حدیث ثقلین کی تحقیق

حدیث ثقلین کی تحقیق0%

حدیث ثقلین کی تحقیق زمرہ جات: علم درایت
صفحے: 1

حدیث ثقلین کی تحقیق

زمرہ جات:

صفحے: 1
مشاہدے: 1796
ڈاؤنلوڈ: 296

تبصرے:

حدیث ثقلین کی تحقیق
  • حدیث ثقلین. 5

  • پھلی فصل. 7

  • سند حدیث ثقلین. 7

  • دوسری فصل. 11

  • ابلاغ عام کہ جس پر تاکید ھوئی ھے۔ 11

  • اولاً. 13

  • حدیث ثقلین سے استدلال. 14

  • تیسری فصل. 16

  • سلسلہٴ سند حدیث ثقلین. 16

  • چوتھی فصل. 19

  • حدیث کی افادیت.. 19

  • اول: 37

  • دوم: 37

  • سوم: 38

  • چھارم: 38

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 1 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • مشاہدے: 1796 / ڈاؤنلوڈ: 296
سائز سائز سائز
حدیث ثقلین کی تحقیق

حدیث ثقلین کی تحقیق

اردو
حدیث ثقلین کی تحقیق حدیث ثقلین کی تحقیق سید محسن خرازی
حدیث ثقلین یقیناحدیث ثقلین (جو کہ فریقین کے درمیان مورد ارفاق ھے) نے واضح بیان کے ساتھ یہ بات روشن کردیا ھے کہ نبی گرامی نے اپنی رحلت کے بعد امت اسلامی کو بے سر پرست نھیں چھوڑا اور اسلام و مسلمین کو اپنے حال پر نھیں چھوڑا ھے بلکہ قرآن وعترت کے مقام ومنزلت کو بیان کرتے ہوئے امت مسلمہ پر ان دونوں سے تمسک کو واجب قرار دیا ھے۔ اور قرآن و عترت سے تمسک رکھنے والوں کو انحراف و گمراھی سے محفوظ رھنے کی ضمانت بھی لی ھے۔ ([١])
اور اس بات پر تاکید فرمائی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کو ثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس بیان کے ذریعے قرآن کی عترت کے ساتھ اور عترت کی قرآن کے ساتھ ھمراھی کو واضح اور روشن کردیا ھے۔ ([٢])
دوسری بات یہ کہ (صراحت کے ساتھ اپنے بعد) امت کی سیاسی اور علمی مر جعیت کو معین فرما دیا ھے۔
اب تک جو کچھ بیان کیا جا چکا ھے اس سے ہٹ کر ھم کو اس بات کی طرح توجہ رھے کہ حدیث ثقلین کی افادیت کسی زمانے سے مخصوص نھیں ھے۔ بلکہ ان دونوں (قرآن و عترت) سے تمسک تمام افراد پر ھر وقت ھر مقام پر ھمیشہھمیشہ واجب ھے۔
ھماری اب تک کی گفتگو اور آئیدہ بحث سے جو غقریب آپ ملا حظہ فرمائیں گے یہ بات روشن ہوجائے گی کہ اس حدیث (ثقلین ) میں غور و فکر اور بحث ان اھم مسائل میں سے ھے جو ھماری اور دوسرے برادران اسلامی کے لئے فائدہ مند ھیں اور اس سے بھت سارے باطل نظریات اور خیالی باتیں (جوکہ اخلاف وتقرقہ کا باعث ہوتی ھیں ) ختم ہو جائے گی۔
حدیث ثقلین کے ذیل میں جن موضوعات پر تحقیق کی گئی ھے وہ حسب ذیل ھیں۔
۱۔ سند حدیث ۲۔ عام ابلاغ کہ جس پر تاکید ہوئی ھے ۳۔ نصوص حدیث ۴۔ مفہوم حدیث

پھلی فصل
سند حدیث ثقلین حقیقت امریہ ھے کہ حدیث ثقلین تمام مسلمانوں کے نزدیک مورد اتفاق ھے۔ علماء اسلام اور مفکرین نے جومع، سنن، تفاسیر اور تاریخی کتابوں میں اس کو بھت سے طریقوں، معتبراور صحیح سندوں کے ساتھ ذکر کیا ھے۔
کتاب غاتیہ المرام میں انتالس اھل سنت سے اور بیاسی حدیث علماء شیعہ کے حوالے سے درج ھیں۔ ([٣])
علامہ سید حامد حسین ھندی (صاحب عبقات ) نے مذھب اربعہ کے علماء میں سے ایک سو نوں ایسے افراد کا تزکرہ کیا ھے جو دوسری صدی ھجری سے لیکر تیرہویں صدی ھجری کے آخر تک کے علماء ھیں۔ ([٤])
سید محقق عبدالعزیز طبا طبائی نے دوسری صدی ھجری سے لیکر چودھویں صدی ھجری تک کے مزید ایک سو اکیس علماء کا ذکر کیا ھے۔ ([٥])اس طرح علماء اھل سنت کی تعداد جنھوں نے حدیث ثقلین کو نقل کیا ھے تین سو گیارہ (۳۱۱) ہو جاتی ھے۔ ([٦])
بھر کیف موردا عتماد اور مشہور و معروف کتابوں نے اس حدیث کو نقل کیا ھے ان اھم کتابوں میں سے بطور نمونہ ان کتابوں کو پیش کیا جاسکتا ھے صحیح مسلم۔ سنن ترمذی۔ سنن الدارمی۔ مسند احمد بن حنبل۔ خصائص نسائی۔ مستدرک الحاکم۔ اسد الغابہ۔ العقد الفرید۔ تذکرة الخواص۔ ذخائر العقبیٰ۔ تفسیر ثعبلی وغیرہ۔۔۔ ([٧])
یہ وہ سنی کتب ھیں کہ جن کو حدیث ثقلین کی سند کے حوالہ سے ذکر کیا گیا ھے جبکہ شیعہ کتب اس کے علاوہ ھیں۔ ([٨])مرد و عورت اصحاب رسول کی ایک کثیر تعداد نے حدیث ثقلین کی روایت کی ھے۔
ابن حجر نے صواعق محرقہ میں کھا ھے کہ حدیث تمسک (بہ قرآن و عترت ) کی سند کے بھت سارے طریقے ھیں۔ بیس (۲۰)سے زائد اصحاب نے اس کی روایت کی ھے۔ ([٩])
عبقات الانوار میں مرد و عورت مل کر چوتیس (۳۴) اصحاب نے اس کو نقل کیا ھے۔ اور ان سب کے اسماء اھل سنت کی کتابوں سے لے گئے ھیں۔ ([١٠])
چنانچہ (احقاق الحق و غاتیہ المرام ) وغیرہ میں مذکورہ روایتوں اور سندوں کو اس میں بڑھا دیا جائے تومردو زن راوی اصحاب کی تعداد پچاس (۵۰)سے اوپر ہو جاتی ھے۔
ان کے اسماء حسب ذیل ھیں۔
(۱) امیر المومنین(ع) عليه السلام
(۲) امام حسن عليه السلام
(۳) سلمان فارسی
(۴) ابوذر غفاری
(۵) ابن عباس
(۶) ابو سعد خدری
(۷) عبد اللہ ابن حنطب
(۸) جیربن مطعم
(۹) براء بن عاذب
(۱۰) انس بن مالک
(۱۱) طلحہ بن عبد اللہ تمیمی
(۱۲) عبد الرحٰمن بن عوف
(۱۳) جابربن عبد اللہ انصاری
(۱۴) ابوھشیم فرزند تیھان
(۱۵) ابورافع صحابی رسول اکرم (ص)
(۱۶) حذیفہ ابن یمانی
(۱۷) حذیفہ ابن اسید غفاری
(۱۸) حذیفہ ابن ثابت ذوالشھاد تین
(۱۹) ذید بن ثابت
(۲۰) ابوھر یرہ
(۲۱) ابولیلیٰ انصاری
(۲۲) ضمیرہ اسلمی
(۲۳) عامر بن لیلیٰ
(۲۴) حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ رعلیھا
(۲۵) ام سلمہ
(۲۶) ام ھانی
(۲۷) زید بن ارقم
(۲۸) ابن ابی دنیا
(۲۹)حمزہ سلمی
(۳۰) سعد ابن ابی وقاص
(۳۱) عمرو بن عاص
)۳۲(سھل بن سعد انصاری
(۳۳) عدی بن حاتم
(۳۴) عبقہ بن عامر
(۳۵) ابو ایوب انصاری
(۳۶) ابو شریخ خزاعی
(۳۷) ابو قدامہ انصاری
(۳۸) بریرہ
(۳۹) جشی بن جنادہ
(۴۰) عمر بن خطاب
(۴۱) مالک بن حویرث
(۴۲) جیب بن بدیل
(۴۳) قیس بن ثابت
(۴۴) زید شراحیل
(۴۵) عائشہ بنت سعد
(۴۶) عفیف بن عامر
(۴۷) عبد بن حمید
(۴۸) محمد بن عبد الرحمٰن بن فلاد
(۴۹)ابو طفیل عامر بن واثلہ
(۵۰) عمرو بن مرّہ
(۵۱) عبد اللہ بن عمر
(۵۲) اُبی بن کعب
(۵۳)عمّار
جو کچھ اب تک بیان کیا جا چکا ھے اس پر غور فرمائیں مذکورہ رادیوں کے مستقلاً روایت کرنے کے ساتھ ساتھ جس کا سنی و شیعہ کتب میں تذکرہ موجود ھے۔
یہ حدیث غدیر خم رسول اللہ کے خطبے میں بیان کی گئی ھے۔ اسی بناپر غدیر کی سند حدیث ثقلین کی بھی سند شمار ہوتی ھے۔
اور حدیث غدیر کو سو (۱۰۰) سے زائد اصحاب نے نقل کیا ھے انھیں اسناد پر حضرت امیر المومنین(ع) علیہ اسلام کے اس استدلال کا اضافہ کرتے ھیں۔ جو آپ نے حدیث ثقلین کے بارے میںایسے مجمع کے سامنے بیان فرمایا تھا جس میں اصحاب رسول بھی تھے اور اکثر صحابہ نے اس حدیث کے (رسول خدا) سے صادر ہونے کا اعتراف بھی کیا ھے۔ ([١١])
اس کے علاوہ حدیث ثقلین کو ان افراد نے نقل کیا ھے کہ جھنوں نے اپنی کتاب کے مقدمے میں یہ بات لکھی ھے کہ ھم نے اپنی کتاب میں معتبر کتابوں سے صرف صحیح احادیث کو جمع کیا ھے۔ جیسے ([١٢]) ملا محمد مبین (فرھنگی محلی) لکھنوی ([١٣]) ولی اللہ لکھنوی۔ ھیشمی نے بھی اس بات کی صراحت کی ھے کہ جن افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ھے وہ ثقہ اور مورد اطمنان افراد ھیں۔ ([١٤])
مذکورہ مقامات کے علاوہ دوسرے بھت سارے ایسے شواھد ھیں جو اس حدیث کی صحت اور تواتر دلالت کرتے ھیں۔ چنانچہ ایک گروہ نے اس کے تواتر کا ذکر کیا ھے ان میں سے ایک صفانی ھیں جوابحاث المسدّدہ کے ملحقات میں یور قمطراز ھیں۔ اس حدیث کے لئے روایات تواتر معنوی پر مشتمل ھیں۔ ([١٥])
بھر کیف حدیث ثقلین علماء اھل سنت و شیعہ کے نزدیک متفق علیہ حدیث ھے اور اس کا پیغمبر اسلام سے صادر ہوناقطعی ھے۔

دوسری فصل
ابلاغ عام کہ جس پر تاکید ھوئی ھے۔ حدیث ثقلین کو قطعی اور یقینی طور پر رسول اکرم (ص) نے متعدد مقامات پر مختلف اوقات میں ارشاد فرمایا ھے کہ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ھے کہ اس کا مقصد عام لوگوں تک اس کو پنچانا اور امت مسلہ پرا تمام حجت کرنا ھے جن مواقع پر آنحضرت نے یہ حدیث بیان فرمائی ھے ان میں سے ایک مقام عرفہ ھے۔
صاحب سنن ترمزی نے اس حدیث کو اسی تمام سندوں کے ساتھ حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ھے وہ کھتے ھیں۔ میں نے رسول اکرم (ص) کو ایام حج میں میدان عرفہ میں دیکھا کہ آپ ایک قصویٰ نامی اونٹنی پر سوار تھے۔ ([١٦])اور خطبہ ارشاد فرمایا رھے تھے میں آپ کو ارشاد فرماتے سنا: ایھاالناس میں تمھارے درمیان ایک امانت چھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس کو محفوظ رکھا تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا (قرآن ) اور میری عترت کہ اھل عقل و فکر ھیں۔ ([١٧])
اور منیٰ میں بھی حضرت نے یہ حدیث ارشاد فرمائی۔ اس کو صاحب غیبتہ النمعانی نے اپنی کتاب میں اسناد کے ساتھ حریز بن عبداللہ عن ابی عبداللہ جعفر بن محمد عن آیاہٴ عن علی علیہ اسلام سے نقل کیا ھے۔ آپ نے فرمایا کہ مسجد حنیف میں رسول خدا(ص) نے خطبہ دیا۔ جس کے ضمن میں اس حدیث کو بیان کیا([١٨])اور فرمایا:
یقینا میں (آخرت کی جانب ) تم سے پھلے جارھاھوں اور تم حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو گے وہ ایک ایسا حوض ھے جس کا عرض بصریٰ سے صنعا تک ھے اور اس پر رکھے ہوئے جام آسمانی ستاروں کے برابر ھیں آگاہ ہوجاوٴ کہ تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ ۱۔ ثقل اکبر جو کہ قرآن ھے ۲۔ثقل اصغر جو کہ میری عترت (طاھرہ)ھے یہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان کھنچی ہوئی رسی کے مانند ھیں۔ لھٰذا ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمرہ نہ ہوگے اس کا ایک سرا خدا کے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا تمھارے ھاتھوں میں ھے۔ ([١٩])
دوسری وہ جگہ جھاں پر رسول اکرم (ص) نے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی غدیر خم ھے۔ چنانچہ مستدرک حاکم وغیرا میں زید بن ارقم سے روایت ھے کہ جب رسول اکرم (ص) حجتہ الوداع سے واپس ہورھے تھے تو غدیر خم میں منزل کی (اور لوگوں کو سائے میں جانے) کا حکم دیا: اور سائبانوں کے لئے خس وخاشاک اکھٹاکئے گئے (اور لوگ سائبانوں تلے جمع ہوئے)۔
اس وقت آپ نے فرمایا: گویا مجھے اس دنیا سے کوچ کا حکم مل چکا ھے اور میں نے اس پر لبیک کہہ دیا ھے (لھٰذا میری وصیت کو غور سے سنو)
بیشک میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں جن میں سے ایک دوسرے سے بزرگ ھے کتاب خدا (قرآن) اور میری عترت لھٰذا دھیا ن رکھو کہ کس طرح تم ان دونوں کے سلسلے میں میری مدد کرتے ہو۔
اور یہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز قیامت) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے اس کے بعد فرمایا:
یقینا خدا میرا مولیٰ ھے اور میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں اس کے بعد حضرت علی عليه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا: جس کا میں مولیٰ ھوں اس کے علی مولیٰ ھیں ([٢٠])
مسلم نے صحیح ([٢١])میں اور طبرنی نے معجم الکبیر ([٢٢])میں اور ان کے علاوہ دوسرے افراد نے اس حدیث کی روایت کی ھے۔
نبی اکرم نے جن مواقع پر حدیث ثقلین بیان فرمائی ھے ان میں سے ایک مدینہ منورہ ھے جب آپ سفر سے واپس آئے تھے۔
چنانچہ ابن مغازلی شافعی نیاپنی مناقب میں حاکم سے اور انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ھے کہ رسول خدا(ص) سفر سے واپس آئے تو (آپ کے چھرے کا رنگ متغیر تھا اور آپ کریہ فرما رھے تھے اور اسی حالت میں آپ نے ایک بلیغ خطبہ دیا۔ اور فرمایا: اے لوگو! دو بھت قیمتی چیزیں تمھارے درمیان بطور جانشین چھوڑ کر جا رھا ھوں کتاب خدا (قرآن) اور میری عترت ([٢٣])یہ حدیث پیغمبر اسلام آخری خطبے میں بھی ذکر کی گئی ھے۔
ینابیع المودة میں جموینی نے امام علی عليه السلام سے روایت کی ھے آپ نے فرمایا: نبی اکرم نے اپنے آخری خطبے میں (جس روز خدا تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی) فرمایا: دو چیزوں کو تمھارے سپرد کرکے جا رھا ھوں اگر ان سے متسک رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے کتاب خدا اور میری عترت۔ خدا وند مھربان وآگاہ نے مجھ سے وہ عدہ کیا ھے کہ یہ دونوں ھر گز جدا نہںھوں گے یھاں تک کہ قیامت کہ دن حوض کوثر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس طرح سے پھر دونوں ھاتھوں کی انگشت شھادت کو ملا کرفرمایا ایسے ([٢٤])اس کے بعد انگشت شھادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا ایسے نھیں۔ لھٰذا ان دونوں سے متمسک رہو ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو (ورنہ) یقینی طور پر گمراہ ہو جاوٴ گے۔۔۔ ([٢٥])
غیتہ النمانی([٢٦])اور ارجح المطالب ([٢٧])میں اس حدیث کے مثل روایت کی گئی ھے۔ ان مواقع میں جھاں آپ نے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی حالت بیماری بھی ھے جس میں آپ کی وفات ہوئی۔
چنانچہ ینابیع المودة میں (علّامہ قندوزی) نے لکھا ھے کہ: ابن عقدہ نے عروة بن خارجہ کے طریقے سے جناب زھرا سلام اللہ علیھا سے روایت کی ھے آپ نے فرمایا: کہ میں نے اپنے والد بزرگوار سے (اس بیماری کی حالت میں جو وفات کا باعث بنی) سنا آپ نے فرمایا: (جبکہ آپ کا حجرہٴ مبارک اصحاب سے بھرا ہوا تھا) اے لوگو! عنقریب قبض روح کے بعد تمھارے درمیان سے چلا جاوٴں گا ایک خاص بات کھنا چاھتا ھوں تاکہ تمھارے لئے حجت رھے۔
جان لو کہ۔ در حقیقت تمھارے درمیان اپنے خدا کی کتاب اور اپنی عترت کو بطور جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ علی عليه السلام قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی عليه السلام کے ساتھ ھے۔
دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے اور ان میں فاصلہ نھیں ہوگا یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اس وقت میں تم لوگوں سے سوال کروں گا کہ تم لوگوں نے ان دونوں کے بارے میں میرے ساتھ کیا برتاوٴکیا([٢٨])
ابن حجر کا کھنا ھے کہ۔ ([٢٩])بعض سندوں میں ذکر کیا گیا ھے کہ رسول اکرم (ص) نے حدیث ثقلین کو عرقہ میں بیان فرمایا ھے۔
دوسرے طریقے سے روایت کی گئی ھے کہ رسول اکرم (ص) نے اس کو غدیر خم میں بھی بیان فرمایا ھے۔ اسی طرح اور ایک طریقہ سے روایت ھے کہ رسول اکرم (ص) نے اس کو مدینے میں ذکر فرمایاھے جبکہ آپ بستر بیماری پر تھے اور اصحاب سے آپ کا حجرہٴ مبارک بھرا ہوا تھا۔ دوسری جگہ کھا گیا ھے کہ طالٴف سے واپسی پر آپ نے حدیث ثقلین کو بیان کیا ھے جبکہ آپ کھڑے ہوئے خطبہ ارشاس فرما رھے تھے۔
پیغمبر اسلام کا مختلف طریقوں سے حدیث ثقلین کا فرمانا کسی قسم کے منافات کا سبب نھیں ھے۔ اس لئے کہ رحلت پیغمبر کے بعد لوگوں کی ھدایت و رھبری کے لئے قرآن و عترت کی اھمیت کے پیش نظر آپ نے اس حدیث کو مختلف مواقع پر متعدد بار فرمایا ھے۔ ([٣٠])
اور اسی طرح سے اس کو بار بار ھرانا نھایت ھی سود مند تھا کیونکہ یہ کام:

