ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 6945
ڈاؤنلوڈ: 552

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 6945 / ڈاؤنلوڈ: 552
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

مرض كى بھينٹ چڑ ھ جائيں _ ان كى پمردہ صورت اور حسرت بھرى نگاہوں پر نظر ڈالئے اور بددلى چھوڑديجئے كہيں ايسا نہ ہو كو بيجا شك و شبہ ميں مبتلا ہوكر آپ خودكشى كا ارتكاب كرڈاليں يا اپنى بے گناہ بيوى كوقتل كرڈاليں _ ايك طرف قتل جيسے عظيم گناہ كے مرتكب ہوں كہ جس كى سزا خدانے دوزخ ركھى ہے اور دوسرى طرف اپنى نزدگى تباہ كرڈاليں يہ بات ذہن نشين رہے كہ خون زيادہ دن چھپا نہيں رہتا ايك نہ ايك دن جرم ظاہر ہوجاتا ہے اور مجرم كيفر كردار كو پہونچتا ہے پھانسى كے تختہ پر لٹكايا جاتا ہے ، يا سارى عمر قيد ميں بسر كرنى پڑتى ہے _

مجرمين كے اعداد و شمار پر نظر ڈالئے جن ميں كچھ كى خبريں تو اخبار ورسائل ميں بھى شائع ہوتى رہتى ہيں تا كہ اس قسم كے جرم كے نتائج آپ پرروشن ہوں _

اس قسم كے شكى مردوں كى بيويوں پر بھى بہت بھارى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے ان كو چاہئے كہ خود اپنى اور اپنے شوہر اور بچوں كى بھلائي كى خاطر ايثار و قربانى سے كام ليں اور اچھى طرح سے شوہر دارى كر يں _ ايسے ہى دشوار اور مشكل موقعوں پر خواتين كى لياقت ، سمجھداري، دانشمندى اور تدبر كا امتحان ہوتا ہے _

خواہر عزيز سب سے پہلے تو اس بات كو سمجھ ليجئے كہ آپ كا شوہر ايك خطرناك نفسياتى بيمارى ميں مبتلا ہے _ بلا سبب تو اپنى آپ كى زندگى تلخ نہيں كرے گا اور اصل وہ بيمار ہے _ جى ہاں شك كا مرض بھى خطرناك بيماريوں ميں شمار كيا جاتا ہے _ لہذا بيمار كا علاج ہونا چاہئے تا كہ اس كا مرض دور ہوجائے _ حتى الامكان اس سے والہا نہ نحبت كا اظہار كيجئے _ اس قدر اپنى محبت و لگاؤ كا اظہار كيجئے كہ اس كو يقين جائے كہ آپ كے دل ميں اس كے علاوہ اور كسى كى جگہ نہيں ہوسكتى _ اگر اعتراضات كرے بہانہ بازياں كرے تو صبر كيجئے _ اس كے غصہ اور بدمزاجى كے مقابلے ميں بردبارى سے كام ليجئے _ اس كى سختياں كو برداشت كرليجئے _ آہ و فرياد نہ كيجئے _ لڑائي جھگڑانہ كيجئے _ اس كى باتوں كے مقابلے ميں ہٹ دھرى محسوس كرتى ہيں كہ آپ كے خطوں اورآپ كى حركات و سكنات پر كنٹرول

۲۲۱

تو ابرو پربل نہ آنے ديجئے _ روزمرہ كے تمام واقعات اور سارى باتيں اس سے باتيں اس سے بيان كرديا كيجئے _

كوئي بات اس سے پوشيدہ نہ ركھئے _ جس بات كى توضيح طلب كرے بے كم و كاست حقيقت اسے بتاديا كيجئے _ جھوٹ بولنے اور كوئي بات چھپانے سے پورى طرح اجتناب كيجئے _ كيونكہ اگر ايك مرتبہ آپ كاجھوٹ اس پر كھل گيا تو وہ آپ كے جرم كى سند اور قطعى ثبوت مان ليا جائے گا _ او رپھر اس كے شك كو دورنا بيحد مشكل ہوجائے گا _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرا مان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرامان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

غرضكہ ان تمام كاموں سے پرہيز كيجئے جن سے شك و بدگمانى پيدا ہونے كا امكن ہو _

حضرت على (ع) فرماتے ہيں: اگر كوئي شخص اپنے آپ كو مشكوك حالت سے دوچار كرلے تو اس پر شك و شبہ كرنے والوں كو ملامت نہين كرنا چاہئے _(۲۲۸)

اگركسى خاص شخص كى جانب سے مشكوك ہے يا اسے ناپسند كرتا ہے تو آپ اس سے مكمل طور پر قطع تعلق كرليں _

كچھ خاص افراد سے دوستى قائم ركھنے كے مقابلہ ميں كيا يہ بہتر نہيں ہے كہ ان سے كنارہ كشى اختيار كركے اپنى اور اپنے شوہر كى زندگى تلخ ہونے سے بچاليں _ اپنے دل ميں يہ نہ سوچئے كہ كيا ميں اپنے شوہر كى زر خريد لونڈى ہوں يا نوكر ہوں كہ اس قدر سختياں اور پابندياں برداشت كروں جى نہيں آپ غلام نہيں ہيں البتہ ايك بيمار مرد كى شريك حيات ہيں _

جس وقت آپ شادى كے مقدس رشتے سے منسلك ہوئي تھى تو گويا آپ نے عہد كيا تھا كہ مشكلات اور پريشانيوں ميں ايك دوسرے كے شريك و غمخوار رہيں گے _ كيا رسم و فادارى يہى ہے كہ آپ اپنے بيمار شوہر سے كشمكش جارى ركھيں اور ہٹ دھرمى اور ضد سے كام ليتى رہيں بيكار افكار سے دامن چھڑايئےور عقلمند اور عاقبت انديش نبئے _ يقين مانئے اپنے شوہر اور

۲۲۲

خاندان كى خاطر آپ كا ضبط و تحمل اور اثار و فداكار بيحد اور لائق ستائشے ہے _ عورت كا ہنر تو اسى ميں ہے كہ وہ ايسے دشوار گزار اور نازك حالات ميں ايسے مردوں كا ساتھ نبھائے _ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں :عورت كا جہاد يہى ہے كہ اپنے شوہر كى اذيتوں كے مقابلے ميں بردبارى سے كام لے _(۲۲۹)

ايسا كوئي نہ كيجئے كہ جس سے آپ كے شوہر كو شك پيدا ہوجائے يا اس كے شك ميں مزيد اضافہ ہوجائے _ غيرمردوں خصوصاً ان لوگوں كى جن كى طرف سے آپ كا شوہر بد ظن ہے ، تعريف نہ كيجئے _ نامحرم مردوں پر نگاہ ڈالئے _ پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو شادى شدہ عورت نامحرم مردوں پر شوقيہ نگاہ ڈالے گى خداوند عالم اس پر شديد عذاب نازل كرے گا _(۲۳۰)

