انسان 250 ساله

انسان 250 ساله0%

انسان 250 ساله مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 178

انسان 250 ساله

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
: مصنف/ مؤلف
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: صفحے: 178
مشاہدے: 333
ڈاؤنلوڈ: 24

انسان 250 ساله
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 178 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 333 / ڈاؤنلوڈ: 24
سائز سائز سائز
انسان 250 ساله

انسان 250 ساله

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔


مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=pdf
 

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=doc
 

HTML  فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے
http://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=592&view=download&format=html

نیز اپنے مکتوبات و تحریر(مفید وعلمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہرقسم کے سوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:

الْمَوْتُ خَيْرٌ مِنْ رُكُوبِ الْعَارِ وَ الْعَارُ خَيْرٌ مِنْ دُخُولِ النَّار

(ننگ و عار قبول کرنے سے مرجانا بہتر ہے لیکن جہنم جانے سے ننگ و عار ہی بہتر ہے۔)یعنی اگر مجھے ننگ و عار قبول کرنا پڑے تو کرلوں گا لیکن جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوں گا۔

کچھ لوگ بعض مواقع پر کسی کا م کی انجام دہی کو موجب ننگ سمجھتے ہیں۔ وہ اس سے بچنے کےلئے حاضر ہوتے ہیں کہ عذابِ الٰہی اور قہرِ خداوندی کو دعوت دیں۔

اہم چیز یہ ہے کہ انسان رضائے الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اپنی ذمہ داری ادا کرے اگرچہ اس کےلئے اسے کسی بات یا روش کو خیرباد کہنا پڑے یا کسی موقف سے ہٹنا پڑے۔

یاد رہے کہ یہ ائمہ علیہم السلام کی زندگی کا ایک اصول ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی زندگی میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ جب امام حسن علیہ السلام بعض ضرورتوں اور زمینی حقائق کے دباؤ کی وجہ سے معاویہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہوئے تو آپ نے یہ پسپائی قبول کی حالانکہ اس سے پہلے آپ مسلسل لشکر بھیجتے رہے، جنگ کی ترغیب دیتے رہے، افرادی قوت جمع کرتے رہے، خط لکھتے رہے اور ہر وہ کام انجام دیتے رہے جو ایک مکمل جنگ کےلئے ضروری تھا۔ بعد میں جب یہ دیکھا کہ حالات آپ کے بس سے باہر ہیں تو صلح قبول کرلی یہاں تک کہ آپ کے قریبی ساتھی بھی آپ سے روٹھ گئے۔جب آپ نے صلح قبول کی تو بہت سے لوگ خوش ہوئے کیونکہ وہ دل ہی دل میں جنگ سے تنگ آئے ہوئے تھے لیکن شاید وہ لوگ بھی اندر ہی اندر صلح سے خوش تھے جو پلٹ کر امام حسن کی ملامت کرنے لگے کہ حضرت: آپ اپنی بات پر قائم کیوں نہ رہے؟ آپ کے قریبی لوگ یہاں تک کہ کچھ بزرگ شخصیات بھی جن کا میں نام لینا نہیں چاہتا اور جن کا شمار معروف صحابہ میں ہوتا ہے امام حسن علیہ السلام کے پاس آئے اور انہوں نے کچھ ناشائستہ باتیں کیں لیکن امام نے مکتب ِاسلام کی حفاظت کےلئے پسپائی اختیار کی اور صلح کرلی۔

حق پرست محاذ کی شکست کی وجوہات کا تجزیہ:

امام حسن علیہ السلام کی شکست کی اصل علت عام لوگوں کے اندر فکری بیداری اور بالغ نظری کی کمی نیز ایمان اور مادی خواہشات کے باہم مخلوط ہونے سے عبارت ہے۔ عام لوگوں کے اندر بالغ نظری کی کمی کی یہ حالت تھی کہ عوام سچ مچ بہت ہی جاہل تھے۔ ادھر ان کا مذہبی ایمان بھی مادی خواہشات سے مخلوط تھا۔

مادیت ان کا اصلی ہدف بن چکی تھی۔ دس بیس سال پہلے اقدارمتزلزل ہوچکے تھے۔صلح امام حسن سے تقریباً دس پندرہ سال پہلے اقدار آہستہ آہستہ کمزور پڑتی گئیں۔امتیازی سلوک و غیرہ بھی وجود میں آچکے تھے۔ ان سب وجوہات نے امام حسن کو مقاومت کا موقع نہیں دیا۔

رہا فاتح گروہ کا مغلوب گروہ کے ساتھ سلوک تو فاتحین نے تھوڑا بہت غلبہ پانے کے بعد امام حسن اور آپ کے ساتھیوں کو گرفتار کرنے،پابندِ سلاسل کرنےیا قتل کرنے کی بجائے بظاہر ان کا احترام ملحوظ رکھا ،امام حسن علیہ السلام سے ملاقات کی اور آپ کا بہت احترام کیا لیکن اندر سے معاویہ اور فاتح ٹیم نے یہ فیصلہ کیا کہ (امام اور مغلوب گروہ کی) شخصیت کو کمزور اور نابود کیا جائے۔ انہوں نے اشخاص کی حفاظت کی تا کہ ان کی حیثیت اور شخصیت کو نابود کیا جائے۔ یہ ان کی روش تھی۔جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں ان لوگوں نے اسے اپنے پروپیگنڈوں کی بنیاد قرار دیا تھا۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مغلوب گروہ نے فاتح گروہ کے ساتھ کیا روش رکھی؟

انہوں نے یہ روش اپنائی کہ اس نہایت فتنہ آمیز، غبار آلود، خطرناک اور مسموم ماحول میں حق کی تحریک کو منظم کیا جائے،اسے خاص شکل دی جائے اور اسلام کی حفاظت کے اصلی ستون کی حیثیت سے اسے آگے بڑھایا جائے۔

(ان کی پالیسی یہ تھی: ) اب چونکہ ہم پورے معاشرے کو حقیقی اسلامی نظریۂ حیات کے دائرے میں نہیں لاسکتے اس لئے ایک کمزور اور رو بزوال روش (جو عام لوگوں کی روش سے عبارت ہے) کا رخ کرنے کی بجائے محدود لوگوں کے اندر ایک عمیق اور خالص تحریک کو زندہ رکھا جائے تا کہ یہ تحریک باقی رہے اور اسلامی اقدار کی حفاظت کی ضامن بنے۔ امام حسن علیہ السلام نے یہی کارنامہ انجام دیا۔ آپ ایک محدودتحریک کو وجود میں لےآئے۔ بہتر الفاظ میں بیان کریں تو آپ نے اس تحریک کو منظم کیا۔ یہ تحریک اہل بیت کے ساتھیوں اور اصحاب کی تحریک یعنی تشیع کی تحریک تھی۔ تاریخِ اسلام کے تمام ادوار میں، ظلم، تاریکی اور گھٹن سے لبریز سارے ایام میں اس گروہ کے لوگ موجود رہے اور بقائے اسلام کی ضمانت دیتے رہے۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو ہر چیز مکمل طور پر دگرگوں ہوجاتی نیز امامت اور مکتب اہل بیت کی تحریک جو حقیقی اسلام کی حفاظت کی ضامن تھی ختم ہوجاتی۔

اس حکمت ِعملی کا نتیجہ کیا ہوا؟

نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ بظاہر فاتح، غالب اور مقتدر کہلائے وہ حقیقت میں مغلوب اور شکست خوردہ قرار پائے جبکہ مغلوب اور کمزور لوگ عالم اسلام کے قلوب و اذہان کو فتح کرکے فاتح اور غالب بن گئے۔ اگر آپ نظر کریں تو آج عالم اسلام میں جو ذہنیت پائی جاتی ہے وہ تقریباً وہی ذہنیت ہے جس کی ترویج امام حسن مجتبیٰ(علیہ السلام) اور امیرالمؤمنین(علیہ السلام) فرمایا کرتے تھے۔ یہ وہ ذہنیت نہیں جس کی ترویج معاویہ، اس کے بعد یزید اور اس کے بعد عبدالملک، مروان اور خلفائے بنی امیہ کرتے تھے۔ ان کی ذہنیت مکمل شکست کھا چکی اور ختم ہوچکی ہے۔

اب تاریخ میں ان کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

اگر ہم ان کی ذہنیت کو کوئی نام دینا چاہیں تو ’’ناصبیت‘‘ کا نام دے سکتے ہیں جو ایک فرقہ ہے جس کی آج دنیائے اسلام میں کوئی حیثیت نہیں اور بظاہرنواصب کا کوئی خارجی وجود نہیں ہے۔ ’’نواصب‘‘سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھرانے پر سبّ و شتم کرتے تھے اور ان کے اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے۔ یہ ان کی ذہنیت تھی۔

اگر معاویہ فاتح اور غالب ہوتا تو آج عالمِ اسلام پر اموی فکر کی حکمرانی ہونی چاہئے تھی جبکہ اس کے برعکس آج دنیا میں امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام کی فکری تحریک حاکم ہے۔

اگرچہ بعض فروعات نیز دوسرے اور تیسرے درجے کے بعض عقائد میں ان کی فکر مکمل طور پر منتقل نہیں ہوئی لیکن مجموعی ذہیت یہی ہے۔

بنابریں حقیقی فتح امام حسن اور آپ کی فکر کے حصے میں آئی۔ پوری تاریخِ اسلام پر صلح ِامام حسن کی تاثیر کے حوالے سے یہ تھا اس واقعے کا ایک مختصر سا خلاصہ۔

(۲/۲/۱۳۶۸)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۸۱

چھٹی فصل

امام حسین علیہ السلام

اسلام انسانیت کا عزیز سرمایہ ہے۔اسلام کے آغاز سے پہلے یا اس کے آغاز کے ساتھ ہی اللہ کی طرف سے اسے لاحق ہونے والے بعض خطرات کو مدنظر رکھا گیا ہے نیز ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے طریقوں اور وسائل پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

خود اسلام کے اندر ان وسائل کو سمودیا گیا ہے۔ ایک صحیح گاڑی کو لیجئے جسے بنانے والا انجنیر اس گاڑی کے اندر اس کی مرمت کا سامان بھی رکھ دیتا ہے۔

اسلام ایک حقیقی وجود ہے اور دیگر موجودات کی طرح اسے بھی بعض خطرات لاحق ہوتے ہیں جن کا مقابلہ کرنے کےلئے بعض وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اسلام کے اندر ان وسائل کو جگہ دی ہے۔

وہ خطرات کیا ہیں؟

اسلام کو دو بنیادی خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ ان میں سے ایک ’’بیرونی دشمنوں‘‘ کا خطرہ ہےجبکہ دوسرا ’’اندرونی زوال وانحطاط‘‘ کے خطرے سے عبارت ہے۔

پہلا دشمن:

بیرونی دشمن وہ ہے جو سرحدوں کے باہر سے مختلف ہتھیاروں کے ذریعے کسی نظام کے وجود پر، اس کے نظریات پر، اس کی اعتقادی بنیادوں پر، اس کے قوانین پر اور اس کی تمام چیزوں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

’’باہر‘‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد ملک سے باہر کی دنیا مراد نہیں بلکہ کسی نظام سے باہر کی دنیا مراد ہے اگرچہ اس کا تعلق ملک کے اندر سے ہو۔بعض دشمن ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اس نظام سے بیگانہ قرار دیتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ لوگ بیرونی دشمن ہیں اور اجنبی ہیں۔ یہ لوگ نظام کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقصد کےلئے وہ تلوار، گرم ہتھیار، جدید ترین مادی اسلحہ جات، پروپیگنڈے، مال و زر اور ہر دستیاب وسیلے سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ دشمن کی پہلی قسم ہے۔

دوسرا دشمن:

دوسرا دشمن یا دوسری آفت اندرونی اضمحلال اور زوال سے عبارت ہے۔ یہ آفت اجنبیوں کی طرف سے نہیں اپنوں کی جانب سے لاحق ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک حکومت یا نظام کے اندر موجود ’’اپنے‘‘ لوگ اس نظام سے اکتا کر، درست راستے کو سمجھنے میں اشتباہ کا شکار ہو کر، نفسانی جذبات سے مغلوب ہوکر، مادی جلوؤں کا مشاہدہ کرکے اور انہیں عظیم سمجھ کر اچانک اندورنی آفت کے شکار ہوجائیں۔ یاد رہے کہ یہ دشمن پہلی قسم کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔

پس ہر نظام اور ہر چیز کو دو قسم کے دشمنوں کا سامنا ہوتا ہے۔ (ان میں سے ایک اندرونی آفت ہے اور دوسری بیرونی آفت۔) اسلام نے ان دونوں آفتوں کا مقابلہ کرنے کےلئے راہ ِحل اور علاج پیش کیا ہے، جہاد کا نسخہ دیا ہے۔ جہاد صرف اندرونی دشمنوں کا علاج نہیں ہے۔ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ منافق وہ ہے جو کسی سسٹم اور نظام کے اندر جگہ بنالیتا ہے۔ لہذا ان سب کے ساتھ جہاد کرنا چاہئے۔ جہاد اس دشمن کا علاج ہے جو کسی نظام سے دشمنی یا اس کا معتقد نہ ہونے کی بنا پر اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔

اسی طرح اندرونی اختلاف اور خلفشار کا مقابلہ کرنے کےلئے گرانقدر اخلاقی تعلیمات موجود ہیں جو دنیا کی اصل حقیقت، انسان کے سامنے پیش کرتی ہیں اوریہ سمجھاتی ہیں:

اعْلَمُواْ أَنَّمَا الحيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَ لهوٌ وَ زِينَةٌ وَ تَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَ تَكاَثُر فىِ الأَمْوَالِ وَ الأَولادِ

یعنی یہ دولت، یہ سامانِ آرائش، یہ دنیوی جلوے اور یہ لذتیں اگرچہ تمہارے تمہارے لئے ضروری ہیں، تم ان سے استفادہ کرنے پر مجبور ہو، تمہاری زندگی ان چیزوں سے وابستہ ہے نیز اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہیں چاہئے کہ اپنے لئے یہ چیزیں فراہم کرولیکن جان لو کہ ان چیزوں کو سب کچھ سمجھنا، آنکھیں بند کرکے دیوانہ وار ان کے پیچھےلگ جانا اور اصل مقصد کو بھول جانا بہت ہی خطرناک ہیں۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام دشمن کے ساتھ نبرد آزمائی کے میدان کا شیر ہیں۔ جب آپ گفتگو فرماتے ہیں تو انسان توقع کرتا ہے کہ آپ کی گفتگو کا زیادہ تر حصہ جہاد، جنگ، پہلوانی اور سورمائی کے بارے میں ہوگا لیکن جب ہم آپ کی احادیث اور نہج البلاغہ کے خطبوں کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اکثر فرمودات اور نصائح کا محور، زہد، تقویٰ، اخلاق، دنیا پرستی کی مذمت، دنیا کی تحقیر نیز عظیم معنوی اور انسانی اقدار کی توقیر جیسے موضوعات ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے ان دونوں محاذوں پر جنگ لڑی۔ واقعۂ عاشورا میں دشمن کے ساتھ جہاد اور نفس کے ساتھ جہاد دونوں ہی اپنی عالی ترین شکل میں جلوہ گر ہیں۔ اللہ کو علم تھا کہ یہ واقعہ پیش آئےگا جس میں ایک اعلیٰ نمونہ پیش کرناضروری ہے جو دوسروں کےلئے نمونہ عمل بنے۔ جس طرح مختلف ممالک میں کھیل کے کسی شعبے کے ہیرو کی ترویج کی جاتی ہے جو کھیل کے اس شعبے میں دوسروں کی تشویق کا موجب بنتا ہے۔ البتہ یہ ایک چھوٹی سی مثال تھی تا کہ بات کو ذہن میں بٹھایا جائے۔ واقعۂ عاشورا دونوں مذکورہ میدانوں میں ایک عظیم اورمجاہدت آمیز حرکت و قیام سے عبارت ہے۔یعنی بیرونی دشمن کے ساتھ مقابلے کے میدان میں بھی اور اندرونی محاذ پر بھی۔بیرونی دشمن سے مراد فاسد دربار ِخلافت اور اس دربار سے وابستہ دنیا پرست عناصر تھے۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس طاقت کو نجات ِانسانی کےلئے استعمال کیا تھا یہ لوگ اسے اسلام اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقاصد کے بالکل برخلاف استعمال کرنے کے خواہاں تھے۔ اندرونی محاذ پر، اس دور کا معاشرہ بالعموم انہی اندرونی خرابیوں کی جانب رواں دواں تھا۔

میری نظر میں دوسرا نکتہ زیادہ اہم ہے۔ ایک دور گزر چکا تھا۔ ابتدائی سختیوں کا زمانہ بیت چکاتھا، فتوحات انجام پاچکی تھیں، بے تحاشا غنائم ہاتھ آچکے تھے، مملکت کا دائرہ وسیع تر ہوچکا تھا، مختلف مقامات پر بیرونی دشمنوں کی سرکوبی ہوچکی تھی، ملک کے اندر مال غنیمت کی فراوانی تھی، کچھ لوگ مالدار ہوچکے تھے اور کچھ لوگ اشرافیہ کے دائرے میں داخل ہوچکے تھے۔اگرچہ اسلام نے اشرافیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا لیکن ایک نئی اشرافیہ عالم اسلام کے اندر جنم لےچکی تھی۔ کچھ لوگ اسلام کے نام کےساتھ نیز اسلامی عنوانات اور حیثیتوں کے ساتھ منسوب ہونے(مثلاً کسی صحابی کا فرزند ہونے، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی رشتہ دار کا نور چشم ہونے وغیرہ) کے باوجود ناشائستہ اور نامناسب کاموں میں مصروف ہوگئے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے نام تاریخ میں ثبت ہیں۔ ایسے لوگ بھی آئے جو اپنی بیٹیوں کا مہر سنتِ نبوی کے مطابق چارسو اسی در ہم (جو پیغمبر اکرمؐ، امیرالمؤمنین(علیہ السلام) اور صدر اول کے مسلمانوں کے ہاں مرسوم تھا) رکھنے کی بجائے دس لاکھ درہم یا دس لاکھ مثقال خالص سونا قرار دے رہے تھے۔ یہ لوگ کون تھے؟ بڑے بڑے اصحاب کے بیٹے مثلاً مصعب بن زبیر و غیرہ۔

( ۴/۱۱/۱۳۷۱ھ ش)۔

۸۲

رحلت رسول کے بعد دس سال کا عرصہ گزرنے سے پہلے ہی اس طرح کے کاموں کا آغازہوچکا تھا۔ سب سے پہلے اسلام میں سبقت رکھنے والے اصحاب اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد کی جنگوں میں شرکت کرنے والوں نے امتیازی مراعات حاصل کیں۔

ان امتیازی مراعات میں سے ایک بیت المال سے دوسروں کی نسبت زیادہ مالی وظیفہ یا استفادہ حاصل کرنےسے عبارت تھی۔

اس امتیازی سلوک کے حق میں یہ دلیل دی جاتی تھی کہ ان شخصیات کو دوسروں کے مساوی قرار دینا درست نہیں۔

یہ بنیاد کا پہلا پتھر تھا۔ انحراف پر منتہی ہونے والے سلسلوں کا آغاز اس قسم کے مختصر سے نقطے سے ہوتا ہے پھر ہر قدم اگلے کو زیادہ سرعت بخشتا ہے۔

انحرافات کا آغاز اسی نقطے سے ہوا یہاں تک کہ حضرت عثمان کے دور حکومت کے اواسط میں حالت یہ ہوگئی کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ممتاز اصحاب اپنےزمانے کے سب سے بڑے سرمایہ داروں میں شمار ہونے لگے۔

