انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 352
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 352 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

امامت کے چار ادوار:

ظاہری امامت کا سلسلہ رحلت ِرسول (صفر ۱۱ ہجری) کے پہلے روز سے شروع ہوکر امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت (ربیع الاول ۲۶۰ ھ) تک مسلمان معاشرے کے اندر جاری و ساری رہا۔ (اس کے بعد غیبت صغری کا دور شروع ہوا۔ مترجم) ہردور کی حکومتوں کے مقابلے میں ائمہ کی خاص حکمت ِعملی کے حوالے سے اس پورے عرصے میں امامت کے تقریباً چار ادوار بنتے ہیں۔

پہلا دور:

یہ سکوت کا دور یعنی وقت کی حکومتوں کے ساتھ امام علی( علیہ السلام ) کے تعاون کا دور ہے۔ اس دور میں نومولود اسلامی معاشرہ طاقتور اور زخم خوردہ بیرونی دشمنوں کی موجودگی میں نیز اسلام کے دائرے میں داخل ہونے والے کمزور مسلمانوں کی موجودگی میں کسی صورت اندرونی اختلافات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔

اس نوخیز معاشرے کے پیکر میں پڑنےوالا معمولی سے معمولی رخنہ اس کی اصل بنیاد کو خطرے سے دوچار کرسکتا تھا۔ دوسری طرف حقیقت سے انحراف کا زاویہ اس قدر زیادہ نہ تھا جو امیرالمؤمنین علیہ السلام جیسے انسان کےلئے قابلِ تحمل نہ ہو۔

(یاد رہے کہ خود امیرالمؤمنین علیہ السلام اسلام اور اسلامی معاشرے کے حق میں سب سے شفیق اور سب سے وفادار انسان تھے۔)

شاید انہی وجوہات کی بنا پر جو پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دور رس نگاہوں میں پہلے سے منعکس تھیں آنحضرت نے اپنے اس برگزیدہ شاگرد کو حکم دیا تھا کہ وہ اس قسم کے حالات میں صبر و تحمل کا راستہ اختیار کریں۔

یہ دور رحلت ِرسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (۱۱ ھ) سے لےکر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کے آغاز (۳۵ھ) تک کے پچیس سالوں کو محیط ہے۔ اہل مصر کے نام ایک خط میں امام علیہ السلام نے اس دور کے آغاز میں اپنی حالت کی یوں تصویر کشی کی ہے:

’’فَأَمْسَكْتُ‏ يَدِي‏، حَتَّى رَأَيْتُ رَاجِعَةَ النَّاس قَدْ رَجَعَتْ عَنِ الإِسْلامِ، يَدْعُونَ إِلَى مَحْقِ دَيْنِ محمَّد صلى الله عليه و آله، فَخَشِيتُ إِنْ لَمْ أَنْصُرِ الإِسْلامَ وأَهْلَهُ أَنْ أَرَى فِيهِ ثَلْماً أو هَدْماً، تَكُونُ الْمُصِيبَةُ بِهِ عَلَيَّ أَعْظَمَ مِن فَوْتِ وِلايَتِكُمُ الَّتي إِنَّمَا هِيَ مَتَاعُ أَيَّامٍ قَلائِلَ، يَزُولُ مِنْهَا مَا كَانَ كَمَا يَزُولُ السَّرَابُ، أو كَمَا يَتَقَشَّعُ السَّحَابُ، فَنَهَضْتُ فِي تِلْك الأَحْدَاث‏‘‘ ۔

’’ پہلے تو میں نے تمام حوادث سے کنارہ کشی اختیار کرلی یہاں تک کہ میں نے دیکھ لیا کہ کچھ لوگ اسلام سے پھر کر اسلام کی بربادی کی دعوت دے رہے ہیں۔

پس مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ اگراسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کروں تو اسلام میں ایسا رخنہ پڑےگا یا تباہی آئےگی جس کے نقصانات چند روزہ حکومت و خلافت سے محرومی سے زیادہ عظیم ہوں گے۔ بنابریں میں نے کمربستہ ہوکر قیام کیا‘‘ ۔

علی علیہ السلام کی زندگی کا یہ پچیس سالہ دور اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ کمال دلسوزی کے جذے کے تحت اجتماعی امور میں آپ کی دلچسپی ، مدد اور حمایت کا غماز ہے۔ سیاسی، عسکری اور معاشرتی مسائل کے بارے میں اس دور کے خلفاء کےلئے آپ کے جوابات، مشورے اور رہنمائیاں نہج البلاغہ اور حدیث و تاریخ کی دیگر کتب میں مذکور ہیں جو امام علیہ السلام کی اس پالیسی کا ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

دوسرا دور:

دوسرا دور، امام کے اقتدار کا زمانہ:یہ دور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت کے چار سال نوماہ اور امام حسن علیہ السلام کی خلافت کے چند مہینوں پر مشتمل دور ہے۔ یہ دور بہت ہی مختصر نیز بےشمار مشکلات اور پریشانیوں (جو ایک انقلابی حکومت کےلئے ناگزیر ہیں) سے مخلوط ہونے کے باوجود اسلامی حکومت کے درخشاں ترین سالوں پر مشتمل دورانیہ محسوب ہوتا ہے۔

تیسرا دور:

یہ دور صلح امام حسن(۴۱ ھ) سے لےکر حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت (۶۱ھ) تک کے بیس سالوں پر محیط ہے۔ صلح امام حسن علیہ السلام کے بعد عملی طور پر شیعوں کے نیم مخفی طرزِعمل کا آغاز ہوگیا جس کا ہدف مناسب موقع پر آل رسول کی حکومت کی بحالی کی کوشش تھی۔ یہ موقع عام اندازے کے مطابق چندان دور بھی نہ تھا کیونکہ معاویہ کی زندگی کے خاتمے کے بعد اس کی امیدموجود تھی۔ بنابریں تیسرے دور کو ’’اسلامی حکومت کی تشکیل کےلئے قلیل المدت تعمیری کوشش کا دور‘‘ کہا جاسکتا ہے ۔

چوتھا اور آخری دور:

یہ طویل المدت لائحۂ عمل کی صورت میں مذکورہ روش کو جاری رکھنے کا دور ہے جو تقریباً دو سو سالوں کو محیط ہے۔ اس دور کے مختلف مراحل میں گاہے فتح اور گاہے شکست کا سامنا ہوتا رہا البتہ نظریاتی اور اعتقادی میدان میں قطعی کامیابی حاصل ہوئی۔

اس دوران وقت کے تقاضوں کے مطابق سینکڑوں قسم کی چالیں چلنی پڑیں۔

یہ دور اخلاص فداکاری اور عظمت انسانی کے اسلامی نمونوں کے سینکڑوں جلؤوں سے مزین ہے ۔

ائمہ معصومین علیہم السلام کی زندگی کی جس اہم ترین چیز کی طرف (لوگوں کی طرف سے)خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی وہ ’’شدید قسم کی سیاسی جد و جہد‘‘ہے۔

پہلی صدی ہجری کے دوسرے نصف حصے کے آغاز سے جب اسلامی خلافت بطور آشکار ملوکیت کے رنگ میں رنگ گئی اور اسلامی امامت جابرانہ بادشاہی نظام حکومت میں بدل گئی ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنی سیاسی جدوجہد کو حالات کے تقاضوں کے مطابق شدت بخشی۔

اس مزاحمتی جدوجہد کا سب سے بڑا مقصد اسلامی نظام کی تشکیل اور امامت کی بنیاد پر اسلامی حکومت کا قیام تھا۔

اگرچہ وحی کے مخصوص نقطۂ نظر کی روشنی میں دین کی تفسیر و تبیین نیز اسلامی معارف اور دینی احکام سے تحریفات اور کج فہمیوں کے غبار کو دور کرنا بھی اہل بیت علیہ السلام کی جدوجہد کا اہم ہدف تھے لیکن قطعی قرائن کی رو سے اہل بیت کا جہاد ان اہداف تک محدود نہیں تھا بلکہ اس جہاد کااہم ترین ہدف علوی حکومت کی تشکیل اور عادلانہ اسلامی نظام کے قیام کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ائمہ اہل بیت علیہ السلام اور ان کے مددگاروں کی ایثار اور تلخیوں سے لبریز زندگی کی اکثر دشواریوں کی وجہ یہی ہدف تھا۔ سانحۂ عاشورا اور امام سجاد علیہ السلام کے دور کے بعد ائمہ اس ہدف تک رسائی کا راستہ ہموار کرنے کی طویل المدت کوششوں میں مصروف ہوگئے۔

واقعۂ عاشورا اورا مام ہشتم (امام علی رضا علیہ السلام ) کی ولایت عہدی کے درمیان حائل ایک سو چالیس سالہ مدت کے دوران ائمہ اہل بیت سے وابستہ (شیعی) تحریک دربار خلفاء کےلئے سب سے سنگین اور سب سے خطرناک دشمن محسوب ہوتی رہی۔

اس عرصے میں کئی بار کامیابی کے بہترین مواقع سامنے آئے اور شیعوں کی مزاحمتی جدوجہد جسے ’’علوی تحریک‘‘ کا نام دینا چاہئے عظیم کامیابیوں کے قریب پہنچی لیکن ہر بار آخری کامیابی کی راہ میں کچھ موانع آڑے آتے رہے۔ عام طور پر اس تحریک پر سب سے کاری ضرب اس تحریک کے محور و مرکز یعنی ہرزمانے کے امام پر حملے، اسے قید کرنے یاشہید کرنے کے باعث لگتی تھی۔

پھر جب اگلے امام کی باری آتی تو حکومت وقت کی جانب سے دباؤ، سخت گیری اور پابندی اس قدر شدید ہوجاتی تھی کہ دوبارہ انقلاب کا راستہ ہموار کرنے کےلئے ایک اور طویل عرصہ درکار ہوتا تھا۔

ائمہ علیہم السلام ان حوادث کے سخت طوفانوں کے درمیان تشیع کو ایک مختصر مگر عمیق، تند و تیز اور پائیدار تحریک کے طور پر خطرناک اور دشوار گزار راستوں کی بھول بلیوں سے گزار کر آگے بڑھاتے رہے۔ اموی اور عباسی خلفاء ائمہ معصومین علیہم السلام کو شہید کرنے کے باوجود امامت کی اس تحریک کو ختم کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔

یہ تیز دھار خنجر دربارِ خلافت کے پہلو میں ہمیشہ پیوست رہا جس نے ایک دائمی خطرے کی حیثیت سے حکمران طبقے کے سکون کو ہمیشہ مسلوب رکھا۔

۱۸/۵/۱۳۶۳ھ ش۔

=====٭٭٭٭٭=====

۴۱

تیسری فصل: امیر المومنین علیہ السلام

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کا وجود متعدد زاویوں اور متنوع حالات میں تمام نسلوں کےلئے ایک ابدی اور ناقابل فراموش درس ہے۔ آپ کا ذاتی اور انفرادی عمل، آپ کی عبادت ومناجات، آپ کا زہد و تقویٰ ،یادِ الٰہی میں آپ کا غرق اور فانی ہونا نیز نفس، شیطان اور نفسانی ومادی خواہشات کے مقابلے میں آپ کا جہاد درس اور نمونہ ہیں۔

امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کے یہ جملے کائنات اور حیات بشری کی فضا میں آج تک گونج رہے ہیں:

’’يَا دُنْيَا غُرِّي‏ غَيْرِي‘‘

اے دنیا جاؤ مجھے چھوڑ کر کسی اور کو دھوکہ دو۔

حضرت علی علیہ السلام مضبوط ترین انسانوں کو اپنے دام میں پھنسانے والی خواہشات، دنیوی جلوؤں اور پرکشش رعنائیوں سے کہتے ہیں کہ جاؤ علی کو چھوڑ کر کسی اور کو فریب دو۔

علی ان باتوں سے کہیں بالاو برتر، بزرگتر اور مضبوط تر ہے۔

بنابریں ہر بیدار انسان امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کے ہر ہر لمحے میں نیز خدا اور معنویت کے ساتھ آپ کے ارتباط میں ناقابل فراموش اور قابل تقلید نکات کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔

دوسرے زاویے سے آپ کا جہاد حق اور عدل کا علم بلند کرنے کےلئے تھا۔ یعنی جس دن نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رسالت کا بارِ گراں اپنے دوش پر اٹھالیا اس دن کے ابتدائی لمحات سے ہی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایک مجاہد،جنگجو ، مومن اور فداکار نوجوان کو ہمیشہ اپنے ساتھ پایا جو علی علیہ السلام تھے۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بابرکت زندگی کے آخری لمحات تک امیرالمؤمنین(علیہ السلام) اسلامی نظام کی تشکیل اور اس کی حفاظت کی راہ میں لحظہ بھر کےلئے غافل نہیں رہے۔ آپ نے جان پر کھیل کر خطرات کامقابلہ کیا نیز حق اور عدل کو پابرجا کرنے کےلئے اپنی زندگی وقف کردی۔

جب کوئی شخص میدان میں ثابت قدم نہیں رہ سکتا تھا تو آپ میدان سے نہیں ٹلتے تھے۔ جب کوئی میدان کارزار میں نہیں اترتا تھا تو آپ خوشی سے اترتے تھے۔ جس وقت سختیاں کوہِ گراں کی طرح جانبازوں اور راہ ِحق میں جہاد کرنے والوں کے حوصلے پست کردیتی تھیں تو آپ(علیہ السلام) کی بلند شخصیت دوسروں کا حوصلہ بڑھاتی تھی۔

آپ کی نظر میں زندگی کا مفہوم یہی تھا کہ اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں سے یعنی جسمانی و روحانی طاقت اور قوت ِارادی سے غرض آپ کے پاس موجود ہر چیز سے کلمہ ٔحق کی سربلندی کےلئے استفادہ کریں اور حق کو زندہ کریں۔ اسی لئے علی علیہ السلام کے مضبوط ارادے اور زورِ بازو سے نیز آپ کے جہاد سے حق زندہ ہوگیا۔

اگر آج دنیا میں حق، عدل اور انسانیت کی کوئی قدر و قیمت ہے اور اگر یہ مفاہیم زندہ ہیں نیز اگریہ روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتے آئے ہیں تو یہ سب کچھ انہی قربانیوں اور مجاہدانہ کوششوں کی بدولت ہے۔ اگر علی بن ابی طالب علیہ السلام جیسے افراد (جو تاریخ بشریت میں خال خال ہی نظر آتے ہیں) نہ ہوتے تو آج انسانی اقدار کا کوئی وجود نہ ہوتا اور انسانیت اپنے خوبصورت عناوین سے عاری ہوتی نیز تہذیب و تمدن، ثقافت اور اعلیٰ انسانی اہداف و مقاصد کا نام و نشان تک نہ ہوتا بلکہ انسانیت ایک وحشتناک درندگی اور خوفناک حیوانیت میں تبدیل ہوچکی ہوتی۔

