تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه جلد ۱

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه0%

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه مؤلف:
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 216

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه

مؤلف: سيد مرتضى عسكرى
زمرہ جات:

صفحے: 216
مشاہدے: 20489
ڈاؤنلوڈ: 953


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 216 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 20489 / ڈاؤنلوڈ: 953
سائز سائز سائز
تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار-دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه جلد 1

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

تاريخ اسلام ميں عايشه کاکردار جلد اول

دوران پيغمبر تا خلفا ثلاثه

مولف : سيد مرتضى عسكرى

مترجم : علامہ سيد على اختر رضوى گوپالپوري طاب ثراہ

۳

مولف كتاب پر ايك اجمالى نظر.

مولف كتاب علامہ سيد مرتضى عسكرى جمادى الثانى ۱۳۳۳ھ (مطابق ۱۹۱۴ ئ) ميں شہر سامرا عراق ميں پيدا ہوئے ، اپ كے والد سيد محمد اسماعيل جو عالم دين اور اية اللہ مرزا محمد شريف تہرانى عسكرى كے داماد تھے ايران كے شہر ساوہ سے ہجرت كر كے سامرا ميں مقيم ہو گئے تھے _

بچپن ہى ميں علامہ سيدمرتضى عسكرى كے سر سے باپ كا سايہ اٹھ گيا تھا _ اپ نے دس سال كى عمر ميں دروس حوزہى كا اغاز كيا ، ۱۳۵۰ھ ميں قم تشريف لائے اور يہاں درس كا سلسلہ شروع كيا اور اپنے كچھ ساتھيوں سے صلاح و مشورہ كے بعد تفسير و علوم قران احاديث غير فقہى اور كلامى كتابوں كے تدريس كى تحريك چلائي مگر اس ميں ناكامى كى وجہ سے دل برداشتہ ہو كر ۱۳۵۳ھ ميں دوبارہ سامرا واپس چلے گئے _

جب اية اللہ بروجردى كى مرجعيت كا اغاز ہوا تو اپنى ديرينہ خواہش كو عملى جامہ پہنانے كے لئے دوبارہ قم تشريف لائے _ مگر اس وقت كے سياسى حالات نے پھر عراق جانے پر مجبور كيا مگر اس بار اپ نے شہر بغدادكا انتخاب كيا اور چونكہ اية اللہ حكيم كى پورى پشت پناہى حاصل تھى لہذا عراق كے مختلف شہروں ميں شيعوں كے لئے ہاسپٹل ، لون دينے كے ادارے اور كتب خانے بنوائے ، بغداد ميں بہت بڑا ہاسپٹل اور اصول دين كالج قائم كئے _

علمى اور رفاہى فعالتيوں كے ساتھ ساتھ اپ كى سياسى فعاليت بھى بہت زيادہ تھى چنانچہ حكومت وقت كا مقابلہ كرنے كى خاطر علماء كى كميٹى بنام '' جماعة علماء بغداد الكاظميہ '' كى راہنمائي كرتے تھے _

اسى وجہ سے ۱۹۶۸ ھ ميں بعثى حكومت نے گرفتار كرنا چاہا مگر اپ مخفى طور سے بيروت چلے گئے ، اپ كے اساتيذ ميں اية اللہ اقا ميرزا حبيب اللہ اشتہاردى اور امام حمينى قابل ذكر ہيں _ اپ كے علمى فيوض كا سلسلہ اب بھى جارى ہے خدا اپ كو طول عمر عنايت فرمائے_امين

۴

تاليفات

۱_ احاديث ام المومنين عائشه ۴ج

۲_ خمسون ومئة صحابى مختلق ۳ج

۳_ عبد اللہ بن سبار اساطير اخرى ۲ج

۴_ معالم المستدرستين ۳ج

۵_ القران الكريم و روايات المدرستين ۳ج

۶_ عقائد الاسلام من القران الكريم ۳ج

۷_ قيام الائمة باحياء الدين ۱۴ج

۸_ دور الائمہ فى احياء السنة

۹_ مقدمہ '' مرا ةالعقول فى شرح اخبار ال الرسول ۲ج

۱۰_ مع ابى الفتوح التليدى فى كتابہ '' الانوار الباھرة ''

۱۱_ مع الدكتور الوردى فى كتابہ '' وعاظ السلاطين ''

۱۲_ اراء و اصداء حول عبد اللہ بن سبا و روايات يسف بن عمر

۱۳_ طب الرضا و طب الصادق

۱۴_ مصطلحات اسلاميہ

۱۵_ على مائدة الكتاب و السنة _ يہ كتاب درج ذيل ۱۹ رسالوں كا مجموعہ ہے _ السجدة على التربتہ ، البكاء على الميت ( اس كا اردو ترجمہ مولانا سيد على اختر صاحب طاب ثراہ نے كيا تھا جو شائع ہو چكا ہے )زيارة قبور الانبياء و الائمه و الصلحاء ، التوسل با لنبى و التبرك باثار ه، الصلاة على محمد و اله ، يكون لهذه الامة اثنا عشر قيماً، عدالة الصحابة، عصمة الانبياء ،البناء على قبور الانبياء و الاولياء ، الشفاعة ، البداء ، الجبر و التفويض و القضا ء و القدر ، صلاة ابى بكر ، المتعة او الزواج المو قت، حديث الكساء من طرق الفريقين ، تعليم الصلاة ، المصحف فى روايات الفريقين ، صفات الله جل ّجلاله فى روايات الفريقين ، اية التطهير فى مصادر الفريقين ، ان ميں كے اكثر رسالوں كے مو لف نے فارسى كا بھى ملبوس ديا ہے _ فارسى ميں اديان اسمانى و مسئلہ تحريف اور نقش ائمہ در احياء دين تحرير كى ہيں _

۵

كتاب حاضر

زير نظر كتاب '' احاديث ام المومنين عائشه '' كا ترجمہ ہے _ يہ كتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے شروع كى تين جلديں حضرت عائشه كے حيات و كارنامے سے متعلق ہيں اور چوتھى جلد ان سے مروى احاديث سے متعلق ہے جس كا اردو ترجمہ مولانا سيد محمد باقر صاحب مرحوم سابق مدير اصلاح كھجوا بہار نے كيا تھا اور وہ اسى ادارے سے شائع ہوئي تھى _

علامى مرتضى عسكرى نے اس كتاب ميں اس بات كى وضاحت كى ہے كہ بہت سارى احاديث پيغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ميں تناقض ہے اور ان ميں كى بعض حديثيں قرانى مفاہيم سے مطابقت نہيں ركھتى ہيں بلكہ ايسى بھى حديثيں ہيں جو عقل و منطق سے بہت دور ہيں كہ انہى سے دشمنان اسلام سوء استفادہ كرتے ہيں _

