو بروئے کار لائیں۔ اگر دشمن کھل کر دشمنی کرے نیز اگر وہ غلط دعویٰ یا ریاکاری کا مظاہرہ نہ کرے تو اس سے نمٹنا آسان تر ہے۔

لیکن جب مامون عباسی جیسا دشمن، اسلام کی حمایت اور تقدس کا لبادہ اوڑھ لے تو اس کی شناخت لوگوں کےلئے مشکل بن جاتی ہے۔

ہمارے دور میں بلکہ تاریخ کے تمام ادوار میں مقتدر قوتوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ جب وہ لوگوں کے ساتھ براہ راست مقابلے سے عاجز آجائیں تو ریاکاری اور نفاق کا ہتھکنڈا استعمال کریں۔ امام علی بن موسی الرضا صلوات اللہ علیہ اور امام جواد صلوات اللہ علیہ نے کوشش کی کہ وہ مامون کے چہرے سے مکر و فریب اور دکھاوے کے نقاب کو ہٹا دیں جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔

( ۱۸/۷/۱۳۵۹ھ ش)۔

۱۴۹

یہ بزرگ ہستی استقامت کی علامت ہیں۔اس عظیم انسان نے اپنی مختصر زندگی مکمل طورپر عباسی خلیفہ مامون کی ریاکار اور دھوکہ باز حکومت کے خلاف جدوجہد میں گزاری اور ہرگز ایک قدم پسپائی اختیار نہیں کی۔ آپ نے تمام مشکل حالات کا پامردی سے مقابلہ کیا اور مزاحمتی جدوجہد کے تمام ممکنہ طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقابلے کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ وہ پہلی شخصیت تھے جس نے بطور آشکار آزاد مکالمے اور مناظرے کی رسم کی بنیاد رکھی۔ آپ نے مامون عباسی کے دربار میں علماء، دین کے غلط دعویداروں اور معروف چہروں کے ساتھ پیچیدہ ترین مسائل کے بارے میں استدلالی بحث و گفتگو کی۔ یوں آپ نے اپنی علمی وفکری برتری اور اپنے دعوے کی حقانیت کو ثابت کیا۔ آزادانہ بحث و گفتگو ہمارا اسلامی ورثہ ہے۔ ائمہ ہدیٰ کے دور میں آزاد بحث و گفتگو کا سلسلہ رائج تھا۔امام جواد علیہ السلام کے دور میں آپ کے حکیمانہ طرز عمل کے طفیل یہ سلسلہ مزید شفاف ہو گیا۔

( ۲۵/۲/۱۳۶۰ھ ش)۔

۱۵۰

اپنے زمانے کے ظالم خلفا کے ساتھ امام ہادی کی سرد جنگ میں جس فریق کو ظاہری اور باطنی فتح نصیب ہوئی وہ حضرت ہادی ہی تھے۔آپ کی امامت کے دوران یکے بعد دیگرے چھ خلفاء آئے اور سب اپنے انجام کو پہنچ گئے۔ان میں سب سے آخری خلیفہ معتز تھاجس نے آپ کو شہید کیا اور اس کے تھوڑے عرصے بعد خود بھی مرگیا۔

یہ خلفاء زیادہ تر ذلیل و خوار ہوکر مرگئے۔ ان میں سے ایک اپنے بیٹے کے ہاتھوں مارا گیا اور دوسرا اپنے بھتیجے کے ہاتھوں۔ یوں بنی عباس تباہی سے دوچار ہوئے۔ اس کے برعکس تشیع حضرت ہادی(علیہ السلام) اور حضرت عسکری(علیہ السلام) کے دور میں تمامتر مشکلات کے باوجود روز بروز قوی تر ہوتا گیا اور اس کا دائرہ پھیلتا گیا۔

حضرت ہادی علیہ السلام نے اپنی بیالیس(۴۲) سالہ زندگی کے بیس سال سامرا میں گزارے۔ وہاں آپ کی زرعی زمین تھی۔ آپ کا کاروبارِ زندگی اسی شہر میں تھا۔

در اصل سامرا کی حیثیت ایک چھاونی کی سی تھی۔ معتصم نے یہ شہر بسایا تھا تا کہ وہ اپنے قریبی ترک غلاموں کو جنہیں وہ ترکستان،سمرقند،منگولیا اور مشرقی ایشیا سے لےآیا تھا سامرا میں ٹھہرائے۔ (یہ ہمارے ایرانی ترک نہیں جن کا تعلق آذربائیجان و غیرہ سے ہے۔) چونکہ یہ لوگ نو مسلم تھے اس لئے وہ ائمہ، مومنین اور اسلام کو نہیں پہچانتے تھے۔

اسی لئے وہ لوگوں کےلئے درد سر بن گئے اور عربوں (بغداد والوں) سے اختلاف کرنے لگے۔ اسی شہر سامراء میں شیعہ بزرگوں کی ایک خاصی تعداد امام ہادی علیہ السلام کے دور میں جمع ہوئی۔ آپ ان لوگوں کے امور کو منظم کرنے اور ان کے ذریعے پورے عالم اسلام میں امامت کا پیغام (خطوط و غیرہ کی شکل میں) پہنچانے میں کامیاب رہے۔