اولاً: قرآن و عترت کی اھمیت کی خاطر تھا۔ و ثانیاً: کسی کے لئے کوئی عذر کا موقع نہ چھوڑنے کی خاطر تھا۔ جیسا کہ خود پیغمبر نے اس طرف اشارہ فرمایا ھے (ایسا امر تمھارے لئے بیان کرنا چاھتا ھوں کہ تمھارے لئے حجت رھے)۔
حدیث ثقلین(مختلف زمان و مکان میں مثلاً عرفہ، منیٰ، غدیر خم، اور آخری خطبہ جو کہ رسول اکرم (ص) نے وفات سے پھلے ارشاد فرمایا تھا) لوگوں کے عظیم الشان رھبر کی جانب سے اس لئے بیان ہوئی کہ آپ کو اسلام و مسلمین کی حیات پر اختیار تام حاصل تھا۔ لھٰذا ( رسول خدا(ص) کی جانب سے) اس حدیث کا بار بار دھرانا جیسا کہ ذکر ہو چکا ھے خاص طور سے ایام ومقامات پر جبکہ شدت تمازت آفتاب زوروں پر تھی اور لوگوں کا اژدھام تھا (یعنی میدان غدیر خم میں) خصوصاً آپ کی حیات طیبہ کے آخری ایام میں اور آپ کا اپنی وفات کے بارے میں مطلع کرنا تاکہ مسلمان اس کی اھمیت کو محسوس کریں۔ اور برادرن اسلامی (خدا ان کے عزت وشرف میں اضافہ کرے) پر واجب ھے کہ زیادہ سے زیادہ اس حدیث کے مطالب توجہ فرمائیں اور اس پر عمل پیرا ھوں ۔
ھمارا فریضہ ھے کہ ھم اپنے آپ کو دیکھیں کہ آیا ھم قرآن و عترت رسول سے متمسک ھیں یا نھیں؟
خدا گواہ ھے کہ حدیث شریف (کہ جس پر مسلمان کا اجماع ھے)
مسلمان کی رھبری کی وضاحت اور اتحاد واتفاق کے مسئلہ کو آسان بنانے کے لئے کافی ھے۔
اے برادران اسلامی فکر کریں غوور خوض کریں اور اپنے اصلاح نفس کے لئے کوشال رھیں اور حق حقیقت کا اعتراف کریں اس لئے کہ یہ راہ حق ھے اور پیغمبر اسلام(ص) نے (متعدد مقامات اور بڑے ھی سخت مواقع پر) اس کی وصیت و سفارش کی ھے لھٰذا اس کی مخالف نہ کریں۔
مختلف زمان و مکان میں حدیث ثقلین کی نشر واشاعت اور اس میں وقت اور تفکر ھم پر واجب ھے اور ھماری یہ عمل درحقیقت رسول اکرم (ص) کی پیروی ھے جیسا کہ جناب ابوذر نے در کعبہ کی زنجیر کو پکڑ کر لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ میں نے رسول اکرم (ص) کو فرماتے سنا ھے کہ آپ نے فرمایا:
تمھارے درمیان دو گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ایک کتاب اور دوسرے میری عترت یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاوات کریں گے۔ پس دھان رکھنا تم لوگ دو چیزوں میں میری کس حد تک مدد کرتے ہو۔ ([٣١])

حدیث ثقلین سے استدلال تعیین خلیفہ کے لئے تشکیل دی گئی شوایٰ میں مولائے متقیان نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے دوسروں سے زیادہ حقد ارثابت کرنے کے لئے حدیث ثقلین سے استدلال فرمایا تھا۔
ابن مغازلی نے اپنی تمام اسناد کے ساتھ عامر بن واثلہ سے روایت کی ھے وہ کھتا ھے: شوریٰ کے دن علی عليه السلام کے ساتھ حجرہ میں تھا میں نے خود علی(ع)کو یہ کھتے سنا ھے انھوں نے اھل شوریٰ سے مخاطب ہو کر کھا: میں تمھارے درمیان ایک ایسی چیز سے استدلال کروں گا کہ عرب و عجم میں سے کوئی بھی اس کو بدلنے کی طاقت نھیں رکھتا۔ اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں تم کو خدا کی قسم دیتا ھوں کیا تم لوگوں میں سے کوئی ھے جو مجھ سے پھلے وحدانیت خدا پر ایمان لایا ہو۔؟
لوگوں نے یک زبان ہو کر کھا: نھیں۔ ( ھم آپ پر سبقت نھیں رکھتے) یھاں تک کہ آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتا ھوں کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اسلام نے فرمایا: تمھارے درمیان دو گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ایک قرآن دوسرے میری عترت جب تک اس سے متمسک رہو گے ھر گز گمراہ نھیں ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ھوں گے یھاں تککہ کوثر پر ھم سے ملاقات کریں گے۔
لوگوں نے کھا: ھاں۔ ایساھی ھے۔ ([٣٢])
اسی طرح سے حضرت عثمان کے دور خلافت میں مسجد نبوی میں اصحاب کے درمیان آپ نے اس حدیث سے استدلال فرمایا:
لوگوں نے یک زبان ہوکر کھا کہ ھم اس بات کی گواھی دیتے ھیں کہ رسول اسلام نے وھی کچھ فرمایا ھے جو کہ آپ نے کھا ھے۔([٣٣])
امام حسن بن علی علیھما السلام نے بھی اپنے آپ کو امامت کا حقدار ثابت کرتے ہوئے اس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ھے۔
شیخ سلیمان قندوزی نے ینابیع المودةمیں مناقب ھشام بن حسان سے روایت کی ھے۔ جب لوگوں نے امام حسن عليه السلام کی بیعت کرلی توآپ نے فرمایا: ھم خدا کی فوج ھیں جو کہ غالب و فاتح ھیں۔ ھم عترت رسول ھیں جو کہ ان کے نزدیک ترین افراد ھیں ھم ھی رسول کے طیب و طاھر اھل بیت ھیں ھم دو گرانقدر چیزوں میں ایک ھیں جس کے بارے میں ھمارے جد محترم نے امت کے درمیان جانشینی کا اعلان کیا تھا ھم خدا کی کتاب ثانی ھیں جس میں تمام چیزیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ھیں باطل کسی بھی راستے سے ان میں نفوذ نھیں کر سکتا۔ ([٣٤])

تیسری فصل
سلسلہٴ سند حدیث ثقلین ۱۔ عنقریب (موت کے لئے) بلایا گیا ھوں میں نے اس پر لبیک کھی ھے اور تمھارے درمیان دو گر نقدر چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کتاب خدا جو آسمان سے لیکر زمین تک ایک آو یز ان ریسمان ھے اور میری عترت۔ خدا وندے علیم و خبیر نے مجھ کو اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ھر گز جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ پس دھیان رکھو کہ تم لوگ اس دوامر میں میری کس طرح سے جماعت کرتے ہو۔ ([٣٥])
۲۔در حقیقت تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگر اس سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور وہ دو چیزیں قیمتی ھیں کہ جس میں سے ایک کا رتبہ دوسرے سے بلند ھے۔
اور غدیر خم کے موقع پر رسول خدا(ص) نے اس فقرے کا اضافہ کیا ھے۔ (پسدھیان رکھو کہ ان دو چیزوں میں تم لوگ کس طرح سے میری مدد کرتے ہو یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے) اس کے بعد فرمایا (خدا میرا مولا ھے میں ھر مومن کا مولیٰ ھوں ) اس بعد حضرت علی عليه السلام کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا جس کا میں مولا ھوں علی اس کے مولا ھیں۔ ([٣٦])
۳۔ غدیر خم میں بھی رسول نے فرمایا: اپنے اھلبیت کے بارے میں تمھیں یاد دھانی کراتا ھوں (کہ ان کے حق کا لحاظ کرنا اور ان کی پیروی کرنا) اور تین دفعہ اس جملہ کو دھرایا۔ ([٣٧])
۴۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے (جس دن آپ کی وفات ہوئی اسی دن آخری خطبہ میں) فرمایا: یقینا تمھارے درمیان دو چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے مستمک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ۱۔ کتاب خدا۔۲۔ میری عترت۔ خدائے رحیم وعلیم نے مجھ سے وعدہ کیا ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے ان دونوں کی طرح اس کے بعد دونوں ھاتھ کی انگشت شھادت کو اکھٹا کرکے فرمایا: یوں (اور انگشت شھادت اور انگشت وسطیٰ کو ملا کر فرمایا:)
ان دونوں سے اپنا واسطہ جوڑ لو اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ور نہ گمراہ ہوجاوٴ گے۔ ([٣٨])
۵۔ حتمی طور پر اپنے بعد تمھارے درمیان ایسی چیزیں جھوڑ کر جارھا ھوں کہ اگران سے مستمک رہو گے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے کتاب خدا جو کہ تمھارے سامنے ھے دن و رات اس کو پڑھو اور قرآن میں وہ سب کچھ ھے جو تم چاھتے ہو اور پسند کرتے ہو۔
ایک دوسرے کے رقیب نہ بنو ایک اور دوسرے سے حسد نہ کرو دشمنی نہ کرو آپس میں برادرانہ رویہ اختیار کرو کیونکہ خدا نے تمھیں اس بات کا حکم دیا ھے۔ آگاہ ہو جاٴو (ان نصیحتوں کے بعد) تمھیں اپنی آلعليهم السلام کے لئے وصیت و شفارش کررھا ھوں ۔ ([٣٩])
۶۔لھٰذا ن (قرآن و عترت) سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ ھلاکت ھے ان کو کوئی چیز نہ سکھاوٴ کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں ([٤٠])
۷۔میری عترت سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ (گمراہ ہوکر) مروگے اپنے آپ کو علوم و معارف الٰھی میں ان سے بے نیاز نہ سمجھو کیونکہ تمھیں موت آنے والی ھے۔ یقینا ان کی مثال کشتی نوح کی مانند ھے جو اس پر سوار ہوا نجات پا گیا اور جو اس سے الگ ہوا ھلاک ہوا۔ ان کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ ([٤١])کی سی ھے جو کوئی اس میں داخل ہوا خدا نے اس کو معاف کر دیا۔ آگاہ ہو جاوٴ کہ میری عترت میری امت کے لئے امان ھے۔
پس میری عترت جس وقت چلی جائے گی تو میری امت تک وہ چیز پھنچے گی جس کا وعدہ کیا جاچکا ھے۔
آگاہ ہو جاوٴ کہ خدا وند تعالیٰ نے ان کو گمراھی سے دور رکھا ھے برائی و کثافت و گناہ سے ان کو منزہ رکھا ھے اور تمام عالم پر ان کو فوقیت بخشی ھے۔ جان لو کے خدا وند کرئم نے ان کی محبت کو واجب قرار دیا ھے اور ان کی موت وپیروی کا حکم دیا ھے۔ ([٤٢])
۸۔ در حقیقت تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ ۱ کتاب خدا۔ ۲۔ میری عترت۔ جان لو کہ یہ دونوں میرے بعد تمھارے درمیان میرے جانشین ھیں اور دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([٤٣])
۹۔ یقینا تمھارے درمیان اپنے دو جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ کتاب خدا جو کہ دونوں ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ (روز محشر) حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([٤٤])
۱۰۔ در حقیقت امت کے درمیان دو جانشین چھوڑ کر جارھا ھوں ۔ قرآن اور میرے اھلبیتعليهم السلام۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہونگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([٤٥])
۱۱۔حقیقتاً میرے رحیم و خیبر خدا نے مجھ کو خبر دی ھے کہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ اور ان دونوں کے لئے میں نے یہ خدا سے خواست کی ھے۔ لھٰذا ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا اور اپنے آپ کو بے نیاز نہ سمجھنا۔ ورنہ (گمراہ ہو کر) مرو گے اور ان کو کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں جس پر بھی مجھے اس کے آپ سے زیادہ حق ولایت واطاعت ھے علی اس کے سر پرست وولی ھیں۔ خدایا جو علی کو دوست رکھے اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی رکھے اس سے دشمنی رکھ۔ ([٤٦])
۱۲۔ رسول اکرم (ص) (ص) نے جحفہ میں دوران خطبہ ارشاد فرمایا: کیا میں تمھارے نفسوں پر تم سے زیادہ حق نھیں رکھتا؟ سب نے یک زبان ہو کر کھا کیوں نھیں۔ یا رسول اللہ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: پس یقینا تم کو دو حقیقت و واقیعت کے بارے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں ۔ قرآن اور میری عترت۔ ([٤٧])