آج بشریت اپنے اعلیٰ اقدار و اہداف کی حفاظت کے زاویے سے امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آپ جیسے عظیم انسانوں کے کردار کی مرہون منت ہے۔ یہ سب ان مجاہدانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کا دوسرا پہلو حکومت اور اقتدار کے میدان میں جلوہ گر ہے۔ مسند اقتدار وحکومت سنبھالنے کے بعد اس عظیم المرتبت اور فکر عظیم کی حامل ہستی نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں وہ کارنامہ انجام دیا کہ اگر مورخین، ارباب ِقلم اور ارباب ِہنر سالہا سال تک لکھتے رہیں اور اس کی تصویر کشی کرتے رہیں تب بھی اس کا حق ادا نہ کرسکیں گے۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور حکومت میں آپ کی زندگی کی جو حالت تھی وہ قیامت خیز ہے۔

۴۲

درحقیقت علی علیہ السلام نے حکومت کا مفہوم ہی بدل ڈالا۔

آپ مسلمانوں کے درمیان حکومت الٰہی، آیات قرآنی،

’’أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ ، رُحَماءُ بَيْنَهُمْ‘‘

اور عدلِ مطلق کی عملی تصویر تھے۔ آپ فقیروں اور مسکینوں کو اپنے نزدیک رکھتے تھے

’’کان یقرب المساکین‘‘

اور کمزوروں پر خصوصی نظر رکھتے تھے۔

وہ لوگ جو دولت اور طاقت کے بل بوتے پر نیز معاشرتی حیثیت حاصل کرنے کے دیگر ذرائع کےسہارے ناجائز طریقے سے اپنی کوئی حیثیت بناتے تھے ان کی حیثیت علی علیہ السلام کی نظر میں خس وخاشاک سے زیادہ نہ تھی۔ آپ کے قلب و نظر میں جس چیز کی قدر و قیمت تھی وہ ایمان، تقویٰ، اخلاص، جہاد اور انسانیت سے عبارت تھی۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے پانچ سال سے کچھ کم مدت تک انہی گرانقدر اقدار کے ہمراہ حکومت کی۔

لکھنے والے صدیوں سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں لکھتے آرہے ہیں لیکن لکھنے اور آپ کی درست تصویر کشی کرنے کا حق ادا نہیں ہوا۔ بہترین لکھنے والوں نے بھی اس سلسلے میں اپنے عجز اور ناکامی کا اعتراف کیاہے۔

(۱۰/۱۱/۱۳۶۹ھ ش)۔

آپ کی سب سے بڑی خصوصیت تقویٰ ہے۔ آپ کی علمی میراث نہج البلاغہ تقوی ٰ کی کتاب ہے۔ آپ کی زندگی تقویٰ کا لائحۂ عمل ہے۔

(۱۸/۱۰/۱۳۷۷ھ ش)۔

یہ آیت شریفہ:

’’ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْري نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللهِ وَ اللهُ رَؤُوفٌ بِالْعِبادِ‘‘

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام اس آیت کی تاویل وتفسیرہیں۔

آیت کہتی ہےکہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی جان کو، اپنے وجود کونیز اپنے عزیز ترین انسانی، انحصاری اور ناقابلِ تلافی سرمائے کو (جو ہاتھ سے جائے تو اس کے بدلے کچھ ہاتھ نہیں آسکتا) اللہ کی خوشنودی کے عوض یکجا دے دیتے ہیں اور بس۔

’’وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْري ‘‘

وہ بیچ دیتا ہے ’’نَفْسَهُ‘‘ اپنی جان کو، اپنے وجود کو

’’ابْتِغاءَ مَرْضاتِ اللهِ‘‘

اللہ کی رضا حاصل کرنے کےلئے۔یعنی اس کے علاوہ کوئی ہدف، کوئی مقصد، کوئی جذبہ اور کوئی ذاتی غرض مد نظر نہیں ہوتا۔اللہ بھی اس ایثار اور قربانی کا شایان شان بدلہ ضرور دیتا ہے۔

’’وَاللَّهُ رَؤُفٌ بِالْعِبادِ‘‘

اللہ اپنے بندوں پر خوب مہربان ہے۔ اس آیت کا کامل مصداق امیرالمؤمنین علیہ السلام علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ میں اسی زاویے پر روشنی ڈالوں گا۔

آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کی تاریخ پر ذرا نگاہ ڈالیے۔ آپ(علیہ السلام) اپنے بچپن میں جبکہ آپ ہنوز نوسال یا تیرہ سال کے تھے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نبوت پر ایمان لےآئے۔ آپ نے سوچ سمجھ کر حقیقت کو پہچانا اور اس سے تمسک کیا۔

اس وقت سے لےکر انیسویں رمضان کی صبح محراب عبادت میں اپنی جان راہ خدا میں پیش کرتے ہوئے خوشی خوشی اور شوق لقاء سے سرشار ہو کر اللہ کے حضور پہنچنے تک کے تقریباً پچاس یا باون ترپن سالوں کے دوران یعنی دس سال کی عمر سے لےکر تریسٹھ سال کی عمر تک امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حالات زندگی میں ایک ہی روش کا تسلسل نظر آتا ہے اور وہ ایثار وفداکاری کی روش ہے۔

اس پچاس سالہ تاریخ کے ہر مرحلے میں امیرالمؤمنین علیہ السلام جن واقعات سے گزرے ان سب میں ہم شروع سے آخر تک ایثار و قربانی کی نشانیوں کا مشاہد ہ کرتے ہیں۔ درحقیقت یہ ہمارے لئے درس عمل ہے۔ میں اور آپ شروع سے آخر تک علی کا نام لیتے ہیں،علی کو تلاش کرتےہیں اور دنیا میں علی کی محبت کےلئے معروف ہیں۔

۴۳

پس ہمیں امیرالمؤمنین علیہ السلام سے درس لینا چاہئے۔ علی کی خالی محبت کافی نہیں ہے اور علی کے فضائل سے آشنائی کافی نہیں ہے۔ ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو دل سے فضائل ِعلی کے معترف تھے،شاید ہم لوگوں سے بھی زیادہ کیونکہ ہم اس دور سے چودہ سو سال کا فاصلہ رکھتےہیں۔ یہ لوگ یا ان میں سے بعض علی کو ایک معصوم اور پاکیزہ انسان سمجھتے ہوئے آپ سے محبت بھی کرتے تھے لیکن ان کا کردار کچھ اور تھا کیونکہ یہ لوگ ایثار کی صفت سے عاری تھے۔ یہ لوگ خود پرستی کے خول سے نہیں نکلے تھے، انانیت کی بنیاد پر کام کرتے تھے اور ’’انانیت‘‘ کے حصار میں محبوس تھے جبکہ علی کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ آپ خود پرستی کے حصار سے آزاد تھے۔ آپ کے سامنے ’’مَن‘‘ کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ آپ کےلئے اگر کوئی چیز اہم تھی تو وہ ’’ ذمہ داری‘‘ تھی، ہدف تھا، جہاد فی سبیل اللہ تھا اور خدا تھا۔

جب امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنے بچپن میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تو شروع میں شہر مکہ کے اندر سب نے آپ کا مذاق اڑایا اور آپ کو تکلیف دی۔ آپ ذرا ایک ایسے شہر کا تصور کیجئے جس کے باسی فطری طور پر تشدد پسند ہوں، تہذیب و تمدن سے عاری ہوں، نرم مزاجی اور سنجیدگی سے تہیدست ہوں، سخت مزاج، جھگڑالو، فسادی اور معمولی معمولی چیزوں پر لڑنے بھڑنے والے ہوں اور اپنے باطل عقائد کے حق میں شدید تعصب برتتے ہوں۔ اس قسم کے ناموافق معاشرے میں ایک عظیم انسان(رسول) نے ایک عظیم انقلابی نظریہ پیش کیا؛ ایک ایسا نظریہ جو اس معاشرے کے عقائد اور آداب و رسوم سمیت تمام چیزوں سے متصادم تھا۔ ظاہر ہے کہ اس معاشرے کے تمام لوگ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مخالفت کرتے۔

چنانچہ معاشرے کے مختلف طبقات اور عوام نے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کا آغاز کیا۔ ان حالات میں مذکورہ صفات کے حامل رسول کی طرفداری کرنا اور اس کے انقلاب آفرین پیغام پر لبیک کہتے ہوئے نیز اپنے جسم و جان کی بازی لگاتے ہوئے اس رسول کی حمایت پر ڈٹ جانا جذبہ فداکاری کے بغیر ممکن نہ تھا۔

یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے جذبہ ٔایثار کا پہلا ثبوت تھا۔ علی بن ابی طالب علیہ السلام تیرہ سال تک سخت ترین مراحل میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اگر چہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مجبوری و ناچاری نیز قریش اور مکہ والوں کے دباؤ کے تحت ہجرت فرمارہے تھے لیکن اس ہجرت کا مستقبل تابناک تھا۔ سب جانتے تھے کہ یہ ہجرت کامیابیوں اور فتوحات کا پیش خیمہ ہے۔ جب کوئی تحریک مشکلات و مصائب کے مرحلے سے نکل کر عزت و سکون کے مرحلے میں داخل ہورہی ہو تو اس وقت عام طور پر سب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اگر ہوسکے تو معاشرے میں کوئی عہدہ یامقام حاصل کرلیں لیکن امیرالمؤمنین ایک ایسے ہی موڑ پر رات کی تاریکی میں رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بستر پر سونے کی تیاریاں کررہے ہیں تا کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس گھر اور اس شہر سے دور نکل سکیں۔

اس رات بستر رسول میں سونے والے کا قتل ہوجانا تقریباً قطعی اور یقینی تھا لیکن رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بستر میں کسی کی موجودگی ضروری تھی تا کہ جب جاسوسوں کی وہاں نظر پڑے تو وہ یہ خیال کریں وہاں کوئی موجود ہے یوں رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ سے نکلنےمیں کامیاب ہوں۔

اگرچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا یہ ایثار بجائے خود ایک غیر معمولی اور عظیم کارنامہ ہے لیکن اس ایثار کا مخصوص وقت اس کی اہمیت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ وقت کون سا ہے؟

یہ وہ وقت ہے جب مشکلات کا دور ختم ہورہا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ جاکر حکومت تشکیل دیں کیونکہ اہل مدینہ ایمان لاچکے ہیں اور رسول کے منتظر ہیں۔ سب کو اس بات کا علم ہے۔عین اسی لمحے امیرالمؤمنین علیہ السلام اس فداکاری کا مظاہر کرتے ہیں۔اس قسم کا خطرناک اقدام وہی کرسکتا ہے جو ہر قسم کے ذاتی مفاد یا مقصد سے ماوراء ہو۔اس کے بعد وہ مدینہ چلے آتے ہیں۔ مدینہ میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نوخیز حکومت شب و روز جنگ اور جہاد کے سلسلوں میں مصروف ہوگئی۔ ہر وقت جنگ کا سامنا رہتا تھا جو اس قسم کی حکومت کا خاصہ ہے۔ جنگ بدر سے پہلے ہی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا اور رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی زندگی کے آخری ایام (دس سال) تک جاری رہا۔ ان سالوں کے دوران آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نےکفار ومشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ درجنوں لڑائیاں لڑیں۔ ان تمام خطرناک مراحل میں امیرالمؤمنین(علیہ السلام) رسول اکرم(علیہ السلام) کے نگہبان ، فدائی اور جانباز سپاہی کے طور پر حاضر اورموجود رہے۔

خود امیرالمؤمنین علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں جیسا کہ تاریخ سے بھی ثابت ہے:

’’وَ لَقَدْ وَاسَيْتُهُ‏ بِنَفْسِي‏ فِي الْمَوَاطِنِ الَّتِي تَنْكُصُ فِيهَا الْأَبْطَالُ وَ تَتَأَخَّرُ فِيهَا الْأَقْدَام‘‘‏

میں نے ان مواقع پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر رسول کی مدد کی جہاں بڑے بڑے پہلوانوں اور بہادروں کے قدم لڑکھڑاجاتے اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

سخت ترین مواقع پر بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام ڈٹے رہتے تھے۔ آپ کو خطرے کی کوئی پروا نہیں ہوتی تھی۔ ایسے خطرناک مواقع پر کچھ لوگ اپنی جان بچانے کی فکر کرتے ہیں تاکہ بزعمِ خویش آئندہ اسلام کی خدمت کرنے کا موقع ملے لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس قسم کی تاویلات وتوجیہات کے ذریعے کبھی اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔جی ہاں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عظیم شخصیت فریب کھانے والی نہیں تھی۔جملہ خطرناک مراحل میں آپ صف ِاول میں موجود رہتے تھے۔

۴۴

خلفاء کے ساتھ تعاون اور خاموشی کا دور:

رحلت رسول کے ساتھ ہی امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کے تیس سالہ تلخ ترین ایام کا آغاز ہوگیا۔ وہ دور بہت ہی سہانا، پرلطف اور شیرین تھا جب رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ تھے اورامیرالمومنین آپ کےزیر سایہ جہاد کرتے تھے۔

رحلت رسول کے ساتھ ہی یہ دور اختتام پذیر ہوا اور ایک تلخ دور کی ابتدا ہوئی۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے فتنوں کے بادل آنکھوں کو اس طرح تاریکی سے ہمکنار کرنے لگے کہ سامنے کچھ سجھائی نہیں دیتا تھا اور ایک ایک قدم اٹھانا دشوار تھا۔

ان سنگین حالات میں امیر المومنین علیہ السلام نے ایثار و فداکاری کے عظیم ترین باب رقم کیے۔ رحلت رسول کے ساتھ ہی امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف ہوگئے۔ آپ اس بات سے غافل نہیں تھے کہ(سقیفہ میں) کچھ لوگ جمع ہوگئے ہیں جو عالم اسلام کے مستقبل کی حکومت اور مسلمانوں کے اقتدار کی تقدیر رقم کرنے کے درپے ہیں لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام کو جس چیز کی پروا نہیں تھی وہ ان کی اپنی ذات تھی۔

جب حضرت ابوبکر کی خلافت پختہ ہوگئی اور لوگوں نے ان کی بیعت کرلی اور جو ہونا تھا وہ ہوچکا تو امیرالمؤمنین علیہ السلام کنارہ کش ہوگئے۔ اس کے بعد آپ(علیہ السلام) کا کوئی ایسا بیان سامنے نہیں آیا جو حکومت ِوقت سے ٹکڑاؤ اور محاذ آرائی کا آئینہ دار ہو۔ البتہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ابتدائی دنوں میں یہ کوشش ضرور کی کہ جو چیز آپ کی نظر میں برحق اور واجب العمل تھی اس کی حاکمیت برقرار ہو۔لیکن جب آپ نے دیکھ لیا کہ لوگ بیعت کرچکے ہیں،پانی سر سے گزرچکا ہے اور حضرت ابوبکر خلیفہ بن گئے ہیں تو اس کے بعد آپ نے ایک ایسے انسان کا موقف اپنایا جو اپنے تحفظات او ر اعتراضات کے باوجود حکومت ِوقت کےلئے خطرہ بننے اور نقصان پہنچانے پر آمادہ نہ ہو۔ یہ بات تاریخ میں ثبت ہے۔حضرت امیرالمؤمنین(علیہ السلام) نے اس دوران (یہ دور طویل نہ تھا بلکہ مختصر اور شاید چندماہ پر مشتمل تھا) فرمایا:

’’لَقَدْ عَلِمْتُمْ‏ أَنِّي‏ أَحَقُ‏ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَيْرِي‘‘

تم لوگوں کو معلوم ہے کہ میں تمام لوگوں سے زیادہ خلافت کا حقدار ہوں۔ ’’وَ اللَّهِ لَأُسْلِمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ‘‘ اللہ کی قسم جب تک مسلمانوں کے امور سلامتی کے ساتھ چلتے رہیں گے اور جب تک میں یہ دیکھتا رہوں گا کہ کسی پر ظلم نہیں ہورہا ہے اس وقت تک میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے خاموش بیٹھا رہوں گا۔

’’وَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّة‘‘

جب تک میرے سوا کسی اور پر ظلم نہ ہورہا ہو یعنی معاشرے میں ظلم و جور کی حکمرانی نہ ہو اور ظلم صرف میرے اوپر ہورہا ہو تب تک میں کسی سے سروکار نہیں رکھوں گا اور کوئی مزاحمت یا اعتراض نہیں کروں گا ۔

مختصر مدت بعد یعنی شاید کچھ ماہ گزرنے سے بھی پہلے بعض گروہوں نے مرتد ہونا شروع کیا۔ شاید اس کے پیچھے انہیں اکسانے والے محرکات بھی موجود تھے۔ بعض عرب قبائل نے یہ سوچا کہ اب مسلمانوں کا رہبر یعنی پیغمبر موجود نہیں رہے۔اس لئے بہتر ہے کہ کوئی بہانہ یا اعتراض تراش کر مزاحمت، جنگ اور لڑائی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ شاید منافقین انہیں اکسارہے تھے۔ بہرحال ارتداد کا واقعہ پیش آیا(اور بعض مسلمان مرتد ہوگئے)۔

یوں ارتداد کی جنگیں شروع ہوگئیں۔ جب یہ حالات سامنے آئے تو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے دیکھا کہ اب خاموشی درست نہیں بلکہ اب میدان ِعمل میں اتر کر حکومت وقت کو بچانا چاہئے۔ فرمایا:’’فَأَمْسَكْتُ يَدِي‘‘ یعنی جب ابوبکر خلیفہ بن گئے تو میں نے ہاتھ کھینچ لیا اور کنارہ کشی اختیار کی

’’حَتَّى‏ رَأَيْتُ‏ رَاجِعَةَ النَّاس‏ قَدْ رَجَعَتْ يُریدُ مَحوَ الإِسْلامِ‘‘

یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اسلام کو چھوڑ کر کافر ہورہے ہیں اور اسلام کو محو کرنا چاہتے ہیں۔ تب میں واردِ میدان ہوا۔

یوں امیرالمؤمنین علیہ السلام میدان میں اترے۔ اس کے بعد تمام اہم اجتماعی مسائل میں آپ نے فعال کردار ادا کیا۔ خود امیرالمؤمنین علیہ السلام خلفاء کے پچیس سالہ دور میں اپنے فعال کردار کو وزارت کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

قتل عثمان کے بعد جب لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو خلیفہ منتخب کرنے کےلئے آئے تو آپ نے فرمایا: میرا وزیر ہونا امیر ہونے سے بہتر ہے۔ مجھے حسب سابق وزیر رہنے دو ۔

امام علیہ السلام اپنی پچیس سالہ کارکردگی کو وزارت کا نام دیتے ہیں کیونکہ اس دوران آپ برسر ِاقتدار خلفاء اور حکمرانوں کی مدد کرتےرہے تھے۔ یہ ایک زبردست اور عظیم ایثار تھا۔انسان یہ دیکھ کر سچ مچ حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس معاملے میں کس قدر ایثار کا ثبوت دیا تھا۔ اس پورے پچیس سالہ دور میں امام نے حکومت کا تختہ الٹنے، بغاوت کرنے، مقابلہ کرنے اور حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے وقت امیرالمؤمنین علیہ السلام ۳۳ سالہ جوان تھے۔ آپ کی جوانی اور جسمانی قوت جوبن پر تھی اور جوانی کا جوش و جذبہ موجزن تھا۔

آپ لوگوں کے درمیان محبوب ،ذہین و فطین اور بےپناہ علم کے حامل تھے۔ایک انسان میں جتنے کمالات ممکن ہیں وہ سب آپ کے اندر بدرجۂ اتم موجود تھے۔ اگر آپ کوئی باغیانہ اقدام کرنا چاہتے تو یقیناً کرسکتے تھے لیکن آپ نے ان پچیس سالوں میں اسلامی معاشرے کے عمومی اور کلی مصالح ومفادات کی حمایت وحفاظت اور خدمتِ خلق کے علاوہ کوئی قدم نہیں اٹھایا حالانکہ حکومت کے سربراہ خلفا تھے۔ اس دوران آپ نے کوئی مزاحمتی حرکت نہیں کی اور تاریخ میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی۔ یہاں بعض غیر معمولی اہمیت کے حامل واقعات قابل ذکر ہیں لیکن ان کی تاریخی بحث میں جانے کی گنجائش نہیں۔

خلیفہ دوم کی وفات کے بعد چھ رکنی شوریٰ میں امام کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ امام(علیہ السلام) نے ناراضگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس میں شامل ہوئے۔

آپ نے یہ نہیں فرمایا:’’ یہ لوگ میرے ہم پلہ نہیں ہیں۔ طلحہ و زبیر کہاں، عبد اللہ بن عوف کہاں، عثمان کہاں اور میں کہاں؟‘‘

حضرت عمر کی وصیت کے مطابق چھ افراد کی شوریٰ تشکیل دی گئی جو اپنے درمیان میں سے ایک شخص کو خلیفہ منتخب کرے۔

ان چھ افراد میں سے بطور خلیفہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے انتخاب کا احتمال سب سے زیادہ تھا۔

عبدالرحمن بن عوف کی رائے فیصلہ کن تھی کیونکہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دو ووٹ تھے: ایک آپ کا اپنا اور دوسرا زبیر کا۔حضرت عثمان کے بھی دو ووٹ تھے: ان کا اپنا اور طلحہ کا۔عبد الرحمان بن عوف کے بھی دو ووٹ تھے: ایک ان کا اپنا اور ایک سعد بن ابی وقاص کا۔

عبد الرحمان بن عوف کی رائے فیصلہ کن تھی۔ اگر عبد الرحمان امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت کرتے تو آپ خلیفہ بن جاتے اور اگر حضرت عثمان کی بیعت کرتے تووہ خلیفہ بن جاتے۔

عبد الرحمان نے پہلے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا رخ کیا اور آپ کو تجویز دی کہ آپ کتاب ِخدا، سنت ِنبوی اور سیرت ِشیخین (یعنی خلیفہ اول و دوم) کی پیروی کا عہد کریں۔

(امام علیہ السلام نے) فرمایا: ’’مجھے صرف کتاب ِخدا اور سنت ِرسول قبول ہے۔

سیرت ِشیخین سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے۔

میں اپنے اجتہاد پر عمل کروں گا اور ان کے اجتہاد کی مجھے ضرورت نہیں ‘‘۔

آپ کی نظر میں جو بات حق تھی اس سے معمولی چشم پوشی کرتے ہوئے آپ حکومت اور اقتدار پر قبضہ کرسکتے تھے لیکن آپ نے ایک لحظے کےلئے بھی یہ نہ سوچا اور حکومت و اقتدار کو خیرباد کہہ دیا۔

یہاں بھی آپ نے قربانی دی۔ آپ نے اپنی ذات اور ذاتیات کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دی بلکہ پاؤں تلے کچل دیا۔

۴۵

روز اول سے ہی اس قسم کے جذبات امیرالمؤمنین علیہ السلام کے وجود سے ظاہر نہیں ہوئے۔ حضرت عثمان کے دور حکومت کے بارہ سال گزرچکے تو ان پر اعتراضات کی شرح میں اضافہ ہونے لگا۔

کچھ لوگوں نے ان کی مخالفت میں ان پر اعتراضات کی بوچھاڑ کردی۔مصر،عراق، بصرہ اور دیگر مقامات سے مخالفین کا جمٖ غفیر مدینہ میں جمع ہوچکا تھا۔

انہوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا اور خلیفہ کی جان خطرے میں پڑگئی۔ ان حالات میں اگر کوئی شخص امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جگہ ہوتا تو وہ کیا کرتا؟

وہ شخص جو اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھتا ہو، جسے پچیس سالوں تک اپنے مسلّمہ حق سے محروم رکھا گیا ہو اور جسے موجودہ حاکم پر بھی اعتراض ہو اور وہ یہ بھی دیکھ رہا ہو کہ خلیفہ کا گھر محاصرے میں ہے تو ذراسوچئے کہ اس وقت کیا ہونا چاہئے تھا؟ عام لوگ بلکہ بڑی بڑی شخصیات بھی ان حالات میں کیا طرز ِعمل اختیار کرتے ہیں؟

وہی طرز ِعمل جو جناب طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ نے اختیار کیا تھا یا دیگر لوگوں نے جو قتل ِعثمان کے واقعے میں کسی نہ کسی طرح دخیل تھے۔

قتل ِعثمان تاریخ ِاسلام کے اہم ترین سانحات میں سے ایک سانحہ ہے۔

۴۶

نہج البلاغہ، اسلامی مآخذ اور تاریخ اسلام سے خوب واضح ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کو کن لوگوں نے قتل کیا اور قتل کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے؟ جن افراد نے بعد میں اپنے مقاصد کے حصول کےلئے حضرت عثمان سے عقیدت کے اظہار کا سہارا لیا اور ان کی حمایت کا ڈھنڈورا پیٹا انہوں نے ہی اندر سے لوگوں کو اکسایا تھا اور خلافت کی پشت میں خنجر گھونپ دیا تھا۔

عمروبن عاص سے پوچھا گیا : کس نے حضرت عثمان کو قتل کیا ؟

جواب دیا؟

فلان (ایک صحابی کا نام لیا) نے تلوار بنائی، فلان نے اسے تیز کیا، فلان نے اسے مسموم کیا اور فلان نے ان پر وار کیا۔‘‘ حقیقت بھی یہی ہے۔ اس سانحے میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کمال ِاخلاص کے ساتھ وہ کردار ادا کیا جسے آپ اپنی شرعی اور اسلامی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ آپ نے امام حسن(علیہ السلام) اور امام حسین علیہ السلام کو جو رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو گرانبہا گوہر اور یادگار تھے حضرت عثمان کی حفاظت کےلئے بھیجا۔

خلیفہ کا گھر محاصرے میں تھا اور کھانے پینے کی چیزیں اندر لےجانے کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ ان حالات میں امام نے خلیفہ کے گھر کے اندر سامان خورد و نوش بھیجا۔ آپ نے بارہا ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کئے جو حضرت عثمان سے خشمگین تھے تا کہ ان کے غیظ وغضب کو کم کیا جاسکے۔ جب انہوں نے حضرت عثمان کو قتل کردیا تو امیرالمؤمنین(علیہ السلام) ناراض ہوئے۔

یہاں بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اندر مفاد پرستی،خودپرستی، ذاتیات اور ذاتی جذبات جو تمام انسانوں میں موجود ہوتے ہیں بالکل نظر نہیں آتے۔ حضرت عثمان کے قتل ہونے کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام ایک قابل ِقبول فرد کے طور پر نیز ایک موقع پرست اور نجات بخش چہرے کی حیثیت سے سامنے آکر یہ کہہ سکتے تھے:

’’لوگو!اب تمہیں سکھ کا سانس نصیب ہوا ہے اور تمہاری گلوخلاصی ہوگئی ہے۔‘‘ ادھر لوگ بھی آپ کو چاہتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔

قتل عثمانؓ کے بعد بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اقتدار اور حصول ِحکومت کی طرف توجہ نہیں دی۔ آپ کی روح کس قدر عظیم ہے!

’’دَعُونِی وَالتَمِسُوا غَیرِی‘‘

لوگو! مجھے رہا کرو اور کسی دوسرے کو تلاش کرو۔ اگر تم کسی اور کو حاکم بناؤگے تو میں اس کا وزیر اور مددگار بنوں گا۔

یہ وہ فرمودات ہیں جن کا اظہار امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان ایام میں کیا لیکن لوگوں نے قبول نہیں کیا۔ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے علاوہ کسی اور شخص کو حاکم بنانے پر تیار نہیں تھے۔

۴۷

آپ(علیہ السلام)کا دور خلافت:

تمام مسلمان طبقات نے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت کرلی۔ اس دن تک کسی بیعت کا دائرہ امیرالمومنین کی بیعت کے دائرے سے زیادہ وسیع اور ہمہ گیر نہیں رہا۔ صرف شام والوں نے آپ کی بیعت نہیں کی۔ تمام مسلمان علاقوں، بزرگوں اور صحابہ نے بیعت کی۔ لوگوں کی ایک محدود جماعت جن کی تعداد دس سے کم تھی باقی رہ گئی۔ حضرت امیرالمؤمنین(علیہ السلام) نے انہیں ایک مسجد میں جمع کیا اور ان میں سے ہر ایک سے بیعت نہ کرنے کی وجہ پوچھی۔ ان میں عبداللہ بن عمر اور سعد بن ابی وقاص شامل تھے۔ کچھ لوگوں نے بیعت نہیں کی۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان سے سوال کیا۔ ہر ایک نے کوئی نہ کوئی عذر پیش کیا اور کوئی نہ کوئی جواب دیا۔ اس کے بعد بعض نے بیعت کرلی اور بعض نے نہیں کی۔ (ان کی تعداد بہت کم تھی) آپ(علیہ السلام) نے انہیں چھوڑدیا۔

ان کے علاوہ باقی معروف شخصیات مثلاً طلحہ و زبیر اور تمام دوسرے افراد نے امیرالمومنین علیہ السلام کی بیعت کرلی۔ قبل اس کےکہ یہ لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت کریں آپ نے فرمایا:

’’واعلموا ‘‘جان لو ’’اَنّی اِن اَجبتُکُم ‘‘

اگر میں تمہارے اصرار پر حکومت قبول کرلوں اور تمہارا مطالبہ مان لوں تو ’’رَکَبتُ بِکُم ‘‘ یعنی اس صورت میں یہ خیال نہ کرنا کہ میں کل کلان معروف چہروں، شخصیات، عمر رسیدہ بزرگوں اور جانے پہچانے افراد کا لحاظ کروں گا۔ یہ خیال نہ کرنا کہ میں فلان، فلان لوگوں کی متابعت اور تقلید کروں گا اور دوسروں کی روش پرچلوں گا۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

