انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 357
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 357 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

سات خصوصیات

پہلی خصوصیت۔ ایمان اور معنویت:

نظام محمدی کو آگے بڑھانے والی طاقت یا انجن ایمان سے عبارت ہے جس کا سرچشمہ انسان کا دل و دماغ ہیں۔

یہ قوت اس نظام کے ہاتھوں، پیروں، بازؤوں اور باقی وجود کو درست سمت میں حرکت دیتی ہے۔

پس پہلی خصوصیت یہ ہے کہ افراد کے اندر ایمان اور معنویت کی روح پھونکی جائے، اس کی تقویت کا سامان کیا جائے اور انہیں صحیح افکار و عقائد سے لیس کیا جائے۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ سے اس کام کا آغاز کیا اور مدینہ میں اس کا پرچم پوری قوت کے ساتھ بلند کیا۔

۲۱

دوسری خصوصیت۔عدل و انصاف:

یعنی عدل و انصاف کی بنیاد پر کاموں کو انجام دینا اور ہر حق کو اس کے حقدار تک پہنچانا (کسی رو رعایت کے بغیر)۔

تیسری خصوصیت۔ علم و معرفت:

نظام مصطفوی کے اندر ہر چیز کی بنیاد علم، آگاہی، شناخت، پہچان اور بیداری پر استوار ہے۔ اسلام کسی کو اندھادھند کسی سمت چلانے کا روادار نہیں ہے بلکہ لوگوں کو آگاہی،معرفت اور قوت تشخیص کے ساتھ فعال قوت میں تبدیل کرتا ہے (منفعل قوت میں نہیں۔)

چوتھی خصوصیت۔ اخلاص اور اخوت:

نظام مصطفوی کے اندر باطل ذاتی اغراض، مفاد پرستی اور منفعت پرستی پر مبنی اختلافات ناپسندیدہ اور منفور ہیں اور ان کے خلاف جد و جہد ضروری ہے۔ اس نظام کے اندر اخلاص، اخوت، بھائی چارے اور باطنی یکسوئی کی فضا حاکم ہوتی ہے۔

پانچویں خصوصیت۔ اخلاق و کردار کی درستی:

اسلام لوگوں کا تزکیہ کرتا اور انہیں اخلاقی مفاسد و رذائل سے پاک و منزہ بناتا ہے۔ یہ نظام بااخلاق اور پاکیزہ انسان تیار کرتا ہے۔

’’وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ ‘‘ ۔

چھٹی خصوصیت: اقتدار اور عزتِ نفس

مصطفوی معاشرہ یا نظام دوسروں کا طفیلی،دست نگر، اوروں پر اتکا کرنے والا اور دوسروں کے آگے دستِ سوال دراز کرنے والا نہیں بلکہ خوددار، مقتدر اور قوتِ فیصلہ سے لیس نظام ہے۔ جب اسے اپنی بھلائی کا علم ہوتا ہے تو اس کے حصول کےلئے کوشش کرتا ہے اور اپنے کام کو آگے بڑھاتا ہے۔

ساتویں خصوصیت: مسلسل جدوجہد، حرکت اور دائمی پیشرفت

نظام محمدی کے اندر ٹھہراؤ اور توقف کی گنجائش نہیں۔ یہ مسلسل کام، حرکت اور ترقی کا علمبردار ہے۔ یہ ایک لذت بخش اور فرحت بخش عمل ہے۔ یہ خستگی، ملال، سستی، اور رنج و تعب کا موجب نہیں بلکہ انسان کو نشاط، قوت اور شوق و شغف بخشتا ہے۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تا کہ اس نظام کو پابرجا اور کامل کریں اور اسے قیامت تک تاریخ بشریت میں بطور نمونہ زندہ رکھیں تا کہ تاریخ کے ہر دور میں (آنحضرت کے دور سے لے کر قیامت تک) جو کوئی اس قسم کا نظام قائم کرنے پر قادر ہو وہ ایسا کردکھائے۔

البتہ اس قسم کا نظام قائم کرنے کےلئے اعتقادی اور انسانی بنیادوں کی ضرورت ہے،

۲۲

یعنی:اولاً

درست عقائد و نظریات کی موجودگی ضروری ہے جن کی بنیاد پر یہ نظام قائم ہو۔ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرہ سالہ مکی زندگی کے دوران ان افکار و نظریات کو کلمۂ توحید، انسان کی عظمت اور دیگر اسلامی تعلیمات کی شکل میں واضح کیا تھا۔ اس کے بعد آپ مدنی زندگی کے آخری ایام تک ہر لمحہ ان بلند افکار و معارف کو لوگوں تک پہنچاتے رہے۔

ثانیاً:

انسانی بنیادوں اور افرادی ستونوں کی ضرورت ہے تا کہ ان کے دوش پر اس نظام کی عمارت کھڑی ہو۔پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان انسانی ستونوں میں سے بہت سے ستونوں کو مکہ میں وجود بخشا اور تیار کیا۔ کچھ لوگ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بزرگ اصحاب تھے۔ یہ حضرات تیرہ سالہ سنگین مکی زندگی کے دوران آنحضرت کی جد و جہد کا ثمرہ تھے۔ کچھ لوگ وہ تھے جو ہجرت رسول سے قبل یثرب میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دعوت کے نتیجے میں تیار ہوئے تھے مثلاً سعد بن معاذ، ابوایوب اور دیگر اصحاب۔ مدینہ تشریف لانے کے فوراً بعد حضور نے انسان سازی کا عمل شروع کیا۔ انتظامی صلاحیتوں کے حامل قابل افراد نیز عظیم المرتبت، بہادر، فیاض، باایمان، قوی اور صاحب معرفت لوگ اس عظیم اور بلندپایہ عمارت کے مستحکم ستونوں کی حیثیت سے مدینہ چلے آئے۔

شہر مدینہ (جو ہجرت سے قبل یثرب کہلاتا تھا اور ہجرت کے بعد مدینۃ النبی کہلایا) کی جانب نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت نے نسیمِ بہار کی طرح اس شہر کی فضا کو معطر کیا اور سب نے آسائش کا احساس کیا۔ قبا میں نبی کی آمد کا سن کر لوگوں کے دل بیدار اور متوجہ ہوئے۔ قبا مدینہ کے قریب واقع ہے جہاں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پندرہ روز ساکن رہے۔ نبی کا شوقِ دیدار اہلِ مدینہ کے دلوں میں روز بروز بڑھنے لگا۔ کچھ لوگ قبا جا کر نبی کی زیارت کرتے اور واپس لوٹتے تھے۔ کچھ لوگ مدینہ میں رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے منتظر رہے۔

جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مدینہ تشریف لائے تو یہ شوق اور یہ لطیف و ملائم جذبہ لوگوں کے دلوں میں طوفان کی شکل اختیار کرگیا جس نے دلوں کی دنیا بدل کر رکھ دی۔ پھر ان لوگوں نے اچانک محسوس کیا کہ ان کے تعصبات، قبائلی جذبات اور عقائد و احساسات اس عظیم مرد کے چہرے اور گفتار و کردار کے اندر محو ہوچکے ہیں نیز وہ کائناتی حقائق اور اخلاقی معارف کی جانب ایک نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس طوفان نے پہلے دلوں میں انقلاب برپا کیا پھر یہ مدینہ کے اطراف میں پھیل گیا۔اس کے بعد یہ مکہ کے قدرتی حصار کو مسخر کرتے ہوئے دور دراز تک چلا گیا اور اس دور کی دو بڑی سلطنتوں یا ملکوں کے اندر گھس گیا۔یہ جہاں جہاں گیا وہاں دلوں کو ہلاتا اور انسانوں کے باطن میں انقلاب برپا کرتا گیا۔

صدر اسلام کے مسلمانوں نے ایران و روم کو ایمان کی قوت سے فتح کیا۔ جن اقوام پر ان کا حملہ ہوتا ان کے دلوں میں بھی انہیں دیکھ کر ایمان کا جذبہ مچلنے لگتا تھا۔ تلوار کا استعمال اس لئے ہوتا تھا تا کہ سامنے کے موانع نیز طاقت اور دولت کے علمبرداروں کی رکاوٹ کو دور کیا جائے وگرنہ عام لوگ ہرجگہ اس طوفان سے آشنا ہوچکے تھے اور اس دور کی دو عظیم سلطنتیں (یعنی روم و ایران) اپنی گہرائیوں تک اسلامی مملکت اور نظام کا حصہ بن چکی تھیں۔ چالیس سالوں میں یہ سب کچھ ہوگیا۔ ان میں سے دس سال عصر رسول کے تھے اور تیس سال رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کے۔

مدینہ پہنچتے ہی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کام کا آغاز کیا۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی زندگی کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ ان دس سالوں میں آپ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ اس بات کا مشاہدہ نہیں ہوا کہ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے معنویت و ہدایت کا نور پھیلانے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کرنے کے معاملے میں ایک لمحہ بھی ضائع کیا ہو۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بیداری، آپ کی نیند، آپ کی مسجد، آپ کا گھر، آپ کا میدانِ کارزار، کوچہ و بازار میں آپ کی گردش، آپ کی گھریلو زندگی اور آپ کا وجود (ہرجگہ) لوگوں کے لئے درس ِعمل تھے۔ آپ کی زندگی میں عجیب برکت تھی۔ جس شخص کی فکر نے پوری تاریخ کو مسخر اور اس پر اثر مرتب کیا اس نے صرف دس سال تک حکومتی، سیاسی اور اجتماعی کام کیا تھا۔

(میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ جو مفاہیم بعد کی صدیوں میں بشریت کے ہاں مقدس بن گئے مثلاً مساوات، برادری، عدل و انصاف، عوام کی حاکمیت و غیرہ وہ سب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی تعلیمات کے مرہونِ منت ہیں۔ دیگر ادیان کی تعلیمات میں اس قسم کی باتیں موجود نہیں تھیں یا کم از کم منصۂ شہود پر نہیں آئی تھیں۔)کس قدر بابرکت تھی آپ کی زندگی۔ مدینہ پہنچتے ہی آپ نے اپنا موقف واضح کیا۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جس اونٹنی پر سوار تھے وہ شہر یثرب میں داخل ہوئی اور لوگوں نے اسے گھیرلیا۔ اس زمانے میں شہر مدینہ مختلف محلوں پر مشتمل تھا۔

ہر محلے کے اپنے مکانات،گلی کوچے، حصار اور رؤسا ہوتے تھے۔ ہر محلہ کسی خاص قبیلے کا ہوتا تھا۔ ان قبائل کا تعلق یا تو ’’اوس‘‘سے تھا یا ’’خزرج‘‘سے۔

رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی شہر یثرب میں داخل ہوئی۔ وہ جس قبیلےکے قلعے کے سامنے پہنچتی وہاں کے رؤسا باہر آتے، اونٹنی کا راستہ روکتے اور کہتےتھے: اےا للہ کے رسول! یہاں تشریف لایئے۔ ہمارے گھر، ہماری زندگی، دولت اور آسائش آپ کےلئے حاضر ہیں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)فرماتے تھے : اس اونٹنی کا راستہ چھوڑدو۔ ’’إنها مأمورة‘‘ یہ حکم خدا کے تحت حرکت کرتی ہے۔ اسے جانے دو۔پہلے محلے کے لوگوں نے اونٹنی کا راستہ کھول دیا اور یہ دوسرے محلے میں پہنچی۔ یہاں بھی بزرگ افراد، روساء بوڑھوں،شخصیات اور جوانوں نے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کا راستہ روکا اور کہا: اے اللہ کے رسول! یہاں اتر جایئے۔یہاں آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ جو کچھ چاہیں ہم آپ کے حوالے کریں گے۔ ہم سب آپ کے تابعدار ہیں۔ فرمایا: ہٹ جاؤ اور اونٹنی کو آگے بڑھنے دو۔ إنها مأمورة۔ آپ کی اونٹنی یونہی ایک محلے سے دوسرے محلے تک چلتی رہی یہاں تک کہ بنی نجار کے محلے میں پہنچی۔ (رسول کی مادر گرامی کا تعلق اسی خاندان سے تھا۔) بنی نجار کے مرد پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ماموں محسوب ہوتے تھے۔ چنانچہ وہ آگے آئے اور بولے:یا رسول اللہ! ہم آپ کے رشتہ دار ہیں۔ ہماری جانیں آپ کے اختیار میں ہیں۔ ہمارے گھر تشریف لایئے۔ فرمایا: نہیں: ’’إنها مأمورة‘‘ہٹ جاؤ۔ لوگوں نے راستہ دے دیا۔ اونٹنی مدینہ کے سب سے زیادہ نادار لوگوں کے محلوں میں داخل ہوئی اور ایک جگہ بیٹھ گئی۔ سب دیکھنے لگے کہ یہ کس کا گھر ہے۔ دیکھا کہ ابوایوب انصاری کا گھر ہے۔ وہ مدینہ کا سب سے نادار فرد یا نادارترین افراد میں سے ایک تھے۔ وہ خود اور ان کا نادار گھرانہ آئے اور پیغمبر کا سامان اٹھا کر گھر کے اندر لےگئے۔ پیغمبر بطور مہمان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ آپ نے اعیان، اشراف، بااثر شخصیات اور قبائل کے سرداروں و غیرہ کو رد کیا۔ گویا آپ نے اپنی معاشرتی حیثیت کو معین فرمایا۔