غيرمردوں سے ربط ضبط نہ ركھئے اور ان سے بات چيت نہ كيجئے _ اپنے شوہر كى اجازت كے بغير ان كے گھر نہ جايئے كسى غير مرد كى كارميں لفٹ نہ ليجئے آپ كا باعصمت اور پاكدامن ہونا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تمام امور سے مكمل طور پر دوررہنا بھى ضرورى ہے جن سے شك و شبہ پيدا ہونے كا امكان ہو _ ممكن ہے غفلت يا سادگى ميں آپ سے كوئي ايسا معمولى سا فعل سرزد ہوجائے جو آپ كے شوہر كو بدگمان كردے _ ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك ۲۷ سالہ لڑكى نے عدالت ميں بتايا : آٹھ سال قبل ۱۹۶۳سنہ ء كے موسم سرما كا ايك برفيلا دن ميرى مصيت و پريشانى كا باعث بن گيا جب ميں اپنى دوست كے اصرار پر ، اپنے گھر واپس آنے كے لئے اس كے ماموں كى كارميں بيٹھ گئي اس واقعہ سے دوماہ قبل جبكہ ميں اسكول ميں زير تعليم تھى ميرا عقد ہواتھا ہواتھا ، واقعہ يوں ہے، كہ ايك دن اپنے نوٹس تيار كرنے كے لئے اپنى ايك ہم جماعت كے گھر گئي تھي_ واپسى كے وقت برف بارى شروع ہوگئي ميرى دوست نے مجھ سے كہا كہ ميرا ماموں تمہيں اپنى كارسے گھر پہونچادے گا _ اتفاق سے جب ميں گھر كے نزديك پہونچى توگلى سرے پرميرا شوہر كھڑا ہواتھا _ اسے ديكھ كر مجھ خوف محسوس ہوا او رميں نے اپنى دوست كے ماموں سے كہا كہ مجھے يہيں اتاركر جلدى سے واپس چلا جائے _ وہ بھى ايك مجرم كى مانند فوراً فرارہوگيا _ اور يہى امر ميرے شوہر كى بدگمانى ميں اضافے

۲۲۳

كا سبب بنا _ بعد ميں جب اس نے اعتراض كيا تو ميں نے ڈركرسرے سے انكار ہى كرديا اور اس بات نے ميرے شوہر كو اس حد تك ميرى طرف سے بدگمان كرديا كہ بعد ميں ميرى دوست اور اس كے گھر والوں كى گواہى بھى اس كو مطمئن اور آسودہ خاطر نہ كرسكى اوراس كا شك دور نہ ہوا _

اس كے بعد سے ميرا شوہر نہ تو مجھے ساتھ ركھنے پر راضى ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ديتا ہے اس واقعہ كو آٹھ سال ہورہے ہيں اور ميں اسى طرح زندگى گزاررہى ہوں _(۲۳۱)

قارئين كرام كى نظر ميں اس داستان ميں اصل قصور وار كون ہے ؟

ميرى نظر ميں اصل قصور توبيوى كا ہے جس نے اپنى ناسمجھى اورنادانى كے سبب خوداپنے اور اپنے شوہر كے لئے مصيبت كھڑى كردي_

۱_ پہلا غلط كام تو يہ كيا كہ ايك غير مرد كى كارميں سوار ہوگئي _ فرض كيجئے شوہر نے نہ بھى ديكھا ہوتا تب بھى اصولى طور پر ايك غير مرد كى كارميں عورت كا بيٹھنا ہى ايك بہت غلط اور خطرناك كام ہے _

۲_ چلئے مان ليجئے ناسمجھى كے سبب غير مرد كى كارميں بيٹھ گئي تھى _ ليكن جب شوہر كو گلى كے سرے پر كھڑے ديكھا تھا تو چاہئے تھا اسى وقت اس شخص سے كارروكنے كو كہتى اوركارسے اتركر شوہر كے ساتھ گھر جاتى اورسارى بات اسے بتاديتى _

۳_ بہت برى غلطى يہ كى كہ اس شخص كو بھاگ جانے كو كہا _

۴_ چوتھى غلطى يہ كى بعد ميں تمام واقعہ سے سرے سے انكار ہى كرديا _ حالانكہ ان سب باتوں كے بعد بھى موقعہ تھا كہ جب شوہر نے پوچھا تھا تو بے كم و كاست سارى بات بيان كرديتى اور اپنى غلطى كا اعتراف كرتى كہ نا سمجھى يا مروت كے سبب يہ نامناسب كام انجام ديا _

البتہ اس سلسلے ميں مرد بھى بے قصور نہيں ہے _ محض اس واقعہ كو خيانت كى قطعى دليل نہيں سمجھ لينا چاہئے تھا _ اس كو اس امكانى صورت حال پر توجہ دينى چاہئے تھى كہ اس كى بيوى غفلت ناتجربہ كارى يا ناسمجھى كے سبب اس غلطى كى مرتكب ہوئي ہے اور بعد ميں الزام كے ڈرسے اس نے اس شخص كو بھا گ جانے كى ہدايت كى اور اسى سبب سے اصل واقعہ سے انكار كررہى ہے _ دانشمندى كا تقاضہ تويہ تھا كہ نہايت انصاف اور غير جانبدارى كے ساتھ اس واقعہ كى پورى طرح تحقيق اور چھان بين كرتا اور ہر طرف سے اطمينان حاصل كرنے كے بعد اس كى غلطى كو معاف كردتيا اور اس پر زيادہ سختى نہ كرتا _

۲۲۴

بدكردار عورت

اگر شواہد و دلائل ذريعہ قطعى طور پر ثابت خو جائے بيوى كا چال چلنى اچھا نہيں ہے اور اس كے غير مردوں سے نا جائز تعلقات ہيں تو مرد بيحد مشكل ميں پڑ جاتا ہے ايك طرف اس كى عزت و آبر و خطرہ ميں پڑ جاتى ہے دوسرى طرق ايسى باعث ننگ بات برداشت كرنا دشوار ہوتا ہے _

ايسى حالت ميں كرد كے لئے اس صورت حال سے بخات حاصل كرنا بيحد دشوار اور خطر ناك ہو جاتا ہے _

ايسے موقعہ پر مرد كے سامنے چند راستے ہوتے ہيں : _

۱_ اپنے خاندان كى عزت و آبرو قائم ركھنے كے لئے دل پر پتھر ركھ كر بيوى كى خيانت كاريوں كو نظر انداز كرد ے اور راسى طرح آخر عمر تك نبھا تارہے _ البتہ يہ راستہ صحيح نہيں ہے كيونكہ كوئي غيرت مند مرد اس بات كا متحمل نہيں ہو سكتا كہ بيوى كى بد كردار يوں اور نا جائز بچوں كے وجود كو برداشت كرتار ہے _ غيرت ، مرد كے لئے ايك پسند يدہ صفت ہے اور بے غيرت مرد خدا و رسول نظر ميں ذليل و خوار ہوتا ہے _

واقعا ايسے نامرد لوگوں كى زندگى باعث ننگ و عار ہوتى ہے جو ايسى بے عزتى كو برداشت كرتے رہتے ہيں _ نہ صرف يہ كہ وہ مرد ، نہيں بلكہ جالوروں سے بھى بدتر ہيں _

پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں : پانچ سو سال ميں طے ہونے والے راستے سے بہشت كى خوشبو آتى ہے ليكن دوقسم كے لوگ بہشت كى خوشبو محروم ہيں ۰ والدين كے عاق كئے ہوئے اور بے غيرت مرد _ كسى نہے آپ سے پوچھا _ يارسول اللہ بے غير ت مرد