’’وَاعْلَمُوا أَنِّي‏ إِنْ‏ أَجَبْتُكُمْ‏ رَكِبْتُ بِكُمْ مَا أَعْلَم‘‘

میں اپنے علم، اپنی تشخیص، اپنی صوابدید اور اسلام کے بارے میں اپنی شناخت کے مطابق تمہیں چلاؤں گا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے لوگوں پر یوں اتمام حجت کرنے کے بعد خلافت قبول کرلی۔ البتہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اس موقع پر بھی مختلف مصلحتوں اور حالات کومدنظر رکھتے ہوئے نرم رویہ اختیار کرسکتے تھے اور لوگوں کے دل موہ لےسکتے تھےلیکن آپ نے دوٹوک ارادے کے ساتھ فیصلہ کن طریقے سےا سلامی اصولوں اور دینی اقدار پر عملدرآمد پر زور دیا جس کے نتیجے میں بہت سارے دشمن آپ کے مقابلے میں صف آرا ہو گئے۔آپ کے سامنے ایک محاذ ان لوگوں کا تھا جو دولت، طاقت اور سازش کی مکمل تجلی گاہ تھے۔ ایک محاذ معتبر،معروف اور معزز چہروں پر مشتمل تھا جبکہ ایک محاذ تقدس مآب اور بظاہر عبادت گزار لیکن روح اسلام، اسلامی تعلیمات، حقیقت اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مقام سے ناآشنا لوگوں پر مشتمل تھا۔ بے رحمی، شدت پسندی اور بداخلاقی ان لوگوں کا وطیرہ تھا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے تین محاذوں پر ناکثین، قاسطین اور مارقین کے تین مختلف گروہوں سے جنگ کی۔ ان میں سے ہر جنگ امام کے جذبۂ توکل و ایثار کی علامت نیز انانیت اور خود محوری سے آپ کے اجتناب کی نشانی ہے۔ آخر کار آپ اسی راہ میں شہید ہوئے جس کے بارے میں کسی نے کہا ہے: ’’علی کو آپ کے عدل نے خون میں غلطاں کیا۔‘‘ اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام عدل کی رعایت نہ کرتے بلکہ رو رعایت سے کام لیتے نیز عالم اسلام کی مصلحتوں پر اپنی عزت ومنزلت اور شخصیت کو ترجیح دیتے تو آپ کامیاب ترین اور مضبوط ترین خلیفہ ہوتے اور آپ کا کوئی مخالف بھی نہ ہوتا لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام تو حق و باطل میں تمیز کی کسوٹی ہیں۔ اسی لئے جو کوئی علی کا پیروکار ہے ، آپ کو مانتا ہے اور آپ کی روش پر چلنے کا خواہاں ہے وہ برحق ہے اور جو آپ کو نہیں مانتا وہ باطل ہے۔یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام انانیت، جذبات اور ذاتی مفادات کو ذرہ برابر شریک یادخیل کئے بغیر حق کے راستے پر گامزن رہے۔ بنابریں علی حقیقت میں حق کی کسوٹی ہیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی یہ ہے:

’’وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْري نَفْسَهُ ابْتِغاءَ مَرْضاتِ الله‘‘ ۔

امیرالمومنین نے صرف اپنی شہادت اورموت کے وقت ہی راہِ خدا میں جان نہیں دی بلکہ آپ زندگی بھر راہ خدا میں جان نچھاور کرتے رہے۔

( ۲۸/۲/۱۳۶۸ھ ش)۔

۴۸

امیرالمؤمنین علیہ السلام نےاس دوران ثابت کیا کہ اسلام کے وہ اصول اور اقدار جو اسلام کی گوشہ نشینی اور اسلامی معاشرے کی محدودیت کے دوران وجود میں آئے تھے وہ اسلامی معاشرے کی مادی پیشرفت ، ترقی، خوشحالی، رفاہ، وسعت اور اقتدار کے دور میں بھی قابلِ عمل ہیں۔اگرہم اس نکتے پر توجہ دیں تو یہ بہت ہی اہم معلوم ہوگا۔ اسلامی اصول و ضوابط، عدل ِاسلامی، انسان کی توقیر و تکریم، جذبۂ جہاد، اسلامی تعمیر و ترقی نیز اسلامی اخلاق و اقدار کی بنیادوں سے مربوط تعلیمات عصرِ رسول میں وحی کے ذریعے نازل ہوئیں اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ممکنہ حد تک اسلامی معاشرے میں انہیں عملی جامہ پہنایا لیکن عصر رسول کا اسلامی معاشرہ کیا تھا؟ دس سالوں تک تو صرف مدینہ تھا۔ کئی ہزار مکینوں پر مشتمل چھوٹا سا شہر۔ بعد میں جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے مکہ اور طائف کو فتح کیا تب بھی ایک محدود سرزمین تھی جس کی ثروت محدود تھی،وسائل بہت کم تھے البتہ فقر ہمہ گیر تھا۔ اس قسم کے محدود ماحول میں اسلامی اقدار کی بنیاد رکھی گئی۔

پھر رحلت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پچیس سال کا عرصہ بیت گیا۔ ان پچیس سالوں کے دوران اسلامی مملکت کی وسعت میں دو تین گنا نہیں بلکہ کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا۔جس دن امیرالمومنین کو حکومت ملی اس دن وسطی ایشیا سے لےکر شمالی افریقہ (یعنی مصر) تک کا علاقہ اسلامی حکومت کی قلمرو میں شامل تھا۔

۴۹

ابتدائی اسلامی حکومت کی دوہمسایہ سوپرطاقتیں (یعنی ایران و روم) میں سے ایک یعنی حکومت ایران مکمل طور سرنگوں ہوچکی تھی اور اس دور کے ایران کی ساری سرزمین اسلام کے قبضے آچکی تھی۔ ادھر سرزمین روم کا بھی ایک بڑا حصہ (شام، فلسطین، موصل اور دیگر علاقے) عالم اسلام کا حصہ بن چکاتھا۔ اسلامی سرزمین اس قدر وسیع ہوچکی تھی اورمال و دولت کی ریل پیل ہو گئی تھی۔ اب فقر، ناداری، اور خوراک کی کمی کا مسئلہ باقی نہ رہا تھا۔

سونا رائج ہوچکا تھا ، پیسوں کی بہتات ہوچکی تھی اور بےتحاشا دولت وجود میں آچکی تھی جس کی وجہ سے اسلامی مملکت امیر ہوچکی تھی۔ بہت سے لوگ ضرورت سے زیادہ خوشحال ہوچکے تھے۔ اگر علی علیہ السلام کو اس درمیان سے حذف کردیا جائے تو ممکن تھا کہ تاریخ یہ فیصلہ کرتی اور کہتی کہ:’’عہد رسول کے اسلامی اصول و اقدار ٹھیک تھے مگر مدینۃ النبی والے دور کےلئے (جب اسلامی معاشرہ محدود اور نادار تھا) لیکن جب اسلامی معاشرہ وسیع اور مختلف تہذیبوں سے مخلوط ہوا، ایران اور روم سے مختلف قسم کی ثقافتیں اور تہذیبیں در آمد ہو کر لوگوں کی زندگی کے ساتھ مخلوط ہوگئیں اور مختلف قسم کی اقوام اسلامی معاشرے کی چھتری تلے جمع ہوگئیں تو اس کے بعد وہ اصول و اقدار کافی نہیں رہے اور ان کے ذریعے مملکت کا نظام نہیں چلایا جاسکتا تھا ‘‘۔

لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے پانچ سالہ دورمیں اپنے طرز ِحکومت، اپنے عمل اور اپنی سیرت کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ عصرِنبوت کے وہی درخشاں اصول و اقدار (وہی توحید، عدل، انصاف اور انسانوں کی برابری) اب بھی امیرالمؤمنین علیہ السلام جیسے مقتدر خلیفہ کے ذریعے عملدرآمد اور نفاذ کے قابل ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جو تاریخ میں باقی ہے۔اگر چہ یہ روش علی علیہ السلام کے بعد باقی نہ رہی لیکن آپ نے ثابت کیا کہ اگر اسلامی حکمران، معاشرے کو چلانے والے ارباب ِبست و کشاد اور مسلمان حکام اعتقادِ راسخ کے ساتھ ارادہ کریں تو وہ انہی اصولوں کو اسلامی حکومت کی وسعت کے دور میں نیز نت نئے حالات میں بھی نافذ اور لوگوں کو ان سے مستفید کرسکتے ہیں۔ واضح ہے کہ کہاں دس پندرہ ہزار افراد پر مشتمل مدنی معاشرے میں عدلِ اجتماعی کا قیام اور کہاں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور حکومت کے کروڑوں بلکہ دسیوں کروڑ کی آبادی پر مشتمل معاشرے میں عدل اجتماعی کا نفاذ۔ لیکن امیرالمؤمنین علیہ السلام نے یہ کارنامہ کر دکھا یا۔

یہاں میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بعض اقدامات کا ذکر کروں گا (جو آپ کے بیانات میں منعکس ہیں)۔ اس قسم کی ہزاروں مثالیں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

لوگوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت پر اصرار کر رہے تھے لیکن آپ قبول نہیں فرما رہے تھے۔ پھر لوگوں کا اصرار بڑھ گیا۔ سارے چھوٹے بڑے لوگوں، روساء اور پرانے صحابہ نے کہا: صرف علی بن ابی طالب منظور ہے۔ آپ کے سوا کوئی اور منظور نہیں۔ لوگ آئے اور اصرار کے ساتھ امام کو لےگئے۔

۵۰

امام علی علیہ السلام نے فرمایا: پس چلو مسجد چلیں۔وہاں آپ نے زیب ِمنبر ہوکر خطبہ دیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔فرمایا: چیدہ چیدہ برگزیدہ اور بااثر لوگ آج تک جو اموال بیجا اورناحق ہڑپ کرچکے ہیں (بیت المال سے) وہ مجھے جہاں کہیں ملیں بیت المال میں واپس لوٹاؤں گا۔

ان چند سالوں کے دوران کچھ لوگ بیت المال سے رقم ہتھیانے میں کامیاب ہوچکے تھے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: میں یہ سب رقوم واپس لوں گا:

’’لَوْ وَجَدْتُهُ‏ قَدْ تُزُوِّجَ‏ بِهِ النِّسَاءُ‘‘

اگرچہ مجھے یہ معلوم ہو کہ ان پیسوں کو تم نے عورتوں کا مہر قرار دیا ہے،

’’وَ مُلِكَ بِهِ الْإِمَاءُ‘‘

اور اگرچہ ان پیسوں سے تم لوگوں نے کنیزیں خریدی ہوں پھر بھی

’’لَرَدَدْتُه‘‘ ‏

میں انہیں ضرور بیت المال میں لوٹاؤں گا۔ بڑے لوگ اور عوام جان لیں کہ میری روش یہ ہے۔

چند دنوں بعد مخالفتوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔البتہ معاشرے کے مظلوم اور محروم لوگ خدا سے یہ چاہتے تھے کہ اس قسم کی روش پر عمل ہو لیکن بااثر طبقہ اور وہ لوگ جو اس خطاب کے براہ راست مخاطَب تھے وہ اس سے ناراض تھے جو ایک بدیہی بات ہے۔ ان لوگوں نے بیٹھ کر مشورہ کیا اور کہا کہ علی آخر کیا کرنا چاہتا ہے؟ ولید بن عقبہ (جو حضرت عثمان کی طرف سے کوفہ کا گورنر تھا) ان لوگوں کی طرف سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: یا علی! ہماری طرف سے آپ کی بیعت مشروط ہے:

’’وَ نَحْنُ‏ نُبَايِعُكَ‏ الْيَوْمَ‏ عَلَى أَنْ تَضَعَ عَنَّا مَا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْمَالِ فِي أَيَّامِ عُثْمَان‘‘

ہماری شرط یہ ہے کہ آپ اس مال کوہاتھ نہ لگائیں جو ہم نے آپ کی حکومت سے پہلے حاصل کیا ہے۔ ولید بن عقبہ کے بعد طلحہ و زبیر آئے۔

البتہ ولید بن عقبہ کا معاملہ طلحہ و زبیر سے مختلف ہے۔ ولید بن عقبہ درحقیقت ان لوگوں میں سے ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ اس کا گھرانہ اسلام دشمن اور انقلاب دشمن تھا۔ انہوں نے اسلام سے جنگ کی تھی پھر جب اسلام کو فتح حاصل ہوئی تو عصر رسول کے اواخر میں بنی امیہ کے دیگر لوگوں کی طرح وہ بھی مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کے برعکس طلحہ و زبیر کا شمار ابتدائی مسلمانوں اور رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے قریبی اصحاب میں ہوتا تھا۔ طلحہ و زبیر (جو اس دور کے مسلمان بزرگ اور پیغمبر کے باقی ماندہ صحابی تھے) امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور شکایت آمیز گفتگو کرنے لگے۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا:

’’إِنَّكَ جَعَلْتَ حَقَّنَا فِي‏ الْقسْمِ‏ كَحَقِ‏ غَيْرِنَا‘‘

آپ نے بیت المال کی تقسیم میں ہمیں دوسروں کے ساتھ یکساں قرار دیا ہے۔

’’وَ سَوَّيْتَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ مَنْ لَايُمَاثِلُنَا‘‘

آپ نے ہمیں ان لوگوں کی طرح قرار دیا ہے جو ہماے ہم پلہ نہیں ہیں۔ آخر یہ کیا ہے؟ آپ فرق کیوں نہیں کرتے؟

’’مَنْ لَا يُمَاثِلُنَا فِيمَا أَفَاءَ الله تَعَالَى بِأَسْيَافِنَا وَ رِمَاحِنَا‘‘

یہ اموال ہماری تلواروں کے طفیل ہاتھ آئے ہیں۔ ہم نے اسلام کے قافلے کو آگے بڑھایا ہے۔یہ سب ہماری زحمتوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ آج آپ ہمیں ان لوگوں کے ساتھ یکساں قرار دے رہے ہیں جو نئے نئے آئے ہیں، جو عجمی ہیں اور مفتوحہ ممالک کے باسی ہیں؟۔

ولید بن عقبہ کو امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ میری نظروں سے نہیں گزرا ہے (تاریخ میں ثبت نہیں ہے) لیکن آپ نے دوسروں کو جواب دیا تھا۔ امام نے منبر پر جاکرسخت لہجے میں جواب دیا اور بیت المال کی مساوی تقسیم کے بارے میں فرمایا:

’’فَإِنَّ ذَلِكَ‏ أَمْرٌ لَمْ‏ أَحْكُمْ‏ فِيهِ‏ بَادِئَ بَدْءٍ

اس روش کا بانی میں نہیں ہوں۔

قَدْ وَجَدْتُ أَنَا وَ أَنْتُمَا رَسُولَ الله يَحْكُمُ بِذَلِك‘‘

بہ تحقیق میں نے اور تم نے (ہم سب نے) رسول اللہ کواس طرح عمل کرتے ہوئے دیکھا اور پایا ہے۔ میں نے کوئی نیا کام تو نہیں کیا ہے۔ میں پیغمبر کی اسی روش پر چل رہاہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آج اُنہی اقدار اور اُنہی اعتقادی و عملی اصولوں کو معاشرے میں پابرجا کروں۔

پھر آپ نے ایسا ہی کیا اور یہ سلسلہ جاری رکھا۔ آپ نے اس کی بھاری قیمت بھی چُکائی۔ اس رویے کی قیمت تین جنگیں تھیں لیکن آپ نے استقامت دکھائی۔ واضح ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام خلافت کو اپنا حق سمجھتے تھے لیکن رحلت رسول کے بعد آپ کو یہ حق نہیں ملا۔آپ جس چیز کو اپنا حق سمجھتے تھے اس کےلئے آپ نے پچیس سالوں تک کوئی جنبش نہیں کی بلکہ اگر بعض لوگ اس بارے میں کچھ کہنا بھی چاہتے تھے تو آپ نے انہیں روک لیا۔

’’إِنَّكَ لَقَلِقُ الْوَضِينِ تُرْسِلُ‏ فِي‏ غَيْرِ سَدَد وَ دَعْ‏ عَنْكَ‏ نَهْباً صِيحَ فِي حَجَرَاتِه‘‘‏ ۔

امیر المومنین علیہ السلام اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے۔ آپ نے اس مسئلے میں پچیس سال تک کوئی ردّ عمل نہیں دکھایا۔ اس کے برعکس ایک ایسے مسئلے میں جو بظاہر اُس مسئلے سے کم اہمیت کا حامل تھا (یعنی عدل ِاجتماعی، سنتِ نبوی کے احیاء اور پیغمبر نے جس مستحکم عمارت کی بنیاد رکھی تھی اس کی تعمیر کے معاملے میں) آپ نے تین جنگیں لڑیں:

جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان۔

آپ دیکھئے کہ یہ کام امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نظر میں کس قدر اہم تھا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بڑا کارنامہ یہی ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام نے اسی بارے میں ایک اور جملہ کہا ہے:

’’لَا تَمْنَعَنَّكُمْ‏ رِعَايَةُ الْحَقِّ لِأَحَدٍ عَنْ إِقَامَةِ الْحَقِّ عَلَيْه‏‘‘

یعنی اگر کوئی شخص مومن ہے ، مجاہد فی سبیل اللہ ہے،عظیم خدمات کا حامل ہے، جنگیں لڑچکا ہے اور بڑے کارنامے انجام دےچکا ہے تو اس کے حق کی رعایت تمہارے اوپر لازم ہے لیکن اگر یہی شخص کوئی غلطی کرے اور کسی کا حق ضائع کرے تو تم جو صاحب ِاختیار ہو یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اس شخص کے اُس واجب حق کی وجہ سے اس کی غلطی کا مواخذہ نہ کرو اور اسے سزا نہ دو۔

بنابریں مختلف مسائل کو ایک دوسرے سے الگ کرو۔ اگر کوئی شخص اچھا ہے، قیمتی ہے، اچھے ماضی کا حامل ہے نیز اسلام اورملک کی خدمت کرچکا ہے تو ٹھیک ہے، اس کا حق ثابت اور محفوظ ہے۔ ہم اس کے مخلص ہیں لیکن اگر وہ گڑبڑ کرے تو اس کا وہ حق اس بات کا موجب نہ بنے کہ اس کی غلطی سے چشم پوشی کی جائے۔

یہ ہے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا اصول۔

شاعر نجاشی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لشکر کا حوصلہ بڑھانے کےلئے اشعار کہتے تھے۔

وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے ارادت رکھتا اور آپ کے حزب میں شامل تھا۔ امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنے، آپ کے ساتھ اخلاص اور سابقہ خدمات کے لحاظ سے اس کا رویہ معروف تھا لیکن اس نے ماہ رمضان میں روزے کی حالت میں شراب نوشی کی۔ جب امیرالمومنین علیہ السلام کو خبر ملی تو فرمایا: شراب کی حد معلوم ہے۔ اسے لاؤ تاکہ اس پر حد جاری ہو۔ امیر المومنین علیہ السلام نے لوگوں کی نگاہوں کے سامنے اس پر شراب کی حد جاری فرمائی اور اسے اسّی تازیانے مارے۔ اس کے خاندان اور قبیلے والے امیر المومنین علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے: یا امیر المومنین علیہ السلام ! آپ نے ہماری آبرو خاک میں ملادی۔

یہ شخص آپ کی جماعت کا آدمی تھا، آپ کا حامی تھا،(آج کل کی اصطلاح میں: ) آپ کی پارٹی کا آدمی تھا۔ آپ نے فرمایا: میں نے کچھ نہیں کیا۔ ایک مسلمان نے جرم کیا اور اس پر خدا کی ایک حد واجب ہوئی جسے میں نے نافذ کیا۔

نجاشی نے علی علیہ السلام کے ہاتھوں تازیانے کھانے کے بعد کہا: آج کے بعد میں جاکر معاویہ کے حق میں اشعار کہوں گا۔ چنانچہ وہ امیر المومنین علیہ السلام کو چھوڑ کر معاویہ کے پاس چلاگیا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا: افسوس نجاشی ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اسے ہمارے پاس ہونا چاہئے تھا وغیرہ۔نہیں۔ جانے دو البتہ اگر ہمارے پاس رہتا تو بہتر ہوتا۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش اور آپ کی منطق یہ تھی۔ آپ نے نجاشی کے ساتھیوں سے فرمایا

: ’’فَهَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ‏ مِنَ‏ الْمُسْلِمِينَ‏ انْتَهَكَ حُرْمَةً مِنْ حُرَمِ اللّٰهِ فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ حَدّاً كَانَ كَفَّارَتَه‘

‘ ہم نے اس پر حد جاری کی اور اس کا گناہ دھل گیا۔

قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص پر حد واجب ہوگئی تھی۔(وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا رشتہ دار بھی تھا۔) امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بعض ارادتمندوں نے جو اس شخص کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے مشورہ کیا کہ آؤ آپ کے پاس چل کر مسئلہ حل کرلیتے ہیں۔ یہ لوگ پہلے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تا کہ آپ کے ذریعے آپ کے پدر بزرگوار کے ہاں سفارش کی جائے۔

امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: میرے جانے کی ضرورت نہیں۔ تم خود جاؤ۔میرے والدامیرالمومنین تمہیں پہچانتے ہیں۔

پس وہ خود ہی امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پاس آئے اور بولے: ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے۔ مدد کیجئے۔ آپ نے جواب میں فرمایا:جس چیز کا اختیار میرے پاس ہو اسے انجام دینے سے دریغ نہیں کروں گا۔وہ لوگ خوشی خوشی باہر نکل آئے۔ راستے میں امام حسن علیہ السلام سے ملے۔ امام حسن علیہ السلام نے پوچھا: کیا ہوا؟ بولے الحمد للہ اچھا ہوا۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔ فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے تم سے کیا کہا؟ بولے: امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا: جو کام میرے اختیار میں ہو اور مجھ سے مربوط ہو وہ میں تمہارے لئے انجام دوں گا۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: پس جاؤ اور وہ کام کرو جو اس پر حد جاری ہونے کی صورت میں تم نے انجام دینا ہے۔

بعد میں امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس پر حد جاری کردی۔

ان لوگوں نے آکر پوچھا: یا امیر المومنین!اس شخص پر حد کیوں جاری ہوئی؟

فرمایا: حد میرے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔

میں نے کہا تھا کہ جو میرے اختیار میں ہو وہ میں تمہارے لئے انجام دوں گا جبکہ حد میرے اختیار میں نہیں ہے ۔

یاد رہے کہ بنی اسد کے لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخلص دوستوں میں شامل تھے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی زندگی کچھ اس قسم کی تھی۔

آپ کی خوراک، آپ کے لباس نیز آپ کی اولاد اور آپ کی اولاد کی معاشی حالت کے بارے میں بہت سی باتیں مروی ہیں۔

راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام بیٹھے غذا تناول فرمارہے ہیں۔ ان کی غذا روٹی،سر کے اور سبزی سے عبارت تھی۔

میں نے عرض کیا: آقا زادو: آپ سردار ہیں، آپ حکمران گھرانے کے افراد ہیں، آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور بازار میں اس قدر خوراک موجود ہے :

’’و فی الرحبة ما فیها‘‘

رحبہ (جو کوفہ کے نزیک ہے) میں اس قدر (غذائی) مواد پڑا ہوا ہے اور لوگ اس سے استفادہ کررہے ہیں۔ آپ امیرزادوں کی خوراک یہ ہے؟ حسنین نے اس کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

’’ما اغفلک عن امیر المومنین‘‘

تو امیرالمومنین سے غافل ہو۔ جاؤ اور آپ کی حالت دیکھو۔

اپنے گھرانے کے ساتھ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش یہی تھی۔آپ علیہ السلام نے زینب کبریٰ علیہا السلام کا واقعہ سن رکھا ہے جب آپ نے ابورافع سے عاریہ لیا تھا۔

آپ عقیل کا واقعہ سن چکے ہیں۔

عقیل (امام کے بھائی)نے امام سے کوئی چیز مانگی

’’صاع من بُرٍّ‘‘

یعنی اپنے حصے سے کچھ اضافی گندم۔

تب امام نے آگ میں تپایا ہوا لوہا اٹھایا اور اسے عقیل کے قریب کیا البتہ ان کے بدن سے مس نہیں کیا بلکہ انہیں ڈرایا اور ان کا مطالبہ قبول نہیں کیا۔

عبد اللہ بن جعفر (جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کا بھتیجا اور داماد یعنی حضرت زینب کے شوہر تھے) نے آپ کی خدمت میں آکر کہا: یا امیر المومنین!

میں تنگدست ہوں اور وسائل ِزندگی بیچنے پر مجبور ہوں۔میری کچھ مدد کیجئے۔

آپ نے قبول نہیں کیا اور فرمایا: مجھ سے یہ کیوں نہیں کہتے ہو کہ تمہارا چچا چوری کرے اور لوگوں کا مال چرا کر تمہیں دے دے؟

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک معیار معین فرمایا تاکہ عصر رسول کے اصولوں کی بنیاد پر ایک پیشرفتہ، وسیع، متمدن اور ثروتمند معاشرے کی حکومت (جس طرح آپ کی حکومت تھی) چلائی جائے۔ آپ کے دور میں ہرچیز ترقی کی جانب رواں تھی۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کا ارادہ کیا کہ اس ترقی یافتہ دور میں بھی ان اصولوں کو زندہ کیا جاسکتا ہے:معنویت کا اصول، عدل و انصاف کا اصول، جہاد کا اصول، تعمیر آدمیت کا اصول نیز اہل، لائق اور ایماندار اربابِ اختیار کے انتخاب کا اصول۔

یہ سب اسی حقیقت کے آئینہ دار ہیں۔ یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا عظیم کارنامہ ہے۔

خلاصہ یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ اسلامی اصول و اقدار ہر قسم کے حالات میں قابل ِنفاذ ہیں۔

حقیقت بھی یہی ہے۔

اسلامی اصولوں سے مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام کے لباس کی شکل اور ہیئت نہیں ہے کہ

اگر امیرالمؤمنین علیہ السلام تہبند باندھتے تھے یا لمبی قمیص پہنتے تھے تو آج ہم بھی یہی کام کریں۔

۵۱

اسلامی اصول

اسلامی اصولوں سے مراد ہے: عدل،توحید،لوگوں کے ساتھ انصاف اورحقوق الناس کواہمیت دینا، کمزوروں کا خیال رکھنا،دین دشمن اور اسلام دشمن محاذوں کے مقابلے میں استقامت، حق پر مبنی اقدار اور اسلامی اقدار کی حمایت نیز حق اور حقیقت کی حفاظت کرنا۔ یہ سارے اصول ہردور میں قابل ِعمل ہیں۔

البتہ آج جب ہم یہ باتیں کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اقدار کی بلند ترین چوٹیوں کی بحث کررہے ہوتے ہیں۔

کون ہے جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کا شبیہ بننے کا تصور بھی کرے؟

کوئی شخص امیرالمؤمنین علیہ السلام کا شبیہ نہیں بن سکتا۔

امام سجاد علیہ السلام امیرالمومنین کے پوتے اور معصوم تھے۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ اس قدر عبادت کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہاں ہماری عبادت اور کہاں علی کی عبادت؟ یہاں امام سجاد علیہ السلام جو سید الساجدین اور زین العابدین ہیں فرماتے ہیں کہ ان کا موازنہ علی کے ساتھ نہیں ہوسکتا جبکہ امام سجاداور ہمارے زمانے کے بہترین عبادت گزاروں اور زاہدوں کے درمیان زمین و آسمان کافاصلہ ہے۔

امیرالمؤمنین(علیہ السلام) نے کردار کےاعلی ترین نمونے اور حرکت کی جہت کی نشاندہی فرمائی اور کسوٹی معین کی ہے۔

اب یہ ہماری ہمت کہ ہم کہاں تک جاسکتے ہیں۔

اسلامی نظام سے مرادہے:عدل و انصاف پر مبنی نظام،لوگوں کی مدد،حقوق بشر کا احترام، کمزورں اورمظلوموں کی حمایت اور طاقتور ظالموں کامقابلہ۔

پوری تاریخ میں انسانوں کی اہم مشکلات یہی رہی ہیں۔

بشریت ہمیشہ ان مشکلات میں مبتلا رہی ہے اور آج بھی ہے۔

انہی زیادتیوں کی وجہ سے اقوام نقصان اٹھاتی ہیں اور ان کی زندگیوں میں تلخی بھرجاتی ہے۔ اسلام، امیرالمؤمنین علیہ السلام اور علوی حکومت کا مقصد انہی معاشرتی مسائل کا مقابلہ کرنا ہے خواہ اس معاشرے کے اندر کوئی ظالم کسی ضعیف کونگلنا چاہے خواہ کوئی عالمی اور بین الاقوامی طاقت ایسا کرے۔

(۱۵/۸/۱۳۸۳ھ ش)۔

۵۲

حیاتِ علوی میں طاقت،مظلومیت اور فتح کا امتزاج :

علی علیہ السلام کی زندگی، شخصیت اور شہادت میں یہ تین عناصر جو بظاہر ایک دوسرے ساتھ چندان ہماہنگ نہیں ہیں یکجا نظر آتے ہیں: طاقت ،مظلومیت اور فتح۔