چوتھی فصل
حدیث کی افادیت حدیث ثقلین سے حسب ذیل مطالب کا استفادہ ہوتا ھے۔
۱۔ پیغمبر اکرم کا اپنی موت کے بارے میں اطلاع دینا کہ جس پر بھت ساری رویات دلالت کرتی ھیں مثلاً آپ نے فرمایا: (میری موت نزدیک ھے اور میں اس کے لئے آمادہ ھوں ) ([٤٨])
نیز آپ نے فرمایا: (خدائے عزوجل نے مجھے بذریعہ وحی اس بات کی اطلاع دی ھے کہ میری موت کا وقت آچکا ھے۔) ([٤٩])
اپنی موت کے بارے میں پیغمبر کا خبر دینا اس بات کا غماز ھے کہ رسول اپنی رحلت کے بعد اپنی امت کے وظیفوں اورذمہ داریوں کو بیان فرمانا چاھیتے تھے تاکہ امت مسلمہ کو ان کے حال پر نہ چھوڑیں اور ایسی باتیں قرین عقل ھیں۔
اور حقیقت حال یہ ھے کہ نبی اکرم جیسی عظیم شخصیت کی حامل بابرکت ذات اس بات پر کیسے راضی ہوجاتی کہ ان کی وفات کے بعد امت مسلمہ کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ جبکہ آپ کو اسلام پھیلانے اور پھنچانے میںبے شمار مصائب وآلام سے دوچار ہونا پڑا ھے۔ لھٰذا حکمت خدا اور درایت رسول خدا(ص) کا ان باتوں کے لئے راضی ہونا بعید از عقل ھے۔
۲۔ خدا کی کتاب (قرآن) اور میری عترت طاھرہ کا امت کے درمیان چھوڑنا ان کی خلافت و جانشینی کے معنیٰ میں ھے اس بنا پر قرآن و عترت رسول، امت مسلمہ کے لئے رسول کے جانشین وخلیفہ ھیں اور ان کا آپس میں ھم آھنگ ہونا اور متضادنہ ہونا رسول کے قائم مقام ہونے پر دلالت کرتا ھے۔ اسی وجہ سے بعض روایات میں ان دونوں کو خلیفہ کے لفظ سے یاد کیا گیا ھے۔
احمد بن خنبل نے اپنی مسند میں زید بن ثابت سے روایت کی ھے کہ رسول اکرم (ص) (ص) نے فرمایا: در حقیقت میں نے تمھارے درمیان دو خلیفہ رکھ چھوڑا ھے۔([٥٠])؟؟
ابن سعید خدری سے روایت ھے کہ رسول اکرم (ص) (ص) کا ارشاد ھے کہ۔ میں تمھارے درمیان دو قیمتی چیزیں بطور جانشین چھوڑ رھا ھوں ۔ قرآن اور عترت۔([٥١])
یا آپ نے فرمایا: میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزوںکو جانشین اور خلیفہ قرار دیتا ھوں ۔ ([٥٢])در حقیقت تمھارے درمیان دو بھت قیمتی امر کو خلیفہ قرار دیتا ھوں ۔([٥٣])
عترت طاھرہ کو خلیفہ بنانا اور ان کو اپنا مقام دینا اس بات کو متقاضی ھے کہ یہ (عترت رسول) تمام رسالتی کمال و جمال کے حامل ھیں۔
اسی واسطے احادیث میں مفہوم (خلیفہ )عترت کی سیاسی و علمی امامت و مرکزیت پر دلالت کرنا ھے۔ اور رسول وہ کا فرمان جس میں آپ نے بغیر کسی قید و شرط کے ان کی پیروی کا حکم دیا ھے اور ان سے آگے بڑھنے اور ان سے پیچھے رہ جانے کی ممانعت فرمائی ھے اسی افادیت و مرکزیت پر دلالت کرتا ھے۔
مگر افسوس کہ پیغمبر کی اتنی تاکید کے باوجود امت مسلمہ نے اھل بیتعليهم السلام کی پیروی نہ کی اور ان کی حقوق کی مراعات نہ کی اور ان کی امامت وولایت کو قبول نہ کیا اور جس راہ پر خود چاھا چل پڑ ے(جب کہ متعدد مقامات اور مختلف اوقات میں رسول نے ان کی اتباع کا حکم دیا تھا خاص طور سے غدیر خم اور قبض روح کے وقت)اور امت نے ان سے احکام وآداب وسنن دینی حاصل نہ کئے اور معارف وعلوم دینی کے لئے ان کی جانب رجوع نہ کیا یھاں تک کہ مجبور ہو کر قیاس۔([٥٤])
ابو یوسف نے اس سوال کو دوبارہ مضحکہ خیز انداز میں دھرایا اور جواب کا منتظر رھا اور کھا کہ خیمہ اور کجاوہ میں کیا فرق ھے ؟آپ نے فرمایا:ابو یوسف تم جس طرح سے اپنی فکر و نظر کے بل بوتے پر قیاس کر رھے ہو ایسا نھیں ھے تم دین سے کھیل رھے ہو،ھم وھی کچھ انجام دے رھے ھیں جو رسول اکرم(ص) نے انجا م دیا۔ اور جو کچھ فرمایا اس کو کہہ رھے ھیں۔ پیغمبر جس قوت کجاوے میں سوار ہوتے تھے۔(احرام کی حالت میں)سایہ میں نھیں جاتے تھے۔ لیکن خیمہ، گھر،دیوار ان کے سائے میں جاتے تھے۔ (معارف ومعاریف جلد ۴ صفحہ۱۸۰۷)
استحسان ([٥٥]) کی جانب چلے گئے اس لئے کہ ان کے پاس مکمل سنت کا وجود نھیں تھا۔
اس لئے عمر بن خطاب کی ممانعت کے سبب دوسری صدی ھجری تک احادیث نبوی([٥٦]) کو نھیں لکھا گیا۔([٥٧])
عمر بن عبد العزیز نے جب یہ دیکھا کہ آثار حدیث نبی اکرم(ص) ختم ہو رھے ھیں تو اس نے جمع حدیث کی ممانعت کا حکم ختم کردیا اور اس زمانے کے بعد سے علماء اھل سنت میں سے،مالک،احمد بن حنبل، بخاری،جیسے افراد نے جو آثار نبوی رہ گئے تھے ان کو قلمبند کر نا شروع کر دیا۔
باوجود یکہ بھت سارے آثار رسول اکرم(ص) فراموشی کی نذر ہو گئے تھے یا ان کے حفظ کرنے والے مر گئے تھے۔ یھاں تک کہ کچھ محققین کا کھنا ھے کہ اھل سنت کے پاس احکام کی پانچ سو روایات سے زیادہ نھیں ھیں۔
بھر حال دوسری صدی ھجری تک سنت رسول اکرم(ص) اھل سنت کے نزدیک نہ ھی جمع ہوئی تھی اور نہ ھی پہچانی جاتی تھی۔ جب کہ آپ کی مکمل سنت مطھرہ عترت طاھرہ کے پاس محفوظ تھی۔
پھر آخر کیا وجہ تھی کہ علوم آل محمد سے منھ پھیر لیا گیا درآن حالیکہ یہ اھل بیت عليهم السلام سنت نبی اکرم(ص) کو جیسے چاھیے ویسے نقل کر رھے تھے۔
محقق یکتا روزگار آقای بروجردی فرماتے ھیں۔ ائمہ اھل بیت عليهم السلام کے پاس بھت ساری روایات موجود ھیں اور ان بزرگان کے پاس رسول اکرم (ص) کی زبانی بیان کردہ اور امیر الموٴمنین عليه السلام کی تحریر کردہ ایک کتاب ھے جس میں تمام سنت نبی اکرم(ص) جس کو خدانے ان کو پھنچا نے کا حکم دیا تھا محفوظ ھیں۔
پھر آقای بروجری نے اس طرح کی کچھ احادیث کی وضاحت کی اور فرماتے ھیں۔ ([٥٨])
الف۔ رسول خدا(ص) نے اپنی رحلت کے بعد امت مسلمہ کو یوں ھی آزاد نھیں چھوڑ دیا ھے بغیر کسی ھدایت کرنے والے اور واضح ھدایت کے ان کوتنھا نھیں رھنےء دیا ھے۔
بلکہ ھدایت کرنے والے رھبر حق کی جانب دعوت دینے والے آقامولا، رھبر، حامی (دین) اور محافظ (اسلام) کو معین فرمایا ھے۔
معارف الٰھی، واجباب دینی، سنت آداب (دینی) حلال و حرام، حکمت، احادیث، اور وہ تمام چیزیں جس کی امت مسلمہ کو قیامت تک ضرورت تھی حتی کہ زخم کے نشان کی دیت تک کا حکم بیان فرمایا ھے۔
پیغمبر نے کسی بھی فرد کو اس بات کی قطعی اجازت نھیں دی ھے کہ اپنی رائے یا نظریاتِ قیاس کے ذریعہ کوئی فتویٰ دے۔ کیونکہ کوئی بھی موضوع کوئی بھی چیز حکم سے خالی نھیں ھے۔
وہ حکم جو کہ خدا وند منان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے لئے آیا ھے اور رسول اکرم (ص) نے یہ تمام قوانین خود حضرت علی عليه السلام کو تحریر کروائے ھیں۔
پیغمبر نے اس کے تحریر کرنے اور اس کی حفاظت کرنے اور اس کو فرزندان علی(ع)ابن ابی طالب تک جو کہ امامان امت ھیں پہچانے کا حکم دیا ھے۔
موملائے کائنات نے اس کو اپنے ھاتھوں تحریر فرمایا اور اس کو (اپنے بعد والے ائمہ) تک پھنچایا۔
ب۔ دوسرا فائدہ جو اس حدیث سے حاصل ہوتا ھے وہ یہ ھے کہ رسول خدا(ص) نے ان علوم کو صرف علی عليه السلام کے تحریر کروایا ھے حیات پیغمبر میں حضرت علی عليه السلام کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اس سے باخبر نھیں تھا اور رسول نے علی عليه السلام سے اس بات کی خواھش کی کہ یہ ان گیارہ فرزندوں تک جو کہ امام امت ھیں، منتقل ہو جائے۔
لھٰذا اب امت مسلمہ پر واجب ھے کہ حلال و حرام اور وہ علم جو کہ ان کے دین کی ضرورت ھے امیر المومنین(ع) عليه السلام اور ان کے گیارہ فرزندوں سے حاصل کریں جواھل بیت رسول ھیں۔ حقیقت یہ ھے کہ یہ افراد اسرار اوسنت پیغمبر سے باخبر ھیں خزانئہ علم اور رسول کے دین مبین کے حامی ھیں۔
ج۔ وہ کتاب جو پیغمبر کی زبان مبارک سے سن کر امیر المومنین(ع) عليه السلام نے تحریر فرمائی ھے اماموں کے پاس رھی ھے اور اسے امام محمد باقر عليه السلام اور امام جعفر صادق عليه السلام نے کچھ اصحاب اور گروھوں کو دکھایا بھی ھے تاکہ لوگوں کو اطمینان ہو اور اس طرح سے اتمام حجت ہوسکے۔
محقق عظیم آقای برو جروی فرماتے ھیں۔لھٰذا ان سے احادیث لینا اور انھیں سیکھنا ضروری ھے کیونکہ یہ ان احادیث سے زیادہ اطمینان بخش ھیں جو دوسرے افراد کے پاس ھیں۔ ([٥٩])
۳۔ حقیقت یہ ھے کہ قرآن و عترت سے متمسک رھنا ھر مسلمان پر واجب ھے ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے متمسک رھنا غلطی ھے۔ کیونکہ ان دونوں سے متمسک رھنے کے لئے حدیث ثقلین میں حکم آیا ھے۔
جس طرح لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ قرآن سے متمسک رھیں اسی طرح سے حکم دیا گیا کہ عترت سے جڑے رھیں۔
بعض روایات میں آیا ھے کہ تمھارے درمیان تمام حقیقتوں کو چھوڑ کر جارھا ھوں اگر ان سے متمسک رھے اور وابستہ رھے تو میرے بعد ھر گز گمراہ نھیں نہ ہوگے۔
کتاب خدا شب و روز تمھارے پاس ھے جس میں وہ سب کچھ ھے جس سے تم محبت کرتے ہو اور جو کچھ تم چاھتے ہو۔ ([٦٠])
اب قرآن کی طرف رجوع کرنے اور اس سے متمسک رھنے کا حکم اس بات کا غمازھے کہ قرآن ایک واضح اور روشن بیان کرنے والا اور قطعی جواب دھندہ ھے۔ امت مسلمہ کا قرآن سے تمسک صحیح نھیں ھے مگر صرف اس حد تک کہ ظورھر قرآن دلیل و حجت ھیں۔ اور ظواھر و محکمات قرآن ھر حال میں ھدایت و نور ھیں۔ اگر چہ آیات کی تفصیل اور تفسیر پیغمبر اور عترت پیغمبر کے ذمہ ھے، لھٰذا ظاھر قرآن و ضاحت اور تفصیل کی منزلوں میں نھیں ھے جیسے خصوصیات و کیفیت نماز، زکات، حج وغیرہ۔
اسی طرح سے مراتب معارف کی تعیین، اخلاقی۔ اجتماعی مسائل، قرآن کی (تفسیر بھی ) عترت آل عليهم السلام کے ذمہ ھے۔
بھر حال آل محمد عليهم السلام سے متمسک رھنے سے قرآن کو چھوڑ دینے کا قطعی جواز نھیں بنتا۔کیونکہ عترت آل محمد عليهم السلام نے احادیث میں اختلاف کی صورت میں قرآن ھی کومعیار بنایا ھے اور روایات و احادیث کی صحت وصواب کے لئے قرآن کی جانب رجوع کیا ھے۔ اس روسے قرآن کی جانب رجوع کرنے اور اس سے روشنی طلب کرنے کی تاکید کی گئی ھے، اوراس طرح کی تاکید قرآن کی تلاوت اور اس کے بارے غوروفکر کرنے کی ان کی روشوں سے جدا ھے۔
اس سلسلے میں حضرت امیر المو منین عليه السلام کا بیان کافی ہوگا۔
آگاہ ہو جاوٴ کہ قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ھے جو کبھی فریب نھیں دیتا ایسا ھدایت کرنے والا ھے جو گمراہ نھیں کرتا۔ اور ایسا سخنور ھے جو جھوٹ نھیں بولتا جو کوئی اس کاھم نشین ہوگا وہ زیادتی اور نقصان کے ساتھ اس کے پھلو سے الٹے گا۔ ھدایت میں زیادتی ہوگی جھل اور کور دلی میں کمی۔
اس بات کو جان لو کہ جو کوئی قرآن رکھتا ہوگا وہ فقر بیچارگی سے محفوظ ہوگا،کوئی بھی اس سے قبل غنی اور بے نیاز نھیں ہو سکتا۔ لھٰذا قرآن سے اپنے لئے شفا اور بھبود ی طلب کرو۔
مصائب کی برترفی اور مشکلات میں کامیابی کے لئے قرآن کی مدد حاصل کرو کیونکہ قرآن میں کفر ونفاق وگمراھی وضلالت جیسی بڑی سے بڑی بیماری کا علاج موجود ھے۔ لھٰذا جو کچھ بھی چاھتے ہو قرآن کے وسیلہ سے طلب کرو۔
اور قرآن سے دوستی کر کے خدا کی جانب متوجہ ہو۔ کتاب خدا کے توسل کے علاوہ مخلوقات سے کچھ بھی نہ مانگو۔(قرآن کو اپنی مادی آرزووٴں کے توسل کا وسیلہ نہ بناوٴ)۔کیونکہ بندے اس کے توسل سے جو تقرب خدا حاصل کریں گے وہ اس سے زیادہ لائق احترام ہوگا۔
یہ بات جان لو کہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ھے کہ جس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ایسا متکلم ھے جس کی باتوں کی تصدیق ہوگی۔
قرآن جس کی شفاعت کرے اس کی شفاعت ہو جائے گی اور جس کے خلاف شکایت کرے گا اس کی شکایت سنی جائے گی۔([٦١])
ھمارے امام اور پیشوا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں کہ: تین افراد کی شکایت خدا کے نزدیک سنی جائے گی، ۱۔وہ ویران مسجد جس میں نماز نہ ادا کی جاتی ہو، ۲۔ایسا علم جو کہ جاھلوں کے درمیان زندگی بسر کر رھا ہو، ۳۔اور وہ قرآن جو غبار آلود ہو اور اس کی تلاوت نہ کی جاتی ہو۔([٦٢])
نیز آپ نے فرمایا:درحقیقت قرآن رھنمائے ھدایت اور تاریکی میں روشن چراغ ھے لھٰذا تیز بین شخص کو چاہئے کہ وہ اس میں دقت سے کام لے اور اس کی روشنی سے مستفید ہونے کے لئے اپنی آنکھیں کھولے۔ کیونکہ اس میں تفکر اور تعقل ایک اھل دل کے لئے زندگی وحیات ھے۔ اس لئے کہ اندھیرے میں چلنے والا انسان روشنی ھی کے ذریعہ منزل مقصود تک پھنچتاھے،
اب اس بات کی طرف آپ کی تو جہ ضروری ھے کہ اگر کوئی شخص صرف ذکر آل محمد عليهم السلام پر اکتفا کرتا ھے اور قرآن کے اوامر ونواھی پر کان نھیں دھر تا تو گویا ایسے شخص نے اھل بیت عليهم السلام سے صحیح تمسک نھیں کیا ھے کیونکہ۔ اھل بیت عليهم السلام قرآن کوھمیشہ ھمیشہ چھور دینے پر کبھی اور قطعی راضی نھیں ھیں۔
اور یہ بات بھی ذھن نشن رھنی چاھیٴے کہ اھل بیت عليهم السلام نبی کو چھوڑ کر قرآن پر اکتفا کرنا بھی کسی حال میں صحیح نھیں ھوگا۔
اس لئے کہ تاویل وتفسیر قرآن کریم آل محمد عليهم السلام کے پاس ھے اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ قیام عدل، تربیت وتزکیہ نفس اختلافات کی برطرفی اور ان کے مانند دوسرے امور میں عترت رسول اکرم(ص) کی قطعی محتاج ھے۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ آل محمد عليهم السلام کو چھور کر تنھا قرآن سے تمسک کافی نھیں ھے اس لئے کہ خود قرآن میں آیا ت ولایت ان کی اطاعت ومودت کو واجب قرار دیتی ھیں۔ اور ( قرآن واھل بیت عليهم السلام ) ان دونوں میں سے ھر ایک، جیسا کہ بعض احادیث میں اس کی وضاحت کی گئی ھے، ایک دوسرے کے لئے خبر دینے والے اور ایک دوسرے کو موافق و شانہ بشانہ ھیں۔([٦٣])
بھر کیف ان دونوں سے تمسک واجب ھے اور اس پر حدیث ثقلین میں تاکید بھی کی گئی ھے اور یہ بیان کہ (اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے)
اور اس کے مانند دوسری روایات میں کئی مقامات پر اس کا تذکرہ کیا گیا ھے۔
۴۔قراان وعترت کو ثقلین کا نام دینا شاید اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ یہ دونوں قیمتی ترین، عظیم اور نھایت ھی بلند چیزیں ھیں اور لفظ۔(ثقلین) اپنے تمام تر وجود کے ساتھ عظمت قرآن اور مقام رسول کا پیغام دینے والا ھے۔
عبقات الانوار میں نھایہ ابن اثیر سے یہ بات نقل کی گئی ھے کہ۔ ھر صاحب حیثیت جو کہ ایک بلند مقام ومنزلت کا حامل ہو اس کو(ثقل) کھتے ھیں۔ لھٰذا ان دونوں کو ان کی عظمت کے آشکار کرنے کے لئے (ثقل) کے نام سے یاد کیا ھے۔ ا س لئے (ثَقل، ث پر زبر ھے )
آسمانی تمام کتابوں میں سب سے عظیم وبر تر کتاب قرآن مجید ھے اور زندہ معجزہ ھے اور اس کی ضیا بار یاں چکمتے سورج کی مانند ھیں خود اعلان پروردگار ھے کہ باطل کسی بھی راہ سے اس میں نفوذ پیدا نھیں کر سکتا یہ نور ھدایت ھے۔
اور آل محمد عليهم السلام کا بھی کسی صورت میں دوسروں سے موازنہ نھیں کیا جا سکتا۔ ([٦٤])
جس طرح سے انبیاء کا دیگر تمام بنی نوع بشر سے موازنہ کرنا غلطی ھے۔ اسی طرح سے آل محمد عليهم السلام کا دوسروں سے موازنہ کرنا ایک ناقابل معافی جرم ھے۔ اس لئے کہ مخلوقات پر حجت خدا اور اس کے علوم کے خزانے ھیں۔
مولای متقیان امیر الموٴمنین عليه السلام نے اھل بیت عليهم السلام کے مقام ومنزلت کو چند فقروں میں واضح کر دیا۔آپ نے فرمایا:وہ ( اھل بیت عليهم السلام مر کز اسرار، ملجا فرمان،منبع علم،مرجع احکام،کتب سماوی کی پنا گاہ اور دین خدا کی محکم دلیل ھیں)ان کی وجہ سے دین خدا کی کمر مضبوط ہوئی۔ یہ (دین خدا کے پشت وپناہ ھیں)ان کی وجہ سے دین کو سکون حاصل ہوا۔۔۔۔
آل محمد عليهم السلام کی کسی بھی شخص کے ساتھ مثال نھیں دی جا سکتی۔ اور وہ لوگ جو دسترخوان آل محمد عليهم السلام کے نمک خوار ھیں کبھی بھی ان کے برابر نھیں ہو سکتے وہ اسا س دین اور ارکان یقین ھیں جو حد سے بڑھ گئے ھیں ان کو چاہئے کہ واپس آئیں اور پیچھے رہ جانے والوں کو چاہئے کہ وہ ان سے آکر ملحق ہو جائیں۔ ولایت وحکومت ان کا حق ھے، رسول اسلام(ص) کی وصیت ووراثت آل رسول کے پاس ھے۔ اب حق حقدار کے پاس پلٹ آیا ھے اور ایک بار وھیں آپھنچا جھاں سے کو چ کر کے گیا تھا۔([٦٥])
بعض اوقات کیاجاتا ھے جیسا کہ زمخشری سے نقل ہوا ھے کہ ثقلین میں (ثا) اور (قاف) کے اوپر زبر قرآن و عترت پر اطلاق جن وانس سے ان کی شباھت کی وجہ سے ھے کیونکہ دنیا کا آبا د ہونا اور باقی رھنا جنات انسان کے سبب سے ھے۔ اس طرح سے دین کی سلامتی قرآن و عترت کے ذریعہ ممکن ھے۔ لیکن یہ بات سرے سے غلط ھے کیونکہ کلمہ ٴ ثقلین کا قرآن وعترت پر اطلاق از باب تشبیہ ہونے کے لئے کوئی قرینہ نھیں ھے۔
اس بات کا مکان پایا جاتا ھے کہ(ثقل)سے مراد یہ ہو کہ۔ ان سے متمسک ہونا ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اطاعت بجالانا ان کے حقوق پر توجہ دینا اور قرآن وعترت کا پورا پورا پاس ولحاظ رکھنا یہ ایک مشکل اور دشوار کام ھے، جیسا کہ بعض اھل لغت ومحدثین نے خیال ظاھر کیا ھے اور حموینی نے اس بارے میں ابی العباس سے روایت کی ھے۔
ابی العباس سے سوال کیا گیا کہ پیغمبر نے قرآن وعترت کو(ثقلین) کے نام سے کیوں یاد فرمایا۔ابی العباس نے جواب دیا:اس لئے کہ ان سے تمسک کرنا ایک سنگین امر ھے۔ ([٦٦])
دوسری روایت میںابی العباس سے نقل ھے۔ اس لئے کہ ان سے متمسک ہونا اوراس پر عمل پیر اہونا ایک ثقیل اور سنگین فعل ھے۔ ([٦٧])
عبقات الانوارمیں ازھری سے اور تہذیب اللغہ وغیرہ میں اس مطلب کو ذکر کیاگیا ھے۔ ([٦٨]) کلمہ ٴ ثقل کے حرف ثا پر زیر اور قاف پر سکون کے ساتھ، ثقل بھاری بھرکم اور وزنی بوجھ کے معنیٰ میں ھے جو کہ اثقال کا واحد ھے لیکن یہ معنیٰ حدیث کے ظاھر کے خلاف ھے۔
ظاھر حدیث کے مناسب یہ ھے کہ ثقل بطور وصف متعلق بحال موصوف ھے پس یہ دونوں کے واسطے اس لحاظ سے وصف ھے کہ قرآن وعترت خدا ورسول کے نزدیک متین و گرانقدر اور صاحب مقام ومنزلت ھیں۔
۵۔عترت۔ جیسا کہ نھایہ میں اس بات کی وضاحت کی گئی ھے کہ رسول خدا(ص) کے سب سے زیادہ نزدیکی افراد ھیں۔([٦٩])
عترت سے مراد جیسا کہ صاحب نھایہ نے نقل فرمایا ھے۔صرف وہ افراد ھیں جو رسول اللہ کے منتخب اور نھایت ھی نزدیکی ھیں اور یہ بات یقینی طور سے کھی جاسکتی ھے کہ دوسرے اھل خاندان اس سے خارج ھیں یھاں پر موضوع سے متعلق افراد سارے اھل خاندان نھیں ھیں۔
اس لئے کہ روایت میں جو صفات بیان کی گئی ھیں کہ (وہ قرآن کے ھم پلہ سمجھنا اور معیار حق وھدایت جاننا)عموم افراد کو داخل کر کے ممکن نھیں ھے،بلکہ (عترت)سے مراد (متعدد رویات پیش نظر) صرف اھل بیت عليهم السلام ھیں۔ اور یہ وہ افراد ھیں جن کی طھارت کا اعلان قرآن نے کیاھے یہ پاک اور معصوم رھبران دین ھیں۔
ابن ابی الحدید کا کھنا ھے۔ رسول اکرم(ص) نے عترت کو لوگوں کے سامنے پہچنوا دیا کہ کون لوگ ھیں! جب آپ نے فرمایا:درحقیقت تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھا ھوں اس کے بعد فرمایا:(اور عترت جو کہ میرے اھل بیت عليهم السلام ھیں)اور دوسرے مقام پر اھل بیت کے مسئلہ کو واضح کر دیا جس وقت زیر کساء ان کو جمع کیا اور جب آیہٴ تطھیر نازل ہوئی۔([٧٠]) آپ نے فرمایا:خدایا، میرے اھل بیت عليهم السلام ھیں لہٰذ ان سے رجس کو دور رکھ۔ ([٧١])
جر جانی شافعی متوفی ۳۶۵ ھ نے ابی سعید سے روایت کی ھے کہ آیہٴ تطھیر پانچ افراد کی شان میں نازل ہوئی ھے۔ رسول خدا(ص) ، علی عليه السلام، فاطمہ عليه السلام،حسن عليه السلام حسین عليه السلام۔([٧٢])
ذھبی نے تلخیص مستدرک میں ام سلمہ سے روایت کی ھے کہ۔ آیت تطھیر میرے گھر میں نازل ہوئی پس رسول خدا(ص) نے علی عليه السلام، فاطمہ عليه السلام،حسن عليه السلام،حسین عليه السلامکو جمع کر کے فرمایا: خدا یا یہ میرے اھل بیت عليهم السلام ھیں۔ ام سلمہ نے عرض کی یا رسول اللہ کیا میں اھل بیت میں سے نھیں ھوں ۔ تو آپ نے فرمایا: تم خیر پر ہو۔ اھل بیت یہ ھیں (جو افراد داخل کساء ھیں)خدا یا میرے اھل خاندان لایق قدر ھیں۔([٧٣])
اس کے علاوہ بھت سی روایات ھیں جو اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ آیہٴ تطھیر کے مصداق اھل بیت عليهم السلام رسول کے خاص اھل خاندان ھیں۔
نیز آیہٴ مباھلہ کی تفسیر اھل بیت عليهم السلام کو معین کرتی ھے۔ ([٧٤]) مسلم نے اپنے اسناد کے ذریعہ سے روایت کی ھے کہ جب آیہٴ مبا ھلہ نازل ہوئی تو رسول نے علی عليه السلام، فاطمہ عليه السلام حسن، حسین کو طلب کر کے فرمایا: خدایا یہ میرے اھل بیت ھیں۔([٧٥])اسی بنا پر عبقات الانوار میں نقل ہوا ھے کہ بزرگان اھل سنت نے حدیث ثقلین کی بنا پر اھل بیت کی سر براھی کو قبول کیا ھے۔
انھوں نے ھی کھا ھے کہ جب حکیم ترمذی نے کھا کہ رسول خدا(ص) کا یہ فرمان کہ ( قرآن وعترت ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر ھم سے ملاقات کریں گے ) یہ اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ صرف یھی افراد ملت مسلمہ کے سر پرست وولی ھیں کوئی دوسرا نھیں۔
انھیں سے روایت ھے کہ سبط ابن جوزی نے حدیث ثقلین کو تذکر ة الخواص میں(تذکرة الائمة) کے ضمن میں بیان کیا ھے۔ ([٧٦])
دوسری گنجی شافعی ھیں جنھوں نے کفایة الطالب میں زید ابن ارقم کی حدیث اور اس کی تفسیر جس میں یہ کھا ھے کہ اھل بیت عليهم السلام وہ ھیں کہ جن پر صدقہ حرام ھے۔ اور آگے کھتے ھیں کہ۔ حقیقت یہ ھے کہ اھل بیت عليهم السلام کے سلسلے میں زید کی تفسیر صحیح نھیں ھے۔ اس لئے کہ زید کی تفسیر یہ ھے کہ اھل بیت عليهم السلام وہ ھیں کہ جن پر صدقہ بعد رسول حرام ھے اور صدقہ کا حرام ہونا ایک عام کلیہ ھے جو حیات رسول اور بعد حیات رسول دونوں پر صادق آتا ھے اور یہ بات مذکورہ افراد کے لئے مخصوص نھیں ھے کیونکہ فرزندان مطلب پر صدقہ حرام تھا۔ مزیدفرماتے ھیں۔ صحیح یہ ھے کہ اھل بیت عليهم السلام سے مراد علی و فاطمہ وحسن حسین علیھم السلام ھیں جیسا کہ مسلم نے اپنی اسناد کے ساتھ عائشہ سے روایت کی ھے۔
(ایک صبح رسول باھر آئے اور آپ کے دوش پر سیاہ چادر پڑی ہوئی تھی۔ اس کے بعد حسن ابن علی عليه السلام آئے اور اس کے اندر داخل ہو گئے پھر حسین عليه السلام آئے پھر علی وفاطمہ بالترتیب آئے اور اس کے اندر داخل ہو گئے اس کے بعد رسول نے آیہٴ تطیھر کی تلاوت کی) خدا کا ارادہ صرف یہ ھے کہ پلیدی کو تم اھل بیت عليهم السلام سے دور رکھے اور تم کو مکمل پاک رکھے۔([٧٧])
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ھے کہ اھل بیت عليهم السلام صرف وہ افراد ھیں کہ جن کو خدا نے اھل بیت کے نام سے یاد کیا ھے اور رسول اکرم (ص) نے ان کو زیر کساء جمع فرمایا: ([٧٨])
ان کے علاوہ دوسرے جن افراد نے اس بات کا اعتراف کیا ھے کہ (اھل بیت عليهم السلام صرف مخصوص افراد ھیں) ان کی عبارتوں کو عبقات الانوار میں نقل کیا گیا ھے۔ ([٧٩])
اب تک جتنی باتیں نقل کی گئی ھیں یہ ان متواتر روایات سے ھٹ کر ھیں جو اس بات اور موضوع سے متعلق ھیں۔
انھیں روایات میں سے۔ابن بابویہ نے عیون اخبار الرضا میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے آباء سے حسین بن علی عليه السلام سے روایت کی ھے۔
ابن بابویہ کھتے ھیں کہ۔ امیر الموٴمنین عليه السلام سے رسول اکرم(ص) کے اس قول (میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں جانشین بنا کر جا رھا ھوں قرآن اور میری عترت ) کے بارے میں سوال کیا گیا کہ عترت سے مراد کون لوگ ھیں ؟
آپ نے فرمایا:میں، اور حسن عليه السلام، حسین عليه السلام اور اماموں میں سے نو اور افرا جن کی نویں فرد مھدی اور قائم آل محمد (عجل اللہ فرجہ الشریف)ھیں۔ کتاب خداسے جدا نھیں ھوں گے اور قرآن ان سے جدا نھیں ہوگا یھاں تک کہ حوض کوثر پر ملاقات کریں گے۔ ([٨٠]) لب لباب یہ ھے کہ عترت سے مراد اھل بیت عليهم السلام ھیں اور یہ افراد پاک، معصوم اور لائق احترام ھیں
۶۔قرآن ریسمان الٰھی ھے۔ اس پر قرآنی نص موجود ھے۔
< وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِیعًا وَلاَتَفَرَّقُوا >([٨١])اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقہ پیدا نہ کرو۔ کچھ روایتیں اس پر گواہ بھی ھیں۔
انھیں روایات میں ایک روایت جس کو ابی سعید خدری نے پیغمبر سے روایت کیا ھے کہ آپ نے فرمایا:میں عنقریب کوچ کرنے کا حکم پاچکا ھوں اور میں نے اس کو قبول بھی کر لیا ھے اور میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جارھاھوں کتاب خدا اور میری عترت، کتاب خدا ایسی رسی ھے جو کہ زمین وآسمان کے درمیان دراز ھے اور عترت جو کہ میرے اھل بیت ھیں۔ خدائے رحیم وخبیر نے مجھے اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے لھٰذا دیکھو کہ تم لوگ ان دوا مر میں میری کس حد تک مدد کرتے ہو۔([٨٢])
اس لحاظ سے کہ اھل بیت حدیث ثقلین قرآن کے مساوی اور ھم پلہ قرار پائے ھیں حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی کا معنی ان پر صادق آتا ھے۔ اس لئے کہ یہ دونوں خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منصوب ہوئے ھیں۔
لھٰذا اھل بیت عليهم السلام سے تمسک کتاب خدا سے تمسک کے مانند ھے اور ان سے تمسک کا مطلب ریسمان الٰھی کا اپنی گرفت میں لینا ھے۔ تاکہ تباھی و گمراھی (کے کنویں) میں گریں۔
تفصیر آلاء الرحمٰن میں آیہ اعتصام کے ذیل میں یوں کھا گیا ھے۔
گمراھی سے نجات پانے کے لئے کتاب خدا کو تھام لو جبکہ تم لوگ ریسمان الٰھی سے تمسک پر اجتماع کرنے والے ہو اور خدا نے اھل بیت عليهم السلام کو گمراھی سے محفوظ رکھنے کے لئے مقرر کیا ھے اور رسول نے اھل بیت عليهم السلام کے بارے میں فرمایا ھے کہ یہ مصداق حبل اللہ ھیں جو ان سے متمسک ہوگا گمراہ نھیں ہوگا۔
