انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 293
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 293 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

امام عصر علیہ السلام ان سب کے وارث ہیں۔

آج ان سب کی دعوت اور ان سب کے پرچم کے حامل آپ ہیں۔ آپ پوری دنیا کو ان تعلیمات کی طرف دعوت دے رہے ہیں جن کی طرف انبیاءنے پوری تاریخ میں دعوت دی ہے۔

یہ ایک اہم نکتہ ہے۔

مہدویت کے باب میں دوسرا اہم موضوع انتظارِ فرَج ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام کے ظہور کا انتظار ایک بہت وسیع موضوع ہے۔

یہ آخری کشائش کا انتظار ہے۔

یعنی اگر آج بشریت یہ دیکھ رہی ہے کہ دنیا کی طاغوتی قوتیں غارتگر ی اور ترکتازی میں مصروف ہیں اور شترِ بےمہار کی طرح انسانوں کے حقوق کو پامال کررہی ہیں تو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ دنیا کی تقدیر یہی ہے، کوئی چارہ کار نہیں ہے اور اسی صورتحال پر صابر و شاکر رہنا چاہئے۔

یہ سوچ درست نہیں بلکہ یہ جاننا چاہئے کہ یہ ایک عارضی اور زود گذر مرحلہ ہے (للباطل جولۃ) جبکہ اس عالم اور اس کی خلقت کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں عدل کی حکومت قائم ہو جس کےلئے امام تشریف لائیں گے۔

ہم جس زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں اس میں بشریت ظلم و ستم اور تکالیف کی چکی میں پس رہی ہے۔ اس زمانے کے آخر میں کشائش اور فَرَج کا انتظار کرنا ’’انتظارِفَرَج‘‘ کا ایک مصداق ہے جبکہ انتظارِ فَرَج کے اور بھی مصادیق ہیں۔

جب ہم سے یہ کہاجاتا ہے: کشائش یا فَرَج کے منتظر رہو تو اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ آخری کشائش اور فَرَج کے منتظر رہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بند راستے کو کھولنا ممکن ہے اور ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ فرج سے مراد ہے کشائش۔

’’انتظار فرج‘‘ وہ درس ہے جس سے مسلمان یہ سیکھتا ہے کہ انسان کی زندگی میں کوئی بند راستہ ایسا نہیں جسے کھولنا ممکن نہ ہو اور جسے دیکھ کر انسان مایوس ہوجائے اور اسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ کہنا پڑے: ’’اب کچھ نہیں ہوسکتا ‘‘۔

یہ خیال درست نہیں کیونکہ جب آخری زمانے میں اس عالمگیر ظلم و ستم کے مقابلے میں خورشیدِ عدل و کشائش طلوع ہوگا تو عام زندگی کی مشکلات میں بھی کشائش کی توقع رکھنی چاہئے اور کسی راہ حل کا منتظر رہنا چاہئے۔

یہ تمام انسانوں کےلئے درس امید ہے۔

یہ تمام انسانوں کےلئے حقیقی انتظار کا درس ہے۔

۱۶۱

اسی لئے انتظارِ فَرَج کو سب سے اچھا عمل قرار دیا گیا ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتظار بےعملی کا نام نہیں بلکہ ’’عمل‘‘ کا نام ہے۔ کسی کو یہ ٖغلط فہمی نہ ہو کہ انتظار سے مراد ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس بات کا منتظر رہنا ہے کہ خود بخود کچھ ہوجائے۔ انتظار تو تمام میدانوں میں عمل، تیاری، باطنی و قلبی ارادوں کی تقویت، تحرک، فعالیت اور پیشرفت کا نام ہے۔

انتظار ِ ظہور

درحقیقت ان قرآنی آیات کی تفسیر ہے:

وَ نُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلىَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ فىِ الْأَرْضِ وَ نجَعلهُمْ أَئمَّةً وَ نجَعَلَهُمُ الْوَارِثِين‏ یا إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَا ٓ ءُ مِنْ عِبَادِهِ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِين‏

خلاصہ یہ کہ اقوام و ملل کو کشائش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہئے۔

(نومید نہ کر آہوئے مشکین سے ختن کو۔علامہ اقبال۔ مترجم)

ملتِ ایران نےامید ہی کے سہارے قیام کیا تھا۔ آج وہ امید بھر آچکی ہے۔

اس ملت نے امید کے ذریعے ہی عظیم نتیجہ حاصل کیا ہے۔

آج بھی وہ مستقبل کے بارے میں پر امید ہے۔

اسی لئے وہ امید بھرے جوش و جذبے کے ساتھ مصروف عمل ہے۔

امید کا نور ہی تو ہے جو جوانوں کے اندر مقصدیت ، جدوجہد اور تحرک کا جذبہ پیدا کرتا ہے، انہیں افسردگی ، مایوسی اور کاہلی بے بچاتا ہے نیز معاشرے کے اندر ترقی و پیشرفت کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

یہ ہے انتظار فرَج کا نتیجہ۔

بنابریں ایک طرف سے آخری کشائش کا انتظار ضروری ہے

اور دوسری طرف سے اجتماعی و انفرادی زندگی کے جملہ مراحل میں کشائش کا منتظر رہنا چاہئے۔ آپ اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ آپ کے دل پر مایوسی اور قنوطیت کا غلبہ ہو۔ ہمیشہ کشائش کی امید رکھیے اور یقین رکھیے کہ یہ کشائش ضرور حاصل ہوگی بشرطیکہ آپ کا انتظار حقیقی انتظار ہو نیز عمل، کوشش، جذبے اور تحرک سے عبارت ہو۔

( ۲۹/۶/۱۳۸۴ھ ش)۔

۱۶۲

آج ہم کشائش اور فرَج کے منتظر ہیں یعنی اس عدل گستر طاقت کی آمد کا انتظار کررہے ہیں جو اس ظلم و جور کا خاتمہ کرے جس نے تقریباً تمام انسانوں کو اپنے پنجے میں جھکڑ رکھا ہے۔

ہم اس ہستی کے منتظر ہیں جو ظلم و تعدی کے موجودہ ماحول کو ختم کرکے اس کی جگہ انسانی معاشرے میں عدل کی فضا قائم کرے تا کہ لوگوں کو عدل و انصاف کا احساس ہو۔

یہ ایک زندہ اور آگاہ انسان کی دائمی ضرورت ہے، اس انسان کی ضروت ہے جو اپنی ذات میں کھونہ گیا ہو۔

جو شخص تمام انسانوں کے مسائل پر وسیع تر نگاہ رکھتا ہو وہ قدرتی طور پر منتظر رہتا ہے۔ انتظار کا مفہوم یہی ہے۔ انتظار یہ ہے کہ انسان قانع نہ ہو یعنی لوگوں کی موجودہ حالت کو قبول نہ کرے بلکہ بہ سےبہتر کی تلاش کرتا رہے۔

