ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 9464
ڈاؤنلوڈ: 668

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9464 / ڈاؤنلوڈ: 668
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

فرمايا : ہر وہ عورت جو امور خانہ دارى كے سلسلے ميں اصلاح كى خاطر اگر كوئي چيز ايك جگہ سے اٹھاكر دوسرى جگہ ركھ دے ، خدا اس پر رحمت كى نظر فرمائے گا اور جو شخص خدا كا منظور ہوجائے ، عذاب الہى ميں گرفتار نہيں ہوگا ''_

حضرت ام سلمہ نے عرض كيا : يا رسول اللہ ميرے ماں باپ آپ پر قربان ، عورتوں كے ثواب كے متعلق مزيد تفصيل بتايئے

رسول خدا (ص) نے فرمايا: جب عورت حاملہ ہوتى ہے خدا اس كو اس شخص كا سا اجر عطا فرماتا ہے جو اپنے نفس اور ماں كے ساتھ خدا كى راہ ميں جہاد كرتا ہے جس وقت بچے كو جہنم ديتى ہے ، اس سے خطاب ہوتا ہے كہ تمہارے گناہ معاف كرديئےئے اپنے اعمال پھر سے شروع كرو _ جب اپنے بچے كو دودھ پلاتى ہے ، ہر مرتبہ دودھ پلانے كے عوض اس كے نامہ اعمال ميں ايك غلام آزاد كرنے كا ثواب لكھا جاتا ہے _(۱۴۴)

گھر كے كام كاج پنٹانے كے بعد خواتين كو فرصت كے اوقات بھى ميسر آتے ہيں _ ان خالى اوقات كو بھى بيكار صرف نہيں كرنا چاہئے _ ان اوقات كا بہترين طريقے سے مصرف كريں او راپنے لئے كچھ مشاغل منتخب كرليں اور اپنے آپ كو مشغول ركھيں _ مثلاً مفيد كتابيں پڑھ سكتى ہيں _ سودمند موضوعات پر تحقيق و جستجو كركے اپنى معلومات ميں اضافہ كرسكتى ہيں _ اپنى تحقيق و مطالعہ كے نتائج كو مقالہ يا كتاب كى صورت ميں قلمبند كرسكتى ہيں تا كہ دوسرے اس سے استفادہ كريں _ مختلف ہنروں مثلاً مصوّرى ، خطاّطى ، كشيدہ كاري، سلائي ، بنائي جيسے كاموں ميں اپنے وقت كا مفيد و كارآمد بناسكتى ہيں _ ان كاموں كے ذريعہ معاشى طور پر اپنے خاندان كى مدد بھى كرسكتى ہيں اور معاشرہ كى اقتصاديان ميں بھى اہم كردار ادا كرسكتى ہيں كاموں ميں مصروف رہ كر بہت سى نفسياتى بيماريوں ، اور اعصابى كمزوريوں سے بھى كسى حد تك محفوظ رہ سكتى ہيں _

امير المومنين حضرت على (ع) فرماتے ہيں خدا اس مومن كو ، جو ايماندارى كے ساتھ كسى پيشے

۱۴۱

يا كام ميں مشغول رہتا ہے ، پسند فرماتا ہے '' _(۱۴۵)

بہر حال يہ چيز خود خواتين كے حق ميں ہے كہ كسى نہ كسى كام يا مشغلے ميں مصروف رہيں اور ان كے لئے بہترين كام وہ ہيں جنھيں گھر كے اندر انجام دے سكيں تا كہ امور خانہ دارى اور شوہرو بچوں كى ديكھ بھال بھى اچھى طرح اور آسانى كے ساتھ كرسكيں _

البتہ بعض خواتين پسند كرتى ہيں يا اس بات كى ضرورت محسوس كرتى ہيں كہ گھر كے باہر كوئي كام كريں خواتين كے لئے بہترين اور سب سے مناسب و موزون پيشے ٹيچنگ اور نرسنگ كے ہيں _ كنڈرگارڈن ميں چھوٹے چھوٹے بچوں كى تربيت اور اسكول و كالج ميں لڑكيوں كو پڑھانا اور ان كى تربيت كرنا ايك نہايت قابل قدر كام ہے جو خود عورت كے نازك و لطيف وجود سے بھى مطابقت ركھتا ہے _ يا عورتوں كے امراض كى ڈاكٹر بنيں يا نرسنگ كے پيشے كا انتخاب كريں _ اس قسم كے پيشے خواتين كى مہربان اور لطيف و نازك طبيعت سے مناسبت ركھتے ہيں نيز ان كى انجام دہى ميں غير مردوں كے ساتھ زيادہ ربط ضبط ركھنے كى ضرورت نہيں پڑتى يا بہت كم ہوتى ہے _

جو خواتين گھر سے باہر كام كرنا چاہتى ہيں ان كو مندرجہ ذيل نكات پر توجہ كرنى چاہئے :

۱_ شغل كے انتخاب ميں اپنے شوہر سے صلاح و مشورہ ليجئے اور اس كى اجازت كے بغير كام نہ كيجئے يہ امر خاندان كے سكون كو درہم برہم كرنے كا سبب بنتا ہے _ آپ اور آپ كے بچوں كى زندگياں تخل ہوجاتى ہيں _ يہ حق شوہر كو حاصل ہے كہ اجازت دے يا نہ دے اور اس قسم كى عورتوں كے شوہر كو نصيحت كى جاتى ہے كہ اگر ان كى بيويوں كے شغل ميں كوئي حرج نہ ہو تو ہٹ دھرمى سے كام نہ ليں اور اجازت دے ديں كہ وہ اپنى پسند كے مطابق كام كرے _سماجى خدمت بھى انجام دے اور گھر كى اقتصادى مدد بھى _

۲_ گھر سے باہر اور جہاں كام كرتى ہوں اپنے مكمل اسلامى حجاب و پردے كا لحاظ ركھيں _ بغير كسى آرائشے كے سادہ طريقے سے كام پر جائيں _ حتى الامكان غير مردوں سے خلط ملط ہونے اور ان سے ربط ضبط ركھنے سے اجتناب كريں _ آفس ، كام اور خدمت كى جگہ ہے نہ كہ خود نمائي اور باہمى مقابلے

۱۴۲

كى انسان كى شخصيت كى تعمير لباس اور زيورات سے نہيں بلكہ متانت و سنجيدگى اور اپنے كام ميں مہارت ركھنے اور فرائض كى انجام دہى سے ہوتى ہے _ اپنے عمل و كردار سے ايك مسلمان خاتون كے وقار و سنجيدگى كا تحفظ كيجئے خود بھى با عزت طور سے رہئے اور اپنے شوہر كے لطيف احساسات و جذبات كو بھى مجروح نہ كيجئے _ اپنے بھڑ كيلے خوبصورت كپڑوں ، زيورات اور سامان آرائشے كو گھر ميں اپنے كيلئے استعمال كيجئے _

