انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 348
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 348 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

آپ ان حالات میں فاطمہ زہرا علیہ السلام کا کردار دیکھیں۔ فاطمہ زہرا علیہا السلام نے ایک ماں ، ایک مشیر اور ایک خدمتگار کی طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دیا۔ اسی مناسبت سے رسول نے فرمایا:

’’فاطمة ام ابیها‘‘

فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے۔

یہ حدیث ان سنگین ایام سے مربوط ہے۔

یہ اس چھ سات سالہ بچی کا کردار ہے۔

یہ احساس ِذمہ داری کا مظاہرہ ہے ،

کیا یہ کردار ایک جوان کےلئے نمونہ عمل نہیں بن سکتا تاکہ وہ اپنے اردگرد کی ذمہ داریوں کا جلد احساس کرے ، ان میں دلچسپی لے اور اپنے اندر موجود جذبۂ عمل کے عظیم سرمائے سے استفادہ کرے؟

کیا وہ بھی اپنے پچاس ساٹھ سالہ عمر رسیدہ باپ کے چہرے سے پریشانیوں کے غبار کو صاف نہیں کرسکتا ؟

( ۷/۲/۱۳۷۷)

۶۱

اس دور کے ان نامساعد حالات میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسی بیٹی کی تربیت فرماتے ہیں جو کمال کی ان بلندیوں کو چھوتی ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے ہاتھ کا بوسہ لیتے ہیں۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا فاطمہ زہر اعلیہا السلام کا ہاتھ چومنا ایسا عمل ہے جسے صرف جذبۂ عطوفت پر حمل کرنا درست نہیں ہے۔

اگر ہم یہ خیال کریں کہ چونکہ فاطمہ زہرا علیہا السلام آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی بیٹی اور آپ کے ہاں عزیز تھیں اس لئے آپ نے ان کا ہاتھ چوماتھا تو یہ ایک بہت سطحی ، غلط اور حقیر سوچ ہے۔

کیا اس قدر عظیم پیغمبرجو عدل و حکمت کے درجۂ کمال پر فائز ہو نیز جس کا اوڑھنا بچھوناوحی اور الہام ہوں کیا وہ صرف جذبۂ عطوفت کے تحت اپنی بیٹی کا ہاتھ چوم سکتا ہے؟

نہیں حقیقت کچھ اور ہے۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ عمل اس بات کا غماز ہے کہ یہ جوان خاتون جو اپنی رحلت کے وقت اٹھارہ سالہ یا بیس سالہ یا پچیس سالہ تھی انسانیت کے اعلی ترین درجے پر فائز اور ایک غیرمعمولی انسان تھیں۔

یہ ہے عورت کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر۔

( ۴/۱۰/۱۳۷۰ھ ش)۔

۶۲

رہا جہادی ، انقلابی اور معاشرتی حوالے سے حضرت زہرا علیہا السلام کا معنوی مقام تو وہ بھی کئی گنا بالاتر ہے۔ حضرت زہرا علیہا السلام بظاہر ایک انسان ، ایک عورت اور ایک جوان خاتون تھیں لیکن معنوی نقطہ نظر سےآپ ایک عظیم حقیقت، اللہ کا درخشندہ نور، انسان صالح اور اللہ کے ہاں برگزیدہ وممتاز شخصیت ہیں۔ زہرا علیہا السلام وہ ہے جس کے بارے میں رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے فرمایا:

’’يَا عَلِيُّ أَنْتَ إِمَامُ أُمَّتِي وَ خَلِيفَتِي عَلَيْهَا بَعْدِي وَ أَنْتَ قَائِدُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى الْجَنَّةِ وَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى ابْنَتِي فَاطِمَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نَجِيبٍ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ وَ عَنْ يَسَارِهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ وَ بَيْنَ يَدَيْهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ وَ خَلْفَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ تَقُودُ مُؤْمِنَاتِ أُمَّتِي إِلَى الْجَنَّة‘‘ ۔

یعنی قیامت کے دن امیرالمؤمنین علیہ السلام مومن مردوں اور حضرت فاطمہ زہرا(علیہ السلام) مومنہ عورتوں کو بہشت کی طرف لےجائیں گے۔ حضرت زہرا علیہا السلام امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کی ہم پلہ اور ہم مرتبہ ہیں۔

جب آپ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں تو اللہ کے ہزاروں مقرب فرشتے آپ سے مخاطب ہوکر آپ پر درود و سلام بھیجتے تھے، مبارکباد دیتے تھے اور وہی باتیں کہتے تھے جو اس سے قبل فرشتے حضرت مریم اطہر علیہا السلام سے کہہ چکے تھے۔ وہ عرض کرتے تھے:

’’يَا فَاطِمَةُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفاكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفاكِ عَلى‏ نِساءِ الْعالَمِين‘‘‏ ۔

یہ ہے فاطمہ کا معنوی مقام۔ ایک عورت ، وہ بھی جوانی کے ایام میں معنوی عظمت کے اس مقام کو چھوتی ہے کہ بعض احادیث کی رو سے فرشتے آپ سے ہمکلام ہوتے تھے اور آپ کو حقائق عالم کا منظر دکھاتے تھے۔

اسی لئے آپ کو ’’محدَّثہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

یعنی آپ وہ شخصیت ہیں جس سے فرشتے گفتگو کرتے ہیں۔

کائنات کی تمام عورتوں کے مقابلے میں آپ معنوی مقام وعظمت کے اس وسیع میدان اور اس بلندترین مرتبے سے ہمکنار ہوئیں۔

فاطمہ زہرا علیہا السلام عظمت کی اس بلند چوٹی پر کھڑی ہیں اور دنیا کی تمام عورتوں سے خطاب فرماتے ہوئے انہیں دعوت دے رہی ہیں کہ وہ بھی اس راستے پر گامزن ہوں۔

جولوگ پوری تاریخ ِبشریت میں (خواہ قدیم جاہلیت کی تاریخ ہو یا بیسویں صدی کی جاہلیت ) یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ عورتوں کی تحقیر کریں، انہیں دنیوی رنگینیوں اور ظاہری زیب و زینت کی دلدادہ نیز فیشن ، لباس، آرائش، زیورات اور سونے چاندی کے استعمال کی خوگر قرار دیں علاوہ ازیں انہیں دنیوی عیش و عشرت کا وسیلہ سمجھیں اور اسی تصور کے مطابق عمل کریں ان کا طرز ِفکر فاطمہ زہرا علیہا السلام کے معنوی مقام کی آفتابی حرارت کے مقابلے میں برف اور یخ کی طرح پگھل کر ختم ہوجاتا ہے۔

اسلام نے حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کو عورتوں کےلئے اسوہ حسنہ اور نمونہ قرار دیا ہے۔

ایک طرف آپ کی ظاہری زندگی ، جہاد، مبارزہ، علم و دانش، سخنوری ، فداکاری اورشوہرداری نیز کامیاب ماں اور کامیاب شریک حیات کی خصوصیات کے علاوہ آپ کی مہاجرت، تمام سیاسی ، عسکری اور انقلابی میدانوں میں حاضری اور آپ کے ہمہ پہلو امتیازات ہیں جو عظیم مردوں کو بھی آپ کے مقابلے میں سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کرتے ہیں

اور دوسری طرف آپ کے معنوی مقام ، رکوع و سجود،عبادت ، دعا وتضرع نیز آپ کے ملکوتی وجود اور آپ کی معنوی درخشندگی کے جلوےہیں جن کے ساتھ آپ علی علیہ السلام کے ہم پلہ اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وجود کا حصہ ہیں۔

یہ ہے وہ مثالی عورت جس کا اسلام خواہاں ہے۔

( ۲۶/۱۰/۱۳۶۸ھ ش)۔

۶۳

یہاں ہم آپ علیہا السلامکے معنوی مقامات کی بحث نہیں کریں گے۔ ہم آپ کے معنوی مقامات کو سمجھنے پر قادر بھی نہیں ہیں کیونکہ آپ انسانی معنویت اور بشری تکامل کے اوج پر فائز ہیں۔ صرف خدا اور معصومین ہی ایسے بندوں کو پہچان سکتے ہیں اور ان کے مقام کو دیکھ سکتے ہیں۔ اسی لئے فاطمہ زہراکو پیغمبر اکرمؐ، امیرالمؤمنین علیہ السلام اور آپ کی معصوم اولادہی پہچانتے تھے۔ اُس زمانے اور بعد کے زمانوں کے لوگ اور آج ہم بھی حضرت زہرا علیہا السلام کی معنوی درخشندگی کو نہیں پہچان سکتے لیکن حضرت زہرا علیہا السلام کی عام زندگی میں ایک نکتہ نہفتہ ہے جس پر توجہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ آپ نے ایک طرف سے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ سلوک نیز گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لحاظ سے ایک مثالی مسلمان خاتون کا کردار اداکیا اور دوسری طرف سے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد والے اہم سیاسی حوادث میں ایک غیرت مند اور انتھک مجاہدہ کا کردار ادا کیا۔ چنانچہ آپ مسجد جاتی ہیں،تقریر کرتی ہیں، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حمایت کرتی ہیں اور بے خوف ہو کر بات کرتی ہیں۔ آپ ایک انتھک، سختیوں کو برداشت اور قبول کرنے والی جامع الصفات جہادی ہیں۔

۶۴

تیسری جانب سے آپ رات کی تاریکی میں بیدار رہ کر عبادت کرنے والی اور خدا کے حضور خاضع و خاشع نمازی ہیں۔

یہ جوان خاتون محراب ِعبادت میں عمر رسیدہ اولیاء کی طرح اللہ کے حضور راز و نیاز اور عبادت کرتی ہیں۔

ان تین مختلف جہات کو باہم جمع کرنا" فاطمہ زہرا علیہا السلام" کی زندگی کا درخشاں کارنامہ ہے۔ آپ نے ان تینوں کو جدا نہیں کیا۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو شخص عبادت ، تضرع، دعا اور ذکر کا خوگر ہو وہ ایک سیاسی انسان نہیں بن سکتا۔

ادھر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جو شخص سیاسی ہو اور جہاد فی سبیل اللہ کے میدان میں فعال کردار کا حامل ہو وہ اگر عورت ہو تو ایک خانہ دار عورت نہیں بن سکتی جو ایک ماں، بیوی اور گھریلو عورت کا کردار ادا کرسکے۔ لیکن اگر وہ مرد ہو تو گھر، دکان ، کاروبار اور گھریلو زندگی کو سنبھالنے والا انسان نہیں بن سکتا۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ امور ایک دوسرے کے منافی ہیں اور باہم جمع نہیں ہوسکتے حالانکہ اسلام کی نظر میں نہ صرف یہ کہ یہ تینوں چیزیں آپس میں منافات اور تضاد نہیں رکھتیں بلکہ ایک کامل انسان کی شخصیت سازی میں باہم ممد و معاون ثابت ہوتی ہیں۔

سیاسی ، معاشرتی اور جہادی زاویوں سے حضرت زہرا علیہا السلام کی شخصیت ایک ممتاز اور نمایاں مقام رکھتی ہے۔

دنیا کی تمام انقلابی، مبارز ، ممتاز اور سیاسی خواتین آپ علیہا السلام کی مختصر مگر پر مغز زندگی سے درس لےسکتی ہیں۔ آپ وہ عورت ہیں جو انقلاب کے گھر میں پیدا ہوئی۔