واضح ہے کہ بہترین حالت ولی خدا حضرت حجۃ ابن الحسن المہدی صاحب العصر صلوات اللہ علیہ و عجل اللہ فرجہ و ارواحنا فداہ کے طاقتور ہاتھوں کے ذریعے شرمندۂ تعبیر ہوگی۔

ہمیں چاہئے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے اس سپاہی کی حیثیت سے جو ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کےلئے کوشش پر آمادہ ہو اپنے آپ کو تیار کریں۔

انتظار فَرَج کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ایسے ہی بیٹھ جائے، کوئی کام نہ کرے ،کسی قسم کی اصلاح کےلئے کمرِ ہمت نہ باندھے اور صرف اس تصور سے دل بہلاتا رہے کہ ہم امام زمان علیہ الصلوۃ و السلام کے منتظر ہیں۔ انتظار یہ نہیں ہے۔ انتظار کیا ہے؟ انتظار اس وقت کےلئے اپنے آپ کو تیار کرنے کا نام ہے جب خدا کا طاقتور، قاہر اور ملکوتی ہاتھ ظاہر ہو جو انہی انسانوں کی مدد سے ظلم کا تسلط ختم کرے ، حق کو غالب کرے، معاشرے میں عدل کی حکمرانی قائم کرے، توحید کا پرچم بلند کرے اور لوگوں کو خدا کے حقیقی بندوں میں تبدیل کرے۔

اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل اس عظیم تاریخی جدوجہد کی ایک تمہید ہے۔ قیامِ عدل کی ہر کوشش اس عظیم ہدف کی جانب ایک قدم ہے۔ انتظار کا مفہوم یہی ہے۔

انتظار حرکت کا نام ہے سکون کا نہیں۔ انتظار یہ نہیں کہ کوئی ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس بات کا منتظر رہے کہ خود بخود سب کچھ ٹھیک ہوجائےگا۔ انتظار حرکت ہے، تیاری ہے۔ ہمیں اپنے وجود کے اندر اور اپنے اردگرد کے ماحول کے اندر اس حرکت کو قائم و دائم رکھنا ہوگا۔

خداوند متعال نے ہماے عزیز لوگوں کو یعنی ملت ایران کو ایک نعمت سے نوازا ہے۔ وہ نعمت یہ ہے کہ ہمارے لوگ یہ عظیم انقلاب برپا کرنے اور انتظار کےلئے فضا سازگار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انتظار ِفرج کا مفہوم یہ ہے۔

( ۲۷/۵/۱۳۸۷)۔

۱۶۳

امام زمان علیہ السلام جس معاشرے کی تشکیل کےلئے تشریف لے آئیں گے وہ وہی معاشرہ ہے جس کی تشکیل کےلئے سارے انبیا علیہ السلام تشریف لائے تھے یعنی سارے انبیا علیہ السلام کی جدوجہد اس مثالی معاشرے کی تشکیل کی تمہید ہے جو ولی عصر حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے ہاتھوں اس دنیا میں ظہور پذیر ہوگا۔ اس کی مثال ایک بلند عمارت کی سی ہے۔

اس عمارت کی تعمیر کےلئے سب سے پہلے ایک شخص آتا ہے، اس کی زمین کو ہموار کرتا ہے اور وہاں سے خس و خاشاک کو دور کرتا ہے۔

اس کے بعد ایک اورشخص آتا ہے جو بنیاد رکھنےکےلئے زمین کھودتا ہے۔ اس کے بعد کوئی اور آتا ہے ، عمارت کی بنیاد رکھتا ہے اور اسے اوپر لاتا ہے۔

اس کے بعد ایک اور شخص آتا ہے اور دیواورں کی تعمیر شروع کرتا ہے۔ یوں اس کام پر مامور لوگ اور ذمہ دار افراد یکے بعد دیگرے آتے رہتے ہیں تا کہ یہ بلند و بالا عمارت وقت کی رفتار کے ساتھ بتدریج تکمیل کے مراحل طے کرے۔

انبیائے الٰہی علیہ السلام بھی تاریخ بشریت کے ابتدائی دور سے یکے بعد دیگر آتے رہے تا کہ بشریت کو قدم بہ قدم اس مثالی معاشرے اور اس آخری ہدف کی جانب آگے بڑھاتے رہیں۔

سارے انبیاء علیہم السلام کامیاب ہوئے یہاں تک کہ خدا کا ایک بھی پیغمبر اپنے اس مقصد میں ناکام نہیں رہا۔

ان عظیم انبیا کے کندھوں پر یہ سنگین ذمہ داری عائد ہوئی تھی۔ ہر پیغمبر نے اسے اصلی منزل سے ایک قدم نزدیک کیا اور اس سلسلے میں مقدور بھر کوشش کی۔

جب کسی نبی کی زندگی کا خاتمہ ہوتا تو کوئی اور اس مشن کو آگے بڑھاتا تھا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا۔ حضرت ولی عصر صلوات اللہ علیہ تمام انبیا کے وارث ہیں جو آئیں گے اور اس خدائی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں آخری قدم اٹھائیں گے۔

یہاں میں اس مثالی معاشرے کے بارے میں کچھ گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔

اگر آپ اسلامی کتابوں اور اصلی اسلامی مآخذ میں غور کریں تو اس معاشرے کی جملہ خصوصیات کا علم ہوجائےگا۔

اسی دعائے ندبہ میں اس معاشرے کی خصوصیات کا تذکرہ موجود ہے۔

خدا آپ کو جمعہ کے دنوں میں اس دعا کو پڑھنے کی توفیق دے جیسا کہ آپ اسے پڑھا کرتے ہیں۔ اس دعا میں مذکور ہے:

اینَ مُعِزُّ الاَولیاءِ وَ مُذِلُّ الاَعداءِ؟

(کہاں ہے وہ جو دوستوں کو عزت بخشےگا اور دشمنوں کو ذلیل و خوار کرےگا؟) ۔

اس معاشرے میں خدا کے دوست عزت و شرف سے ہمکنار ہوں گے جبکہ خدا کے دشمن ذلیل و خوار ہوں گے یعنی اس معاشرے کی اقدار اور اس کے معیار اس طرح کے ہوں گے۔

این المُعِدُّ لِاِقام ۃ الحدود؟

(کہاں ہے وہ جو حدودِ الٰہی کو نافذ کرنے کا اہتمام فرمائےگا؟)

امام زمانہ کے دور میں اس معاشرے میں حدود الٰہی کا مکمل نفاذ ہوگا یعنی اللہ کے جملہ احکام پر عملدرآمد ہوگا۔ امام زمانہ علیہ السلام اپنے ظہور کے بعد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جس کی خصوصیات کو میں بطور خلاصہ بیان کررہا ہوں۔

عزیز بھائیو اور بہنو! آپ ان خصوصیات کو غور سے سنیں۔

جب آپ قرآن کی آیات اور منقول دعاؤں کو پڑھتے ہیں تو ان خصوصیات کے بارے میں اپنے ذہن کو وسیع سے وسیع تر کریں۔