معلوم ہوا کہ یہ شخص مال و دولت، قبائلی مقام و مرتبے، سرداروں کی پشت پناہی اور طاقتور قوم و خویش نیز جری اور دھوکہ باز افراد وغیرہ سے وابستہ نہیں ہے اور نہ ہوگا۔ آپ نے ابتدائی لمحے میں ہی یہ واضح کیا کہ آپ اجتماعی روابط کے میدان میں کس گروہ کے حامی اورکس جماعت کے طرفدار ہیں اور آپ کا وجود کن لوگوں کےلئے زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ سارے لوگ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں لیکن جو شخص زیادہ نادار اور محروم ہو وہ زیادہ فائدہ حاصل کرتا ہے تا کہ اس کی محرومیت اور ناداری کی تلافی ہوسکے۔

ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے ایک خالی زمین پڑی تھی۔ فرمایا: یہ زمین کس کی ہے؟ جواب ملا کہ یہ دو یتیم بچوں کی ہے۔ آپ نے اپنی جیب سے پیسے دے کر وہ زمین خرید لی۔ پھر فرمایا: ہم اس جگہ مسجد بنائیں گے یعنی ایک سیاسی ، دینی ، اجتماعی اور حکومتی مرکز بنائیں گے جہاں لوگ جمع ہوں گے۔ ایک مرکزی جگہے کی ضرورت تھی لہذا آپ نے وہاں مسجد کی تعمیر کا آغاز کردیا۔ آپ نے کسی سے مسجد کی زمین مفت نہیں مانگی بلکہ اپنے پیسے سے جگہ خریدی۔ اگرچہ ان دونوں یتیموں کا باپ اور سرپرست موجود نہ تھا لیکن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے باپ اور سرپرست کی طرح ان کے حق کی مکمل رعایت فرمائی۔

مسجد کا کام شروع کرتے وقت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے ابتدائی افراد میں سے ایک یاسب سے پہلے فرد تھے جس نے ہاتھ میں پہلے بیلچہ لےکر مسجد کی بنیادیں کھودنے کا کام انجام دیا۔

آپ نے صرف رسمی طور پر نہیں بلکہ سچ مچ کام کیا یہاں تک کہ آپ کا پسینہ بہنے لگا۔ آپ کا کام دیکھ کر قریب بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے بعض نے کہا: یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پیغمبر یوں کام کریں اور ہم بیٹھے رہیں؟ہم بھی جاکر کام کریں گے۔پس انہوں نے مختصر مدت میں مسجد تعمیر کر لی۔ اس (عظیم اور مقتدر) رہبر نے ثابت کیا کہ آپ اپنے لئے کسی خاص پروٹوکول یا امتیازی حق کے قائل نہیں بلکہ اگر کام کرنے کا موقع آئے تو آپ کو بھی دوسروں کی طرح کام کرنا چاہئے۔

اس کے بعد آپ نے اسلامی نظام کو چلانے کی پالیسی بنائی۔ جب انسان غور کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ آپ نے ہر قدم کس قدر ہوشیاری اور تدبیر کے ساتھ اٹھایا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ اس قوی اور فیصلہ کن عزم و ارادے کے پیچھے کس قدر دقیق فکر و اندیشہ اور حساب کارفرما ہے جو بظاہر وحی الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔

آج بھی جو لوگ یہ چاہیں کہ دس سالہ مدنی زندگی کے حالات کا لمحہ بہ لمحہ جائزہ لیں تو وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پائیں گے۔ اگر انسان ہر واقعے کا الگ جائزہ لے تو کسی چیز کا پتہ نہیں چلے گا۔ اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ کاموں کی ترتیب کس حساب سے تھی نیز یہ سارے کام کس قدر تدبیر، ہوشیاری اور صحیح پلاننگ کے ساتھ انجام پائے۔(مدینہ میں رسول کے اہم اقدامات کچھ یوں تھے)۔

۲۳

اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کا کارنامہ :

مدینہ کے سارے لوگ تو مسلمان نہیں ہوئے تھے۔اگرچہ اکثر لوگ مسلمان ہوئے لیکن تھوڑے لوگ غیر مسلم باقی رہے۔ ان کے علاوہ تین اہم یہودی قبائل (بنی قینقاع، بنی نضیر اور بنی قریظہ) مدینہ میں ساکن تھے یعنی وہ اپنے مخصوص قلعوں میں جو قریباً مدینہ سے متصل تھے زندگی گزارتے تھے۔ وہ سو دوسو سال قبل مدینہ آئے تھے۔ وہ مدینہ کیوں آئے تھے؟

یہ بجائے خود ایک مفصل اور طویل داستان ہے۔ جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو یہ یہودی دو تین امتیازی خصوصیات کے حامل تھے۔

ایک خصوصیت یہ تھی کہ مدینہ کی اصل ثروت، بہترین زرعی زمینوں، سب سے زیادہ منافع بخش تجارتی ذرائع اور مفید ترین صنعتوں (طلائی آلات کی تیاری و غیرہ) پر ان یہودیوں کی اجارہ داری قائم تھی۔ مدینہ کے اکثر لوگ ضرورت کے وقت ان کی طرف رجوع کرتے تھے، ان سے پیسے قرض لیتے تھے اور انہیں سود دیتے تھے۔ گویا اقتصادی لحاظ سے سب کی لگام یہودیوں کےہاتھ میں تھی۔

دوسری خصوصیت یہ کہ وہ مدینہ کے لوگوں پر ثقافتی و علمی برتری رکھتے تھے۔ چونکہ وہ اہل کتاب تھے اور مختلف علوم، دینی معارف اور ایسے مسائل سے آشنا تھے جو مدینہ کے نیم وحشی لوگوں کے اذہان سے کوسوں دور تھے اس لئے انہیں فکری برتری حاصل تھی۔ اگر ہم آج کی زبان میں بات کریں تو درحقیقت مدینہ میں یہودیوں کو ایک روشن فکر طبقے کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی لئے وہ وہاں کے لوگوں کو احمق سمجھتے، ان کی تحقیر کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ البتہ جب وہ اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتے اور ضرورت پڑتی تو وہ فروتنی بھی کرنے لگتے تھے لیکن قدرتی طور پر وہ دوسروں کے مقابلے میں ایلیٹ اور برتر طبقہ محسوب ہوتے تھے۔

تیسری خصوصیت یہ تھی کہ ان کا دور دراز کے علاقوں سے بھی رابطہ قائم تھا۔ وہ مدینہ کی محدود فضا کے اندر محصور نہ تھے۔یوں یہودی مدینہ میں اہم حیثیت کے مالک تھے۔ بنابریں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چاہئے تھا کہ ان کی اہمیت کو مدنظر رکھتے۔ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اجتماعی میثاق یا عہد نامے کا اہتمام فرمایا۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو لوگوں پر واضح ہوا کہ اس معاشرے کی قیادت آپ کے ہاتھوں میں آگئی ہے حالانکہ اس بارے میں کوئی اجتماعی فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے لوگوں سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کیا تھا اور لوگوں نے بھی اس بارے میں کوئی گفتگو نہیں کی تھی۔ گویا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی شخصیت اور عظمت نے قدرتی طور پر سب کو آپ کے آگے جھکادیا تھا۔ ظاہر تھا کہ آپ رہبر ہیں اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو کچھ کہتے ہیں سب کو اسی کے مطابق چلنا ہوگا۔آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک عہدنامہ لکھا جسے سب نے قبول کیا۔ یہ عہدنامہ اجتماعی روابط، باہمی تعاون، معاملات، نزاعات اور دیت کے بارے میں نیز مخالفین، یہودیوں اور غیرمسلموں کے ساتھ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے روابط کے بارے میں تھا۔ یہ سارے نکات اس میں لکھے گئے تھے۔ یہ ایک مفصل عہدنامہ تھا جو شاید تاریخ کی قدیم کتابوں کے دو تین صفحات پر مشتمل ہے۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا دوسرا بڑا اقدام مواخات کا قیام تھا۔ اشرافیت، باطل او ر بےبنیاد تعصبات، قبائلی غرور و تکبر اور طبقاتی تقسیم اس دور کے متعصب اور جاہلی معاشرے کے اہم ترین المیے تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مواخات کے ذریعے ان سب اقدار کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔ ایسا بھی ہوا کہ آپ نے کسی قبیلے کے سردار اور پسے ہوئے یا متوسط طبقے کے کسی فرد کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور فرمایا: تم دونوں بھائی بھائی ہو۔ انہوں نے بھی مکمل رغبت کے ساتھ اس رشتۂ اخوت کو قبول کیا۔آپ نے اشراف اور روساء کو نو مسلم یا آزاد شدہ غلاموں کا ہم پلہ قرار دیا۔ یوں آپ نے اجتماعی وحدت ویگانگت کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کردیا۔ جب مسجد کےلئے مؤذن کے انتخاب کا موقع آیا تو اچھی آواز والوں اور اچھی شکل وصورت والوں نیز ممتاز اور معروف شخصیات کی کمی نہ تھی لیکن آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان سب کو چھوڑ کر بلال حبشی کو منتخب کیا۔ نہ خوبصورتی کو معیار بنایا نہ شکل و صورت کو اور نہ خاندانی و نسلی حیثیت وشرف کو بلکہ صرف اسلام و ایمان اور راہِ خدا میں مجاہدت و فداکاری کو معیار قرار دیا۔ دیکھئے کہ حضور نے کس طریقے سے ’’اقدار‘‘کو عمل کی شکل میں واضح اور نافذ فرمایا۔ لوگوں کے دلوں میں آپ کی باتوں کی جو تاثیر تھی اس سے زیادہ آپ کے عمل اور سیرت وکردار نے دلوں کو متأثر کیا۔

۲۴

اسلامی نظام کی حفاظت:

اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کےلئے تین مراحل درپیش تھے:

پہلا مرحلہ:

نظام کی بنیادوں کو مستحکم کرنا تھا جو مذکورہ اقدامات کے ذریعے انجام پایا۔

دوسرا مرحلہ:

اس نظام کی حفاظت کا مرحلہ تھا۔ اگر کوئی زندہ، متحرک، روبکمال اور مترقی نظام موجود ہو تو سارے ارباب ِقوت و اقتدار اسے پہچان کر خطرہ محسوس کریں گے اور یقیناً اس کے دشمن بھی ہوں گے۔

اگر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمنوں کے مقابلے میں زیرکی اورہوشیاری کے ساتھ اس مبارک اور فطری نظام کی حفاظت نہ کرسکتے تو یہ نظام ختم ہوجاتا اور آپ کی ساری کوششیں برباد ہوجاتیں۔ بنابریں اس نظام کی حفاظت کی ضرورت تھی۔

تیسرا مرحلہ:

نظام کی تکمیل و تعمیر کا مرحلہ تھا۔صرف بنیادوں کو مضبوط کرنا کافی نہیں۔ یہ تو خشت اول ہے۔

مذکورہ تینوں کام ایک ساتھ انجام پاتے ہیں۔

بنیاد رکھنا پہلا مرحلہ ہے لیکن اس مرحلے میں بھی دشمنوں کو مد نظر رکھا گیا۔اس کے بعد بھی حفاظت کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ نظام کی بنیاد رکھتے وقت افراد اور اجتماعی ستونوں کی تعمیر پر بھی توجہ دی گئی اور بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دیکھ رہے تھے کہ اس نومولود اسلامی معاشرے کو پانچ اصلی دشمنوں کا خطرہ درپیش ہے۔ان میں سے ایک دشمن چھوٹا اورمعمولی نوعیت کا حامل ہے۔ اس کے باوجود اس سے غفلت کی گنجائش نہیں کیونکہ وہ کسی وقت کسی بڑے خطرے کو جنم دے سکتاہے۔ یہ دشمن کون سا ہے؟