آپ نے اپنا پورا بچپن اس باپ کی آغوش میں گزارا جو ایک ناقابل فراموش عالمی جدوجہد میں مصروف تھا۔ اس خاتون نے بچپن میں مکی زندگی کی جدوجہد کی سختیوں کا مزہ چکھا اور شعب ابی طالب کے ایام دیکھےنیزمکی زندگی کی جدوجہد کے دوران بھوک،سختی، خوف اور طرح طرح کی مشکلات کو نزدیک سے محسوس کیا اور مدینہ منتقل ہونے کے بعد اُس مرد مجاہد کی شریک حیات بن گئیں جس کی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ میں گزری۔

فاطمہ زہرا(علیہ السلام) اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی تقریباً گیارہ سالہ مشترکہ زندگی میں کوئی سال بلکہ نصف سال بھی ایسا نہیں گزرا جس میں آپ علیہا السلام کا شوہرنامدار جہاد فی سبیل اللہ کےلئے کمر بستہ ہوکر میدان کارزار کی طرف نہ گئے ہوں

نیز اس عظیم اور فدا کار خاتون نے اپنے مجاہد نیز جنگی میدانوں کے دائمی سردار اور سپاہی شوہر کی خدمت کا حق ادا نہ کیا ہو۔

۶۵

حضرت زہرا علیہا السلام کی زندگی مختصر تھی۔

آپ تقریباً بیس سال سے زیادہ زندہ نہ رہیں لیکن یہی مختصر سی زندگی جہاد، فعالیت، کوشش، انقلابی جد و جہد، انقلابی صبر ، درس و تدریس اور سیکھنے سکھانے کے لحاظ سے نیز ولایت، نبوت ،امامت اور اسلامی حکومت کی حمایت کے زاویے سے ایک عظیم سمندر کی طرح متلاطم نظر آتی ہے

جو آخر کار شہادت سے سرفراز ہوئی۔

یہ فاطمہ زہرا علیہا السلام کی جہادی زندگی ہے جو نہایت عظیم، غیر معمولی اور سچ مچ بےمثال ہے۔ یہ زندگی آج کے اور مستقبل کے انسانوں کے اذہان میں ایک درخشاں اور استثنائی حیثیت کی حامل زندگی ہے اور رہے گی۔

( ۲۶/۱۰/۱۳۶۸ھ ش)۔

۶۶

علمی میدان میں بھی آپ علیہا السلام عالی رتبہ کے عالمہ ہیں۔

رحلت رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد مدینہ کی مسجدنبی میں حضرت زہرا(علیہ السلام) نے جو خطبہ دیا وہ ایسا خطبہ ہے

جس کے بارے میں علامہ مجلسی نے کہا ہے کہ:

فصاحت و بلاغت کے عظیم ماہرین اور دانشوروں کو چاہئے کہ اس خطبے کے کلمات اورعبارات کی تشریح کریں۔

یہ خطبہ فنی خوبصورتی کے لحاظ سے نہج البلاغہ کے زیباترین اوربلندترین فرمودات کی طرح ہے۔

فاطمہ زہرا مسجد مدینہ جاتی ہیں اور لوگوں کے درمیان فی البدیہہ خطبہ دیتی ہیں۔

آپ نے شاید ایک گھنٹے میں بہترین اور خوبصورت ترین عبارات میں برگزیدہ ترین اور عمدہ ترین معانی کو الفاظ کی شکل میں بیان فرمایا ہے۔

( ۲۵/۹/۱۳۷۱ھ ش)۔

۶۷

ہم لوگ جو فی البدیہہ تقریر یا گفتگو کرتے ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت زہراعلیہالسلام کی باتیں کس قدر قیمتی اور عظیم ہیں۔

ایک اٹھارہ بیس سالہ یا زیادہ سے زیادہ چوبیس سالہ خاتون مسجد میں ایک جم غفیر کے سامنے ان جانکاہ مصیبتوں اور سختیوں کے باوجود پردے میں رہ کر ایسی تقریر کرتی ہے جو تاریخ کے اوراق میں لفظ بہ لفظ زندہ اورمحفوظ رہتی ہے۔

بےجان جملے تاریخ میں زندہ نہیں رہتے۔

تاریخ میں بےتحاشا باتیں کہی گئی ہیں ، تقریریں کی گئی ہیں، اشعار کہے گئے ہیں لیکن وہ باقی نہیں رہے اور کوئی ان پر توجہ نہیں دیتا لیکن حضرت زہرا کے جملوں کو تاریخ نے اپنے سینے کے اندر محفوظ کرلیا۔

چنانچہ چودہ سو سال بعد بھی جو کوئی انہیں دیکھتا ہے ان کے آگے سر تسلیم خم کرتاہے۔

یہ آپ کی عظمت کی نشانی ہے۔

میری نظر میں یہ کردار جوان لڑکیوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔

( ۷/۲/۱۳۷۷ھ ش)۔

۶۸

جب فتوحات اور جنگی غنائم کا راستہ کھل گیا تو بنت رسول نے دنیوی لذتوں ، تکلفات، تجملات، سامان آرائش اور ان چیزوں کی خواہشات کو دل میں جگہ نہیں دی۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عبادت بھی سب کےلیے نمونہ اور سبق ہے۔حسن بصری جن کا شمار دنیائے اسلام کے معروف عابدوں اور زاہدوں میں ہوتا ہے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں رقمطراز ہیں: بنت رسول نے اس قدر عبادت کی اور آپ محراب عبادت میں اس قدر کھڑی رہیں کہ آپ کے دونوں پاؤں سوجھ گئے۔

’’تورمت قدماها‘‘

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک رات (شب جمعہ کو ) میری ماں عبادت کرتی رہیں یہاں تک کہ پوپھٹ گئی۔ وہ رات کی ابتداء سے صبح تک عبادت ، دعا اور تضرع میں مصروف رہیں۔ میں نے سنا کہ وہ مسلسل مومنین و مومنات،عام لوگوں اور عالم اسلام کے اجتماعی مسائل کےلئے دعا مانگ رہی ہیں۔ صبح ہوئی تو میں نے کہا: امی جان! آپ جس طرح دوسروں کےلئے دعا کرتی ہیں اسی طرح اپنے لئے کیوں دعا نہیں کرتیں؟

جواب دیا: اے بیٹے! الجار ثم الدار یعنی پہلے دوسرے لوگوں کےلئے پھر اپنے لئے۔ یہ وہ عظیم جذبہ ہے۔ زندگی کے مختلف میدانوں میں آپ کا کامیاب جہاد سب کےلئے نمونہ ہے۔ آپ نے اسلام ، امامت، ولایت، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور اسلام کے عظیم ترین سردار یعنی اپنے شوہر نامدار امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کی حمایت و حفاظت کےلئے جہاد کیا۔

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فاطمہ زہرا(علیہ السلام) کے بارے فرمایا:

’’ولا اغضبتنی و لا عصت لی امراً‘‘

فاطمہ نےایک بار بھی مجھے غصہ آنے نہیں دیا اور ایک دفعہ بھی میری نافرمانی نہیں کی۔

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنی تمامتر عظمت اور جلالت کے باوجود اسلامی احکام کے مطابق گھر کے ماحول میں ایک بیوی اور ایک عورت کے طور پر زندگی گزارتی رہیں۔

غریبوں کے ساتھ آپ کے حسن سلوک کو دیکھئے کہ ایک دفعہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غریب بوڑھے کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گھر بھیجا کہ جاؤ اور ان لوگوں سے اپنی حاجت طلب کرو۔

فاطمہ زہرا(علیہ السلام) نے چمڑے کا وہ بچھونا جس پر حسن اورحسین علیہما السلام سوتے تھے سائل کو دے دیا۔ اس کے علاوہ گھر میں کچھ نہ تھا۔

مسلمان عورت کو چاہئے کہ علم و دانش کے حصول کےلئے نیز معنوی و اخلاقی خود سازی کےلئے سعی کرے، ہر قسم کی کوشش اور جہاد کے میدان میں پیشقدم رہے، دنیوی رنگینیوں اور بے قیمت تجملات سے بے اعتنائی برتے نیز اس کی عفت و عصمت اور پاکیزگی کا یہ عالم ہو کہ بیہودہ اجنبی نگاہیں خود بخود اس سے دور رہیں۔

وہ گھر میں شوہر اور بچوں کےلئے باعث راحت و سکون ہو، اپنے دامن میں جو مہر و عطوفت سے لبریز ہو نیز اپنی شفقت آمیز اور پر مغز باتوں کے ذریعے ایسے بچوں کی تربیت کرے جو نفسیاتی طور پر صحیح و سالم ہوں، نفسیاتی الجھنوں سے پاک ہوں، بااخلاق ہوں، روحانی و اعصابی لحاظ سے صحت مندہوں اور اعلی شخصیت کے حامل ہوں۔ ماں تمام معماروں سے زیادہ مفید اورقیمتی معمار ہے۔

دنیا کے عظیم ترین دانشور ایک بہت ہی پیچیدہ مشین بناسکتے ہیں، بین البر اعظمی میزائل بناسکتے ہیں،فضاؤں کی تسخیر کے وسائل بنا سکتے ہیں لیکن ان میں سے کسی کو اس شخص کی سی اہمیت حاصل نہیں جو اپنی تربیت کے ذریعے ایک عظیم انسان کو وجود میں لا تا ہے۔وہ ماں ہے۔ اسلام کی نظر میں یہ وہ عورت ہے جو دوسروں کےلئے نمونہ ہے۔

( ۲۵/۹/۱۳۷۱ھ ش)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۶۹

پانچویں فصل

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور میں معاویہ کے ساتھ آپ کی صلح یا وہ چیز جسے صلح کا نام دیا گیا صدرِ اسلام کی اسلامی وانقلابی جدوجہد کے پورے دورانیے کا ایک تقدیر ساز اور بےمثال واقعہ تھی۔ اس واقعے کی نظیر نہیں ملتی۔

اس جملے کی مختصر تشریح کے بعد اصل مسئلے پر روشنی ڈالوں گا۔

اسلامی انقلاب یعنی اسلامی طرز فکر یا اللہ کی طرف سے اسلام کے نام سے لوگوں کی طرف بھیجی جانے والی امانت پہلےمرحلے میں ایک تحریک ، ایک حرکت اور ایک دعوت تھی جو ایک مزاحمتی جدوجہد اور ایک عظیم انقلابی قیام کی شکل میں نمودار ہوئی۔

اس مرحلے میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ میں اس فکر کا اعلان کیا۔تب نظریہ توحید اور اسلام کے دشمن اس کے مقابلے میں صف آراء ہوگئے تا کہ اس نظریے کو پنپنے نہ دیا جائے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مومنوں کی مدد سے اس تحریک کو منظم کیا۔

یوں آپ مکہ میں ایک نہایت زیرکانہ ،مضبوط اورمترقی مزاحمتی جد و جہد کو وجود میں لے آئے۔

یہ تحریک یا جدوجہد تیرہ سال تک مکہ میں جاری و ساری رہی۔

تیرہ برس بعد پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات ، آپ کے دیے ہوئے نعروں ، آپ کی تنظیم سازی ، فداکاری اور تمام دستیاب وسائل کے نتیجے میں یہ تحریک اور یہ سوچ ایک حکومت اور نظام میں تبدیل ہوگئی یعنی ایک امت کے سیاسی نظام اور نظام زندگی میں بدل گئی۔

یہ تبدیلی اس وقت آئی جب رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ تشریف لاکر اسے اپنا مرکز قرار دیا اور وہاں اسلامی حکومت کا دائرہ پھیلایا۔ یوں اسلام ایک تحریک سے نکل کر حکومت کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ دوسرا دور تھا۔