دعائے ندبہ پڑھنا کافی نہیں ہے بلکہ اسے سمجھنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

امام زمان صلوات اللہ و سلامہ علیہ اپنے دور کے معاشرے کو ان خصوصیات کی بنیادوں پر استوار کریں گے:

۱۶۴

پہلی خصوصیت:

آپ ظلم اور سرکشی کا خاتمہ کریں گے۔

یعنی آپ کے معاشرے میں ظلم و جور کا وجود نہیں ہوگا۔ صرف ایران یا مسلمان معاشروں کی بات نہیں بلکہ پوری دنیا میں کہیں بھی ظلم کا وجود باقی نہیں رہےگا۔

اس معاشرے میں نہ اقتصادی ظلم باقی رہےگا،

نہ سیاسی، نہ ثقافتی اور نہ کسی اور قسم کا ظلم۔

استحصال، طبقاتی اختلاف، طبقاتی امتیاز، عدم مساوات، جبر، زبردستی، دھونسدھاندلی اور غنڈہ گردی کا پورے عالم سے صفایا ہوجائےگا۔

دوسری خصوصیت:

امام زمانہ علیہ السلام جس مثالی معاشرے کی بنیاد رکھیں گے اس میں انسانی فکر و نظر میں وسعت اور بلندی آجائےگی۔ یہ فکری وسعت علمی لحاظ سے بھی آئےگی اور اسلامی افکار کے لحاظ سے بھی یعنی حضرت ولی عصر کے دور میں پوری دنیا میں جہل، ناخواندگی اور فکری و ثقافتی دیوالیہ پن کا مشاہدہ نہیں ہوگا۔ اس معاشرے میں لوگ دین سے صحیح آشنا ہوسکیں گے۔

یہ انبیا کے عظیم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس کا ذکر امیرالمؤمنین علیہ السلام صلوات اللہ و سلامہ علیہ نے نہج البلاغہ کے ایک خطبے میں یوں کیا ہے:

وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ الْعُقُول

‏ ہماری روایات واحادیث میں مذکور ہے کہ جب حضرت ولی عصر علیہ السلام ظہور فرمائیں گے تو ایک عورت گھر کے اندر بیٹھ کر قرآن کھولےگی اور قرآن کے متن سے دین کے حقائق کو کشف کرےگی اور سمجھے گی۔

اس کا کیا مطلب ہے؟

یہ ہے کہ اسلامی اور دینی علوم و ثقافت اس قدر ترقی کریں گی کہ معاشرے کے سارے افراد اور گھروں کے اندر رہنے والی عورتیں بھی جو معاشرے میں ظاہر نہیں ہوتیں گھر کے اندر اس قدر دین شناس اور فقیہ بن جائیں گی کہ قرآن کھول کر خود ہی قرآن سے دینی حقائق کا استنباط کرسکیں گی۔ آپ ذرا سوچئے کہ جس معاشرے میں ہر سطح کے تمام مرد و زن کتابِ الٰہی سے دین کے استنباط اور فہم کی صلاحیت سے مزین ہوں گے وہ معاشرہ کس قدر نورانی ہوگا! اس معاشرے میں ظلمت اور تاریکی کا کوئی نقطہ باقی نہیں رہےگا۔

فکرونظر اور رویوں کا بےتحاشا اختلاف جس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں اس معاشرے میں خود بخود ناپید ہوگا۔

تیسری خصوصیت:

امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے معاشرے میں تمام خداداد قدرتی و انسانی ذخائر اور قوتوں کا استخراج عمل میں آئےگا۔

زمین کے اندر کوئی چیز نہیں رہے گی جس سے انسان استفادہ نہ کرسکے۔ بے تحاشا قدرتی وسائل جن سے استفادہ نہیں ہو رہا ہوگا،بےحساب زمینیں جو انسان کو فائدہ دے سکیں گی اور بےشمار پوشیدہ قوتیں جو صدیوں تک چھپی رہیں امام کے دور میں آشکار ہوں گی مثلاً ایٹم کی قوت اور بجلی کی طاقت صدیوں سے دامن قدرت میں پوشیدہ تھیں لیکن لوگوں کو ان کا علم نہیں تھا پھر بعد میں ان کا بتدریج انکشاف ہوا۔

اس قسم کی بےشمار قوتیں کائنات کے دامن میں پوشیدہ ہیں لیکن امام زمان علیہ السلام کے دور میں ان سب کا استخراج عمل میں آئےگا۔

چوتھی خصوصیت:

امام زمان علیہ السلام کے دور میں باطنی کمالات اور اخلاق کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ جو شخص اخلاقی کمالات میں دوسروں سے آگے ہوگا اسی کو تقدم حاصل ہوگا۔

( ۶/۴/۱۳۵۹ھ ش)۔

۱۶۵

ایک اور روایت میں معصوم کا فرمان ہے:

الْقَائِمُ مِنَّا مَنْصُورٌ بِالرُّعْبِ مُؤَيَّدٌ بِالنَّصْرِ تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ وَ تَظْهَرُ لَهُ الْكُنُوزُ يَبْلُغُ سُلْطَانُهُ الْمَشْرِقَ وَ الْمَغْرِبَ

‏ یعنی ہماے قائم کی مدد رعب کے ذریعے کی جائےگی۔ ظالم حکومتوں اورستمگر نظاموں پر اس کا رعب چھاجائےگا۔

اس حقیقت کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہمیں اپنے معاشرےمیں بھی نظر آتا ہے۔

آج ہماری حکومت ، ہمارے معاشرے اور ہمارے اسلامی نظام نے جو اسلامی حکومت کا ایک چھینٹا اور خدائی سلطنت و حکومت کے بحر عظیم کا ایک قطرہ ہے، دنیا کی ظالم قوتوں کے دلوں میں وہ خوف ڈال دیا ہے جو بجائے خود ہماری کامیابی کا ذریعہ بن گیا ہے۔

آج دنیا کی استکباری اور سامراجی قوتیں ہماری اسلامی جمہوریہ سے ، ہمارے انقلاب سے، ہماری ملت سے اور ہمارے نظام سے ڈرتی ہیں۔

اسی خوف کے باعث وہ کوشش کرتی ہیں کہ ان کی ظالمانہ قوت کی راہ میں حائل اس رکاوٹ کو دور کریں۔ان کی کوشش کے برعکس (جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں) دنیا کے سیاسی منظرنامے میں اسلام اور مسلمانوں کو زیادہ کامیابی نصیب ہوگی۔

حضرت ولی عصر ارواحنا فداه کے دور میں دشمنوں پر رعب و دبدبے کی ایک ایسی ہمہ گیر حالت طاری ہوگی جو عالمگیر اسلامی حکومت کو وجود میں لانے میں مدد دےگی۔