حدیث ثقلین میں جو بات کی گئی اور اس آیت میں لفظ حبل بطور کنایہ استمعال ہوا ھے یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ عدم تمسک گمراھی اور تباھی میں گھرنے کا سبب ھے۔ ([٨٣])
اس کی عمومیت اور (حبل اللہ) کے قرآن سے مخصوص نہ ہونے کی دلیل یہ ھے کہ (حبل) کے معنی میں رسول اسلام بھی ھیں لھٰذا خدا کا یہ قول (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جَمِیعاَ وَ لاََتفرَّقُوا)اس بیان کے بعد ھے کہ ( اور کیسے ممکن ھے کہ تم کافر ہوجاوٴ جبکہ تم پر آیات کی تلاوت ہوتی ھے۔ رسول تمھارے درمیان ھیں (لھٰذا خدا سے متمسک رہو) اور جو کوئی خدا سے متمسک رھے گا وہ صراط مستقیم کی جانب ھدایت پائے گا۔ ([٨٤]) آیت کا مطلب یہ ھے کہ آیات خدا سے تمسک اور رسول اسلام کی پیروی ریسمان الٰھی سے متمسک ہونا ھے۔
چنانچہ خدا نے اس سے قبل کی آیت میں آیات قرآنی اور پیروی رسول کو اعتصام بہ خدا کے نام سے یاد کیا ھے لھٰذا جیسے رسول مصداق حبل اللہ ھیں ویسے ان کی عترت طاھرہ بھی حبل اللہ کی مصداق ھے جو کہ رسول قائم مقام ھیں۔
مذکورہ بالا استدلال کے علاوہ دیگر نصوص و روایات بھی ھیں جو عترت طاھرہ کے حبل اللہ ہونے پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ھیں۔
عبقات الانوار میں شیخ سلمان حنفی قذوزی سے خدا کے اس قول (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ جَمِیعاَ وَ لاََتفرَّقُوا ) کی تفسیر میں نقل کیا گیا ھے۔ ثعلبی نے اپنی سندوں کے ساتھ ابان ابن تغلب سے روایت کی ھے کہ امام جعفر صادق عليه السلام نے فرمایا: ( ھم مصداق حبل اللہ ھیں) جو (وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ)کی آیت میں آیا ھے۔
نیز صاحب مناقب نے سعید بن جبیرعن ابن عباس رضی اللہ سے نقل کیا ھے کہ ھم لوگ رسول اکرم (ص) کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک بدو داخل ہوا اور اس نے کھا۔ اے رسول خدا(ص) ھم نے سنا ھے کہ آپ فرماتے ھیں کہ(وَ اعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ) توحبل اللہ کون لوگ ھیں جن کو ھم مضبوطی سے پکڑلیں۔ پیغمبر نے اپنا دست مبارک علی عليه السلام کے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا: اس سے تمسک کرو کیونکہ یہ خدا کی مضبوط رسی ھیں۔ ([٨٥])
جو روایات عترت طاھرہ کے حبل اللہ ہونے پر دلالت کرتی ھیں ان میں نعمانی کی وہ روایت شامل ھے جس میں اپنی تمام اسناد کے ساتھ حریز بن عبد اللہ نے امام صادق عليه السلام سے اور انھوں نے اپنے آبا واجداد کے حوالے سے انھوں نے مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ھے کہ آپ نے فرمایا: پیغمبر اکرم نے مسجد حنیف میں خطبہ ارشاد فرمایا: اور یہ خطبہ آپ کے آخری حج کا ھے اس خطبہ میں آپ نے فرمایا:آگاہ رہو کہ میں نے تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزوں کو جانشین قرار دیا ھے ثقل اکبر (قرآن) ثقل اصغر (عترت)یہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان ایک دراز رسی کی مانند ھیں اگر دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اس کا ایک سرا خدا کے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا تمھارے ھاتھوں میں ھے۔ ([٨٦])
ابن ابی الحدید کی بھی روایت اسی ضمن میں ھے وہ کھتا ھے۔
نبی اکرم(ص) نے فرمایا:(تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں ۔ ۱۔ ایک کتاب خدا۔۲۔میرے اھل بیت یہ دونوں آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی کے مانند ھیں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہوگے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([٨٧])
لھٰذا عصری تقاضے کے تحت جو چیز اتحاد کے لئے ضروری ھے وہ قرآن وعترت سے تمسک ھے یہ دونوں ملت مسلمہ کے اتحاد کا سبب ھیں۔جس طرح سے حیات رسول میں قرآن اور ذات رسول اتحاد کا سبب تھی۔
لھٰذا ھم پر اور تمام برادران اسلامی پر یہ فرض عائد ہوتا ھے کہ وہ خواب غفلت سے بیدا رھوں اور اتحاد کے اصلی عنصر کو تلاش کریں اس کا اصلی عنصر وہ ھے جس کی طرف آیہٴ کریمہ نے تروجہ دلائی ھے اور ظاھر ی اتحاد کبھی اس کا بد ل نھیں ہو سکتا۔ ھر چند کہ اس طرح کا تحاد ٹھیک ھی ھے۔
حاصل کلام یہ ھے کہ قرآن و عترت کو حبل اللہ کھنا ان دونوں کے خدا سے قریبی تعلق پر دلالت کرتا ھے لھٰذا جس نے ان دونوں سے تمسک کیا اس نے گویا خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور حقیقت بھی یھی ھے کہ خدا کی بارگاہ میں پناہ اور اس سے تمسک گمراھی اور ضلالت سے نجات کا رستہ ھے۔ جس طرح سے ان سے دوری قعر ضلالت و گمراھی میں گرنے کے مانند ھے جس کے بعد اس کے لئے اس لغزش و گمراھی سے نجات کا کوئی راستہ نھیں ھے۔
۷۔در حقیقت قرآن و عترت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ھیں اور کبھی جدا نھیں ھوں گے دوسری بھت ساری روایات جو رسول اکرم(ص) کے بیان کی روشنی میں حدیث ثقلین کی وضاحت کرتی ھیں کہ(آگاہ ہو جاوٴ کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدانھیں ہو ں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے )آپ نے فرمایا:خدائے مھربان نے مجھے اس بات کی اطلاع دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے۔ تو یہ ایک غیبی خبر تھی جو کہ قیام قیامت تک قرآن و عترت کی بقا کی بشارت دی رھی ھے۔ اور یہ کہ زمانہ ان دونوں سے کبھی خالی نھیں رھے گا۔ جس طرح قرآن زندہٴ جاوید معجزہ ھے اسی طرح عترت بھی(جو مخلوقات کے لئے قرآن کے مساوی وھم پلہ ھے)ھمیشہ رھنے والے ھیں۔اور زمین ان کے وجود پاک سے خالی نھیں رہ سکتی۔ ([٨٨])
اس موضوع سے متعلق وارد ہونے والی حدیثیں اس کی وضاحت کرتی ھیں۔ جیسا کہ شیخ سلیمان حنفی قندوزی نے اپنے اسناد کے ساتھ امام حسن علیہ السلام سے روایت کی ھے۔ آپ نے فرمایا: ایک دن میرے جد محترم (رسول اکرم) (ص) نے خطبہ ارشاد فرمایا:اور حمد وثناء الٰھی کے بعد فرمایا:اے لوگو! میں اس دنیا سے کوچ کرنے حکم پا چکا ھوں اور میں نے اس پر لبیک بھی کھا ھے۔ میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھاھوں ۔ ۱۔قرآن۔۲۔میری عترت۔ اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے اور یقینا یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوچر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ لھٰذا ان سے علم حاصل کرو اور انھیں سکھانے کی کوشش نہ کرو۔اس لئے کہ یہ تم سے زیادہ علم رکھنے والے اور دانا ھیں اور زمین ان سے خالی نہ ہوگی اور اگر زمین ان کے وجود پاک سے خالی ہو جائے تو زمین اپنے بسنے والوں سمیت تباہ ہو جائے گی۔
زمین کا حجت خدا سے خالی نہ ہونا ایک ایسا مر ھے جو عقلی اعبتار سے بھی ثابت ھے کیونکہ زمین کا حجت خدا سے خالی ہونا حکمت الٰھی (لوگوں پر اتمام حجت )کے منافی ھے۔ اور بے شمار روایتوں میں اس بات پر زور دیا گیا ھے اس قسم کی روایات کو دوحصوں میں ذکر کیا جا سکتا ھے۔
وہ روایات جن میں آیا ھے کہ اھل بیت عليهم السلام اھل زمین کے لئے سبب امان ھیں۔
کتاب فضائل علی ابن ابی طالب علیہ السلام میں احمد ابن محمد خنبل نے اپنے اسناد کے ذریعہ امام علی علیہ السلام سے روایت کی ھے۔ آپ نے فرمایا:کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا ھے: اھل آسمان کے لئے آسمان کے ستارے امان کا سبب ھیں جب وہ نابود ہو جائیں گے تو اھل آسمان ختم ہو جائیں گے اور میرے اھل بیت میری امت کے لئے سبب امان ھیں جب یہ نہ رھیں گے تو اھل زمین کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ ([٨٩])
امالی شیخ میں ابن عباس سے روایت ھے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:ستاروں کا وجود اھل آسمان کے لئے نجات کا سبب ھے اور میرے اھل بیت عليهم السلام میری امت کے لئے امان کا سبب ھیں۔جس وقت ستاروں کا وجود ختم ہو جائے گا اھل آسمان نابود ہو جائیں گے اور جس وقت میرے اھل بیت عليهم السلام نھیں رھیںگے اھل زمین ختم ہو جائیں گے۔([٩٠])
وہ احادیث جو تاقیام قیامت رسول کی خلافت وجانشینی اور خدا کی حجتوں کے وجود پر دلالت کرتی ھیں۔
حموینی نے اپنی اسناد سے عبد اللہ بن عباس کے حوالے سے روایت کی ھے کہ پیغمبر نے فرمایا:بے شک میرے بعد لوگوں کے لئے میرے جانشین واوصیاء والٰھی حجت بارہ افراد ھوں گے اس کی پھلی فرد میرے چچا زاد بھائی (علی عليه السلام ) اور آخری فرد میرا بیٹا ہوگا۔کسی نے پوچھا یا ررسول اللہ آپ کا بیٹا کون ھے ؟آپ نے فرمایا:مھدی (عجل اللہ فرجہ الشریف)جو کہ زمین کو عدل وانصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ اس خدا کی قسم جس نے مجھے دنیا والوں کے لئے بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ھے اگر دنیا کے ختم ہونے میں صر ف ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدا اس دن کو اس قدر طولانی کردے گا کہ میرابیٹا مھدی ظہور کر سکے۔ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور اس کی سلطنت مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوگی۔([٩١])
محمد بن موفق جو کہ اھل سنت کے جلیل القدر عالم ھیں انھوں نے اپنی کتاب میں سلمان محمدی (فارسی ) سے کچھ یوں روایت کی ھے۔ سلمان کھتے ھیں کہ میں نبی اکرم(ص) کے پاس حاضر ہو ا تو دیکھا کہ امام حسین علیہ السلام رسول اکرم(ص) کے زانو پر بیٹھے ھیں۔
آپ حسین عليه السلام کی آنکھوں اور دھن مبارک کا بوسہ لے رھے ھیں اور فرماتے ھیں۔ کہ تم خود مولا ہو مولا کے بیٹے ہو مولا کے بھائی ہو اور آقاوٴ کے والد ہو۔ تم خود امام فرزند امام برادر امام اور پدر امامان ہو۔ تم حجت خدا فرزند حجت خدا برادر حجت خدا اور نو حجت خدا کے باپ ہو۔ اس کی نویں فرد قائم آل محمد ہوگا جو کہ تمھاری -صلب سے ہوگا۔([٩٢])
مسلم نے اپنی صحیح میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ھے کہ وہ کھتے ھیں کہ میں نے پیغمبر کو فرماتے سنا ھے۔ (لوگوں کے امور ان سرپرستوں کے ذریعہ،جو کہ بارہ افراد ھیں، انجام پائیں گے )اس کے بعد رسول نے ایک فقرہ کھا جس کو میں صحیح طریقے سے سمجھ نہ سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا۔ پیغمبر نے کیا فرمایا: تو انھوں نے کھا کہ رسول نے کھا ھے کہ (یہ تمام افراد قریش سے ھوں گے )۔([٩٣])
حموینی نے اپنی اسنا دکے ساتھ نافع سے روایت کی ھے وہ کھتے ھیں کہ میں نے پیغمبر کو فرماتے سنا ھے( دین قائم ودائم ھے یھاں تک کہ قیامت آجائے گی )لھٰذا تم لوگوں پر فرض ھے کہ دربارہ خلفا کی پیروی کرو جو سب کے سب اھل قریش ھوں گے۔ ([٩٤])
اس سلسلے میں روایات کی ایک کثیر تعداد ھے جو کہ یھاں بیان نھیں کیگئی۔
اسی وجہ سے جواھر العقدین میں سمہودی سے روایت ھے کہ انھوں نے حدیث ثقلین کی شرح میں لکھا ھے۔ اھل بیت اطھار علیھم السلام میں سے ایک فرد کا وجود جو کہ تمسک کے لئے بھترین اور حقدار افراد ھیں ضروری ھے۔
اور یھی بات حدیث ثقلین سے واضح ہوتی ھے۔ یھاں تک کہ اھل بیت عليهم السلام سے تمسک کے موضوع کو(یعنی امت اسلامی کی عدم گمراھی )آشکار کرے۔ کھتے ھیں کہ قرآن مجید ایسا ھی ھے۔ (یعنی امت مسلمہ کے لئے وسیلہ ٴ نجات ھے)اھل بیت عليهم السلام بھی اھل زمین کے لئے سبب نجات ھیں جس وقت ان کا وجود پاک نہ رھے گا اھل زمین کا وجود ختم ہو جائے گا۔([٩٥])
ابن حجر نے بھی صواعق محرقہ میں ا س بات کی تصریح کی ھے۔ کھتاھے جن احادیث میں اھل بیت عليهم السلام تمسک کا حکم دیا گیا ھے وہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ یہ افراد صبح قیامت تک اس بات کی حقدار ھیں۔ جس کا قرآن حقدار ھے۔ اسی وجہ سے یہ اھل زمین کے لئے سبب امان ھیں۔ ([٩٦])
یہ حدیث ھر زمانے میں ایک امام کے زندہ موجود ہونے پر دلالت کرتی ھے اور صاحبان بصیرت پر یہ بات پوشیدہ نھیں ھے۔
۸۔حدیث شریف ثقلین قرآن و عترت کی عصمت پر دلالت کرتی ھے اس لئے امت مسلمہ کو انحراف وگمراھی سے بچانے کا عھدہ ان کی مطلق پیروی اور کسی شرط کا عدم وجود ان کے معصوم ہونے کے علاوہ ممکن نھیں ھے۔
اور اسی حقیقت پر حدیث ثقلین میں (مختلف روش) سے وضاحت کی گئی ھے ان میں سے چند نکات کو پیش کر رھے ھیں۔
۱۔اے لوگو!ً بے شک تمھارے درمیان ایسی چیز کو چھوڑ کر جا رھا ھوں اگر ان سے متمسک رہو گے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے۔ قرآن ومیری عترت۔ ([٩٧])
۲۔بھت ساری روایا ت میں صراحتاً ذکر ہوا ھے کہ (علی قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی عليه السلام کے ساتھ ھے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([٩٨])
۳۔بعض روایات میں ھے کہ پیغمبر نے علی عليه السلام کے لئے دعا فرمائی۔ خدا یا حق کو علی عليه السلامکے ساتھ رکھ اور علی عليه السلامجدھر جائیں حق کو ادھر ادھر موڑ۔([٩٩])
۴۔وہ ایسی چیز ھے کہ اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رھے تو ھر گز گمراہ نھیں ہوگے۔ کتاب خدا۔ اور میری عترت۔ ([١٠٠])
اس کے علاوہ دوسری دلیلیں بھی موجود ھیں جیسے آیت تطھیر اور متواتر احادیث جو کہ اھل بیت عليهم السلام کی عصمت پر دلالت کرتی ھیں۔
۱۔حاکم نے اپنی اسناد کے ساتھ حضرت ابوذر سے روایت کی ھے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:میرے اھل بیت کی مثال کشتیٴ نوح کی سی ھے۔ ([١٠١]) جو کوئی اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جس نے روگردانی کی ھلاک ہو گیا اور ڈوب گیا۔([١٠٢])
۲۔طبرانی نے ابی سعید سے نقل کیا ھے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:میرے اھل بیت عليهم السلام کی مثال تمھارے درمیان بنی اسرائیل کے باب حطہ کی مانند ھے۔ ([١٠٣]) جو کوئی اس میں داخل ہو ا وہ بخش دیا گیا۔ ([١٠٤])
سید شرف الدین کھتے ھیں کہ۔ اھل بیت عليهم السلام اور باب حطہ کی تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ خدا نے اس دروازے کو جلال خداوندی کے سامنے تواضع کے ایک نمونے اور اس کی حکمت کا اعتراف قرار دیاتھا۔ اسی وجہ سے وہ دروازہ سبب مغفرت بنا ھے امت مسلمہ کا اھل بیت عليهم السلام کا مطیع محض ہونا اور ان کی بلند مقامی کا اعتراف بھی خدائی جلال کے سامنے تواضع کے نمونے ھیں۔ باب حطہ اور اھل بیت عليهم السلام کی وجہ تشبیہ یھی ھے۔ ([١٠٥])
بھر کیف علماء عامہ کے ایک گروہ جیسے فخر رازی ابن حجر ھیثمی، جلال الدین سیوطی، سندی وغیرہ ۔۔۔نے اس بات کا اعتراف کیا ھے ابن ابی الحدید نے اس حدیث کی اسناد کو محمد بن متویہ سے لیا ھے انھوں نے اس کو کتاب کفایہ میں در ج کیا ھے جس وقت کھا ھے۔([١٠٦])
بےشک علی عليه السلام معصوم ھیں اگر چہ ان میں عصمت کا پایاجانا ضروری نھیں ھے اور امامت میں بھی عصمت شرط نھیں ھے لیکن نصوص میں ان کی عصمت، علم باطن، اور یقین کا ذکر ھے۔ اور یہ وہ چیزیں ھیں جو آپ سے مخصوص ھیں دیگر اصحاب اس میں شریک نھیں ھیں مثال کے طور پر،اگر ھم کھیں کہ زید صاحب عصمت ھے اور یہ کہ زید کے لئے ضروری ھے کہ وہ صاحب عصمت ہو تو ان دونوں باتوںمیں فرق ھے اس لئے کہ وہ امام ھے اور امامت کی شرطوں میں سے ایک یہ ھے کہ وہ معصوم ہو۔ پھلا نظریہ ھمارے مذھب کا ھے اور دوسرا نظریہ مذھب شیعہ کا ھے۔ ([١٠٧])
یہ بات روشن ھے کہ قرآن کی عصمت کی وجہ یہ ھے کہ وہ خدا وند متعال کی طرف نازل ہوا ھے۔اس لئے کہ خداوند تعالیٰ کی جانب سے نزول قرآن اور پیغمبر کا اس کا لانا اور اس کا ابلاغ ھر طرح کے خطاو نسیان سے منزہ ھے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اس کے مراتب نزول لوگوں کی حقیقی مصلحتوں کی خاطر ھیں اس کے علاوہ دوسری صورت حکمت الٰھی کے منافی کھی جا ئے گی۔
اس طرح عصمت ائمہ اس صورت میں ثابت ھے کہ ان کے علوم پیغمبر کے توسط سے خدا کا عطیہ ھیں۔اور ان کے علوم میں کسی طرح کی بھول کا امکان نھیں پایا جاتا کیونکہ ان کو خدا کی جانب سے لوگوں کی ھدایت کے لئے منصوب کیا گیا ھے۔ دھوکا، خطا،گمراھی،انحراف،یہ سب عیوب لوگوں کی ھدایت اور ذمہ داری کے مناسب نھیں ھے اور خدا کی حکمت سے بعید ھے۔
لھٰذا قرآن وعترت معصوم ہونے کے ساتھ ساتھ تمام خطاوبھول سے بھی محفوظ ھیں اور ان دونوں کی پیروی ضلالت وگمراھی سے نجات کا ذریعہ ھے اور یہ فضیلت قرآن و عترت سے مخصوص ھے۔
۹۔پیغمبر کی مختلف احادیث جو کہ اھل بیت عليهم السلام اور خدا کے درمیان رابطہ پر دلالت کرتی ھیں۔
جیسے (وہ دونوں تمھارے اور خدا کے درمیان دراز ریسمان کی مانند ھیں۔([١٠٨])
اس کا ایک سرا تمھارے ھاتھ میں ھے اور دوسرا سرا خدا کے ھاتھ میں ھے۔([١٠٩]) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([١١٠])جب تک ان سے متمسک رہوگے ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ([١١١]) علی عليه السلام قرآن کے ساتھ ھیں اور قرآن علی عليه السلام کے ساتھ ھے یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نھیں ہوگے۔ ([١١٢])ان پر سبقت لے جانے کی کوشش نہ کرو ورنہ ھلاک ہو جاوٴ گے اور ان کے سایہ ٴ عاطفت سے دور نہ رہو ورنہ تباہ ہو جاوٴ گے اھل بیت عليهم السلام کو کشتی ٴ نوح کی مانند کھنا ستارگان آسمانی سے تشبیہ دینا قرآن واھل بیت عليهم السلام کو خلیفہ رسول بتانا۔ اس کے علاوہ دیگر شواھد اس بات کی غماز ھیں کہ خدا اور ان کے درمیان ایک خاص رابطہ ھے۔ اور یہ کہ ان لوگوں کی امداد غیبی کی تائید کی گئی ھے۔ ان کا یہ خاص رابطہ انھیں دوسرے لوگوں سے ممتا ز رکھتا ھے۔ اسی وجہ سے ھم کھتے ھیں۔ ھمارے نزدیک جو امامت ھے وہ ایک سنت کے نزدیک خلافت خلفا سے جدا ھے اس لئے کہ دونوں کے درمیان تفاوت ذاتی ھے ھمارے نزدیک حقیقت امامت حقیقت نبوت ھے دونوں کے درمیان واحد فرق وحی کے نزول کا ھے۔ اس لئے کہ وحی صرف انبیاء ورسل سے مخصوص ھے ھر چند کہ الٰھی وغیبی امداد کا سلسلہ باقی ھے۔([١١٣])
ھادیان دین تمام الٰھی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں نبی و پیغمبر کے قائم مقام ھیں۔اور امامت کے بارے میں یہ نظریہ اھل سنت کے نظریئے کے بالکل خلاف ھے کیونکہ ان کے نزدیک ظاھری سیاست و رھبری (ھی امامت ھے )عدالت و عصمت کی کوئی شرط نھیں ھے۔ بھر حال حدیث ثقلین امامت کے سلسلہ میں آل محمد کے لئے جو کہ شیعی نظریہ ھے اس کی تائید و تصدیق کرتی ھے اور یہ (آل محمد )سیاسی، دینی تمام امور میں پیغمبر کی مانندھیں۔
بس فرق اتنا ھے کہ ھر بزرگوار قوانین اسلام کو پیغمبر سے حاصل کرتے ھیں اور تمام امور میں ان کا اتباع کرتے ھیں اور انھیں کے نور سے فیضیاب ہوتے ھیں اور آپ کی امت کے لئے آپ کے جانشین ھیں۔لھٰذا تمام صفات و کمالات پیغمبر آل محمد عليهم السلام سے مخصوص ھیں لوگوں کی رھبری وحکومت ان کی صفات کا ایک جز ھے لھٰذا حقیقت امامت کے سلسلے میں جو ھمارا نظریہ ھے وہ برادران اھل سنت کے نظریئے سے بالکل الگ ھے۔ حدیث ثقلین ھمارے (شیعی)ٌ نظریئے کے مطابق ھے اور عقل ودلائل عقلی ھمارے اس نظریئے کی تائید کرتی ھیں۔
دوسروں کے مقابل اعتقادی مسائل میں شیعیت کا امتیاز یہ ھے کہ غیبی رابطہ اور عوام الناس کے لئے آسمانی دروازوں کے کھلنے کا سبب آل محمد عليهم السلام کو جانتے ھیں۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:بے شک خدا بندوں کے امور کو انجام دینے کے لئے جب کسی بندے کا انتخاب کرتا ھے تو اس کو شرح صدر عطا کرتا ھے، حکمت کے چشمہ کو اس کے دل میں جاری کردیتا ھے، اس کو علم ودیعت کرتا ھے پھر وہ جواب دینے میں پیچھے نھیں رھتا اور حق وحقیقت کو بیان کرنے میں عاجز وپریشان نھیں ہوتا۔ ([١١٤])
۱۰۔بے شک عترت طاھرہ کی پیروی اسی طرح واجب ھے جس طرح قرآن کا اتباع فرض ھے۔ اور حدیث ثقلین سے یھی بات سمجھ میں آتی ھے۔ لھٰذا وہ محبت و مودت جو ان کی پیروی سے ھم آھنگ نہ ہوبے سود ھے۔
اھل بیت عليهم السلام کو قرآن کے مساوی وھم پلہ قرار دینا سبقت لے جانے اور پیچھے رہ جانے سے روکتا ھے اور آپ کا یہ فرماناکہ(اگر ان دونوں سے متمسک رھے تو ھرگز گمراہ نہ ہوگے)اس محبت پر جو اطاعت کے شانہ بشانہ ہو دلالت کرتا ھے۔
اور یہ بات اظھر من الشمس ھے کہ عترت طاھرہ سے تمسک کا مطلب ان کے احکامات ونواھی پر عمل کرنا اور ان کی سیرت پاک پر عمل پیرا ہونا ھے۔
یھی وجہ ھے کہ تفتازنی کے حوالے سے یہ بات نقل کی جاتی ھے کہ حدیث ثقلین کے بیان کے بعد کھا ھے۔کیا تم لوگ نھیں دیکھ رھے ہو کہ رسول اکرم(ص) نے اھل بیت عليهم السلام کو کتاب خدا سے متصل رکھا ھے۔ جبکہ حقیقت یہ ھے کہ قرآن سے تمسک ضلالت و گمراھی سے نجات کا ذریعہ اور قرآن سے تمسک کا مطلب یہ ھے کہ اس کو پکڑے رھنے، اس کے علم وھدایت سے مستفید ہونے کے سوا کچھ نھیں ھے۔ پھر عترت سے تمسک بھی اس کے سوا کچھ نھیں ھے۔ ([١١٥])
ابن حجر کھتے ھیں: بےشک پیغمبر نے (لوگوں) کو ان کی اطاعت و پیروی اور ان سے تمسک وحصول علم کی بھت تاکید کی ھے۔ ([١١٦])
ا ب تک بیان شدہ مطالب کے پیش نظر یہ بات واضح ہوجاتی ھے کہ جس طرح سے دستورات قرآن کی پیروی واجب ھے اسی طرح اھل بیت عليهم السلام کے اوامر ونواھی کی اطاعت بھی واجب ھے۔
یہ فکر بالکل غلط ھے کہ ان کے اوامر ونواھی وھی قرآن کے اوامر ونواھی ھیں اسی وجہ سے ان کی پیروی واجب ھے بلکہ حقیقت یہ ھے کہ یہ اولیاء خدا ھیں اور امور مسلمین پر حق حکومت کی بنا پر کوئی حکم فرماتے ھیں یا کسی بات سے منع کرتے ھیں تو یہ امر ونھی قرآنی احکامات سے زیادہ وسیع ھے۔ اور حدیث ثقلین نے ان کے اوامر ونواھی کے ابتاع کو جو واجب قرار دیا ھے تو یہ وجوب ان کی ولایت مطلقہ پر دلالت کرتا ھے۔ ([١١٧])
عبقات الانوار میں اس بات کی طرف رھنمائی کی گئی ھے اور حقیقت سے آگاہ بھی کیا گیا ھے جھاں یہ کھا ھے کہ۔ حدیث ثقلین کا مفہوم اھل بیت عليهم السلام کے تمام اقوال وافعال اور احکام واعتقادات کی پیروی کرنا ھے۔
اور یہ بات ظاھر ھے کہ یہ شان وفضیلت صرف اس کے لئے ھے جو بعد حیات پیغمبر زعامت کبریٰ اور امامت عظمیٰ کا حامل ہو۔([١١٨])
سید شرف الدین ۺ فرماتے ھیں کہ۔ اھل بیت کرام کی پیروی کے لئے احادیث صحیحہ متواتر ھیں۔خاص طور سے وہ روایات جو عترت طاھرہ سے نقل ہوئی ھیں۔(I[١١٩])
لھٰذا حدی-ث کو صرف مودت واحترام پر حمل کرنا اور ان کی اطاعت وپیروی کو اھمیت نہ دینا، اھل بیت عليهم السلام و قرآن کو ھم پلہ سمجھنے اور ان پر سبقت نہ لے جانے اور پیچھے نہ رہ جانے کے منافی ھے اور ان دونون سے تمسک کرنے کے سلسلے میں موجود شواھد کے برخلاف ھے۔
مذکورہ باتوں سے واضح ہوتا ھے کہ قرآن و عترت پیشوا قرار دیئے گئے ھیں تاکہ ان کی اقتدا کی جائے اور اس بات پر حدیث ثقلین پوری وضاحت سے دلالت کرتی ھے۔
جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:رسول اکرم(ص) نے اپنے آخری خطبے میں قرآن وآل محمد عليهم السلام کی پیروری کا حکم دیا ھے۔ آپ نے فرمایا:بےشک تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں ثقل اکبر وثقل اصغر ثقل اکبر کتاب خدا اور ثقل اصغر میری عترت ھے ان دوچیزوں میں میری مدد کرو اگر ان سے متمسک رھے تو ھر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ([١٢٠])
۱۱۔صاحب مجمع الزوائد نے جو نقل کیا ھے کہ (عترتی) کہ جگہ (سنتی)کاکلمہ آیا ھے تو اس سے متواتر روایات میں جو لفظ (عترتی اور اھل بیتی ) آیا ھے اس کے درمیان کوئی منافات نھیں ھے۔
مجمع الزوائد میں تمام اسناد کے ساتھ ابو ھریرہ سے روایت ھے کہ۔ رسول اکرم(ص) نے فرمایا: بےشک تمھارے درمیان دو چیزوں کو بطور جانشین چھوڑ کر جا رھا ھوں کہ ان دونوں کی (ھمراھی) کے بعد ھر گزگمراہ نہ ہوگے۔ کتاب خدا، میرا نسب۔اور یہ دونون ھر گز ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوں گے یھاں تک کہ روز محشر حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔ ([١٢١])
متواتر حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ھیں کہ رسول اکرم (ص) نے کتاب خدا اور عترت کو امت کے درمیان چھوڑ ا ھے۔
اس حدیث اور باقی متواتر احادیث کا طریقہٴ جمع یہ ھے کہ عترت سے مراد پیغمبر کے خاص الخاص اور نزدیکی افراد ھیں۔ کیونکہ نسب بالکل ھی قریبی افراد پر صادق آتا ھے اور نزدیکی افرا د حکم وموضوع کے ذریعہ مشخص ھیں۔اس لئے کہ جس کی پیروی گمراھی سے نجات کا ذریعہ ہو وہ پیغمبر کا ھر نزدیکی نھیں ہو سکتا بلکہ وہ نزدیکی افراد مراد ھیں جو کہ معصوم ھیں جیسا کہ اس بات پر بھت ساری نصوص موجود ھیں جن میں سے بعض کی جانب ھم نے اشارہ کیا ھے۔
یہ حدیث جس میں اس بات کا تذکرہ ھے کہ امت مسلمہ کو کتاب خدا اور سنت کی پیروی کا حکم دیا گیا ھے اور اس متواتر حدیث جس میں کتاب خدا و عترت کے سلسلے میں تاکید ھے کوئی تضاد نھیں ھے ۔ کیونکہ جامع اور حقیقی سنت(رسول) اھل بیت عليهم السلام کے علاوہ کسی اور کے پاس نیں ھے ۔ لھٰذا اگر ان احادیث کے نبی اکرم(ص) سے صادر ہونے کے مان بھی لیں تو ان متواتر احادیث کے منافی ومخالف نھیں ھیں۔
اور یہ حدیث جو پیغمبر سے منقول ھے کہ۔ کتاب خدا میں جو کچھ تمھارے لئے بیان ھے اس کے ترک پر کوئی عذر قبول نھیں کیا جائے گا۔ اگر کتاب خدا میں کوئی حکم نہ ملے تو میری احادیث کی جانب رجوع کرو اور اگر احادیث میں موجود نہ ہوو تو میرے اصحاب سے سوال کرو کیونکہ یہ (ھدایت) میں ستاروں کے مانند ھیں۔ لھٰذا ان سے اگر کسی ایک سے بھی تمسک کر لیا تو گویا ھدایت پاگئے۔

