ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 8561
ڈاؤنلوڈ: 626

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8561 / ڈاؤنلوڈ: 626
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

ليكن وہ محض اس كا نادانى اور جہالت كے سبب ہوسكتى ہيں _ اس كو بدبختى پر محمول نہيں كرنا چاہئے _

۲_ ماں اور اولاد كا تعلق ايك فطرى چيز ہے كہ جس كو آسانى سے منقطع نہيں كيا جا سكتا_ اور اگر كوئي اس تعلق كو منقطع كرنے كے درپے ہوجائے تو يہ ايك غير فطرى عمل ہوگا اور اس كے نتائج بيحد خراب ہوں گے اصولى طور پر يہ چيز انصاف سے كوسوں دورہے كہ انسان ماں بيٹى كے رابطہ كو منقطع كرنا چاہے اور ان كے درميان جدائي ڈال دے _ جس طرح مرد چاہتا ہے كہ آزادى كے ساتھ اپنے ماں باپ سے تعلقات قائم ركھے او رآزادانہ طور پر ان كے پاس جائے اور وہ اس كے پاس آئيں _ اسے خود سوچنا چاہئے كہ اس كى بيوى بھى جذبات و احساسات ركھتى ہے اور اس كا بھى دل چاہتا ہے كہ اپنے رشتہ داروں سے ميل جو ل ركھے _ مذكورہ باتوں كو مد نظر ركھ كر كہا جاتاہے كہ اس مشكل كا بہترين حل يہ ہے كہ ساس سے بلكہ بيوى كے تمام دوسرے رشتہ داروں سے اچھے تعلقات ركھنا چاہئے اور ان احترام كرنا چاہئے _ مہربانى اور اچھے اخلاق كے ذريعہ ان كى محبت و توجہ حاصل كرنى چاہئے _ نيكى اور محبت كا اظہار كركے انھيں اپنا بنا لينا چاہئے _ كاموں ميں ان سے صلاح ومشورہ لينا چاہئے _ اپنى مشكلات كو ان سے بيان كركے ان كى رائے لينى چاہئے _ ان كى مفيد تجاويز اور ہدايات پر توجہ دينى چاہئے _ ان سے اپنى بيوى كى برائي نہيں كرنى چاہئے _ ايسا كام كرنا چاہئے كہ انھيں يقين ہوجائے كہ وہ ان كى بيٹى كا وفادار ہے _ اور واقعى اس كو چاہتا ہے _ اگر رائے نامناسب ہو تو يہ نہيں سمجھنا چاہئے كہ اس مين ان كى بدبينى كو دخل ہے بلكہ ايسى صورت ميں كوشش كرنى چاہئے كہ اچھے الفاظ ميں ثبوت و دلائل كے ذريعہ اس چيز كے مضر نتائج بيان كردے _ ان كى تجاويز كو غصہ يا بے اعتنائي كے ساتھ رد نہيں كردينا چاہئے حتى كہ اگر بيوى سے بھى كھٹ پٹ ہوگئي ہو تو اس كو شكايت كے طور پر نہيں بلكہ دوستانہ طريقے سے اور مدد طلب كرنے كى غرض سے ان سے بيان كرے اور ان كے خيالات سے استفادہ كرے _ مرد كو چاہئے كہ ہميشہ اس بات كو مد نظر ركھے كہ بيوى كے ماں باپ اور بھائي بہنوں سے محبت كرنا اور ان كا خيال ركھنا ، ازدواجى زندگى كا ايك بہت بڑا راز اور''زن داري'' كے لوازمات ميں شمار ہوتا ہے _ اس طرح سے وہ داماد پر مكمل اعتماد كرتے ہيں اور اس سے محبت كرتے ہيں اور شادى شادہ زندگى كى بہت سى مشكلات خودبخود حل ہوجاتى ہيں _ بنابراين جہاں

۲۰۱

يہ ديكھنے آتا ہے كہ اكثر داماد حو اپنى ساسوں سے پريشان ہيں تو ايسا نہيں ہے كہ سارى غلطى ساسوں كى ہى ہوتى ہے بلكہ وہ خود بھى بے قصور نہيں ہوتے _ كيونكہ يہ وہ خود ہوتے ہيں جو اپنے غير خرومند انہ طرر عمل سے ايك حقيقى خير خواہ كو مزاحمت كرنے والا سمجھ ليننے ہيں _

ايسے بہت سے داماد ہيں جواپنى بيوى كے ماں باپ اور بہن بھائيوں سے اچھے تعلقات ركھتے ہيں او ران كى محبت وحمابت سے بہرہ مند ہوتے ہيں _

ذيل كے نمونوں پر غور فرمايئے

منو چہر... لكھتا ہے : ميرى ساس ايك فرشتہ ہے بلكہ فرشتہ سے بھى بہتر ہے ميں اپنى ماں سے زيادہ ان سے محبت كرتاہوں ببجد مہربان ، نيك اور سمجھدار خاتون ہيں ، ميرى داخلى زندگى كى مشكلات كو ميرى ساس حل كرتى ہيں _ ان كا وجود ہمارے خاندان كى خوشبختى اور سعادت كا ضامن ہے ، البتہ ممكن ہے بعض ساسيں ضدى اور خود خواہ جن ميں سوجھ بو جھ اور لياقت نہ ہو اور ان كى بيجامد اخلتوں اور غير علاقلانہ تجاويز سے پيچھا چھڑا نا مشكل ہو _ ليكن ايسى صورت ميں بھى طلاح نہيں كہ ان سے لڑائي جھگڑا كيا جائے اورسخت و خشونت آميز رويہ اختيار كيا جائے _ بلكہ بہتر يہ ہے حتى الا مكان نرمى و محبت اور خوش اخلاقى كے ساتھ ان سے برتا ؤ كيا جائے _ اگر چہان كہ اصلاح نہيں كى جاسكتى ليكن اس طرح ان كى ضد اور اعتراضات كو كسى حد تك كنٹرول كيا جا سكتا ہے اور اس بڑ ے خطرے كوٹا لا جا سكتا ہے جو ممكن ہے ازدواجى زندگى كے محل كو چكنا چور كرد ے اس سلسلے ميں شوہر كے لئے لازم ہے كہ اپنى بيوى كے ساتھ مكمل مفا ہمت پيدار كرنے كى كوشش كرے اور اظہار محبت كے ذريعہ اس كے قلب كو مسخر كر كے اس كا اعتماد حاصل كرے _ اس كے بعد ساس كى بيجامد اخلتوں اور غلط تجاويز كے سلسلے ميں اپنى بيوى سے مناسب الفاظ ميں بات كرے اور اس كے خراب نتائيج كو بيان كرے اور دليل و ثبوت كے ذريعہ اسے سمجھا ئے كہ اس كى ماں كى تجاويز درست نہيں ہيں _

