اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت0%

اسلامی نظریہ حکومت مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 367

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف: علی اصغر رضوانی
زمرہ جات:

صفحے: 367
مشاہدے: 17049
ڈاؤنلوڈ: 512

تبصرے:

اسلامی نظریہ حکومت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 367 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 17049 / ڈاؤنلوڈ: 512
سائز سائز سائز
اسلامی نظریہ حکومت

اسلامی نظریہ حکومت

مؤلف:
اردو

خلاصہ :

۱) امام (ع) نے بعض روايات ميں فقيہ كو منصب عطا كيا ہے _ اور امام (ع) كے زمانہ حضور اور غيبت دونوں ميں يہ منصب ان كے پاس ہے_

۲) امام كا ولايت كليہ كا حامل ہونا ،بعض امور ميں شيعوں كو فقہاء كى طرف رجوع كرنے كا حكم دينے سے مانع نہيں ہے _

۳) امام صادق نے اس دور ميں فقہاء كو ولايت پر منصوب كيا جب آپ اپنے اختيارات استعمال كرنے ميں بے بس تھے _ اور اس سے كوئي مشكل پيدا نہيں ہوتى كيونكہ نصب ولايت اور ولايت كو بروئے كار لانا ،دو الگ الگ چيزيں ہيں _

۴)فقيہ كى ولايت انتصابى كى ادلّہ پر بعض افراد كا اعتراض يہ ہے كہ امام كى طرف سے فقہا كو ولايت كا حاصل ہونا معاشرتى نظام كے مختل ہونے اور خرابى كا باعث بنتا ہے _

۵) ايك ہى واقعہ ميں مختلف فقہا كا ولايت كو بروئے كار لانا اختلال نظام كا موجب بنتا ہے نہ ان كامنصب ولايت _

۶) بعض روايات ضعف سند يا عدم وضاحت كى وجہ سے ولايت فقيہ كے مؤيّدات كے زمرہ ميں آتى ہيں_

۷) وہ روايات جو علماء اور فقہاء كو انبياء (ع) كا وارث اور رسول خدا (ص) كا خليفہ قرار ديتى ہيں فقيہ كى ولايت كى دليل ہيں كيونكہ معاشرے كے امور كى تدبير اور ولايت بھى انبياء كى صفات ميں سے ہيں_

۲۲۱

سوالات :

۱) ''فقيہ كى ولايت انتصابى ''كا نظريہ كن اعتراضات اور ابہامات سے دوچار ہے ؟

۲) اگر ہر فقيہ عادل ''منصب ولايت'' كا حامل ہو تو كيا اختلال نظام كا باعث بنتا ہے ؟

۳) كيا وہ امام معصوم جو خود بے بس ہو وہ كسى اور كو ولايت عامہ پر منصوب كرسكتا ہے ؟

۴) روايت''اللهم ارحم خلفائي ''سے فقيہ كى ولايت پر استدلال كيجيئے _

۵) روايت ''العلماء ورثة الانبياء '' كس طرح فقيہ كى ولايت پر دلالت كرتى ہے ؟

۲۲۲

تيئيسواں سبق :

ولايت فقيہ پر عقلى دليل

ہم گذشتہ چند اسباق ميں ولايت فقيہ كى اصلى ترين ادلّہ روائي پر نظر ڈال چكے ہيں اب ولايت فقيہ پر قائم عقلى ادلّہ كى تحقيق و بررسى كرتے ہيں _

ہمارے علماء نے ہميشہ نبوت اور امامت كى بحث ميں عقلى ادلّہ سے استدلال كيا ہے '' برہان عقلى '' عقلى اور يقينى مقدمات سے تشكيل پاتا ہے _ يہ مقدمات چار خصوصيات يعنى كليت ، ذاتيت، دوام اور ضرورت كے حامل ہونے چاہي ں_

اسى وجہ سے ان سے جو نتيجہ حاصل ہوتا ہے وہ بھى كلى ، دائمى ، ضرورى اور ذاتى ہوتا ہے اور كبھى بھى جزئي يا افراد سے متعلق نہيں ہوتا_ اسى وجہ سے نبوت اور امامت كے متعلق جو برہان قائم كئے جاتے ہيں وہ كسى خاص شخص كى نبوت يا امامت كے متعلق نہيں ہوتے _ اور نہ ہى كسى خاص فرد كى نبوت يا امامت كو ثابت كرتے ہيں _ بنابريں ولايت فقيہ كے مسئلہ ميں بھى وہ عقلى دليل جو خالصةً عقلى مقدمات سے تشكيل پاتى ہے جامع الشرائط

۲۲۳

فقيہ كى اصل ولايت كو ثابت كرتى ہے _اور يہ كہ كونسا ''فقيہ جامع الشرائط ''اس ولايت كا حامل ہو ؟يہ ايك جزئي اور فردى امر ہے لہذا اس كا تعيّن عقلى دليل سے نہيں ہوگا _ (۱)

دليل عقلى كى دو قسميں ہيں _

الف: عقلى محض ب: عقلى ملفّق

دليل عقلى محض وہ دليل ہے جس كے تمام مقدمات خالصةً عقلى ہوں اور ان ميں كسى شرعى مقدمہ سے استفادہ نہ كيا گيا ہو _

