اخلا ق و معنویت

اخلا ق و معنویت0%

اخلا ق و معنویت مؤلف:
زمرہ جات: اخلاقی کتابیں

اخلا ق و معنویت

مؤلف: آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
زمرہ جات:

مشاہدے: 2237
ڈاؤنلوڈ: 764

تبصرے:

اخلا ق و معنویت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 13 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2237 / ڈاؤنلوڈ: 764
سائز سائز سائز
اخلا ق و معنویت

اخلا ق و معنویت

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اخلا ق و معنویت

آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ

کي نگاہ ميں

ناشر :

نشر ولایت پاکستان

مرکز حفظ و نشر آثار ولایت

فصل اول:

تقوي ٰ

تقوي کے معني

تقوي کے معني يہ ہيں کہ خدا وند عالم نے انسان پر جن امور کو فرض کيا ہے انسان انھيں انجام دے يعني واجبات کو ادا کرے اور محرمات سے پرہيز کرے ۔ يہ تقوي کا پہلا مرتبہ ہے ۔تقوي ايک ايسي صفت ہے کہ اگر کسي قوم کے دل ميں گھر کر لے تو اس صورت ميں وہ قوم اس مضبوط قلعے کي مانند ہو جاتي ہے جس ميں کوئي داخل نہيں ہو سکتا ۔

عام طور پر جب تقوي کا تصور ذہن ميں آتا ہے تو ساتھ ساتھ نماز ، روزہ ، عبادت ، دعا وغيرہ کي تصوير بھي ابھر آتي ہے ۔ صحيح ہے کہ يہ تمام مذکورہ امور تقوي کے دائرے ميں آتے ہيں ليکن انہي کوتقوي سمجھنا صحیح نہيں ہے۔ تقوي يعني اپنے امور کي نگہداري کرنا يعني اگر انسان کوئي فعل انجام دے رہا ہو تو جانتا ہو کہ کيا کر رہا ہے ۔ اگر کسي فعل کو انجام دے تو اپنے ارادے ، فکر اور حسن انتخاب سے انجام دے ۔ بالکل اس طرح جس طرح کوئي گھوڑ سوار گھوڑے پر سواري کرتے وقت اپني منزل اور مقصد سے آگاہ ہوتا ہے ۔

تقوي کيا ہے اور اس کو زندگي کے مختلف گوشوں ميں کس طرح رچايا ۔ بسايا جا سکتا ہے ؟ تقوي سے مراد يہ ہے کہ گناہ ، خطا ، صراط مستقيم سے انحراف ، ہوي و ہوس سے اجتناب کيا جائے اور خدا کي طرف سے عائد شدہ احکام پر عمل پيرا رہا جائے ۔ زندگي کے تمام مختلف شعبوں ميں اسي وقت کامياب اور سرفراز ہو اجا سکتا ہے جب باتقوي زندگي گذاري جائے۔ تقوي ہر کاميابي کا راستہ اور ضمانت ہے ۔ تقوي فقط دين سے مربوط نہيں ہے ليکن اتنا ضرور ہے کہ ديني تقوي ، واضح اور روشن ہے ۔

اس بچے سے لے کر جو ابھي تحصيل علم کر رہا ہے ، اس خاتون تک جو امور خانہ داري انجام دے رہي ہے ، سبھي کو باتقوي ہونا چاہيے تاکہ سب راہ مستقيم اختيار کر سکيں اور اپني منزل مقصود تک پہنچ سکيں ۔ ايک نوجوان اپنے آس پاس کے مخصوص ماحول اور معاشرے ميں تقوي کے بغير اپنے تحصيل علم کے ہدف تک رسائي حاصل نہيں کر سکتا ۔ اس نوجوان کو چاہيے کہ غلطيوں اور ہوي و ہوس اور ان تمام سرگرميوں سے اجتناب کرے جو اس کو اس کے ہدف تک پہنچنے سے روکتي ہوں ۔ يہي اس کا تقوي ہے ۔ اس طرح گمراہي ميں ڈوبے ہوئے ايک عورت اور گھر کے باہر ايک مرد پر بھي يہي کليہ اور قانون جاري ہے ۔

