اسلامی نظام کو محکم کرنے کی تدبیر:
غدیر خم کا واقعہ اسلام کا ایک تاریخ ساز اور بہت اہم واقعہ ہے۔ اس واقعے کو دو زاویوں سے پرکھا جاسکتا ہے۔ ایک زاویہ شیعوں سے مخصوص ہے جبکہ دوسرا زاویہ تمام اسلامی فرقوں سے مربوط ہے۔ دوسرے زاویے کے نقطہ نظر سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ اور احساس بیدار ہونا چاہئے کہ عید غدیر (جو اس عظیم واقعے کی یاد دلاتی ہے) فقط شیعوں سے مربوط نہیں ہے۔
جیسا کہ عرض ہوچکا پہلا زاویہ شیعوں سے مختص ہے کیونکہ غدیر ِخم میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو اپنا خلیفہ معین فرمایا۔ اس دن کچھ لوگوں نے رسول خدا سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! یہ اعلان آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟
یعنی یہ خدا کی طرف سے بھی ہے اور میری طرف سے بھی۔
اہل تشیع واقعہ غدیر کو اس لحاظ سے اہمیت دیتے ہیں کہ شیعوں کا عقیدہ (یعنی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی بلافصل خلافت) دیگر تمام دلائل سے زیادہ اس واقعے پر موقوف ہے۔ یاد رہے کہ شروع سے آج تک تاریخ کے تمام ادوار میں بہت سی کتابوں کے اندر اس واقعے سے استدلال و استنباط کا سلسلہ رائج اورجاری و ساری رہا ہے۔ میرا ارادہ یہ نہیں ہے کہ میں اس موضوع پر جس کے بارے میں ہزاروں زبانوں اور ہاتھوں نے کہا اور لکھا ہے مزید خامہ فرسائی کروں۔
اس واقعے کے دوسرے زاویے کی اہمیت پہلے زاویے سے کم نہیں ہے۔ دوسرا زاویہ شیعہ و سنی دونوں کا مشترکہ موضوع ہے جس کی نسبتاً بیشتر وضاحت کروں گا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ اور جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مقامات کے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہجرت کے دسویں سال حج کیا۔ اس سفر میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسلام کی سیاسی، عسکری، اخلاقی اور اعتقادی تعلیمات کو بیان کرنے کےلئے حج کے موقعے سے بھرپور اور شایان شان استفادہ کیا۔
منقول ہے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے منیٰ میں دوبار خطاب فرمایا۔ ان میں سے ایک کا تعلق بظاہر دسویں دن سے یا اس دن کے قریبی اوقات سے ہے
جبکہ دوسرا خطاب ایام ِتشریق کے اختتام پر کیا گیا جس کی تصریح موجود ہے۔
میری نظر میں یہ دو الگ الگ خطابات ہیں نہ کہ ایک تقریر۔
ان تقریروں میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے تقریباً وہ تمام اہم نکات بیان فرمائے ہیں جن پر مسلمانوں کو گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اکثر نکات سیاسی ہیں۔ انسان بخوبی درک کرسکتا ہے کہ آج عالم اسلام میں جو لوگ حج کو سیاسی مسائل سے جدا قرار دیتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حج میں فقط مرسوم عبادات سے سروکار رکھنا چاہئے نیز یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سیاسی کام حج کے دائرے سے خارج ہے وہ تاریخ ِاسلام اور سیرت ِنبوی سے کس قدر بیگانہ اور دور ہیں۔
ان تقریروں میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نکات بیان فرمائے ہیں وہ شیعہ و سنی کتب میں مذکور ہیں۔ ان نکات کا اجمالی تذکرہ کچھ یوں ہے۔
الف: آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جہاد کا ذکر کیا۔ آپ نے کفار و مشرکین کے ساتھ جہاد کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کلمہ
ہمہ گیر نہ بن جائے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تقریروں میں اسلامی اتحاد کے بارے میں کچھ نکات بیان فرمائے اور تصریح کی کہ مسلمانوں کو خانہ جنگی سے احتراز کرنا چاہئے۔ آپ نے مسلمانوں کے اتحاد و انسجام پر زور دیا۔ دور جاہلیت کے اقدار کے بارے میں صاف صاف فرمایا کہ اسلام کی نظر میں ان اقدار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
’’وَ كُلُّ مَأْثُرَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْن ‘‘
۔
آگاہ رہو کہ میں جاہلیت کےجملہ اقدار کو اس وقت اپنے دونوں پیروں تلے روندتا ہوں۔
آپ نے جاہلی اقدار کی مکمل نفی کی۔
ایام جاہلیت سے مسلمانوں کے درمیان جو مالی اختلافات باقی چلے آرہے تھے( مثلاً کسی نے کسی اور کو قرض دیا ہو اور اب اس سے اپنے مال کے سود کا طلبگار ہو و غیرہ) ان سب کا خاتمہ کردیا:
’’ا َلَا وَ كُلُّ رِباً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهَو تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْن‘‘
سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس کو ملنے والا سود ہے۔ (عہد جاہلیت میں وہ قرض دیتے تھے اور بہت سے لوگوں سے سود کے طلبگار رتھے۔) ف
رمایا: میں ان سب کو ختم کرتاہوں، منسوخ کرتاہوں۔
آپ نے تکرار کے ساتھ تقویٰ کو اسلامی اقدار میں سب سے برتر قرار دیا اور تصریح کہ کسی شخص کو کسی دوسرے پر کوئی ترجیح یا برتری حاصل نہیں مگر تقویٰ اور پرہیزگاری کے طفیل۔
آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمان پیشواؤں کے ساتھ خیرخواہی یعنی سیاسی مسائل میں حصہ لیتے ہوئے حکمرانوں اور پیشواؤں کو مشورہ دینے کی اہمیت بیان کی اور اسے ایک فریضہ قرار دیا۔ آپ نے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دی کہ وہ مسلمان حکمرانوں کو اپنے مخلصانہ مشوروں اور نظریات سے آگاہ کریں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تقریروں میں عالم اسلام کے اہم سیاسی ومعاشرتی مسائل کو بیان فرمایا۔ آپ نے انہی خطبات میں’’حدیث ثقلین‘‘کا بھی ذکر کیا۔ حدیث ثقلین میں آپ نے فرمایا: میں دنیا سے جاتے وقت تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں:
’’کتاب الله و عترتی‘‘
یعنی قرآن اور میرے اہل بیت کو۔
پھر آپ نے اپنی شہادت کی دو انگلیوں کو ملاتے ہوئے فرمایا:وہ دونوں ان دونوں کی طرح ہیں۔ شہادت کی انگلیوں میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ پھر آپ نے ایک ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو اوپر اٹھایا اور فرمایا: فرمایا: ان دونوں کی طرح نہیں ہیں۔
فرمایا: میں قرآن اور عترت کو ان دونوں کی طرح نہیں سمجھتا کیونکہ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں سےایک انگلی دوسری سے زیادہ لمبی ہے بلکہ قرآن اور عترت شہادت کی دوانگلیوں کی طرح ہیں جن میں سے کسی کو دوسری پر ترجیح حاصل نہیں ہے ۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے عترت (اہل بیت) کا مسئلہ بیان کیا۔
اعمالِ حج کی انجام دہی کے بعد مسلمان فوراً مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے تین راستوں کے ایک سنگم پر جہاں سے مدینہ اور یمن کے قافلے جدا ہوتے تھے رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ٹھہرگئے۔ اس جگہے کا نام غدیر خم تھا۔ اس واقعے کے عینی گواہوں اور حاضرین کی روایت کے مطابق ہوا اس قدر گرم تھی کہ اگر گوشت کو زمین پر ڈال دیاجاتا تو کباب ہوجاتا۔
اس حالت میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک اونچی جگہ کھڑے ہوتے ہیں تا کہ لوگ بتدریج جمع ہوجائیں۔
جب آپ نے دیکھا کہ سب جمع ہوچکے ہیں تو مسئلہ ولایت:
’’مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ‘‘
کا اعلان فرمایا۔ آپ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اس طرح بلند کیا کہ سب دیکھ لیں۔
متعدد احادیث میں مذکور ہے کہ جب ان دونوں نے ہاتھ بلند کئے تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بغل کی سفیدی اور علی ابن ابی طالب کے بغل کی سفیدی نظر آنے لگی جو سب کو دکھائی دیا۔ یہ اس واقعے کا اجمالی بیان ہے۔
واقعہ غدیر کا وہ پہلو جو میرے پیش نظر ہے (یعنی بین الاقوامی اسلامی پہلو اور اسلامی فرقوں کے درمیان مشترک زاویہ جو صرف شیعوں سے مختص نہیں ) یہ ہے کہ اگر بالفرض پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس اعلان میں (جو یقیناً ایک حقیقت ہے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے صادر ہوچکا ہے) اس بات کے خواہاں نہ ہوتے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کریں تب بھی کم از کم یہ تو ثابت ہے کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آل محمدعلیہم السلام کے ساتھ مسلمانوں کے عمیق روابط اور موالات کو اس اعلان کے ذریعے استحکام بخشیں اور ثابت کریں۔
پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عترت کو قرآن کا ہم پلہ کیوں قرار دیا؟
آپ نے منیٰ کے خطبے میں اور حدیث ثقلین میں (جو بظاہر کئی بار رسول سے صادر ہوئی ہے) قرآن کے ساتھ اہل بیت کا ذکر کیوں کیا؟
نیز غدیر اور واقعہ غدیر میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت پر اتنا زور کیوں دیا؟ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس رابطے کو ثابت کرنا کیوں چاہتے تھے؟