۳_ جب آپ گھر سے باہر كام كرتى ہيں اسى كے ساتھ آپ كے شوہر اور بچے آپ سے يہ بھى توقع كرتے ہيں كہ خانہ دارى اور شوہر و بچوں كے كاموں كى طرف سے غفلت نہ برتيں _ اپنے شوہر كے تعاون و مدد سے گھر كى صفائي ، كھانا پكانے ، برتنوں اور كپڑوں كى دھلائي _ اور گھر كے ديگر كاموں كا انتظام كيجئے _ اور مناسب مواقع پر سب مل كر ان كاموں كو انجام ديجئے _ آپ كے گھر كا انتظام اور دوسرے لوگوں كے گھروں كى مانند ، بلكہ ان سے بہتر طريقے سے انجام پانا چاہئے _ گھر كے باہر كام كرنے كا مطلب يہ نہيں ہونا چاہئے كہ گھر كے كاموں ميں آپ ہاتھ نہ لگائيں اور آپ كے شوہر و بچے پريشان رہيں ، گھر آپ كى آسائشے گاہ ہے اور اپنى آسائشے گاہ كى جانب سے غفلت نہ برتيں _

كام كرنے والى خواتين كے شوہروں كوبھى نصيحت كى جاتى ہے كہ گھر كے كاموں اور بچوں كى پرورش ميں اپنى بيويوں كے ساتھ لازمى طور پر تعاون سے كام ليتے ہوئے مدد كريں _ ان سے اس بات كى توقع نہ كريں كہ نوكرى بھى كرے اور گھر كے كام بھى اكيلے انجام دے _ اس قسم كى توقع كرنا نہ تو شرعاً ہى جائز ہے اور نہ ہى انصاف پسند ضمير اسے گوارا كرے گا اور نہ ہى ازدواجى زندگى كے اصولوں اور محبت ووفادارى كى روے جائز ہے _

انصاف كا تقاضا تو يہ ہے كہ گھر كے كاموں كو آپس ميں بانٹ ليں اور ان ميں سے ہر يك حالات اور وقت كى مناسبت سے گھر كے كاموں كى ذمہ دارى لے اور اسے انجام دے _

۴_ اگر آپ بچے والى ہيں تو اسے يا تو نرسرى ميں داخل كيجئے يا كسى قابل اعتبار اور ہمدرد و مہربان

۱۴۳

شخص كے پاس چھوڑ كراپنے كام پرجايئے بچے كو گھر يا كمرے ميں تنہا چھوڑ كر كام پر جانا بيحد خطرناك كام ہے _ مختلف احتمالى خطرات كے علاوہ ، تنہائي ميں بچہ ڈرسكتا ہے اور نفسياتى بيماريوں كا شكارہوسكتا ہے _

۵_ اگر آپ اپنے پيشے كو تبديل كركے دوسراكام اختيار كرنے كى ضرورت محسوس كرتى ہيں تواپنے شوہر سے ضرور صلاح و مشورہ كيجئے _ اور اس كى اجازت ورائے سے كام كيجئے _ اگر وہ موافقت نہ كرے تو اس كام كو اختيار نہ كيجئے _ وہ موافقت كردے تو كوشش كيجئے كہ ايسے كام كا انتخاب كريں جس ميں غير مردوں سے كم سے كم رابطہ قائم ركھنا پڑے كيونكہ يہ چيز نہ تو آپ كے ہى حق ميں سودمند ہے نہ ہى سماج كے لئے _ ہر حال ميں اپنے اسلامى حجاب كا ہميشہ دھيان ركھئے نيز ہميشہ گھر سے باہر سادہ اور بغير كسى ميك اپ اور آرائشے كے نكليئے

اپنے فرصت كے اوقات كو ضائع نہ كيجئے

خانہ دارى كے كم كاج اتنے زيادہ ہوتے ہيں كہ ايك خاتون اگر ان فرائض كو اچھى طرح سے انجام دينا چاہے تو اس كا زيادہ تروقت اسى ميں صرف ہوجاتا ہے خصوصاً اگر چھوٹے بڑے تلے اوپر كے كئي بچے بھى ہوں_ اس كے باوجود عورتوں كو تھوڑى بہت فرصت توملى ہى جاتى ہے _

ہر شخص اپنے فرصت كے اوقات كو مختلف طريقے سے گزارتا ہے _ كچھ خواتين ان اوقات كو يونہى برباد كردتى ہيں اور كوئي سودمند كام انجام نہيں ديتيں _ يا بغير كسى مقصد كے سڑكوں كے چكر لگاتى رہتى ہيں يا كوئي دوسرى عورت مل جاتى ہے اس سے باتوں ميںمشغول ہوجاتى ہيں _

يا ايسے گانے سنتى ہيں كہ جن سے سوائے تضيع اوقات ، اعصابى كمزورى اور اخلاقى گراوٹ كے اور كوئي نتيجہ برآمد نہيں ہوتا _ اس قسم كے لوگ يقينا نقصان اٹھاتے ہيں كيونكہ اول تو فرصت كے اوقات بھى انسان كى عمر ميں شمار ہوتے ہيں اور ان كو تلف كردينا پشيمانى كا باعث ہوتا ہے _ انسان كى زندگى اتنى مختصر ہوتى ہے كہ ابھى آنكھ كھولى نہيں كہ بند كرنے كا وقت آجاتا ہے _ حيرت كامقام ہے اگر تھوڑا سا پيسہ كھوجاتا ہے تو ہم افسردہ و غمگين ہوجاتے ہيں ليكن عمر عزيز كو تلف كركے ہميں

۱۴۴

كوئي غم محسوس نہيں ہوتا ايك عاقل انسان اپنى گراں بہا عمر كے گھنٹوں بلكہ لمحوں كو بھى غنيمت سمجھ كر ان سے زيادہ استفادہ كرتا ہے _ فرصت كے اوقات كو كس قدر مفيد و با مقصد بنايا جاسكتا ہے دوسرے يہ كہ بيكار بيٹھنا خود نقصان وہ ہے اور اس كے برے نتائج بر آمد ہوتے بہت سى نفسياتى اور اعصابى بيمارياں ، جن كى اكثر عورتوں كو شكايت رہتى ہے ، خالى اور بيكار رہنے كے سبب پيدا ہوجاتى ہيں _ بيكار آدمى كا ذہن ادھر ادھر بھٹكتارہتا ہے اور غم و غصہ پيدا كرتا ہے _ غم و غصہ اعصاب كو كمزور اور روح كو بے چين كرتا ہے _ وہ انسان خوش نصيب ہے جو كام ميں غرق رہتا ہے اور وہ انسان بد قسمت ہے جو خالى بيٹھا رہتا ہے اور اپنى خوش بختى اور بدبختى كے بارے ميں سوچتا رہتا ہے كاموں ميں مشغول رہنا بہت فرحت بخش عمل ہے _ بيكار لوگ زيادہ تر مضمحل اور افسردہ رہتے ہيں _ كيا يہ چيز باعث تاسف نہيں تاسف نہيں كہ انسان اپنى قيمتى زندگى كو بيكار برباد كردے اور اس سے كوئي نتيجہ حاصل نہ كرے

