ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 6992
ڈاؤنلوڈ: 555

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6992 / ڈاؤنلوڈ: 555
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

نظم وضبط كا فقدان ہوتا ہے _ گھر كى سرپرستى يا تو مرد كے سپرد ہو اور عورت اس كى اطاعت كرے يا پھر عورت سرپرست ہو اور مرد اس كى فرمانبردارى كرے ليكن چونكہ يہ كام مرد زيادہ بہتر طريقے سے انجام دے سكتے ہيں كيونكہ ان كے جذبات پر ان كى عقل غالب نہيں آتى _ اسے لئے خداوند حكيم و دانا نے يہ بڑى ذمہ دارى مرد كے كندھے پر ڈالى ہے _ قرآن مجيد ميں خداوند عالم كا ارشاد ہے :_

''مرد عورتوں كے سرپرست ہيں ، كيونكہ خدا نے بعض افراد(مرد) كو بعض افراد (عورت)پربرترى عطا كى ہے _ اور چونكہ (مردوں نے عورتوں پر اپنا مال خرچ كيا ہے ، پس نيك عورتيں اپنے شوہروں كى فرماں بردار ہوتى ہيں''(۸۸)

اس بناء پر خاندان كى فلاح و بہبودى اسى ميں ہے كہ مرد كو خاندان كا سرپرست اوربزرگ كا درجہ ديا جائے اور سب اس كى رائے و مشورہ كے مطابق كام كريں ليكن اس كا مطلب يہ نہيں ہے كہ عورت كے مقام و عزت ميں كمى آجائے گى _ بلكہ گھر كے نظم و ضبط اور ترتيب و انتظام كے لئے يہ چيز لازم و ملزوم ہے _ اگر خواتين اپنے بيجا تعصب اور خام خيالات سے قطع تعلق كركے غور كريں تو ان كا ضمير بھى اس بات كو قبول كرے گا _

ايك خاتون كہتى ہے كہ ہمارے ايران ميں ايك بڑى اچھى رسم تھى جو افسوس كہ رفتہ رفتہ ختم ہوتى جارہى ہے _ رسم يہ تھى كہ ايرانى خاندان ميں مرد ہميشہ خاندان كا بزرگ و سرپرست مانا جاتا تھا _ ليكن اب گھر كى حالت متزلزل ہوتى جارہى ہے اور خاندان گھر كے سرپرست كے انتخاب ميں حيران و پريشان رہ گيا ہے _ ليكن بہتر ہے كہ آج كى عورت جس نے بہت سے سماجى مسائل ميں مرد كے برابر حق حاصل كرليا ہے ، گھر ميں مرد كو سرپرست كى حيثيت سے تسليم كرے _

جب لڑكى كى شادى ہو تو اسے اس قديمى نصيحت كو ياددلانا چاہئے كہ ''عروسى كو جوڑا پہن كر شوہر كے گھر ميں داخل ہوئي ہو اب كفن پہن كرہى اس گھر سے نكلنا''(۸۹)

البتہ مرد كے روزمرہ كے مشاغل اورزندگى كى فكريں عموماً اسے اجازت نہيں ديتيں كہ گھر كے

۱۰۱

تمام امور ميں دخل دے _ در حقيقت كہا جا سكتا ہے كہ كاموں كاايك حصہ عملى طور پر خاتون خانہ كے سپرد ہوتاہے اور زيادہ تر كام اسى كے ارادے اور مرضى كے مطابق انجام پاتے ہيں ليكن ہر حال ميں مرد كے حق حاكميت اور سرپرستى كا احترام كرنا چاہئے _ اگر كسى بات ميں وہ اپنى رائے ظاہر كرے اور دخل اندازى كرے خواہ خانہ دارى كے جزوں مسائل ہى كيوں نہ ہوں تو اس كى رائے اور تجويز كو رد نہيں كرنا چاہئے كيونكہ يہ چيز اس كے حق حاكميت سے انكار كے مترادف ہوگى اور چونكہ اس بات سے اس كى شخصيت مجروح ہوگى اس لئے اپنے آپ كو شكست خوردہ اور اپنى بيوى كو بے ادب ، حق ناشناس ، اور ضدى خيال كرے گا _ زندگى سے اس كى دلچسپى كم ہوجائے گى اور اپنى بيوى كى جانب سے اس كے دل ميں لا تعلقى پيدا ہوجائے گى _ چونكہ اس كى شخصيت مجروح ہوئي ہے ممكن ہے اس كى تلافى اور انتقام كى فكرميں رہے _ حتى كہ اپنى بيوى كے معقول اور مناسب مطالبات كے مقابلے ميں بھى سختى سے كام لے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد گرامى ہے :'' اچھى عورت اپنے شوہر كى بات پر توجہ ديتى ہے _ اور اس كے كہنے كے مطابق عمل كرتى ہے '' _(۹۰) ايك عورت نے رسول خدا (ص) سے پوچھا كہ بيوى پر شوہر كے كيا فرائض عائد ہوتى ہيں _ فرمايا: اس كى اطاعت كرے اور اس كے حكم كى خلاف ورزى نہ كرے'' _(۹۱)

پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى ارشاد گرامى ہے كہ ''بدترين عورتيں ، ضدى اور ہئيلى عورتيں ہيں''(۹۲)

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :'' بدترين عورتيں وہ ہيں جو بانجھ ، گندى ، ضدى اور نافرمان ہوں''(۹۳)

خواہر گرامى اپنے شوہر كو خاندان كے بزرگ اور سرپرست كى حيثيت ديجئے _ ان كى رائے و مشورہ كے مطابق كا انجام ديجئے _ ان كے احكام كى خلاف ورزى نہ كيجئے اگر كسى كام ميں مداخلت كريں تو اس كے مقابلے ميں سختى نہ دكھايئے خواہ امور خانہ دارى ہى ميں كيوں نہ دخل دے _ حالانكہ اس معاملہ ميں آپ زيادہ بہتر جانتى ہيں _عملى طور پر اپنے شوہر كے اختيارات كو سلب نہ كيجئے اگر كبھى كاموں ميں دخل اندازى كرتا ہے اور اپنى بزرگى جتا كر خوش ہوتا ہے تو اسے

۱۰۲

خوش ہولينے ديجئے _ اپنے بچوں پر اپنے عمل كے ذريعہ واضح كيجئے كہ وہ خاندان كا سرپرست ہے _ اور انھيں بتاتى رہئے كہ كاموں ميں اپنے باپ سے اجازت ليں اور اس كے حكم كى خلاف ورزى نہ كريں _ بچپن سے ہى انھيں اس بات كى عادت ڈالوايئےا كہ فرمانبردار ، مہذب و باادب بنيں اور بات سننا سيكھيں اور آپكى اور آپ كے شوہر كى عزّت كريں _

سختيوں كو جھيلنا سيكھئے

دنيا ميں ہر ايك كے حالات ہميشہ ايك سے نہيں رہتے _ انسان كى زندگى ميں ہزاروں نشى و فراز آتے ہيں _ كبھى انسان كسى شديد مرض ميں مبتلا ہوجاتا ہے _ كبھى بے روزگار ہوكر گھر بيٹھ رہتا ہے _ كبھى ايسا ہوتا ہے كہ سارامال و متاع لٹ جاتاہے اور تہى دست ہوجاتا ہے_ غرض كہ انواع و اقسام كے حادثات اورپريشانياں ہر انسان كى زندگى ميں وقوع پذير ہوتى رہتى ہيں _

