اس صلح کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن میں اس واقعے کا ایک نئے زاوئے سے جائزہ لینا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ اسلام کی پوری تاریخ کا ایک بہت ہی حساس موڑ ہے۔ تاریخ اسلام مختلف واقعات و حوادث سے پر ہے لیکن پوری تاریخِ اسلام میں اس واقعے (صلح امام حسنؑ) کی طرح کے تقدیر ساز واقعات بہت کم ہیں۔ میں نے تاریخِ اسلام میں اس قسم کے شاید ایک دو اور واقعات دیکھے ہیں جو صدیوں پر محیط اسلامی جد و جہد کی تاریخ میں اس قدر موثر کردار کے حامل ہوں۔ اس لحاظ سے یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ اس واقعے کے بعد اسلامی خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ اگر ہم غور کریں تو یہ ایک بہت ہی پرمغز اور پربار جملہ ہے۔ خلافت بھی ایک قسم کی حکومت ہے اور ملوکیت بھی۔ یہ دونوں کسی ایک یا دو یا پانچ خصوصیات میں ایک دوسرے سے الگ اور جدا نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں، اسلامی مملکت اور اسلامی معاشرے پر حکومت کے معاملے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف دو الگ الگ نظام ہیں: ملوکیت اور خلافت۔
صلح کے واقعے میں تاریخ اسلام اور اسلامی نظامِ زندگی کی ریل گاڑی نے اپنا ٹریک تبدیل کرلیا۔.... صلح امام حسن کے بعد ایک سسٹم دوسرے سسٹم میں تبدیل ہوگیا اور اقتدار دائیں بازو کے ہاتھوں سے نکل کر بائیں بازو کےہاتھوں میں چلاگیا۔ یہاں ہم کئی سوالوں سے بحث کریں گے۔
سوال
پہلا سوال: ان دونوں بازوؤں کی علامات اور خصوصیات کیا ہیں؟
دوسرا سوال: جس باطل سسٹم نے معاشرے پر حکمرانی کےلئے اقتدار پر قبضہ کیا اس کے طریقہ ہائے کار کیا تھے؟؛
تیسرا سوال: جس برحق گروہ (امام حسن کے گروہ) نے اقتدار کو خیرباد کہا اس نے باطل سسٹم کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا طریقے اپنائے؟
چوتھا سوال: شکست کی وجوہات کیا تھیں؟ اس واقعے میں برحق گروہ نے کیوں شکست کھائی؟
پانچواں سوال: فاتح گروہ نے مغلوب گروہ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ تاریخ کے نہایت سبق آموز اور عبرت انگیز ابواب میں سے ایک یہی باب ہے۔
چھٹا سوال: فاتح گروہ کے مقابلے میں مغلوب گروہ کا طرز عمل کیا تھا؟ اس گروہ نے کس قسم کی پالیسی اور سٹریٹیجی اپنائی؟
ساتواں سوال: انجام کیا ہوا؟
یہ سات مسئلے ہمارے سامنے ہیں۔
ان دو محاذوں کی امتیازی خصوصیات جو انہیں ایک دوسرے سے الگ کرتی ہیں کے بارے میں عرض ہے کہ بہت سی خصوصیات حق پرست محاذ سے مربوط ہیں جبکہ کچھ دیگر خصوصیات باطل گروہ سے۔ اگر میں ان سب کو ایک ایک کرکے گننا شروع کروں تو ایک لمبی فہرست بن جائے گی۔ بطور خلاصہ یہ عرض کروں گا کہ برحق محاذ یعنی امام حسن علیہ السلام کا محاذ وہ ہے جس کا اصل ہدف دین ہے۔ ان لوگوں کی نظر میں بنیادی مقصد دین تھا۔ دین کیا ہے؟ دین یہ ہے کہ ایک طرف سے لوگوں کے ایمان اور اعتقادات کے اندر دین راسخ ہو یعنی لوگ ایمانی اور عملی لحاظ سے دین کے پابند ہوں۔ دوسری طرف سے معاشرے کو چلانے میں دین کی حاکمیت برقرار ہو۔ اس گروہ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ معاشرہ دین کے زیر انتظام، دین کی قوت سے اور دین کی حاکمیت کے پرچم تلے حرکت کرے اور اسلامی نظام قائم ہو۔ رہا یہ مسئلہ کہ طاقت، اقتدار اور کاموں کی زمام خود ان کے ہاتھوں میں ہو تو اس کی اہمیت دوسرے، تیسرے اور چوتھے درجے وغیرہ کی تھی۔