طاقت سے مراد

آپ کی طاقت سے مرادہے: آپ کے فولادی ارادے کی قوت، آپ کے عزم ِراسخ کی قوت،مشکل ترین عسکری امور کو نمٹانے کی قوت، عالی ترین اسلامی وانسانی مفاہیم کی طرف اذہان وافکار کی رہنمائی کی قوت، مالک اشتر، عمار، ابنِ عباس، محمد بن ابی بکر اور دیگر افراد کی طرح عظیم شخصیات کی تربیت کی قوت اور تاریخ انسایت میں ایک عظیم حرکت و تحریک کو وجود میں لانے کی قوت۔

آپ کی قوت کا مظہر اور ثبوت عقل و منطق کی قوت، فکر و سیاست کی قوت، حکومت کی قوت اور آپ کے آہنی بازو کی قوت ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شخصیت میں کسی جہت سے کوئی کمزوری نہیں پائی جاتی۔ اس کے باوجود آپ تاریخ کے مظلوم ترین چہروں میں سے ایک ہیں۔آپ کی زندگی کے تمام شعبوں میں مظلومیت کا عنصر پایا جاتا ہے۔ آپ نوجوانی میں مظلوم واقع ہوئے، رحلتِ رسول کے بعد آپ عین جوانی میں مظلوم واقع ہوئے نیز بڑھاپے اورخلافت کے دوران بھی آپ مظلوم واقع ہوئے۔ شہادت کے بعد بھی سالہا سال تک منبروں سے آپ کی بدگوئی جاری رہی اور آپ پر ناروا تہمتیں لگتی رہیں۔ آپ کی شہادت بھی مظلومانہ ہے۔

تمام اسلامی آثار میں دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں ’’ثار اللہ‘‘کہا گیا ہے۔ فارسی زبان میں عربی لفظ ’’ثار‘‘ کے مفہوم کو درست اور کامل صورت میں بیان کرنے والا کوئی متبادل لفظ موجود نہیں ہے۔ جب کسی گھرانے کا کوئی فرد مظلومانہ طریقے سے قتل ہوجاتا ہے تو اس مقتول کا گھرانہ اس خون کا وارث قرار پاتا ہے۔ اسے’’ثار‘‘ کہتے ہیں۔

اس گھرانے کو حق پہنچتا ہے کہ اس خون کے قصاص یابدلے کا مطالبہ کرے۔ ’’ثار‘‘ کےلئے ہم ’’خونِ خدا‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جو بہت نارسا اور ناقص ہے اور ’’ثار‘‘ کے مفہوم کو صحیح و کامل طریقے سے ادا نہیں کرتی۔ ’’ثار‘‘ سے مراد ہے:خون کا بدلہ لینے کا حق۔

اگر کوئی شخص کسی گھرانے کا ’’ثار‘‘ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ وہ مقتول کی خونخواہی کرسکتا ہے یعنی اس کے خون کے بدلے یا قصاص کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

تاریخ اسلام میں دو اشخاص کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے خون کا وارث خدا ہے اور ان کی خونخواہی کا حق خدا کے پاس ہے۔

ان دونوں میں سے ایک امام حسین علیہ السلام ہیں اور ایک آپ کے والد امیرالمؤمنین علیہ السلام۔

’’یا ثار اللهِ وابن ثارهِ ‘‘

حسین علیہ السلام کے پدر گرامی امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خونخواہی کا حق بھی اللہ کے پاس ہے۔

تیسرا عنصر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی فتح و کامیابی سے عبارت ہے۔ آپ کی کامیابی یہی ہے کہ اولاً آپ نے اپنی زندگی میں ان تمام دشوار چیلنجوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جو آپ کے اوپر مسلط کیےگئے۔ یہ دشمن کے مسلط کردہ محاذوں سے عبارت ہیں جن کی تشریح بعد میں کروں گا۔

دشمن علی کو کسی صورت ہرا نہیں سکے بلکہ ان سب نے علی سے شکست کھائی۔

آپ کی شہادت کے بعد بھی آپ کی درخشاں حقیقت روز بروز آشکار تر ہوتی گئی یعنی آپ کی زندگی کے دور سے بھی گئی گنا زیادہ۔ آج صرف عالم اسلام پر نہیں بلکہ پوری دنیا پرآپ کی حکمرانی ہے۔

ذرا تصور کیجئے کہ علی علیہ السلام کی تعریف کرنے والوں کی کتنی بڑی تعداد موجود ہے۔

ایسے لوگ بھی ہیں جو اسلام کونہیں مانتے لیکن تاریخ کے ایک درخشاں چہرے کے طور پر علی بن ابی طالب کو مانتے ہیں۔ یہ اس گوہر تابناک کی ضوفشانی ہے۔

اللہ تعالی نے آپ کی مظلومیت کی پاداش میں آپ کو اس انعام سے نوازا ہے۔

۵۳

آپ کی مظلومیت دیکھئے، آپ پر ہونے والے مظالم اور شدید پابندیوں کا دباؤ دیکھئے، عجیب و غریب تہمتوں کے ذریعے اس چشمۂ آفتاب کو گِل آلود کرنے کی المناک کوشش دیکھئے اور ان مظالم کے مقابلے میں آپ کا صبر دیکھئے۔

اس صبر کا اجر اللہ تعالی کے پاس ضرور ہے۔

وہ اجر یہ ہے کہ پوری تاریخ ِانسانیت میں آپ کسی چہرے کو اس قدر درخشاں نہیں دیکھیں گے جس پر سب کا اتفاق ہو۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں لکھی جانے والی جن کتابوں کا ہمیں علم ہے ان میں آج تک سب سے زیادہ عشق سے لبریز کتب وہ ہیں جو غیرمسلموں نے لکھی ہیں۔

مجھے اب بھی یاد ہے کہ تین مسیحی لکھاریوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تعریف میں سچ مچ عشق سے لبریز کتابیں تصنیف کی ہیں۔

اس ارادت کا آغاز اسی روز ِاول سےہی ہوا تھا۔

آپ کی شہادت کے بعد سارے دشمنوں نے (یعنی شامی حکومت سے مربوط طاقتوں اور ان کے حلقہ بگوشوں نیز امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شمشیر اور آپ کے عدل کے ہاتھوں زخم کھانے والوں نے) آپ کے خلاف بولنے اور پروپیگنڈہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔

اسی وقت سے یہ حقیقت ظاہر ہوئی۔

۵۴

یہاں میں بطور نمونہ ایک واقعہ عرض کرتا ہوں۔

عبد اللہ بن عروہ بن زبیر کے بیٹے نے اپنے باپ (عبد اللہ بن عروہ بن زبیر) کے پاس امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بدگوئی کی۔

زبیر کے خاندان کے سارے لوگ امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کے مخالف تھے سوائے ایک فرد یعنی مصعب بن زبیر کے۔

مصعب بن زبیر ایک بہادر اور کریم شخص تھا۔ وہ کوفہ اور مختار سے مربوط واقعات میں اور اس کے بعد عبد الملک کے ساتھ مصروف پیکار تھا۔ اس کے سوا زبیر کے خاندان کے دوسرے افراد پشت درپشت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مخالف تھے۔

اس بدگوئی کے بعد باپ نے بیٹے سے ایک جملہ کہا جس سے طرفداری کی زیادہ بو نہیں آتی لیکن اس میں ایک اہم نکتہ موجود ہے جس پر میری توجہ مرکوز ہوئی۔

عبد اللہ نے اپنے بیٹے سے کہا:

اللہ کی قسم! لوگوں نے کوئی چیز نہیں بنائی مگر یہ کہ دین نے اسے ڈھا دیا اور دین نے کوئی چیز نہیں بنائی جسے دنیا والے ڈھاسکے ہوں۔

بالفاظ دیگر دین نے جو چیز بنائی یعنی جس چیز کی بنیاد دین پر رکھی گئی اسے دنیا والے کسی بھی طریقے سے ختم نہ کرسکے۔

پس علی کے نام کو مٹانے کی ناکام کوشش نہ کرو کیونکہ علی کا معاملہ دین و ایمان کی بنیاد پر استوار ہے۔

اس کے بعد کہا:

ذرا دیکھ تو سہی کہ آل مروان پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر جگہ اور ہر منبر سے علی بن ابی طالب کی بدگوئی اور عیب جوئی کریں لیکن یہی بدگوئی اور تہمت طرازی گویا اس درخشان چہرے کی درخشندگی میں اضافہ کرتی ہے اور علی کا بول بالا کرتی ہے۔

بالفاظ دیگر ان کی بدگوئی سے لوگوں کے اذہان پر الٹا اثر ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بنی امیہ کو دیکھ:اللہ کی قسم !بنی امیہ اپنے مردوں کی تعریف میں جس قدر مرثیہ خوانی کرتے ہیں اس قدر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرداروں سے پردہ ہٹارہے ہیں۔ بنی امیہ اپنے مردوں کی تعریف و تمجید میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہیں لیکن وہ جس قدر تعریف کرتے ہیں اسی قدر ان سے لوگوں کی نفرت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔شاید یہ بات امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے تقریباً تیس سال بعد کہی گئی ہے۔گویا امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنی تمامتر مظلومیت کے باوجود اپنی زندگی میں بھی کامیاب ہوئے نیز بعد میں تاریخ بشریت اور قیامت تک لوگوں کے اذہان میں بھی آپ نے اپنی کامیابی کےعلم گاڑھ لئے۔

۵۵

قاسطین، ناکثین اور مارقین

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مظلومیت آپ کے اقتدار کے ساتھ مخلوط تھی۔ اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: آپ کی حکومت (جو پانچ سال سے بھی کم عرصے پر محیط تھی) کے دوران آپ کے مقابلے میں تین محاذ کھل گئے جو قاسطین، ناکثین اور مارقین سے عبارت ہیں۔

شیعہ و سنی محدثین نے نقل کیا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:

’’ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاكِثِينَ وَ الْقَاسِطِينَ وَ الْمَارِقِين‘‘

مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جنگ کروں۔

پہلا محاذ قاسطین:

یہ نام خود امام علیہ السلام نے رکھے تھے۔

قاسطین سے مراد ہے:ستمگر اور ظالم لوگ۔ ’’قسط‘‘ کا مادہ اگر ثلاثی مجرد کے طور پر استعمال ہو تو وہ ظلم کے معنی میں آتا ہے۔

(قَسَطَ، یقسِطُ یعنی جَارَ ،یَجُورُ یعنی ظَلَمَ یَظلِمُ)

لیکن اگر ثلاثی مزید فیہ کے باب ِافعال کے طور پر استعمال ہو

(اَقسَطَ یُقسِطُ)

تو عدل و انصاف کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ بنابریں اگر ’’قسط‘‘ باب افعال میں استعمال ہو تو عدل کے معنیٰ دیتا ہے لیکن اگرثلاثی مجرد

(قَسَطَ یَقسِطُ)

کے طور پر آئے تو باب اِفعال کا برعکس مفہوم یعنی ظلم و جور کامفہوم دےگا۔ قاسطین اسی مادے سے ہے۔

قاسطین سے مراد ہے:ظلم کرنے والے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ان لوگوں کا نام ستمگر رکھا۔ یہ کس قسم کے لوگ تھے؟

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے فائدے اورمصلحت کی خاطر ظاہری طور پر اسلام قبول کیا تھا۔ یہ لوگ علوی حکومت کو سرے سے نہیں مانتے تھے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام ان کے ساتھ جو کچھ کرتے بےسود تھا۔ یہ لوگ بنی امیہ اور معاویہ بن ابوسفیان (جو شام کا حاکم اور گورنر تھا) کے گرد جمع ہوئے تھے۔

اس محاذ کی نمایاں شخصیات میں خود معاویہ ، مروان بن حکم اور ولید بن عقبہ شامل تھے۔

یہ لوگ علی کے ساتھ نباہ کرنے پر تیار نہ تھے۔

درست ہے کہ مُغیرہ بن شُعبہ ، عبد اللہ بن عباس اور دیگر افراد نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حکومت کے آغاز میں آپ سے کہا تھا :

اے امیرالمومنین ! ان لوگوں کو کچھ دنوں تک برداشت کریں لیکن آپ نے قبول نہیں کیا۔ ان لوگوں نے سوچا کہ امام(علیہ السلام) نےسیاسی غلطی کی ہے حالانکہ بات اس کے برعکس تھی اور یہ لوگ خود غافل تھے۔ بعد کے حالات سے یہ بات ثابت ہوگئی۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام خواہ جتنی جتن فرماتے معاویہ آپ کے ساتھ کبھی نباہ نہ کرتا۔ یہ طرز ِفکر وہ نہ تھا جو علی کی حکومت کو قبول کرتا۔

معاویہ کے مسلمان ہونے کے دن سے لےکر اس دن تک جب اس نے امیرالمومنین(علیہ السلام) سے جنگ کی ٹھانی تیس سال سے کچھ کم عرصہ گزر چکا تھا۔

معاویہ اور اس کے حامیوں نے شام میں سالہا سال حکومت کی تھی، اثر و نفوذ حاصل کیا تھا اور ایک مرکز قائم کیا تھا۔ اب ان ابتدائی دنوں والی صورتحال نہ تھی کہ وہ کوئی بات کہہ دیں تو فوراً ان سے کہاجاتا کہ تم نئے مسلمان ہوئے ہو! تم کیا جانتے ہو؟

نہیں اب وہ اپنی حیثیت بناچکے تھے۔ پس اس محاذ کو علوی حکومت سرے سے قبول نہ تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ حکومت اور طرح کی ہو اور ان کے ہاتھوں کا کھلونا ہو۔انہوں نے بعد میں اس کا ثبوت دیا اور دنیائے اسلام نے ان کی حکومت کا تجربہ کرکے دیکھ لیا۔

یہی معاویہ جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ساتھ محاذ آرائی کرتا تھا بعض اصحاب کے ساتھ اچھے روابط رکھتا تھا اور ان سے اظہار محبت کرتا تھا۔ بعد میں اپنے دورِ حکومت میں ان سے سختی برتنے لگا یہاں تک کہ یزید کا زمانہ آیا اور سانحہ کربلا وقوع پذیر ہوا۔

اس کے بعد مروان،عبد الملک، حجاج بن یوسف ثقفی اور یوسف بن عمر ثقفی کا دور آیا جو اموی حکومت کا ثمرہ تھا۔یعنی یہ حکومتیں جن کے جرائم کے ذکر سے تاریخ لرزجاتی ہے وہی حکومتیں ہیں جن کی بنیاد معاویہ نے رکھی تھی۔معاویہ نے اسی خاطر امیرالمؤمنین علیہ السلام سے جنگ کی۔ شروع سے ہی یہ امر آشکار تھا کہ یہ لوگ کس چیز کے طالب ہیں۔ یہ لوگ خالص دنیوی حکومت چاہتے تھے جس کا محور خود پرستی اور ذاتی مفاد ہو۔ بنی امیہ کے دور حکومت میں سب نے ان چیزوں کا خوب مشاہدہ کیا۔