۲۲۵

كون ہيں ؟ فرمايا وہ مرد جو جانتا ہے كہ اس كى بيوى زناكار ہے ( اور اس كى بدكردارى پر خاموش رہے)

۲_ اپنى بيوى يا كے عاش كو قتل كردے _ اس طريقے سے انتقام لے كر وقتى طور پر اپنے دل كو تسلى دے سكتا ہے ليكن يہ كام بہت خطرناك ہے اور اس كاانجام اچھا نہيں ہوتا كيونكہ ايسا بہت كم ہوتا ہے كہ قتل كا جرم ہميشہ چھپارہے ايك نہ ايك دن قاتل پكڑاجاتاہے اورسزاپاتاہے _ عدالت ميں بھى بيوى كى بدكردارى اتنى آسانى سے ثابت نہيں ہوسكتى لہذا برى ہونے كے امكانات بہت كم ہوتے ہيں يا تو سزائے موت كاحكم سنايا جاتا ہے يا كم سے كم طويل المدت قيد كى سزا بھگتنى پڑتى ہے _ زندگى تباہ ہوجاتى ہے _ بچے بيچارے الگ تباہ و برباد اور بے آسرا ہوجاتے ہيں لہذا يہ دانشمندى نہيں كہ انسان جذبات ميں آكر اپنے نفس كى تسلى اور كينہ كى آگ كو ٹھنڈا كرنے كے لئے ايسے خطرناك كام كا اقدام كرے اور اپنے جان خطرہ ميں ڈال لے _

مرد كو چاہئے عاقل ، بردبار اور عاقبت انديشى ہو _ اسے اپنے نفس پر اتنا كنٹرول ہونا چاہئے كہ ايسے جنون آميز كام سے پرہيز كرے _ اور اس كا صحيح حل تلاش كرے _

۳_ خودكشى كرلے تا كہ بيوى كى بدكردار يوں كو اپنى آنكھوں سے نہ ديكھے اورايسى ننگين زندگى سے نجات حاصل كرلے البتہ يہ راستہ بھى دانشمندوں كانہيں ہے _ اول تو اپنى زندگى كو ختم كرلينا شرعى لحاظ سے ايك عظيم گناہ ہے اور اس كى سزا خداوند عالم نے دوزخ مقرر كى ہے _دوسرے يہ كہ اپنے آپ كو نابود كردينا كسى طرح درست نہيں _ يہ كون سى دانشمندى ہے كہ انسان دوسروں سے انتقام لينے كى خاطر اپنى دنيا و آخرت خراب كرلے اوربيوى كو اپنى بد چلنى جارى ركھنے كى پورى آزادى مل جائے _ شايد يہ سب سے بدترين راہ ہے _

۴_ جب بيوى كى بد چلنى بطور كامل ثابت ہوجائے اور ديكھے كہ وہ كسى طرح ناجائز كاموں سے دستبردار ہونے كو تيارنہيں ہے تو بہترين طريقہ يہ ہے كہ اس كو طلاق دے كر اس كے شر سے نجات حاصل كرلے _ يہ نہايت دانشمندانہ اقدام ہے اور اس ميں كوئي خطرہ بھى نہيں ہے _

۲۲۶

يہ صحيح ہے كہ طلاق كے سبب زندگى تباہ ہوجاتى ہے اور بہت نقصانات اٹھانے پڑتے ہيں جن كا برداشت كرنا دشوار ہوتا ہے خصوصاً ايسى حالت ميں كہ اگر بچے بھى ہوگئے ہوں _ ليكن بہر حال ايسى صورت ميں اس كے علاوہ اور كوئي چارہ بھى نہيں ہے _ بہترين طريقہ يہى ہے كہ بيوى كو طلاق دے كر بچوں كو اپنے پاس ركھے كيونكہ معصوم بچوں كو ايك فاسد اور بدكردار عورت كے سپردكرنا نامناسب نہيں _ اگر چہ بچوں كو پالنا دشوار كام ہے ليكن مرد كو اطمينان ركھنا چاہئے كہ اس نے خدا كى خوشنودى كے لئے يہ راستہ منتخب كيا ہے لہذا خدا بھى اس كى مدد كريگا اور جلد ہى ايك پاكدامن اور باعصمت شريك حيات اس كو مل جائے گى اور اپنى بقيہ زندگى آبرومندانہ طريقے سے گزار سكے گا _

غيرعورتوں پر نظر ڈالنے سے اجتناب كيجئے

مرد شادى كرتے وقت نہايت تلاش و جستجو سے كام ليتے ہيں تا كہ بيوى نيك اور ان كے پسند كے مطابق ہو _ اس موقعہ پر جس قدر احتياط اور عاقبت انديشى سے كام ليں اچھى بات ہے _ كيونكہ شادى سے انسان كى زندگى كا آغاز ہوتا ہے اور اس كے مستقبل كى سرنوشت يعنى خوش نصيبى يا بدبختى يہيں سے شروع ہوتى ہے _ البتہ جب كسى لڑكى كو اپنا شريك زندگى منتخب كركے اس سے رشتہ ازدواج قائم كرليں اس كے بعد بيوى كے علاوہ كسى عورت پر نظر ڈالنى چاہئے اور دوسرى تمام عورتوں كو ، جو بھى ہوں اور جيسى بھى ہوں ہر حال ميں نظر انداز كرنا چاہئے _ اور سوائے اپنى بيوى كے كسى دوسرى عورت ميں دلچسپى نہيں لينى چاہئے اس كے علاوہ اور كسى كا خيال بھى دل ميں نہيں لانا چاہئے ايك معصوم لڑكى اپنى شوہر كى خاطر اپنے ماں باپ اور خاندان كو چھوڑكر سينكڑوں اميدوں اور آرزوؤں كے ساتھ اس كى پناہ ميں آتى ہے كہ اپنى تمام ترہستى كو اپنے شوہر كے سپرد كردے اور دونوں ايك دوسرے كے شريك زندگى ، اور يادوغمخوار بن كر زندگى كى راہوں كو طے

۲۲۷

كريں ، عاقل اور سنجيدہ مرد بچگانہ حركتوں اور ہوس بازى سے دستبردار ہوجاتے ہيں اور اپنى تمام تر توجہ اپنى نئي زندگى اور خاندان كى جانب مركوز كرديتے ہيں _ كسب معاش ميں تن دہى سے مشغول رہتے ہيں تا كہ عزت و آبرو كے ساتھ اپنى بيوى بچوں كے ہمراہ خوشى و اطمينان كے ساتھ زندگى گزاريں اور روحانى سكون اور مہرو محبت كى نعمت سے ، جو كہ سب سے بڑى نعمت ہے ، بہرہ مند ہوں ف جولوگ خوش و خرم اور صلح و سلامتى كے ساتھ زندگى گزارنا چاہتے ہيں ان كو چاہئے شادى كے بعد اپنى سابق بچگانہ حركتوں اور ادھر ادھروں لگانے اور نظريں سينكنے جيسى خانماں سوز حركتوں كو چھوڑديں اور اپنى زندگى كى روش بدل ليں _