ايک مومن اگر چاہتا ہے کہ راہ خدا اور صراط مستقيم کا سفر طے کرے تو اس کے لئے لازم ہے کہ تقوي اختيار کرے ۔ يہي وہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ خوشنودي خدا اور نورانيت الہي سے مستفيد ہو سکتا ہے اور ساتھ ہي ساتھ معنويت کے اعلي مراحل بھي طے کر سکتا ہے نیز دين خدا کي سر براہي تک رسائي بھي حاصل کر سکتا ہے ۔

متقين کي عاقبت

’’اتقوا ‘‘ قرآن کريم کا حکم ہے ۔ يہي وہ تقوي ہے جس کے ذريعے تمام امور تک دسترسي حاصل کي جا سکتي ہے ۔ اگر قرآن کريم کے اس مذکورہ حکم پر غور کيا جائے تو تمام عقلي استدلال اور براہين کو عام فہم زبان ميں بيان کيا جا سکتا ہے حتي مسائل غيبي اور ماورائے فطرت و طبيعت امور کو بھي عوام کے لئے واضح کيا جا سکتا ہے ۔

تقوي کا ماحصل يہ ہے کہ کوئي بھي شخص يا معاشرہ اگر تقوي اختيار کر لے تو پھر بھي ميدان ميں داخل ہو جانے پر اس ميدان کو سر کر لے گا ۔ ’’والعاقبة للمتقين ‘‘۔ اس عظيم تاريخي اور کائناتي سفر کا سر انجام متقين پر ہونے والا ہے ۔ دنيا و آخرت دونوں متقين سے متعلق ہيں ۔ امام خميني ۲ اگر متقي نہ ہوتے تو کسي بھي قيمت پر اپني شخصيت کو ہزارہا دوسرے افراد کے لئے محور قرار نہيں دے سکتے تھے اور نہ ہي انقلاب لا سکتے تھے ۔ يہ تقوي ہي تھا جس نے انھيں ہميشہ ہميشہ کے لئے زندہ جاويد بنا ديا ہے ۔

تقوي ،زندگي کے تمام شعبوں ميں موثرہے

تقوي کي خصوصيت يہ ہے کہ يہ زندگي کے تمام شعبوں ميں موثر ہوتا ہے ۔ قرآن مجيد ميں بارہا تقوي سے متعلق تذکرہ ہوا ہے ۔ يہ سب اس لئے نہيں ہے کہ انسان اس دنيا سے چلا جائے تو خدا وند عالم اجر و ثواب عنايت کرے گا ، بلکہ تقوي اس دنيا کے لئے نعمت شمار کيا گيا ہے ۔ اگر ہماري موجودہ زندگي کا انجام بخير و خوبي ہو گيا تو اس پر ہماري آخرت کا بھي انحصار ہے ۔ تقوي کا نہ ہونا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ انسان غفلت اور کوتاہي کا شکار ہو جائے اور يہ غفلت و کوتاہي انسان کو اوندھے منہ زمين پر پٹخ ديتي ہے ۔

تقوي کے ذريعے انسان صراط مستقيم پر باقي رہ سکتا ہے

حضرت علي فرماتے ہيں ’’اوصيکم عباد ا بتقوي ا ‘‘ اے بندگان خدا ! ميں تمہيں تقوائے الہي کي وصيت کرتا ہوں۔ ’’ و اغتنام طاعتہ ‘‘ اور وصيت کرتا ہوں کہ اطاعت خدا کو غنيمت شمار کرو ۔ ’’ما استطعتم ‘‘ جس حد تک کہ تمہارے اندر قدرت و توانائي ہو ۔ ’’في هذه الايام الخالية الفانية ‘‘ اس جلدي گزرنے والي فاني دنيا ميں جتنا ممکن ہو اطاعت خدا کرو ۔ ’’ و اعداد العمل الصالح الجليل يشفي بہ عليکم الموت ‘‘ اور عمل صالح کے ذريعہ ان تمام مشکلات و مصائب کا سد باب کرو کہ جنھيں موت تمہارے اوپر طاري کردے گي ۔

