امام علی علیہ السلام نے فرمایا: پس چلو مسجد چلیں۔وہاں آپ نے زیب ِمنبر ہوکر خطبہ دیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔فرمایا: چیدہ چیدہ برگزیدہ اور بااثر لوگ آج تک جو اموال بیجا اورناحق ہڑپ کرچکے ہیں (بیت المال سے) وہ مجھے جہاں کہیں ملیں بیت المال میں واپس لوٹاؤں گا۔
ان چند سالوں کے دوران کچھ لوگ بیت المال سے رقم ہتھیانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: میں یہ سب رقوم واپس لوں گا:
اگرچہ مجھے یہ معلوم ہو کہ ان پیسوں کو تم نے عورتوں کا مہر قرار دیا ہے،
اور اگرچہ ان پیسوں سے تم لوگوں نے کنیزیں خریدی ہوں پھر بھی
’’لَرَدَدْتُه‘‘
میں انہیں ضرور بیت المال میں لوٹاؤں گا۔ بڑے لوگ اور عوام جان لیں کہ میری روش یہ ہے۔
چند دنوں بعد مخالفتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔البتہ معاشرے کے مظلوم اور محروم لوگ خدا سے یہ چاہتے تھے کہ اس قسم کی روش پر عمل ہو لیکن بااثر طبقہ اور وہ لوگ جو اس خطاب کے براہ راست مخاطَب تھے وہ اس سے ناراض تھے جو ایک بدیہی بات ہے۔ ان لوگوں نے بیٹھ کر مشورہ کیا اور کہا کہ علی آخر کیا کرنا چاہتا ہے؟ ولید بن عقبہ (جو حضرت عثمان کی طرف سے کوفہ کا گورنر تھا) ان لوگوں کی طرف سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: یا علی! ہماری طرف سے آپ کی بیعت مشروط ہے:
ہماری شرط یہ ہے کہ آپ اس مال کوہاتھ نہ لگائیں جو ہم نے آپ کی حکومت سے پہلے حاصل کیا ہے۔ ولید بن عقبہ کے بعد طلحہ و زبیر آئے۔
البتہ ولید بن عقبہ کا معاملہ طلحہ و زبیر سے مختلف ہے۔ ولید بن عقبہ درحقیقت ان لوگوں میں سے ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ اس کا گھرانہ اسلام دشمن اور انقلاب دشمن تھا۔ انہوں نے اسلام سے جنگ کی تھی پھر جب اسلام کو فتح حاصل ہوئی تو عصر رسول کے اواخر میں بنی امیہ کے دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کے برعکس طلحہ و زبیر کا شمار ابتدائی مسلمانوں اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قریبی اصحاب میں ہوتا تھا۔ طلحہ و زبیر (جو اس دور کے مسلمان بزرگ اور پیغمبر کے باقی ماندہ صحابی تھے) امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور شکایت آمیز گفتگو کرنے لگے۔
آپ نے بیت المال کی تقسیم میں ہمیں دوسروں کے ساتھ یکساں قرار دیا ہے۔
آپ نے ہمیں ان لوگوں کی طرح قرار دیا ہے جو ہماے ہم پلہ نہیں ہیں۔ آخر یہ کیا ہے؟ آپ فرق کیوں نہیں کرتے؟
یہ اموال ہماری تلواروں کے طفیل ہاتھ آئے ہیں۔ ہم نے اسلام کے قافلے کو آگے بڑھایا ہے۔یہ سب ہماری زحمتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آج آپ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ یکساں قرار دے رہے ہیں جو نئے نئے آئے ہیں، جو عجمی ہیں اور مفتوحہ ممالک کے باسی ہیں؟۔
ولید بن عقبہ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ میری نظروں سے نہیں گزرا ہے (تاریخ میں ثبت نہیں ہے) لیکن آپ نے دوسروں کو جواب دیا تھا۔ امام نے منبر پر جاکرسخت لہجے میں جواب دیا اور بیت المال کی مساوی تقسیم کے بارے میں فرمایا:
اس روش کا بانی میں نہیں ہوں۔
بہ تحقیق میں نے اور تم نے (ہم سب نے) رسول اللہ کواس طرح عمل کرتے ہوئے دیکھا اور پایا ہے۔ میں نے کوئی نیا کام تو نہیں کیا ہے۔ میں پیغمبر کی اسی روش پر چل رہاہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آج اُنہی اقدار اور اُنہی اعتقادی و عملی اصولوں کو معاشرے میں پابرجا کروں۔
پھر آپ نے ایسا ہی کیا اور یہ سلسلہ جاری رکھا۔ آپ نے اس کی بھاری قیمت بھی چُکائی۔ اس رویے کی قیمت تین جنگیں تھیں لیکن آپ نے استقامت دکھائی۔ واضح ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے لیکن رحلت رسول کے بعد آپ کو یہ حق نہیں ملا۔آپ جس چیز کو اپنا حق سمجھتے تھے اس کےلئے آپ نے پچیس سالوں تک کوئی جنبش نہیں کی بلکہ اگر بعض لوگ اس بارے میں کچھ کہنا بھی چاہتے تھے تو آپ نے انہیں روک لیا۔
امیر المومنین علیہ السلام اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے۔ آپ نے اس مسئلے میں پچیس سال تک کوئی ردّ عمل نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس ایک ایسے مسئلے میں جو بظاہر اُس مسئلے سے کم اہمیت کا حامل تھا (یعنی عدل ِاجتماعی، سنتِ نبوی کے احیاء اور پیغمبر نے جس مستحکم عمارت کی بنیاد رکھی تھی اس کی تعمیر کے معاملے میں) آپ نے تین جنگیں لڑیں:
جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان۔
آپ دیکھئے کہ یہ کام امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نظر میں کس قدر اہم تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بڑا کارنامہ یہی ہے۔
امیرالمومنین علیہ السلام نے اسی بارے میں ایک اور جملہ کہا ہے:
یعنی اگر کوئی شخص مومن ہے ، مجاہد فی سبیل اللہ ہے،عظیم خدمات کا حامل ہے، جنگیں لڑچکا ہے اور بڑے کارنامے انجام دےچکا ہے تو اس کے حق کی رعایت تمہارے اوپر لازم ہے لیکن اگر یہی شخص کوئی غلطی کرے اور کسی کا حق ضائع کرے تو تم جو صاحب ِاختیار ہو یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اس شخص کے اُس واجب حق کی وجہ سے اس کی غلطی کا مواخذہ نہ کرو اور اسے سزا نہ دو۔
بنابریں مختلف مسائل کو ایک دوسرے سے الگ کرو۔ اگر کوئی شخص اچھا ہے، قیمتی ہے، اچھے ماضی کا حامل ہے نیز اسلام اورملک کی خدمت کرچکا ہے تو ٹھیک ہے، اس کا حق ثابت اور محفوظ ہے۔ ہم اس کے مخلص ہیں لیکن اگر وہ گڑبڑ کرے تو اس کا وہ حق اس بات کا موجب نہ بنے کہ اس کی غلطی سے چشم پوشی کی جائے۔
یہ ہے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اصول۔
شاعر نجاشی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر کا حوصلہ بڑھانے کےلئے اشعار کہتے تھے۔
وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے ارادت رکھتا اور آپ کے حزب میں شامل تھا۔ امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنے، آپ کے ساتھ اخلاص اور سابقہ خدمات کے لحاظ سے اس کا رویہ معروف تھا لیکن اس نے ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں شراب نوشی کی۔ جب امیرالمومنین علیہ السلام کو خبر ملی تو فرمایا: شراب کی حد معلوم ہے۔ اسے لاؤ تاکہ اس پر حد جاری ہو۔ امیر المومنین علیہ السلام نے لوگوں کی نگاہوں کے سامنے اس پر شراب کی حد جاری فرمائی اور اسے اسّی تازیانے مارے۔ اس کے خاندان اور قبیلے والے امیر المومنین علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے: یا امیر المومنین علیہ السلام ! آپ نے ہماری آبرو خاک میں ملادی۔
یہ شخص آپ کی جماعت کا آدمی تھا، آپ کا حامی تھا،(آج کل کی اصطلاح میں: ) آپ کی پارٹی کا آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا: میں نے کچھ نہیں کیا۔ ایک مسلمان نے جرم کیا اور اس پر خدا کی ایک حد واجب ہوئی جسے میں نے نافذ کیا۔
نجاشی نے علی علیہ السلام کے ہاتھوں تازیانے کھانے کے بعد کہا: آج کے بعد میں جاکر معاویہ کے حق میں اشعار کہوں گا۔ چنانچہ وہ امیر المومنین علیہ السلام کو چھوڑ کر معاویہ کے پاس چلاگیا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا: افسوس نجاشی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اسے ہمارے پاس ہونا چاہئے تھا وغیرہ۔نہیں۔ جانے دو البتہ اگر ہمارے پاس رہتا تو بہتر ہوتا۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش اور آپ کی منطق یہ تھی۔ آپ نے نجاشی کے ساتھیوں سے فرمایا
‘ ہم نے اس پر حد جاری کی اور اس کا گناہ دھل گیا۔
قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص پر حد واجب ہوگئی تھی۔(وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا رشتہ دار بھی تھا۔) امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بعض ارادتمندوں نے جو اس شخص کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے مشورہ کیا کہ آؤ آپ کے پاس چل کر مسئلہ حل کرلیتے ہیں۔ یہ لوگ پہلے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تا کہ آپ کے ذریعے آپ کے پدر بزرگوار کے ہاں سفارش کی جائے۔
امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: میرے جانے کی ضرورت نہیں۔ تم خود جاؤ۔میرے والدامیرالمومنین تمہیں پہچانتے ہیں۔