پيارى بہنو آپ بھى اپنے فرصت كے اوقات سے اگر چہ كم اور مختصر ہى كيوں نہ ہوں ، بيشمار فائدے اٹھاسكتى ہيں ، علمى و ادبى كام كرسكتى ہيں _ اپنے ذوق كے مطابق اور اپنے شوہر سے مشورہ كركے ايك مضمون كا انتخاب كرليجئے اس مضمون سے متعلق كتابيں فراہم كيجئے اور فرصت كے لمحات ميں ان كا مطالعہ كيجئے اور روز بروز اپنے علم اور معلومات ميں اضافہ كيجئے _

مضمون كا انتخاب ،خود آپ كے ذوق سے تعلق ركھتا ہے _ فزيكس، كميسٹري، ہيئت ونجوم ، سائيكلوجى ، سوشيالوجى ، قانون، تفسير قرآن، فلسفہ و كلام، علم اخلاق ، تاريخ و ادب ، ان ميں سے كسى بھى مضمون يا كسى دوسرے مضمون كا انتخاب كرسكتى ہيں اور اس پر تحقيق و مطالعہ كرسكتى ہيں _ جب اپ كتاب پڑھنے كى عادى ہوجائيں گى تو كتاب كے مطالعہ ميں آپ كو لذت محسوس ہوگى اور اس حقيقت كو درك كرليں گى كہ كتابوں ميں كس قدر دلچسپ اور عمدہ مطالب موجود ہيں _

اس طرح آپ بہترين طريقے سے سرگرم عمل بھى رہ سكتى ہيں اور تفريح كا لطف بھى لے سكتى ہيں

۱۴۵

روز بروز آپ كے فضل و كمال ميں اضافہ ہوگا اور اگر ہمت سے كام لے كر اس عمل كو جارى ركھا تو اس سبجيكٹ ميں مہارت پيدا كرسكتى ہيں اور قابل قدر علمى و ادبى خدمات انجام دے سكتى ہيں _ مقالے لكھ كر اخبار ووسائل ميں شائع كر اسكتى ہيں _ مفيد كتابيں لكھ سكتى ہيں تا كہ آپ كى ذہنى و قلمى كاوشوں سے دوسرے بھى استفادہ كريں اس وسيلے سے آپ كى شخصيت ميں نكھار پيدا ہوگا اور آپ كا شمار ايك قابل فخر ہستى ميں ہوگا _ اس كے ذريعہ آپ كى آمدنى بھى ہوسكتى ہے _

يہ خيال نہ كريں كہ امورخانہ دارى كے ساتھ ساتھ اتنے بڑے كام انجام نہيں ديئےا سكتے _ يہ خيال صحيح نہيں ہے _ اگر كوشش و ہمت سے كام ليں تو يقينا كاميابى آپ كے قدم چومے گى _ يہ نہ سوچيں كہ عظيم خواتين نے جو گران قدر آثار و كتب بطور يادگار چھوڑى ہيں وہ بيكار رہتى تھيں _ جى نہيں وہ بھى گھر كے كام كاج انجام ديتى تھيں ليكن اپنے خالى اوقات كو يونہى تلف نہيں كرتى تھيں _

مسنر ڈورتھى جو گراں قدر كتاب كى مصنّفہ ہے اور اس كى كتاب بہت مقبول ہوئي اور بڑى تعدا د ميں فروخت ہوتى ہے ، ايك گھر يلو خاتون تھى _ اپنے امور خانہ دارى كو بخوبى انجام ديتى تھى اور سائينسى تحقيقات ميں اپنے شوہر كى مدد بھى كرتى تھى اور خود بھى مطالعہ و تاليف ميں مشغول رہتى _ وہ لكھتى ہے : ميں نے اس كتاب كا بڑا حصہ ، روزانہ جب ميرا چھوٹا بچہ سوجاتا تھا ، تو دو گھنٹے كى مہلت ملنے پر لكھا ہے بہت سے ضرورى مطالعہ ميں اس وقت انجام ديتى تھى جب ميں بيوٹى سيلوں ميں اپنے بال سكھانے كيلئے بال سكھانے والى مشين كے نيچے بيٹھتى تھى _(۱۴۶)

مشہور و معروف دانشوروں اور مصنفوں كى صف ميں ايسى عظيم خواتين بھى ملتى ہيں جنھوں نے زبردست علمى خدمات انجام ديئےيں اور عظيم آثار بطور يادگار چھوڑے ہيں _ آپ بھى اگر ہمت و استقامت سے كام ليں تو مردوں كے دوش بدوش ترقى كرسكتى ہيں _ اگر آپ كے شوہر محقق و دوانشور ہيں تو آپ علمى كاموں ميں ان كى مدد كرستى ہيں يا مشتركہ طور پرتحقيق و مطالعہ كا كام كرسكتي

۱۴۶

ہيں كيا يہ افسوسناك بات نہيں كہ ايك پڑھى لكھى خاتون ، ازدواجى زندگى ميں قدم ركھنے كے بعد اپنى سالہا سال كى محنت كو يونہى گنوادے اور پڑھنے لكھنے سے دستبردار ہوجائے حضرت على (ع) فرماتے ہيں _'' علم و دانش سے بہتر كوئي خزانہ نہيں'' _(۱۴۷)

حضرت امام باقر(ع) فرماتے ہيں : جو شخص اپنے شب و روز كو علم حاصل كرنے پر صرف كرے ، خدا كى رحمت اس كے شامل حال رہے گى _(۱۴۸)

البتہ اگر آپ كو مطالعہ كا شوق نہيں ہے تو كوئي ہنر يا دستكارى سيكھ ليجئے _ اور فرصت كے وقت اس ميں مشغول رہئے _ مثلاً سلائي ، كڑھائي ، بنائي، ڈرائنگ، كپڑوں اور كاغذوں كے پھول بنانا و غيرہ كارآمد ہنرہيں _ ان ميں سے جو آپ كو پسند ہو اس ميں مہارت پيدا كيجئے _ اور اسے انجام ديتى رہئے _ اس طريقے سے آپ كا وقت فالتو باتوں ميں ضائع نہ ہوگا _ آپ كا ذوق و ہنر بھى ظاہر ہوگا اس سے آپ كى آمدنى بھى ہوسكتى ہے اور اپنے گھر كے بجٹ ميں مدد كرسكتى ہيں _

