ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 11946
ڈاؤنلوڈ: 836

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 11946 / ڈاؤنلوڈ: 836
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

مرض كى بھينٹ چڑ ھ جائيں _ ان كى پمردہ صورت اور حسرت بھرى نگاہوں پر نظر ڈالئے اور بددلى چھوڑديجئے كہيں ايسا نہ ہو كو بيجا شك و شبہ ميں مبتلا ہوكر آپ خودكشى كا ارتكاب كرڈاليں يا اپنى بے گناہ بيوى كوقتل كرڈاليں _ ايك طرف قتل جيسے عظيم گناہ كے مرتكب ہوں كہ جس كى سزا خدانے دوزخ ركھى ہے اور دوسرى طرف اپنى نزدگى تباہ كرڈاليں يہ بات ذہن نشين رہے كہ خون زيادہ دن چھپا نہيں رہتا ايك نہ ايك دن جرم ظاہر ہوجاتا ہے اور مجرم كيفر كردار كو پہونچتا ہے پھانسى كے تختہ پر لٹكايا جاتا ہے ، يا سارى عمر قيد ميں بسر كرنى پڑتى ہے _

مجرمين كے اعداد و شمار پر نظر ڈالئے جن ميں كچھ كى خبريں تو اخبار ورسائل ميں بھى شائع ہوتى رہتى ہيں تا كہ اس قسم كے جرم كے نتائج آپ پرروشن ہوں _

اس قسم كے شكى مردوں كى بيويوں پر بھى بہت بھارى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے ان كو چاہئے كہ خود اپنى اور اپنے شوہر اور بچوں كى بھلائي كى خاطر ايثار و قربانى سے كام ليں اور اچھى طرح سے شوہر دارى كر يں _ ايسے ہى دشوار اور مشكل موقعوں پر خواتين كى لياقت ، سمجھداري، دانشمندى اور تدبر كا امتحان ہوتا ہے _

خواہر عزيز سب سے پہلے تو اس بات كو سمجھ ليجئے كہ آپ كا شوہر ايك خطرناك نفسياتى بيمارى ميں مبتلا ہے _ بلا سبب تو اپنى آپ كى زندگى تلخ نہيں كرے گا اور اصل وہ بيمار ہے _ جى ہاں شك كا مرض بھى خطرناك بيماريوں ميں شمار كيا جاتا ہے _ لہذا بيمار كا علاج ہونا چاہئے تا كہ اس كا مرض دور ہوجائے _ حتى الامكان اس سے والہا نہ نحبت كا اظہار كيجئے _ اس قدر اپنى محبت و لگاؤ كا اظہار كيجئے كہ اس كو يقين جائے كہ آپ كے دل ميں اس كے علاوہ اور كسى كى جگہ نہيں ہوسكتى _ اگر اعتراضات كرے بہانہ بازياں كرے تو صبر كيجئے _ اس كے غصہ اور بدمزاجى كے مقابلے ميں بردبارى سے كام ليجئے _ اس كى سختياں كو برداشت كرليجئے _ آہ و فرياد نہ كيجئے _ لڑائي جھگڑانہ كيجئے _ اس كى باتوں كے مقابلے ميں ہٹ دھرى محسوس كرتى ہيں كہ آپ كے خطوں اورآپ كى حركات و سكنات پر كنٹرول

۲۲۱

تو ابرو پربل نہ آنے ديجئے _ روزمرہ كے تمام واقعات اور سارى باتيں اس سے باتيں اس سے بيان كرديا كيجئے _

كوئي بات اس سے پوشيدہ نہ ركھئے _ جس بات كى توضيح طلب كرے بے كم و كاست حقيقت اسے بتاديا كيجئے _ جھوٹ بولنے اور كوئي بات چھپانے سے پورى طرح اجتناب كيجئے _ كيونكہ اگر ايك مرتبہ آپ كاجھوٹ اس پر كھل گيا تو وہ آپ كے جرم كى سند اور قطعى ثبوت مان ليا جائے گا _ او رپھر اس كے شك كو دورنا بيحد مشكل ہوجائے گا _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرا مان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

اگر كہے كہ فلاں شخص سے نہ ملو _ فلاں كام انجام نہ دو تو بغير چون و چرامان ليجئے اور ضد يا بحث نہ كيجئے ورنہ اس كى بدگمانى بڑھ جائے گى _

غرضكہ ان تمام كاموں سے پرہيز كيجئے جن سے شك و بدگمانى پيدا ہونے كا امكن ہو _

حضرت على (ع) فرماتے ہيں: اگر كوئي شخص اپنے آپ كو مشكوك حالت سے دوچار كرلے تو اس پر شك و شبہ كرنے والوں كو ملامت نہين كرنا چاہئے _(۲۲۸)