۲۰۲

اگر شوہر اپنى بيوى سے پورى طرح مفا ہمت پيدا كرلے اور اسے اپناہم خيال بنا لے تو سارى مشكلات منجملہ ساس كى مشكل بھى خود بخود حل ہو جائے گى _ بہر حال اس بات كو ہر گزفراموش نہيں كرنا چاہئے كہ نرمى اور خوش اخلاقى اور خردمند انہ تدبر كے ذريعہ تمام مشكلات آسانى كے ساتھ حل كى جا سكتى ہيں اور شادى كے مقدس بند ھن كو مستحكم كيا جا سكتا ہے _

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں : دوستى بڑھانا ، نصف عقل ہے _(۲۰۵)

حضرت على كايہ بھى ارشاد ہے كہ : لوگوں سے نزديكى اور ران سے خوش اخلاقى سے پيش آنے سے شراور برائيئں كى روك تھام ہوتى ہے_(۲۰۶)

حضرت على يہ بھى فرماتے ہيں كہ : جو شخص تم سے سختى سے پيش آور شايد اسى وسيلے سے وہ رام ہو جائے _(۲۰۸)

حضرت على ايك اور مو قعہ پر فرماتے ہيں : ايك دوسر ے سے نزديكى اختيار كرو _ اور احسان كرو _ لرالى جھگڑ ے اور دورى سے پرہيز كرو _(۲۰۸)

۲۰۳

دھيان ركھئے

عورت جذباتى ہوتى ہے اور اگثر اس كى عقل پر اس كے احساسات و جذ بات غالب آجاتے ہيں كرد كے مقابلے ميں عورت جلدى يقين كرليتى ہے اور جلدى فريب كھا ليتى ہے چونكہ حساس اور لطيف روح كى مالك ہوتى ہے اس لئے جلدى متاثر ہو جاتى ہے _ جلد كسى چيز كى شيفتہ ہو جاتى ہے جلدى آزردہ خاطر ہو جاتى ہے _ ظاہرى ہے _ ظاہرى چيزوں سے فريب كھا جاتى ہے _ اپنے احساسات پر كنٹرول پانا اس كے لئے دشوار ہے جب اس كے جذبات مشتعل ہوتے ہيں تو انجام كار سوچے بغير فيصلہ كرليتى ہے لہذااگر مرد اپنى بيوى كے اعمال و كردار پر نظر ركھے تو يہ چيزخاندان كے مفاد ميں ہوگى اور اس كے ذريعہ بہت سے احتمالى خطرات كى روك تھام كى جاسكتى ہے _ اسى لئے اسلام كے مقدس آئين ميں كرد كو خاندان كا سر پرست مقرر كيا گيا ہے اور اس كو

۲۰۴

ذمہ دارياں سو نپى گئي ہيں _ خداوند حكيم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

مرد عورتوں كے سر پرست ہيں كيونكہ خدانے بعض لوگوں كو بعض دوسروں پر برتى عطا كى ہے چونكہ مردوں نے عورتوں پراپنا مال خرچ كيا ہے _ پس نيك بخت بيبياں تو شوہر وں كى تا بعدارى كرتى ہيں اور ان كے پيٹھ پيچھے جس طرح خدانے حفاظت كى ہے وہ بھى ہر چيز كى حفاظت كرتى ہيں(۲۰۹)

مرد كوچونكہ خاندان كا سر پر ست مقرر كيا گيا ہے اس لئے وہ ايسا نہيں كرسكتے كہ اپنى بيوى كو بالكل آزاد چھوڑ ديں بلكہ ان كى مخصوص ذمہ دارى كايہ تقاضہ ہے كہ ہميشہ ان كى نگہبانى كريں اور اس كے اعمال و حركات پر نظر ركھيں تا كہ كہيں ايسانہ ہو كہ اپنى سادہ لوحى كے سبب منحرف نہ ہو جائے _ اگر ديكھے كہ فاسداورنا مناسب لوگوں كے ساتھ ميل جول ركھتى ہے تو اچھے الفاظ ميں اس كو متنبہ كرديں _ اور اس كے نقصان و ضررسے آگاہ كرديں اوران لوگوں سے اس كى دوستى و آمد و رفت كو حبس طرح بھى ہو منقطع كرديں _ اجازت نہ ديں كہ جسم كے خطوط كو واضح كرنے والے لباس اور سبح دھج كربا لكل آزادانہ طور پر گھر سے باہر نكلے اور غير وں كى پر ہوس نگاہوں كانشانہ نبے _ اجازت نہ دے كہ عيش و عشرت كى محفلوں ميں شركت كرے _ عورت كو اگر مطلق العنان اور بالكل آزاد چھوڑ ديا جا ئے اور لوگوں سے اس كے ميل جول اور آمد و رفت پر كوئي پابندى نہ ہو تو ممكن ہے شيطان صفت اور بد كار لوگوں كے دام ميں گرفتار ہو جا ئے اور اخلا قى بے راہروى كے دلدل ميں پھنس جائے _

شوہر كو چاہئے كہ ان بے گناہ خواتيں كے اعداد و شما ر پر نظر ڈالے جو اپنے شوہر وں كى عدم توجہ كاشكار ہو كردھوكہ بازوں اور مكار لوگوں كے جال ميں گرفتار ہو كر بد كارى اور گمراہى كے گڑھے ميں گر پريں _ اور قبل اس كے كہ ان كى معصوم بيوى بھى اس ميں پھنس جائے اس كى روك تھلم كريں _

ايسى بہت سى پاك دامن اور گھر بلوخواتيں ہيَ جو محض ايك نامناسب شنبہ پارٹى يا ايك

۲۰۵

فاسد محفل مين فريب كھا كر شوہر كى عزت وآبرو اور اپنے گھر باركو گنو ابيٹھيں _ جو شخص اپنى بيوى كو اجازت دتياہے كہ بغير كسى روك تھام كے جہاں چاہے جائے ہر قسم كى محفل ميں شركت كرے جس سے چا ہے ، دوستى كرے وہ خود اپنے آپ سے اور بيوى سے بہت بڑى خيانت كرتا ہے _ كيونكہ اسى كى غفلت كے سبب ايك بے گناہ خاتوں سينكڑوںخطرات مين گھر جاتى ہے جن سے پيچھا چھڑانا آسان كام نيہں ہے _ يہ چيز جلتى ہوئي آگ پرتيل چھڑ كنے كے مترادف ہے اور اس كے شعلوں سے محفوظ رہنے كى تو قع كرنا نہيت احمقانہ بات ہو گى _

كس قدر نادان ہيں وہ مرد جو اپنى بيوى بٹيوں كو نامناسب و ضع قطع ميں گھر سے باہر سڑكوں پر پھراتے ہيں اورنوجواں كى پر شوق نگاہوں كے لئے سامان بہم پہونچاتے ہيں اور پھر توقع ركھتے ہيں كہ ان پر كوئي ذرا سى بھى غلط نظر نہيں ڈالے گا اور وہ بڑى شرافت كے ساتھ گھر واپس آجائيں گى _

غلط اور جھوٹى آزادى سے بيحد خراب نتائج برآمد ہوتے ہيں _ بيوى اگر اپنے ناجائز مطالبات منوانے ميں كامياب ہوگئي اور اس نے ايك قدم آگے بڑھايا اور شوہر كو اپنا مطيع بنا سكى تو اس كى خواہشات اور مطالبات كا دائرہ روزبروز وسيع ہوتا جائے گا _ ايسى صورت ميں نہ صرف خود كہ بلكہ اپنے شوہر اور بچوں كو بھى بدبختى اور تاريك كے كنويں ميں ڈھكيل دے گى _