مو لف نے اس بات كى نشاندہى كى ہے كہ دور يزيد تك كى صحيح تاريخ اسلام كو سمجھنے كے لئے ضرورى ہے كہ حضرت عائشه كى روايتوں اور حديثوں كى پورى چھان بين كى جائے كيونكہ صدر اسلام ميں رونما ہونے والے حوادث ميں انہوں نے كليدى رول ادا كيا ہے ، اسى وجہ سے ان كى حديثوں پر تحقيق كرنے سے پہلے مو لف نے ان كے حالات تحرير كئے ہيں تاكہ اس روشنى ميں ان كى حديثوں پر ايك نظر كى جائے كيونكہ ان كى سيرت عام ازواج سے مختلف نہيں ہے _

نيز مو لف نے بڑے ٹھوس دلائل سے ثابت كيا ہے كہ حضرت عثمان كے قاتل حضرت عائشه ہيں كيونكہ خليفہ اول و دوم كى طرح حضرت عثمان كى بھى انہوں نے تائيد كى مگر بعض وجوہات كى بناء پر ان سے روٹھ گئيں اور لوگوں كو ان كے خلاف ورغلانے لگيں يہاں تك كہ ان كے قتل كا حكم دے ديا _

حضرت عثمان كے قتل كے بعد وہ حضرت علىعليه‌السلام كى مخالفت پر اتر ائيں اور اس سلسلے ميں كسى چيز سے دريغ نہيں كيا يہاں تك كہ نوبت جنگ جمل تك پہونچى اور اپ بہ نفس نفيس اس ميں شريك ہوئيں ، حضرت علىعليه‌السلام سے ان كا بغض اس حد تك پہونچ گيا تھا كہ جب شہادت حضرت علىعليه‌السلام كى خبر ان تك پہونچى تو وہ بوليں '' اج عائشه كى ديرينہ خواہش پورى ہو گئي''

حقيقت يہ ہے كہ حضرت عائشه كى حيات اور كارناموں سے متعلق اس سے جامع كتاب ديكھنے ميں نہيں ائي ، اسى وجہ سے مولانا سيد على اختر صاحب قبلہ گوپالپورى مترجم '' الغدير '' نے اس كا ترجمہ شروع كيا مگر ابھى تيسرى جلد كے ابتدائي چند صفحوں سے اگے ان كا ترجمہ نہيں پہونچا تھا كہ اجل نے مہلت نہيں دى اور چند دنوں كى علالت كے بعد اس دارفانى سے كوچ كر گئے خدا مرحوم كو جوار معصومينعليه‌السلام ميں جگہ عنايت فرمائے _ مرحوم كے بعد اس كتاب كا ترجمے كى تكميل كى ذمہ دارى پھر ميرے سر ائي ميں نے اس ارادے سے كہ ترجمہ ناقص نہ رہ جائے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ميں كتاب كو اردو كاملبوس دے ديا ہے خدا اس كو قبول فرمائے _

والسلام

سيد كرار حسين رضوى گوپالپوري

۶

پيشگفتار

درد اور درمان مرض

مسلمانوں كى لا چارى ، اپس كا تفرقہ و اختلاف اور اسلامى معاشرے كى الٹے پاو ں واپسى كا سب سے بڑا سبب تعصب شديد اور اندھى تقليد ہے اصطلاحى حيثيت سے جن لوگوں كو صلحائے قوم كہا جاتا ہے ان كا حد سے زيادہ احترام كيا جاتا ہے ان كى اخلاقى زندگى اور نفسياتى حالت كو تاريخ كے اوراق سے تلاش كرنے كى جرا ت نہيں جنكا مظاہرہ تمام جہات عصر ہى ميں ہوا _

تاريخ اسلام كى چودہ صدياں بيت گيئں ليكن مختلف سياسى عوامل كى وجہ سے حساس واقعات اور اہم حادثے جو اسلام كے اس تاريخى رفتار كے اصل محرك ہيں ; تمام مسلمانوں كے كانوں تك نہيں پہونچے جبكہ انكا ربط انھيں سے ہے_

اج كسى سے پوشيدہ نہيں كہ ہر معاشرے ميں اور ہر قوم كے درميان دين كے راستے سے غرضمند انہ كاروائي و نفوذ ;شخصى مفادات كى پيش رفت بہت اسان اور قطعى نتيجے سے قريب ہے _ اسى بنياد پر مطالب اور مفاہيم ميں تحريف كى جاتى رہى جھوٹى داستانيں گڑھ كے نشر كى گيئں _ حقيقت سے عارى مسائل بنا سنوار كر پھيلا يا جاتا رہا حقائق فہمى ميں الٹى چكى چلائي گئي _ خلاف واقع، واقعات گڑھے گئے_ ايسے ہى اور بہت سے طريقے تھے جو شخصى مفادا ت كى ترقى اور سياسى اھداف كى پيش رفت كے لئے ہر عہد اور ہر مملكت ميں برتے گئے_

ان وسيلوں سے مسلمانوں كے درميان جہاں تك ممكن ہوا اختلاف و تفرقہ كے ستو ن زيادہ سے زيادہ مستحكم كئے گئے اور ارباب اقتدار نے اپنے سياسى مقاصد كو چمكانے كيلئے پھوٹ ڈالنے كا ہر جتن كر ڈالا اور اختلاف كو مزيد جاندار بنانے ميں كوئي كسر نہيں اٹھا ركھي_

گذرتى صديوں كے ساتھ وہ مضا مين اور داستانيں; گڑھے ہوئے تحريف شدہ مسائل كو ذہنوں ميں راسخ كيا گيا ان كو نظريات و عقائد كى شكل ذہنوں ميں اتارا گيا سينہ بہ سينہ ، نسل در نسل منتقل كيا گيا _اخر كار اوضاع

۷

و احوال ايسے سامنے ائے كہ صديوں سے قوميں جسكى شاہد اور ناظر ہيں _

ايسى تاريخ وجود ميں ائي كہ صحت مند فكر يں سر بہ گريباں ہيں اور حقائق كى يا زيابى كيلئے حيران و پريشان ہيں_

علاج

يہ انحراف حقيقت محض تاريخ اسلام ہى سے مخصوص نہيں ہر مذہب وملت ميں تاريخ كا يہى حال ہے _ ليكن يہ بات طئے شدہ ہے كہ حقائق كو يكسرختم نہيں كيا جا سكتا ، انحرافى وسائل جسقدر بھى قومى ہوں انھيں پورے طور سے مليا ميٹ نہيں كيا جا سكتاليكن اس درميان جو چيز عام حالات سے زيادہ اھميت ركھتى ہے وہ يہ ہے كہ ان حقائق كو واپس لانے كى ہمت كى جائے ہزاروں باطل ميں سے حق كو پا ليا جائے_ قطعى دليلوں كے ساتھ جسے دنيا پسند كرے اسكا اعلان كيا جاے ا ور اسى كا پر چار كيا جائے _

