ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق0%

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 299

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف: ‏آیة الله ابراهیم امینی
زمرہ جات:

صفحے: 299
مشاہدے: 22840
ڈاؤنلوڈ: 1290

تبصرے:

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 299 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 22840 / ڈاؤنلوڈ: 1290
سائز سائز سائز
ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

ازدواجى زندگى كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

نام كتاب :ازدواجى زندگی كے اصول يا خاندان كا اخلاق

مصنّف :حجة الاسلام و المسلمين ابراہيم اميني

ترجمہ :محترمہ عندليب زہرا كامون پوري

كتابت :سيد قلبى حسين رضوى كشميري

ناشر :سازمان تبليغات اسلامى روابط بين الملل _ تہران_ اسلامى جمہوريہ ايران پوسٹ بكس ۱۳۱۳ ۱۴۱۵۵

تعداد :۵۰۰۰

تہيہ و تنظيم:شعبہ اردو_ سازمان تبليغات اسلامي

تاريخ :جمادى الثانى سنہ ۱۴۱۰ ھ

۳

عرض مترجم

دوسرى زبانوں كے لٹريچر اپنى زبان ميں منتقل كرنے كا مقصد كسى قوم كے ادب و ثقافت اور تہذيب و تمدّن سے اپنى قوم اور اپنے ہم وطنوں كو روشناس كرانا ہوتا ہے _ ترجمہ كا كام ہر دور ميں ہوتا رہا ہے اور يہ بڑى عمدہ روش ہے _

البتہ زير نظر كتاب كا ترجمہ مذكورہ مقصد كو سامنے ركھ كر نہيں كيا گيا ہے بلكہ ترجمہ كے لئے اس كتاب كو منتخب كرنے كے كچھ دوسروے اسباب ہيں _

خاندان ميں افراد كے درميان باہمى تعلقات و روابط اوراخلاق كے متعلق اردو ميں جامع اور قابل قدر تصانيف بہت كم نظر آتى ہيں خصوصاً ہمارى زبان ميں ايسى كتابوںكى بے حد كمى ہے جس ميں ان روابط كو قرآن و حديث اور اقوال ائمہ اطہار (ع) كى روشنى ميں بيان كيا گيا ہو _

ہم سبھى اپنے اپنے فرائض اور ذمہ داريوں كى ادائيگى ميں رات دن مشغول رہتے ہيں ليكن اگر اس ميں خدا كى خوشنودى كا تصور بھى شامل رہے اور اگر ہم اس بات سے واقف ہوں كى خدا كى نظر ميں ہمارے روزمرہ كے معمولى سے معمولى كاموں كى بھى كتنى اہميت ہے ، تو ان كاموں كى قدر و قيمت كئي گنا بڑھ جاتى ہے _

مثلاً خواتين رات دن گھروارى كے گوناگوں كاموں ميں مشغول رہتى ہيں ان صبر آزما كاموں كو ہنسى خوشى يا بددلى كے ساتھ چار و ناچار انجام دينا ہى پڑتا ہے _ البتہ اگر انھيں يہ معلوم ہوجائے كہ

۴

يہ تمام كام محض ان كے فرائض كى انجام وہى ميں شامل نہيں ہيں بلكہ ان كا شمار عبادات الہى ميں ہوتا ہے اور خداوند عالم نے اسے عورت كے جہاد سے تعبير كيا ہے تو ان كاموں كو انجام دينے ميں زيادہ شوق ، دلچسپى اور لگن پيدا ہوگى _ اور جو كام ذوق و شوق اور دلچسپى كے ساتھ انجام ديا جائے خواہ وہ كيسا ہى تھى تھكا دينے والا كيوں نہ ہو اس ميں زيادہ تھكن كا احساس نہيں ہوتا _ البتہ وہى كام اگر مجبورى اور اپنے اوپر مسلط سمجھ كركيا جائے تو چونكہ دل جمعى اور دلچسپى كے ساتھ نہيں كيا جاتا ، اس لئے اس ميں تھكن زيادہ محسوس ہوتى ہے اوراكتا ہٹ بھى قائم رہتى ہے _ يہى وجہ ہے كہ جو كام ہم پر ہمارى مرضى كے بغير مسلط كئے جاتے ہيں ان كو ہم اچھى طرح انجام نہيں دے پاتے ليكن جن چيزوں سے ہم كو دلچسپى ہے ان كاموں كو ہم مختصر وقت ميں اور بہتر طريقے سے انجام ديتے ہيں _