اسلام ميں دستكارى كے كاموں كو عورتوں كے لئے اچھامانا گيا ہے _ حضرت رسول خدا (ص) فرماتے ہيں :'' سوت كاتنے كا كام عورتوں كى سرگرمى كے لئے اچھا ہے '' _(۱۴۹)

۱۴۷

بچّوں كى پرورش

عورت كى ايك بہت حساس اور سنگين ذمہ دارى ،بچوں كى پرورش ہے _ بچے پالنا آسان كام نہيں ہے بلكہ بہت صبر آزما اور كٹھن كام ہے _ ليكن يہ ايك بيحد مقدس اور قابل قدر فريضہ ہے جو قدرت نے عورت كے سپردكيا ہے _ يہاں مختصراً چند باتين بيان كى جاتى ہيں _

۱_ شادى كا ثمرہ

اگرچہ ايسا اتفاق بہت كم ہى ہوتا ہے كہ مرد عورت بچے پيدا كرنے كى خاطر شادى كريں _ عموماً دوسرے عوامل منجملہ جنسى خواہش اس كا محرك ہوتے ہيں _ ليكن زيادہ مدت نہيں گزرتى كہ آفرينش كا فطرى مقصد ، بچے كى صورت ميں ظاہر ہوجاتا ہے _

بچے كا وجود ، ازدواجى زندگى كے درخت كا پھل اور ايك فطرى آرزوہے _ بے اولاد جوڑے بے برگ و پھل درخت كى مانند ہوتے ہيں _ بچے كا وجود شادى كے رشتہ كو مستحكم كرتا ہے _ بچے كى معصوم گلكارياں گھر كے ماحول ميں رونق پيدا كرتى ہيں _ گھر اور زندگى سے مياں بيوى كى محبت اور دلچسپى ميں اضافہ كرتى ہيں _ باپ كو سعى و كوشش كے لئے سرگرم اور ملى كو گھر ميں مشغول ركھتى ہيں _

شروع ميں شادى ، جنسى ہوس، جسمانى خواہشات اور جذباتى عشق و محبت كى ناپائيدار اور متزلزل بنيادوں پر قائم ہوتى ہے يہى وجہ ہے كہ ہميشہ اس كے ٹوٹنے كا دھڑكا لگارہتا ہے _ طاقتور ترين عامل جو اس كو پائيدار بنانے كا ضامن ہوتا ہے وہ اولاد كا وجود ہے _ جوانى كا نشاط انگيز دور جلدى گذرجاتا ہے ، جنسى خواہشات اور ظاہرى عشق ٹھنڈا پڑجاتا ہے _ اس ہيجان انگيز دور كى واحد يادگار جو باقى رہ جاتى ہے اورمياں بيوى كے لئے سكون و باہمى تعلق كے اسباب

۱۴۸

فراہم كرتى ہے وہ اولاد كى موجودگى ہے _

يہى سبب ہے كہ حضرت امام زين العابدين (ع) فرماتے ہيں : _

''انسان كى سعادت اسى ميں ہے كہ ايسى صالح اولاد ركھتا ہو جس سے مد دكى اميد كرسكے '' _(۱۵۰)

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں:_

''نيك و صالح اولاد ايك ايسى خوشبو دار گھاس كى مانند ہے جو بہشت كى گھاس ہو''_(۱۵۱)

آنحضرت (ص) كا ارشاد ہے كہ اپنى اولاد كى تعداد ميں اضافہ كرو _ كيونكہ ميں قيامت كے دن تمہارى زيادتى كے سبب دوسرى اقوام پر فخر كروں گا _(۱۵۲)

۲_ بچّوں كى تربيت

خواتين كى ايك اور بہت اہم ذمہ دارى بچوں كى تعليم و تربيت ہے ، اس سلسلے ميں ماں باپ دونوں كى ذمہ دارى ہوتى ہے ليكن اس ذمہ دارى كا زيادہ بوجھ ماں كے كندھوں پر ہوتا ہے _ كيونكہ وہى ہر وقت بچوں كى ديكھ بھال اور حفاظت كرسكتى ہے _ اگر مائيں ، ايك ماں كى مقدس اور اہم فرائض سے پورى طرح واقف ہوں تو سماج كے ان نونہالوں كى صحيح طريقے سے پرورش اور تعليم و تربيت كرسكتى ہيں _ اورايك معاشرہ كى عام حالت بلكہ دنيا كو پورى طرح دگرگوں كرسكتى ہيں _ اس بناء پر بلاخلاف ترديد كہا جا سكتا ہے كہ معاشرے كى ترقى و پسماندگى كا دار و مدار خواتين پر ہوتا ہے _ يہى وجہ ہے كہ آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا فرمان ہے كہ :'' ماں كے پاوں كے نيچے جنّت ہے _(۱۵۳)

وہ بچے جو آج گھر كے چھوٹے سے ماحول ميں تعليم و تربيت پاتے ہيں كل سماج كے ذمہ دار عورت اور مرد بنيں گے _ ہر وہ سبق جو آج گھر كے ماحول ميں ماں باپ كے سايہ ميں سيكتھے ہيں كل كے

۱۴۹

سماج ميں اس اس پر عمل كريں گے _ اگر خاندانوں كى اصلاح ہوگى تو معاشرے كى بھى يقينا اصلاح ہوجائے گى چونكہ معاشرہ ان ہى خاندانوں سے تشكيل پاتا ہے _ اگر آج كے بچے بدمزاج ، جھگڑالو، ظالم ، چاپلوس ، دروغ گو ، بد اخلاق ، كوتا فكر ، بے ارادہ ، نادان ، ڈرپوك ، شرمسيلے ، خود غرض ، زرپرست ، لا ابالى اور جبريہ ماحول ميں پرورش پائيں گے تو كل بڑے ہو كر ان ہى برى صفات ميں مبتلا ہوكر برے معاشرے كى تشكيل كريں گے _ اگر آج آپ سے خوشامد اور چاپلوسى كركے كوئي چيز ليں گے تو كل ظالموں كى بھى خوشامد كريں گے _ اس كے برعكس اگر آج كے بچے ، سچے ، بہادر، بلند ہمت ، خوش اخلاق ، خيرخواہ بردبار ، ايماندار،رحم دل ، انصاف پسند ، اعلى نفس ، حق گو ، امانت دار، دانا، روشن فكر اور ملائم لہجہ ميں بات كرنے والوں كى صورت ميںتربيت پائيں گے تو كل يہى اعلى صفات ، كامل صورت ميں ظاہر ہوں گي_