ايك شادى شدہ مرد كے لئے يہ بات نہايت باعث ننگ ہے كہ وہ كسى غير عورت يا عورتوں سے گرمجوشى سے طے _ ان سے ہنسى مذاق كرے يا ان ميں دلچسپى لے اگر مرد اپنى بيوى كو كسى غيرمرد سے ہنسى مذاق كرتے ديكھتا ہے تو اسے بہت برا لگتا ہے اور اس كى غيرت جوش ميں آجاتى ہے ليكن اس بات سے كيوں غافل رہتا ہے كہ اس كى بيوى بھى اس كى طرح احساسات و جذبات ركھتى ہے اور اسے بھى اپنے شوہر كا غير عورتوں سے ہنسى مذاق كرنا بيحد برا لگتا ہے اور يہ عمل ايك طرح كى خيانت اور بے وفائي شمار كيا جاتا ہے _ بيوى جب ديكھتى ہے كہ اس كا شوہر دوسرى عورتوں ميں دلچسپى ليتا ہے ان سے ہنسى مذاق اور چھيڑچھاڑكرتا ہے تو اس كى غيرت اور حسد كے جذبے ميں تحرك پيدا ہوتا ہے اور وہ انتقام لينے كے درپے ہوجاتى ہے _ شوہر كى نسبت اس كى عزت و محبت ميں كم آجاتى ہے _ گھر اور زندگى سے اس كى دلچسپى ختم ہوجاتى ہے گھر كے كاموں سے اس كا دل اچاٹ ہوجاتا ہے _ حتى كہ اس بات كا بھى امكان ہے كہ انتقام كى خاطر بيوى بھى غير مردوں ميں دلچسپى لينا شروع كردے يا اپنے ہوس پرست شوہر سے عليحدہ ہوجانا ناپسند كرے _ ايك عورت نے تہران ميں خاندانوں كى حمايت كرنے والى عدالت كے شعبہ ۴۵ ميں شكايت كى كہ وہ اپنے شوہر سے عليحدہ ہونا چاہتى ہے _ ان مياں بيوي

۲۲۸

كى ۳۳ سال قبل شادى ہوئي تھي_ اس عورت نے بتايا كہ ميرے شوہر كى عادت ہے كہ سے جو عورت ملتى ہے اس سے مذاق كرتا ہے _(۲۳۳)

ايك عورت نے عدالت ميں كشايت كى كہ : ميرا شوہر ميرى دوستوں سے اپنى دلچسپى كا اظہار كرتا ہے _ اس كى اس برى عادت كے سبب ميں اپنى دوستوں كو اپنے گھر نہيں بلا سكتى _ چونكہ وہ سب كہتى ہيں كہ تمہارا شوہر ہم ميں دلچسپى ليتا ہے اور يہ بات ميرى خفت و شرمسارى كا باعث بنتى ہے _(۲۳۴)

ايك شادى شدہ مرد كے لئے نہايت شرمناك بات ہے كہ وہ دوسرى عورتوں كو گھورے يا ان پر نظريں ڈالے _ ان نظر بازيوں كا سوائے دلى اضطراب و بے چينى ، اعصابى كمزورى اور گھر اور خاندان كى طرف سے بے توجہى كے اور كوئي نتيجہ بر آمد نہيں ہوتا _ خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے :

نامحرم عورتوں كى طرف ديكھنے سے اپنى نظريں بچاؤ_(۲۳۵)

امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : نگاہ شيطان كى جانب سے پھينكتے ہوئے زہر آلود تير كى مانند ہوتى ہے اور ايك نگاہ ممكن ہے حسرت و رنج كا باعث بن جائے _(۲۳۶)

ماہر نفسيات نے نظربازى كو ايك قسم كى نفسياتى بيمارى بتايا ہے _جو آنكھيں ، اس ذليل حركت كى عادى ہوجاتى ہيں وہ كبھى سير نہيں ہوتين _ ان ہى بدنگاہيوں كا نتيجہ ہوتا كہ بہت سے پاك سيرت جوان ، اپنى عفت و ناموس گنوا كرفتنہ و فساد اورگمراہى كى وادى ميں گر پڑتے ہيں كيونكہ جب ہوسناك نگاہيں محو تماشہ ہوتى ہيں تو دل بدى كى طرف مائل ہوجاتا ہے _ ايك مرتبہ دو مرتبہ زيادہ سے زيادہ دس مرتبہ انسان اپنے آپ پرقابو پا سكتا ہے ليكن آخر كار عنان نفس ہاتھ چھوٹ جاتى ہے اور نفسانى خواہشات كا مطيع بن جاتا ہے _

امام صادق (ع) فرماتے ہيں : پے درپے نگاہيں ، قلب ميں شہوت پيدا كرتى ہيں اور يہى چيز ، بد نظر افراد كى گمراہى كے لئے كافى ہوتى ہے _(۲۳۷)

۲۲۹

اسلام چونكہ نظر بازى كے خراب نتائج سے واقف ہے اس لئے اس فعل كى سختى سے ممانعت كرتاہے _

كوچہ و بازار ميں اگر مرد كى نگاہ بے اختيار كسى نامحرم عورت پڑپڑجائے تو يہ نہيں كہ باربار اسے ديكھت ہے بلكہ چاہئے كہ فوراً نظريں سچى كرلے يا دوسرى طرف متوجہ ہوجائے ، نامحرموں كى جانب سے چشم پوشى شايد پہلے مرحلے ميں كسى حد تك دشوار ہوليكن اگر ذرا صبر كے ساتھ اس كى عادت ڈال لى جائے تو يہ امر آسان ہوجائے گا _

عقلمند لوگ جانتے ہيں كہ اس نازيبا حركت كے نتيجہ ميں قتل و غارت گرى ، خودكشى ، طلاق ، اعصاب كى كمزورى ، نفسياتى امراض، دل كى بيمارى ، ذہنى پريشانياں، دائمى رنج و غم اور خاندانى اختلافات و غيرہ جيسے خطرات ظہور ميں آتے ہيں لہذا ان خطرات سے بچنے كى خاطر اس مفسدانہ حركت سے دامن بچانا اور استقامت سے كام لينا ، خود انسان كے اپنے مفاد ميں ہے _

ہم جانتے ہيں كہ جوانى كے ہيجان انگيز دور ہيں ، ايسى حالت ميں كہ بعض عورتيں آزادانہ طور پر نيم عرياں حالت ميں سج دھج كرباہر گھومتى ہيں ،نظريں بچانا ذرا مشكل كام ہے ليكن بہر صورت ضرورى ہے _

اگر مرد صبرو استقامت سے كام لے اور اس علم كى عادت ڈال لے تو بہت سے مفاسد كا خود بخود علاج ہوجاتا ہے اور ان جھوٹى اوروقتى لذتوں كے عوض ، ذہنى سكون و آسائشے اور خاندان كى مہرومحبت كى لذت سے پورى طرح لطف اندوز ہوسكتا ہے_

برادر عزيز اگر زندگى ميں سكون و چين اور حقيقى خوشى ومسرت كى نعمتوں كا لطف اٹھانا چاہتے ہيں تو شادى كے بعد ، اپنى بيوى كے علاوہ دوسرى تمام عورتوں كى جانب سے چشم پوشى اختيار كيجئے _ اپنى بيوى كے سامنے كبھى غير عورتوں كى تعريف نہ كيجئے _ كبھى نہ كہئے كہ كاش ميري