مدینہ کے اطراف میں رہنے والے نیم وحشی قبائل۔ مدینہ سے دس فرسخ، پندرہ فرسخ اور بیس فرسخ کے فاصلے پر نیم وحشی قبائل موجود تھے جن کی پوری زندگی جنگ، خونریزی، غارتگری، ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی اور باہمی لوٹ مار سے عبارت تھی۔

مدینہ میں ایک پرامن، اطمینان بخش اور سالم اجتماعی نظام کو وجود میں لانے کےلئے اس بات کی ضرورت تھی کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے بارے میں سوچتے اور منصوبہ بندی فرماتے۔ آپ نے ان کے بارے میں سوچا۔ان میں سے جن لوگوں کے اندر اصلاح، بہتری اور ہدایت کی علامت نظر آئی آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ عہد و پیمان باندھا۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے شروع میں ہی یہ نہیں فرمایا:ضرور مسلمان بن جاؤ۔ بلکہ آپ نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ بھی عہد و پیمان باندھا تا کہ یہ لوگ آپ سے تعرض نہ کریں۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنے عہد و پیمان کی سختی سے پابندی فرماتے تھے۔ اس کا بھی ذکر کروں کہ جو لوگ شریر اور ناقابلِ اعتماد تھے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا بھی علاج فرمایا۔ آپ خود ان کے پیچھے گئے۔

آپ نے جن سرایا کے بارے میں سن رکھا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے پچاس افراد کو فلان قبیلے کی طرف بھیجا، بیس افراد کو فلان قبیلے کی طرف روانہ کیا و غیرہ، ان کا تعلق انہی لوگوں سے ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی طبیعت میں امن پسندی، ہدایت پذیری اور اصلاح پسندی کا جذبہ مفقود ہوتا ہے۔یہ خونریزی اور طاقت کے استعمال کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے۔ اس لئے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا پیچھا کیا اور ان کا قلع قمع کرکے انہیں خاموش کردیا۔

دوسرا دشمن اہل مکہ تھے جبکہ مکہ کو ایک قسم کی مرکزیت حاصل تھی۔ یہ درست ہے کہ مکہ میں کوئی باقاعدہ حکومت قائم نہ تھی لیکن متکبر، طاقتور اور صاحب ِنفوذ اشراف کی ایک جماعت باہم مکہ پر حاکم تھی۔

یہ لوگ آپس میں اختلاف رکھتے تھے لیکن اس نومولود اسلامی نظام کے مقابلے میں متحد تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ اصل خطرہ ان لوگوں کی طرف سے لاحق ہے۔ عملاً بھی یہی کچھ ہوا۔

بنابریں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے محسوس کیا کہ اگر آپ ان کی آمد کا انتظار کریں تو یقیناً وہ فائدہ اٹھائیں گے لہذا آپ نے ان کا رخ کیا۔

البتہ آپ نے مکہ کا رخ نہیں کیا۔ مکہ کے کاروانوں کا راستہ مدینہ کے قریب سے گزرتا تھا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ تعرّض کا آغاز کیا۔

پہلا اور اہم ترین تعرّض جنگ بدر کی صورت میں ظاہر ہوا۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے تعرض کا آغاز کیا اور مکہ والے تعصب، لجاجت اورہٹ دھرمی کے ساتھ آپ کے ساتھ جنگ کےلئے آئے۔

(۲۸/۲/۱۳۸۰)۔

۲۵

اللہ تعالی کے وعدے کے مطابق مسلمانوں کو خبر مل گئی تھی کہ وہ کافروں کی ایک جماعت پر فتح پائیں گے۔ یہ ۲ ہجری کا واقعہ ہے۔

قریش کا تجارتی کاروان ان کے مال و متاع کے ساتھ شام سے مدینے کی جانب آرہا تھا تا کہ مدینہ کے قریب سے گزرتے ہوئے مکہ پہنچ جائے۔ جب قریش پر عرب اور مسلمان جنگجوؤں کی مزاحمت کا خطرہ آشکار ہوا تو انہوں نے اپنے اموال کی حفاظت کےلئے مسلح افراد کو مدینہ کی طرف روانہ کیا۔مسلمانوں کی زیادہ خواہش یہ تھی کہ وہ مال و متاع کے حامل اس کا راوں کو روکیں جسکے پاس دفاع کا خاص بندوبست نہ تھا لیکن اللہ کا حکم یہ تھا کہ وہ قریشی کافروں کے مسلح جنگجوؤں کا سامنا کریں۔

’’وَ إِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّها لَكُمْ وَ تَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ‘‘

مسلمانوں کو معلوم تھا کہ وہ اس لڑائی میں فتح مند ہوں گے لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ کامیابی قریش کے مسلح لشکر کے مقابلے میں حاصل ہوگی۔

مسلمانوں کا خیال تھا کہ وہ شام سے لوٹنے والے تجارتی قافلے پر فتح پائیں گے لیکن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا راستہ تبدیل کردیا۔ آپ انہیں قریشی جنگجوؤں کے مقابلے پرلےگئے۔تجارتی کاروان مکہ چلا گیا لیکن بدر کے مقام پر مسلمانوں کا کفار کے ساتھ ٹکراؤہوا۔

۲۶

اللہ تعالی نے تجارتی کاروان کے ساتھ لڑائی کی بجائے مسلح لشکر کے ساتھ ٹکراؤ کی جانب مسلمانوں کا راستہ کیوں موڑا؟

وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی نظر قریبی چیز (تجارتی مال)پر تھی جبکہ ارادۂ الٰہی اور مشیت خداوندی میں ایک اعلی اور دور کا مقصد مدّ نظر تھا۔

’’وَ يُريدُ اللّٰهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِماتِهِ‘‘

اللہ چاہتا ہے کہ دنیا میں حق پابرجا ہوجائے۔

’’لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْباطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ‘‘

اللہ چاہتا ہے کہ باطل جو زائل ہونے والی چیز ہے اور فطری طور پر زوال پذیر ہے زائل ہوجائے۔ کیا اللہ کا فیصلہ یہ نہیں کہ اسلام تمام شیطانی و طاغوتی قوتوں اور مقتدر طاقتوں کو سرنگوں کردے گا ؟ کیا اللہ کا فیصلہ یہ نہیں کہ مسلمان

’’لِتَكُونُوا شُهَداءَ عَلَى النَّاس‏‘‘

کا مصداق بن جائیں؟ کیا خدا یہ نہیں چاہتا کہ اسلام کا پرچم انسانیت اور بشریت کی بلند چوٹیوں پرلہرائے؟لیکن کب ، کیسے اور کس طرح؟

اس وقت مسلمان یہ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ اس مالدار کاروان کا مال چھین لیں تو اسلام کا نونہال اور تازہ پودا طاقتور بن جائےگا۔ ان کا خیال درست تھا لیکن اس سے بلند و بالا اور گرانقدر سوچ کچھ اور تھی۔ وہ بالاتر سوچ یہ تھی کہ آج پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع ہونے والے مسلمان اس قدرقوی ہوچکے ہیں کہ وہ اپنی سوچ اوراپنے راستے کو کمزور طبقات، محروم معاشروں نیز تاریک دنیاؤں کے اندر پہنچا سکتے ہیں۔ اس تالاب میں اس قدر پانی ہے جو تالاب سے نکل کر بہنے لگے اور ان پودوں، درختوں اور خشک سرزمینوں کو سیراب کرسکے۔

یہ ہے وہ بالاتر سوچ۔ اگر خدا کو یہ مطلوب ہو کہ اسلام کو حقیقی فتح حاصل ہو، اسلام کا باعظمت دائرہ مستضعفین کے علاقوں تک پھیل جائے اور ظلم و ستم کے محلات یکے بعد دیگرے سرنگوں ہوتے جائیں تو اس کا آغاز کسی نہ کسی سرے سے ہونا چاہئے۔ صدر اسلام کے مخلص مسلمانوں کو معلوم نہیں تھا کہ ابتدا کہاں سے کی جائے۔تب اللہ نے انہیں سکھایا اور راستہ دکھادیا۔

اللہ نے قریش کے تجارتی اموال کے حصول کی خاطر نکلنے والے مسلمانوں کو ایک ناخواستہ جنگ میں جھونک دیا تا کہ وہ جنگی سازوسامان کی کمی کے باوجود مضبوط ایمان کی بدولت ایک ہی دن میں دشمن کو شکست دے کر اسلام کے سیلابی ریلے کےلئے بہاؤ، حرکت، پیشرفت اور نفوذ کا راستہ کھول دیں،قدرتِ الٰہی کی تقویت کی راہ ہموار کریں اور دشمنوں کو سمجھادیں کہ جی ہاں، اسلام زندہ قوت ہے، اسے سچ مچ تسلیم کرو۔

’’لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْباطِل‘‘ ۔

اے مسلمانو!ہم نے تمہاری پسند کے برخلاف تمہیں دشمن کے لشکر جرار کے سامنے لاکھڑا کیا تا کہ تم انہیں اپنی ضربت کا مزہ چکھاؤ اور انہیں قدرت خداوندی کا نظارہ کراؤ۔ ( ۱۱/۷/۱۳۵۹ ھ ش)

۲۷

جب اللہ کے فضل و کرم اور مسلمانوں کی ہمت کی بدولت جنگ بدر میں مسلمان مجاہدین کو فتح و نصرت حاصل ہوگئی تو دشمنوں نے جنگ احد کی تیاری کی کیونکہ وہ اس قدر جلد اپنی عداوت نہیں چھوڑ سکتے تھے۔

جنگ احد میں مسلمانوں نے اپنے اتحاد و اتفاق کی بدولت شروع میں دشمن کی صفوں کو پھر شکست سے دوچار کیا لیکن اس ابتدائی کامیابی کے بعد ان پچاس تیر اندازوں نے جو پہاڑی درّے کو دشمن کے حملے سے بچانے پر مامور تھے مال غنیمت جمع کرنے میں دوسروں سے پیچھے رہ جانے کے خوف سے اپنا محاذ چھوڑدیا اور وہ ان مسلمانوں کے ساتھ ملحق ہوگئے جو مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے اور دشمنوں سے غافل ہوگئے تھے۔ پہاڑی درے کی حفاظت پر مامور سپاہیوں میں سے صرف دس افراد وہاں رہ گئے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری نبھائی لیکن دشمن نے فرصت پا کر پیچھے سے پہاڑی کا چکر کاٹا اور اس درے سے مسلمانوں پر حملہ کیا جہاں کافی مقدار میں نگہبان موجود نہ تھے۔ اس حملے نے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا۔

اسلام کو شکست تو نہیں ہوئی لیکن اولاً اسلام کی کامیابی میں دیر لگی اور ثانیاً اسلام کے بعض بہادر او ر قابلِ قدرسردار مثلاً سید الشہداء حمزہ و غیرہ شہید ہوگئے۔

یہاں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو عبرت حاصل کرنے اور غور و فکر کرنے کی دعوت دی اور فرمایا: ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ ہم نے کہا تھا کہ تم دشمن پر فتح پاؤگے اور ایسا ہی ہوا۔

۲۸

تین خصوصیات

لیکن جب تمہارے اندر یہ تین خصوصیات اور خصلتیں وجود میں آئیں تو اس کے بعد تمہیں اس کی سزا ملی۔

یہ تین خصلتیں یہ ہیں:

الف:’’تَنازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ‘‘ ۔

تم نے آپس میں اختلاف کیا اور اتحاد و وحدت کو خیرباد کہہ دیا۔

ب:’’فَشِلْتُمْ‘‘ ۔

تم سست پڑگئے یعنی تم نے اپنے ابتدائی شور و شوق، فداکاری، آمادگی، عزم واستقامت اور پابرکاب رہنے کی عادت کو کھو دیا۔

ج:’’عَصَيْتُمْ ‘‘ ۔

تم نے اپنے پیغمبر و پیشوا اور ان لوگوں کی اطاعت سے اجتناب کیا جو تمہاے امور کو چلانے کے ذمہ دارتھے۔

جب تمہارے اندر یہ تین صفات پیدا ہوئیں تو دشمن کو موقع مل گیا کہ پیچھے سے تمہارے اوپر وار کریں۔ یوں اسلام کے عزیز ترین فرزندوں کو خاک و خون میں غلطان ہونا اور شہادت کا افتخار آمیز جام پینا پڑا نیز عالمِ اسلام کو ایک عظیم المرتبت شخصیت سے محرومی کا نقصان اٹھانا پڑا۔ (۱۹/۲/۱۳۵۹ھ ش)۔