اس بناء پر والدين خصوصاً ماؤوں كى اپنے بچوں اور معاشرہ كے سلسلے ميں بہت بڑى اور بھارى ذمہ دارى ہوتى ہے _ اگر آپ نے اپنے بچوں كى تربيت كے سلسلے ميں صحيح تعليم و تربيت كے اصولوں پر عمل كيا ، تو يہ آئندہ كے معاشرے كى بہت بڑى خدمت ہوگى اور اگر اس عظيم ذمہ دارى كو انجام دينے ميں كوتاہى كى ، تو قيامت كے روز والدين اس كے ذمہ دار ہوں گے _

امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں : تمہارى اولاد كا حق يہ ہے كہ تم سمجھو كہ وہ تم سے ہے _اچھا ہو يا برا ، تم سے نسبت ركھتا ہے _ اس كى پرورش اور تنبيہ اور خدا كى جانب اس كى رہنمائي كرنے اور فرماں بردارى ميں اس كى مدد كرنے كے سلسلے ميں تمہارى ذمہ دارى ہے _ اس كے ساتھ سلوك اس آدمى كا سا كرو كہ يقين رہے كہ اس كے ساتھ احسان كرنے ميں نيك اور اچھا بدلہ ملے گا اور بد سلوكى كے مقابلے ميں برا بدلہ مے لگا _(۱۵۴)

يہاں پر ايك بات كى ياد دہانى كراديں كہ ہر خاتون، ماں كے فرائض اور صحيح تعليم و تربيت كرنے كے فن سے واقف نہيں ہوتى ہے بلكہ اس كو يہ رموز سكھانا چاہئے _ يہاں ان مختصراً صفحات ميں تربيت كے فن پر بحث نہيں كى جا سكتى اور اس وسيع موضوع كا تجزيہ و تحليل نہيں

۱۵۰

كيا جا سكتا يہ موضوع دقيق اور تفصيل طلب ہے جس كے بيان كے لئے ايك الگ كتاب كى ضرورت ہے خوش قسمتى سے اس موضوع پر بہت سى كتابيں لكھى جا چكى ہيں _ دلچسپى ركھنے والى مائيں اس كامطالعہ كر سكتى ہيں اوراپنے ذاتى تجربيوں سے بھى استفادہ كرسكتى ہيں _ اور ہوشيار خواتين تربيت كے اصول و ضوابط پر عمل كركے اوران كے آثار و نتائج پر توجہ كركے جلدى ہى تربيت كے فن ميں مہارت پيدا كرسكتى ہيں_ اس صورت ميں خود بھى قابل قدر علمى خدمات انجام دے سكتى ہيں _ مثلاً اس دلچسپ موضوع پر زيادہ سے زيادہ معلومات فراہم كركرے ، تربيتى امور سے متعلق كتابوں كى تكميل اور معاشرے كى اصلاح كا بيٹرا اٹھا سكتى ہيں _

البتہ يہاں پر ايك نكتہ كى ياددہانى ضرورى معلوم ہوتى ہے _ بہت سے لوگ صحيح تربيت كے معنى نہيں سمجھتے اورتعليم و اور تربيت ميں فرق محسوس نہيں كرتے _ اور تربيت كو ايك طرح كى تعليم سمجھتے ہيں وہ سمجھتے ہيں كہ شعراء و حكماء كى پند ونصيحتيں اور مذہبى باتيں يادكراكے اور نيك لوگوں كى سرگزشت سناكر بچے كى مكمل طور پر تربيت كى جا سكتى ہے اور اپنى مرضى كے مطابق بچے مؤدب اور نيك انسان بنايا جا سكتا ہے _ مثلاً ان كے خيال ميں دروغ گوئي كى مذمت ميں كوئي روايت اور قرآنى آيات بچے كو سكھاديں اور راستگوئي كى فضيلت ميں چند حديثيں زبانى ياد كراديں _ اور بچے نے انھيں زبانى ياد كركے لوگوں كے سامنے سنا كر انعام بھى حاصل كرليا تو گويا وہ راستگو بن جائے گا _

ليكن تربيت كے سلسلے ميں اتنا كافى نہيں ہے _ اگر چہ آيات وہ احاديث اور سبق آموز داستانيں ياد كرلينا ، بے سود اور بے اثر نہيں ہوتا ليكن جس قسم كى تربيت كے آثار ہم بچے ميں ديكھنا چاہتے ہيں ، اس كى توقع ، اس قسم كے زبانى طريقوں سے نہيں كرنى چاہئے _

اگر ہم بچے كى صحيح اور مكمل تربيت كرنا چاہتے ہيں تو اس كے لئے مخصوص حالات و شرائط كا ہونا ضرورى ہے _ اس كے لئے ايك ايسا مناسب اور صالح ماحول پيدا كريں كہ بچہ طبعا نيك و صالح اور سچا بن كرنكلے _ جس ماحول ميں بچے كى نشو و نما اور پرورش كى جائے _ اگر وہ ماحول ، نيكي

۱۵۱

سچائي ، امانت دارى ، ايماندارى و پاكيزگى ، نظم و ضبط، شجاعت و خيرخواہي، مہرووفا، انصاف پرورى سعى و كوشش، آزادى ، بلند ہمتى ، غيرت اور فداكارى كا ماحول ہوگا تو بچہ بھى ان ہى صفات كا عادى بنے گا _ اسى طرح اگر ايسے ماحول ميں پرورش پائے جہاں خيانت ، بد تميزى ، جھوٹ ، حيلہ بازى ، چاپلوسى ، ظلم ، بغض و كينہ پرورى ، لڑائي جھگڑے ، ضد ، كوتاہ فكرى ، نفاق ، اور دو غلاپن ہوا ور دوسروں كے حقوق كا لحاظ نہ ركھا جاتا ہو ، تو خواہ مخواہ ہى ان برى صفات كا عادى بن كر فاسد اور بدكردار نكلے گا _

ايسى صورت ميں اگر اس كو دينى اور ادبى پند و نصيحتيں زبانى رٹادى جائيں تو بھى اس كى اصلاح نہيں ہوگى _ سينكڑوں آيتيں اور روايتيں اور سبق آموز شعر اور كہانياں سنائي جائيں مگر اس پر كچھ اثر انداز نہ ہوں گى _ كيونكہ زبانى جمع خرچ سے كچھ حاصل نہيں ہوتا جب تك كہ عملى كردار پيش نہ كيا جائے _ دروغ گو ماں باپ ، آيت و حديث كے ذريعہ بچے كو راستباز نہيں بنا سكتے _ گندے اور غير مہذب ماں باپ اپنے عمل سے بچے كو گندہ اور بد تميز بناديتے ہيں _