عالم تشیع کا یہی نیٹ ورک جو قم، خراسان، رے، مدینہ، یمن، دور و دراز علاقوں اور دنیا کے تمام گوشوں میں پھیلا ہوا تھا اس بات میں کامیاب ہوا کہ امامت کے پیغام کو پھیلائے اور اس مکتب فکر کے معتقدین کی تعداد میں روز بروز اضافہ کرے۔ امام ہادی علیہ السلام نے یہ سارے کام مذکورہ چھ خلفا کی خون آشام اور برندہ تلواروں کے نیچے رہتے ہوئے ان کی مرضی کے خلاف انجام دیے۔حضرت ہادی(علیہ السلام) کی رحلت کے بارے میں ایک معروف حدیث ہے جس کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ سامراء میں شیعوں کی ایک اچھی خاصی تعداد جمع ہوگئی تھی جبکہ دربار ِخلافت کو ان کا علم نہیں تھا۔ اگر حکمرانوں کو ان کا پتہ چلتا تو وہ ان سب کو تہس نہس کردیتے لیکن چونکہ ان لوگوں نے ایک مضبوط خفیہ نیٹ ورک قائم کرلیا تھا اس لئے دربار خلافت ان تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔

ان بزرگوں (ائمہ علیہم السلام ) کی ایک دن کی کوشش سالہا سال کے برابر اثر کرتی تھی۔ ان ہستیوں کی مبارک زندگی کا ایک دن سالہا سال کام کرنے والی جماعت کی طرح معاشرے میں اثر انداز ہوتا تھا۔ ان بزرگوں نے اس طرح دین کی حفاظت فرمائی و گرنہ اس دین کو (جس کی باگ ڈور متوکل، معتزّ، معتصم اور مامون جیسے حاکموں کے ہاتھ میں ہو اور جس کے علماء یحیی بن اکثم جیسے افراد ہوں جو سرکاری عالم ہونے کے باوجود اعلانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کرتے تھے) شروع میں ہی مٹ جانا چاہئے تھا۔ائمہ علیہم السلام کی مجاہدت اور کوشش نے نہ صرف تشیع کو بلکہ قرآن، اسلام اور دینی معارف کو محفوظ رکھا۔ یہ اللہ کے خالص و مخلص بندوں اور اولیائے الٰہی کی خاصیت ہے۔اگر اسلام کے دامن میں اس قسم کے کمربستہ سرفروش نہ ہوتے تو اسلام بارہ تیرہ سو سال بعد دوبارہ زندہ نہ ہوسکتا اور اسلامی بیداری کی لہر نہ اٹھتی بلکہ آہستہ آہستہ اس کا خاتمہ ہوجاتا۔

اگر اسلام کے دامن میں ایسے لوگ نہ ہوتے جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ان عظیم معارف کو تاریخ بشریت اور تاریخ اسلام کے حافظے میں محفوظ کریں تو سب کچھ ختم ہوجاتا۔ اگر کوئی چیز باقی بھی رہتی تو اسلامی تعلیمات و معارف کا وجود نہ رہتا جس طرح مسیحیت اور یہودیت کے اصلی معارف میں سے آج تقریباً کوئی چیز زندہ نہیں ہے۔ آج اگر قرآن باقی ہے، حدیث نبوی زندہ ہے، اس قدر احکام و معارف زندہ ہیں اور اسلامی تعلیمات ایک ہزار سال بعد بھی تمام انسانی علوم و معارف کے سرِ فہرست زندہ و تابندہ ہے تو یہ بلاوجہ اور قدرتی امر نہیں ہے۔ یہ ایک غیر عادی کام ہے جو اسلام کے خدمتگاروں کی عظیم جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ البتہ اس عظیم کام کی راہ میں تشدد، قید و بند اور قتل ہونے کے خطرات ہمیشہ درپیش رہتے ہیں جن کو برداشت کرنا ان ہستیوں کےلئے کوئی سنگین امر نہیں تھا۔

امام علی الہادی علیہ السلام کے بچپن سےمربوط ایک روایت کہتی ہے کہ جب معتصم ۲۱۸ھ میں حضرت جواد علیہ السلام کو آپ کی شہادت سے دو سال قبل مدینہ سے بغداد لے آیا تھا تو حضرت ہادی علیہ السلام اس وقت چھ سال کے تھے۔ آپ اپنے گھرانے کے ساتھ مدینہ میں رہے۔حضرت جوادکے بغداد لائے جانے کے بعد معتصم نے آپ کے گھرانے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ جب اس نے سنا کہ حضرت جواد علیہ السلام کے بڑے بیٹے علی بن محمد کی عمر چھ سال ہے تو اس نے کہا: یہ بات خطرناک ہے۔ ہمیں اس کی چارہ جوئی کرنی چاہئے۔ معتصم نے اپنے ایک قریبی شخص کو حکم دیا کہ وہ بغداد سے مدینہ جائے اور وہاں کسی دشمن اہل بیت کو تلاش کرے پھر اس بچے کو اس کے حوالے کرے تا کہ وہ اس بچے کے اتالیق اور استاد کی حیثیت سے اسے یوں تربیت دے کہ وہ اپنے خاندان کا دشمن اور دربارِ خلافت کا حامی بن جائے۔