پس وہ خود ہی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے: ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے۔ مدد کیجئے۔ آپ نے جواب میں فرمایا:جس چیز کا اختیار میرے پاس ہو اسے انجام دینے سے دریغ نہیں کروں گا۔وہ لوگ خوشی خوشی باہر نکل آئے۔ راستے میں امام حسن علیہ السلام سے ملے۔ امام حسن علیہ السلام نے پوچھا: کیا ہوا؟ بولے الحمد للہ اچھا ہوا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔ فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے تم سے کیا کہا؟ بولے: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جو کام میرے اختیار میں ہو اور مجھ سے مربوط ہو وہ میں تمہارے لئے انجام دوں گا۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: پس جاؤ اور وہ کام کرو جو اس پر حد جاری ہونے کی صورت میں تم نے انجام دینا ہے۔
بعد میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس پر حد جاری کردی۔
ان لوگوں نے آکر پوچھا: یا امیر المومنین!اس شخص پر حد کیوں جاری ہوئی؟
فرمایا: حد میرے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔
میں نے کہا تھا کہ جو میرے اختیار میں ہو وہ میں تمہارے لئے انجام دوں گا جبکہ حد میرے اختیار میں نہیں ہے ۔
یاد رہے کہ بنی اسد کے لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخلص دوستوں میں شامل تھے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کچھ اس قسم کی تھی۔
آپ کی خوراک، آپ کے لباس نیز آپ کی اولاد اور آپ کی اولاد کی معاشی حالت کے بارے میں بہت سی باتیں مروی ہیں۔
راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام بیٹھے غذا تناول فرمارہے ہیں۔ ان کی غذا روٹی،سر کے اور سبزی سے عبارت تھی۔
میں نے عرض کیا: آقا زادو: آپ سردار ہیں، آپ حکمران گھرانے کے افراد ہیں، آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور بازار میں اس قدر خوراک موجود ہے :
رحبہ (جو کوفہ کے نزیک ہے) میں اس قدر (غذائی) مواد پڑا ہوا ہے اور لوگ اس سے استفادہ کررہے ہیں۔ آپ امیرزادوں کی خوراک یہ ہے؟ حسنین نے اس کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
’’ما اغفلک عن امیر المومنین‘‘
تو امیرالمومنین سے غافل ہو۔ جاؤ اور آپ کی حالت دیکھو۔
اپنے گھرانے کے ساتھ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش یہی تھی۔آپ علیہ السلام نے زینب کبریٰ علیہا السلام کا واقعہ سن رکھا ہے جب آپ نے ابورافع سے عاریہ لیا تھا۔
آپ عقیل کا واقعہ سن چکے ہیں۔
عقیل (امام کے بھائی)نے امام سے کوئی چیز مانگی
یعنی اپنے حصے سے کچھ اضافی گندم۔
تب امام نے آگ میں تپایا ہوا لوہا اٹھایا اور اسے عقیل کے قریب کیا البتہ ان کے بدن سے مس نہیں کیا بلکہ انہیں ڈرایا اور ان کا مطالبہ قبول نہیں کیا۔
عبد اللہ بن جعفر (جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بھتیجا اور داماد یعنی حضرت زینب کے شوہر تھے) نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: یا امیر المومنین!
میں تنگدست ہوں اور وسائل ِزندگی بیچنے پر مجبور ہوں۔میری کچھ مدد کیجئے۔
آپ نے قبول نہیں کیا اور فرمایا: مجھ سے یہ کیوں نہیں کہتے ہو کہ تمہارا چچا چوری کرے اور لوگوں کا مال چرا کر تمہیں دے دے؟
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک معیار معین فرمایا تاکہ عصر رسول کے اصولوں کی بنیاد پر ایک پیشرفتہ، وسیع، متمدن اور ثروتمند معاشرے کی حکومت (جس طرح آپ کی حکومت تھی) چلائی جائے۔ آپ کے دور میں ہرچیز ترقی کی جانب رواں تھی۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کا ارادہ کیا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی ان اصولوں کو زندہ کیا جاسکتا ہے:معنویت کا اصول، عدل و انصاف کا اصول، جہاد کا اصول، تعمیر آدمیت کا اصول نیز اہل، لائق اور ایماندار اربابِ اختیار کے انتخاب کا اصول۔
یہ سب اسی حقیقت کے آئینہ دار ہیں۔ یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا عظیم کارنامہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اسلامی اصول و اقدار ہر قسم کے حالات میں قابل ِنفاذ ہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے۔
اسلامی اصولوں سے مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لباس کی شکل اور ہیئت نہیں ہے کہ
اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام تہبند باندھتے تھے یا لمبی قمیص پہنتے تھے تو آج ہم بھی یہی کام کریں۔