اسى وجہ سے پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں كہ مرد اپنے خاندان كا سرپرست ہوتا ہے اور ہر سرپرست پر اپنے ماتحتوں كى نسبت ذمہ دارى عائد ہوتى ہے _(۲۱۰)

پيغمبر اكرم (ص) يہ بھى فرماتے ہيں كہ عورتوں كو اچھے كام كرنے پر آمادہ كرو قبل اس كے كہ وہ تم كو برے كام كرنے پر مجبور كريں _(۲۱۱)

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں مرد كى سعادت مندى اسى ميں ہے كہ وہ اپنے خاندان كا سرپرست اورولى ہو _(۲۱۲)

پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى كى اطاعت كرے خدا اس كو آگ ميں ڈال دے گا _ لوگوں نے پوچھا يا رسول اللہ يہ كس قسم كى اطاعت كے بارے ميں آپ نے فرماياہے ؟ فرمايا: بيوى اگر چاہے كہ عوامى حماموں ، شادى بياہ كى محفلوں ، عيد اور سوگوارى كى مجلسوں ميں باريك اورزرق برق لباس پہن كر جائے اور شوہر اس كو اجازت ديدے _(۲۱۳)

۲۰۶

پيغمبر اكرم فرماتے ہيں كہ ہر وہ مرد كہ جس كى بيوى آرائشے كركے گھر سے باہر جائے بے غيرت ہے اور جو اسے بے غيرت كہے وہ گناہكار نہيں ہے اور جو عورت سج دھج كر اور خوشبو لگا كر گھر سے باہر جائے اوراس كا شوہر اس بات پرراضى ہو ، خدا اس كے ہر قدم پر اس كے شوہر كے لئے دوزخ ميں ايك گھرتعمير كرے گا _(۲۱۴)

آخر ميں دو باتوں كى ياد دہانى كرانا ضرورى معلوم ہوتا ہے :_

۱_ يہ صحيح ہے كہ مرد كو اپنى بيوى كى نگہبانى كرنى چاہئے ليكن يہ چيز نہايت عقلمند اور سمجھدارى سے كام لے كر نہايت متانت و احتياط كے ساتھ انجام دينا چاہئے _ حتى المقدور غصہ اور سختى سے اجتناب كرنا چاہئے _ حتى المقدور غصہ اور سختى سے اجتناب كرنا چاہئے _ جہاں تك ممكن ہو امر و نہى ''حكم'' كى صورت ميں نہ ہو كہ مباداى بيوى كو اپنى آزادى سلب ہوجائے اور قيد و بند كا احساس ہونے لگى اور اس كے نتيجہ ميں وہ اپنے رد عمل كا اظہار كرے اور بسا اوقات اس كا انجام ضد اور كشمكش ہو بہترين طريقہ يہ ہے كہ اظہار محبت اور خوش اخلاقى كے ذريعہ اس كا اعتماد حاصل كرے اور باہمى مفاہمت پيدا كرے _ ايك ہمدرد اور مہربان سرپرست كى مانند اچھے الفاظ ميں نرم و ملائم لہجے كے ساتھ ، خيرخواہى كے انداز ميں امور كى اچھائي اور برائي كو اس پر واضح كرے تا كہ وہ خود ہى خوشى خوشى دل سے اچھے كاموں كى طرف راغب رہے اور نامناسب كاموں سے پرہيز كرے _

۲_ مرد كو اعتدال اور ميانہ روى سے كام لينا چاہئے جس طرح كہ لاابالى پن او ر بالكل آزاد چھوڑدينا مناسب نہيں ہے اسى طرح سختى اور شك و شبہ كرنا درست نہيں عورت بھى مرد كى طرح آزاد پيدا كى گئي ہے اور اسے بھى آزادى كى ضرورت ہے _ بے خطر آمد و رفت او رلوگوں سے

۲۰۷

ملنے ملانے ميں اسے آزادى ہونى چاہئے _ اسے آزادى حاصل ہونى چاہئے كہ اپنے ماں باپ بہن بھائيوں اور دوسرے رشتہ داروں كے يہاں آئے جائے _ قابل اعتماد اور اچھے دوستوں سے تعلقات قائم ركھے سوائے ان موقعوں كے جس سے كسى نقصان كا خدشہ ہو ، اسے پورى آزادى ہونى چاہئے _ ہر حال ميں ممانعت اور پابندياں ايك حد تك ہونى چاہئيں _ اگر حد سے تجاوز كرگئيں اور سختى اور آزادى سلب كرلينے كى حد تك بڑھ گئيں تو اس كے نتائج اكثر بيحد خراب ہوتے ہيں _ دل ميں كدورت و تنفر پيدا ہوجاتا ہے _ خاندان كا باہمى خلوص اور صميميت ختم ہوجاتى ہے _ بيوى زيادہ دباؤ اور سختى ہونے كى صورت ميں ممكن ہے اس قدر عاجز آجائے كہ ان قيد و بند كو توڑكر ہر قيمت پر آزادى حاصل كرنے كا فيصلہ كرلے _ بلكہ طلاق يا عليحدگى اختيار كرنے پر بھى راضى ہوجائے _

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

... نام كى ايك نوجوان خاتون نے خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت ميں اخبار'' اطلاعات'' كے نامہ نگار سے كہا : پانچ سال قبل نام كے شخص سے ميرى شادى ہوئي تھى _ اس وقت ميں بيحد خوش تھى ليكن افسوس يہ خوش دائمى نہ تھى _ ميرا ايك بيٹا اور ايك بيٹى ہے كچھ دنوں سے ميرا شوہر شكى ہوگيا ہے اور ہر ايك كو شك و شبہ كى نظر سے ديكھنے لگا ہے _ جس كى وجہ سے ہمارى زندگى تلخ ہوگئي ہے _ مجھے كسى سے ملنے جلنے نہيں ديتا _ حد تو يہ ہے كہ جب گھر سے باہر جاتا ہے تو باہر سے دروازے ميں تالا لگاكر جاتاہے تا كہ جب تك وہ لوٹ نہ آئے ميں اور بچے گھر كے قفس ميں قيد رہيں حتى كہ مجھے اتنى بھى آزادى حاصل نہيں كہ كبھى كبھى اپنے ماں باپ سے ملنے چلى جايا كروں _ ميرے خاندان والے بھى ميرے شوہر كى ان عادتوں كے سبب مجھ سے ملنے نہيں آتے _ اب ميرا دل غم سے پھٹا جاتا ہے _ ايك طرف اپنے بچوں كے مستقبل كا خيال آتا ہے دوسرى طرف اب اس صورت سے جينا دو بھر ہوگيا ہے _ ميں عدالت سے طلاق حاصل كرنے آئي ہوں _(۲۱۵)