عظيم دانشور جناب سيد مرتضى عسكرى نے اپنى مشھور كتاب احاديث ام المومنين عائشه كى تاليف كے ذريعے عظيم كام انجام ديا ہے_ اپ نے وادى حق و حقيقت كے پياسوں كو نئي راہ سجھائي ہے_ مولف نے تاريخ وحديث كى ڈھير سارى ايسى كتابوں سے جنكى صحت پر تمام دنيا كے مسلمانوں كو اتفا ق ہے ايسى قطعى دليلوں سے جسميں ذرا بھى شك اور ترديد كى گنجائشے نہيں صدر اسلام كے تاريخى حقائق پر مشتمل موجودہ كتاب تاليف كى ہے تاكہ عام لوگ اسكو پڑھكرخود ہى فيصلہ كريں_

ميں نے زير نظر كتاب كو (نقش عائشه در تاريخ اسلام )كے نام سے اس وقت جب بغداد ميں اپنى ذمہ داريوں پر مامور تھا_ مولف كے اشارے پر لكھا ليكن كئي سال تك اسكى اشاعت ملتوى رہى جيسے اس التواہى ميں بھلائي تھى كيونكہ اس عرصے ميں موجود ہ كتاب كئي حيثيتوں سے اصل عربى سے ممتاز ہو گئي _

ميرى خواہش سے اتفاق كرتے ہوئے مندرجہ ذيل باتيں شامل كر ديں _

۱_استاد حفنى دائودنے تقريظ كے عنوان سے جو تشريح كى اس كا ترجمہ كر كے گفتار مترجم كے بعد شامل كيا گيا _

۲_تعدد ازواج رسول كى حكمت پر مولف كے قلم نے اضافہ كيا

۳_زيادہ تر اشخاص پر اختصار كے ساتھ حواشى لكھے گئے تھے انكى بھر پور تفصيل و تشريح كى گئي_ ۴_ بعض نماياں افراد كا تعارف چونكہ تاريخ اسلام كى روش ميں نماياں كردار نبھا تا ہے اس لئے ان كوشرح كے ساتھ حاشيے كے بجائے متن ميں جگہ دى گئي ہے_ ۵_ سورئہ تحريم كامل طريقے سے شامل كيا گيا ہے اسكى شان نزول اور ماريہ كا واقعہ اختصار سے بڑھايا گيا ہے _

۸

اس كتاب كا ترجمہ بھى مولف محترم كى پسنديدہ روش كى پيروى ميں ہر قسم كے تعصب اور جذبات كى مداخلت سے عارى ہو كر انجام ديا گيا ہے اور تاريخى حقائق كو دخل وتصرف يا محبت ونفرت سے بھرى رائے ظاہر كئے بغير پيش كيا گيا ہے_ہوسكتا ہے كہ يہ نا چيز خدمت جو بڑى حد تك حقائق اور علل تاريخ اسلام كى رفتار سے اشنا كرانے والى ہے بار گاہ حضرت احديت اور ارباب علم وتحقيق كى نظر ميں شرف قبوليت حاصل كر لے_

اب جبكہ اس كتاب كى پہلى جلد عام قارئين كے فيصلے كيلئے ان كے ہاتھوں ميں پہونچ رہى ہے _اميد قوى ہے كہ صاحبان بصيرت وكمال اور ارباب نظر فرقہ بندى كى متعصبانہ اور جانبدارانہ رائے سے الگ ہو كر صحيح علمى بنياد سے سر شار اپنى استدلاتى تنقيد سے ناشر كو ضرور مطلع فرمائيں گے جو انشا ء اللہ بعض جلدوں ميں شائع كى جائيگي_

عطا محمد سردار نيا

تہران ۱۳۶۶ھ ش

۹

حقائق

ابن مسعود كا طريقہ نصيحت

صحيح ترين قول كتاب خدا ہے اور نجات كى راہ وہى ہے جسكى نشاندھى ہمارے سردار محمد مصطفےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے كى ہے اور بد ترين عمل بدعت اپنانا ہے اور ہر بدعت گمراہى ہے گمراہى كا نتيجہ اتش جہنم ہے_

عبداللہ بن مسعود اپنے عہد كے صحابہ اور شاگرد و تابعين كے سامنے انھيں باتوں سے اپنى گفتگو شروع كرتے اور دين كى علامتى باتيں سمجھاتے جس وقت وہ عالمانہ بات كرتے تو انكى نيت كا ہدف بہت بلند ہوتا تھا_

كيونكہ علماء دين طالبان حقيقت صرف حقائق سے سروكار ركھتے اور گمراہى اور غلط باتوں سے علحدگى اختيار كرتے ہيں--- وہ فرماتے ،حق پانے اور مقدس اسلام كا راستہ معلوم كرنے كا بنيادى طريقہ دو ہى طرح سے ممكن ہے_

كتاب خدا اور ا حا ديث رسول اس ميں پہلى چيز بلند اور مقدس ترين حقيقت ہے جس سے بہتر تو ماضى ميں حاصل كيا جا سكا نہ حال ميں ،نہ ايندہ ممكن ہے اسكا اعتبار نہ تو كچلا جا سكتا ہے نہ پامال كيا جا سكتا _اور نہ ايندہ پامال كيا جا سكے گا _

اور ايسا كيوں نہ ہو ؟جبكہ خدائے تعالے كى طرف سے نازل ہوئي ہے اسكى فصاحت و بلاغت اور تابناك حقائق كا جواب پيش كرنے سے تمام انسانوں نے عاجزى كا اقرار كيا_يہ قران حضرت محمد مصطفےصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى رسالت كى نا قابل ترديد دليل بھى ہے _

دوسرى بنيادى چيز رسول خدا كى حديث ہے جنہوں نے كسى كے سامنے زانوء ے تلمذ تہ نہيں كيا انھيں كى زبان مبارك سے دنيا والوں نے اسمانى كتاب سنى اپ نے اپنى طرف سے كوئي بات نہيں كہى ،نہ كوئي حكم ديا ، اپ نے جو كچھ فرمايا ، جو بھى حكم ديا وہ وحى الہى كے سرچشمے سے شاداب تھا_

اپ كا ارشاد گرامى دلوں ميں اتر جاتا ،اور يہ صرف اسلئے تھا كہ خدائے پاك اپ كے قلب ميں سروش اسمانى القا كرتا تھا ،خدا وند عالم نے اپكى ستائشے كرتے ہوئے سيرت پر مہر كى ہے _