یہ سلسلہ نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی زندگی کے آخری دس برسوں میں اور آپ کے بعد چار خلفا کے دور میں پھر امام حسن مجتبیٰ(علیہ السلام) کے دور تک اور آپ کی چھ ماہہ خلافت کے دوران جاری رہا اور اسلام حکومت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ ہر چیز میں اجتماعی نظام کا جلوہ نظر آتا تھا یعنی حکومت، فوج، سیاسی سرگرمیاں ، ثقافتی سرگرمیاں، عدالتی سرگرمیاں اور منظم اقتصادی روابط موجود تھے۔ اس نظام کے دائرے میں وسعت کی گنجائش تھی۔ اگر یہ نظام اسی طرح ترقی کرتا تو پوری روئے زمین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ اسلام نے ثابت کیا کہ اس میں یہ صلاحیت موجود ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے دور میں مخالف تحریک اس قدر مضبوط ہوئی کہ ایک رکاوٹ بن کر سامنے آئی۔

یہ مخالف تحریک امام مجتبی علیہ السلام کے دور میں وجود میں نہیں آئی تھی بلکہ اس سے سالہا قبل وجود پذیر ہوئی تھی۔

اگر کوئی منصف مزاج آدمی مذہبی اعتقادات کی عینک اتار کر صرف تاریخی شواہد کی روشنی میں گفتگو کرے تو شاید وہ یہ دعوی کرے کہ یہ طرزِ فکر اسلامی دور سے پہلے وجود میں آیا تھا۔

یہ پیغمبر کی اسلامی تحریک و دعوت کے دور یعنی مکی دور میں موجود تھا۔

جب خلافت حضرت عثمان (جو اموی تھے) کے دور میں بنی امیہ کے پنجے میں آگئی تو ایک دفعہ ابوسفیان (جو اس وقت نابینا ہوچکا تھا) اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔

اس نے پوچھا : اس محفل میں کون کون ہیں؟

جواب ملا: فلان، فلان لوگ ہیں۔ جب اسے اطمینان ہوا کہ سب اپنے لوگ ہیں اور کوئی بیگانہ موجود نہیں تو وہ ان سے یوں مخاطب ہوا:

’’تَلَقَّفُوهَا تَلَقُّفَ الْكُرَة‘‘

یعنی حکومت کو گیند کی طرح اچک لو اور اسے اپنے قبضے سے باہر جانے نہ دو۔

اس واقعے کو شیعہ و سنی تواریخ نے نقل کیا ہے۔ یہ کوئی مذہبی یا اعتقادی بحث نہیں ہے۔

۷۰

ہماری بحث کا اعتقادات سے کوئی تعلق نہیں ہےیعنی مجھے یہ پسند نہیں کہ ان مسائل کا جائزہ اعتقادی نقطۂ نظر سے لوں۔ میں ان واقعات کے صرف تاریخی پہلو سے بحث کروں گا۔ اس وقت ابوسفیان مسلمان تھا۔ البتہ وہ فتح مکہ کے بعد یا فتح کے قریب مسلمان ہوا تھا۔ ابوسفیان نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا جب اسلام کمزور اور بےیار و مددگار تھا بلکہ وہ اسلام کے طاقتور ہونے کے بعد مسلمان ہوا تھا۔

امام حسن مجتبی علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں یہ طرزِ فکر اپنے بامِ عروج کو پہنچ گیا۔ یہی طرز ِفکر تھا جو معاویہ بن ابی سفیان کی شکل میں امام مجتبی کے مقابلے میں ظاہر ہوا۔ اس محاذ نے مزاحمت شروع کی، اسلامی حکومت کا راستہ روکا اور مشکلات کا پہاڑ کھڑا کردیا یہاں تک کہ یہ اسلامی حکومت کی پیشقدمی کے آگے بڑی رکاوٹ بن گیا۔

صلح امام حسن کے بارے میں ہم بارہا کہہ چکے ہیں اور کتابوں میں مذکور ہے کہ کوئی بھی شخص یہاں تک کہ خود امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی اگر امام حسن مجتبی علیہ السلام کی جگہ ہوتے اور حالات یہی ہوتے تو وہ بھی کچھ نہ کرسکتے سوائے اس کام کے جو امام حسن نے کیا۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ امام حسن علیہ السلام کا فلان اقدام قابلِ اعتراض ہے۔

امام حسن کا طرزِ عمل سوفیصد ناقابلِ انکار منطقی استدلال پر مبنی تھا۔

۷۱

آل رسول کے درمیان سب سے زیادہ پرشور کون نظر آتے ہیں؟

کس کی زندگی سب سے زیادہ شہادت آمیز تھی؟

دشمن کے مقابلے میں دین کی حفاظت کےلئے سب سے زیادہ پر جوش اور غیرت مند کون نظر آتا ہے؟

حسین بن علی علیہما السلام لیکن یہی حسین اس صلح میں امام حسن کے شریک کار تھے۔ صرف امام حسن علیہ السلام نے صلح نہیں کی بلکہ امام حسن اور امام حسین دونوں نے یہ کام انجام دیا۔ البتہ امام حسن آگے تھے اور امام حسین پیچھے پیچھے۔

امام حسین علیہ السلام امام حسن علیہ السلام کے نظریۂ صلح کے حامیوں میں شامل تھے۔ جب ایک خصوصی محفل میں کسی قریبی ساتھی نے (جو جوشیلا بھی تھا اور انقلابی بھی) امام مجتبی علیہ السلام پر اعتراض کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اس کی مخالفت کی:

" وغمز الحسينُ حجرَ فسکتَ"

کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اگرا مام حسن علیہ السلام کی جگہ امام حسین علیہ السلام ہوتے تو یہ صلح نہ ہوتی۔ جی نہیں۔ امام حسین نے امام حسن کے ساتھ مل کر صلح کو کامیاب بنایا۔ اگر امام حسن نہ ہوتے اور صرف امام حسین ہوتے تو اُن حالات میں آپ بھی یہی اقدام کرتے اور صلح ہوجاتی۔

۷۲

تاریخ کی پرشکوہ ترین فاتحانہ صلح:

صلح کے عوامل و اسباب موجود تھے اور ان سے کوئی راہِ گریز نہ تھا۔ اس دن شہادت ممکن نہ تھی۔

مرحوم شیخ راضی آل یاسین رضوان اللہ تعالیٰ علیہ اپنی کتاب ’’صُلح الحسن‘‘ میں (جس کا ترجمہ میں نے ۱۳۴۸ھ ش میں کیاتھا) ثابت کرتے ہیں کہ شہادت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ہر طرح کا قتل ہوجانا شہادت نہیں کہلا سکتا۔

جامع الشرائط طریقے سے قتل ہونا ہی شہادت کہلاتا ہے۔ شہادت کی یہ شرائط اس وقت مفقود تھیں۔اگر اس دن حضرت امام حسن(علیہ السلام) بلا وجہ قتل ہوجاتے تو شہید نہ کہلاتے۔

اس دن جو حالات تھے ان کے اندرکسی کےلئے ممکن نہ تھا کہ قتل ہوجانے کےلئے کوئی مصلحت آمیز حرکت کرے تا کہ شہید کہلائے اور خودکشی بھی نہ ہو۔

ہم نے صلح کی مختلف جہات سے بحث کی ہے لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ صلح کے بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے بہت ہوشمندی اور زیرکی سے ایسی حکمت عملی اپنائی کہ اسلام اور اسلامی تحریک، خلافت کے نام پر وجود میں آنے والی ملوکیت کی گندی اور متعفن وادی میں داخل نہ ہو۔یہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی کامیاب پالیسی تھی۔

۷۳

امام حسن مجتبیٰ نے وہ کام کیا کہ اسلام کی خالص تحریک کسی پاکیزہ راستے پر گامزن ہو اگرچہ حکومت کی شکل میں نہ ہو کیونکہ حکومت کا حصول ممکن نہ تھا۔ لہذا کم از کم ایک برحق تحریک کی شکل میں اس کا جاری رہنا ضروری تھا۔ یہ اسلام کا تیسرا دور یا مرحلہ ہے۔

اس مرحلے میں اسلام دوبارہ ایک تحریک میں بدل گیا۔ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خالص اسلام، حقیقی اسلام، ظلم ستیز اسلام، سودےبازی سے مبرّا اسلام،تحریف سے پاک اسلام اور ہوا و ہوس کے ہاتھوں کھلونا نہ بننے والا اسلام پھر بھی زندہ اور باقی رہا لیکن ایک تحریک کی شکل میں۔ بالفاظ دیگر اسلام کی انقلابی فکر جو ایک مرحلے کو طے کرکے حکومت و اقتدار سے ہمکنار ہوئی تھی امام حسن (علیہ السلام) کے دور میں دوبارہ ایک تحریک میں بدل گئی۔ البتہ اس مرحلے میں اسلامی تحریک کا کام خود رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور سے کئی گنا زیادہ مشکل ہو گیا کیونکہ اسلام کا نعرہ وہ طبقہ لگارہا تھا جس نے اسلام کا لبادہ زیب تن کر رکھا تھا حالانکہ ان کا اسلام سے سروکار نہ تھا۔ ائمہ(علیہ السلام) کی مشکلات کا سرچشمہ یہی امر تھا۔ البتہ میں نے ائمہ کی زندگی اور احادیث کے مجموعی مطالعے سے یہ استنباط کیا ہے کہ یہ معصومین علیہم السلام صلح حسن کے دن سے لےکر آخری دنوں تک ہمیشہ کوشاں رہے تاکہ اس تحریک کو ایک بار پھر علوی اور اسلامی حکومت کی صورت میں تبدیل پابرجا کریں۔ اس بارے میں احادیث بھی موجود ہیں۔یاد رہے کہ یہ ایک مشکل کام تھا۔

تحریک کے دوسرے مرحلے میں یعنی سفیانی ،مروانی اور عباسی خلفا کے دورِ خلافت میں سب سے اہم چیز جس کی لوگوں کو ضرورت تھی یہ تھی کہ وہ اسلام کی کھوئی ہوئی حقیقتوں کو یعنی حقیقی و قرآنی اسلام کی چنگاریوں کو مختلف اور بکھرے ہوئے بیانات کے درمیان دیکھیں، پہچانیں اور اشتباہ نہ کریں۔ اگر ادیانِ عالم نے تعقل اور تدبر پر اس قدر زیادہ زور دیا ہے تو یہ بلاوجہ نہیں ہے۔

قرآن کریم کا تعقّل و تدبّر پر اس قدر زور دینا بے جا نہیں ہے وہ بھی دین کے سب سے اصلی موضوع یعنی توحید کے بارے میں۔ توحید صرف اس بات کا اقرار نہیں ہے کہ کوئی کہے: خدا دو نہیں بلکہ ایک ہے۔یہ توحید کی ظاہری شکل ہے۔توحید کا باطن ایک بحر بیکراں ہے جس کے اندر اولیائے خدا فانی ہو جاتے ہیں۔توحید ایک عظیم وادی ہے لیکن اس باعظمت وادی کے اندر بھی مومنوں، مسلمانوں اور موحد لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تدبر، تعقل اور تفکر کے سہارے آگے بڑھیں۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ عقل و تدبر انسان کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ البتہ اس کے مختلف مراحل ہیں۔ وحی کے نور،معرفت کے نور اور اولیائے الٰہی کی تعلیمات کے نور سے عقل کو قوت اور غذا حاصل ہوتی ہے لیکن بہرحال جو چیز آگے بڑھاتی ہے وہ عقل ہے۔عقل کے بغیر انسان کہیں نہیں پہنچ سکتا۔ یاد رہے کہ صدیوں تک خلافت کے نام پر امت مسلمہ پر حکومت کی گئی۔(ساتویں صدی ہجری تک عباسی خلافت کا سلسلہ جاری رہا۔عباسی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی بعض علاقوں میں خلافت کے نام پر حکومتیں قائم رہیں مثلاً مصر میں ممالیک کی حکومت رہی۔ اسی طرح ترکی میں عثمانی خلافت قائم رہی اور دیگر مقامات پر بھی اس قسم کی حکومتیں رہیں۔)