’’ مُؤَيَّدٌ بِالنَّصْرِ ‘‘

اللہ کی نصرت اس کی مددگار ہوگی۔

زمین اس کے لئے سمیٹ دی جائےگی یعنی زمین اس کی تابع فرمان ہوگی۔ پوشیدہ خزانے اس کے لئے ظاہر ہوں کے اور اس کی حکومت دنیا کے مشرق سے لےکر مغرب تک پھیل جائےگی۔

اس کے بعد چند جملے کچھ یوں مذکور ہیں:

فَلَا يَبْقَى فِي الْأَرْضِ خَرَابٌ إِلَّا قَدْ عُمِرَ

یعنی یہ طاقت اس دنیا کی تعمیر کےلئے صرف ہوگی نہ کہ انسانوں کے استحصال، ان کے مفادات پر قبضے اور انہیں کمزور رکھنے کےلئے۔

عصر ِظہور میں زمین کا کوئی چپہ بنجر اور ویران نہیں رہےگا ، بلکہ آباد ہوگا۔

آج دنیا انسانوں کے ہاتھوں کس قدر ویران ہے اور کتنی ویرانیاں ہیں جو انسانی جہالت کے باعث لوگوں پر مسلط کی گئی ہیں۔

امام باقر علیہ السلام سے مروی ایک روایت میں مذکور ہے:

حَتَّى إِذَا قَامَ الْقَائِمُ جَاءَتِ الْمُزَايَلَةُ وَ أَتَى الرَّجُلُ إِلَى كِيسِ أَخِيهِ فَيَأْخُذُ حَاجَتَهُ فَلَا يَمْنَعُهُ

یہ انسانوں کے درمیان قائم ہونے والی برادری، برابری، جذبۂ ایثار اور گذشت کی طرف اشارہ ہے۔ بخل اور حرص کی زنجیر سے انسانوں کے دل کی رہائی اس حالت کی نوید دیتی ہے کیونکہ بخل اور حرص انسانی بدبختی کا سب سے بڑا عامل ہے۔

برادری و اخوت کا یہ عالم ہوگا کہ ایک انسان اپنے دوسرے بھائی کی جیب سے بقدر ضرورت اٹھالےگا اور وہ اسے نہیں روکےگا۔

یہ درحقیقت اس عہد کے سالم اخلاقی، اقتصادی اوراجتماعی اسلامی نظام کا آئینہ دار ہے،

یعنی کسی قسم کا جبر کافرما نہیں ہوگا بلکہ سارے انسان بذات خود اپنے بخل اور حرص سے نجات پائیں گے اور اس قسم کی انسانی جنت وجود پذیر ہوگی۔

ایک اور روایت کہتی ہے:

إِذَا قَامَ قَائِمُنَا اضْمَحَلَّتِ الْقَطَائِعُ فَلَا قَطَائِع‏

دنیا کی مستکبر اور سامراجی حکومتیں اپنے بہی خواہوں پر جو کرم نوازیاں کرتی رہتی ہیں نیز عوام کی جیب کاٹ کر مختلف لوگوں میں جو بندر بانٹ کرتی رہتی ہیں ان کا سلسلہ ختم ہوجائےگا۔

پہلے زمانوں میں جاگیریں بخشنے کا انداز مختلف تھا لیکن آج اس کی شکل بدل چکی ہے۔

پہلے اس کی یہ صورت تھی کہ ایک خلیفہ یا سلطان زمین کا ایک ٹکڑا یا ایک صحرا یا ایک گاؤں یا ایک شہریا ایک صوبہ کسی شخص کو بخش دیتا تھا اور کہتا تھا :جاؤ اور وہاں جو کرناچاہتے ہو کرو، لوگوں سے ٹیکس لو، زرعی زمینوں سے استفادہ کرو اور ہر قسم کا مادی فائدہ حاصل کرو، البتہ ایک حصہ سلطان کو دیتے رہو۔ اس جاگیرداری نے آج اجارہ داری کی مختلف اقسام کی شکل اختیار کرلی ہے، مثلاً تجارتی، صنعتی اور فنی میدانوں میں بعض لوگوں کی اجارہ داری، پٹرولیم اور عظیم صنعتوں پر ایک ٹولے کی اجارہ داری اور ملتوں کو تباہ کرنے والی اجارہ داری کی مختلف صورتیں درحقیقت جاگیرداری کی جدید صورتیں ہیں۔

جدید اجارہ داری کی مختلف شکلیں در اصل قدیم جاگیرداری کی طرح ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھی حکومتوں کے ساتھ سازباز نیز رشوت دینے اور لینے کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ یہ انسان کُش اور کمال کُش سلسلے ختم ہوجائیں گے اور سارے انسان اپنے فائدے کے وسائل سے بہرہ مند ہوں گے۔ایک اور روایت میں عصر ِظہور کی اقتصادی حالت کے بارے میں مذکور ہے:

’’وَ يُسَوِّي بَيْنَ النَّاسِ حَتَّى لَا تَرَى مُحْتَاجاً إِلَى الزَّكَاة‘‘

امام عصر(علیہ السلام) لوگوں کے درمیان مالی و اقتصادی امور میں مساوات کی وہ حکمت عملی اپنائیں گے جس کے نتیجے میں کوئی ایسا فقیر نہیں ملےگا جو زکات لے۔

اس صورت میں قدرتی طور پر زکات مفاد عامہ کے کاموں میں خرچ ہوگی اور فقیروں کو نہیں دیا جائےگا کیونکہ اس دن دنیا میں کوئی فقیر نہیں ہوگا۔

اس قسم کی اور بھی احادیث ہیں جن میں ایک اسلامی جنتِ ارضی کی حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے۔

یہ جنت ان مثالی معاشروں کی طرح توہماتی اور خیالی نہیں ہے جنہیں بعض لوگوں کے ذہنوں نے تراشا ہے۔

یہ اسلام کا وہی نعرہ ہے جو ایک مکمل حقیقت ہے۔

اسلامی جمہوریہ (ایران) کے اندر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ یقیناً وحی اور تائید الٰہی سے متصل ایک طاقتور ہاتھ، ایک دل اور ایک فکر یعنی ایک معصوم موجود ہے جو دنیا میں اس قسم کی عظیم تبدیلی لاسکتا ہے اور بنی نوع انسان بھی اس تبدیلی کی حمایت کرےگا۔

یہ ہے عصر ِظہور کی صورتحال۔

(۲۱/۱/۱۳۶۶ھ ش)۔

۱۶۶

اب اگر آپ آیات و احادیث کی طرف مراجعہ کریں (جیسا کہ محققین اور اربابِ دانش نے کیا ہے) تو آپ کو عصر ظہور کی بعض اور خصوصیات بھی ملیں گی۔

اس معاشرے میں ظلم و تعدی کی کوئی نشانی نہیں پائی جائےگی۔

اس معاشرے میں دینی افکار اور علمی افکار عروج پر ہوں گے۔ اس معاشرے میں دنیا کی تمام برکات، تمام نعمتیں، تمام نیکیاں اور جملہ رعنائیاں کھل کر انسان کے ہاتھوں میں آئیں گی۔