یہ شخص بغداد سے مدینہ آیا۔ اس نے مدینہ کے ایک عالم الجنیدی کو (جو اہل بیت علیہ السلام کے شدید ترین مخالفین اور دشمنوں میں سے ایک تھا) اس کام کےلئے ڈھونڈ لیا اور اس سے کہا: مجھے حکم ملا ہے کہ میں تجھے اس بچے کا اتالیق اور مودِّب (ادب سکھانے والا) مقرر کروں۔کسی کو اس بچے کے ساتھ رفت و آمد کی اجازت نہ دو اور اسے ہماری پسند کے مطابق تربیت دو۔

جنیدی کا نام تاریخ میں ثبت ہے۔ اس وقت امام ہادی علیہ السلام چھ سالہ تھے اور حُکم حکومت کا تھا جس کی مخالفت کون کرسکتا تھا؟

کچھ عرصے بعد دربار خلافت سے وابستہ ایک شخص نے الجنیدی کو دیکھا اور اس سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو اس کے حوالے کیا گیا تھا۔ الجنیدی نے کہا: کون سا بچہ؟

یہ بچہ ہے؟

میں اسے ادب کا ایک نکتہ بتاتا ہوں تو وہ میرے لئے ادب کے کئی ابواب بیان کرتا ہے جن سے میں استفادہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاں سبق پڑھا ہے؟

گاہے جب وہ کمرے میں داخل ہونا چاہتا ہے تو میں اس سے کہتا ہوں: قرآن کی ایک سورت پڑھو پھر اندر آؤ (یعنی وہ آپ کو اذیت دینا چاہتا تھا)۔ وہ پوچھتا ہے: کون سی سورت پڑھوں؟

میں اس سے کہتا ہوں: کوئی لمبی سورت مثلاً سورہ آلعمران پڑھو۔ وہ اسے پڑھتا ہے اور میرے لئے اس سورت کے مشکل مقامات کے معانی بیان کرتا ہے۔ یہ لوگ عالم ہیں، حافظ قرآن ہیں اور قرآن کی تاویل و تفسیر کے عالم ہیں۔ کیا یہ بچہ ہے؟

استاد الجنیدی کے ساتھ اس بچے کے روابط ایک عرصے تک قائم رہے جس کے نتیجے میں استاد اہل بیت کامخلص شیعہ بن گیا۔

(یہ وہ بچہ ہے جو بظاہر بچہ تھا لیکن اللہ کا ولی تھا:

( وَاٰتَيْنَهُ الحكْمَ صَبِيًّا ) ۔

شد غلامی کہ آبِ جو آرد آبِ جُو آمد و غلام ببرد

غلام نہر(یا جو ) کا پانی لانے گیا لیکن نہر کاپانی آیا اور غلام کو بہالےگیا۔

تمام میدانوں میں یہی لوگ غالب تھے جبکہ شکست ہرجگہ دوسروں کا مقدر بنتی رہی۔

معروف شاعر دِعبل تمام عباسی خلفا کا مخالف تھا۔ اس نے اپنے اشعار کے ذریعے انہیں ذلیل و خوار کیا تھا۔ اس نے ان خلفا میں سے ہر ایک کےلئے تاریخ میں کوئی نہ کوئی یادگار کلام چھوڑا ہے۔ دِعبل نے کچھ اشعار معتصم کے بارے میں کہے ہیں۔وہ کہتا ہے:

’’ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ بنی عباس کے خلفاء سات ہیں لیکن اب کہتے ہیں کہ وہ آٹھ ہیں۔ آٹھواں کہاں ہے؟ وہ اصحابِ کہف کی طرح ہیں۔ اصحاب کہف کا آٹھواں ان کا کتا تھا۔‘‘ پھر وہ کہتا ہے: ’’ کہاں تو اور کہاں وہ کتا! اس کتے کا خدا کی بارگاہ میں کوئی گناہ نہیں جبکہ تو سراپا گناہ ہے۔‘‘

( ۳۰/۵/۱۳۸۳ھ ش)۔

۱۵۱

امام مدینہ سے سامرہ لائے گئے تا کہ حکمرانوں کے زیر نظر رہیں لیکن انہوں نے دیکھا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر آپ ان تین اماموں کے حالات ’’المناقب‘‘ اور دیگر مآخذ میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ان ائمہ علیہم السلام کے دور میں شیعوں کے درمیان روابط کا نیٹ ورک امام باقر اور امام صادق علیہما السلام کے دور سے زیادہ مضبوط تھا۔

دنیا کے دورترین علاقوں سے لوگ انہیں خطوط لکھتے تھے، رقوم بھیجتے تھے اوران سے فرامین لیتے تھے جبکہ ان پر پابندیاں عائد تھیں۔ سامرا میں امام ہادی علیہ السلام لوگوں کی محبوب شخصیت بن چکے تھے۔ سب آپ کا احترام کرتے تھے اور کوئی اہانت نہیں ہوتی تھی۔ بعد میں آپ کی رحلت نیز امام عسکری علیہ السلام کی رحلت کے وقت شہر ماتم کدہ بن گیا۔

اس صورتحال سے حکمرانوں نے اندازہ کر لیا کہ دال میں کچھ کالا ہے جس کا سراغ لگانا اور علاج کرنا ضروری ہے۔