انك لعلى خلق عظيم ،_______اپ بلند ترين ا خلاق كے مرتبے پر فائز ہيں _

اس بنا ء پر جو كچھ ان دو معتبر سر چشموں سے حاصل كيا جائے وہ حقيقى اور واقعى ہے بہت وا ضح ہے اسميں كسى قسم كے شك وشبہ كى گنجائشے نہيں ،اور جو كچھ ان دوسرچشموں كے علاوہ كہيں سے حاصل كيا جاے وہ غير معتبر ہے اسے تنقيدى معيار

۱۰

پر پركھنا ضرورى ہے ،اسے جرح و تعديل كے مرحلے سے گذار كر اچھا برا الگ كرنا چاہيے _

شايد صاحب نظر قارئين نے اس جليل القدر صحابى كے حكيمانہ ارشاد كو نقل كرنے سے ہمارا مقصد سمجھ ليا ہو گا ،وہ مقدس اسلام كے معالم دين اور تشريح قوانين كے ذريعے سننے والوں كى توجہ كو براہ راست قران اور سنت رسول كى طرف مركوز كر كے انھيں دونوں چيزوں كى پيروى پر ابھارتے تھے كتاب خدا ، جسكے الفاظ ،عبارات وترتيب اور اسكى ظاہرى صورت پر سبھى متفق ہيں كسى قسم كا اختلاف نہيں، اور سنت وسيرت جو پاك نفس اور صالح افرادكے توسط سے متواتر طريقے پر رسول خدا سے حاصل كى گئي ہو ، ايسے معتبر لوگوں سے جن كے بارے ميں رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر دروغ بافى اور غلط بيانى كا شبہ نہ كيا جا سكے _

ہم حق اور اس كے طرفداروں كو پہچانيں

دوسرا مطلب جو اس حكيمانہ و صادقانہ گفتار سے ہميں ہاتھ لگتا ہے وہ يہ ہے كہ دونوں سر چشمے اسى كيفيت كے ساتھ ہر چون و چرا سے محفوظ قرار دئے گئے ہيں _ان دونوں پر تنقيد اور جرح وتعديل كى راہيں بند كر دى گئي ہيں حالانكہ بغير اسكے قدر وقيمت متعين كرنا، عقل وفرد كى مدد اور رہنمائي كے بغير اس كے بارے ميں كوئي فيصلہ صادر كرنا خوش فہمى كے سوا كچھ نہيں ،ہميں بحث و انتقاد اور چھان پٹك كرنا چاہيئے تاكہ غلط سے صحيح اور ٹھكرے سے موتى كو الگ كيا جاسكے اور جھوٹ كى تہوں سے حقيقت كى شناخت كى جا سكے ، اسكے مصادر اور راويوں كے بارے ميں كسى قسم كا خوف ظاہر كئے بغير رائے دينى چاہيے، چاہے وہ اسلامى معاشرے ميں كيسے ميں مرتبہ و مقام پر فائز ہو لوگوں كى نظر ہى كتنى ہى شان و شوكت والا ہو_

چاہے وہ صحابى رسول ہى ہو ، كيونكہ ہمارا مقصد اور ہدف صرف اور صرف حق اور حقيقت كا پتہ لگانا ہے_

بات يہ ہے كہ اصحاب رسول عدالت اور ياد داشت كے لحاظ سے يا رسول خدا كے الفاظ و عبارات كى حفا ظت و نگہدارى كے سلسلے ميں سب كے سب ايك ہى سطح كے نہيں تھے چونكہ تمام انسان بھول چوك يا غلطى و لغزش سے دو چار ہو جاتے ہيں اسلئے اكثر صحابہ سنت وقول وبيان كرنے ميں غلطى ولغزش كا شكار ہوئے ہيںبعض كا حافظہ قوى تھا ليكن ان سے چوك ہو گئي اكثر با ايمان اور مستحكم عقيدے والے تھے اور ايك گروہ سست عقيدہ اور پرا كندہ خيال تھا كچھ

۱۱

رسول خدا كے مخلص اور خدائي تھے اور دوسرے كچھ ان كے مقابل منافق اور دوسرے كردار والے تھے _

قران بھى اس نكتے كى تائيد كرتا ہے اسكا فرمان ہے

بعض ديہاتى بدو جو تمہارے ارد گرد ہيں، يہ منافق ہيں اور بعض اہل مدينہ بھى نفاق ميں ڈوبے ہوئے ہيں، تم ان كو نہيں پہچانتے ،ہم انھيں پہچانتے ہيں، انھيںہم دوہرا عذاب ديں گے پھر وہ درد ناك عذاب ميں كھينچے جائيں گے(سورہ توبہ ۱۰۱)

جب صدر اسلام كى يہ صورتحال ہے تو ہم تمام اصحاب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كو ايك نظر سے نہيں ديكھ سكتے اور صدر اسلام كے علمبر دار وں كے بارے ميں پاك صاف ہونے كا عقيدہ نہيں ركھ سكتے_

كيونكہ انسان نے جب سے روئے زمين پر نمودار ہو كر معاشرہ تشكيل ديا ،اس نے اعلى درجے كى پاك دامنى اور عدل گسترى كا مظاہرہ كيا اور اس كے ساتھ ادنى درجے كے نفاق اور دوغلاپن سے بھى خالى نہيں رہا ،تاريخى قرائن اور مختلف معاشرتى تجزيے جو ہاتھ لگے ہيں ان سے معلوم ہوتا كہ پيدائشی ادم سے اجتك اسى نظر يئے كى تايئد ہوتى ہے ،ليكن اتنا ضرور ہے كہ راہ حق كے لئے انداز تبليغ كى گونا گون نيك نامى حضرت محمد مصطفيصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان كے اصحاب ميں درجہ كمال تك پہونچى ہوئي تھى كيونكہ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے زيادہ وسيع اور استوار قانون كسى نے پيش نہيں كيا ،اور اپ سے زيادہ كسى پيغمبر كو دين كے سلسلے ميں پھر ارشاد ہوا اپ ياد دہانى فرمايئے ان لوگوں كو ،كيونكہ اپ كا دم ہى لوگوں كو ياد دہانى كراتا ہے (اعلى ۹)

اس قسم كى دسيوں ايات ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ بشريت كا عظيم مصلح تمام لوگوں كى ہدايت ورہنمائي كے سلسلے ميں شديد ارزو مند تھا ،انحضرت اپنى شفقت ورحمت سے گمراہى ميں سر گرداں تمام لوگوں كى عمومى ہدايت كے خواہاں تھے ليكن سبھى كو راہ حق نہ مل سكى اور كچھ لوگ رہروان طريق حق سے الگ رہ گئے_

تكيہ گاہ اسلام

اس تقسيم كے تمام مراتب ہمارى نظر ميں واضح نقشہ پيش كرتے ہيں كہ اسلام كى عظمت وجلالت اسكى تعليمات وقوانين پر استوار ہے اپنے ماننے والوں پر نہيں ،اور يہ شان و عظمت لوگوں كى پيروى و تايئد سے نہيں پيدا ہوئي ہے كہ جب