مياں بيوى ، جو رشتہ ازدواج ميں منسلك ہوكر ايك دوسرے كاساستھ نبھانے كا عہد كرتے ہيں ، اس رشتہ كا تقاضہ ہے كہ ہر حال ميں ايك دوسرے كے يارومددگار اور مونس و غمخوار رہيں

رشتہ ازدواج اس قدر استوار اور محبت كا رشتہ اس قدر مستحكم ہونا چاہئے كہ ہر حال ميں اپنے عہد و پيمان پر باقى رہيں ، خوشى و غم ہر حال ميں ساتھ رہيں س_ سلامتى اور بيمارى ، خوشحالى اور تنگ دستى ہر حال ميں ايك دوسرے كا ساتھ ديں _

خواہر عزيز اگر گردش روزگار سے آپ كے شوہر تہى دست ہوجائيں تو ايسا ہرگز نہ كريں كہ خود رنجيدہ ہوكر اس كے غموں ميں اضافہ كريں اور اعتراض و شكايتيں كرنے لگيں اگر شديد بيمارى ميں مبتلا ہوكر ايك مدت تك گھر بيٹھ رہا يا اسپتال ميں بھرتى ہوگيا تو وفادارى اور انسانيت كا تقاضہ يہ ہے كہ پہلے ہى كى طرح بلكہ پہلے سے بھى زيادہ اس سے محبت كا اظہار كريں اور نہايت صدق دلى سے اس كى تيماردارى كريں _ايسے موقع پر تيماردارى اور خرچ كرنے سے دريغ نہ كريں _اگر آپ كے شوہر كے پاس نہيں ہے ليكن آپ كے پاس ہے تواپنے مال ميں سے اس كے علاج كے لئے خرچ كيجئے _

۱۰۳

اگر آپ بيمار پڑجاتى ہيں تو وہ اپنے امكان بھر اپنے مال كو آپ كے علاج و معالجہ پر صرف كرتا ہے _اب اگر اس كے پاس نہيں ہے ليكن آپ پاس ہے تو وفادارى اور خلوص كا تقاضہ ہے كہ اپنے مال و متاع كو اس كے لئے خرچ كيجئے _ اگر اس حسّاس موقع پر آپ نے ذرا بھى كوتاہى كى تو وہ آپ كو ايك بے وفا اور خود غرض عورت سمجھے گا جو مال دنيا كو اپنے شوہر كے وجود پر ترجيح ديتى ہے ايسى صورت ميں اس كے دل ميں آپ كى محبت و الفت كم ہوجائے گى _ حتى كہ ممكن ہے اس قدر بيزار ہوجائے كہ آپ شريك حيات اور بيوى بنانے كے لائق نہ سمجھے اور طلاق كو ترجيح دے _

ذيل كے واقعہ پر غور كيجئے :_

ايك شخص نے عدالت ميں بيوى كو طلاق دينے كى درخواست دى _ اس نے اپنے بيان ميں كہا كہ ميں بيمار تھا اورڈاكٹر نے آپريش كرانے كے لئے كہا تھا ميں نے اپنى بيوى سے كہا كہ تمہارے پاس جو رقم جمع ہے وہ مجھے قرض كے طور پر ديدو ليكن وہ تيار نہيں ہوئي اور جھگڑكر ميرے گھر سے چلى گئي _ مجبوراً مجھے ايك سركار اسپتال ميں اپنا آپريشن كرانا پڑا اوراب ميں صحت ياب ہوگيا ہوں _ ليكن ايسى عورت كے ساتھ زندگى گزارنا ميرے لئے محال ہے جو روپيہ كو مجھ پر فوقيت ديتى ہو _ ايسى عورت كو ميں شريك زندگى كانام نہيں دے سكتا _ ''(۹۴) '' _

ہر انسان كا ضمير اس بات كى تصديق كرے گا كہ يہ شخص حق بجانب تھا _ ايسى خود غرض عورت جو ايك ايسے حساس اور نازك موقع پر جبكہ اس كے شوہر كى جان خطرہ ميں پڑى ہو اور اپنے شوہر كو بچانے كے لئے اپنى جمع رقم خرچ كرنے سے دريغ كرے اور ايسى حالت ميں اسے چھوڑ كر اپنے ميكے چلى جائے واقعى ''شريك حيات'' جيسے قابل احترام مرتبہ كى مستحق نہيں ہے _

پيارى بہنو آپ اس بات كا دھيان ركھيں كہ ايسے حساس موقعوں پر انسانيت اور خلوص و ہمدردى كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑيں _ اگر آپ كے شوہر ( خدانخواستہ ) دائمى طور پر بيماررہنے لگے

۱۰۴

ہيں تو ايسا ہرگز نہ كيجئے گا كہ اس كو اور بچوں كو تنہا و بے سرپرست چھوڑكر چلى جائيں _ كيا آپ كا ضمير اس بات كو گوارا كرے گا كہ شوہر بيچارہ جس كے ساتھ خوشى كے دنوں ميں تو آپ ساتھ تھيں ، اب مجبور و لاچار پڑاہے تو اس كا ساتھ چھوڑ كر چلى جائيں _ كہيں ايسا نہ ہو كہ خو د آپ بھى اسى لا ميں گرفتار ہوجائيں فرض كيجئے آپ نے طلاق لے لى اور دوسرى شادى بھى كرلى تو كيا خبر كہ وہ آپ كے حق ميں اچھا ہوگا خود غرضى اور ہوش بازى چھوڑيئے ايثار و قربانى سے كام ليجئے _ جذبات و احساسات سے مملو رہئے _ رضائے خدا اور اپنى عزت و ناموس كا پاس كيجئے _ اور اپنے شوہر اور بچوں كا ہر حال ميں ساتھ ديجئے _صبر و بردبارى سے كام ليجئے _ اپنے بچوں كى اچھى طرح تربيت كيجئے اور عملى طور پر انھيں ہر حال ميں خوش رہنے اور ايثار و قربانى كرنے كاسبق سكھايئے يقينا اس كے عوض آپ كو دنيا و آخرت ميں بہترين اجر ملے گا كيونكہ آپ كا يہ عمل عين شوہردارى ،كے مصداق ہے كہ جسے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا ارشاد گرامى ہے _

عورت كا جہاد يہى ہے كہ اپنے شوہر كى اچھى طرح ديكھ بھال كرے '' _(۹۵)

لڑائي جھگڑانہ كيجئے

بعض عورتيں ايسى ہوتى ہيں كہ جب اپنے شوہر سے ناراض ہوجاتى ہيں تو بات چيت كرنا بند كرديتى ہيں _ منھ پھلائے ہوئے ، تيورياں چڑھى ہوئي _ ايك كونے ميں بيٹھى ، كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگا رہى ہيں ، كھانا نہيں كھارہى ہيں بچوں پر غصہ اتارہى ہيں _ شوروہنگامہ كررہى ہيں _ ان كے خيال ميں لڑائي جھگڑا بہترين وسيلہ ہے جس كے ذريعہ شوہر سے انتفام ليا جا سكتا ہے _ ليكن ان طريقوں سے نہ صر يہ كہ شوہر كى تنبيہ نہيں كى جا سكتى بلكہ اس كے برے نتائج بر آمد ہونے كا بھى امكان ہے _ ممكن ہے شوہر بھى اور زيادہ غصّہ دكھائے اور ايسى صورت ميں كئي دن تك آپ كا گھر لڑائي جھگڑے كا ميدان بنارہے گا _ آپ چيخيں جلائيں گى و ہ بھى چيخے چلائے گا _ آپ بر ا بھلاكہيں گى وہ بھى برا بھلا كہے گا _ آپ بات چيت نہيں كريں گى وہ بھى بات كرنا بند كردے گا _ يہاں تك تھك ہا ركر