انہیں ’’قدسیت‘‘کے مسئلے کا پتہ چل گیا۔ متوکل امام کو شراب نوشی کی محفل میں لے آیا تا کہ یہ خبر ہرجگہ پہنچ جائے کہ علی بن محمد علیہ السلام تومتوکل کی دعوت میں شریک ہوئے جہاں شراب اور اسباب عیش و نوش فراہم تھے۔

۱۵۲

آپ ذرا سوچئے کہ اس خبر کے عواقب کتنے خطرناک ہوتے۔

یہاں امام علیہ السلام نے ایک مجاہد انقلابی کا موقف اختیار کیا۔ آپ اس سازش کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ آپ متوکل کے دربار میں تشریف لےگئے۔ آپ نے اس کی محفلِ شراب کو معنویت کی محفل میں تبدیل کردیا۔ یعنی آپ نے حقائق کو بیان کرکے اور ملامت آمیز اشعار پڑھ کر متوکل کو مغلوب کیا یہاں تک کہ آپ کے آخری الفاظ کے ساتھ متوکل کھڑا ہوگیا۔ وہ آپ کےلئے غالیہ لے آیا۔ پھر اس نے آپ کو احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ امام علیہ السلام نے متوکل سے فرمایا: ’’تیرا خیال ہے کہ تو یہاں بیٹھا ہے اور موت کا پنچہ تجھے اپنی گرفت میں نہیں لےگا ‘‘۔

یوں امام علیہ السلام موت کے مراحل کا ذکر کرتے گئے۔ آپ نے ان کیڑوں کا بھی ذکر فرمایا جو متوکل کےوجود میں پڑنے والے تھے۔ امام محفل کو مکمل طور پر منقلب کرنے کے بعد دربار سے باہر نکل گئے۔

اس سرد جنگ کی ابتدا تند مزاج اور مقتدر خلیفہ نے کی تھی۔ اس کا مدّ مقابل ایک نہتا جوان تھا جو بظاہر کمزور حریف تھا۔ اس کمزور حریف نے ایک نفسیاتی جنگ لڑی جس میں نیزہ اور شمشیر کارگر نہیں ہوتے۔ اگر ہم ہوتے تو ہم ہرگز یہ کام نہ کرسکتے۔

یہ امام کا کمال ہے کہ صورتحال کا صحیح ادراک کریں اور اس طریقے سے بات کریں جس سے خلیفہ خشمگین نہ ہو۔ امام کھڑے ہو کر شراب کے ساے شیشوں کو توڑ سکتے تھے لیکن یہ کوئی معقول ردّ عمل نہ ہوتا اور اس سے کوئی نتیجہ بھی حاصل نہ ہوتا لیکن آپ(علیہ السلام) نے ایک انوکھا طریقہ استعمال کیا۔ واقعے کا یہ پہلو بہت اہم ہے۔

ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے اس پہلو پر توجہ رکھیے کہ یہ بزرگ ہستیاں ہمیشہ جدوجہد میں مصروف رہتی تھیں۔ ان کی جدوجہد کی روح سیاسی تھی کیونکہ مسندِ حکومت پر براجمان حاکم بھی دین کا دعویدار تھا۔ وہ بھی دین کے ظاہری آداب کا خیال رکھتا تھا اور بعض اوقات امام(علیہ السلام) کے دینی نقطہ نظر کو قبول بھی کرتا تھا جیسا کہ مامون نے بعض موارد میں امام کے نظرئے کو قبول کیا۔ بالفاظ دیگر یہ لوگ گاہے امام کے فقہی نظریے کو قبول کرنے سے پس وپیش نہیں کرتے تھے۔ یہ لوگ اہل بیت کے خلاف اس لئے جدوجہد کرتے تھے کیونکہ اہل بیت اپنے آپ کو ’’امام‘‘سمجھتے تھے۔ درحقیقت حکمرانوں کے خلاف سب سے بڑی جدوجہد یہی تھی کیونکہ جو شخص حاکم بناہوا تھا نیز اپنے آپ کو امام اور پیشوا سمجھتا تھا وہ دیکھتا تھا کہ جن علامات اور قرائن کا کسی امام کے اندر موجود ہونا ضروری ہے وہ اس امام کے اندر موجود ہیں اور خود اس کے اندر موجود نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ امام کو اپنی حکومت کےلئے خطرناک سمجھتا تھا کیونکہ اس کی نظر میں امام خلافت کے مدعی تھے۔ خلفاء اس مقصد کے تحت جنگ لڑتے تھے جبکہ ائمہ اطہار(علیہ السلام) پہاڑ کی طرح استقامت دکھا رہے تھے۔ بدیہی بات ہے کہ اس جدوجہد میں ائمہ علیہم السلام جن معارف ، فقہی احکام، باطنی صفات اور اخلاقیات کی ترویج کررہے تھے وہ اپنی جگہ مسلم ہیں۔زیادہ سے زیادہ شاگردوں کی تربیت اور شیعی ارتباطات کا دائرہ روز بروز وسیع تر ہوتا گیا۔ ان چیزوں نے تشیع کی حفاظت کی۔ آپ ایک ایسے مشن کا تصور کریں جس کی مخالفت حکومتوں کی طرف سے دوسو پچاس سال تک ہوتی رہی ہو۔ اسے تو مکمل طور پر مٹ جانا چاہئے تھا لیکن آپ دیکھئے کہ آج دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے اور شیعہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں۔