۱۲

موقع پائيں اسلام كو نقصان پہونچاديں اور معاشرے سے اسلام كو اكھاڑ پھينكنے كا اقدام كريں _

خود ميرا عقيدہ ہے كہ اگر تمام دنيا والے اسلام سے جنگ وجدال پر امادہ ہو جائيں اور اسے مليا ميٹ كرنے كيلئے اپنى كمرچست كر ليں اور ايك اواز ہو جائيں تب بھى اسلام كو ذرہ برابر نقصان نہيں پہونچا سكتے اور نہ اسلام كى معنوى عظمت وجلالت كو ذرا بھى كم كر سكتے ہيں ثبات قدم دكھانے والے اتنى بڑى تعداد ميںاصحاب حاصل نہيں ہوئے_

ليكن يہ افتخار كہ انحضرت كے ساتھ تنہا مصاحبت اورہمدمى بہرحال اپكے اصحاب كے شامل حال ہے اور اسى وسيلے سے انہوںنے با عظمت مقام حاصل كيا يہ اس بات ميں ركاوٹ نہيں بنتا كہ انھيںاصحاب ميں ايسے لوگ بھى موجود ہوں جو انحضرت كے قوانين ميں خلل ڈاليں ،اور اپ كى شريعت كى پا بندى نہ كريں اسى بناء پر اسكى كوئي دليل نہيں كہ بزرگان اسلام يا جو لوگ پہلے گذر چكے انھيں صرف اسلئے نقد و تحقيق كے قانون كلى سے مستثنى قرار ديديا جائے كہ وہ رسول كے صحابى تھے ،كيونكہ تمام صحابى عدالت كے اعتبار سے مساوى درجہ نہيں ركھتے تھے ،اسى طرح رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى ارزو ں كے بر خلاف اور انكى سخت كوششوں كے با وجود كہ تمام لوگ شاہراہ ہدايت و كمال پر گامزن ہو جائيں _

ان ميں ايسے لوگ بھى پائے جاتے تھے جن كے دلوں ميں اسلام كى ہوا بھى پہونچنے نہيں پائي تھي، خاص طور سے ايسے افراد بھى تھے جنھوں نے كفر و نفاق كو اسلام كى اڑ ميں چھپا ركھا تھا _

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا كى اس بلند فكر اور سچى شديد وابستگى كا رد عمل قران نے مختلف مواقع پر بيان كيا ہے_ ايك جگہ ارشاد ہوا اپ نصيحت كئے جايئے كيونكہ اپ كا كام صرف نصيحت كرنا ہے اپ لوگوں پر مسلط نہيں ہيں (غاشيہ ۲۱)

دوسرى جگہ ارشاد ہوا ،اپ جسے پسند كريں اسے ہدايت نہيں كر سكتے بلكہ خدا ہى جسے چاہتا ہے ہدايت فرماتا ہے(قصص ۱۵۶) اسى طرح اگر تمام دنيا والے اسلام كى عظمت بڑھانے پر ايك رائے ہو جائےں، تو بھى ذرہ برابر عظمت ميں اضافہ نہ ہوگا كيونكہ رمز اسلام خود اسلام كے بلند اصولوں ميں ،اور اصولوں كا راز خود اسلام ميں پوشيدہ ہے اسلام ماننے والوں كى صورت و شكل ميں نہيں ہے اور يہ ايسا نكتہ ہے جسے صرف حقيقى علماء اور دانشور ہى سمجھ سكتے ہيں اسلئے ، اگر سلف كے بزرگوں اور اصحاب رسول كے بارے ميں بحث و تنقيد كى جائے، محققين انكى زندگى اور رفتار و گفتار كا تجزيہ كريں تاكہ اچھے برے كو عالم اسلام سے متعارف كرائيں تو كسى حيثيت سے بھى اسلام اور اسكى حقيقت معنوى كو نقصان نہيں پہونچے گا، بلكہ اسلام تو اسكو جائز سمجھتا ہے كيونكہ وہ خود احكام ميں عدالت كا نقيب ،اور تمام افراد بشر كو قانونى اعتبار سے يكساں سمجھتا ہے خاص طور سے حقيقت كى تلاش اور لوگوں كى رہبرى كے سلسلے ميں اس

۱۳

قسم كى بحث و تحقيق اور تنقيد كا اصرار كے ساتھ حكم ديتا ہے _

ہم دور كيوں جائيں ، عالم انسانيت كے عظيم مصلح حضرت محمد مصطفىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنى حكيمانہ ہدايت كے ضمن ميں براہ راست اور بالواسطہ ہميں تشويق فرماتے ہيں كہ ہم نفس حقيقت كے در پئے رہيں ، صرف اس حيثيت سے كہ حق ہے اسے مانيں اور اسكى حمايت كريں اس بارے ميں افراد كو نظر انداز كر ديں چاہے وہ كم مايہ اورپست ہو _

اور باطل كے خلاف ہوں ،اسكو مليا ميٹ كرنے كيلئے قيام كريں چاہے وہ شريف اور معزز شخص كى زبان سے جارى ہو حدود الہى كے نفاذ ميں شريف اور رذيل كے درميان فرق نہ كريں_

محمد مصطفى اور نفاذ عدالت

احاديث صحيحہ ميں ايا ہے كہ اسامہ بن زيد يہ دونوں ہى باپ بيٹے رسول خدا كى نظر ميں بلند مرتبہ تھے انھوں نے انحضرت سے قريش كے ايك شريف ،عورت كے بارے ميں رسول اكرم سے سفارش كى جس نے چورى كى تھى اسامہ نے انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى بارگاہ ميں عرض كى كہ حد شرعى نافذ نہ كيا جائے ليكن مصلح بزرگ رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس عورت پر حد شرعى جارى نہ ہونے كى سفارش مسترد كر دى اپ نے اس سلسلے ميں مشھور فقرہ فرمايا :

اے لوگو تمہارے گذرے لوگوں نے اپنى تمام باتوں كو نظر انداز كيا ان لوگوں كا اگر شريف اور عزت دار چورى كرتا تھا تو چھوڑ ديئے اور كمزور ،گمنام شخص كو سخت سزا ديتے تھے خدا كى قسم اگر محمد كى بيٹى نے بھى چورى كى تو ميں اسكے ہاتھ كاٹوں گا _

ان لا جواب بيانات كے ساتھ عدالت و مساوات كے بانى رسول خدا نے اس شريف مخزومى خاتون كے بارے قوانين الہى كے حدود معطل كرنے سے انكار كر ديا باوجود اسكے كہ وہ اپنى قوم و قبيلے ميں بلند نسب اور معزز تھى _