۱۰۵

اپنے كسى دوست يا رشتہ دارى كى وساطت سے كسى بہانے سے صلح كريں گى ليكن يہ آپ كى آخرى لڑائي نہيں ہوگى بلكہ زيادہ وقت نہيں گزرنے گا كہ پھتر يہى سلسلہ شروع ہوجائے گا _ يعنى سارى زندگى اسى طرح لڑائي جھگڑے اور كشمكش ميں گزرے گى اور اس طرح خود آپ اپنى بدبختى كے اسباب فراہم كريں گى اور اپنے معصوم بچوں كى زندگيوں كو بھى عذاب ميں مبتلا كريں گى _ اكثر بچے جو اپنے گھر وں سے بھاگ جاتے ہيں اور طرح طرح كى برائيوں ميں گرفتار ہوجاتے ہيں ايسے ہى خاندانوں كے بچے ہوتے ہيں _

مثال كے لئے ذيل كے سچے واقعات پر توجہ كيجئے _

ايك لڑكے نے بتايا كہ ميرے ماں باپ ہر روز لڑتے ہيں اور ان ميں سے كوئي ايك اپنے كسى رشتہ دار كے يہاں ناراض ہوكر چلا جاتا ہے _ ميں ناچار گلى كوچوں ميں حيران و پريشان پھرتا ہوں _ دھيرے دھيرے دوسروں كے دھوكے ميں آگيا اور ميں نے چورى كرلى _(۹۶)

ايك دس سالہ لڑكى نے سوشل وركروں كو بتايا كہ ''مجھے'' ٹھيك سے تو ياد نہيں البتہ اتنا يا ہے كہ ايك رات ميرے ماں باپ ميں خوب جنگ ہوئي _ دوسرے دن ميرى ماں كہيں چلى گئي _ اورچنددن ميرے باپ نے مجھے ميرى پھوپھى كے سپرد كرديا _ كچھ مدت ميں اپنى پھوپھى كے پاس رہى پھر اس نے مجھے ايك بڑھيا كے حوالے كرديا جو مجھے تہران لے آئي _ چند سال سے ميں اس كے پاس ہوں يہاں ميں نے اس قدر اہميتى يہى ہيں كہ اب ميں اس كے گھر جانا نہيں چاہتى اس كے اسكول كى ٹيچرنے بتايا كہ ہميشہ كى مانند اس سال جب اسكول كھلے اور نئے بچوں كے داخل ہوئے تو ان ميں يہ لڑكى بھى تھى _ پڑھائي شروع ہو چكى تھى اور بچے اپنى اپنى كلاسوں ميں تعليم ميں مشغول تھے ليكن يہ بچى كلاس ميں بچپن رہتى _ نہ ٹھيك سے سبق بڑھ پاقى ہميشہ بيماروں كى طرح اپنے سركوہاتھوں ميں لئے كچھ سوچا كرتى _ چند روز قبل ميں ميں نے چھٹى كے بعد اسے صحن كے كونے ميں بيٹھے ديكھا _ ميں نے اس سے ّہت كہا كہ گھر جاؤ مگر راضى نہ ہوتى تھى _ پرسوں پھر ايسا ہى ہوا _ميں نے پيارسے بہلا كے گھر نہ جانے كا سبب پوچھا تو اس نے بتايا كہ ايك بڑھيا ميرى نگہداشت كرتى ہے اور مجھ كو بہت ستاتى ہے _ گھر واپس جانا نہيں چاہتى ميں نے پوچھا كہ تمہارے

۱۰۶

ماں باپ كہاں ہيں ، يہ سن كر رونے لگى پھر بولى كہ وہ دونوں الگ ہوگئے ہيں اور ميں اس بڑھيا كے رحم كرم پر ہوں _(۹۷)

ممك ہے آپ كا شوہر آپ كے غصہ كے مقابلے ميں زيادہ شديد رد عمل دكھائے _ برا بھلا كہے ماردے پيٹے اس وقت آپ مجبور ہوں گى كہ غصہ ہوكر ميكے چل جائيں اور ماں باپ شكايت كريں _ اور ان كے دخل دينے سے معاملات اور زيادہ بگڑ جائيں _ ممكن ہے ان لڑائي جھگڑوں سے آپ كے شوہر اتنا اكتا جائيں كہ اس بہيودہ زندگى پر عليحدگى كو ترجيح ديں _ ايسى صورت ميں آپ اپنے شوہر كى زندگى بھى بربادكريں گى اور خود اپنى بھى ليكن زيادہ گھاٹے ميں رہيں گى _ يا تو سارى عمر تنہا زندگى گزارنے پڑے گى اور ماں باپ كے سرپڑى رہيں گى _ يقينا بعد ميں آپ پچھتائيں گى ليكن اب يہ پچھتا دابے سودہوگا _

ايك عورت نے بتايا كہ ميں نے ايك نوجوان سے شادى كى ليكن ہمارى ازدواجى زندگى پائيدار ثابت نہ ہوئي ، نہ ميں ہى شوہر دارى كے ڈھنگ سے واقف تھى اور نہ ہى وہ شادى شدہ زندگى كے طور طريقوں سے آشنا تھا _ ہمارے درميان دائمى طور پر جنگ رہتى _ ايك ہفتہ ميں روٹھى رہتى دوسرے ہفتے وہ روٹھ جاتا _ صرف چھٹى كے دنوں ميں ہمارے رشتہ دار ہمارے درميان صلح كراتے _ ان روز روز كے لڑائي جھگڑوں سے ميرى شوہر كا دل اچاٹ ہوگيا اور رفتہ رفتہ وہ دوسرى شادى كے بارے ميں سوچنے لگا _ كم عمرى كے سبب ميں نے بھى اس بات كو كوئي اہميت نہ دى اور اپنى اصلاح كرنے كے لئے تيار نہ ہوئي _ ہم عليحدہ ہوگئے _ ميں ايك كمرہ كرايہ پرلے كروہاں تنہا رہنے لگى _ ليكن جلدى ہى خطرات سے آگاہى ہوگئي _ جن لوگوں سے ميں آشنا ہوئي ان ميں سے اكثر ميرے حالات سے فائدہ اٹھانے كے چكر ميں تھے_ آخر كار ميں نے ارادہ كيا كہ اپنے شوہر سے صلح كرتوں_ اس كے گھر پہونچى وہاں ايك خاتون سے ملاقات ہوئي اس نے بتايا كہ وہ اس كى بيوى ہے _ ميں ناچارروتى ہوئي اپنے كمرے پر واپس آگئي''_(۹۸)

ايك بائيس سالہ خاتون جس كا ايك بچہ بھى تھا طلاق لے كر اپنے باب كے گھر آگئي _ اپنى بہن كي

۱۰۷

شب عروسى كے موقع پر اس نے خودكشى كرلى '' _(۹۹)

لہذا يہ لڑائي جھگڑے نہ صرف يہ كہ كسى درد كى دوا نہيں بن سكتے ہيں بلكہ مزيد پريشانيوں اور مصيبتوں كا سبب بن سكتے ہيں _