۲۹

مشرکینِ مکہ آخری بار پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو جنگ لڑنے آئے وہ جنگ ِخندق تھی۔(یہ اہم جنگوں میں سے ایک ہے۔) دشمنوں نے اپنی پوری افرادی قوت جمع کی اور دوسروں سے بھی مدد لی اور کہا : ہم جائیں گے اور پیغمبر کے دوسو ، تین سو یا پانچ سو قریبی مددگاروں کا قتل عام کریں گے، مدینہ کو غارت کریں گے اور اطمینان سے واپس آئیں گے۔ پھر ان کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہےگا۔ دشمنوں کے مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حالات سے آگاہ ہوئے۔ چنانچہ آپ نے معروف خندق کھودی۔

چونکہ شہر مدینہ ایک جانب سے قابل نفوذ تھا لہذا اس طرف ایک خندق کھودی گئی جس کا عرض قریباً چالیس میٹر تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا اور بعض روایات کی رو سے موسم سرد تھا۔ اس سال بارش بھی نہیں ہوئی تھی اور لوگوں نے کچھ کمایا بھی نہیں تھا۔ اس لئے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔ سب سے زیادہ سخت کام پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انجام دیا۔

خندق کی کھدائی کے دوران جہاں آپ دیکھتے کہ کوئی تھک گیا ہے اور کام نہیں کرسکتا وہاں آپ آگے بڑھ کر اس سے کدال لےلیتے اور کام شروع کرتے تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)صرف حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ لوگوں کے درمیان بنفس نفیس موجود اور مصروفِ عمل تھے۔ کفار خندق کے پاس آگئے لیکن انہوں نے دیکھا کہ اسے پار نہیں کرسکتے۔ لہذا وہ مایوس، دلبرداشتہ ، نامراد اور خوار ہوکر واپس لوٹنے پر مجبور ہوئے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کام تمام ہوگیا۔ یہ ہمارے اوپر قریش مکہ کا آخری حملہ ہے۔ اس کے بعد اب ہماری باری ہے۔

۳۰

اب ہم ان کے پیچھے مکہ جائیں کے۔

اس کے دوسرے سال پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:

ہم عمرہ کےلئے آنا چاہتے ہیں۔ حدیبیہ کا واقعہ (جو ایک نہایت پرمغز اور پر معنی واقعہ ہے) اسی دوران پیش آیا۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)عمرہ کے ارادے سے مکہ کی جانب بڑھے۔

کافروں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ماہِ حرام میں مکہ کی طرف آرہے ہیں (حالانکہ یہ جنگ کا مہینہ نہیں تھا اور کفار بھی ماہِ حرام کا احترام کرتے تھے۔) اب کیا کیا جائے؟

کیا آپ کو آنے کا کھلا راستہ دیا جائے؟ تب اس کامیابی کا کیا علاج کیا جائے؟ کیا پیغمبر کا مقابلہ کیا جائے؟ کیا ماہِ حرام میں آپ سے جنگ کےلئے جائیں؟اگر جائیں تو پھر کیسے جنگ کریں؟۔

آخرکار انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جائیں گے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکہ آنے نہیں دیں گے۔ پھر اگر کوئی بہانہ ہاتھ آئے تو ان کا قتل عام کریں گے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بہترین تدبیر کے ساتھ ایسا اقدام کیا کہ دشمنوں نے آپ کے ساتھ صلح کی قرارداد پر دستخط کئے تا کہ آپ اس دفعہ لوٹ جائیں، البتہ اگلے سال آئیں اور عمرہ کریں۔

یوں پورے علاقے میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی تبلیغ کا راستہ کھل گیا۔

اگرچہ یہ واقعہ صلح ہے لیکن اللہ تعالی قرآن میں (اسے فتح قرار دیتے ہوئے )فرماتا ہے:

’’إِنَّا فَتَحْنا لَكَ فَتْحاً مُبيناً‘‘

ہم نے تیرے لئے فتح مبین کا راستہ کھولا ہے۔ اگر کوئی شخص تاریخ کے درست اور محکم مآخذ کی طرف رجوع کرے تو دیکھےگا کہ حدیبیہ کا واقعہ کس قدر عجیب ہے۔ دوسرے سال پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)عمرہ کےلئے گئے اور دشمنوں کی خواہش کے برخلاف آپ کی شان و شوکت میں روز بروز اضافہ ہوا۔ اس کے دوسرے سال (یعنی ہجرت کے آٹھویں سال) جب کفار عہد شکنی کرچکے تھے رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جا کر مکہ فتح کیا۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے تسلط و اقتدار کی غماز تھی۔ یوں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے حکمت وتدبیر، طاقت اور صبر و عزم کے ساتھ نیز کسی قسم کی بدحواسی اور ایک قدم پسپائی کے بغیر اس دوسرے دشمن کا بھی سامنا کیا۔ اس طرح آپ روز بروز اور لحظہ بہ لحظہ آگے بڑھتے گئے۔

تیسرا دشمن یہودی تھے۔

یہ وہ ناقابلِ اعتبار اغیار تھے جو وقتی طور پر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کےساتھ مدینہ میں زندگی گزار نے پر آمادہ ہوئے تھے لیکن اذیت رسانی، گڑبڑ اور خرابکاری سے باز نہیں آتے تھے۔ اگر آپ دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ سورہ ٔبقرہ کا ایک بڑا حصہ اور قرآن کی بعض دیگر سورتیں یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ثقافتی جہاد اور ٹکراؤ کے تذکرے سے عبارت ہیں۔ چونکہ یہود علمی و ثقافتی میدان میں آگے تھے اورمعلومات سے لیس تھے اس لئے وہ ضیعف الایمان لوگوں کے اذہان پر زیادہ اثر انداز ہوتے تھے، سازشیں کرتے تھے، لوگوںمیں مایوسی پھیلاتے تھے اور انہیں ایک دوسرے سے لڑاتے تھے۔ یہ لوگ منظم دشمن تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ حتی المقدور رواداری کا ثبوت دیا لیکن جب آپ نے دیکھا کہ یہ لوگ رواداری کے اہل نہیں ہیں تو آپ نے انہیں سزا دی۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بلاوجہ اور بلاتمہید ان لوگوں کا پیچھا نہیں کیا۔ ان تین قبائل میں سے ہر ایک نے ایک ایک کام ایسا انجام دیا جس کے جرم میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انہیں سزا دی۔ سب سے پہلے بنی قینقاع نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ خیانت کی چنانچہ حضرت پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے گئے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: یہاں سے چلےجاؤ۔آپ نے انہیں اس علاقے سے نکال دیا اور ان کے سارے وسائل مسلمانوں کے ہاتھ آگئے۔

دوسرا قبیلہ بنی نضیر کہلاتا تھا۔ انہوں نے بھی خیانت کی (ان کی خیانتوں کی داستان اہم ہے) لہذا پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا: اپنے اموال میں سے کچھ لےکر چلے جاؤ۔ یہ لوگ بھی مجبور ہوکر چلےگئے۔

تیسرا قبیلہ بنی قریظہ کہلاتا تھا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں امان دی اور وہیں رہنے کی اجازت عنایت کی۔ آپ نے انہیں نہیں نکالا۔ آپ نے ان سے عہد لیا کہ وہ جنگ خندق میں دشمنوں کو اپنے محلوں کی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے لیکن ان لوگوں نے بدعہدی کرتے ہوئے دشمن کے ساتھ معاہدہ کیا کہ ان کے ساتھ مل کر پیغمبر پر حملہ آور ہوں گے۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اپنا عہد نہیں نبھایا بلکہ انہوں نے دشمن کے پاس جاکر ان کے ساتھ مذاکرات کئے حالانکہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مدینہ کی ایک جانب (جو قابل نفوذ تھی) خندق کھودی تھی جبکہ بنی قریظہ کے محلات دوسری طرف واقع تھے اور انہیں دشمن کو وہاں سے گزرنے سے روکنا چاہئے تھا مگر انہوں نے دشمن کے ساتھ بات چیت کی اور دشمن کے ساتھ مل کر وہاں سے مدینہ میں داخل ہونے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی پشت میں خنجر گھونپنے کی سازش کیْ۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی سازش کے دوران ہی حقیقت سے آگاہ ہوئے۔ مدینے کا محاصرہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا۔ اس ایک مہینے کے دوران انہوں نے یہ خیانت کی تھی۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو ان کے ارادے کا علم ہوا تو آپ نے نہایت زیرکانہ تدبیر کے ساتھ وہ کام کیا کہ ان میں اور قریش میں ٹھن گئی۔ (یہ واقعہ تواریخ میں مرقوم ہے۔) آنحضرت ؐنے ایسا کام کیا جس کے باعث قریش اور بنی قریظہ کے درمیان موجود باہمی اعتماد ختم ہوگیا۔ پیغمبر کی بہت عمدہ جنگی وسیاسی چالوں میں سے ایک یہی تھی۔ آپ نے وقتی طور پر انہیں ٹھنڈا کردیا تا کہ وہ نقصان نہ پہنچا سکیں۔ بعد میں جب قریش اور ان کے اتحادی شکست کھاکر خندق سے دور ہوگئے اور مکہ کی طرف لوٹ گئے تو پیغمبر مدینہ واپس آئے۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جس دن مدینہ لوٹے اسی دن آپ نے ظہر کی نماز پڑھنے کے بعد فرمایا:ہم عصر کی نماز بنی قریظہ کے قلعوں کے سامنے پڑھیں گے۔ چلو وہاں چلیں۔ آپ نے ایک شب بھی توقف نہیں فرمایا بلکہ جاکر ان کا محاصرہ کیا۔ پچیس دنوں تک ان کے درمیان محاصرے اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے تمام جنگجو مردوں کو قتل کردیا کیونکہ ان کی خیانت عظیم تر تھی۔چونکہ وہ قابل ِاصلاح نہ تھے لہذا پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے ساتھ یہ سلوک کیا۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے تدبیر، طاقت،جہد مسلسل اور بلند انسانی اخلاق کے ساتھ یہودیوں کی دشمنی سےمسلمانوں کو نجات دی (خاص کر بنی قریظہ کے واقعے میں نیز اس سے قبل بنی نضیر کے معاملے میں اور اس کے بعد خیبر کے یہودیوں کے واقعے میں)۔ان تمام واقعات میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی عہد شکنی نہیں کی یہاں تک کہ اسلام کے دشمن بھی قبول کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان حوادث میں کوئی بدعہدی نہیں کی بلکہ خود یہودیوں نے بدعہدی کی۔

۳۱

چوتھا دشمن:

یہ منافقین تھے۔ منافقین لوگوں کے اندر چھپے ہوئے تھے۔یہ لوگ زبان سے ایمان لاچکے تھے لیکن اندر سے ایمان نہیں رکھتے تھے۔ یہ لوگ پست خصلت، عناد سے لبریز اور تنگ نظر تھے نیز دشمن کے ساتھ تعاون کےلئے تیار رہتے تھے۔ البتہ یہ عناصر غیرمنظم تھے۔ یہودیوں اور ان کے درمیان یہی فرق تھا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دشمنوں کے ساتھ جو منظم تھے اور کاری ضرب لگانے کی خاطر حملہ آور ہونے کےلئے آمادہ تھے وہ سلوک کیا جو آپ نے یہودیوں کے ساتھ کیا اور انہیں امان نہیں دی۔ اس کے برعکس غیر منظم دشمنوں کو برداشت کیا اگرچہ وہ انفرادی طور پر ہٹ دھرم، کینہ ور اور باطنی خباثتوں کے حامل ہوں۔ عبد اللہ بن ابی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بدترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی زندگی کے آخری سال تک یہ شخص زندہ رہا لیکن آپ نے اس کے ساتھ براسلوک نہیں کیا۔اگرچہ سب کو معلوم تھا کہ وہ منافق ہے مگر آپ نے اس کے ساتھ نرمی برتی اور باقی مسلمانوں جیسا سلوک کیا۔ آپ بیت المال سے اس کا حصہ دیتے رہے۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس کا تحفظ برقرار رکھا اور اس کی حرمت کی رعایت کی حالانکہ ان لوگوں نے متعدد بار خباثت کا ثبوت دیا تھا۔ سورۂ بقرہ میں بھی انہی منافقین کی طرف کافی اشارہ ہوا ہے۔

جب ان منافقین نے منظم کوششیں کیں تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا پیچھا کیا۔ انہوں نے مسجد ضرار کے نام سے ایک مرکز بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسلامی حکومت کے باہر (ابوعامر راہب رومی سے) رابطہ برقرار کیا اور اس بات کی کوشش کی کہ روم سے پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی قلمرو پر لشکر کشی ہو۔ اس وقت پیغمبر نے ان کا پیچھا کیا ،ان کی تعمیر کردہ مسجد تباہ کی اور اسے جلادیا۔ آپ نے فرمایا: یہ مسجد نہیں بلکہ خدا، مسجد اور لوگوں کے خلاف سازش کا مرکز ہے۔