اس نکتے کا مشاہدہ ان اشعار میں بخوبی کیا جاسکتا ہے جو امام صادق، امام ہادی اور امام عسکری علیہ السلام کی شان میں کہے گئے ہیں۔ یہ لوگ حق کی راہ میں مجاہدانہ جدوجہد کرتے تھے اور اسی جد وجہد کی خاطر شہید ہوئے۔ ان کا یہ سفر ایک واضح ہدف کی طرف رواں دواں رہا۔ گاہے کوئی راستے سے پلٹتا ہے اور کوئی دوسری جانب سے آگے بڑھتا ہے لیکن ہدف ایک ہی ہے۔ ان ائمہ کو امام حسین علیہ السلام کے دور سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی جبکہ امام حسین نے بنیادیں استوار کی تھیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوئی باقی نہ رہا:

اِرْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الحُسَینِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ

لیکن امام ہادی علیہ السلام کے زمانے میں ائمہ علیہم السلام نے پورے عالم اسلام میں اثر و نفوذ پیدا کیا تھا یہاں تک کہ بنی عباس بھی عاجز آگئے اور چکراگئے کہ آخر کیا کریں؟

چنانچہ انہوں نے شیعوں کا رخ کیا۔ ایک عباسی خلیفہ نے خط کے ذریعے حکم دیا کہ خطبوں میں اہل بیت کا نام لیا جائے اور یہ کہا جائے کہ حق اہل بیت کے ساتھ ہے۔

یہ خط تاریخ میں ثبت ہے۔

تاریخ کہتی ہےکہ وزیرِ دربار جلدی سے خلیفہ کے پاس آیا اور بولا: یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ وزیر کو یہ کہنے کی جرأت نہ ہوئی کہ حق اہل بیت کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس نے کہا:

آج طبرستان کے پہاڑوں اور دیگر مقامات پرکچھ لوگوں نے اہل بیت کے نام پر قیام کیا ہے۔

اگر آپ کی یہ بات ہرطرف پھیل جائے تو وہ ایک لشکر جمع کرلیں گے اور آپ کی جان کے درپے ہوجائیں گے۔ خلیفہ نے دیکھا کہ بات درست ہے۔چنانچہ اس نے حکم دیا کہ سرکلر کو تقسیم نہ کیاجائے۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں اپنی حکومت کےلئے خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ اگر انہیں اہل بیت سے عقیدت ہوجاتی تب بھی حبّ دنیا اور حبّ اقتدار ان کی قلبی اعتقاد کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا تھا۔

( ۳۰/۶/۱۳۸۰ھ ش)۔

۱۵۳

یہ ائمہ علیہم السلام بہت عرصہ غریب الدیار رہے۔ مدینہ سے دور، گھربار سے دور اور اپنے وطن ِ مالوف سے دور۔اس کے باوجود ان تین اماموں (امام جواد، امام ہادی، امام عسکریؑ) کے بارے میں ایک نکتہ قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ہم جس قدر امام عسکری کے دور کے آخری حصے کی طرف نظر کریں اس بےوطنی کا بیشتر مشاہدہ ہوتا ہے۔

حالانکہ امام صادق اور امام باقر علیہماالسلام کےدور کے مقابلے میں ان تینوں اماموں کے زمانے میں ائمہ کے اثر و نفوذ اور شیعوں کے دائرے میں وسعت کی مقدار شاید دس گنا ہوگئی تھی۔ یہ ایک عجیب چیز ہے۔ شاید یہی امر ان ائمہ پر اس قدر پابندیوں کی اصل وجہ ہو۔ایران کی طرف امام رضا علیہ السلام کی حرکت اور آپ کی خراسان آمد کے بعد رونما ہونے والے حوادث میں سے ایک یہی تھا۔ شاید یہ امام ہشتم (علیہ السلام) کی حکمت عملی کا ایک حصہ تھا۔

اس سے قبل شیعیان ِاہل بیت ہرجگہ خال خال موجود تھے اور وہ بھی غیر منظم، مایوس اور مستقبل کے بارے میں کسی قسم کی منصوبہ بندی کے بغیر۔ ادھر خلفاء کا تسلط ہرجگہ قائم تھا۔ مامون سے پہلے ہارون کا فرعونی دور حکومت قائم تھا۔

جب امام رضا علیہ السلام خراسان کی طرف جاتے ہوئے اس راستے سے گزرے تو لوگوں نے ایک ایسی شخصیت کو دیکھا جو علم و حکمت ،عظمت و شکوہ، صدق و صفا اور نورانیت کا پیکر نظر آتی تھی۔ لوگوں نے سرے سے اس قسم کی شخصیت دیکھی ہی نہیں تھی۔

اس سے قبل خراسان سے کتنے شیعہ امام صادق علیہ السلام کو دیکھنے مدینہ جانے کی استطاعت رکھتے تھے؟ لیکن امام رضا علیہ السلام کے اس طویل سفر میں ہرجگہ لوگوں نے نزدیک سے آپ کی زیارت کی۔ سچ مچ عجیب منظر تھا۔ گویا لوگ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی زیارت کررہے تھے۔ آپ کی معنوی ہیبت و عظمت، عزت وشکوہ، اعلیٰ اخلاق، نورانیت اور وسیع علم نے لوگوں کے درمیان ایک عجیب ولولہ برپا کردیا۔