بچّے كى پرورش آسان كام نہيں _ ماں دن بھر كے كاموں كے بعد تھك كررات كو سنا چاہتى ہے مگر بچّے كو كسى وجہ سے نيند نہيں آرھى ہے وہ بے چين ہے _ كبھى بہانے كركے روتا ہے كبھى كسى چيز كى فرمائشے كرتا ہے_ ماں پر نيند كا غلبہ ہے _ ايك طرف نرم و گرم بستر آرام كرنے كى دعوت دے رہا ہے دوسرى طرف بچے كو پرسكون كرنا ہے _ مامتا كا عظيم جذبہ ہر چيز پر غالب آتا ہے وہ اپنا آرام بھول كر بچے كو آرام پہونچانے كى فكر ميں لگ جاتى ہے _ مامتا كا يہ جذبہ خداوند رحيم و كريم كا ہى عطا كردہ ہے ليكن اگر ماں كے دل ميں بچّے كى محبت كے ساتھ يہ جذبہ بھى شامل رہے كہ وہ خدا كى معصوم مخلوق اور معاشرہ كى ايك فرد كى خدمت انجام دے رہى تو يقينا اجر ميں كئي گنا اضافہ ہوجائے گا _

آج كل بعض خواتين بچوں كو دودھ پلانا معيوب سمجھتى ہيں اگر انھيں يہ معلوم ہوجائے كہ ان كے بچے كى صحت و سلامتى نيز ذہنى و جسمانى نشو و نما اور كردار سازى كے لئے ماں كا دودھ كتنى اہميت ركھتا ہے نيز خدا و رسول (ص) نے بھى اس كى بہت تاكيد كى ہے اور اس كا بڑا اجر مقرر فرمايا ہے تو يقين ہے مومن خواتين اس سے ہوے والے دہرے فائدے كو نظر انداز نہيں كريں گے _ ايران ميں اسلامى انقلاب كى كاميابى كے بعد ماؤں كى يادآورى كے لئے دودھ كے ڈبوں پر حضرت رسول اكرم (ص) كے اقوال درج ہوتے ہيں _

۵

اسى طرح كسب معاش اور بيوى بچّوں كے اخراجات پورے كرنے كے لئے مرد كوگھر سے باہر گوناگوں مشكلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے البتہ كسى كو كم زحمات كے ساتھ روزى مہيّا ہوجاتى ہے اور كسى كو اس كے حصول كے لئے بے حد زبردست صبرو ضبط اور محنت و مشقّت سے كام لينا پڑتا ہے _ البتہ اگر مرد كو خدا كے نزديك اپنے عمل كى قدر و قيمت كا اندازہ ہوجائے اور وہ اپنے فرائض كو خوشى خوشى اور خوشنودى خدا كے تصور كو سامنے ركھ كر انجام دے تو اس كو كہيں زيادہ ثواب ملے گا _

اسلام ميں عورت و مرد دونوں كو حقوق عطا كئے گئے ہيں اور ان كى جسمانى ساخت كى مناسبت سے عادلانہ طور پر ان كے فرائض بھى مقرر كئے گئے ہيں _

ہم كو اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور اپنى مقدس كتاب قرآن مجيد بے حد عزيز ہے لہذا ہم ميں سے ہر مسلمان عورت و مرد كا فرض ہے كہ اسلام كى روشنى ميں اپنے حقوق و فرائض كو سمجھ كر اس پر عمل كريں اور اپنے مثال كردار كے ذريعہ اپنے مقدس دين كى تبليغ كريں _

زير نظر كتاب ايك مشہود و معروف عالم دين اور مصنف كى فكر كا نتيجہ ہے اس كتاب ميں بعض جملوں يا مفہوم كى تكرار كى گئي ہے ليكن اسے مصنف كے طرز نگارش كى خامى نہيں سمجھنا چاہئے بلكہ اس كا مقصد اس موضوع پر تاكيد كرنا ہے اور باربار مختلف طريقوں سے اسے دہراكر ذہن نشين كرانا ہے _ بعض جگہ طوالت سے كام ليا گيا ہے _ اس كا مقصد بھى يہى ہے كہ مثالوں كے ذريعہ بات اس طرح بيان كى جائے كہ دل ميں اتر جائے _

