ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 10698
ڈاؤنلوڈ: 769

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 10698 / ڈاؤنلوڈ: 769
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

بعد جھوٹے چكنے برتنوں كو فوراً جمع كركے دھونے كى معبنہ جگہ پرركھ ديجئے _ گھركى سجاوٹ كے سامان كے لئے مناسب جگہ مقرر كيجئے _ اور ہر چيز اپنى معينہ جگہ پر ركھى رہے _ آپ كے اور بچوں كے كپڑے كمروں ميں بكھرے نہ پڑے رہيں بلكہ انھيں عادت ڈلوايئےہ كپڑے اتار كر المارى ميں ركھيں _ كھونٹى يا اسٹينڈپرٹانگيں _ بچوں كو نصيحت كيجئے كہ اپنے سامان مثلاً بستہ ، قلم ،كتابيں معينہ جگہ پر ركھا كريں _ اطمينان ركھئے اگر آپ ترتيب اور سليقے سے كام ليں تو آپ كے بچوں كى بھى يہى عادت پڑجائے گى _

پھوہٹر عورتيں اپنے آپ كو بے گناہ ثابت كرنے كے لئے گھر كى بدنظمى كا الزام بچوں كے سر تھوپتى ہيں _ مگر يہ بات صحيح نہيں ہے كيونكہ بچے ماں باپ كى تقليد كرتے ہيں _ اگر ماں باپ سليقہ مند ہوں گے تو وہ بھى سليقہ سيكھيں گے _ شروع ميں بچے نظم و ترتيب كے مخالف نہيں ہوتے بلكہ سليقہ مند ہوتے ہيں _ ليكن جب گھر كى بدسليقگى اور بد انتظامى ديكھتے ہيں تو وہ بھى يہى سيكھتے ہيں _

روپيہ پيسہ _ قيمتى كا غذوں مثلاً چيك _ بانڈ _ سرٹيفكيٹ اور سندوں و غيرہ كو ايسى محفوظ جگہ پر ركھئے جو چھوٹے بچوں كى دسترس سے دور ہو _ كيونكہ اگر آپ كى غفلت سے ضائع ہوجائے تو بعد ميں بچوں كو مارنے پيٹنے سے كوئي فائدہ نہ ہوگا _ لہذا حادث وقوع ميں آنے سے پہلے ہى اس كا علاج كرليناچاہئے _ معصوم بچے كا كوئي گناہ نہيں ہوتا _قصور بد سليقہ ماں كاہوتا ہے جس نے قيمتى شيء كو حفاظت سے نہيں ركھا _

اس سلسلہ ميں ذيل كے واقعہ سے عبرت حاصل كيجئے _

ايك شخص نے اپنى بيوى كو تين ہزار روپئے ديئےور حفاظت س ركھنے كى تاكيد كى اس نے روپيہ لے كر طلاق ميں ركھ ديا اور كسى معمولى كام سے باہر چلى گئي _ جب كمرے ميں واپس آئي تو وہاں روپئے موجود نہيں تھے _ گھبرا كے ادھر ادھر نظر دوڑ ائي توديكھاكہ اس كا پانچ سالہ بچہ صحن ميں كوئي چيز جلا رہا ہے اور خوش ہورہا ہے _ ماں يہ ديكھ كر اس قد رغضبناك ہوئي

۱۲۱

كہ اپنے پانچ سالہ بچے كو اٹھاكر زمين پر پخ ديا _ اتفاق سے بچہ فوراً مرگيا وحشت زدہ ماں ، بچے كہ بيجان جسم كو ديكھ رہى تھى كہ اسى وقت اس كا شوہر آگيا اور ماجرا دريافت كيا _ بيوى نے واقعہ بيان كيا _ مرد نے طيش ميں آكر بيوى كو خوب مارپيٹا اور موٹر سائيكل پر سوار ہوكر پوليس كو اس واقعہ كى رپورٹ دينے چلا گيا _ ليكن پريشانى اورگبھراہٹ كے عالم ميں اس كى كسى گاڑى سے ٹكر ہوگئي _ اب اس مرد كى حالت بيحد نازك ہے '' _(۱۲۴)

آپ كا خيا ل ميں اس واقعہ ميں اصلى قصور وار كون ہے؟ اس كا فيصہ ہم قارئين كرام پر چھوڑتے ہيں _ اس قسم كے واقعات و حادثات اكثر رونما ہوتے رہتے ہيں _ ممكن ہے خود آپ كى زندگى ميں بھى واقع ہوئے ہوں _

دواؤں ، خطرناك اورزہر يلى چيزوں حتى كى مٹى كے تيل اور پٹروں كو ايسى جگہ ركھيں جو چھوٹے اورناسمجھ بچوں كى دسترس سے باہر ہو _ كيونكہ اس بات كا امكان ہے كہ ناسمجھى كے سبب اسے پى ليں اور ختم ہوجائيں _ اور پھر آپ سارى عمر روتى رہيں احتياط كرنے ميں كوئي نقصان نہيں ہے ليكن غفلت اور بے احتياطى سے سينكڑوں خطرے لاحق ہوجاتے ہيں _ ايسے معصوم بچے جو بد سليقہ ماں باپ كى غفلت سے تلف ہوئے اور ہورہے ہيں ان كى فہرست طويل ہے _ ان ميں سے بعض كى خبريں اخباروسائل ميں شائع ہوتى رہتى ہى _ ياددہانى كے طور پر چند سچے واقعات نقل كئے جاتے ہيں _

دو چھوٹے چھوٹے بہن بھائي ، جن كى عمريں چھ سال اور چار سال تھيں ، ايك برتن ميں بھرے ڈى ڈى ٹى دواكے محلول كونسى سمجھ كے پى گئے _ چھوٹى بچى تو فوراً مرگئي _دونوں بچے گھر ميں تنہا تھے _ جب انھيں پياس لگى تو پانى كے بجائے ڈى ڈى ٹى دوا كے محلول كولسى سمجھ كر پى گئے _ اسپتال ميں بچوں كى ماں نے بتايا كہ كل رات ميں نے تھوڑا سا ڈى ڈى ٹى پاؤ ڈرپانى ميں بھگوكر ركھا تھا كہ چوہوں كے بلوں ميں ڈالوں گى كہ يہ حادث رونما ہوگيا ''_(۱۲۵)

زبانى كى جگہ مٹى كا تيل پى ليا _ ايك پنچ سالہ بچّے نہ ماں كے پير درد كي

۱۲۲

كھاليں _ انھيں اسپتال ميں بھرتى كيا گيا ہے '' _(۱۲۶)

آخر ميں بھى عرض كرديں كہ نظم و ضبط بہت اچھى چيز ہے ليكن نہ اس حد تك كہ آپ كا اور آپ كے شوہر كا سكون و چين سلب ہوجائے صفائي اور طہارت اگر حد سے تجاوز كرجائے اور وہم آزادى سلب ہوجانے كى حد تك بڑھ جائے تو خود ان خاندان كے لئے مشكلات پيدا ہوجاتى ہيں _ لڑائي جھگڑے اور عليحدگى تك كى نوبت آجاتى ہے _ ذيل كا واقعہ سنيں:_

