دعائےکمیل

دعائےکمیل 0%

دعائےکمیل مؤلف:
زمرہ جات: ادعیہ اور زیارات کی کتابیں

دعائےکمیل

مؤلف: مولا علی(علیہ السلام)
زمرہ جات:

مشاہدے: 1101
ڈاؤنلوڈ: 732

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 5 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1101 / ڈاؤنلوڈ: 732
سائز سائز سائز
دعائےکمیل

دعائےکمیل

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

دعاء کمیل

بسم الله الرحمن الرحیم

بنام خدائے رحمن و رحیم

اٴَللّٰهُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَهَرْتَ

خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر محیط ہے ۔ اس قوت کے واسطہ سے ہے جو ہر چیز پر حاوی ہے

بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَهٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ

اور اس کے لئے ہر شے خاضع اور متواضع ہے ۔ اس جبروت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے پر غالب ہے اور اس عزت کے واسطہ سے ہے

بِهٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَهٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ

جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ہے ۔اس عظمت کے واسطہ سے ہے جس نے ہر چیز کو پر کردیا ہے

شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْهِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اور اس سلطنت کے واسطہ سے ہے جو ہر شے سے بلند تر ہے ۔اس ذات کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رہنے والی ہے

وَبِاٴَسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ،وَبِعِلْمِکَ الَّذي اٴَحٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ،

اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ہے جن سے ہر شے کے ارکان معمور ہیں ۔اس علم کے واسطہ سے ہے جو ہر شے کا احاطہ کئے ہوئے ہے

وَبِنُورِ وَجْهِکَ الَّذي اٴَضٰاءَ لَهُ کُلُّ شَيْءٍ، یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ،یٰا اٴَوَّلَ الْاٴَوَّلینَ، وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ

اور اس نور ذات کے واسطہ سے ہے جس سے ہر شے روشن ہے ۔اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔

اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَهْتِکُ الْعِصَمَ اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ

خدایا میرے گناہوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ہوتے ہیں۔

اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَیِّرُالنِّعَمَ اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ

ا ن گناہوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ہیں ۔ان گناہوں کو بخش دے جو دعاوں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ہیں ۔

اللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِيَ الذُّنُوْبَ اَلَّتِي تَقْطَعُ الرَّجَآءَ الدُّعٰآءَ اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَ اٴَللّٰهُمَّ اغْفِرْلي کُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُهُ، وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اٴَخْطٰاٴْتُهٰا

ان گناہوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ہیں۔ان گناہوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ہوتے ہیں۔ خدایا میرے تمام گناہوں اور میری تمام خطاوں کو بخش دے۔

اٴَللّٰهُمَّ إِنِّي اٴَتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ،وَاٴَسْتَشْفِعُ بِکَ إِلٰی نَفْسِکَ،وَاٴَسْاٴَلُکَ

خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ہو رھاہوں اور تیری ذات ہی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رھا ہوں تیرے کرم کے سھارے میرا سوال ہے

بِجُودِکَ اٴَنْ تُدْنِیَني مِنْ قُرْبِکَ،وَاَنْ تُوزِعَنِي شُکْرَکَ،وَاَنْ تُلْهِمَنِي ذِکْرَکَ،اٴَللّٰهُمَّ إِنّي اٴَسْاٴَلُکَ

کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نھایت درجہ

سُوٴٰالَ خٰاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خٰاشِعٍ اٴَنْ تُسٰامِحَنيوَتَرْحَمَنِي وَتَجْعَلَنِي بِقِسْمِکَ رٰاضِیاً

خشوع ،خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ھاہوں کہ میرے ساتھ مھربانی فرما۔مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میںھے مجھے

قٰانِعاً،وَفي جَمیعِ الْاٴَحْوٰالِ مُتَوٰاضِعاً

اسی پر قانع بنادے۔مجھے ہر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔

اٴَللّٰهُمَّ وَاٴَسْاٴَ لُکَ سُوٴٰالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فٰاقَتُهُ،وَاٴَنْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدٰائِدِ

خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ہے جس کے فاقے شدید ہوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ہوں

حٰاجَتَهُ،وَعَظُمَ فیمٰا عِنْدَکَ رَغْبَتُهُ اٴَللّٰهُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ،وَعَلٰا مَکٰانُکَ،وَخَفِيَ

اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ہو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی ۔

مَکْرُکَ،وَظَهَرَ اٴَمْرُکَ،وَغَلَبَ قَهْرُکَ،وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ،وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ

تیرا امر ظاہر۔تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ہے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ہے ۔

اٴَللّٰهُمَّ لاٰاٴَجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،وَلاٰلِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ

خدایا میرے گناہوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ،لاٰإِلٰهَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ،ظَلَمْتُ نَفْسِي،ُ

کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نھیں ہے ۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ہے ۔خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے ۔

وَتَجَرَّاٴْت بِجَهْلي،وَسَکَنْتُ إِلٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي،وَمَنِّکَ عَلَيَّ

اپنی جھالت سے جسارت کی ہے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ہوں کہ تونے مجھے ھمیشہ یا د رکھا ہے اور ھمیشہ احسان فرمایا ہے ۔

اٴَللّٰهُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَهُ،وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اٴَقَلْتَهُ،وَکَمْ مِنْ

خدایا میرے کتنے ہی عیب ہیںجنھیں تونے چھپا دیا ہے اور کتنی ہی عظیم بلائیں ہیں جن سے تونے بچایا ہے ۔کتنی ٹھوکریں ہیں

عِثٰارٍوَقَیْتَهُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوهٍ دَفَعْتَهُ،وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اٴَهْلاً لَهُ نَشَرْتَهُ

جن سے تونے سنبھالا ہے اور کتنی برائیاں ہیں جنھیں تونے ٹالا ہے ۔کتنی ہی اچھی تعریفیں ہیں جن کا میں اہل نھیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ہے ۔

اٴَللّٰهُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَاٴَفْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،وَقَصُرَتْ بياٴَعْمٰالِي،وَقَعَدَتْ

خدایا میری مصیبت عظیم ہے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ہوئی ہے ۔میرے اعمال میں کوتاہی ہے ۔مجھے کمزوریوں

بِياٴَغْلاٰلِي،وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ اٴَمَلِي وَخَدَعَتْنِي الدُّنِّیٰا بِغُرُورِهٰاوَنَفْسي بِجِنٰایَتِهٰا

کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ہے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ہے ،دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ہے ۔

وَمِطٰالي یٰاسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِعِزَّتِکَ اٴَنْ لاٰیَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و َفِعٰالِي،

میرے آقا و مولا! تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں

وَلاٰتَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنْ سِرِّي،وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُهُ

اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ہونے پاوں۔میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ہیں ان کی سزا فی الفور نہ

فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَإِسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطي وَجَهٰالَتِي، وَکَثْرَةِ شَهَوٰاتي وَ غَفْلَتِي

ملنے پائے، چاہے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ہو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاہی ہو یا جھالت یا کثرت خواہشات و غفلت۔

وَکْنِ اللّٰهُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاٴَحْوٰالِ رَؤُوفاً،وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ

خدایا مجھ پرھر حال میں مھربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔خدایا۔پروردگار۔میرے پاس

عَطُوفاً،إِلٰهيوَرَبّيمَنْ لي غَیْرُکَ،اٴَسْاٴَلُهُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فياٴَمْرِي

تیرے علاوہ کون ہے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے۔

إِلٰهي وَمَوْلاٰيَ اٴَجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً اتَّبَعْتُ فیهِ هَویٰ نَفْسي،وَلَمْ اٴَحْتَرِسْ فیهِ مِنْ

خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواہش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن

تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااٴَهْویٰ وَاٴَسْعَدَهُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ

(شیطان) مجھے فریب دے رھا ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خواہش کے سھارے مجھے دھوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دےدیا

ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اٴَوٰامِرِکَ

اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا ۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ،وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیهِ قَضٰاوُٴکَ،

بھر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ہے اور اب تیری حجت ہر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ہے اور میرے پاس

وَاٴَلْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوٴُکَ،وَقَدْ اٴَتَیْتُکَ یٰاإِلٰهِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَإِسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،

تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نھیں ہے ۔اب میں ان تمام کوتاہیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں

مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً، لاٰ اٴَجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي،

کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ہو رھاہوں کہ میرے پاس ان گناہوں سے بھاگنے کے لئے کوئی

وَلاٰمَفْزَعاًاٴَتَوَجَّهُ إِلَیْهِ فياٴَمْرِي غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي،وَإِدخٰالِکَ إِیّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ

جائے فرار نھیں ہے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نھیں ہے ۔صرف ایک ہی راستہ ہے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔

اٴَللّٰهُمَّ فَاقْبَلْ عُذْري،وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّ وَثٰاقِي،یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي،

لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

وَرِقَّةَ جِلْدي،وَدِقَّةَ عَظْمي،یٰامَنْ بَدَاٴَخَلْقِي وَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِیَتي هَبْني لِابْتِدٰاءِ

میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔اے میرے پیداکرنے والے ۔اے میرے تربیت دینے والے۔

کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي

اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے۔

یٰاإِلٰهِيوَسَیِّدِي وَرَبِّي،اٴَتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،وَبَعْدَمَاانْطَویٰ

پروردگار!کیا یہ ممکن ہے کہ میرے عقیدہ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے

عَلَیْهِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ،وَلَهِجَ بِهِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،وَاعْتَقَدَهُ ضَمیرِي مِنْ

دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابراسے برباد بھی کردے ،

حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافِيوَدُعٰائِيخٰاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ،هَیْهٰاتَ،اٴَنْتَ اٴَکْرَمُ مِنْ اٴَنْ تُضَیِّعَ

تیری محبت جاگزیں رھی ہے ۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ہوں۔اب بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جسے تونے پالا ہے

مَنْ رَبَّیْتَهُ،اٴَوْ تُبْعِدَ مَنْ اٴَدْنَیْتَهُ،اٴَوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَهُ،اٴَوْتُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَهُ وَرَحِمْتَهُ

جسے تونے قریب کیا ہے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ہے اسے راندہ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مھربانی کی ہے اسے بلاوں کے حوالے کردے۔

وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَإِلٰهي وَمَوْلٰايَاٴَتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوهٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ

میرے سردار ۔میرے خدامیرے مولا ! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چھرے تیرے سامنے سجدہ ریز رھے ہیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا

سٰاجِدَةً،وَعَلٰی اٴَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً،وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ

اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رھی ہیں اور تیری حمد وثنا کرتی رھی ہیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی

اعْتَرَفَتْ بِإِلٰهِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً،وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ

کا اقرار ہے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ہیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ہیں یا جواعضاء و جوارح تیر ے مراکز

عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ إِلٰی اٴَوْطٰانِ تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،وَاٴَشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذْعِنَةً

عبادت کی طرف ھنسی خوشی سبقت کرنے والے ہیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ہیں ؛ان پر بھی تو عذاب کرے گا۔

مٰاهٰکَذَا الظَّنُّ بِکَ،وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ یٰارَبِّ،وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ

ھر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نھیں ہے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ہے ۔

ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰا وَ عُقُوبٰاتِهٰا، وَمٰا یَجْرِي فیهٰامِنَ الْمَکٰارِهِ عَلٰی اٴَهْلِهٰا،

پروردگار اتو جانتا ہے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نھیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں

عَلٰی اٴَنَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ وَمَکْرُوهٌ قَلیلٌمَکْثُهُ،یَسیرٌ بَقٰائُهُ، قَصِیرٌ مُدَّتُهُ، فَکَیْفَ احْتِمٰالِي لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ،

قابل تحمل ہیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ہے ۔تو میں ان آخرت کی بلاوں کو کس طرح برداشت کروں گا

وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِهِ فیهٰا،وَهُوَبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُهُ،وَیَدُومُ مَقٰامَهُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ

جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ہے ۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نھیں ہے اس لئے کہ یہ بلائیں

اٴَهْلِهِ،لِاٴَنَّهُ لاٰیَکُونُ إِلاّٰ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقٰامِکَ وَسَخَطِکَ،وَهٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَهُ السَّمٰاوٰاتُ

تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نھیں لاسکتے ،تو میں ایک بندہ ضعیف و ذلیل

وَالْاَرْضُ، یا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لِي وَاٴَنٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ

و حقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ہوں؟!

