قیام حسینی کا ہدف:
اگر آپ سانحہ کربلا کا غور سے جائزہ لیں تو شایدیہ کہا جاسکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چند ماہہ حرکت (جس کا آغاز مدینہ سے آپ کے خروج کے دن سے ہوا اور کربلا میں آپ کی شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا) کے اندر سو سے زیادہ اسباق موجود ہیں۔ یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ اس حرکت میں ہزاروں اسباق موجود ہیں لیکن میں نے ’’ہزاروں اسباق‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔
ممکن کے کہ آپ کا ہر اشارہ ایک درس ہو۔ میں نے سو کا ذکر اس لئے کیا کہ اگر ہم امام کے ان کاموں میں غور و فکر کریں تو ان سے سو موضوعات اور عنوانات ہاتھ آسکتے ہیں جن میں سے ہرعنوان ایک امت، ایک تاریخ اور ایک ملک کےلئے نیز ذاتی تربیت، معاشرے کے انتظام وانصرام اور قرب ِالہی کے حصول کے لئے ایک درس ہے۔
اسی لئے حسین بن علی (ارواحنا فداہ و فدا اسمہ و ذکرہ) عالم کی مقدس ہستیوں کے درمیان آفتاب کی طرح درخشاں ہیں۔ آپ ذرا انبیاء ، اولیاء ، ائمہ، شہداء اور صالحین پر نظر کریں۔
اگر وہ چاند ستاروں کی طرح ضوفشاں ہیں تو امام حسین علیہ السلام آفتاب عالمتاب کی طرح نور افشاں ہیں۔
امام کے قیام سے حاصل ہونے والے سو اسباق تو ایک طرف ان میں سے ایک سبق ایسا ہے جس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ باقی سب کی حیثیت فرعی ہے جبکہ یہ سبق اصل اور جڑ کی حیثیت رکھتی ہے کہ آپ نے کیوں قیام فرمایا؟
امام حسین علیہ السلام سے کہا گیا: مکہ اور مدینہ والے آپ کا احترام کرتے ہیں اوریمن میں اتنے شیعہ ہیں۔ آپ کسی گوشے میں تشریف لےجائیے تا کہ آپ کا یزید سے کوئی سروکار نہ رہے اور یزید بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ آپ کے اتنے ارادتمند اور شیعہ موجود ہیں۔ آپ آرام سے زندگی گزاریں اور عبادت و تبلیغ کرتے رہیں۔ آپ نے کیوں قیام فرمایا؟ وجہ کیاہے؟
یہ وہ اصلی سوال اور اصل سبق ہے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ کسی نے اس نکتے کو نہیں چھیڑا ہے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر بہت کام ہوا ہے اور بہت کچھ کہا گیا ہے۔ جو نکتہ ہم بیان کرنے جارہے ہیں وہ ہماری اپنی نظر میں اس موضوع کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر ہے۔
کچھ لوگوں کے خیال میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کا ہدف یہ تھا کہ آپ یزید کی فاسد حکومت کا خاتمہ کرکے خود ایک حکومت تشکیل دیں۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ میں اسے بالکل غلط نہیں کہتا۔ لیکن اگر اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف تشکیل ِحکومت کےلئے قیام فرمایا تھا (لہذا اگر آپ یہ دیکھتے کہ مقصود اور نتیجہ حاصل نہیں ہو گا تو آپ واپس لوٹ جاتے)تو یہ طرز فکر غلط ہے کیونکہ جو شخص حصول حکومت کےلئے قیام کرے وہ صرف اس صورت میں آگے بڑھتا ہے جب اسے کامیابی کا امکان نظر آئے۔
جونہی اسے اندازہ ہو کہ اس کام کی کامیابی کا معقول احتمال موجود نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ پلٹ جائے۔
اگر مقصد حکومت کی تشکیل ہو تو انسان کےلئے اس حد تک آگے جانا جائز ہے جہاں تک وہ جاسکتا ہو۔ اگر آگے بڑھنے کی گنجائش نہ ہو تو پلٹنا چاہئے۔
پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ قیام حسینی کا مقصد بر حق علوی حکومت کا قیام تھا اس کا مقصد اگر وہ ہو جو ہم نے اوپر بیان کیا تو یہ درست نہیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مجموعی مطالعے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔
اس قول کے مقابلے میں ایک قول یہ ہے کہ :
امام کا قیام حکومت کےلئے نہ تھا۔ آپ کو علم تھا کہ آپ حکومت قائم نہیں کرسکیں گے۔ آپ کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ آپ قتل اور شہید ہوجائیں۔ یہ بات بھی ایک عرصے تک زبانزدِ خاص و عام رہی تھی۔
کچھ لوگ خوبصورت شاعرانہ پیرایوں میں اس تصور کو پیش کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے بزرگ علماء نے بھی یہ بات کہی ہے۔
یہ دعویٰ کہ امام حسین علیہ السلام نے صرف شہید ہونے کےلئے قیام فرمایا تھا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خیال یہ ہے کہ جب امام نے دیکھا کہ بیٹھے رہ کر کچھ نہیں کیا جاسکتا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ شہید ہو کر ہی کچھ کرنا چاہئے۔ یہ بات اسلامی مآخذ ومنابع میں مذکور نہیں ہے کہ جاؤ اور موت کے منہ میں کود جاؤ۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ شریعت مقدسہ اور قرآنی آیات میں جس شہادت کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی ایسے مقدس ہدف کی خاطر جو واجب یا بہتر ہو قیام کرے اور اس کی راہ میں مارا جائے۔ اسلام کی نظر میں شہادت کا جو درست تصور ہے وہ یہی ہے۔
اس کے برعکس اگرکوئی شخص صرف قتل ہونے کےلئے نکل پڑے اور یہ کہتا جائے:
ظالموں کے پیر پھسلیں گے مرے اس خون سے
اور سر کے بل گریں گے اس سمے اس خون سے
تو یہ ایک شاعرانہ تخیل تو ہوسکتا ہے لیکن کربلا کے اس عظیم سانحے کا ہدف نہیں بن سکتا۔ البتہ یہ نظریہ ایک حد تک درست ہے لیکن امام کا اصلی ہدف یہ نہیں تھا۔
خلاصہ یہ کہ ہم نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ امام علیہ السلام کے قیام کا مقصد صرف حکومت کی تشکیل تھی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے صرف شہید ہونے کےلئے قیام فرمایا تھا۔ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ میری نظر میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام کا مقصد صرف حکومت کا حصول تھا یا آپ کا ہدف صرف شہادت تھی ان لوگوں کو ’’ہدف‘‘ اور ’’نتیجے‘‘ کی شناخت میں خلط اور اشتباہ ہوا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہدف نہ تھیں۔ امام حسین علیہ السلام کا ہدف کچھ اور تھا۔البتہ اس ہدف تک رسائی کےلئے حرکت اور قیام کی ضرورت تھی۔ اس قیام کا نتیجہ یا شہادت تھی یا حکومت۔ امام ان دونوں کےلئے تیار تھے۔ آپ نےایک طرف سے قیام حکومت کی تمہیدات فراہم کیں اور دوسری طرف سے شہادت کی تمہیدات فراہم کیں اور یہ دونوں کام جاری رکھے۔ آپ ان دونوں نتائج کےلئے اپنے نفس کو تیار کرتے رہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی نتیجہ سامنے آتا وہ درست تھا اور اس میں کوئی اعتراض والی بات نہ تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی ’’ہدف‘‘ نہیں تھا۔ یہ دونوں نتیجے تھے، ہدف کچھ اور تھا۔