موت کي سختيوں اور مشکلات کا اندازہ صرف اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ اوليائے خدا اور بزرگان دين موت سے مقابلے کے خوف سے لرزہ بر اندام ہو جاتے تھے ۔ موت کے بعد عالم برزخ کے حوادث علمائ اور اوليائ کہ جو کسي حد تک ان حوادث و مصائب کي سختيوں کا آشنا ہوتے ہيں کو لرزا کر رکھ ديتے تھے ۔ ان مشکلات اور سختيوں سے مقابلے کي فقط ايک ہي راہ ہے اور وہ ہے عمل صالح ۔ ’’ و امر کم بالرفض لھذہ الدنيا التارکۃ لکم ‘‘ فرماتے ہيں کہ ميں تمہيں حکم ديتا ہوں کہ اس دنيا کي رنگينياں اور آتي جاتي خوشياں جو تمہيں ايک دن چھوڑ جائيں گي ،کو ابھي سے خير بار کہہ دو ۔ حد سے بڑھ کر ماديات دنيا کي طرف مت بھاگو کيونکہ ’’ الزائلۃ عنکم ‘‘ يہ سب چلي جانے والي ہيں ۔ ’’ و ان لم تکونوا تحبون ترکھا ‘‘ در حاليکہ تم نہيں چاہتے کہ يہ مال اور عيش و عشرت تمہيں چھوڑ کر کہيں اور چلا جائے حالانکہ يہ ہو کر رہے گا ۔ ’’ والمبيلۃ لاجسادکم و ان احببتم تجديدھا ‘‘ يہ دنيا تمہارے جسموں کو خاک ميں ملا کر نيست و نابود کر دے گي اگر چہ تم يہي چاہتے ہو کہ دوبارہ زندہ ہو جائيں ۔ ’’ فانما مثلکم کرکب سلکوا سبيلاً فکانھم قد قطعوا و افضوا الي علم فکانھم قد بلغوہ ‘‘ تم ايک راستہ پر تيزي کے ساتھ آگے بڑھے جا رہے ہو کہ تمہيں دور کسي ايک نشانے تک پہنچنا ہے ليکن تم اس نشانے کو ابھي واضح اور روشن طور پر نہيں ديکھ پا رہے ہو ۔ ايک وقت وہ بھي آئے گا کہ جب تم خواہ نخواہ اس تک پہنچ جاو گے ۔ يہ راستہ ، يہي فاني دنيا ہے ۔ اور وہ نشانہ اور منزل وہي موت اور اجل ہے جس کو آنا ہي آنا ہے ’’ فلا تنافسوا في عز الدنيا و فخرھا ‘‘ اس دنيا کي ظاہري عزت اور جاہ و جلال کے لئے ايک دوسرے سے حسد نہ کرو اور جھگڑا نہ کرو ۔’’ ولا تجزعوا من ضراعھا و بووسھا ‘‘ دنيا کي ان مختصر سي سختيوں وار پريشانيوں سے تھکان اور خستگي محسوس نہ کرو ۔ ’’ فان عز الدنيا و فخرھا الي انقطاع ‘‘ دنيا کي عزت اور فخر و حشمت ختم ہو جانے والا ہے ۔ ’’ و ان زينتھا و نعيمھا اليارتجاع ‘‘ زيبائي و خوبصورتي اور يہ نعمتيں گذر جانے والي ہيں ۔ يہ جواني ، حسن اور خوبصورتي بڑھاپے اور بد صورتي ميں تبديل ہو جائيں گي ۔ ’’ و ان ضراعھا و بوسھا الي نفاذ ‘‘ اور يہ سختياں اور پريشانياں بھي ختم ہو جائيں گي ۔ ’’ و کل مد ۃ منھا الي منتھا ‘‘ اس کائنات کا يہ زمان و مکان روبہ زوال اور ختم ہو جانے والا ہے ۔ ’’ و کل حي فنيھا الي بلي ‘‘ تمام جانداران موت کي آغوش ميں سو جانے والے ہيں ۔