اس قسم کے دیگر مسائل فرعی تھے۔ اصلی مسئلہ یہ تھا کہ نظام اور معاشرے پر دین کی حاکمیت برقرار ہو نیز معاشرے کے لوگوں کے دلوں میں دین پر ایمان راسخ ہو اور باقی رہے۔ یہ تھیں پہلے گروہ (گروہِ حق) کی خصوصیات۔ رہا دوسرا محاذ یا گروہ تو اس کا اصل ہدف ہر قیمت پر اقتدار پر قبضہ کرنا یا حکومت کا حصول تھا۔ اس دوسرے گروہ کی حکمت عملی کی بنیاد یہی تھی۔ ان کا اصل مقصود و مطلوب حصول اقتدار تھا، ہرقیمت پر، ہر طریقے سے اور ہر حیلے سے۔
دنیا کے عام سیاستدانوں کی روش بھی یہی ہوتی ہے۔ ان کے سامنے اصولوں اور اقدار کی اہمیت نہیں ہوتی۔ اگر اتفاق سے ان کے ذہن میں کوئی اصول ہو جس کی وہ حفاظت کرنا چاہیں اور وہ اس پر قادر بھی ہوں تو اس کی حفاظت کرتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ کرسکیں تو اس کی پروانہیں کرتے کیونکہ ان کے نزدیک اصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ اقتدار ان کے اپنے پاس ہو۔ یہی ان کے لئے اہم ہوتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی حساس اور اہم آزمائش ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ دونوں محاذ مذہب کے ظواہر پر عمل بھی کریں چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور معاویہ کے مابین جنگ (صفین) میں ایسا دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک دن (جنگ صفین میں) امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کے سپاہیوں کی ایک جماعت شک و تردد میں پڑگئی۔ ان کے درمیان چند چڑچڑے افراد موجود تھے۔ جب اس قسم کے لوگوں کے ذہن میں کوئی ایسی سوچ آتی ہے جسے وہ خود حل نہ سکیں تو کسی معقول شخص کی طرف مراجعہ کرنے کی بجائے اس سوچ کو پھیلانا شروع کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد غلط لوگوں کا ایک حلقہ قائم کرتے ہیں۔ اسی قسم کے چند لوگ شک و تردد کے شکار ہوئے اور بولے: ہم آپس میں کیوں لڑ رہے ہیں؟ وہ بھی نماز پڑھتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی قرآن پڑھتے ہیں اور ہم بھی، وہ بھی پیغمبر کا نام لیتے ہیں اور ہم بھی۔ یوں وہ شک میں پڑگئے۔ عمار یاسر کو اطلاع ملی کہ بعض لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔ (صدر اسلام کی تاریخ میں عمار یاسر پر میری خاص توجہ مرکوز ہوئی۔) یہ بزرگ صحابی بہت ہی پیچیدہ اور سوال انگیز مسائل کو حل کرنے اور ان کا تجزیہ وتحلیل پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے۔ اس دور کے لوگ ان مسائل سے غافل اور نابلد ہوتے تھے۔ تاریخ اسلام میں عمار یاسر کا یہ مقام ہے۔ اگر ہم مالک اشتر کو ان کی تلوار اور شجاعت کے باعث پہچانتے ہیں تو صدر اسلام کی تاریخ میں عماریاسر کو ان کی زبان، فکر، درست بصیرت اور ان کی نہایت کارگر رہنمائیوں کے باعث پہچاننا چاہئے۔ میں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور میں ایسے سوال انگیز موارد بہت کم دیکھے ہیں جہاں عمار یاسر (رہنمائی کےلئے) موجود نہ ہو۔ یہ بزرگ شخصیت سچ مچ ایک غیر معمولی ذات ہے۔