دليل عقلى ملّفق يا مركب وہ دليل عقلى ہے جس كے بعض مقدمات شرعى ہوں مثلاً آيات يا روايات يا كسى شرعى حكم سے مدد لى گئي ہو اور اس برہان كے تمام مقدمات خالصةً عقلى نہ ہوں _ولايت فقيہ كے باب ميں ان دونوں قسم كى عقلى ادلّہ سے استدلال كيا گيا ہے _ ہم بھى اس سبق ميں بطور نمونہ دونوں قسموں سے ايك ايك نمونہ ذكر كريں گے _

ولايت فقيہ كى عقلى ادلّہ كے بيان كرنے سے پہلے دو نكات كا ذكر كرنا ضرورى ہے _

اس ميں كوئي مانع نہيں ہے كہ عقلى دليل كا نتيجہ ايك شرعى حكم ہو _كيونكہ عقل بھى شرعى احكام كے منابع ميں سے ہے اور شارع مقدس كى نظر كو كشف كرسكتى ہے _ علم اصول ميں مستقلات عقليہ اور غير مستقلات عقليہ پر تفصيلى بحث كى گئي ہے اور علماء علم اصول نے بتايا ہے كہ كن شرائط پر عقل شرعى حكم كو كشف كرسكتى ہے _ شرعى حكم كے استنباط ميں عقلى دليل كا بھى وہى كردار ہے جو دوسرى شرعى ادلّہ كا ہے شارع مقدس كى نظر كو كشف كرنے

____________________

۱) ولايت فقيہ، عبدالله جوادى آملى ،صفحہ ۱۵۱_

۲۲۴

ميں عقلى دليل كا قابل اعتبار ہونا اپنى جگہ پر ثابت ہوچكا ہے بنابريں ولايت فقيہ پر '' دليل عقلى محض'' مستقلات عقليہ كى قسم سے ہے اور مستقلات عقليہ ميںكسى نقلى دليل سے مدد نہيں لى جاتى _

دوسرا نكتہ: يہ ہے كہ امامت اور نبوت پر قائم عقليدليل كى تاريخ بہت پرانى ہے _ ليكن ولايت فقيہ پر عقلى دليلبعد والے ادوار ميں قائم كى گئي ہے _ محقق نراقى پہلے شخص ہيں جنہوں نے ولايت فقيہ كے اثبات كيلئے عقلى دليل كا سہارا ليا ہے پھر ان كے بعد آنے والے فقہاء نے اسے آگے بڑھايا ہے _ مختلف طرز كى عقلى ادلّہ كى وجہ ان كے مقدمات كا مختلف ہونا ہے اور بہت سے موارد ميں ايك مشترك كبرى مثلاً ''قاعدہ لطف ''يا ''حكمت الہى ''سے مدد لى گئي ہے _

ولايت فقيہ پر دليل عقلى محض

نبوت عامہ كى ضرورت پرفلاسفہ كى مشہور برہان كو اس طرح بيان كيا جاسكتا ہے كہ جس كا نتيجہ نہ صرف ''ضرورت نبوت ''بلكہ ''ضرورت امامت'' نيز ''ضرورت نصب فقيہ عادل ''كى صورت ميں سامنے آئے _ يہ برہان جو كہ ''معاشرہ ميں ضرورت نظم ''كى بنياد پر قائم ہے قانون خدا اور اسكے مجرى كے ضرورى ہونے كو ثابت كرتى ہے _ قانون كو جارى كرنے والا پہلے مرحلہ ميں نبى ہوتا ہے اس كے بعد اسكا معصوم وصى اور جب نبى اور امام معصوم نہ ہوں تو پھر ''قانون شناس فقيہ عادل'' كى بار ى آتى ہے _ بوعلى سينا جيسے فلاسفر كہ جنہوں نے اس برہان سے تمسك كيا ہے نے اسے اس طرح بيان كيا ہے كہ وہ صرف ''اثبات نبوت'' اور ''بعثت انبياء كے ضرورى ہونے'' كيلئے كار آمد ہے _(۱)

____________________

۱) الالہيات من الشفاء ،صفحہ ۴۸۷، ۴۸۸_ المقالة العاشرہ، الفصل الثانى _

۲۲۵

ليكن ہمارا مدعا يہ ہے كہ اسے اس طرح بيان كيا جاسكتا ہے كہ امام معصوم كى امامت اور فقيہ عادل كى ولايت كے اثبات كيلئے بھى سودمند ثابت ہو _ اس برہان كے مقدمات درج ذيل ہيں :

۱_ انسان ايك اجتماعى موجود ہے اور طبيعى سى بات ہے كہ ہر اجتماع ميں تنازعات اور اختلافات رونما ہوتے ہيں _ اسى لئے انسانى معاشرہ نظم و ضبط كا محتاج ہے _

۲_ انسان كى اجتماعى زندگى كا نظم و ضبط اس طرح ہونا چاہيے كہ وہ انسانوں كى انفرادى اور اجتماعى سعادت اور كمال كا حامل ہو _

۳_ اجتماعى زندگى كا ايسا نظم و ضبط جو ناروا اختلافات اور تنازعات سے مبرّا اور انسان كى معنوى سعادت كا ضامن ہو وہ مناسب قوانين اور شايستہ مجرى قانون ( قانون جارى كرنے والا) كے بغير ناممكن ہے _

۴_ خدا تعالى كى مداخلت كے بغيرتنہا انسان اجتماعى زندگى كے مطلوبہ نظم و ضبط كے قائم كرنے كى قدرت نہيں ركھتا _