ايك شخص كہتا ہے : اپنى بيوى كى عجيب و غريب پاكيزگى نے تو مجھے ديوانہ بناديا ہے _ شام كو جب آفس سے تھكاہارا گھر آتا ہوں تو ميرے لئے لازم ہے كہ حوض كے يخ بستہ پانى سے سات دفعہ ہاتھ پاؤں دھؤون _ جوتوں كو مخصوص جگہ پر ركھوں _ گھر كى مخصوص چپل پہنوں _ ہاتھ روم كى مخصوص چپل پہنوں باورچى خانہ ، ڈرائنگ روم ، غرضكہ گھر ميں ہر جگہ احتياط برتوں ، لباس كو اس كى مخصوص جگہ پرٹانگوں _ اگر سگريٹ پينے كى اجازت دے تو مخصوص كمرے ميں جاكر پيئوں تا كہ پورے گھر ميں اس كى بونہ پھيلے _ مختصر يہ كہ ميں نے ايك عمر نہايت اطمينان و آزادى كے ساتھ گزارى ہے _ ليكن اس چار سالہ شادى شادہ زندگى ميں ميرى حالت قيديوں سے بدتر ہوگئي _ كيا ضرورت ہے كہ انسان اس قدر حد سے زيادہ صفائي پسند ہو يہ وہم ہے اور ميں وہم سے بيزار ہوں '' _(۱۲۷)

كسى بھى كام ميں افراط و تفريط اچھى نہيں ہوتى بلكہ ہر حال ميں ميانہ روى سے كام لينا چاہئے _ نہ اس قدر بد سليقگى كارفرما ہو كہ زندگى كى حالت ابتر رہے اور نہ اتنا زيادہ نظم و ضبط كالحاظ ركھا جائے كہ وہم كى حد تك بڑھ جائے اور آپ كا سكون وچين درہم برہم ہوجائے _

كھانا پكانا

امورخانہ دارى ميں ايك اہم كھانا پكانا بھى ہے جس كے ذريعہ خواتين كے ذوق اور سليقہ كا پتہ چلتا ہے _ ايك سليقہ مند اور باذوق گھر كى مالكہ خرچ ميں بہترين اور لذيذغذائيں تيار كرتى ہے ليكن ايك بدسليقہ خاتون زيادہ خرچ كركے بھى مزيدار كھانے تيار نہيں كرپاتى _ خواتين لذيذ اور مزيدار

۱۲۳

كھانوں كے ذريعہ اپنے شوہر كو گھر كى طرف راغب كرسكتى ہيں جو خوا تين اس گر سغ واقف ہيں ان كے شوہر خوش ذالقہ كھانوں كے شوق ميں ہو ٹلوں ميں نہيں گنواتے _حضرت رسول خدا (ع) فرماتے ہيں : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جواپنے بدن ميں خوشبو لگائے _ كھا نا پكانے كے فن ميں ماہر ہوا ور زيادہ خرچ نہ كرے ايسى عورت كا شمار خدا كے عمال ميں ہو گا اور خدا كے عامل كو بھى شكست اور پشيمانى كا سامنا نہيں كرنا پڑے گا _(۱۲۸)

اس موقعہ پر كھا نا پكا نے فن پز بحث كرنا اور كھانے تياركرنے كى تركيب بيان كرنا مضف كے موضوع سخن سے خارج ہے _

البتہ اس سلسلے ميں صحت بخش غذاؤں اور كھانا پكانے كے ماہرين كى لكھى ہولى ركتا بيں آسانى سے دستياب ہيں ان كتابوں كے مطالعہ اور اپنے ذاتى تجربہ و سليقہ سے كام لے كر خوش ذائقہ اور ، قوت بخش كھانے تيار كئے جا سكتے ہيں _ البتہ يہاں پر چند باتوں كا ذكر كر ناضرورى معلوم ہوتا ہے :

۱ _ كھانا صرف لذت حاصل كرنے اور پيٹ بھرنے كى خاطر نہيں كھا يا جا تا بلكہ كھا نا كھانے كا مقصد صحت و سلامتى كا تحفظ اور بدن كے خليوں كو زندہ ركةنے كے لئے جن چيزوں كى ضرورت ہوتى ہے ان كو بہم پہو نچا نا ہے _ لازمى اجزاء مختلف قسم كى غذاؤں ، پھلوں ، سبزيوں ، دالوں اور گوشت و غيرہ ميں پائے جاتے ہيں _ مجموعى طور پر انھيں چھ حصوں ميں تقسيم كيا جا سكتا ہے _

۱_ پاني

۲_ معدنى مواد مثلا كيسليشم _ فاسفورس ، لوہا ، تانبا

۳_ نشاستہ ( STARCH ) والى چيزيں

۴_ چربي

۵_ پروٹين

۶_ مختلف و ٹامن مثلاوٹا من بى ، وٹامن سى ، وٹامن ڈى و غيرہ

۱۲۴

انسان كے بدن كازيادہ تروزن پانى كے ذريعہ تشكيل پاتا ہے _ پانى منجمد غذاؤں كو حل كرتا ہے تا كہ آنتوں كے ذريعہ جذب ہو جائيں _ بدن كے درجہ حرارت كو كنٹروں كرتا ہے _ معدنى مواد دانتوں اور ہڈيوں كى نشو و نما اور عضلات كے كام كى تنظيم كے لئے بھى لازمى ہے _

نشاستہ اور شكروالى چيزيں انرجى پيدا كرتى ہيں چربى انرجى اور حرارت پيدا كرتى ہے پروٹين بدن كى نشو و نما اور پرانے كى تجديد كيلئے ضرورى ہے ، وٹامن بدن كى نشو و نماہڈيوں كى اور اعصاب كى تقويت اور بدن كى مشينرى كو چلانے اور آنتوں ميں غذاؤں كے جذب ہونے ميں مدد ديتے ہيں _ مذكورہ مواد انسان كى صحت و سلامتى كے تحفظ اور زندہ رہنے كے لئے بيحد ضرورى ہيں _ ان ميں سے ہر ايك كا اہم رول ہے اور وہ بدن كى كسى نہ كسى ضرورت كو پورا كرتے ہيں _ ان ميں سے كسى كا بھى فقدا ن يا كمى يا زيادتى انسان كى زندگى و سلامتى كے لئے مضر ہے _ اور علاج اور خطرناك امراض پيدا كرنے كا سبب بن سكتا ہے _ سلامتى و بيمارى ، عمر كى درازى اور كوتاہى ، اعصاب كى سلامتى و نفسياتى بيمارياں ،خوشى و افسردگى ، خوبصورتى و بدصورتى ، غرضكہ وہ تما م حادثات و اثرات جن سے انسان كا بدن دوچار ہوتا ہے ، انسب كا غذا كى كيفيت سے گہرا تعلق ہے _

ہم جو كچھ كھاتے ہيں اسى سے ہمارى نشو ونما ہوتى ہے اگر انسان جان لے كہ كيا چيز اور كتنى مقدار ميں كھانا چاہئے تو كم بيمار پڑے گا _ بد قسمتى تو يہى ہے كہ بدن كى غذائي ضروريات اور كھانے پينے كى چيزوں كى خاصيت پر توجہ ديئےغير ، انسان اپنے پيٹ كو مزيدار غذاؤں سے بھر ليتا ہے اور اپنى صحت و سلامتى كو خطرے ميں ڈال ديتا ہے _ اور جب ہوش آتا ہے اس وقت پانى سرسے اونچا ہوچكا ہوتا ہے اور بدن كى نازك مشينرى فرسودہ اور تباہ ہوچكى ہوتى ہے _ اس وقت اس طبيت اوراس طبيب يہ دوا اور وہ دوا كى تلاش شروع ہوتى ہے ليكن افسوس كہ رنگ و روغن سے فرسودہ مشينرى كى تعمير و مرمت نہيں ہوسكتى _ يہى سبب ہے كہ پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ہے :'' پيٹ تمام بيماريوں كا مركز ہے '' _(۱۲۹)