خلاصہ یہ کہ عمار یاسر کو اطلاع ملی کہ کچھ لوگ اس غلط فہمی کے شکار ہوئے ہیں۔ چنانچہ عمار نے خود جاکر انہیں کچھ حقائق سے آگاہ کیا اور ان پر واضح کیا کہ یہاں اصل مسئلہ ان ظاہری اعمال کا نہیں کہ دیکھو دونوں فریق نماز پڑھتے ہیں۔ عمار نے کہا :اللہ کی قسم! میں نے کسی اور جنگ میں انہی دونوں پرچموں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں دیکھا ہے۔
آج جِس پرچم کے نیچے امیرالمؤمنین علیہ السلام کھڑے ہیں بالکل یہی پرچم اُس پرچم کے مقابلے میں تھا جس کے نیچے آج معاویہ کھڑا ہے۔ وہ جنگ بدر تھی۔ جنگ بدر میں یہی دو پرچم (بنی ہاشم کا پرچم اور بنی امیہ کا پرچم) ایک دوسرے کے مدّ مقابل لہرا رہے تھے۔ اس پرچم کے نیچے رسول اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور امیرالمؤمنین علیہ السلام تھے جبکہ اُس پرچم کے نیچے یہی معاویہ اور اس کا باپ ابوسفیان موجود تھے۔ ان دو محاذوں کا اختلاف اصولی اختلاف ہے۔پس ان ظاہری اعمال کی طرف نگاہ نہ کرو۔
یوں عمار یاسر ؓنے ان لوگوں کے ذہن سے شک اور غلط فہمی کو دور کردیا۔ بنابریں گاہے وہی محاذ جس کا اصل مقصد حصولِ اقتدار ہوتا ہے اسلام کے ظاہری احکام کی بھی رعایت کرتا ہے۔ یہ اس محاذ کی حقانیت کی دلیل نہیں بن سکتا۔ پس ہمیں بڑی ہوشیاری کے ساتھ باطن کو دیکھنا چاہئے کہ کون سا محاذ کس چیز پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ تھا پہلا نکتہ۔
ان دونوں محاذوں کی خصوصیات :
ایک طرف اقتدار پرستی ہے جبکہ دوسری طرف اصول پرستی اور اقدار و نظریات کی لگن نیز اسلام کی بنیادی تعلیمات اور بنیادی افکار یعنی اسلامی اقدار پر ایمان، ان مقاصد کے لئے جدوجہد اور ان کی راہ میں جہاد۔ ایک طرف اصول پرستی ہے، بنیاد پرستی ہے اور سچی اقدار کی حفاظت کا جذبہ جبکہ دوسری طرف اقتدار پرستی ہے اور حکومت پر قبضہ کرنے کی کوشش۔ اب گاہے حالات کا رخ اس طرف ہوتا ہے اور گاہے اُس طرف لیکن دونوں صورتوں میں اس گروہ کا اصل مقصود و مطلوب حصول اقتدار ہوتا ہے۔یہ ہے پہلا نکتہ۔
رہا یہ سوال کہ باطل محاذ کن طریقوں سے استفادہ کرتا ہے؟ تو یہ بھی قابل توجہ ہے۔ باطل طریقے بطور کلی کئی چیزوں کا ملغوبہ ہوتا ہے۔ معاویہ نے اپنے اقتدار کے تحفظ اور اس کی بنیادوں کو گہری کرنے کےلئے جو لائحہ ٔعمل بنایا تھا وہ کئی حصوں اور عناصر پر مشتمل تھا۔ ان میں سے ہر حصہ ایک خاص جگہ موثر ہے۔ وہ عناصر یا حصے یہ ہیں:
الف: طاقت کا استعمال اور اظہار۔ گاہے وہ طاقت کا استعمال شدید طریقے سے کرتا ہے اور لوگوں کو سرکوب کرتا ہے۔
ب: پیسوں کا استعمال کیونکہ پیسہ شرپسندوں کا سب سے موثر ہتھکنڈا ہوتا ہے۔
ج: پروپیگنڈے کی طاقت سے بھر پور استفادہ۔
د: سیاسی ہتھکنڈے۔ یہ معاویہ کے سیاسی طور طریقے ہیں۔
آپ دیکھتے ہیں کہ معاویہ گاہے اس قدر سختی برتتا ہے کہ حجر بن عدی کو جو صحابی رسول تھے قتل کردیتا ہے جبکہ حجر کا قتل اس کےلئے مہنگا پڑتا ہے۔