اگركسى خاص شخص كى جانب سے مشكوك ہے يا اسے ناپسند كرتا ہے تو آپ اس سے مكمل طور پر قطع تعلق كرليں _

كچھ خاص افراد سے دوستى قائم ركھنے كے مقابلہ ميں كيا يہ بہتر نہيں ہے كہ ان سے كنارہ كشى اختيار كركے اپنى اور اپنے شوہر كى زندگى تلخ ہونے سے بچاليں _ اپنے دل ميں يہ نہ سوچئے كہ كيا ميں اپنے شوہر كى زر خريد لونڈى ہوں يا نوكر ہوں كہ اس قدر سختياں اور پابندياں برداشت كروں جى نہيں آپ غلام نہيں ہيں البتہ ايك بيمار مرد كى شريك حيات ہيں _

جس وقت آپ شادى كے مقدس رشتے سے منسلك ہوئي تھى تو گويا آپ نے عہد كيا تھا كہ مشكلات اور پريشانيوں ميں ايك دوسرے كے شريك و غمخوار رہيں گے _ كيا رسم و فادارى يہى ہے كہ آپ اپنے بيمار شوہر سے كشمكش جارى ركھيں اور ہٹ دھرمى اور ضد سے كام ليتى رہيں بيكار افكار سے دامن چھڑايئےور عقلمند اور عاقبت انديش نبئے _ يقين مانئے اپنے شوہر اور

۲۲۲

خاندان كى خاطر آپ كا ضبط و تحمل اور اثار و فداكار بيحد اور لائق ستائشے ہے _ عورت كا ہنر تو اسى ميں ہے كہ وہ ايسے دشوار گزار اور نازك حالات ميں ايسے مردوں كا ساتھ نبھائے _ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں :عورت كا جہاد يہى ہے كہ اپنے شوہر كى اذيتوں كے مقابلے ميں بردبارى سے كام لے _(۲۲۹)

ايسا كوئي نہ كيجئے كہ جس سے آپ كے شوہر كو شك پيدا ہوجائے يا اس كے شك ميں مزيد اضافہ ہوجائے _ غيرمردوں خصوصاً ان لوگوں كى جن كى طرف سے آپ كا شوہر بد ظن ہے ، تعريف نہ كيجئے _ نامحرم مردوں پر نگاہ ڈالئے _ پيغمبر اسلام (ص) فرماتے ہيں : جو شادى شدہ عورت نامحرم مردوں پر شوقيہ نگاہ ڈالے گى خداوند عالم اس پر شديد عذاب نازل كرے گا _(۲۳۰)

غيرمردوں سے ربط ضبط نہ ركھئے اور ان سے بات چيت نہ كيجئے _ اپنے شوہر كى اجازت كے بغير ان كے گھر نہ جايئے كسى غير مرد كى كارميں لفٹ نہ ليجئے آپ كا باعصمت اور پاكدامن ہونا ہى كافى نہيں ہے بلكہ ان تمام امور سے مكمل طور پر دوررہنا بھى ضرورى ہے جن سے شك و شبہ پيدا ہونے كا امكان ہو _ ممكن ہے غفلت يا سادگى ميں آپ سے كوئي ايسا معمولى سا فعل سرزد ہوجائے جو آپ كے شوہر كو بدگمان كردے _ ذيل كے واقعہ پر توجہ فرمايئے_

ايك ۲۷ سالہ لڑكى نے عدالت ميں بتايا : آٹھ سال قبل ۱۹۶۳سنہ ء كے موسم سرما كا ايك برفيلا دن ميرى مصيت و پريشانى كا باعث بن گيا جب ميں اپنى دوست كے اصرار پر ، اپنے گھر واپس آنے كے لئے اس كے ماموں كى كارميں بيٹھ گئي اس واقعہ سے دوماہ قبل جبكہ ميں اسكول ميں زير تعليم تھى ميرا عقد ہواتھا ہواتھا ، واقعہ يوں ہے، كہ ايك دن اپنے نوٹس تيار كرنے كے لئے اپنى ايك ہم جماعت كے گھر گئي تھي_ واپسى كے وقت برف بارى شروع ہوگئي ميرى دوست نے مجھ سے كہا كہ ميرا ماموں تمہيں اپنى كارسے گھر پہونچادے گا _ اتفاق سے جب ميں گھر كے نزديك پہونچى توگلى سرے پرميرا شوہر كھڑا ہواتھا _ اسے ديكھ كر مجھ خوف محسوس ہوا او رميں نے اپنى دوست كے ماموں سے كہا كہ مجھے يہيں اتاركر جلدى سے واپس چلا جائے _ وہ بھى ايك مجرم كى مانند فوراً فرارہوگيا _ اور يہى امر ميرے شوہر كى بدگمانى ميں اضافے