عموماً غذا كا انتخاب كرنا عورتوں كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ لہذا كہ جا سكتا ہے كہ خاندان كي

۱۲۵

صحت و سلامتى ان كے ہاتھ ميں ہوتى ہے _ اس بناء پر ايك خاتون خانہ كے كندھوں پر ايك بہت بڑى ذمہ دارى ہے اوراگراس سلسلے ميں ذرا اسى بھى كوتاہى كى تو آپ كى ، شوہر اور بچوں كى تندرستى سخت خطرے سے دوچار ہوسكتى ہے _ اس كے علاوہ كھانا پكانے كے فن ميں مہارت ركھنے والے كو ايك مكمل غذا شناس بلكہ ايك ماہر طبيب بھى ہونا چاہئے _ اس كا مقصد صرف گھر والوں كا پيٹ بھرناہى نہ ہو بلكہ اسے چاہئے كہ پہلے مرحلے ميں ،صحت و سلامتى كى حفاظت اور بدن كى غذائي ضروريات كو پورا كرنے كے لئے جن مواد كى ضرورت ہوتى ہے اس كا دھيان ركھے _ اور اس بات سے واقف ہو كہ كھانے پينے كى چيزوں ميں كون كون سے اجزاء شامل كرنا لازم ہے _ اور كتنى مقدار ميں ہونا چاہئے _ اس كے بعد بدن كى گوناگوں ضروريات كے مطابق ، كھانے پينے كى چيزوں كا انتخاب كرے _ اور اسے خوراك كے پروگرام كا جزو قراردے _ اسى كے ساتھ كوشش كرے كہ ضرورى اور مفيد غذاؤں كواس طرح تيار كرے كہ وہ خوش ذائقہ اور مزيدار بھى ہوں _

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : اپنے شوہر كى نسبت عورت كا فرض ہے كہ گھر كے چراغ كو روشن كرے اور اچھى و عمدہ غذائيں تيار كرے _(۱۳۰)

ايك عورت نے رسول خدا (ص) كى خدمت ميں عرض كيا : شوہر كے گھر ميں عورت كے خدمت كرنے كى كيا فضيلت ہے ؟ فرمايا: گھر كو چلانے كے لئے جو بھى كام انجام دے ، خدا اس پر لطف كى نظر فرمائے گا _ اور جو شخص خدا كا منظور نظر ، ہوگا وہ عذاب الہى سے محفوظ رہے گا '' _(۱۳۱)

۲_ انسان كى غذائي ضروريات ہميشہ يكسان نہيں ہوتيں بلكہ مختلف سن و سال اور حالات كے مطابق اس ميں فرق پيدا ہوتا رہتا ہے _ مثلاً چھوٹے بچے اور نوجواں چونكہ نشو و نما كى حالت ميں ہوتے ہيں ان كو معدنى مواد خصوصاً كيلشيم كى زيادہ ضرورت ہوتى ہے ان كى غذا ميں ان چيزوں كو شامل كرنا چاہئے جن ميں معدنى مواد پايا جاتا ہو _ اسى طرح بچے اور نوجوان چونكہ زيادہ فعال ہوتے ہيں بھاگ دوڑ اور كھيل ميں ان كى انرجى زيادہ صرف ہوتى ہے اس لئے ان كو انرجى والے مواد مثلاً

۱۲۶

چربى ، شكر اور نشاستہ والى غذاؤں كى ضرورت ہوتى ہے اوران كى غذا ميں ان چيزوں كا لحاظ ركھنا چاہئے _ اسى طرح ہر انسان كى غذا ئي ضرورت كا تعلق اس كے شغل اور كاموں كى نوعيت كے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے مثلاً ايك مزدور پيشہ انسان كو چربى ، شكر اور نشاستہ كى زيادہ ضرورت ہوتى ہے كيونكہ اس كے كام ميں محنت و مشقت زيادہ ہے ليكن جن كے شغل آسان اور زيادہ محنت طلب نہيں ان كو ايك مزدور كى طرح مذكورہ مواد كى ضرورت نہيں ہے _ گرمى كے موسم اور جاڑے كے موسم كے غذائي پروگرام بھى يكسان نہيں ہوتے _ ايك بيمار كا غذائي پروگرام بھى سالم افراد كے غذائي پروگرام سے مختلف ہوتا ہے _ عموماً ايك بيمار كى لئے ہلكى اور مقوى غذائيں تيار كرنى چاہئيں _ اس كے كھانے كے متعلق ڈاكٹر سے مشورہ لينا چاہئے _ بہر حال ايك خانہ دار خاتون كو ان تمام باتوں كا دھيان ركھنا چاہئے اور ہر فرد كى احتياج كے مطابق اس كے لئے غذا تيار كرنى چاہئے _

۳_ ايك قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ جب انسان كا سن چاليس سے تجاوز كرجاتا ہے تو عموماً موٹا پے كى بيمارى ميں مبتلا ہوجاتا ہے _ بعض لوگ موٹا پے كو صحت كى علامت سمجھيں ليكن يہ خيال بالكل غلط ہے _ موٹا پے كو ايك خطرناك بيمارى كہا جاتا ہے _ جس كے نتيجہ ميں گوناگوں امراض پيدا ہوجاتے ہيں _ موٹے لوگ مختلف امراض مثلا ًدل كے مرض ، بلڈ پريشر،رگوں كا سخت ہوجانا ، نيز گردے اور جگركى بيماريوں ، ديا بيطس اور گال بليڈر جيسى بيماريوں ميں مبتلا ہوجاتے ہيں _ ڈاكٹر كے تجربے اور بيمہ كمپنيوں كے اعداد و شمار سے اس بات كى تصديق ہوتى ہے كہ دبلے آدميوں كى عمر موٹے آدميوں سے زيادہ لمبى ہوتى ہے _ چاليس سال كے بعد انسان كے بدن كى چستى ميں كمى آجاتى ہے _ جس كے سبب اس كى فعاليت بھى گھٹ جاتى ہے _ اس لئے اسے چربى ، نشاستہ اور شكر والے اجزا كى كم ضرورت ہوتى ہے _ اس سن ميں بدن ميں طاقت كو پيدا كرنے والى مشينرى ، جو كہ كالريوں كو انرجى ميں تبديل كرتى ہے ، اپنا كام كدرتى ہے جس كى وجہ سے كالرياں تبديل نہيں ہوتيں اوركمراور شريانوں كے اطراف اور بدن كے اعضاء ميں جمع ہوكر موٹا پا

۱۲۷

پيدا كرديتى ہيں _ موٹا پے كا بہترين علاج كم خورى ہے خصوصاً چربى اور شكر و نشاستہ والى غذاؤں ميں كم كردنى چاہئے _