افسوس ہے كہ اس قسم كے مردوں كى بڑى تعداد پائي جاتى ہے جو بيجا شك و شبہ يا غلط عادتوں

۲۰۸

كے سبب اپنے بيويوں پر اس قدر سختى كرتے ہيں كہ ان بيچاريوں كى جان پر بن جاتى ہے اور باوجود اس كے اپنے شوہر اور بچوں سے محبت كرتى ہيں ناچار عليحدہ ہوجانے پر مجبور ہوجاتى ہيں _

آخر يہ كون سى مردانگى ہے كہ مر د اپنى طاقت و قدرت اور مردانگى كا مظاہرہ كرنے كے لئے بے گناہ بيوى پر اتنا ظلم و ستم ڈھائے _ حتى كہ اس كو اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں سے ملنے جلنے كا حق بھى حاصل نہ رہے؟

كيا آپ نے كبھى سوچاہے كہ يہى سختياں بعض اوقات پاكدامن عورتوں كے گمراہ ہوجانے كا سبب بن جاتى ہيں؟

كيا آپ نے كبھى اس بات پر غور كيا ہے كہ اس قسم كى غلط سختيوں اور پابنديوں كے نتيجہ ميں بعض خاندان كيسے تباہ و برباد ہوجاتے ہيں _

فرض كيجئے كوئي عاقل اور جانثار قسم كى خاتون كسى طرح ايسے حالات سے سمجھوتہ كرلے ليكن بلاشك ايسے خاندان سے محبت و خلوص اورسكون ناپيد ہوجائے گا _ بھلا يہ كس طرح اميد كى جا سكتى ہے كہ وہ خاتون جو خود كو بالكل بے اختيار، مجبور اور قيدى سمجھے، شوہر اور بچوں سے اظہار محبت كريگى اور نہايت دلچسپى ، توجہ اور دلجمعى كے ساتھ گھر كے كام كاج كو انجام دے گي؟

تنبيہ

مياں بيوى چونكہ ايك مشتركہ خاندانى زندگى كى تشكيل كرتے ہيں لہذا گھر كے امور كى انجام وہى ميں دونوں ميں ہم آہنگى اور باہمى كوشش و مشاركت ہونى چاہئے _ ليكن بہرحال بعض امور كے متعلق دونوں كے مختلف نظريات بھى ہوتے ہيں _ مرد چاہتا ہے كہ خاندان كے تمام امور اس كى مرضى و خواہش كے مطابق انجام پائيں اور بيوى اس كى مطيع ہو _ اس كے برعكس بيوى كى بھى يہى خواہش ہوتى ہے _

ايسے ہى موقعوں پر طرفين كى جانب سے احكام صادر كرنا اور اس كى مخالفت كرنے كا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور مخالفتوں اور كشمكشوں كا آغاز ہوتا ہے _ اس كا بہترين طريقہ يہى ہے كہ مياں بيوي

۲۰۹

ايك دوسرے پر احكام صادر كرنے اور روك ٹوك لگانے سے دستبردار ہوجائيں اورجن امور ميں اختلاف نظر پايا جاتا ہو اس ميں باہمى صلاح و مشورہ اور تبادلہ خيالات كے ذريعہ مفاہمت پيداكرليں اور اگر ہٹ دھرمى اور زور زبردستى سے كام نہ ليں تو زيادہ تر مسائل آسانى سے حل ہوجائيں گے اور دونوں آپس ميں مفاہمت پيدا كرليں گے كيونكہ ان ميں سے كسى كو بھى يہ حق نہيں ہے كہ اپنے عقيدے اورنظريات كودوسرے پر زبردستى مسلط كرے اور اپنے حكم كے مطابق عمل كرنے پر مجبور كرے _ اور خلاف ورزى كى صورت ميں اسے كوئي حق نہيں پہونچتا كہ اس كى سرزنش و تنبيہ كرے _ ليكن بعض مرد يہ بہانہ كركے كہ وہ خاندان كے ولى و سرپرست ہيں اپنے لئے اس حق كو روا سمجھتے ہيں_ وہ سمجھتے ہيں كہ ان كو زور زبردستى كے ذريعہ اپنے خيالات منوانے كا پورا اختيار ہے اور انھيں يہ حق حاصل ہے كہ وہ اپنى مرضى كے مطابق حكم چلائيں اورروك ٹوك لگائيں _ اس قسم كے مرد سمجھتے ہيں كہ ان كى بيوى كا فرض ہے كہ ان كے احكام كى پابندى كرے اور كسى صورت ميں بھى خلاف ورزى نہ كرے اور خلاف ورزى كى صورت ميں وہ اپنے آپ كو حق بجانب سمجھتے ہيں كہ اس پر عتاب نازل كريں _ اسے برا بھلا كہيں _ برے لہجے ميں خطاب كريں _ اسے دھمكى ديں اور اس كى سرزنش كريں اور ايسا غير اخلاقى رويہ اختيار كرنا وہ اپنا شرعى حق سمجھتے ہيں _ حتى كہ بعض اوقات اسے اذيت پہونچاتے ہيں اور مارتے پيٹتے ہيں _

حالانكہ مرد كو ہرگز يہ حق حاصل نہيں ہے كہ وہ اپنى بيوى كو اذيت و آزار پہونچائے اوراسے مارے پيٹے _ زمانہ جاہليت ميں جبكہ مرد مہربانى او رانسانيت سے بہت كم بہرہ مند تھے اپنى بيويوں پر ظلم و ستم كرتے تھے ان كو مارتے پيٹتے تھے اسى لئے رحمت للعالمين پيغمبر اسلام (ص) نے اس غلط اوربيہودہ رسم كو ختم كيا اور فرمايا: جو مرد اپنى بيوى كے منہ پرتھپڑمارے گا خداوند عالم دوزخ كے مالك فرشتہ كو حكم دے گا كہ دوزخ ميں اس كے منہ پر ستر تھپڑمارے _ جو مرد كسى مسلمان عورت كے بالوں كو ہاتھ لگائے گا ( يعنى اذيت پہونچانے كى خاطر بال نوچے گا ) دوزخ ميں اس كے ہاتھوں ميں آتشيں كيليں ٹھونكى جائيں گى _(۲۱۶)

۲۱۰

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے عورتوں كو مارنے كى ممانعت فرمائي ہے سوائے ايسى صورت ميں كہ جب تنبيہ واجب ہو _(۲۱۷)

اسلام كے پيغمبر (ص) عاليقدر فرماتے ہيں : جو مرد اپنى بيوى كو مارتا ہے اور تين سے زيادہ بارضرب لگاتا ہے خدا اس كو قيامت ميں مخلوق كے سامنے رسوا كرے گا اور پہلى اور بعد كى تمام مخلوقات ايسے مرد كا تماشہ ديكھيں گى _(۲۱۸)

پيغمبر اكرم (ص) فرماتے ہيں : ميں ايسے مرد پر حيرت كرتاہوں جو اپنى بيوى كو مارتا ہے حالانكہ اپنى بيوى سے زيادہ وہ خود ماركھانے كے لائق ہے _ اے لوگو اپنى بيويوں كو لكڑى سے نہ مارو_ كيونكہ اس كا قصاص ہے _(۲۱۹)