اول: اھل سنت کے بزرگ علماء نے اس بات کو صراحتا ً کھا ھے کہ یہ حدیث جعلی اور گڑھی ہوئی ھے۔ صاحب عبقات نے ذکر کیا ھے کہ علماء اھل سنت کی ایک پوری جماعت نے اس حدیث کو جعلی،خفیف السند اور صحیح نہ ہونے کا اعتراف کیا ھے۔ ان میں سے احمد بن حنبل، بزاز، دار قطنی، ابن حزم، بھیقی نے مدخل میں، ابن عساکر، ابن جوزی، ابن دحیہ، ابو حیان، ذھبی،ابن میشم، ابن حجر عسقلانی ھیں۔
پس وہ حدیث جو خفیف السند ہو اس کا حدیث ثقلین کے ساتھ کیونکر تعارض ہو سکتا ھے جو کہ متواتر اور قطعی الصدور ھے۔

دوم: یہ حدیث اجماع و ضرورت دین کے خلاف ھے جیسا کہ علامہ میر حامد حسین ھندی نے اس جانب اشارہ کیا ھے۔ انھوں نے کھا ھے کہ بلاشبہ حدیث نجوم رسول خدا(ص) کے تمام اصحاب کی صلاحیت اور اس بات کو ثابت کرتی ھے کہ سب کے سب امت کی ھدایت کرنے والے ھیں اور یہ چیز بالا جماع غلط ھے کیونکہ اصحاب رسول کی ایک بڑی تعدادنے بھت سے لوگوں کو گمراہ کیا اور اس حدیث میں تمام اصحاب کی صلاحیت کا اثبات ھی اس کے جعلی اور منگڑھت ہونے کی سب سے بری دلیل ھے کیونکہ ان میں سے بھت سے بلکہ اکثر صحابیوں میں اس کی قطعی اھلیت نھیں پایٴی جاتی۔ اس کے علاوہ خود قرآن میں بھی صحابیوں کے ایک بڑے گروہ کے بد کردار ہونے کی بات کی گئی ھے خاص طور پر سورہٴ انفال، برائت،احزاب،منافقین،اور جمعہ میں اس کا مشاھدہ کیا جا سکتا ھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ اس بات کے مد نظر یہ کھاں سے صحیح ہوگا کہ رسول خدا(ص) و تمام اصحاب کو امت کی قیادت کا ذمہ دار اور ھدایت کا اھل قرار دیں۔ جبکہ کچھ اصحاب غلط رویئے اور مذموم صفات کے حامل تھے۔ اس کے ساتھ ھی پیغمبر اسلام(ص) سے بھی کچھ صحابیوں کی مذمت میں بھت سی احادیث نقل ہوئی ھیں جنھیں اھل سنت کی کتب صحاح میں بخوبی دیکھا جا سکتا ھے۔
حدیث حوض، حدیث ارتداد، حدیث لا ترجعوا بعدی کفارا،حدیث الشرک اخفی من دبیب النمل،حدیث لا دری ما تحدثون بعدی،حدیث ابتاع سنن الیھود والنصاریٰ، حدیث التنافس، حدیث ان من اصحابی من لایرنی بعدی ولا اراہ،حدیث ان فی اصحابی منافقین، وحدیث قد کثرت علی الکذابہ وغیرہ ۔۔۔ایسی حدیثیں ھیں جو بعض اصحاب کی برائی ومذمت میں نقل کی گئی ھیں خود اھل سنت کی کتابوں میں ایسی حدیثوں کو نقل کیا گیا ھے۔ جن میں رسول خدا(ص) نے بعض صحابیوں کی پیروی کرنے سے منع کیا ھے۔ مثال کے طور پر یہ حدیث کہ بلاشبہ جوا ن لوگوں کاابتاع کرے گا جھنمی ہوجائے گا۔
حنفی نے کھا ھے کہ آنحضرت نے فرمایاھے:میرے صحابیوں میں گمراھی کا وجود ھے لیکن خدا ان کے ماضی کے مد نظر انھیں بخش دے گا لیکن اگر اس کے بعد کسی گروہ نے ان کی پیروی کی تو خدا اسے جھنم میں ڈالے گا۔ ([١٢٢])