جن خواتين كو اپنے شوہر سے محبت ہے انھيں چاہئے كہ جو نہى اپنے شوہر ميں موٹا پے كے آثار و علائم ديكھيں فوراً اس كے غذائي پروگرام پر توجہ كريں _ دھيان ركھيں كہ پر خورى نہ كرے _ چكنائي ، مٹھائي ، ملائي و غيرہ كے استعمال پر پابندى لگاديں _ شكر اور نشاستہ والى غذائيں مثلاً روٹي، چاول ، موٹا پا پيداكرنے ميں اہم كردار ادا كرتى ہيں _ ايسا كام كريں كہ مردان كا استعمال كم كريں اوراس كى جگہ پر پروٹين والى غذائيں مثلاً انڈا، كليجى ، گائے و بكرى اور چڑيوں كا گوشت ،مچھلى اور پنير كا زيادہ استعمال كرائيں _ كيونكہ ان غذاؤں سے بھوك بھى مٹ جائے گى اور ان ميں كالرى بھى كم پائي جاتى ہے _ اس عمر ميں دودھ سے بنى چيروں كا استعمال بھى مناسب ہے _ اگر ڈاكٹر نے پرہيز نہ بتايا تو پھل اورسبزياں بھى مناسب ہيں _ اس سلسلے ميں داكٹر سے بھى مشورہ لے ليجئے جو خواتين اپنے شوہر سے محبت كرتى ہيں ان كو ان تمام نكات كو پورا لحاظ ركھنا چاہئے _ در حقيقت شوہر كى زندگى اور سلامتى ان كے ہاتھ ميں ہے _ وہ جو كچھ بھى پكاكے سامنے ركھ ديں گى وہ اسے كھانے پر مجبور ہے _ البتہ اگر شوہر سے دل بھر گيا ہے اور بيوہ ہونا چاہتى ہيں اور چاہتى ہيں كہ اس كو اس طرح سے قتل كرديں كہ كسى كو بھى ان كے جرم كا پتہ نہ چلے اور پوليس كے ہاتھوں سے بچ جائيں نوان كے لئے يہ بہت آسان نسخہ ہے كہ گھى سے تر تراتى ہوئي مزيدار غذائيں اور مٹھائيان تياركركے شوہر كو كھلائيں اور اصرار كركے اس كو خوب ڈٹ كركھانے پر آمادہ كريں _ اس كے كھانے ميں روٹى اور چاول كااستعمال كرانے كے لئے اس كے سامنے لذيذ اورمرغن كھانوں سے بھر ادستر خوان بچھائيں تا كہ وہ ان غذاؤں سے اپنا پيٹ خوب بھر ليا كرے اگر اس پروگرام پر عمل كيا توہ بيوہو ہونے ميں زيادہ دير نہيں لگے گى _ جلد ہى اس سے چھٹكار امل جائے گا _ مزيد بر آن بيوى كى خدمات اور خاطر تواضع كے سبب اس سے خوش بھى رہے گا _

۱۲۸

ممكن ہے قارئين گرامى كہيں كہ مذكورہ پروگرام دولتمند طبقے كے لئے تو اچھا ہے جو انواع و اقسام كى لذيد اور مہنگى غذائيں تيار كرنے پر قادر ہيں ليكن تيسرى درجے كے طبقے كے لئے ، كہ جو قوم كى اكثريت پر مشتمل ہے اور شب و روز كى محنت و مشقت كے بعد دو لقموں سے اپنا پيٹ بھر نے پر مجبور ہے ، قابل عمل نہيں _ اس طبقے كے لوگ بدن كى ضروريات كو پورا كرنے والے غذائي پروگرام پر كس طرح عمل كر سكتے ہيں ؟

ليكن قارئين محترم كو معلوم ہونا چاہئے كہ وہ اس بات كو مد نظر ركھيں كہ خوش قسمتى سے بدن كے لئے لازمى مواد ،انھيں سادہ اور فطرى غذاؤں ميں كافى مقدار ميں پايا جاتاہے _ اگر خاتون خانہ ، مقوى اور صحت بخش غذاؤں سے آشنا ہو اور كھانا پكانے كے فن ميں بھى مہارت ركھتى ہو تو معمولى پھلوں ، تر كاريوں والوں مثلاً چنے ، ماش اور مسور كى دالوں ، گيہوں ، جو ، آلو پياز ، ٹماٹر گاجر اور مختلف سبزيوں سے اس طرح كھانا تيار كرسكتى ہيں كہ مزيدار بھى ہو اور صحت و سلامتى كے لئے بھى فائدہ مند ہو _ البتہ سليقہ اور ہوشيارى شرط ہے _

۱۲۹

مہمانداري

ايك چيز جس كا ہر خاندا كو كم يا زيادہ سامنا كرنا پرتا ہے وہ مہماندارى ہے بلكہ يوں كہنا چاہئے كہ مہماندارى زندگى كے لوازمات ميں سے ہے _ مہمان نوازى ايك اچھى رسم ہے اس كے ذريعہ دلوں ميں باہمى تعلق و ارتباط پيدا ہوتا ہے _ محبت و الفت ميں اضافہ ہوتا ہے _ نفرت و كدورت دور ہوتى ہے دوستوں اور عزيزوں كے يہاں آمد و رفت اور كچھ دير مل بيٹھنا ايك مفيد اورسالم تفريح شمار كى جاتى ہے _

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں : مہمان كا رزق آسمان سے نازل ہوتا ہے اس كو كھلانے سے ميزبان كى گناہ بخش ديئےاتے ہيں'' _(۱۳۲)

امام على رضا (ع) فرماتے ہيں سخى لوگ دوسروں كے كھانے ميں سے كھاتے ہيں تا كہ ان كے كھانے ميں سے وہ كھائيں ليكن كنجوس دوسروں كے كھانے ميں سے نہيں كھاتے كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ اس كے كھانے ميں سے وہ كھاليں _(۱۳۳)

۱۳۰

حضرت رسول خدا (ص) كا رارشاد گرامى ہے : دوستوں كے ساتھ بيٹھنے سے ، محبت پيدا ہوتى ہے _(۱۳۴)

امام محمد تقى (ع) فرماتے ہيں : دوستوں كے پاس بيٹھنا ، دل كو تروتازہ اور عقل كو بار آور كرتا ہے ، خواہ تھوڑى دير ہى بيٹھا جائے _(۱۳۵)

زندگى كى اس متلاطم سمندر ميں انسان كے دل و دماغ كوآرام و سكون كى ضرورت ہوتى ہے _

اس سے بہتر سكون وآرام كس طرح مہيا ہوسكتا ہے كہ كچھ وفادار دوستوں اور رشتہ داروں كى محفل ميں بيٹھيں _ كچھ اپنا حال دل كہيں كچھ ان كى سنيں _ پر لطف گفتگو سے محبت و الفت كى محفل كو سجائيں _ اور وقتى طور پر زندگى كى مشكلات اور پريشانيوں كو بھلاديں_ تفريح بھى كرليں اور كھولى ہوئي طاقت بھى بحال كرليں ، دل بہلائيں اور دوستى كے رشتوں كو بھى مستحكم كرليں _

جى ہاں _ مہماندارى بہت عمدرہ رسم ہے اور شايد ہى كوئي اس كى خوبى سے انكار كرے _ البتہ اس سلسلے ميں دوبڑى مشكلات سامنے آتى ہيں كہ جس كے سبب اكثر لوگ جہاں تك ہوسكتا ہے اس سے بچنے كو كوشش كرتے ہيں اور انتہائي ضرورى حالات ميں ہى اس كو قبول كرتے ہيں _

پہلى مشكل : زندگى كى چمك دمك اور ايك دوسرے سے آگے بڑھ جانے كى بيجا ہوس نے زندگى كو دشوار بناديا ہے _