جو مرد اپنى بيوى كو مارتا ہے اور اس پر ظلم و ستم كرتا ہے وہ ستم گر اور ظالم ہے اور اس دنيا ميں بھى اور آخرت ميں بھى اس كى سزاپائے گا _ وہ بھى ايسى ناتواں اورنازك صنف پر ظلم كرنا جو سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ شوہر كے گھر آئي ہے _ يہ سوچ كر آئي ہے كہ اس پناہ ميں عزت و آبرو كے ساتھ زندگى گزارے گى اور وہ اس كا حامى و مددگار اورغمخوار ہوگا اور مشكلات ميں اس كى مدد كرے گا _

عورت خدا كى جانب سے ايك امانت ہے جو مرد كو سونپى گئي ہے _ كيا كوئي امانت الہى كے ساتھ ايسا سلوك كرتا ہے ؟

امير المومين حضرت على (ع) فرماتے ہيں : عورتيں مردوں كو امانت كے طور پر سونپى گئي ہيں _ وہ اپنے نفع و نقصان كى مالك نہيں ہيں _ وہ تمہارے پاس خدا كى امانت كے طور پر ، ميں ان كو تكليف نہ پہونچاؤ اور ان پر سختى نہ كرو_(۲۲۰)

جو مرد اپنى بيوى پر ہاتھ اٹھاتے ہيں وہ اس كى روح پر كارى ضرب لگاتے ہيں اور اس سے دل ميں جو گرہ پڑجاتى ہے اس كو دوركرنا محال ہوتا ہے _

۲۱۱

خاندان كا سكون چين ختم ہوجاتا ہے _ ميرى سمجھ نہيں آتا كہ جو شوہر اپنى بيوى كى تحقير و توہين كرتے ہيں آور اسے مارتے پيٹتے ہيں كس منہ سے ازدواجى روابط برقرار كرتے ہيں _ واقعاً قابل شرم بات ہے _ حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : اے لوگو تم ميں سے جو لوگ اپنى بيوى كو مارتے ہيں پھر كس طرح اس كو اپنى آغوش ميں لے ليتے ہيں؟(۲۲۱)

لہذا ايسى صورت ميں شوہر كا اپنى بيوى پر كوئي حق نہيں رہ جاتا_ اور شرعاً ، قانوناًاور اخلاقاً اس كو حق حاصل نہيں كہ بيوى كو كسى كام پر مجبور كرے اور خلاف ورزى كى صورت ميں اس كى تنبيہ كرے اور مارے پيٹے _ مثلاً بيوى شرعى طور پر ذمہ دار نہيں ہے كہ گھر كے كام انجام دے _ مثلاً گھر كى صفائي كرنا _ كھانا پكانا_ برتن دھونا _ كپڑے دھونا، بچوں كى ديكھ بھال كرنا ، سلائي بنائي كرنا اور اس قسم كے دوسرے گھريلو كام انجام دينا عورت پر شرعى اعتبار سے واجب نہيں ہے _ حالانكہ عورتيں نہايت شوق ودلچسپى سے گھر كے كاموں كو انجام ديتى ہيں اور اس سلسلے ميں كوئي حرف شكايت زبان پر نہيں لاتيں _ ليكن يہ سب ان كے اوپر واجب نہيں ہے شوہر كو چاہئے ان كاموں كى انجام دہى پر اپنى بيوى كاشكريہ ادا كرے اس كى قدردانى كرے اور اظہار تشكر كے ذريعہ اس كى ہمت افزائي كرے _ ليكن اگر وہ بعض كاموں كو انجام نہ دے يا اچھى طرح نہ كرے تو مرد كو يہ حق نہيں پہونچتا كہ بيوى كى تنبيہ و سرزنش كرے اور اس كو مارے پيٹے_

اسلام نے صرف اسى صورت ميں تنبيہ كو جائز قرار ديا ہے جہاں پر شوہر كا حق ضائع ہورہا ہو _ او راس كى دو صورتيں ہيں _

۱_ مرد كو شرعى اور قانونى طور پر حق حاصل ہے كہ اپنى بيوى سے جنسى تعلقات قائم كرے اور اپنى خواہشات كے مطابق اس سے لذت حاصل كرے اور بيوى كى يہ قانونى اور شرعى ذمہ دارى ہے كہ شوہر كى جنسى خواہشات كى تكميل كرے اور اپنے آپ كو اس كے اختيار ميں ديدے اگر بيوى جنسى خواہشات كى تكميل سے دريغ نہيں كرتى تو كوئي مشكل پيدا نہيں ہوگى البتہ اگر مرد كو

۲۱۲

جنسى خواہش كى انجام دہى سے روكے تو ايسى صورت ميں بہتر ہے كہ مرد پہلے تو بيحد محبت و نرمى سے سمجھائے بلكہ اس كو تحفے تحائف دے كر اس كا دل اپنے ہاتھ ميں لے لے ليكن اگر محسوس كرے كہ بيوى كا مقصد اذيت پہونچانا ہے اور محض اپنى ضد كى وجہ سے كسى طرح راضى نہيں ہوتى اور مرد كے لئے صبر و ضبط مشكل ہے تو ايسے موقعہ پر شوہر كو تنبيہ كرنے كا حق حاصل ہے ليكن اس ميں بھى احتياط اور حفظ مراتب كاخيال ركھے ايسے ہى موقعہ كے لئے قرآن مجيد ميں كہا گيا ہے : تمہارى بيوياں اگر تمہيں تمہارى جنسى خواہشات كى تكميل سے روكيں تو پہلے انھيں سمجھاؤ اس پر بھى نہ مانيں توان كے ساتھ سونا چھوڑدو_ اور اس كے بعد بھى نہ ماميں توان كو مارو _ (مگر اس طرح سے كہ خون نہ نكلے اور كوئي عفو نہ ٹوٹے)پس اگر وہ تمہارى بات مان جائيں تب ان پر ظلم كرنا جائز نہيں _ خدا تو سب سے بزرگ و برتر ہے _(۲۲۲)

جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا خداوند تعالى نے اس آيت شريفہ ميں شوہر كو اجازت دى ہے كہ اگر تمہارى بيوى ، تمہارے جائز مطالبات پورے نہ كرے _ يعنى تمہيں جنسى تسكين بہم پہونچانے سے گريز كرے اور اس سے اس كا مقصد تم كو اذيت پہونچانا ہو توايسى حالت ميں تم كو تنبيہ كرنے كا حق ديا گيا ہے وہ بھى تين مرحلوں ميں پند ونصيحت اور پيار ومحبت سے راضى كرنا _

۲_ پند ونصيحت سے كام نہ چلے توان سے اپنے بستر جداكر لويا بستر ميں ان كى طرف پشت كركے سؤو اوراس طرح اپنى ناراضگى اور غصے كا اظہار كرو_