۵_ خدائي قوانين اور معارف الہى كے كسى نقص و تصرف كے بغير مكمل طور پر انسان تك پہنچنے كيلئے ضرورى ہے كہ اس كولانے اور حفاظت كرنے والا'' معصوم ''ہو _

۶_ دين كامل كى تبيين اور اس كے اجرا كيلئے وصى اور امام معصوم كى ضرورت ہے _

۷_ اور جب نبى اور امام معصوم نہ ہوں تو پھر مذكورہ ہدف( مطلوبہ اجتماعى زندگى اور قوانين الہى كا نفاذ ) وحى شناس اور اس پر عمل كرنے والے رہبر كے بغير حاصل كرنا ممكن نہيں ہے _

اس برہان كا چھٹا مقدمہ'' تقرر امام'' كى ضرورت كيلئے سود مند ہے جبكہ ساتواں مقدمہ زمانہ غيبت ميں رہبر كے تقرركى ضرورت كو ثابت كرتا ہے _

۲۲۶

اسى برہان كو آيت ا لله جوادى آملى نے يوں بيان كيا ہے :

انسان كى اجتماعى زندگى اور اس كا انفرادى اور معنوى كمال ايك طرف تو ايسے الہى قانون كا محتاج ہے جو انفرادى اور اجتماعى لحاظ سے ہر قسم كے ضعف و نقص اور خطا و نسيان سے محفوظ ہو اور دوسرى طرف اس قانون كامل كے نفاذ كيلئے ايك دينى حكومت اور عالم و عادل حكمران كى ضرورت ہے _ انسان كى انفرادى يا اجتماعى زندگى ان دو كے بغير يا ان ميں سے ايك كے ساتھ متحقق نہيں ہو سكتى _ اجتماعى زندگى ميں ان دو كا فقدان معاشرہ كى تباہى و بربادى اور فساد و خرابى كا باعث بنتا ہے جس پر كوئي بھى عقلمند انسان راضى نہيں ہوسكتا يہ عقلى برہان كسى خاص زمانہ يا مقام كے ساتھ مخصوص نہيں ہے _ زمانہ انبيائ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ضرورت نبوت ہے اور آنحضرت (ص) كى نبوت كے بعد والا زمانہ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ضرورت امامت ہے اسى طرح امام معصوم كى غيبت كا زمانہ بھى اس ميں شامل ہے كہ جس كا نتيجہ ''ضرورت ولايت فقيہ ''ہے _(۱)

''دليل عقلى محض ''صرف مذكورہ دليل ميں محدود نہيں ہے بلكہ اس كے علاوہ بھى براہين موجود ہيں جو خالصةً عقلى مقدمات سے تشكيل پاتى ہيں اور زمانہ غيبت ميں نصب ولى كى ضرورت كو ثابت كرتى ہيں _

دليل عقلى ملفق

ولايت فقيہ كى عقلى دليل كو بعض شرعى دلائل اور مقدمات عقليہ كى مدد سے بھى قائم كيا جاسكتا ہے _ يہاں ہم اس طرح كے دو براہين كى طرف اشارہ كرتے ہيں _

استاد الفقہاء آيت الله بروجردى درج ذيل عقلى اور نقلى مقدمات كى مدد سے فقيہ كى ولايت عامہ كو ثابت كرتے ہيں _

____________________

۱) ولايت فقيہ صفحہ ۱۵۱، ۱۵۲_

۲۲۷

۱_ معاشرہ كا رہبر ايسى ضروريات كو پورا كرتا ہے جن پر اجتماعى نظام كى حفاظت موقوف ہوتى ہے _

۲_ اسلام نے ان عمومى ضروريات كے متعلق خاص احكام بيان كئے ہيں اور ان كے اجرا كى ذمہ دارى مسلمانوں كے حاكم اور والى پر عائد كى ہے_

۳_ صدر اسلام ميں مسلمانوں كے قائد اور راہنما رسول خدا (ص) تھے اور ان كے بعد ائمہ معصومين اور معاشرے كے امور كا انتظام ان كا فريضہ تھا _

۴_ سياسى مسائل اور معاشرتى امور كى تدبير و تنظيم اس زمانے كے ساتھ مخصوص نہيں تھى _ بلكہ ان مسائل كا تعلق ہر زمانہ اور ہر جگہ كے مسلمانوں سے ہے _ ائمہ معصومين كے دور ميں شيعوں كے پراگندہ ہونے كى وجہ سے آسانى كے ساتھ ا ئمہ تك ان كى دسترسى ممكن نہيں تھى _ اس كے باوجود ہميںيقين ہے كہ آپ نے ان كے امور كى تدبير و انتظام كيلئے كسى كو ضرور مقرر كيا ہوگا تا كہ شيعوں كے امور مختل نہ ہوں _ ہم يہ تصور بھى نہيں كرسكتے كہ ايك طرف زمانہ غيبت ميں ائمہ معصو مين نے لوگوں كو طاغوت كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا ہو اور دوسرى طرف سياسى مسائل ، تنازعات كے فيصلے اور دوسرى اجتماعى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے كسى كو مقرر بھى نہ كيا ہو _

۵_ ائمہ معصومين كى طرف سے والى اور حاكم كے تقرر كے ضرورى ہونے كو ديكھتے ہوئے فقيہ عادل اس منصب كيلئے متعين ہے _ كيونكہ اس منصب پر غير فقيہ كے تقرر كا كوئي بھى قائل نہيں ہے _ پس صرف دو احتمال ممكن ہيں _