۲۲۳

كا سبب بنا _ بعد ميں جب اس نے اعتراض كيا تو ميں نے ڈركرسرے سے انكار ہى كرديا اور اس بات نے ميرے شوہر كو اس حد تك ميرى طرف سے بدگمان كرديا كہ بعد ميں ميرى دوست اور اس كے گھر والوں كى گواہى بھى اس كو مطمئن اور آسودہ خاطر نہ كرسكى اوراس كا شك دور نہ ہوا _

اس كے بعد سے ميرا شوہر نہ تو مجھے ساتھ ركھنے پر راضى ہوتا ہے اور نہ ہى طلاق ديتا ہے اس واقعہ كو آٹھ سال ہورہے ہيں اور ميں اسى طرح زندگى گزاررہى ہوں _(۲۳۱)

قارئين كرام كى نظر ميں اس داستان ميں اصل قصور وار كون ہے ؟

ميرى نظر ميں اصل قصور توبيوى كا ہے جس نے اپنى ناسمجھى اورنادانى كے سبب خوداپنے اور اپنے شوہر كے لئے مصيبت كھڑى كردي_

۱_ پہلا غلط كام تو يہ كيا كہ ايك غير مرد كى كارميں سوار ہوگئي _ فرض كيجئے شوہر نے نہ بھى ديكھا ہوتا تب بھى اصولى طور پر ايك غير مرد كى كارميں عورت كا بيٹھنا ہى ايك بہت غلط اور خطرناك كام ہے _

۲_ چلئے مان ليجئے ناسمجھى كے سبب غير مرد كى كارميں بيٹھ گئي تھى _ ليكن جب شوہر كو گلى كے سرے پر كھڑے ديكھا تھا تو چاہئے تھا اسى وقت اس شخص سے كارروكنے كو كہتى اوركارسے اتركر شوہر كے ساتھ گھر جاتى اورسارى بات اسے بتاديتى _

۳_ بہت برى غلطى يہ كى كہ اس شخص كو بھاگ جانے كو كہا _

۴_ چوتھى غلطى يہ كى بعد ميں تمام واقعہ سے سرے سے انكار ہى كرديا _ حالانكہ ان سب باتوں كے بعد بھى موقعہ تھا كہ جب شوہر نے پوچھا تھا تو بے كم و كاست سارى بات بيان كرديتى اور اپنى غلطى كا اعتراف كرتى كہ نا سمجھى يا مروت كے سبب يہ نامناسب كام انجام ديا _

البتہ اس سلسلے ميں مرد بھى بے قصور نہيں ہے _ محض اس واقعہ كو خيانت كى قطعى دليل نہيں سمجھ لينا چاہئے تھا _ اس كو اس امكانى صورت حال پر توجہ دينى چاہئے تھى كہ اس كى بيوى غفلت ناتجربہ كارى يا ناسمجھى كے سبب اس غلطى كى مرتكب ہوئي ہے اور بعد ميں الزام كے ڈرسے اس نے اس شخص كو بھا گ جانے كى ہدايت كى اور اسى سبب سے اصل واقعہ سے انكار كررہى ہے _ دانشمندى كا تقاضہ تويہ تھا كہ نہايت انصاف اور غير جانبدارى كے ساتھ اس واقعہ كى پورى طرح تحقيق اور چھان بين كرتا اور ہر طرف سے اطمينان حاصل كرنے كے بعد اس كى غلطى كو معاف كردتيا اور اس پر زيادہ سختى نہ كرتا _

۲۲۴

بدكردار عورت

اگر شواہد و دلائل ذريعہ قطعى طور پر ثابت خو جائے بيوى كا چال چلنى اچھا نہيں ہے اور اس كے غير مردوں سے نا جائز تعلقات ہيں تو مرد بيحد مشكل ميں پڑ جاتا ہے ايك طرف اس كى عزت و آبر و خطرہ ميں پڑ جاتى ہے دوسرى طرق ايسى باعث ننگ بات برداشت كرنا دشوار ہوتا ہے _

ايسى حالت ميں كرد كے لئے اس صورت حال سے بخات حاصل كرنا بيحد دشوار اور خطر ناك ہو جاتا ہے _

ايسے موقعہ پر مرد كے سامنے چند راستے ہوتے ہيں : _

۱_ اپنے خاندان كى عزت و آبرو قائم ركھنے كے لئے دل پر پتھر ركھ كر بيوى كى خيانت كاريوں كو نظر انداز كرد ے اور راسى طرح آخر عمر تك نبھا تارہے _ البتہ يہ راستہ صحيح نہيں ہے كيونكہ كوئي غيرت مند مرد اس بات كا متحمل نہيں ہو سكتا كہ بيوى كى بد كردار يوں اور نا جائز