اس معاشرے میں تقویٰ، کمالات، ایثار، قربانی، اخوت ، برادری، محبت اور برابری کو اصلی محور کی حیثیت حاصل ہوگی۔

آپ اس طرح کے معاشرے کا تصور کریں۔

یہ وہی معاشرہ ہے جسے ہمارا مہدی موعود،ہمارا امام زمان اور ہمارا دیرینہ محبوب (جو آج بھی اسی آسمان کے نیچے اسی کرہ زمین کے اوپر دوسرے انسانوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہے) شرمندہ تعبیر کرےگا اور چلائےگا۔

یہ ہے امام زمانہ پر ہمارے عقیدے کی ایک جھلک۔

ہم لوگوں نے یعنی ایرانی قوم نے ایک انقلاب برپا کیا۔ ہمار انقلاب اس عظیم ہدف کی ایک ضروری تمہید اور اس کا ایک سنگ میل ہے جس ہدف کی تکمیل کےلئے امام زمان علیہ السلام بھیجے جائیں گے اور جس کےلئے آپ کا ظہور ہوگا۔ اگر ہم یہ قدم نہ اٹھاتے تو یقیناً حضرت ولی عصر صلوات اللہ علیہ و عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں مزید تاخیر ہوجاتی۔

۱۶۷

اے ملت ایران! اے شہیدوں کے غمدیدہ والدین!

اے وہ افراد جنہوں نےاس انقلابی جدوجہد کے دوران تکالیف اٹھائی ہیں!

جان لیجئے کہ آپ منزلِ مقصود کی جانب انسانیت کی حرکت کا موجب بنےہیں۔

آپ نے اس بار کو منزل مقصود کے قریب تر کردیا ہے۔ آپ نے اس انقلاب کے ذریعے راستے کی رکاوٹ کا قلع قمع کردیاہے۔یہ رکاوٹ دنیا کے اس گوشے میں موجود ظالمانہ نظامِ حکومت سے عبارت تھی جو ایک نہایت خطرناک اور تکلیف دہ سرطان تھی۔

بہت خوب، اب آگے کیا کریں؟

آگے ہماری ذمہ داری واضح ہے۔

اولاً ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ جس طرح ہمارے اس انقلاب کے باعث حضرت ولی عصر کا انقلاب ایک قدم نزدیک آچکا ہے اسی طرح اسی انقلاب کے ذریعے اسے مزید نزدیک کیا جاسکتا ہے۔ بالفاظ دیگر جس طرح انقلاب لانے والے عوام نے انقلاب برپا کرکے اپنے آپ کو ایک قدم امام زمان علیہ السلام کے قریب کردیا ہے اسی طرح یہی لوگ آگے بھی (اپنے عمل کے ذریعے) اپنے آپ کو امام عصرکے قریب سے قریب تر کرسکتے ہیں۔

وہ کیسے؟

وہ یوں کہ آپ سب سے پہلے اسلام کی اسی مقدار کو جس پر آپ اور ہم ایران کے اندر عمل پیرا ہیں (ہم مبالغہ سے کام لیتے ہوئے اسے اسلامِ کامل تو نہیں کہیں گے

لیکن ہماری ملت نے اسلام کے ایک حصے کو ایران میں نافذ کیا ہے) اسی مقدار کو حتی المقدور دنیا کے دوسرے حصوں تک پھیلائیں۔ آپ دیگر ممالک میں اور دنیا کے دیگر تاریک گوشوں میں اس اسلام کی نشر و اشاعت کا جس قدر اہتمام کریں گے اسی قدر آپ ولی امر اور حجت عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے قریب تر ہوں گے اور اس کے ظہور میں امام کے مددگار ثابت ہوں گے۔

ثانیاً ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ امام زمان علیہ السلام سے قریب ہونے سے مراد قربتِ زمانی یا قربت ِجسمانی نہیں ہے۔ آپ امام زمان کے ظہور کے قریب ہونا چاہتے ہیں۔

ظہور امام کی کوئی تاریخ معین نہیں ہے مثلاً مزید سوسال یا پچاس سال جو ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم ان پچاس سالوں میں سے دوچار سال گزار چکے ہیں اور آگے ۴۶ سال یا ۴۷ سال باقی رہتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے۔ امام سے ہماری قربت جسمانی یا مکانی قربت نہیں ہے جو ہم یہ کہہ سکیں کہ ہم یہاں سے مشرق یا مغرب یا شمال یا جنوب کی طرف حرکت کریں گے تا کہ امام زمان تک پہنچ سکیں۔

ایسا نہیں ہے۔

امام زمان سے ہماری قربت ایک معنوی قربت ہے یعنی آپ جب بھی مثلاً ۵ سال یا ۱۰سال یا سو سال بعد اسلامی معاشرے کی کمیت اور کیفیت کو بڑھا سکیں گے اسی وقت امام زمان صلوات اللہ علیہ کا ظہور ہوگا۔

اگر آپ اپنے انقلابی معاشرے کے حدود میں اپنے اور دوسروں کے اندر تقویٰ ، کمالات، اخلاق، دینداری، زہد اور خدا کے ساتھ معنوی قرب کو پروان چڑھا سکیں تو حضرت ولی عصر صلوات اللہ سلامہ علیہ کے ظہور کی بنیادیں مستحکم تر ہوں گی۔

اسی طرح آپ کمّیت اور کیفیت کے لحاظ سے مومن اور مخلص مسلمانوں کی تعداد میں جس قدر اضافہ کریں گے اسی قدر آپ امام زمان اور عصر ظہور کے زیادہ قریب ہوں گے۔

پس ہم اپنے معاشرے اور اپنے عصر کو لمحہ بہ لمحہ عصر ظہور کے قریب تر لاسکتے ہیں۔

یہ تھا پہلا نکتہ۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ آج ہمارا انقلاب مختلف کوششوں اور پالیسیوں کا حامل ہے۔

ان پالیسیوں کی منزل کیا ہونی چاہئے ؟ یہ نکتہ بہت ہی قابل توجہ ہے۔

ہم ایک طالب علم کی مثال دیں گے جو ریاضی کا ماہر بننا چاہتا ہے۔

اب ہم اس کے کام کی تمہیدات کیسے فراہم کرسکتے ہیں؟ ہم ا سے جن چیزوں کی تعلیم دیتے ہیں ان کا ربط ریاضی سے ہونا چاہئے۔

جو شخص ریاضی دان بننا چاہتا ہو اسے اگر ہم علم فقہ پڑھانا چاہیں تو یہ معقول نہ ہوگا۔

اسی طرح جو شخص فقیہ بننا چاہتا ہو اسے فزکس پڑھانے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