اس پورے عرصے میں لوگوں کو جس چیز کے سمجھنے کی ضرورت تھی وہ یہ تھی کہ عقل کی متابعت کی جائے تا کہ انہیں معلوم ہو کہ کیا اولوالامر اور اسلامی حکمرانوں کے بارے میں اسلام، قرآن ، کتاب الٰہی اور مسلّمہ احادیث کا نقطہ نظر موجودہ سلاطین پر منطبق ہوتا ہے یا نہیں؟

یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ مروانی، سفیانی اور عباسی خلفاء کے دور میں اسلامی اقدار اور اصول اپنی اصلی روح سے محروم ہوگئے۔ صرف ظاہری صورتیں باقی رہ گئیں جبکہ اندرونی تعلیمات کو مسخ کر کے جاہلی اور شیطانی اقدار میں تبدیل کر دیا گیا۔

اسلامی نظام کا مقصد تو انسان کو عاقل، عبادت گزار، مومن، آزادمنش، آلائشات سے پاک،خدا کے آگے خاضع اور متکبروں کے آگے اکڑنے والا مسلمان بنانا تھا (جس کی بہترین مثال عصر رسول کا نظام حکومت ہے)۔

لیکن وہی نظام ایک ایسی حکومت میں تبدیل ہوگیا جو مختلف طریقوں سے بندگانِ خدا کو دنیا پرست، ہوا و ہوس کا پجاری، چاپلوس،معنویات سے عاری ، خودی سے محروم اور فاسق وفاجر بنانے اور پروان چڑھانے میں مصروف ہوگئی۔

۷۴

بدقسمتی سے اموی اور عباسی خلافت کے پورے عرصے میں یہی کام ہوتا رہا۔ تاریخ کی کتابوں میں اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے جن پر تفصیلی بحث کےلئے طویل وقت درکار ہے۔ اس کام کا آغاز خود معاویہ کے دور سے ہوگیا تھا۔ معاویہ کے بارے میں یہ مشہور کیا گیا یعنی مورخوں نے لکھا کہ وہ ایک حلیم الطبع اور وسیع القلب انسان تھا اور اپنے مخالفین کو اپنے خلاف جی بھر کر بولنے کی اجازت دیتا تھا۔ البتہ شاید ابتدا میں وہ ایسا کرتا ہو لیکن اس صفت کے علاوہ اس کی شخصیت کے دیگر پہلوؤں پر کم لکھا گیا ہے، مثلاً یہ کہ معاویہ اشخاص، رؤساء ، معززین اور موثر افراد کو اپنے عقائد اور ایمان سے دستبردار ہونے یہاں تک کہ حق کا مقابلہ کرنے کےلئے آمادہ اور تیار کرتاتھا۔ بہت سے لکھاریوں نے ان باتوں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اس کے باوجود تاریخ میں کچھ باتیں ثبت ہیں اور آج ہم جن باتوں سے آگاہ ہیں انہیں بعض مورخین نے سپردِ قلم کیا ہے۔

جو لوگ ان مراکز کے زیر سایہ تربیت پاتے تھے انہیں اس بات کی عادت کرائی جاتی تھی کہ وہ خلیفہ کی خواہش کے برخلاف کچھ نہ کہیں۔

یہ کیسا معاشرہ ہے؟ یہ کیسا انسان ہے؟

کیا مفاسد کی اصلاح کرنے، برائیوں کا خاتمہ کرنے اور معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنانے والے انسانوں کا دینی اور اسلامی عزم و ارادہ ایسا ہی ہوتا ہے؟

یا یہ ممکن ہے؟

جاحظ نے یا ابو الفراج اصفہانی نے نقل کیا ہے کہ معاویہ اپنے عہد خلافت میں گھوڑے پر مکہ کی طرف جارہا تھا۔ اس دور کی ایک شخصیت بھی ان کے ساتھ تھی۔ معاویہ اس کے ساتھ باتوں میں محو تھا۔ ان کے پیچھےبھی کچھ لوگ آرہے تھے۔ معاویہ عہد ِجاہلیت کے اموی مفاخر کا ذکر کررہا تھا۔وہ بتا رہا تھا کہ اس کے باپ ابوسفیان نے کیا کیا کام کئے تھے۔ راستے میں کچھ بچے کھیل رہے تھے اور شاید پتھر پھینک رہے تھے۔ اس دوران ایک پتھر اس شخص کی پیشانی پر لگا جو اپنے گھوڑے پر سوار ہوکر معاویہ کے ساتھ چل رہا تھا۔ پیشانی سے خون جاری ہوا۔ اس نے کچھ نہ کہا اور معاویہ کا سلسلۂ کلام قطع نہیں کیا بلکہ سب کچھ سہہ گیا۔ اس کے چہرے او ر داڑھی پر خون جاری ہوا۔ دوران گفتگو معاویہ نے اچانک اس شخص کی طرف مڑکر دیکھا اور مشاہدہ کیا کہ اس کا چہرہ خون آلود ہے۔بولا: تیری پیشانی سے خون بہہ رہا ہے۔

اس شخص نے معاویہ کو جواب دیا: خون؟ میرے چہرے سے ؟ کہاں ہے خون؟

اس نے یوں ظاہر کیا کہ وہ معاویہ کی باتیں سننے میں اس قدر محو تھا کہ اسے پتھر لگنے، پیشانی کے زخمی ہونے اور خون بہنے کا پتہ ہی نہ چلا۔

معاویہ نے کہا: عجیب بات ہے، تیری پیشانی پر پتھر لگا ہے لیکن تجھے پتہ نہیں چلا؟

بولا:نہیں مجھے پتہ نہیں چلا۔ پھر اس نے پیشانی پر ہاتھ مل کر کہا: عجیب ہے، خون!!

پھر اس نے معاویہ کی جان یا مقدسات کی قسم کھائی کہ جب تک آپ نے نہیں کہا آپ کے کلام کی مٹھاس کے باعث مجھے خون نکلنے کا احساس نہیں ہوسکا۔

معاویہ نے پوچھا: بیت المال سے تجھے کتنا وظیفہ ملتا ہے؟ اس نے ایک مقدار بتائی۔

معاویہ نے کہا: تجھ پر ظلم ہوا ہے۔ اسے تین گنا کیا جائے۔ یہ تھا معاویہ کی حکومتی مشینری پر حاکم ثقافت اور کلچر۔

اس دوران جولوگ روساء اور خلفاء کی چاپلوسی کرتے تھے وہی اربابِ حل و عقد تھے۔ لوگوں کو ان کی صلاحیت اور قابلیت کے مطابق ذمہ داریاں سونپی نہیں جاتی تھیں۔

عرب لوگ نسل اور نسب کو بہت اہمیت دیتے ہیں کہ فلان شخص کا تعلق کس خاندان سے ہے؟ اس کے آباء و اجداد کون تھے؟

اس کے باوجود یہ طبقہ نسب اور نسل کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا۔

عبد الملک اور اس کے بعض بیٹوں کے زمانے میں یوسف بن عمر ثقفی کو عرصہ دراز تک عراق کی حکمرانی سونپی گئی۔ وہ سالہا سال عراق کا حاکم اور والی رہا۔ یہ شخص نفسیاتی مریض اور خبیث شخص تھا۔ اس کے نفسیاتی مریض ہونے کے بارے میں کئی واقعات منقول ہیں۔ وہ چھوٹے قد کاٹھ کا آدمی تھا۔ وہ جسمانی چھوٹے پن کی وجہ سے نفسیاتی الجھن کا شکار رہتا تھا۔ جب وہ درزی کو کپڑے سلانے دیتا تھا تو اس سے سوال کرتا تھا: کیا یہ کپڑا میرے بدن کےلئے برابر ہے؟ درزی کپڑے کو دیکھ اگر یہ کہتا کہ کپڑا آپ کی جسامت کے مطابق بلکہ کچھ زیادہ ہے تو وہ فوراً اس درزی سے کپڑے واپس لیتا اور اسے سزا دینے کا حکم دیتا تھا۔ درزیوں کو اس روش کا پتہ چل گیا تھا۔ اسی لئے جب وہ کسی درزی کو کپڑا دکھا تا اور کہتا: کیا یہ میرےلئے کافی ہے یا نہیں تو درزی اسے دیکھ کر کہتا: نہیں جناب بظاہر یہ کپڑا تو آپ کی جسامت سے بہت کم ہے۔ اسے آپ کے جسم کے مطابق بنانے کےلئےہمیں بہت زحمت اٹھانا پڑےگی۔

یوسف اگر چہ جانتا تھا کہ درزی جھوٹ بول رہا ہے لیکن اسے یہ جھوٹ پسند آتا تھا۔ وہ اس قدر احمق تھا۔

یہ وہی حاکم ہے جس نے زید بن علی علیہ السلام کو کوفہ میں شہید کیا تھا۔ سالہا سال تک لوگوں کی جان،ثروت اور عزت پر اس شخص کا تسلط رہا۔ وہ نہ معقول حسب و نسب کا مالک تھا نہ صحیح پڑھا لکھا تھا اور نہ فہم و فراست کا حامل تھا لیکن چونکہ مقتدرِ اعلی سے وابستہ تھا اس لئے اس اہم عہدے پر فائز تھا۔ ایک حکومت اور نظام کےلئے اس قبیل کے لوگ سب سے بڑی آفت ہیں۔یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا۔ اس کے مقابلے میں صحیح اسلامی اقدار پر مبنی ایک قرآنی تحریک (جو اسلامی اقدار کی مخالف سرکاری پالیسی کے ساتھ ہرگز سمجھوتہ نہ کرسکی) بھی جاری رہی۔ اس تحریک کے نمایاں رہنما ائمہ ہدیٰ آپ علیہم السلام اور ان کے بہت سے مسلمان ساتھی تھے۔ امام حسن مجتبی علیہ السلام کے طفیل اسلامی اقدار پر مبنی اس انقلابی تحریک نے اسلام کو بچالیا۔اگر امام حسن مجتبیٰ یہ صلح نہ کرتے تو انقلابی اقدار پر مبنی اسلام باقی نہ رہتا اورختم ہوجاتا کیونکہ آخرکار معاویہ کو فتح حاصل ہوجاتی۔ ان حالات میں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے غالب آنے کی امید نہ تھی۔ امام مجتبیٰ کی عسکری شکست کے جملہ عوامل عیاں تھےاور فتح کا رخ معاویہ کی طرف تھا کیونکہ پروپیگنڈے کی مشینری اس کے قبضے میں تھی۔ اسلامی دنیا کے اندر اس کا چہرہ ایسا نہ تھا جس کو لوگوں کے سامنے قابل قبول بناکر پیش نہ کیا جاسکے۔

اگر امام حسن علیہ السلام صلح نہ فرماتے تو خاندان رسول کے تمام ارکان کا خاتمہ کردیا جاتا اور کسی کو باقی نہ چھوڑا جاتا جو اصلی اسلامی اقدار پر مبنی نظام کی حفاظت کرتا۔ سب کچھ مٹ جاتا، اسلام کا ذکر ختم ہوجاتااور واقعہ عاشورا کی بھی نوبت نہ آتی۔ اگر امام مجبتی علیہ السلام معاویہ کے ساتھ جنگ جاری رکھتے اور رسول کا خاندان قتل ہوجاتا تو امام حسن بھی ان کے ساتھ شہید ہوتے، اہل بیت کے معروف اصحاب بھی قتل ہوجاتے،حجر بن عدی جیسے لوگ قتل ہوجاتے، سب ختم ہوجاتا اور کوئی ایسا فرد باقی نہ بچتا جو مناسب مواقع سے استفادہ کرتے ہوئے اسلام کو اس کے اقدار کے ساتھ محفوظ رکھتا۔ اسلام کی گردن پر امام مجبتیٰ علیہ السلام کا یہ وہ عظیم حق ہے جس نے اسے باقی رکھا۔