اسی طرح جب انہی منافقین کی ایک جماعت نےاپنا کفر ظاہر کیا اور مدینہ سے نکل کر کسی جگہ لشکر تشکیل دیا تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا مقابلہ کیا اور فرمایا: اگر یہ لوگ نزدیک آئیں تو ہم ان کی طرف جائیں گے اور ان سے جنگ کریں گے۔ادھر منافقین مدینہ کے اندر بھی موجود تھے لیکن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔ خلاصہ یہ کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے دشمنوں کی تیسری قسم کے ساتھ فیصلہ کن منظم کاروائی کی لیکن چوتھی قسم کے ساتھ رواداری برتی کیونکہ یہ لوگ منظم نہیں تھے اور ان کا خطرہ انفرادی نوعیت کا تھا۔البتہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گاہے اپنے عمل سے انہیں شرمندہ کرتے تھے۔

۳۲

پانچواں دشمن:

یہ وہ دشمن ہے جو ہر مسلمان اور مومن کے اندر موجود تھا۔ یہ دشمن تمام دشمنوں سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ دشمن ہمارے اندر بھی موجود ہے۔یہ کیا ہے؟ نفسانی خواہشات، ذاتی مفادات، انحراف پسندی، گمراہی کی طرف میلان اور ان لغزشوں سے لگاؤ جن کا راستہ خود انسان ہموار کرتا ہے۔پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دشمن کا بھی سخت مقابلہ کیا۔ البتہ تلوار سے نہیں بلکہ باطنی تربیت ، تزکیۂ نفس، تعلیم و تربیت اور تنبیہ کے ذریعے۔ اسی لئے جب لوگ بےتحاشا سختیاں برداشت کرنے کے بعد کسی جنگ سے واپس لوٹے تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:تم لوگ چھوٹے جہاد سے لوٹے ہو۔ اب بڑے جہاد کی تیاری کرو۔ لوگوں نے تعجب کے ساتھ پوچھا: یا رسول اللہ! بڑا جہاد کیا ہے؟ ہم نے تو یہ عظیم تکلیف دہ جہاد انجام دیا ہے۔ کیا اس سے بھی بڑا جہاد موجود ہے؟ فرمایا: ہاں تمہارے اپنے نفس کے ساتھ جہاد ۔

اگر قرآن فرماتا ہے:

’’الَّذينَ في‏ قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ ‘‘

تو اس سے مراد منافقین نہیں ہیں۔ البتہ بعض منافقین بھی اس زمرے میں آتے ہیں لیکن ہر وہ شخص جو

’’ الَّذينَ في‏ قُلُوبِهِمْ مَرَض‘‘

‏(یعنی دل کی بیماری رکھنے والوں) کا مصداق ہے اس کا منافق ہونا ضروری نہیں۔ گاہے مومن بھی اس بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے البتہ جب اس کا دل بیمار ہو۔ دل کی یہ بیماری کیا ہے؟

اس سے مراد اخلاقی کمزوریاں،شخصیت کو لاحق نواقص، ہوسرانی اور خواہشاتِ نفسانی کی اقسام ہیں۔ اگر آپ ان کمزوریوں کا راستہ نہ روکیں اور ان کا بنفس نفیس مقابلہ نہ کریں تو یہ آپ کے ایمان کو چھین لیں گی اور آپ کو اندر سے کھوکھلا بنادیں گی۔

جب دل کی بیماری آپ کے ایمان کو زائل کردے گی تو آپ کا دل بے ایمان ہوجائےگا اگرچہ آپ بظاہر با ایمان ہوں۔ اس صورت میں اس قسم کا انسان منافق کہلائےگا۔اگر خدا نخواستہ میرا اور آپ کا دل ایمان سے خالی ہوجائے تو ہم اعتقادی اور ایمانی احساسِ ذمہ داری اورمیلانات سے عاری ہوجائیں گے اگرچہ بظاہر ہم ایماندار نظر آئیں اور ہماری زبانوں پر حسب ِسابق ایمانی باتیں گردش کرتی رہیں۔ یہ ہے نفاق۔یہ بھی خطرناک ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

’’ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذينَ أَساؤُا السُّوا ٓ ى‏ أَنْ كَذَّبُوا بِآياتِ اللّٰهِ وَ كانُوا بِها يَسْتَهْزِءُونَ‘‘ ۔

جن لوگوں نے برا کام کیا ہے ان کا انجام بدترین ہوگا۔ وہ ’’بدترین‘‘ نتیجہ کیا ہے؟

آیات الٰہی کا انکار۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے اس عظیم ذمہ داری (راہِ خدا میں انفاق) کو نہیں نبھایا ان لوگوں کے دلوں میں خدا کے ساتھ بدعہدی کرنے کی وجہ سے نفاق پیدا ہوگیا۔

’’فَأَعْقَبَهُمْ نِفاقاً في‏ قُلُوبِهِمْ إِلى‏ يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِما أَخْلَفُوا اللّٰهَ ما وَعَدُوهُ وَ بِما كانُوا يَكْذِبُونَ‘‘ ۔

اسلامی معاشرے کےلئے بہت بڑا خطرہ یہی ہے۔ آپ تاریخ میں جہاں جہاں اسلامی معاشرے کے درمیان انحراف کا مشاہدہ کرتے ہیں وہاں انحراف کی وجہ یہی ہے۔ باہر کا دشمن حملہ کرسکتا ہے، سرکوب کرسکتا ہے، شکست دے سکتا ہے اور بھگا سکتا ہے لیکن نابود نہیں کرسکتا۔ آخر کار ایمان باقی رہ جاتا ہے اور کسی نہ کسی جگہ دوبارہ سر اٹھا تا اور سرسبز و شاداب ہوجاتا ہے لیکن اگر باطنی دشمن کا یہ لشکر انسان پر حملہ کردے اور اندر سے انسان کو کھوکھلا کردے تو وہ سیدھے راستے سے منحرف ہوجاتا ہے۔ ہر جگہ انحراف کی وجہ یہی ہے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس دشمن کا بھی مقابلہ کیا۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تدبیر اور سرعت کے ساتھ عمل کیا۔ آپ نے کسی بھی مسئلے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ذاتی طور پر قناعت و پاکیزگی کے مالک تھے۔ آپ کی شخصیت میں کوئی کمزور پہلو نہیں تھا۔ آپ معصوم اور پاکیزہ تھے۔ یہ بجائے خود اثرگذاری کا اہم ترین عامل ہے۔ عمل کی تاثیر کا دائرہ زبان کی تاثیر سے کئی گنا زیادہ عمیق اور وسیع ہوتا ہے۔

آپ کا طرزِ عمل فیصلہ کن اور صریح ہوتا تھا۔ آپ نے کبھی دو پہلوگفتگو نہیں کی۔ البتہ جب آپ دشمن سے روبرو ہوتے تو دقیق سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے تھے اور دشمن کو اشتباہ میں ڈال دیتے تھے۔ بہت سے مواقع پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمن کو عسکری اور سیاسی لحاظ سے اچانک زیر کیا۔ اس کے برعکس آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اپنے لوگوں اورمومنوں کے ساتھ ہمیشہ صاف، صریح، شفاف اور واضح انداز میں گفتگو کرتے تھےاور سیاست بازی نہیں کرتے تھے۔ ضروری مواقع پر نرمی کا مظاہر کرتے تھے جیسا کہ عبداللہ بن ابی کے ساتھ کیا۔یہ واقعات تفصیل طلب ہیں۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے لوگوں اور گروہوں کے ساتھ (یہاں تک اپنے دشمنوں بلکہ کفار مکہ کے ساتھ بھی) اپنے عہد و پیمان کو ہرگز نہیں توڑا۔ سب کو علم تھا کہ جب وہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ساتھ عہد باندھیں گے تو آپ پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔

دوسری طرف سے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خدا کے ساتھ اپنے راز و نیاز اور تضرع کا سلسلہ نہیں چھوڑا بلکہ خدا کے ساتھ اپنے ارتباط کو دن بدن مستحکم کیا۔ میدان جنگ کے درمیان اپنے افراد کو منظم کرتے وقت اور انہیں ترغیب دیتے وقت آپ بذات خود مسلح ہوتے تھے اور فیصلہ کن کمانڈ کرتے تھے یاانہیں طریقہ کار سکھاتے تھے۔ آپ دو زانو ہوکر اللہ کے حضور دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے۔آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آنسو بہاتے اور خدا کے حضور یوں گفتگو کرتے تھے: ’’پروردگارا! تو ہماری مدد فرما۔ پروردگارا! تو ہماری پشت پناہی کر۔ اے رب! تو خود اپنے دشمنوں کو دفع فرما۔‘‘ نہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دعا اس بات کی موجب بنتی تھی کہ آپ اپنی طاقت سے کام نہ لیں اور نہ طاقت و قوت سے استفادہ اس بات کا موجب بنتا تھا کہ آپ اللہ کے حضور توسل، تضرع اور راز و نیاز سے غافل ہوجائیں۔ آپ ان دونوں پر توجہ دیتے تھے۔ آپ اپنے کینہ ور دشمن کے مقابلے میں ہرگز تردّد اور خوف سے دوچار نہیں ہوئے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام جو مظہر شجاعت ہیں فرماتےہیں:

جب جنگوں میں حالات سنگین ہوجاتے تھے اور (آجکل کی اصطلاح میں) مورال کمزور ہوجاتا تھا تو ہم پیغمبر کے پاس پناہ لیتے تھے۔ جب بھی کوئی شخص مشکل مقامات پر کمزوری محسوس کرتا تو وہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں پناہ لیتا تھا۔

آپ نے دس سال حکومت کی لیکن اگر ہم یہ چاہیں کہ ان دس سالوں کے اندر انجام پانے والے کاموں کو ایک بہت ہی فعال گروہ کے حوالے کریں تا کہ وہ انہیں انجام دیں تو وہ سوسالوں میں بھی اس قدر کام، کوشش اور خدمت انجام نہیں دے سکیں گے۔

اگر ہم اپنے حالیہ کاموں کا مقائسہ پیغمبر کے ہاتھوں انجام پانے والے کاموں سے کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کیا معجزہ کیا تھا۔ اُس حکومت کو چلانا، اُس معاشرے کی تشکیل اور اُس طرح کےنمونے کا قائم کرنا پیغمبر کے معجزات میں شامل ہیں۔لوگ دس سالوں تک دن رات آپ کےہمراہ زندگی گزارتے رہے۔ وہ آنحضرت کے گھر جاتے تھے اور آپ ان کے گھروں میں آتے تھے، مسجد میں ساتھ ہوتے تھے، باہم راستہ چلتے تھے، باہم سفر کرتے تھے، سوتے تھے، بھوک سہتے تھے اور باہم خوشی مناتے تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے ماحول میں خوشی کا عنصر بھی شامل تھا۔ آپ لوگوں کے ساتھ مزاح فرماتے تھے،دوڑ لگاتے تھے اور خود بھی اس میں شرکت فرماتے تھے۔ جن لوگوں نے آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کےساتھ دس سال گزارے تھے ان کے دلوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی محبت اور آپ پر ایمان کی مقدار دن بدن بڑھتی جاتی تھی۔

فتح مکہ کے وقت ابوسفیان حضرت عباس (جو پیغمبر کے چچا تھے)کی مدد سے چھپ کر آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی لشکر گاہ میں آیا تا کہ امان حاصل کرے۔ صبح کے وقت اس نے دیکھا کہ پیغمبر وضو فرمارہے ہیں اور لوگ آپ کے گرد جمع ہیں تاکہ آپ کے چہرے اور ہاتھوں سے ٹپکنے والے پانی کے قطرے ایک دوسرے سے اچک لیں۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا: میں نے کسریٰ اور قیصر (دنیا کے دو عظیم اور مقتدر بادشاہوں) کو دیکھا ہے لیکن ان کی اس قدر عزت نہیں دیکھی۔ جی ہاں معنوی عزت ہی حقیقی عزت ہے۔

’’وَلِلَّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِلْمُؤْمِنينَ‘‘

اگر مومنین بھی اس روش کو اپنائیں تو وہ قابل عزت ہیں۔

(۲۸/۲/۱۳۸۰ھ ش)۔

۳۳

اسلامی نظام کو محکم کرنے کی تدبیر:

غدیر خم کا واقعہ اسلام کا ایک تاریخ ساز اور بہت اہم واقعہ ہے۔ اس واقعے کو دو زاویوں سے پرکھا جاسکتا ہے۔ ایک زاویہ شیعوں سے مخصوص ہے جبکہ دوسرا زاویہ تمام اسلامی فرقوں سے مربوط ہے۔ دوسرے زاویے کے نقطہ نظر سے دنیا کے تمام مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ اور احساس بیدار ہونا چاہئے کہ عید غدیر (جو اس عظیم واقعے کی یاد دلاتی ہے) فقط شیعوں سے مربوط نہیں ہے۔

جیسا کہ عرض ہوچکا پہلا زاویہ شیعوں سے مختص ہے کیونکہ غدیر ِخم میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو اپنا خلیفہ معین فرمایا۔ اس دن کچھ لوگوں نے رسول خدا سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! یہ اعلان آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟

فرمایا: ’’من اللَّهِ و رسولِهِ ‘‘

یعنی یہ خدا کی طرف سے بھی ہے اور میری طرف سے بھی۔

اہل تشیع واقعہ غدیر کو اس لحاظ سے اہمیت دیتے ہیں کہ شیعوں کا عقیدہ (یعنی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی بلافصل خلافت) دیگر تمام دلائل سے زیادہ اس واقعے پر موقوف ہے۔ یاد رہے کہ شروع سے آج تک تاریخ کے تمام ادوار میں بہت سی کتابوں کے اندر اس واقعے سے استدلال و استنباط کا سلسلہ رائج اورجاری و ساری رہا ہے۔ میرا ارادہ یہ نہیں ہے کہ میں اس موضوع پر جس کے بارے میں ہزاروں زبانوں اور ہاتھوں نے کہا اور لکھا ہے مزید خامہ فرسائی کروں۔

اس واقعے کے دوسرے زاویے کی اہمیت پہلے زاویے سے کم نہیں ہے۔ دوسرا زاویہ شیعہ و سنی دونوں کا مشترکہ موضوع ہے جس کی نسبتاً بیشتر وضاحت کروں گا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ اور جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مقامات کے مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہجرت کے دسویں سال حج کیا۔ اس سفر میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اسلام کی سیاسی، عسکری، اخلاقی اور اعتقادی تعلیمات کو بیان کرنے کےلئے حج کے موقعے سے بھرپور اور شایان شان استفادہ کیا۔

منقول ہے کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے منیٰ میں دوبار خطاب فرمایا۔ ان میں سے ایک کا تعلق بظاہر دسویں دن سے یا اس دن کے قریبی اوقات سے ہے

جبکہ دوسرا خطاب ایام ِتشریق کے اختتام پر کیا گیا جس کی تصریح موجود ہے۔

میری نظر میں یہ دو الگ الگ خطابات ہیں نہ کہ ایک تقریر۔

ان تقریروں میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے تقریباً وہ تمام اہم نکات بیان فرمائے ہیں جن پر مسلمانوں کو گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اکثر نکات سیاسی ہیں۔ انسان بخوبی درک کرسکتا ہے کہ آج عالم اسلام میں جو لوگ حج کو سیاسی مسائل سے جدا قرار دیتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ حج میں فقط مرسوم عبادات سے سروکار رکھنا چاہئے نیز یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سیاسی کام حج کے دائرے سے خارج ہے وہ تاریخ ِاسلام اور سیرت ِنبوی سے کس قدر بیگانہ اور دور ہیں۔

ان تقریروں میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو نکات بیان فرمائے ہیں وہ شیعہ و سنی کتب میں مذکور ہیں۔ ان نکات کا اجمالی تذکرہ کچھ یوں ہے۔

الف: آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جہاد کا ذکر کیا۔ آپ نے کفار و مشرکین کے ساتھ جہاد کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کلمہ

’’لا إله إلّا اللّه‘‘

ہمہ گیر نہ بن جائے۔ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تقریروں میں اسلامی اتحاد کے بارے میں کچھ نکات بیان فرمائے اور تصریح کی کہ مسلمانوں کو خانہ جنگی سے احتراز کرنا چاہئے۔ آپ نے مسلمانوں کے اتحاد و انسجام پر زور دیا۔ دور جاہلیت کے اقدار کے بارے میں صاف صاف فرمایا کہ اسلام کی نظر میں ان اقدار کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

’’وَ كُلُّ مَأْثُرَةٍ فِي‏ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمَيَّ‏ هَاتَيْن ‘‘ ۔

آگاہ رہو کہ میں جاہلیت کےجملہ اقدار کو اس وقت اپنے دونوں پیروں تلے روندتا ہوں۔

آپ نے جاہلی اقدار کی مکمل نفی کی۔

ایام جاہلیت سے مسلمانوں کے درمیان جو مالی اختلافات باقی چلے آرہے تھے( مثلاً کسی نے کسی اور کو قرض دیا ہو اور اب اس سے اپنے مال کے سود کا طلبگار ہو و غیرہ) ان سب کا خاتمہ کردیا:

’’ا َلَا وَ كُلُّ رِباً فِي‏ الْجَاهِلِيَّةِ فَهَو تَحْتَ قَدَمَيَّ‏ هَاتَيْن‘‘ ‏

سب سے پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس کو ملنے والا سود ہے۔ (عہد جاہلیت میں وہ قرض دیتے تھے اور بہت سے لوگوں سے سود کے طلبگار رتھے۔) ف

رمایا: میں ان سب کو ختم کرتاہوں، منسوخ کرتاہوں۔

آپ نے تکرار کے ساتھ تقویٰ کو اسلامی اقدار میں سب سے برتر قرار دیا اور تصریح کہ کسی شخص کو کسی دوسرے پر کوئی ترجیح یا برتری حاصل نہیں مگر تقویٰ اور پرہیزگاری کے طفیل۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مسلمان پیشواؤں کے ساتھ خیرخواہی یعنی سیاسی مسائل میں حصہ لیتے ہوئے حکمرانوں اور پیشواؤں کو مشورہ دینے کی اہمیت بیان کی اور اسے ایک فریضہ قرار دیا۔ آپ نے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری قرار دی کہ وہ مسلمان حکمرانوں کو اپنے مخلصانہ مشوروں اور نظریات سے آگاہ کریں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تقریروں میں عالم اسلام کے اہم سیاسی ومعاشرتی مسائل کو بیان فرمایا۔ آپ نے انہی خطبات میں’’حدیث ثقلین‘‘کا بھی ذکر کیا۔ حدیث ثقلین میں آپ نے فرمایا: میں دنیا سے جاتے وقت تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں:

’’کتاب الله و عترتی‘‘

یعنی قرآن اور میرے اہل بیت کو۔

پھر آپ نے اپنی شہادت کی دو انگلیوں کو ملاتے ہوئے فرمایا:وہ دونوں ان دونوں کی طرح ہیں۔ شہادت کی انگلیوں میں کوئی تفاوت نہیں ہے۔ پھر آپ نے ایک ہاتھ کی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو اوپر اٹھایا اور فرمایا: فرمایا: ان دونوں کی طرح نہیں ہیں۔

فرمایا: میں قرآن اور عترت کو ان دونوں کی طرح نہیں سمجھتا کیونکہ شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں سےایک انگلی دوسری سے زیادہ لمبی ہے بلکہ قرآن اور عترت شہادت کی دوانگلیوں کی طرح ہیں جن میں سے کسی کو دوسری پر ترجیح حاصل نہیں ہے ۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے عترت (اہل بیت) کا مسئلہ بیان کیا۔

اعمالِ حج کی انجام دہی کے بعد مسلمان فوراً مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ چلتے چلتے تین راستوں کے ایک سنگم پر جہاں سے مدینہ اور یمن کے قافلے جدا ہوتے تھے رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ٹھہرگئے۔ اس جگہے کا نام غدیر خم تھا۔ اس واقعے کے عینی گواہوں اور حاضرین کی روایت کے مطابق ہوا اس قدر گرم تھی کہ اگر گوشت کو زمین پر ڈال دیاجاتا تو کباب ہوجاتا۔

اس حالت میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ایک اونچی جگہ کھڑے ہوتے ہیں تا کہ لوگ بتدریج جمع ہوجائیں۔

جب آپ نے دیکھا کہ سب جمع ہوچکے ہیں تو مسئلہ ولایت:

’’مَنْ‏ كُنْتُ‏ مَوْلَاهُ‏ فَهَذَا عَلِيٌّ مَوْلَاهُ‏‘‘

کا اعلان فرمایا۔ آپ نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اس طرح بلند کیا کہ سب دیکھ لیں۔

متعدد احادیث میں مذکور ہے کہ جب ان دونوں نے ہاتھ بلند کئے تو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بغل کی سفیدی اور علی ابن ابی طالب کے بغل کی سفیدی نظر آنے لگی جو سب کو دکھائی دیا۔ یہ اس واقعے کا اجمالی بیان ہے۔

واقعہ غدیر کا وہ پہلو جو میرے پیش نظر ہے (یعنی بین الاقوامی اسلامی پہلو اور اسلامی فرقوں کے درمیان مشترک زاویہ جو صرف شیعوں سے مختص نہیں ) یہ ہے کہ اگر بالفرض پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس اعلان میں (جو یقیناً ایک حقیقت ہے اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے صادر ہوچکا ہے) اس بات کے خواہاں نہ ہوتے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کریں تب بھی کم از کم یہ تو ثابت ہے کہ آپ یہ چاہتے تھے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آل محمدعلیہم السلام کے ساتھ مسلمانوں کے عمیق روابط اور موالات کو اس اعلان کے ذریعے استحکام بخشیں اور ثابت کریں۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عترت کو قرآن کا ہم پلہ کیوں قرار دیا؟

آپ نے منیٰ کے خطبے میں اور حدیث ثقلین میں (جو بظاہر کئی بار رسول سے صادر ہوئی ہے) قرآن کے ساتھ اہل بیت کا ذکر کیوں کیا؟

نیز غدیر اور واقعہ غدیر میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت پر اتنا زور کیوں دیا؟ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس رابطے کو ثابت کرنا کیوں چاہتے تھے؟

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)آئندہ نسلوں اور سارے زمانوں کے لوگوں کے لئے اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے کامل انسانی نمونوں کا تعارف کرانا چاہتے تھے۔ آپ انسانِ کامل کی عملی،جیتی جاگتی اور مجسم تصویر ناقابل تردید اور واضح صورت میں تمام انسانوں کے سامنے رکھنا چاہتے تھے کہ دیکھو اسلامی تربیت اس نہج پر ہونی چاہئے۔

ایک صحیح مسلمان کی شخصیت ان کامل نمونوں کے راستے پر چل کر ہی پنپ سکتی ہے۔ ان ہستیوں کی طہارت و پاکیزگی، ان کا علم و تقویٰ ، ان کی صحیح کارکردگی، عبودیت، اسلامی مسائل سے کامل آشنائی، اسلامی اہداف کے حصول کی خاطر ان کی بےخوف فداکاری اور ان کا جذبۂ قربانی سب کے سامنے واضح و آشکار ہیں۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انسانیت کے کامل نمونے کے طور پر امیرالمؤمنین علیہ السلام کا تعارف کرایا تا کہ (اُس زمانے نیز دیگر زمانوں اور نسلوں کے) لوگ آپ علیہ السلام کے ساتھ اپنا مضبوط رشتہ قائم کریں اور برقرار رکھیں۔

مان لیتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد عملی طور پر آپ کو بلافصل حکومت نہیں ملی اور پچیس سال بعد ظاہری خلافت ملی لیکن آخر کار مل تو گئی اور آپ کا منصب ِامامت سب کے ہاں مسلّمہ ہوگیا اور تمام مسلمانوں نے آپ کو معاشرے کے پیشوا کے طور قبول کرلیا۔

سارے مسلمان آپ کو خلیفۂ رسول کے طور پر قبول کرتے ہیں(البتہ بعض لوگ آپ کو رسول کا بلافصل خلیفہ مانتے ہیں جبکہ بعض مسلمان کہتے ہیں کہ آپ پچیس سال بعد خلیفہ بنے)۔بہرحال سارے مسلمان آپ کو جانشین ِرسول مانتے ہیں۔ بنابریں آپ کی شخصیت کو اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے انسانِ کامل اور نمونے کے طور پر ہمیشہ زندہ و تابندہ رہنا چاہئے نیز آپ کے ساتھ تمام مسلمانوں کا فکری، اعتقادی، جذباتی اور عملی رابطہ بھی ابد تک قائم و دائم رہنا چاہئے۔