معاویہ رشید ہجری کا پیچھا کرتا ہے اور آخر کار اسے قتل کرتا ہے۔ معاویہ نےزیاد بن ابیہ کو جو ایک ظالم، نفسیاتی مریض، حسب ونسب سے عاری، اقتدار کا پجاری اور بد اخلاق آدمی تھا، کوفہ کا حاکم بنایا۔
کوفہ شیعی طرز ِفکر اور نظریۂ ولایت کا مرکز تھا۔
معاویہ نے زیاد کو اختیار دےدیا کہ وہ جو چاہے کرے۔ زیاد بن ابیہ کے بارے میں مورخین نےلکھا ہے:
جس کے بارے میں اسے معمولی بدگمانی ہوجاتی کہ یہ شخص اہل بیت کی طرف میلان رکھتا ہے اسے زیاد کے کارندےپکڑلیتے، قید کرتے اور جسمانی سزائیں دیتے تھے۔جس کسی پر یہ الزام لگتا کہ اس نے آل رسول کے ساتھ تعاون کیاہے اور ان کی مغلوب تحریک کی حمایت کی ہے اسے وہ قتل کرتے اور ختم کردیتے تھے۔ تشیع اور آل رسول کی حاکمیت کے مرکز کوفہ میں ایک محشر بپاتھا۔
پس معاویہ گاہے اس طریقے سے طاقت کا اظہار کرتا تھا۔ اس کے برعکس گاہے آپ اسی معاویہ کو دیکھتے ہیں کہ جب کسی قبیلے کی ایک بوڑھی عورت آتی ہے ، معاویہ کو گالی گلوچ سے نواز تی ہے اور اس سے بدزبانی کرتی ہے کہ تو نے فلان فلان برے کام کیے ہیں تو وہ ہنسنے لگتا ہے، اس عورت کو نوازتا ہے، اس سے اظہارِ ہمدردی کرتا ہے اور اسے کچھ نہیں کہتا۔
عدی بن حاتم جس کی دونوں آنکھیں نابینا ہوچکی تھیں معاویہ کے پاس آیا۔ معاویہ نے اس سے کہا: اے عدی !علی نے تیرے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ میرے ساتھ علی کی جنگ میں تیرے دو بیٹے قتل ہوگئے لیکن علی نے اپنے دونوں بیٹوں(حسن اور حسین) کو بچایا۔ عدی بن حاتم نے رو کر کہا: اے معاویہ ! میں نے علی کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ علی شہید ہو کر اللہ کے پاس چلے گئے لیکن میں ابھی زندہ ہوں۔
معاویہ کی مجلس میں جب بھی اہل بیت کا کوئی دلدادہ موجود ہوتا اور وہاں امیرالمؤمنین(علیہ السلام) کی معمولی بھی توہین ہوتی تو وہ پوری شجاعت، صراحت اور طاقت کے ساتھ معاویہ اور اس کے دوستوں کو آڑے ہاتھوں لیتا تھا لیکن معاویہ ہنستا تھا اور مہربانی کرتا تھا یہاں تک کہ گاہے روتا تھا اور کہتا تھا: ہاں تو نے سچ کہا ہے۔
شاید یہ بات آپ کےلئے ناقابل یقین ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ پروپیگنڈہ یہی ہے۔ پروپیگنڈہ سب سے زیادہ مسموم اور خطرناک ہتھکنڈا ہے جس سے تاریخ کے ہر دور میں باطل قوتوں نے استفادہ کیا ہے۔ حق کا محاذ پروپیگنڈے کی طاقت سے اس طرح ہرگز استفادہ نہیں کرسکتا جس طرح اہل باطل اس سے استفادہ کرتے ہیں کیونکہ پروپیگنڈے کے ذریعے مکمل برین واشنگ کرنے کےلئے ڈرامہ بازی، جھوٹ اور فریب کا سہارا لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اہل ِحق جھوٹ اور فریب سے مبرا ہوتے ہیں ۔اس کے برعکس باطل پرستوں کی نظر میں ان چیزوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایک حقیقت کسی اور شکل میں لوگوں کی نگاہوں میں جلوہ گر ہو۔ اس مقصد کے لئے وہ ہر قسم کے طریقوں اور ہتھکنڈوں سے استفادہ کرتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسا کرتے رہےہیں ۔