( ۲۲/۱/۱۳۶۹ھ ش)۔

اگرچہ صلح جبراً مسلط کی گئی تھی لیکن بہرحال کوئی صلح تو ہوگئی۔ امام علیہ السلام نے صلح کی جو شرائط رکھیں ان شرائط نے درحقیقت معاویہ کی حکومت کی بنیادوں کو متزلزل کردیا۔ امام حسن علیہ السلام کی یہ صلح اور اس کی شرائط مجموعی طور پر اللہ کی چال تھی۔ یہ

’’وَ مَكَرُواْ وَ مَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيرُ الْمَاكِرِين‏‘‘

کا نمونہ تھیں۔ اگرا مام حسن جنگ کرتے ہوئے شہید ہوجاتے (قوی احتمال کی بنیاد پر آپ اپنے ان ہمراہیوں کے ذریعے قتل ہوجاتے جنہیں معاویہ کے جاسوسوں نے خرید لیا تھا) تو معاویہ کہتا: میں نے آپ کو نہیں مارا بلکہ آپ کے اصحاب نے مارا ہے۔

معاویہ اما م کا سوگ بھی مناتا پھر امیرالمؤمنین علیہ السلام کے تمام اصحاب کو نیست و نابود کر دیتا۔

یوں تشیع کا نام و نشان مٹ جاتا اور اس بات کی نوبت ہی نہ آتی کہ کچھ لوگ کوفہ میں ایسے رہ جائیں جو بیس سال بعد امام حسین علیہ السلام کو دعوت دیں۔ سرے سے کچھ نہ بچتا۔

امام حسن علیہ السلام نے شیعوں کو یعنی اصل تشیع کو بچایا تا کہ بیس پچیس سالوں کے بعد حکومت دوبارہ اہل بیت کا رخ کرے۔

( ۱۳/۳/۱۳۷۹ھ ش)۔

۷۵

جب امام حسن علیہ السلام معاویہ کے ساتھ صلح کرچکے تو نادانوں اور ناآگاہ لوگوں نے مختلف باتوں کے ذریعے امام کی ملامت کی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ آپ نے مومنوں کو ذلیل کیا ہے نیز ان پرجوش اور غیرتمند مومنین کو جو معاویہ کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے اپنی صلح کے ذریعے خوار اور معاویہ کے حوالے کردیا ہے۔کچھ لوگ نسبتاً احترام آمیز اور مودّب انداز میں بات کرتے تھے لیکن مقصود ایک تھا۔

امام حسن علیہ السلام ان اعتراضات اور ملامت آمیز باتوں کے جواب میں ان سے ایک جملہ فرماتے تھے جو آپ کے فرمودات میں شاید سب سے رسا اور بلیغ جملہ ہو۔

وہ جملہ یہ ہے:

" مَاتَدرِی لعلّه‏ فِتْنَةٌ الى حين"

(وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَّكُمْ وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ )

تمہیں کیا معلوم !شاید یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہو۔ شاید یہ معاویہ کےلئے ایک معینہ مدت اس فانی دنیا سے فائدہ اٹھانے کی مہلت ہو۔ امام کا یہ جملہ قرآنی آیت سے ماخوذ ہے۔اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ امام کو مستقبل میں ایک چیز کا انتظار ہے اور وہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ آپ کی نظر میں ناقابل ِقبول اور ناحق حکومت کا خاتمہ ہو جائے اور آپ کی پسندیدہ حکومت برسرکار آئے۔ اسی لئے آپ نے ان لوگوں سے فرمایا: تم لوگ اس صلح کی حکمت سے آگاہ نہیں ہو۔ تمہیں کیا معلوم ! شاید اس صلح میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہو۔

صلح کے آغاز میں دو سرکردہ شیعہ (مُسَیِّب بن نجبَہ اور سُلَیمان بن صرد) کچھ مسلمانوں کے ساتھ امام مجتبی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور بولے: ہمارے پاس خراسان، عراق اور... سے تعلق رکھنے والی کافی افرادی قوت موجود ہے۔ ہم انہیں آپ کے حوالے کریں گے۔ ہم شام تک معاویہ کا پیچھا کرنے کےلئے حاضر ہیں۔ امام علیہ السلام نے انہیں خلوت میں بلایا اور ان کے ساتھ کچھ گفتگو فرمائی۔ جب وہ باہر نکلے تو مطمئن ہوچکے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے افراد کو خیرباد کہا اور اپنے بعض ساتھیوں کو مدلل جواب بھی دیا۔

طہ حسین کا نظریہ ہے کہ اس ملاقات نے درحقیقت شیعوں کی مزاحمتی جد و جہد کی بنیاد رکھی۔ طٰہ حسین کا مقصود یہ ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر مشورہ فرمایا اور اسی ملاقات میں عظیم شیعی مزاحمتی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی۔

بنابریں امام حسن علیہ السلام کی زندگی اور آپ کے فرمودات میں یہ نکتہ واضح ہے اگرچہ اس دوران قیام کےلئے فضا سازگار نہ تھی کیونکہ لوگوں کی فکری بالغ نظری کم تھی جبکہ دشمن کے پروپیگنڈوں کا دائرہ بہت وسیع اور ان کے مالی وسائل بہت زیادہ تھے۔

دشمن ان طریقوں اور چالوں سے استفادہ کررہے تھے جن سے امام حسن علیہ السلام استفادہ نہیں کرسکتے تھے بطور مثال بے شمار پیسوں کی تقسیم نیز نامعقول اور ناصالح افراد کو جمع کرنا و غیرہ۔

۷۶

امام اس قسم کے ہتھکنڈوں سے استفادہ نہیں کرسکتے تھے۔

یوں دشمن کےہاتھ کھلے ہوئے تھے جبکہ امام کے ہاتھ بندھے ہوئے۔(پاسدار اسلام ،ش۶)۔

مروی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"وُقِّتَ هَذَا الْأَمْر فِي السَّبْعِين"

‏ یعنی تقدیر ِالٰہی یہ تھی کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے تیس سال بعد اور امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے دس سال بعد حکومت اہل بیت کو واپس مل جائے لیکن اس قدر عظیم نتیجہ کب حاصل ہوسکتا ہے؟

اس وقت جب لوگ اپنے عزم صمیم اور پختہ ارادے کی مدد سے اس انقلاب کا راستہ ہموار کریں۔ اللہ تعالیٰ کی کسی سے رشتہ داری نہیں ہے۔

یہاں لوگوں نے اپنے حصے کی ذمہ داری نہیں نبھائی۔

امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام نے اپنی ذمہ داری نبھائی لیکن خواص (عبداللہ بن جعفر، عبد اللہ بن عباس اور دیگر) کے ذمے جو کام تھا وہ انجام نہیں پایا۔

یہاں تک کہ اُن لوگوں نے بھی حضرت مسلم کے دور میں اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی جو بعد میں کربلا آئے اور امام حسین علیہ السلام کی رکاب میں نبرد آزما ہوئے۔

انہوں نے کوتاہی کا مظاہرہ کیا و گرنہ حضرت مسلم کا وہ انجام نہ ہوتا۔

انہیں چاہئے تھا کہ کام چکا دیتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔

ان کوتاہیوں کی وجہ سے سانحہ کربلا پیش آیا۔

اس کے بعد امام علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ الْحُسَيْنُ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ اشْتَدَّ غَضَبُ اللهِ تَعَالَى عَلَى أهْلِ الْأَرْضِ فَأَخَّرَهُ إِلَى أَرْبَعِينَ وَ مِائَة‘‘ ۔

جب حسین صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ قتل ہوگئے تو زمین والوں پر اللہ کا غضب شدید تر ہوگیا اور اللہ نے اسے ایک سو چالیس تک موخر کردیا۔

میری نظر میں ۱۴۰ ہجری مراد ہے۔

یعنی مزید ستّر سال تک انقلاب موخر ہوگیا۔ اس دوران بنی عباس برسر اقتدار تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صلح امام حسن علیہ السلام ایک عظیم کام کی بنیاد بن گئی و گرنہ ائمہ کاموں کو اس طریقے سے رہا نہیں کرتے۔ حکومت و ولایت کا مسئلہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہ تھا۔

یہ دین کی اساس اور محور ہے لیکن مذکورہ موانع پیش آئے۔

( ۱۳/۳/۱۳۷۹)۔

۷۷

اس صلح کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن میں اس واقعے کا ایک نئے زاوئے سے جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ اسلام کی پوری تاریخ کا ایک بہت ہی حساس موڑ ہے۔ تاریخ اسلام مختلف واقعات و حوادث سے پر ہے لیکن پوری تاریخِ اسلام میں اس واقعے (صلح امام حسنؑ) کی طرح کے تقدیر ساز واقعات بہت کم ہیں۔ میں نے تاریخِ اسلام میں اس قسم کے شاید ایک دو اور واقعات دیکھے ہیں جو صدیوں پر محیط اسلامی جد و جہد کی تاریخ میں اس قدر موثر کردار کے حامل ہوں۔ اس لحاظ سے یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔

خلاصہ یہ کہ اس واقعے کے بعد اسلامی خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ اگر ہم غور کریں تو یہ ایک بہت ہی پرمغز اور پربار جملہ ہے۔ خلافت بھی ایک قسم کی حکومت ہے اور ملوکیت بھی۔ یہ دونوں کسی ایک یا دو یا پانچ خصوصیات میں ایک دوسرے سے الگ اور جدا نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں، اسلامی مملکت اور اسلامی معاشرے پر حکومت کے معاملے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف دو الگ الگ نظام ہیں: ملوکیت اور خلافت۔

صلح کے واقعے میں تاریخ اسلام اور اسلامی نظامِ زندگی کی ریل گاڑی نے اپنا ٹریک تبدیل کرلیا۔.... صلح امام حسن کے بعد ایک سسٹم دوسرے سسٹم میں تبدیل ہوگیا اور اقتدار دائیں بازو کے ہاتھوں سے نکل کر بائیں بازو کےہاتھوں میں چلاگیا۔ یہاں ہم کئی سوالوں سے بحث کریں گے۔

سوال

پہلا سوال: ان دونوں بازوؤں کی علامات اور خصوصیات کیا ہیں؟

دوسرا سوال: جس باطل سسٹم نے معاشرے پر حکمرانی کےلئے اقتدار پر قبضہ کیا اس کے طریقہ ہائے کار کیا تھے؟؛

تیسرا سوال: جس برحق گروہ (امام حسن کے گروہ) نے اقتدار کو خیرباد کہا اس نے باطل سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا طریقے اپنائے؟

چوتھا سوال: شکست کی وجوہات کیا تھیں؟ اس واقعے میں برحق گروہ نے کیوں شکست کھائی؟

پانچواں سوال: فاتح گروہ نے مغلوب گروہ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ تاریخ کے نہایت سبق آموز اور عبرت انگیز ابواب میں سے ایک یہی باب ہے۔

چھٹا سوال: فاتح گروہ کے مقابلے میں مغلوب گروہ کا طرز عمل کیا تھا؟ اس گروہ نے کس قسم کی پالیسی اور سٹریٹیجی اپنائی؟