توجہ کیجئے کہ یہی عالی مرتبت ، بزرگ اور معروف اصحاب (طلحہ، زبیر اور سعد بن ابی وقاص و غیرہ) جن میں سے ہر ایک بدر و حنین اور احد میں اپنے سابقہ کارناموں کی لمبی فہرست کے حامل تھے عالم اسلام کے صف اول کے سرمایہ دار بن گئے۔

ان میں سے ایک کی وفات ہوگئی تو ان کے چھوڑے ہوئے طلائی آلات کو وارثوں میں تقسیم کرنے کےلئے پہلے انہیں سونے کے بلاکوں میں تبدیل کیا گیا پھر کلہاڑے سے انہیں کاٹ کر تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا، جس طرح کلہاڑی سے لکڑی کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ سونے کو مثقال کے حساب سے تولا جاتا ہے۔

اب آپ اندازہ کیجئے کہ ان کے پاس کس قدر سونا تھا جسے کلہاڑے سے کاٹنے کی ضرورت ہوئی۔

یہ باتیں تاریخ کے اوراق میں ثبت ہیں۔ یہ وہ امور نہیں جنہیں صرف شیعوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہو۔

یہ وہ حقائق ہیں جن کو سپر دِقلم اور محفوظ کرنے کی سب نے کوشش کی ہے۔

ان بزرگوں نے جو درہم و دینار چھوڑے تھے وہ افسانہ لگتے ہیں۔

(۲۰۔۳۔۱۳۷۵) ۔

۸۳

کسی نظام کے اپنے اندر سے بوسیدہ اور فاسد ہونے سے یہی مراد ہے یعنی معاشرے میں ایسے لوگ وجود میں آتے ہیں جو اپنی متعدی بیماری (دنیا پرستی اور شہوت پرستی) کو جو بدقسمتی سے مہلک بھی ہوتی ہے معاشرے کے اندر منتقل کرتے ہیں۔

اس قسم کے حالات میں کیا کوئی یہ جرأت کرسکتا تھا کہ یزید بن معاویہ کی حکومت کی مخالفت کرے؟

کیا ایسا ہوسکتا تھا؟

کون یہ سوچ سکتا تھا کہ اس وقت کی ظالمانہ اور کرپٹ یزیدی حکومت کا مقابلہ کرے؟

اس قسم کی صورتحال میں حسین علیہ السلام کا عظیم قیام وقوع پذیر ہوا۔

آپ نے ایک طرف سے بیرونی دشمن کا مقابلہ کیا اور دوسری طرف سے اس زوال پذیر تن آسانی اور آرام پسندی کا مقابلہ کیا جس کا رخ عام مسلمانوں کی تباہی کی جانب تھا۔

یہ چیز اہمیت کی حامل ہے۔

( ۶/۱۱/۱۳۷۱ھ ش)۔

۸۴

قیام حسینی کا ہدف:

اگر آپ سانحہ کربلا کا غور سے جائزہ لیں تو شایدیہ کہا جاسکتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی چند ماہہ حرکت (جس کا آغاز مدینہ سے آپ کے خروج کے دن سے ہوا اور کربلا میں آپ کی شہادت پر اس کا خاتمہ ہوا) کے اندر سو سے زیادہ اسباق موجود ہیں۔ یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ اس حرکت میں ہزاروں اسباق موجود ہیں لیکن میں نے ’’ہزاروں اسباق‘‘ کا ذکر نہیں کیا۔

ممکن کے کہ آپ کا ہر اشارہ ایک درس ہو۔ میں نے سو کا ذکر اس لئے کیا کہ اگر ہم امام کے ان کاموں میں غور و فکر کریں تو ان سے سو موضوعات اور عنوانات ہاتھ آسکتے ہیں جن میں سے ہرعنوان ایک امت، ایک تاریخ اور ایک ملک کےلئے نیز ذاتی تربیت، معاشرے کے انتظام وانصرام اور قرب ِالہی کے حصول کے لئے ایک درس ہے۔

اسی لئے حسین بن علی (ارواحنا فداہ و فدا اسمہ و ذکرہ) عالم کی مقدس ہستیوں کے درمیان آفتاب کی طرح درخشاں ہیں۔ آپ ذرا انبیاء ، اولیاء ، ائمہ، شہداء اور صالحین پر نظر کریں۔

اگر وہ چاند ستاروں کی طرح ضوفشاں ہیں تو امام حسین علیہ السلام آفتاب عالمتاب کی طرح نور افشاں ہیں۔

امام کے قیام سے حاصل ہونے والے سو اسباق تو ایک طرف ان میں سے ایک سبق ایسا ہے جس پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ باقی سب کی حیثیت فرعی ہے جبکہ یہ سبق اصل اور جڑ کی حیثیت رکھتی ہے کہ آپ نے کیوں قیام فرمایا؟

امام حسین علیہ السلام سے کہا گیا: مکہ اور مدینہ والے آپ کا احترام کرتے ہیں اوریمن میں اتنے شیعہ ہیں۔ آپ کسی گوشے میں تشریف لےجائیے تا کہ آپ کا یزید سے کوئی سروکار نہ رہے اور یزید بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ آپ کے اتنے ارادتمند اور شیعہ موجود ہیں۔ آپ آرام سے زندگی گزاریں اور عبادت و تبلیغ کرتے رہیں۔ آپ نے کیوں قیام فرمایا؟ وجہ کیاہے؟

یہ وہ اصلی سوال اور اصل سبق ہے۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ کسی نے اس نکتے کو نہیں چھیڑا ہے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ اس موضوع پر بہت کام ہوا ہے اور بہت کچھ کہا گیا ہے۔ جو نکتہ ہم بیان کرنے جارہے ہیں وہ ہماری اپنی نظر میں اس موضوع کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر ہے۔

کچھ لوگوں کے خیال میں امام حسین علیہ السلام کے قیام کا ہدف یہ تھا کہ آپ یزید کی فاسد حکومت کا خاتمہ کرکے خود ایک حکومت تشکیل دیں۔ یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ میں اسے بالکل غلط نہیں کہتا۔ لیکن اگر اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے صرف تشکیل ِحکومت کےلئے قیام فرمایا تھا (لہذا اگر آپ یہ دیکھتے کہ مقصود اور نتیجہ حاصل نہیں ہو گا تو آپ واپس لوٹ جاتے)تو یہ طرز فکر غلط ہے کیونکہ جو شخص حصول حکومت کےلئے قیام کرے وہ صرف اس صورت میں آگے بڑھتا ہے جب اسے کامیابی کا امکان نظر آئے۔

جونہی اسے اندازہ ہو کہ اس کام کی کامیابی کا معقول احتمال موجود نہیں ہے تو اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ پلٹ جائے۔

اگر مقصد حکومت کی تشکیل ہو تو انسان کےلئے اس حد تک آگے جانا جائز ہے جہاں تک وہ جاسکتا ہو۔ اگر آگے بڑھنے کی گنجائش نہ ہو تو پلٹنا چاہئے۔

پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ قیام حسینی کا مقصد بر حق علوی حکومت کا قیام تھا اس کا مقصد اگر وہ ہو جو ہم نے اوپر بیان کیا تو یہ درست نہیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے مجموعی مطالعے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔

اس قول کے مقابلے میں ایک قول یہ ہے کہ :

امام کا قیام حکومت کےلئے نہ تھا۔ آپ کو علم تھا کہ آپ حکومت قائم نہیں کرسکیں گے۔ آپ کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ آپ قتل اور شہید ہوجائیں۔ یہ بات بھی ایک عرصے تک زبانزدِ خاص و عام رہی تھی۔

کچھ لوگ خوبصورت شاعرانہ پیرایوں میں اس تصور کو پیش کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ہمارے بزرگ علماء نے بھی یہ بات کہی ہے۔

یہ دعویٰ کہ امام حسین علیہ السلام نے صرف شہید ہونے کےلئے قیام فرمایا تھا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خیال یہ ہے کہ جب امام نے دیکھا کہ بیٹھے رہ کر کچھ نہیں کیا جاسکتا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ شہید ہو کر ہی کچھ کرنا چاہئے۔ یہ بات اسلامی مآخذ ومنابع میں مذکور نہیں ہے کہ جاؤ اور موت کے منہ میں کود جاؤ۔ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ شریعت مقدسہ اور قرآنی آیات میں جس شہادت کا ذکر ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی ایسے مقدس ہدف کی خاطر جو واجب یا بہتر ہو قیام کرے اور اس کی راہ میں مارا جائے۔ اسلام کی نظر میں شہادت کا جو درست تصور ہے وہ یہی ہے۔

اس کے برعکس اگرکوئی شخص صرف قتل ہونے کےلئے نکل پڑے اور یہ کہتا جائے:

ظالموں کے پیر پھسلیں گے مرے اس خون سے

اور سر کے بل گریں گے اس سمے اس خون سے

تو یہ ایک شاعرانہ تخیل تو ہوسکتا ہے لیکن کربلا کے اس عظیم سانحے کا ہدف نہیں بن سکتا۔ البتہ یہ نظریہ ایک حد تک درست ہے لیکن امام کا اصلی ہدف یہ نہیں تھا۔

خلاصہ یہ کہ ہم نہ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ امام علیہ السلام کے قیام کا مقصد صرف حکومت کی تشکیل تھی اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے صرف شہید ہونے کےلئے قیام فرمایا تھا۔ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ میری نظر میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ امام کا مقصد صرف حکومت کا حصول تھا یا آپ کا ہدف صرف شہادت تھی ان لوگوں کو ’’ہدف‘‘ اور ’’نتیجے‘‘ کی شناخت میں خلط اور اشتباہ ہوا ہے۔ یہ دونوں باتیں ہدف نہ تھیں۔ امام حسین علیہ السلام کا ہدف کچھ اور تھا۔البتہ اس ہدف تک رسائی کےلئے حرکت اور قیام کی ضرورت تھی۔ اس قیام کا نتیجہ یا شہادت تھی یا حکومت۔ امام ان دونوں کےلئے تیار تھے۔ آپ نےایک طرف سے قیام حکومت کی تمہیدات فراہم کیں اور دوسری طرف سے شہادت کی تمہیدات فراہم کیں اور یہ دونوں کام جاری رکھے۔ آپ ان دونوں نتائج کےلئے اپنے نفس کو تیار کرتے رہے۔ ان دونوں میں سے جو بھی نتیجہ سامنے آتا وہ درست تھا اور اس میں کوئی اعتراض والی بات نہ تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی ’’ہدف‘‘ نہیں تھا۔ یہ دونوں نتیجے تھے، ہدف کچھ اور تھا۔

پس آپ کا ہدف کیا تھا؟ میں پہلے ایک جملے میں اس ہدف کا خلاصہ پیش کروں گا پھر اس کی کچھ وضاحت کروں گا۔ اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے ہدف کو بیان کرنا چاہیں تو یہ کہنا ہوگا کہ آپ کا ہدف دین کے واجبات میں سے ایک عظیم واجب کو انجام دینا تھا۔ یہ وہ عظیم واجب تھا جسے امام حسین سےقبل کسی شخص نے (یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے بھی) انجام نہیں دیا تھا۔ نہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس واجب کو انجام دیا تھا نہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اور نہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے۔ اسلام کے فکری ، اصولی اور عملی نظام کی مجموعی ساخت میں اس واجب کی بڑی اہمیت تھی۔اگرچہ یہ واجب نہایت اہم اور بہت ہی بنیادی نوعیت کی ہے اس کے باوجود امام حسین علیہ السلام کے زمانے تک اس واجب پر عمل نہیں ہوا تھا۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کروں گا کہ اس پر عمل کیوں نہیں ہوا تھا۔ امام حسین علیہ السلام کو اس واجب پر عمل کرنا تھا تاکہ یہ تاریخ بشریت کےلئے ایک درس عمل ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکومت تشکیل دی اور یہ تشکیل ِحکومت مسلمانوں اور تمام انسانوں کی پوری تاریخ کےلئے ایک درس اور نمونہ بن گئی۔ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس کا صرف حکم بیان نہیں فرمایا بلکہ عملی تصویر پیش کی۔ اسی طرح پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جہاد فی سبیل اللہ کا عملی مظاہر کیا جو مسلمانوں اور انسانوں کی پوری تاریخ کےلئے قیامت تک ایک سبق اور نمونہ بن گیا۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں بھی اس ایک واجب کی انجام دہی ضروری تھی تا کہ وہ مسلمانوں اور پوری تاریخ کےلئے ایک عملی درس ثابت ہو۔

سوال یہ ہے کہ اس واجب پر عمل صرف امام حسین نے ہی کیوں کیا؟ (رسول اکرم، امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسن علیہ السلام وغیرہ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ مترجم) وجہ یہ تھی کہ اس واجب پر عمل کی تمہیدات امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں سامنے آئیں۔

اگر امام حسین کےدور میں یہ حالات سامنے نہ آتے اور بطور مثال امام علی نقی علیہ السلام کے دور میں پیش آتے تو یہی کام امام علی نقی انجام دیتے۔ یوں تاریخ ِاسلام کے ذبح ِعظیم امام علی نقی ہوتے۔ اگر امام حسن مجتبیٰ اور امام صادق علیہما السلام کے دور میں یہ حالات پیش آتے تو وہ بھی وہی کرتے جو امام حسین نےکیا تھا لیکن اتفاق سے نہ امام حسین کے زمانے سے پہلے ایسا اتفاق ہوا اور نہ آپ کےدور کے بعد امام عصر علیہ السلام کی غیبت تک دیگر ائمۂ معصومین کے ادوار میں ایسا اتفاق ہوا۔

پس امام حسین علیہ السلام کا ہدف اس واجب کی انجام دہی سے عبارت ہے۔ یہاں میں یہ عرض کروں گا کہ یہ واجب کیا تھا؟

اس واجب کی انجام دہی کے دو ممکنہ نتائج واضح طور پر سامنے تھے۔ ایک نتیجہ یہ کہ امام حسین علیہ السلام کو حکومت اور اقتدار حاصل ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو امام حسین حکومت سنبھالنے کےلئے تیار تھے۔ اگر آپ کو حکومت مل جاتی تو آپ پوری قوت کےساتھ حکومت سنبھالتے نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے دور کی طرح معاشرے کا نظام چلاتے۔

اس واجب کا دوسرا نتیجہ یہ ہوسکتا تھا کہ امام حسین حکومت حاصل کرنے کی بجائے شہید ہوجاتے۔ امام حسین اس کےلئے بھی حاضر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے امام حسین اور دیگر ائمہ کو اس طرح سے خلق فرمایا تھا کہ وہ اس راہ میں شہادت کے سنگین بوجھ کو بھی آسانی سے سہہ سکیں جیسا کہ انہوں نے سہہ کر دکھایا۔

البتہ کربلا کے مصائب کی داستان کچھ اور ہی عظیم داستان ہے۔ آئیے یہاں اس مسئلے کی مختصر وضاحت کرتا چلوں۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی طرح دیگر تمام انبیاءعلیہم السلام اپنے ساتھ احکام الٰہی کا مجموعہ لے آتے رہے۔ ان احکام میں سے بعض انفرادی نوعیت کے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی ذات کی اصلاح کرے۔

اس کے بر عکس بعض احکام اجتماعی ہیں جن کا مقصد انسانی معاشرے کو آباد کرنے ، چلانے اور پابرجا کرنے سے عبارت ہے۔

یہ احکام کا وہ مجموعہ ہے جسے اسلامی نظام بھی کہاجاتا ہے۔ ادھر اسلام پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقدس قلب پر نازل ہوا۔

آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)جو احکام لائے ان میں نماز، روزہ، زکات، انفاق، حج، عائلی احکام، ذاتی روابط، جہاد فی سبیل اللہ، حکومت کی تشکیل، اسلامی معاشیات، حاکم اور عوام کے روابط اور حکومت کے مقابلے میں عوام کی ذمہ داریوں وغیرہ سے مربوط احکام شامل ہیں۔ اسلام نے اس پورے نظام کو بشریت کے سامنے پیش کیا۔

یہ سب پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمائے۔ آپ کا فرمان ہے:

’’يَا أَيُّهَا النَّاسُ!وَ اللهِ مَا مِنْ شَيْ‏ءٍ يُقَرِّبُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ وَ يُبَاعِدُكُمْ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَ قَدْ أَمَرْتُكُمْ بِه‏‘‘

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ساری باتیں بیان فرمائیں جو انسان اور انسانی معاشرے کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتی ہیں۔ آپ نے نہ صرف بیان فرمایا بلکہ انہیں عملی جامہ بھی پہناکر دکھایا۔ حضورکے زمانے میں اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرے کی تشکیل عمل میں آئی، اسلامی اقتصادیات پر عملدر آمد ہوا، اسلامی جہاد پر عمل ہوا اور اسلامی زکات لینے کا سلسلہ قائم ہوا۔ یوں ایک ملک اور ایک معاشرتی نظام اسلامی سانچے میں ڈھل گئے۔ اس سسٹم کا انجنئیر اور اس لائن پر چلنے والی ٹرین کا رہنما نبی کریم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جانشین تھے۔

یہ ایک واضح اور معین راستہ ہے۔ اسلامی معاشرے اور مسلمان فرد کو اس راستے سے، اس لائن پر ، اس راستے کی سمت میں اور اس راستے کے ساتھ چلنا اور حرکت کرنا ہوگا۔ اگر یہ حرکت انجام پائے تو لوگ کمال کی منزل سے ہمکنار ہوں گے، فرشتہ نما اور صالح بن جائیں گے، معاشرے سے ظلم کا خاتمہ ہوگا، برائی، خرابی، اختلافات،فقر اور جہل رفو چکر ہوجائیں گے نیز انسان مکمل خوش بختی و کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور خدا کا بندۂ کامل بن جائےگا۔

اسلام نے نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے یہ نظام دنیا تک پہنچایا اور اس دور کے معاشرے میں اسے نافذ کیا۔ کہاں؟ دنیا کے ایک گوشے میں جس کا نام مدینہ تھا۔ بعد میں مکہ اور کئی دیگر شہروں تک اسے پھیلایا۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ ریل گاڑی جسے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ٹریک یا پٹڑی پر چلایا تھا کسی سازش یا حادثے کے نتیجے میں اس پٹڑی سے اتر جائے تو لوگوں کی ذمہ داری کیا ہے ؟

اگر اسلامی معاشرہ انحراف کا شکار ہوجائے اور یہ انحراف اس قدر شدید ہو کہ پورے اسلام اور اسلامی تعلیمات کے انحراف کا خطرہ پیدا ہو تو لوگوں کی کیا ذمہ داری ہے؟

انحراف کی دو قسمیں ہیں۔ گاہے لوگ خراب ہوجاتے ہیں لیکن اسلامی احکام باقی رہتے ہیں۔ اس کے برعکس گاہے لوگوں کے خراب ہونے کے ساتھ حکومتیں بھی فاسد اور خراب ہوجاتی ہیں نیز علماء اور دین کے ترجمان بھی بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں۔

خراب لوگ صحیح دین کو سرے سے پیش ہی نہیں کرسکتے۔ وہ قرآن اور حقائق میں تحریف کرتے ہیں۔ وہ اچھائیوں کو برائیوں کی شکل میں ، برائیوں کو اچھائیوں کے طور پر، منکر کو معروف بنا کر اور معروف کو منکر کے لبادے میں پیش کرتے ہیں۔ اسلام نے جس پٹڑی کو ایک خاص سمت میں رکھا ہے وہ اسے ایک سو اسّی درجے مخالف سمت میں موڑ دیتے ہیں۔

پس اگر اسلامی نظام اور معاشرہ اس مشکل سے دوچار ہو تو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا تھا کہ یہاں ذمہ داری کیا ہے اور قرآن نے بھی فرمایا ہے:

’’مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتىِ الله بِقَوْمٍ يحُبهُّمْ وَيحُبُّونَه‏‘‘

اس کے علاوہ دیگر بہت ساری آیات و احادیث موجود ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی وہ روایت بھی موجود ہے جسے میں آپ کے کےلئے نقل کروں گا۔

امام حسین علیہ السلام نے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی یہ حدیث لوگوں سے نقل کی۔ یہ فرمان رسول تھا لیکن کیا پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس حکم پر عمل کرسکتے تھے؟

نہیں کیونکہ اس حکمِ الٰہی پر تب عمل ہوسکتا ہے جب معاشرہ منحرف ہوچکا ہو۔ اگر ایسا ہو تو چارۂ کار کی ضرورت ہوگی۔

جن معاشروں میں انحراف اس قدر شدید ہو کہ اس سے اصل اسلام کے منحرف ہونے کا خطرہ درپیش ہو وہاں خدا کی طرف سے ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ انسان کو کسی بھی مسئلے میں بغیر کسی حکم کے رہا نہیں کرتا۔

پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس ذمہ داری کو بیان فرمایا ہے، قرآن و حدیث نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)خود اس حکم پر عمل نہیں کرسکتے تھے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس حکم پر اس وقت عمل ہوسکتا ہے جب معاشرہ انحراف اور بگاڑ کا شکار ہوجائے۔ آنحضرت اور امیر المومنین کے دور میں معاشرہ اس قدر زیادہ منحرف نہیں ہواتھا۔

امام حسن علیہ السلام کے زمانے میں جب حکومت کی لگام معاویہ کے پاس تھی اگرچہ اس انحراف کی بہت سی علامات ظاہر ہوچکی تھیں لیکن ہنوز انحراف اس حد تک نہیں پہنچی تھی کہ اسلام کے مکمل طور پر بدل جانے کا خطرہ لاحق ہو۔

شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ایک دفعہ اس قسم کی صورتحال بھی پیش آئی تھی لیکن اس وقت اس حکم کی انجام دہی کا مناسب موقع فراہم نہ تھا۔ اس حکم کی اہمیت خود حکومت سے کمتر نہیں ہے

کیونکہ حکومت سے مراد ہے:

معاشرے کا انتظام و انصرام ۔

اگر معاشرہ بتدریج پٹڑی سے اتر کر خراب اور فاسد ہوجائے نیز خدا کے احکام بدل دیے جائیں لیکن اس وقت ہم حالات کو بدلنے اور اسلامی تجدیدِ حیات یا آج کل کی اصطلاح میں انقلاب برپا کرنے کے پابند نہ ہوں تو اس حکومت کا کیا فائدہ؟

پس منحرف معاشرے کو اس کی حقیقی لائن پر دوبارہ بحال کرنےکا حکم خود حکومت قائم کرنے کے حکم سے کم اہم نہیں ہے۔شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ اس کی اہمیت اس امر بمعروف اور نہی از منکر سے زیادہ ہے جو کسی اسلامی معاشرے میں عام حالات میں واجب ہوتا ہے۔ بلکہ شاید یہ کہا جاسکے کہ اس حکم کی اہمیت عظیم عبادات ِالہی اور حج سےبھی زیادہ ہے۔ کیوں؟

اس لئے کہ درحقیقت یہ حکم اس وقت اسلام کی حیات نو کی ضمانت دیتا ہے جب وہ آخری سانس لے رہا ہو یا دم توڑ چکا ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ کام کون انجام دے؟ کون اس ذمہ داری کو نبھائے؟

جی ہاں! رسول کا کوئی جانشین، بشرطیکہ وہ اس انحراف کے دوران موجود ہو نیز سازگار اور مناسب موقع بھی فراہم ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بےفائدہ چیز کا حکم نہیں دیتا۔ اگر موقع سازگار اور مناسب نہ ہو تو خواہ جتنی کوشش کی جائے بے فائدہ ، بےثمر اور بے اثر ہے۔

لہذا مناسب موقع کی موجودگی ضروری ہے۔ موقع کے مناسب ہونے سے یہ مراد ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ اس کام کو انجام دیا جائے تو اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا اور لوگوں تک حق کا پیغام پہنچ جائےگا ، لوگ حقیقت کو سمجھ جائیں گے اور اشتباہ کا شکار نہیں رہیں گے۔

یہ ہے وہ ذمہ داری جسے انجام دینے کےلئے ایک انسان کی ضرورت تھی۔

امام حسین علیہ السلام کے دور میں وہ انحراف وجود میں آچکا تھا اور مناسب موقع بھی فراہم تھا۔ پس امام حسین کو قیام کرنا چاہئے تھا کیونکہ انحراف آچکا تھا۔ وہ کیسے؟ وہ یوں کہ معاویہ کے بعد یزید حاکم بن چکا تھا جو اسلام کے ظاہری احکام کی بھی رعایت نہیں کرتا تھا۔ وہ شراب پیتا تھا اور برائیوں کا مرتکب ہوتا تھا۔

وہ جنسی تجاوز اور بدکاریوں کو برملا انجام دیتا تھا، قرآن کے خلاف بات کرتا تھا، قرآن کے خلاف اور دین کی ردّ میں کھل کر اشعار کہتا اور اسلام کی اعلانیہ مخالفت کرتا تھا۔

البتہ چونکہ اس کا نام امیرالمؤمنین علیہ السلام تھا اس لئے وہ اسلام کے نام کو خیر باد کہنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسلام پر عمل کرنے والا، اسلام کا خیر خواہ او ر اس سے عقیدت رکھنے والا نہ تھا بلکہ وہ اپنے عمل کے لحاظ اس چشمے کی طرح تھا جس سے مسلسل گندا پانی نکل کر باہر آتا ہے اور پوری نشیبی زمین کو گندگی سے پر کرتا ہے۔ یزید کے وجود سے خارج ہونے والا گندا مواد بھی پورے اسلامی معاشرے کو پر کرنے والا تھا۔

کرپٹ حکمران ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ حاکم اقتدار کی چوٹی پر ہوتا ہے اور اس سے جو کچھ ٹپکتا ہے وہ اسی جگہ تک محدود نہیں رہتابلکہ وہ وہاں سے بہتا ہے اور پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لےلیتا ہے۔ عام آدمی کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

عام انسان اپنی جگہ رہتا ہے۔ ہر وہ شخص جو اونچے مقام پر فائز ہو اور معاشرے میں بالاتر حیثیت کا حامل ہو اس کے نقصان اور اس کی خرابی کا دائرہ وسیع تر ہوتا ہے۔

عام لوگوں کی خرابی کا دائرہ خود ان تک یا ان کے آس پاس موجودچند افراد تک محدود ہوتا ہے لیکن جو شخص سب سے اونچے مقام پر فائز ہو اس کی خرابی نیچے بہتی ہے اور پورے ماحول کو پر کردیتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ اچھا ہو تو اس کی اچھائی بھی نیچے بہتی ہے اور پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لےلیتی ہے۔ اب وہی شخص اپنی تمامتر خرابیوں کے ساتھ معاویہ کے بعد مسلمانوں کا خلیفہ بن چکا تھا اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خلیفہ کہلاتا تھا۔ کیا اس سے بڑے انحراف کا تصور ہوسکتا ہے؟

اب قیام کےلئے حالات سازگار ہیں اور مناسب موقع آچکا ہے۔ مناسب موقعے سے کیا مراد ہے؟ کیا خطرہ موجود نہیں؟ خطرہ تو موجود ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ مقتدر اعلیٰ اپنے مخالفین کےلئے خطرہ نہ بنے؟ جنگ ناگزیر تھی۔ آپ اسے کرسیٔ اقتدار سے نیچے گرانا چاہیں اور وہ چپکے سے دیکھتا رہے؟ واضح ہے کہ وہ بھی آپ پروار کرےگا۔

پس خطرہ موجود تھا۔ یہ جو ہم نے کہا ہے کہ سازگار اور مناسب موقع آچکا تھا تو اس سے یہ مراد ہے کہ عالم اسلام اور اسلامی معاشرے کی فضا کچھ ایسی تھی کہ امام حسین کا پیغام اس دور کے اور قیامت تک کے انسانوں تک پہنچ سکتا تھا۔

اگر امام حسین معاویہ کے دور میں قیام کرتے تو آپ کا پیغام دفن ہوجاتا کیونکہ معاویہ کے دورِ حکومت میں صورتحال اور سیاسی پالیسیاں کچھ ایسی تھیں کہ لوگ کلمۂ حق کی حقانیت کو نہیں سن سکتے تھے۔

اسی لئے اگرچہ امام حسین علیہ السلام معاویہ کی خلافت کے دس سالوں کے دوران امام تھے لیکن آپ نے کچھ نہ کہا اورکوئی اقدام یا کوئی قیام نہیں کیا کیونکہ صورتحال مناسب نہ تھی اورموقع سازگار نہ تھا۔ آپ سے پہلے امام حسن علیہ السلام نے بھی قیام نہیں فرمایا کیونکہ قیام کےلئے موقع مناسب نہ تھا۔ قیام نہ کرنے کا مطلب نہ نہیں تھا کہ امام حسن اور امام حسین اس کام کے اہل نہ تھے۔ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام میں کوئی فرق موجود نہیں ہے۔

امام حسین علیہ السلام اور امام سجاد علیہ السلام میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔ امام حسینؑ، امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام میں بھی کوئی فرق نہیں ہے البتہ چونکہ امام حسین علیہ السلام نے یہ جہاد انجام دیا ہے اس لئے آپ کا یہ مقام ان ہستیوں سے بالاتر ہے جنہوں نے یہ کام نہیں کیا لیکن مقام امامت کے لحاظ سے یہ سب مساوی ہیں۔ اگر باقی اماموں میں سے کسی کے ساتھ بھی یہی حالات پیش آتے تو وہ بھی یہی کردار ادا کرتا اور اسی مقام پر فائز ہوتا۔

بہرحال چونکہ امام حسین علیہ السلام کو ایک ایسے انحراف کا سامنا تھا لہذا آپ پر لازم تھا کہ آپ وہ مخصوص ذمہ داری ادا کرتے۔ موقع بھی سازگار اور مناسب تھا اور عذر کی گنجائش نہیں تھی۔ اسی لئے جب عبد اللہ بن جعفر، محمد بن حنفیہ اور عبد اللہ بن عباس و غیرہ نے کہا کہ مولا! خطر ہ موجود ہے، آپ نہ جائیے تو آپ علیہ السلام نے ان کی بات نہیں مانی حالانکہ یہ تینوں عام لوگ نہ تھے بلکہ سب دین شناس، عارف، عالم اور معاملہ فہم تھے۔ ان حضرات کا یہ خیال تھا کہ جب ذمہ داریوں کی ادائیگی کی راہ میں کوئی خطرہ حائل ہو تو ذمہ داری اٹھ جاتی ہے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ ذمہ داری وہ نہیں جو خطرات کی بنیاد پر ٹل جائے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی ہمیشہ خطرات کے ساتھ توأم ہوتی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان یزید جیسے مقتدر اور ظاہری قوت کے حامل حکمران کے ساتھ ٹکرائے اور اسے کوئی خطرہ لاحق نہ ہو؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے ساتھ خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے زمانے میں جو کام انجام پایا اس کے ایک چھوٹے نسخے پر ہمارے امام (خمینیؒ) کے دور میں بھی عمل ہوا۔ البتہ وہاں نتیجہ شہادت کی صورت میں ظاہر ہوا لیکن یہاں حصول ِحکومت کی شکل میں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں کیونکہ امام حسین علیہ السلام کا ہدف وہی تھا جو ہمارے عظیم المرتبت امام (خمینی ؒ) کا تھا۔ حسینی معارف کی بنیاد یہی نکتہ ہے۔

حسینی معارف اورتعلیمات در اصل شیعہ معارف و تعلیمات کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

یہ ایک عظیم بنیاد ہے اور بجائے خود اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے۔

۸۵

پس امام حسین علیہ السلام کا ہدف یہ تھا کہ اسلامی معاشرے کو دوبارہ صحیح راستے پر گامزن کیا جائے۔ لیکن کب؟اس وقت جب اصل راستہ بدل چکا ہو، بعض لوگوں کی خیانت، حمایت اور ظلم و استبداد نے مسلمانوں کو منحرف کردیا ہو اور قیام کے لئے حالات بھی سازگار ہوں۔ البتہ تاریخ کے مختلف ادوار کی نوعیت بھی مختلف ہوتی ہے۔ گاہے قیام کےلئے حالات سازگار ہوتے ہیں اور گاہے نہیں۔

امام حسین علیہ السلام کے دور میں حالات سازگار تھے اور ہمارے زمانے میں بھی سازگار تھے۔ پس امام (خمینی ؒ) نے بھی وہی کام کیا۔ ہدف ایک تھا،

البتہ جب انسان اس ہدف کے راستے پر گامزن ہوتا ہے نیز باطل حکومت اور طاغوتی مرکز کے خلاف قیام کرنا چاہتا ہے تاکہ اسلام، اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کو اپنے حقیقی مرکز کی طرف لوٹائے تو گاہے قیام کے نتیجے میں حکومت حاصل ہوتی ہے اور گاہے اس قیام کے نتیجے میں حکومت حاصل نہیں ہوتی بلکہ شہادت نصیب ہوتی ہے۔ اب کیا اس دوسری صورت میں قیام واجب نہیں ہے؟

کیوں نہیں، شہادت کی صورت میں بھی واجب ہے۔ کیا شہادت کی صورت میں قیام بےفائدہ نہیں ہے؟ بالکل نہیں۔ شہادت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

یہ قیام اور یہ حرکت دونوں صورتوں میں فائدہ مند ہے خواہ شہادت نصیب ہو یا حکومت۔ البتہ ان دونوں کے فائدے مختلف ہیں۔ بہرحال دونوں صورتوں میں قیام ضروری ہے۔

۸۶

یہ وہ کارنامہ تھا جو امام حسین علیہ السلام نے انجام دیا۔

امام حسین وہ فرد تھے جس نے سب سے پہلے اس قسم کا قیام کیا۔ آپ سے پہلے یہ کام انجام نہیں پایا تھا کیونکہ آپ سے پہلے پیغمبراور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے میں اس قسم کے حالات اور انحرافات وجود میں نہیں آئے تھے اور اگر کہیں کوئی انحراف تھا بھی تو قیام کےلئے فضا سازگار نہ تھی۔ امام حسین کے دور میں دونوں باتیں موجود تھیں۔

امام حسین کے قیام کے مسئلے میں اصل حقیقت یہی تھی۔

پس ہم اس بحث کی شیرازہ بندی یوں کرسکتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام نے ایک عظیم واجب کی انجام دہی کےلئے قیام کیا تھا۔ یہ واجب اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کی تعمیر نو یا اسلامی معاشرے میں رونما ہونے والے بڑے بڑے انحرافات کے مقابلے میں کھڑے ہونے سے عبارت تھا۔

یہ مقصد قیام کے ذریعے نیز امر بمعروف اور نہی ازمنکر کے ذریعے حاصل ہوسکتا تھا بلکہ یہ قیام بذات خود امر بمعروف اور نہی از منکر کا ایک عظیم مصداق تھا۔

البتہ اس طرح کا قیام گاہے حصول ِحکومت پر منتج ہوتا ہے اور گاہے شہادت پر۔

امام حسین علیہ السلام ان دونوں نتائج کےلئے تیار تھے۔

۸۷

اس مدعیٰ پرہماری دلیل کیا ہے؟

جواب یہ ہے کہ ہم خود امام حسین علیہ السلام کے فرمودات سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

میں نے حضرت ابوعبد اللہ علیہ السلام کے فرمودات میں سے چند عبارتوں کا انتخاب کیا ہے۔

البتہ تعداد اس سے زیادہ ہے اور سب اسی نکتے کو بیان کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ جس رات مدینہ میں حاکم مدینہ ولید نے امام کو بلایا اور کہا: معاویہ دنیا سے جاچکا ہے پس آپ کو یزید کی بیعت کرنا ہوگی اس رات امام نے اس سے فرمایا:

صبح تک دیکھ لیں گے:

وَ نَنْظُرُ وَ تَنْظُرُونَ أَيُّنَا أَحَقُّ بِالْبَيْعَةِ وَالْخِلَافَة:

چلو ہم اور تم دونوں دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے کون بیعت اور خلافت کا زیادہ سزاوار ہے۔خلافت ہمارا حق ہے یا یزید کا ؟

دوسرے دن مروان نے امام کو مدینہ کی گلیوں میں دیکھا اور کہا :

اے ابا عبداللہ! آپ اپنے آپ کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔

آپ خلیفہ کی بیعت کیوں نہیں کرتے؟

آئیں بیعت کریں اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو ہلاکت اور تکلیف میں نہ ڈالیں۔ امام نے جواب میں یہ جملہ فرمایا:

’’إِنَّا لِلّٰهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ وَ عَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيد ۔

جب یزید جیسا حاکم برسر اقتدار آئے اور امت مسلمہ یزید جیسے حکمران کے پنجے میں گرفتارِ آزمائش ہو تو اسلام کا خدا ہی حافظ ہے۔

مسئلہ صرف یزید کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو یزید جیسا ہو۔

امام یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اب تک سب کچھ قابل تحمل تھا لیکن اب دین اور اسلامی نظام کی بنیاد کو خطرہ ہے اور یزید جیسے حاکم کی حکمرانی اسے تباہ کردےگی۔

آپ نے اشارہ فرمایا کہ انحراف کا خطرہ سچ مچ سنجیدہ ہے اور اسلام کی بنیاد خطرے میں ہے۔

حضرت ابو عبد اللہ نے مدینہ سے نکلتے وقت بھی اور مکہ سے خارج ہوتے وقت بھی محمد بن حنفیہ کے ساتھ گفتگو فرمائی تھی۔

میری نظر میں آپ نے یہ وصیت مکہ سے نکلتے وقت کی تھی۔

جب محمد بن حنفیہ ماہ ذی الحجۃ میں مکہ آئے تھے تو امام کے ساتھ ان کی گفتگو ہوئی تھی۔

آپ نے اپنے بھائی محمد بن حنفیہ کو ایک تحریری وصیت نامہ دیا

جس میں آپ نے خدا کی وحدانیت کی گواہی کے بعد فرمایا:

’’أنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِراً وَ لَا بَطِراً وَ لَا مُفْسِداً وَ لَا ظَالِماً ‘‘

یعنی بعض لوگ یہ خیال نہ کریں اور پروپیگنڈہ کرنے والے یہ افواہ نہ پھیلائیں کہ حصول ِحکومت کےلئے مختلف جگہوں پر خروج کرنے والوں کی طرح حسین بھی خود نمائی، عیش و عشرت، فتنہ و فساد اور ظلم کےلئے میدان کارزار میں اترا ہے۔ ہم اس قماش کے لوگ نہیں ہیں۔

’’ إِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي‘‘

میرے قیام کا مقصد اصلاح ہے۔ میں اصلاح کا خواہاں ہوں۔ یہ وہی واجب ہے جو امام حسین سے پہلے انجام نہیں پایا تھا۔ اس اصلاح کا ذریعہ خروج یعنی قیام ہے۔

امام نے اس وصیت نامے میں اس بات کا قریبا صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، یعنی اولاہم قیام کے خواہاں ہیں اور وہ بھی اصلاح کے لیے ہے۔

اس کا مقصد نہ یہ ہے کہ ہم ہر صورت میں حکو مت حاصل کریں اور نہ یہ کہ ہر صورت میں شہید ہو جائیں۔