یٰاإِلٰهي وَرَبّي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ،لِاٴَيِّ الْاُمُورِإِلَیْکَ اٴَشْکُو،وَلِمٰامِنْهٰااٴَضِجُّ

خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَاٴَبْکي،لِاٴَلیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِهِ،اٴَمْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِهِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَنيلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ

گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تونے

اٴَعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْني وَ بَیْنَ اٴَهْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِي وَبَیْنَ اٴَحِبّٰائِکَ

ان سزاوں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اہل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور

وَاٴَوْلِیٰائِکَ،فَهَبْنِِي یٰاإِلٰهي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ

ولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ہے کہ اگر میں

اٴَصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَهَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اٴَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِإِلٰی

تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نھیںکر سکتا۔اگر آتش جھنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،اٴَمْ کَیْفَ اٴَسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ

برداشت نھیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جھنم میں جلادیا جاوں ۔

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَنينٰاطِقاً،لَاٴَضِجَّنَّ إِلَیْکَ بَیْنَ

تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اہل جھنم کے درمیان بھی

اٴَهْلِهٰا ضَجیجَ الْآمِلینَ،وَلَاٴَصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَاٴَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ

امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ “کی طرح تیری دوری

الْفٰاقِدینَ،وَلَاُنٰادِیَنَّکَ اٴَیْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُوْٴمِنینَ،یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ

پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ہوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغیثینَ،یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا إِلٰهَ الْعٰالَمینَ

صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ہے ۔

اٴَفَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاإِلٰهي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیهٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیهٰا

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ہے کہ تواپنے بندہ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جھنم میں

بِمُخٰالَفَتِهِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِهٰا بِمَعْصِیَتِهِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِهٰا بِجُرْمِهِ وَجَریرَتِهِ وَهُوَ یَضِجُّ

گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جھنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

إِلَیْکَ ضَجیجَ مُوٴَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اٴَهْلِ تَوْحیدِکَ،وَ یَتَوَسَّلُ

اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اہل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ہے اور تو اس کی آواز

إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ

نھیں سنتا ہے ۔

یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَهُوَیَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،اٴَمْ کَیْفَ تُوْٴلِمُهُ

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رھے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَهُوَیَاٴْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،اٴَمْ کَیْفَ یُحْرِقُهُ لَهیبُهٰاوَاٴَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَهُ وَتَرٰی

کرنے والا کسطرح جھنم کے الم ورنج کا شکار ہوگا۔جھنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تواس کی آواز کو سن رھا ہو

مَکٰانَهُ،اٴَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْهِ زَفیرُهٰاوَاٴَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَهُ،اٴَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِهٰا

ور اس کی منزل کو دیکھ رھا ہو،جھنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رھا ہوگا۔

وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَهُ،اٴَمْ کَیْفَ تَزْجُرُهُ زَبٰانِیَتُهٰاوَهُوَ یُنٰادیکَ یٰارَبَّهُ،اٴَمْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ

وہ جھنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ہے ۔ جھنم کے فرشتے اسے کس طرحجھڑکیں گے

فيعِتْقِهِ مِنْهٰافَتَتْرُکُهُ فیهٰا،هَیْهَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ

جبکہ وہ تجھے آواز دے رھا ہوگا اور تو اسے جھنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ہوگا ،ھر گزتیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِهٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِهِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاٴِحْسٰانِکَ

میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نھیں ہے ۔تونے جس طرح اہل توحید کے ساتھ نیک برتاو کیا ہے اس کی کوئی مثال نھیں ہے ۔

فَبِا لْیَقینِ اٴَقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِهِ مِنْ تَعْذیبِ جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِهِ مِنْ إِخْلاٰدِ

میں تویقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ تونے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور اپنے دشمنوں کوھمیشہ جھنم

مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّهٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاٴَحَدٍ فیهٰا مَقَرّاً وَلاٰ مُقٰاماً، لٰکِنَّکَ

میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ہوتا تو ساری آتش جھنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ہوتا۔

تَقَدَّسَتْ اٴَسْمٰاوٴُکَ اٴَقْسَمْتَ اٴَنْ تَمْلَاٴَهٰا مِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اٴَجْمَعینَ،وَ اٴَنْ

لیکن تونے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ہے کہ جھنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فیهٰاالْمُعٰانِدینَ،وَاٴَنْتَ جَلَّ ثَنٰاوٴُکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالْإِنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،اٴَفَمَنْ

ھمیشہ ھمیشہ رکھے گا۔اور تونے ابتداہی سے یہ کہہ دیا ہے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ”مومن