الف : ائمہ معصومين نے اس سلسلہ ميں كسى كو مقرر نہيں كيا صرف انہيں طاغوت كى طرف رجوع كرنے سے منع كيا ہے _

۲۲۸

ب: اس ذمہ دارى كيلئے فقيہ عادل كو مقرر كيا ہے _

مذكورہ بالا چار مقدمات كى رو سے پہلا احتمال يقينى طور پر باطل ہے _ پس قطعى طور پر فقيہ عادل كو ولايت پر منصوب كيا گيا ہے _(۱)

آيت الله جوادى آملى اس ''دليل عقلى مركب ''كو يوں بيان كرتے ہيں :

دين اسلام كا قيامت تك باقى رہنا ايك قطعى اور واضح سى بات ہے زمانہ غيبت ميں اسلام كا تعطل كا شكار ہوجانا، عقائد ، اخلاق اور اعمال ميں اسلام كى ابديت كے منافى ہے _ اسلامى نظام كى تأسيس ، اس كے احكام اور حدود كانفاذ اور دشمنوں سے اس دين مبين كى حفاظت ايسى چيز نہيں ہے كہ جس كى مطلوبيت اور ضرورى ہونے ميں كسى كو ترديد و شك ہو _ حدود الہى اور لوگوں كى ہتك حرمت ، لوگوں كى ضلالت و گمراہى اور اسلام كا تعطل كا شكار ہوجانا كبھى بھى الله تعالى كيلئے قابل قبول نہيں ہے_ اسلام كے سياسى اور اجتماعى احكام كى تحقيق و بررسى اور نفاذ جامع شرائط فقيہ كى حاكميت كے بغير ممكن نہيں ہے _ ان امور كو ديكھتے ہوئے عقل كہتى ہے : يقينا خداوند كريم نے عصر غيبت ميں اسلام اور مسلمانوں كو بغير سرپرست كے نہيں چھوڑا(۲)

اس دليل كے تمام مقدمات عقلى نہيں ہيں بلكہ اسلام كے اجتماعى اور اقتصادى احكام كے نفاذ ، مثلاًحدود و قصاص ، امر بالمعروف و نہى عن المنكر ، زكات اور خمس سے با صلاحيت حكومت كے وجود پر مدد لى گئي ہے_ لہذا يہ دليل عقلى محض نہيں ہے _

____________________

۱) البدر الزاہر فى صلاة الجمعة و المسافر ۷۳ _ ۷۸

۲) ولايت فقيہہ ص ۱۶۷_ ۱۶۸_

۲۲۹

خلاصہ :

۱) بعض فقہى مسائل ميںعقلى دليل كا سہارا ليا جاتا ہے _ اور دليل عقلى نظر شارع كو كشف كرتى ہے_

۲) دليل عقلى كى دوقسميں ہيں _ ''دليل عقلى محض ''اور'' دليل عقلى ملفق ''دليل عقلى محض مكمل طور پر عقلى اور يقينى مقدمات سے تشكيل پاتى ہے _ جبكہ دليل عقلى ملفق ميں عقلى مقدمات كے علاوہ شرعى مقدمات سے بھى استفادہ كيا جاتا ہے _

۳) بحث امامت اور نبوت ميں دليل عقلى سے استدلال كرنا ايك قديمى اور تاريخى امر ہے _ ليكن ولايت فقيہ كى بحث ميں اس سے استفادہ كرنا بعد كے ادوار ميں شروع ہوا ہے_

۴)وہ دليل جسے فلاسفہ نے نبوت عامہ اور بعثت انبياء كى ضرورت پر پيش كيا ہے اسے اس طرح بھى بيان كيا جاسكتا ہے كہ اس سے امام كى امامت اور فقيہ كى ولايت ثابت ہوجائے _

۵)ولايت فقيہ پر قائم دليل عقلى ملفق كى روح اور جان يہ ہے كہ اسلام ہر دور اور ہر جگہ پر انسان كى ضروريات كو پورا كرنے كيلئے ہے _ اور جس طرح اسلام كے نفاذ كيلئے امام معصوم كى ضرورت ہے اسى طرح زمانہ غيبت ميں ايك اسلام شناس مجرى قانون كى بھى ضرورت ہے _

۶) دليل عقلى ،امام اور فقيہ كے تقرر كى ضرورت كو ثابت كرتى ہے ليكن كبھى بھى جزئي اور شخصى نتيجہ نہيں ديتى اور اس بات كو مشخص نہيں كرتى كہ امام كون ہوگا _

۲۳۰

سوالات :

۱)'' دليل عقلى محض'' كى تعريف كيجئے_

۲) ''دليل عقلى ملفق يا مركب'' كى تعريف كيجئے _

۳) فقہ ميں دليل عقلى كى كيا حيثيت ہے ؟

۴)ولايت فقيہ پر قائم ايك ''دليل عقلى محض ''كو مختصر طور پر بيان كيجئے_

۵) آيت الله بروجردى نے ولايت فقيہ پر جو دليل عقلى ملفق قائم كى ہے اسے اختصار كے ساتھ بيان كيجئے _

۲۳۱

چوتھا باب:

دينى حكومت كى خصوصيات اور بعض شبہات كا جواب

سبق ۲۴ : فلسفہ ولايت فقيہ

سبق ۲۵:رہبر كى خصوصيات اور شرائط

سبق ۲۶:رہبر كى اطاعت كا دائرہ اور حدود

سبق ۲۷:حكومتى حكم اور مصلحت

سبق ۲۸:حكومتى حكم اور فقيہ كى ولايت مطلق

سبق ۲۹ ، ۳۰ : دينى حكومت كے اہداف اور فرائض

سبق ۳۱، ۳۲ : دينى حكومت اور جمہوريت

۲۳۲

تمہيد:

زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى تفكر نظريہ ولايت فقيہ كے ساتھ جڑا ہوا ہے _ اور ہمارے سياسى نظام كى بنياد ''ولايت'' پر استورا ہے_گذشتہ باب ميں ہم نے شيعہ فقہا كى كتب سے ولايت كے اثبات اور اس نظرئے كى تاريخى حيثيت پر تفصيلى بحث كى ہے_ اس باب ميں ہم ولائي حكومت كے مختلف پہلووں كى تحقيق، اور اس كى بعض خصوصيات اور اہداف پر روشنى ڈاليں گے حقيقت يہ ہے كہ آج كے دور ميں پورى دنيا ميں سيكولر، اور لبرل جمہورى حكومتيں مقبول عام ہيں جبكہ دينى حكومت اور ولايت فقيہ مختلف قسم كے حملوں كا شكار ہے جسكى وجہ سے ولايت فقيہ اور دينى حاكميت پر مبتنى سياسى نظريہ كے مقابلہ ميں لوگوں كے اذہان سيكولر اور غيردينى سياسى فلسفہ سے زيادہ آشنا اور مانوس ہيں لہذا دينى حكومت اور ولايت فقيہ كے نظريہ كو ثابت كرنے كيلئے ٹھوس اور منطقى ادلہ كى ضرورت ہے_

بعض شبہات اور اعتراضات كى بنيادى وجہ بغض اور كينہ و حسد ہے جبكہ بعض اعتراضات غلط فہمى كى وجہ سے پيدا ہوئے ہيں_ ان دوسرى قسم كے شبہات كے جواب كيلئے استدلالى اور منطقى گفتگو كے علاوہ كوئي چارہ نہيں ہے _ بنابريں اس باب ميں دو بنيادى اہداف ہيں_ ايك طرف ''حكومت ولائي'' كے متعلق پائے جانے والے بعض ابہامات اور شبہات كا جواب ديا جائے گا اور دوسرى طرف دينى حكومت كى بنيادى خصوصيات اور اس كے اہداف كى طرف اشارہ كيا جائے گا_

۲۳۳

چوبيسواں سبق:

فلسفہ ولايت فقيہ

دوسرے معاشروں كى طرف اسلامى معاشرہ بھى سياسى ولايت اور حاكميت كا محتاج ہے جيسا كہ پہلے باب ميں گذرچكاہے كہ انسانى معاشرہ اگرچہ كامل، شائستہ، منظم اور حق شناس افراد سے بھى تشكيل پايا ہو_ تب بھى اسے حكومت اور سياسى ولايت كى ضرورت ہوتى ہے _ كيونكہ اس اجتماع كے امور كى تنظيم و تدبير ايك حكومت كے بغير ناممكن ہے _ وہ شے جو سياسى اقتدار اور ولايت كے وجود كو ضرورى قرار ديتى ہے وہ معاشرے كا نقص اور احتياج ہے_ حكومت اور سياسى اقتدار كے بغير معاشرہ ناقص اور متعدد كمزوريوں كا شكار ہے _ حكومت اور سياسى ولايت كى طرف احتياج اس معاشرہ كے افراد كے ناقص ہونے كى وجہ سے نہيں ہوتي_ بنابريں اگر ہمارے دينى متون ميں فقيہ عادل كيلئے ولايت اور حاكميت قرار دى گئي ہے تو اس كا مقصد فقط اسلامى معاشرہ كے نواقص كا جبران اور تلافى كرنا ہے _ اسلامى معاشرے كى حاكميت، ولايت اور سرپرستى كيلئے فقيہ عادل كے تقرر كا معنى يہ نہيں ہے كہ مسلمان ناقص اوركم فہم ہيں اور انہيں ايك سرپرست كى ضرورت ہے _

۲۳۴

بلكہ يہ انسانى اجتماع اور معاشرے كا نقص ہے كہ جو سياسى اقتدار و ولايت كے تعين سے برطرف ہوجاتاہے_

جيسا كہ تيسرے باب ميں تفصيل سے گذرچكاہے بہت سے شيعہ فقہا زمانہ غيبت ميں اس سياسى ولايت كو جامع الشرائط فقيہ عادل كا حق سمجھتے ہيں، يا اس وجہ سے كہ ادلّہ روائي ميں اس منصب كيلئے فقيہ كا تقرر كيا گيا ہے يا امور حسبيہ كے باب سے كہ ان امور ميں '' فقيہ'' كا حق تصرف قطعى امر ہے اور فقيہ كے ہوتے ہوئے دوسرے افراد ان امور كى سرپرستى نہيں كرسكتے _ حتى كہ وہ افراد جو زمانہ غيبت ميں سياسى ولايت كا معيار امت كے انتخاب كو سمجھتے ہيں اور فقيہ كے تقرر كے منكر ہيں وہ بھى معتقد ہيں كہ امت '' فقيہ عادل'' كے علاوہ كسى اور شخص كو حاكميت كيلئے منتخب نہيں كرسكتى _ يعنى فقيہ كى ولايت انتخابى كے قائل ہيں_ پس يہ ادعا كيا جاسكتاہے كہ زمانہ غيبت ميں شيعوں كا سياسى نظريہ''' فقيہ عادل'' كى سياسى ولايت پر استوار ہے اور فرق نہيں ہے كہ اس زعامت اور حاكميت كا سرچشمہ ادلّہ روائي ہوں جو فقيہ كو منصوب كرتى ہيں يا اسے امور حسبيہ كے باب سے ثابت كريں يا لوگوں كے منتخب شخص كيلئے فقاہت كو شرط قرار ديں _حقيقت ميں اس نكتہ كا راز كيا ہے ؟ كيوں شيعہ علماء مصرّ ہيں كہ اسلامى معاشرہ كے سربراہ كيلئے فقاہت شرط ہے ؟

