شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)0%

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج) مؤلف:
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف: علی اصغررضوانی
زمرہ جات:

مشاہدے: 2206
ڈاؤنلوڈ: 790

تبصرے:

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 14 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2206 / ڈاؤنلوڈ: 790
سائز سائز سائز
شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے البتہ اس میں موجود مطالب کی یا دیگر غلطیوں کا ذمہ دار ادارہ نہیں ہے

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف : رضوانی، علی اصغر

مترجم / مصحح : اقبال حیدر حیدری

ناشر : انصاریان (ایران)

نشر کی جگہ : قم

نشر کا سال : ۲۰۰۷

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۲۰

سائز : رقعی

زبان : اردو

مقدمہ مترجم

خداوندعالم نے ہمیشہ نوع بشر کی ہدایت کے لئے کوئی نہ کوئی انتظام کیا ہے، یہ ایک سنت الٰہی ہے اور سنت الٰہی میں کبھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ جناب آدم (ع) سے لے کر ختمی مرتبت حضرت رسول اکرم (ص) تک تمام انبیاء علیہم السلام انسان کی ہدایت کے لئے اس دنیا میں رنج و الم اور مصائب برداشت کرتے رہے، اور جب یہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے لگا تو رسول اسلام (ص) نے اس ہدایت کے سلسلہ کو امامت کی شکل میں آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا:

اِنِّی تَارِكٌ فِیْكُمُ الثَّقَلَیْنِ كَتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتِی؛ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِی اَبَداً ۔ ۔ ۔ “۔(۱)

”بے شک میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے متمسک رھو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے“۔

حضرت رسول اکرم (ص) جانتے تہے کہ میرے بعد امت ،گمراھی کا شکار ہوجائے گی لہٰذا اپنی امت کو گمراھی سے بچانے اور اس کی ہدایت کے لئے ایسا نسخہ پیش کیا جو حقیقت میں ہدایت کا ضامن ہے، مسلمانوں نے قرآن کو ظاہری طور پر لے لیا لیکن عترت رسول کو چھوڑ دیا جبکہ حدیث رسول دونوں سے تمسک کا حکم دیتی ہے اور اسی صورت میں ہدایت ممکن ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کی لاکھ ہدایت کرنی چاھی لیکن ان کے دلوں میں بغض و حسد بہر ا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تہے۔ آنحضرت (ص) نے اپنے بعد آنے والے ائمہ (علیہم السلام) کا نام بنام تعارف کرایا اور امام کی معرفت کے سلسلہ میں یہ مشھور و معروف حدیث ارشاد فرمائی،جسے شیعہ اور اہل سنت نے آنحضرت (ص) سے نقل کی ہے :

مَنْ مَاتَ وَ لَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِیْتَةً جَاهِلِیَةً ۔ “(۲)

”جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت اور انھیں پہچانے بغیر مرجائے تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہوگی“۔

اس سلسلہ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مھدی علیہ السلام ہیں ، جو دنیا کی ہدایت کرتے ہیں، لیکن آج ہمارے امام ہماری نظروں سے غائب ہیں، ہم اسی امام کے ظھور کے منتظر رہتے ہیں اور جمعہ کے دن دعائے ندبہ میں امام علیہ السلام کے فراق میں مزید آنسو بھاتے ہیں۔

لیکن امام علیہ السلام کی صحیح معرفت کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ہے۔

”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم؛ امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مھدی علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: کیا مجہے پہچانتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ہوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ہے“۔(۳)

لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے امام کی شخصیت اور صفات کو اچھی طرح پہچانیں تاکہ ہم آپ کے حقیقی انتظار کرنے والوں میں شمار ہوں۔

ممکن ہے بعض لوگوں کے ذھنوں میں یہ سوال پیدا ہوکہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ہوسکتی ہے؟!(۴)

اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۸۰ سے ۱۰۰ سال کی عمر ہوتی ہے، لہٰذا ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کے باوجود اتنی طولانی عمر پر یقین کس طرح کرے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیں ہے، دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضا کی تحقیقات اور جائزے سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بہت زیادہ طولانی عمر پاسکتا ہے، یھاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ہو۔

چنانچہ برنارڈ شو نامی دانشور کا کھنا ہے:

”ماہر ین اور دانشوروں کے نزدیک یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی، یھاں تک کہ طول عمر کے لئے بھی کوئی حد معین نہیں ہوسکتی“۔(۵)

اسی طرح پر وفیسر ”اٹینگر“ کا کھنا ہے:

”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال زندگی بسر کرسکتے ہیں“۔(۶)

قارئین کرام! مذکورہ دانشوروں کے نظریہ سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ انسان ہزاروں سال زندگی بسر کرسکتا ہے، دوسری طرف ہم اس خدا کو مانتے ہیں جو ہر چیز پر قادر ہے، لہٰذا اس کی قدرت کے پیش نظر تقریبا ۱۱ سوسال سے زیادہ عمر گزار لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

خداوندعالم ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے اور آپ کی غیبت کے زمانہ میں اپنے فرائض پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)رَبّنا تَقبّل مِنّا اِنَّكَ اَنتَ السَّمِیْعُ العَلِیْم ۔

اقبال حیدر حیدری - حوزہ علمیہ قم

____________________

۱. بحار الانوار، ج۲، ص ۱۰۰۔

۲. بحار الانوار، ج ۵۱، ح ۷، ص ۱۶۰۔

۳. کمال الدین، ج۲، باب ۴۳، ح۱۲، ص ۱۷۱۔

۴. اس وقت ۱۴۲۷ ہجری قمری ہے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۲۵۵ ہجری قمری ہے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر مبارک ۱۱۷۲ سال ہے۔

۵. راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مھدی پور ص ۱۳۔

۶. مجلہ دانشمند، سال ۶، ش۶، ص ۱۴۷۔