ا س طر ح سے رسول خدا نے اشتراكى فلسفيوں كے طبقاتى اختلافات ختم كرنے كى جد وجہد كے سيكڑوں سال پہلے اسے ختم كر ديا _انحضرت نے جس وقت عدل ومساوات كے قانون كا اعلان فرمايا ، سب كو قانون كى نظر ميں يكساں بتايا ،خود اپ نے توانا اور مقتدر ظالموں كے خلاف دبے كچلے بے پناہ تقوى شعاروں كى مدد كى _

يہ قانون بہت واضح طريقے سے قران و احاديث ميں بيان كيا گيا ہے_قران فرماتا ہے_

اے لوگو ہم نے تمہيں ايك مرد اور ايك عورت سے پيدا كيا ہے اور پھر تمہارى قوميں اور برادرياں بنا ديں

۱۴

تاكہ تم ايك دوسرے كو پہچان سكو در حقيقت اللہ كے نزديك تم ميں سب سے زيادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زيادہ پرہيز گار ہے (حجرات ۴۹ايت ۱۳)

اور حديث قدسى ميں ہے

جو شخص بھى ميرے احكام پر عمل كرے اسكا ٹھكانا بہشت ہے چاہے وہ حبشى غلام ہى ہو، اور جو شخص نا فرمانى كرے اسكا ٹھكانا اتش دوزخ ہے ، چاہے وہ قريش كا با عزت ہى ہو _

رسول خدا كى زيادہ تر احاديث ميں اس كمال انسانيت و عدالت كے شاندار نمونے موجود ہيں _

محمد مصطفى كے قريب و بعيد ساتھي

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جہاں ايندہ كے بارے ميں پيش گوئي فرمائي ہے اور مستقبل كے چہرے سے پردہ اٹھايا ہے تو اپنے بعد كے اصحاب كى اسطرح تو صيف فرمائي ہے _

بہت سے لوگ پسنديدہ طريقے سے راہ حق پر گامزن رہيں گے اور اكثر منحرف ہو جائيں گے ، كچھ حق كے خلاف قيام كريں گے اور ايك گروہ ظلم و سركشى كا طريقہ اپنائے گا _

عمار ياسر كو مخاطب كر كے فرمايا ،اے عمار تمہيں ظالم اور باغى گروہ قتل كرے گا _

حضرت علىعليه‌السلام سے فرمايا اے عليعليه‌السلام كيا تم اولين و اخرين كے سب سے بد بخت انسان كو پہچانتے ہو ؟

حضرت علىعليه‌السلام نے جواب ديا خدا و رسول بہتر جانتے ہيں

رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا اولين ميں شقى ترين وہ شخص تھا جس نے قوم ثمود كا ناقہ پئے كيا اور اخرين شقى ترين وہ ہو گا جو تمہيں قتل كرے گا(۱)

ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے كہ بغير شك اور ترديد كے انحضرت كے اصحاب مرتبہ و مقام كے اعتبار سے عام لوگوں كى طرح فرق مراتب ركھتے ہيں كچھ انسانيت كے اعلى مرتبہء كمال و تقوى پر فائز ہوئے اور كچھ پستى اور تباہى كے گڑھے ميں رہ گئے، تمام اصحاب رسول كو انحضرت كى صحبت كا شرف پانے سے يكساں افتخار حاصل نہ ہو سكا وہ حقيقت و كمال كى راہ پانے ميں ايك دوسرے كے برابر نہيں ہيں _

۱۵

جب يہ صورتحال ہے تو كيا يہ قانون كہ اصحاب اور تمام لوگ دين اسلام كى نظر ميں برابر ہيں ،اور فضيلت و بزرگى انہيںلوگوں كو حاصل ہے جو پرہيز گار ہيں اور قوانين اسلام پر عمل كرتے ہيں ،كيا يہ ان لوگوں كيلئے بھر پور ترين دليل نہيں ہے جن سے ابھى احتياط كا طريقہ نہيں چھوٹا ہے كہ اصحا ب رسول كى شخصيا ت كے بارے ميں بحث و تنقيد كى جائے ؟

صحابى نے جب تك راہ حق نہيں چھوڑا اور مقدس قانون اسلام سے انحراف نہيں كيا ہے صرف اسلئے كہ وہ صحا بى رسول ہے ،اسے كسى طرح بھى مفيد نہيں ،جسطرح اج كے لوگ جو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے كافى زمانى فاصلہ ركھتے ہيں ،اگر وہ اسلام كے مقدس قانون پر عمل كريں اوراسلام ان كے رگ وپئے ميں رچ وبس گيا ہے تو ان كا صحابى رسول نہ ہونا كسى طرح بھى نقصان رساں نہيں ،واقعيت يہ ہے كہ بہت سے ايسے افراد ہيں جو بظاہر نزديك ہيں ليكن معنوى حيثيت سے دور ہيںاور بہت سے افراد ہيں جو بظاہر دور ہيں ليكن بباطن نزديك ہيں ،ميرا تو عقيدہ يہ ہے كہ ہم اور اصحاب رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دعوت حق اور تبليغ دين وشريعت كے معاملے ميں يكساں اور برابر ہيں ،ہاں اصحاب رسول نے سب سے بڑا امتياز جو انحضرت كى صحبت سے حا صل كيا وہ ہے رسول خدا كے ديدار كا فايدہ ،اور مستقيم قانون كو صاحب شريعت سے حاصل كرنا _

يہ بات پيش نظر رہنى چاہيے كہ يہ امتياز دو صورتوں سے خالى نہيں ،ايك تو عظيم نعمت يہ كہ انہوں نے صحبت كا فيض اٹھايا ،اور مستقيم قانون بے واسطہ طريقے سے رسول اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل كيا اور دوسرے يہ كہ اس صحابى كے لئے يہ چيز لا جواب دليل و حجت ہے _

چنا نچہ اگر صرف رسول اكرم كى صحبت بروز قيامت سرمايہ حصول شفاعت ،يا صحابى كو بحث و تنقيد سے بچا كر مسلمانوں كو ان كے موافق يا مخالف فيصلہ كرنے سے روكنے والى ہوتى رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر گز اپنى پارئہ جگر كے بارے ميں وہ تاريخى اور ابد اثار خطاب نہ فرماتے كہ اے فاطمہ اے دختر رسول ،تو جو كچھ چاہتى ہے مجھ سے سوال نہ كر كيو نكہ عدل الہى كى بارگاہ ميں رسول كى بيٹى ہوناكچھ بھى مفيد نہيں(۱)

انحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے يہ تاريخى بيان اپنى بيٹى سے اس دن فرمايا ،جب ايہوانذ ر عشيرتك الاقربين (اے رسول ،اپنے قريبى رشتہ دار وں كو ڈرايئے ) نازل ہوئي تھي