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)آئندہ نسلوں اور سارے زمانوں کے لوگوں کے لئے اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے کامل انسانی نمونوں کا تعارف کرانا چاہتے تھے۔ آپ انسانِ کامل کی عملی،جیتی جاگتی اور مجسم تصویر ناقابل تردید اور واضح صورت میں تمام انسانوں کے سامنے رکھنا چاہتے تھے کہ دیکھو اسلامی تربیت اس نہج پر ہونی چاہئے۔
ایک صحیح مسلمان کی شخصیت ان کامل نمونوں کے راستے پر چل کر ہی پنپ سکتی ہے۔ ان ہستیوں کی طہارت و پاکیزگی، ان کا علم و تقویٰ ، ان کی صحیح کارکردگی، عبودیت، اسلامی مسائل سے کامل آشنائی، اسلامی اہداف کے حصول کی خاطر ان کی بےخوف فداکاری اور ان کا جذبۂ قربانی سب کے سامنے واضح و آشکار ہیں۔
آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انسانیت کے کامل نمونے کے طور پر امیرالمؤمنین علیہ السلام کا تعارف کرایا تا کہ (اُس زمانے نیز دیگر زمانوں اور نسلوں کے) لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ اپنا مضبوط رشتہ قائم کریں اور برقرار رکھیں۔
مان لیتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد عملی طور پر آپ کو بلافصل حکومت نہیں ملی اور پچیس سال بعد ظاہری خلافت ملی لیکن آخر کار مل تو گئی اور آپ کا منصب ِامامت سب کے ہاں مسلّمہ ہوگیا اور تمام مسلمانوں نے آپ کو معاشرے کے پیشوا کے طور قبول کرلیا۔
سارے مسلمان آپ کو خلیفۂ رسول کے طور پر قبول کرتے ہیں(البتہ بعض لوگ آپ کو رسول کا بلافصل خلیفہ مانتے ہیں جبکہ بعض مسلمان کہتے ہیں کہ آپ پچیس سال بعد خلیفہ بنے)۔بہرحال سارے مسلمان آپ کو جانشین ِرسول مانتے ہیں۔ بنابریں آپ کی شخصیت کو اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے انسانِ کامل اور نمونے کے طور پر ہمیشہ زندہ و تابندہ رہنا چاہئے نیز آپ کے ساتھ تمام مسلمانوں کا فکری، اعتقادی، جذباتی اور عملی رابطہ بھی ابد تک قائم و دائم رہنا چاہئے۔
اس نقطہ نگاہ سے امیرالمؤمنین علیہ السلام صرف شیعوں کے پیشوا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔ یہ بات صرف امیرالمؤمنین علیہ السلام تک محدود نہیں بلکہ تمام اہل بیت طاہرین اور ائمہ معصومین علیہم السلام (جو امیر المومنین علیہ السلام کی اولاد ہیں)بھی چونکہ عترت میں شامل ہیں اس لئے انہیں بھی مسلمانوں کے ہاں اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے کامل انسانی نمونوں کے طور پر ہمیشہ باقی رہنا چاہئے۔ یہ ایک نکتہ تھا۔
ثانیاً :رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عترت کو قرآن کا ہم پلہ قرار دے کر نیز مسلمانوں اور عترت کے درمیان ارتباط کو ضروری قرار دے کر در حقیقت قرآنی تعلیمات میں تحریف اور قرآن کے اصلی مفاہیم سے انحراف کے خطرے کو بھی واضح کردیا۔
بالفاظ دیگر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سمجھادیا کہ جب اقتدار اور خزانوں کے مراکز اپنے مفادات کی خاطر اسلامی تعلیمات میں تحریف کریں، قرآن کی غلط تفسیر کریں، مسلمانوں کو گمراہ کریں نیز لوگوں کو اسلامی دستور کے فہم و ادراک سے محروم کر دیں تو اس وقت وہ مرجع، وہ محور اور وہ مرکز جو لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرے، صحیح معرفت اور مفاہیم سے آشنا کرے، لوگوں کو گمراہی سےنجات دے اور لوگوں پر بھی اس کی اطاعت واجب ہو وہ عترتِ رسول ہے۔
یہ وہی چیز ہے جس کی آج عالمِ اسلام کو اشد ضرورت ہے۔ آج سارے مسلمانوں کو (خواہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل اور آپ کی معصوم اولاد کی امامت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں)اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اہل بیت رسول کے ذریعے حاصل ہونے والے اسلامی معارف سے استفادہ کریں۔
یہ اور بات ہے کہ اہل تشیع اس حدیث کی رو سے خلافت ِبلافصل کو قطعی اور برحق سمجھتے ہیں۔ جو مسلمان اس عقیدے کے پابند نہیں (یعنی برادرانِ اہلِ سنت) انہیں بھی چاہئے کہ اہل بیت رسول علیہ السلام اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ اپنے فکری، عقلی، اعتقادی اور جذباتی رابطے کو قطع نہ کریں۔
بنابریں واقعہ غدیر اس دوسرے زاویے یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور عترت رسول کے ساتھ تمام مسلمانوں کے رابطے کے زاویے سے تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے۔ (۲۳/۵/۱۳۶۶ھ ش)۔