يہ جملے اس ذات با برکت کي زبان مبارک سے جاري ہوئے ہيں جس کانام علي ہے۔ وہي علي جو اپنے ہاتھوں سے کھيتي کرتے تھے اور کنويں کھودتے تھے ۔ يہ جملے اس وقت کے ہيں جب آپ حکومت فرما رہے تھے ۔ دنيا کے ايک بڑے حصے پر آپ کي حکومت تھي ۔ آپ نے جنگيں بھي لڑي ہيں ، صلح بھي کي ہے ، سياست بھي کي ہے ، بيت المال بھي آپ کي نگراني ميں تقسيم ہوتا تھا ۔ ان سب کے باوجود بھي آپ متقي تھے ۔ لہذا تقوي کا مطلب يہ نہيں ہے کہ دنيا سے قطع تعلق کردیا جائے ۔ تقوي سے مراد يہ ہے کہ انسان اپني ذات کو تمام دنياوي اور مادي امور کا محور قرار نہ دے ، اپني خاطر اپني تمام قوتوں اور صلاحيتوں کو صرف نہ کر ے ، اپني زندگي کے لئے دنيا کو جہنم نہ بنا ئے، مال ، عيش و عشرت اور آرام و سکون کي خاطر دوسرے ہزارہا افراد کي زندگيوں کا سودا نہ کر ے ۔

تقوي يعني يہ کہ اپني ذات سے صادر ہونے والے تمام امور پر سخت نظر رکھي جائے ۔ کوئي بھي قدم اٹھايا يا فيصلہ ليا جائے تو يہ خيال مد نظر رہے کہ کہيں اس سے خود يا دوسرے افراد يا معاشرے کو نقصان تو نہيں پہنچ رہا ہے ۔

تقوي تمام برکات کا سر چشمہ ہے

اگر کوئي فرد يا قوم با تقوي ہو جائے تو تمام خیروبرکات دنيا و آخرت اس فرد يا قوم کا خاصہ ہو جائيں گي ۔ تقوي کا ماحصل فقط يہ نہيں ہے کہ رضائے خدا حاصل کر لي جائے يا جنت کا دروازہ اپنے اوپر کھول ليا جائے بلکہ تقوي کا فائدہ اس دنيا ميں بھي حاصل کيا جا سکتا ہے ۔با تقوي معاشرہ اس دنيا ميں بھي خدا کي نعمتوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے ۔ تقوي کے ذريعے دنياوي عزت کے ساتھ ساتھ امور دنيا سے متعلق علم بھي خدا وند عالم کي جانب سے عنايت کر ديا جاتا ہے ۔ با تقوي معاشرہ کي خاصيت يہ ہوتي ہے کہ ايسے معاشرے کي فضا سالم ، محبت آميز اور حسد و نفاق و تعصاب سے پاک ہوتي ہے ۔

تقوي کے ذريعے ہي قدرت خدا کاحصول ہوسکتاہے

ايمان، تقوي اور عمل صالح اس بات کي ضمانت ہيں کہ تمام قدرت خدا ، نعمات الہي اور ساري کائنات پر دسترسي حاصل کي جا سکتي ہے ۔ دشمن کسي بھي ميدان سے ، کسي بھي صورت ميں حملہ کر دے ، ايک با تقوي قوم کا بال بھي بیکانہيں کر سکتا ۔ خدا وند عالم نے بڑے سادہ الفاظ ميں اس گفتگو کا ما حصل صرف ايک آيت ميں بيان فرمايا ہے: ’’و لا تهنوا ‘‘ سستي نہ کرو ۔ ’’و لا تحزنوا ‘‘ غمگين مت ہو ۔ ’’و انتم الاعلون ان کنتم مومنين ‘‘ تم کو برتري حاصل ہے ليکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر تم مومن ہو ۔ دوسري جگہ پر ارشاد فرمايا : ’’و لا تهنوا و تدعوا الي السلم ‘‘ يعني سستي نہ کرو اور نہ ہي دشمن کي سازشانہ دعوت کو قبول کرو ۔

ايران کے اسلامي انقلاب کے بعد اگرجمہوري اسلامي پر ايک غائرانہ نظر ڈالي جائے تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ جن جن شعبہ ہائے حيات ميں اقدار اسلامي کي حفاظت کي گئي ہے وہاں وہاں رشد و ترقي ہوئي ہے اور جن جن شعبو ں ميں اسلامي احکام و اقدار و اخلاق اسلامي سے چشم پوشي کي گئي ہے ان ان شعبوں ميں پسماندگي آج بھي موجود ہے ۔