پيارى بہنو لڑائي جھگڑے سے اجتناب كيجئے _ اگر شوہر كى كسى بات سے آپ لے ، حد غصہ ہوگئي ہيں تو ذرا صبر سے كام ليجئے _ اور جب آپ كے حواس ٹھكانے آجائيں _ اس كے بعد نرمى اور ملائمت سے اپنى ناراضگى كى وجہ اپنے شوہر سے بيان كيجئے ليكن اعتراض كى شكل ميں نہيں بلكہ اچھے لب و لہجہ ميں كہيئے مثلاً آپ نے فلاں محفل ميں ميرى توہين كى تھى _ يا فلاں بات مجھ سے كہى تھى _ يا ميرى فلاں بات نہيں مانى ، كيا يہ مناسب ہے كہ آپ ميرى نسبت ايسى باتيں كريں؟ اس قسم كى گفتگو سے آپ كا مسئلہ حل ہوجائے گا اور آپ كے شوہر كى بھى تنبيہ ہوجائے گى يقينا وہ تلافى كرنے كى فكر كرے گا _ آپ كو ايك وفادار خوش اخلاق اورنيك و لائق خاتون كى حيثيت سے پہچانے گا اور يہى حساس اس كے اخلاق كردار اور طرز عمل پر اچھا اثر ڈالے گا _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں: اگر دو مسلمان آپس ميں بات چيت بندكرديں اور تين دن تك صلح نہ كرليں تواسلام سے خارج ہوجائيں گے _ ان ميں سے جو صلح كرنے ميں پيش قدمى كرے گا قيامت ميں وہ پہلے بہشت ميں جائے گا _(۱۰۰)

اگر غصہ ميں ہو تو خاموش رہئے

گھر سے باہر مرد كو گوناگوں مشكلات اور پريشانيوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے مختلف قسم كے افراد سے سابقہ رہتا ہے _ جب انسان تھكا ماندہ گھر آتا ہے تو اكثر اسے معمولى بات بھى ناگوار ہوتى ہے اور اسے غصہ آجاتا ہے ايسى حالت ميں ممكن ہے اپنے آپے سے باہر ہوجائے اور بيوى بچوں كى توہين كردے _ ہوشيار اور سمجھدار عورتيں اپنے شوہر كى مشكلات اور پريشانيوں كومد نظر ركھتے ہوئے اس كے حال زار پر رحم كھاتى ہيں _ اس كو غصہ ميں ديكھ كر صبر و سكون سے كام ليتى ہيں

۱۰۸

اور اس كى چيخ پكار پر خاموش رہتى ہيں _ جب مرد بيوى كا ناخوشگوار رد عمل نہيں ديكھتا اس كا غصہ جلدى ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور اپنے كئے پرپشيمان ہوتا ہے بلكہ عذر خواہى كرتاا ہے اور اس كى تلافى كى فكر ميں رہتا ہے _ كچھ دير بعد جب غصہ رفع ہوجاتا ہے تو مياں بيوى پہلى حالت پر لوٹ آتے ہيں اور اسى سابق مہر و محبت بلكہ اس سے بھى زيادہ اچھى طرح زندگى گزارنے لگتے ہيں _ ليكن اگر بيوى اپنے شوہر كى حساس حالت اور خطرناك صورت حال كو درك نہيں كرنى اور اس كے غصہ كے مقابلے ميں اپنا رد عمل ركھاتے ہے اس كا جواب ديتى ہے چيختى چلاتى ہے ، برا بھلا كہتى ہے تو ايسى صورت ميں مرد كے غصّہ كى آگ بھڑاك ٹھتى ہے اور وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے چيخنا چلانا اور گالم گلوج شروع كرديتا ہے اور رفتہ رفتہ مياں بيوى دو وحشى بھيڑيوں كى طرح ايك دوسرے كى جان كے درپے ہوجاتے ہيں _

كبھى كبھى ايك معمولى سى بات، عليحدگى اور طلاق كا باعث بن جاتى ہے اور خاندان كا شيرازہ بكھر جاتا ہے _ اكثر طلاقيں ايسى ہى معمولى باتوں كے نتيجہ ميں وقوع ميں آتى ہيں _ حتى كہ بعض اوقات غم و غصہ كى شدت سے ، جو كہ خود ايك قسم كا جنون ہے ، آتش فشان پہاڑ كى مانند پھٹ پڑتا ہے اور ظلم و ستم اور بہيمانہ قتل كا جرم سرزد ہوجاتا ہے _ اس سلسلے ميں ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك شخص نے اپنے آپ كو ، اپنى بيوى اور سوتيلى لڑكى كوگولى ماركر ہلاك كرديا _ شادى كے بعد شروع سے ہى ان مياں بيوى كے درميان ناچاقى پيدا ہوگئي تھى ان كے درميان عدم ہم آہنگى كے سبب ہر روز صبح و شام كو آپس ميں لڑنا جھگڑنا ان كا معمول بن گيا تھا _ اس دن بھى شوہر جو كام سے تھكاہارا گھر آيا تھا غصہ ميں تھا، كسى بات پر دونوں ميں تكرار شروع ہوئي _ مرد نے اپنى بيوى كو مارا پيٹا ، بيوى چاہتى تھى كہ پوليس ميں جاكر خبر كردے كہ مرد نے خود اپنے اور اپنے بيوى اور سوتيل لڑكى كو گولى ماركر كام تمام كرديا _(۱۰۱)

كيا يہ بہتر نہ ہوگا كہ ايسے حالات ميں بيوى موقع كى نزاكت اور حساسيت كو محسوس كركے چند لمحہ صبر و سكون سے كام لے اور اپنا رد عمل ظاہر نہ كرے اور اپنے اس عمل كے ذريعہ رشتہ ازدواج كو ٹوٹنے اور قتل و غارت گرى كے احتمال خطرے كى روك تھام كرلے _ آيا چند لمحے خاموشى اختيار كرلينا زيادہ

۱۰۹

مشكل كام ہے يا ان تمام تلخ واقعات و حادثات كا سامنا كرنا؟ يہ خيال نہ كريں كہ اس سے ہمارا مقصد مرد كا دفاع كرنا اور اس كے بے قصور ٹھرانا ہے _ جى نہيں ہمارا بالكل يہ مقصد نہيں ہے _ اس ميں مرد بھى قصور وار ہے _ دوسروں كا غصہ اپنے گھر والوں پر نہيں اتارنا چاہئے _ كتاب كے دوسرے حصے ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى _ بلكہ ہمارا مقصد صرف يہ ہے كہ اب جبكہ ايسى صورت حال پيدا ہوگئي ہے كہ مرد كو اپنے آپ پر كنٹرول نہيں رہا اور بلا وجہ يا كسى سبب سے طيش ميں آگيا ہے تو اس كى بيوى كو چاہئے كہ عقل و فراست سے كام لے كر حالات كى نزاكت كا اندازہ كرے اور ازدواجى زندگى كے مقدس بندھن كو ٹوٹنے اور احتمالى خطرات سے بچنے كے لئے ايثار اور صبر سے كام لے كر سكوت اختيار كرے _

عام طور پر خواتين يہ خيال كرتى ہيں كہ اگر ميں نے اپنے شوہر كے غصہ كے مقابلہ ميں خاموشى اختيار كى تو ميرى حيثيت ووقار ميں كمى آجائے گى اور ذليل و خوار ہوجاؤں گى _ حالانكہ معاملہ اس كے بالكل برعكس ہے اگر مرد غصہ كى حالت ميں اپنى بيوى كى توہين كرتا ہے اور برا بھلا كہتا ہے اور بيوى اس كى باتوں كا جواب نہيں ديتى تو بعدميں (اگر اس ميں انسانيت ہے تو ) يقينا وہ شرمندہ و پشيمان ہوگا _ اس كے سكوت كو ايك قسم كا ايثار اور ادب تصور كرے گا اور اس كى محبت ميںگئي گنا اضافہ ہوجائے گا اور جب اس كا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور اپنى اصلى حالت ميں آجائے گا تو سوچے گا كہ ميں نے اپنى بيوى كى توہين كى حالانكہ وہ بھى اس كا جواب دے سكتى تھى ليكن اس نے بردبارى سے كام ليا اور خاموش رہى اس سے اندازہ ہوتا ہے كہ عقلمنداور موقع شناس خاتون ہے اور مجھ سے محبت كرتى ہے ايسى صورت ميں يقينا اپنے فعل پر نادم ہوگا اور اگر بيوى كو قصور وار سمجھتا ہے تو اس كو معاف كردے گا اور اگر بلاوجہ ہى غصہ ہوگيا تھاتو اس كا ضميراس كو ملامت كرے گا _ اور بيوى سے معذرت خواہى كرے گا پس ايسى فداكار خاتون اپنے اس دانشمندانہ عمل كے ذريعہ نہ صرف يہ كہ چھوٹى نہيں ہوجائے گى بلكہ اس كے شوہر اور دوسروں كى نظر وں ميں اس كى عزت ووقار بڑھ جائے گا _