۳_ اگر يہ عمل بھى مؤثرثابت نہ ہو اور بيوى اسى طرح اپنى ضد پر قائم رہے اور مرد كو اجازت نہ دے كہ وہ اپنے جائز اور قانونى حق سے استفادہ كرے تو صرف ايسى صورت ميں مارسكتا ہے ليكن اس حالت ميں بھى مرد كو يہ حق حاصل نہيں كہ حد سے تجاوز كر جائے اور ظلم و ستم كرنے لگے _ اس سلسلے ميں بھى چند نكات كو پيش نظر ركھنا چاہئے _

۱_ ضرب لگانے كا مقصد اصلاح ہو نہ كہ انتقام جوئي_

۲_ يا توہاتھ سے يانازك لكڑى سے يہ كام انجام دے _ جيساكہ روايات ميں آيا ہے مسواك

۲۱۳

كى لكڑى ہونى چاہئے _

۳_ اس طرح مارے كہ اس كا بدن سياہ يا سرخ نہ ہوجائے ورنہ اس كو جرمانے كے طور پر قصاص دينا پڑے گا _

۴_ ان جگہوں پر ضرب لگانے سے قطعى طور پر اجتناب كرے جونازك ہيں اور نقصان پہونچنے كا احتمال ہو مثلاً آنكھ ، سر پيٹ_

۵_ ضرب اس طرح نہ لگائي جائے كہ شديد كدورت كا سبب بن جائے او ربيوى كو اور زيادہ ضد او نفرت پيدا ہوجائے _

۶_ ہميشہ اس بات كو مد نظر ركھنا چاہئے كہ وہ خاتون اس كى بيوى ہے اور اس كے ساتھ اسے زندگى بسر كرنا ہے _ سچى محبت اور خلوص كے ساتھ ہى وہ اس كے وجود سے استفادہ كرسكتاہے _

۷_ ضرب سے كام لينا صرف اسى صورت ميں تجويز كيا گيا ہے كہ بيوى اس كے جنسى مطالبات كو پورا كرنے سے معذور نہ ہو _ مثلاً حيض كى حالت ميں ، رمضان ميں روزہ كى حالت ميں ، حالت احرام ميں ، يا بيمار ہونے كى صورت ميں اس كى خواہش پورى كرنے سے مانع رہے تو ايسى صورت ميں مرد كو ہرگز اسے تنبيہ كرنے كا حق نہيں ہے _

بيوى اگر گھر سے باہر جانا چاہتى ہے تو اسے اپنے شوہر سے اجازت حاصل كرنى چاہئے اگر اجازت نہ دے تو شرعاً اسے گھر باہر جانے كاحق نہيں ہے اور اگر اجازت كے بغير گھر سے باہر جائے گى تو گناہ كى مرتكب ہوگى _

حديث ميں آيا ہے كہ پيغمبر اكرم نے اس بات كى ممانعت كى ہے كہ عورت شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر نكلنے اور فرمايا ہے كہ جو عورت اپنے شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جاتى ہے تو تمام آسمانى فرشتے اور جن وانس اس پر اس وقت تك لعنت بھيجتے رہتے ہيں جب تك وہ گھر واپس نہيں آجاتى _(۲۲۳)

۲۱۴

ليكن مرد كو اس سلسلے ميں سختى سے كام نہيں لينا چاہئے اور اپنے اس حق كے ذريعہ اسے اذيت نہيں پہونچانى چاہئے _ بہتر ہے جہاں جانے ميں كوئي ہرج نہ ہوں وہاں جانے سے نہ روكے اور اسے جانے كى اجازت ديدے اس كو يہ حق اپنى طاقت و قدرت كا مظاہرہ كرنے اور بيوى پر بيجا دباؤ ڈالنے كى غرض سے نہيں ديا گيا ہے بلكہ اس كا مقصد يہ ہے كہ مرداپنى بيوى كو نامناسب جگہوں پر جانے سے بازركھے اور اس كى عصمت و آبرو كى حفاظت كرے _

بيجا سختياں نہ صرف يہ كہ مفيد ثابت نہيں ہوتيں بلكہ خاندان ميں ايك دوسرے پر سے اعتماد اٹھ جاتاہے اور باہمى انس و محبت باقى نہيں رہتا _ حتى كہ بعض اوقات سركشى اور انحراف كا سبب بنتا ہے البتہ اگر ديكھے كہ وہ مناسب جگہ پر جاتى ہے جو اخلاقى پستى اور گناہ كے ارتكاب كا باعث بنتا ہے ايسى حالت ميں بيوى كو سختى سے منع كردينا چاہئے اور عورت پر بھى واجب ہے ،كہ اطاعت كرے اور ايسى محفل ميں جانے سے پرہيز كرے _

اگر بيوى شوہر كے احكام كى خلاف ورزى كرے اور بغير اجازت يا شوہر كے منع كرنے كے باوجود گھر سے باہر جائے تو مرد كو حق حاصل ہے كہ اس كو اسى صورت سے جيسا كہ پہلے ذكر كيا جا چكا ہے تنيہ كرے _ ان ہى مراحل اور شرائط كا لحاظ ركھے _ البتہ بيوى چند حالتوں ميں شوہر كى اجازت كے بغير گھر سے باہر جا سكتى ہے اور شوہر كو حق نہيں كہ اسے روكے _

۱_ دين كے ضرورى مسائل سيكھنے كے لئے گھر سے باہر جانا _

۲_ استطاعت كى صورت ميں حج كے لئے سفر كرنا _

۳_ قرض ادا كرنے كے لئے گھر سے باہر جانا جبكہ گھر سے باہر جائے بغير ممكن نہ ہو _

شكّى مرد

يہ صحيح ہے كہ شوہر كو اپنى بيوى كى نگرانى كرنا چاہئے ليكن نہ اس طرح كہ شك و شبہ كى حد تك بڑھ جائے _ بعض مرد بدگمانى اور شك كى بيمارى ميں مبتلا ہوتے ہيں اور بلا سبب اپنى بيوى پر شك

۲۱۵

كرتے رہتے ہيں اور سمجھتے ہيں كہ وہ ان كى وفادار نہيں ہيں _

جو مرد اس خانماں سوز مرض ميں مبتلا ہوتے ہيں وہ خود اپنى اور اپنے خاندان كى زندگياں تلخ كرديتے ہيں _ بہانے تلاش كرتے ہيں اور اعتراض كرتے ہيں _ اپنى بيوى كى حركات و سكنات كو شك كى نظرسے ديكھتے ہيں اور سايہ كى طرح اس كا پيچھا كرتے ہيں چونكہ دل ميں شك ہوتا ہے اس لئے انھيں دروديوار پر شك ہوتا ہے _ جو چيزيں خيانت اور بے وفائي كى دليل نہيں ہوتيں ، اپنے وہم كے سبب ان باتوں كو بھى بيوى كى بے وفائي كى قطعى دليل تصوركر ليتے ہيں _ مثلاً فلاں مرد نے چونكہ اس كو خط لكھا ہے يقينا دونوں ميں تعلقات رہے ہوں گے فلاں جوان كى فوٹو اس كے پاس تھى ضرور اس كو چاہتى ہوگى _ فلاں مرد نے سلام اور احوال پرسى كى تھى اس سے پتہ چلتا ہے كہ بيوى وفادار نہيں جوان ہمسائے نے كوٹھے كى چھت سے اس پر نظر ڈالى تھى يقيناً دونوں ايك دوسرے كو چاہتے ہيں _ يا بيوى نے فلاں مرد كى تعريف كى نھى اس كا مطلب ہے وہ اس پر فريفتہ ہے _ يا بيوى نے خط مجھ سے چھپايا تھا يقينا وہ اس كے معشوق كا خط ہوگا _ يا پہلے كے مقابلے ميں اب مجھ سے كم اظاہر كرتى ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے كسى اور كو چاہنے لگى ہے _ يا ميرى بيٹى كى شكل مجھ سے نہيں ملتى اس سے بيوى كى خيانت ظاہر ہوتى ہے _