گھر كے ضرورى ساز وسامان جو ضرورتوں كو پورا كرنے كے لئے اور آرام كى خاطر ہوتے تھے ، اپنى حقيقى صورت سے خارج ہوكر خودنمائي اوراشياء ے تجمل كى شكل اختيار كرگئے ہيں _ اسى چيز نے مہماندارى اور دوستوں كى آمد و رفت ميں كمى پيدا كردى ہے _ شايد كم ہى لوگ ہوں گے جو دوستوں اور رشتہ داروں كے آنے جانے كو پسند نہ كرتے ہوں _ ليكن چونكہ حسب دلخواہ شان و شوكت كے اسباب فراہم كرنے اور معيار زندگى اونچا كرنے پر قادر نہيں ہيں اور اپنے معيار زندگى كو سطحى سمجھتے ہيں اس لئے دوستوں سے ميل جول ركھنے سے بھاگتے ہيں _ ايك غلط خيال انسان كے ہاتھ پاؤں باندھ كر اس كى دنيا و آخرت كو تباہ كرديتا ہے _

خاتون عزيز كيا دوست احباب آپ كے گھر كى شان و شوكت اور سجاوٹ كو ديكھنے كے لئے آپ كے

۱۳۱

گھر آتے ہيں _ اگر يہى مقصد ہے تو بہتر ہے كہ دو كانوں ، شوروم اور ميوزيم جائيں _ كيا آپ نے اشيائے تجمل كى نمائشے لگاركھى ہے اور اپنے خودنمائي كے لئے ان كو اپنے گھرآنے كى دعوت ديتى ہيں؟ ايك دوسرے كے يہاں آمدو روفت ، آپسى تعلقات اور محبت كى خاطر اور تفريح كى غرض سے كى جاتى ہے نہ كہ فخر و مباہات اور خودنمائي كے لئے _ مہمان اپنا شكم پركرنے اور خوبصورت مناظرہ كا نظارہ كرنے كے لئے آپ كے گھر نہيں آتے ہيں بلكہ دعوت كو ايك قسم كى عزت افزائي سمجھتے ہيں _ وہ خود بھى اس قسم كى رقابتوں اور تجمل پرستى سے تنگ آگئے ہيں اور سادگى كو پسند كرتے ہيں ليكن ان ميں اتنى ہمت نہيں ہے كہ اس غلط رسم كا خاتمہ كرسكيں اور خود كو اس اختيارى قيد و بند سے آزاد كرليں _ اگر آپ ان كى سادگى كے ساتھ خاطر تواضع كريں تو نہ صرف يہ كہ ان كو برا نہيں لگے گا بلكہ خوش ہوں گے اور بعد ميں اس سادہ روش كى پيروى كركے بغير كسى تكلف اور پريشانى كے آپ كى بھى پذيرائي كريں گے _ ايسى صورت ميں آپ نہايت سادگى كے ساتھ دوستوں كے يہاں آمد ورفت كا سلسلہ جارى ركھ سكتى ہيں اور انس و محبت كى نعمت سے بہرہ مند ہوسكتى ہيں _ لہذا اس مشكل كو آسانى كے ساتھ حل كيا جا سكتا ہے البتہ كسى قدرہمت و جرات كى ضرورت ہے

دوسرى مشكل

مہماندارى كوئي آسان كام نہيں ہے _ بلكہ خواتين كے مشكل كاموں ميں سے ہے _ كبھى ايسا ہواہے كہ بيوى چند گھنٹوں كے اندر اندر كچھ مہمانوں كى خاطر تواضع كا انتظام كرنے پر مجبور ہے اسى سبب سے كھانے مرضى كے مطابق تيار نہيں ہوسكے ايسى حالت ميں ايك طرف مياں ناراض ہوتا ہے كہ ميں نے پيسہ خرچ كيا اور اس كے باوجود ميرى عزت مٹى ميں مل گئي _ دوسروں طرف بيوى ناراض ہے كہ ميں نے اتنى زحمت اٹھائي اس كے باوجود مہمانوں كے سامنے ميرى بے عزتى ہوگئي وہ لوگ مجھے بد سليقہ اور پھر ہٹز سمجھيں گے _ ان سب سے بدتر يہ كہ شوہر كى جھك جھك كے جواب ميں كيا كہوں ان ہى ، اسباب كى بناء پر كم ہى ايسى محفليں ہوتى ہيں جو بغير كسى ہنگامے اور الجھن و پريشانى كے اختتام پذيرہوں _ اور يہ امر باعث بنتا ہے كہ بہت سے لوگ مہماندارى سے گريز كرتے ہيں اور اس كے تصور سے ہى لرزتے ہيں _

۱۳۲

ہم مانتے ہيں كہ مہماندرى آسان كام نہيں ہے ليكن اصل مشكل اس وجہ سے پيدا ہوتى ہے كہ ميزبان خاتون ، مہماندارى كے طور طريقوں سے اچھى طرح واقف نہيں اور چاہتى ہے كہ صرف دوتين گھنٹے كے اندر بہت سے مشكل اور دشوار كاموں كوانجام دے لے _ اگر مدبر اورتجربہ كارہے تو بہت خوبى اور آسانى كے ساتھ بہترين طريقے سے دعوت كا انتظام كرسكتى ہے _ اب ہم آپ كے سامنے مہماندارى كے دو نمونے پيش كررہے ہيں ، ان ميں سے جو آپ كہ بہتر معلوم ہوا سے منتخب كرسكتى ہيں :_

پہلا نمونہ : مياں گھر ميں داخل ہوتا ہے اور بيوى سے كہتا ہے شب جمعہ دس آدمى رات كے كھانے پر آئيں گے _ بيوى جسے گہ گزشتہ دعوتوں كى تلخياں ياد ہيں مہمانوں كا نام سن كرہى اس كا دل دھڑكنے لكتاہے اور وہ اعتراض كرتے ہيں _ مرد دلائل كے ذريعہ اور خوشامد كركے اس كوراضى كرتا ہے كہ يہ دعوت كرنا ضرورى تھا_ جس طرح بھى ہو اس دعوت كا انتظام كرو _ اس وقت سے جمعرات تك پريشانى اور اضطراب ميں گزرتے ہيں _ يہاں تك كہ جمعرات كادن آپہونچا _ اس روز دعوت كاانتظام كرنا ہے مياں يا بيوى سامان خريد نے كے لئے گھر سے باہر جاتے ہيں _ راستے ميں سوچتے ہيں كہ كيا كيا چيزيں خريد نا چاہئے _ آخر كاركئي طرح كى چيزيں خريد كردو پہر تك گھر آتے ہيں _ بيوى كا كام دوپہر كے بعد شروع ہوتاہے _ دوپہر كا كھانا بھى كھايا يا نہيں كھايا ، اٹھ كر كام ميں مشغول ہوجاتى ہے _ ليكن كام كوئي ايك دوتوہيں نہيں _ اپنے آپ كوگوناگوں كاموں كے انبار ميں گھر اپاتى ہے _ كيا كيا كرے اور كيانہ كرے _ مثلاً سبزياں صاف كرنا اور كاٹنا ہے_ آلو اور پياز سرخ كرنا ہے _ دال چننا ہے _ چاول چن كے بھيگنے كو ركھنا ہے _ گوشت كو صاف كركے قيمہ بنانا ہے _ دو تين قسم كے كھانے پكانا چاہتى ہے _ مرغ بھوننا ہے _ كباب بنانا ہے _ سالن پكانا ہے _ پلاؤ پكانا _ چائے كا سامان ٹھيك كرنا ہے _ برتن دھونا ہے _ ڈرائنگ روم كو ٹھيك ٹھاك كرنا ہے _ يہ سارے كام يا تو خود تنہا انجام دے يا كسى كى مدد لے بہر حال عجلت اور پريشانى كى حالت ميں كاموں ميں مشغول ہے _ مگر چھرى نہيں مل رہى ہے ادھر تلاش كرتى ہے _ سالن