پس آپ کا ہدف کیا تھا؟ میں پہلے ایک جملے میں اس ہدف کا خلاصہ پیش کروں گا پھر اس کی کچھ وضاحت کروں گا۔ اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے ہدف کو بیان کرنا چاہیں تو یہ کہنا ہوگا کہ آپ کا ہدف دین کے واجبات میں سے ایک عظیم واجب کو انجام دینا تھا۔ یہ وہ عظیم واجب تھا جسے امام حسین سےقبل کسی شخص نے (یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بھی) انجام نہیں دیا تھا۔ نہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس واجب کو انجام دیا تھا نہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اور نہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے۔ اسلام کے فکری ، اصولی اور عملی نظام کی مجموعی ساخت میں اس واجب کی بڑی اہمیت تھی۔اگرچہ یہ واجب نہایت اہم اور بہت ہی بنیادی نوعیت کی ہے اس کے باوجود امام حسین علیہ السلام کے زمانے تک اس واجب پر عمل نہیں ہوا تھا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہوا تھا۔ امام حسین علیہ السلام کو اس واجب پر عمل کرنا تھا تاکہ یہ تاریخ بشریت کےلئے ایک درس عمل ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکومت تشکیل دی اور یہ تشکیل ِحکومت مسلمانوں اور تمام انسانوں کی پوری تاریخ کےلئے ایک درس اور نمونہ بن گئی۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس کا صرف حکم بیان نہیں فرمایا بلکہ عملی تصویر پیش کی۔ اسی طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جہاد فی سبیل اللہ کا عملی مظاہر کیا جو مسلمانوں اور انسانوں کی پوری تاریخ کےلئے قیامت تک ایک سبق اور نمونہ بن گیا۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں بھی اس ایک واجب کی انجام دہی ضروری تھی تا کہ وہ مسلمانوں اور پوری تاریخ کےلئے ایک عملی درس ثابت ہو۔
سوال یہ ہے کہ اس واجب پر عمل صرف امام حسین نے ہی کیوں کیا؟ (رسول اکرم، امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام وغیرہ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ مترجم) وجہ یہ تھی کہ اس واجب پر عمل کی تمہیدات امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں سامنے آئیں۔
اگر امام حسین کےدور میں یہ حالات سامنے نہ آتے اور بطور مثال امام علی نقی علیہ السلام کے دور میں پیش آتے تو یہی کام امام علی نقی انجام دیتے۔ یوں تاریخ ِاسلام کے ذبح ِعظیم امام علی نقی ہوتے۔ اگر امام حسن مجتبیٰ اور امام صادق علیہما السلام کے دور میں یہ حالات پیش آتے تو وہ بھی وہی کرتے جو امام حسین نےکیا تھا لیکن اتفاق سے نہ امام حسین کے زمانے سے پہلے ایسا اتفاق ہوا اور نہ آپ کےدور کے بعد امام عصر علیہ السلام کی غیبت تک دیگر ائمۂ معصومین کے ادوار میں ایسا اتفاق ہوا۔
پس امام حسین علیہ السلام کا ہدف اس واجب کی انجام دہی سے عبارت ہے۔ یہاں میں یہ عرض کروں گا کہ یہ واجب کیا تھا؟
اس واجب کی انجام دہی کے دو ممکنہ نتائج واضح طور پر سامنے تھے۔ ایک نتیجہ یہ کہ امام حسین علیہ السلام کو حکومت اور اقتدار حاصل ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو امام حسین حکومت سنبھالنے کےلئے تیار تھے۔ اگر آپ کو حکومت مل جاتی تو آپ پوری قوت کےساتھ حکومت سنبھالتے نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور کی طرح معاشرے کا نظام چلاتے۔
اس واجب کا دوسرا نتیجہ یہ ہوسکتا تھا کہ امام حسین حکومت حاصل کرنے کی بجائے شہید ہوجاتے۔ امام حسین اس کےلئے بھی حاضر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے امام حسین اور دیگر ائمہ کو اس طرح سے خلق فرمایا تھا کہ وہ اس راہ میں شہادت کے سنگین بوجھ کو بھی آسانی سے سہہ سکیں جیسا کہ انہوں نے سہہ کر دکھایا۔