ساتواں سوال: انجام کیا ہوا؟

یہ سات مسئلے ہمارے سامنے ہیں۔

ان دو محاذوں کی امتیازی خصوصیات جو انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں کے بارے میں عرض ہے کہ بہت سی خصوصیات حق پرست محاذ سے مربوط ہیں جبکہ کچھ دیگر خصوصیات باطل گروہ سے۔ اگر میں ان سب کو ایک ایک کرکے گننا شروع کروں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی۔ بطور خلاصہ یہ عرض کروں گا کہ برحق محاذ یعنی امام حسن علیہ السلام کا محاذ وہ ہے جس کا اصل ہدف دین ہے۔ ان لوگوں کی نظر میں بنیادی مقصد دین تھا۔ دین کیا ہے؟ دین یہ ہے کہ ایک طرف سے لوگوں کے ایمان اور اعتقادات کے اندر دین راسخ ہو یعنی لوگ ایمانی اور عملی لحاظ سے دین کے پابند ہوں۔ دوسری طرف سے معاشرے کو چلانے میں دین کی حاکمیت برقرار ہو۔ اس گروہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ معاشرہ دین کے زیر انتظام، دین کی قوت سے اور دین کی حاکمیت کے پرچم تلے حرکت کرے اور اسلامی نظام قائم ہو۔ رہا یہ مسئلہ کہ طاقت، اقتدار اور کاموں کی زمام خود ان کے ہاتھوں میں ہو تو اس کی اہمیت دوسرے، تیسرے اور چوتھے درجے وغیرہ کی تھی۔

اس قسم کے دیگر مسائل فرعی تھے۔ اصلی مسئلہ یہ تھا کہ نظام اور معاشرے پر دین کی حاکمیت برقرار ہو نیز معاشرے کے لوگوں کے دلوں میں دین پر ایمان راسخ ہو اور باقی رہے۔ یہ تھیں پہلے گروہ (گروہِ حق) کی خصوصیات۔ رہا دوسرا محاذ یا گروہ تو اس کا اصل ہدف ہر قیمت پر اقتدار پر قبضہ کرنا یا حکومت کا حصول تھا۔ اس دوسرے گروہ کی حکمت عملی کی بنیاد یہی تھی۔ ان کا اصل مقصود و مطلوب حصول اقتدار تھا، ہرقیمت پر، ہر طریقے سے اور ہر حیلے سے۔

دنیا کے عام سیاستدانوں کی روش بھی یہی ہوتی ہے۔ ان کے سامنے اصولوں اور اقدار کی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر اتفاق سے ان کے ذہن میں کوئی اصول ہو جس کی وہ حفاظت کرنا چاہیں اور وہ اس پر قادر بھی ہوں تو اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ کرسکیں تو اس کی پروانہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک اصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ اقتدار ان کے اپنے پاس ہو۔ یہی ان کے لئے اہم ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی حساس اور اہم آزمائش ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ دونوں محاذ مذہب کے ظواہر پر عمل بھی کریں چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور معاویہ کے مابین جنگ (صفین) میں ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک دن (جنگ صفین میں) امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کے سپاہیوں کی ایک جماعت شک و تردد میں پڑگئی۔ ان کے درمیان چند چڑچڑے افراد موجود تھے۔ جب اس قسم کے لوگوں کے ذہن میں کوئی ایسی سوچ آتی ہے جسے وہ خود حل نہ سکیں تو کسی معقول شخص کی طرف مراجعہ کرنے کی بجائے اس سوچ کو پھیلانا شروع کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد غلط لوگوں کا ایک حلقہ قائم کرتے ہیں۔ اسی قسم کے چند لوگ شک و تردد کے شکار ہوئے اور بولے: ہم آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں؟ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی قرآن پڑھتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی پیغمبر کا نام لیتے ہیں اور ہم بھی۔ یوں وہ شک میں پڑگئے۔ عمار یاسر کو اطلاع ملی کہ بعض لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔ (صدر اسلام کی تاریخ میں عمار یاسر پر میری خاص توجہ مرکوز ہوئی۔) یہ بزرگ صحابی بہت ہی پیچیدہ اور سوال انگیز مسائل کو حل کرنے اور ان کا تجزیہ وتحلیل پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ اس دور کے لوگ ان مسائل سے غافل اور نابلد ہوتے تھے۔ تاریخ اسلام میں عمار یاسر کا یہ مقام ہے۔ اگر ہم مالک اشتر کو ان کی تلوار اور شجاعت کے باعث پہچانتے ہیں تو صدر اسلام کی تاریخ میں عماریاسر کو ان کی زبان، فکر، درست بصیرت اور ان کی نہایت کارگر رہنمائیوں کے باعث پہچاننا چاہئے۔ میں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور میں ایسے سوال انگیز موارد بہت کم دیکھے ہیں جہاں عمار یاسر (رہنمائی کےلئے) موجود نہ ہو۔ یہ بزرگ شخصیت سچ مچ ایک غیر معمولی ذات ہے۔

خلاصہ یہ کہ عمار یاسر کو اطلاع ملی کہ کچھ لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔ چنانچہ عمار نے خود جاکر انہیں کچھ حقائق سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہاں اصل مسئلہ ان ظاہری اعمال کا نہیں کہ دیکھو دونوں فریق نماز پڑھتے ہیں۔ عمار نے کہا :اللہ کی قسم! میں نے کسی اور جنگ میں انہی دونوں پرچموں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں دیکھا ہے۔

آج جِس پرچم کے نیچے امیرالمؤمنین علیہ السلام کھڑے ہیں بالکل یہی پرچم اُس پرچم کے مقابلے میں تھا جس کے نیچے آج معاویہ کھڑا ہے۔ وہ جنگ بدر تھی۔ جنگ بدر میں یہی دو پرچم (بنی ہاشم کا پرچم اور بنی امیہ کا پرچم) ایک دوسرے کے مدّ مقابل لہرا رہے تھے۔ اس پرچم کے نیچے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے جبکہ اُس پرچم کے نیچے یہی معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان موجود تھے۔ ان دو محاذوں کا اختلاف اصولی اختلاف ہے۔پس ان ظاہری اعمال کی طرف نگاہ نہ کرو۔

یوں عمار یاسر ؓنے ان لوگوں کے ذہن سے شک اور غلط فہمی کو دور کردیا۔ بنابریں گاہے وہی محاذ جس کا اصل مقصد حصولِ اقتدار ہوتا ہے اسلام کے ظاہری احکام کی بھی رعایت کرتا ہے۔ یہ اس محاذ کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔ پس ہمیں بڑی ہوشیاری کے ساتھ باطن کو دیکھنا چاہئے کہ کون سا محاذ کس چیز پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ تھا پہلا نکتہ۔

ان دونوں محاذوں کی خصوصیات :

ایک طرف اقتدار پرستی ہے جبکہ دوسری طرف اصول پرستی اور اقدار و نظریات کی لگن نیز اسلام کی بنیادی تعلیمات اور بنیادی افکار یعنی اسلامی اقدار پر ایمان، ان مقاصد کے لئے جدوجہد اور ان کی راہ میں جہاد۔ ایک طرف اصول پرستی ہے، بنیاد پرستی ہے اور سچی اقدار کی حفاظت کا جذبہ جبکہ دوسری طرف اقتدار پرستی ہے اور حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش۔ اب گاہے حالات کا رخ اس طرف ہوتا ہے اور گاہے اُس طرف لیکن دونوں صورتوں میں اس گروہ کا اصل مقصود و مطلوب حصول اقتدار ہوتا ہے۔یہ ہے پہلا نکتہ۔

رہا یہ سوال کہ باطل محاذ کن طریقوں سے استفادہ کرتا ہے؟ تو یہ بھی قابل توجہ ہے۔ باطل طریقے بطور کلی کئی چیزوں کا ملغوبہ ہوتا ہے۔ معاویہ نے اپنے اقتدار کے تحفظ اور اس کی بنیادوں کو گہری کرنے کےلئے جو لائحہ ٔعمل بنایا تھا وہ کئی حصوں اور عناصر پر مشتمل تھا۔ ان میں سے ہر حصہ ایک خاص جگہ موثر ہے۔ وہ عناصر یا حصے یہ ہیں:

الف: طاقت کا استعمال اور اظہار۔ گاہے وہ طاقت کا استعمال شدید طریقے سے کرتا ہے اور لوگوں کو سرکوب کرتا ہے۔

ب: پیسوں کا استعمال کیونکہ پیسہ شرپسندوں کا سب سے موثر ہتھکنڈا ہوتا ہے۔

ج: پروپیگنڈے کی طاقت سے بھر پور استفادہ۔

د: سیاسی ہتھکنڈے۔ یہ معاویہ کے سیاسی طور طریقے ہیں۔

آپ دیکھتے ہیں کہ معاویہ گاہے اس قدر سختی برتتا ہے کہ حجر بن عدی کو جو صحابی رسول تھے قتل کردیتا ہے جبکہ حجر کا قتل اس کےلئے مہنگا پڑتا ہے۔

معاویہ رشید ہجری کا پیچھا کرتا ہے اور آخر کار اسے قتل کرتا ہے۔ معاویہ نےزیاد بن ابیہ کو جو ایک ظالم، نفسیاتی مریض، حسب ونسب سے عاری، اقتدار کا پجاری اور بد اخلاق آدمی تھا، کوفہ کا حاکم بنایا۔

کوفہ شیعی طرز ِفکر اور نظریۂ ولایت کا مرکز تھا۔

معاویہ نے زیاد کو اختیار دےدیا کہ وہ جو چاہے کرے۔ زیاد بن ابیہ کے بارے میں مورخین نےلکھا ہے:

’’أَخْذكَ بِالظِّنَّةِ وَ قَتْلِكَ أَوْلِيَاءَهُ عَلَى التُّهَم‏ ‘‘

جس کے بارے میں اسے معمولی بدگمانی ہوجاتی کہ یہ شخص اہل بیت کی طرف میلان رکھتا ہے اسے زیاد کے کارندےپکڑلیتے، قید کرتے اور جسمانی سزائیں دیتے تھے۔جس کسی پر یہ الزام لگتا کہ اس نے آل رسول کے ساتھ تعاون کیاہے اور ان کی مغلوب تحریک کی حمایت کی ہے اسے وہ قتل کرتے اور ختم کردیتے تھے۔ تشیع اور آل رسول کی حاکمیت کے مرکز کوفہ میں ایک محشر بپاتھا۔

پس معاویہ گاہے اس طریقے سے طاقت کا اظہار کرتا تھا۔ اس کے برعکس گاہے آپ اسی معاویہ کو دیکھتے ہیں کہ جب کسی قبیلے کی ایک بوڑھی عورت آتی ہے ، معاویہ کو گالی گلوچ سے نواز تی ہے اور اس سے بدزبانی کرتی ہے کہ تو نے فلان فلان برے کام کیے ہیں تو وہ ہنسنے لگتا ہے، اس عورت کو نوازتا ہے، اس سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہے اور اسے کچھ نہیں کہتا۔

عدی بن حاتم جس کی دونوں آنکھیں نابینا ہوچکی تھیں معاویہ کے پاس آیا۔ معاویہ نے اس سے کہا: اے عدی !علی نے تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ میرے ساتھ علی کی جنگ میں تیرے دو بیٹے قتل ہوگئے لیکن علی نے اپنے دونوں بیٹوں(حسن اور حسین) کو بچایا۔ عدی بن حاتم نے رو کر کہا: اے معاویہ ! میں نے علی کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ علی شہید ہو کر اللہ کے پاس چلے گئے لیکن میں ابھی زندہ ہوں۔