۱۳۳

ہے تو ديكھتى ہے پياز نہيں _ چاول چڑھا ديا تو معلوم ہوانمك ختم ہوگيا ہے كسى كو نمك اور پياز خريدنے بھيجتى ہے _ كھانا پكانے كے لئے جس چيز كى ضرورت ہوتى ہے اس كو ڈھونڈنے ميں كچھ وقت صرف ہوتا ہے _ كبھى نوكر پر چيختى چلاتى ہے _ كبھى بيٹى كو ڈانٹتى پھٹكارتى ہے _ كبھى بيٹے كو برا بھلا كہتى ہے _ كھانا پكانے كے دوران اسٹو كاتيل يا گيس ختم ہوجاتى ہے _ اے خدا اب كيا كرے ؟

اسى حالت ميں دروازے كى گھنٹى بجتى ہے اور ايك ايك كركے مہمان آنا شروع ہوجاتے ہيں بيچارہ شوہر جو اپنى بيوى كى پريشانى اور اضطراب سے آگاہ ہے ، دھڑكتے دل سے مہمانوں كا استقبال كرتا ہے _ دعا سلام كے بعد چائے لانے جاتا ہے تو ديكھتا ہے ابھى تو چائے كا پانى بھى پكنے كو نہيں ركھا گيا ہے _ بيٹے يا بيٹى كو ڈانٹتا ہے كہ ابھى تك چائے كا پانى ابلنے كو كيوں نہيں ركھا گيا _ چائے تيار ہوئي تو معلوم ہوا كہ ابھى دودھ نہيں پكايا گيا ہے يا چائے كہ برتن نہيں نكالے گئے ہيں _ خداخدا كركے چند بار اندر باہر كے چكّر لگانے كے بعد چائے كى چند پيالياں مہمانوں كے سامنے ركھى جاتى ہيں _ نظريں مہمانوں پر ہيں ليكن دل باورچى خانے ميں لگا ہوا ہے كيونكہ معلوم ہے كہ باورچى خانہ ميں كيا ہنگامہ برپا ہے _

دوستوں كى پر لطف باتوں كا جواب پھيكى مسكراہٹ سے ديا جاتا ہے ليكن دل اس دعوت كے انجام سے خوفزدہ ہے _ سب سے بدتر توجب ہوتا ہے كہ مہمانوں ميں عورتيں بھى ہوں _ يا مدعو حضرات رشتہ داروں ميں سے ہوں ايسى حالت ميں ہر ايك مہمان پوچھتا ہے كہ آپ كى بيگم كہاں ہيں؟ شوہر جواب ديتا ہے كام ميں مشغول ہيں ، ابھى آتى ہيں _ كبھى بيوى مجبوراً كاموں كے بيچ ميں سے اٹھ كر ذرا دير كے لئے مہمانوں كے پاس چلى آتى ہے _ لرزتے دل اور خشك ہونٹوں كے ساتھ سلام اور مزاج پر سى كرتى ہے ليكن كيا كچھ دير ان كے پاس بيٹھ سكتى ہے ؟ فوراً عذركركے واپس آجاتى ہے _ آخر كار كھانا تيا رہوتا ہے ليكن وہ كھانے جو اس صورت سے تيار كئے گئے ہوں ان كا حال تو ظاہرہى ہے _ كھانا پكانے سے فرصت ملى تو اب سلام بنانے كا كام باقى ہے _ دہى كى بورانى بنانى ہے _ چٹنى اچاربرتنوں ميں نكالنا ہے _ كھانے كے برتنوں كو صاف كرنا ہے _ بدبختى تو يہ ہے كہ سامان اور برتنوں كى بھى كو ئي خاص جگہ نہيں ہے ہر چيز كو

۱۳۴

ادھر ادھر سے تلاش كرنا ہے _ خير صاحب كھانا لگايا جاتا ہے _ مہمان كھانا كھاكررخصت ہوتے ہيں _ ليكن نتيجہ كيا ہوتا _ كسى چيز ميں نمك تيز ہے كسى ميں نمك پڑاہى نہيں ہے _ كوئي چيز جل گئي _ كچھ كچارہ گيا _ گھبراہٹ كے مارے بعض ڈشنر كو لانا ہى بھول گئيں _ بيوى تقريباً بارہ بجے رات كو كاموں سے فراغت پاتے ہے ليكن تھكى پريشان _ دو پہر سے اب تك ايك لمحہ بھى سر اٹھانے كاموقعہ نہيں ملا _ اتنى بھى فرصت نہيں ملى كہ مہمانوں كے پاس بيٹھ كر ان سے ذرا دير باتيں كرتى _ حتى كہ ٹھيك سے سلام اور احوال پرسى بھى كرسكى ليكن مرد كو سوائے پريشانى اور غم و غصہ كے كچھ ہاتھ نہ لگا _ اتنا پيسہ خرچ كرنے كے بعد بھى كھانا ٹھيك سے نہيں پكا _ دعوت كركے پشيمانى اٹھانى پڑى ، ممكن ہے غم و غصہ كى شدت سے جھگڑا كرے اور تھكى ہارى بيوى كو سخت سست كہے _ اس طرح كى دعوت سے نہ صرف يہ كہ مياں بيوى كو كوئي فائدہ نہيں ہوتا بلكہ اكثر اوقات شديد اختلاف اور كشمكش كا باعث بنتا ہے اگر خيريت گزرگئي توطے كرليتے ہيں كہ آئندہ كبھى ايسا شوق نہيں كريں گے _

مہمان بھى چونكہ ميزبانوں كى پريشانى اور اضطرابى كيفيت سے باخبر ہوجاتے ہيں ان كو بھى اچھا نہيں لگتا اور كھانے پينے ميں ذرا بھى لطف نہيں آتا _ اپنے دل ميں كہتے ہيں كاش ايسى محفل ميں نہ آئے ہوتے بلاوجہ ہى ميزبان كو ہمارى وجہ سے پريشانى اٹھانى پڑى _

يقين سے قارئين كرام ميں سے كسى كو بھى ايسى دعوت اچھى نہيں لگے گى جو درد سر بن جائے اور آپ بھى اس ميں شركت سے گريز كريں گے _

كيا آپ جانتى ہيں ان تمام پريشانيوں كى وجہ كيا ہے ؟

اس كى وجہ صرف زندگى بدنظمى اور مہماندارى كے فن سے عدم واقفيت ہے ورنہ مہماندارى اتنا بھى دشوار كام نہيں ہے _

اب ايك اور نمونہ پر توجہ فرمايئے

مرد گھر ميں داخل ہوتا ہے بيوى سے كہتا ہے ميں نے جمعہ كى رات كو دس افراد كو كھانے كي