البتہ کربلا کے مصائب کی داستان کچھ اور ہی عظیم داستان ہے۔ آئیے یہاں اس مسئلے کی مختصر وضاحت کرتا چلوں۔
پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی طرح دیگر تمام انبیاءعلیہم السلام اپنے ساتھ احکام الٰہی کا مجموعہ لے آتے رہے۔ ان احکام میں سے بعض انفرادی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی اصلاح کرے۔
اس کے بر عکس بعض احکام اجتماعی ہیں جن کا مقصد انسانی معاشرے کو آباد کرنے ، چلانے اور پابرجا کرنے سے عبارت ہے۔
یہ احکام کا وہ مجموعہ ہے جسے اسلامی نظام بھی کہاجاتا ہے۔ ادھر اسلام پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقدس قلب پر نازل ہوا۔
آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو احکام لائے ان میں نماز، روزہ، زکات، انفاق، حج، عائلی احکام، ذاتی روابط، جہاد فی سبیل اللہ، حکومت کی تشکیل، اسلامی معاشیات، حاکم اور عوام کے روابط اور حکومت کے مقابلے میں عوام کی ذمہ داریوں وغیرہ سے مربوط احکام شامل ہیں۔ اسلام نے اس پورے نظام کو بشریت کے سامنے پیش کیا۔
یہ سب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائے۔ آپ کا فرمان ہے:
پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ساری باتیں بیان فرمائیں جو انسان اور انسانی معاشرے کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتی ہیں۔ آپ نے نہ صرف بیان فرمایا بلکہ انہیں عملی جامہ بھی پہناکر دکھایا۔ حضورکے زمانے میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل عمل میں آئی، اسلامی اقتصادیات پر عملدر آمد ہوا، اسلامی جہاد پر عمل ہوا اور اسلامی زکات لینے کا سلسلہ قائم ہوا۔ یوں ایک ملک اور ایک معاشرتی نظام اسلامی سانچے میں ڈھل گئے۔ اس سسٹم کا انجنئیر اور اس لائن پر چلنے والی ٹرین کا رہنما نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانشین تھے۔
یہ ایک واضح اور معین راستہ ہے۔ اسلامی معاشرے اور مسلمان فرد کو اس راستے سے، اس لائن پر ، اس راستے کی سمت میں اور اس راستے کے ساتھ چلنا اور حرکت کرنا ہوگا۔ اگر یہ حرکت انجام پائے تو لوگ کمال کی منزل سے ہمکنار ہوں گے، فرشتہ نما اور صالح بن جائیں گے، معاشرے سے ظلم کا خاتمہ ہوگا، برائی، خرابی، اختلافات،فقر اور جہل رفو چکر ہوجائیں گے نیز انسان مکمل خوش بختی و کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور خدا کا بندۂ کامل بن جائےگا۔
اسلام نے نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے یہ نظام دنیا تک پہنچایا اور اس دور کے معاشرے میں اسے نافذ کیا۔ کہاں؟ دنیا کے ایک گوشے میں جس کا نام مدینہ تھا۔ بعد میں مکہ اور کئی دیگر شہروں تک اسے پھیلایا۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ ریل گاڑی جسے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ٹریک یا پٹڑی پر چلایا تھا کسی سازش یا حادثے کے نتیجے میں اس پٹڑی سے اتر جائے تو لوگوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟
اگر اسلامی معاشرہ انحراف کا شکار ہوجائے اور یہ انحراف اس قدر شدید ہو کہ پورے اسلام اور اسلامی تعلیمات کے انحراف کا خطرہ پیدا ہو تو لوگوں کی کیا ذمہ داری ہے؟
انحراف کی دو قسمیں ہیں۔ گاہے لوگ خراب ہوجاتے ہیں لیکن اسلامی احکام باقی رہتے ہیں۔ اس کے برعکس گاہے لوگوں کے خراب ہونے کے ساتھ حکومتیں بھی فاسد اور خراب ہوجاتی ہیں نیز علماء اور دین کے ترجمان بھی بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں۔