شاہى دور ميں ايرانى معاشرہ مغرب كى اندھى تقليد كے نتيجہ ميں گوناگوں برائيوں ميں ملوث تھا غير اسلامى افكار كى پيروى كے سبب اخلاقى بے راہ روى عام تھى عام طور پر خاندانى انس و محبت ، ايثارو قربانى كا فقدان تھا _ اسى لئے اس دور ميں طلاقوں كى تعداد بہت زيادہ تھى بلكہ اس سلسلے ميں ايران كا شمار دنيا كے ملكوں ميں چوتھى نمبر پر تھا _ خدا كا شكر ہے اسلامى انقلاب كى كاميابى كے بعد ايران ميں زندگى كے ہر شعبہ ميں نمايان تبديلياں نظر آتى ہيں _ كل كے ايران ميں جن چيزوں كو اعلى معيار كى نشانى سمجھا جاتا تھا آج ان چيزوں كو معيوب سمجھا جانے لگا ہے چونكہ پرانے آثار يہ لخت اور يكسر تو مٹ نہيں سكتے اس لئے

۶

طاغوتى دور كى سچى مثالوں اور واقعات سے مددلى گئي ہے تا كہ اس كى خامياں واضح ہوسكيں اور آئندہ نسليں ان سے محفوظ رہتے كى كوشش كريں _ خدا كا شكر ہے بر صغير ميں اسلامى معاشرہ ابھى تك ان بہت سى خاميوں سے پاك ہے جن كا اس كتاب ميں ذكر كيا گيا ہے اس لئے بہت سى باتيں عجيب و غريب معلوم ہوں گى _ ليكن دوسروں كى اندھى تقليد كا انجام ہميشہ بہت خراب ہوتاہے اور ہمارے يہاں بھى ماڈرن اور ترقى يافتہ بننے كا شوق بڑھتا جارہا ہے اور اپنے دينى و اسلامى اقدار كو فراموش كيا جارہاہے اور اگر خدا نخواستہ يہ شوق اسى شدّت سے جارى رہا تو وہ دن دور نہ ہوگا كہ ہمارا معاشرہ بھى فسق و فجور ميں گرفتار ہوجائے اور خاندانوں سے محبت و خلوص كا خاتمہ ہوجائے_

اس كتاب كا ترجمہ كرنے كا مقصد يہى ہے كہ ہمارے ملك ميں ناسمجھى اور ناتجربہ كارى كى وجہ سے برباد ہونے والى زندگيوں كوتباہى سے بچايا جا سكے اور اس كے مطا لعہ كے ذريعہ خاندانوں كى اصلاح ہو _ بہتر ہے كہ شادى سے پہلے لڑكے اور لڑكى كو اس كا مطالعہ كرنے كى ترغيب دلائي جائے _ جن نوجواں جو روں نے نئي زندگى ميں قدم ركھا ہے ، اس كتاب كا مطالعہ كركے شروع سے ہى اپنے حالات اور اخلاق كو سنوارنے كى كوشش كريں _ جن ميں بيويوں كى زندگياں نصف گزر چكى ہيں وہ بھى اس كتاب كا مطالعہ كركے اپنے اصلاح كركے اپنے خاندان اور نئي نسل كو تباہى و بربادى سے بچا سكتے ہيں _ مثل مشہور ہے :'' صبح كا بھولا اگر شام كو گھرواپس آجائے تو اسے بھولا نہيں كہتے _''

بہر حال ميرے خيال ميں زير نظر كتاب معاشروں كى اصلاح كے لئے كافى كارآمد اور مفيد ثابت ہوسكتى ہے _ اپنى قوم و ملت كى سربلندى و كاميابى كى آرزو اور دعاؤں كے ساتھ _

والسلام عليكم و رحمة اللہ و بركاتہ

عندليب زہرا موسى كاموں پوري

۷

پيش لفظ

ہر لڑكے اور لڑكى ، سن بلوغ كو پہونچنے كے بعد سب سے بڑى آرزو يہ ہوتى كہ وہ شادى كريں اور شادى كے ذريعہ اپنى مشرتكہ زندگى كى اساس پر زيادہ سے زيادہ استقلال و آزادى حاصل كريں اور ايك مونس و غمخوار اور ہمدم و ہمراز پاليں _ ازدواجى زندگى كو زندگى كا نقطہ عروج اور خوش نصيبى كا آغاز سمجھا جاتا ہے اسى لئے شادى كا جشن منايا جاتا ہے _ عورت كو مرد كے لئے پيدا كيا گيا ہے اور مرد كو عورت كيلئے جو مقناطيس كى طرح ايك دوسرے كو اپنے ميں جذب كرليتے ہيں _ شادى اور مشتركہ زندگى كے ذريعہ خاندان كى تشكيل ايك فطرى خواہش ہے جو انسان كى سرشت ميں ركھى گئي ہے _ اور يہ چيز خود ، خداوند عالم كى عطا كردہ نعمتوں ميں سے ايك