رسول صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو عورت اپنے شوہر كى بداخلاقيوں كے مقابلے

۱۱۰

ميں صبر و بردبارى سے كام ليتى ہے ، خداوند عالم اس كو حضرت آسيہ جيسا ثواب عطا كرے گا ''_(۱۰۲)

آنحضرت كا يہ بھى ارشادگرامى ہے كہ '' تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے كہ جب اپنے شوہر كو خشمگين ديكھے تو كہے ميں تمہارى خواہشات كے سامنے سر جھكاتى ہوں جب تك تم راضى نہ ہوجاؤ گے ميرى آنكھوں سے نيند كو سوں دوررہے گى ''_(۱۰۳)

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں '' عفو و درگذر ، انسان كى عزت و بزرگى ميں اضافہ كرتاہے ، معاف كرنے كى عادت ڈالوتا كہ خدا تم كو عزيز ركھے ''_(۱۰۴)

مردوں كے پسنديدہ مشغلے

بعض مردوں كے گھر ميں كچھ خاص مشغلے اور ہابى ہوتى ہيں _ مثلاً طرح طرح كے ٹكٹ جمع كرنا ، مختلف قسم كى تصويريں جمع كرنا ، آٹوگراف لينا _ مطبوعہ يا قلمى كتابيں جمع كرنا _ كسى كو چڑياں ، بلبل، طوطے و غيرہ پالنے كا شوق ہوتا _ كسى كو فنكارى اور پينٹنگ و غيرہ سے دلچسپى ہوتى ہے _ كسى كو كتابيں اور رسالے پڑھنے كا شوق ہوتا ہے _ غرضكہ اس قسم كى سرگرميوں كو بہترين او رمفيد تفريحات ميں شماركرنا چاہئے _ نہ صرف يہ كہ ان ميں كوئي نقصان نہيں ہے بلكہ اس كے فوائد بھى ميں _ اس قسم كے مشاغل كے سبب چونكہ مرد كا زيادہ وقت گھر ميں گزرتا ہے اس لئے كے دل ميں گھر سے انسيت پيدا ہوتيہے جسمانى تھكن اور ذہنى تفكرات برطرف ہوجاتى ہيں بيكارى اور فرصت غم و غصہ پيدا كرتے ہيں اور كام ميں مشغوليت ، ذہنى مريضوں كے علاج كا ايك طريقہ سمجھا گيا ہے جو لوگ ہميشہ كسى كام ميں مشغول رہتے ہيں وہ جسمانى اور نفسياتى بيماريوں ميں بہت كم مبتلا ہوتے ہيں چونكہ انھيں گھر سے دلچسپى ہوتى ہے اور كسى نہ كسى كام مشغول رہتے ہيں اس لئے سڑكوں پر آوارہ گھومنے ، برى حركتوں ميں ملوث ہونے اور فتنہ و فساد كے اڈوں ميں قدم ركھتے سے كسى حد تك محفوظ رہتے ہيں _

اس بناء پر خواتين كو چاہئے كہ اس قسم كے مشاغل كو اچھى نظر سے ديكھيں اور مرد كي بے عزتى نہ كريں اور اس كا مذاق نہ اڑائيں _ اس كے كاموں كو احمقانہ اور بے فائدہ نہ سمجھيں بلكہ اس كى ہمت افزائي كريں اور وقت پڑنے پر اس كى مدد كريں _

۱۱۱

خانہ داري

''گھر'' يوں تو ايك چھوٹى سى چہار ديوارى كا نام ہے ليكن يہ ايك بہت بڑى نعمت ہے اور اس كے فوائد نہايت گرانقدر اور بے شمار ہيں _ جس وقت انسان روزمرہ كے كامويں اور باہر كے شور وغل سے تھك جاتا ہے تو پناہ لينے كى غرض سے گھر آتاہے جس وقت زندگى كے نشيب و فراز اور كشمكش حيات سے گھبرا جاتا ہے تو آرام كرنے كے لئے گھر آتاہے ، حتى كہ جب سير و تفريح سے بھى تھك جاتا ہے تو يہيں پر آكر پناہ ليتا ہے _ جى ہاں گھر، بہترين پناہ گاہ ہے كہ جہاں انسان بغير كسى قيد و بند كے اطمينان كے ساتھ آرام كرتاہے _ يہ انس و محبت ، صدق و صفا اور سكون و آرام كا مركز ہوتا ہے، نيك اور بافضيلت مردوں اور عورتوں كى پرورش گا ہ ہے _ بچوں كى تعليم و تربيت كا مركز اور ان كى شخصيت و كردار كى تعمير گاہ ہے _ ايك ايسا چھوٹا سا معاشرہ ہے جس كے ذريعہ انسانوں كا بہت بڑا معاشرہ تشكيل پاتا ہے _

بڑے معاشرے كى ترقى و تنزلى ، اچھائي و برائي سب كچھ اسى چھوٹے سے معاشرہ سے مربوط ہے يہ چھوٹا سا خاندانى معاشرہ ، اگر چہ بڑے معاشرے كا ہى ايك جزو شمار ہوتا ہے تا ہم كسى حد تك ذاتى آزادى اور استقلال سے بہرہ مند ہے اسى لئے يہ كہنا بالكل درست ہے كہ سماج كى اصلاح كرنى ہو تو اس كى شروعات خاندانوں كى اصلاح سے كرنى چاہئے _

زندگى اس اہم بنياد اور سماج كى اس عظيم تعليم و تربيت گاہ كے نظم و نسق كى ذمہ دارى عورتوں پرہے _ يعنى سماج كى ترقى و تنزلى اور اچھائي و برائي كا دارو مدار عورتوں كے ارادہ و اختيار ميں ہے _ اسى بناء پر خانہ دارى كو نہايت قابل فخر اور باعزت شغل يا پيشہ كہا جاتا ہے _ ''جو لوگ گھر كے ماحول بے وقعت سمجھتے ہيں اور خانہ دارى كے شريفانہ كام كو اپنے لئے

۱۱۲

عار سمجھتے ہيں در اصل ان لوگوں نے خانہ دارى كے حقيقى معنوں اور اس كى اعلى قدر و قيمت اور اہميت كا اندازہ نہيں لگايا ہے _

ايك خانہ دار خاتوں كو فخر كرنا چاہئے كہ اس كو ايك انتہائي اہم اور حساس عہدہ سونپا گيا ہے اور وہ اپنى قوم و ملت كى ترقى و خوشحالى كے لئے ايثار و قربانى كرتى ہے _ تعليم يافتہ خواتين كى اس سلسلے ميں اور زيادہ ذمہ دارى ہے ان كو چاہئے كہ دوسروں كے لئے نمونہ ثابت ہوں اور دوسرے عملى طور پر ان سے خانہ دارى اور شوہر دارى كا سبق سيكھيں _ انھيں چاہئے كہ عملى طور پر ثابت كريں كہ تعليم يافتہ ہونے سے نہ صرف يہ كہ خانہ دارى اور شوہر دارى كے كاموں پر كوئي اثر نہيں پڑتا بلكہ تعليم تو زندگى كے آداب اور طور طريقے سكھاتے ہے _