پھر امام خراسان اورمرو پہنچ گئے۔ مرو مرکز تھا جوموجودہ ترکمانستان میں واقع ہے۔ اس کے ایک دو سال بعد امام کی شہادت واقع ہوئی اور لوگوں کے دل داغدار ہوئے۔ ایک طرف سے امام کی آمد نے (جس کے ذریعے لوگوں نے اَن دیکھی اور اَن سنی چیزوں کا مشاہد کیا) اور دوسری طرف سے آپ کی شہادت نے (جو ایک عجیب داغ دے گئی) ان تمام علاقوں کی فضا کو شیعوں کے تابع کردیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کے سب شیعہ ہوگئے بلکہ مراد یہ ہے کہ سب لوگ اہل بیت کے چاہنے والے بن گئے۔ اس ماحول میں شیعوں نے خوب کارکردگی دکھائی۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ قم میں اچانک اشعریوں کا ظہور ہوا۔ یہ لوگ کیوں آئے؟ یہ تو عرب تھے۔ یہ لوگ وہاں سے اٹھ کر قم آئے۔ پھر یہاں انہوں نے حدیث اور اسلامی معارف کا پرچار شروع کیا نیز اس شہر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز قرار دیا۔

شہر رے میں کلینی جیسے افراد سرگرمِ عمل ہوۓ۔ کلینی جیسا فرد سازگار حالات کے بغیر کسی شہر میں سرگرم عمل نہیں ہوسکتا۔ جب تک ماحول شیعی اور اہل بیت کا معتقد نہ ہو تب تک ان خصوصیات کے حامل جوان کی تربیت کیسے ہوسکتی ہے جو بعد میں کلینی بن جائے۔ یہ عمل بعد میں بھی جاری رہا چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ شیخ صدوق رضوان اللہ علیہ ہرات، خراسان اور دیگر علاقوں تک جاتے ہیں اورشیعوں کےلئے احادیث جمع کرتے ہیں۔

یہ کام بہت اہمیت کا حامل ہے۔شیعہ محدثین خراسان میں کیا کررہے ہیں؟

سمرقند میں کیا کررہے ہیں؟

سمرقند میں کون سی شخصیت موجود ہے؟

شیخ عیاشی سمرقندی۔ عیاشی سمرقندی اسی شہر سمرقند میں تھے۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے:

’’فی داره التی کانت مرتعاً للشیع ۃ و لاهل العلم‘‘

یہ شیخ کَشی کے بیانات کا حصہ ہے۔ خود شیخ کَشی کا تعلق سمرقند سے ہے۔

بنابریں امام رضا(علیہ السلام) کےسفر پھر آپ کی مظلومانہ شہادت نے وہ اثر دکھایا کہ ان علاقوں کی فضا ائمہ علیہم السلام کے ہاتھ آئی ۔

ائمہ نے بھی خوب استفادہ کیا۔ خط و کتابت اور رفت و آمد کا سلسلہ معمول کے مطابق انجام نہیں پاتا تھا بلکہ سب کچھ خفیہ طریقے سے انجام پاتا تھا۔

اگر اعلانیہ ہوتا تو گرفتاری اورہاتھ پاؤں کاٹنے کی نوبت آسکتی تھی۔

بطور مثال متوکل جو اپنی سخت گیری کے باعث کربلا کی زیارت پر پابندی لگاتا ہے کیا اس بات کی اجازت دے سکتا تھا کہ لوگوں کے مسائل امام تک آسانی سے پہنچ جائیں اور امام کے جوابات لوگوں تک پہنچائے جائیں؟

کیا وہ اجازت دےسکتا تھا کہ کچھ لوگ شرعی وجوہات جمع کرکے امام تک پہنچائیں پھر امام سے رسید لےکر لوگوں کے حوالے کریں؟

یہ سب ان تین بزرگ اماموں کے عظیم تبلیغی وتعلیمی نیٹ ورک کا آئینہ دار ہے۔

امام رضا علیہ السلام کے بعد سے لےکر حضرت عسکری کی شہادت تک یہ سب کچھ ہوا۔

حضرت ہادی اور حضرت عسکری علیہما السلام نے اسی شہر سامراء کے اندر رہتے ہوئے پورے دنیائے اسلام کے ساتھ اس قدر وسیع روابط کا سلسلہ منظم کیا تھا۔

(شہر سامرا درحقیقت ایک عسکری چھاؤنی کی طرح تھا۔ سامراء بہت بڑا شہر نہیں تھا۔ یہ نیا دار الحکومت تھا جس کی تعمیر بعد میں ہوئی تھی۔

۱۵۴

اسے

’’سُرَّ مَنْ رَاٰی‘‘

کہاگیا۔ حکومت کے اربابِ حل و عقد ، روساء، حکام اور عام لوگوں کی ایک تعداد جو روز مرہ کے احتیاجات کو برلانے کےلئے کافی ہو اس شہر میں سکونت پذیر تھے۔)