ہمارا مقصد تو بس اصلاح ہے۔

البتہ اصلاح کوئی آ سان کام نہیں۔گاہے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان حکومت واقتدار حاصل کر لیتا ہے۔ گاہے ایسا نہیں کر سکتا بلکہ شہید ہو جاتا ہے۔

دونوں صورتوں میں قیام کا مقصد اصلاح ہے۔

اس کے بعد فرماتے ہیں:

’’أُرِيدُ أَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ أَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أَسِيرَ بِسِيرَةِ جَدِّي‏ ۔

یہ اصلاح امر بالمعروف اور نہی از منکر کا مصداق ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے دو خطوط لکھے تھے: ایک بصرہ کے روساء کے نام اور ایک کوفہ کے روساء کے نام۔ روسائے بصرہ کے نام خط میں آپ نے لکھا:

’’و قد بعثتُ رسولي إليكم بهذا الكتاب، و أنی أدعوكم إلى كتاب اللّٰه و الی نبيّه فانّ السنّة قد اُميتت، و انَّ البدعة قد اُحييت، و إن تجیبوا دعوتی و تُطيعوا أمري اَهدِكم سبيل الرشاد‘‘

میں چاہتا ہوں کہ بدعت کا خاتمہ کروں اور سنت کو زندہ کروں کیونکہ سنت ماردی گئی ہے اور بدعت کو زندہ کیا گیا ہے۔ اگر تم میرا ساتھ دو گے تو میں تمہیں سیدھے راستے کی طرف لے جاؤں گا۔یعنی جان لو کہ صراط مستقیم میرے ساتھ ہے۔ میں اس عظیم ذمہ داری کو نبھانا چاہتا ہوں جو اسلام، سنت ِنبوی اور اسلامی نظام کو دوبارہ زندہ کرنے سے عبارت ہے۔ اس کے بعد اہل کوفہ کے نام خط میں لکھا:

’’فَلَعَمْرِي مَا الْإِمَامُ إِلَّا الْحَاكِمُ بِالْكِتَابِ‏ الْقَائِمُ بِالْقِسْطِ الدَّائِنُ بِدِينِ الْحَقِّ الْحَابِسُ نَفْسَهُ عَلَى ذَلِكَ لِلّٰه‘‘‏

یعنی اسلامی معاشرے کا امام، پیشوا اور سربراہ وہ شخص نہیں ہوسکتا جو فسق و فجور، خیانت، کرپشن اور خدا کی نافرمانی و غیرہ کا مرتکب ہو۔

امام وہ ہے جو کتاب خداوندی پر عمل کرے یعنی معاشرے میں حق کو نافذ کرے اور صرف اس بات پر اکتفا نہ کرے کہ کسی خلوت کدے میں نماز پڑھتا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ معاشرے میں قرآن پر عمل کی رسم کو زندہ کرے، عدل و انصاف قائم کرے اور حق کو معاشرے کا قانون قرار دے۔

’’الدَّائِنُ بِدِينِ الْحَقِّ‘‘

یعنی حق کو معاشرے کا دستور، قانون اور اصول قرار دے کر باطل کو برکنار کرے۔

’’الْحَابِسُ نَفْسَهُ عَلَى ذَلِكَ لِلّٰه‏‘‘

اس جملے کا مفہوم بظاہر یہ ہے کہ امام ہر قیمت پر اور ہر صورت میں اپنے آپ کو اللہ کے صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے نیز شیطانی خواہشات اور مادی رنگینیوں کا اسیر نہیں بنتا۔ والسلام۔

یوں امام نے اپنے ہدف اور مقصد کو واضح کیا۔

پھر امام حسین علیہ السلام مکہ سے خارج ہوئے۔

آپ نے راستے میں ہر منزل پر مختلف انداز میں گفتگو فرمائی۔ ’’منزل بیضہ‘‘ جاتے وقت حر بن یزید ریاحی بھی آپ کے ساتھ چل رہاتھا۔

یہاں پہنچ کر سب اتر گئے۔

شاید استراحت سے پہلے یا مختصر استراحت کے بعد امام نے کھڑے ہو کر دشمن کے لشکر سے یوں خطاب فرمایا:

’’ایها الناس! أِنَّ رَسُولَ اللهِ قَالَ: مَنْ رَأَى سُلْطَاناً جَائِراً مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللهِ نَاكِثاً لِعَهْدِ اللهِ مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ يَعْمَلُ فِي عِبَادِ اللهِ بِالْإِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا فِعْلٍ كَانَ حَقاً عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَه‏ ‘‘ ۔

یعنی جو شخص یہ دیکھے کہ کوئی حکمران معاشرے میں ظلم کرتا ہے، خدا کے حرام کردہ امور کو حلال قرار دیتا ہے، حلال ِخداوندی کو حرام قرار دیتا ہے، حکم الٰہی کو توڑتا ہے اور دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب نہیں دیتا یعنی لوگوں کے درمیان گناہ، دشمنی اور ظلم کا رویہ اپنا تا ہے (اس قسم کے ظالم اور کرپٹ حکمران کا کامل مصداق یزید تھا)

ثُمَّ لَمْ يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ لَا فِعْلٍ

یعنی وہ شخص یہ سب دیکھنے کے باوجود زبان اور عمل کے ذریعے اس حکمران کے خلاف اقدام نہیں کرتا تو:

كَانَ حَقاً عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ مَدْخَلَه‏

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس خاموش رہنے والے، غیر ذمہ دار، لاپروا اور بے عمل شخص کو بھی اسی انجام سے دوچار فرمائےگا جس سے اس ظالم حکمران کو دوچار فرماتا ہے۔ یعنی وہ شخص اس ظالم کے ساتھ ایک ہی صف اور گروہ میں شامل ہوگا۔ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واضح کیا تھا کہ اگر اسلامی معاشرہ اپنے راستے سے ہٹ جائے تو کیا کرنا چاہئے۔ امام حسین نے بھی اسی فرمان رسول سے استدلال کیا ہے۔

پس لوگوں کی ذمہ داری کیا ہے؟

ذمہ داری:

يُغَيِّرْ بِقَوْلٍ وَ فِعْلٍ

ہے یعنی اگر انسان اس قسم کے حالات سے روبرو ہو (اور موقع بھی مناسب ہو) تو واجب ہے کہ وہ اس سسٹم کے خلاف قیام اورعملی اقدام کرے خواہ اس کا جو بھی انجام ہو یعنی قتل ہوجائے یا زندہ رہے نیز بظاہر کامیاب ہو یا نہ ہو۔

ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس قسم کی صورتحال کے خلاف قیام اورعملی اقدام کرے۔

یہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے۔

اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

وَ إِنِّي أَحَقُّ بِهَذَا

میں اس قیام اور اقدام کو انجام دینے کا تمام مسلمانوں سے زیادہ سزوار ہوں کیونکہ میں رسول کا بیٹا ہوں۔ اگر پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ہر مسلمان پر واجب قرار دیا ہے کہ وہ تبدیلی کےلئے عملی اقدام کرے تو واضح ہے کہ حسین بن علی جو فرزند رسول ہے اور پیغمبر کے علم و حکمت کا وارث ہے اس حکم پر عمل کرنے اور عملی اقدام کرنے کا دوسروں سے زیادہ ذمہ دار، پابند اور سزاوار ہے۔

’’میں نے اسی لئے اقدام اور قیام کیا ہے۔‘‘

یوں امام نے اپنے قیام کی علت بیان فرمائی۔

’’منزل عُذَیب‘‘

میں چار افراد امام سے ملحق ہوئے۔ یہاں آپ نے فرمایا:

’’أما و الله إني لأرجو أن يكون خيرا ما أراد الله بنا قتلنا أم ظفرنا‘‘ ۔

یہ اس بات کی دلیل ہے جو ہم نے عرض کی تھی یعنی یہ کہ فتح اور شہادت دونوں یکساں ہیں۔ ذمہ داری اور حکم پر ہر صورت میں عمل ہونا چاہئے خواہ فتح ملے یا شہادت۔

آپ فرماتے ہیں:

مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے بارے میں جو ارادہ کیا ہے اس میں ہماری بھلائی ہے خواہ ہم قتل ہوجائیں یا فتحیاب ہوں۔

ہمارے لیے دونوں یکساں ہیں۔

ہم نے تو اپنی ذمہ داری نبھانی ہے۔

کربلا کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد اپنے پہلے خطبے میں فرمایا:

’’قَدْ نَزَلَ مِنَ الْأَمْرِ مَا قَدْ تَرَوْنَ ۔

اس کے بعد فرمایا:

أَلَا تَرَوْنَ إِلَى الْحَقِّ لَا يُعْمَلُ بِهِ وَ إِلَى الْبَاطِلِ لَا يُتَنَاهَىٰ عَنْهُ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ رَبِّهِ حَقّاً حَقّاً‘‘ ۔

پس امام حسین علیہ السلام نے ایک واجب حکم پر عمل کی خاطر قیام فرمایا تھا۔ اس واجب پر عمل تاریخ کے ہردور کے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

یہ واجب حکم اس بات سے عبارت ہے کہ جب بھی لوگ یہ مشاہدہ کریں کہ اسلام کا معاشرتی نظام بنیادی خرابی سے دوچار ہوچکا ہے اور اس بات کا خطرہ ہے کہ اسلامی احکام مکمل طور پر بدل دیے جائیں گے تو ہر مسلمان پر لازم ہے کہ قیام کرے بشرطیکہ قیام کےلئے حالات سازگار ہوں یعنی اسے پتہ ہو کہ یہ قیام موثر ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ قیام کی شرائط میں زندہ بچنا، قتل نہ ہونا، تکلیف نہ پہنچنا و غیرہ شامل نہیں ہیں۔

یہ قیام کی شرائط کا حصہ نہیں ہیں۔

اسی لئے امام حسین علیہ السلام نے قیام فرمایا اور اس واجب پر عمل کیا تا کہ سب کےلئے درس عمل قرار پائے۔

( ۱۹/۲/۱۳۷۴)۔

امام حسین(علیہ السلام) نے وہ کارنامہ انجام دیا جس کے باعث لوگوں کا ضمیر بیدار ہوگیا۔ اسی لئے آپ دیکھتے ہیں کہ شہادت حسینی کے بعد اسلامی تحریکوں اور مسلمانوں کے قیام کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ یکے بعد دیگرے لوگ قیام کرتے رہے البتہ ان کی سرکوبی ہوتی رہی۔

دشمن کی جانب سے کسی تحریک کی سرکوبی اگرچہ تلخ ہے لیکن اتنا اہم نہیں۔ اس سرکوبی سے تلخ تر یہ ہے کہ ایک معاشرہ اتنا سقوط کرے کہ دشمن کے مقابلے میں ردّعمل دکھانے کے بھی قابل نہ رہے۔ بڑا اور اصل خطرہ یہ ہے۔

حسین بن علی علیہ السلام نے وہ کام کیا جس کی بدولت تمام طاغوتی حکومتوں کے دوران ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جو ظالم اور فاسد حکمرانوں کے مقابلے میں ڈٹ جانے کے حوالے سے امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے دور کے لوگوں سے بھی زیادہ مضبوط عزم و ارادے کے مالک ثابت ہوئے حالانکہ یہ لوگ صدرِ اسلام کے دَور سے زیادہ دُور تھے اور حکمرانوں نے ان سب کی سرکوبی کی۔

اہل مدینہ کا قیام جو واقعہ حرّہ کے نام سے معروف ہے نقطہ آغاز تھا۔

اس کے بعد دیگر لوگوں نے مسلسل قیام کیا جن میں توابین کا قیام، مختار کا قیام و غیرہ شامل ہیں۔

پھر بنی امیہ اور بنی عباس کے ادوار ِحکومت میں مختلف اقوام کے درمیان بغاوت اور قیام کا سلسلہ بدستور قائم رہا۔

قیام اور بغاوت کے ان سلسلوں کا بانی کون تھا؟

وہ حسین بن علی علیہما السلام تھے۔

اگر امام حسین قیام نہ کرتے تو کیا سستی ، کاہلی اور احساس ذمہ داری سے گریز کی عادت ظلم ستیزی اور احساس ذمہ داری کے جذبے میں بدل جاتی؟

ہم کس لئے کہتے ہیں کہ ذمہ داری قبول کرنے کا جذبہ مرچکا تھا؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے مکہ کی جانب سفر کیا تو اس وقت مدینہ اسلام کی بزرگ شخصیات کی اولاد کا مسکن تھا۔

عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن زبیر، عبد اللہ بن عمر اور صدر اسلام کے خلفا کے بیٹے سبھی مدینہ میں جمع تھے لیکن کوئی حاضر نہیں ہوا کہ اس خونین اور تاریخی قیام میں امام حسین کی مدد کرے۔

پس قیام امام حسین کے آغاز سے پہلے خواص بھی کسی قسم کا اقدام کرنے کےلئے حاضر نہ تھے۔ لیکن قیام امام حسین کے بعد قیام کا جذبہ بیدار ہوگیا۔

یہ وہ عظیم درس ہے جسے واقعۂ کربلا سے حاصل ہونے والے دیگر اسباق کے ہمراہ دیکھنا چاہئے۔

یہ ہے اس واقعے کی عظمت۔

فرمایا گیا ہے:

الْمَوْعُودِ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ اسْتِهْلَالِهِ وَ وِلَادَتِه‏

(آپ کی ولادت سے پہلے ہی آپ کی شہادت کی خبر دی گئی تھی)

بَكَتْهُ السَّمَاءُ وَ مَنْ فِيهَا وَ الْأَرْضُ وَ مَنْ عَلَيْهَا

(آسمان اور اس میں رہنے والوں نیز زمین اور زمین پر رہنے والوں نے آپ پر گریہ کیا) یعنی ان سب نے اس عظیم مصیبت پر حسین پر نوحہ سرائی اور آپ کی عزاداری کی۔

اس دعا یا زیارت کے مطابق سب نے آپ پر گریہ کیا۔

ان سب کی وجہ یہی تھی۔

اسی لئے آج آپ حسین بن علی کی بدولت اسلام کو زندہ و پائندہ دیکھتے ہیں اور آپ حسین کو اسلام کے محافظ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

( ۶/۱۱/۱۳۷۱ھ ش )۔

=====٭٭٭٭٭=====

۸۸

ساتویں فصل " زینب ِ کبریٰ"

سفیرانِ کربلا اور انقلابی کارنامہ

زینب کبریٰ علیہا السلام ایک عظیم خاتون ہیں۔ اسلامی اقوام کی نگاہوں میں اس عظیم خاتون کی جو عظمت ہے اس کا راز کیا ہے؟

کیا اس عظمت کا راز یہ ہے کہ آپ علی ابن ابی طالب(علیہ السلام) کی بیٹی ہیں یا حسن بن علی اورحسین بن علی علیہما السلام کی بہن ہیں؟ نہیں۔صرف نسبتیں اس طرح کی عظمت کو وجود میں نہیں لاسکتیں۔ ہمارے جملہ ائمہ علیہم السلام کی بیٹیاں ، مائیں اور بہنیں تھیں لیکن زینب کبریٰ علیہا السلام جیسی اور کون ہے؟زینب کبریٰ کی عظمت و منزلت کا راز حکم خداوندی پر مبنی آپ کے عظیم انسانی و اسلامی موقف اور جد و جہد سے عبارت ہے۔ آپ کا کام، آپ کے فیصلے اور آپ کی جد وجہد کی خاص کیفیت نے آپ کو یہ عظمت بخشی ہے۔ جو کوئی اس قسم کا کام کرے اسے یہ عظمت مل جاتی ہے اگرچہ وہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی نہ ہو۔آپ کی عظمت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اولاً آپ حالات کی حقیقت کو خوب سمجھتی تھیں۔ کربلا کی جانب امام حسین علیہ السلام کی روانگی سے قبل کی صورتحال، روز عاشورا کے بحرانی لمحوں کی حساس صورتحال اور امام حسین کی شہادت کے بعد والے مرگبار حوادث کی حقیقت سے آپ بخوبی آگاہ تھیں۔ ثانیاً آپ نے ہر صورتحال کے مطابق ایک خاص طرزِ عمل کا انتخاب کیا۔ اس انتخاب نے زینب کو زینب بنادیا۔کربلا کی جانب حرکت سے پہلےجناب عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن جعفر جیسے بزرگان اور صدرِ اسلام کی نامور شخصیات چکراکر رہ گئے اور ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کیا جائے حالانکہ انہیں فقاہت، شہامت، قیادت اور بزرگوں کی اولاد ہونے وغیرہ کا دعویٰ تھا لیکن زینب کبریٰ نہیں چکرائیں۔ آپ کو اپنے موقف اور راستے کا علم اور یقین حاصل تھا۔ آپ نے سمجھ لیا تھا کہ اپنے امام کے ساتھ چلنا چاہئے اور اسے تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ چنانچہ آپ حق کے راستے پر امام کے ساتھ چل نکلیں۔ ایسا نہیں تھا کہ آپ کو اس راہ کی سختیوں کی خبر نہ ہو۔ آپ دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں۔ آپ ایک ایسی خاتون تھیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کےلئے اپنے شوہر اور گھرانے سے جدا ہورہی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت آپ اپنے کمسن بچوں اور نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ لےگئیں۔ آپ کو اندازہ تھا کہ کس قسم کا حادثہ رونما ہونے والا ہے۔ ان بحرانی اوضاع میں جب مضبوط ترین لوگ بھی ہوش و حواس کھو دیتے ہیں اور نہیں سمجھ پاتے کہ کیا کرنا چاہئے اس وقت آپ سب کچھ سمجھ گئیں اور اپنے امام کی مددگار بن گئیں۔ آپ نے شہادت کی تیاری میں امام کا ساتھ دیا۔ حسین بن علی کی شہادت کے بعد جب دنیا تاریک ہوگئی نیز قلوب و اذہان اور آفاقِ عالم تاریک ہوگئے تو اس وقت یہ خاتون ایک نور بن کر چمکنے لگیں۔ زینب بنت علی علیہ السلام اس جگہ پہنچ گئیں جہاں تاریخ بشریت کے صرف والاترین افراد (یعنی انبیاء) ہی پہنچ سکتے ہیں۔ ( ۲۲/۸/۱۳۷۰ ھ ش )۔

۸۹

واقعہ کربلا زینب علیہا السلام کے بغیر کامل نہیں ہوتا۔ زینب کے بغیر سانحہ عاشورا ایک لافانی واقعہ اور تاریخ نہ ہوتا۔ اس واقعے کی ابتدا سے لےکر آخر تک بنت علی کی شخصیت اس قدر واضح اور آشکار ہے کہ انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ آپ ایک عورت کے لباس میں اور علی کی بیٹی کی شکل میں ایک اور حُسین ہیں۔

اگر زینب علیہا السلام نہ ہوتیں تو عاشورا کے بعد کیا ہوتا؟

شاید امام سجاد علیہ السلام بھی قتل ہوجاتے اور شاید حسین علیہ السلام کا پیغام کہیں نہ پہنچتا۔ حسین بن علی علیہ السلام کی شہادت سے پہلے بھی زینب کبریٰ علیہاالسلام ایک مخلص غمخوار کی طرح جس کی موجودگی میں حسین کو تنہائی کا احساس نہیں ہوتا تھا حسین کی خدمت کرنے سے نہیں تھکتی تھیں۔ انسان زینب کبریٰ علیہا السلام کے نظریاتی چہرے ، آپ کے کلمات اور آپ کی حرکات و سکنات میں اس عظیم نقش اور کردار کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔

حضرت زینب کبریٰ علیہا السلام دوبار مضطرب ہوئیں اور آپ نے امام حسین علیہ السلام سے اس اضطراب کا ذکر کیا۔ ایک بار اس وقت جب امام ایک منزل پر پہنچے۔ جناب مسلم کی شہادت کی خبر کے بعد امام علیہ السلام کو مختلف غمناک خبریں ملتی رہیں۔حضرت زینب علیہا السلام بھی آخر ایک عورت کا دل رکھتی تھیں۔ پر جوش اور لطیف زنانہ عواطف سے لبریز دل اوراحساسات وجذبات کے چشمۂ جوشان کا مظہر بھی آخر یہی اہل بیت رسول ہی تو ہیں۔ اپنی صلابت، طاقت، شجاعت اور مشکلات و مصائب کے مقابلے میں استقامت کے باوجود لطافتِ انسانی کے صاف وشفاف چشمۂ جوشان اور انسانی جذبۂ ترحم کا مظہر بھی یہی خاندان ہے۔ یہاں میں حسین بن علی(علیہ السلام) کی مثال دینا چاہوں گا۔ امام علیہ السلام کے سامنے مخالفین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ بھوکے بھیڑیوں سے صحرا بھر ا پڑا تھالیکن آپ نے اکیلے ہی ان کا مقابلہ کیا اور آپ کے بدن پر کوئی لرزش طاری نہیں ہوئی۔ لیکن یہی امام بعض چھوٹی چھوٹی باتوں سے اس قدر منقلب ہوجاتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔

بطورمثال جب وہ سیاہ حبشی غلام زمین (کربلا) پر گرگیا تو امام اس غلام کے سرہانے تشریف لائے۔یہ ایک کالا غلام تھا جو آپ کا مخلص محبّ تھا۔ یہ شاید ابوذر کا غلام جون تھا جو اس وقت کے اجتماعی ماحول اور ثقافت کے لحاظ سے مسلمانوں کے درمیان کوئی بلند وبالا اور باعزت معاشرتی مقام نہیں رکھتا تھا۔ اس سیاہ غلام کا کوئی نہیں تھا، نہ کوئی اولاد اور نہ کوئی گھرانہ جو اس کا انتظار کرتے اور اس پر روتے لیکن جب وہ قتل ہوجاتا ہے تو حسین بن علی اس کے پاس اس طرح آئے جس طرح آپ علی اکبر کے پاس گئے تھے۔ آپ اس کے سرہانے بیٹھ گئے۔آپ نے غلام کے خون آلود سر کو اپنے زانو پر رکھا لیکن آپ کے دل کو تسلی نہیں ہوئی۔ پھر سب نے دیکھا کہ آپ نے اپنا چہرہ اس سیاہ غلام کے چہرے پر رکھا۔

(حالانکہ کربلا میں اور لوگ بھی شہید ہوئے تھے جن میں کوفہ کے روساء، بزرگان اور معروف لوگ مثلاً جناب حبیب ابن مظاہراور زہیر بن قین و غیرہ شامل تھے۔

کوفہ کی یہ نامی گرامی شخصیات آپ کی رکاب میں شہید ہوکر گرے لیکن امام نے ان کےلئے وہ کام نہیں کیا جو اس غلام کےلئے کیا۔ آپ نے مسلم بن عوسجہ سے خطاب کیا: انشاء اللہ خدا تمہیں اجر دےگا۔)

یہ تھا انسانی عطوفت کا چشمۂ جوشان جو ابل پڑا۔ زینب بنت علی علیہما السلام بھی پرجوش انسانی عواطف و احساسات کی حامل خاتون تھیں۔ پھر آپ ایک معمولی انسان نہ تھیں بلکہ حسین علیہ السلام کی بہن تھیں جو اپنے بھائی کو دیوانہ وار چاہتی تھیں۔ آپ اپنے شوہر اور گھر بار کو چھوڑ کر امام حسین کے ساتھ آئی تھیں۔ نہ صرف خود آئی تھیں بلکہ اپنے بیٹوں عون و محمد کو بھی ساتھ لائی تھیں۔ میں یہ احتمال دیتا ہوں کہ شاید عبد اللہ بن جعفر اپنے بیٹوں کے جانے سے خوش نہ تھے۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ اس سے خوش تھے۔ لیکن زینب علیہا السلام انہیں ساتھ لائیں تاکہ اگر راہ خدا میں جانبازی کی ضرورت پڑے تو وہ بھی شہادت کا نذرانہ پیش کریں۔

خلاصہ یہ کہ راستے میں ایک جگہ حضرت زینب علیہا السلام کو محسوس ہوا کہ خطرناک مرحلہ درپیش ہے۔ اس لئے آپ نے امام کی خدمت میں جاکر عرض کی : بھائی ! مجھے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ میں صورتحال کو خطرناک دیکھتی ہوں۔

آپ کو علم تھا کہ شہادت اور اسارت کا خطرہ درپیش ہے۔ پرہیجان حوادث نے آپ کے اوپر اتنا اثر ڈالا کہ آپ نے امام کی طرف رجوع کیا۔یہاں امام نے حضرت زینب سے زیادہ گفتگو نہیں فرمائی۔ آپ نے کہا: کوئی بات نہیں جو خدا چاہے گا وہی ہوگا۔ آپ کے فرمان کا مضمون قریباً یوں تھا:ماشاء اللہ کان جو خدا چاہے وہی ہوگا۔

اس کے بعد کیا زینب کبریٰ علیہا السلام نے امام حسین علیہ السلام سے کچھ کہا یا کوئی سوال کیا یا نہیں نیز آپ نے روحانی دباؤ کا شکار ہوکر امام سے کچھ عرض کیا یا نہیں؟

اس بارے میں تاریخ خاموش ہے سوائے شب عاشور کے۔ شب عاشور بھی حضرت زینب شدت غم سے بےتاب ہوئی تھیں۔

امام سجاد علیہ السلام (جو اس وقت بیمار تھے) سے مروی ہے: میں خیمے میں سویا ہوا تھا، میری پھوپھی زینب بھی میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اورمیری تیمار داری کررہی تھیں۔ ساتھ والے خیمے میں میرے بابا حضرت ابی عبد اللہ بیٹھے ہوئے تھے اور جون (ابوذر کا غلام) امام کی تلوار سنوار رہا تھا۔ وہ اس جنگ کےلئے تیار ہو رہے تھے جو کل ہونے والی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ میرے بابا بعض اشعار کا زمزمہ فرما رہے ہیں۔ ان اشعار کا مفہوم کچھ یوں تھا: ’’دنیا روگردان ہوچکی ہے اور انسان کی عمر اس کے ساتھ وفا نہیں کرےگی اور موت نزدیک ہے۔

يَا دَهْرُ أُفٍّ لَكَ مِنْ خَلِيلٍ كَمْ لَكَ فِي الْإِشْرَاقِ وَ الْأَصِيلِ

یہ اشعار اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ جو شخص ان اشعار کو پڑھ رہا ہے اسے مستقبل قریب میں اپنی موت کا انتظار ہے۔

۹۰

امام سجادفرماتے ہیں: میں نے یہ شعر سنا اور اس شعر کا مطلب سمجھ لیا کہ امام اپنی موت کی خبر دے رہے ہیں لیکن میں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔ ناگہان میں نے دیکھا کہ میری پھوپھی زینب سخت مضطرب ہوئیں۔

آپ اٹھ کر اپنے بھائی کے خیمے میں گئیں اور بولیں: اے بھائی! آپ اپنی موت کی خبر دے رہے ہیں!

اب تک آپ ہمارے لئے سکون قلب کا باعث تھے۔ جب ہمارے بابا دنیا سےگئے تو ہم نے کہا:

ہمارے بھائی زندہ ہیں۔ جب میرا بھائی امام حسن شہید ہوگئے تو میں نے کہا:

میرا بھائی امام حسین موجود ہے۔ سالہا سال آپ میرے دل کا چین بنے رہے۔ میں آپ کے بھروسے زندہ رہی۔ پر آج میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ بھی اپنی موت کی خبر دے رہے ہیں۔

زینب کبریٰ علیہا السلام کی پریشانی برحق تھی۔ میرا خیال ہے کہ اس دن زینب کبریٰ جس حالت سے دوچار تھی وہ ایک استثنائی صورتحال تھی۔

دنیا کی کسی عورت کی حالت کا موازنہ حضرت زینب علیہا السلام کی حالت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا، یہاں تک کہ امام سجاد علیہ السلام کی حالت کا بھی۔ حضرت زینب علیہا السلام جس صورتحال سے روبرو تھی وہ بہت سنگین اور کمر شکن تھی۔ عاشور کے دن سارے مرد شہید ہوگئے۔ عصر عاشور تمام خیموں میں ایک بھی مرد موجود نہ تھا سوائے امام سجادکے اور آپ بھی مریض تھے۔ آپ زمین پر پڑے اور شاید بےہوش تھے۔

آپ ذرا سوچئے کہ حسینی خیمہ گاہ اور لشکر گاہ میں عورتوں اورنونہالوں پر مشتمل افراد جو بےشمار دشمنوں کے درمیان محصور تھے کس قدر مشکلات میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان میں بعض بھوکے ہیں اوربعض پیاسے ہیں بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ سبھی پیاسے بھی تھے اور بھوکے بھی۔ سب کے دلوں پر خوف اور لرزہ طاری ہے۔ شہدا کے بدن ٹکڑے ٹکڑے ہوکر زمین پر پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ ان کے بھائی ہیں تو کچھ اولاد ہیں۔

بہرحال ایک تلخ اور وحشتناک سانحہ ہے۔ اب ایک ایسے فرد کی ضرورت تھی جو ان سب کو جمع کرے۔

وہ ایک فرد زینب علیہا السلام تھیں۔ زینب کبریٰ نہ صرف یہ کہ اپنے بھائی، دوبیٹوں، ددسرے بھائیوں، اتنے سارے عزیزوں، بنی ہاشم کے اٹھارہ جوانوں اور وفادار اصحاب سے محروم ہونے کی مصیبت سے دوچار ہوئیں بلکہ اس بار گراں کے علاوہ اتنے سارے دشمنوں کے درمیان قافلہ حسینی کے شکست خوردہ، پراکندہ اور بکھرے ہوئے افراد کے انتظام و انصرام، ان کی حفاظت اور رہنمائی کی سنگین ذمہ داری بھی آپ کے کندھوں پر آگئی یہاں تک کہ امام سجاد کو سنبھالنے کی ذمہ داری بھی آپ کے حصے میں آئی۔ اسی لئے سانحہ عاشورا کے بعد سے لےکر کربلا سے حرکت کے وقت تک زینب پر جو گزری اسے خدا ہی جانتا ہے۔ اس دوران یہ واضح ہوچکا تھا کہ دشمن ان کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے ہیں۔ ان چند گھنٹوں میں ایک تاریک ، سنگین اور سخت رات بھی شامل تھی۔ اس دوران زینب کبریٰ مسلسل حرکت اور دوڑ دھوپ میں مصروف رہیں۔

کبھی اس بچے کے پاس، کبھی اس خاتون کے پاس، کبھی اس مصیبت زدہ ماں کے پاس، کبھی اس بہن کے پاس جس کا بھائی مرگیا ہے اور کبھی اس نونہال بچے کے پاس مسلسل آتی جاتی رہیں۔ آپ انہیں جمع کرتی اور تسلی دیتی تھیں لیکن جب زینب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا تو آپ اپنے شہید بھائی کا رخ کرتی تھیں۔ زینب کی واحد پناہگاہ حسین تھے۔

مروی ہے کہ جناب زینب علیہا السلام اپنے بھائی کی لاش کے پاس آئیں جس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکے تھے اور کھڑی ہوکر دل کی گہرائی سے فریاد کرنے لگیں:

يَا مُحَمَّدَاهْ صَلَّى عَلَيْكَ مَلَائِكَةُ السَّمَاءِ،

اے ہمارے نانا! آپ پر آسمان کے فرشتوں کا درود و سلام ہو!

هَذَا الْحُسَيْنُ مُرَمَّلٌ بِالدِّمَاء

یہ آپ کا حسین ہے جو خاک و خون میں لت پت ہے۔

این کشتۂ فتادہ بہامون حسین توست۔

(۲۰/۷/۱۳۶۳)۔

۹۱

معروف ہے کہ سانحہ عاشورا میں خون تلوار پر غالب آگیا (جو ایک حقیقت ہے)۔ اس فتح کا سہرا حضرت زینب علیہا السلام کے سر جاتا ہے و گرنہ کربلا میں خون کا خاتمہ ہوگیا۔ عاشورا کے دن عسکری جنگ لشکر حق کی ظاہری شکست پر منتج ہوئی لیکن جس چیز نےاس ظاہری عسکری شکست کو ایک لا زوال اور دائمی فتح میں تبدیل کردیا وہ زینب کبریٰ علیہا السلام کی باطنی عظمت اور آپ کے اس کردار سے عبارت ہے جو آپ نے ادا کیا۔ یہ ایک نہایت اہم موضوع ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ تاریخ میں عورت کا کردار فرعی اور ضمنی نہیں بلکہ عورت نے اہم تاریخی حوادث میں اصلی اور بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ قرآن نے بھی متعدد مقامات پر اس کا ذکر کیا ہے لیکن یہ ماضی قریب کی تاریخ سے مربوط ہے۔ اس کا تعلق گزشتہ امتوں سے نہیں۔

سانحۂ کربلا ایک زندہ اور ملموس حقیقت ہے جس کے اندر انسان حضرت زینب کبریٰ کو دیکھتا ہے کہ آپ کس طرح ایک درخشاں اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی عظمت اور درخشندگی کے ساتھ میدان عمل میں اترتی ہیں اور وہ کارنامہ انجام دیتی ہیں جس کے باعث دشمن اپنے شاہی محل کے اندر ذلیل و خوار ہوجاتا ہے حالانکہ دشمن عسکری جنگ میں ظاہری فتح حاصل کرچکا ہے، اپنے مخالفین کا قلع قمع کرچکا ہے اور فتح و کامرانی کے تخت پر براجمان ہے۔ حضرت زینب علیہا السلام نے دشمن کی پیشانی پر ابدی ننگ و عار کا مہر لگادیا اور اس کی فتح کو شکست میں تبدیل کردیا۔ یہ زینب کبریٰ کا کارنامہ ہے۔ زینب سلام اللہ علیہا نے ثابت کیا کہ ایک عظیم جہاد کے ذریعے زنانہ عفت اور حجاب کو ایک مجاہدانہ عزت و توقیر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

آج زینب کبریٰ کے جو فرمودات باقی اور ہماری دسترس میں ہیں ان سے آپ علیہا السلام کی جد وجہد کی عظمت ثابت ہوتی ہے۔ بازار کوفہ میں زینب کبریٰ کا ناقابل فراموش خطبہ کوئی عام گفتگو نہیں ہے۔ کسی بڑی شخصیت کا عام اظہار نظر نہیں ہے بلکہ یہ اس دور کے اسلامی معاشرے کی صورتحال کا ایک زبردست تجزیہ ہے جو ان خطرناک حالات میں خوبصورت ترین الفاظ میں نیز عمیق ترین اور غنی ترین مفاہیم کی شکل میں جلوہ گر ہوا ہے۔ ملاحظہ کیجئے کہ حضرت زینب کی شخصیت کس قدر قوی ہے۔ دو دن قبل آپ کے بھائی ، آپ کے امام اور آپ کے رہبر کو دشمنوں نے بہت سے عزیزوں ، جوانوں اور اولاد و غیرہ کے ساتھ ایک بیابان میں قتل کردیا ہے نیز ان مٹھی بھر عورتوں اور بچوں کو اسیر بناکر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اُسراء اونٹوں پر سوار ہیں اور لوگ ان کا تماشا کرنے کےلئے آئے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ شور و غل کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ رو رہے ہیں۔

اس بحرانی حالت میں اچانک یہ آفتابِ عظمت طلوع ہوتا ہے۔ آپ وہی لب و لہجہ استعمال کرتی ہیں جو آپ کے بابا امیرالمؤمنین علیہ السلام اپنی امت کے سامنے منبر ِخلافت پر بیٹھ کر استعمال کیا کرتے تھے۔ وہی اندازِ بیان، اسی طر ح کے الفاظ، وہی فصاحت و بلاغت نیز جملوں اور معانی کی وہی بلندی۔

۹۲

فرماتی ہیں:

يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ!يَا أَهْلَ الْخَتلِ وَ الْغَدْرِ!

اے دھوکہ بازو!

اے فریب دینے والو! شاید تم لوگوں نے باور کرلیا کہ تم اسلام اور اہل بیت کے پیروکار ہو لیکن امتحان کے وقت یوں ناکام ہوگئے ہو۔ تم نے فتنہ و آزمائش میں یوں اندھے پن کا ثبوت دیا ہے۔

’’هَلْ فِيكُمْ إِلَّا الصَّلفُ وَ النَّطفُ وَ مَلقُ الْإِمَاءِ وَ غَمْزُ الْأَعْدَاء‘‘

تمہارا کردار، تمہاری زبان اور تمہارے دل یکساں نہیں۔ تمہیں اپنے بارے میں دھوکہ ہوا ہے۔تم نے خیال کیا کہ تم ایماندار ہو، اب بھی انقلابی اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے پیروکار ہو جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تم فتنہ و آزمائش کا مقابلہ نہیں کرسکے۔ تم اپنے آپ کو نجات نہ دے سکے۔

مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ الَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَها مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكاثاً،

تم اس عورت کی طرح بن گئے ہو جو اون کات کر دھاگا بناتی ہے، پھر ان دھاگوں کو دوبارہ کھول کر اسی اون یا کپاس میں تبدیل کرتی ہے جسے اس نے ابھی کا تا تھا؟

تم نے اپنی بےبصیرتی ، ماحول سے ناآشنائی اور حق و باطل کی تشخیص میں ناکامی کے باعث اپنے سابقہ اعمال کو باطل اور تباہ کردیا ہے۔ بظاہر مومن بنتے ہو، زبان سے انقلابی ہونے کے دعوے کرتے ہو لیکن تمہارا باطن کھوکھلا اور باد مخالف کے مقابلے میں استقامت سے عاری ہے۔

یہ ہے زینب کبریٰ کا تجزیہ وتحلیل اور آپ کی آفت شناسی۔ آپ نے اس مضبوط انداز بیان اور ان رسا الفاظ کے ذریعے یوں گفتگو فرمائی اور وہ بھی ان سنگین حالات میں۔ ایسا نہ تھا کہ حضرت زینب کے سامنے کچھ سامعین بیٹھے ہوں ، کان لگاکر سن رہے ہوں اور آپ ایک خطیب کی طرح سکون سے خطبہ دے رہی ہوں۔ نہیں، یہاں تو دشمنوں اور ان کے نیزہ داروں کا نرغہ تھا۔ کچھ مختلف الحال لوگ بھی جمع تھے۔

یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے مسلم کو ابن زیاد کے حوالے کیا تھا۔ یہ وہی تھے جنہوں نے امام حسین کو خط لکھ کر بلانے کے بعد بدعہدی کی تھی۔

یہی لوگ تھے جواس دن اپنے گھروں میں چھپ گئے تھے جس دن انہیں ابن زیاد کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا۔

بازار کوفہ میں یہی لوگ جمع تھے۔ کچھ لوگ وہ تھے جنہوں نے کمزوری دکھائی تھی لیکن اب امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی کو دیکھ کر رو رہے تھے۔

حضرت زینب اس قسم کے ناقابل اعتبار اور مختلف الحال لوگوں سے مخاطب تھیں لیکن نہایت محکم انداز میں گفتگو فرمارہی تھیں۔

آپ تاریخ کی یگانۂ روزگار خاتون ہیں۔

یہ خاتون اب کمزور نہیں ہے۔ عورت کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔

مومنہ عورت کا باطن دشوار حالات میں اس طرح اپنی شخصیت کا اظہار کرتا ہے۔

حضرت زینب وہ ہیں جو دوسروں کےلئے نمونہ عمل ہیں۔

آپ دنیا کے تمام عظیم مردوں اور عالم کی تمام باعظمت خواتین کےلئے نمونہ ہیں۔

آپ انقلاب ِنبوی اور انقلابِ علوی کو لاحق ہونے والی آفتوں کا تجزیہ فرمارہی ہیں۔

فرماتی ہیں: تم لوگوں نے مقام آزمائش میں حق کو نہیں پہچانا اور اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا جس کے نتیجے میں جگر گوشۂ رسول کا سر نیزے کی نوک پر چڑھ گیا۔یہاں حضرت زینب علیہا السلام کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

( ۸/۲/۱۳۸۹ھ ش)۔

۹۳

اسارت کے باوجود امام سجاد کی جد وجہد:

واقعہ کربلا کے بعد مکتب امامت کے ماننے والوں اور شیعوں کی حالت عجیب تھی۔ اموی گماشتوں اور نمک خواروں کی وحشیانہ کاروائیوں نیز کربلا، کوفہ اور شام میں خاندان رسول کے ساتھ ہونے والے مظالم نے مکتب امامت کے تمام چاہنے والوں کو مرعوب اور خوفزدہ کردیا۔ آپ جانتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے خاص اصحاب سانحہ عاشورا میں یا توابین کے واقعے میں شہید ہوگئے۔ ادھر جو لوگ باقی رہ گئے ان میں اس قدر جرأت اور شجاعت نہیں تھی کہ وہ یزید اور اس کے بعد مروان کی ظالم حکومت کے مقابلے میں حرفِ حق زبان پر لائیں۔

مومنوں کی ایک ایسی جماعت رہ گئی تھی جو پراکندہ تھے، بے نظمی کے شکار تھے، خوفزدہ ومرعوب تھے اور در حقیقت امامت کے راستے سے عملی طور پر منصرف ہوچکے تھے۔ شیعہ جماعت کی یہ وہ باقی ماندہ میراث تھی جو امام سجاد علیہ السلام کے حصے میں آئی۔ بے تحاشا دہشت اور گھٹن کی فضا تھی اور مددگار قوتیں بہت کمزور تھیں۔ اس کے باوجود اصلی، نظریاتی اور حقیقی اسلام کو بچانے کےلئے ضروری تھا کہ امام سجاد علیہ السلام جد و جہد کرتے، بکھرے ہوئے لوگوں کو جمع فرماتے اور انہیں حکومت ِ علوی یعنی حقیقی اسلامی حکومت کے نزدیک کرتے۔ امام سجاد(علیہ السلام) ان نامساعد حالات میں ۳۴ سال تک مصروف عمل رہے۔ میں یہاں امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کے صرف چند ممتاز پہلوؤں کی طرف اشارہ کروں گا۔

امام چہارم کی زندگی کا سب سے پہلا اور افتخار آفرین پہلو آپ کی اسارت کا پہلو ہے۔ یاد رہے کہ امام چہارم دوبار اسیر ہوئے تھے اور دونوں بار غل و زنجیر میں جھکڑ کر شام لےجائے گئے تھے۔ پہلی دفعہ کربلا سے اسیر کئے گئے جبکہ دوسری دفعہ عبد الملک بن مروان کے دور میں مدینہ سے۔ امام سجاد علیہ السلام جب پہلی بار کربلا سے حسینی قافلے کے اسیروں کے ساتھ شام لےجائے گئے تو کردار و گفتار سے آپ اسلام اور قرآن کا مجسمہ نظر آتے تھے۔ جب شہدا ء خاک و خون میں غلطان ہوئے تو اس وقت سے علی ابن حسین علیہ السلام کی شجاعت آفرین جدوجہد کا آغاز ہوا۔

چھوٹی چھوٹی بچیوں، کمسن بچوں اور بےسہارا عورتوں نے امام سجادکو گھیر رکھا تھا۔

اس کارواں میں کوئی اور مرد موجود نہ تھا۔

ان حالات میں امام سجاد نے ان سب کی قیادت کی، انہیں جمع کیا اور شام تک کے طویل راستے میں اس قافلے کے افراد کو جو ایک دوسرے کے ساتھ ایمانی رشتے میں منسلک تھے شک اور تزلزل سے دوچار ہونے نہیں دیا۔

یہ قافلہ پہلے کوفہ پہنچا۔

عبیداللہ بن زیاد نے حکم دے رکھا تھا کہ اس گھرانے کے سارے مردوں کو قتل کیا جائے۔

اس نے دیکھا کہ اسیروں کے قافلے میں ایک مرد موجود ہے۔

اس نے پوچھا: تو کون ہے؟

فرمایا: میں حسین کا بیٹا علی ہوں۔ ابن زیاد نے آپ کو قتل کی دھمکی دی۔ یہاں پہلی بار امامت ، معنویت اور قیادت کا جلوہ آشکار ہوا۔ فرمایا:

أَبِالْقَتْلِ تُهَدِّدُنِي؟

کیا تو مجھے قتل کی دھمکی دیتا ہے؟ شہادت ہمارے لئے باعث افتخار ہے۔ ہم قتل ہونے کو باعث فخر سمجھتے ہیں اور موت سے نہیں ڈرتے۔

اس استقامت کے مقابلے میں عبید اللہ بن زیاد کی حکومت نے پسپائی اختیار کرلی۔

شام میں یزید نے امام سجاد علیہ السلام اور تمام اسیروں کو ناگفتہ بہ اور ابتر حالت میں کافی دنوں تک قید رکھا۔ ایک مکمل اسارت بار حالت تھی۔

پھر یزید نے ارادہ کیا کہ امام سجاد کو اپنے ساتھ مسجد لےجائے اور لوگوں کے سامنے ذہنی و نفسیاتی لحاظ سے امام کو کمزور بنائے اور ایسا کام کرے کہ اس کے مخالفین اور امام سجادکے حامی جو ہرجگہ موجود تھے اپنی تبلیغات کے ذریعے اس کی حکومت پر کوئی منفی اثر نہ ڈالیں۔

امام سجاد علیہ السلام نے اس مجلس میں یزید کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اگر تم مجھے اجازت دو تو میں بھی ان لکڑیوں (منبر) پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کروں گا۔

یزید کا خیال تھا کہ چونکہ رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا یہ جوان فرزند اسیر ہے، بیمار ہے اور اصولی طور پر اس مدت میں اسے نفسیاتی نقطۂ نظر سے کافی کمزور پڑنا چاہئے لہذا آپ اس کےلئے کوئی خطرہ محسوب نہیں ہوں گے۔ اس نے امام کو اجازت دی۔

امام سجاد علیہ السلام منبر پر رونق افروز ہوئے۔ آپ نے اموی حکومت کے مرکز میں فلسفۂ امامت، واقعہ شہادت اور اموی حکومت کے طاغوتی چہرے کو برملا کیا۔

آپ نے وہ کام کیا جس کے باعث شام کے لوگ بپھر گئے۔

امام سجاد(علیہ السلام) وہ عظیم شخصیت ہیں جو شام کے فریب خوردہ لوگوں کی عظیم جمعیت کے سامنے، اموی حکومت کے اندر، یزید کے گماشتوں کی موجودگی میں کسی ڈر اور خوف کے بغیر حق کی بات کرتے ہیں اور حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ آپ کے سامنے دنیوی زندگی کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں تھی۔

( ۱۴/۹/۱۳۵۹ھ ش)۔

۹۴

امام سجاد علیہ السلام نے اسارت اور بیماری کی حالت میں دنیا کی عظیم تاریخ ساز شخصیات کی طرح اپنے کردار و گفتار کے ذریعے اس مرحلے میں شجاعت و مردانگی کی داستانیں رقم کیں۔

اس مرحلے میں آپ کی حالت اُس حالت سے مکمل طور پر مختلف نظر آتی ہے جو آپ کی عام زندگی کے دوران نظر آتی ہے۔

عام زندگی کے دوران آپ کی توجہ ملائم، نپے تلے، بنیادی اور خاموش کاموں پر مرکوز تھی۔ اس حکمت عملی کے پیش نظر گاہے آپ عبد الملک بن مروان کے ساتھ بھی ایک محفل میں بیٹھتے تھے اور اس کے ساتھ عام سا نرم رویہ رکھتے تھے جبکہ اس اسیری کے دوران امام ایک پرجوش انقلابی کی شکل میں نظر آتے ہیں جو معمولی بات کو بھی برداشت نہیں کرتے اور سب کی نگاہوں کے سامنے اپنے مقتدر دشمنوں کو دندان شکن جوابات دیتے ہیں۔

کوفہ میں آپ(علیہ السلام) نے عبید اللہ بن زیاد جیسے وحشی اور خونخوار حاکم (جس کی تلوار سے خون ٹپک رہا تھا اور جو فرزند رسول کو قتل کرنے کی خوشی میں بدمست اور فتح کے نشے سے چور تھا) کے سامنے اس انداز میں گفتگو کی کہ ابن زیاد نے آپ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اگر حضرت زینب علیہا السلام کا برمحل اقدام نہ ہوتا یعنی اگر حضرت زینب اپنے آپ کو امام سجاد کی ڈھال بناکر یہ نہ کہتیں :’’میں تمہیں اسے قتل کرنے نہ دوں گی ‘‘تو قوی امکان تھا کہ عبید اللہ امام سجادکو قتل کرنے سے نہ چوکتا لیکن ان لوگوں نے دیکھا کہ اس کام کے لئے ایک عورت کو قتل کرنا پڑےگا اور دوسری طرف سے انہیں اسیر بناکر شام لےجانا بھی ضروری ہے۔

بازارکوفہ میں امام سجادنے اپنی پھوپھی زینب اور اپنی بہن سکینہ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے ایک ہی موقع پر خطاب فرمایا، لوگوں کے جذبات کو بیدار کیا اور حقائق سے پردہ اٹھایا۔ آپ نے شام میں یزید کی مجلس میں بھی اور مسجد کے اندر لوگوں کے جم غفیر کے سامنے بھی واضح ترین الفاظ میں حقائق کو برملا کیا۔ اپنے ان خطبات و فرمودات میں آپ نے اہل بیت کے حقِ خلافت اور وقت کے حکمرانوں کے مظالم و جرائم پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ ان غافل اور جاہل لوگوں کو تلخ اور کریہہ نتائج سے خبردار بھی کیا۔یہاں اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ میں اس خطبے کے عمیق نکات کی تشریح کروں کیونکہ یہ ایک الگ تحریر کا طالب ہے۔ جو کوئی اس خطبے کی تفسیر کا خواہاں ہو اسے اس کے ایک ایک لفظ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ تھی امام سجاد علیہ السلام کی وہ کارکردگی جو آپ نے اسارت کے جرأت آفرین سفر میں انجام دی۔یہاں اس سوال کی گنجائش ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اسارت کی مدت ختم ہونے کے بعد ملائمت، نرمی، تقیہ اور دعاؤں کے ذریعے تبلیغ کی روش کو تند و تیز انقلابی اقدامات کی روش پر کیوں ترجیح دی؟ اس کے برعکس آپ نے اسارت کے دوران مزاحمتی، تند اور آشکار اقدامات کی پالیسی کیوں اختیار کی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مرحلہ ایک استثنائی مرحلہ تھا۔ اس مرحلے میں امام سجاد علیہ السلام ایک امام ہونے نیز مستقبل کی اسلامی و خدائی حکومت کےلئے راستہ ہموار کرنے کی جد و جہد کا ذمہ دار ہونے کے علاوہ کربلا میں بہائے جانے والے شہیدوں کے خون کا زندہ ترجمان بھی تھے۔ یہاں امام سجاد علیہ السلام درحقیقت اپنی ذاتی حیثیت میں جلوہ گر نہیں تھے بلکہ ایک انقلابی جوان کی شکل میں شام اور کوفہ کے اندر حسین علیہ السلام کی خاموش زبان کا کردار ادا کرنے پر مامور تھے۔ اگر امام سجادوہاں اس قدر تند و تیز، صریح اور دندان شکن طریقے سے حقائق کو بیان نہ کرتے تو حقیقت میں آپ کے مستقبل کے منصوبوں اور کاموں پر عملدرآمد کےلئے کوئی راستہ باقی نہ رہتا کیونکہ آپ کے مستقبل کے کاموں کی بنیاد حسین بن علی علیہما السلام کا خونِ جوشان تھا۔ پوری تاریخ میں شیعی انقلابی تحریکوں اور بغاوتوں کی بنیاد حسین بن علی کا یہی خونِ جوشان رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ پہلے پہل لوگوں کو متنبہ اور خبردار کیا جائے، پھر اس انتباہ کی روشنی میں اصولی، عمیق، طویل المیعاد اور مضبوط مخالفتوں اور مزاحمتی کوششوں کا آغاز کیا جائے۔ یہ انتباہ اس تند و تیز لہجے کے بغیر ممکن نہ تھا۔اس سفر میں امام سجاد کا کردار وہی تھا جو حضرت زینب کا تھا یعنی دونوں حسین بن علی کے انقلابی پیغام کے مبلغ تھے۔امام دیکھ رہے تھے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ حسین کیوں شہید کیے گئے تھے اور کس طرح قتل کیے گئے تھے تو اسلام کے مستقبل اور اہل بیت کی دعوت کے مستقبل کی نوعیت کچھ اور ہوگی۔لیکن اگر لوگوں کو اس کا پتہ نہ چلے تو نتیجہ کچھ اور ہوگا۔ بنابریں لوگوں کو آگاہ کرنے اور اس آگاہی کا دائرہ پورے معاشرے میں پھیلانے کےلئے ہر قسم کی مجاہدت انجام دینے اور ممکنہ حد تک اس مشن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پس امام سجاد علیہ السلام حضرت سکینہ کی طرح ، حضرت فاطمہ صغریٰ کی طرح، خود حضرت زینب کی طرح اور دیگر تمام اسیروں کی طرح (ہرکوئی اپنی بساط کے مطابق) پیغام حسینی کے داعی اور مبلغ ہیں۔ ان تمام افرادی قوتوں کو مجتمع ہونے کی ضرورت تھی تا کہ وہ سب مل کر حسین کے پردیس میں بہائے گئے خونِ جوشان کا پیغام تمام بڑے اسلامی علاقوں تک پہنچائیں یعنی کربلا سے شروع کرکے مدینہ تک پہنچائیں۔ جب امام سجاد علیہ السلام مدینہ پہنچے تو لوگوں کی آنکھوں، زبانوں اور چہروں سے ہویدا سوالوں کا جواب دینا اور انہیں حقیقت سے آگاہ کرنا آپ کی ذمہ داری تھی۔ یہ پہلا قدم تھا۔

پس امام سجاد کی زندگی کا یہ مختصر مرحلہ ایک استثنائی مرحلہ تھا۔ دوسرے مرحلے کا آغاز تب ہوتا ہے جب امام سجاد علیہ السلام مدینہ میں ایک معزز شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے میں مشغول ہوتے ہیں نیز پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر اور حرم سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں۔ چوتھے امام علیہ السلام کے لائحہ عمل سے آشنائی کےلئے ضروری ہے کہ ہم آپ کے دور کے حالات، تقاضوں اور کیفیتوں کا ایک جائزہ لیں۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۶۵)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۹۵

آٹھویں فصل

سانحہ عاشورا کے بعد کی سیاسی ومعاشرتی صورتحال

سانحۂ کربلا کے بعد پورے عالم اسلام میں جہاں جہاں تک یہ خبر پہنچی وہاں وہاں خاص کر حجاز اور کربلا میں ائمہ کے طرفداراوں اور شیعوں کے درمیان خوف اور دہشت کی فضا پیدا ہوگئی کیونکہ انہیں یہ محسوس ہوا کہ یزید کی حکومت اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی خاطر اس حد تک آگے جاسکتی ہے اور حسین بن علی کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتی حالانکہ حسین رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے نورِ عین تھے اور پورے عالم اسلام میں آپ کی حیثیت اور قداست کی عظمت معروف تھی۔ اس خوف کے آثار کوفہ اورمدینہ میں نمایاں تھے۔ کچھ مدت گزرنے

اور بعض دیگر واقعات (جن میں سے ایک واقعہ حرّہ یعنی یزید کے ہاتھوں مدینہ کی تاراجی کا واقعہ ہے) رونما ہونے کے بعد یہ دہشت درجہ کمال کو پہنچ گئی اور اہل بیت کے اثر و نفوذ والے علاقوں یعنی حجاز (خاص کر مدینہ) نیز عراق (خاص کر کوفہ) میں زبردست خوف و ہراس اور سیاسی گھٹن کی فضا پیدا ہوئی۔

باہمی روابط ضعیف ہوگئے اور ائمہ کے طرفدار جو اموی دربارِ خلافت کے خلاف کسی بھی وقت خطرے کی گھنٹی بجا سکتے تھے سرگردانی اور کمزوری کے شکار ہوگئے۔

مروی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے پیشرو ائمہ علیہم السلام کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’ارْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الْحُسَيْنِ إِلَّا ثَلَاثَة‘‘

امام حسین کے بعد لوگ اپنے دینی موقف سے پھرگئے سوائے تین افراد کے۔ ایک اور روایت میں پانچ افراد کا اور بعض روایات میں سات کا ذکر ہوا ہے۔

ابوعمر مہدی سے منقول روایت میں مذکور ہے: میں نے امام سجاد کو یہ فرماتے سنا:

مَا بِمَكَّةَ وَ لَا بِالْمَدِينَةِ عِشْرُونَ رَجُلًا يُحِبُّنَا

پورے مکہ اورمدینہ میں ہمیں چاہنے والے بیس افراد موجود نہیں ہیں۔

میں نے یہ دو حدیثیں اس لئے نقل کی ہیں تا کہ یہ واضح ہو کہ اس وقت ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان کے طرفداروں کے حوالے سے عالم اسلام کی مجموعی صورتحال کیاتھی۔

خوف، دہشت اور گھٹن کی جو فضا قائم ہوئی تھی اس کے باعث ائمہ کے طرفدار متفرق، پراکندہ، مایوس اور مرعوب ہوگئے اور اس بات کا امکان ختم ہوگیا کہ وہ کوئی اجتماعی حرکت یا قیام کرسکیں۔ البتہ اسی روایت میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ لَحِقُوا وَ كَثُرُوا

یعنی پھر لوگ بتدریج ملحق ہوتے گئے اور ان کی تعداد زیادہ ہوگئی۔

اس مسئلے کی کچھ مزید تشریح کرتے ہوئے ہم یہ عرض کریں گے کہ شہادت حسینی کے بعد لوگ ایک حد تک مرعوب ہوگئے لیکن خوف اس قدر زیادہ بھی نہیں تھا کہ اہل بیت علیہ السلام کے پیروکاروں کا تنظیمی شیرازہ مکمل طور پر بکھر جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب اسرائے کربلا کوفہ لائے گئے تو اس وقت بھی ایسے حالات کا مشاہدہ ہوتا ہے جو شیعوں کے تنظیمی وجود کی غمازی کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جب ہم ’’شیعوں کی خفیہ تنظیمی سرگرمیوں‘‘ کی بات کرتے ہیں تو ہماری مراد یہ نہیں ہوتی کہ اس وقت ایسا منظم، مربوط اور کامل تنظیمی نیٹ ورک موجود تھا جو آج کل کی دنیا میں رائج ہے بلکہ ہماری مراد وہ اعتقادی رابطہ ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے مربوط رکھتا ہے، فداکاری پر آمادہ کرتا ہے ، خفیہ سرگرمیوں کی ترغیب دیتا ہے اور نتیجتاً انسان کے ذہن میں ایک تنظیمی ڈھانچے کا تصور پیدا کرتا ہے۔