۲۳۰

فلاں لڑكى سے شادى ہوئي ہوتى _ يا فلاں لڑكى مجھ سے شادى كى خواہشمند تھى _ فلاں لڑكى مجھكو چاھتى _ سينكڑوں لوگ مجھ سے اپنى لركيوں كى شادى كرنے كے آرزومند تھے _ يا فلاں لڑكى تم سے بہتر تھى و غيرہ جيسى باتيں ہرگز بيوى سے نہ كہئے كيونكہ اس قسم كى باتيں بيوى كو شك ميں مبتلا كرديتى ہيں اور شوہر سے اس كى محبت دلچسپى ميں كمى آجاتى ہے _ زندگى كى لطافتوں سے بيزار ہوجاتى ہے ممكن ہے وہ بھى مقابلہ بہ مثل كرے اور دوسرے مردوں كى آپ كے سامنے تعريف كرے يا اپنے سابق خواستگاروں كا دلچسپى كے ساتھ ذكركرے _ اور اس كا انجام سوائے باہمى كدورت اور دائمى جھگڑے كے اور كچھ نہ ہوگا _ ايك شادى شدہ مرد كے لئے يہ بات نہيں قابل شرم ہے كہ وہ دوسرى عورتوں پر نظر ركھے اور ان ميں دلچسپى لے _

كس قدر بدبخت اور نادان ہيں وہ لوگ جو اپنى پاكدامن اور باعصمت اور محبت كرنے والى معصوم بيويوں كو چھوڑكر، چند لمحوں كى عيش كوشى كى خاطر، آوارہ وہر جائي عورتوں كے پيچھے پھرتے ہيں _ اس قسم كے مرد در اصل انس و محبت اور خاندان كى صميميت و صفائي سے بالكل نابلد ہوتے ہيں وہ جانوروں كى مانند سوائے كھانے پينے ، سونے اور شہوت كے كے اور كچھ نہيں جانتے _ انسانيت اورجذبات و احساسات سے يكسر عارى ہوتے ہيں _

سپاس گزار بنيئے

ممكن ہے بعض مردوں كو گھر كے كام ذرا بھى اہم معلوم نہ ہوتے ہوں ليكن اگر ذرا بھى انصاف سے كام ليں تو اعتراف كرنا پڑے گا كہ گھر كے كام دشوار اور بہت تھكادينے والے ہوتے ہيں ايك گھريلو خاتون اگر شب و روز گھر كے كام كرے تب بھى بعض كام كسى حد تك پڑے رہ جاتے ہيں _ كھانا پكانا ، گھر كى صفائي ، كپڑے دھونا ، استہرى كرنا، برتن دھونا ، گھر كا سامان ٹھيك ٹھاك كرنا، اور سب سے بڑھ كر بچوں كى پرورش اور نگہداشت آسان كام نہيں ہيں _ وہ بھى ايك ، ايك خاتون خانہ حقيقتاً گھر ميں شديد زحمت برداشت كرتى ہے _

۲۳۱

مرد سمجھتا ہے وہ غذا جو دن ميں تين با رپكى پكائي اس ك سامنے آجاتى ہے يوں ہى بڑى آسانى سے تيار ہوجاتيہے يا گھر كے مختلف چھوٹے بڑے كام خودبخود انجام پاجاتے ہيں _ بچوں كى پرورش اور ديكھ بھال كو تو كچھ شماررہى نہيں كيا جاتا_

اگر مرد گھر ميں ايك مہينہ رہ كر گھر كے تمام امور اور بچوں كى نگہداشت و پرورش كى ذمہ دارى لے اس وقت اس كو ان كاموں كى اہميت معلوم ہوگى اور بيوى كى طاقت فرسا زحمات كا اندازہ ہوسكے گا _ بيوى ان تمام زحمتوں كو برداشت كرتى ہے اور كوئي شكايت بھى نہيں كرتى ليكن شوہر سے اس بات كى توقع ضروركرتى ہے كہ اس كى زحمتوں كى قدر كرے اور اس كا ممنو ن ہو _ وہ چاہتى ہے كہ شوہر ہميشہ اس پر توجہ كرے اور اس كے ذوق و سليقہ كو قدر كى نگاہ سے ديكھے _

برادرعزيز جس وقت آپ قرينے سے سجے سجائے ، صرف ستھرے گھر ميں داخل ہوتے ہيں اگر اس وقت اپنى بيوى كے ذوق و سليقہ اور زحمات كى تعريف كرديں تو كيا ہرج ہوجائے گا ؟ اگر كبھى كبھى اس كے تيار كئے ہوئے لذيذ كھانوں كى تعريف كرديں تو آپ كا كيا چلا جائے گا _ كيا ہرج ہے اگر بچوں كى پرورش اور نگہداشت كے موضوع كو ، جو كہ حقيقتاً بہت سخت ، ليكن بہت اہم كام ہے ،اہميت ديں اور كبھى كبھى اس كے اس صبر آزما اوركٹھن كام كا شكريہ ادا كرديا كريں؟ آپ اس نكتہ سے غافل ہيں كہ آپ كا اظہار تشكر اس ميں كتنى ہمت اور حوصلہ پيداكردے گا _ اور اس كو مزيد كام ، كوشش اور فداكارى كے لئے آمادہ كردے گا _ اگر آپ اپنى بيوى كے كاموں پر ذرا بھى توجہ نہ كريں اور ان كو معمولى ظاہركريں تو رفتہ رفتہ گھر كے كاموں سے اس دلچسپى كم ہوجائے گى _ اپنے دل ميں سوچے گى كہ جس گھر ميں اس كے كسى كام كى قدر نہ ہو وہاں زحمتيں اٹھانے سے كيا فائدہ _ ايك وقت آئے گا جب كسى كام ميں اس كا دل نہيں لگے گا _ اس وقت آپ داد و فرياد كريں گے كہ ميرى بيوى كسى كام ميں دلچسپى نہيں ليتى _ يہ نہيں كرتى وہ نہيں كرتى _ يہ كام پڑارہ گيا وغيرہ

۲۳۲

اگر يہ نوبت آگئي تو سمجھ ليجئے خود اپنے كئے كا كوئي علاج نہيں _ قصور خود آپ كا ہے كہ آپ زن دارى ، كے طور طريقوں سے ناواقف ہيں _ اگر ايك غيرآدمى آپ كامعمولى سا كا م كرديت ہے تو آپ باربار اس كا شكريہ ادا كرتے ہيں ليكن اپنى بيوى كى رات دن كى زحمتوں كى طرف سے غافل ہيں اور اس بات كے لئے تيار نہيں كہ مفت ہيں ، شكريہ كا ايك لفظ بول كر اس كا دل شاد كركے اس كى سارى تھكن دوركرديں _