کٰانَ مُوٴْمِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ

اور فاسق برابر نھیں ہوسکتے“۔

إِلٰهي وَسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَهٰا، وَ بِالْقَضِیَّةِ الَّتي

تو خدایا ۔مولایا۔میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ہر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر

حَتَمْتَهٰا وَ حَکَمْتَهٰا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْهِ اٴَجْرَیْتَهٰا،اٴَنْ تَهَبَ لِي فِي هٰذِهِ اللَّیْلَةِ وَفي هٰذِهِ السّٰاعَةِ

تجھ سے سوال کرتاہوں کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے ۔میرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری

کُلَّ جُرْمٍ اٴَجْرَمْتُهُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُهُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اٴَسْرَرْتُهُ،وَکُلَّ جَهَلٍ عَمِلْتُهُ،کَتَمْتُهُ

ظاہری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان ،چھپا کر یا ظاہر کر کے عمل کیا ہے اور میری

اٴَوْاٴَعْلَنْتُهُ،اٴَخْفَیْتُهُ اٴَوْ اٴَظْهَرْتُهُ،وَکُلَّ سَیِّئَةٍ اٴَمَرْتَ بِإِثْبٰاتِهاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ وَکَّلْتَهُمْ

تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ہے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ہے اور میرے

بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَهُمْ شُهُوداًعَلَيَّمَعَ جَوٰارِحِي،وَکُنْتَ اٴَنْتَ الرَّقیبَ عَلَيَّ

اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ہے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررھا ہے اور جوان سے مخفی

مِنْ وَرٰائِهِمْ، وَالشّٰاهِدَ لِمٰاخَفِيَ عَنْهُمْ، وَبِرَحْمَتِکَ اٴَخْفَیْتَهُ، وَبِفَضْلِکَ سَتَرْتَهُ،وَاٴَنْ تُوَفِّرَ حَظِّي

رہ جائے اس کا گواہ ہے سب کو معاف فرمادے۔یہ تو تیری رحمت ہے کہ تونے انھیں چھپا دیا ہے اور اپنے فضل وکرم سے ان عیوب پر پر

مِنْ کُلِّ خَیْرٍاٴَنْزَلْتَهُ ،اٴَوْإِحْسٰانٍ فَضَّلْتَهُ،اٴَوْ بِرٍّ نَشَرْتَهُ،اٴَوْرِزْقٍ بَسَطْتَهُ،اٴَوْذَنْبٍ

دہ ڈال دیا ہے ۔میرے پروردگار اپنی طرف سے نازل ہونے والے ہر خیر و احسان اور نشر ہونے والی ھرنیکی ۔ھر وسیع رزق۔

تَغْفِرُهُ،اٴَوْخَطَاءٍ تَسْتُرُهُ

ھر بخشے ہوئے گناہ۔عیوب کی ہر پردہ پوشی میں سے میرا وافر حصہ قرار دے۔

یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ، یٰاإِلٰهي وَسَیِّدِي وَمَوْلٰايَ وَمٰالَکَ رِقّي، یٰامَنْ بِیَدِهِ

اے میرے رب ۔اے میرے رب۔اے میرے رب۔اے میرے مولا اور آقا! اے میری بندگی کے مالک۔اے

نٰاصِیَتِي،یٰاعَلیماً بِضُرِّي وَمَسْکَنَتي،یٰاخَبیراً بِفَقْرِي وَ فٰاقَتِي

میرے مقدر کے صاحب اختیار۔ اے میری پریشانی اور بے نوائی کے جاننے والے ۔اے میرے فقر و فاقہ کی اطلاع رکھنے والے!

یٰارَبِّ یٰارَبِّ یٰارَبِّ،اٴَسْاٴَلُکَ بِحَقِّکَ وَقُدْسِکَ،وَاٴَعْظَمِ صِفٰاتِکَ

اے میرے پروردگار ۔اے میرے رب۔اے میرے رب! تجھے تیری قدوسیت ۔تیرے حق اور تیرے عظیم ترین اسماء

وَاٴَسْمٰائِکَ،اٴَنْ تَجْعَلَ اٴَوْقٰاتِي مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّهٰارِ بِذِکْرِکَ مَعْمُورَةً،وَبِخِدْمَتِکَ