بچہ جس قدر آپ كے اعمال و كردار اور طور طريقوں پر غور كرتا ہے اتنا آپ نصيحتوں اور باتوں پر توجہ نہيں ديتا _ لہذا جو والدين اپنے بچوں كى اصلاح اور تربيت كرنا چاہتے ہيں انھيں چاہئے پہلے خاندان كے ماحول ، خود اپنے باہمى روابط ، اور اخلاق و كردار وعمل كى اصلاح كريں تا كہ ان كے بچے خودبخود نيك اور شائستہ نكليں _

۱۵۲

غذا اور صحت

خواتين كا ايك اہم فريضہ ، بچوں كى غذت كا دھيان ركھنا ہے _ بچوں كى صحت و سلامتى اور بيمارى ، خوبصورتى و بد صورتى ، حتى كى خوش مزاجى ، ذہانت اور كندذہنى كا تعلق انكى غذائي كيفيت سے ہوتا ہے _ ان كى غذائي ضروريات بڑوں كى جيسى نہيں ہوتيں _ بلكہ مختلف سن ميں غذائي پروگرام ميں بھى تغيير و تبديلى ہوتى رہتى ہے _ ايك بچے والى ماں كو ان تمام نكات كا لحاظ ركھنا چاہئے _

بچے كى بہترين اور مكمل غذا دودھ ہے _ بدن كى نشو و نما كے لئے جن غذائي اجزاء كى ضرورت ہوتى ہے وہ سب دودھ ميں موجود ہيں اسى سبب سے ماں كا دودھ ہر نو زائيدہ بچے كے لئے بہترين اور سالم ترين غذا ہے _ ماں كے دودھ ميں بچے كے معدہ كى مناسبت سے اجزاء پائے جاتے ہيں جنھيں وہ آسانى سے ہضم كرليتا ہے _ ماں كے دودھ كى ايك اور خوبى يہ ہے كہ اس ميں كسى قسم كى ملاوٹ نہيں ہوتى _ اسے گرم كرنے كى ضرورت نہيں ، جبكہ دودھ كو گرم كرنے سے اس كے بعض اجزاء ضائع ہوجاتے ہيں _

يہى سبب ہے حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : ''بچے كے لئے ماں كے دودھ سے بہتر اور بابركت كوئي غذا نہيں '' _(۱۵۵)

عالمى حفظان صحت تنظيم ميں مشرقى بحيرہ روم منطقے كے صدر ڈاكٹر عبدالحسين طبانے اپنے پيغام ميں كہا ہے كہ ''سب سے بڑا عامل جو بچے كو بيماريوں كيلئے

۱۵۳

آمادہ كرتاہے ، اسے ماں كے دودھ سے محروم كردينا ہے '' _(۱۵۶)

بچے كو دودھ پلانے والى ماؤوں كو اس بات كا دھيان ركھنا چاہئے كے بچے كو دودھ كے ذريعہ مختلف غذائي اجزا بہم پہونچائيں _ دودھ ميں موجود اجزا ، ماں كى غذا كے ذريعہ مہيا ہوتے ہيں _ يعنى ماں كے دودھ كى كيفيت كا تعلق ، اس كى خوراك كى مقدار اور نوعيت سے ہے ، ماں كى غذا جتنى مكمل اور متنوع ہوگى اسى لحاظ سے اس كا دودھ بھى مكمل اورتمام اجزاء سے بھر پور ہوگا _ اس لئے دودھ پلانے والى ماوؤں كو چاہئے كہ اس زمانے ميں اپنى غذا كا پورا دھيان ركھيں _ ان كى خوراك غذائيت كے لحاظ اتنى بھر پور ہو جو خود ان كى اور ان كے بچے كى غذائي ضروريات كو پورا كرسكے _ اگر اس بات كا دھيان نہ ركھيں گى تو خود ان كى اور ان كے بچے كى صحت و سلامتى خطرے ميں پڑجائے گى _

شوہر پر بھى لازم ہے كہ اپنى بيوى كے لئے ايسى مقوى غذاؤں كا اہتمام كرے جو غذائيت كے لحاظ سے بھر پور اور مكمل ہوں _ اور اس طرح سے اپنے بچے كى صحت و سلامتى كے اسباب فراہم كرے _ اگر اس نے اس سلسلے ميں كوتاہى كى تو اس كا جرمانہ دوا اورڈاكٹر كى فيس كى صورت ميں ادا كرنا ہوگا _ اس سلسلے ميں ڈاكٹر سے بھى صلاح لى جا سكتى ہے اور كتابوں سے بھى مدد لى جا سكتى ہے _ مختصراً يوں كہا جا سكتا ہے كہ ماں كى غذا مكمل اور متنوع اور كافى ہونى چاہئے _ مختلف قسم كى غذائيں كھائے _ اس كى غذا سبزيوں ، پھلوں ، دالوں، گوشت ، انڈے ، دودھ ، دھى ، مكھن و غيرہ پر مشتمل ہو _ اور ان سب كا اچھى مقدار ميں برابر استعمال كرتى رہے ، بلاخوف ترديد كہا جا سكتاہے كہ ماں كے دودھ كا اچھا يا برا اثر بچے پر ضرور پڑتا ہے اس لئے اس چيز كو نظر انداز نہيں كردينا چاہئے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں: بچوں كو دودھ پلانے كے لئے احمق عورتوں كا انتخاب نہ كرو كيونكہ دودھ بچے كى فطرت كو دگرگون كرديتا ہے _(۱۵۷)

۱۵۴

حضرت امام باقر عليہ السلام فرماتے ہيں : دودھ پلانے كے لئے خوبصورت عورتوں كا انتخاب كيجئے كيونكہ دودھ كا اثر ہوتا ہے اور دودھ پلانے والى عورت كے صفات شيرخوار بچے ميں سرايت كرہ جاتے ہيں _(۱۵۸)

بچے كو دودھ پلانے كے اوقات مقرر كيجئے تا كہ نظم و ترتيب كى عادت پڑ جائے اور بردبار اور صابر بنے _ اس كا پيٹ اور معدہ ٹھيك كام كرے اگر نظم و ضبط كا لحاظ نہ ركھا اور جہاں بچہ رويا اس كے منہ ميںدودھ دے ديا تو اس كى يہى عادت پڑجائے گى _