دنيا کے دوسرے ممالک ميں بھي يہي صورت حال ہے ۔ جہاں جہاں معنويت ، انسانيت اور الہي اقدار سے منہ موڑ ليا گيا ہے وہاں وہاں ديکھا جا سکتا ہے کہ زندگي کس قدر دشوار ہے ، کس قدر نا امني اور بے چيني ہے ۔ ايسے معاشروں ميں قتل و غارت گري اور دہشت گردي زيادہ ہے ۔ ہر چند يہ لوگ اناجتماعي مشکلات و مسائل کے اسباب تلاش کرنے کي کوشش کرتے ہيں ليکن کسي بھي طرح اصلي اور حقيقي علت اور سبب کو تلاش نہيں کر سکے ہيں ۔ ايک ماں اپنے بچے کو قتل کر ديتي ہے ، فوراً ہي لوگوں کا وجدان تڑپ اٹھتا ہے ، صدائيں بلند ہونے لگتي ہيں کہ ايسي ماں کو سولي پر چڑھا ديا جائے ۔ يہ لوگ اس بات سے غافل ہيں کہ ان کي بنياد خراب ہو چکي ہے ۔ ان معاشروں کي بد بختي يہ ہے کہ يہ خدا ، معنويت اور اخلاق سے پشت پھير کر فساد و قتل و غارت گري کے عادي ہو گئے ہيں ۔

مادي اور مالي فساد کسي بھي قيمت پر خوشحالي کا ضامن نہيں بن سکتا۔ جس کي واضح مثال امريکہ ہے۔ ہر چند کہ امريکہ ميں زندگي کے تقريباً تمام شعبوں ميں ہمہ جہت ترقي ہوئي ہے ليکن اس کے باوجود امريکي عوام جن اخلاقي اور معنوي مشکلات کا شکار ہيں ان سے ساري دنيا واقف ہے ۔ انھيں اخلاقي اور معنوي اقدار کي قلت کي بنا پر امريکہ موجودہ صورت حال سے دوچار ہے ۔ وہ صورت حال کہ جس ميں ايک ماں اپني تسکين شہوت اور ذاتي مفاد کي خاطر اپنے ہاتھوں سے اپنے بيٹے کا قتل کر ديتي ہے ۔

بوسنيا اور ہرزيگوونيا ميں کيا نہيں ہوا ؟ مغلوں کے انداز ميں افواج ’’ سر بريسٹيا ‘‘ ميں گھس کر وحشيانہ انداز ميں قتل و غارت گري کرتي رہيں اور نام نہاد متمدن اقوام و ملل کے کان پر جوں تک نہيں رينگي ۔ اس پر ستم يہ کہ يہي لوگ حقوق بشر کے علمبردار ہونے کا دعوي کرتے ہيں ! کيا ايک شہر ميں ہزاروں معصوم مرد ، عورت اور بچوں کا وحشيانہ قتل عام حقوق بشر کي خلاف ورزي نہيں ہے ؟ جمہوري اسلامي اخلاق اور اسلامي احکام و شريعت کي محافظت کي بنا پر آج ساري دنيا ميں ايک باعزت مقام حاصل کر سکا ہے ۔ آج جب کہ دنيا کي بڑي بڑي طاقتيں ، دنيا کے دوسرے چھوٹے چھوٹے ملکوں کے سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم سے اپني غلامي کرانا اپنا پيدائشي حق سمجھتي ہيں ، ايران ايک مستقل اور آزاد ملک کي حيثيت سے آزاد زندگي گذار رہا ہے ۔ کسي کي اتني مجال نہيں ہے کہ ايران سے غير عادلانہ طور پر ايک حرف يا ايک کلمہ کو قبول کرا لے ۔ يہ سب فقط اور فقط اسلام اور اسلامي اخلاق و معنويات اور اسلامي احکامات اور شريعت کي برکتيں ہيں اور بس ۔