وصفات کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتاہوں کہ دن اور رات میں جملہ اوقات اپنی یاد سے معمور کردے۔اپنی خدمت کی مسلسل توفیق عطا

مَوْصُولَةً،وَاٴَعْمٰاليعِنْدَکَ مَقْبُولَةً،حَتّٰی تَکُونَ اٴَعْمٰاليوَاٴَوْرٰادِي کُلُّهٰاوِرْداً

فرما۔میرے اعمال کو اپنی بارگاہ میں مقبول قرار دے تاکہ میرے جملہ اعمال اور جملہ اوراد (یعنی ورد کی جمع) سب تیرے لئے

وَاحِداً،وَحٰالِي في خِدْمَتِکَ سَرْمَداً

ھوں۔ اور میرے حالات ھمیشہ تیری خدمت کے لئے وقف رھیں۔

یٰاسَیِّدِي یَامَنْ عَلَیْهِ مُعَوَّلِي،یٰا مَنْ إِلَیْهِ شَکَوْتُ اٴَحْوٰالي،یٰارَبِّ یٰارَبِّ

میرے مولا۔میرے مالک! جس پر میرا اعتماد ہے اور جس سے میں اپنے حالات کی فریاد کرتا ہوں۔

یٰارَبِّ،قَوِّعَلٰی خِدْمَتِکَ جَوٰارِحِي،وَاشْدُدْ عَلَی الْعَزیمَةِ جَوٰانِحِي،وَهَبْ لِيَ الْجِدَّ في

۔اے رب۔ اے رب۔ اے رب! اپنی خدمت کے لئے میرے اعضاء و جوارح کو مضبوط کر دے اور اپنی طرف رخ کرنے کے لئے میرے ارادہ دل کو

خَشْیَتِکَ،وَالدَّوٰامَ فِي الْإِتِّصٰالِ بِخِدْمَتِکَ،حَتّٰی اٴَسْرَحَ إِلَیْکَ فيمَیٰادینِ السّٰابِقینَ،وَ

مستحکم بنادے۔اپنا خوف پیدا کرنے کی کوشش اور اپنی مسلسل خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرما تاکہ تیری طرف سابقین کے ساتھ آگے

اٴُسْرِعَ إِلَیْکَ فِي الْبٰارِزینَ،وَاٴَشْتٰاقَ إِلٰی قُرْبِکَ فِي الْمُشْتٰاقینَ،وَاٴَدْنُوَ مِنْکَ

بڑھوں اور تیز رفتار افراد کے ساتھ قدم ملا کر چلوں ۔مشتاقین کے درمیان تیرے قرب کا مشتاق شمار ہوں اور مخلصین کی طرح تیری

دُنُوَّالْمُخْلِصینَ،وَاٴَخٰافَکَ مَخٰافَةَ الْمُو قِنینَ،وَ اٴَجْتَمِعَ فِي جِوٰارِکَ مَعَ الْمُوٴْمِنینَ

قربت اختیار کروں۔صاحبان یقین کی طرح تیرا خوف پیدا کروں اور مومنین کے ساتھ تیرے جوار میں حاضری دوں۔

اٴَللّٰهُمَّ وَمَنْ اٴَرٰادَنِي بِسُوءٍ فَاٴَرِدْهُ وَمَنْ کٰادَنِيفَکِدْهُ،وَاجْعَلْنِيمِنْ اٴَحْسَنِ عَبیدِکَ

خدایا جو بھی کوئی میرے لئے برائی چاہے یا میرے ساتھ کوئی چال چلے تو اسے ویساہی بدلہ دینا اور مجھے بہترین حصہ پانے

نَصِیباً عِنْدَکَ،وَاٴَقْرَبِهِمْ مَنْزِلَةً مِنْکَ،وَاٴَخَصِّهِمْ زُلْفَةً لَدَیْکَ،فَإِنَّهُ لاٰیُنٰالُ ذٰلِکَ

والا ،قریب ترین منزلت رکھنے والا اور مخصوص ترین قربت کا حامل بندہ قرار دینا کہ یہ کا م تیرے جود وکرم کے بغیر نھیں ہو سکتا۔

إِلاّٰبِفَضْلِکَ،وَجُدْ لِي بِجُودِکَ،وَاعْطِفْ عَلَيَّ بِمَجْدِکَ،وَاحْفَظْنِي بِرَحْمَتِکَ،وَاجْعَلْ