سوم: اگر ھم اس حدیث کو صحیح مان بھی لیں تب بھی اس میں اور حدیث ثقلین میں کوئی تضاد نھیں ہوگا کیونکہ یہ حدیث ایک طرح سے حدیث ثقلین کے معنی کی تاکید کرتی ھے۔حدیث میں خدا کی کتاب پر عمل معین کر دیا گیا ھے اور یہ بھی واضح کر دیا گیا ھے کہ قرآن میں مذکورہ باتوں کے ترک کے لئے کسی کے پاس کوئی جواز نھیں ھے اور قرآن میں کسی حکم کے موجود نہ ہونے کی صور ت میں سنت پر عمل ضروری ہوتا ھے۔
اور اگر سنت میں بھی کسی خاص عمل کے حکم کا کوئی ذکر نہ ہو تو پھر اصحاب کی جانب رجوع کرنے کو کھا گیا ھے۔ اس صورت میں واضح ھے کہ حقیقی سنت اھل بیت پیغمبر کے پاس رھی ھے اور اس طرح سے ان کی پیروی کا واجب ہونا بھر حال کسی اور سے زیادہ اھم ھے لہٰذ ا عترت کی موجودگی میں اصحاب کی پیروی کا کوئی سوال ھی پیدا نھیں ہوتا۔