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

ايك ۲۹ سالہ گھريلو خاتون تہران سے لكھتى ہے : ميرا شوہر بڑا حق ناشناس ہے صبح سے شام تك زحمتيں اٹھاتى ہوں _ برتن اور كپڑے دھونے اور كھانا پكانے سے لے كر گھر كى صفائي و سجاوٹ ، اس كے اور بچوں كے كپڑوں كى سلائي و غيرہ تك سب كام ميں تنہا انجام ديتى ہوں ،جب گھر آتا ہے تو كسى چيز پر توجہ ہى نہيں ديتا اور اپنے رويے سے ايسا اظہار كرتا ہے گويا ميں نے اب تك كوئي كام ہى نہيں كيا ہے _ استرى كئے ہوئے كپڑے، صاف ستھرى ٹائي ، پالش كئے چمچماتے جوتے اس كے لئے تيار ركھتى ہوں _ ليكن كبھى شكريہ كا ايك لفظ اس كے منھ سے نہيں نكلتا _ اگر ميں خود كچھ بيان كروں تو سختى سے ميرى بات منقطع كركے جھڑك ديتا ہے اور كہتا ہے اچھا اپنے كاموں كو اتنا بڑھا چڑھا كے بيان نہ كرو _ آخر كون سا ايسا بڑا كام انجام ديا ہے ؟ آسمان سے تارے توڑلائي ہو يا كوہ دماوند كى چوٹى فتح كرلى ہے ؟ حالانكہ ميرى محنت و مشقت اور سليقے كى وجہ سے ہى گھر كى ساكھ بنى ہوئي ہے _(۲۳۸)

بعض مرد ، بيوى اور اس كے كاموں كى طرف سے بے اعتنائي برتنا، مرد انگى سمجھتے ہيں اور كہتے ہيں كہ اگر بيويوں كى تعريف كى تو سرپر چڑھ جائيں گى _ بعض مردوں كا خيال ہے كہ غيروں كا شكريہ ادا كيا جاتا ہے _ مياں بيوى كے درميان ان چونچلوں كى كيا ضرورت ہے ، حالانكہ يہ خيال بالكل غلط ہے _ كيونكہ ہر احسان كرنے والا ، نفسياتى طور سے قدرداني

۲۳۳

كا خواہشمند ہوتاہے _ قدردانى تشويق كاباعث بنتى ہے خصوصاً گھريلو خواتين كو گھر كے ہرروز وہى تھكادينے والے كام انجام دينے كے سلسلے ميں سب سے زيادہ قدردانى كى ضرورت ہوتى ہے _ يہى وجہ ہے كہ دين مبين اسلام ميں تشويق اور سپاس گزارى كو اچھے اخلاق ميں شمار كيا جاتا ہے _

امام صادق (ع) فرماتے ہيں :جو شخص كسى مسلمان كى ستائشے كرتا ہے خداوند عالم قيامت تك اس كى ستائشے لكھتا ہے _(۲۳۹)

پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو شخص كسى مسلمان كا احترام كرتا ہے اور خوش خلقى كے ساتھ اسكى دلجوئي كرتا ہے اور اس كے رنج و غم كو برطرف كرتا ہے ، وہ ہميشہ خدا كى رحمت كے سائے ميں رہے گا _(۲۴۰)

گھر ميں بھى صاف ستھرے رہئے

صفائي كا خيال ركھنا ، ہر ايك كے لئے اور ہر جگہ ضرورى ہے _ انسان كو چاہئے اپنا بدن اور لباس صاف ستھراركھے _ برابر نہائے _ ہر روز صابن سے منھ ہاتھ دھوئے _دانتوں ميں برش كرے _ بالوں ميں كنگھى كرے _ سراورداڑھى كے بال نبائے _ ہر روز اپنے پير دھوئے تا كہ بدبونہ آئے _ صاف موزے پہنے _ صاف ستھرے كپڑے پہنے ، اپنى مالى استطاعت كے مطابق اچھا لبا س پہنے _

اسلام ميں اچھے اور صاف ستھرے لباس پہننے كى بہت تاكيد كى گئي ہے _ حضرت رسول خدا (ص) كا ارشاد گرامى ہے _ صفائي ، ايمان كا جزو ہے _(۲۴۱)

پيغمبر اسلام (ص) نے ايك شخص كو الجھے بالوں ، برى وضع اور كثيف حالت ميں ديكھا تو فرمايا: خدا كى نعمتوں سے استفاد ہ كرنا ، دين كا جزوہے _(۲۴۲)

پيغمبر گرامي(ص) فرماتے ہيں :گندہ آدمى ، برابندہ ہوتا ہے _(۲۴۳)

پيغمبر گرامى (ص) كا يہ بھى ارشاد ہے كہ : جبرئيل (ع) نے مسواك كے بارے ميں مجھ سے اس قدر سفارش كى ہے كہ ميں اپنے دانتوں كى طرف سے بہت متفكر رہتا ہوں _(۲۴۴)

۲۳۴

حضرت على (ع) فرماتے ہيں : خدا خود زيبا ہے اور زيبائي كو پسند كرتا ہے اور اپنى نعمتوں كے آثار اپنے بندوں ميں ديكھنا پسند كرتا ہے _(۲۴۵)

پاكيزگى اورخوبصورتى صرف عورتوں سے مخصوص نہيں ہے بلكہ مرد كو بھى اپنى وضع قطع ٹھيك ركھنى چاہئے _ صاف ستھر اور سليقے سے رہنا چاہئے _ بہت سے مرد اپنے لباس اور صفائي كى طرف بالكل توجہ نہيں ديتے _ ديردير ميں نہاتے ہيں _ سر اور داڑھى كے بال برھ گئے تو كوئي فكر نہيں _ گندے لباس اور الجھے بالوں كے ساتھ گھر اور باہر گھومتے رہتے ہيں ان كے پسينے اورپاؤں كى بدبو دوسرے لوگوں كے لئے پريشانى كا باعث بنتى ہے _البتہ بہت سے لوگ صاف ستھرا اور عمدہ لباس پہننے اور بننے نور نے كے توشوقين ہوتے ہيں مگر صرف گھر كے باہر، دوسرے لوگوں كے سامنے _ ليكن گھر ميں اس چيز كا ذرا بھى لحاظ نہيں ركھتے _ جب باہر ، آفس ، بازار يا كسى محفل ميں جانا ہوتا ہے تو خوب بنتے سنورتے ہيں اور بہترين لباس پہن كر گھرسے باہر نلكتے ہيں ليكن گھر واپس آتے ہى استرى كئے قيمتى لباس كو فوراً اتاركر ميلے كچيلے كپڑے پہن ليتے ہيں _ ايسا كم ہى اتفاق ہوتا ہے كہ گھر ميں بھى آرائشے و زيبائشے كا خيال ركھيں _ صبح سوكر اٹھے تو يونہى الجھے بالوں اور چيپڑلگى آنكھوں كے ساتھ ناشتہ كرنے بيٹھ گئے _ اگر اتفاق سے دو ايك روز گھر سے باہر جانانہ ہو ا تو اسى طرح عجيب و غريب حليہ بنائے رہيں گے اور گھر ميں اس طرح رہيں گے گويا كسى كى ان پر نظر ہى نہيں پڑے گى _ صفائي اور آرائشے و زيبائشے تو فقط گھر سے باہر دوسرے لوگوں كے لئے كى جاتى ہے _ اپنے گھر والوں سے كوئي مطلب نہيں

برادر عزيز جس طرح گندى ، ميلے كچيلے كپڑے پہنے بيوى آپ كو اچھى نہيں لگتى اور آپ چاہتے ہيں كہ آپ كى بيوى گھر ميں صاف ستھرى اچھى حالت سے رہے تويقين مانئے وہ بھى آپ سے يہى توقع ركھتے ہے _ اسى بھى بد وضع شوہر اچھا نہيں لگتا _ وہ چاہتى ہے كہ اس كا شوہر ہميشہ صاف ستھرا اسمارٹ نظر آئے _

