ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 22843
ڈاؤنلوڈ: 1290

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22843 / ڈاؤنلوڈ: 1290
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

بعد جھوٹے چكنے برتنوں كو فوراً جمع كركے دھونے كى معبنہ جگہ پرركھ ديجئے _ گھركى سجاوٹ كے سامان كے لئے مناسب جگہ مقرر كيجئے _ اور ہر چيز اپنى معينہ جگہ پر ركھى رہے _ آپ كے اور بچوں كے كپڑے كمروں ميں بكھرے نہ پڑے رہيں بلكہ انھيں عادت ڈلوايئےہ كپڑے اتار كر المارى ميں ركھيں _ كھونٹى يا اسٹينڈپرٹانگيں _ بچوں كو نصيحت كيجئے كہ اپنے سامان مثلاً بستہ ، قلم ،كتابيں معينہ جگہ پر ركھا كريں _ اطمينان ركھئے اگر آپ ترتيب اور سليقے سے كام ليں تو آپ كے بچوں كى بھى يہى عادت پڑجائے گى _

پھوہٹر عورتيں اپنے آپ كو بے گناہ ثابت كرنے كے لئے گھر كى بدنظمى كا الزام بچوں كے سر تھوپتى ہيں _ مگر يہ بات صحيح نہيں ہے كيونكہ بچے ماں باپ كى تقليد كرتے ہيں _ اگر ماں باپ سليقہ مند ہوں گے تو وہ بھى سليقہ سيكھيں گے _ شروع ميں بچے نظم و ترتيب كے مخالف نہيں ہوتے بلكہ سليقہ مند ہوتے ہيں _ ليكن جب گھر كى بدسليقگى اور بد انتظامى ديكھتے ہيں تو وہ بھى يہى سيكھتے ہيں _

روپيہ پيسہ _ قيمتى كا غذوں مثلاً چيك _ بانڈ _ سرٹيفكيٹ اور سندوں و غيرہ كو ايسى محفوظ جگہ پر ركھئے جو چھوٹے بچوں كى دسترس سے دور ہو _ كيونكہ اگر آپ كى غفلت سے ضائع ہوجائے تو بعد ميں بچوں كو مارنے پيٹنے سے كوئي فائدہ نہ ہوگا _ لہذا حادث وقوع ميں آنے سے پہلے ہى اس كا علاج كرليناچاہئے _ معصوم بچے كا كوئي گناہ نہيں ہوتا _قصور بد سليقہ ماں كاہوتا ہے جس نے قيمتى شيء كو حفاظت سے نہيں ركھا _

اس سلسلہ ميں ذيل كے واقعہ سے عبرت حاصل كيجئے _

ايك شخص نے اپنى بيوى كو تين ہزار روپئے ديئےور حفاظت س ركھنے كى تاكيد كى اس نے روپيہ لے كر طلاق ميں ركھ ديا اور كسى معمولى كام سے باہر چلى گئي _ جب كمرے ميں واپس آئي تو وہاں روپئے موجود نہيں تھے _ گھبرا كے ادھر ادھر نظر دوڑ ائي توديكھاكہ اس كا پانچ سالہ بچہ صحن ميں كوئي چيز جلا رہا ہے اور خوش ہورہا ہے _ ماں يہ ديكھ كر اس قد رغضبناك ہوئي

۱۲۱

كہ اپنے پانچ سالہ بچے كو اٹھاكر زمين پر پخ ديا _ اتفاق سے بچہ فوراً مرگيا وحشت زدہ ماں ، بچے كہ بيجان جسم كو ديكھ رہى تھى كہ اسى وقت اس كا شوہر آگيا اور ماجرا دريافت كيا _ بيوى نے واقعہ بيان كيا _ مرد نے طيش ميں آكر بيوى كو خوب مارپيٹا اور موٹر سائيكل پر سوار ہوكر پوليس كو اس واقعہ كى رپورٹ دينے چلا گيا _ ليكن پريشانى اورگبھراہٹ كے عالم ميں اس كى كسى گاڑى سے ٹكر ہوگئي _ اب اس مرد كى حالت بيحد نازك ہے '' _(۱۲۴)

آپ كا خيا ل ميں اس واقعہ ميں اصلى قصور وار كون ہے؟ اس كا فيصہ ہم قارئين كرام پر چھوڑتے ہيں _ اس قسم كے واقعات و حادثات اكثر رونما ہوتے رہتے ہيں _ ممكن ہے خود آپ كى زندگى ميں بھى واقع ہوئے ہوں _