چھارم: بلا شبہ احکام کے سلسلے میں اصحاب کے درمیان اختلاف پایا جاتا ھے اور صحابہ کی اکثریت احکا م سے نابلد ھے اور اپنے جھل کا اعتراف بھی کرتے ھیں۔ تو ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ھے کہ رسول اکرم (ص) ایسے افراد کو مرجع ملت قرار دیں اور لوگوں کی ھدایت کی خاطر ایسے افراد کو معین فرمائیں۔
اس سے بڑھ کر بھت سارے حرام امور جیسے شراب فروشی، زباوغیرہ کے مرتکب اصحاب بھی تھے جس کوصاحب عبقات نے ذکر کیا ھے۔ ([١٢٣])
خدا کی پناہ ھم پیغمبر اسلام(ص) کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دیں کہ آپ نے ایسے صحابہ کی طرف مراجعہ کا حکم دیا ھے۔ جب کہ خدا نے آپ کو لوگوں کی ھدایت و نجات کے لئے مبعوث فرمایا ھے: رسول اکر م(ص) سے کھیں بالا ومنزہ ھیں کہ ان کی جانب ایسی باتوں کی نسبت دی جائے۔ جب کہ عقل ونص متواتر اس بات پر دلالت کرتے ھیں جن میں سے حدیث ثقلین بھی ھے جوا س بات پر روشن دلیل ھے کہ وھاں گمراھی کا مکان نھیں ھے اور (ان سے تمسک کی صورت میں)امت مسلمہ کے لئے گمراھی ممکن نھیں۔جو کوئی بھی اس قسم کے خرافات میں ملوث ہوگا گویا وہ راہ حق وعدل سے ہٹا ہوا ھے اور وہ قعر مذلت، حسد،دشمنی اور رقابت، بد کرداریوں میں گرفتار ھے۔ جبکہ پیغمبر اسلام(ص) نے ان امور سے سخت ممانعت فرمائی ھے اور لوگوں کو روکا ھے اور اس بات پر تاکید فرمائی ھے کہ (بے شک میں تم لوگوں کو ان دو امور۔ ۱۔کتاب۔۲۔عترت کے سلسلے میں ذمہ دار سمجھتا ھوں )۔([١٢٤])
۱۲۔بےشک حدیث ثقلین بعد حیات رسول عترت طاھرہ کے لئے امامت بلا فصل پر دلالت کرتی ھے لھٰذا صرف یھی اتباع کے لائق ھیں، متواتر احادیث اور روایات میں روشنی میں یہ بات ظاھر ہوتی ھے کہ رسول اکرم(ص) نے مولای متقیان امیر الموٴمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو اپنے بعد اپنا وصی خلیفہ اور ولی مقرر فرمایا ھے۔
اسی وجہ سے سید مرتضیٰ نے محکی الشافی میں فرمایا : بےشک حدیث ثقلین بعد حیات رسول امیر الموٴمنین عليه السلامکی خلافت بلا فصل پر دلالت کرتی ھے۔ ([١٢٥])
۱۳۔ صادق اور امین رسول کے حدیث ثقلین میں فرمان کے مطابق قرآن و عترت سے تمسک سبب ھدایت ھے۔ اسی وجہ سے شیعوں کو ضلالت یا رفض جیسے اتھام لگائے گئے اور اس میں کسی قسم کا گھا ٹا یا نقصان نھیں کیونکہ رسول کا قول ھر طرح کی خطاو نسیان سے منزہ ھے اور بات پر بھت ساری روایات تاکید کرتی ھیں۔
شیعہ فرقہ کامیاب ھے اس بات پر روایت گواہ ھے مگر(ھمیں اس خوش فھمی میں مبتلا ہو کر خود کو غافل نھیں کرنا چاھیئے )
آخر میں پیش پروردگار دعا گو ھوں کہ خدا ھمارے برادران کو حدیث ثقلین میں غور وخوض کی توفیق عنایت فرمائے اور حقیقت حال یہ ھے کہ حدیث ثقلین مشعل راہ ھے جس کو رسول نے لوگوں کے سامنے پیش کیا ھے تاکہ ملت تفرقہ اور گمراھی کا شکار نہ ہو اور ٹکڑوں میں نہ بٹے اور ایمان و عقیدہ میں متحد رھیں۔
خدایا ھم کو اور تمام برادران اسلامی کو قرآن وعترت کے متمسکین میں قرار دے۔