۱۳۵

دعوت دى ہے _ بيوى جواب ديتى ہے بہت اچھا كيا _ كيا كيا چيزيں تياركروں ؟ اس كے بعد دونوں باہم مشورہ كركے كھانے كى فہرست تيار كرتے ہيں اس كے بعد نہايت صبر و حوصلہ كے ساتھ دعوت كے لئے جن چيزوں كى ضرورت ہے اس كو مع مقدار كے ايك كا غذ پرنوٹ كرليتے ہيں _ ايك مرتبہ پھر اچھى طرح اس فہرست كو پڑھ ليتے ہيں كہ كہيں كوئي چيز رہ تو نہيں گئي _ دوبارہ اس كا جائزہ لينے كے بعد ان ميں سے جو چيزيں گھر ميں موجود ہيں ان كو كاٹ كر جن چيزوں كو خريدنا ہے اس كو ايك الگ كاغذ پر لكھ ليتے ہيں _ اولين فرصت ميں ان چيزوں كو خريد كرركھ ليتے ہيں ، جمعرات كے دن كہ ابھى مقررہ دعوت ميں ايك روز باقى ہے ، بعض كام انجام دے لئے ، مثلاً مياں بيوى اور بچوں نے فرصت كے وقت تعاون سے كام ليتے ہوئے گھر كى صفائي كر ڈالى _ سبزياں صاف كركے ركھ ليں _ چاول، دال كو چن ليا نمك دان ميں نمك بھر كے اس كى جگہ پر ركھ ديا _ ضرورت كے برتنوں كو نكال كے دھوليا _ مختصر يہ كہ جو كام پہلے سے انجام ديئےا سكتے ہيں ان كو تفريح كے طور پر سب نے مل كركرليا _ (بعض ڈشنر مثلاً فرينى يا دوسرى كوئي ميٹھى ڈش ايك دن پہلے تيار كركے فريج ميں ركھى جا سكتى ہے _ كبابوںكا قيمہ پيس كر فريج ميں محفوظ كيا جا سكتاہے ) جمعہ كى صبح كوناشتے سے فراغت كے بعد بعض كام انجام دے لئے مثلاً گوشت كے ٹكڑے كاٹ لئے _ مرغ كوصاف كركے بھوں ليا _ پياز كاٹ كے سرخ كرلى _ كھانوں كے مصالحے پيس لئے چاول بھكوديئے مختصر يہ كہ كچھ كام دو پہر سے پہلے انجام دے لئے _ ظاہر ہے ، جب يہ سارے كام صبر و حوصلے كے ساتھ انجام ديئےائيں گے تو بيوى كيلئے چنداں مشكل نہ ہوگى كہ باقى كاموں كو بھى انجام دے اور امور خانہ دارى كے دوسرے كاموں كو بھى آسانى سے كرسكے _ دو پہر كا كھانا كھانے كے بعد تھوڑا سا آرام كركے بقيہ كاموں ميں مشغول ہوگئيں _ كام زيادہ نہيں ہے كيونكہ اكثر كاموں كو توپہلے ہى كركے ركھ ليا ہے _ ساراسامان بھى ترتيب و سليقہ ہے ركھا ہے _ ايك دو گھنٹے كے اندر بغير كسى چيخ پكار اور دوڑبھاگ كے باقى كام انجام دے لئے _ اس طرح سے كہ رات كے لئے كوئي كام باقى نہ بچا _ اس كے بعد خود صاف ستھرے كپڑے پہن كرتيار ہوگئيں _ مہمانوں كے آنے كا وقت ہواتو پہلے سے چائے كا پانى ابلنے كو ركھديا _ اگر مہمان رشتہ دار اور محرم ہيں تو ان كے استقبال كيلئے خود آگے

۱۳۶

بڑھيں اور بغير كسى فكر و تردد كے ان كى خاطر مدارات ميں لگ گئيں _ بيچ ميں كبھى كبھى باورچى خانہ كا بھى ايك چكر لگاليا _ كھانے كے وقت نہايت اطمينان كے ساتھ سارا كھانا تيار ہے اگر ضرورى ہواتو شوہر اور بچوں سے بھى اس وقت مدد لے لى _ جلدى سے آسانى كے ساتھ كھانا چن ديا گيا _ مہمان بھى انتہائي خوشى و سكون كے ساتھ كھانا كھانے ميں لذت محسوس كريں گے اور اس طرح مسرت و انبساط كے ماحول ميں دعوت ختم ہوگئي _

نتيجہ : مہمان لذيذ اور مزيدار كھانوں كى لذت كے ساتھ ساتھ ، انس و محبت كى نعمت سے بھى لطف اندوز ہوں گے اور پر مسرت ماحول ميں فرحت حاصل كريں گے _ اس رات كى خوشگوار يادوں اور ميزبان كے بشاش چہرہ كو فراموش نہيں كريں گے _ ميزبانوں كى گرمجوشى اورخاتون خانہ كے سليقے كى تعريف كريں گے _ مياں بھى نہايت اطمينان و سكون كے چند گھنٹے مہمانوں كے ساتھ گزاركرسالم اور بہترين تفريح كرليتا ہے ،چونكہ اپنے دوستوں كى اچھى طرح سے خاطر مدارات كر سكاہے اس لئے خوش و خرّم ہے اور ايسى باسليقہ بيوى كے وجود پر جس نے اپنے ذوق و سليقہ سے ايسى عمدہ دعوت كا اہتمام كيا ہے فخركرتا ہے اور ايسى لائق بيوى اور گھر سے اس كى دلچسپى اور زيادہ بڑھ جاتى ہے _

بيوى نے بھى چونكہ صبر و سكون كے ساتھ دعوت كا انتظام كيا تھا اس لئے وہ بھى تھكن سے چور، چور نہيں ہے غصہ اور پريشانى كے عالم ميں نہيں ہے اپنے شوہر اور مہمانوں كے سامنے سربلند ہے اور خوش ہے كہ بغير كسى پريشانى اور الجھن كے مہمانوں كى اچھى طرح سے خاطر تواضع كى گئي _ اپنى لياقت اور سليقے كا ثبوت دے كر اپنے شوہر كے دل كو اپنے بس ميں كرليتى ہے _ ان دونوں نموں كو ملاحظہ كرنے كے بعد آپ غور كريں كہ كون سا طريقہ كا رد رست تھا اور آپ كس كا انتخاب كريں گى _

امين خانہ

گھر كے اخراجات كا انتظام عموماً مرد كے ذمہ ہوتا ہے _ مرد شب و روز محنت كركے اپنے خاندان كى ضروريات پورى كرتا ہے _ اس دائمى بيگارى كو ايك شرعى اور انسانى فريضہ سمجھ كروں و جان

۱۳۷

سے انجام ديتا ہے _ اپنے خاندان كے آرام و آسائشے كى خاطر ہر قسم كى تكليف و پريشانى كو خندہ پيشانى سے برداشت كرتا ہے اور ان كى خوشى ميں لذت محسوس كرتا ہے _ ليكن گھر كى مالكہ سے توقع ركھتا ہے كہ پيسے كى قدروقيمت سمجھے اور بيكار خرچ نہ كرے _ اس سے توقع كرتا ہے كہ گھركے اخراجات ميں نہايت دل سوزى اور عاقبت انديشى سے كام لے _ يعنى زندگى كى ضروريات اور اہم چيزوں كى درجہ بندى كركے ، ضرورى خرچوں مثلاً خوراك ، ضرورى پوشاك ، مكان كا كرايہ ، سجلى ، پانى ڈاكٹر و دوا كے اخراجات كو تمام دوسرے امور پر ترجيح دے اور نيم ضرورى چيزوں مثلاً گھر كے سامان و غيرہ كو دوسرے نمبر پر ركھے اور غير ضرورى چيزوں كو تيسرے نمبر پرركھے ، فضول خرچى ، اسراف اور بيجا بخششوں كو وہ ايك قسم كى ناقدرى اور ناشكرى سمجھتا ہے _