خراب لوگ صحیح دین کو سرے سے پیش ہی نہیں کرسکتے۔ وہ قرآن اور حقائق میں تحریف کرتے ہیں۔ وہ اچھائیوں کو برائیوں کی شکل میں ، برائیوں کو اچھائیوں کے طور پر، منکر کو معروف بنا کر اور معروف کو منکر کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔ اسلام نے جس پٹڑی کو ایک خاص سمت میں رکھا ہے وہ اسے ایک سو اسّی درجے مخالف سمت میں موڑ دیتے ہیں۔
پس اگر اسلامی نظام اور معاشرہ اس مشکل سے دوچار ہو تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا تھا کہ یہاں ذمہ داری کیا ہے اور قرآن نے بھی فرمایا ہے:
اس کے علاوہ دیگر بہت ساری آیات و احادیث موجود ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی وہ روایت بھی موجود ہے جسے میں آپ کے کےلئے نقل کروں گا۔
امام حسین علیہ السلام نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی یہ حدیث لوگوں سے نقل کی۔ یہ فرمان رسول تھا لیکن کیا پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حکم پر عمل کرسکتے تھے؟
نہیں کیونکہ اس حکمِ الٰہی پر تب عمل ہوسکتا ہے جب معاشرہ منحرف ہوچکا ہو۔ اگر ایسا ہو تو چارۂ کار کی ضرورت ہوگی۔
جن معاشروں میں انحراف اس قدر شدید ہو کہ اس سے اصل اسلام کے منحرف ہونے کا خطرہ درپیش ہو وہاں خدا کی طرف سے ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو کسی بھی مسئلے میں بغیر کسی حکم کے رہا نہیں کرتا۔
پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس ذمہ داری کو بیان فرمایا ہے، قرآن و حدیث نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)خود اس حکم پر عمل نہیں کرسکتے تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس حکم پر اس وقت عمل ہوسکتا ہے جب معاشرہ انحراف اور بگاڑ کا شکار ہوجائے۔ آنحضرت اور امیر المومنین کے دور میں معاشرہ اس قدر زیادہ منحرف نہیں ہواتھا۔
امام حسن علیہ السلام کے زمانے میں جب حکومت کی لگام معاویہ کے پاس تھی اگرچہ اس انحراف کی بہت سی علامات ظاہر ہوچکی تھیں لیکن ہنوز انحراف اس حد تک نہیں پہنچی تھی کہ اسلام کے مکمل طور پر بدل جانے کا خطرہ لاحق ہو۔
شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ایک دفعہ اس قسم کی صورتحال بھی پیش آئی تھی لیکن اس وقت اس حکم کی انجام دہی کا مناسب موقع فراہم نہ تھا۔ اس حکم کی اہمیت خود حکومت سے کمتر نہیں ہے
کیونکہ حکومت سے مراد ہے:
معاشرے کا انتظام و انصرام
۔
اگر معاشرہ بتدریج پٹڑی سے اتر کر خراب اور فاسد ہوجائے نیز خدا کے احکام بدل دیے جائیں لیکن اس وقت ہم حالات کو بدلنے اور اسلامی تجدیدِ حیات یا آج کل کی اصطلاح میں انقلاب برپا کرنے کے پابند نہ ہوں تو اس حکومت کا کیا فائدہ؟
پس منحرف معاشرے کو اس کی حقیقی لائن پر دوبارہ بحال کرنےکا حکم خود حکومت قائم کرنے کے حکم سے کم اہم نہیں ہے۔شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ اس کی اہمیت اس امر بمعروف اور نہی از منکر سے زیادہ ہے جو کسی اسلامی معاشرے میں عام حالات میں واجب ہوتا ہے۔ بلکہ شاید یہ کہا جاسکے کہ اس حکم کی اہمیت عظیم عبادات ِالہی اور حج سےبھی زیادہ ہے۔ کیوں؟
اس لئے کہ درحقیقت یہ حکم اس وقت اسلام کی حیات نو کی ضمانت دیتا ہے جب وہ آخری سانس لے رہا ہو یا دم توڑ چکا ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کون انجام دے؟ کون اس ذمہ داری کو نبھائے؟