اس نقطہ نگاہ سے امیرالمؤمنین علیہ السلام صرف شیعوں کے پیشوا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔ یہ بات صرف امیرالمؤمنین علیہ السلام تک محدود نہیں بلکہ تمام اہل بیت طاہرین اور ائمہ معصومین علیہم السلام (جو امیر المومنین علیہ السلام کی اولاد ہیں)بھی چونکہ عترت میں شامل ہیں اس لئے انہیں بھی مسلمانوں کے ہاں اسلامی معیاروں پر پورا اترنے والے کامل انسانی نمونوں کے طور پر ہمیشہ باقی رہنا چاہئے۔ یہ ایک نکتہ تھا۔

ثانیاً :رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عترت کو قرآن کا ہم پلہ قرار دے کر نیز مسلمانوں اور عترت کے درمیان ارتباط کو ضروری قرار دے کر در حقیقت قرآنی تعلیمات میں تحریف اور قرآن کے اصلی مفاہیم سے انحراف کے خطرے کو بھی واضح کردیا۔

بالفاظ دیگر آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے سمجھادیا کہ جب اقتدار اور خزانوں کے مراکز اپنے مفادات کی خاطر اسلامی تعلیمات میں تحریف کریں، قرآن کی غلط تفسیر کریں، مسلمانوں کو گمراہ کریں نیز لوگوں کو اسلامی دستور کے فہم و ادراک سے محروم کر دیں تو اس وقت وہ مرجع، وہ محور اور وہ مرکز جو لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کرے، صحیح معرفت اور مفاہیم سے آشنا کرے، لوگوں کو گمراہی سےنجات دے اور لوگوں پر بھی اس کی اطاعت واجب ہو وہ عترتِ رسول ہے۔

یہ وہی چیز ہے جس کی آج عالمِ اسلام کو اشد ضرورت ہے۔ آج سارے مسلمانوں کو (خواہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل اور آپ کی معصوم اولاد کی امامت کو مانتے ہوں یا نہ مانتے ہوں)اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اہل بیت رسول کے ذریعے حاصل ہونے والے اسلامی معارف سے استفادہ کریں۔

یہ اور بات ہے کہ اہل تشیع اس حدیث کی رو سے خلافت ِبلافصل کو قطعی اور برحق سمجھتے ہیں۔ جو مسلمان اس عقیدے کے پابند نہیں (یعنی برادرانِ اہلِ سنت) انہیں بھی چاہئے کہ اہل بیت رسول علیہ السلام اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ اپنے فکری، عقلی، اعتقادی اور جذباتی رابطے کو قطع نہ کریں۔

بنابریں واقعہ غدیر اس دوسرے زاویے یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور عترت رسول کے ساتھ تمام مسلمانوں کے رابطے کے زاویے سے تمام مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے۔ (۲۳/۵/۱۳۶۶ھ ش)۔

۳۴

غدیر کا مسئلہ صرف ایک تاریخی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اسلام ایک جامع و کامل دین ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس سال کے عرصے میں تعصبات و خرافات سے آلودہ غیر مہذب معاشرے کو اپنی عظیم کوششوں سے نیز اپنے اصحاب ِباوفا کی مدد سے ایک مترقی اسلامی معاشرے میں تبدیل کیا تھا

اب اگر آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان دس سالوں کے بعد آنے والے زمانے کے لئے (نعوذ باللہ)کچھ نہ سوچا ہو اور اس سلسلے میں امت کو کوئی لائحۂ عمل نہ دیا ہو تو آپ کا کام نامکمل محسوب ہوگا۔ عہدِ جاہلیت کے تعصبات کی جڑیں اس قدر گہری تھیں کہ ان کو جڑ سے اکھاڑنے کےلئے شایدطویل سالوں کا عرصہ درکار تھا۔ ظاہری حالات ٹھیک تھے اور لوگوں کا ایمان بھی درست تھا لیکن سب کی سطح یکساں نہیں تھی۔

ایسے لوگ بھی تھے جو رحلت رسول سے ایک سال قبل،کچھ چھ ماہ قبل اور بعض دوسال قبل مسلمان ہوئے تھے۔

وہ بھی یوں کہ یہ لوگ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عسکری قوت و ہیبت کے ساتھ اسلام کی دلکش تعلیمات کے باعث دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ سارے لوگ دورِاول کے ٹھوس اور گہرے مسلمانوں کی طرح نہ تھے۔

اس نوخیز معاشرے کی گہرائیوں سے جاہلی اثرات کو پاک کرنے اور عصر رسول کے آخری دس سالوں کے بعد اسلام کے حقیقی راستے کو صحیح معنوں میں محفوظ رکھنے کےلئے ایک عاقلانہ تدبیر کی ضرورت تھی۔ اگر یہ تدبیر عمل میں نہ آتی تو کام ناقص رہ جاتا۔

سورۂ مائدہ کی آیت مبارکہ میں اللہ کا یہ ارشاد:

’’اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي‘‘

اسی نکتے کی طرف صریح اشارہ ہے کہ یہ نعمت (یعنی اسلام کی نعمت، ہدایت کی نعمت، عالم بشریت کو صراط مستقیم سے آشنا کرنے کی نعمت) اس وقت کامل اور پوری ہوگی جب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کا لائحۂ عمل معین ہو۔

یہ ایک فطری اور بدیہی امر ہے۔

غدیر میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہی کام انجام دیاتھا۔

چونکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت (آپ کی ایمانی، اخلاقی، انقلابی اور عسکری شخصیت نیز مختلف طبقات کے ساتھ سلوک کے لحاظ سے آپ کی شخصیت) سب سے ممتاز اور بےمثال تھی اس لئے آنحضرت نے آپ کو منصوب فرمایا اور لوگوں کو آپ کی متابعت کا حکم دیا۔

یہ فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتی سوچ نہیں بلکہ اللہ کی رہنمائی اور دستور خداوندی کا نتیجہ تھا۔

اللہ نے آپ کو منصوب کیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح نبی مکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دیگر ساری باتیں اور آپ کی باقی رہنمائیاں الہامِ الٰہی پر مبنی تھیں۔

یہ اللہ کی طرف سے پیغمبر پر نازل ہونے والا صریح دستور تھا جسے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عملی جامہ پہنایا۔ یہ ہے مسئلۂ غدیر۔ غدیر اسلام کی جامعیت اور دور اندیشی کی علامت ہے۔

امت ِمسلمہ کی ہدایت اور قیادت کی شرط کیا ہے؟ وہی باتیں جن کا مظہر حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت ہے یعنی تقویٰ، دینداری، دین کی مکمل پابندی، خدا اور راہِ حق کےعلاوہ کسی چیز کو مد نظر نہ رکھنا اور اللہ کی راہ میں بےخوف ہوکر حرکت کرنا نیز علم و عقل، حکمت و تدبیر اور عزم و ارادے کا حامل ہونا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے انہی خصوصیات کی بناپر حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کو منصوب فرمایا۔

(۱۸/۱۰/۱۳۸۵ھ ش)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۳۵

دوسری فصل: امامت

امامت سے مراد ہے:

معاشرے کو چلانے کےلئے مطلوب قیادت کا درجۂ کمال۔ اس کے مقابلے میں معاشرے کی وہ مختلف قیادتیں ہیں جو انسانی کمزوریوں ، خواہشات، تکبر اور ’’ھل من مزید‘‘ کے جذبے کی حامل ہوتی ہیں۔اسلام انسانیت کےلئے امامت کا نسخہ اور طریقہ تجویز کرتا ہے۔ امام وہ انسان ہے جس کا دل ہدایتِ الٰہی کے فیض سے لبریز ہو۔ امام دینی معارف سے کاملاً آگاہ ہوتا ہے (یعنی راستے کی درست پہچان رکھتا ہے)۔ وہ قوتِ عمل کا حامل ہوتا ہے

’’يا يَحْيىٰ‏ خُذِ الْكِتابَ بِقُوَّةٍ‘‘ ۔

امام ذاتی زندگی اور ذاتی پسند کو اہمیت نہیں دیتا لیکن دوسرے انسانوں کی جان، زندگی اورخوش بختی اس کےلئے سب کچھ ہوتی ہیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنی حکمرانی کی پانچ سال سے بھی کم مدت میں اس کا عملی ثبوت دیا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا دورِحکمرانی پانچ سال سے کم عرصے پر مشتمل تھا لیکن یہ دور شفاف حکمرانی کے ایک اعلیٰ نمونے اور رول ماڈل کی حیثیت سے جسے بشریت ہرگز فراموش نہیں کرسکتی صدیوں سے ضوفشاں اور باقی ہے۔

یہ ہے واقعۂ غدیر سے حاصل ہونے والے درس، مفہوم اور تفسیر کا نتیجہ۔

(۱۲/۱۲/۱۳۸۰ھ ش)۔

۳۶

لفظ ’’امامت‘‘کا اصل مفہوم مطلق قیادت اورپیشوائی سے عبارت ہے۔

اسلامی دنیا میں عام طور پر اس کا اطلاق اس کے مطلق مفہوم کے ایک خاص مصداق یعنی اجتماعی امور میں لوگوں کی پیشوائی اور قیادت پر ہوتا ہے خواہ یہ امور فکری ہوں یا سیاسی۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں لفظ امامت کے مشتقات (مثلاً امام، ائمہ و غیرہ) استعمال ہوئے ہیں وہاں یہی خاص مفہوم یعنی امت کی قیادت اور پیشوائی مقصود ہے یعنی فکری قیادت،سیاسی قیادت یا دونوں۔

رحلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد مسلمانوں کے درمیان فکری اور سیاسی تقسیم عمل میں آئی جس کے نتیجے میں اسلام کے پیروکار کئی فکری فرقوں میں بٹ گئے۔ چونکہ اختلاف کا اصلی محور سیاسی قیادت کا مسئلہ تھا اس لئے لفظ ِامامت اور لفظِ امام کو خاص حیثیت حاصل ہوگئی چنانچہ یہ الفاظ تمام دیگر معانی و مفاہیم سے زیادہ ’’سیاسی قیادت‘‘ کے مفہوم میں استعمال ہونے لگے اور دیگر مفاہیم آہستہ آہستہ اس خاص مفہوم کے پس پردہ چلے گئے یہاں تک کہ جب دوسری صدی ہجری میں اسلام کے اعتقادی مکاتب فکر یکے بعد دیگرے وجود میں آئے اور مختلف اسلامی تصورات مخصوص مکاتب ِفکر یا نظریات کی شکل میں سامنے آئے تو ان تمام مکاتب ِفکر کے اہم مسائل میں سے ایک ’’مسئلہ امامت‘‘ تھا جس سے مراد سیاسی قیادت تھی۔اس مسئلے میں عام طور پر امام (یعنی معاشرے کے حاکم اور زمامدار) کی خصوصیات وشرائط کے بارے میں بحث ہوتی تھی اور اس بارے میں ہرگروہ مخصوص عقیدے اور دلائل کا حامل بن گیا۔

مکتب ِتشیع (جو اپنے پیروکاروں کے نقطۂ نظر سے اسلام کا اصلی ترین فکری سلسلہ ہے) میں بھی امامت کا یہی مفہوم پیش نظر رہا۔ ’’امام‘‘ کے بارے میں اس مکتبِ فکر کا نظریہ کچھ یوں تھا کہ اسلامی معاشرے کے سیاسی پیشوا یا امام کو خدا کی طرف سے معین ہونا چاہئے اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے اس کی تشخیص ہونی چاہئے۔ اسے فکری پیشوا، مفسرِ قرآن، دین کے جملہ رُموز و دقائق سے آشنا، پاک اور معصوم نیز نسبی ،جسمانی اور باطنی عیوب سے مبرا ہونا چاہئے۔ امام کےلئے ضروری ہے کہ پاکیزہ اصلاب سے پاکدامن پیدا ہو وغیر وغیرہ۔

یوں لفظ امامت جو پہلی اور دوسری صدی ہجری کے عام مسلمانوں کی اصطلاح میں سیاسی رہبری کے مفہوم میں استعمال ہوتا تھا شیعوں کی خاص اصطلاح میں سیاسی قیادت کے علاوہ فکری و اخلاقی قیادت کے مفہوم کو بھی شامل ہوگیا۔شیعہ جس کسی کو امام مانتے تھے اس سے نہ صرف اجتماعی امور کو چلانے کی بلکہ فکری رہنمائی، دینی تعلیم و تربیت،تصفیۂ باطن اور تزکیۂ اخلاق کی بھی توقع رکھتے تھے۔ اگر وہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کا اہل نہ ہوتا تو شیعہ اسے ’’امامِ برحق‘‘ نہیں مانتے تھے۔شیعہ سیاسی امور کو چلانے میں حاکم کی اچھی صلاحیت،عسکری طاقت ، سلحشوری اور کشور کشائی (جو دوسروں کی نظر میں قابلِ اکتفا معیار شمار ہوتے ہیں) کو کافی نہیں سمجھتے تھے۔