ايك پڑھى لكھى خاتون كو چاہئے كہ امور زندگى كو بہترين طريقے سے انجام دے اور خانہ دارى كے باعزت شغل كو اپنے لئے باعث افتخار سمجھے اور اپنے طرز علم سے پڑھى لكھى خواتين كى لياقت و برترى كو ثابت كرے _ نہ كہ پڑھے لكھے ہونے كا عذر كركے كسى كام ميں ہاتھ نہ لگائے اور اس طرح پڑھى لكھى خواتين كو بدنام كرے _ تعليم حاصل كرنے كا مطلب ، بے كار گھومنا اور ذمہ داريوں سے پہلو تہى كرنا نہيں بلكہ اپنى ذمہ داريوں كو بہتر طريقے سے انجام دينا اور ايك مدبر اور سليقہ مند خاتون خانہ كى مثال قائم كرنا ہے _ اس سلسلے ميں ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك شخص جس نے ايك انٹر پاس لڑكى سے شادى كى تھى ، عدالت ميں كہا كہ ميرى بيوى گھر كے كسى كام ميں ہاتھ نہيں لگاتى اور جب ميں اعتراض كرتا ہوں توكہتى ہے ،'' برتن دھونا، كھانا پكانا پكڑے دھونا اور بچے پالنا ايك انٹر پاس عورت كا كام نہيں ہے اگر تمہيں ميرے طور طريقے پسند نہيں ہيں تومجھ كو طلاق دے دو اور ايك نوكرانى سے شادى كرلو''_ پرسوں رات كو ميں نے اپنى انٹر پاس بيوى كے رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں كو كھانے كى دعوت دى _ كھانے كے وقت ميں نے دستر خوان بچھايا اور اپنى بيوى كے فريم كئے ہوئے سرٹيفيكٹ كو دستر خوان پر

۱۱۳

سجاديا اور كہا: معاف كيجئے ، وہى كھانا حاضر ہے جو ہرروز حقير كى بيگم بندہ كو كھانے كے لئے ديتى ہے ميں نے مصلحت اسى ميں سمجھى كہ آپ بھى اس كے ذريعہ پذيرائي كروں'' _(۱۰۵)

بہر حال امور خانہ انجام دينا اور خاتون خانہ دار ہونا ايك ايسا باعزت اور شريفانہ كام ہے جس كے ذريعہ عورتوں كى ہنرمندى اور لياقت ظاہر ہوتى ہے _ مناسب ہوگا كہ اس سلسلے ميں خود تعليم يافتہ خواتين كے نظريات وخيالات سے روشناس ہوں _

خانم فريدہ نوروز شميرانى (بى اے) كہتى ہيں: خاتون خانہ كو چاہئے كہ امور خانہ دارى ميں ماہر ہونے كے علاوہ اپنے شوہر كى اچھى ساتھى ، اپنے بچوں كى اچھى ماں ہو اور ايك اچھى ميزبان ہو _ بچوں كى ڈاكٹر مسنر فصيحى كہتى ہيں : ميرى نظر ميں حقيقى گھر كى مالكہ وہى عورت ہوتى ہے جو دفتر ميں كام نہ كرتى ہو _ كيونكہ ہمارے ملك ميں دفتروں ميں غذا كا مناسب انتظام نہ ہونے اور بچوں كے لئے نرسرى اسكول و غيرہ كى كمى كے سبب كام كرنے والوں كو پورى طرح سہولتيں حاصل نہيں ہيں لہذا ايك كام كرنے والى ماں اپنے شوہر اور بچے كى طرف سے فكر مند رہتى ہے _

ميڈيكل كالج كى مسنر صغرى يكتاكہتى ہيں : خاتون خانہ كم بجٹ ميں ايك گھر كو صاف و ستھرا اور آراستہ ركھ سكتى ہے ، اپنے شوہر كے غم اور خوشى ميں شريك ہوسكتى ہے اور اپنے شوہر كى سماجى اور ذہنى حالت سے غافل نہيں ہوتى _

مسنر ايران نعيمى كہتى ہيں :گھر كى مالكہ ايسى خاتون ہوتى ہے جو غير ضرورى تفريحات ميں كمى كرے اور اس كامقصد گھر كى حالت بہتر بنانا ہو اور آمدنى كے لحاظ سے اپنے خاندان كے اخراجات چلانا جانتى ہو '' _(۱۰۶)

صفائي

خانہ دارى كے اہم فرائض ميں سے ايك كام مكان اور گرہستى كے سامان كوصاف و ستھراركھنا ہے_ صفائي ، اہل خاندان كى صحت و سلامتى ميں معاون ثابت ہوتى ہے اور بہت سى بيماريوں سے محفوظ

۱۱۴

ركھتى ہے_ صاف ستھرى گھر ميں رہنے سے دل ہشاش بشاش رہتاہے _ مرد كو گھر ميں كشش محسوس ہوتى ہے _ صفائي ، خاندان كى سربلندى اور عزت كا سبب بنتى ہے _ يہى سبب ہے كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ''دين كى بنياد صفائي پر ركھى گئي ہے '' _(۱۰۷)

ايك اور مقام پر آنحضرت (ص) فرماتے ہيں : اسلام پاك و پاكيزہ ہے _ تم بھى پاكيزہ رہنے كى كوشش كرو _ كيونكہ صرف پاك و پاكيزہ لوگ ہى بہشت ميں جائيں گے '' _(۱۰۸)

گھر كو ہميشہ صاف ستھراركھئے _ ہرروز جھاڑوديجئے اور گردو غبار صاف كيجئے _ دن بھر ميں اگر كوئي جگہ گندى ہوجائے تو اس كو فوراً صاف كرديجئے _ يونہى نہ چھوڑديجئے كہ جب جھاڑودى جائے گى تو اسے بھى صاف كرديا جائے گا _ كمروں كى چھتوں اور درو ديوار وں كو صاف كيجئے_ جالے صاف كيجئے _ فرنيچر ، ميز كرسى اور گھر كے تمام سامان كو صاف كيجئے _ دروازوں اور كھڑكيوں كے شيشوں كو صاف كيجئے _ كوڑے كركٹ كو بندمنہ كے برتن ميں داليئےور كمروں و باورچى خانہ سے دور ركھيئےاكہ كھانے پينے كى چيزيں آلودہ ہونے سے محفوظ رہيں _ كوڑے دان كو جلدى جلدى خالى كر ليا كيجئے _ ورنہ دير تك كوڑا پڑا رہنے سے سرانڈپيدا ہوجائے گى اور كيڑے پڑجائيں گے _ گندگى اور كوڑے كركٹ كو گلى ميںگھروں كے سامنے نہ پھينكئے _ كيونكہ يہ چيز حفظان صحت كے اصولوں كے خلاف ہے اس ميں جراثيم پيدا ہوكر ہوا اور مكھيوں كے ذريعہ نہ صرف دوسروں كے لئے بلكہ خود آپ كى صحت و سلامتى كے لئے ضرر رساں ثابت ہوسكتے ہيں _ كوشش كيجئے بچے صحن يا باغچہ ميں پيشاب نہ كريں البتہ اگر كوئي چارہ ہى نہ ہو تو صحن كے كنارے انھيں بٹھايئےور فوراً اس جگہ كو پانى سے دھوڈالئے تا كہ بدبونہ آئے اور جراثيم پيدا نہ ہوں بطور مجموعى كوشش كيجئے كہ آپ كے گھر كا كونہ كونہ صاف ستھرارہے اور كہيں بھى گندگى نہ ہو او ركيڑے پيدا ہونے كا امكان نہ رہے _