۲۳۵

اگر آپ گھر ميں خراب حليہ بنائے رہيں گے اور آپ كى بيوى باہر اسمارٹ ، صاف ستھرے مردوں كو ديكھے گى تو سوچے گى كہ يہ مرد كسى دوسرى دنيا سے آئے ہيں _ جب آپ كا ان سے مقابلہ كرے گى تو رنجيدہ ہوگى _ آپ گھر ميں صاف ستھرے عمدہ لباس پہن كررہئے تا كہ آپ كى بيوى سمجھے كہ آپ بھى دوسروں كم نہيں ہيں اور اس كى محبت ميں اضافہ ہو اور اس كا دل خوش رہے اور گھر سے اس كى دلچسپى قائم رہے _ اورگمراہ ہونے سے محفوظ رہے _ اصولى طور پر غير مردوں اور گلى كو چوں كى عورتوں كے لئے زينت كرنے سے آپ كو كيا فائدہ ہوگا ؟ ان سے آپ كو كيا مطلب _ البتہ بيوى كے سامنے ، جو كہ آپ كى شريك زندگى ہے ، اور آپ كو اس كى محبت كى ضرورت ہے _ اچھى وضع قطع سے رہنا ، خود آپ كے مفاد ميں بھى ہے _ در اصل مياں بيوى دونوں كے دلى سكون و چين سے ہى گھر ميں خوشگوار فضا قائم رہ سكتى ہے _

يہى وجہ ہے كہ دين مبين اسلام ميں مردوں كو تاكيد كى گئي ہے كہ اپنى بيويوں كے لئے آرائشے و زينت كريں _

پيغمبر اسلام(ص) فرماتے ہيں : كہ مرد پر واجب ہے كہ اپنى بيوى كى غذا اور لباس كا انتظام كرے اور برى وضع قطع سے اس كے سامنے نہ آئے _ اگر اس نے ايسا كيا تو گويا اس كا حق ادا كيا ہے _(۲۴۶)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں :مردوں كو چاہئے اپنى بيوى كے سامنے قاعدے سے اور اچھے وضع قطع سے رہيں _ جس طرح سے كہ وہ پسند كرتے ہيں كہ ان كى بيوياں ان كے لئے بنيں سنوريں _(۲۴۷)

حسن بہ جہم كہتے ہيں : حضرت ابوالحسن (ع) كوميں نے ديكھا كہ خضاب لگائے ہوئے ، ميں نے عرض كيا آپ نے خضاب لگايا ہے ؟ فرمايا : ہاں ،قاعدے سے اچھى طرح رہنا ، عورتوں كى عفت كا باعث ہوتا ہے _ اور مردوں كا برے حلئے سے ، بدوضع طريقے سے رہنا ، سبب بنتا ہے كہ عورتيں اپنى عفت كو بيٹھيں _ پھر فرمايا : كيا تم كو اپنى بيوى كو برى وضع قطع ميں ديكھنا اچھا لگے گا؟ ميں نے كہا نہيں _ فرمايا وہ بھى بالكل تمہارى جيسى ہوتى ہيں _(۲۴۸)

امام رضا (ع) فرماتے ہيں : بنى اسرائل كى عورتيں اسى وجہ سے اپنى عفت و عصمت گنوابيٹھى تھيں كيونكہ ان كے مرد اچھى طرح قاعدے سے رہنے اورخوبصورتى كا لحاظ نہيں ركھتے تھے _

پھر فرمايا : جس بات كى توقع تم اپنى بيوى سے كرتے ہو ، ويسى ہى توقع وہ تم سے كرتى ہيں _(۲۴۹)

۲۳۶

اپنى بيوى كى تيماردارى كيجئے

مياں بيوى كو ہميشہ ايك دوسرے كے تعاون اوراظہار محبت كى ضرورت ہوتى ہے ليكن يہ ضرورت بعض موقعوں پر شديد تر ہوجاتى ہے _ انسان كو بيمارى اور پريشانى كے موقع پرہميشہ سے زيادہ توجہ اور دلجوئي كى ضرورت ہوتى ہے _ بيمار كے لئے جس قدر ڈاكٹر اور دوا ضرورى ہے اسى قدر بلكہ اس زياد توجہ اور تيمار دارى كى ضرورت ہوتى ہے _ تسلى و تشفى اور نوازش سے بيمار كے اعصاب كو سكون ملتا ہے _ اور يہ چيز اسے جينے كا حوصلہ عطا كرتى ہے _ بيوى بيمارى كے موقع پر اپنے شوہر سے متمنى ہوتى ہے كہ وہ اس كا علاج كرائے اور ماں باپ سے بڑھ كر اس كى تيماردارى كرے _ اس كى نوازشيں اور ہمدردياں ،محبت و خلوص كى علامتيں سمجھى جاتى ہيں _ ايك بيوى جو رات دن ايك خادمہ كى مانند گھر كے تمام كام انجام ديتى ہے اور زحمتيں اٹھاتى ہے ، بيمارى كے موقع پر اپنے شوہر سے اس بات كى توقع كرنے ميں حق بجانب ہے كہ وہ اس كے علاج معالجہ كے لئے تگ ودو كرے اس كى تيماردارى كرے _

ڈاكٹر اور دوا كا خرچہ ، زندگى كى ان ضروريات او رنفقہ ميں شامل ہے جس كا انتظام كرنا شوہر پرواجب ہے _

وہ عورت جو شب و روز بغير كسى اجرت كے گھر ميں زحمت اٹھاتى ہے كيا اس بات كى حقدار نہ ہوگى كہ بيمارى كے موقعہ پر شوہر اس كے دوا علاج پر روپيہ پيسہ خرچ كرے؟

۲۳۷

بعض مرد اس سلسلے ميں ذرا بھى انصاف سے كام نہيںليتے ايسے مرد جذبات سے عارى ہوتے ہيں _

جس وقت ان كى بيوى صحيح و سالم ہوتى ہے زيادہ سے زيادہ اس كے وجود سے استفادہ كرتے ہيں ليكن جب بيمار ہوجاتى ہے تو اس كى صحت يابى كے لئے دواعلاج پر روپيہ خرچ كرنے ميںان كى جان پر بنتى ہے اور اگر بيمارى طول پكڑگئي يا زيادہ خرچ كرنا پڑے تو اس كو يوں ہى بغير دواج علاج كے چھوڑ ديتے ہيں _

كيا رسم وفا ہى ہے ؟ كيا مردانگى كا تقاضا يہى ہے ؟

ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے

ايك عورت نے اپنے شوہر كے خلاف شكايت درج كراتے ہوئے بتايا كہ ميں نے مدتوں اچھے برے ہر حال ميں اپنے شوہر كا ساتھ نبھايا اور نہايت توجہ كے ساتھ اس كى خدمت كى _ اب جبكہ ميں بيمارہوگئي ہوں مجھكو گھر سے باہر نكال ديا اور كہتا ہے كہ مجھے بيمار بيوى نہيں چاہئے _(۲۵۰)