اس سوال كا جواب اس نكتہ ميں پنہا ن ہے كہ اسلامى معاشرہ ميں حكومت كى ذمہ دارى يہ ہے كہ مسلمانوں كے مختلف امور كو شرعى تعليمات كے مطابق بنائے_ سيكولر حكومتوں كے برعكس _كہ جو صرف امن و امان برقرار كرنے اور رفاہ عامہ جيسے امور كو لبرل يا دوسرے انسانى مكاتب كے اصولوں كے تحت انجام ديتى ہيں_ دينى حكومت كا ہدف ہر صورت ميں فقط ان امور كا انجام دينا نہيں ہے بلكہ اسلامى معاشرہ ميں اجتماعى تعلقات و روابط كو اسلامى موازين اور اصولوں كے مطابق بنانا اور مختلف اقتصادى و معاشى امور ،قانون ، باہمى تعلقات، اور ثقافتى روابط كودين كے ساتھ ہم آہنگ كرنا ہے_ لہذا اسلامى معاشرہ كے رہبر كيلئے اجتماعى امور كى تنظيم

۲۳۵

كى صلاحيت اور توانائي كے ساتھ ساتھ اسلام اور اس كے موازين و اصولوں سے كافى حد تك آشنا ہونا بھى ضرورى ہے_ پس چونكہ مسلمانوں كى سرپرستى اور سياسى ولايت كا بنيادى اور اصلى ركن اسلام شناسى ہے لہذا اسلامى معاشرے كا سرپرست و سربراہ فقيہ ہونا چاہيے_

يہ نكتہ اہلسنت كے بعض روشن فكر علماء كى نظر سے بھى پنہاں نہيں رہا _ اہلسنت اگرچہ ولايت انتصابى كے معتقد نہيں ہيں اور اكثريت اس كى قائل ہے كہ سياسى رہبر كے تقرر كى كيفيت اور طريقہ كار كے متعلق دينى متون خاموش ہيں _ اس كے باوجود بعض نئے مصنفين اس بات پر مصر ہيں كہ سياست اور اجتماع كى اخلاقى اقدار، اجتماعى تعليمات اور بعض اصولوں كا تعين اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ اسلامى معاشرے كے انتظام كى مطلوبہ شكل تقاضا كرتى ہے كہ اسلامى معاشرہ كے حكّام'' عالم دين'' ہونے چاہئيں_

قرآن اور احاديث ميں كچھ ايسے امور بھى موجود ہيں جنہيں كم از كم اسلام ميں حكومت كے اخلاقى اصول كہا جاسكتاہے _ مثلاً شورى كى مدح اور حكومت كے سلسلہ ميں مشورہ كرنے كى ترغيب دلانا، عدل و انصاف اور فقراء و مساكين كى رعايت كى دعوت دينا وغيرہ ، واضح ہے كہ حكومت ميں ان اخلاقى اصولوں كے اجرا كيلئے ضرورى ہے كہ حكمران'' عالم دين'' ہو ں_ اور ان اصولوں كو جارى كرنے ميں مخلص ہوں _(۱)

شرط فقاہت ميں تشكيك

اس اكثريتى اور مشہور نظريہ '' كہ امت مسلمہ كے سياسى حاكم ميں فقاہت اور دين شناسى شرط ہے اور فقيہ

____________________

۱) الدين والدولة و تطبيق الشريعة، محمد عابد جابرى صفحہ ۳۴_

۲۳۶

كيلئے ولايت انتصابى ثابت ہے يا كم از كم سياسى ولايت ميں فقاہت شرط ہے'' كے برعكس بعض افراد جو كہ فقيہ كى سرپرستى كے منكر ہيں ان كى نظر ميں اسلامى تعليمات كے نفاذ اور فقيہ كى سرپرستى كے درميان كوئي ملازمہ نہيںہے_ درست ہے كہ اسلام اجتماعى اور سياسى تعليمات ركھتا ہے اور مخصوص اصولوں اور اقدار پر تاكيد كرتاہے_ ليكن اس كا يہ مطلب نہيں ہے كہ معاشرہ كا سياسى اقتدار'' فقيہ'' كے ہاتھ ميں ہو كيونكہ فقيہ كا كام احكام بيان كرنا ہے _ ليكن معاشرہ كے امور كى تنظيم اورسرپرستى كيلئے ان احكام كا اجرا اور اس كيلئے عملى اقدام كرنا فقيہ كى ذمہ دارى نہيں ہے لہذا سياسى اقتدار كيلئے فقاہت كى شرط ضرورى نہيں ہے _اگر اجتماعى اور سياسى امور ميں فقيہ كى شركت كو ضرورى سمجھيں تواحكام الہى كے اجرا ميں اس كى نظارت كے قائل ہوں اور واضح سى بات ہے كہ نظارت فقيہ اور ولايت فقيہ دو مختلف چيزيں ہيں اور '' نظارت ''كسى بھى اجرائي ذمہ دارى كو'' فقيہ'' كا منصب قرار نہيں ديتي_