جھوٹے اور چكنے برتنوں كو جہاں تك ہوسكے فوراً دھوڈالئے _ اگر يونہى چھوڑديا تو ممكن ہے جراثيم پيدا ہوكر آپ كى صحت و سلامتى كے لئے خطرہ بن جائيں برتنوں كو صاف پانى سے دھويئے

۱۱۵

اور اگر حوض يا كسى جگہ جمع كئے ہوئے پانى سے دھوئے ہوں تو بعد ميں ايك بار اس پر پاك و صاف پانى ڈال ديجئے _ كيونكہ ممكن ہے ركے ہونے كے سبب حوض كا پانى آلودہ ہو اور آپ كى صحت كے لئے ضرر رساں ہو _ برتنوں كو دھونے كے بعد ايك مناسب و محفوظ جگہ پر ركھديجئے _ بہتر ہے اس پر ايك صاف كپڑا ڈالديں _ ميلے كپڑوں خصوصاً بچے كے پيشاب پاخانہ كے كپڑوں كو كمروں اور باورچى خانہ سے دور ركھئے اور اس طرح ركھئے كہ مكھياں ، جن كے پاس طرح طرح كے جراثيم ہوتے ہيں ، اس پر نہ بيٹھيں اور ان كپڑوں كو جہاں تك ہوسكے جلدى دھوليا كيجئے _ ہميشہ صاف ستھرے كپڑے پہنئے اور بچوں كو بھى صاف ستھرا ركھئے _ خاص طور پر نيچے پہننے والے كپڑے ہميشہ صاف ہونے چاہئيں كيونكہ وہ براہ راست بدن سے مس ہوتے ہيں _

گوشت ، دالوں اور دوسرى كھانے والى چيزوں كو پكانے سے پہلے خوب اچھى طرح دھوليا كيجئے _ خاص طور پر سبزيوں كو كئي بار بہت احتياط سے دھونا چاہئے كيونكہ اكثر اس ميں كيڑے اور جراثيم ہوتے ہيں جو بہت نقصان وہ ہوتے ہيں _ پھلوں كو كھانے سے پہلے خوب اچھى طرح مل كر دھولينا چاہئے كيونكہ درختوں پر اكثر كيڑے مارنے والى دوائيں چھڑكى جاتى ہيں ا س لئے اس بات كا امكان رہتا ہے كہ اس ميں زہر سرايت كرگيا ہو _ ہوسكتاہے اس كا فورى اثر نہ ہو ليكن بعد ميں اس كا يقينا اثر ہوگا _ كھانے سے قبل اپنے اور بچوں كے ہاتھوں كو اچھى طرح دھوليا كيجئے اگر چھرى كانٹے سے كھانا كھائيں تب بھى ہاتھوں كادھولينا بہتر ہے ممكن ہے آلودہ ہو جو آپ كى تندرسى كے لئے نقصان وہ بن جائيں _ كھانا كھانے كے بعد اپنے ہاتھوں اور دانتوں كو دھونئے دانتوں ميں خلال كرنا چاہئے _ دانتوں اور مسوڑہوں ميں كھانے كے اجزاء رہ جاتے ہيں جو سڑتے ہيں اور ان ميں بدلو پيدا ہوجاتى ہے _

بہتر تو يہ ہے كہ ہر دفعہ كھانے كے بعد دانتوں ميں برش كريں _ ليكن اگر يہ آپ كے لئے مشكل ہو تو كم سے كم رات كو سونے سے پہلے ضرور برش كرليا كريں _اس طرح آپ اپنے دانتوں كى حفاظت

۱۱۶

كرسكيں گى اور آپ تندرسى بھى قائم رہے گى _

اپنے ناخنوں كو ہفتہ ميں كم از كم ايك بار ضرور كا ٹا كريں _ ناخن بڑے ہونے سے جراثيم پيدا ہونے كا خدشہ رہتا ہے جو آپ كى صحت كے لئے نقصان وہ ہے _ صحت كى لئے نہانا بے حد ضرورى ہے _

بہتر ہے كم از كم ايك دن چھوڑ كر ضرور نہاليا كريں _ بغلوں كے نيچے اور دوسرے غير ضرورى بالوں كو صاف كرنا صحت و سلامتى كيلئے بے حد ضرورى ہے ورنہ ان غير ضرورى بالوں كے بڑھنے سے اس ميں گندگى اور جراثيم پيدا ہوجانے كا امكان رہتا ہے _ كھانے پينے كى چيزوں كو مكھيوں سے محفوظ ركھئے _ اسلام كى مقدس شرع ميں صفائي پر بہت زيادہ زور ديا گيا ہے جن ميں سے چند كا ذكر كيا جاتاہے _

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خدا خوبصورتى اور زينت كرنے كو پسند فرماتے ہے او رفقر و غربت كا مظاہرہ كرنے كو مكروہ كہا گيا ہے_ خداوند عالم پسند فرماتے ہے كہ اپنى نعمتوں كے آثار اپنے بندے ميں ديكھے _ اس كا لباس پاك اور صاف ستھرا ہو _ خوشبو استعمال كرے _ اپنے گھر كو صاف ستھرااور سجاكے ركھے _ گھر اور اس كے اطراف ميں جھاڑولگاؤ_ غروب سے پہلے چراغ روشن كرے _ كيونكہ يہ عمل فقر كو گھر سے دور ركھتا ہے اورروزى ميں اضافہ كرتاہے ''_(۱۰۹)

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : ميلا كچيلا آدمى ، ايك خراب بندہ ہوتا ہے '' _(۱۱۰)

حضر ت على عليہ السلام فرماتے ہيں : مكڑى كے جالوں كو اپنے گھروں سے صاف كرو_ كيونكہ يہ چيز نادارى كا باعث ہوتى ہے _(۱۱۱)

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشاد گرامى ہے : كوڑے كركٹ كورات ميں گھر ميں نہ پڑا رہنے دو كيونكہ وہ شيطانى كى جگہ ہوتى ہے _(۱۱۲)

۱۱۷

پيغمبر اسلام (ص) كا يہ بھى ارشاد گرامى ہے كہ : كوڑے كركٹ كو گھر كے دروازے كے سامنے نہ پھينكو كيونكہ وہ شيطان كى جگہ بن جاتى ہے _(۱۱۳)

آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : انسان كا لباس ہميشہ پاكو صاف ہونا چاہئے(۱۱۴)

ايك اور موقعہ پر آپ فرماتے ہيں : ميلے كچيلے رومال كو گھر ميں نہ پھينكو كيونكہ شيطان كى جگہ بن جاتى(۱۱۵) ہے حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : برتنوں كو دھونا اور گھر كو صاف كرنا ، روزى ميں اضافہ كرتا ہے _(۱۱۶)

آپ كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : برتنوں كو ڈھانك كرركھنا چاہئے كيونكہ شيطان ان ميں تھوكتا ہے اور ان سے استفادہ كرتا ہے _(۱۱۷)

ايك اور جگہ آپ فرماتے ہيں : پھلوں كو خوب اچھى طرح دھوكركھانا چاہئے _ اس ميں زہر ہوتا ہے _(۱۱۸)