تمہیدات کا نتیجے اور مقصد کے ساتھ ہماہنگ ہونا ضروری ہے۔

ہمارا مقصد مثالی مہدوی معاشرہ ہے جس کی خصوصیات کا ذکر کرچکا ہوں۔

بنابریں ہمیں چاہئے کہ اس مقصد کے مطابق اس کی تمہیدات کا اہتمام کریں۔

ہمیں چاہئے کہ ظلم کے ساتھ سازباز نہ کریں بلکہ ہرقسم کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں خواہ ظالم کوئی ہو۔

ہمارا مقصد اسلامی حدود و احکام کا نفاذ ہونا چاہئے۔

ہمیں چاہئے کہ اپنے معاشرے میں غیر اسلامی اور اسلام دشمن نظریات کو پنپنے کا کوئی موقع نہ دیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں اس سلسلے میں جبر اور طاقت سے کام لینا چاہئے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ افکار و نظریات کامقابلہ صرف افکار و نظریات ہی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے

۱۶۸

بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ درست، منطقی اور معقول طریقوں سے اسلامی افکار کو پروان چڑھانا چاہئے۔

ہمارےجملہ ملکی، سرکاری، ادارہ جاتی اور انتظامی قوانین کو ظاہری اور باطنی لحاظ سے اسلام سانچے میں ڈھالنا ضروری ہے۔ انہیں روز بروز اسلام کے قریب سے قریب تر کرنا چاہئے۔ حضرت ولی عصر علیہ السلام کا انتظار ہمیں اور ہماری جدوجہد کو یہ جہت عطا کرتا ہے۔

دعائے ندبہ میں مذکور ہے کہ امام زمان فسق و فجور، ظلم، سرکشی اور نفاق کا مقابلہ کریں گے نیز آپ نفاق، نافرمانی، گناہ اور اختلاف کا خاتمہ فرمائیں گے۔

ہمیں بھی چاہئے کہ آج اپنے معاشرے میں اسی سمت حرکت کریں اور آگے بڑھیں۔ یہ وہ چیز ہے جو ہمیں معنوی طور پر امام زمان صلوات اللہ علیہ سے نزدیک کرےگی اور ہمارے معاشرے کو حضرت ولی عصر صلوات اللہ و سلامہ علیہ کے معاشرے یعنی اس مہدوی، علوی اور توحیدی معاشرے کے قریب سے قریب تر قرار دےگی۔

( ۶/۴/۱۳۵۹ھ ش)۔

۱۶۹

اس معاشرے پر عقیدے کا ایک اور اثر یا نتیجہ یہ ہے کہ اس کا تصور لوگوں کے دلوں سے مایوسی اور ناامیدی کے بادلوں کو دور کرتا ہے اور ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہماری جدوجہد ثمر بخش اورموثر ہے۔ جو لوگ اسلامی طرز فکر کے اس پہلو سے ناآشنا ہیں وہ دنیا کے عظیم مادی تحولات کو دیکھ کر حیران اور مایوس ہوتے ہیں نیز یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ ان عظیم قوتوں، جدید ترین ٹیکنالوجی، تباہ کن ہتھیاروں اور ایٹم بموں کی موجودگی میں اگر کوئی ملت اس دنیا کے اندر کوئی انقلاب برپا بھی کرے تو وہ آخر کہاں تک مقاومت کرسکتی ہے ؟

یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ظالم اور استکباری قوتوں کے دباؤ کا مقابلہ کرنا ان کےلئے ممکن نہیں ہے۔

لیکن مہدویت کا عقیدہ یعنی فرزند رسول، امام زمان کے ہاتھوں اس دنیا میں قائم ہونے والی اسلامی اور الٰہی حکومت پر ایمان انسان کے اندر اس امید کو جنم دیتا ہے کہ ہم جدوجہد اور مقاومت کا سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ آخری کامیابی ہمارا مقدّر ہے اور آخرکار دنیا ہمارے امام کے سامنے سرتسلیم خم ہوجائے گی نیز تاریخ اس چیز کی طرف رواں دواں ہے جس کی بنیاد ہم نے آج رکھی ہے۔ ہم نے اس کا ماڈل پیش کیا ہے اگرچہ ناقص ہی سہی۔

اگر مقاومت کرنے والی اقوام (خاص کر مسلمان اقوام) کے دلوں میں یہ امید زندہ ہو تو وہ ایک ایسی حالت سے دوچار ہوں گے جس میں سستی اور تھکاوٹ کا شائبہ نہ ہوگا۔

پھر کوئی چیز انہیں مزاحمت اور جدوجہد سے نہیں روک سکےگی نیز انہیں باطنی شکست و ریخت سے دوچار نہیں کرسکےگی۔

ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے سالہا سال کے غلط پروپیگنڈوں نے لوگوں کے اذہان میں یہ غلط بات بٹھادی تھی کہ حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے قیام سے پہلے کسی قسم کی جدوجہد کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ دنیا کو ظلم و ستم سے پُر ہونا چائیے تا کہ اس کے بعد حضرت مہدی قیام فرمائیں کیونکہ جب تک دنیا ظلم و جور سے پر نہ ہوگی آپ کا ظہور نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ حضرت مہدی(علیہ السلام) سے مربوط روایات میں یہ جملہ مذکور ہے:

’’يَمْلَأُ اللَّٰهُ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْما وجوراً‘‘ ۔

راقم نے اب تک کوئی ایسی روایت نہیں دیکھی ہے جس میں

’’بَعْدَ مَا‘‘ مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْرا‘‘

مذکور ہو۔ میرا خیال نہیں ہے کہ روایات میں یہ جملہ مذکور ہو۔

اس نکتے کے پیش نظر میں نے مختلف ابواب میں مختلف روایات کی طرف مراجعہ کیا لیکن کہیں نہیں دیکھا کہ

’’بَعْدَ مَا‘‘ مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً‘‘

مذکور ہو بلکہ ہر جگہ

’’کَمَا مُلِئَتْ‘‘ ظُلْماً وَ جَوْرا‘‘

مذکور ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی تو حضرت مہدی علیہ السلام فوراً دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے بلکہ ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تاریخ انسانی میں ایک بار نہیں بلکہ مختلف ادوار میں بار بار دنیا ظلم و جور سے پر ہوتی رہی ہے

مثلاً فرعون کے دور میں، طاغوتی حکومتوں کےدور میں اور ظالم سلاطین کے دور میں پوری دنیا کو ظلم و جور کے تاریک بادلوں نے گھیر لیا تھا، ہرجگہ تاریکی تھی اور کسی جگہ روشنی کی کرن نظر نہ آتی تھی جو عدل اور آزادی کی عکاسی کرے بالکل اسی طرح اس دنیامیں وہ دن بھی ضرور آئےگا جب اس پورے وسیع عالم میں ایک جگہ بھی ایسی نہیں ہوگی جو عدل کی روشنی سے منور نہ ہو۔