آمین یا رب العالمین
سید محسن خرازی
۲۱ رمضان ۱۶ ۱۴ ھ قمری
قم المقدسہ ۔
تمام شد

----------------
[١] ان تمسکتم بھمالن تضلوا ابدا وانھمالن یفتر قاحتی یردا علی الحوض۔
[٢] قرآن و عترت ایک دوسرے کی ضرورت نھیں ھے اور ھدایت خلق میں ایک دوسرے کے ممدّ و معاون ھیں۔ کسی ایک سے دوسرے کے بغیر انحراف و گمراھی ھے۔
[٣] غاتیہ المراض ۲۱۱ طبع بیروت دررالقاموس الحدیث
[٤] نفحات الازھارفی خلاصة عبقات الانوار۔ ص۔۲۱۰۔۲۱۹ طبقع اولی ۴۱۴ (عبقات الانوار، ج۔ ۱ طبقع اول ص ۱۳۹۸ طبقع قم از صفحہ ۱۳ تا صفحہ ۲۵
[٥] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ طبقع قاھرہ (مصر) طبقع دوم ۱۹۶۵ صفحہ ۲۲۸
[٦] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھر(مصر) طبقع دوم
[٧] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھر(مصر) طبقع دوم
[٨] حدیث ثقلین تواتر کے ساتھ ذکر ھیں۔
[٩] صواعق محرقہ صفحہ ۳۴۲ طبقع قاھرہ (مصر) طبقع دوم ۱۹۶۵ صفحہ۔ ۲۲۸
[١٠] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۲۷۔۲۳۶
[١١] غاتیہ المرام صفحہ ۲۳۱
[١٢] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ ۴۹۱
[١٣] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ۴۹۳
[١٤] یہ بات فیض الغد یر میں جلد ۲ صفحہ ۱۵ پر ان کے حوالے سے نقل کی گئی ھے۔
[١٥] نفحات الازھار جلد ۱ صفحہ۴۸۳
[١٦] قصویٰ۔ تیز رفتاری کے باعث اس کو قصویٰ کیا جاتا تھا۔
[١٧] سنن ترمزی جلد ۵ صفحہ، ۳۲۷۔ ۳۲۸ شمارہٴ حدیث ۳۸۸۴
[١٨] یہ بھت مشہور خطبہ ھے جو کہ حجہ الوداع میں ارشاد فرمایا ھے۔۔
[١٩] بصریٰ شام کے ایک شھر کا نام ھے صنعایمن کا ایک قصبہ ھے۔ اور وازہٴ شام کا ایک گاوٴں ھے۔
[٢٠] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۰۹ مسندنسائی۔ کتاب الخصائص صفحہ۱۵۰
[٢١] صحیح مسلم جلد ۵ صفحہ ۲۵ ش۔ ۲۴۰۸
[٢٢] المعجم الکبیر۔۵۔ صفحہ ۱۶۶۔ ۴۹۶۹ ّ( ابن حجر نے صواعق محرقہ میں صفحہ ۴۳ پر درج کیا ھے (طبع قاھرہ)
[٢٣] احقاق الحق جلد ۹ صفحہ ۳۵۵
[٢٤] المسجّہ۔ انگشت شھادت
[٢٥] ینابیع المودة صفحہ ۱۱۷۔ ۱۱۶۔ طبع استانبول (ترکی)
[٢٦] غیتہ النمانی صفحہ ۴۳
[٢٧] ارجح المطالب صفحہ ۳۱۴ طبع الاہور (پاکستان)
[٢٨] ینابیع المودة صفحہ ۳۸
[٢٩] ھم نے ابن حجرسے نقل کیا ھے کہ حدیث ثقلین مختلف طرق سے روایت ہوئی ھے۔ صواعق محرقہ صفحہ ۲۲۸ طبقع قاھرہ۔
[٣٠] حدیث ثقلین۔ آقای شیخ قوام الدین و شنوی صفحہ ۱۴۔ ۱۳۔ صواعق محرقہ صفحہ ۱۵۰ طبقع قاھرہ۔
[٣١] ینابیع المودة صفحہ ۳۷۔ ۳۸
[٣٢] المناقب لابن مغازلی صفحہ ۱۱۲۔ ۱۱۵
[٣٣] امیر المومنین(ع) نے عترت نبی اکرم کے بارے میں فرمایا۔ تم لوگ کھا جارھے ہو۔ تمھارا رخ کس جانب ھے۔ پرچم حق لھرا رھا ھے اس کی علامتیں آشکار ھیں۔ جبکہ ھدایت کے چراغ روشن ھیں لوگ بھیک کر کھاں جارھے ہو۔ کیوں سر گردان ہو۔ درآں حالیکہ عترت رسول تمھارے درمیان وہ ھے (عترت رسول) زمام حق، پرچم دین، اور زبان صدق ھیں۔ اور وہ بھترین منزل، (پاک و پاکیزہ دل ) جھاں قرآن کو محفوظ رکھتے ھیں ان کو وھیں محفوظ کر لو۔ پیاسوں کی مانند اس کے شفاف چشمے پر ٹوٹے پڑو۔ اے لوگو! اس حقیقت کو پیغمبر اسلام سے سیکھو کہ (جو کوئی ھم سے مرتا ھے وہ در حقیقت مرتا نھیں۔) اور ھم میں سے کوئی چیز پورانی نھیں ہوتی۔ پس جس چیز کا علم نھیں رکھتے اس کے بارے میں کچھ نہ کہو کیونکہ بھت سارے حقایق ایسے میں ہوتے ھیں جن کا تم انکار کرتے ہو اور جس کے خلاف کوئی دلیل نھیں رکھتے ہو اس سے غدر خواھی کرو اور وھی ھوں ۔ کیا میں نے تمھارے درمیان ثقل اکبر (قرآن) پر عمل نھیں کیا اور ثقل اصغر (عترت رسول) کو تمارے درمیان زندہ نھیں رکھا؟کیا پرچم ایمان کو تمھارے درمیان نصب نھیں کیا ؟ کیا حلال و حرام سے تم کو آگاہ نھیں کیا؟ کیا ایسا نھیں ھے کہ لباس عافیت کو (عدل) کے ساتھ تمھارے زین تن نھیں کیا؟ اور نیکوں کو اپنے قول و فعل سے تمار ھے درمیان پھلایا اور انسانی اخلاقی ملکہ سے تمھیں روشناس کرایا۔ لھٰذا اپنے وھم وگمان کو ایسی جگہ استعمال نہ کرو جس کی گھرائی تمھاری آنکھیں دیکھ نھیں سکتی۔ اور پرواز فکر پھنچ نھیں سکتی۔ ینابیع المودة صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۶ باب ۱۳۸ لمعحم المفھرس الفاظ نھج البلاغہ ،صفحہ۔ ۳۷ حصہ خطبات۔ خطبہ ۸۷
[٣٤] ینابیع المودة صفحہ۲۱
[٣٥] مسند اضمد جلد ۳ صفحہ ۱۷
[٣٦] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۰۹
[٣٧] مستدرک احمد ابن حنبل جلد ۴ صفحہ ۳۶۷
[٣٨] ینابیع المودة صفحہ ۱۱۷۔ ۱۱۶
[٣٩] ارحج المطالب صفحہ ۳۴۱
[٤٠] المعجم الکبیر جلد ۳ صفحہ ۶۳ حدیث ۲۶۸۱ کے ذیل میں۔
[٤١] باب حطہ سے مرادار۔ یحایابیت المقدس ھے۔
[٤٢] نفحات الازھار۔ نقل ازکتاب الاربعین فی فضائل امیر امومنین مخطوطہ جلد ۱ صفحہ ۳۷۴
[٤٣] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۱۴۴
[٤٤] احیاء المیت؟؟ للسیوطی صفحہ ۶۴ طبع دارالعلوم صفحہ ۴۸ طبع بیروت
[٤٥] مجمع الزوائد صفحہ ۱۶۲
[٤٦] المعجم الکبیر للطبرانی جلد ۵ صفحہ ۱۶۷ حدیث ۴۹۷۱ کے ذیل میں۔
[٤٧] حلتیہ الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۱۶۴ حیاء المیت صفحہ۵۷۔۵۸ طبع دارلعلوم صفحہ ۳۸ طبع بیروت
[٤٨] اِنی اوشک ان ادعیٰ فاجیب۔
[٤٩] اِن اللہ عزوجل اوحیٰ انی مقبوض۔
[٥٠] اِنی تارک فیکم خلیفتین۔ مسند احمد بن خنبل جلد ۵ صفحہ ۱۸۲۔ ۱۸۹ ینابیع المودة صفحہ ۳۸
[٥١] ایھاالناس اِنی ترکت فیکم الثقلین خلیفتین۔ نفحاالازھار جلد ۱ صفحہ ۴۵۹ از تفسیر انوری (مخلوط)
[٥٢] اِنی مخلف فیکم الثقلین سمطة النجوم۔ العوالی، جلد ۲ صفحہ۵۰، نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۱۰۹
[٥٣] قد خلفت فیکم الثقلین۔ پنابیع المودة صفحہ ۳۹
[٥٤] قیاس سے مراد۔قیاس مستنبط العلة یعنی جب مقید آیات واحادیث میں کسی قسم کی علت نہ پائے تو اپنے پاس سے ایک علت گھڑ لے، رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:دین میں قیاس نہ کرو کیونکہ قیاس کے ذریعہ دین کو نھیں سمجھا جا سکتا اور پھلا وہ شخص جس نے قیاس کیا تھا ابلیس تھا،آپ نے فرمایا:جو کوئی دین میں قیاس کرے گا گویا اس نے مجھ پر افترا پردازی کی۔ایک دفعہ ابو یسف اھل سنت کے معروف فقیہ نے دوران حج امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ملاقات کی اور عرض کی۔آپ کیا فرماتے ھیں:اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر مُحرم کجاوے میں سوار ھے تو کیا سایہ میں جا سکتا ھے۔ آپ نے فرمایا:نھیں۔ اس نے کھا اگر خیمہ میں ھے تو کیا خیال ھے؟آپ فرمایا:ھاں۔
[٥٥] استحسان کا معنی یہ ھے کہ کسی حکم کا اثبات اور صورت میں کرے کہ اس کو وہ حکم پسند ھے بغیر اس کے کہ اس پر کوئی شرعی دلیل ہو۔
[٥٦] ابن عبد البر نے کتاب جامع بیان العلم و فضلہ میں لکھا ھے کہ۔ عمر بن خطاب نے سنت کو لکھنا چاھا مگر پھر ان کا نظریہ تبدیل ہو گیا لھٰذا انھوں نے تمام (دور و نزدیک کے)شھروں میں یہ حکم لکھ بھیجا کہ جتنی چیزیں بھی سنت سے متعلق لکھی گئی ھیں ان کومٹا دیا جائے۔جامع بیان العلم جلد ۱صفحہ ۶۵ نقل از کتاب۔ فاسئلو اھل الذکر۔سماوی تیجانی صفحہ ۶۱تا۲۳۔
[٥٧] عمر بن عبد العزیز جب حکومت پر قابض ہوا تو اس نے ابوبکر حزمی سے خواھش ظاھر کی کہ احادث و سنت نبوی اور عمر بن الخطاب کی باتوں کو لکھ ڈالے۔ کتاب سنت واقعی جلد۱ صفحہ ۹۴۔
[٥٨] امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا:کہ ھمارے پاس ایک ایسی مکمل کتاب ھے جس کو طول ستر (۷۰) ھاتھ ھے پیغمبر کی زبانی امیر المومنین(ع) عليه السلام کی تحریریں ھیں اور کوئی ایسا حلال و حرام نھیں ھے کہ لوگ اس کی ضرورت محسوس؟؟ کرتے ھوں اور اس میں نہ ہواور ھر طرح کے حکم حتی ھلکی سی خراش کے بارے میں بھی حکم موجود ھے۔ اصول کافی جلد ۱ صفحہ ۲۳۹۔ کتاب بصائرالدرجات صفحہ ۱۴۵۔ ۱۴۴۔ بجاری نے خود اپنی صحیحہ میں لکھا ھے کہ یہ کتاب علی عليه السلام کے پاس تھی اور اس بات کا کئی باب میں تکرار بھی کیا ھے۔ لیکن اپنی عادت کے تحت ان مطالب کو کسی بھی فصل یا باب میں ذکر نھیں کیا ھے۔۔ صحیح بخاری جلد ۱ صفحہ ۳۶ صحیح بخاری جلد۲ صفحہ ۲۲۱ جلد۴ صفحہ ۶۷ صحیح مسلم جلد ۴ صفحہ ۱۱۵۔ اھل سنت واقعی جلد ۱ صفحہ ۸۴۔
[٥٩] جامعة الاحادیث جلد ۱ صفحہ ۱۲۔ ۷
[٦٠] ارجح المطالب صفحہ ۳۴۱ ہور نقل از کتاب احقاق الحق جلد ۹ صفحہ ۱۳۷
[٦١] نھج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام خطبہ ۱۷۶۔
[٦٢] اصول کافی جلد ۲ صفحہ ۴۴۹۔
[٦٣] غایة المرام صفحہ۲۲۶ روایت ۳۶۔
[٦٤] اس لئے کہ دوسرے افراد کسی بھی میدان میں ان کے مد مقابل آنے کی سکت نھیں رکھتے ھیں۔
[٦٥] نھج البلاغہ خطبہ ۲ ترجمہ فیض الاسلام ۔
[٦٦] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ۱۴۵۔
[٦٧] تہذیب اللغةجلد ۹ صفحہ ۲۸۔
[٦٨] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۵۱
[٦٩] النھایہ۔ ابن اثیر جلد ۳ صفحہ ۷۷ا عترت الرجل۔ اخص اقاربہ
[٧٠] سورہٴ احزاب آیت ۳۳۔
[٧١] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۷۶۔۳۷۵۔
[٧٢] الکمال فی الرجال جلد ۶ صفحہ ۲۰۸۷ طبع بیروت نقل از احقاق الھق جلد ۲۴ صفحہ ۶۰، ۵۹۔
[٧٣] احقا ق الحق جلد ۲صفحہ ۵۱۹ از تلخیص مستدرک۔ مستدرک کے ذیل میں طبع ہوئی جلد ۳ صفحہ ۴۱۶ طبع حیدر آباد ۔
[٧٤] آل عمران آیہ ۶۱۔
[٧٥] صحیح مسلم جلد ۴ صفحہ۱۸۷۱۔مسلم تر مذی وابن المنذر اور حاکم اور بیہقی نے اپنی سنن میں سعید ابن ابی وقاص سے روایت کی ھے کہ جب آیہ نازل ہوئی تو رسول نے علی،فاطمہ حسن حسین علیھم السلام کو طلب فر مایا:اور کھا خدا یا یہ میرے اھل بیت عليهم السلام ھیں۔ احقاق الحق جلد ۳ صفحہ ۵۹۔۵۸۔
[٧٦] تذکرة الخواص صفحہ ۲۹۰۔
[٧٧] احزاب آیت ۳۳۔
[٧٨] کفایة الطالب صفحہ ۵۴۔
[٧٩] نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۳۴۱۔۳۴۷۔
[٨٠] عیون اخبار الرضا جلد۱ صفحہ۴۶ حدیث ۲۵۔
[٨١] آل عمران آیت ۱۰۳۔
[٨٢] طبقات الکبریٰ جلد ۲ صفحہ۱۹۴۔
[٨٣] آلاء الرحمٰن صفحہ ۳۲۲
[٨٤] سورہ آل عمران آیت ۱۰۱
[٨٥] (نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۵۴ ینابیع المودة جلد ۱ صفحہ ۱۱۸ )
[٨٦] غیبة النعمانی صفحہ ۴۳۔۴۲۔
[٨٧] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۹ صفحہ ۱۳۳۔
[٨٨] ینابیع المودة صفحہ۲۷۔۱۹۔
[٨٩] فضائل احمد صفحہ ۲۶۷۔۱۸۹۔
[٩٠] امالی طوسی صفحہ ۳۷۹۔۸۱۲۔
[٩١] فرائد السمطین جلد ۲ صفحہ ۵۶۲۔۳۱۲۔
[٩٢] مقتل الحسین صفحہ ۱۴۶۔
[٩٣] صحیح مسلم جلد ۳ش۔ ۱۴۵۲۔
[٩٤] فرائد السمطین جلد ۲صفحہ ۱۵۰۔
[٩٥] نفحات الازھار جلد۲صفحہ ۲۶۲۔از جواھر العقدین مخلوط فیض القدیر جلد۳ صفحہ ۱۵۔
[٩٦] صواقع محرقہ صفحہ ۲۳۲۔
[٩٧] صواعق محرقہ صفحہ ۲۳۲ طبع قاھرہ ۱۵۱۔
[٩٨] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۲۴ فرائد السمطین جلد۱ صفحہ ۱۷۶۔۱۳۸۔
[٩٩] مستدرک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۲۵۔۱۲۴نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۶۷۔
[١٠٠] احیاء المیت صفحہ ۳۲۔۳۰ طبع بیروت صفحہ ۲۵۔ ۲۴۔
[١٠١] کشتیٴ نوح سے تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ جوان سے محبت کرتا تھا اور عترت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اس نعمت پر خدا کی تعریف و تمجید کرتا تھا اور عالموں کی ھدایت سے بھرہ مند ہوا ظلمت و تیرگی سے محفوظ رھا اور جو اس سے رو گردانی کرے گا کفران نعمت کے دریا میں غرق ہوگا اور اس کی بپھر ی موجوں کی نذر ہو جائے گا۔
[١٠٢] مستدر ک الحاکم جلد ۳ صفحہ ۱۵۱۔
[١٠٣] باب حطہ سے تشبیہ کی وجہ یہ ھے کہ خدا نے(باب حطہ) میں داخل ہونے والے افراد کو جو کہ( باب اریحا)یا (بیت المقدس )ھے سکون واطمینان اور گناھوں کے طلب مغفرت پر ان کے لئے معافی دو گذر کا راستہ کھول دیا تھا اور اس امت کے لئے آل محمد کی محبت ومودت کو گناھوں کی بخشش کا ذریعہ بتا یا ھے۔ ثم اھتدیت۔ سماوی تیجانی صفحہ ۲۶۸۔
[١٠٤] المعجم الصغیر جلد ۲ صفحہ ۲۲۔
[١٠٥] المراجعات صفحہ ۳۴۔
[١٠٦] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۲۶۹۔ ۲۶۸
[١٠٧] شرح نھج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۷۷۔۳۷۶۔
[١٠٨] ھما حبل ممدود من السمآء بینکم وبین اللہ عزوجل ۔
[١٠٩] سبب منہ بید اللہ وسبب بایدیکم
[١١٠] انمھا لن یفترقا حتی یردا علی الحوض
[١١١] ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا۔۔۔
[١١٢] ھذا علی مع القرآن والقرآن مع علی لا یفترقان۔
[١١٣] وحی نبوت کے اختتام پر یہ سلسلہ ختم نھیں ہوتا ۔
[١١٤] کافی جلد ۱ صفحہ ۱۵۷۔
[١١٥] شرح المقاصد جلد ۲ صفحہ ۲۲۲نقل از نفحات الازھار جلد۲ صفحہ ۲۴۸۔
[١١٦] صواعق محرقہ صفحہ ۲۳۱طبع قاھری صفحہ ۱۵۱۔
[١١٧] اگر یہ ولایت مطلقہ احکام الٰھی کے دائرے میں(قرآن وسنت و عقل والھام خدا وندی اور اس کے بڑھ کر رضایت خدا کے ھمراہ )ھے۔
[١١٨] نفحات الازھار جلدد۲ صفحہ ۲۴۷۔
[١١٩] المراجعات صفحہ ۲۵۔
[١٢٠] غایة المرام صفحہ ۲۲۵حدیث۲۶۔
[١٢١] مجمع الزوائد جلد ۹ صفحہ ۱۶۳،طبع مصر۔
[١٢٢] نفحات الازھار جلد ۳ صفحہ ۱۶۸۔ ۱۷۱ کنز العمال جلد ۱۱ صفحہ ۱۱۴ کے بعد ۔
[١٢٣] نفحات الازھار جلد ۲ صفحہ ۱۷۸۔
[١٢٤] حلیة الاولیاء جلد ۹ صفحہ ۶۴۔
[١٢٥] الشافی فی الامامہ جلد۳ صفحہ ۱۲۲۔

۱