۱۶

جى ہاں ،رسول خدا نے عدل و مساوات كا جو بلند اصول لوگوں كيلئے پيش كيا تھا وہ احكام و حدود كے نفاذ ميں سب كو ايك نظر سے ديكھتا ہے_

حفنى دائود كى نظر ميں مولف كتاب

كچھ دن پہلے مرد فاضل و محقق جناب مرتضى عسكرى نے اپنى كتاب ( احاديث ام المومينين عائشه كو علماء و حق اگاہ محققين كے سامنے پيش كيا تھا ، انھو ں نے خاص طور سے اپنى كتاب كو دو جلد وں ميں ايسے قارئين كے سامنے پيش كيا جن كا سراپا وجود حقيقت كا متلاشى اور سچے دل سے فلسفہء تاريخ اسلام اور اس كے علل اور تاريخ تشريع كے ساتھ اس كے اصول سمجھنے كے خواہشمند ہيں

بات اجاگر كے درميان ايسا مشاہدہ كيا كہ جناب ام المومنين عائشه كے گردا گردنا قابل ترديد مدار ك و ماخذ ہيں ،كہ اگر صرف انھيں مدارك پر توجہ كى جائے تو حق وحقيقت كے بارے ميں اپنے افكار و عقائد كے سلسلے ميں ازادانہ رائے قائم كى جا سكتى ہے _

اگر چہ يہى حق گوئي حقيقت طلبى بجائے خود كوتاہ فكروں كى نظر ميں نا قابل معافى جرم ہے اگر اصحاب ميں سے كسى كے خلاف جو انھوں نے ان كا مقام متعين كرديا ہے اس كا تحليل و تجزيہ كيا جاے تو كبھى معاف نہيں كر سكتے _

اقائے عسكرى نے اس كتاب ميں بھر پور طريقے سے محققين اور تجزيہ نگار وں كى روش اپناتے ہوئے تنظيم و ترتيب ميں عرق ريزى كى ہے اور اس كے مقدمہ ميںان تمام مشكلات اور ركاوٹوں كى تشريح كى ہے جو حقائق و اشگاف كرنے ميں حق كے متلاشى كى راہ ميں پيش اتى ہيں _

منجملہ يہ كہ ممكن ہے كوئي محقق اپنے احساسات و جذبات كا پابند ہو ، اور ايك گروہ كو دوسرے گروہ پر ايك شخصيت كو دوسرى شخصيت پر متعصبانہ طريقے سے برترى ديدے ، حالانكہ حقيقت اس كے بر خلاف ہو ،اس كے ساتھ وہ خاص مقصد كو پيش نظر ركھتا ہو ،اور حق كو يہ طريقہ بعض اہل قلم نے اپنايا ہے جو چاہتے ہيں كہ دو مخالف راويوں كے درميان مطابقت پيدا كريں ،ممكن ہے يہ مطابقت بظاہر خوش ايندہو ، ليكن يہ بات طئے شدہ ہے كہ حق دو متخالف اور متناقض ارا كے درميان جمع نہيں ہو سكتا ہے ،،

۱۷

اقاى عسكرى نے ہر ممكن كوشش كى ہے كہ اپنے سلسلئہ مباحث ميں اس قسم كے عيوب سے جو ہر محقق كى تحقيق ميںسامنے اتى ہے دور رہيں ان كا مقصد متعين ہے ،اور وہ اسى كے تعاقب مين موضوع سے باہر نہيں نكلتے ہيں انھوں نے اپنے دائرئہ كار كو اشخاص اور مقامات كا پابند نہيں بنايا ہے بلكہ ان كا مقصد اصلى صرف حق اور حقيقت معلوم كرنا ہے اور اسى كے ا رد گرد رہے ہيں_

اس كے علاوہ انھوں نے اپنے ذاتى احساسات و جذبات سے الگ رہنے كى ہر ممكن كوشش كى ہے انھوں نے صرف عقل كو جج بنايا ہے،،

انھوں نے ايك گروہ كو دوسرے گروہ پر فضيلت دينے كا ذرا بھى پتہ نشان نہيں ،ذرا بھى مبالغہ نہيں ،، اگر كہا جائے كہ اقاى عسكرى بحث و تحقيق كى ڈگر ميں، اس كتاب جو چيزمحققين كو اپنى طرف مائل اور تعريف و تحسين پر امادہ كرنے والى ہے وہ يہ كہ انھوں نے كوشش كى ہے كہ اس علمى بحث ميں قانون كلى كى رعايت كريں ،اور احاديث ام المو منين مكمل حزم و احتياط كے ساتھ تحليل و تجزيہ كر كے حقيقت كو اشكار كيا ہے _

قتل على اور شكر عائشه،،

تاريخى قرائن ہميں مجبور كرتے ہيں كہ ام المومنين كى احاديث پر شك اور ترديد كريں جسے وہ احاديث جن ميں خلافت شيخين كا تذكرہ ہے اور حضرت عليعليه‌السلام كا نام نہيں ليا گيا ہے اسى طرح وہ احاديث جن ميں فضائل شيخين و عثمان اور حضرت عليعليه‌السلام روشن مذكور ہے ان ميں بلا شك وشبہ جذبات اور جانبدارى برتى گئي ہے ،، كيو نكہ ابو بكر اور ان كى نسبت باپ اور بيٹى كى ہے اسى طرح انھوں نے عمر كى باتيں كہى ہيں اور عليعليه‌السلام كا تذكرہ كيا ہے جو ابوبكر وعمر كے رقيب تھے ،ان ميں بد ترين فرق ہے _

پھر عثمان كے خلاف ان كى جد جہد لوگوں كو قتل عثمان پر ابھارنا اور پھر انھيں كے قتل كا انتقام لينے كے لئے قيام كرنا بھى مضبوط دليل ہے جو ہميں اس بات پر مجبور كرتى ہے كہ ان كى تمام احاديث كو شك اور ترديد كى نگاہ سے ديكھيں،اسى طرح وہ اقدامات جو انھوں نے حضرت على كے خلاف كيں علىعليه‌السلام كے دشمنوں كى كمك ،طلحہ و زبير كہ جنھوں نے عليعليه‌السلام كى بيعت توڑ دى تھى ،ايك پليٹ فارم پر لانا،جنگ جمل كى اگ بھڑ كانا _ يہ تمام باتيں بجائے خود اس بات كا واضح ثبوت ہيں كہ انھيں على جيسے پرہيز گار سے ديرينہ عداوت تھى اور اسى وجہ سے مسلمانوں كے گروہ ميں تفرقہ و اختلاف پيدا ہو ا ان كے دل ميں على كى ايسى نفرت تھى جو كبھى چين سے بيٹھنے نہيں ديتى تھى ،يہا ں تك كہ قتل على كى خبر سن كر سجدئہ شكر ادا كيا اور يہ شعر بطور تمثيل پڑھا،،