بڑے ہوكر بھى يہى بد نظمى اس كى سرشت ميں شامل ہوجائے گى _ حرّيت اور آزادى كا جذبہ ختم ہوجائے گا زندگى كى مشكلات ميں صبر و حوصلہ سے كام نہيں لے گا _ چھوٹے سى بات كے لئے يا تو ضد كرے گا يا رونا پٹنا شروع كردے گا _ يہ نہ سوچئے كہ نوزائيدہ بچے ميں نظم و ترتيب پيدا كرنا دشوار ہے ، جى نہيں اگر چند روز ذرا صبر سے كام ليں تو جلد ہى آپ كى مرضى كے مطابق اس كى عادت پڑجائے گى _ بچوں كى غذا كے ماہرين كا كہنا ہے كہ ہر تين چار گھنٹے كے بعد نوزائيدہ بچے كو دودھ پلانا چاہئے _

دودھ پلاتے وقت بچے كو اپنى گود ميں لٹا ليجئے _ اس طرح اس كے لئے دودھ پينا آسان ہوگا اور آپ كى محبت و مہربانى كو محسوس كرے گے _ اور يہى احساس اس كى آئندہ شخصيت كى تعمير ميں موثر ثابت ہوگا _ بچے كو اپنے پہلو ميں لٹاكردو دھ نہ پلايئے كيونكہ ممكن ہے ايسى حالت ميں كو دودھ اس كے منہ ميں ہو ، آپ كو نيند آجائے اور وہ معصوم بچہ اپنا دفاع نہ كر سكے اور اس كادم گھٹ جائے يہ بات بعيد نہ سمجھئے كيونكہ اس قسم كے حادثات اكر رونما ہوتے رہتے ہيں _

اگر آپ كا دودھ بچے كے لئے ناكافى ہو تو گائے كا دودھ استعمال كرسكتى ہيں _ گائے كا دودھ ماں كے دودھ سے زيادہ گاڑھا ہوتا ہے اور اس ميں مٹھاس كم ہوتى ہے _ اس ميں تھوڑا سا پانى اور شكر ملا ليجئے _ يا پيسچرائزڈ دودھ كااستعمال كيجئے _ دودھ كو پندرہ بيس منٹ تك خوب جوش كيجئے تا كہ اس ميں موجود جراثيم مرجائيں ، بچے كو بہت زيادہ گرم يا ٹھنڈا دودھ ماں كے دودھ درجہ حرارت كے مطابق ہونا چاہئے_ ہر دفعہ پلانے كے بعد

۱۵۵

فوراً بوتل اور چسنى كو اچھى طرح دھوليجئے _ خصوصاً اگر ميوں ميں بہت دھيان ركھنا چاہئے _ كيونكہ گرميوں ميں جلدى سرانڈپيدا ہوجاتى ہے جو بچے كى صحت و سلامتى كے لئے بيحد مضر ہے _ دھيان ركھئے كہ خراب يا ركھا ہوا دودھ بچے كو نہ ديں _ بہتر ہے دودھ كى ايسى بوتلوں سے استفادہ كريں جن ميں وزن كے نشان بنے ہوتے ہيں تا كہ اس كى خوراك كى مقدار معين ہو سكے _ اگر بچے كو پاؤڈروالا دودھ دينا چاہتى ہيں تو بچوں كے ڈاكٹر سے مشورہ ليجئے كيونكہ مختلف قسم كے پاؤڈر ہوتے ہيں اور ڈاكٹر صحيح مشورہ دے سكتا ہے كہ آپ كے بچے كے معدے كے لئے كون سادودھ مناسب ہے _

بچے كو پھلوں كا رس بھى ديجئے _ پانچ چھ مہينے كى عمر سے تھوڑا تھوڑا كركے كھانے كى عادت بھى ڈلوايئے پتلا سوپ ديجئے _ بسكٹ يا تازہ بريڈ دودھ مين بھگو كر كھلايئے تازہ پنير اور ميٹھادہى بھى بچے كے لئے مفيد ہے _ نو مہينے كى عمر سے اپنے كھانے ميں سے تھوڑا تھوڑا كر كے كھلايئے آپ كى طرح بچے كو بھى پانى كى ضرورت ہوتى ہے _ بچے كو پانى برابر پلاتى رہئے _ اكثر بچے پياس كے سبب روتے ہيں _ بچے كو رقيق غذائيں ديجئے _ خاص طور پر پھلوں كا رس، اور سبزيوں اور ہڈيوں كا سوپ بچے كے لئے بيحد مفيد ہے _ البتہ جہاں تك ہوسكے اس كے معدے كى نئي اور سالم مشينرى كى چائے پلاكر مسموم نہ كريں _

بچے كى صفائي اور تندرسى كا بہت خيال ركھئے _ اس كا بستر اور كپڑے ہميشہ بہت صاف ستھرے ہوں _ اس كو ہرروز نہلائيں _ كيونكہ بچے پر جراثيم جلدى اثرانداز ہوجاتے ہيں _ اگر حفظان صحت كا خيال نہ ركھا تو بچے كے بيمار يا تلف ہوجانے كا خطرہ ہے _

بچے ك بيماريوں كے ٹيكے لگوانا ضروريہے _ مثلاً چيچك، خسرہ ، كالى كھانسى ، پوليوو غيرہ جيسے امراض كے ٹيكے لگواكر ان بيماريوں كى روك تھام كيجئے بيمارى كے ظہور ميں آنے سے پہلے ہى اس كا علاج ہونا چاہئے _

خوش قسمتى اس قسم كى بيماريوں كے ٹيكے اسپتالوں ميں مفت لگائے جاتے ہيں اگر آپ نے صحت و تندرستى كے تمام اصولوں كا پورى طرح لحاظ ركھا تو آپ كے بچے صحت مند ، اور مسرور و شاداب ہوں گے _

۱۵۶

دوسرا حصہ

مردوں كے فرائض

۱۵۷

بسم اللہ الرحمن الرحيم

خاندان كا سرپرست

مياں بيوي، خاندان كے دوبڑے ركن ہوتے ہيں _ ليكن مرد كو ، اس سبب سے كہ اس كو قدرت كى جانب سے كچھ خصوصيات علا كى گئي ہيں اور عقل و سمجھ كے لحاظ سے قوى تر بناگيا ہے ، بڑا اور خاندان كا سرپرست سمجھا جاتا ہے _

خداوند بزرگ و برتر نے بھى اس كو خاندان كا سرپرست اور ذمہ دار ٹھہرايا ہے ، قرآن مجيد ميں فرماتاہے: مرد عورتوں كے سرپرست ہيں كيونكہ خدا نے بعض لوگوں كوبعض دوسروں پر برترى عطا كى ہے _(۱۵۹)