اسلامى معاشرہ كے نظام كے چلانے ميں ''فقاہت'' كى شرط كو قبول نہ كرنے والے بعض لوگ استدلال كرتے وقت سياستدان اور فقيہ كے درميان تفاوت كو مد نظر ركھتے ہيں_ ان كى نظر ميں سياست اور معاشرہ كے امور كا اجرا ايك ايسا فن ہے جس كا تعلق جزئيات سے ہے_ جبكہ فقاہت اور اس سے اعلى تر مناصب يعنى امامت اور نبوت اصول اور كليات سے سروكار ركھتے ہيں_ اصول اور كليات ميں ماہر ہونے كا لازمہ يہ نہيں ہے كہ فقيہ معاشرہ كے نظام كى جزئيات ميں بھى مہارت ركھتا ہو _اصول ، كليات اور احكام ثابت اور نا قابل تغير ہيں جبكہ سياست ہميشہ جزئي اور تبديل ہونے والے امور كے ساتھ سر و كار ركھتى ہے_

جس طرح كوئي فلسفى اپنے عقلى نظريات اورفقيہ اپنے اجتہاد اور دين ميں سمجھ بوجھ كے باوجود بغير كسى تربيت اور تجربہ كے كپڑا نہيں بنا سكتا اور ڈارئيونگ نہيں كرسكتا _ اسى طرح فلسفى اپنى

۲۳۷

عقل نظرى اور فقيہ احكام دين ميں مہارت ركھنے كے باوجو دسياست نہيں كرسكتا _ كيونكہ فلسفہ ايك تھيورى اور نظرى امر ہے _اسى طرح فقاہت يا اخلاقى تھيورى ايك ثابت اور غير متغيّرش ے ہے جبكہ سياست خالصةً ايك متغير شے ہے حكومت اور تدبيرامور مملكت جو كہ لوگوں كے روز مرہ امور كى ديكھ بھال ، امن عامہ كا نظام اور اقتصادى امور سے عبارت ہيں تمام كے تمام عقل عملى كى شاخيں اور جزئي اور قابل تغير چيزيں ہيں كہ جن كا تعلق حسى اور تجرباتى موضوعات سے ہے لہذا لازمى طور پر ان كى وضع و قطع ،الہى فرامين اور وحى سے مختلف ہے _ تجرباتى موضوعات كى صحيح تشخيص صرف لوگوں كى ذمہ دارى ہے اور جب تك وہ صحيح طور پر ان امور كو تشخيص نہ دے ليں شريعت كے كلى احكام عملى طور پر نافذ نہيں ہوسكتے_

اس نظريہ كے بعض دوسرے حامى فقيہ كے كردار كو اصول اور كليات ميں منحصر نہيں سمجھتے _ بلكہ اس كيلئے شان نظارت كے بھى قائل ہيں_ ان كى نظر ميں ايك دينى حكومت كے وجود و تحقق كيلئے ضرورى نہيں ہے كہ اس كى رہبرى فقيہ عادل كے ہاتھ ميں ہو بلكہ فقيہ اگر مشير اور ناظر كے عنوان سے ہو ، اور حكّام شريعت كے نفاذ ميں مخلص ہوں تو دينى حكومت قائم ہوسكتى ہے_

گذشتہ مطالب كى بنا پر سياسى حاكميت ميںفقاہت كى شرط قرار نہ دينے اور نتيجتاً فقيہ كى سياسى ولايت سے انكار كا نظريہ دو امور پر استوارہے_

ايك يہ كہ فقہ ميں مہارت كا حاصل ہونا معاشرہ كے سياسى اور انتظامى امور كى سرپرستى ميں فقيہ عادل كى اولويت پر دلالت نہيں كرتا_

دوسرا يہ كہ دينى حكومت كى تشكيل اور معاشرہ ميں دينى احكام اور اہداف كا حصول فقيہ كى سياسى حاكميت ميں منحصر نہيں ہے بلكہ ايسى دينى حكومتوں كا تصور كيا جاسكتا ہے جن ميں فقيہ كو ولايت حاصل نہ ہواور فقط احكام كى تبيين يا زيادہ سے زيادہ شرعى احكام پر نظارت كرنا اس كى ذمہ دارى ہو_

۲۳۸

فقيہ كى سياسى ولايت كا دفاع:

وہ نظريہ جو اسلامى معاشرہ كے اجتماعى اموركى تدبير كيلئے فقاہت كو شرط قرار نہيں ديتا اور فقيہ كى سياسى ولايت كو ضرورى نہيں سمجھتا درحقيقت بہت سے اہم نكات سے غفلت بر تنے كى وجہ سے وجود ميں آيا ہے_

اس نظريہ كى تحقيق اور تنقيد كيلئے درج ذيل نكات پر سنجيدگى سے غور و فكر كرنے كى ضرورت ہے_