اس دن کسی جگہ ظلم کی حکمرانی نہیں ہوگی۔ اس دن کوئی جگہ ایسی نہیں ملےگی جہاں لوگ، دباؤ، ستم، حکومتی مظالم، وڈیروں کے مظالم اور ناجائز امتیازات کے ہاتھوں تکلیف میں مبتلا ہوں۔ یعنی جس طرح آج دنیا میں بے انصافی کا غلبہ ہے اور جس طرح دنیا میں یقیناً ناانصافی عام تھی اسی طرح ایک دن عدل کا دور دورہ ہوگا۔

( ۲۱/۱/۱۳۶۶ھ ش)۔

۱۷۰

چونکہ ہمارے اسلامی انقلاب کا مقصد پوری دنیا میں نظامِ عدل کا نفاذ ہے اس لئے اس انقلاب نے حضرت مہدی علیہ الصلاۃ و السلام کے انقلاب کو اپنے ہدف کے نزدیک تر کردیا ہے۔

اسلامی حکومت کے قیام نے نہ صرف یہ کہ مہدی موعود کے انقلابِ موعود کو موخر نہیں کیا بلکہ اس کے وقوع کو قریب تر کردیا ہے۔ یہ ہے انتظار کا مفہوم۔

انتظار ِ فَرَج سے مراد ہے

قرآن اور اسلام کی حکمرانی کا انتظار۔ آپ دنیا کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں یہاں تک کہ آپ اسلامی انقلاب کے باعث حاصل ہونے والی پیشرفت پر بھی قانع نہیں ہیں بلکہ یہ چاہتے ہیں کہ قرآن اور اسلام کی حاکمیت میں مزید اضافہ ہو۔ یہی انتظارِ فَرَج ہے۔

انسانی مسائل کے مکمل حل کا انتظار ہی حقیقی انتظارِ فَرَج ہے۔ آج انسانیت سخت اور پیچیدہ مسائل میں گھری ہوئی ہے۔

آج مادی ثقافت اور کلچر کو انسانوں کے اوپر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ یہ ایک گرہ ہے۔

آج پوری دنیا میں انسان طبقاتی امتیاز کے ہاتھوں تنگ آیا ہوا ہے۔

یہ ایک عظیم گرہ ہے۔

آج لوگوں کی غلط ذہنیت نے دنیا کا یہ حال کردیا ہے کہ انقلابی اقوام کی وہ آواز جو عدل و انصاف کےلئے بلند ہوتی ہے وہ اقتدار کے پجاریوں اور مقتدر قوتوں کے مستانہ وار غل غپاڑے کے درمیان نقار خانے میں طوطی کی آواز کی طرح تحلیل ہوکر رہ جاتی ہے۔

یہ بھی ایک گِرہ ہے۔

آج افریقہ اور لاطینی امریکہ کے بےکس لوگوں نیزایشیا اور مشرق بعید کے کروڑوں بھوکے افراد اور نسلی امتیاز کے ہاتھوں ستائے ہوئے کروڑوں کالے لوگوں کی امیدبھری نظریں ایک فریاد رس اور نجات بخش ہستی کی طرف مرکوز ہیں لیکن بڑی طاقتیں اس نجات بخش ہستی کی آواز ان لوگوں تک پہنچنے نہیں دیتیں۔ یہ بھی ایک گرہ ہے۔

فَرَج سے مراد یہ ہے کہ:

یہ گرہیں کھل جائیں۔ آپ اپنی نگاہ کا دائرہ وسیع کریں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے گھروں کی اندرونی فضا اور اپنی روز مرہ زندگی کے دائرے میں محدود ہوکر نہ بیٹھ جائیں۔

آج پوری دنیا کی سطح پر انسانیت کشائش و آسودگی کی خواہاں ہے لیکن اسے راستے کا علم نہیں۔

آپ ایک انقلابی مسلمان ملت کے افراد ہیں۔

آپ اسلامی انقلاب کو زندہ و پائندہ رکھنے کےلئے منظم جدوجہد کرتے ہوئے عالمگیر انسانی کشائش و آسودگی کے قریب ہوجائیے۔ آپ کو چاہئے کہ مہدی موعودکے ظہور نیز عالم بشریت کے اس آخری اور عالمگیر اسلامی انقلاب کی جانب قدم بہ قدم آگے بڑھیں جو مشکلات و مسائل کی ان تمام گرہوں کو کھول دےگا۔ آپ بشریت کو اس کے قریب کریں۔ یہ ہے انتظارِ فَرَج۔

اس راستے میں ہمیں خدا کے لطف و کرم اور حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی مستجاب دعا کی پشت پناہی حاصل ہوگی۔ ہمیں چاہئے امام زمان علیہ السلام اور آپ کی یاد سے اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ آشنا کریں اور امام زمانہ کو فراموش نہ کریں۔ ہمارا ملک امام زمانہ علیہ السلام کا ملک ہے۔ ہمارا انقلاب امام زمانہ کا انقلاب ہے کیونکہ یہ اسلامی انقلاب ہے۔ آپ حضرت ولی اللہ الاعظم کی یاد کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔

اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَيْكَ فِي دَوْلَةٍ كَرِيمَة

کی دعا کو دل کی گہرائی سے اور مکمل خضوع کے ساتھ پڑھیے۔ آپ کی روح کو بھی مہدی کا منتظر رہنا چاہئے اور آپ کی جسمانی قوت کو بھی اس راہ میں صرف ہونا چاہئے۔ آپ اس اسلامی انقلاب کو پابرجا کرنے کےلئے جو بھی قدم اٹھائیں گے اسی حساب سے آپ ایک قدم ظہور ِحجت کے قریب تر ہوجائیں گے۔

( ۲۹/۳/۱۳۶۰ھ ش)

۱۷۱

آج آپ لوگوں کے ہاتھوں میں جو حکومت ہے وہ خدا پر ایمان رکھنےوالوں کی ہزار سالہ آرزو رہی ہے۔

تمام ائمہ علیہم السلام نے اس کی خاطر جدوجہد کی ہے تا کہ انسانی معاشروں پر اللہ اور قوانینِ الٰہی کی حاکمیت قائم کریں۔

اس مقصد کے لئے کوششیں کی گئی ہیں، جہاد کیا گیا ہے، تکالیف اٹھائی گئی ہیں نیز قید و بند، جلاوطنی اور ثمربخش شہادتوں کی صعوبتیں برداشت کی گئی ہیں۔

آج یہ موقع آپ کو نصیب ہوا ہے جس طرح بنی اسرائیل کو صدیوں بعد حضرت سلیمان پیغمبر اور حضرت داؤد پیغمبر علیہما السلام کے زمانے میں یہ فرصت نصیب ہوئی تھی۔

اے امت مسلمہ! اے بہادر مجاہد ایرانی ملت!

آپ کو جو نعمت اس وقت حاصل ہے اس کی قدر جانیے۔

اپنی حفاظت کیجئے تا کہ اللہ نے چاہا تو یہ حکومت حضرت ولی عصر ، مہدی موعود، صاحب الزمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کی حکومت پر منتہی ہو۔

( ۱۸/۲/۱۳۶۰ھ ش)۔

۱۷۲

اے عزیز ملتِ ایران!