غرضكہ شكى مرد اس طرح كى بلكہ اس بھى معمولى باتوں كو خيانت كى قطعى دليل مان كر بيوى پر شك كيا كرتے ہيں _ اس سے بھى بدتر تو اس وقت ہوتا ہے جب اس كى ماں ، بہن يا كوئي ہمسايہ دشمنى يا جلن كے سبب اس كے خيال كى تائيد كردے _ اس صورت ميں بيوى كا جرم و خيانت ان كى نظر ميں يقينى ہوجاتا ہے _

جو بد نصيب خاندان شك كے مرض كا شكار ہوجاتے ہيں انھيں كبھى سكون و چين نصيب نہيں ہوتا مرد ايك خفيہ پوليس كى مانند ہميشہ اپنى بيوى كے ہر ہرفعل كى نگرانى كرتا ہے اور معمولى معمولى باتوں پر اسے شك ہوتا ہے اور دائمى طور پر پريشانى ميں مبتلا رہتا ہے _ بيچارى بيوى بھى ہميشہ ايك بے گناہ

۲۱۶

مجرم كى مانند ذہنى اذيت و پريشانى ميں مبتلا رہتى ہے _ اور سخت پابنديوں اور كڑى نگرانى كى حالت ميں زندگى گزارنے پر مجبور ہوتى ہے _

ايسے خاندان كى بنياديں ہميشہ متزلزل رہتى ہيں اور ہروقت طلاق كا خطرہ لاحق رہتا ہے شك و شبہ كے نتيجے ميں قتل و غارت گرى تك كى نوبت آجاتى ہے _

ايسے مردوں كى كافى تعداد پائي جاتى ہے جنھوں نے اپنى بے گناہ بيويوں كو اپنى بيجا بد گمانى كے سبب قتل كرديا اور خود بھى خودكشى كرلى _

شادى شدہ زندگى كے لئے يہ چيز نہايت خطرناك ہے ، ايسے موقعہ پر مياں بيوى كو ضد اور ہٹ دھرمى چھوڑدينا چاہئے اور ناگوار حادثات كے وقوع ميں آنے سے قبل ہى عقل و تدبر سے كام لے كر اس كا حل تلاش كرلينا چاہئے _ مياں بيوى اگر ذرا بھى سمجھدارى سے كام لے كر اس عظيم خطرہ كو ، جوكہ ان كى تا ك ميں ہے ، محسوس كر ليں اور احتياط و عاقبت انديشى كے ساتھ اس مسئلہ كو حل كرنے كى كوشش كرليں تو يہ كوئي ايسا دشوار اور ناقابل حل مسئلہ نہيں ہے _ مرد كو چاہئے بيجا وہم اور شك و شبہ سے پرہيز كرے اورسمجھدارى سے كام لے _ كسى پزشك كرنا بہت اہم اور بڑى ذمہ دارى كى بات ہے _ جب تك ٹھوس ثبوت و دلائل كے ذريعہ خيانت ثابت نہ ہوجائے كسى پر تہمت نہيں لگائي جا سكتى _

خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے : اے لوگوجو ايمان لائے ہو، بہت سى بدگمانيوں سے اجتناب كرو كيونكہ بعض بدگمانياں گناہ ہوتى ہيں _(۲۲۴)

حضرت رسول اكرم صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں : جو شخص اپنى بيوى كو بلا سبب زنا كى تہمت لگائے ، اس كى سارى نيكيوں كا ثواب اس سے اس طرح الگ ہوجاتا ہے جس طرح سانپ اپنى كينچلى سے باہر نكل آتا ہے اور اس كے بدن كے ہر بال كے برابر ہزار گناہ اس كے نامہ اعمال ميں لكھے جاتے ہيں _(۲۲۵)

پيغمبر اكرم(ص) فرماتے ہيں: جو شخص كسى مومن مرد يا عورت پر بہتان باندھے گا _ خداوند عالم قيامت ميں اس كو آگ كى بھٹى پر ركھے گا تا كہ اپنے جرم كى سزاپائے _(۲۲۶)

۲۱۷

جب تك بيوى كى خيانت شرعى طور سے دليل و ثبوت كے ذريعہ ثابت نہ ہوجائے مرد كو حق نہيں كہ اس كو ملزم ٹھہرائے _ بيوى پر جھوٹى تہمت لگانا اتنا عظيم گناہ ہے كہ اسلام ميں اس كى سزا ۸۰ كوڑے مقرر كى گئي ہے _

صرف احتمال كى صورت ميں يا خيالى علائم و شوہاہد كے سبب ايك ايسے اہم موضوع كو ثابت نہيں كيا جا سكتا _ مثلاً جوانى ميں كسى كو خط بھيجا يا كسى نے اس كو خط يا فوٹوا بھيج ديا تو يہ اس كى خيانت كى دليل نہيں ہوسكتى _

يہ صحيح ہے كہ اس قسم كے كام ہرگز نہيں كرنا چاہئيں _ البتہ ہوسكتا ہے سادگى يا نادانى كے سبب اس غلطى كى مرتكب ہوگئي ہو ليكن حقيقتاً پاكدامن اور عفيفہ ہو جوانى ميں اس قسم كى غلطياں سرزد ہوجاتى ہيں _ اگر كوئي مرد خط بھيجتا ہے تو اس كا خط قبول نہيں كرنا چاہئے ليكن اگر نادانى كے سبب خط قبول كرليا يا بدنامى كے خوف سے چھپاديا تو صرف اس خط كو خيانت كى دليل نہيں ٹھہارايا جا سكتا اگر كسى غيرمرد كو سلا م كرليا اور احوال پرسى كرلى ،اگر چہ كسى غير مرد سے گرمجوشى كا اظہار كرنا اچھى بات نہيں ليكن صرف يہ بات خيانت كى دليل نہيں ہوسكتى _ ممكن ہے اپنے خيال ميں خوش اخلاقى كا مظاہرہ كرنا چاہتى ہو يا كوئي دوسرى وجہ ہوسكتى ہے _ ممكن ہے اس كے باپ يا بھائي كے دوستوں ميں سے ہو ، يا كسى رشتے سے اس سے پہلے سے واقفيت رہى ہو _ اگر كسى مرد كى تعريف كردى تو يہ اس بات كى دليل نہيں ہے كہ اس پر فريفتہ ہے اگر چہ بيوى كے لئے يہ مناسب نہيں كہ اپنے شوہر كے سامنے كسى دوسرے مرد كى تعريف كرے ليكن شايد سادگى يا عدم توجہ كے سبب ايسا كيا ہو_ ليكن محض اس بات كو خيانت كى علامت نہيں سمجھنا چاہئے _