برادرعزيز اگر آپ كو اپنے خاندان سے تعلق خاطر ہے تو جب آپ كى بيوى بيمار ہوجائے تو اسے فوراً ڈاكٹر كے پاس لے جايئے ضرورى دوائيں فراہم كيجئے _ ڈاكٹر اور دوائيں ہى كافى نہيں ہيں بلكہ ايسے موقعہ پر مہربان والدين كى مانند اس كى تيمار دارى كيجئے _ وہ اپنے ماں باپ كو چھوڑ كر آپ كے پاس آئي ہے اس اميد كے ساتھ اس نے اپنے آپ كو آپ كے سپرد كرديا ہے كہ آ پ اس ماں باپ سے زيادہ اس كے لئے مہربان ثابت ہوں گے _ وہ آپ كى شريك زندگى ، آپ كے بچوں كى ماں ، اور آپ كى يارومددگار ہے ، بيمارى كے وقت پہلے سے زيادہ اس سے اظہار محبت و ہمدردى كيجئے _ تكليف كى شدت سے كراہتى ہے يا چيختى چلّاتى ہے تو غصہ نہ كيجئے بلكہ افسوس ظاہر كيجئے _ اس كى تسلى و تشفى كى باتيں كيجئے _ اس كو اميد دلايئے ڈاكٹر نے اس كے لئے جو غذائيں تجويز كى ہوں ان كو فراہم كيجئے _ اگر

۲۳۸

كسى خاص غذا يا پھل سے رغبت ركھتى ہو اور ڈاكٹر نے منع نہ كيا ہو تو جس طرح سے بھى ممكن ہو سكے اس كے لئے مہيا كيجئے _ اپنے ہاتھ سے دوا اور كھانا كھلايئےيونكہ آپ كا يہ فعل اسكى خوشى اور اس كے اعصاب كو تقويت پہونچانے كا باعث بنے گا _ بچوں كى نگرانى كيجئے وہ شور نہ مچائيں _ اپنا بستر اس كے بستر كے قريب بچھايئےور رات كو پورى طرح اس كى ديكھ بھال كيجئے _ رات ميں اٹھ كر اس كى خبر گيرى كيجئے اگر بيدا رہو تو اس كى احوال پرسى كيجئے _ اگر شدت تكليف سے اسے نيند نہ آرہى ہو تو آپ بھى حتى المقدور جاگتے رہنے كى كوشش كيجئے _ اگر آپ سوئيں تو ايك بچے يا نرس كى ڈيوٹى لگا ديجئے تا كہ ہميشہ اس كے پاس ايك آدمى جاگتا رہے اور اس كى ديكھ بھال كرتا رہے _ ايسا نہ ہو كہ آپ تو پورى رات چين سے سوتے رہيں اور آپ كى بيوى شدت تكليف سے كراہتى رہے _

اگر آپ نے ايسے نازك موقعہ پر اپنى بيوى كى پورى طرح ديكھ بھال كى اور ايك محبت كرنے والے شوہر كا فرض ادا كيا تو چيز اس كو حوصلہ علا كرے گى آپ كى محبت و وفادارى پر اسے يقين كامل ہوجائے گا اور آپ سے اس كى محبت ميں مزيد اضافہ ہوجائيگا صحت ياب ہونے كے بعد پہلے سے زيادہ و دلبستگى كے ساتھ گھر كے فرائض انجام دے گى آپ كى محبت و نوازش كو ہرگز فراموش نہيں كرے گى _

پيغمبر اسلام(ص) فرماتے ہيں : تم بہترين شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں كے لئے اچھا ہو _ ميں اپنے اہل خاندان كى نسبت سب سے بہتر ہوں _(۲۵۱)

رسول خدا (ص) فرماتے ہيں : جو شخص كسى بيمار كى صحت يابى كے لئے كوشش كرے خواہ وہ اپنى كوشش ميں كامياب ہويا نہ ہو ، اپنے گناہوں سے اس طرح پاك ہوجائے مثل اس روز كے جب ماں كے پيٹ سے پيدا ہواتھا _ ايك انصارى نے پوچھا ، يا رسول اللہ ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر مريض خود اس كے گھر والوں

۲۳۹

ميں سے ہوتو كيا ، زيادہ ثواب نہ ہوگا ؟ فرمايا: كيوں نہيں(۲۵۲)

خاندان كے اخراجات

بيوى كا نان و نفقہ شوہر پرواجب ہے يعنى قانونى اور شرعى طور سے مرد اس بات كا ذمہ دار ہے كہ خاندان كے تما م اخراجات ، يعنى پوشاك ، خوراك ، مكان حتى ڈاكٹر كى فيس اور دوا كا انتظام كرے اور اگر اس نے اس ذمہ دارى كو پورا نہ كيا يا كوتاہى كى توشرعى اور قانونى لحاظ سے وہ اس امر كا جواب وہ ہوگا _ بيوى بچوں كو ہميشہ يہ كہہ كرٹالا نہيں جا سكتا كہ ''ميرے پاس نہيں ہے '' انھيں ہر حال ميں چاہئے انكى خواہشوں اور مطالبات كى حد و انتہا نہيں ہوتى _ رقابت كى حس ، ان ميں بہت قوى ہوتى ہے _ اسى لئے مرد بے چون و چرا ان كے تمام مطالبات پورے نہيں كرسكتا اور نہ ہى ايسا كرنا مناسب ہے _

عقلمند مرد گھر كے تمام اخراجات كاحساب لگاتا ہے _ لوازم زندگى كى ضرورت كے مطابق درجہ بندى كرتا ہے _ زندگى كى اولين ضروريات مثلاً خوراك و پوشاك كو سب چيزوں پر فوقيت ديتا ہے _ اپنى آمدنى كا كچھ حصہ آڑے وقت كے لئے بچاكرركھتا ہے _ آمدنى كا كچھ حصہ مكان كے كرايہ كے لئے يا مكان خريدنے كے لئے جمع كرتا ہے كچھ حصہ بجلى ، پانى ٹيليفوں، ٹيكس اور بچوں كى اسكول فيس و غيرہ كے لئے ركھتا ہے _ گھر كے ضرورى سازوسامان كو بھى مد نظر ركھتا ہے اور سارى ضرورى چيزوں كيلئے اپنى آمدنى كے مطابق بجٹ بناتا ہے _ اسراف و فضول خرچى سے گريز كرتا ہے _

ايك مدبر انسان اپنى چادر كے مطابق پير پھيلانے كى كوشش كرتا ہے ہر وہ خاندان جو اپنى آمدنى اوراخراجات كا بجٹ بناليتے ہيں اور عقل و تدبر كے ساتھ اپنى آمدنى كا لحاظ كركے خرچ كرتے ہيں وہ نہ صرف يہ كہ قرض لينے يا ديواليہ ہوجانے كى مصيبت سے محفوظ رہتے ہيں بلكہ جلدى ہى اپنى خوشحالى اور بہتر زندگى كے اسباب فراہم كرليتے ہيں _

خداوند كريم نے اقتصاديات اور ميانہ روى كو ايمان كى علامت قرارديا ہے _ قرآن مجيد ميں فرماتاہے : جو لوگ اس طرح خرچ كريں كہ نہ اسراف كريں اور نہ بخل سے كام ليں وہ لوگ

۲۴۰