البتہ میں یہاں کسی قسم کی اعتقادی یا نظریاتی بحث نہیں کررہاہوں بلکہ جو کچھ میں عرض کررہاہوں وہ سب تاریخ کے الفاظ ہیں۔

یہ صرف شیعوں کی تاریخ میں نہیں بلکہ تاریخ ِابن اثیر اور تاریخ ِابن قتیبہ و غیرہ میں مذکور ہے جن کا متن میرے پاس محفوط ہے اور میں نے ان کی نسخہ برداری کی ہے۔ یہ باتیں تاریخ کے مسلمات میں سے ہیں۔ یہ شیعہ و سنی مکاتب کے فکری اختلافات کی بحث نہیں ہے۔

۵۶

دوسرا محاذ ناکثین:

امیرالمؤمنین علیہ السلام سے لڑنے والا دوسرا گرہ ناکثین کا تھا۔ ناکثین کے معنی ہیں: توڑنے والے۔ یہاں ناکثین سے مراد بیعت توڑنے والے ہیں۔ انہوں نے پہلے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت کرلی پھر بیعت توڑلی۔ یہ لوگ مسلمان تھے اورگروہِ اول کے برخلاف ’’اپنے لوگ‘‘ تھے البتہ وہ ’’اپنے ‘‘جو علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کو صرف اس صورت میں قبول کرتے تھے جب اس حکومت میں ان کا قابل قبول حصہ ہو، ان کے ساتھ مشورہ کیا جائے، انہیں سرکاری عہدے دیے جائیں، حکومت میں شریک کیا جائےاور ان کے پاس موجود مفت کی دولت سے کوئی تعرض نہ کیا جائے کہ اسے کہاں سے لائے ہو؟

یہ لوگ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو قبول کرتے تھے لیکن اس کی شرط یہ تھی کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں کوئی مؤاخذہ نہ کریں اور نہ پوچھیں کہ یہ اموال کیسے اور کہاں سے لائے ہو ؟ کیوں کھاتے ہو اور کیوں لےجاتے ہو؟ اسی لئے ان کی اکثریت نے شروع میں ہی آکر بیعت کرلی تھی البتہ کچھ لوگوں نے بیعت نہیں کی۔ جناب سعد ابن ابی وقاص نےشروع میں ہی بیعت نہیں کی تھی کچھ اور افراد نے بھی شروع میں ہی بیعت نہیں کی تھی لیکن جناب طلحہ ، جناب زبیر، بزرگ اصحاب اور دیگر نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیعت کرلی تھی اور سب کچھ قبول کرلیا تھا۔ البتہ جب تین چار ماہ گزرگئے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اس حکومت کے ساتھ نباہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ حکومت دوستوں اور آشناؤں کی رعایت نہیں کرتی۔ خود حاکم اعلی اپنے لئے اور اپنے گھرانے کےلئے کسی امتیازی حق کا قائل نہیں ہے۔ وہ اسلام میں سبقت رکھنے والوں کے لیےکوئی امتیازی حق دینے کو تیار نہیں۔

آپ احکامِ الٰہی کے نفاذ میں کسی کا لحاظ نہیں کرتے اگرچہ آپ(علیہ السلام) خود اسلام میں سب پر سبقت رکھتے ہیں۔ پس جب ان لوگوں نے یہ حقائق دیکھے تو یہ سوچا: اس حاکم کے ساتھ ہمارا نباہ نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ وہ آپ سے جدا ہوکر چلے گئے۔ پھر ان لوگوں نے جنگ جمل کی بنیاد رکھی جو سچ مچ ایک فتنہ تھی۔ انہوں نے ام المومنین عائشہ کو بھی اپنے ساتھ ملالیا۔ اس جنگ میں بہت سے لوگ قتل ہوئے البتہ فتح امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ہوئی اور آپ نے معاملات کو درست کرلیا۔ یہ تھا وہ دوسرا محاذ جس نے ایک مدت تک امام علیہ السلام کو مشغول رکھا۔

تیسرا محاذ مارقین:

یہ مارقین کا محاذ تھا۔مارق سے مراد ہے: دور ہونے والا ، نکل جانے والا۔ اس گروہ کو مارق کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل گئے تھے جس طرح تیر کمان سے نکل کر دور ہوجاتا ہے۔ البتہ یہ لوگ دین کے ظاہر پر عمل کرتے تھے اور دین کا نام لیتے تھے۔ یہ لوگ ’’خوارج‘‘ کےنام سے معروف ہیں۔

ان لوگوں نے اپنے طرزِ عمل کی بنیاد بعض انحرافی افکار اور خیالات (جو خطرناکٰ ہیں) پر رکھی تھی۔ یہ لوگ دین کا فہم و ادراک علی ابن ابی طالب سے (جو مفسر قرآن اور علم کتاب کے رازداں تھے) حاصل نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے غلط ذوق کی بنیاد پر دین کا تصور قائم کرتے تھے۔ اگرچہ اس قسم کے لوگ ہرمعاشرے میں موجود ہوتے ہیں لیکن ان کے منظم ہونے، ایک تنظیمی ڈھانچے میں ڈھلنے اور آج کل کی اصطلاح میں ’’پارٹی‘‘اورحزب کی شکل اختیار کرنے کےلئے سیاسی سوجھ بوجھ کی ضرورت تھی۔

یہ سیاسی رہنمائی کہیں اور سے فراہم ہوتی تھی۔

اہم نکتہ یہی ہے۔

اس گروہ کےافراد کوئی بات سنتےہی فوراً قرآن کی ایک آیت پڑھ دیتے تھے۔یہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی نماز جماعت میں آتے تھے اور درمیان میں قرآن کی کوئی آیت پڑھتے تھے جس سے امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کے خلاف کنایہ کا پہلو نکلتا ہو۔ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تقریر کے دوران کھڑے ہوکر کوئی کنایہ آمیز آیت پڑھتے تھے۔ ان کا نعرہ ’’لا حکم الاّ لِلّٰہ‘‘ تھا یعنی ہم آپ کی حکومت کو قبول نہیں کرتے بلکہ اللہ کی حکومت کو مانتے ہیں۔ ان سب ظاہری کاموں کے باوجود ان لوگوں کو سیاسی طور پر منظم کرنے میں ’’گروہ قاسطین‘‘ کے بڑوں اور شامی قیادت (عمرو بن عاص اور امیر معاویہ) کا دماغ نیز ان کی ہدایت و رہنمائی اور رائے کارفرما تھیں۔ مارقین کا قاسطین کے ساتھ رابطہ تھا۔ بہت سے قرائن کی روسے اشعث بن قیس ایک خراب آدمی تھا۔ کچھ بیچارے اور ضعیف العقل لوگ اس کے پیچھے چل پڑے۔

خلاصہ یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو جس تیسرے محاذ کا سامنا کرنا پڑا وہ مارقین کا گروہ تھا۔ البتہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو ان پر بھی فتح حاصل ہوئی۔ آپ نے جنگ نہروان میں ان پر کاری ضرب لگائی پھر بھی یہ لوگ معاشرے میں ناسور کی طرح موجود رہے اور ان کی موجود گی آخر کا ر آپ کی شہادت پر منتج ہوئی۔

خوارج کی شناخت میں غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ لوگ خوارج کو ’’خشک مقدس‘‘ لوگوں سے تشبیہ دیتے ہیں۔

(فارسی میں خشک مقدس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بظاہر عابد وزاہد، تقدس مآب اور دنیا سے لاتعلق نظر آتے ہیں لیکن اندر سے خالی ہوتےہیں۔)

یہ بات درست نہیں۔ہماری بحث خشک ،کھوکھلےتقدس مآب لوگوں سے نہیں۔ تقدس مآب لوگ تو کسی کونے میں بیٹھ کر دعا و عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ خوارج ایسے نہیں تھے۔ خوارج شورش پسند، بحران پیدا کرنے والے اور جنگجو عناصر تھے۔ یہ لوگ علی علیہ السلام سے لڑتے تھے۔ جی ہاں ان کی سوچ کی بنیاد ہی غلط تھی، ان کی جنگ غلط تھی، ان کے وسائل غلط تھے اور ان کا ہدف باطل تھا۔

خلاصہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کو ان تین گروہوں کا سامنا تھا۔ امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کی حکومت کے دوران آپ کو درپیش صورتحال اور رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور ِحکومت و حیات میں آنحضرت کو درپیش صورتحال کے درمیان بنیادی فرق یہ تھا کہ عصر رسول میں ایمان و کفر کی صفوں کے درمیان تفاوت صاف واضح تھا۔،متحارب صفوں کا فرق نمایاں تھا۔ رہے منافقین تو قرآنی آیات مسلمانوں کو منافقین (جو مدینہ کے اندر موجود تھے) کے خطرے سے مسلسل برحذر رکھتی تھیں، ان کی طرف اشارہ کرتی رہتی تھیں، ان کے مقابلے میں مومنین کی تقویت کا سامان کرتی تھیں اور منافقین کے حوصلے پست رکھتی تھیں۔ گویا عصر رسول میں اسلامی حکومت کے اندر ہر چیز واضح اور آشکار تھی۔

اس وقت دوست اور دشمن واضح تھے۔ ایک طبقہ کفر، طاغوت اور جاہلیت کا حامی تھا جبکہ دوسرا طبقہ ایمان ، اسلام ، توحید اورمعنویت کا حامی تھا۔ البتہ وہاں بھی ہر طرح کے لوگ تھے لیکن صفوں کا فرق واضح تھا۔ اس کے برعکس عصر امیر المومنین علیہ السلام میں اصل مشکل مسئلہ یہ تھا کہ صفیں مشخص اور واضح نہ تھیں اور ان میں فرق مشکل تھا کیونکہ (مذکورہ بالا) دوسرے محاذ یعنی ناکثین میں معزز اور معروف چہرے موجود تھے۔ ہر کوئی جناب زبیر اور جناب طلحہ جیسی شخصیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا۔

جناب زبیر عصر رسول کی ممتاز شخصیات میں سے ایک تھے۔

وہ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پھوپھی زاد اور صحابی تھے یہاں تک کہ عصر رسول کے بعد بھی انہوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حمایت میں سقیفہ پر اعتراض کیا تھا۔ البتہ ’’حکم مستوری و مستی ہمہ بر عاقبت است‘‘ (ہرکام کا دار و مدار انجام پر ہوتا ہے)۔

اللہ ہم سب کے انجام کو نیک بنائے۔ بعض اوقات حبّ ِدنیا، دنیا کی رنگینیاں اور گوناگون حالات اس طرح سے اثرات مرتب کرتے ہیں اور بعض شخصیات کے اندر وہ تبدیلیاں لاتے ہیں کہ انسان گاہے خواص کے بارے میں بھی چکراکر رہ جاتا ہے، عام لوگوں کی تو بات ہی اور ہے۔ بنابریں امیرالمؤمنین علیہ السلام کا دور سچ مچ ایک دشوار دور تھا۔

جن لوگوں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا ساتھ دیا، استقامت کا ثبوت دیا اور آپ کی رکاب میں جنگیں لڑیں انہوں نے بہت ہی بصیرت کا ثبوت دیا۔ میں نے بارہا امیر المومنین علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’ وَ لَا يَحْمِلُ هَذَا الْعَلَمَ إِلَّا أَهْلُ الْبَصَرِ وَ الصَّبْر ‘‘

سوائے اہل بصیرت اور اربابِ صبر واستقامت کے کوئی جہاد کا یہ علم نہیں اٹھا سکتا۔

سب سے پہلے بصیرت لازم ہے۔ ظاہر ہے کہ اُس معرکہ گیر و دار میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مشکلات کس قدر سخت تھیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام ان کج رفتار لوگوں کے درمیان پھنسے ہوئے تھے جو اسلام کا دعوی کرتے ہوئے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے جنگ لڑتے اور غلط باتیں کرتے تھے۔

صدر اسلام میں غلط افکار کی بہت تبلیغ ہوتی تھی لیکن قرآن کی کوئی آیت آسمان سے نازل ہوکر ان افکار کو صریحاً رد کرتی تھی۔

مکہ اور مدینہ دونوں میں ایسا ہوتا رہا۔ جب انسان سورہ بقرہ (جو ایک مدنی سورت ہے) کا مطالعہ کرتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس میں زیادہ تر منافقین اور یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جھگڑوں اور چیلنجوں کی تشریح کی گئی ہے اور جزئیات کا بھی تذکرہ ہے۔

یہاں تک کہ قرآن میں ان طریقوں کا بھی ذکر ہے جنہیں مدینہ کے یہودی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذہنی تکلیف دینے کےلئے استعمال کرتے تھے

مثلاً ’’لا تقولوا راعنا‘‘

وغیرہ۔ ادھر سورہ اعراف میں (جو مکی ہے) تفصیل کے ساتھ خرافات کی نفی کی گئی ہے۔ اس میں گوشت کی مختلف اقسام کی حلیت و حرمت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ کچھ لوگ ان کی حرمت کو حقیقی حرمت کے مقابلے میں بے بنیاد اور جعلی قرار دیتے تھے۔

’’قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبىّ‏ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنهْا وَمَابَطَن‏‘‘

یہ چیزیں حرام ہیں نہ کہ وہ جنہیں تم خیال کرتے ہو۔ تم نے سائبہ، بحیرہ اور فلان فلان چیزوں کو اپنے اوپر حرام کیا ہے۔

قرآن اس قسم کے افکار کا صریحاً مقابلہ کرتا رہا۔ اس کے برعکس عصر امیرالمؤمنین(علیہ السلام) میں آپ کے مخالفین بھی قرآن سے ہی استدلال اور استفادہ کرتے تھے۔ بنابریں اس لحاظ سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مشکلات اور دشواریاں کئی گنا زیادہ تھیں۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنا مختصر سا دور حکومت ان مشکلات کے اندر گزارا۔ ان محاذوں کے مقابلے میں خود علی علیہ السلام کا محاذ ہے جو سچ مچ مضبوط محاذہے۔ اس محاذ میں عمار یاسر، مالک اشتر، عبد اللہ بن عباس ، محمدبن ابی بکر، میثم تمار اور حجر بن عدی جیسی شخصیات نظر آتی ہیں۔