جب ہم ائمہ علیہم السلام کی زندگی کی مختلف جہات پر نظرکرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کیا سرگرمیاں تھیں۔ بنابریں ائمہ علیہم السلام کا کام صرف یہ نہیں تھا کہ نماز،روزے، طہارت اورنجاسات سے مربوط سوالات کا جواب دیں۔ وہ ’’امام‘‘ کی حیثیت سے لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ (یہاں امام کا اسلامی مفہوم مراد ہے۔) میری نظر میں یہ جہت ان دیگر جہات کے ہمراہ قابل توجہ ہے۔ دیکھئے کہ حضرت ہادی علیہ السلام مدینہ سے سامراء لائے جاتے ہیں اور جوانی میں (۴۲سال کی عمر میں) شہید کیے جاتے ہیں۔اسی طرح حضرت عسکری علیہ السلام ۲۸ سال کی عمر میں شہید ہوتے ہیں۔ یہ سب تاریخ کے ہر دور میں ان ائمہ نیز ان کے شیعوں اور اصحاب کی عظیم حرکت اورجدوجہد کا آئینہ دار ہے۔ اگرچہ خلفاء کی سخت گیری نے ملک کو پولیس سٹیٹ بنادیا تھا اس کے باوجود ائمہ کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ خلاصہ یہ کہ ائمہ(علیہ السلام) اگرچہ غریب الدیار تھے لیکن ساتھ ساتھ زبردست عزت و عظمت کے بھی حامل تھے۔

( ۲۰/۲/۱۳۸۲ھ ش)۔

۱۵۵

پورے عالم اسلام میں شیعی تنظیمی نیٹ ورک کو کسی زمانے میں اس قدر فروغ حاصل نہیں ہوا جس قدر حضرت جواد، حضرت ہادی اور حضرت عسکری علیہ السلام کےدور میں ہوا۔

اس کی ایک دلیل ائمہ کے وکیلوں، نمائندوں اور نائبین کا وجود نیزحضرت ہادی اور حضرت عسکری علیہما السلام کے بارے میں منقول واقعات ہیں۔

یعنی باوجود اس کے کہ ان دو اماموں پر سامراء میں شدید پابندی تھی اور ان سے پہلے حضرت جواد اور حضرت رضا علیہما السلام پر بھی کسی نہ کسی طرح سے پابندیاں عائد تھیں لیکن لوگوں کےساتھ ان کے روابط کادائرہ مسلسل پھیلتا رہا۔

یہ روابط حضرت رضا علیہ السلام کےزمانے سے پہلے بھی برقرار تھے۔ البتہ آپ کی خراسان آمد سے ان روابط پر بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب ہوئے۔

(۱۸/۵/۱۳۸۴ھ ش)۔

۱۵۶

اس ڈھائی سوسالہ عرصے میں (رحلت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دن سے لےکر حضرت امام عسکری علیہ السلام کے یوم شہادت تک کے ۲۵۰سالوں میں) ہمارے ائمہ بہت سی تکالیف اٹھاتے رہے، شہید ہوتے رہے اور ظلم و ستم سہتے رہے۔

اگر ہم ان پر گریہ کریں تو بالکل بجا ہے۔ ان کی مظلومیت نے لوگوں کے دلوں اور جذبات کا رخ اپنی طرف پھیرلیا۔ آخرکار ان مظلوموں کو غلبہ حاصل ہوگیا۔

انہوں نے وقتی فتح بھی حاصل کرلی اور تمام ادوار میں مجموعی طور پر بھی۔

( ۳۰/۵/۱۳۸۳ھ ش)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۵۷

سترھویں فص "- ۲۵۰ سالہ انسان کی جدوجہد کی آخری منزل

نظریۂ مہدویت کے بارے میں اصولی طور پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

آخری زمانے میں آنے والے منجی کا انتظار دیگر ادیان کے اعتقادات میں بھی شامل ہے۔

انہوں نے بھی اس مسئلے کے ایک پہلو کا درست ادراک کیا ہے لیکن اصلی پہلو یعنی اس منجی کی ذاتی شناخت میں اشتباہات سے دوچار ہوئے ہیں۔

مکتبِ تشیع مسلمہ اور قطعی احادیث کی روشنی میں اس منجی کے نام، اس کی علامات و خصوصیات اور تاریخِ ولادت سے خوب آگاہ ہے۔

( ۲۹/۶/۱۳۸۴ھ ش)۔

۱۵۸

اس بارے میں ہم شیعوں کے عقیدے کی خاص بات یہ ہے کہ مکتب ِتشیع کے ہاں یہ مسئلہ خالی آرزو اور ایک موہوم ذہنی تصور کی بجائے ایک زندہ حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ شیعوں کے ہاں مہدیٔ موعود اور منجیٔ بشریت کا انتظار خالی خولی ذہنی تصورات کے سمندر میں غوطہ خوری سے عبارت نہیں بلکہ اس حقیقت کی جستجو سے عبارت ہے جو زندہ اور موجود ہے۔ آخری امام وہ حجتِ خدا ہے جو لوگوں کے درمیان زندہ اور موجود ہے ، ان کے درمیان زندگی گزارتا ہے، لوگوں کو دیکھتا ہے، ان کے ساتھ ہے اور ان کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح خوش بخت اور اہلیت رکھنے والے انسان بعض اوقات آپ کو پہچانے بغیر آپ کی زیارت کرتے ہیں۔