خدایا میرے اوپرکرم فرما۔اپنی بزرگی سے، رحمت نازل فرما اپنی رحمت سے میرا تحفظ فرمااورمیری زبا ن کو اپنے ذکر سے گویا فرما۔

لِسٰانِي بِذِکْرِکَ لَهِجاً،وَقَلْبِي بِحُبِّکَ مُتَیَّماً،وَمُنَّ عَلَيَّ بِحُسْنِ إِجٰابَتِکَ،وَاٴَقِلْنِي

میرے دل کو اپنی محبت کا عاشق بنادے اور مجھ پر بہترین قبولیت کے ساتھ احسان فرما۔

عَثْرَتِي،وَاغْفِرْ زَلَّتِي،فَإِنَّکَ قَضَیْتَ عَلٰی عِبٰادِکَ بِعِبٰادَتِکَ،وَاٴَمَرْتَهُمْ

میری لغزشوں سے در گذرفرما۔تو نے اپنے بندوں پر عبادت فرض کی ہے ۔انھیں دعا کا حکم دیا ہے

بِدُعٰائِکَ،وَضَمِنْتَ لَهُمُ الْإِجٰابَةَ

اوران سے قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے ۔

فَإِلَیْکَ یٰارَبِّ نَصَبْتُ وَجْهِي،وَإِلَیْکَ یٰارَبِّ مَدَدْتُ یَدِي،

اب میں تیری طرف رخ کئے ہوئے ہوں اور تیری بارگاہ میں ھاتھ پھیلائے ہوں ۔تیری عزت کا واسطہ میری

فَبِعِزَّتِکَ اسْتَجِبْ لِيدُعٰائِي،وَبَلِّغْنِي مُنٰايَ،وَلاٰتَقْطَعْ مِنْ فَضْلِکَ رَجٰائِي،

دعا قبول فرما، مجھے میری مراد تک پھنچادے۔ اپنے فضل وکرم سے میری امیدوں کو منقطع نہ فرمانا۔مجھے تمام

وَاکْفِنِي شَرَّ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنْ اٴَعْدٰائِي

دشمنان جن وانس کے شر سے محفوظ فرمانا۔

یٰا سَریعَ الرِّضٰا،إِغْفِرْ لِمَنْ لاٰیَمْلِکُ إِلَّا الدُّعٰاءَ،فَإِنَّکَ فَعّٰالٌ لِمٰا تَشٰاءُ،یٰا مَنِ

اے بہت جلد راضی ہوجانے والے ! اس بندہ کو بخش دے جس کے اختیار میں سوائے دعا کے کچھ نھیں ہے کہ توھی ہر شے کا

اسْمُهُ دَوٰاءٌ،وَذِکْرُهُ شِفٰاءٌ،وَطٰاعَتُهُ غِنیً،إِرْحَمْ مَنْ رَاٴْسُ مٰالِهِ الرَّجٰاءُ،وَسِلاٰحُه الْبُکٰاءُ،

صاحب اختیار ہے ۔اے وہ پروردگار جس کانام دوا،جس کی یاد شفا اور جس کی اطاعت مالداری ہے ، اس بندہ پر رحم فرماجس کا سرمایہ فقط

یٰاسٰابِغَ النِّعَمِ،یٰادٰافِعَ النِّقَمِ،یٰا نُورَ الْمُسْتَوْحِشینَ فِي الظُّلَمِ ،یٰا عٰالِماً لاٰ یُعَلَّمُ،صَلِّ عَلٰی

امیداور اس کا اسلحہ فقط گریہ ہے ، اے کامل نعمتیں دینے والے ۔ اے مصیبتوں کو رفع کرنے والے اور تاریکیوں میں وحشت زدوں کو

مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ،وَافْعَلْ بِي مٰااٴَنْتَ اٴَهْلُهُ،وَ صَلَّی اللّٰه عَلٰی رَسُولِهِ وَالْاٴَئِمَّةِ الْمَیٰامینَ مِنْ

روشنی دینے والے ۔محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور میرے ساتھ وہ برتاو کر جس کا تواہل ہے ۔اپنے رسول اور ان کی مبارک ”آل

آلِهِ ،وَسَلَّمَ تَسْلیماً کَثیراً

آئمہ معصومین(ع)“پر صلوات و سلام فراوان نازل فرما۔

فہرست

دعاء کمیل ۳