شیعوں کے نزدیک امامت کا جو مفہوم ہے اس کی رو سے معاشرے کا امام وہ غالب قوت ہے جو اس معاشرے کے افراد کی اجتماعی حرکت اور انفرادی طرزِعمل کی رہنمائی اور رہبری کا کام انجام دیتا ہے۔وہ بیک وقت دین و اخلاق کا معلم نیز لوگوں کے نظام زندگی اور ان کی سرگرمیوں میں ان کا فرمانروا ہوتا ہے۔ اس بیان کی رو سے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی امام ہےکیونکہ پیغمبر اس معاشرے کا فکری وسیاسی پیشوا ہوتا ہے جس کی بنیاد وہ خود رکھتا ہے۔ پیغمبر کے بعد بھی امت کو کسی امام کی ضرورت ہوتی ہے تا کہ وہ پیغمبر کا جانشین (خلیفہ) بنے نیز اس پیغمبر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ (ان ذمہ داریوں میں سے ایک سیاسی قیادت ہے۔) شیعوں کا عقیدہ ہے کہ یہ جانشینی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصریح کے مطابق علی بن ابی طالب علیہ السلام کا اور آپ کے بعد اہل بیت کے معصوم اماموں کا حق ہے۔ (تفصیل اور استدلال کےلئے متعلقہ کتب کی طرف رجوع ہو)۔

یہ نکتہ قابل ذکر ہے کہ اسلامی حکومت و خلافت میں تین مفاہیم یعنی’’سیاسی قیادت‘‘، ’’دین آموزی‘‘ اور ’’تزکیۂ نفس‘‘ کے باہمی ارتباط وترکیب کی وجہ یہ ہے کہ در اصل اسلام نے ان تین زاویوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا ہے بلکہ ان تینوں کو انسان سازی کے لائحۂ عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ پس امت کی پیشوائی و امامت کا مفہوم بھی ان تینوں میدانوں میں پیشوائی سے عبارت ہے۔ مفہومِ امامت کی اسی وسعت کی وجہ سے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ امام کو خدا کی جانب سے معین ہونا چاہئے۔

۳۷

یاد رہے کہ اسلام نے امامت و حکومت کو تین جہات کا حامل قرار دیا ہے جیسا کہ اس دور کے بعض ممتاز مفکرین نے اس کی درست تصویر کشی کی ہے۔)

خلاصہ یہ کہ بعض سطحی نگاہ رکھنے والوں کے برخلاف جو ’’امامت‘‘ کو ’’خلافت‘‘ اور ’’حکومت‘‘ کی متوازی کوئی چیز قرار دیتے ہیں اور اسے صرف ایک معنوی یا روحانی و فکری منصب سمجھتے ہیں مکتب تشیع کے ہاں امام سے مراد ’’امت کا رہبر‘‘ہے جو دنیوی امور، لوگوں کی زندگی کے نظم و نسق،معاشرے کے سیاسی و اجتماعی انتظام و انصرام(حکومت کی سربراہی)،روحانی و معنوی تعلیم و رہنمائی، فکری مشکلات کی گرہ کشائی اور اسلامی آئیڈیالوجی کی تبیین و تشریح میں امت کی رہنمائی اور پیشوائی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

امامت کے اکثر معتقدین کے اذہان اس واضح نکتے سے اس قدر بیگانہ ہیں کہ قرآن و حدیث میں مذکور اس کے سینکڑوں شواہد میں سے چند مثالوں کا تذکرہ بے فائدہ معلوم نہیں ہوتا۔

الکافی کی ’’کتاب الحجۃ‘‘ میں امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام سے ایک مفصل حدیث منقول ہے جو امامت کی شناخت اور امام کی توصیف کے بارے میں ہے۔

اس حدیث میں پرمغز نکات اور دلنشین خصوصیات کا تذکرہ ہوا ہے۔ بطور مثال امامت کی یہ خصوصیات ملاحظہ ہوں:یہ دین کا شیرازہ ہے،مسلمانوں کا سرمایہ ہے، دنیا کو آباد کرنے والی ہے،مومنین کےلئے باعث سربلندی ہے، انبیاء کی منزلت ہے، جانشینوں کی میراث ہے، خدا کی خلافت ہے اور پیغمبر کی جانشینی ہے۔

امام کی یہ خصوصیات بھی مذکور ہیں:وہ اجتماعی ثروت میں اضافہ کرنے والا، خدائی حدود وقوانین کو نافذ کرنے والا ، سرحدوں کا محافظ،مخلوقات کے درمیان خدا کا امین، بلندی پر موجود شعلۂ فروزان، راہِ خدا کو پابرجا کرنے والا،حریم خدا کا محافظ،منافقوں کو غصہ دلانے والا، کفر کی عمارت ڈھانے والا،مومنوں کو عزت بخشنے والا، حکمرانی و زمامداری میں ماہر اور کاردان، سیاسی رموز سے آگاہ، خدا کی اطاعت پر کمربستہ، بندگان خدا کا خیرخواہ اور دین خدا کا نگہبان ہے ۔

ایک اور روایت میں امام صادق(علیہ السلام) سے صریحاً مروی ہے کہ علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ(علیہ السلام) انہی امتیازات، اختیارات اور ذمہ داریوں کے حامل ہیں جن کے حامل پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)ہیں ۔

امام صادق علیہ السلام سے مروی دیگر روایات میں ’’اوصیاء‘‘ کی اطاعت کو واجب قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد وضاحت کی گئی ہے کہ اوصیاء سے مراد وہی ہستیاں ہیں جنہیں قرآن میں ’’اولی الامر‘‘ کہا گیا ہے ۔

مختلف کتابوں کے مختلف ابواب میں بکھری ہوئی سینکڑوں احادیث میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ مکتب ِتشیع کے ہاں امام اور امامت کا مفہوم ’’زمامداری‘‘ اور ’’امت مسلمہ کے امور کو چلانے‘‘ سے عبارت ہے۔

ان احادیث میں ائمہ اہل بیت علیہ السلام کا تعارف حکومت ِالٰہی کے حقیقی حاکموں کی حیثیت سے یوں کرایا گیا ہے کہ کسی منصف مزاج محقق کےلئے شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ ائمہ اہل بیت کا دعوائے امامت ان کی فکری و معنوی زعامت کے علاوہ حکمرانی کے حق کےدعوے پر بھی مشتمل ہے۔ ان کی ہمہ گیر دعوت در حقیقت حصول حکومت کےلئے سیاسی و عسکری سطح پر مزاحمتی جدو جہد کی طرف بھی دعوت تھی۔

(پیشوای صادق، ص۶۹ـ ۷۴)

اگر کوئی یہ تصور کرے کہ امام سجاد علیہ السلام سے لے کر امام عسکری علیہ السلام تک آٹھ نو اماموں نے صرف دینی احکام و معارف بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور انہوں نے اپنے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق مناسب سیاسی جد و جہد نہیں کی ہے تو یقیناً یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس شخص نے ان بزرگوں کی سیرت پر درست غور و خوض نہیں کیا ہے۔ ان معصومین کی سیرت کے مطالعے سے مذکورہ نکتہ بخوبی معلوم ہوتا ہے۔ درحقیقت اسلام کے تصور ِ امامت اور تشیع کے فلسفۂ امامت کی رو سے مذکورہ راستے کو قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا نیز اس راستے کے علاوہ کوئی چیز ان دونوں کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ اگر ائمہ علیہم السلام کی سیاسی جد و جہد کے بارے میں ہمارے پاس کوئی واضح ثبوت نہ ہوتا تب بھی ہمارا عقیدہ یہ ہوتا کہ ائمہ نے سیاسی جد و جہد ضرور کی ہے البتہ ہمیں اس کی خبر نہیں ہوئی، لہذا ہم بےخبر رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم امامت کے (صرف شیعی مفہوم سے نہیں بلکہ) اسلامی مفہوم سے آگاہ اور اس کے معتقد تو ہوں اس کے باوجود یہ مان لیں کہ ڈیڑھ سو سال یااس سے زائد عرصے تک ائمہ معصومین علیہم السلام ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھروں میں بیٹھے رہے تھے یا سیاسی جدوجہد سے پرہیز کرتے ہوئے صرف قرآنی احکام اور اسلامی معارف بیان کرنے پر اکتفا کرتے اور اسی سے دل بہلاتے رہے تھے؟۔یہ سوچ ہرگز درست نہیں ہے۔ البتہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام نے سیاسی جد وجہد کی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی جاننا چاہئے کہ ہر زمانے میں مزاحمتی سیاسی جد و جہد کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔یہ گاہے مزاحمت و مقاومت نیز ثقافتی،علمی، سیاسی و تنظیمی کاموں کے ذریعے انجام پاتی ہے اور گاہے خونین جنگی کاروائیوں اور کھلی نبرو آزمائی کے ذریعے۔ بہرحال ہرزمانے میں سیاسی ومزاحمتی جد و جہد کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔

(۹/۵/۱۳۶۶ھ ش)۔

۳۸

ممکن ہے کچھ لوگ یہ اعتراض کریں کہ جب ائمہ علیہم السلام کو علم ِالٰہی کی بدولت یہ معلوم تھا کہ انہیں حکومت نہیں ملے گی تو پھر یہ کیسے معقول ہے کہ وہ حصول حکومت کےلئے جدوجہد کرتے؟

واضح ہے کہ ائمہ علیہم السلام اپنی زندگی میں حکومت حاصل نہ کرسکے نیز وہ اپنی پسند اور ذمہ داریوں کے عین مطابق اسلامی نظام اور معاشرے کی تشکیل نہ کرسکے۔پھر کیا وجہ ہے کہ ائمہ نے اس اعتراف کے باوجود کہ وہ الہامِ الٰہی کے باعث اس سے آگاہ تھے سیاسی جدوجہد جاری رکھی؟

اس سوال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ مقصد تک عدم رسائی کا علم ذمہ داریوں کی انجام دہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ آپ سیرت رسول پر نگاہ کریں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ جنگ احد میں شکست ہوگی۔ آپ کو علم تھا کہ جن لوگوں کو آپ نے پہاڑی درّے پر بٹھایا تھا وہ مال ِغنیمت کی لالچ میں اپنی جگہ چھوڑ کر نیچے چلے آئیں گے۔ جس دن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)بنی ثقیف کو دعوت دینے نیز اہل مکہ کے شر سے اہل طائف کے ہاں پناہ لینے کے ارادے سے طائف چلےگئے اس دن آپ کو علم تھا کہ طائف والے آپ کا استقبال پتھروں سے کریں گے اور آپ کو اس قدر پتھر ماریں گے کہ آپ کی پنڈلیوں سے خون بہےگا اور آپ لوٹنے پر مجبور ہوں گے۔ (پھربھی آپ وہاں تشریف لےگئے۔ مترجم)۔

ائمہ علیہم السلام کو بھی تمام حقائق کا علم تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو علم تھا کہ اکیسویں رمضان کو آپ کی شہادت ہوگی۔

۳۹

اس کے باوجود ماہ رمضان سے کچھ وقت پہلے آپ نے کوفہ کے باہر ایک وسیع چھاؤنی قائم کی تا کہ معاویہ کے ساتھ جنگ جاری رکھیں۔

اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام کا علم اس بات کا موجب ہوتا کہ آپ معمول کے مطابق اپنا کام جاری نہ رکھیں تو آپ نے فوجی چھاؤنی کیوں قائم کی، لشکر کشی کا اہتمام کیوں کیا اور لوگوں کو کوفہ کے باہر لےجاکر منتظر کیوں رکھا؟ اس کا کیا فائدہ تھا؟

ائمہ معصومین علیہم السلام کو معلوم تھا کہ انہیں حکومت نہیں ملے گی لیکن یہ علم اس بات کا موجب نہیں بن سکتا تھا کہ وہ اپنی کوشش ترک کردیں۔

ان پر لازم تھا کہ اپنی کوشش اور جدوجہد کرتے رہیں اور اس شخص کی طرح اپنے تمام امور کو انجام دیتے رہیں جسے کوئی علم نہ ہو کہ آئندہ کیا ہوگا۔ (۲۳/۱/۱۳۶۴ھ ش)۔

۴۰