اگر اپنے خط كو پوشيد ہ ركھتى ہے يا كسى بات ميں جھوٹ بولا يا غلط بيانى كردى تو يہ چيز بھى خيانت كى دليل نہيں _ ممكن ہے بدنامى كے خوف سے خط چھپا ديا ہو يا خط ميں جو بات لكھى ہوا سے اپنے شوہر سے مخفى ركھنا چاہتى ہو _ يا غلط بيانى كى كوئي اور وجہ بھى ہوسكتى ہے _ اگر پہلے كى بہ نسبت

۲۱۸

كم اظہار محبت كرتى ہے تو يہ اس بات كى دليل نہيں كہ اس نے كسى دوسرے سے دل لگاليا ہے اس كى دوسرى وجوہات ہوسكتى ہيں _ كسى بات پر ناراض يا غصہ ہو ، بيمار ہو ، شوہر كى بے توجہى اورعدم اظہار محبت كے سبب دل برداشتہ ہوگئي ہو _ بہر حال اس قسم كى باتوں كو خيانت كى علامت ہرگز نہيں كہا جا سكتا _ مختصراً يہ كہ جو باتيں شك كا باعث بنتى ہيں اگر نيك نيتى سے ان پر غور كيا جائے تو وہ اصل ميں نہايت معمولى معلوم ہوں گى _

برادر عزيز خدا كے لئے بد ظنى اور شك ووسواس چھوڑديجئے _ ايك عادل قاضى كى مانند اپنى بيوى كى خيانت كے شواہد و دلائل كا نہايت توجہ اور انصاف كے ساتھ جائزہ ليجئے اور خوب سوچ سمجھ كر ان دلائل كو پركھئے اور ديكھئے كہ كيا آپ كا شك واقعى درست ہے يا صرف بد گمانى ہے ؟

ہم يہ نہيں كہتے كہ لا ابالى اور بے غيرت بن جايئےلكہ ہمارا مقصد يہ ہے كہ جو چيز پورى طرح ثابت ہوجائے صرف اسى پر يقين كيجئے اس سے زيادہ نہيں _

بيجا توہمات اور مہمل شواہد پر يقين كركے كيوں اپنى اور اپنے خاندان كى زندگى عذاب ميں مبتلا كرنے كے درپے ہيں _ اگر اسى قسم كے خيالى شواہد كى بناء پر كوئي آپ پر الزام لگائے تو آپ پركيا گزرے گي؟ انصاف اور ضمير كا تقاضہ كيا ہے ؟ كيوں اپنى اور اپنى بيوى كى عزت و آبرو خاك ميں ملا نے پر تلے ہوئے ہيں ؟ اس كے حال زار پر آپ كو رحم نہيں آتا؟ كيا آپ نہيں سوچتے كہ ممكن ہے آپ كى بددلى اور بيجا تہمتوں كا نتيجہ يہ ہو كہ آپ كى پاكدامن بيوى عفت و عصفمت كى وادى سے نكل كرتباہى و گمراہى كے گڑھے ميں جاگرے؟

حضرت على (ع) نے اپنے بيٹے سے فرمايا: دھياں ركھو جہاں ضرورت نہ ہو وہاں غيرت مندى نہ دكھاؤ_ كيونكہ يہ عمل صحيح افراد كو گمراہى كى طرف اور پاكدامن افراد كو گناہ كى جانب مائل كردينے كا سبب بنتاہے _(۲۲۷)

۲۱۹

اگر آپ كو اپنى بيوى پر سك ہے تو يہ بات ہر ايك سے بيان نہ كيجئے كيونكہ ممكن ہے كچھ لوگ دشمنى ہا نادانى كے سبب يا ہمدردى جتانے كے لئے بغير تحقيق كئے آپ كے خيال كى تائيد كرديں بلكہ كچے اور بے بنياد باتوں كا بھى اضافہ كرديں جو آپ كے شك كو يقين ميں بدل دے اور آپ كى دنيا و آخرت تباہ ہوجائے _ خاص طور پر اس سلسلے ميں اپنى ماں بہنوں سے ہرگز بات نہ كريں كيونكہ عام طور پر ساس ننديں بہوسے رقابت ركھتى ہيں ايسے مواقع پر توان كے حسد و كينہ ميں تحريك پيداہوگى اور وہ انجام سوچے سمجھے _ بغير آپ كے شك كو مزيد تقويت پہونچانے كے اسباب فراہم كرديں گى _ اگر آپ دوسروں كى رہنمائي حاصل كرنا چاہئے ہيں تو اپنے عاقل ، تجربہ كار، خيرخواہ اور عاقبت انديش قسم كے دوستوں سے مشورہ ليجئے _ سب سے بہتر طريقہ تو يہ ہے كہ اپنى بيوى كے جن اعمال و حركات پر آپ كو شك ہے ان كے متعلق نہايت صبروسكون اور صراحت كے ساتھ اپنى بيوى سے بات كيجئے اور وضاحت طلب كيجئے _ ليكن اس سے آپ كا مقصد ، ہر حال ميں اپنے شك كو ثابت كرنا نہ ہو _ بلكہ وقتى طور پر شك كو اپنے ذہن سے نكال ديجئے اورايك عادل قاضى كى مانند اپنى بيوى كى وضاحتوں كو غور سے سنئے اور اس كى توضيات كو يكسر غلط نہ سمجئھے تھوڑى دير كے لئے فرض كر ليجئے كہ آپ كا بہنوئي آپ كے پاس فيصلہ كرانے آيا ہے اور اپنى بيوى كى اس قسم كى شكايت كرتا ہے _ ديكھئے آپ اس كا فيصلہ كس طرح كريں گے؟

اپنى بيوى كے سلسے ميں بھى اسى طرز فكر سے كام ليجئے _ اس كا گريہ زارى اور دليل و ثبوت آپ كے پتھر دل پر اثر كيوں نہيں كرتا ؟ آپ كو اس كى باتوں پر يقين كيوں نہيں آتا ؟ بردبار اور عاقل بنئے _ مبادا فقط ان بے بنياد شك و شبہات كى بناء پر آپ اپنى بيوى كو طلاق دے ديں اور اپنى اور اس كى زندگى تباہ كرليں _ فرض كيا اس بيوى كو طلاق ديدى اور بہت زيادہ اخراجات برداشت كرنے كے بعد ايك دوسرى بيوى كا انتخاب كرليا تو كيا گارنٹى ہے كہ دوسرى اس سے بہتر ہوگى _ آپ كى شكى طبيعت پھر آپ كو شك ميں مبتلا كرسكتى ہے آپ كو اپنے بے گناہ بچوں كا خيال نہيں آتا ؟ آخر ان معصوموں كا كيا قصور ہے كہ وہ بيمارے آپ كے شك كے

۲۲۰