۱۸

فالقت عصاها و استقر نها النوي كما قر عينا بالاباب المسافر

اس نے دوڑ دھوپ ختم كر دى اور چين پاليا جسطرح مسافر كى اپنے ٹھكانے پر پہونچكر انكھيں ٹھنڈى ہوتى ہيں _

انكى تمام احاديث اسى قسم كے اہم ترين تاريخى وقائع سے وابستہ ہيں جن پر بڑى حزم و احتياط برتنى چاہيئے انكى شخصيت اور ان كے ميلانات سے قطع نظر كركے حقائق دريافت كرنے كى كوشش كرنى چاہيئے _

حجابيت كے رخ سے بھى دوسروں كى طرح صحيح يہ ہے كہ وہ فتوى و اجتہاد ميں لغزش و خطا سے دوچارہوئي ہوں كيو نكہ ادمى چاہے وہ كوئي بھى ہو جب تك اپنى رائے اور سليقے پر عمل كر رہا ہے ممكن ہے كہ خطا و صواب كا نشانہ بنے ليكن محقق يہ حق نہيں ركھتا كہ عقل و درايت كو كنارے ركھ كر بزرگوں كى شخصيت كے مقابلے ميں اپنے كو چھوٹا بنا لے اور حقائق چھپا ئے_

اس بات كى اجازت نہيں ہے كہ نظريات و اجتہاد كے خطا وصواب كو اہميت ديكر سب كو يكساں شمار كرے بلكہ ضرورى ہے كہ تمام مفہوم حقيقت كو بيان كرے

اسى طرح جب تك ہم حق ديںہر مجتہد ميں امكان ہے كہ وہ لغزش و خطا سے دوچارہو جائے اور عدل الہى كى بارگاہ ميں باز پرس كى جائے ،ام المومنين بھى اس قاعدے سے مستثنى نہيں ہيں ان پر ظلم نہيں ہے ،بلكہ علمى و تحقيقى نقطئہ نظر سے ستم يہ ہو گا كہ عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عائشه كے بارے ميں ہم جانبدارانہ فيصلہ كريں اور دونوں كو عدالت ميں يكساں سمجھ ليں ،اور حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جو اجتہاد ميں صحيح و صواب راستہ اختيار كيا(۱) ان دوسرے لوگوں كے مقابل جنہوں نے اجتہاد ميں غلطى كى جيسے عائشه و معاويہ اور دوسرے اصحاب جنہوں نے حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ كى اور مخالف كا راستہ اپنايايكساں سمجھ ليا جائے_

حضرت علىعليه‌السلام خدا كو حاضر و ناظر جانتے تھے

حضرت على اس جہت سے كہ اپ باب مدينتہ العلم اور وصى محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہيں اسى طرح سے نہ اس حيثيت سے كہ بھر پور قدرت بيان اور واضح لہجے ميں حق بات كہتے تھے اور اس پر وہ جم بھى جاتے تھے اور يہ دين انھيں سے توانا ہوا اور حيثيت تشكيل پائي ،_نہيں_ ان تمام باتوں سے قطع نظر وہ ہر حيثيت سے تمام صفات كمال كے جامع تھے_

جس چيز نے على كو ان تمام امور سے بالا تر قرار ديا يہ تھا كہ وہ برابر اپنے كردار و گفتار ميں خدا كو حاضر و ناظر جانتے تھے ،

۱۹

اور مسلمانوں كى مصلحتوں كے مقابل اپنى ذات ميں شدت پسند تھے ،وہ مسلمان معاشرے كے عام دنياوى فائدوں كو اپنے دنياوى فائدے پر ترجيح ديتے تھے_

اپ كے دوران خلافت ميں بلند ترين مراتب انسانيت ايك ذات ميں سمٹے ہوئے نظر اتے ہيں _

وہ اپنے اس دور ميںخاص طور سے لباس اور خوراك، احكام ميں عدالت، فريبى دنيا كے مظاھرات سے كنارہ كشى كا كامل نمونہ تھے_

دوسروں نے عہد ئہ خلافت حاصل كرنے كى كوششيں كر ڈاليں ،جبكہ خلافت خود حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى طرف دوڑى ائي ،دوسروں نے اپنے اور رشتہ داروں كے فائدوں كو مصالح عامہ پرترجيح دى ، جبكہ اپ نے عام لوگوں كے فائدوںكو اپنے اور رشتہ داروں پر ترجيح دى _

عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جس وقت كوفے ميں تھے ،عقيل بن ابى طالبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے بھائي كى خدمت ميں ائے حضرت علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے كہا :

اے بھائي بڑے اچھے ائے ،كس لئے كوفہ ائے ہو؟

جو مشاہرہ مجھے ملتا ہے وہ ميرى معيشت كےلئے نا كافى ہے ، زيادہ خرچ كا بو جھ ہے جسكى وجہ سے بہت زيادہ قرض لد گيا ہے ميں اس لئے ايا ہوں كہ ميرى مدد كيجئے _

خدا كى قسم اپنے مشاہرہ كے علاوہ ميرے پاس كچھ نہيں ،صبر كيجئے مال غنيمت تقسيم كرنے كا وقت ايئگا تو ميں اپ كو دوں گا _

ميں حجاز سے يہاں تك صرف اسى اميد پر ايا ہوں كہ كچھ نقد حاصل كر لوں گا اپ كا مشاہرہ ميرے درد كى دوا كيا كر سكے گا ، اور ميرا كون سابوجھ ہلكا كرے گا ،امام نے بھائي كو جواب ديا ،

كيا اپ اس كے علاوہ بھى ميرے گھر ميں مال دنيا سے كوئي چيز ديكھ رہے ہيں ،؟ يا اپ اس اميد پر بيٹھے ہيں كہ ميں مسلمانوں كا مال اپ كو دے دوں گا اور ميرا خدا اس صلئہ رحم كے بدلے اتش جہنم ميں جلائے گا _

كسى ترديد كے بغير ،علىصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جسے پرہيز گار كے عدل و انصاف كو برداشت كرنے كى عقيل ميں طاقت نہيں تھى ،وہ معاويہ كى خدمت ميں پہونچ گئے جس كے يہاں حلال و حرام كا فرق نہيں تھا ،وہ مسلمانوں كے بيت المال كو ذاتى ملكيت سمجھتا تھا _

يہ واقعہ خود ہى ھمارى رہنمائي كر تا ہے كہ حضرت عليصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم كى شخصيت كيا تھى وہ كس قدر پر ہيز گار تھے ،اور عمومى منافع كو خود اور اپنے سے وابستہ افراد كے مصالح پر ترجيح دينے ميں ان كا پا يہ كس قدر بلند تھا، بے باكانہ قسم كھائي جا سكتى

۲۰