جی ہاں! رسول کا کوئی جانشین، بشرطیکہ وہ اس انحراف کے دوران موجود ہو نیز سازگار اور مناسب موقع بھی فراہم ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بےفائدہ چیز کا حکم نہیں دیتا۔ اگر موقع سازگار اور مناسب نہ ہو تو خواہ جتنی کوشش کی جائے بے فائدہ ، بےثمر اور بے اثر ہے۔
لہذا مناسب موقع کی موجودگی ضروری ہے۔ موقع کے مناسب ہونے سے یہ مراد ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اس کام کو انجام دیا جائے تو اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا اور لوگوں تک حق کا پیغام پہنچ جائےگا ، لوگ حقیقت کو سمجھ جائیں گے اور اشتباہ کا شکار نہیں رہیں گے۔
یہ ہے وہ ذمہ داری جسے انجام دینے کےلئے ایک انسان کی ضرورت تھی۔
امام حسین علیہ السلام کے دور میں وہ انحراف وجود میں آچکا تھا اور مناسب موقع بھی فراہم تھا۔ پس امام حسین کو قیام کرنا چاہئے تھا کیونکہ انحراف آچکا تھا۔ وہ کیسے؟ وہ یوں کہ معاویہ کے بعد یزید حاکم بن چکا تھا جو اسلام کے ظاہری احکام کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا۔ وہ شراب پیتا تھا اور برائیوں کا مرتکب ہوتا تھا۔
وہ جنسی تجاوز اور بدکاریوں کو برملا انجام دیتا تھا، قرآن کے خلاف بات کرتا تھا، قرآن کے خلاف اور دین کی ردّ میں کھل کر اشعار کہتا اور اسلام کی اعلانیہ مخالفت کرتا تھا۔
البتہ چونکہ اس کا نام امیرالمؤمنین علیہ السلام تھا اس لئے وہ اسلام کے نام کو خیر باد کہنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسلام پر عمل کرنے والا، اسلام کا خیر خواہ او ر اس سے عقیدت رکھنے والا نہ تھا بلکہ وہ اپنے عمل کے لحاظ اس چشمے کی طرح تھا جس سے مسلسل گندا پانی نکل کر باہر آتا ہے اور پوری نشیبی زمین کو گندگی سے پر کرتا ہے۔ یزید کے وجود سے خارج ہونے والا گندا مواد بھی پورے اسلامی معاشرے کو پر کرنے والا تھا۔
کرپٹ حکمران ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ حاکم اقتدار کی چوٹی پر ہوتا ہے اور اس سے جو کچھ ٹپکتا ہے وہ اسی جگہ تک محدود نہیں رہتابلکہ وہ وہاں سے بہتا ہے اور پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لےلیتا ہے۔ عام آدمی کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
عام انسان اپنی جگہ رہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو اونچے مقام پر فائز ہو اور معاشرے میں بالاتر حیثیت کا حامل ہو اس کے نقصان اور اس کی خرابی کا دائرہ وسیع تر ہوتا ہے۔
عام لوگوں کی خرابی کا دائرہ خود ان تک یا ان کے آس پاس موجودچند افراد تک محدود ہوتا ہے لیکن جو شخص سب سے اونچے مقام پر فائز ہو اس کی خرابی نیچے بہتی ہے اور پورے ماحول کو پر کردیتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ اچھا ہو تو اس کی اچھائی بھی نیچے بہتی ہے اور پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لےلیتی ہے۔ اب وہی شخص اپنی تمامتر خرابیوں کے ساتھ معاویہ کے بعد مسلمانوں کا خلیفہ بن چکا تھا اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ کہلاتا تھا۔ کیا اس سے بڑے انحراف کا تصور ہوسکتا ہے؟
اب قیام کےلئے حالات سازگار ہیں اور مناسب موقع آچکا ہے۔ مناسب موقعے سے کیا مراد ہے؟ کیا خطرہ موجود نہیں؟ خطرہ تو موجود ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مقتدر اعلیٰ اپنے مخالفین کےلئے خطرہ نہ بنے؟ جنگ ناگزیر تھی۔ آپ اسے کرسیٔ اقتدار سے نیچے گرانا چاہیں اور وہ چپکے سے دیکھتا رہے؟ واضح ہے کہ وہ بھی آپ پروار کرےگا۔