ان مومن ، بابصیرت اور آگاہ شخصیات کا لوگوں کے افکار کو راستہ دکھانے میں زبردست کردار تھا۔ عصر امیرالمؤمنین علیہ السلام کا ایک حسین باب کوفہ و بصرہ کی طرف ان شخصیات کی حرکت ہے۔ (حَسین اس لحاظ سے کہ ان بزرگ ہستیوں نے ہنرمندی کے ساتھ جدو جہد کی ، البتہ اس وجہ سےتلخ کہ انہوں نے بہت سی تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کیا۔) جب طلحہ و زبیر وغیرہ نے لشکر جمع کرکے بصرہ پر قبضہ کیا اور کوفہ کا رخ کیا تو امام علیہ السلام نے حضرت امام حسن(علیہ السلام) اور اپنے بعض اصحاب کو کوفہ روانہ کیا ۔ انہوں نے کوفہ والوں کے ساتھ مذاکرات کئے۔ مسجد میں لوگوں کے ساتھ استدلالی گفتگو کی جو صدر ِاسلام کی تاریخ کے ہیجان انگیز ،حسین اور پرمغز ابواب میں سے ایک ہے۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دشمنوں کے اصل حملوں کا رخ بھی انہی لوگوں کی جانب تھا۔ مالک اشتر اور عمار یاسر کے خلاف سب سے زیادہ سازشیں ہوئیں اور محمد بن ابی بکر کے خلاف بھی سازش ہوئی۔ جولوگ شروع سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حمایت میں مشکلات کا امتحان دیتے رہے نیز اپنے محکم ایمان اور عمیق بصیرت کا ثبوت دیتے رہے ان سب کے خلاف دشمنوں کی طرف سے قِسم قِسم کی تہمتوں کے تیر چلائے جاتے رہے اور ان کی جان لینے کی کوششیں کی گئیں جن کے نتیجے میں ان کی اکثریت شہید ہوگئی۔

عمار یاسر جنگ صفین میں شہید ہوئے جبکہ محمد ابن ابی بکر اور مالک اشتر کو شامیوں نے حیلے اور سازش کے ذریعے شہید کیا۔ کچھ افراد زندہ رہے لیکن بعد میں وہ بھی المناک طریقے سے شہید ہوئے۔ امیرالمؤمنین(علیہ السلام) نے ان نامساعد حالات میں زندگی گزاری اور حکومت کی۔

خلاصہ یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حکومت ایک مقتدر،مظلوم اور فاتح حکومت تھی۔ یعنی امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے دور میں بھی دشمنوں کو شکست دی اور اپنی مظلومانہ شہادت کے بعد بھی۔ آپ تاریخ کے ہر دور میں ایک مشعلِ فروزاں کے طور پر تاریخ کے ماتھے پر چمکتے رہے۔ البتہ اس دوران امیرالمؤمنین علیہ السلام کو خون دل کے جو گھونٹ پینے پڑے وہ تاریخ کے تلخ ترین واقعات و حوادث کا حصہ ہیں۔

۵۷

چوتھی فصل

حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام

حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے فیضانات کا دائرہ نہ صرف (مسلمانوں کے) محدود معاشرے کو بلکہ انسانیت کےوسیع حلقے کو بھی محیط ہے۔ اگر ہم حقیقت بین اور منطقی نگاہوں سے دیکھیں تو پوری بشریت حضرت زہرا علیہا السلام کی مرہون منت ہے۔

(یہ لاف و گزاف نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے) بالکل اسی طرح جس طرح بشریت اسلام، قرآن، انبیاء کی تعلیمات اور خاتم الانبیاء(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کی مرہون منت ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جو ہردور میں موجود رہی ہے، آج بھی ہے اور آئندہ بھی اسلام کا نور اورفاطمہ زہرا علیہا السلام کا معنوی فیض روز بروز آشکارتر ہوتے جائیں گے اور بشریت اسے محسوس کرتی رہےگی۔

ہماری جو ذمہ داری بنتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس خاندان کے ساتھ انتساب کا سزاوار بنائیں۔ البتہ خاندان رسالت سے منتسب اور وابستہ ہونا نیز ان کی ولایت کے ساتھ تمسک رکھنے والوں کی حیثیت سے پہچانا جانا دشوار کام ہے۔ زیارت میں مذکور ہے: ’’لوگ ہمیں آپ کی ولایت اور محبت کے حوالے سے پہچانتے ہیں۔‘‘ یہ امر ہماری ذمہ داریوں کو زیادہ سنگین بناتا ہے۔

سورہ مبارکہ کوثر میں اللہ تعالی نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ’’خیرِکثیر‘‘ کی خوشخبری سنائی اور فرمایا:

’’انا اعطیناک الکوثر‘‘

(اس سے مراد حضرت فاطمہ زہراہیں) اس خیر کثیر سے مراد در حقیقت وہ تمام بھلائیاں اور نعمتیں ہیں جو دین نبوی کے سرچشمے سے دن بدن پوری بشریت اور جملہ خلائق کو سیراب کررہی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے اس حقیقت کو چھپانے اور اس کا انکار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ ناکام رہے ہیں۔

’’وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَافِرُون‏‘‘

ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے آپ کو اس مرکزِنور کے نزدیک کریں۔نور کے مرکز سے نزدیک ہونے کا لازمہ منور ہونا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ خالی محبت سے نہیں بلکہ عمل سے منور ہوں: وہ عمل جو اسی محبت ، اسی ولایت اور اسی ایمان کا تقاضا ہے۔ ہمیں اس عمل کے ذریعے اس خاندان کا تقرب حاصل کرنا ہوگا۔ علی(علیہ السلام) گھر کے دروازے کا قنبر بننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

’’سلمان منّا ا ھ ل البیت‘‘

کا درجہ حاصل کرنا آسان نہیں۔ ہم لوگ جو اہل بیت(علیہ السلام) کے موالی اور شیعہ ہیں ان معصومین علیہم السلام سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنا سمجھیں گے اور اپنے دوستداروں میں شمار کریں گے۔

’’فلان زگوشہ نشینان خاک درگہ ماست‘‘

ہماری آرزو تو یہ ہے کہ اہل بیت ہمارے بارے میں اس قسم کا فیصلہ کریں لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ مقصد صرف دعوؤں سے حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے عمل، ایثار،قربانی نیز ان کے اخلاق اور ان کی سیرت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

آپ ذرا غور کیجئے یہ عظیم ہستی کس عمر میں ان سب کمالات سے متصف ہوئیں؟

آپ نے کس عمر میں اس قدر درخشندگی اور تابانی کا مظاہرہ کیا؟

بہت ہی مختصر زندگی میں جو اٹھارہ سال یا بیس سال یا پچیس سال سے عبارت ہے۔

آپ کی عمر کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ اتنےعظیم کمالات مفت میں ہاتھ نہیں آسکتے۔

’’امْتَحَنَكِ اللهُ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ صَابِرَة‘‘

اللہ تعالی نے زہرائے اطہر علیہا السلام کو یعنی اس برگزیدہ مخلوق کو آزمایا۔ اللہ تعالی کا نظام حساب کتاب پر مبنی ہے۔وہ جو کچھ عطا کرتا ہے حساب کتاب کے مطابق عطا کرتا ہے۔ خدا کو اپنے راستے میں اپنی اس برگزیدہ کنیز کے ایثار، اخلاص، گذشت اور قربانیوں کا علم تھا۔ اسی لئے اس نے آپ (علیہ السلام) کو اپنے فیضانات کا سرچشمہ قرار دیا۔

( ۵/۱۰/۱۳۷۰ھ ش)

۵۸

میں نے ایک روایت میں پڑھا ہے کہ حضرت زہرا علیہا السلام کی درخشندگی کے باعث عالم بالا کے فرشتوں کی نظریں چندیاجائیں گی۔

’’زَهَرَ نُورُهَا لِمَلَائِكَةِ السَّمَاء‘‘

آپ فرشتوں پر نور افشانی کریں گی۔سوال یہ ہے کہ ہم اس روشنی سے کیا استفادہ کریں؟ہمیں چاہئے کہ اس درخشان ستارے کی مدد سے خدا کی جانب جانے اور بندگی کا راستہ (جو صراط مستقیم ہے اور فاطمہ زہرا علیہا السلام اسی راستے پر چل کر بلند مقامات تک پہنچیں) ڈھونڈ لیں۔

اگر اللہ تعالی نے فاطمہ زہرا علیہا السلام کی طینت کو بہترین طینت قرار دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ یہ ہستی عالم مادہ اور عالمِ ناسوت کے امتحان میں بخوبی کامیابی حاصل کرےگی :

’’اِمْتَحَنَكِ اللهُ الَّذِي خَلَقَكِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَكِ فَوَجَدَكِ لِمَا امْتَحَنَكِ صَابِرَة‘‘

اگر اللہ تعالی نے اس طینت کے ساتھ کوئی خاص لطف و کرم کیا ہے تو اس کی ایک وجہ اللہ کا یہ علم ہے کہ آپ علیہا السلام امتحان خداوندی میں کامیاب ہوں گی۔ و گرنہ بہت سے لوگوں کی طینت اچھی تھی لیکن کیا وہ سب امتحان میں کامیاب ہوئے؟ فاطمہ زہرا علیہا السلام کی زندگی کا یہ حصہ وہ ہےجس کے ہم محتاج ہیں تا کہ ہم نجات حاصل کرسکیں۔ شیعہ روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فاطمہ (علیہ السلام) سے فرمایا:

’’یا فَاطِمَةُ اعْمَلِي فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ مِنَ اللهِ شَيْئا‘‘

یعنی اے میری نورچشم! اے فاطمہ بیٹی! میں اللہ کے ہاں تجھے کسی چیز سے بےنیاز نہیں کرسکتا۔ یعنی تجھے اپنی فکر خود کرنا ہوگی۔ فاطمہ زہرا علیہا السلام اپنے بچپن سے کے کر اپنی مختصر زندگی کے آخری لمحے تک اپنی فکر آپ کرتی رہیں۔آپ حضرت زہرا علیہا السلام کا طرزِ زندگی دیکھئے۔

شادی سے پہلے آپ کمسن بچی تھیں۔ اس وقت آپ نے اپنے عظیم باپ کی وہ خدمت کی کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے آپ علیہا السلام کی کنیت اُمُّ اَبِیھا (اپنے باپ کی ماں) رکھی۔ ان ایام میں پیغمبرِ رحمت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو ایک نئی دنیا کے بانی نیز ایک عظیم عالمی انقلاب کے رہبر اور کمانڈر تھے اسلام کا پرچم بلند کرنے میں مصروف تھے۔فاطمہ علیہا السلام کو بلاوجہ ام ابیہا نہیں کہا گیا۔ آپ کی خدمات ، جد و جہد، مجاہدت اور کوششوں کی وجہ سے آپ کو اس کنیت سے نوازا گیا۔

فاطمہ زہرا علیہا السلام مکی زندگی میں شِعبِ ابی طالب میں (شدید مشکلات کے باوجود) نیز اپنی ماں کی رحلت کے وقت (جب وہ پیغمبراکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنہا چھوڑ کر چلی گئیں) اپنے پدرِنامدار کے ہمراہ آپ کی غمخوار تھیں۔ ایک ہی سال مختصر فاصلے سے حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب کی وفات کے صدمے سے رسول کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)دلفگار تھے۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)تھوڑے سے وقفے کے ساتھ ان دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور آپ کو تنہائی کا احساس ستانے لگا۔ اس وقت فاطمہ زہرا علیہا السلام نے اپنے ننھے ہاتھوں سے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے دکھ کا غبار صاف کیا۔ام ابیہا کی کنیت انہی دنوں کی یارگارہے۔۳/۹/۱۳۷۳۔

۵۹

جب شعب ابی طالب کا واقعہ پیش آیا تب حضرت زہرا علیہا السلام کی عمر چھ سات سال تھی۔ (آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف کی بناء پر آپ کی عمر میں اختلاف پایا جاتا ہے۔) شِعب ابی طالب کا دور صدرِ اسلام کی تاریخ کا بہت ہی سخت اور تلخ دور ہے۔ جب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے دعوت اسلام کا اعلانیہ سلسلہ شروع کیا اور مدینہ کے لوگ (خاص کر جوان طبقہ،بالاخص غلاموں کا طبقہ) آنحضرت پر دھڑا دھڑ ایمان لا نے لگے تو مکہ کے طاغوتی روساء(مثلاً ابولہب، ابوجہل اور دوسرے افراد) نےدیکھا کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے سارے ساتھیوں کو مکہ سے نکال باہر کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے یہی کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو جو دسیوں گھرانوں،پیغمبراور آپ کے رشتہ داروں،خود جناب ابوطالب(حالانکہ آپ قریش کے بزرگوں میں شامل تھے)، بچوں، بڑوں اور چھوٹوں پر مشتمل تھی مکہ سے نکال دیا۔ یہ لوگ مکہ سے نکلے لیکن جائیں تو کہاں جائیں؟ اتفاقاً مکہ کے قریب کسی پہاڑی درے میں حضرت ابوطالب کی کوئی جائیداد تھی جس کا نام شِعب ابیطالب تھا۔ شِعب سے مراد ہے پہاڑی درہ ، ایک چھوٹا درہ۔ چنانچہ وہ سب وہاں چلے گئے۔

ذرا سوچئے اس وقت دن کو مکہ میں گرمی پڑتی تھی اور رات کو سخت سردی ہوتی تھی۔ گویاناقابل تحملِ صورتحال تھی۔ اس خشک درے میں انہوں نے تین سال گزارے۔

انہوں نے جس قدر بھوک، سختیوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کیا ان کا علم خدا ہی کو ہے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی کے دشوار ادوار میں سے ایک یہاں گزارا۔ اس دوران پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی ذمہ داری صرف ایک جماعت کی قیادت اور ان کے امور کو چلانے سے عبارت نہ تھی۔ آپ کی یہ بھی ذمہ داری تھی کہ ان مصیبت زدہ لوگوں کے پاس اپنے مشن کی توجیہ اور اس کی حمایت بھی کریں۔

آپ جانتے ہیں کہ جب حالات سازگار اور اچھے ہوں تو کسی قائد کے اردگرد موجود لوگ مطمئن اور خوش ہوتے ہیں نیز سب اس رہبر کے لئے دعا کرتے ہیں لیکن جب سختی آتی ہے تو سب تردد کے شکار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں:اس شخص نے ہمیں اس مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے۔ہم تو اس کے خواہاں نہ تھے۔ البتہ مضبوط ایمان والے استقامت دکھاتے ہیں۔ بہرحال پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان تمام سختیوںکا بوجھ تھا۔ اسی دوران جب پیغمبر شدید روحانی کرب سے دوچار تھے جناب ابوطالب جو پیغمبر کے پشت پناہ اور آپ کی امیدوں کی آماجگاہ محسوب ہوتے تھے نیز خدیجہ کبری جو پیغمبر کےلئے سب سے زیادہ روحانی مدد فراہم کرنے والی خاتون تھیں ایک ہی ہفتے کے اندر دارِ فانی کو وداع کرگئے۔ یہ ایک عجیب سانحہ تھا۔ یوں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنہا رہ گئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کسی فعال سسٹم کے سربراہ رہے ہیں یا نہیں۔ اس صورت میں آپ کو معلوم ہوگا کہ کسی سسٹم کو چلانا کس قدر دشوار ہے۔ اس قسم کے دشوار حالات میں انسان سچ مچ لاچار ہوکر رہ جاتا ہے۔

۶۰