یہ وہ راستہ ہے جس پر آپ گامزن ہوئے ہیں۔

آپ اللہ کی توفیق کے سہارے اس پر چلتے رہیں گے۔

خوش قسمتی سے آج ہم یہ مشاہدہ کررہے ہیں کہ عالم اسلام کے اطراف و اکناف کی مسلمان اقوام آہستہ آہستہ اور بتدریج اس راستے کی جانب حرکت کررہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

والعاقب ۃ ُ للمتقین

اگر ہم تقویٰ کو اپنا لائحہ عمل قرار دیں تو یقیناً آخری فتح امت مسلمہ کی ہوگی۔

انشاء اللہ یہ کامیابی چندان دور نہیں ہے۔

(۲/۱۲/۱۳۸۹ھ ش)۔

۱۷۳

آخر میں اللہ کے اس معصوم ولی اور عالی مقام امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ساتھ ہم سب کے روحانی، معنوی اور جذباتی رابطے کی ضرورت کے بارے میں ایک جملہ عرض کرتا چلوں۔

آپ اس مسئلے کو صرف فکری تجزیہ و تحلیل کی حد تک محدود نہ رکھیں۔

اللہ کا یہ برگزیدہ اورمعصوم ولی آج ہم انسانوں کے درمیان دنیا کے ایک حصے میں جس کا ہمیں علم نہیں زندگی گزار رہا ہے۔

آپ موجود ہیں، دعا کررہے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، خدائی راستوں کی تبیین کرتے ہیں، رکوع و سجود بجالاتے ہیں، عبادت کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں، لوگوں کے درمیان ظاہر ہوتے ہیں اور بعض انسانوں کی مدد کرتے ہیں۔

آپ اسی دنیا میں موجود ہیں لیکن ہم آپ کو نہیں پہچانتے۔ اللہ کی یہ برگزیدہ ہستی زندہ ہے۔

ہمیں چاہئے کہ اس کے ساتھ اپنے ذاتی، قلبی، روحانی، اجتماعی اور سیاسی رابطے کو مستحکم کریں۔ ہمارے معاشرے کےہر فرد کو چاہئے کہ حضرت ولی عصر علیہ السلام کے ساتھ توسل، آپ سے آشنائی، آپ کے ساتھ رازونیاز، آپ کے حضور عرض ِ ارادت اور آپ کی طرف توجہ کو اپنی ذمہ داری اور اپنا فریضہ سمجھے

۱۷۴

اور آپ کےلئے دعا کرے جیسا کہ ہماری احادیث میں مذکور ہے۔

اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّك

‏ والی دعا ان کثیر دعاؤں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح کتابوں میں مذکور تمام زیارتیں جس طرح ہمیں فکری آگاہی اور معرفت سے نوازتی ہیں اسی طرح روحانی، قلبی، احساساتی اور جذباتی پہلو کی بھی حامل ہیں جس کی ہمیں ضرورت ہے۔

ہمارے بچے، ہمارے جوان اور ہمارے مجاہدین جو محاذوں پر موجود ہیں امام کی طرف توجہ اور آپ سے توسل کے ذریعے روحانی غذا، حوصلہ اور تازگی پاتے ہیں اور امید حاصل کرتے ہیں۔

وہ شوق کے آنسو بہا کر اپنے دلوں کو امام عصر کے قریب کرتے ہیں نیز اپنے آپ کو عنایت الٰہی اور امام کی توجہ کا مرکز قرار دیتے ہیں جس کی ہردم ضرورت ہے۔

( ۲۱/۱/۱۳۶۶) ۔

۱۷۵

اے امام زمان!

اے مہدی موعود!

اے محبوب ِامت!

اے فرزندِ انبیا!

اے وہ جو تمام توحیدی اور عالمی انقلابات کا وارث ہے!

یہ ملت شروع ہی سے آپ کی یاد اور آپ کے نام کی خوگر بن چکی ہے۔

اس ملت نے اپنی زندگی اور اپنے وجود کے اندر آپ کے لطف و کرم کو آزما کردیکھا ہے۔

اے عبد صالح!

ہم آج اس دعا کے محتاج ہیں جو آپ کے خدائی، ربانی اور پاکیزہ دل سے نیز آپ کی روح قدسی سے اس ملت کی کامیابی اور اس انقلاب کی فتح و نصرت کےلئے اٹھے۔

اللہ نے آپ کی آستین میں جو طاقتور ہاتھ رکھا ہے اس کے ذریعے اس ملت اور اس امت کی مدد کیجئے۔

عَزِيزٌ عَلَيَّ أَنْ أَرَى الْخَلْقَ وَ لَا تُرَى‏

۱۷۶

اے امام زمان!

ہماے اوپر یہ بات بہت گراں گزرتی ہے کہ ہم اس وسیع عالمِ رنگ و بو میں جو صالحین اور خدا کے نیک بندوں کےلئے ہے خدا کے دشمنوں اور ان کے آثار کا تو مشاہدہ کریں لیکن آپ کو نہ دیکھیں اور آپ کے ظہور کے فیض سے محروم رہیں۔

پرورگارا!

ہم تجھے محمد و آل محمد کا واسطہ دیتے ہیں تو ہمارے دلوں کو امام زمانہ کی یاد کے ذریعے ہمیشہ تازہ اور شاداب رکھ۔

پروردگارا!

ہماری آنکھوں کو ولی عصر کے جمال سے منور فرما۔

پرورگارا!

ان خدائی لشکروں کو جو تیری را ہ میں جہاد کرچکے ہیں امام زمان کے سپاہیوں اور جانبازوں میں شامل فرما۔

( ۶/۴/۱۳۵۹ھ ش)۔

۱۷۷

پروردگارا!

محمد و آل محمد کا واسطہ!

اپنے معصوم ولی کے قلب ِمقدس کو ہم سے راضی اور خوش کردے۔

ہمیں امام زمان علیہ السلام کی طرف توجہ اور آپ سے توسّل کرنے والوں کی صف میں شامل فرما۔

پروردگارا! محمد و آل محمد کی حرمت کا واسطہ!

امام زمانہ کے ظہور اور اس حکومتِ الٰہی کے قیام کے لمحات کو زیادہ سے زیادہ نزدیک قرار دے۔

پروردگارا!

ہمیں اس نومولود اسلامی معاشرے کی تعمیر و ترقی کے سلسلے میں عصر ِظہور کے نظام کے ساتھ شباہت کی توفیق عطا فرما۔

پروردگارا!محمد و آل محمد کا واسطہ! ہمیں جملہ حالات اور تمام میدانوں میں امام زمانہ کے مددگاروں اور شیعوں کی صف کی شامل فرما۔

( ۲۱/۱/۱۳۶۶ھ ش )۔

=====٭٭٭٭٭=====

۱۷۸