۱_ كيا فقيہ كى سياسى ولايت كے قائلين كى نظرميں اس اجتماعى منصب كے حصول كى واحد علت اور تنہا شرط فقاہت ہے؟ يا اسلامى معاشرہ كى سياسى حاكميت كى ضرورى شروط ميں سے ايك شرط ''فقاہت'' ہے؟ جيسا كہ بعد والے سبق ميں آئے گا كہ دينى منابع ميں مسلمانوں كے امام كے جو اوصاف اور خصوصيات بيان كى گئي ہيں ، ان ميں سے اسلام شناسى اور دين ميں تفقہ و سمجھ بوجھ اہم ترين خصوصيات ميں سے ہے_ عدالت ، شجاعت ، حسن تدبير اور معاشرتى نظام كے چلانے كى صلاحيت اور قدرت بھى مسلمانوں كے امام اور والى كى معتبر شرائط ميں سے ہيں_ اس اجتماعى ذمہ دارى اور منصب ميں مختلف اوصاف كى دخالت سے واضح ہوجاتا ہے كہ اسلامى معاشرہ كے سرپرست كيلئے فقط فقاہت كا ہونا كافى نہيں ہے تا كہ كہا جائے كہ صرف دين ميں تفقہ، معاشرتى نظام كوچلانے كى ضرورى صلاحيت پيدا نہيں كرتااور سياست اورمعاشرتى نظام كو چلانے كيلئے جزئيات كے ادراك كى خاص توانائي كى ضرورت ہے ، جبكہ فقاہت فقط احكام كليہ اور اصول كو درك كرسكتى ہے_

۲_ اگر چہ موجودہ سيكولر حكومتوں ميں سياسى اقتدار كے حاملين اجتماعى امور كى تدبير ، امن عامہ اور رفاہ عامہ جيسے امور كولبرل اصولوں اور انسانى حقوق كى بنياد پر انجام ديتے ہيں ليكن دينى حكومت دين كى پابند ہوتى ہے_ اور مذكورہ بالا اہداف كو شرعى موازين اور اسلامى اصولوں كى بنياد پرتأمين كرتى ہے_ بنابريں سياست اور اسلامى معاشرہ كى تدبير كو كلى طور پر عملى سياست ،عقل عملى اور فن تدبير كے سپرد نہيں كيا جاسكتا كيونكہ ايسى

۲۳۹

حكومت كى تدبيراور سياست كو دينى موازين اور شرعى تعليمات كے مطابق ہونا چاہيے _ پس ايسے معاشرہ كے سرپرست كيلئے ضرورى ہے كہ سياسى صلاحيت اور فن تدبير كے علاوہ فقاہت سے بھى آشنا ہو اور اسلامى تعليمات كى بھى شناخت ركھتا ہو _ اس مدعا كى دليل يہ ہے كہ اسلامى معاشرہ ميں بعض مواردميں نظام اور مسلم معاشرہ كى مصلحت يہ تقاضا كرتى ہے كہ حاكم ايك حكومتى حكم صادر كرے جبكہ بعض موارد ميں يہ حكومتى حكم ،اسلام كے احكام اوّليہ كے منافى ہوتا ہے _ فقيہ عادل كى ولايت عامہ كى ادلّہ كى بنياد پر اس حكومتى حكم كا صادر كرنا'' فقيہ'' كا كام ہے اور اس كے ولائي احكام كى اطاعت كرنا شرعاً واجب ہے_ حالانكہ اگر اسلامى معاشرہ كا حاكم اور سياسى اقتدار كا مالك ''فقاہت'' كا حامل نہ ہو تو نہ ہى وہ ايسے احكام صادر كرنے كا حق ركھتا ہے اور نہ ہى اس كے ان احكام كى پيروى كے لزوم كى كوئي دليل ہے كہ جو ظاہرى طور پر شريعت كے منافى ہيں_

دوسرا شاہد يہ ہے كہ مختلف اجتماعى امور ميں اسلامى تعليمات كے اجرا سے طبيعى طور پر بعض موارد ايسے بھى پيش آجاتے ہيں كہ جن ميں بعض شرعى احكام دوسرے بعض شرعى احكام سے ٹكرا جاتے ہيں اور ان ميں سے ايك پر عمل كرنا دوسرے كے ترك كرنے كا باعث بنتا ہے _ ان موارد ميں حاكم كو تشخيص دينا ہوگى كہ كونسا حكم اہم اور كونسا غير اہم ہے_ اورحاكم اہم كو غير اہم پر ترجيح دے گا_ اہم موارد كو تشخيص دينے اور غير اہم كو چھوڑنے كا حكم دينے كيلئے ضرورى ہے كہ حاكم دينى تعليمات سے گہرى آگاہى ركھتا ہو_

يہ دو دليليں نشاندہى كرتى ہيں كہ اسلامى معاشرہ كى سرپرستى كيلئے دوسرى حكومتوں ميں رائج تدبيرى مہارت كے ساتھ ساتھ ''فقاہت'' كى صلاحيت بھى ضرورى ہے كسى حكومت كا دينى ہونا معاشرہ كى رہبرى كيلئے ايسى شرط كا تقاضا كرتى ہے_

۳_ وہ افراد جو ولايت فقيہ كى بجائے فقيہ كى مشاورت اور نظارت كى بات كرتے ہيں انہيں يہ ياد ركھنا چاہيے كہ فقہاء كو اقتدار سے دور ركھ كر اور فقط انہيں سياسى نظام پر نظارت دينے سے يہ ضمانت نہيں دى جاسكتى

۲۴۰