ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 22845
ڈاؤنلوڈ: 1290

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22845 / ڈاؤنلوڈ: 1290
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

زيادہ محبت كرنے والے ہوتے ہيں _

اصولى طور پر بيٹى كى پيدائشے ميں آخر بيوى كا كيا قصور ہے جو شوہر اس پر اعتراض كرتے ہيں اس ميں مياں بيوى دونوں ہى شريك ہيں _

ممكن ہے بيوى شوہر پر اعتراض كرے كہ لڑكى كيوں پيدا كى _ در حقيقت اس ميں قصور وار كوئي بھى نہيں ہے بلكہ يہ چيز تو خدا كى مرضى و مصلحت پر منحصر ہوتى ہے _ وہ جس كو چاہتا ہے لڑكى ديتا ہے اور جس كو چاہتا ہے لڑكا عطا كرتا ہے _ البتہ كچھ دانشوروں كا خيال ہے كہ لڑكے يا لڑكى كى پيدائشے حمل كے شروع كے دومہينوں ميں ماں كى غذاكى نوعيت پر منحصر ہے ان كا كہنا ہے كہ غذا كے مخصوص پروگرام كے تحت حسب ودلخواہ اولاد پيدا كى جا سكتى ہے _

لہذا جن لوگوں كى شديد خواہش ہے كہ بيٹا پيد اہو بہتر ہے كہ اس سلسلے ميں اس فن كے ماہر ين سے مشورہ كريں اور بلا سبب اپنى اور اپنى بيوى كى پريشانى اور ناراضگى كے اسباب فراہم نہ كريں _ ايك عقلمند اور روشن خيال انسان بيٹى كى پيدائشے كى خبر سن كر نہ صرف يہ كہ رنجيدہ نہيں ہوتا بلكہ خوشى و شادمانى كا اظہار كرتاہے _ اس خيال سے كہ دوسرے اور اس كى بيوى يہ نہ سوچيں كہ بيٹى كى پيدائشے پر اسے افسوس ہے ، معمول سے كچھ زيادہ ہى خوشى ظاہر كرتا ہے _ بيوى كى نسبت زيادہ نوازش ومحبت سے پيش آتا ہے اور امكان ميں ہوتو اس كوتحفہ پيش كرتا ہے _ اپنى نومولود بچى كى ولادت پر جشن مناتا ہے _ اگر بيوى بيٹى كى پيدائشے سے رنجيدہ ہے تو اس كو تسلى ديتا ہے اور دليل و ثبوت كے ذريعہ واضح كرتا ہے كہ بيٹے اور بيٹى ميں كوئي فرق نہيں _ خود بھى كبھى بيٹوں كو بيٹيوں پر ترجيح نہيں ديتا او راس طرح عہد جاہليت كے فرسودہ اور فضول خيالات سے مقابلہ كرتا ہے _

ايک شخص رسول خدا (ص) کے پاس بيئها تها که اس کوبيئي کي پيداکش کي خبر ملي - يه خبر سن کر اس کے چهرهے کارنگ متغير هوگيا - پيغمبر اکرم (ص) نے پوچها - تمهارے چهرے کي رنگت کيوں بدل بدل گئي ؟ عرض کيا جب ميں گهر سے چلاتها اس دقت سيري بيوئي و ضع خمل کمي حالت بس تهي اب مجھے اطلاع ملى ہے كہ لڑكى پيدا ہوئي ہے _ رسول خدا (ص) نے فرمايا : زمين اس كو جگہ دے گى اور آسمان اس كے سرپر سايہ كرے گا _ اور خداوند عالم اس كو روزى عطاكرے گا _ وہ پھول كى مانند ہے كہ جس كے وجود سے تم كو فائدہ ہوگا _(۲۸۳)

۲۶۱

زمانہ حمل اورزچگي

زمانہ حمل بہت حساس اورسرنوشت ساز دور ہوتا ہے _ ماں كى غذا اور اس كى جسمانى حركات و نفسياتى حالات خود اس كے مستقبل پر اور اس كے رحم ميں پرورش پانے والے بچے ، دونوں پر بہت زيادہ اثر ڈالتے ہيں _

بچے كى سلامتى يابيمارى ، طاقت ياكمزوري، خوبصورتى يا بد صورتى ، خوش اخلاقى يا بداخلاقى اور كسى حد تك ذہانت و عقلمندى اسى زمانے ميں جبلكہ وہ رحم مادر ميں ہوتا ہے تشكيل پاتى ہے _

ايك دانشور لكھتا ہے : بچے كے والدين كے ہاتھ ميں ہے كہ اس كى اچھى طرح نشو و نما كريں يا خراب اور غمگين گوشہ ميں اس كى پرورش كريں _ يہ امر مسلم ہے كہ مذكورہ دوسرى جگہ انسانى روح كے رہنے كے لائق نہيں ہوتى اس لئے انسانيت كے مقابلہ ميں ماں باپ كے كندھوں پر بہت بھارى ذمہ دارى ركھى گئي ہے _(۲۸۴)