حضرت امام موسى كاظم عليہ السلام فرماتے ہيں : ايك دن چھوڑ كر نہانا ، انسان كو موٹا كرتا ہے(۱۱۹) حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا ارشادگرامى ہے : اگر ميرى امت كے لئے دشوار نہ ہوتا توميں واجب كرديتا كہ ہر وضو كے ساتھ مسواك كريں _

حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہيں : جمعہ كے دن ناخن كاٹنا ، جذام ، جنون ، برص اور اندھے پن جيسے امراض سے دور ركھتا ہے _(۱۲۱)

روايت كى جاتى ہے كہ ناخنوں كے نيچے شيطان كى خوابگاہ ہوتى ہے _(۱۲۲)

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : كھانا كھانے سے پہلے اور اس كے بعد ہاتھوں كو دھونا ، عمر كو بڑھاتاہے ، لباس كوميلے ہونے سے محفوظ ركھتا ہے اور آنكھوں كو نورانى بناتا ہے _(۱۲۳)

گھر كى سجاوٹ

ايك صاف ستھرا سجا ہوا مكان جس ميںگھر كى تمام چيزيں سليقے سے مناسب اور مخصوص جگہ پر ركھي

۱۱۸

ہوں ہر لحاظ سے ايك بے ترتيب اور گندے مكان پر فوقيت ركھتا ہے _ اول تو يہ كہ ترتيب اور سليقہ گھر كو رونق و خوبصورتى عطا كرتا ہے او رايسے كو باربار ديكھنے سے نہ صرف يہ كہ آنكھوں كو برا نہيں لگتا بلكہ مسرت اور خوشى حاصل ہوتى ہے_ دوسرے يہ كہ اس طرح گھر دارى كے كاموں ميں آسانى ہوتى ہے _ گھر كى مالكہ كا وقت ضرورت كى چيزوں كو ڈھونڈھنے ميں برباد نہيں ہوتا_ كيونكہ ہرچيز كى جگہ مخصوص ہے جس چيز كى ضرورت ہوئي اس وہيں سے اٹھاليا اور كام ختم ہونے كے بعد اسى جگہ ركھ ديا _ اس طرح كام آسانى سے انجام پاتے ہيں _

تيسرے يہ كہ ايك صاف ستھرااور مرتب و منظم گھر ، گھر كى مالكہ كے ذوق و سليقہ كو ظاہر كرتا ہے ، مرد كو بھى صاف ستھرے گھر ميں جاذبيت اور كشش محسوس ہوتى ہے اور گھر اور گھروالوں سے اس كى دلچسپى ميں اضافہ ہوتا ہے اور گھر سے باہر اپنا زيادہ وقت نہيں گزارتا_

چوتھے يہ كہ ايك سليقے سے آراستہ كيا ہوگھر ، گھروالوں كى عزت و سربلندى كا باعث بنتا ہے جو كوئي اسے ديكھتا ہے اس كى دلكشى اور خوبصورتى سے فرحت محسوس كرتا ہے اور گھر كى مالكہ كے ذوق و سليقہ كى تعريف كرتا ہے _

سجاوٹ اور آرائشے كا سامان خريد خريد كر جمع كرنے سے زندگى خوبصورت نہيں ہوجاتى بلكہ ايك خاص ترتيب و سليقے سے خوبصورتى پيد ا ہوتى ہے _ خود آپ نے بھى يقينا ايسے دولتمنداور خوشحال گھرانے ديكھے ہوں گے جن كے پاس انواع و اقسام كے قيمتى سازو سامان كى بھر مار ہوتى ہے ليكن نظم و سليقہ نہ ہونے كے سبب اس ميں كوئي رونق نہيں ہوتى اور اس كو ديكھ كر ملال ہوتا ہے _ اس كے برعكس آپ نے ايسے غريب گھرانے بھى ديكھے ہوں گے كہ غربت و نادارى كے باوجود ان كى زندگياں مسرت سے بھرپور اورخوبصورت ميں _ مختصر اور معمولى سامان ہونے كے باوجود ان كے گھر مرتب و منظم اور صاف ستھرے ہيں _ ہر چيز اپنى جگہ قرينے سے ركھى ہوئي ہے _ در اصل ايك خاص نظم و ترتيب اور سليقہ ہى خوبصورتى ہے _

اسى بناء پر خانہ دارى كے اہم فرائض ميں سے ايك اہم كام ، نظم و ترتيب كاخيال ركھنا ہے _

۱۱۹

سليقہ مند خواتين خود بہتر جانتى ہيں كہ گھر كے سامان كو كس ترتيب سے ركھنا چاہئے _ البتہ بيجا نہ ہوگا كہ ياددہانى كے طور پر چند نكات بيان كرديئےائيں _

گھر كے سازو سامان كى اس كى نوعيت كے اعتبار سے ايك جگہ معين كردينى چاہئے _ تمام برتنوں كو ايك جگہ نہيں ركھنا چاہئے _ جن برتنوں كى ہر وفت ضرورت پڑتى ہے ان كو اس طرح ركھئے كہ آسانى سے نكالاجا سكے _ مٹھائي ، ميوے اور ناشتہ كا سامان ركھنے والے برتنوں كوايك جگہ ركھئے ، شربت والے برتنوں كى ايك جگہ مقرر كيجئے _ چائے كے برتنوں كى عليحدہ اور كھآنے :ے برتنوں كى ايك جگہ معين كيجئے _ پھلوں كے لئے استعمال ہونے والے برتنوں كو ايك جگہ ركھئے _ دہى اور فيرينى و غيرہ كے پيالوں ، اور اچار مربّے كى كٹوريوں كى ايك مخصوص جگہ بنايئے غرضكہ سارے سامان كو اس ترتيب سے ركھئے كہ خود آپ كو آپ كے شوہر اور بچوں كو ان سب چيزوں كى مخصوص جگہ معلوم ہو اور اگر اندھيرے ميں بھى كسى چيز كى ضرورت پڑجائے تو آسانى سے فوراً وہيں سے نكال ليں _

شايد بعض خواتين سوچيں كہ مذكورہ باتيں اميروں اور دولتمندوں كے لئے تو بہت اچھى ہيں كہ ان كے پاس سہولت كے سارے سامان موجود ہيں _ ليكن ہمارى سادہ اور معمولى زندگى كے لئے ان سب لوازمات كى كيا ضرورت ہے _ جى نہيں _ يہ خيال درست نہيں جو كچھ بھى گر ہستى كا سامان ہو اسے سليقے اور ترتيب سے ركھنا چاہئے _ خواہ امير ہو يا غريب_ معمولى اور مختصر سامان بھى قرينے سے ركھا ہو تو اچھا معلوم ہوتاہے _ مثلاً گھر كے تمام برتنوں كى ايك جگہ معين كرديجئے اور ہر قسم كے برتن كے لئے ايك گوشہ مخصوص كرديجئے _ گرميوں كے كپڑوں كے لئے ايك جگہ اور جاڑوں كے كپڑوں كى دوسرى جگہ بناديجئے _ اپنے شوہر اور بچوں كے كپڑوں كى جگہ مقرر كرديجئے _ روزمرہ استعمال كے كپڑوں كو اس طرح ركھئے كہ نكالنے ميں آسانى ہو اور دوسرے كپڑوں كو محفوظ ترجگہ پر ركھ سكتى ہيں _ ميلے كپڑے ركھنے كى مخصوص جگہ بناديجئے ، روز استعمال ميں آنے والے بستروں كو سامنے ركھئے اور مہمانوں كے استعمال كے لئے لحاف گدوں كمبل و غيرہ كو اندر ركھئے _ كھانے كے

۱۲۰