معاویہ کی مجلس میں جب بھی اہل بیت کا کوئی دلدادہ موجود ہوتا اور وہاں امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کی معمولی بھی توہین ہوتی تو وہ پوری شجاعت، صراحت اور طاقت کے ساتھ معاویہ اور اس کے دوستوں کو آڑے ہاتھوں لیتا تھا لیکن معاویہ ہنستا تھا اور مہربانی کرتا تھا یہاں تک کہ گاہے روتا تھا اور کہتا تھا: ہاں تو نے سچ کہا ہے۔

شاید یہ بات آپ کےلئے ناقابل یقین ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ پروپیگنڈہ یہی ہے۔ پروپیگنڈہ سب سے زیادہ مسموم اور خطرناک ہتھکنڈا ہے جس سے تاریخ کے ہر دور میں باطل قوتوں نے استفادہ کیا ہے۔ حق کا محاذ پروپیگنڈے کی طاقت سے اس طرح ہرگز استفادہ نہیں کرسکتا جس طرح اہل باطل اس سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ پروپیگنڈے کے ذریعے مکمل برین واشنگ کرنے کےلئے ڈرامہ بازی، جھوٹ اور فریب کا سہارا لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اہل ِحق جھوٹ اور فریب سے مبرا ہوتے ہیں ۔اس کے برعکس باطل پرستوں کی نظر میں ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک حقیقت کسی اور شکل میں لوگوں کی نگاہوں میں جلوہ گر ہو۔ اس مقصد کے لئے وہ ہر قسم کے طریقوں اور ہتھکنڈوں سے استفادہ کرتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسا کرتے رہےہیں ۔

آپ نے مختلف لوگوں سے سن رکھا ہے کہ جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام محراب عبادت میں شہید ہوئے تو شام والوں کو تعجب ہوا کہ علی کا محراب ِعبادت سے کیا سروکار تھا ؟ محراب تو نمازیوں کے لئے ہوتا ہے ۔کچھ لوگ اس بات کو نہیں مانتے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے۔معاویہ کے کئی سالہ دورِ حکومت میں اور اس سے قبل اس کے بڑے بھائی یزید بن ابوسفیان کے دور میں شام کے اندر غلط پروپیگنڈوں کے ذریعے ذہنی فضا کو اس قدر مکدر اور غبار آلود کیا گیا تھا کہ لوگ ان کے علاوہ کسی اور چیز کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔

یہ ہے وہ پروپیگنڈا جو بنی امیہ کے حق میں اور آل رسول کے خلاف رچایا گیا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریبا ۱۰۰ ہجری تک یعنی خود امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور کے چالیس پچاس سال بعد تک عالم اسلام میں منبروں سے آپ پر سب و لعن کیا جاتا رہا۔میں نے جس لعنت کا ذکر کیا ہے وہ عالم اسلام میں معاویہ کی کار ستانی ہے ۔ معاویہ کے اخلاق کا عملی مظاہرہ یہی ہے۔بعض لوگ شیعوں پر الزام لگاتے اور ان کی ملامت کرتے ہیں کہ وہ بعض اصحاب پر لعن طعن کرتے ہیں حالانکہ یہ تو مخالفین کا اور معاویہ کا طرز عمل ہے ۔

یہ لوگ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل اور سب سے پہلے مسلمان نیز رسول کے قریب ترین صحابی امیرالمؤمنین علیہ السلام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو کئی دہائیوں تک منبروں سے برا بھلا کہتے رہے اور آپ پر سبّ کرتے رہے۔یہ سلسلہ عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت تک جاری رہا۔عمر بن عبد العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد اس پر پابندی لگائی ۔عبد الملک بن مروان کے بعد اس کے دو بیٹوں ولید اور سلیمان نے تقریبا بارہ تیرہ سال تک یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ ان کے بعد عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے۔عمر بن عبد العزیز (جس نے تقریبا دوسال یا دوسال سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ) کے بعد عبد الملک کے دوسرے دوبیٹوں (یزید اور ہشام ) نے حکومت کی ۔عمر بن عبد العزیز نے بنی امیہ کا راستہ روکا اور کسی کو امیرالمؤمنین(علیہ السلام) پر سب و لعن کرنے کی اجازت نہیں دی۔اس وقت تک لوگ ایسا کرتے رہے۔ان لوگوں کا ایک کام یہ تھا۔لوگ شروع شروع میں تعجب کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہوگئے۔

میں نے تاریخ میں پڑھاہے کہ دنیائے اسلام میں کوئی قاری، محدث اور راوی باقی نہیں رہا جسے معاویہ اور اس کے جانشینوں کی حکومتی مشینری نے اہل بیت کی مذمت کرنے ،اہل بیت کے دشمنوں کی تعریف و تمجید میں احادیث گھڑنے اور آیات کی (غلط) تفسیر کرنے و غیرہ پر آمادہ نہ کیا ہو۔ اسی سَمُرۃ بن جُندَب کو لیجئے (مشہور و معروف حدیث نبوی لاضر و لا ضرار اسی سے مربوط ہے)۔ سمرہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی تھا لیکن آپ اس سے ناراض ہوئے تھے۔ سمرہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس کا ایک درخت تھا جو کسی اور گھرانے کی زمین میں اگا ہوا تھا۔ وہ ان کی زمین میں داخل ہوتا اور ان کےلئے باعث زحمت بنتا تھا۔ وہ بغیر اطلاع دیے اور بغیر اجازت لیے ان کے گھر جاتا تھا۔

۷۸

ایک دفعہ گھر والے بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک مرد گھر میں داخل ہوا۔ان کے گھر کی زمین میں،چار دیواری کے اندر اس کا ایک درخت تھا کھجور کا۔گھر والوں نے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس شکایت کی۔ آپ نے فرمایا:یہ درخت گھر والے کو فروخت کر۔اس نے کہا: نہیں بیچوں گا۔ درخت میرا ہے اورمیرا دل چاہتا ہے کہ اپنے درخت کو دیکھنے کےلئے جایا کروں۔ فرمایا: مجھے ہی بیچ دے۔ اس نے نہیں مانا۔ فرمایاکہ اتنی قیمت لےلے۔ اس نے نہیں مانا۔ فرمایا: جنت کے ایک درخت کے بدلے بیچ دے۔ گویا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس سے بہشت کا وعدہ فرمایا۔ اس نے کہا: ضرورت نہیں۔ مجھے اپنا یہی درخت چاہئے اور بس۔ پیغمبرنے گھر کے مالک سے فرمایا : جب حالت یہ ہے تو جا اور اس کے درخت کو جڑے اکھاڑ کر باہر پھینک دے تاکہ وہ اسے اٹھاکر لےجائے کیونکہ: لاضرر و لاضرار فی الاسلام یعنی اسلام لوگوں کو نقصان پہنچانے اور تکلیف دینے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام اس بہانے لوگوں کو ستانے کی اجازت نہیں دیتا کہ یہاں میرا درخت ہے، میرا مال ہے۔ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں۔ حدیث ’’لا ضرر‘‘ جو معروف ہے اور ہمارے فقہی اصول و قواعد کا ایک حصہ ہے اسی سمرہ کے بارے میں ہے۔سمرۃ بن جندب معاویہ کے دور تک زندہ تھا۔ اس کی خوش قسمتی اور اچھے انجام کو دیکھئے۔ معاویہ کو اصحاب رسول کی تلاش تھی کیونکہ اصحاب کا معاشرے میں مقام تھا۔ معاویہ انہیں اپنے گرد جمع کرنا چاہتا تھا۔

چنانچہ وہ سمرہ کو بھی اپنے پاس لے آیا اور اس سے بولا: میں چاہتا ہوں کہ آپ قرآن کی اس معروف آیت:

’’وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَ يُشْهِدُ اللهَ عَلى‏ ما في‏ قَلْبِهِ وَ هُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ‘‘ ۔

یعنی کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور دنیا کی مذمت کرتے ہیں تو ان کی باتیں تمہیں تعجب میں مبتلا کرتی ہیں۔ وہ اپنے دل کی بات پر خدا کو گواہ ٹھہراتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ ریاکاری کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ دنیا کی مذمت میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فرمودات معاویہ پر منطبق ہوتے تھے۔ نہج البلاغہ میں مذکور خطبات بہت موثر تھے۔ آپ فرض کیجئے کہ اگر آج ایک شخص کوئی شعر ، کوئی کتاب یا کوئی مقالہ نہایت خوبصورتی، فصاحت و بلاغت اور ہنرمندی کےساتھ لکھے اور اس تحریر میں کسی موضوع کا ذکر کرے تو بدیہی ہے کہ یہ موضوع مقبول و معروف ہوجائےگا اور اس فنی تخلیق کا خالق بھی لوگوں کی نظر میں پیارا اور دلکش محسوس ہوگا۔

اب امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلام کا موازنہ یقیناًکسی ایسی فنی تخلیق کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا جس کا ہمیں علم ہے۔ امیرالمؤمنین علیہ السلام کا کلام ان چیزوں سے بہت بلند و برتر ہے۔

نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے کلمات حسن کا شاہکار ہیں۔

یہ سب اسلامی اقدار اور اسلامی معارف کو بیان کرتے ہیں۔

یہ چیز معاویہ کےلئے سرے سے قابل تحمل اور قابل قبول نہ تھی جبکہ یہی چیز امیرالمؤمنین علیہ السلام کی محبوبیت میں اضافہ کرتی تھی۔ معاویہ چاہتا تھا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام سے منقول فرمودات (جن میں دنیا کی مذمت کی گئی ہے نیز زہد اور ترک دنیا کی ترغیب موجود ہے) کا کوئی توڑ تراشا جائے۔ اسی لئے اس نے سمرہ سے کہا: تم یہ کہو کہ یہ آیت علی بن ابی طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

یعنی علی ابن ابی طالب وہ ہے جو ایک طرف سے دنیا کی اتنی مذمت کرتا ہے کہ تجھے تعجب ہوتا ہےاور وہ خدا کی قسم بھی کھاتا ہے لیکن دوسری طرف سے وہ خدا اور اسلام کا سب سے ہٹ دھرم دشمن بھی ہے۔

تم کہو کہ یہ آیت علی کے بارے میں ہے اور یہ دوسری آیت ابن ملجم کے بارے میں ہے:

’’ وَ مِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّه ِ‘‘

لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔

معاویہ کواس کی بہت ضرورت تھی اور یہ پروپیگنڈے کےلئے بہت مفید تھا۔

سمرہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی تھا جس نے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو دیکھا تھا۔وہ جنگوں میں رسول کے ہمرکاب رہتا تھا اور بچپن سے ہی سپاہی تھااور بالغ ہونے سے قبل ہی جنگوں میں شرکت کرتا تھا۔ اب اس قسم کا صحابی آئے اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کو مذکورہ آیت کا مصداق قرار دے تو معاویہ کو اور کیا چاہئے تھا۔ وہ رسول کا صحابی بھی تھا۔اس سے کہا گہا کہ وہ اس آیت کی یہ تفسیر کرے کہ یہ آیت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔سمرہ بن جندب ایک بد بخت اور برا آدمی تھا لیکن اس کے ضمیر نے گوارا نہ کیا۔اس نے کہا : میں یہ کام نہیں کروں گا۔معاویہ نے ان لوگوں سے جو اس کے دربار میں اس قسم کے کاموں میں رابطے کا کام انجام دیتے تھے کہا : اس سے کہو کہ تمہاری اجرت تمہیں مل جائے گی۔پیسے کی فکر نہ کرو ،ہم تمہیں پچاس ہزار درہم دیں گے۔اس زمانے میں پچاس ہزار درہم کی بہت بڑی مالیت تھی ۔اس دور کے حساب سے پچاس ہزار درہم پچاس ہزار مثقال چاندی یا پانچ ہزار مثقال سونے کے برابر تھے۔یہ بہت بڑی دولت تھی۔انہوں نے کہا کہ معاویہ تمہیں پچاس ہزار دے گا لیکن سمرہ نے قبول کرنے سے انکار کیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا نہیں تھا کہ سمرہ کا ضمیر اجازت نہیں دے رہا تھا بلکہ وہ اپنا بازار چمکانے کے لئے چال چل رہا تھا۔اسے معلوم تھا کہ معاویہ کو اس کام کی ضرورت ہے لہذا وہ اپنا ریٹ بڑھا رہا تھا۔ اب خواہ یہ بات درست ہو یااس کے ضمیر نے سچ مچ برداشت نہ کیا ہو مجھے حقیقت حال کا علم نہیں ہے اور ہم سمرہ بن جندب کے گناہ کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔

بہر حال جب اس نے قبول نہیں کیا تو انہوں نے اجرت میں اضافہ کرتے ہوئے ایک لاکھ درہم کی پیشکش کی لیکن اس نے پھر بھی قبول نہ کیا۔پھر نوبت ڈیڑھ لاکھ اور دو لاکھ تک پہنچ گئی لیکن اس نے پھر بھی انکار کیا۔

بعد ازاں تین لاکھ یا پانچ لاکھ (صحیح مقدار مجھے یاد نہیں ) درہم جو عظیم دولت تھی کی پیشکش ہوئی ۔یہ ایک غیر معمولی سرمایہ تھا لیکن اس نے پھر بھی قبول نہیں کیا۔

معاویہ نے رابطہ کار سے کہا : اس بے وقوف کو پتہ نہیں کہ پانچ لاکھ کتنی بڑی رقم ہے۔رابطہ کار نے کہا کہ پانچ لاکھ حاضر کرنے کا حکم دیجئے تاکہ وہ دیکھ لے کہ کتنی بڑی رقم ہے۔ پھر ہم دیکھیں کہ وہ قبول کرتا ہے یا نہیں۔ معاویہ نے کہا : بہت اچھا۔اس نے خزانچی سے کہا کہ وہ پانچ لاکھ درہم خزانے سے اٹھا کر لے آئے۔اس دور کے چاندی کے سکے تھیلوں میں رکھے جاتے تھے ۔وہ بہت بھاری ہوتے تھے اور ان کا حجم بھی زیادہ ہوتا تھا ۔قلیوں نے ان رقوم کو لانا شروع کیا۔وہ تھیلوں کو ایک دوسرے اوپر مسلسل رکھتےگئےیہاں تک کہ وہ کمرے کی چھت تک پہنچ گئے۔تب انہوں نے کہا : یہ پانچ لاکھ درہم ہیں ۔حاضر ہو یا نہیں؟ سمرہ نے ان پیسوں کو دیکھا اور سوچا کہ یہ تو عظیم سرمایہ ہے اور قبول کیا اور آیت کی وہی تفسیر بیان کی جو وہ چاہتے تھے اور یہ روایت کتابوں میں باقی رہی۔

اگرچہ غالبا دنیائے اسلام میں اس قسم کی ذلت آمیز ،غلط اور بے بنیاد روایات کو ختم کیا گیا ہے اور بعد کے علما ء نے انہیں کتابوں سے نکال دیا ہے لیکن پھر بھی ان کے کچھ اثرات باقی رہ گئے جو بعض لوگوں کے اذہان پر اپنا اثر چھوڑتے رہے۔معاویہ اقتدار کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتا تھا۔یہاں ہم اس موضوع کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔باطل کے اس حملے کےمقابلے میں حق کا محاذ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا تھا۔ ان کے پاس بھی مقابلے کے طریقے موجود تھے جو بطور خلاصہ یہ ہیں:

الف: مقاومت، استقامت اور پرزور جدوجہد۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امام حسن مجتبی علیہ السلام جنگ لڑنے سے ڈرگئے۔ جی نہیں امام مجبتیٰ جنگ کا عزم ِقاطع رکھتے تھے۔ آپ عرب کے بہادرورں میں سے ایک تھے۔ میں نے مختلف واقعات میں امام مجتبیٰ علیہ السلام کے شجاعت آمیز کارناموں کا حال کتابوں میں دیکھا ہے۔ مختلف حوادث میں آپ کی دلاوری کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔ البتہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جنگوں میں خود امیرالمؤمنین علیہ السلام امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کو لڑنے اور خطرات میں کود نے سے روکتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ محمد بن حنفیہ کو آگے بھیجتے ہیں جبکہ وہ بھی تو آپ کا بیٹا ہے؟ آپ حسن اور حسین کو میدان میں کیوں نہیں بھیجتے؟ فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں رسول کی نسل منقطع نہ ہوجائے۔ رسول کی باقی ماندہ اولاد صرف یہی تو ہیں۔ میں نسل رسول کی حفاظت کرنا چاہتا ہوں۔ پس آپ اس خطرے کے احساس کی وجہ سے میدان جنگ میں ان کی حفاظت کے خواہاں تھے نہ کہ پدری محبت کی وجہ سے۔ آپ کو اپنی دیگر اولاد سے بھی محبت تھی۔ خود امیرالمؤمنین علیہ السلام بھی جنگجو اور مردِ میدان تھے اور خطرات کی پروا کئے بغیر خطرات میں کود تے تھےلیکن چونکہ یہ دونوں رسول کے نورچشم تھے اس لئے امیرالمؤمنین علیہ السلام انہیں خطرات کی نذر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ دونوں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جنگوں میں موجود تھے لیکن انہوں نے مذکورہ علت کی وجہ سے جنگ میں زیادہ حصہ نہیں لیا۔ اسی لئے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے اسمائے گرامی اس دور کے جنگی سورماؤں میں دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن ایران کے ساتھ مسلمانوں کی جنگوں میں امام حسن علیہ السلام حاضر رہے تھے۔ حملہ آوروں کے مقابلے میں حضرت عثمان کے گھر کی حفاظت پر امام حسن امیرالمؤمنین علیہ السلام کی طرف سے مامور تھے۔ کئی اہم ترین واقعات میں امام حسن علیہ السلام موجود رہے۔

جنگ جمل اور جنگ صفین میں بھی امام حسن علیہ الصلاۃ والسلام کے کندھے پر غیرمعمولی ذمہ داریاں عائد تھیں۔ میں نے خاص طور سے صفین اور جمل کے واقعات میں امام حسن علیہ السلام کا تذکرہ بہت دیکھا ہے۔ البتہ امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ کم دیکھا ہے۔گویا امام حسن مجتبی علیہ السلام جنگوں اور حوادث میں امام حسین علیہ السلام سے زیادہ شریک رہے ہیں۔ جی ہاں امام حسن مرد میدان تھے، میدان سیاست کے دھنی تھے، مدبر تھے، فصیح و بلیغ سخنور تھے اور طاقتور تھے۔ جب انسان امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے مباحثات و مجادلات کا مطالعہ کرتا ہے تو آپ کی جرأت اور قوت کو دیکھ کر انگشت بدندان رہ جاتا ہے۔

صلح کے واقعے میں اور اس کے بعد امام حسن علیہ السلام سے ایسے دندان شکن اور قوت فیصلہ سے لبریز فرمودات منقول ہیں جو بعض مواردمیں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فرمودات سے بھی زیادہ تند، کاٹ دار اور دشمن شکن دکھائی دیتے ہیں۔ میں نے دشمن کے مقابلے میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فرمودات کے اندر اس قدر زور اور تیزی کا مشاہدہ کم ہی کیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اس قسم کے گستاخ، بےشرم اور خبیث دشمنوں کےساتھ نزدیک سے روبرو نہیں ہوئے تھے جن سے امام حسن علیہ السلام روبرو تھے۔ پس امام حسن علیہ السلام کے اندر کسی قسم کا نقص موجود نہیں تھا۔ اگرکوئی کمی تھی تو اس کا تعلق زمانے کے حالات اور تقاضوں سے ہے۔ امام حسن علیہ السلام نے مضبوطی سے اسلام کا دفاع کیا۔

یہ ایک روش ہے البتہ ممکنہ حدود کے اندر۔ گاہے طاقت کے ساتھ مقاومت کرنا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

یہ ایک دائمی اصول ہے۔ طریقہ کارمیں تبدیلی اور بہترین طریقے کے انتخاب کا تجربہ ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے۔

ب: تبلیغ۔ حق پرست محاذ کے ہاں تبلیغ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔

البتہ (جیسا کہ میں عرض کرچکا) تبلیغ کے معاملے میں حق برستوں کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں۔ وہ تبلیغ کے ہر طریقے سےاستفادہ نہیں کرسکتے بلکہ صرف وہی طریقے اختیار کرسکتے ہیں جو حق اور حقیقت پر مبنی ہوں۔

جب لوگ ذہنی طور پر کسی چیز کو پسند کرتے ہیں تو باطل محاذ ان لوگوں کی پسند کے مطابق بات کرنے سے نہیں ہچکچاتے جبکہ حق پرست محاذ ایسا نہیں کرسکتا۔ وہ صرف حق کو بیان کرتا ہے اگرچہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام گاہے اپنے دوستوں سے اس قدر تلخ بات کرتے ہیں کہ انسان کو تعجب ہوتا ہے۔ ہم لوگ بھی اگرچہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کےطور طریقوں پر چلیں لیکن بعض موارد میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی روش ہمارے لئے بھی تعجب انگیز ہے۔ معاویہ ہرگز ایسا نہیں کرتا تھا۔

معاویہ لوگوں کی خوشامد کرتا اور کوشش کرتا تھا کہ ہر قیمت پر لوگوں کی حمایت حاصل کرے۔ علی ابن ابی طالب ایسا نہیں کرتے۔ اس لئے نہیں کہ انہیں یہ گُر نہیں آتا تھا بلکہ اس لئے کہ یہ تقویٰ اور اصولوں کے منافی ہے۔

۷۹

خود علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

لَوْ لَا التُّقَى لَكُنْتُ أَدْهَى الْعَرَب

‏ (اگر تقوی کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں عرب کا چالاک ترین آدمی ہوتا۔) اگر تقوی مد نظر نہ ہوتا اور اقدار مدنظر نہ ہوتیں تو میں ان کاموں میں معاویہ سے زیادہ چالاکی دکھاتا۔

حقیقت بھی یہی ہے۔علی کا حسب و نسب، ماضی میں پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ آپ کی قربت اور آپ کے عظیم کارنامے نیز آپ کے ذہن اور آپ کی روح کی بلندی و عظمت سے ظاہر ہے کہ آپ معاویہ سے زیادہ ماہر، اس سے زیادہ آگاہ، ہوشیار اور چالاک تھے اور بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن حق آڑے آتا رہا۔

اقدار کی حفاظت:

ہر قیمت پراقدار کی حفاظت کی کوشش نظام ِحق اور حق پرستوں کے ہاں بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ اہل حق اپنی حکمت ِعملی میں اس نکتے پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں یہاں تک کہ وہ بقائے دین کی خاطر پیچھے بھی ہٹ جاتے ہیں یعنی اگر اہل ِحق یہ دیکھ لیں کہ ان کا ڈٹ جانا دین ومذہب کےلئے خطرے کا موجب ہے تو وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں۔

اس صورت میں وہ پسپائی کو ننگ و عار نہیں سمجھتے۔

۸۰