لہذا زمانہ حمل كو ايك عام زمانہ نہيں سمجھنا چاہئے _ اور اس كى طرف سے بے توجہى برتنى چاہئے بلكہ دوران حمل كى ابتدا سے ہى ماں باپ پر بہت بڑى ذمہ دارى عائد ہوجاتى ہے كہ اگر ذرا بھى غفلت برتى تو شديد ا ً اور ناقابل تلافى مشكلات كا سامنا كرنا پڑتا ہے _ يہاں پر چند باتوں كا تذكرہ ضرورى معلوم ہوتا ہے _

۱_ غذائي پروگرام : جو بچہ ماں كے رحم ميں پرورش پاتا ہے وہ ماں كے خون سے غذا حاصلہ كرتا ہے اور نشو ونما پاتا ہے _ اس بناء پر ماں كى غذا ، اتنى مكمل اور بھر پور ہونى چاہئے كہ خود اپنى غذائي ضروريات كو پورا كرے اور صحيح و سالم زندگى گزارے اور دوسرى طرف بچے كے جسم و جان

۲۶۲

كى پرورش كے لئے جن غذائي مواد كى ضرورت ہوتى ہے وہ اسے فراہم ہوسكے تا كہ اچھى طرح صحت و سلامتى كى ساتھ نشو و نما پا سكے ، لہذا ايك حاملہ عورت كا غذائي پروگرام بہت مناسب اور ممكن ہونا چاہئے _ كيونكہ بعض غذائي مواد مثلاً مختلف وٹامن ، معدنى مواد، پروٹين ، چربى ، شكر اور نشاستہ و غيرہ كى كمى يا فقدان سے ماں اور بچے (جو كہ ماں كے خون سے غذا حاصل كرتا ہے ) دونوں ہى كى صحت و سلامتى كو خطرہ لاحق ہوتا ہے _

امام صادق (ع) سے ايك حديث منقول ہے كہ ''مال جو كچھ كھاتى ہے اور پيتى ہے ، ماں كے رحم ميں موجود بچے كى غذا اسى سے بنتى ہے _(۲۸۵)

يہاں پر ايك اور مشكل بھى پيش آتى ہے _ بعض خواتين كا حمل كے پورے زمانے ميں يا كچھ مدت تك عام مزاج نہيں رہتا بلكہ بعض كھانوں سے انھيں نفرت ہوجاتى ہے يا كم خوراك ہوجاتى ہيں جبكہ اس زمانے ميں انھيں زيادہ غذا كى ضرورت ہوتى ہے اس لئے جن غذائي چيزوں سے انھيں رغبت ہواور وہ مختلف غذائي مواد سے بھرپور بھى ہوں اور ان كا حجم بھى ہو ان كے لئے مہيا كى جائيں _ اس قسم كے غذائي پروگرام كى تنظيم كرنا دشوار كام ہے بالخصوص ان افراد ك ےلئے جن كى آمدنى كم ہو اور حفظان صحت او رغذاؤں كى خاصيت سے پورى طرح آگاہ نہ ہوں _ يہاں پر بچے كے باپ كے اوپر بہت بڑى ذمہ دارى عائد ہوتى ہے _ اس كو چاہئے اپنے امكان بھر كوشش كرے اوراپنى حاملہ بيوى اور بچے كے لئے جو كہ ابھى رحم مادر ميں پرورش پارہا ہے ، مناسب اور طاقت و توانائي سے بھر پور غذائيں مہيا كرے _ اگر اس نے عظيم ذمہ دارى سے كوتاہى كى تو اس كى بيوى اور بچے دونوں كى صحت و سلامتى كو نقصان پہونچے گا _ اس دنيا ميں بھى اس كا خميازہ بھگتنا پڑے گا اور آخرت ميں بھى خدا كے عتاب كا نشانہ بننا پڑے گا _

۲_ ذہنى سكون : ايام حمل كے دوران عورت كو مكمل ذہنى سكون و آرام كى ضرورت ہوتى ہے اور اسے زندگى سے بھر پور اور خوش و خرم رہنا چاہئے _ كيونكہ جسمانى آرام اور ذہني

۲۶۳

سكون اور خوشى ومسرت خو د اس كى صحت و سلامتى پر بھى اثر انداز ہوتى ہے اور اس كے شكم ميں پرورش پانے والے بچے كے جسم اورنفسيات پر بھى اس كا بہت اثر پڑتا ہے _ خوشى و سكون كا ماحول فراہم كرنا بھى شوہر كى ذمہ دارى ہے شوہر كو چاہئے ہميشہ اپنى محبتوں اور نوازشوں اور دلجوئيوں سے اپنى بيوى كے دل كو گرم اورخوش ومطمئن ركھے ليكن حمل كے زمانے ميں اس ميں اور اضافہ كردينا چاہئے _ شوہر كا سلوك ايسا ہونا چاہئے كہ اس كى بيوى اپنے وجود ميں پيدا ہونے والے اس تغير پر غرور و شادمانى محسوس كرے اور اپنے آپ پر فخر كرے كہ اس كى سرشت ميں ايك اچھے اور سالم انسان كى پرورش كى ذمہ دارى ركھى گئي ہے _ اور اسے اطمينان ہو كہ اس كا شوہر اپنے پورے وجود سے اسے چاہتا ہے اور اپنے ہونے والے بچے سے بھى دلچسى ركھتا ہے _