جن دنوں آل رسول (اسراء) کوفہ میں تھے ایک رات ان کے قید خانے میں باہر سے ایک پتھر آن پڑا۔ انہوں نے پتھر کو اٹھایا تو دیکھاکہ اس کے اوپر ایک کاغذ لپٹا ہوا ہے۔

اس کاغذ میں لکھا تھا: حاکم کوفہ نے ایک شخص کو یزید کے پاس (شام) بھیجا ہے تا کہ آپ لوگوں کے بارے میں اس کا حکم حاصل کرے۔

اگر کل رات تک آپ کو تکبیر کی آواز سنائی دے تو جان لیں کہ آپ اسی جگہ قتل کئے جائیں گے اور اگر تکبیر کی آواز نہ آئی تو جان لیجئے کہ حالات بہتر ہوں گے ۔

اس داستان کو سن کر ہم بخوبی درک کرسکتے ہیں کہ ابن زیاد کی سرکاری مشینری کے اندر کوئی شخص ایسا تھا جو حالات سے باخبر تھا اور زندان تک رسائی بھی رکھتا تھا۔

وہ یہ جانتا تھا کہ قیدیوں کے بارے کیا پروگرام مرتب کیا گیا ہے۔

وہ تکبیر کی آواز کے ذریعے اہل بیت کو باہر کی خبر سے آگاہ بھی کرسکتا تھا۔ ان شدید حالات کے باوجود بھی اس قسم کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔

ایک اور مثال ملاحظہ ہو کہ عبد اللہ بن عفیف ازدی نے جو نابینا تھے کوفہ میں اسراء کے ورود کے ابتدائی مراحل میں ہی اپنا ردّ عمل دکھایا جس کے نتیجے میں وہ شہید کردیے گئے۔

اس قسم کے لوگ شام اور کوفہ دونوں میں دیکھے جاسکتے ہیں جنہوں نے اسرائے آل محمد سے روبرو ہونے پر ان کے ساتھ ارادت اور عقیدت کا اظہار کیا یا گریہ کیا اور آپس میں ایک دوسرے کی ملامت کی۔ یزید اور ابن زیاد کے درباروں میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے تھے۔

بنابریں اگرچہ سانحہ عاشورا کے باعث شدید خوف اور دہشت کا عالم تھا لیکن اتنا خوف بھی نہیں تھا جو اہل بیت کے چاہنے والوں کو مکمل طور پر ختم، پراکندہ اور مضمحل کردے۔

کچھ وقت گزرنے کے بعد مزید حوادث پیش آئے جن کے باعث دہشت اور خوف میں اضافہ ہوا۔ اس سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ حدیث:

ارْتَدَّ النَّاسُ بَعْدَ الْحُسَيْنِ

کا تعلق ان حوادث کے زمانے سے یا ان کے بعد کے زمانے سے یا ان حوادث کے درمیانی عرصے سے ہے۔

ان چند سالوں کے پورے عرصے میں شیعہ اپنے امور کو مرتب کرنے اور اپنے سابقہ تنظیمی ڈھانچے کو بحال کرنے کےلئے کوشاں رہے۔ اس بارے میں طبری نقل کرتے ہیں:

فلَم يزلِ القومُ فى جَمع آل ۃ الحرب و الاستعداد للقتال

یہ لوگ (یعنی شیعہ) جنگ کی خاطر مسلسل اوزار حرب جمع کرتے رہے اور تیاری میں مشغول رہے۔ وہ خفیہ طریقے سے شیعوں اور غیر شیعہ لوگوں حسین بن علی کے خون کا انتقام لینے کی دعوت اور ترغیب دیتے رہے۔ لوگ بھی گروہ در گروہ انہیں مثبت جواب دیتے تھے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا یہاں تک کہ یزید بن معاویہ مرگیا۔

بنابریں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ زبردست سیاسی گھٹن اور دہشت کے باوجود یہ سرگرمیاں جاری رہیں (جیسا کہ طبری نے نقل کیا ہے)۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب’’جہاد الشیعہ‘‘کی مولفہ غیر شیعہ ہونے کے باوجود اور امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں حقیقت پسندانہ نظریات نہ رکھنے کے باوجود ایک حقیقت کا اعتراف کرتی ہے اور کہتی ہے: ’’حسین کی شہادت کے بعد شیعوں کی جماعت ایک منظم تنظم کی شکل میں ڈھل گئی۔ ان کے اعتقادات اور سیاسی روابط انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رکھتے تھے۔

یہ لوگ جماعتوں، پیشواؤں اور عسکری قوت کے حامل تھے۔ توابین کی جماعت ان منظم سرگرمیوں کا پہلا مظہر ہے۔‘‘

واقعہ حرّہ، توابین و مختار

پس ہم محسوس کرتے ہیں کہ اگرچہ سانحہ عاشورا کے نتیجے میں شیعی تنظیمی ڈھانچہ کمزور پڑگیا لیکن اس کمزوری کے ازالے کےلئے شیعی سرگرمیاں جاری ہیں تا کہ سابقہ تنظیمی نیٹ ورک دوبارہ بحال ہو یہاں تک کہ ’’واقعہ حرّہ‘‘ پیش آیا۔ میری نظر میں واقعہ حرّہ تشیع کی تاریخ میں ایک عظیم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جس سے تشیع کے اوپر زبردست ضرب پڑی۔

سانحہ حرّہ ٹھیک ۶۳ھ میں وقوع پذیر ہوا۔ اس واقعے کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ۶۲ھ میں ایک بے تجربہ اموی جوان مدینہ کا والی بن گیا۔ اس نے سوچا کہ مدینہ کے شیعوں کا دل موہ لینے کےلئے بہتر ہے کہ ان میں سے بعض افراد کو یزید کے ساتھ ملاقات کےلئے شام جانے کی دعوت دی جائے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔

اس نے مدینہ کے بعض بزرگوں، صحابہ اور سرکردہ مسلمانوں کو (جو غالباً حضرت سجاد(علیہ السلام) کے ارادتمند تھے) شام جانے کی دعوت دی تا کہ وہ یزید سے مانوس ہوجائیں اور اختلافات کم ہوجائیں ان لوگوں نے شام جا کر یزید سے ملاقات کی۔ وہ کئی دن اس کے مہمان رہے۔ وہاں ان کی آؤ بھگت ہوتی رہی۔ اس کے بعد یزید نے ان میں سے ہر ایک کو کافی پیسے (تقریباً پچاس ہزار درہم یا ایک لاکھ درہم) دیے اور وہ مدینہ لوٹ آئے۔

چونکہ ان لوگوں نے یزیدی حکومت کے شرمناک اور افسوسناک اعمال کا مشاہدہ کیا تھا اس لئے مدینہ لوٹتے ہی انہوں نے یزید پر تنقید کا سلسلہ شروع کیا۔ والیٔ مدینہ کی چال کا الٹا اثر ہوا۔ ان لوگوں نے یزید کی تعریف و تمجید کرنے کی بجائے لوگوں کو اس کے جرائم اور سیاہ کاریوں سے آگاہ کیا اور لوگوں سے کہا: یزید کیسے خلیفہ بن سکتا ہے جبکہ وہ شراب نوشی کرتا ہے، کتوں سے کھیلتا ہے اور فسق و فجور کی جملہ اقسام کا مرتکب ہوتا ہے۔ ہم اسے خلافت سے معزول کرتے ہیں۔ عبد اللہ بن حنظلہ مدینہ کی ان معزز اور سرکردہ شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے لوگوں کی قیادت کرتے ہوئے یزید کے خلاف قیام کیا اور یزید کو معزول کرتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دی۔

اس تحریک کے نتیجے میں یزید نے ردّ عمل دکھاتے ہوئے بنی امیہ کے ایک بوڑھے اور خستہ حال سردار مسلم بن عقبہ کو ایک لشکر کے ساتھ مدینہ بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ اہل مدینہ کو خاموش کرے۔ مسلم بن عقبہ نے مدینہ آکر چند دنوں تک شہر مدینہ کو محاصرے میں رکھا تا کہ لوگوں کی مقاومت کی کمر توڑدے، پھر شہر میں داخل ہوا۔

اس نے مدینہ میں قتل وخونریزی، ظلم و ستم اور جرائم کا وہ بازار گرم کیا جس کی مثال تاریخ اسلام میں بہت کم ملتی ہے۔

وہ قتل و خونریزی اور ظلم و تعدّی میں اس قدر حد سے بڑھ گیا کہ اس واقعے کے بعد لوگوں نے اس کا نام ’’مُسرِف‘‘ رکھا اور اسے مُسرِف بن عقبہ کہنا شروع کیا۔

سانحہ حرّہ کے دلخراش واقعات بہت زیادہ ہیں اور میں ان تمام واقعات کی تشریح کرنا نہیں چاہتا لیکن اس قدر کہوں گا کہ یہ سانحہ اہل بیت کے دوستداروں اور پیروکاروں پر خوف و دہشت طاری کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا، خاص کر مدینہ میں کیونکہ بعض لوگ وہاں سے بھاگ گئے،بعض لوگ مارے گئے اور اہل بیت کے اچھے دوستداروں کی ایک جماعت جس میں عبد اللہ بن حنظلہ و غیرہ شامل تھے شہید ہوگئی اور ان کی جگہ خالی رہ گئی۔

اس سانحے کی خبر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی اور لوگوں کو معلوم ہوا کہ دربار خلافت اس تحریک کے مقابلے میں سختی کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی قسم کے اقدام کی اجازت دینے پر تیار نہیں ہے۔

اس کے بعد کوفہ میں مختار کی شہادت اور پورے عالم اسلام پر عبد الملک بن مروان کے تسلط نے شیعوں کی سرکوبی اور انہیں کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یزید کی موت کے بعد جو خلفا آئے ان میں سے ایک معاویہ بن یزید تھا۔

اس نے صرف تین ماہ حکومت کی۔ اس کے بعد مروان بن حکم آیا جس نے دو سال یا اس سے کم حکومت کی۔ مروان کے بعد عبد الملک خلیفہ بنا۔ عبد الملک بنی امیہ کے سب سے باتدبیر خلفاء میں سے ایک تھا جس کے بارے میں کہا گیا ہے:

كان عبد الملك أشدهم شكيمة، و أمضاهم عزيمة عبد الملک

پورے عالم اسلام پراپنا تسلط قائم کرنے نیز خوف و دہشت اور شدید پابندیوں پر مبنی مقتدر حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔

تخت حکومت پر عبد الملک کا تسلط اس بات پر موقوف تھا کہ اس کے رقیبوں کا خاتمہ ہو۔

مختار جو تشیع (کی قوت) کا مظہر تھا عبد الملک کے خلیفہ بننے سے پہلے ہی مصعب بن زبیر کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا لیکن عبد الملک چاہتا تھا کہ مختار و غیرہ کی تحریک کے باقیماندہ اثرات اور دیگر شیعی تحریکوں کو بھی محو کردے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔

یوں عراق خاص کر کوفہ (جو ان دنوں شیعوں کے اصلی مراکز میں سے ایک تھا) کے شیعہ رکود اور خاموشی کے شکار ہوگئے۔

(پاسدار اسلام، شمارہ ۸)۔

اگرچہ ۶۴ھ اور ۶۵ھ میں توابین کی تحریک عراق کی نیم مردہ فضاؤں میں ہوا کا ایک تازہ جھونکا ثابت ہوا (بظاہر توابین کی شہادت ۶۵ھ میں ہوئی) لیکن ان سب کی شہادت نے کوفہ وعراق میں ایک بار پھر خوف اور دہشت کی فضا میں اضافہ کیا۔

جب اموی حکومت کے مخالفین (یعنی مختار اور مصعب بن زبیر) ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے اور عبد اللہ بن زبیر جو مکہ میں حاکم تھا اہل بیت کے حامی مختار کو بھی برداشت نہ کرسکا جس کے نتیجے میں مختار مصعب کے ہاتھوں مارا گیا تو اس کے بعد اس رعب و دہشت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا اور امیدوں کی روشنی مدھم پڑگئی۔

آخر کار عبد الملک برسر اقتدار آیا تو اس نے تھوڑی ہی مدت میں پورے عالم اسلام کو پوری قوت کے ساتھ بنی امیہ کی قلمرو میں شامل کیا۔ عبد الملک ۲۱ سال تک پوری طاقت کے ساتھ حکومت کرتا رہا۔

( ۲۸/۴/۱۳۶۵ھ ش)۔

۹۶

بہرحال یہ سارے حوادث سانحہ عاشورا کے بعد شروع ہوئے۔ اس واقعے کے آثار میں واقعۂ حرّہ، عراق میں توابین کی تحریک کی سرکوبی ، مختار کی شہادت، ابراہیم بن مالک اشتر نخعی کی شہادت اور دیگر شیعہ بزرگوں کی شہادت و غیرہ شامل ہیں۔ ان لوگوں کی شہادت کے بعد مدینہ اورکوفہ (جو تشیع کے دو اصلی مراکز تھے) میں حریت پسند تحریکوں کی سرکوبی عمل میں آئی اور عالم اسلام میں تشیع شدید دباؤ اور گھٹن سے دوچار ہوا۔ یوں ائمہ علیہم السلام کے پیروکار نہایت بےکسی اور تنہائی کی حالت میں رہنے لگے۔ (پاسدار اسلام، شمارہ ۸)۔

اس خوف اور دہشت کے علاوہ ایک اور عامل یا سبب بھی وجود میں آیا جو پورے عالم اسلام میں لوگوں کے فکری انحطاط سے عبارت تھا۔ اس انحطاط کی وجہ گذشتہ بیس سالوں کے دوران دینی تعلیمات سے مسلمانوں کی بےتوجہی تھی۔ (۴۰ھ کے بعد والے بیس سالہ دور میں) دین و ایمان کی تعلیم، قرآنی آیات کی تفسیر اور عصر نبوی کے حقائق کے بیان سے اس قدر بےتوجہی برتی گئی کہ لوگ اعتقادی اور ایمانی بنیادوں کے لحاظ سے نہایت کھوکھلے ہوگئے۔ جب انسان اس دور کے لوگوں کی زندگی کا دقیق مطالعہ کرتا ہے تو مختلف تواریخ اور روایات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔ البتہ اس وقت قرّاء، علماء اور محدثین موجود تھے جن کا میں ذکر کرنے والا ہوں لیکن عام لوگ بے ایمانی، نیز اعتقادی کمزوری اور اختلال کے شکار ہوچکے تھے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ دربارخلافت کے بعض نمک خوار نبوت پر بھی اعتراض کرتے تھے۔کتابوں میں مذکور ہے کہ خالد بن عبد اللہ قسری جو بنی امیہ کا ایک نہایت پست فطرت کارندہ تھا خلافت کو نبوت پر ترجیح دیتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا: خلافت نبوت سے بہتر ہے۔ وہ اس بات کی یہ دلیل دیتا تھا:اَخليفتك في اهلك أحب إليك و آثر عندك أم رسولك‏؟

یعنی جب آپ اپنا گھر بار کسی شخص کے سپر د کرتے ہیں اور اسے اپنا نائب یا جانشین بناتے ہیں تو کیا یہ شخص زیادہ بہتر اور آپ سے قریب تر ہے یا وہ شخص جسے آپ ایک پیغام دے کر کہیں بھیجتے ہیں؟ واضح ہے کہ جس شخص کو آپ اپنا خلیفہ اور جانشین بناکر اپنا گھر اس کے حوالے کرتے ہیں وہی آپ کے ہاں مقرب تر ہوگا۔

پس خد اکا خلیفہ یعنی خلیفۃ اللہ، اللہ کے پیغام رسان یعنی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے بہتر ہے۔ (یاد رہے کہ بنی امیہ خلیفہ کو خلیفہ رسول نہیں بلکہ خلیفۃ اللہ کہتے تھے)۔

خالد بن عبد اللہ قسری کے علاوہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کہتے تھے۔ میں نے اموی دورِ خلافت کے شعراء کے اشعار کا مطالعہ کیا تو دیکھا کہ عبد الملک کے دور سے شاعروں کے کلام میں ’’خلیفۃ اللہ‘‘ کی اصطلاح اس قدر کثرت سے استعمال ہوئی ہے کہ انسان بھول ہی جاتا ہے کہ جنابِ خلیفہ، پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا بھی خلیفہ ہے۔

یہ استعمال بنی عباس کے دور تک جاری رہا۔

بنى اميه هبوا طال نومكم ان الخليفة يعقوب بن داود

ضاعت خلافتكم يا قوم فالتمسوا خليفه الله بين الزقّ و العود

نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ جب خلیفہ کی ہجو کی جاتی تب بھی ’’خلیفہ اللہ‘‘ کی اصطلاح ہی استعمال کی جاتی تھی۔ اس زمانے کے معروف شعراء مثلاً جریر، فرزدق اور کثیر وغیرہ کے علاوہ سینکڑوں معروف اور بھاری بھر کم شعراء دکھائی دیتے ہیں جو خلیفہ کی تعریف میں رطب اللسان ہوتے ہیں تو اسےخلیفۂ رسول کہنے کی بجائے خلیفۃ اللہ کہتے ہیں۔

یہ اس بات کی ایک مثال ہےکہ دینی عقائد کے بارے میں لوگوں کے اعتقادات کس قدر کمزور پڑچکے تھے۔ اسی طرح لوگ شدید اخلاقی انحطاط کے بھی شکار ہوچکے تھے۔ابوالفرج اصفہانی کی کتاب الاغانی کے مطالعے کے دوران راقم نے ایک نکتہ دریافت کیا ہے اور وہ یہ کہ تقریباً ۷۰، ۸۰، ۹۰ اور ۱۰۰ھ کی دہائیوں کے دوران نیز اس کے پچاس ساٹھ سال بعد تک سب سے بڑے موسیقاروں،ساز بجانے والوں، عیاشوں اورعشرت پرستوں کا تعلق یا تو مکہ سے تھا یا مدینہ سے۔جب بھی شام میں خلیفہ کا دل موسیقی سننے کےلئے بےقرار ہوجاتا اور اسے کسی گانے والے یا بجانے والے کی طلب ہوتی تو وہ کسی شخص کو مکہ یا مدینہ بھیجتا تھا تا کہ وہ وہاں سے معروف گویوں اور موسیقاروں کو لے آئے۔اس وقت سب سے برے اور یاوہ گو شعراء مکہ اور مدینہ میں رہتے تھے۔ وحی کے مرکز اور پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جائے ولادت کو بے حیائی اور فسق و فجور کے مرکز میں تبدیل کیا گیا تھا۔ مکہ اور مدینہ کے بارے میں ہمیں ان تاریخی حقائق کا علم ہونا چاہئے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہاں دستیاب کتابوں میں ان چیزوں کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے۔راقم یہاں اس دور میں رائج بےحیائی اور فسق و فجور کے پھیلاؤ کا ایک نمونہ پیش کررہا ہے:

مکہ میں عمر بن ابی ربیعہ کے نام سے ایک شاعر ہوا کرتا تھا۔ عمر کا شمار عرب کے عریان گو، یاوہ گو اور بےحیا شاعروں میں ہوتا تھا۔ البتہ وہ اس وقت مرگیا جب وہ فنِ شاعری کے نقطۂ کمال پر پہنچ چکا تھا۔ عمر بن ابی ربیعہ کی داستان اور مکہ میں اس کی سرگرمیوں کی کہانی اس دور کی اسفناک تاریخ کا ایک مکمل باب ہے۔ مکہ، طواف کعبہ اور رمی جمرات کے بارے میں کہے گئے اشعار اسی دور کی یادگار ہیں۔ کتاب مغنی میں ہم نےپڑھا ہے کہ رمی جمرہ کے وقت (شیطان کو کنکریاں مارتے وقت) وہ کہتا ہے:

فوالله ما أدرى وإن كنت داريا بسبع رمين الجمر أم بثمان؟

بدا لي مِنها مِعصم حين جمرَت و كفّ خضيب زينت ببنان

راوی نقل کرتا ہے کہ جب عمر بن ابی ربیعہ مرگیا تو مدینہ میں عام سوگ منایا گیا۔مدینہ کی گلیوں میں لوگ رو رہے تھے۔ میں جہاں سے گزرا وہاں جوانوں، مردوں اور عورتوں کے گروہوں کو کھڑے دیکھا جو مکہ میں عمر بن ابی ربیعہ کی موت پر افسوس کررہے تھے۔ میں نے ایک کنیز کو دیکھا جو کسی کام سے جارہی تھی۔وہ شاید ایک بالٹی لے کر پانی لانے جارہی تھی۔ وہ آنسو بہارہی تھی اور عمر بن ابی ربیعہ کی موت پر افسوس کرتی ہوئی زار و قطار رو رہی تھی۔ پھر وہ جوانوں کی ایک جماعت کے پاس پہنچی۔ انہوں نے کہا: کیوں اس قدر رو رہی ہو؟

کہا: کیونکہ یہ مرد مرگیا اور ہم سے جدا ہوگیا۔ ایک جوان نے کہا: غم مت کھا کہ مدینہ میں ایک اور شاعر خالد بن مخزومی زندہ ہے۔ (خالد ایک عرصے تک انہی شامی خلفاء کی طرف سے مکہ کا حاکم رہا۔ یہ بھی عمر بن ابی ربیعہ کی طرح عریان گو، یاوہ گو اور پردہ دری کرنے والا شاعر تھا۔)اس نے یہ شعر کہا ہے۔یہ کہہ کر اس نے عمر کا ایک شعر سنایا۔ کنیزکچھ دیر سنتی رہی۔

(یہ شعر اور اس کی خصوصیات ’’الاغانی‘‘ میں مذکور ہیں۔) شعر سننے کے بعد اس لونڈی نے اپنے آنسو صاف کئے اور کہا:

الحمد لله الذى لم‏يخل‏حرمه’’

شکر اس خدا کا جس نےاپنے حرم کو خالی نہیں رکھا۔ اگر ایک چلاگیا تو دوسرے نے اس کی جگہ لےلی۔‘‘ یہ تھی اہل مدینہ کی اخلاقی حالت۔

آپ (کتابوں میں) مکہ و مدینہ کی شب نشینی کی محفلوں کی داستانیں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ محافل نہ صرف نچلی سطح کے لوگوں کے درمیان بلکہ ہر طبقے کے لوگوں کے درمیان مرسوم تھیں۔ اس قسم کے فسق و فجور میں غرق رہنے والوں میں ’’شعبِ طمّاع‘‘ جیسا بھوگا گداگر جو شاعر اور مسخرہ باز تھا بھی شامل تھا نیز کوچہ و بازار کے عام لوگ یعنی مذکورہ بالا لونڈی اور اس طرح کے لوگوں سے لے کر قریش کے معروف بزرگ زادے یہاں تک کہ بنی ہاشم کے افراد بھی شامل تھے۔(میں قریش کے ان معروف بزرگ زادوں اور بزرگ زادیوں کا نام لینا نہیں چاہتا)۔

اسی مخزومی شاعر کی امارت کے دوران عائشہ بنت طلحہ آئی اور طواف کرنے لگی۔ اسے اس سے محبت تھی۔ اتنے میں اذان کا وقت ہوگیا۔ اس عورت نے حاکم کو پیغام دیا: جب تک میں طواف مکمل نہ کرلوں تب تک اذان نہ دینے کا حکم صادر کرو۔ مخزومی نے عصر کی اذان نہ دینے کا حکم دیا۔ جب اس پر اعتراض ہوا کہ تم ایک عورت کی خاطر جو طواف کررہی ہے لوگوں کی نماز کو موخر کرنے کا حکم دے رہے ہو؟

تو اس نے کہا: خدا کی قسم! اگر اس کا طواف کل صبح تک بھی جاری رہتا تو میں اذان نہ دینے کا حکم دیتا۔

یہ تھی اس دور کی حالت۔

( ۲۸/۴/۱۳۶۵ھ ش)۔

=====٭٭٭٭٭=====

۹۷

نویں فصل " امام سجاد علیہ السلام "

امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں گفتگو کرنا یا آپ کی سیرت پر قلم فرسائی کرنا ایک دشوار کام ہے کیونکہ اس عظیم المرتبت امام کے بارے میں عوام کی معرفت اور آشنائی کی صوتحال نہایت ناسازگار ہے۔

اکثر سیرت نگاروں اور تجزیہ کاروں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ آپ کسی گوشے میں بیٹھ کر مصروف عبادت رہتے تھے اور سیاست سے کوئی سروکار نہ رکھتے تھے۔ بعض مورخین اور سیرت نگاروں نے صریحاً اس بات کا ذکر کیا ہے۔ جن لوگوں نے صریحاً ایسا نہیں کہا ان کا نقطہ نظر بھی حضرت امام سجاد علیہ السلام کے بارے میں اس سے کچھ مختلف نہیں۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام کو جو القاب دئے جاتے ہیں اور آپ کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں ان سے اس بات کو بخوبی درک کیا جاسکتا ہے۔کچھ لوگ آپ کو ’’بیمار‘‘ کا لقب دیتے ہیں حالانکہ آپ کی بیماری واقعہ عاشور کے چند دنوں تک محدود تھی۔

اس کے بعد آپ بیمار نہیں رہے تھے۔ ہرانسان اپنی زندگی میں چند دنوں کےلئے بیمار تو ہوتا ہی ہے۔

پھر امام سجاد علیہ السلام کی بیماری مصلحت ِخداوندی کی بنا پر تھی تاکہ آپ پر اُس دن خدا کی راہ میں جنگ، جہاد او ردفاع کی ذمہ داری عائد نہ ہو اور آپ مستقبل میں امامت و امانت کی سنگین ذمہ داریاں سنبھالنے کےلئے زندہ رہیں نیز اپنے پدر بزرگور کے بعد ۳۵ یا ۳۴ سالوں تک مسلمانوں کی امامت کے دشور ترین ایام میں اپنی ذمہ داری نبھاتے رہیں۔

اگر آپ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کے واقعات پر نظر کریں تو آپ قابل توجہ اور متنوع حوادث کا مشاہدہ کریں گے۔ یہی حال ہمارے دیگر ائمہ علیہم السلام کا ہے۔ آپ امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کے تمام واقعات کو جمع کریں تب بھی آپ امام سجاد علیہ السلام کی سیرت سے آشنا نہیں ہوسکیں گے۔ ہر شخص کی حقیقی سیرت تب واضح ہوتی ہے جب ہم پہلے اس شخص کے مجموعی اہداف اور پالیسیوں سے آگاہ ہوں پھر اس کی زندگی کے واقعات اور جزئیات کا جائزہ لیں۔ اگر ہم اس کے بنیادی اہداف، موقف اور اس کی اصلی پالیسیوں سے آگاہ ہوں تو اس کی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات قابل فہم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر ہم اس کے اصلی اہداف سے آگاہ نہ ہوں یا اس بارے میں غلط فہمی کے شکار ہوں تو اس کی زندگی کے واقعات و حالات بے معنی یا غلط مفہوم کے حامل بن جائیں گے۔ یہ بات امام سجاد علیہ السلام یا دیگر ائمہ علیہم السلام کے ساتھ مختص نہیں بلکہ یہ اصول سب لوگوں کی زندگی پر منطبق ہوتا ہے۔

امام سجاد علیہ السلام نے محمد بن شہاب زہری کو جو خط لکھا وہ آپ کی زندگی کے واقعات کا ایک نمونہ ہے۔ یہ ایک خط ہے اس شخص کی طرف سے جو آل رسول سے منسوب ہے، اس شخص کے نام جو اس زمانے کا ایک معروف دانشور ہے۔

۹۸

اس بارے میں کئی باتوں کا احتمال دیا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ خط کسی وسیع اور بنیادی نوعیت کی مزاحمتی جد و جہد کا حصہ ہے۔

دوسرا یہ کہ اس خط کا مقصد صرف نہی از منکر ہے۔

تیسرا یہ کہ اس کا مقصد ایک شخصیت کی طرف سے دوسری شخصیت پر اعتراض ہے جیسا کہ تاریخ کے ہر دور میں دو یا دو سے زیادہ افراد کے مابین ایک دوسرے پر اعتراض کی بے تحاشا مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

اگر ہم اس دور کے دیگر حوادث سے قطع نظر اس واقعے کا جائزہ لیں تو بات سمجھ میں نہیں آئےگی۔

میرا مدعیٰ یہ ہے کہ اگر ہم امام کی زندگی کے اصلی نصب العین اور مجموعی ہدف سے قطع نظر جزئیات اور واقعات کا جائزہ لیں تو امام کی سیرت سمجھ میں نہیں آئےگی۔

پس اہم چیز یہ ہے کہ ہم امام کے بنیادی اور کلی اہداف کو پہچانیں۔

یہاں ہم سب سے پہلے امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کے بنیادی اور کلی ہدف سے بحث کریں گے۔ راقم کی کوشش ہو گی کہ خود امام سجادکے فرمودات اور آپ کے حالات زندگی سے ہاتھ آنے والے قرائن کی روشنی میں نیز تمام ائمہ علیہم السلام کی زندگی کے مطالعے سے حاصل ہونے والے مجموعی نقطہ ٔنظر کی روشی میں اس ہدف کی وضاحت کرے۔

ہماری نظر میں صلح امام حسن (جو ۴۰ ہجری میں ہوئی) کے بعد اہلبیت رسول علیہم السلام نےاس بات پر اکتفا نہیں کیا کہ وہ گھر میں بیٹھ کر اپنی صوابدید کے مطابق صرف احکام الٰہی بیان کرتے رہیں بلکہ صلح کی ابتدا سے ہی ائمہ کا منصوبہ یہ تھا کہ اپنے پیش نظر طریقے کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنے کےلئے ابتدائی اور تمہیدی تیاریاں کی جائیں۔

ہم امام حسن مجتبیٰ کی سیرت اور آپ کے فرمودات کے اندر اس حقیقت کا بخوبی مشاہدہ کرسکتے ہیں۔

امام حسن علیہ السلام کا کام بنیادی ، بہت عمیق اور اصلی نوعیت کا تھا۔

آپ نے دس سال تک انہی حالات میں زندگی گزاری۔

اس دوران آپ نے لوگوں کی ایک جماعت کو اپنے گرد جمع کیا اور ان کی تربیت فرمائی۔

بعض افراد نے مختلف مقامات پر اپنی شہادت پیش کرکے اور حکومت مخالف باتوں کے ذریعے حکومت ِمعاویہ کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں حکومت نے ان کو کمزور کردیا۔

اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کی باری آئی۔

آپ نے بھی مکہ، مدینہ اور دیگر مقامات پر اسی پالیسی کو جاری رکھا یہاں تک کہ معاویہ دنیا سے کوچ کرگیا اور کربلا کا خونچکان سانحہ پیش آیا۔

اگرچہ واقعۂ کربلا اسلام کے مستقبل کےلئے ایک نہایت مفید اور ثمر بخش قیام تھا لیکن بہر صورت اس واقعے نے اس ہدف کو موخر کردیا جس ہدف کےلئے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو شاں تھے کیونکہ اس سانحے کے بعد دشمن کا تسلط قائم ہوگیا۔ یہ حالات و واقعات کا منطقی اور قدرتی نتیجہ تھا۔ اگر امام حسین علیہ السلام کا قیام اس شکل میں نہ ہوتا تو اندازہ یہ ہے کہ آپ کے بعد مستقبل قریب میں ایک ایسی تحریک کا امکان تھا جس کے باعث شیعوں کی حکومت قائم ہوجاتی۔

اس بات کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا قیام بے جا تھا کیونکہ قیام کے وقت جو حالات تھے ان کے باعث اس وقت آپ کا قیام ناگزیر تھا جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں لیکن اگر حالات وہ نہ ہوتے اور امام حسین شہید نہ ہوتے تو قوی احتمال تھا کہ امام حسن کے مستقبل کا منصوبہ جلد ہی پایہ تکمیل کو پہنچ جاتا۔

ائمہ اس ہدف اور اس راستے کے خواہاں تھے اور ہمیشہ اسلامی حکومت کی تشکیل کےلئے سرگرم عمل رہتے تھے۔

جب امام حسین علیہ السلام سانحہ کربلا میں شہادت سے ہمکنار ہوگئے اور امام سجادبیماری کی حالت میں اسیر ہو چکے تو درحقیقت امام سجاد کی ذمہ داریوں کا آغاز یہیں سے ہوا۔

اس وقت تک امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی ذمہ داری تھی کہ وہ مستقبل کے نقشے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے لیکن اب سانحہ عاشورا کے بعد یہ ذمہ داری امام سجاداور آپ کے بعد دیگر ائمہ معصومین کو منتقل ہوگئی۔

بنابریں ہمیں چاہئے کہ امام سجاد علیہ السلام کی پوری زندگی میں اس مجموعی ہدف اور بنیادی حکمت عملی کو تلاش کریں اور کسی شک کے بغیر یہ جان لیں کہ امام سجاداسی مقصد کی تکمیل کے درپے تھے جس کےلئے امام حسن اور امام حسین کوشاں تھے۔

امام سجاد علیہ السلام (دس محرم) روز عاشورا، ۶۱ھ کو امامت کے درجے پر فائز ہوکر ۹۴ھ میں مسموم اور شہید ہوئے۔ اپنی امامت کے اس پورے عرصے میں آپ اسی ہدف اور مقصد کےلئے سرگرمِ عمل رہے۔ اب آپ اس شناخت کے ساتھ امام سجادکی کارکردگی کی جزئیات کا جائزہ لیں کہ آپ نے کن مراحل کو طے کیا، کن تدابیر سے کام لیا اور کیا کامیابیاں حاصل کیں۔

امام سجاد علیہ السلام کے دہنِ اطہر سے نکلے ہوئے جملوں کی، آپ کی حرکات و سکنات کی نیز آپ کی دعاؤں ، مناجاتوں اور خدا کے حضور راز و نیاز کی باتوں کی (جو صحیفہ سجادیہ کی صورت میں موجود ہیں،غرض ان سب کی)تفسیر اُس مجموعی ہدف اور حکمت عملی کی روشنی میں کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح اپنی مدت ِامامت کے دوران امام سجاد علیہ السلام کی پالیسیوں، آپ کی حکمت ِعملی اور مختلف طبقات کے ساتھ آپ کے سلوک کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے جن میں سے بعض کچھ یوں ہیں:

۱۔ عبید اللہ بن زیاد اور یزید کے مقابلے میں آپ کا موقف جو زبردست شجاعت اور فداکاری کے جذبے سے لبریز تھا۔

۲۔ مسرف بن عقبہ کے بارے میں آپ کا موقف جو بہت نرم اور ملائم تھا۔ یاد رہے کہ مسرف بن عقبہ نے یزید کی حکومت کے تیسرے سال یزید کے حکم سے شہر مدینہ کو تاراج کیا اور لوگوں کے اموال اور ناموس کو لوٹ لیا تھا۔

۳۔ عبد الملک بن مروان کے بارے میں آپ کا موقف جو گاہے تند اور گاہے ملائم رہا۔ عبد الملک بن مروان اموی خلفاء میں سب سے مضبوط اور سب سے ہوشیار خلیفہ تھا۔

۴۔ عمر بن عبد العزیز کے ساتھ آپ کا رویہ۔

۵۔ اپنے اصحاب اور مددگاروں کے ساتھ امام کاسلوک اور اپنے دوستوں کےلئے امام کی نصیحتیں۔

۶۔ درباری علماء اور ظالم حکمرانوں کے ساتھ وابستہ علماء کے ساتھ آپ کا رویہ۔

ان تمام رویوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔

میرا خیال ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے کلی ہدف کی روشنی میں تمام جزئیات اور واقعات بہت ہی واضح اورپرکشش بن جاتے ہیں۔ اگر ہم اس نقطۂ نظر کے ساتھ امام سجاد کی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ ایک ایسے انسان نظر آئیں گے جو اس مقدس ہدف یعنی زمین میں خدا کی حکومت قائم کرنے اور اسلام کو عملی شکل دینے کےلئے اپنی تمامتر صلاحیتوں اور قوتوں سے کام لیتے رہے، مضبوط ترین اور کار آمدترین سرگرمیوں سے استفادہ فرماتے رہے، اسلامی قافلے کو جو واقعہ کربلا کے بعد نہایت پراکندہ اور آشفتہ حال بن چکا تھا بڑی حد تک سنبھا ل کر آگے بڑھانے میں کامیاب رہے،اپنی دو عظیم اور بنیادی ذمہ داریوں کو (جن کی طرف ہم آئندہ اشارہ کریں گے اور جنہیں ہمارے ائمہ ایک ساتھ نبھاتے رہے) جامۂ عمل پہنانے میں کامیاب رہے ، ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سیاست، شجاعت، باریک بینی اور ظرافت سے کام لیتے رہے نیز انبیاءاور تاریخ کے تمام کامیاب مردان ِحق کی طرح ۳۵ سال انتھک جد و جہد کرنے اور اپنے مشن پر عملدر آمد کرنے کے بعد سرافرازی اور سربلندی کے ساتھ دنیا کو خیرباد کہتے ہوئے اپنے بعد امامت کی ذمہ داریاں اگلے امام یعنی امام باقر علیہ السلام کے سپرد کرگئے۔

منصب امامت اور زمین میں خدا کی حکومت قائم کرنے کی عظیم ذمہ داری امام باقر(علیہ السلام) کے حوالے کرنے کی روئیداد احادیث میں واضح طور پر مذکور ہے۔

۹۹

ایک روایت کہتی ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنی اولاد کو جمع کیا پھر محمد بن علی (یعنی امام باقر ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس صندوق کو اٹھاؤ اور یہ اسلحہ سنبھالو۔

یہ ایک امانت ہے جسے آپ نےسنبھالنا ہے۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں قرآن اور کتاب تھیں۔

میرا خیال ہے وہ اسلحہ انقلابی قیادت کی علامت تھی جبکہ وہ کتاب فکری و نظریاتی لحاظ سےاسلامی قیادت کی نشانی تھی جنہیں امام سجاد علیہ السلام نے اپنے جانشین امام کے حوالے کیا۔ یوں امام سجاداطمینان قلب اور پرسکون ضمیر کے ساتھ نیز خدا کے حضور اور آگاہ لوگوں کے سامنے نہایت سرفرازی کے ہمراہ دنیا کو خیرباد کہہ گئے۔

یہ تھی امام سجاد علیہ السلام کی زندگی کی ایک جامع تصویر۔ (پاسدار اسلام شمارہ ۶)۔

امام سجاد علیہ السلام کے دورِ امامت میں کاموں کا آغاز بےتحاشا مشکلات اور دشواریوں کے ساتھ ہوا۔ سانحہ کربلا نے عالم تشیع (بلکہ پورے عالم اسلام) کو سخت ہلاکر رکھ دیا۔ اگرچہ دشمنوں کو قتل کرنے، ان کا پیچھا کرنے، انہیں سزائیں دینے اور ان پر ظلم کرنے کی رسم موجود تھی لیکن فرزندِ رسول کو کھلے عام قتل کرنا، آل رسول کو اسیر بناکر شہر بہ شہر پھرانا اور فرزند زہرا کے سر اطہر کو نیزے پر چڑھانا (جبکہ ہنوز ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے حسین کے لبوں پر رسول کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا تھا) وہ جرائم تھے جن کے باعث دنیائے اسلام مبہوت ہوکر رہ گیا۔

۱۰۰