چونكہ مرد كا مرتبہ برتر ہے لہذا فطرى طور پر اس كے فرائض بھى سنگين تر اور دشوار تر ہوں گے ، وہى اپنى عاقلانہ تدبر سے خاندان كا بہترين طريقے سے انتظام چلا سكتا ہے اور ان كى خوش بختى و سعادت كے اسباب مہيا كرسكتا ہے اور گھر كے ماحول كو بہشت بريں كى مانند منظم و مرتب اور خوشگوار بنا سكتا ہے _ اور اپنى بيوى كو ايك فرشتہ كا روپ عطا كرسكتاہے _

حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : مرد خاندان كے سرپرست ہيں اور ہر سرپرست پر اپنے تحت تكفل افراد كى ذمہ دارياں عائدہوتى ہيں _(۱۶۰)

مرد ، جو كہ گھر كا منيجر ہے ، اس كو اس نكتہ كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ عورت بھي، مرد ہى كى مانند ايك انسان ہوتى ہے _ خواہشات اور آرزوئيں ركھنے اور زندگى و آزادى كا حق ركھتى ، انہيں سمجھنا چاہئے كہ شادى كركے كسى لڑكى كو اپنے گھر لانے كا مطلب لونڈى يا كنيز لانا نہيں ہے _ بلكہ اپنى زندگى كى ساتھى ، اور اپنے لئے مونس و غمخوار لانا ہے _ اس كى اندرونى خواہشات اور آرزوؤں

۱۵۸

و تمنّاؤں پر بھى توجہ دينا چاہئے _ ايسا نہيں ہے كہ مرد، بيوى كے مالك مطلق ہيں اور ان كى حيثيت ايك مطلق العنان حكمران كى سى ہے _ بيوى كے بھى شوہر پر كچھ حقوق ہوتے ہيں _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : جس طرح بيوى پر اپنے شوہروں كى نسبت فرائض ہيں، اسى طرح ان كے كچھ حقوق بھى ہيں _ اور مردوں كو ان پر برترى ہے _(۱۶۱)

بيوى كى ديكھ بھال

اسلامى شريعت ميں ، جس طرح شوہر كى ديكھ بھال كو ، ايك عورت كے لئے جہاد سے تعبير كيا گيا ہے ، اسى طرح بيوى كى ديكھ بھال كو بھى ايك شادى شدہ مرد كا سب سے اہم اور گرانقدر عمل سمجھا گيا ہے اور اس ميں خاندان كى سعادتمندى مضمر ہے _ لكن ''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كوئي آسان كام نہيں ہے بلكہ يہ ايك ايسا راز ہے جس سے ہر شخص كو پور ى طرح آگاہ و با خبر ہونا چاہئے تا كہ اپنى بيوى كو اپنى مرضى كے مطابق ايك آئيڈيل خاتون ، بلكہ فرشتہ رحمت كى صورت دے سكے _

جو مرد واقعى ايك شوہر كے فرائض بنھانا چاہتے ہيں ان كو چاہئے كہ اپنى بيوى كے دل كو موہ ليں _ اس كى دلى خواہشات و رجحانات و ميلانات سے آگاہى حاصل كريں اور اس كے مطابق زندگى كا پروگرام مرتب كريں _ اپنے اچھے اخلاق و كردار و گفتار اور حسن سلوك كے ذريعہ اس پر ايسا اچھا اثر ڈاليں كہ خود بخود اس كا دل ان كے بس ميں آجائے _ اس كے دل ميں زندگى اور گھر سے رغبت و انسيت پيدا ہو اور دل و جان سے امور خانہ دارى كو انجام دے _

''زن داري'' يا بيوى كى ديكھ بھال كے الفاظ ، جامع اور مكمل مفہوم كے حامل ہيں كہ جس كى وضاحت كى ضرورت ہے اور آئندہ ابواب ميں اس موضوع پر تفصيلى بحث كى جائے گى _

اپنى محبت نچھا وركيجئے

عورت محبت كا مركز اور شفقت و مہربانى سے بھر پور ايك مخلوق ہے اس كے وجود سے مہرو محبت كى بارش ہوتى ہے _

۱۵۹

اس كى زندگى عشق و محبت سے عبادت ہے _ اس كا دل چاہتا ہے دوسروں كى محبوب ہوا ور جو عورت جتنى زيادہ محبوب ہوتى ہے اتنى ہى تر و تازہ اور شاداب رہتى ہے _محبوبيت حاصل كرنے كيلئے وہ فداكارى كى حد تك كوشش كرتى ہے _ اس نكتہ كو جان ليجئے كہ اگر عورت كسى كى محبوب نہ ہو تو خود كو شكست خودرہ اور بے اثر سمجھ كر ہميشہ پمردہ اور افسردہ رہتى ہے _ اس سبب سے قطعى طور پر اس بات كا دعوى كيا جا سكتاہے كہ بيوى كى ديكھ بھال يا ''زن داري'' كا سب سے بڑا راز اس سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے _

برادر محترم آپ كى بيوى پہلے اپنے ماں باپ كى بيكراں محبت سے پورى طرح بہرہ ور تھى ليكن آپ سے رشتہ ازدواج قائم كرنے كے بعد اس نے سب سے ناطہ توڑكر آپ سے پيمان وفا باندھا ہے اور اس اميد كے ساتھ آپ كے گھر ميں قدم ركھا ہے كہ تنہا آپ ان سب كى محبتوں كے برابر، بلكہ ان سے سب زيادہ اس كو محبت وچاہت ديں گے _ وہ اس بات كى توقع ركھتى ہے كہ آپ كا عشق و محبت اس كے ماں باپ سے زيادہ گہراور پائيدار ہوگا چونكہ آپ كے عشق و محبت پر اعتماد كركے اس نے اپنى تمام ہستى اور وجود كو آپ كے حوالے كرديا ہے _ ''زن داري'' كا سب سے بڑا رمز اور شادى شدہ زندگى كى مشكلات كو حل كرنے كى بہترين كنجى بيوى سے اپنى محبت اور پسنديدگى كا اظہار كرنا ہے اگر آپ چاہتى ہيں كہ اپنى بيوى كے دل كو اس طرح سے مسخّر كرليں كہ وہ آپ كى مطيع رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى ازدواجى زندگى قائم و دائم رہے ، اگر آپ چاہتے ہيں آپ كى بيوى زندہ دل ، خوش و خرم اور شاداب رہے گھر اور زندگى ميں پورى دل جمعى كے ساتھ دلچسپى لے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ وہ آپ سے سچے دل سے محبت كرے ، اگر آپ چاہتے ہيں كہ آخر عمر تك آپ كى وفادار رہے ، تو اس كا بہترين طريقہ يہ ہے ك جس قدر ممكن ہو سكے اپنى بيوى سے محبت وچاہت كا اظہار كيجئے _ اگر اسے معلوم ہو كہ آپ كو اس محبت نہيں ہے تو گھر اور زندگى سے

۱۶۰