پس خطرہ موجود تھا۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ سازگار اور مناسب موقع آچکا تھا تو اس سے یہ مراد ہے کہ عالم اسلام اور اسلامی معاشرے کی فضا کچھ ایسی تھی کہ امام حسین کا پیغام اس دور کے اور قیامت تک کے انسانوں تک پہنچ سکتا تھا۔
اگر امام حسین معاویہ کے دور میں قیام کرتے تو آپ کا پیغام دفن ہوجاتا کیونکہ معاویہ کے دورِ حکومت میں صورتحال اور سیاسی پالیسیاں کچھ ایسی تھیں کہ لوگ کلمۂ حق کی حقانیت کو نہیں سن سکتے تھے۔
اسی لئے اگرچہ امام حسین علیہ السلام معاویہ کی خلافت کے دس سالوں کے دوران امام تھے لیکن آپ نے کچھ نہ کہا اورکوئی اقدام یا کوئی قیام نہیں کیا کیونکہ صورتحال مناسب نہ تھی اورموقع سازگار نہ تھا۔ آپ سے پہلے امام حسن علیہ السلام نے بھی قیام نہیں فرمایا کیونکہ قیام کےلئے موقع مناسب نہ تھا۔ قیام نہ کرنے کا مطلب نہ نہیں تھا کہ امام حسن اور امام حسین اس کام کے اہل نہ تھے۔ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام میں کوئی فرق موجود نہیں ہے۔
امام حسین علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ امام حسینؑ، امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام میں بھی کوئی فرق نہیں ہے البتہ چونکہ امام حسین علیہ السلام نے یہ جہاد انجام دیا ہے اس لئے آپ کا یہ مقام ان ہستیوں سے بالاتر ہے جنہوں نے یہ کام نہیں کیا لیکن مقام امامت کے لحاظ سے یہ سب مساوی ہیں۔ اگر باقی اماموں میں سے کسی کے ساتھ بھی یہی حالات پیش آتے تو وہ بھی یہی کردار ادا کرتا اور اسی مقام پر فائز ہوتا۔
بہرحال چونکہ امام حسین علیہ السلام کو ایک ایسے انحراف کا سامنا تھا لہذا آپ پر لازم تھا کہ آپ وہ مخصوص ذمہ داری ادا کرتے۔ موقع بھی سازگار اور مناسب تھا اور عذر کی گنجائش نہیں تھی۔ اسی لئے جب عبد اللہ بن جعفر، محمد بن حنفیہ اور عبد اللہ بن عباس و غیرہ نے کہا کہ مولا! خطر ہ موجود ہے، آپ نہ جائیے تو آپ علیہ السلام نے ان کی بات نہیں مانی حالانکہ یہ تینوں عام لوگ نہ تھے بلکہ سب دین شناس، عارف، عالم اور معاملہ فہم تھے۔ ان حضرات کا یہ خیال تھا کہ جب ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں کوئی خطرہ حائل ہو تو ذمہ داری اٹھ جاتی ہے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ ذمہ داری وہ نہیں جو خطرات کی بنیاد پر ٹل جائے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی ہمیشہ خطرات کے ساتھ توأم ہوتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان یزید جیسے مقتدر اور ظاہری قوت کے حامل حکمران کے ساتھ ٹکرائے اور اسے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں جو کام انجام پایا اس کے ایک چھوٹے نسخے پر ہمارے امام (خمینیؒ) کے دور میں بھی عمل ہوا۔ البتہ وہاں نتیجہ شہادت کی صورت میں ظاہر ہوا لیکن یہاں حصول ِحکومت کی شکل میں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا ہدف وہی تھا جو ہمارے عظیم المرتبت امام (خمینی ؒ) کا تھا۔ حسینی معارف کی بنیاد یہی نکتہ ہے۔
حسینی معارف اورتعلیمات در اصل شیعہ معارف و تعلیمات کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
یہ ایک عظیم بنیاد ہے اور بجائے خود اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