دواؤں ، خطرناك اورزہر يلى چيزوں حتى كى مٹى كے تيل اور پٹروں كو ايسى جگہ ركھيں جو چھوٹے اورناسمجھ بچوں كى دسترس سے باہر ہو _ كيونكہ اس بات كا امكان ہے كہ ناسمجھى كے سبب اسے پى ليں اور ختم ہوجائيں _ اور پھر آپ سارى عمر روتى رہيں احتياط كرنے ميں كوئي نقصان نہيں ہے ليكن غفلت اور بے احتياطى سے سينكڑوں خطرے لاحق ہوجاتے ہيں _ ايسے معصوم بچے جو بد سليقہ ماں باپ كى غفلت سے تلف ہوئے اور ہورہے ہيں ان كى فہرست طويل ہے _ ان ميں سے بعض كى خبريں اخباروسائل ميں شائع ہوتى رہتى ہى _ ياددہانى كے طور پر چند سچے واقعات نقل كئے جاتے ہيں _

دو چھوٹے چھوٹے بہن بھائي ، جن كى عمريں چھ سال اور چار سال تھيں ، ايك برتن ميں بھرے ڈى ڈى ٹى دواكے محلول كونسى سمجھ كے پى گئے _ چھوٹى بچى تو فوراً مرگئي _دونوں بچے گھر ميں تنہا تھے _ جب انھيں پياس لگى تو پانى كے بجائے ڈى ڈى ٹى دوا كے محلول كولسى سمجھ كر پى گئے _ اسپتال ميں بچوں كى ماں نے بتايا كہ كل رات ميں نے تھوڑا سا ڈى ڈى ٹى پاؤ ڈرپانى ميں بھگوكر ركھا تھا كہ چوہوں كے بلوں ميں ڈالوں گى كہ يہ حادث رونما ہوگيا ''_(۱۲۵)

زبانى كى جگہ مٹى كا تيل پى ليا _ ايك پنچ سالہ بچّے نہ ماں كے پير درد كي

۱۲۲

كھاليں _ انھيں اسپتال ميں بھرتى كيا گيا ہے '' _(۱۲۶)

آخر ميں بھى عرض كرديں كہ نظم و ضبط بہت اچھى چيز ہے ليكن نہ اس حد تك كہ آپ كا اور آپ كے شوہر كا سكون و چين سلب ہوجائے صفائي اور طہارت اگر حد سے تجاوز كرجائے اور وہم آزادى سلب ہوجانے كى حد تك بڑھ جائے تو خود ان خاندان كے لئے مشكلات پيدا ہوجاتى ہيں _ لڑائي جھگڑے اور عليحدگى تك كى نوبت آجاتى ہے _ ذيل كا واقعہ سنيں:_

ايك شخص كہتا ہے : اپنى بيوى كى عجيب و غريب پاكيزگى نے تو مجھے ديوانہ بناديا ہے _ شام كو جب آفس سے تھكاہارا گھر آتا ہوں تو ميرے لئے لازم ہے كہ حوض كے يخ بستہ پانى سے سات دفعہ ہاتھ پاؤں دھؤون _ جوتوں كو مخصوص جگہ پر ركھوں _ گھر كى مخصوص چپل پہنوں _ ہاتھ روم كى مخصوص چپل پہنوں باورچى خانہ ، ڈرائنگ روم ، غرضكہ گھر ميں ہر جگہ احتياط برتوں ، لباس كو اس كى مخصوص جگہ پرٹانگوں _ اگر سگريٹ پينے كى اجازت دے تو مخصوص كمرے ميں جاكر پيئوں تا كہ پورے گھر ميں اس كى بونہ پھيلے _ مختصر يہ كہ ميں نے ايك عمر نہايت اطمينان و آزادى كے ساتھ گزارى ہے _ ليكن اس چار سالہ شادى شادہ زندگى ميں ميرى حالت قيديوں سے بدتر ہوگئي _ كيا ضرورت ہے كہ انسان اس قدر حد سے زيادہ صفائي پسند ہو يہ وہم ہے اور ميں وہم سے بيزار ہوں '' _(۱۲۷)

كسى بھى كام ميں افراط و تفريط اچھى نہيں ہوتى بلكہ ہر حال ميں ميانہ روى سے كام لينا چاہئے _ نہ اس قدر بد سليقگى كارفرما ہو كہ زندگى كى حالت ابتر رہے اور نہ اتنا زيادہ نظم و ضبط كالحاظ ركھا جائے كہ وہم كى حد تك بڑھ جائے اور آپ كا سكون وچين درہم برہم ہوجائے _