آخری امام موجود ہیں، ایک حقیقی انسان ہیں، معین اور ممتاز ہیں، آپ کا نام واضح ہے اورآپ کے والدین جانے پہچانے ہیں۔

آپ لوگوں کے درمیان موجود ہیں اور ان کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

ہم شیعیان ِاہل بیت کے عقیدے کی خصوصیت یہی ہے۔

دوسرے مذاہب کے جو افراد اس عقیدے کو نہیں مانتے وہ ہرگز کوئی ایسی معقول دلیل پیش نہیں کرسکے جو اس عقیدے اور حقیقت کو ردّ کرسکے۔

تمام واضح ، روشن اور محکم دلائل جن کی تائید بہت سے سنی دانشوروں نے بھی فرمائی ہے قطعی طور پر اس انسانِ کامل، اس حجت ِخدا اور اس تابناک حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ہم بہت سے غیر شیعہ مآخذ میں بھی اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے اس پاک فطرت اور بابرکت فرزند کی تاریخِ ولادت معروف اورمعلوم ہے، آپ سے مربوط لوگ بھی معروف ہیں، آپ کے معجزات آشکار ہیں اور خدا نے آپ کو طویل زندگی سے نوازا ہے جس کا سلسلہ جاری رہے گا۔

ہر دور کی تمام نسلوں، تمام ادیان، تمام قبائل اور جملہ اقوامِ عالم کی عظیم اور دیرینہ آرزو کی عملی تعبیر یہی ہے۔

یہ ہے اس اہم موضوع کے بارے میں مکتبِ تشیع کی امتیازی خصوصیت۔

( ۲۷/۵/۱۳۸۷ھ ش)

۱۵۹

عقیدۂ مہدویت کے بارے میں بعض نکات قابلِ توجہ ہیں جن کی طرف اجمالاً اشارہ کروں گا۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ حضرت بقیۃ اللہ اوراحنا فداہ کا مقدس وجود ابتدائے تاریخ سے لےکر آج تک انبیا علیہ السلام کے مشن ، ان کی جدوجہد اور خدا کی طرف ان کی دعوت کا تسلسل ہے جیسا کہ دعائے ندبہ میں مذکور ہے:

فَبَعضٌ اَسکَنتَهُ جَنَّتکَ ،

اس سے مراد حضرت آدم(علیہ السلام) ہیں۔

اِلیٰ اَن انتَهَت بِالاَمر

اس سے مراد خاتم الانبیاء(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت ہے۔

اس کے بعد آنحضرت کی وصایت اور آپ کے اہل بیت علیہ السلام کی امامت کا مرحلہ آتا ہے جو امام زمانہ علیہ السلام پر منتہی ہوتا ہے۔

یہ سب ایک سلسلہ وار زنجیر کی کڑیاں ہیں جو پوری تاریخ ِبشریت کو محیط ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ انبیا علیہ السلام کی عظیم حرکت، جدوجہد ، دعوت اور تحریک کا سلسلہ کہیں نہیں رکا ہے کیونکہ بنی نوع انسان ہر دور میں انبیا، دعوتِ الٰہی اور داعیانِ الٰہی کا محتاج رہا ہے اور یہ احتیاج آج بھی موجود ہے۔ جس قدر زمانہ گزرتا گیا انسان انبیاء کی تعلیمات سے نزدیک تر ہوتا گیا۔

آج انسانی معاشرے نے افکار و نظریات،تمدن اورعلمی میدانوں میں ترقی کے طفیل انبیا علیہ السلام کی بہت سی تعلیمات کو(جو آج سے ہزاورں سال پہلے انسانوں کےلئے قابلِ فہم نہ تھیں) درک کرلیا ہے۔

آج دنیا میں لوگوں کے درمیان رائج اورمعروف اقدار مثلاً عدل، آزادی، انسانی حقوق اور مقامِ آدمیت و غیرہ در اصل انبیا علیہ السلام کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔

اُس(قدیم)زمانے کے عام لوگوں اور رائے عامہ کےلئے ان مفاہیم کا ادراک مشکل تھا۔

انبیا علیہ السلام کی پےدرپے آمد اور ان کی دعوت کے پھیلاؤ نے نسل در نسل ان افکار کو لوگوں کے ذہنوں ، ان کی فطرت اور ان کے دلوں کے اندر محفوط اور راسخ کیا ہے۔

ان داعیانِ حق کا سلسلہ آج بھی قطع نہیں ہوا ہے۔

حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کا مقدس وجود انہی داعیان ِالٰہی کے سلسلے کی کڑی ہے جیسا کہ آپ زیارت ِآل یاسین میں مشاہدہ کرتے ہیں :

اَلسَّلامُ عَلیکَ یَا دَاعیَ اللهِ وَ ربَّانیَّ آیاتِه

یعنی آج ہم اسی دعوت ِابراہیم، دعوت ِموسی،دعوت عیسیٰ، تمام انبیا کی دعوت،مصلحین ِدینی کی دعوت اور خاتم الانبیا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو حضرت بقیۃ اللہ علیہ السلام کے وجود میں مجسم دیکھتے ہیں۔

۱۶۰