آپ نے مختلف لوگوں سے سن رکھا ہے کہ جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام محراب عبادت میں شہید ہوئے تو شام والوں کو تعجب ہوا کہ علی کا محراب ِعبادت سے کیا سروکار تھا ؟ محراب تو نمازیوں کے لئے ہوتا ہے ۔کچھ لوگ اس بات کو نہیں مانتے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے۔معاویہ کے کئی سالہ دورِ حکومت میں اور اس سے قبل اس کے بڑے بھائی یزید بن ابوسفیان کے دور میں شام کے اندر غلط پروپیگنڈوں کے ذریعے ذہنی فضا کو اس قدر مکدر اور غبار آلود کیا گیا تھا کہ لوگ ان کے علاوہ کسی اور چیز کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔
یہ ہے وہ پروپیگنڈا جو بنی امیہ کے حق میں اور آل رسول کے خلاف رچایا گیا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تقریبا ۱۰۰ ہجری تک یعنی خود امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور کے چالیس پچاس سال بعد تک عالم اسلام میں منبروں سے آپ پر سب و لعن کیا جاتا رہا۔میں نے جس لعنت کا ذکر کیا ہے وہ عالم اسلام میں معاویہ کی کار ستانی ہے ۔ معاویہ کے اخلاق کا عملی مظاہرہ یہی ہے۔بعض لوگ شیعوں پر الزام لگاتے اور ان کی ملامت کرتے ہیں کہ وہ بعض اصحاب پر لعن طعن کرتے ہیں حالانکہ یہ تو مخالفین کا اور معاویہ کا طرز عمل ہے ۔
یہ لوگ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل اور سب سے پہلے مسلمان نیز رسول کے قریب ترین صحابی امیرالمؤمنین علیہ السلام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو کئی دہائیوں تک منبروں سے برا بھلا کہتے رہے اور آپ پر سبّ کرتے رہے۔یہ سلسلہ عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت تک جاری رہا۔عمر بن عبد العزیز نے خلیفہ بننے کے بعد اس پر پابندی لگائی ۔عبد الملک بن مروان کے بعد اس کے دو بیٹوں ولید اور سلیمان نے تقریبا بارہ تیرہ سال تک یکے بعد دیگرے حکومت کی۔ ان کے بعد عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے۔عمر بن عبد العزیز (جس نے تقریبا دوسال یا دوسال سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ) کے بعد عبد الملک کے دوسرے دوبیٹوں (یزید اور ہشام ) نے حکومت کی ۔عمر بن عبد العزیز نے بنی امیہ کا راستہ روکا اور کسی کو امیرالمؤمنین(علیہ السلام) پر سب و لعن کرنے کی اجازت نہیں دی۔اس وقت تک لوگ ایسا کرتے رہے۔ان لوگوں کا ایک کام یہ تھا۔لوگ شروع شروع میں تعجب کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کے عادی ہوگئے۔
میں نے تاریخ میں پڑھاہے کہ دنیائے اسلام میں کوئی قاری، محدث اور راوی باقی نہیں رہا جسے معاویہ اور اس کے جانشینوں کی حکومتی مشینری نے اہل بیت کی مذمت کرنے ،اہل بیت کے دشمنوں کی تعریف و تمجید میں احادیث گھڑنے اور آیات کی (غلط) تفسیر کرنے و غیرہ پر آمادہ نہ کیا ہو۔ اسی سَمُرۃ بن جُندَب کو لیجئے (مشہور و معروف حدیث نبوی لاضر و لا ضرار اسی سے مربوط ہے)۔ سمرہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی تھا لیکن آپ اس سے ناراض ہوئے تھے۔ سمرہ کا واقعہ مشہور ہے کہ اس کا ایک درخت تھا جو کسی اور گھرانے کی زمین میں اگا ہوا تھا۔ وہ ان کی زمین میں داخل ہوتا اور ان کےلئے باعث زحمت بنتا تھا۔ وہ بغیر اطلاع دیے اور بغیر اجازت لیے ان کے گھر جاتا تھا۔