كھانا پكانا

امورخانہ دارى ميں ايك اہم كھانا پكانا بھى ہے جس كے ذريعہ خواتين كے ذوق اور سليقہ كا پتہ چلتا ہے _ ايك سليقہ مند اور باذوق گھر كى مالكہ خرچ ميں بہترين اور لذيذغذائيں تيار كرتى ہے ليكن ايك بدسليقہ خاتون زيادہ خرچ كركے بھى مزيدار كھانے تيار نہيں كرپاتى _ خواتين لذيذ اور مزيدار

۱۲۳

كھانوں كے ذريعہ اپنے شوہر كو گھر كى طرف راغب كرسكتى ہيں جو خوا تين اس گر سغ واقف ہيں ان كے شوہر خوش ذالقہ كھانوں كے شوق ميں ہو ٹلوں ميں نہيں گنواتے _حضرت رسول خدا (ع) فرماتے ہيں : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جواپنے بدن ميں خوشبو لگائے _ كھا نا پكانے كے فن ميں ماہر ہوا ور زيادہ خرچ نہ كرے ايسى عورت كا شمار خدا كے عمال ميں ہو گا اور خدا كے عامل كو بھى شكست اور پشيمانى كا سامنا نہيں كرنا پڑے گا _(۱۲۸)

اس موقعہ پر كھا نا پكا نے فن پز بحث كرنا اور كھانے تياركرنے كى تركيب بيان كرنا مضف كے موضوع سخن سے خارج ہے _

البتہ اس سلسلے ميں صحت بخش غذاؤں اور كھانا پكانے كے ماہرين كى لكھى ہولى ركتا بيں آسانى سے دستياب ہيں ان كتابوں كے مطالعہ اور اپنے ذاتى تجربہ و سليقہ سے كام لے كر خوش ذائقہ اور ، قوت بخش كھانے تيار كئے جا سكتے ہيں _ البتہ يہاں پر چند باتوں كا ذكر كر ناضرورى معلوم ہوتا ہے :

۱ _ كھانا صرف لذت حاصل كرنے اور پيٹ بھرنے كى خاطر نہيں كھا يا جا تا بلكہ كھا نا كھانے كا مقصد صحت و سلامتى كا تحفظ اور بدن كے خليوں كو زندہ ركةنے كے لئے جن چيزوں كى ضرورت ہوتى ہے ان كو بہم پہو نچا نا ہے _ لازمى اجزاء مختلف قسم كى غذاؤں ، پھلوں ، سبزيوں ، دالوں اور گوشت و غيرہ ميں پائے جاتے ہيں _ مجموعى طور پر انھيں چھ حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

۱_ پاني

۲_ معدنى مواد مثلا كيسليشم _ فاسفورس ، لوہا ، تانبا

۳_ نشاستہ ( STARCH ) والى چيزيں

۴_ چربي

۵_ پروٹين

۶_ مختلف و ٹامن مثلاوٹا من بى ، وٹامن سى ، وٹامن ڈى و غيرہ

۱۲۴

انسان كے بدن كازيادہ تروزن پانى كے ذريعہ تشكيل پاتا ہے _ پانى منجمد غذاؤں كو حل كرتا ہے تا كہ آنتوں كے ذريعہ جذب ہو جائيں _ بدن كے درجہ حرارت كو كنٹروں كرتا ہے _ معدنى مواد دانتوں اور ہڈيوں كى نشو و نما اور عضلات كے كام كى تنظيم كے لئے بھى لازمى ہے _

نشاستہ اور شكروالى چيزيں انرجى پيدا كرتى ہيں چربى انرجى اور حرارت پيدا كرتى ہے پروٹين بدن كى نشو و نما اور پرانے كى تجديد كيلئے ضرورى ہے ، وٹامن بدن كى نشو و نماہڈيوں كى اور اعصاب كى تقويت اور بدن كى مشينرى كو چلانے اور آنتوں ميں غذاؤں كے جذب ہونے ميں مدد ديتے ہيں _ مذكورہ مواد انسان كى صحت و سلامتى كے تحفظ اور زندہ رہنے كے لئے بيحد ضرورى ہيں _ ان ميں سے ہر ايك كا اہم رول ہے اور وہ بدن كى كسى نہ كسى ضرورت كو پورا كرتے ہيں _ ان ميں سے كسى كا بھى فقدا ن يا كمى يا زيادتى انسان كى زندگى و سلامتى كے لئے مضر ہے _ اور علاج اور خطرناك امراض پيدا كرنے كا سبب بن سكتا ہے _ سلامتى و بيمارى ، عمر كى درازى اور كوتاہى ، اعصاب كى سلامتى و نفسياتى بيمارياں ،خوشى و افسردگى ، خوبصورتى و بدصورتى ، غرضكہ وہ ت