۳_ شديد حركات سے پرہيز كرنا چاہئے : حمل كے زمانے ميں عورت كو آرام كى ضرورت ہوتى ہے اور اسے دشوار اور بھارى كاموں سے پرہيز كرنا چاہئے _ بھارى چيزيں اٹھانا، تيزتيز چلنا ، اچھلنا ، كودنا خود اس كے اور بچے كے لئے نہايت مضر اور نقصان دہ ثابت ہوسكتا ہے _ حاملہ عورتوں كو اس بات كو پورا دھيان ركھنا چاہئے _ شوہروں كا بھى فرض ہے كہ اپنے بيويوں كو بھارى چيزيں نہ اٹھانے ديں اور بھارى كام نہ كرنے ديں بلكہ بھارى كام خود انجام ديں _

۴_ زمانہ حمل ميں بعض خواتين وضع حمل كے مراحل سے بہت زيادہ خوفزدہ رہتى ہيں _ خصوصاً جن خواتين كا پہلا بچہ ہو يا جن كے بچے غير فطرى طريقے سے پيدا ہوتے ہوں _اس سلسلے ميں بھى شوہر كو اپنى بيوى كى مدد كرنى چاہئے اسے تسلى دے ہمت بندھائے _ _اور بتائے كہ اگر اپنى صحت و تندرسى كا خيال ركھا تو بچے كى پيدائشے ميں كوئي مشكل نہ ہوگى يہ ايك فطرى عمل ہے جس سے تمام عورتوں كو گزرنا پڑتا ہے اور اس كو برداشت كرنا بہت مشكل نہيں ہے اس تكليف بصورت بچہ عطا فرمائے گا جو ہمارے لئے افتخار كا باعث ہوگا _ اور اپني

۲۶۴

ہر طرح كى مدد كا وعد كرے _ و غيرہ

۵_ بچے كى پيدائشے كا مرحلہ سخت ہوتا ہے _ حاملہ عورتيں احتمالى خطرات و نتائج سے خوفزدہ ہوتى ہيں _ وضع حمل كے بعد بھى ضعف و كمزورى باقى رہتى ہے _ بچے كى پيدائشے كے سلسلے ميں عورت كو نو ماہ حمل كى زحمت ، پھر بچے كو جنم دينے كے سخت اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے اوردودھ پلانا ہوتا ہے _ ليكن بچے كو وجود ميں لانے ميں شوہر پورى طرح دخيل رہتا ہے _ در حقيقت بچہ ماں باپ دونوں كے اشتراك سے وجود ميں آتا ہے _ اگر چہ اس نئے وجود كا مركز ماں كا رحم ہوتا ہے _ لہذا شوہر كا اخلاقى ، انسانى اور اسلامى لحاظ سے يہ فريضہ ہے كہ زچگى كے سخت مراحل سے گزرنے ميں اپنى بيوى كى دلجوئي كرے _ اور پورى كوشش كرے كہ يہ مرحلہ آسانى سے انجام پاجائے _ اگر ڈاكٹر ، دوا اور اسپتال لے جانے كى ضرورت ہو تو اس سے دريغ نہ كرے _ اظہار محبت كے ذريعہ بيوى كى ہمت بنڈھائے _ جب بيوى اسپتال ميں ہو تو برابر اس كى احوال پرسى كرتا رہے _ برابر اس كے پاس جائے بچے كى پيدائشے كے بعد ممكن ہو تو فوراً اس كے پاس جائے _ جب بيوى و بچہ اسپتال سے گھر آئيں تو بہتر ہے كہ خود ساتھ رہے _ اور گھر ميں اس كے آرام كے سامان مہيا كرے _ كمزورى كے زمانے ميں اسے بھارى كام نہ كرنے دے _ كوشش كرے كہ اس كے لئے مقوى غذاؤں كا انتظام رہے تا كہ وہ اپنى كھوئي ہوئي طاقت كو پھر سے محال كرلے اور صحت و سلامتى كے ساتھ اپنے كاموں او رنوزاد كى پرورش ميں مشغول ہوجائے _

مرد اگر اس طرح سے اپنے اخلاقى و اسلامى فريضہ كو پورا كرے گا تو خدا اسے اجر عطا فرمائيگا حضرت رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں كہ تم ميں بہترين مرد وہ ہے جو اپنى بيوى كے ساتھ اچھا سلوك كرے _ اور ميں تم سب كى بہ نسبت اپنى بيويوں سے سب سے اچھا سلوك كرنيوالا ہوں _(۲۸۶)

حضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں : خدا اس شخص پر رحمت نازل كرتا ہے جو

۲۶۵

اپنے اور اپنى بيوى كے درميان اچھا رابط قائم ركھتا ہے كيونكہ خداوند عالم نے مرد