مرد كو اگر بيوى پر اعتماد ہوجائے اور سمجھ لے كہ اس كى محنت كى كمائي كو فضول خرچيوں ميں نہيں اڑايا جائے گا تووہ فكر معاش اور آمدنى بڑھانے ميں زيادہ دلچسپى لے گا اور خود بھى تن پرورى اور فضول خرچى سے گريز كرے گا ليكن اگر اپنى محنت كى كمائي كو برباد ہوتے ديكھتا ہے كہ گھر والى غير ضرورى لباس اور اپنى آرائشے اور زيب وزينت كے اسباب كو تمام ضرورى چيزوں پر مقدم سمجھتى ہے اور مشاہدہ كرتا ہے كہ رات دن محنت كركے جو كچھ كماكرلاتاہے وہ غير ضرورى اشياء پر خرچ ہوجاتا ہے اور ضرور ى اخراجات كے لئے ہميشہ پريشان رہنا پڑتا ہے اور قرض لينے كى نوبت آجاتى ہے اور اس كى خون پسينے كى كمائي مال غنيمت كى طرح بيوى بچوں كے ہاتھوں لٹا ى جارہى ہے ايسى صورت ميں گھر پر سے اس كا اعتماد اٹھ جاتا ہے اور محنت مشقت كرنے سے بيزار ہوجاتا ہے _ اپنے دل ميں سوچتا ہے كہ كوئي ضرورت ہى نہيں ہے كہ ميں اس قدر زحمت اٹھاكركماكے لاؤں اورناقدرى كرنے والوں كے حوالے كردوں كہ فضول خرچيوں ميں پيسے اڑاديں _ ميں ضروريات زندگى مہيا كرنے اور عزت و آبرو قائم ركھنے كے لئے محنت كرتا ہوں ليكن ميرے گھروالوں كو سوائے فضول خرچى اور ہوا وہوس كے اور كچھ فكر ہى نہيں ہے _

۱۳۸

ممكن ہے رفتہ رفتہ افكار كے نتيجہ ميں وہ بھى عياشى اور فضول خرچى كرنے لگے اور آپ كى زندگى كا شيرازہ بكھر جائے

خواہر عزيز اگر آپ كا شوہر جو كچھ كماكرلاتاہے وہ سب آپ كے حوالے كرديتا ہے تو يہ نہ سمجھئے كہ اس كى حقيقى مالك آپ ہوگئيں _ بلكہ شرعاً اور قانوناً آپ كا شوہر مالك ہے _ آپ گھر كى امين ہيں اس لئے تمام اخراجات اس كى مرضى و اجازت سے انجام پانے چائيں _ اس كى مرضى كے بغير آپ كو حق نہيں كہ كسى كو كوئي چيز دے ديں يا كسى كے يہاں تحفہ و سوغات لے جائيں _ حتى كہ اپنے يا اس كے رشتہ داروں كو بھى اس كى مرضى كے بغير تحفے تحائف نہ ديں _ آپ اپنے خاندان كى امانت دار ہيں اور اس سلسلے ميں آپ پر ذمہ دارى عائد ہوتى ہے اگر آپ خيانت كريں گى تو روز قيامت اس سلسلے ميں آپ سے بازپرس ہوگى _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : بيوى اپنے شوہر كے اموال كى نگہبان اور امانت دار ہوتى ہے اور اس سلسلے ميں اس كى ذمہ دارى ہوتى ہے _ (۱۳۱۶)

ايك امور موقع پر آپ ارشاد فرماتے ہيں : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جو اپنے بدن ميں خوشبو لگائے _ مزيدار كھانے تيار كرے _ گھر كے اخراجات ميں كفايت شعارى سے كام لے _ ايسى خاتون كا شمار خدا كے كاركنوں اور عمال ميں ہوگا اور جو شخص خدا كے لئے كام كرے اسے ہرگز شكست اور پشيمانى كا سامنا نہيں كرنا پڑے گا _(۱۳۷)

ايك عورت نے حضرت رسول خدا (ص) سے سوال كيا كہ شوہر كے تئيں بيوى كے كيا فرائض ہيں؟ آپ نے فرمايا: ا س كى مطيع ہو _ اس كے كہنے كى خلاف ورزى نہ كرے اور بغير اس كى اجازت كے كوئي چيز كسى كو نہ دے _(۱۳۸)

آنحضرت (ص) كا ارشاد گرامى ہے : تم ميں سے بہترين عورت وہ ہے جو كم خرچ ہو _(۱۳۹)

خواتين كے مشاغل

يہ صحيح ہے كہ خاندان كے اخراچات پورے كر نا مردوں پرواجب ہے اور خواتين كى اس سلسلے ميں شرعاً كوئي ذمہ دارى نہيں ہے ليكن عورتوں كو بھى كوئي نہ كوئي كام يا مشغلہ اپنانا چاہئے _

۱۳۹

اسلام ميں بيكار اور خالى بيٹھے رہنے كى مذمت كى گئي ہے _

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خداوند عالم زيادہ سونے اور زيادہ فراغت كو ناپسند فرماتا ہے _(۱۴۰)

امام جعفر صادق عليہ السلام ايك اور موقعہ پر فرماتے ہيں : زيادہ نيند ، انسان كے دين ودنيا كو تلف كرديتى ہے _(۱۴۱)

خواتين عالم كى سردار حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا بھى گھر ميں كام كرتى تھيں اور محنت مشقّت كرتى تھيں _(۱۴۲)

انسان خواہ ضرورت مند ہو يا آسودہ حال ، اس كو كسى نہ كسى كام اور مشغلے ميں لگے رہنا چاہئے ، اور اپنے اوقات كو بيكار و بے مصرف برباد نہيں كرنا چاہئے ، بلكہ كام كرے اور دنيا كو آباد كرے اگر ضرورت مند ہے تو اپنى آمدنى كو اپنے گھريلو اخراجات پر خرچ كرے اور اگر ضرورتمند و نادار نہيں ہے تو حاجتمند وں كى امداد اور نيك كاموں ميں خرچ كرے _ بيكاري، تھكن او ررنج و غم پيد اكرتى ہے _ بہت سى جسمانى و نفسياتى بيمارياں اور اخلاقى بدعنوانياں اسى كے سبب ظہور ميں آتى ہيں _

خواتين كے بہترين مشغلے ، گھر كر ہستى كے كام، شوہر كى ديكھ بھال ، اور بچوں كى پرورش و غيرہ جيسے امور ہيں جو كہ گھر كے اندر ہى انجام پاتے ہيں _ ہنرمند خواتين اپنے حسن تدبر اور سليقے سے اپنے گھر كو بہشت برين ، نيك بچوں كى تعليم و تربيت گاہ اور زندگى كى دوڑ ميں مشغول اپنے محنتى شوہر كے لئے بہترين آسائشے گاہ بنا سكتى ہيں اور يہ كام نہيات عظيم اور قابل احترام ہے _

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : عورت كا جہا د يہى ہے كہ وہ شوہر كى ديكھ بھال اچھى طرح كرے _(۱۴۳)

حضرت ام سلمہ نے آنحضرت (ص) سے پوچھا كہ : عورت كے گھر ميں كام كرنے كى كس قدر فضيلت ہے ؟

۱۴۰